سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 9
پری کے جانے کے بعد افی سو گئی۔ پھر اچانک اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی میں دن کے بارہ بج رہے تھے۔ وہ کچھ دیر گھڑی کو دیکھتی رہی، پھر حیرت سے سوچنے لگی کہ وہ اتنی دیر تک سوئی رہی۔۔۔۔
فریش ہونے کے بعد۔۔اس نے سوچا کہ اب ناشتے کا تو وقت گزر چکا ہے، اس لیے اس نے نیچے سارا کو کال کر کے اپنے لیے کھانا اوپر بھجوا دیا۔ کھانا آنے تک وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئ
۔
اور رومی اور ہنی ان کا مال راستے میں کینسل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے اب رومی کو پاکستان ہی میں کسی سے مال خریدنا تھا۔ اسی لیے وہ مختلف ویب سائٹس دیکھ رہی تھی کہ کہاں سے مال منگوایا جا سکتا ہے اور کہاں سے اچھا اور معیاری مال مل سکتا ہے۔
اور ہنی پری کے ڈیزائنز پر کام کر رہی تھی اور اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھی اسی سلسلے میں مصروف تھی۔ وہ دونوں ابھی اپنی بوتیک میں تھی۔۔۔
شام کو افی ہال میں بیٹھی اپنے کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے فون پر کال آنے لگی۔ اس نے فون کی اسکرین پر نظر ڈالی تو کال اقراء کی تھی۔
افی نے فوراً کال اٹھائی، مگر دوسری طرف سے جو کچھ سننے کو ملا، اسے سن کر وہ حیرت سے ساکت رہ گئی۔ اقراء بری طرح رو رہی تھی۔
افی نے فوراً اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، ’’تم رو مت، میں تھوڑی دیر میں تمہارے پاس پہنچتی ہوں۔‘‘
یہ کہتے ہی اس نے فوراً لیپ ٹاپ بند کیا، اٹھی اور جلدی سے تیار ہونے کے لیے چلی گئی۔ چند ہی لمحوں بعد وہ گاڑی لے کر گھر سے نکل گئی۔۔۔۔
پیچھے موجود سب لوگ حیرت سے اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہ گئے۔ افی نے کسی کو کچھ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی تھی کہ آخر اچانک ایسا کیا ہوا کہ ۔۔۔۔۔
افی اقراء کے گھر پہنچی تو اس نے گاڑی گھر کے باہر پارک کی اور فوراً اندر چلی گئی۔
اندر کا ماحول دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی۔ اقرا پریشانی سے رو رہی تھی، اس کی ماں بھی آنسو بہا رہی تھی، جبکہ اس کے والد خاموشی سے ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔
افی نے آگے بڑھ کر پوچھا، ’’اقراء، کیا ہوا ہے؟‘‘
اقراء فوراً اس کے پاس آئی اور روتے ہوئے بولی، ’’افی میڈم، پلیز میری مدد کریں۔ میری بہن نہیں مل رہی۔‘‘
افی نے اسے سنبھالتے ہوئے کہا، ’’ایک منٹ، پہلے تم تھوڑا سا سانس لو۔ آرام سے بتاؤ، ہوا کیا ہے؟‘‘
اقراء نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، ’’صبح میری بہن یونیورسٹی گئی تھی اور ابھی تک واپس نہیں آئی۔ شام کے چھ بج رہے ہیں، لیکن ابھی تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔‘‘
’’تم نے اسے کال کی؟‘‘ افی نے فوراً پوچھا۔”کیا تم نے اس کے دوستوں کو کال کی؟”
جس پر اس نے کہا، “ہاں، لیکن انہوں نے بتایا ۔۔۔
اس نے ایک نظر پیچھے اپنے ماں باپ پر ڈالی، پھر قدرے دبی ہوئی آواز میں بولا تاکہ وہ اس کی بات نہ سن سکیں، “ہاں، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ آج یونیورسٹی آئی ہی نہیں۔”
’’اس کا نمبر بند جا رہا ہے۔ ابھی تک اس کی کوئی کال بھی نہیں آئی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا، پلیز میری مدد کریں۔ مجھے لگتا ہے میری بہن کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔‘‘
افی نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔ ’’اوکے، ٹھیک ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانی چاہیے۔‘‘
’’ہاں، میں…‘‘ اقراء نے کہتے ہوئے اپنے والدین کی طرف دیکھا۔
اقراء نے بھی اپنے والدین کو تسلی دیتے ہوئے کہا،میں رپورٹ کروا کے آتی ہوں ’’آپ پریشان نہ ہوں، وہ مل جائے گی۔ ہم اسے ڈھونڈ لیں گے۔‘‘
مگر اس کے والدین کی پریشانی کم نہ ہوئی۔ اس کے والد کی آنکھوں میں بھی نمی آ گئی۔
’’پہلی بیٹی کا گھر پہلے ہی اجڑ کر رہ گیا ہے… اب دوسری بیٹی کا بھی کچھ پتا نہیں۔‘‘
اس کی ماں تو جیسے بالکل ٹوٹ گئی تھی۔ اس نے افی کی طرف دیکھتے ہوئے التجا کی، ’’پلیز، میری بیٹی کو مجھے واپس لا دو۔ پتا نہیں وہ کہاں ہوگی، کس حال میں ہوگی۔‘‘
افی نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا، ’’آپ فکر نہ کریں، ہم اسے ضرور ڈھونڈیں گے۔ آپ بس حوصلہ رکھیں۔‘‘
پھر اس نے اقراء کی طرف دیکھا۔ ’’چلو، اقراء۔‘‘
دونوں فوراً پولیس اسٹیشن کے لیے روانہ ہو گئیں۔
پولیس اسٹیشن پہنچ کر افی اندر داخل ہوئی اور سیدھا جا کے پوچھا، ’’یہاں کے ایس ایچ او کہاں ہیں؟‘‘
تھانے کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اسے ایک طرف چند پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی میں مصروف نظر آئے۔ سامنے موجود میز پر رجسٹر اور کچھ فائلیں رکھی تھیں۔ ایک اہلکار کسی شخص کی درخواست سن کر اسے لکھ رہا تھا۔
افی سیدھی ایس ایچ او کے دفتر کی طرف بڑھی۔ دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو سامنے موجود افسر فائل دیکھنے میں مصروف تھا۔
“جی، بتائیے؟”
افی نے اپنا کارڈ نکالتے ہوئے کہا، “میں ایک لائر ہوں مجھے ایک معاملے کی رپورٹ درج کروانی ہے۔”
افسر نے فائل ایک طرف رکھی اور سنجیدگی سے اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“بیٹھیں۔ پہلے مجھے پورا معاملہ بتائیے۔”
افی اور اقراء تھانے کے ایس ایچ او کے آفس میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اقراء کے چہرے پر واضح پریشانی تھی، جبکہ وہ سامنے بیٹھے ایس ایچ او کو اپنی بہن ایمان کے لاپتا ہونے کی ساری تفصیل بتا رہی تھی۔
’’ایمان صبح یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی، لیکن ابھی تک واپس نہیں آئی۔ پہلے تو مجھے لگا شاید کسی دوست کے گھر چلی گئی ہو، اسی لیے میں نے اس کی دوست کو فون کرکے پوچھا، لیکن اس نے بتایا کہ ایمان وہاں گئی ہی نہیں تھی۔‘‘
ایس ایچ او نے سنجیدگی سے پوچھا،
’’آپ نے یونیورسٹی سے بھی پتا کیا؟‘‘
’’جی، میں نے یونیورسٹی سے بھی معلوم کیا ہے۔ وہاں سے بھی یہی بتایا گیا کہ ایمان آج یونیورسٹی آئی ہی نہیں تھی۔‘‘
ایس ایچ او نے چند لمحے سوچا، پھر قدرے بے فکری سے بولا،
’’تو پھر شاید وہ اپنی مرضی سے کہیں چلی گئی ہو۔ آپ کو اندازہ ہے کہ وہ کس طرف جا سکتی ہے؟‘‘
افی کو اس کے انداز سے ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے محض اندازے لگا رہا ہے۔ وہ فوراً بولی،
’’آپ اپنے اندازے مت لگائیں، جو کہا ہے وہ کریں۔ وہ لاپتا ہے، ہم اسے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘افی ایسی باتوں کو بخوبی سمجھتی تھی۔ وہ ایک وکیل تھی، اس لیے اسے فوراً اندازہ ہو جاتا تھا کہ سامنے والا اصل میں کہنا کیا چاہ رہا ہے اور اپنی بات کو کس رخ پر لے کر جا رہا ہے۔
ایس ایچ او نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا،
’’ہم اپنا کام کریں گے، لیکن اگر لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہوئی ہے تو پھر ہم بھی کچھ نہیں کر سکتے، ہے نا؟‘‘
افی نے خاموشی سے اقراء کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھ سکتی تھی کہ اس وقت اقراء کس قدر پریشان تھی، مگر اس کے پاس بھی اس وقت کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
بالآخر ایس ایچ او نے ایمان کی گمشدگی رپورٹ درج کروانے کے بعد اقراء نے اپنی بہن ایمان کی تصویر ایس ایچ او کے حوالے کی۔ عین اسی وقت افی کے موبائل پر کال آنے لگی، جس کی وجہ سے اس کا دھیان فوراً موبائل کی طرف چلا گیا۔ وہ ایمان کی تصویر دیکھ ہی نہ سکی۔
اگر وہ افی کی نظر تصویر پر پڑ جاتی تو شاید وہ ایمان کو پہچان لیتی۔۔۔ مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔
ساری کاروائی کرنے کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے افی کے ذہن میں اچانک اس پولیس والے کا چہرہ آیا۔ اسے اس کی شکل تو یاد تھی، مگر نام یاد نہیں تھا۔ وہ اس وقت بھی کہیں نظر نہیں آیا تھا۔ شاید وہ اس تھانے میں تھا ہی نہیں، یا کسی اور جگہ ڈیوٹی پر تھا۔
اگر وہ یہاں ہوتا تو شاید افی اس سے مدد مانگ لیتی۔۔ایس ایچ او کی باتیں سن کر افی کا خون کھول اٹھا تھا۔ وہ جس بے نیازی اور بدتمیزی سے بات کر رہا تھا، افی کو اس کا انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہا تھا، جیسے کسی کی گمشدگی اس کے لیے کوئی اہم بات نہ ہو۔۔۔۔ اور یہی چیز اس کے غصے کو مزید بڑھا رہی تھی۔
افی نے اقراء کو تسلی دیتے ہوئے کہا،
’’تم پریشان مت ہو۔ یہ لوگ اپنی طرف سے کوشش کریں گے۔ ہم بھی ایک بار خود یونیورسٹی جا کر دیکھتے ہیں۔ شاید وہاں سے کچھ پتا چل جائے۔‘‘
اقراء نے خاموشی سے سر ہلایا اور دونوں تھانے سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ایمان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئیں۔۔۔
اقراء اور افی کے باہر نکلتے ہی ایس ایچ او نے اپنے ہلکار کو اپنے پاس بلایا۔ ہلکار نے قدرے تشویش سے پوچھا،
’’سر، آپ کو کیا لگتا ہے؟ لڑکی کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟‘‘
ایس ایچ او نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بے فکری سے جواب دیا،
’’دیکھو، اگر کوئی حادثہ ہوا ہوتا یا لڑکی کے ساتھ کوئی اور ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا تو اب تک اس کے گھر والوں کو خبر مل چکی ہوتی۔ اور اگر کسی نے اغوا کیا ہوا تو بھی انہیں فون آ چکا ہوتا۔ لیکن ابھی تک نہ کوئی اطلاع آئی ہے، نہ کوئی کال۔‘‘
وہ چند لمحے رکا، پھر سپاٹ لہجے میں بولا،
’’اس کا مطلب یہی ہے کہ لڑکی خود کہیں گئی ہے۔ … یا پھر کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو۔‘‘
اس کے لہجے میں ذرا بھی ہمدردی نہیں تھی۔ الٹا وہ نامناسب اور گھٹیا انداز میں بات کر رہا ہو۔
ہلکار نے خاموشی سے سر ہلایا۔
ایس ایچ او نے فائل بند کرتے ہوئے کہا،
’’خیر، ٹھیک ہے۔ جو بھی ہے، ہم اپنی کارروائی کرتے ہیں۔‘‘اب انہوں نے رپورٹ کروائی ہے تو کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ہلکار کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔
’’چلو، یونیورسٹی چلتے ہیں۔‘‘
دونوں تھانے سے باہر نکلے اور ایمان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کی طرف روانہ ہوگئے۔۔۔۔
افی اور اقراء یونیورسٹی پہنچیں تو وہاں تقریباً سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دونوں گیٹ کے قریب پہنچیں تو افی نے سیکیورٹی گارڈ سے کہا،
’’ہمیں پوری یونیورسٹی چیک کرنی ہے۔ ہماری بہن لاپتا ہے اور ہمیں شک ہے کہ شاید وہ یہاں آئی ہو۔‘‘
گارڈ نے فوراً راستہ روک دیا۔
’’میڈم، آپ کو اجازت کے بغیر یونیورسٹی کے اندر نہیں جا سکتیں۔ اس کے لیے آپ کو باقاعدہ اجازت لینی ہوگی۔‘‘
افی کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگئی۔ وہ سوچنے لگی کہ آخر وہ یہاں کس کو فون کرے؟ یونیورسٹی میں اس کی کوئی جان پہچان بھی تو نہیں تھی۔
وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ اسی وقت ایک پولیس کی گاڑی یونیورسٹی کے گیٹ پر آکر رکی۔
ایس ایچ او اور اس کا ہلکار گاڑی سے اترے اور سیدھا گیٹ کی طرف بڑھے۔
’’ہمیں یونیورسٹی چیک کرنی ہے،‘‘ ایس ایچ او نے گارڈ سے کہا۔
گارڈ نے پھر وہی بات دہرائی،
’’سر، معذرت کے ساتھ، بغیر اجازت کے میں کسی کو اندر جانے نہیں دے سکتا۔‘‘
ایس ایچ او نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
’’اپنی یونیورسٹی کے مالک یا انتظامیہ میں سے کسی کو فون کرو۔‘‘
گارڈ نے فوراً فون نکالا اور اپنے مالک کا نمبر ملایا، مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے دوبارہ کال کی، لیکن پھر بھی کال کسی نے اٹھائی نہیں۔
’’سر، وہ فون نہیں اٹھا رہے۔‘‘
ایس ایچ او نے بے صبری سے کہا،
’’نمبر مجھے دو۔‘‘
گارڈ نے فوراً اسے نمبر دے دیا۔ ایس ایچ او نے اپنے طور پر متعلقہ شخص سے رابطہ کیا اور کچھ ہی دیر بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ کا ایک شخص وہاں پہنچ گیا۔
اجازت ملتے ہی پولیس نے یونیورسٹی کی مکمل تلاشی شروع کردی۔
افی اور اقراء بھی ان کے ساتھ اندر چلی گئیں۔
کلاس رومز، راہداریوں، گراؤنڈ اور یونیورسٹی کے دوسرے حصوں کو اچھی طرح چیک کیا گیا، مگر ایمان کا کہیں کوئی سراغ نہ ملا۔
آخرکار سب لوگ سیکیورٹی روم میں پہنچے، جہاں سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ چیک کی جانے لگی۔
کافی دیر تک مختلف کیمروں کی فوٹیج دیکھنے کے بعد ایس ایچ او نے اقراء کی طرف دیکھا۔
’’آپ کی بہن آج یونیورسٹی آئی ہی نہیں تھی۔ سی سی ٹی وی میں بھی اس کا کہیں کوئی نشان نہیں ہے۔
اقراء کا چہرہ مزید زرد پڑ گیا۔
افی نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا۔ اب سوال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکا تھا کہ آخر ایمان گئی کہاں تھی؟۔۔
ایمان کا گھر ایک بڑے علاقے کی گلیوں کے اندر تھا، جہاں سے گزرتے ہوئے وہ یونیورسٹی تک پہنچتی تھی۔ پولیس نے گھر سے یونیورسٹی تک کا راستہ بھی چیک کیا، مگر راستے میں کہیں بھی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں تھے جن کی مدد سے یہ پتا چل سکتا کہ ایمان آخر کہاں گئی تھی۔۔۔۔۔
ایمان گلیوں سے نکلنے کے بعد ایک لوکل گاڑی میں بیٹھ کر یونیورسٹی جاتی تھی۔ اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے اور سردیوں کی وجہ سے سارا علاقہ تقریباً سنسان تھا۔ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں جا چکے تھے اور سڑکوں پر بھی خاصی خاموشی تھی۔
پولیس نے گھر سے یونیورسٹی تک کا راستہ دوبارہ چیک کیا، مگر کہیں سے بھی کوئی سراغ نہ مل سکا۔
پولیس والے نے آخرکار اقراء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
’’اب ہمیں صبح کا انتظار کرنا ہوگا۔ صبح ہم لوکل گاڑیوں اور بسوں کے بارے میں بھی پتا کریں گے کہ ایمان کس گاڑی میں بیٹھی تھی اور کہاں اتری۔‘‘
اقراء خاموشی سے کھڑی آس پاس دیکھنے لگی۔ اس وقت واقعی پورا علاقہ سنسان تھا۔ سردیوں کی رات تھی، لوگ اپنے گھروں کے اندر تھے اور سڑک پر کوئی ایسا شخص بھی نظر نہیں آ رہا تھا جس سے ایمان کے بارے میں کچھ پوچھا جا سکتا۔
پولیس والے نے آخرکار کہا،
’’آپ لوگ اب گھر جائیں۔ اگر ہمیں کوئی اطلاع ملی تو ہم آپ کو بتا دیں گے۔‘‘
دونوں پولیس والے اپنی گاڑی میں بیٹھے اور تھانے کی طرف روانہ ہوگئے۔
افی نے اقراء کو اس کے گھر ڈراپ کیا اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا،
’’تم پریشان مت ہو۔ میں خود بھی ایمان کے بارے میں پتا کرتی ہوں۔ تم اپنے ماں باپ کا خیال رکھو۔ تم پریشان ہوگی تو وہ بھی مزید پریشان ہوں گے۔ ایمان مل جائے گی، ان شاء اللہ۔‘‘
اقراء نے خاموشی سے سر ہلایا اور گھر کے اندر چلی گئی۔
افی اسے تسلی دینے کے بعد واپس روانہ ہوگئی۔ جب وہ اپنے گھر پہنچی تو رات کے نو بج رہے تھے۔
****************************************
عرشمان، ایزل کو شاپنگ کروانے اور کھانا کھلانے کے بعد آخرکار گھر واپس آ گیا تھا۔ ایزل بھی ہاتھوں میں شاپنگ بیگز تھامے اس کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔
ہال میں دادی، اس کے والد، والدہ اور بہن بھائی پہلے ہی موجود تھے۔
ماں نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے نوکرانی کو پانی لانے کا کہا، پھر ایزل کو اپنے پاس بلا لیا۔۔۔
عرشمان نے سب کو سلام کیا اور وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔ اسی وقت ایک نوکرانی پانی کے گلاس لیے وہاں آ گئی۔ اس نے پہلے عرشمان کی طرف گلاس بڑھایا، جس سے پانی لے کر اس نے ایک ہی سانس میں آدھا گلاس خالی کر دیا۔ پھر ایزل نے بھی پانی لے لیا۔
عرشمان کی والدہ اس کے ہاتھوں میں پکڑے شاپنگ بیگز کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولیں،
“لگتا ہے آج بہت شاپنگ ہوئی ہے؟”
ایزل نے خوشی سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا،
“ہاں آنٹی! آج عرشمان نے مجھے بہت گھمایا، شاپنگ بھی کروائی اور کھانا بھی کھلایا۔”میرا ارشمان بہت اچھا ہے۔ وہ تمہارا بہت خیال رکھتا ہے۔” ماں نے ایزل کی طرف دیکھتے ہوئے محبت بھرے انداز میں کہا،۔۔ایزل بھی اپنی خالہ کی بات سن کر عرشمان کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگیں کہ اگر سب کچھ اسی طرح چلتا رہا تو وہ جلد ہی ان دونوں کی شادی کروا دیں گی۔لیکن اس سے پہلے انہیں اپنے شوہر اور عرشمان سے بات کرنی تھی، تاکہ بعد میں کسی قسم کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔
مگر دوسری طرف عرشمان کے والد اسے مسلسل گھور رہے تھے۔
عرشمان کی نظر جیسے ہی اپنے والد پر پڑی، وہ ان کی نظروں کا مطلب فوراً سمجھ گیا۔ آخر وہ کیوں نہ سمجھتا؟ جب سے وہ پاکستان آیا تھا، ابھی تک اس کی اپنے والد سے ڈھنگ سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
اس نے نظریں چرا کر سامنے دیکھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
دادی بھی اسے اپنے قریب ہوئے بولیں،
“تم کہاں غائب رہتے ہو؟ ملتے ہی نہیں ہو آج کل۔”
عرشمان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“بس دادی، کام میں تھوڑا مصروف تھا۔ آپ سنائیں، آپ کیسی ہیں؟”
“میں تو ٹھیک ہوں، لیکن تمہارا کوئی پتا ہی نہیں ہوتا۔”
دادی کی بات پر عرشمان مسکرا دیا۔
دوسری طرف اس کی بہن کچھ فاصلے پر بیٹھی مسلسل اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ پوچھ رہی تھی۔عرشمان نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ فوراً اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھی۔
اس نے ذرا قریب ہو کر آہستہ سے اس کے کان میں پوچھا،
“تو آپ نے بات کر لی؟”
عرشمان نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“تمہیں کیا لگتا ہے، یہ ساری شاپنگ اور کھانا کس لیے تھا؟”
بہن نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر بات سمجھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“مطلب کے بغیر تو یہ کوئی بات مانتی بھی نہیں ۔۔۔
عرشمان نے ہلکا سا سر ہلا دیا۔
اس کی بہن خوش ہوتے ہوئے بولی،
“چلو، ایک تو کام اچھا ہوا!”
پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا تو وہ تجسس سے بولی،
“اچھا، میرے لیے کیا لائے ہیں؟”
عرشمان نے حیرت سے اسے دیکھا اور بے نیازی سے جواب دیا،
“، یہ کافی نہیں تھا؟”زرنیش کا صدمے سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس نے حیرت بھری نظروں سے اپنے بھائی کو گھورا،۔۔
عرشمان نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔
وہ منہ بنا کر اسے دیکھنے لگی، جبکہ عرشمان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔۔
اسی دوران والد کے ساتھ بیٹھا ذیشان دادی کی طرف متوجہ ہوا اور قدرے شکوے بھرے انداز میں بولا،
“دیکھا دادی؟ آپ کی فکر صرف میں ہی کرتا ہوں۔ آپ کا خیال بھی میں ہی رکھتا ہوں، روز آپ سے ملتا ہوں۔ یہ لوگ تو آپ کو لفٹ بھی نہیں کراتے، حال تک نہیں پوچھتے، اور پھر بھی آپ ہر وقت انہی کی فکر کرتی رہتی ہیں۔”
دادی نے اس کی بات سنتے ہی مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
“تم باز آ جاؤ، ہر وقت اپنی تعریفیں کرتے رہتے ہو!”
اس نے ہنس کر اپنے سر پر ہاتھ رکھا، جبکہ عرشمان نے اسے گھورتے ہوئے کہا،
“تم کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ہر بات میں ٹانگ اڑانی ہوتی ہے تم نے۔۔۔۔
ذیشان نے معصومیت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا،
اور دانتوں تلے ہونٹ دباتے ہوئے کہا، “پر میری ٹانگیں تو میرے پاس ہیں، میں نے کب اڑائی ٹانگ؟”
عرشمان نے اسے گھورا، مگر ذیشان کے چہرے پر پھیلی معصوم سی مسکراہٹ دیکھ کر دادی بھی ہنس پڑیں۔۔۔۔
جبکہ ان دونوں کی نوک جھونک سے سب خوب محظوظ ہو رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک کونے میں بیٹھی ان کی چھوٹی بہن بوریت سے اکتا چکی تھی۔ وہ خاموشی سے اپنا فون اٹھا کر اندر چلی گئی، مگر اس کے یوں اٹھ کر جانے پر کسی نے بھی توجہ نہیں دی۔
اسی دوران عرشمان کے والد خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھے۔
ان کے اٹھتے ہی ہال میں پھیلی ہنسی کچھ مدھم پڑ گئی۔
انہوں نے عرشمان کی طرف دیکھا اور قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا،
“عرشمان، تم اسٹڈی روم میں آؤ۔”
عرشمان کے چہرے پر موجود مسکراہٹ فوراً غائب ہو گئی۔
وہ چند لمحے خاموشی سے اپنے والد کو دیکھتا رہا، پھر دل ہی دل میں سوچنے لگا،۔۔۔۔۔
وہ کب سے اپنے والد سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا، ان سے جان چھڑا رہا تھا، لیکن آج بچنا مشکل تھا۔ یہی سوچتے ہوئے وہ خاموشی سے ان کے پیچھے چل پڑا۔۔۔۔
عرشمان اپنے والد کے پیچھے خاموشی سے اسٹڈی روم میں داخل ہو گیا۔
دروازہ بند ہوتے ہی باہر ہال کی ہنسی اور قہقہے جیسے ایک دم دور چلے گئے۔
اس کے والد احمد شاہ میز کے قریب جا کر رک گئے۔ دونوں ہاتھ پیچھے باندھے وہ چند لمحے خاموش کھڑے رہے، پھر عرشمان کی طرف دیکھے بغیر سنجیدہ لہجے میں پوچھا،
“بتاؤ، تمہارا کیا فیصلہ ہے؟”
عرشمان چند قدم کے فاصلے پر کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ سوال سنتے ہی اس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن نمودار ہوئی۔
“کس بارے میں؟”
اس کے والد نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“تم اچھی طرح جانتے ہو میں کس بارے میں پوچھ رہا ہوں۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد عرشمان نے پُرسکون مگر دوٹوک لہجے میں کہا،
“فیصلہ میرا آج بھی وہی ہے جو آج سے پانچ سال پہلے تھا۔”
اس کے والد کی آنکھوں میں غصہ ابھر آیا۔
“یعنی تم اپنی بات سے نہیں پھرو گے؟”
“نہیں۔”
عرشمان کا لہجہ پہلے سے بھی زیادہ پُراعتماد تھا۔
“پانچ سال پہلے آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی تھی۔ تب حالات میرے اختیار میں نہیں تھے، لیکن اب میری زندگی ہے، اور اس کا فیصلہ بھی میں خود کروں گا۔ اب آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔”
اس کے والد نے اسے غصے سے گھورا۔
“تمہیں بہت پچھتانا پڑے گا۔”
عرشمان کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آئی۔
“مجھے آج تک اپنے کسی فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوا، اور نہ ہی کبھی آگے ہوگا۔”۔
۔ یہ میری زندگی ہے اور اس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر مضبوط لہجے میں بولا،
“اور میں اپنا فیصلہ کر چکا ہوں۔ وہی ہوگا جو پانچ سال پہلے طے ہوا تھا۔”
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
اس کے والد نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولے،
“ٹھیک ہے۔”
عرشمان نے خاموشی سے انہیں دیکھا۔
وہ دوبارہ بولے،
“ٹھیک ہے، میں آج ہی بات کرتا ہوں۔ اس معاملے کا فیصلہ ہو کر رہے گا۔”
عرشمان نے بس ہلکا سا سر ہلا دیا۔
مگر ان دونوں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کے پیچھے آخر کون سا راز چھپا تھا؟
پانچ سال پہلے ایسا کیا طے ہوا تھا جس کا فیصلہ آج بھی باقی تھا؟
اور سب سے بڑھ کر… آج کون سا راز اپنے انجام تک پہنچنے والا تھا؟
یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔۔۔۔۔
*****************************”*
ارحم اپنے آفس میں بیٹھا ضروری فائلز دیکھنے میں مصروف تھا کہ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
“Come in.”
دروازہ کھلا اور اس کا سیکرٹری اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔
“سر، جن لوگوں کے بارے میں آپ نے معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا تھا، ان کے بارے میں کچھ ڈیٹیل ملی ہے۔”
ارحم نے فائل سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“بتاؤ۔”
سیکرٹری نے کہا،۔۔۔
“سر، ان دونوں کے بارے میں زیادہ کچھ خاص نہیں مل سکا۔ وہ پچھلے کچھ مہینوں سے اپنی فیملی سے بھی نہیں ملے تھے۔ بس انہیں پیسے بھیجتے رہے ہیں۔ مالی حالات بھی زیادہ اچھے نہیں تھے اور یہاں صرف کام کرنے کے لیے آئے تھے۔”
ارحم خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔
“اپنی فیملی سے ان کی زیادہ ملاقات نہیں ہوتی تھی اور دونوں کی آپس میں دوستی بھی کافی پرانی تھی۔ زیادہ تر وقت ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ ابھی تک ہمیں کوئی ایسا سراغ نہیں ملا جس سے اصل بات تک پہنچ سکیں۔”
ارحم نے چند لمحوں کے لیے سوچا، پھر پوچھا،
“اور جس شخص کے بارے میں میں نے کہا تھا؟ جو ہم سے ڈیل کرنے آیا تھا؟”
سیکرٹری نے فوراً فائل نکالی اور میز پر رکھتے ہوئے کہا،
“اس کے بارے میں معلومات مل گئی ہیں، سر۔ یہ اس کا ایڈریس ہے اور یہ اس کی کمپنی کی ڈیٹیل۔”
ارحم نے فائل اپنی طرف کھینچ لی۔
سیکرٹری نے مزید بتایا،
“اس کی اپنی کمپنی ہے، جو پچھلے چند سالوں سے چل رہی ہے، لیکن اس کا کاروبار کچھ خاص نہیں چل رہا۔ اسی وجہ سے وہ ہماری کمپنی کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔”
ارحم نے فائل بند کی اور کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا،
“ٹھیک ہے۔ آج ہی اس سے ملتے ہیں۔”
“جی، سر۔”
ارحم نے فائل ہاتھ میں لی اور آفس سے باہر نکل گیا۔
اسے ابھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملاقات محض ایک کاروباری ڈیل تک محدود نہیں رہنے والی تھی۔۔۔
ارحم آفس کے باہر پہنچا اور چند لمحے وہاں کھڑا رہنے کے بعد اندر داخل ہو گیا۔
ریسپشن پر موجود لڑکے نے اسے دیکھتے ہی پوچھا،
“جی سر، آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟”
ارحم نے خاموشی سے اپنا کارڈ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
لڑکے نے کارڈ پر نظر ڈالی تو فوراً فون اٹھایا اور اپنے باس کو کال کی۔
“سر، ارحم صاحب آئے ہیں۔”
دوسری طرف سے جواب سنتے ہی وہ فوراً بولا،
“جی سر۔۔۔”
کال ختم کرتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور احترام سے ارحم کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔
ارحم بغیر کچھ کہے آگے بڑھ گیا۔
اس کے آفس میں داخل ہوتے ہی وہاں موجود ملازمین ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔
“ارحم صاحب یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
“پتا نہیں، شاید کوئی بزنس ڈیل ہے۔”
مگر ارحم کسی کی بات پر توجہ دیے بغیر سیدھا آگے بڑھتا رہا۔
ارحم کو دیکھتے ہی وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔
“ارحم صاحب! آئیے، آئیے۔اندر پہنچ کر وہ سیدھا کرسی کی طرف گیا اور بیٹھتے ہوئے سامنے موجود شخص کو دیکھا۔
وہ شخص بھی اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے مسکرایا اور قدرے حیرت سے ارحم کو دیکھ کر بولا،
“ارحم صاحب! خیریت؟ آج ہمارے آفس میں کیسے آنا ہوا؟”
ارحم نے پُرسکون انداز میں اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی تھی، جیسے وہ یہاں کسی خاص مقصد کے تحت آیا ہو۔
“بس، آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔”۔۔۔
ارحم نے چند لمحے خاموشی سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا، پھر سیدھا سوال کیا،
“آپ میرے ساتھ ڈیل کیوں کرنا چاہتے تھے؟”
وہ شخص ہلکا سا مسکرایا اور کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا،
“میرا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کا بزنس کچھ عرصے سے ٹھیک نہیں چل رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اپنا مال آپ کی کمپنی کے ساتھ جوڑ دوں اور آپ کے ساتھ کام کروں۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر قدرے طنزیہ انداز میں بولا،
“لیکن اُس وقت آپ نے میری پیشکش قبول نہیں کی تھی۔ آج آپ خود چل کر میرے آفس آئے ہیں، تو یقیناً کوئی خاص بات ہی ہوگی۔”
ارحم کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں۔
“خاص بات ہے۔”
وہ ذرا آگے کو جھکا اور سرد لہجے میں بولا،
“میرے مال میں گڑبڑ کرنے والے تم تھے؟”
سامنے والے کے چہرے کی مسکراہٹ ایک لمحے کو غائب ہوئی، مگر وہ فوراً سنبھل گیا۔”مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔
“ارحم، آپ بغیر کسی ثبوت کے مجھ پر ایسا الزام نہیں لگا سکتے۔”
ارحم نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے کہا،
“یہ تو بہت جلد پتا چل جائے گا کہ اس کے پیچھے کون تھا۔ لیکن اگر اس سب کے پیچھے تمہارا ہاتھ نکلا…”
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا، پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا،
“تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”
وہ شخص بھی اب سنجیدہ ہو چکا تھا۔
“شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو صرف آپ کے ساتھ کاروباری تعلق بنانا چاہتا تھا۔ میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔”
پھر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“ہاں، اگر کوئی معاہدے کے ساتھ بات بگڑتی ہے تو پھر شاید اسے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔”
ارحم کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
وہ شخص اطمینان سے بولا،
“آپ سوچ لیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔”
ارحم کو اس کے الفاظ کا چھپا ہوا مطلب سمجھنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔
وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا،
“بہتر ہوگا مجھ سے دور رہو۔ کیونکہ اگر تم میرے مقابل آئے تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔”
سامنے والے نے بھی اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے اسے دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“یہ تو وقت ہی بتائے گا، ارحم صاحب… کون کس کو چھوڑتا ہے اور کون نہیں۔”
ارحم نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی، پھر بغیر کچھ کہے پلٹ کر وہاں سے نکل گیا۔
مگر اب یہ محض ایک کاروباری معاملہ نہیں رہا تھا۔
دونوں کے درمیان ایک ایسی جنگ شروع ہو چکی تھی، جس کا انجام ابھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔۔۔
ارحم کے جاتے ہی اس شخص کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
وہ آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھا اور اسے ہلکے ہلکے جھلاتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
“بہت ہی ٹیڑھی چیز ہے…”
وہ زیرِ لب ہنسا۔
“ایسے ہاتھ میں نہیں آئے گا۔”
اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری۔
“لیکن کوئی بات نہیں… اسے توڑنے کے لیے بس تھوڑا سا وقت اور۔۔۔
وہ کرسی پر مزید پیچھے کو جھکا اور بےحد مطمئن انداز میں مسکرایا۔
“کھیل ابھی شروع ہوا ہے، ارحم صاحب ۔”
اس نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا،
