ZINDAGI AIK SOCH OR MALAL BY FATIMA KHAN.

زِندگی ایک سوچ اور ملال

ازقلم فاطمہ خان 

 

انتساب
ہر اُس شخص کے نام
جو اللہ کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے۔
ہر اُس مرد کے نام جو اپنی عورت کو عزت دینا جانتا ہے۔
خدا کے ہر بندے کے نام جو گناہ کرتا ہے۔
مگر گناہ میں ڈوبنا نہیں چاہتا نکل جانا چاہتا ہے۔
آپ سب لوگو کے نام۔
۔۔۔۔

ایک تقدیر، دو لوگوں کا ملنا، اور قسمت کا یوں بدل جانا۔۔۔ جب ایک دوسرے کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہو، تو راستے چاہے کتنے ہی جدا کیوں نہ ہوں، دل مل ہی جاتے ہیں۔ ہمارا ملنا محض اتفاق نہیں، کائنات کا وہ فیصلہ ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ اور جب وہ دو لوگ ملیں گے، تو دو ادھوری کہانیاں مل کر ایک مکمل داستان بن جائیں گی۔۔۔”
۔۔۔,,۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(نیپال)
Nepal
لوگ کہتے ہیں اگر کٹھمنڈو دیکھنا ہے تو تھامل دیکھو ۔۔۔۔
تھامل کٹھمنڈو کی وہ گلی ہے جو کبھی سوتی نہیں ہے۔ہزار چہرے گزر جاتے ہیں لیکن انسان پھر بھی خود سے اکیلا رہ جاتا ہے۔ تنگ گلیاں, دونوں طرف عمارتیں، کیفے، دکانیں تھیں۔ رات کے وقت کا منظر ہی یہاں الگ ہوتا، ہر طرف روشنی ہوتی۔ یہاں شور بھی ہیں، تنہائی بھی، اور بھیڑ بھی۔ تھامل میں وقت رکتا نہیں، بھیڑ کبھی کم نہیں ہوتی، بس چہرے بدل جاتے ہیں۔
کچھ گلیاں تو اتنی تنگ ہوتی کہ بمشکل دو لوگ وہاں سے گزر سکتے۔ گلی
کے دائیں جانب پشم کی شالیں لہرا رہی تھیں۔۔ سبز، سنہری، سیاہ، لال، نیلی، رنگ برنگی شالیں، اُن شالوں پہ کچھ بنے ہوئے تھے, ہر طرف شور تھا۔۔
ہر طرف سیاح کچھ نہ کچھ کر رہے تھے، کچھ لوگ کیمرا سے اپنے لیے یادیں جمع کر رہے تھے، کچھ سامان لے رہے تھے۔ تو کچھ دکانوں سے نیپالی سووینئرز اور سامان خرید رہے تھے، اور چائے کی دکان کی بھیڑ کے کیا ہی کہنے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اس سرد موسم میں گرما گرم چائے کے کپوں سے اٹھتا ہوا دھواں اور لوگوں کی ہنسی مذاق کی آوازیں ماحول کو گرما رہی تھیں۔ کاٹھمنڈو کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، جو وہاں موجود ہر انسان کو ایک عجیب سا سکون دے رہی تھی۔۔
سکون؟ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔۔ وہ اسی رونق کے بالکل بیچوں بیچ، گلی کے دائیں جانب کھڑی شالوں کی ایک دکان کے پاس موجود تھی… یہ لوگ کتنے سکون سے اپنی زندگی گزار رہے اور میں کہاں ہوں؟ کہاں گم ہو گئی ہوں؟ میرا سکون کیوں غائب ہے؟”
اس کے اندر سے ایک سسکتی ہوئی آواز ابھری۔ دنیا کے لیے جو ہوا سکون کا جھونکا تھی، اس کے زخمی دل کے لیے وہ ایک تازیانہ تھی۔
اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ لوگوں سے چھپ رہی تھی, اس نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے سامنے لٹکتی ہوئی پشمینہ کی ایک گہری سیاہ شال کو دیکھا۔ دکاندار کی نظریں جیسے ہی دوسری طرف گھومیں، اس نے بغیر کچھ سوچے وہ شال وہاں سے کھینچی اور ایک جھٹکے سے اپنے اوپر اوڑھ لی, اپنا چہرہ چھپا لیا اور دھیرے دھیرے وہاں سے نکلنے لگی. اُس کے ذہن میں بہت سی چیزیں تھیں، وہ اب کیا کرے؟ یہیں سے بھاگ جائے؟ یا یہیں رہے۔۔ وہ یہاں سے کیسے نکلے۔۔۔۔
بھیڑ میں تنہائی تھی۔۔
دماغ میں ہلچل،
دِل تڑپ رہا تھا۔
اور،
اور؟
اور آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔۔۔
ہماری زندگی ہمیں ایک ایسے موڑ پہ لا کے کھڑا کر دیتی ہے جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے, آج وہ کہاں کھڑی تھی؟ وہ اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی۔

وہ اندھیری رات، وہ محبت کا خسارہ یاد ہے
دلِ نادان کو اپنے گناہ کا ہر نظارہ یاد ہے
اس ہجومِ شہر میں کوئی بھی اپنا نہ ملا ہمیں
ہمیں تنہا چھوڑ کر وہ جانا تمہارا یاد ہے

لائی ہے زندگی ہمیں اب ایک ایسے موڑ پر
سوچا نہ تھا کبھی، وہ وقتِ ناگوارا یاد ہے
کھڑی ہے آج وہ خود کو ہی حیرت سے دیکھتیب
دلا ہے جو نصیب کا، وہ ہر ستارہ یاد ہے

ہم پچھتاوے کی آگ میں رات بھر جلتے رہے
جو نیند اڑا دے، وہ خواب ڈراؤنا سارا یاد ہے
……………..
3 سال پہلے
(للت پور)
فجر کی اذان شروع ہوئی۔۔۔۔۔
اللہُ أَکْبَر، اللہُ أَکْبَر
(اللہ سب سے بڑا ہے)
اللہُ أَکْبَر، اللہُ أَکْبَر
(اللہ سب سے بڑا ہے)
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہ؛ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہ؛
(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔)
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ
(میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔)
حَيَّ عَلَى الصَّلَاة، حَيَّ عَلَى الصَّلَاة،
(آؤ نماز کی طرف)
حَيَّ عَلَى الْفَلَاح، حَيَّ عَلَى الْفَلَاح،
(آؤ کامیابی کی طرف۔)
اللہُ أَکْبَر، اللہُ أَکْبَر،
(اللہ سب سے بڑا ہے)
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہ
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)
فجر کی وہ سحر انگیز اذان جیسے ہی ختم ہوئی، حویلی کے پرسکون ماحول میں دالان سے ہوتی ہوئی ایک جانی پہچانی، محبت بھری مگر غصے میں ڈوبی آواز علماء کے کمرے تک پہنچی۔
“علماء! نالائق، اٹھ بھی جا، اذان ہو چکی ہے اور تو ابھی بھی گھوڑے بیچ کے سو رہی ہے۔ کبھی تو صحیح وقت پہ خود سے اٹھ جایا کر۔”
“یار امی، آپ مجھے سکون سے سونے بھی نہیں دیتی۔”
اس نے نیند میں ڈوبی آواز میں شکایت کی۔
“پوری رات جاگ کے تمہیں فجر کے وقت ہی اپنا سونے کا پروگرام یاد آتا ہے۔ میں نے کتنی بار منع کیا ہے تمہیں کہ جلدی سو جایا کرو، مگر نہیں، آپ جناب کو تو رات میں دیر تک موبائل چلانا ہے۔”
“امی، اب آپ پلیز موبائل کا لیکچر دینے نہ لگ جانا۔۔ میں اٹھ جاؤں گی بعد میں، اور ویسے بھی اگر نماز ایک دن نہیں پڑھی تو قیامت تھوڑی آ جانی ہے۔ بہت لوگ نہیں پڑھتے نماز۔ میرے پڑھنے سے کیا ہی ہو جانا ہے؟ ویسے بھی میری اتنی ساری دوست ہیں، کوئی بھی نہیں پڑھتا ہر وقت کی نماز۔ صرف جمعہ کی پڑھتے ہیں اور سب کی زندگی اچھی چل رہی ہے۔ میں بھی نہیں پڑھوں گی تو کچھ ہونا نہیں ہے۔”
“تمہاری دوستوں سے بھی کہا کرو، تم سمجھایا کرو انہیں۔ اور ضروری نہیں تمہاری دوستیں نہیں پڑھتیں تو تم بھی نہیں پڑھو گی۔ اور ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر فرض ہے کہ ہم نماز پڑھیں۔ تم اپنی اُن دوستوں کو دیکھ رہی ہو جو نماز نہیں پڑھتیں، تو اُن لوگوں کو کیوں نہیں دیکھ رہی جو نماز پڑھتے ہیں؟”
“امی، پلیز، آپ رہنے دیں۔۔ میرا جب دل کرے گا، میں پڑھ لوں گی۔” علماء نے بے رُخی سے کہا۔
“اور تمہارا دل کب کرے گا؟””پتا نہیں، مگر جب کرے گا تب پڑھ لوں گی۔”
“تمہیں ایک دن سمجھ آئے گی کہ زندگی میں نماز کتنی ضروری ہے۔ تمہیں سمجھ آئے گی، جیسے تم آج کچھ لوگوں کو دیکھ کے اُن کی طرح بننا چاہ رہی ہو۔۔۔ ایک دن تمہیں افسوس ہوگا کہ کیوں چاہا تم نے؟ کیوں انہیں دیکھ کے اُن کی طرح رہنے کی خواہش کی؟””کچھ نہیں ہوتا امی۔۔ آپ خواہ مخواہ اتنا سوچتی ہیں۔ میرے پاس سب ہے، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ پھر ضروری تھوڑی ہے کہ میں نماز ہر وقت کی پڑھوں۔ جب ٹائم ملے گا، تب پڑھ لیا کروں گی۔”
“نماز ہم اس لیے نہیں پڑھتے کہ ہمارے پاس کچھ نہ ہو تو پڑھیں اور سب ہو تو نہ پڑھیں۔ نماز ہم اپنے لیے پڑھتے ہیں، ہم اپنے رب سے نزدیکی، رب سے ملنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خود سے ملنے کا موقع دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پانچ بار خود سے ملنے کا موقع دیتے ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں؟ بس نافرمانی۔۔۔ ہمارے پاس سب کچھ ہو تو ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں وہ وقت نہ دکھائے جسے دیکھنے کی ہمارے اندر ہمت نہیں۔ ضروری نہیں ہر وقت ایسا ہی ہوگا۔ وقت بدلتا ہے۔۔۔ ان شاء اللہ، تمہیں سب سمجھ آ جائے گی۔”
سعدیہ بیگم یہ کہتے ہوئے اپنے کام سے دوسرے کمرے میں چلی گئی اور علماء لاپرواہی سے ماں کی باتیں ایک کان سے سن کے دوسرے کان سے نکال چکی تھی اور پھر سونے لگی۔سعدیہ بیگم پھر آئی اور دیکھا کہ علماء ابھی بھی سونے لگی۔۔ انہوں نے کہا:”اٹھ جا علماء، نماز قضا ہو جائے گی۔””امی، میں نہیں پڑھوں گی نماز، میرا دل نہیں کر رہا۔”
“کیا۔۔ کیا کہا تو نے؟ دل نہیں کر رہا؟ یہ نماز ہے، تیرے باپ کی جائیداد نہیں کہ تو بول دے گی کہ میں حصہ نہیں لوں گی، میرا دل نہیں کر رہا۔””آپ کہاں پہنچ گئی امی، رہنے دیں۔ اچھا، ٹھیک ہے، پڑھتی ہوں۔”
“ہاں، جلدی جاؤ اور پڑھو۔”
“ٹھیک ہے۔”
یہ کہہ کے علماء نماز کے لیے وضو کرنے چلی گئی اور نماز ادا کی۔
علماء صدیقی اپنے گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ 19 سالہ علماء گھر میں سب کی لاڈلی تھی۔۔ علماء کا ایک بھائی تھا، وہ ملک سے باہر کام کرتے تھا کیف نام تھا اُسکا۔ علماء کے والد کا انتقال بہُت عرصہ پہلے ہی ہو چکا تھا ۔اچانک بیڈ پر رکھے فون نے زور و شور سے وائبریٹ کرنا شروع کیا۔ علماء نے سستی سے کمبل منہ پر کھینچ لیا، لیکن فون تھا کہ بجنے سے باز ہی نہیں آ رہا تھا۔ تنگ آ کر اس نے بغیر دیکھے اسکرین سوائپ کی اور کان سے لگا لیا۔
“خدا کے لیے سونے دو۔۔۔” اس کی آواز میں نیند کا بھاری پن صاف تھا۔
“علماء صدیقی! اگر تم اگلے دس منٹ میں بستر سے نہ اٹھیں، تو میں تمہارے گھر آ کر تمہارا کمبل کھینچ لوں گی!” دوسری طرف سے اس کی پکی سہیلی، انوشے کی اونچی اور ہائپر آواز گونجی۔
علماء نے کچی پکی آنکھیں کھولیں اور جھنجھلا کر بیٹھ گئی۔
“یار انوشے! صبح صبح کیا آفت آئی ہے؟ کیوں میری نیند کے پیچھے پڑی ہو؟””میرے بھائی کی شادی آ رہی ہے، بھول گئیں؟ اگلے ہفتے بھائی کا نکاح ہے اور امی نے مجھے اور بھابھی کو ایسی لسٹ تھمائی ہے کہ میرے تو طوطے اڑ گئے ہیں۔ اب تم چپ چاپ تیار ہو اور میرے ساتھ مارکیٹ چلو۔ تمہارا ڈریسنگ سینس اچھا ہے، تمہارے بغیر میں کوئی چیز فائنل نہیں کر پاؤں گی۔”
“میں امی سے پوچھتی ہوں، تم بس بیس منٹ میں مجھے پک کرنے پہنچو۔”
“تم میری جان ہو!”
“میں آپ کی جان بھی بن گئی۔۔” علماء نے چھیڑتے ہوئے کہا۔
“جان تو تم میری پہلے سے ہو۔” انوشے نے جتاتے ہوئے کہا۔
“اچھا جی، اس جان کی تم جان نہ نکال لینا، ورنہ میں مر جاؤں گی۔۔”
“پاگل لڑکی! کیسی کیسی باتیں کرتی ہو۔ اچھا ٹھیک ہے، فون رکھتی ہوں، تبھی تو تیار ہو پاؤں گی۔۔”
انوشے نے ٹھیک بیس منٹ بعد حویلی کے باہر ہارن بجایا۔ علماء جو پہلے ہی تیار کھڑی تھی، ہلکے گلابی رنگ کے کُرتے اور سفید شلوار میں ملبوس تھی۔ اس نے اپنے اوپر ایک پشمینہ شال لیے رکھا تھا۔ وہ جلدی سے باہر نکل کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
“شکر ہے مہارانی جی! آپ وقت پر آ گئیں،” انوشے نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
“تمہارے بھائی کی شادی ہے نا، اس لیے رعایت دے دی،” علماء نے ہنس کر جواب دیا۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں شہر کے سب سے مشہور اور مصروف ترین شاپنگ مال کی ایک بڑی دکان میں کھڑی تھیں۔ دکان میں ہر طرف شیروانیاں، لہنگے اور قیمتی کپڑے سجے ہوئے تھے۔ انوشے اور علماء باری باری کپڑوں کے تھان دیکھ رہی تھیں۔ لیکن کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد بھی انوشے کو اپنے بھائی کے نکاح کے لیے وہ خاص شیڈ نہیں مل رہا تھا جو وہ چاہتی تھی۔
“علماء یار! یہاں تو وہ کلر ہی نہیں ہے، چلو کسی دوسری دکان پر چلتے ہیں،” انوشے نے تھک کر کہا۔
“ہاں چلو، ویسے بھی یہاں بہت حبس ہو رہا ہے،” علماء نے اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے جواب دیا اور دونوں دکان سے باہر نکل آئیں۔
وہ دونوں شاپنگ مال کے بیسمنٹ (پارکنگ) کی طرف بڑھیں، جہاں انوشے نے گاڑی پارک کی تھی۔ ابھی وہ اپنی گاڑی کے قریب پہنچی ہی تھیں کہ علماء نے دیکھا، انوشے کی گاڑی کے بالکل پیچھے ایک اور لڑکے نے اپنی موٹر سائیکل اس طرح کھڑی کر رکھی تھی کہ گاڑی کا پیچھے نکلنا ناممکن تھا۔وہ لڑکا وہیں بائیک پر بیٹھا، ہیلمٹ ہاتھ میں لیے، فون پر کسی سے سنجیدگی سے بات کر رہا تھا۔ اس نے ایک عام سی گرے ہینلی شرٹ اور جینز پہن رکھی تھی، بازوؤں پر ہلکی سی رگیں نمایاں تھیں۔
“ایکسکیوز می، مسٹر!” علماء نے آگے بڑھ کر تھوڑے کڑک لہجے میں کہا۔ “آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ آپ نے اپنی بائیک کہاں کھڑی کی ہے؟ ہماری گاڑی بلاک ہو گئی ہے، اسے ہٹائیں یہاں سے۔”
اس لڑکے نے فون کان سے ہٹایا، اپنی گہری، خاموش آنکھوں سے پہلے گاڑی کو دیکھا اور پھر علماء کو۔
“پہلی بات تو یہ کہ مس، پارکنگ کا یہ حصہ نو-پارکنگ (No-Parking) زون ہے، جہاں آپ کی گاڑی کھڑی ہے۔ میں یہاں صرف دو منٹ کے لیے کسی کا انتظار کر رہا ہوں۔ اور دوسری بات، بات کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے، آپ حکم نہیں چلا سکتیں۔”
علماء، جو اپنے گھر کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھی، اس کا ضدی مزاج فوراً جاگ اٹھا۔”طریقہ؟ آپ مجھے طریقہ سکھائیں گے؟ گاڑی جہاں بھی کھڑی ہو، آپ کا راستہ روکنے کا کوئی حق نہیں بنتا۔ اپنی یہ
بائیک ہٹائیں، ہمیں دیر ہو رہی ہے!” علماء نے ابرو اچکا کر غصے سے کہا۔لڑکے نے اسے دیکھا، پھر ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔ اس نے ہیلمٹ بائیک کے ہینڈل پر ٹانگا اور وہیں آرام سے بیٹھ گیا۔
“اب تو میں دو منٹ مزید یہیں رکوں گا۔ ذرا میں بھی دیکھوں کہ آپ گاڑی کیسے نکالتی ہیں۔”
“تم۔۔۔ تم بہت بدتمیز انسان ہو!” علماء کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔”اور آپ بہت ضدی ہیں۔”
انوشے نے جلدی سے علماء کا ہاتھ پکڑا، “علماء یار، چھوڑو، بحث مت کرو۔”لیکن علماء غصے سے اس لڑکے کو گھور رہی تھی اور وہ لڑکا بالکل پرسکون انداز میں واپس اپنے فون پر مصروف ہو گیا، جیسے علماء وہاں موجود ہی نہ ہو۔”بھائی پلیز، آپ اپنی بائیک ہٹا لیں، ہمیں لیٹ ہو رہا ہے،” انوشے نے کہا۔
“ٹھیک ہے، ہٹا لیتا ہوں، مگر آپ اپنے اس بدتمیز دوست کو سمجھا لے کہ لوگوں سے کس طرح بات کرنی چاہیے۔”
یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے چلا گیا۔۔”اچھا، اب ہمیں گھر چلنا چاہیے۔ کل یونیورسٹی کا پہلا دن بھی ہے۔۔ اور ہم شادی کا سامان کل آنے کے بعد خرید لیں گے۔۔ اور آن لائن بھی منگوا لیں گے۔”
“ٹھیک کہہ رہی ہو۔” انوشے نے حامی بھری۔
آج علماء کی زندگی کا ایک نیا اور بہت اہم دور شروع ہو رہا تھا؛ آج یونیورسٹی میں اس کا پہلا دن تھا۔ علماء نے سیاہ رنگ کا ایک انتہائی نفیس اور سادہ ابایا پہن رکھا تھا، ہاتھوں میں سیاہ گلوز چڑھے تھے اور سر پر گہرے گلابی اور گریش رنگ کی خوبصورت پشمینہ شال بہت سلیقے سے اسکارف کی طرح اوڑھ رکھی تھی۔
“اچھا امی، میں جاتی ہوں، ورنہ بہت لیٹ ہو جائے گا۔ السلام علیکم،” کہتے ہوئے علماء گھر سے نکل چکی تھی۔

جب علماء یونیورسٹی کے بڑے سے کوریڈور سے گزر کر کلاس روم نمبر 207 کے اندر داخل ہوئی، تو اندر کا ماحول دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک دم چمک آ گئی۔ سامنے ہی سیکنڈ رو (Row) میں انوشے بیٹھی ہوئی تھی اور اسے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھی۔
“علماء! یہاں آؤ، میں نے تمہارے لیے سیٹ بچا کر رکھی ہے،” انوشے نے اونچی آواز میں چہکتے ہوئے کہا۔
کلاس کے کچھ اسٹوڈنٹس نے مڑ کر دیکھا، لیکن انوشے کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ علماء جلدی سے جا کر اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
“شکر ہے انوشے! تم اسی کلاس میں ہو، مجھے تو لگا تھا تمہارا ڈیپارٹمنٹ الگ ہے،” علماء نے راحت کا سانس لیتے ہوئے کہا۔
“ارے، وہ امی نے آخری وقت پر میرا سبجیکٹ چینج کروا دیا تھا۔ میں تمہیں سرپرائز دینا چاہتی تھی،” انوشے نے آنکھ مارتے ہوئے شرارت سے کہا۔ “اب دیکھنا، اس کلاس میں ہم دونوں مل کر کیا دھوم مچاتے ہیں!”
ابھی دونوں کی باتیں چل ہی رہی تھیں کہ کلاس کا بڑا سا دروازہ دوبارہ کھلا۔ علماء نے سر اٹھا کر دیکھا اور وہ دیکھتی رہ گئی۔۔ اُس کے سامنے ایک دراز قد، گندمی رنگت کا لڑکا کھڑا تھا جس نے بلیک شرٹ پہن رکھی تھی اور ہاتھ میں بکس پکڑے ہوئے تھے۔ وہ کوئی اور نہیں، بلکہ مارکیٹ والا وہی بائیک والا لڑکا تھا۔وہ معاذ شاہ تھا۔
معاذ شاہ نے کلاس میں داخل ہو کر خالی سیٹوں کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر سیکنڈ رو میں بیٹھی علماء پر بھی پڑی۔ وہ ایک سیکنڈ کے لیے رکا، لیکن چہرے پر کوئی خاص تاثر لائے بغیر وہ آگے بڑھ گیا اور انوشے اور علماء کے پیچھے والی رو میں ایک خالی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا۔
اس سیٹ پر پہلے سے ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے معاذ کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا۔
“ہیلو، میں دانیال۔”
معاذ نے اپنی بکس ڈیسک پر رکھیں اور اس سے ہاتھ ملایا۔
“تم نے بھی اسی ڈیپارٹمنٹ میں ایڈمیشن لیا ہے؟” دانیال نے پوچھا۔
“ہاں، مارکیٹنگ میں،” معاذ نے سادہ لہجے میں جواب دیا اور اپنے بیگ سے پین نکالنے لگا۔
تو اس نے آہستہ سے انوشے کی طرف رخ کیا۔
“انوشے، یہ وہی بائیک والا لڑکا ہے جو ہماری کلاس میں آ گیا ہے۔”
انوشے نے پیچھے مڑ کر معاذ اور دانیال کو دیکھا، پھر علماء سے بولی، “ارے ہاں، یہ تو وہی ہے۔”ابھی کلاس کے اسٹوڈنٹس آپس میں ہلکی پھلکی باتیں کر ہی رہے تھے کہ کلاس روم کا دروازہ کھلا اور پروفیسر اندر داخل ہوئے، جن کے ہاتھ میں حاضری کا رجسٹر اور چاک کا ڈبہ تھا۔ ان کے آتے ہی پوری کلاس میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔
“گڈ مارننگ کلاس! میں پروفیسر رحمان ہوں اور میں آپ کو بزنس کمیونیکیشن پڑھاؤں گا،” انہوں نے ڈیسک پر رجسٹر رکھتے ہوئے کہا۔ “آج پہلا دن ہے، اس لیے ہم پڑھائی شروع نہیں کریں گے۔ میں باری باری آپ سب کا نام پکاروں گا، آپ اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر اپنا پورا نام اور اپنا تعارف کروائیں گے۔”
پروفیسر نے رجسٹر کھولا اور نام پکارنا شروع کیے۔
“انوشے خان!”
انوشے نے فوراً اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے اپنا انٹرو (Intro) دیا اور بیٹھ گئی۔کچھ ناموں کے بعد پروفیسر نے پکارا، “معاذ شاہ!”معاذ اپنی جگہ پہ کھڑا ہوا۔”سر، میرا نام معاذ شاہ ہے،اور میں نے اسی شہر سے اپنی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی ہے۔” اُس نے اپنا تعارف کروایا۔
علماء نے اپنی پشمینہ شال کو سمیٹا اور کھڑی ہوئی۔”سر، میرا نام علماء صدیقی ہے۔” اُس نے نرمی سے کہا۔
معاذ نے دل ہی دل میں اُسے دیکھتے ہوئے سوچا، بول تو اتنے پیار سے رہی ہے جیسے اس سے شریف اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔۔ بات کرنے کا طریقہ بہت مختلف ہے۔ اُس دن مارکیٹ میں جو لڑکی تھی، وہ بدتمیزی سے بات کر رہی تھی اور آج یہ یہاں ایک سلجھی ہوئی لڑکی لگ رہی۔
علماء نے اپنا تعارف کروایا اور اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی۔۔معاذ شاہ نے ایک نظر اس کی پشت پر ڈالی، جہاں وہ اپنی پشمینہ شال کو سمیٹے بالکل خاموشی سے بیٹھی تھی۔ وہ اب بھی حیران تھا کہ مارکیٹ میں شعلے برسانے والی لڑکی اتنے آرام سے بھی بات کر سکتی ہے۔
پروفیسر رحمان نے کچھ اور نام پکارے اور جب تعارف کا سلسلہ ختم ہوا، تو انہوں نے رجسٹر بند کر دیا۔
“اوکے کلاس! چونکہ آج پہلا دن ہے، اس لیے ہم کوئی باقاعدہ لیکچر شروع نہیں کریں گے۔ لیکن کل کی کلاس سے پہلے، آپ سب کے پاس بزنس کمیونیکیشن کی کورس آؤٹ لائن اور بنیادی ٹیکسٹ بک ہونی چاہیے، جو یونیورسٹی کے بک اسٹال سے مل جائے گی۔ آج کے لیے آپ سب کو چھٹی ہے، آپ جا سکتے ہیں،” پروفیسر رحمان نے مسکرا کر کہا اور اپنا سامان سمیٹ کر کلاس روم سے باہر نکل گئے۔
پروفیسر کے جاتے ہی کلاس میں دوبارہ ایک خوشگوار سی ہلچل مچ گئی۔ اسٹوڈنٹس اپنے بیگ سنبھال کر باہر نکلنے لگے۔
انوشے نے فوراً علماء کا ہاتھ ہلایا، “چلو علماء! پہلے دن ہی جلدی جان چھوٹ گئی۔ اب جلدی سے کینٹین چلتے ہیں، مجھے تو صبح سے کچھ نہ کھانے کی وجہ سے چکر آ رہے ہیں۔”
“اسی لیے تمہاری امی تمہیں ڈانٹتی ہیں۔ کھانے کے نام پہ تمہیں صرف باہر کی چیز کھانے کا دل کرتا ہے اور چکر آتے ہیں۔ لڑکی، سدھر جاؤ، کچھ کھا پی لیا کرو، انٹی کی ڈانٹ سے بچ جاؤں گی۔” علماء نے اسے کہا۔”اچھا، اب تم مجھے بتاؤ گی میں کھا پی لیا کروں؟ جس لڑکی کو خود اپنے گھر پہ ڈانٹ پڑتی ہے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے۔”
“اچھا، اچھا لڑکی، اب بس بھی کرو۔ تم تو میری پول کھولنے میں لگی ہو۔””پول تو تمہاری میں کسی دن امی کے سامنے کھولوں گی، ابھی چپ چاپ چلو، ورنہ کینٹین کی ساری اچھی چیزیں ختم ہو جائیں گی،” انوشے نے علماء کا ہاتھ کھینچتے ہوئے شرارت سے کہا۔
دونوں ہنستی ہوئی کلاس روم سے باہر نکل کر کوریڈور کی طرف بڑھیں، جہاں پہلے دن کی رونق لگی ہوئی تھی۔جیسے ہی وہ سب کینٹین کے بڑے سے ہال میں داخل ہوئے، وہاں طلبہ کا بے پناہ ہجوم تھا اور بیٹھنے کے لیے کوئی میز خالی نظر نہیں آ رہی تھی۔
“لو! میں نے کہا تھا نا علماء، یہاں تو پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہے،” انوشے نے مایوسی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
بالکل اسی لمحے، دانیال اور معاذ ان کے قریب سے گزرے۔ معاذ شاہ نے ایک نظر کینٹین کے ماحول پر ڈالی اور پھر علماء اور انوشے کی طرف متوجہ ہو کر بولا، “اگر آپ لوگوں کو جگہ نہیں مل رہی، تو وہاں کونے میں ایک میز خالی ہو رہی ہے۔ آپ لوگ وہاں بیٹھ سکتی ہیں، ہم کہیں اور دیکھ لیں گے۔”
“اس کے اندر کون سا بھوت آیا ہوا ہے؟” علماء نے انوشے کے کان میں سرگوشی کی۔
“یار، کوئی بھی بھوت آیا ہو، ہمیں تو جگہ مل رہی نا۔ چلو، ہم چلتے ہیں۔” انوشے نے جواباً کہا۔
“ہاں چلو۔”دونوں اُس میز کی طرف بڑھیں اور وہاں جا کر بیٹھ گئیں۔
“اف! اچھا ہے جگہ مل گئی، ورنہ میری بھوک سے جان نکلنے ہی والی تھی،” انوشے نے اپنا بیگ کرسی کی پشت پر لٹکاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔ “علماء! تم یہیں بیٹھو، میں جلدی سے جا کر ہمارے لیے کھانے کے لیے کچھ لے کر آتی ہوں، ورنہ وہاں بھی لمبی لائن لگ جائے گی۔”
“ٹھیک ہے، تم جاؤ، میں یہیں ہوں۔”
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ علماء کی نظر کینٹین کے کاؤنٹر کی طرف گئی، جہاں انوشے کھڑی تھی۔ بالکل اسی کے پیچھے معاذ اور دانیال بھی لائن میں کھڑے اپنے آرڈر کا انتظار کر رہے تھے۔
“لو مہارانی جی! آپ کی پسندیدہ الائچی والی چائے حاضر ہے،” انوشے نے کپ علماء کے سامنے رکھتے ہوئے چہک کر کہا۔
“یہاں صرف چائے اور موموز ہی مل رہے تھے، تو میں یہ لے آئی۔”
“اچھا کیا، کم سے کم کچھ تو ملا۔”
ابھی انہوں نے پہلا نوالہ لیا ہی تھا کہ دانیال اور معاذ شاہ بھی اپنے ہاتھ میں چائے کے کپ لیے اسی طرف آتے دکھائی دیے۔ کینٹین میں واقعی کوئی اور جگہ خالی نہیں تھی، اور اتفاق سے علماء اور انوشے کی میز کے سامنے والی دو کرسیاں بھی ابھی خالی ہو چُکی تھیں۔
دانیال نے میز کے پاس آ کر پوچھا، “ایکسکیوز می! اگر آپ لوگوں کو اعتراض نہ ہو تو کیا ہم یہاں بیٹھ سکتے ہیں؟ پوری کینٹین میں کہیں جگہ نہیں مل رہی۔”
“آپ لوگ بیٹھ سکتے ہیں، کرسیاں خالی ہی ہیں،” انوشے نے کہا۔
معاذ اور دانیال شکریہ کہہ کر ان کے سامنے والی خالی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ معاذ اور دانیال خاموشی سے اپنی چائے پینے لگے، جبکہ علماء اور انوشے نے بھی بغیر کسی بات چیت کے اپنے موموز ختم کیے۔ مارکیٹ کی اس ملاقات کے بعد ایک ہی ٹیبل پر یوں آمنے سامنے بیٹھنا دونوں کے لیے تھوڑا عجیب ضرور تھا۔
آرڈر ختم کرنے کے بعد، دانیال اور معاذ وہاں سے اٹھ کے چلے گئے۔
کچھ دیر بعد علماء، “ہم بھی اب نکلتے ہیں، پہلے دن کے لیے اتنا کافی ہے،” انوشے نے اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے کہا۔
“ہاں چلو، ویسے بھی اب کافی دھوپ ہو گئی ہے۔”
دونوں یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف بڑھ گئیں۔
یونیورسٹی سے نکل کر علماء سیدھی اپنے گھر پہنچی۔ جیسے ہی اس نے حویلی کے دالان میں قدم رکھا، اسے ایک سکون کا احساس ہوا۔
“السلام علیکم امی!” علماء نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اپنا بیگ صوفے پر رکھا۔سعدیہ بیگم جو کچن میں دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں، ہاتھ دھو کر فوراً باہر آئیں۔
“وعلیکم السلام۔ کیسا رہا یونیورسٹی کا پہلا دن؟”
“اچھا رہا امی! بس تھوڑی تھکن ہو گئی ہے۔”
“اچھا، تم جاؤ آرام کر لو۔ ویسے سنو، آج تمہارے چاچا کا بیٹا حارث آ رہا ہے۔”
“اکیلے آ رہا ہے؟” علماء نے سوال کیا۔
“نہیں، ایمن کو بھی ساتھ لا رہا ہے۔ ایک سال بعد وہ نیپال واپس آیا ہے، تو سوچا اُس کی دعوت کر لوں۔””اچھا، صحیح ہے۔”
حارث اور ایمن علماء کے چچا زاد کزن تھے۔
شام کے وقت گھر میں بہت اچھی رونق لگی ہوئی تھی اور کچن سے کھانوں کی بہت پیاری خوشبو آ رہی تھی۔ امی نے حارث کی پسند کا کھانا تیار کروایا تھا اور علماء بھی اپنے کمرے سے فریش ہو کر باہر آ گئی تھی۔ابھی وہ ہال میں بیٹھی ہی تھی کہ باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی اور تھوڑی ہی دیر میں لاؤنج کا دروازہ کھلا۔
“السلام علیکم چچی جان! السلام علیکم علماء!”
یہ ایمن تھی، جو علماء کی ہم عمر تھی اور بہت ہنس مکھ اور چلبلی تھی۔ اس کے پیچھے ہی حارث اندر داخل ہوا، لمبا قد اور چہرے پر ایک سنجیدہ پن سجانے کی ناکام کوشش۔ وہ پورے ایک سال بعد انڈیا سے اپنا کام ختم کر کے واپس آیا تھا۔
“وعلیکم السلام!””کیسی ہو علماء؟ سنا ہے آج یونیورسٹی کا پہلا دن تھا؟”
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ پہلے ہی دن اتنی تھکن ہو گئی ہے کہ بس پوچھو مت،” علماء نے صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے شکایت سے کہا۔
“پہلے ہی دن تھکن؟”
“ویسے علماء، انڈیا میں ایک سال رہنے کے بعد مجھے وہاں کے ڈاکٹروں نے ایک بہت پکی بات بتائی ہے۔”
“کون سی بات؟” علماء نے تجسس ہوتے ہوئے پوچھا۔
انڈیا کےڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جو لڑکیاں دن بھر سوتی رہتی ہیں اور گھر میں سب سے لڑتی رہتی ہیں، انہیں یونیورسٹی کا پہلا دن دیکھتے ہی چکر آنے لگتے ہیں اور وہ فوراً بوڑھی ہونے لگتی ہیں!”
“چلے چلے، بونگیاں نہ مارے۔”
“ویسے میں آپ کو ایک چیز بتاؤں؟”
“ہاں، بتاؤ۔”
“آج یونیورسٹی میں پروفیسر نے ایک بات بتائی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جو لوگ ملک سے باہر کچھ وقت یا سال کے لیے چلے جاتے ہیں، وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں ہوا اُن کی باتوں پہ، پر اب جب میں آپ کو دیکھ رہی ہوں تو مجھے 99 فیصد یقین ہو گیا ہے کہ وہ سچ کہہ رہے تھے۔”
“لو بھئی! یہ تو الٹا میرے ہی گلے پڑ گئی،” حارث نے ہار مانتے ہوئے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
جس پر لاؤنج ایک بار پھر سب کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔
“اچھا، اب تم دونوں کی بات ختم ہو گئی ہو تو کھانا کھانے چلیں؟”
“کیوں نہیں۔” علماء نے حامی بھری۔
سب ہنستے مسکراتے ہوئے کھانے کی میز پر جمع ہو گئے۔ دسترخوان پر گرما گرم مٹر پلاؤ اور قورمہ سجا ہوا تھا، لیکن ان سب کے بیچوں بیچ ایک خاص پلیٹ میں بہت ہی چٹپٹی اور کوئلوں پر سِکی ہوئی بوٹیاں رکھی تھیں، جن سے باربی کیو کی بہت ہی پیاری خوشبو آ رہی تھی۔
حارث نے فخر سے مسکرا کر وہ پلیٹ سب کے سامنے رکھی اور خود ہی بول پڑا، “چچی جان! پلاؤ اور قورمہ تو اپنی جگہ، لیکن یہ جو مٹن چھوئلا ہے، یہ واقعی بہت کمال کے بنے ہیں۔ مٹن چھوئلا نیپال کی ایک ڈش ہے، جو وہاں کا روایتی چٹپٹا تکہ ہے، جو اپنے خاص مسالوں کی وجہ سے بہت ذائقہ دار ہوتا ہے۔ انڈیا میں یہ نہیں ملتا، بہت دن بعد کھا رہا ہوں۔
“ویسے علماء،” حارث نے نوالہ بناتے ہوئے شرارت سے اس کی طرف دیکھا، “نیپال کے لوگ کہتے ہیں کہ جو لڑکیاں یونیورسٹی کے پہلے دن ہی تھکن کا بہانہ کرتی ہیں اور دن بھر سوتی ہیں، اگر وہ یہ چٹپٹا چھوئلا کھا لیں تو ان کا دماغ ایک دم تیز ہو جاتا ہے اور وہ پروفیسروں کی بہکی بہکی باتیں سننا بند کر دیتی ہیں!”
