MOBILE PHONE KI LAT BY JAVERIA ARSHAD (ARTICLE).

موبائل فون آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ رابطے سے لے کر تعلیم، کاروبار اور معلومات تک، موبائل نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے۔ لیکن جب ضرورت سہولت سے بڑھ کر عادت اور پھر لت بن جائے تو یہی موبائل ہمارے وقت، صحت اور سکون کا دشمن بن جاتا ہے۔
آج ہم میں سے اکثر لوگ دن کا آغاز موبائل دیکھنے سے کرتے ہیں اور رات کو سونے سے پہلے بھی گھنٹوں اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا، ویڈیوز، گیمز اور غیر ضروری چیٹنگ نے انسان کو موبائل کا اس قدر عادی بنا دیا ہے کہ چند منٹ موبائل سے دور رہنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ کھانے کی میز ہو یا دوستوں کی محفل، بہت سے لوگ سامنے بیٹھے انسان سے بات کرنے کے بجائے موبائل کی دنیا میں مصروف رہتے ہیں۔
موبائل کی زیادتی کا سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع ہے۔ انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ چند منٹ کے لیے کھولا گیا موبائل کئی گھنٹوں کا وقت نگل چکا ہے۔ طلبہ میں اس عادت کے باعث پڑھائی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بچوں کے کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔ مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں پر دباؤ، نیند کی خرابی اور ذہنی تھکن جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
موبائل بذاتِ خود برا نہیں، بلکہ اس کا بے جا استعمال نقصان دہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ موبائل کے استعمال کے لیے مناسب وقت مقرر کریں، غیر ضروری اطلاعات بند رکھیں اور سونے سے پہلے موبائل سے کچھ دیر کا فاصلہ اختیار کریں۔ بچوں کو بھی موبائل دینے کے بجائے کتاب، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا چاہیے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ موبائل ہمارے ہاتھ میں رہنا چاہیے، ہماری زندگی پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو واپس نہیں آتی، اس لیے اسے اسکرین کی نذر کرنے کے بجائے اپنی شخصیت، علم اور مستقبل کو بہتر بنانے میں صرف کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *