جنگِ بقاء
مصنفہ: ماہ نور اعوان
قسط نمبر چار
آغاز
بارش برس کر تھم جاتی ہے، لیکن بہت کچھ بہا کر لے جاتی ہے۔ پرانے زخموں کو تازہ کرکے، انہیں پھر نئے انداز میں زندہ کر دیتی ہے اور سکڑتے ہوئے زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہے۔ بارش کا گرتا ہوا قطرہ انسان کو سمندر جتنے درد میں مبتلا کر دیتا ہے۔
بارش تو تھم جاتی ہے، لیکن پرانی یادوں کو اجاگر کرکے۔
********
کبھی کبھی موت چند قدم کے فاصلے پر ہوتی ہے،
کبھی موت ایک سیکنڈ کا فاصلہ طے کرتے ہوئے دبوچ لیتی ہے۔
انسان خود کو بے بس محسوس کرتا ہے، اور خود کو بچانے کی جدوجہد اسے دوسروں سے مدد مانگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
لیکن موت کا وقت طے ہوتا ہے،
اور انسان کا ہر گزرتا لمحہ آخری لمحہ بن سکتا ہے۔
لیکن کاتبِ تقدیر موقع دیتا ہے، خود کو سنوارنے کا۔
موت سے پہلے کچھ مہلت مل جائے تو انسان کی آخری جاتی سانسیں واپس مل جاتی ہیں۔
لیکن کیا ہو، اگر موقع ہی نہ ملے؟
*********
بھیگی ہوئی قدیم پتھریلی گلیوں سے گزرتی عشاء ڈرائیونگ کرتی جا رہی تھی۔ اردگرد کی دکانوں سے آنے والی روشنی سڑک پر پڑ رہی تھی۔ پورا ایڈنبرا بارش میں بھیگا ہوا تھا۔
وہ سامنے دیکھتے ہوئے جا رہی تھی، لیکن اس کے ذہن میں ابھی کچھ دیر پہلے کا واقعہ دوبارہ تازہ ہو گیا تھا۔
سالوں پہلے کی وہ بارش اور آج کی بارش… دونوں نئے زخم دے رہی تھیں۔
اس کی سوچیں پرانے زخموں سے نئے زخموں کی طرف چلی گئی تھیں۔ جیکسن سے ہوئی ملاقات اور انسٹیٹوٹ میں پیش آنے والا واقعہ اس کے اعصاب پر حاوی تھا۔
اچانک اس کی کار ایک جھٹکے سے رک گئی۔
وہ ماضی سے حال میں واپس آئی اور حیران ہو کر شیشے سے اردگرد دیکھا۔ پھر سامنے پھول تھامے کھڑے لڑکے کو دیکھا، جو ڈھیر سارے پھول اٹھائے ہوئے تھا۔ کار اچانک اس کے سامنے آ جانے سے اس کے ہاتھوں سے پھول نیچے بارش کے پانی میں گر چکے تھے اور اب وہ بے بسی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
عشاء نے سیٹ بیلٹ کھولی، باہر نکلی اور جلدی سے اس کی طرف گئی۔
“تم ٹھیک ہو، بچے؟”
“میں ٹھیک ہوں، لیکن میرے پھول؟” وہ منہ پھلائے نیچے دیکھتے ہوئے بولا۔
“سوری، بچے۔ میں آپ کو اور لے دوں گی۔” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
“مجھے یہ پھول کسی نے دیے تھے۔ اب نیچے پانی میں گر کر بھیگ چکے ہیں اور…” وہ اداسی سے پھولوں کو دیکھنے لگا۔
عشاء شرمندہ سی ہو گئی۔ اردگرد کچھ لوگوں نے انہیں دیکھا تھا، لیکن پھر کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی۔
ان سے کچھ فاصلے پر، ایک دکان کے باہر اندھیرے میں کھڑا شخص چہرہ ڈھانپے، آنکھیں سکیڑے ہوئے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔
“جی سر، کیا حکم ہے؟” سنجیدہ آواز نمودار ہوئی۔
موبائل فون سے آواز گونجی۔
“شوٹ کر دو۔”
سپاٹ لہجہ، جس میں ہمدردی نہیں تھی، بلکہ شدید نفرت تھی۔
“اوکے، سر۔”
اس شخص نے جیب سے پستول نکالا، جو اس کی کمر کے ساتھ لگا ہوا تھا، اور ہاتھ میں تھام کر سامنے کا نشانہ لیا۔
دوسری جانب عشاء بچے کو پیار سے پچکارتے ہوئے بولی:
“اچھا، ایسے کرتے ہیں کہ یہ پھول اٹھا لیتے ہیں۔ میں انہیں گھر لے جاؤں گی اور پھر نئے انداز میں تازہ کرکے تمہیں دے دوں گی۔”
وہ آرٹسٹ تھی، لیکچرار تھی۔ وہ لفظوں سے دل بدل دینا اور دل کو بہلا لینا جانتی تھی۔
بچے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے سر ہلا کر ہامی بھر لی۔
عشاء نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر پانی میں گرے ہوئے پھولوں کو اٹھانے کے لیے جھکی، جو بارش کے پانی میں تیر رہے تھے۔
تبھی پیچھے سے آنے والی گولی
وہ جھکی ہوئی تھی اور سامنے کھڑے بچے کو جا لگی
عین سینے کے مقام پر۔
اس کے وجود نے ایک جھٹکا کھایا۔
عشاء، جو پھول چن رہی تھی، نے کانوں کو پھاڑتی ہوئی گولی چلنے کی آواز سنی۔ پھر زور سے کسی کے گرنے کی آواز آئی اور بارش کے پانی کے چھینٹے اس کے چہرے پر آ گرے۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
جب آنکھیں کھولیں تو سامنے وہ گرا ہوا تھا۔
اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا
میڈی۔
عشاء کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔ اس نے چیخ دبانے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
خون بارش کے پانی میں پھیلتا ہوا سرخ پھولوں کو مزید سرخ کر رہا تھا۔
لوگ رک چکے تھے۔ کچھ بھاگتے ہوئے ان تک آئے۔ کوئی پولیس کو کال کر رہا تھا اور کوئی ہسپتال کو۔
افراتفری مچ گئی تھی۔
عشاء سن سی بیٹھی ابھی تک میڈی کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔
قیامت آ کر گزر چکی تھی
اور وہ زندہ تھی۔
“کیوں؟ لیکن کیوں؟”
*********
جیکسن اور جون واپس انسٹیٹوٹ کے راستے میں بنے بس اسٹینڈ سے واپس آ رہے تھے۔ دونوں باتوں میں مصروف تھے۔
“ویسے، تمہیں اب سکون مل گیا اکیلے رہ کر؟” جون نے طنزیہ انداز میں کہا۔