حارث نے علماء کے پچھلے ڈائیلاگ کا بدلہ لیتے ہوئے وار کیا۔
علماء نے نوالہ منہ میں رکھتے ہی حارث کو دیکھا اور کہا، “ذائقہ تو واقعی بہت اچھا ہے، لیکن تمہارا یہ طنز بالکل بھی اچھا نہیں تھا۔”
“کالم ڈاؤن یار، مذاق کر رہا تھا۔ تم تو کڈنی پہ لے رہی میری بات۔”
“اگر میں بات کڈنی پہ لیتی تو اب تک مجھے پتھری ہو چکی ہوتی۔” علماء کہتے ہوئے مسکرا دی۔
سب ہنسنے لگے۔۔
کھانا ختم ہونے کے بعد حارث اور ایمن نے سعدیہ بیگم اور علماء سے اجازت لی۔ وہ دونوں اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔
اگلی صبح علماء بالکل وقت پر اٹھی اور یونیورسٹی کے لیے تیار ہوئی۔
جب وہ یونیورسٹی کے مین گیٹ پر پہنچی تو انوشے پہلے سے وہاں کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
“السلام علیکم مہارانی جی! شکر ہے آج آپ نے مجھے انتظار نہیں کروایا،” انوشے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام! چلو چلو، اب باتیں نہ بناؤ، کلاس کا وقت ہو رہا ہے،” علماء نے ہنس کر کہا اور دونوں اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئیں۔
جب وہ دونوں کلاس روم کے اندر داخل ہوئیں، تو کلاس میں کافی اسٹوڈنٹس پہلے سے موجود تھے۔ علماء اور انوشے اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئیں۔ دانیال اور معاذ پہلے سے ہی اپنی جگہ پہ بیٹھے ہوئے تھے۔ابھی کلاس کے سب اسٹوڈنٹس آپس میں ہلکی پھلکی باتیں کر ہی رہے تھے کہ کلاس روم کا دروازہ کھلا اور پروفیسر رحمان رجسٹر ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوئے۔ ان کے آتے ہی پوری کلاس میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔
“گڈ مارننگ کلاس!” پروفیسر رحمان نے ڈیسک پر اپنا سامان رکھتے ہوئے کہا۔ “جیسا کہ میں نے کل کہا تھا، آج سے ہم باقاعدہ پڑھائی کا آغاز کریں گے۔ لیکن لیکچر شروع کرنے سے پہلے، میں آپ سب کو اس سمسٹر کا پہلا گروپ پروجیکٹ اسائن کرنا چاہتا ہوں، جو آپ کے فائنل گریڈز کے لیے بہت اہم ہے۔”
پروفیسر کی بات سنتے ہی پوری کلاس میں ایک ہلکی سی سرگوشی شروع ہو گئی۔پروفیسر نے وائٹ بورڈ پر مارکر سے کچھ لکھتے ہوئے کہا، “یاد رہے، یہ پروجیکٹ آپ کو 5 لوگوں کے گروپ میں مل کر کرنا ہے۔ گروپ آپ لوگ اپنی مرضی سے بنا سکتے ہیں، لیکن میرا ایک رول
ہے؛ ہر گروپ میں 3 لڑکیاں اور 2 لڑکے لازمی ہونے چاہئیں، نہ اس سے کم، نہ زیادہ۔”
یہ سنتے ہی کلاس میں ایک دم سب اسٹوڈنٹس ادھر ادھر دیکھنے لگے تاکہ جلدی سے اپنے اپنے گروپس فائنل کر سکیں۔
انوشے نے فوراً علماء کا ہاتھ دبایا اور خوشی سے چہکی، “علماء! شکر ہے سر نے اپنی مرضی سے گروپ بنانے کو کہا ہے۔ ہم دونوں تو ایک ساتھ ہیں ہی، اب ہمیں بس ایک اور لڑکی اور دو لڑکے ڈھونڈنے ہیں۔”علماء نے مسکرا کر حامی بھری، “ہاں، چلو اچھا ہوا، اب کسی تیسری لڑکی کو دیکھ لیتے ہیں۔”
ابھی وہ دونوں بات کر ہی رہی تھیں کہ پیچھے سے دانیال نے انوشے کی کرسی کو ہلکا سا تھپتھپایا۔ انوشے اور علماء نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔”ایکسکیوز می! اگر آپ لوگوں نے ابھی تک اپنا گروپ فائنل نہیں کیا، تو کیا میں اور معاذ آپ کے گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں؟ اس طرح ہمارے گروپ کے ‘دو لڑکوں’ کا رول پورا ہو جائے گا۔”
انوشے نے علماء کے چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر فوراً دانیال کو جواب دیا، “ارے ہاں، بالکل! یہ تو بہت اچھا ہو جائے گا۔ اب ہم چار تو ہو گئے، بس ایک اور لڑکی کو اپنے گروپ میں شامل کرنا باقی ہے۔”علماء اور انوشے ابھی ادھر ادھر دیکھ ہی رہی تھیں کہ پچھلی رو (Row) سے ایک لڑکی بہت ہی پراعتماد اور چلبلی چال چلتی ہوئی سیدھی ان کی میز کے پاس آ کر رک گئی۔ اس نے ایک پیارا سا پرنٹڈ کاٹن کا سوٹ پہن رکھا تھا، اور چہرے پر ایک بڑی سی، خوبصورت مسکراہٹ تھی۔ وہ مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی لگ رہی تھی، لیکن اس کا انداز بلا کا فرینڈلی اور زندہ دل تھا۔”ہیلو لوگو! اگر آپ لوگوں کی ٹیم ابھی تک فل نہیں ہوئی، تو کیا میں اس گروپ کا حصہ بن سکتی ہوں؟ ویسے آج میرا پہلا دن ہے، اسی کا کچھ ریزن کی وجہ سے میں نہیں آ سکی۔”
“بالکل، بالکل! آ جاؤ، ہمارے گروپ میں بالکل ایک لڑکی کی ہی جگہ خالی تھی۔”
“اوہ، تھینک یو سو مچ! میں تو پورے کوریڈور میں گھوم آئی تھی کہ کہیں پہلے ہی دن اکیلی نہ رہ جاؤں۔ میرا نام زارا ہے۔” اور ایسے بیٹھ گئی جیسے وہ ان لوگوں کو پہلے سے جانتی ہو۔
“میں انوشے، یہ علماء، اور پیچھے دانیال اور معاذ شاہ ہیں،” انوشے نے ایک ساتھ اپنے پورے گروپ کا تعارف کروا دیا۔زارا نے فوراً پیچھے مڑ کر معاذ اور دانیال کی طرف دیکھا اور بولی، “ہیلو برو! اور کیا حال چال؟” سوال کرتے ہوئے کہا، “چلو، اچھا ہے، ہمارے گروپ کے لڑکے تو بڑے سلجھے ہوئے اور ہینڈسم لگ رہے ہیں۔ اب پروجیکٹ کرنے میں بالکل بوریت نہیں ہوگی۔”
زارا کی بات سنتے ہی سب ہنس پڑے۔
“ویلکم ٹو دی گروپ، زارا۔”زارا نے بیٹھتے ہی انوشے کی طرف رخ کیا اور دھیمی آواز میں کلاس روم اور یونیورسٹی کے ماحول کے بارے میں کانا پھوسی کرنے لگی۔
“ویسے تم کدھر بیٹھی ہو؟” انوشے نے سوال کیا۔
“میں وہاں لاسٹ سیکنڈ بینچ پہ بیٹھی ہوں۔”