“دیکھنا… ایک دن یہی اکڑ، یہی غرور اور یہی لہجہ سب ختم ہو جائے گا۔”
اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
“اور پھر یہی ارحم میرے سامنے کھڑا ہو کر معافی مانگتا پھرے گا۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر خود ہی زیرِ لب بولا،
“بس… ذرا انتظار کرو۔”
اس کا سیکرٹری بھی مسکراتے ہوئے وہیں کھڑا ہو گیا۔
“سر، آپ کا بدلہ تو اس کے فادر سے ہے۔ پھر آپ ارحم سے کیوں لے رہے ہیں؟”
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“اس کے فادر نے بھی تو یہی کیا تھا۔”
سیکرٹری نے حیرت سے اسے دیکھا۔
وہ کرسی پر پیچھے کو ٹیک لگاتے ہوئے بولا،
“لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس کا باپ بھی ویسے ہی تڑپے، جیسے کبھی اس نے مجھے تڑپایا تھا۔”
اس کے چہرے پر ایک سرد مسکراہٹ پھیل گئی۔
“مجھے صرف ارحم کو ہرانا نہیں ہے… مجھے اسے اس مقام سے نیچے لانا ہے جہاں آج وہ کھڑا ہے۔”
اس کی آنکھوں میں عجیب سا اطمینان تھا۔
“اس کا غرور، اس کی طاقت، اس کی دولت… سب کچھ ختم کر کے اسے وہاں کھڑا کرنا ہے جہاں سے دوبارہ اٹھنا اس کے لیے آسان نہ ہو۔”۔۔۔۔۔
************************************
اور اب وہ صرف پری سے بات کرنا چاہتی تھی۔ وہ اسے آج کے سارے حالات بتانا چاہتی تھی، شاید پری کوئی مدد کر سکے۔
وہ اوپر پری کے کمرے کی طرف گئی، مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی رک گئی۔
کمرہ بالکل خالی تھا۔
پری وہاں موجود نہیں تھی۔
افی نے پورے کمرے پر ایک نظر دوڑائی۔ کمرہ ہمیشہ کی طرح صاف ستھرا تھا، جیسے وہاں ابھی کچھ دیر پہلے تک کوئی آیا ہی نہ ہو۔
وہ واپس باہر نکلی اور نیچے آ گئی۔ گھر میں موجود باقی سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ اسی دوران گھر کا دروازہ کھلا اور گھر کے اندر اینا داخل ہولی
افی نے فوراً پوچھا،
’’پری کہاں ہے؟‘‘
وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا،
’’کیا مطلب؟ وہ بھی تک نہیں ائی۔۔۔
افی نے پری کو فون کیا۔ پہلی بار کال نہیں اٹھی۔
اس نے دوسری بار کال کی، پھر تیسری بار۔
آخرکار پری نے فون اٹھا لیا۔
’’ہیلو؟‘‘
افی نے فوراً پوچھا،
’’تم کہاں ہو؟‘‘آفس
’’کیا تم ابھی تک آفس میں ہی کام کر رہی ہو؟‘‘ہاں…‘‘ پری نے مختصر سا جواب دیا۔۔۔۔افی نے کہا ٹائم دیکھو۔۔۔
پری اس وقت اپنے کام میں اتنی مصروف تھی کہ اسے وقت گزرنے کا بالکل اندازہ نہیں ہوا تھا۔ فون کان سے لگاتے ہوئے اس نے بے دھیانی میں سامنے دیکھا تو وقت کا احساس ہوا۔
’’اوہ… کافی رات ہوگئی ہے۔‘‘افی کی پریشانی بڑھ گئی۔
’’تم وہاں اکیلی کیا کر رہی ہو؟‘‘
پری نے تھکے ہوئے انداز میں کہا،
’’میں آ رہی ہوں۔‘‘
یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا۔
افی نے کچھ لمحے فون کو دیکھا، پھر اینا کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’کچھ ہوا ہے؟‘‘ افی نے پوچھا۔
اینا نے اسے آج آفس میں پیش آنے والے تمام حالات بتا دیے۔
جوں جوں وہ سب کچھ بتاتی گئی، افی کی اپنی پریشانی بھی بڑھتی گئی ۔۔دونوں باتیں اسے اندر ہی اندر بے چین کر رہی تھیں۔۔۔۔
آج افی اپنے کام میں اتنی مصروف تھی ۔ آج وہ آفس نہیں گئی تھی، اسی لیے اسے پری کے معمول کا کچھ خاص اندازہ نہیں تھا۔۔۔
وہ ہال میں موجود صوفے پر بیٹھ گئی اور پری کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ مسلسل تھکن کی وجہ سے اس نے اپنی آنکھوں کو دبایا اور پھر صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔
’’میں بھی ذرا فریش ہو لوں۔‘‘
ا۔فی نے بس سر ہلا دیا۔
اسی دوران اینا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی۔
اینا سیڑھیاں چڑھ کر دائیں جانب موجود اپنے کمرے میں چلی گئی، جبکہ افی وہیں ہال میں بیٹھی پری کا انتظار کرتی رہی۔۔۔۔
سوچ سوچ کے وہ اتنا تھک گئی تھی۔۔وہ صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں، اور کچھ ہی دیر میں وہ وہیں سو گئی۔
تقریباً بیس، پچیس منٹ بعد پری گھر میں داخل ہوئی۔ اس نے چابی سے دروازہ کھولا اور اندر آتے ہی ہال میں نظر پڑی تو افی کو صوفے پر سویا ہوا دیکھا۔ اس کے چہرے پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ آج تک کسی نے اس کی مسکراہٹ نہیں دیکھی کیونکہ وہ مسکراتی نہیں تھی ۔۔۔
پری آہستہ سے آگے بڑھی۔ اس نے اپنا موبائل ایک طرف رکھا، میز پر موجود اپنا لیپ ٹاپ اور بیگ رکھا، پھر صوفے سے کشن اٹھا کر ایک طرف رکھ دیے۔
اس نے افی کو ذرا سا سیدھا کیا تو وہ صوفے پر بالکل سیدھی لیٹ گئی۔ پری نے اس کے پاؤں بھی صوفے پر رکھ دیے اور سامنے موجود میز کو تھوڑا سا پیچھے کھینچ دیا تاکہ اگر ایفی نیند میں کروٹ لے تو میز سے نہ ٹکرائے۔ اس نے نیچے چند کشن بھی رکھ دیے اور پھر اسے آرام سے سوتا چھوڑ کر خود فریش ہونے کے لیے اوپر چلی گئی۔۔۔۔
صبح اچانک کچن میں آتی آواز کی وجہ سے افی کی آنکھ کھلی۔ کروٹ بدلتے ہوئے اسے پہلے چند لمحوں کے لیے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں سو رہی ہے۔ پھر نظر سامنے پڑی تو اسے یاد آیا کہ وہ رات ہال کے صوفے پر ہی سو گئی تھی۔
ٹھنڈ کی وجہ سے اس کا جسم اکڑ رہا تھا۔ اس کے اوپر کمبل موجود تھا،اپنے اوپر پڑا کمبل دیکھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کام کس کا ہے۔ وہ فوراً کمبل ایک طرف کرتی ہوئی اٹھی اور سیدھا اپنے روم کی طرف چلی گئی۔ ۔۔۔
وہ اپنے روم میں آئی تو کھڑکی سے باہر نظر پڑتے ہی اس نے پری کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔ پری باہر گراؤنڈ میں رَن لگا رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی وہ فوراً واش روم کی طرف بڑھ گئی تاکہ فریش ہو سکے۔
آج اسے اپنے سارے کام جلدی ختم کرنے تھے، کیونکہ اسے پری کے ساتھ جانا تھا۔ جہاں پری کو اپنی بزنس پریزنٹیشن پیش کرنی تھی، اور وہ اس موقع پر اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔
افی تیار ہوئی تو ہاتھ میں دوبارہ شدید درد محسوس ہونے لگا۔ درد زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے ایک بار پھر ہاتھ پر پٹی باندھنی پڑی۔
باہر سردی بھی کافی تھی، جس کی وجہ سے ہاتھ کی تکلیف اور بڑھ رہی تھی۔ اسی لیے افی نے اوپر سے دستانے پہن لیے تاکہ سردی سے بھی ہاتھ محفوظ رہے اور کسی کی نظر بھی اس کے ہاتھ پر نہ پڑے۔
وہ کمرے سے باہر نکلی سیدھا پری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت گزر چکا تھا اسے دوڑتے ہوئے۔
اب اس کی سانس کچھ پھولنے لگی تھی اور پسینے سے اس کا برا حال ہو چکا تھا۔ آخرکار اس نے اپنی رفتار دھیمی کی اور رک کر چند لمحے گہری سانسیں لینے لگی۔
کچھ دیر وہیں کھڑے رہنے کے بعد اس نے ہلکی سی وارم اَپ کی اور پھر قریب رکھی کرسی کی طرف بڑھ گئی۔ کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے میز پر رکھی پانی کی بوتل اٹھائی اور چند گھونٹ پانی پیا۔
صبح کافی گزر چکی تھی اور سورج بھی طلوع ہونے کا وقت ہو چکا تھا۔
اس نے تولیے سے چہرے اور ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔ اور سر پر کیپ تھی، جس کے اندر اس کے بال مکمل طور پر ڈھکے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
تھکن کے باعث اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ افی تیار ہو کر وہاں آ گئی۔
“گڈ مارننگ!”