جیکسن ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
“کیوں؟ تم جیلس ہو رہے ہو میرے سکون سے؟” جیکسن نے مسکراہٹ کے ساتھ اسے چھیڑا۔
“میں کیوں جیلس ہوں گا؟ تم میں ایسا کیا خاص ہے؟”
“وہی جو تم میں نہیں ہے۔” جیکسن نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔
“مجھ میں کیا خاص نہیں ہے، ذرا بتاؤ؟ تمہارا ہر کام میرے بغیر ادھورا ہے، سمجھے؟” جون نے کالر کھڑا کرتے ہوئے کہا۔
“اچھا، اچھا۔ پھر تم ایسا کرو کہ میری جگہ ڈرامے کی جو دو تین اقساط رہتی ہیں، وہ تم کر لو۔”
“خداوند بچائے ایسی بلا سے اور عصر چڑیل سے!” جون نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
ابھی جیکسن بولنے ہی والا تھا کہ پاس ہی سے گولی کی آواز آئی۔
اس نے یکدم کار روک دی۔
دونوں کے چہروں پر حیرت پھیل گئی۔
“یہ تو گولی کی آواز تھی نا، جیکسن؟” جون نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
“آواز تو گولی کی تھی، لیکن چلی کس جانب سے ہے؟”
“ارے یار، جس بھی جانب سے چلی ہو، تم چلو بس! ہمیں نہ لگ جائے۔” جون تو سچ مچ ڈر گیا تھا۔
“چپ کرکے بیٹھو اور ڈرو نہیں۔ دیکھتے ہیں، آواز دائیں جانب سے آئی ہے۔”
جیکسن نے کار اسٹارٹ کی۔
“لیکن جو بھی ہوگا، تم کیوں ادھر جانا چاہتے ہو؟”
“کچھ نہیں ہوتا۔ چلو، چل کر دیکھتے ہیں۔”
اس نے کار دائیں جانب موڑ دی اور تیزی سے آگے بڑھا دی۔
*********
عصر اسٹوڈیو سے جلدی واپس آ گئی تھی اور اب اسٹڈی روم میں بیٹھی دوستوفسکی کو پڑھ رہی تھی۔
اسٹڈی روم کی شیلفیں کتابوں سے بھری ہوئی تھیں۔ دو صوفے اور درمیان میں ایک میز موجود تھی۔
وہ کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی کہ گل مہر ہاشمی اندر داخل ہوئیں۔
عصر نے ذرا سا سر اٹھا کر انہیں دیکھا اور دوبارہ کتاب پر جھک گئی۔
گل مہر پاس رکھے صوفے پر بیٹھیں اور عصر کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں:
“عصر، میری بات سنو۔”
ان کی نظریں عصر کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
“بولیں، مام۔ میں سن رہی ہوں۔” اس نے کتاب پر سے نظریں اٹھائے بغیر کہا۔
“عصر، میں چاہتی ہوں کہ تم زندگی میں آگے بڑھو۔”
عصر نے کتاب کا صفحہ فولڈ کیا، کتاب بند کرکے میز پر رکھی اور پھر اپنی ماں کی طرف دیکھ کر کہا:
“میں بڑھ چکی ہوں، مام۔ اور آپ چاہتی کیا ہیں کہ میں اب کیا کروں؟”
“ایسے نہیں، عصر۔ میں چاہتی ہوں کہ تم شادی کر لو۔”
“اوہ، کم آن! مام، یہ کوئی پاکستان کے گاؤں کا سین نہیں ہے کہ شادی کر لو۔ ہم ایڈنبرا میں رہتے ہیں اور اس طرح کی باتیں کریں، یہ اچھا نہیں لگتا۔”
“لیکن عصر، شادی تو کرنی ہے، چاہے جدھر بھی جاؤ۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم اور عشاء آگے بڑھو، بس۔”
انہوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا۔
“آپ عشاء کی کر دیں۔ اور ویسے بھی عصر کو اس کی ٹائپ کا کوئی نہیں ملا۔ جب ملے گا تو دیکھ لوں گی۔”
اس کی نظروں کے آگے ایک چہرہ آیا تھا۔
“عشاء کی فکر تم مت کرو۔ میں اس سے بات کروں گی، لیکن پہلے تم سے بات کرنا ضروری ہے کیونکہ تم اس سے بڑی ہو اور تمہارا حق پہلے ہے۔”
“مام، بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی آپ کو میری شادی کی فکر کیوں پڑ گئی؟”
“عصر، مجھے تمہاری فکر ہے اور تمہیں میری بات ماننی ہوگی، ورنہ…”
انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“ورنہ کیا؟ آپ میرے ساتھ زبردستی کریں گی؟” عصر نے بے ساختہ قہقہہ لگایا۔
“جو بھی کرنا ہوا، کروں گی۔ لیکن تم میری بات مانو گی۔”
“مام، ایک بات سنیں۔ عصر جو چاہتی ہے، بس وہ اسے مل جائے۔ آپ دعا کریں۔”
وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔
“میں جانتی ہوں کہ تم کیا چاہتی ہو اور کس کو چاہتی ہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، وہ تمہیں کبھی نہیں ملے گا۔”
گل مہر ہاشمی نے تلخ انداز میں جواب دیا۔
عصر کے چہرے کے تاثرات بدلے، لیکن اس نے خود پر قابو پا لیا۔
“اگر جانتی ہیں تو آپ یہ بھی جانتی ہوں گی کہ عصر جب کسی چیز پر نظر جما لے تو وہ اس کی ہو جاتی ہے۔”
لہجہ ضدی اور مغرور تھا۔
“وہ چیز نہیں ہے، اور نہ ہی تمہارے لیے ہے۔ یہ بات یاد رکھنا۔”
گل مہر کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“مام، جس کے لیے آپ کو لگتا ہے کہ وہ اس کے لیے ہے، آپ یہ مت بھولیں کہ وہ اس سے نفرت کرتی ہے اور اس کو دیکھنا تو دور، اس کے ساتھ زندگی بھی نہیں گزارے گی۔”
عصر نے زہر گھولتے ہوئے کہا۔
گل مہر نے اس کی بات سنی اور وہاں سے چلی گئیں۔
عصر دل و دماغ میں ایک ہی چہرہ سوچ رہی تھی۔
دیان جہانزیب کا چہرہ۔
اسٹڈی روم میں یکدم گھٹن بڑھ گئی۔
عصر نے دوبارہ کتاب اٹھا لی، لیکن دھیان ماں کی باتوں کی طرف تھا۔
**********
جولی بارش سے مکمل بھیگ چکی تھی۔ وہ گرتے پڑتے، بھاگتی ہوئی چور بازار آئی تھی۔ کچھ دکانیں بند ہو گئی تھیں، ایک آدھ ابھی کھلی ہوئی تھی۔
وہ ایک ایک کرکے سب دکانوں میں جھانک جھانک کر دیکھ رہی تھی، لیکن اسے نہ کہیں سائیکل نظر آئی اور نہ باپ۔
کونے پر بنی دکان کے آگے اسے اپنا باپ نظر آیا تو وہ اس جانب بھاگی اور سیدھا اس کے سامنے جا رکی۔
“میری سائیکل کو ہاتھ کیسے لگایا، ہاں؟” وہ چیختے ہوئے بولی۔
“ایسے لگایا۔”
اس کے باپ نے اس کے بال زور سے پکڑے اور اس کے چہرے پر دو تھپڑ لگا دیے۔
جولی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے نفرت سے باپ کو دیکھا۔
“میری سائیکل کدھر ہے؟”
“وہ دیکھ، تیری سائیکل! اور اچھے سے دیکھ، تیرا بھی یہی حال ہوگا۔”
جولی کے باپ نے اس کا چہرہ دکان کی جانب کیا، جہاں اس کی سائیکل بلبل دو حصوں میں ٹوٹی ہوئی پڑی تھی۔
جولی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ منہ کھل گیا اور آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کا باپ یہ کرے گا۔
اس کا باپ اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچتا ہوا لے جا رہا تھا۔ اس نے مزاحمت بھی نہیں کی۔
وہ سائیکل اس نے خود لی ہوتی تو شاید دکھ کم ہوتا، لیکن وہ لیانا نے اسے تحفے میں دی تھی، پچھلی سالگرہ پر۔
اور وہ اس کی حفاظت نہیں کر سکی تھی۔
یہ دکھ اب اس کے ساتھ رہنے والا تھا۔
*********
جیکسن وہاں پہنچا جہاں لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ پولیس بھی آ چکی تھی۔
ایمبولینس میں میڈی کو اسٹریچر پر ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، لیکن عشاء نیچے بیٹھی اسی جگہ کو گھورے جا رہی تھی۔
جیکسن اور جون کار سے نکلے اور ہجوم کی طرف بڑھے۔
جیکسن نے ماسک نہیں لگایا تھا، جس سے لوگوں نے اسے پہچان لیا۔ لوگوں کا ہجوم حادثے کی جگہ چھوڑ کر اس کے اردگرد جمع ہونے لگا۔ کوئی آٹوگراف کے لیے تو کوئی سیلفی کے لیے۔
لیکن جون ان سب کو پیچھے دھکیل رہا تھا۔
جیکسن ہجوم کو چیرتا ہوا عشاء تک پہنچا، جو نیچے سن سی بیٹھی تھی۔
جیکسن اس کے پاس ایک گھٹنا زمین پر ٹیک کر بیٹھا اور اس کے چہرے کو دیکھا۔
میڈیا بھی پہنچ چکا تھا۔ ویڈیوز اور تصاویر بنائی جا رہی تھیں۔
“مس ہاشمی! آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں؟”
نرم لہجہ، جس میں ہمدردی بھی تھی۔
عشاء نے نظریں جیکسن کی جانب موڑیں، جو اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چند لمحے ناسمجھی سے اسے دیکھتی رہی اور پھر اس کے لبوں سے اتنی دھیمی آواز نکلی کہ جیکسن بمشکل سن پایا۔
“رومی… مر گئی۔ وہ مر گئی۔”
وہ بے ربط انداز میں بولی۔
عشاء کا دماغ کہیں اور موجود تھا۔
“کون رومی؟ اور آپ کس کی بات کر رہی ہیں؟”
“رومی… میری بہن، میری دوست… مر گئی۔”
“آپ اٹھیں اور چلیں۔”
جیکسن نے عشاء کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔
وہ کھڑی ہوئی تو اس کے لانگ کوٹ سے بارش کا پانی ٹپک رہا تھا۔
پولیس میڈیا اور لوگوں کو پیچھے دھکیل رہی تھی۔ میڈیا ان کے اردگرد جمگھٹا بنائے کھڑا تھا۔
دھڑا دھڑ سوالات کیے جا رہے تھے اور کوریج ہو رہی تھی۔
جیکسن نے ماسک لگانا چاہا، لیکن جو ہونا تھا ہو چکا تھا، تو ماسک کا کیا فائدہ؟
یہ سوچ کر اس نے ماسک نہیں لگایا۔
“سر، سر! آپ کو کیا لگتا ہے، یہ حادثہ غلطی سے ہوا یا سوچی سمجھی سازش تھی؟” صحافی نے جیکسن کے آگے مائیک کیا۔
“اس بارے میں میں کچھ نہیں جانتا۔ آپ ہٹیں اور جانے دیں۔”
وہ ہجوم کو چیرتے ہوئے آگے بڑھا۔
عشاء کا ہاتھ اس نے پکڑ رکھا تھا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔
“میم عشاء ہاشمی، انسٹیٹوٹ آف آرٹ کی مالک! آپ اس وقت یہاں موجود تھیں۔ آپ اس حملے کی چشم دید گواہ ہیں، تو آپ کیا کہنا چاہیں گی؟”
صحافی سوال پر سوال کیے جا رہے تھے۔
پولیس نے میڈیا کو پیچھے دھکیلا اور جیکسن عشاء کو ہجوم سے نکالتا ہوا کار کی طرف آیا۔
جیکسن نے عشاء کو اپنے ساتھ کار میں لے جانا چاہا تو اس نے منع کر دیا۔
“میں اپنی کار میں جاؤں گی اور ہسپتال جاؤں گی۔”
وہ اپنی کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے ہی والی تھی کہ جیکسن نے اسے روک دیا۔
“آپ دوسری طرف بیٹھیں، کار میں ڈرائیو کر لوں گا۔”
عشاء نے کوئی ردعمل نہیں دیا اور دوسری طرف جا کر بیٹھ گئی۔
جیکسن ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور سیٹ بیلٹ باندھی۔
جون بھاگتا ہوا آیا اور جیکسن کی طرف آ کر بولا:
“تم جا رہے ہو اور میں اس ہجوم سے کس طرح نکلوں؟”
“تم اپنی کار کی طرف جاؤ اور پھر جلدی سے ہسپتال پہنچو۔”
جون نے سر ہلایا اور بھاگتا ہوا اپنی کار کی طرف گیا۔
میڈیا کے لوگوں نے کوریج بنا لی تھی۔ اب یقینا ڈیڈ تک خبر پہنچ چکی ہوگی۔
جیکسن نے دل میں سوچا۔
پھر اس نے سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے کار اسٹارٹ کی اور ہجوم سے نکالتا ہوا لے گیا۔
جبکہ میڈیا اب مرچ مصالحوں کے ساتھ خبر دے رہا تھا۔
************
“آپ ٹھیک ہیں، مس ہاشمی؟”
جیکسن نے سامنے سے نظر ہٹا کر عشاء کی جانب دیکھا، جو شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی۔
کار ہسپتال کی طرف رواں دواں تھی۔ ان کے پیچھے جون کی کار اور پولیس کی کار آ رہی تھیں۔
ایمبولینس میں میڈی کی لاش کو لے جایا جا چکا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
عشاء نے بغیر دیکھے جواب دیا۔
کچھ لمحے خاموشی کے گزرے۔
عشاء نے سر موڑ کر جیکسن کی طرف دیکھا، جو سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔
“آپ مجھے ٹریپ کر رہے ہیں، مسٹر الیگزینڈر؟”
لہجہ سنجیدہ اور جذبات سے عاری تھا۔
جیکسن نے بے ساختہ سر موڑا اور عشاء کی طرف دیکھا، جو اسی کو دیکھ رہی تھی۔
“میں آپ کو کیوں ٹریپ کروں گا؟”
جواب کے بجائے اس نے سوال پوچھا۔
کار میں سنجیدگی کی حدت پہلے سے زیادہ ہو گئی۔
“یہ تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔”
“میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے ٹریپ کر رہی ہیں؟”
جیکسن نے اسی کے الفاظ اسی پر الٹ دیے۔
“میں ایسے کام نہیں کرتی، جناب۔”
عشاء نے نظریں باہر جما دیں، جہاں بھاگتے درخت اندھیرے میں سائے کی طرح لگ رہے تھے۔
“میں بھی ایسے کام نہیں کرتا، بی بی۔”
جیکسن نے اسے دیکھ کر آنکھوں کا رخ بدل لیا۔
ورنہ کیا معلوم، جیکسن کو کار سے باہر نکال دے، کیونکہ وہ عشاء کی ہی تھی۔
**********
ڈین ولیج گاؤں میں میڈی کی والدہ لونا کینسر کی مریضہ تھیں۔ ان کا اکلوتا بیٹا ہی ان کا واحد سہارا تھا، جو اب ان سے چھن گیا تھا۔
لیانا ان کے ساتھ ہی لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔
“آپا، آپ نے اس کو جانے ہی کیوں دیا؟”
لیانا کے لہجے میں پریشانی جھلک رہی تھی۔
“وہ اس کو کیسے روکتی؟ اس کے استاد نے اس کو بلوایا تھا کہ آ جاؤ، کام جلدی نمٹانا ہے، بارش آ رہی ہے۔ تو وہ بھاگتا چلا گیا۔”
ماں کا دل کٹ رہا تھا۔
“باہر اتنی تیز بارش ہوئی ہے، طوفان کی طرح آ کر گئی ہے۔ ایسے میں وہ کدھر ہوگا، نجانے کیا کر رہا ہوگا؟”
لیانا کو میڈی چھوٹے بھائی کی طرح عزیز تھا۔
لکڑی سے بنے اس مکان میں وہ دونوں پرانے صوفے پر بیٹھی الگ الگ سوچوں میں گم اور پریشان تھیں۔
لیکن جو ہو چکا، سو ہو چکا۔
میز پر رکھا لیانا کا فون بجا تو اس نے جلدی سے اٹھا لیا۔
انسٹیٹوٹ کے گروپ میں ایک ویڈیو آئی ہوئی تھی۔
اس نے کلک کیا۔ ویڈیو ڈاؤن لوڈ ہونے لگی۔ چند سیکنڈ بعد ڈاؤن لوڈ مکمل ہوئی تو اس نے ویڈیو کھولی۔
جو کچھ اس نے سنا اور دیکھا، اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا۔
لونا آپا نے سب سن لیا تھا۔ انہوں نے بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھا اور ان کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
لیانا نے روتے ہوئے ان کی طرف دیکھا، لیکن وہ ہوش و حواس کھو چکی تھیں۔
لیانا چلاتے ہوئے انہیں ہوش میں لانے لگی، لیکن وہ ہوش میں نہیں آ رہی تھیں۔
**********
جولی کو اس کے والد بالوں سے پکڑ کر گھر میں لے آئے اور لاؤنج میں پٹخ دیا۔
جولی نے نفرت سے باپ کی طرف دیکھا۔
اتنے میں اس کی ماں بھی آ گئی۔ نیچے جولی کو گرا دیکھ کر اس کی طرف بڑھی اور اسے سینے سے لگا لیا۔
“اس کو سمجھا دے۔ ادھر رہنا ہے تو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے دے، ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔”
آرتھر غصے سے پھنکارتا ہوا بولا۔
“یہ گھر آپ کا نہیں، میرے نانا کا ہے اور آپ کو اس گھر سے چلے جانا چاہیے۔”
وہ چیختے ہوئے بولی۔
“کیا کہا تو نے، ہاں؟”
وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ مارنے کے لیے اس کی ماں بیچ میں آ گئی۔
“چھوڑ دے، بچی ہے۔ آئندہ نہیں کرے گی۔”
وہ آرتھر کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کرنے لگیں۔
“نہیں، ماں! پھر موقع ملا تو کروں گی۔ لیکن اس کے خلاف جاؤں گی۔”
ماں کے پیچھے کھڑی وہ بولی۔
جولی کی ماں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔
“چپ کر! بالکل چپ! اور جا اپنے کمرے میں۔”
اسے کمرے کی سمت موڑتے ہوئے کہا۔
آرتھر کمینی مسکراہٹ کے ساتھ یہ سب دیکھتا رہا، پھر کھانے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
جولی نے چہرے پر ہاتھ رکھ کر ماں کو بے یقینی سے دیکھا، جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
جولی نے گیلی، زکام زدہ سی سانس خارج کی اور پھر ماں کی طرف زخمی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ کر کہا:
“پہلے باپ مر گیا۔ اس کے بعد تو ہی تھی سب کچھ۔ لیکن جس دن تم نے میرے باپ کی جگہ اس آدمی کو دی، تب کچھ گنجائش تھی میرے دل میں تیرے لیے۔ لیکن آج تو نے وہ بھی ختم کر دی۔
آج سے میرے باپ کے ساتھ تو بھی مر گئی اور میں تیرے لیے۔”
وہ ماں کو دیکھتی ہوئی رکی نہیں تھی۔
زینے پھلانگتے ہوئے اوپر کی جانب بڑھ گئی۔