“اور تم وہاں کیا کر رہی ہو؟ آؤ، میرے پاس جگہ خالی ہے۔ ہمارے ساتھ بیٹھو، وہاں بیٹھے بیٹھے بور ہو جاؤ گی۔”
رکو، میں اپنا سامان وہاں سے لے کر آتی ہوں۔”
زارا اپنا سامان لا کر انوشے کے ساتھ والی سیٹ پر اپنا سامان رکھا۔
“ویسے اب ہم پانچ لوگوں کا گروپ بن ہی گیا ہے تو دوستی کر لیتے ہیں،” زارا نے سامان رکھنے کے بعد کہا۔معاذ نے جواباً کہا، “ویسے بھی اب پروجیکٹ ساتھ ہی کرنا ہے تو ہم ایک پلان بناتے ہیں۔ اب کبھی بھی کوئی پروجیکٹ ملے یا کچھ بھی ہو، ہم ایک ساتھ ایک گروپ میں رہیں گے۔”
“ہاں، یہ صحیح ہے۔” سب نے اُس کی بات پہ حامی بھری۔
“اچھا معاذ، اُس دن کے لیے سوری، ہاں ۔میں تھوڑا زیادہ روڈ ہو گئی تھی۔” اچانک سے علماء نے اسے معافی مانگی۔
معاذ کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ علماء اسے معافی مانگے گی۔
“It’s okay! کوئی نہیں، میں نے بھی اُس کا بدلہ اُسی وقت لے لیا تھا۔ اب پرانی باتوں کو بھول جاتے ہیں۔”
سب کی باتیں چل ہی رہی تھیں کہ پروفیسر نے اپنے جانے کا اعلان کیا۔”اوکے اسٹوڈنٹس! آپ لوگ کل مجھے اپنے گروپ کے ممبروں کے نام لکھ کے دے دینا۔”
یہ کہتے ہوئے وہ کلاس سے باہر چلے گئیں۔
اسٹوڈنٹس نے راحت کا سانس لیا اور اپنے بیگز سمیٹنے لگے۔
انوشے نے فوراً علماء اور زارا کی طرف دیکھا اور جوش سے بولی، “چلو، بہت تیز بھوک لگی ہے، کچھ کھاتے ہیں۔”
“اوئے دانیال! تم دونوں بھی چلو گے؟”
“آف کورس! ہم بھی انسان ہیں، ہمیں بھی بھوک لگتی ہے۔”
“نہیں، مجھے لگا تم دونوں کو بھوک نہیں لگتی۔”
“کیوں بھئی؟ ہم اتنے برے ہیں؟” معاذ نے ہنستے ہوئے سوال کیا۔
علماء ان دونوں کی باتیں سن کر بولی، “اچھا، اب یہ باتیں بند کرو اور کچھ کھانے چلو، ورنہ پیٹ کے چوہے پیٹ میں ہی مر جائیں گے!””ہاں یار، چلو! سچی میں مجھے بھی بہت تیز بھوک لگی ہے،” زارا نے بھی فوراً اپنا رجسٹر بیگ میں ڈالتے ہوئے حامی بھری۔
وہ پانچوں ایک ساتھ کلاس روم سے باہر نکل آئے۔ کوریڈور میں اسٹوڈنٹس کا کافی ہجوم تھا، لیکن یہ پانچوں اب ایک گروپ کی طرح ہنستے بولتے کینٹین کی طرف بڑھنے لگے۔ راستے بھر انوشے اور زارا یونیورسٹی کے ماحول پر باتیں کر رہی تھیں۔
خوش قسمتی سے کونے میں ایک بڑی میز خالی مل گئی، جہاں پانچوں کرسیاں کھینچ کر آرام سے بیٹھ گئے۔”ہاں تو بھئی، اب بتاؤ کون کیا کھائے گا؟” دانیال نے مینو کارڈ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
انوشے اور زارا نے اپنے لیے چائے اور سموسے فائنل کیے، جبکہ علماء، معاذ اور دانیال نے بھی چائے کا آرڈر دیا۔ معاذ اور دانیال جلدی سے جا کر آرڈر لے آئے اور میز پر رکھ دیا۔
چائے پیتے ہوئے ان پانچوں کے درمیان باتیں شروع ہوئیں۔
اچانک انوشے کو کچھ یاد آیا۔ اس نے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت، سنہری کڑھائی والے ویلوٹ کے کارڈز نکال کر میز پر رکھ دیے۔
“ویسے میرے پاس ایک ہی کارڈ ہے، لیکن میں یہ ایک کارڈ تم تینوں کو دے رہی ہوں۔ اگلے ہفتے میرے بھائی کی بھی شادی ہے اور تم سب کو ضرور آنا ہے۔”
“ارے واہ! یونیورسٹی کے پہلے ہی ہفتے اتنی بڑی خوشخبری، اور وہ بھی شادی کی دعوت؟ میں تو بالکل تیار ہوں، بس یہ بتاؤ فنکشن دن کا ہے یا رات کا؟” زارا نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے چہک کر پوچھا۔”شام کا نکاح ہے، زارا! بالکل نائٹ فنکشن (Night function)،” انوشے نے مسکرا کر جواب دیا۔ “امی کہتی ہیں رات کی روشنیوں میں ہال کا منظر اور بھی خوبصورت لگتا ہے۔”
“ارے، یہ تو اور بھی اچھا ہے،” دانیال نے معاذ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “ہم ضرور آئیں گے، انوشے۔ تھینک یو سو مچ۔”
معاذ شاہ نے زارا کے ہاتھ میں موجود سنہری کارڈ کو دیکھا، اور پھر ایک نظر علماء پر ڈالی، جو بالکل خاموشی سے اپنی چائے ختم کر رہی تھی۔
“ویسے علماء، آج ہم پھر سے شاپنگ پہ چلیں گے۔ کچھ سامان رہ گیا ہے، ہم ساتھ مل کر لیں گے،” انوشے نے علماء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
“ہاں، ضرور۔ ویسے بھی آج میں گھر پر ویلی بیٹھی رہتی، اس سے اچھا شاپنگ پہ چلیں، مزا آئے گا۔”
کچھ دیر بعد کلاسز ختم ہوئیں تو سب اپنے اپنے گھروں کے لیے روانہ ہو گئے۔علماء گھر پہنچی، فریش ہوئی اور شام کا انتظار کرنے لگی۔ جب شام کے چار بج گئے اور انوشے کا کوئی فون نہیں آیا، تو علماء نے خود اپنا موبائل اٹھایا اور انوشے کا نمبر ڈائل کیا۔ فون چند پل بجنے کے بعد اٹھا لیا گیا تھا۔
“انوشے! تم کہاں ہو یار؟ ابھی تک آئی نہیں؟ شاپنگ کے لیے نہیں جانا کیا؟ میں کب سے تیار بیٹھی ہوں،” علماء نے لاڈ اور ہلکی سی شکایت والے لہجے میں کہا۔
دوسری طرف سے انوشے کی ہنستی ہوئی آواز آئی، لیکن اس کے ساتھ ہی پسِ منظر میں زارا کے قہقہے کی آواز بھی صاف سنائی دی۔
“اوہ، آئی ایم سو سوری، علماء! میں تمہیں بتانا ہی بھول گئی۔ دراصل زارا کا گھر میرے راستے میں ہی تھا اور وہ بھی فری تھی، تو وہ میرے ساتھ گاڑی میں ہی آ گئی ہے۔ ہم دونوں اس وقت مارکیٹ پہنچ چکے ہیں اور ایک دکان کے اندر ہیں،” انوشے نے بہت عام سے لہجے میں بتایا۔
علماء کی آواز مدھم ہو گئی، پر پتا نہیں کیوں بہت تکلیف ہوئی تھی۔
“ہممم! ٹھیک ہے،” اُس نے یہ کہتے ہوئے فون کٹ کر دیا۔