اس کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں اور سامنے دیکھا۔ افی آ کر اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔
“آج تو تم نے کافی واک اَپ کر لی… اتنی دیر سے بھاگ رہی تھیں؟”
اس نے ہلکی سی تھکن بھری مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“ہاں، ۔۔۔۔
پری نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’تمہارے ہاتھ اب کیسے ہیں؟‘‘
افی حیرت سے پری کو دیکھنے لگی۔ پری نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھنویں اچکائیں اور آنکھیں بڑی کرتے ہوئے کہا، ’’کیا؟‘‘
افی نے حیرت سے سوچا، اسے کیسے پتا چل گیا؟
پری اسے دیکھتے ہوئے بولی، ’’استاد کے ساتھ چالاکیاں نہیں کرنی چاہئیں۔ میں نے تم لوگوں کو ٹرینڈ کیا ہے۔ تمہیں کیا لگا، مجھ سے چھپا لو گی؟‘‘
افی ہنستے ہوئے بولی، دونوں ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔’’پلیز، بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘
پری نے اسے نظرانداز کیا اور آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔
افی بھی اس کے پیچھے ہی آ گئی۔ پری چند قدم آگے بڑھی تھی کہ افی کی آواز پر رک گئی۔
“مجھے اینا نے بتایا، آفس میں کل جو ہوا…” افی نے سنجیدگی سے کہا۔
پری پلٹی اور اسے دیکھنے لگی۔
“تم فکر مت کرو، وہ میں ہینڈل کر لوں گی۔” پری نے اطمینان سے کہا۔
“مجھے پتا ہے۔” افی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “لیکن مجھے پہلے کچھ کام ہے۔ میں آج پہلے اپنا کام ختم کروں گی، پھر تمہارے پاس آؤں گی۔ ویسے تمہاری پریزنٹیشن کتنے بجے ہے؟”
“بارہ بجے۔”
“ہاں، میں تم سے پہلے پہنچ جاؤں گی۔ تب تک رومی میری جگہ تمہارے ساتھ سب کچھ سنبھال لے گی۔”
پری نے اثبات میں سر ہلایا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔
پری اندر آئی تو سب سے پہلے اس نے اپنے سر سے کیپ اتار دی۔ کیپ اترتے ہی اس کے گھنے، لمبے بال کھل کر پیچھے اس کی کمر پر لہرانے لگے۔ اس کے بال کمر سے بھی نیچے تک تھے۔
اس نے بلیو کلر کا ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا، جبکہ اسی کے ساتھ کی جیکٹ بھی زیبِ تن کر رکھی تھی۔ اندر آتے ہی اس نے جیکٹ کی زِپ کھول دی۔
گھر میں وہ ہمیشہ آرام دہ لباس پہننا پسند کرتی تھی؛ ہلکی سی ڈھیلی ٹراؤزر اور اوپر سادہ سی شرٹ۔ گھر میں صرف لڑکیاں ہی تھیں، اس لیے وہ اپنی سہولت کے مطابق بےفکری سے رہتی اور گھومتی پھرتی تھی۔
پری کے اندر آتے ہی سب کے نظر ایک ساتھ پری پر پڑی ، “!”
وہ ہمیشہ اپنی صحت کا خیال رکھتی تھی اور باقاعدگی سے ورزش بھی کرتی تھی۔ ماشاءاللّٰہ، اس کی شخصیت میں ایسی تازگی اور سادگی تھی کہ وہ اپنی عمر سے خاصی کم عمر دکھائی دیتی تھی۔۔۔
افی نے بھی ایک نظر پری کو دیکھا، پھر نظریں ہٹا لیں۔ وہ جب بھی پری کو دیکھتی، اس کے دل میں اس کے لیے بےاختیار محبت اور اپنائیت سی اُمڈ آتی۔۔۔
ااب تک اس نے پری کو رات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ پری مزید پریشان ہو۔ پہلے ہی آج کا دن اس کے لیے کافی مشکل گزرا تھا، اس لیے اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔ دل میں یہی سوچا کہ شام کو مناسب وقت دیکھ کر اسے سب کچھ بتا دے گی۔
۔
اس کا چہرہ معصومیت کی ایک خوبصورت تصویر تھا نرم و نازک نقوش، ہلکے سے گلابی لب اور صاف ستھری، ملائم رنگت اس کے حسن میں سادگی گھول رہی تھی۔۔۔۔۔۔
چھوٹی، پرسکون سی آنکھیں جن میں ایک عجیب سی معصوم کشش تھی، اور ان پر بکھرے گھنے بال اس کے چہرے کا کچھ حصہ ڈھانپے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔ماتھے پر گرتی چند لٹیں اس کی معصومیت کو اور نمایاں کر رہی تھیں۔ چھوٹی سی متناسب ناک، نرم بڑے بھرے بھرے گلابی گال، سیدھی متناسب ناک اور قدرے بھرے ہونٹ اس کے چہرے کو معصوم اور بےحد پیارا بنا رہے تھے۔۔۔
پری سنجیدہ رہتی تھی تو بھی بےحد پیاری لگتی تھی، مگر کبھی کبھی افی سوچتی کہ اگر وہ کھل کر مسکرائے یا بےفکری سے ہنسے تو کیسی لگے گی؟ شاید اس کی مسکراہٹ اس کی خوبصورتی کو اور بھی بڑھا دے۔۔۔۔۔
پری نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ ابھی اُبلا ہوا انڈا کھانے کے لیے منہ کے قریب لے ہی گئی تھی کہ سب کو اپنی طرف متوجہ پایا۔ اس نے ذرا حیرت سے سب کی طرف دیکھا اور پوچھ بیٹھی،
“کیا ہوا؟”۔۔۔
جس پر سب نے نہ میں سر ہلایا اور پھر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ ۔۔
آج اس کے لیے بہت بڑا دن تھا۔
اسی لیے اس نے اپنے لیے کالے رنگ کا لباس پسند کیا۔
۔تیار ہونے کے بعد وہ بہت پر وقار اور راز دار لگ رہی تھی۔
اس نے نیچے بلیک کلر کا ٹروزر اور اس کے ساتھ شارٹ قمیض پہنی تھی پھر اس کے اوپر اس نے بلیک کلر کا عبایا لیا۔۔۔اس کے اوپر کالے رنگ کا بڑا چغہ لیا ہوا تھا۔ چغہ زمین تک لمبا تھا اور کپڑا بہت نرم اور بہتا ہوا تھا۔ اس میں بڑی سی ٹوپی بنی ہوئی تھی اور گلے پر سامنے چھوٹے سفید گول بٹن لگے ہوئے تھے۔اس نے اندر کالا نقاب کیا ہوا تھا۔۔۔
اس نے ٹوپی سر پر لی ۔۔۔ جس سے اس کا انداز بہت باوقار اور پُر اعتماد لگ رہا تھا۔ نہ کوئی زیادہ زیور تھا نہ بناوٹ، بس سادگی میں ہی خوبصورتی تھی۔ جب وہ چلتی تھی تو چغہ ہوا میں لہراتا تھا اور وہ سب سے الگ نظر آتی تھی۔اس نے پاؤں میں سیاہ رنگ کے چنکی پلیٹ فارم اینکل بوٹس پہن رکھے تھے، جن پر بکل اور باریک چین کی خوب صورت ڈیٹیلنگ نمایاں تھی۔ موٹی سول والے وہ بوٹس اس کی شخصیت کو مزید رعب دار بنا رہے تھے ۔۔۔
سادگی، وقار اور اعتماد — تینوں ایک ساتھ نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
ریڈی ہونے کے بعد اس نے اپنا سامان اٹھایا اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔ گاڑی کے پاس رومی اور ہنی پہلے ہی ریڈی کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
ہنی اور رومی نے پری کو دیکھا تو بے اختیار ماشاءاللّٰہ کہا۔ آج ہنی نے بھی سیاہ رنگ کی خوبصورت فلیرڈ میکسی ڈریس پہن رکھی تھی، جس پر سفید کنٹراسٹ کالر اور آستینوں کے سروں پر سفید کف تھے۔ سامنے لگے نفیس بٹن اور کشادہ دامن اس کے لباس کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے۔
جبکہ رومی نے ہلکے پنک رنگ کی لمبی، فلیئرڈ میکسی ڈریس پہن رکھی تھی، جس کے اوپر نفیس آف وائٹ لانگ کوٹ تھا۔ سر پر اسی رنگ کا حجاب اور نقاب تھا، جبکہ سفید بوٹس اور کندھے پر رکھا ہوا سفید بیگ اس کے پورے لباس کو خوبصورت اور باوقار بنا رہا تھا۔
تینوں گاڑی میں سوار ہوئیں اور آفس کی طرف روانہ ہو گئیں، جبکہ افی ریڈی ہونے کے بعد اپنے کسی ضروری کام کے سلسلے میں وہاں سے چلی گئی۔…..