پیچھے اس کی ماں، الارا، سسکیوں کو دباتی ہوئی نیچے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
***********
الیگزینڈر صاحب نیوز سن چکے تھے۔ اب ان کا پارہ ساتویں آسمان پر تھا، جس کے عتاب میں لیزا اور میخائل آئے کھڑے تھے۔
“میں نے کتنی بار کہا ہے کہ جیکسن کو اکیلا نہیں چھوڑنا، اور تم نے لاپرواہی دکھا دی۔”
وہ لاؤنج میں ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے غصے سے لال پیلے ہو رہے تھے۔
“سر، غلطی ہو گئی۔ لیکن ابھی میں جا کر ان کو لے آتا ہوں۔”
میخائل نے جلدی سے جواب دیا۔
“اب کیا کرو گے؟ اب یہ پولیس کا معاملہ بن چکا ہے اور جیکسن کی جو بدنامی ہوگی، اس کے کیریئر پر ایک دھبے کی طرح جم چکی ہے۔”
وہ رومال نکال کر پسینہ پونچھنے لگے۔
“ڈیڈ، آپ پریشان نہ ہوں۔ کچھ نہیں ہوگا اور بھائی ابھی آ جائیں گے۔”
لیزا الیگزینڈر صاحب کے پاس کھڑے نرم لہجے میں بولی۔
لیکن اندر سے ڈر رہی تھی کہ اگر میخائل نے بتا دیا کہ بھائی کے پیچھے جانے سے لیزا نے روکا تھا تو سارا عتاب اسی پر اترتا۔
“کیسے، لیزا؟ وہ ابھی تک تو”
وہ جلدی سے بات کاٹتے ہوئے بولی
“میخائل، جاؤ اور بھائی کو لے کر آؤ، ورنہ واپس مت آنا۔ تمہاری وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ آئی سمجھ؟”
اس نے مصنوعی غصے سے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔
میخائل نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر الیگزینڈر صاحب سے اجازت لے کر چلا گیا۔
پیچھے لیزا انہیں تسلی دیتی رہی۔
**********
لیانا نے لونا آپا کے موبائل سے کال کرکے ان کی دوست سونیلا کو بلا لیا تھا۔ ساتھ میں ان کا بیٹا بھی آ گیا تھا۔
وہ دونوں اب لونا آپا کو کار میں لے کر ہسپتال جا رہے تھے۔
لیانا ساتھ جانا چاہتی تھی، لیکن انہوں نے اسے روک دیا تھا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رک گئی۔
وہ ان کو لے کر چلے گئے تھے۔
اب وہ پریشان بھی ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی جولی کا خیال آتے ہی اسے کال کی، لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی۔
بار بار ملانے کے باوجود بھی اس کا نمبر بند ہی جا رہا تھا۔
لیانا نے تھک ہار کر موبائل صوفے پر رکھ دیا اور لونا آپا کے لیے دعا کرنے لگی۔
لیکن میڈی کا خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
اس خالی گھر میں بیٹھی، باہر بہتے پانی کی آواز سنتے ہوئے، وہ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے بیٹھی رہی۔
***********
جس وقت حملہ ہوا تھا، اس وقت نقاب میں لپٹا شخص وہاں سے جلدی سے غائب ہو گیا تھا۔
لیکن وہاں سے تھوڑی دور جا کر اس نے کال پر موجود شخص کو اطلاع دی۔
کال کے اسپیکر سے چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی:
“یہ کیا کر دیا؟ میں نے تم سے کیا کہا تھا اور تم نے یہ سب کر دیا!”
غصہ سب سے زیادہ حاوی تھا۔
“سر، میں شوٹ کرنے ہی والا تھا کہ وہ جھک گئی اور گولی بچے کو لگ گئی۔”
اندھیرے میں کھڑا وہ شخص اردگرد دیکھتے ہوئے بولا۔
“اب ایسا کرو، وہاں سے نکلو اور اگلے کئی دن تک نظر نہ آنا۔ اور ہاں”
وہ رکا۔
پھر دوبارہ آواز آئی:
“موقع ملے تو اگلی بار قصہ ختم کر دینا۔”
نفرت سے بھرپور آواز، جس میں نفرت ہی نفرت تھی۔
دوسری جانب سے کال کٹ گئی اور نقاب میں لپٹا شخص وہاں سے چلا گیا۔
**********
“جوف، کس کی کال تھی؟”
مینوئل آفس میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔
جوف کال بند کرکے اب موبائل پر سیکیورٹی کی معلومات دیکھ رہا تھا۔
“بیلا کی تھی۔ کہہ رہی تھی کہ گھر کب تک آئیں گے، بھائی؟”
وہ صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا، موبائل سے نظر ہٹا کر مینوئل کو دیکھتے ہوئے بولا، جو فائل فولڈ کرکے رکھ رہا تھا۔
“ہممم، تم جلدی چلے جایا کرو۔ وہ اکیلی ہوتی ہے اور دیان نے بھی تو کہہ رکھا ہے، لیکن تم پھر بھی دیر کر دیتے ہو۔”
“بس باس کو جب تک گھر نہ چھوڑ دوں، صحیح سلامت دل ہی نہیں کرتا کہ گھر جاؤں۔”
وہ محنت سے سرشار لہجے میں بولا۔
“یہ تو ہے، لیکن کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے کہ تم کہیں دیان کی زندگی میں جوف سے زیادہ جوفا نہ بن جاؤ۔”
مینوئل نے شرارتی انداز میں کہا اور جوف کے تاثرات دیکھنے لگا۔
“بن بھی جاؤں تو کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اب میں ان کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں اور کسی کی جان ان کے لیے لے بھی سکتا ہوں۔”
وہ پراسرار لہجے میں فضا میں ان دیکھا سا دیکھتے ہوئے بولا۔
“وہ تو ٹھیک ہے، لیکن مجھے تمہاری اس جنونی محبت اور باتوں سے ڈر لگتا ہے۔ لیکن خیر، چھوڑو۔ اب بتاؤ دیان کا کیا کریں، جس نے ہاتھ زخمی کر لیا ہے اپنا اور پھر غم میں ڈوبا بیٹھا ہوگا۔”
“میں ابھی کچھ دیر پہلے گیا تھا، لیکن انہوں نے خود کو خود ہی تکلیف دے کر مرہم بھی رکھ لیا۔ پھر مجھے کہہ کر واپس بھیج دیا کہ وہ اکیلے رہنا چاہتے ہیں۔”
جوف نے اطلاعات دیتے ہوئے کہا۔
“چلو۔ ویسے جوف، میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ آئندہ خیال رکھنا۔ جو بھی بات ہو، اس ‘چھپکلی’، مطلب عشاء، کے بارے میں پہلے مجھے بتایا کرو اور پھر دیان سے، ضروری ہوا تو، بات کریں گے۔ ورنہ ہر فالتو بات اسے بتانا ضروری نہیں۔”
مینوئل جوف کو سمجھاتے ہوئے بولا۔
جوف نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“آسٹریلیا کی برانچ کا کیا حال ہے؟ اس کی کچھ اطلاعات نہیں آئیں؟”
آفس کے شیشوں کے پار اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ تقریباً کچھ ورکر کام کر رہے تھے، جبکہ زیادہ تر جا چکے تھے۔
“سب بظاہر تو ٹھیک ہے، لیکن یہاں کے حالات سدھر جائیں تو پھر آسٹریلیا کی تیاری کریں گے۔ جانے کی باس کو بھی کچھ میٹنگز اٹینڈ کرنی ہیں، تو برانچ بھی وزٹ کر لیں گے اور معلومات بھی مل جائیں گی۔”
وہ ہر بات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر بتاتا تھا۔
“چلو، صحیح ہے۔ ابھی پھر یہ فائل ہے، اس پر کچھ ڈسکس کر لیتے ہیں۔ باقی باتیں بعد میں ہوتی رہیں گی۔”
مینوئل فائل کھول کر جوف کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔
آفس میں روشنی ہی روشنی تھی، باہر کے اندھیرے کے برعکس۔
***********
ایک گھنٹہ پہلے
دیان کے ہاتھ سے رستے خون کی بوندیں ٹھنڈے فرش پر ٹپک رہی تھیں۔
اس نے اسکرین کی جانب سر کیے ہوئے ہاتھ کی انگلیاں بھینچیں تو درد کندھے تک گیا، لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔
درد کو محسوس کرتے ہوئے وہ اٹھا اور اسکرین کی جانب بڑھا۔ ہاتھ سے خون کے قطرے قطرہ قطرہ گر رہے تھے۔
وہ اسکرین کے پاس کھڑا ہوا۔
اس نے خون سے بھرا ہاتھ بلند کیا اور شہادت کی انگلی سے عشاء کے چہرے کے گال پر ہاتھ پھیرا۔
درد کرتے ہاتھ میں یکدم سکون پھیل گیا۔
اس نے آنکھیں بند کرکے اس سکون کو محسوس کیا اور پھر اسکرین بجھا دی۔
وہ بائیں جانب بنے واش روم میں گیا اور آٹومیٹک نل کے نیچے ہاتھ کیا تو ٹھنڈا پانی ہاتھ پر گرنے لگا۔
اس نے کچھ دیر ہاتھ نل کے نیچے رکھا۔
پھر ڈریس کوٹ کی جیب سے سفید رنگ کا رومال نکالا، جس پر سرخ دھاگے سے “گلاب” لکھا ہوا تھا۔
اسے کھول کر خوشبو محسوس کی، پھر ہاتھ پر باندھ لیا۔
اور واش روم سے باہر نکل آیا۔
دروازے پر دستک ہوئی۔
اس نے اجازت دے دی۔
“خوف” اندر داخل ہوا اور دیان کے ہاتھ کی جانب دیکھا، جس پر رومال بندھا ہوا تھا۔
فرش پر گرے خون کے قطرے دیکھ کر اس کا دل اندر تک جل گیا، لیکن اس نے خود پر ضبط کر لیا۔
“باس، آپ ٹھیک ہیں؟”
“میں ٹھیک ہوں، خوف۔ اور یہ چھوٹے درد میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ بے فکر رہو۔”
دیان شیشے کی کھڑکی کے پاس چلتا ہوا گیا اور اسے کھول دیا۔
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے چہرے سے ٹکرائے۔
“سوری، باس۔ میری وجہ سے یہ سب ہوا، لیکن میں شرمندہ ہوں۔”
خوف ندامت بھرے لہجے میں بولا۔
“اوہ، کم آن، جوف! بچوں کی طرح منہ مت بناؤ۔ تم نے جو کیا، وہ تمہارا کام تھا۔ اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی تم اسی طرح کرو گے۔”
“یس، باس۔”
حکم صادر ہوا تو مان لیا گیا۔
“ابھی تم جاؤ۔ مجھے کچھ دیر اکیلے رہنا ہے۔”
وہ باہر اندھیرے میں دیکھتے ہوئے بولا۔
“اوکے، باس۔”
جوف کہتے ہی باہر چلا گیا۔
دیان نے چہرے کے آگے ہاتھ بلند کیا اور اس کی نظریں رومال پر جم گئیں۔
**********
یہ اس وقت کی بات ہے جب دیان کے آفس سے مینوئل اور جوف دونوں ایک ساتھ باہر نکلے تھے۔
“میری بات سنو، تمہیں کیا ضرورت تھی یہ سب دیان کو بتانے کی؟”
مینوئل غصے سے پھنکارتا ہوا بولا۔
“ضرورت تھی، کیونکہ باس کا حکم میں کبھی ٹال نہیں سکتا۔ عشاء میم سے جو بھی بات تعلق رکھتی ہو، وہ ان کو بتانا ضروری ہے۔”
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے بول رہے تھے۔
کام کرتے ایک ورکر نے سر موڑ کر انہیں دیکھا۔
“تمہاری وجہ سے دیان کو تکلیف پہنچی ہے اور تمہاری یہ غلطی معافی کے قابل نہیں ہے۔
انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے مینوئل نے کہا۔
“باس جو کہیں گے، میں وہ کروں گا۔ اور تمہاری معافی مجھے چاہیے بھی نہیں، مینوئل۔”
اس نے مینوئل کے نام پر زور دیا۔
“تمہیں میں معاف بھی نہیں کر رہا، اور تمہیں معافی مجھ سے نہیں، دیان سے مانگنی ہوگی۔”
“مانگ لوں گا، تم فکر مت کرو۔”
جوف نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا۔
“ضرور مانگنا۔”
مینوئل نے موبائل نکالتے ہوئے نمبر ملایا اور پھر تھوڑا سا کونے کی جانب جا کر بات کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد بات ختم کرکے واپس آیا اور جوف کو آفس میں جانے کا بولا، جبکہ خود نیچے کی منزل کی طرف چلا گیا۔
جتنا غصہ دکھاتے تھے ایک دوسرے کو، کچھ دیر بعد خود ہی مل کر بیٹھ کر چائے بھی پی لیتے تھے۔