مین جگہ پر پہنچ کر پری بلڈنگ کے اندر داخل ہوئی۔پری جیسے ہی گاڑی سے اتری، وہاں موجود میڈیا والوں نے فوراً کیمروں کا رخ اس کی جانب کر دیا۔ ہر طرف کیمروں کی فلیشز چمکنے لگیں اور وہ اس کی تصاویر بنانا شروع ہو گئے۔ اسی دوران ایک آدمی آگے بڑھا اور گاڑی کی چابی لے لی تاکہ اسے پارک کر سکے۔
پری، رومی اور ہنی تینوں اندر کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔۔۔
آرزو سامنے ہی موجود تھی۔ آرزو نے آگے بڑھتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کا سارا انتظام فورتھ فلور پر کیا گیا ہے، وہیں سب کچھ موجود ہے۔ راستے میں وہ پری کے ساتھ ضروری باتیں بھی ڈسکس کرتی رہی اور اسے باقی معاملات کے بارے میں بتاتی رہی۔
باتیں کرتے ہوئے وہ چاروں لفٹ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئیں کہ اچانک پری کا فون بجنے لگا۔ اسکرین پر کال آ رہی تھی۔
پری نے فون کی طرف دیکھا، پھر ان کو دیکھتے ہوئے کہا تم لوگ چلو میں آرہی ہوں۔۔۔
۔آرزو نے سر ہلایا اور رومی اور ہنی کو اپنے ساتھ لے کر لفٹ کے اندر چلی گئی، جبکہ پری ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئی اور فون کان سے لگا کر کال سننے لگی۔۔۔۔
کال سنتے ہوئے اسے تقریباً پانچ منٹ لگ گئے۔ جب وہ فارغ ہو کر واپس لفٹ کی طرف آئی تو لفٹ خالی تھی، صرف ایک لڑکی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ پری اس کے ساتھ لفٹ کے اندر داخل ہو گئی۔
ابھی انہیں لفٹ میں آئے ہوئے دو منٹ ہی گزرے تھے کہ اچانک لفٹ ایک جھٹکے کے ساتھ رک گئی .۔۔۔. ساتھ کھڑی لڑکی فوراً گھبرا گئی۔
“یہ لفٹ کو کیا ہو گیا؟ اچانک کیوں بند ہو گئی؟”
وہ پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی، جبکہ پری بالکل نارمل رہی۔ اسے لگا شاید لفٹ کچھ دیر کے لیے خود ہی رک گئی ہے۔۔۔
لڑکی کو اس طرح اچانک گھبراتے دیکھ کر پری نے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے ایک ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا ہوا تھا۔ پری نے اس کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے سمجھ لیا کہ وہ حاملہ ہے۔
پری بھی اب کچھ فکرمند ہوئی اور نرم لہجے میں بولی۔۔۔،
“پلیز، آپ ریلیکس رہیں۔ ابھی ٹھیک ہو جائے گی۔ شاید لفٹ میں کوئی معمولی مسئلہ ہوا ہے۔ یہاں سکیورٹی موجود ہے، وہ ہمیں باہر نکال لیں گے۔ آپ بالکل مت گھبرائیں۔”
مگر لڑکی کی گھبراہٹ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔
پری نے اپنا موبائل نکالا اور دیکھا کہ لفٹ کے اندر اندھیرا ہو چکا تھا۔ اس نے موبائل کی ٹارچ کی۔۔۔
پری نے اسے باتوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کی۔
“آپ پریگننٹ ہیں؟”
لڑکی نے گھبراتے ہوئے سر ہلایا۔
“جی۔”
“کتنے منتھ ہوئے ہیں؟”
“چھ ماہ۔۔۔۔۔”اچھا آپ بالکل ٹینشن نہیں لیں۔۔۔ ابھی ہم پانچ منٹ ویٹ کرتے ہیں، ان شاء اللہ لفٹ ٹھیک ہو جائے گی۔ ویسے آپ کس کمپنی سے ہیں؟”
لڑکی کا دھیان کچھ دیر کے لیے پری کی باتوں کی طرف ہوا۔شاہ کمپنی سے ہوں۔۔
پھر اس نے لڑکی سے کہا،
“آپ کے پاس فون ہے؟”
“جی۔”
“تو اگر آپ چاہیں تو فون میں کوئی گیم کھیل لیں یا کچھ دیکھ لیں۔ اپنا دھیان دوسری طرف رکھیں گی تو گھبراہٹ بھی کم ہوگی۔ سب سے پہلے آپ اپنا خیال رکھیں، کیونکہ آپ جتنا پرسکون رہیں گی، اتنا ہی آپ کے لیے بہتر ہوگا۔۔۔۔
لڑکی نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
پری نے لفٹ میں موجود سکیورٹی کے اسپیکر کا بٹن دبایا۔
“ہیلو؟ کوئی میری آواز سن رہا ہے؟ لفٹ رک گئی ہے، پلیز ہمیں یہاں سے نکالیں۔”
کچھ لمحوں تک کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر اچانک اسپیکر سے آواز آئی،
“میڈم، لفٹ میں الیکٹریسٹی کا مسئلہ ہو گیا ہے۔ اسے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔”ہم تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔۔۔۔
آپ لوگ پلیز گھبرائیں نہیں۔ سکیورٹی ٹیم کام کر رہی ہے۔”
“ٹھیک ہے،” پری نے مختصر جواب دیا۔
وہ نیچے بیٹھ گئی اور وقت دیکھا۔پریزینٹیشن شروع ہونے میں ابھی تیس منٹ باقی تھے۔ ان کا نمبر تیسرا آنا تھا، مطلب ان کے پاس ابھی کم سے کم آدھا گھنٹہ ہے۔۔۔۔
شاید تب تک لفٹ بھی ٹھیک ہو جائے۔
اس نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی گھبرائی ہوئی لڑکی پر ڈالی اور اسے پرسکون رکھنے کے لیے دوبارہ اس سے باتیں کرنے لگی۔۔۔
**********************************