***********
ایک گھنٹہ بعد
ہسپتال کے ٹھنڈے کوریڈور میں عشاء اور جیکسن کے ساتھ جون بھی موجود تھا۔
وہ تینوں پولیس کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔
“آپ کو کیا لگتا ہے کہ اتنے چھوٹے بچے سے کس کی دشمنی ہوگی، آفیسر؟”
جیکسن عشاء اور جون کے درمیان کھڑا تھا۔
تین پولیس والے ان کے سامنے کھڑے تھے۔
“نہیں، مسٹر جیکسن صاحب۔ اتنے چھوٹے بچے سے کسی کی دشمنی نہیں ہو سکتی۔ کوئی اور بات ہے۔”
“لیکن پھر وہاں عشاء ہاشمی موجود تھیں۔ ان کے ساتھ تو کسی کی دشمنی ہو سکتی ہے؟”
جیکسن نے عشاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“آپ بتائیں، مس ہاشمی۔ آپ کی کسی کے ساتھ دشمنی یا کوئی ایسا تعلق ہے؟”
“نہیں، آفیسر۔ میری کسی کے ساتھ دشمنی یا کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔”
دماغ کی سطح پر دیان کا نام ابھرا تھا۔
لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔
وہ جانتی تھی۔
“آپ نے جیسا کہ کہا کہ جیسے ہی آپ جھکیں تو پیچھے سے گولی آئی اور بچے کو لگی، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مارنے آپ کو آیا تھا اور آپ کا جھک جانا بچے کی جان لے گیا۔”
آفیسر نے کہا۔
عشاء کے چہرے پر سایہ ابھرا۔
پہلے رومی
اور اب وہ چھوٹا بچہ۔
دل اندر ہی اندر کٹ رہا تھا، لیکن وہ ضبط کیے بیٹھی رہی۔
“جو بھی ہو، آفیسر، لیکن اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟” جیکسن نے پوچھتے ہوئے کہا۔
“انہیں زیادہ خیال رکھنا ہوگا اور اگر یہ اپنی سیکیورٹی بڑھا لیں تو اچھا ہوگا، کیونکہ ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے۔”
“نہیں، آفیسر۔ میں کمزور نہیں ہوں۔ میں عشاء ہاشمی ہوں اور میں خود پر آنے والی ہر مصیبت کا رخ بدل سکتی ہوں۔ اس لیے میں دشمن کو خود کو کمزور سمجھنے نہیں دوں گی۔”
دوٹوک انداز جیکسن کے ساتھ جون کو بھی پسند آیا۔
“آپ کی مرضی، لیکن احتیاط کرنی ہوگی آپ کو۔”
“آفیسر، بچے کی کوئی معلومات ملی؟ کون ہے اور کہاں سے ہے؟”
جیکسن نے سوال کیا۔
جون کی کال آ رہی تھی، تو وہ سننے کے لیے باہر چلا گیا تھا۔
“یس، ابھی ہم نے نیوز پر تصویر وغیرہ دے دی ہے۔ ابھی تک تو کسی نے رابطہ نہیں کیا، لیکن جیسے ہی کوئی معلومات ملتی ہیں، کارروائی کرتے ہیں۔”
“اوکے۔ آپ جلدی کیجیے اور اس کے گھر والوں سے رابطہ کیجیے۔ کچھ بھی اپڈیٹ ہو تو ضرور بتائیے گا۔”
عشاء میڈی کے گھر والوں سے ملنے کے لیے بے چین تھی۔
“اوکے، ہم کرتے ہیں۔ ضرور۔ آپ لوگوں کو دوبارہ ہم زحمت دیں تو آپ کو آنا ہوگا۔ اور جہاں پر آفیسر وغیرہ موجود ہیں، آپ چاہیں تو گھر جا سکتے ہیں۔”
دونوں آفیسر ہسپتال میں موجود تھے۔
میڈیا کو انہوں نے پہلے ہی باہر بھیج دیا تھا اور باقی جتنی نیوز اب ٹرینڈ کر رہی تھیں، اس سب سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔
“جی، شکریہ! زحمت کی کوئی بات نہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے اور ہم ضرور تعاون کریں گے۔”
جیکسن نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
عشاء نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
پھر وہ دونوں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر چلتے ہوئے باہر کی طرف نکل آئے۔
“ویسے عشاء، مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔”
“بولیں۔”
عشاء سامنے بڑے شیشے کے دروازے کو دیکھ رہی تھی، جس کے پیچھے ہسپتال کا عملہ موجود تھا۔
“آپ کو واقعی ڈر نہیں لگتا کہ کوئی آپ کو مار دے گا؟”
“میں اس سب سے نہیں ڈرتی۔ جو مکتوب ہے، وہ ہو کر ہی رہے گا، اور اس سے ڈرنا کیسا؟”
“یہ تو ہے، لیکن پھر بھی آپ ایک لڑکی ہیں۔ اور جہاں تک میں نے لڑکیوں کو دیکھا ہے، وہ تو بہت نازک سی ہوتی ہیں، بات بات پر گرنے والی اور دوسروں پر انحصار کرنے والی۔”
“میں ان جیسی بالکل نہیں ہوں۔ میں ڈرتی نہیں، بلکہ ڈراتی ہوں۔”
وہ دونوں چلتے ہوئے ہسپتال کے پورچ میں آ گئے تھے۔
جون کو جیکسن نے میسج پر کار لے آنے کا کہا تھا اور وہ کار ہی میں موجود تھا۔
“ایک منٹ! یہ بات تو لیزا اکثر بولتی ہے۔ اور آپ کیا کرتی ہیں، کوئی جاب وغیرہ؟”
وہ چونکتے ہوئے بولا۔
“میں عشاء ہاشمی، انسٹیٹوٹ آف آرٹ کی مالک ہوں اور لیزا میری اسٹوڈنٹ ہے۔ اور آپ اس کے بھائی، شاید؟”
وہ دونوں پورچ میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔
“شاید نہیں، میں اس کا بھائی ہی ہوں۔ اور آپ پلیز اسے یہ سب نہ سکھائیں۔ وہ تو میرا دماغ ہی خراب کرتی رہتی ہے۔ اور مجھے پہلے یاد نہیں آیا، وہ ہر وقت ‘عشاء میم، یہ وہ’ بولتی رہتی ہے۔ مجھے سمجھ جانا چاہیے تھا، لیکن میں پھر بھی نہیں سمجھ سکا۔”
“میں آپ کو پہلے نہیں پہچان سکی، لیکن الیگزینڈر کہنا ہی آپ کا مجھے سمجھا گیا کہ آپ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں۔”
“اچھا، پھر تو آپ…”
وہ کچھ اور بولتا، عشاء نے روک دیا۔
“جیکسن صاحب، میں چلتی ہوں۔ اور آپ کو ادھر ٹھہرنا ہے تو ٹھہریں، نہیں تو جائیں۔”
وہ کار کی طرف بڑھی، تو وہ لاک تھی۔
یاد آنے پر وہ جیکسن کی طرف مڑی اور سامنے چابی کے لیے ہاتھ کیا۔
جیکسن نے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر چابی نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔
وہ چابی لے کر کار کی طرف بڑھی، کار ان لاک کی اور دروازہ کھولتے ہی اندر بیٹھ گئی۔
شیشہ اوپر کرتے ہوئے اس نے جیکسن کو دیکھا، پھر سیٹ بیلٹ باندھی اور کار چلاتی ہوئی لے گئی۔
جیکسن جلدی سے بھاگتا ہوا آیا اور جون کو عشاء کی کار کا پیچھا کرنے کا کہا۔
“اس کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا؟”
جون کار کو فاصلے پر رکھ کر چلا رہا تھا، لیکن چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
“کچھ نہیں ہوگا۔ اسے پتا نہیں چلے گا۔ تم بس پیچھا کرتے رہو۔”
“اوکے، جو حکم آپ کا۔”
جون نے اونہہ کرتے ہوئے ناک سکیڑی۔
**********
ہاشمی ولا
ہاشمی ولا میں سب لاؤنج میں موجود تھے۔
واقعہ ان کو معلوم ہو گیا تھا اور گل مہر پریشان سی بیٹھی عشاء کا انتظار کر رہی تھیں۔
عشاء سے ان کی بات ابھی ہوئی تھی۔ وہ راستے میں کار چلاتے ہوئے آ رہی تھی۔
“مام، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپی آ رہی ہیں، وہ ابھی آ جائیں گی۔”
یغوث ماں کے ساتھ بیٹھا انہیں تسلی دیتے ہوئے بولا۔
“گل مہر، عشاء آ جائے گی اور تم زیادہ مت سوچو۔”
ادیب ہاشمی بھی بولے۔
تقریباً سب ہی موجود تھے۔
ہاشمی ولا میں ہر بار پارٹی کی جاتی تھی جب بھی بارش آتی تھی۔ سب تقریباً اکٹھے ہوتے اور بارش کے آنے کی خوشی میں پارٹی کرتے تھے۔
عصر بے فکری سے نگٹس کھانے میں لگی ہوئی تھی۔ اسے کسی کے جئے یا مرے، بالکل فکر نہیں تھی۔
“جب تک وہ نہ آ جائے، مجھے اس کی فکر لگی رہے گی۔”
ماں تو پھر ماں تھیں، اولاد کو دیکھ کر ہی سکون ملتا تھا۔
میرب نے سمنان کو اشارہ کیا اور سمنان کی گھوری کے باوجود بھی وہ پکوڑے اور چٹنی کھانے لگی۔
گل مہر نے سب دیکھنے کے باوجود کچھ نہیں بولا اور خاموشی سے بیٹھی رہیں۔
باقی سب کھانے لگ گئے تھے۔
“ویسے عشاء نہیں، بربادی ہونا چاہیے تھا اس کا نام۔ جہاں بھی جاتی ہے، بربادی پھیلاتی ہے یہ تو۔”
فردوس نے توصیف کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
“چپ کرکے کھاؤ اور بس زیادہ فضول نہ بولا کرو تم۔”
توصیف ہاشمی فردوس کو ڈانٹتے ہوئے بولے۔
فردوس ناک سکوڑتی ہوئی کھانے لگ گئی۔
لاؤنج کے ساتھ ہی ملحقہ ڈائننگ ہال تھا، لیکن وہ لوگ لاؤنج میں ہی سب انتظامات کیے بیٹھے کھا رہے تھے۔
“حاد، اور سناؤ۔ نوشہ اور دیان کیسے ہیں؟”
ادیب ہاشمی چاول کھاتے ہوئے حاد سے پوچھنے لگے۔
“جی، ماموں۔ وہ ٹھیک ہیں۔”
“چلو، ان کو میرا پیغام دے دینا کہ ہم ان سے ملنا چاہتے ہیں اور وہ ہم سے ملنے لازمی آئیں۔”
ادیب ہاشمی بہن اور بھانجے کو یاد کرتے تھے، لیکن عشاء کی وجہ سے وہ کبھی کہہ نہیں پاتے تھے۔
“جی ضرور، میں ان کو کہہ دوں گا۔”
حاد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
شائل خاموش تماشائی بنی بیٹھی بریانی کھاتے ہوئے سب کی باتیں دور سے سن رہی تھی، لیکن اس کی نظریں یغوث پر اٹکی ہوئی تھیں۔
ہاشمی ولا میں سب بیٹھے کھا رہے تھے، لیکن گل مہر ہاشمی اندر ہی اندر جل رہی تھیں۔ ظاہر کچھ نہیں ہونے دیا۔
***********
دیان کو خبر مل چکی تھی اور وہ جوف اور مینوئل کے ساتھ ہسپتال کی طرف جا رہا تھا۔
گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔
دیان پیچھے مینوئل کے ساتھ بیٹھا دو انگلیاں ہونٹوں پر رکھے ہوئے باہر دیکھ رہا تھا۔
“سر، وہ ٹھیک ہیں اور گھر پہنچنے والی ہیں۔”
جوف نے اسکرین پر میسج پڑھ کر بتایا، جو حاد کی جانب سے آیا تھا۔
دیان نے خود حاد سے پوچھنے کے لیے کہا تھا، تو اس نے معلوم کروا لیا تھا۔
زخمی ہاتھ رومال سے بندھا ہوا اس کی گود میں رکھا تھا۔
“سالوں بعد ملاقات بنتی تو ہے۔”
دیان کی آواز بھری ہوئی تھی۔
“دیان، تم سے مل کر اسے کیسا محسوس ہوگا، یہ دیکھنا ہے مجھے۔”
“دیان سے مل کر اسے کیسا محسوس ہوتا ہے یا نہیں، یہ تو مل کر ہی معلوم ہوگا۔”
“چلو، پھر سالوں بعد دیکھتے ہیں یہ ملاقات کیسی رہتی ہے؛ یاد رکھی جانے والی یا بھول جانے والی۔”
مینوئل نے دیان کی جانب دیکھ کر کہا۔
جوف آگے بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا اور اردگرد بھی نظر رکھے ہوئے تھا۔
دیان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی، لیکن دل میں عشاء کے ساتھ ہوا واقعہ گھوم رہا تھا۔
اس کی کڑیاں ملاتے ملاتے وہ تہہ تک پہنچ پایا تھا۔
اب یہ کام جوف کے ذمے لگانے کا سوچنے لگا تھا، کیونکہ جوف ہی یہ سب کر سکتا تھا۔
اور کوئی نہیں۔
کار ہسپتال کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔
اور آنے والی ملاقات بتانے والی تھی کہ یہ ملاقات کیسی رہتی ہے۔
جاری ہے۔۔۔
*************
اگلی قسط
چند دنوں بعد