آج تک… آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ انوشے علماء کے بغیر کہیں گئی ہو، یا شاپنگ کا پلان ہو اور وہ علماء کو لیے بغیر نکل گئی ہو۔ ہمیشہ انوشے حویلی کے باہر ہارن بجا کر اس کا گھنٹوں انتظار کرتی تھی، اور آج؟ آج وہ کسی اور کے ساتھ چلی گئی۔
علماء کو تکلیف ہوئی تھی، شدید تکلیف، پر اُس نے انوشے کے سامنے اپنی تکلیف ظاہر نہیں کی۔
کچھ دیر بعد پھر سے فون بجا۔ علماء نے فون اٹھایا۔
“ہیلو، علماء! فون کٹ ہوگیا تھا۔ اچھا، تم میری بات سنو، تم ایک کام کرو، کسی رکشے یا ٹیکسی میں بیٹھ کر جلدی سے مین مارکیٹ آ جاؤ، ہم اسی بڑی شاپ پر ہیں،” انوشے نے دوسری طرف سے کہا۔
“نہیں یار، رہنے دو۔ تم دونوں گئی ہو تو تم دونوں شاپنگ بھی کر لو، اب میں آ کر کیا کروں گی۔”
“علماء، تمہیں برا لگا؟” انوشے نے جیسے تشویش کی۔
“نہیں، مجھے کیوں برا لگے گا؟ میں ٹھیک ہوں۔ اچھا، فون رکھتی ہوں۔”یہ کہہ کر علماء نے فون کٹ کر دیا۔علماء نے فون بیڈ پر پھینکا اور گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔ انوشے کا یوں زارا کے ساتھ اکیلے چلے جانا اس کے دل کو بہت بری طرح دکھا گیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔اب علماء نے اپنی اوورتھنکنگ (Overthinking) شروع کر دی۔
“آج انوشے کسی اور کے ساتھ چلی گئی، لیکن کیا ہوتا ہے؟ ہمیشہ تو میرے ساتھ ہی جاتی ہے… پر اگر دھیرے دھیرے انوشے مجھ سے چھین جائے گی تو؟… میں کیا کروں گی؟… میں تو اکیلی رہ جاؤں گی… نہیں، نہیں، انوشے کبھی مجھے چھوڑ ہی نہیں سکتی۔ وہ تو میری سب سے اچھی دوست ہے۔ مجھے کوئی بھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے، پر انوشے نہیں… لیکن انوشے کو مجھ سے اچھی دوست مل گئی تو وہ مجھے چھوڑ دے گی؟ یار، میں فضول میں اتنا سوچ رہی ہوں۔ کچھ نہیں ہوتا۔ ایک دن کی ہی تو بات ہے۔ ویسے بھی انوشے سب سے زیادہ ترجیح (Priority) دیتی ہے، دیتی ہے… علماء، کچھ نہیں ہوتا۔”
وہ خود کو دلاسا دے رہی تھی۔
سوچتے سوچتے اُس کا سر درد کرنے لگا۔
“میں اب کچھ نہیں سوچوں گی۔ کالم ڈاؤن (Calm down)، علماء، کالم ڈاؤن۔ تو اب کچھ نہیں سوچے گی۔”
بیڈ پر لیٹی خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک نیچے لاؤنج سے حارث کی اونچی اور ہنستی ہوئی آواز گونجی۔
“چچی جان! کہاں ہیں آپ کی لاڈلی؟ پورے ایک سال بعد کزن انڈیا سے آیا ہے اور وہ اوپر کمرے میں چھپ کر بیٹھی ہیں۔”
علماء نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ جلدی سے اٹھی، اپنا چہرہ صاف کیا اور نیچے لاؤنج کی طرف بھاگی۔
نیچے حارث اور ایمن صوفے پر بیٹھے سعدیہ بیگم سے باتیں کر رہے تھے۔”لو بھئی! آ گئیں ہماری یونیورسٹی کی تھکی ہاری طالب علم،” حارث نے علماء کو دیکھتے ہی شرارت سے کہا۔
“آپ لوگ اچانک؟””اچانک نہیں، علماء۔ حارث کا کام جلدی ختم ہو گیا تو ہم نے سوچا تمہیں بھی ساتھ لیں اور مارکیٹ چلیں۔ شادی کا کچھ سامان بھی لینا ہے اور تمہیں گھر بیٹھے بوریت سے بھی بچانا ہے،” ایمن نے ہنستے ہوئے کہا۔
“آپ لوگ جائیں، شاپنگ کر آئیں۔ میرا دل نہیں کر رہا باہر جانے کا۔”کیوں؟ تمہیں تو گھومنا، شاپنگ کرنا بہت پسند ہے، اور شاپنگ کے لیے علماء منا کر دے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا،” حارث نے فوراً اُس کی بات سنتے ہی کہا۔
“اور علماء، تم ویسے بھی گھر پہ بور ہو گئی ہو۔ ہمارے ساتھ ہی چلو۔”
“اچھا، ٹھیک ہے۔ آپ لوگ یہیں انتظار کریں، میں اپنا سامان لے کر آتی ہوں۔””علماء، بات سنو،” حارث نے اُسے روکا۔
“ہاں، بولیں؟””وہ آتے آتے تم اپنا منہ بھی دھو لینا۔ ،” حارث نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا۔
“ٹینشن نہیں لیں، آپ سے زیادہ اچھی دیکھ رہی ہوں میں،” علماء نے فوراً جواب دیا۔
“لو بھئی، ابھی سے نخرے شروع! جلدی جاؤ، ورنہ مارکیٹ بند ہو جائے گی،” حارث نے ہنستے ہوئے صوفے پر ٹیک لگا لی۔
علماء پاؤں پٹختی ہوئی اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر جب اس نے اپنا چہرہ دیکھا، تو اس کی آنکھیں اب بھی ہلکی سی سرخ تھیں، لیکن حارث اور ایمن کی آمد نے اس کے اداس دل کو ایک دم بہلا دیا تھا۔
اس نے جلدی سے ہلکے نیلے رنگ کا ایک سادہ اور پیارا کُرتا پہنا، اپنے بال سنبھالے، اور الماری سے اپنی وہی سیاہ پشمینہ شال اٹھا کر اپنے کندھوں پر ڈال لی۔
جب وہ نیچے آئی تو حارث نے شال دیکھ کر ایک بار پھر اسے چھیڑا۔
“ویسے علماء، انڈیا کے ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ جو لڑکیاں گرمی سردی کا موسم دیکھے بغیر ہر وقت کالی شال اوڑھے رکھتی ہیں، ان کا دماغ پشمینہ کی طرح نرم ہو جاتا ہے!”
“حارث بھائی! آپ پلیز اپنی یہ انڈیا کی میڈیکل ریسرچ بند رکھیں اور چپ چاپ گاڑی نکالیں،” علماء نے ابرو اچکا کر کہا، جس پر ایمن اور سعدیہ بیگم بھی ہنس پڑیں۔
.**************************
راستے بھر حارث اور ایمن اپنی انڈیا کی کہانیاں سناتے رہے، اور علماء ان کی باتوں پر باہر سے ہنستی تو رہی، لیکن اس کے دماغ میں ابھی بھی انوشے اور زارا تھیں۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد اچانک سے علماء نے کہنا شروع کیا۔
“ویسے حارث بھائی…” علماء نے سیٹ پر تھوڑا سیدھا ہوتے ہوئے شرارت سے پوچھا، “انڈیا میں پورا ایک سال رہ کر آئے ہیں، وہاں کوئی لڑکی وڑکی پسند نہیں آئی کیا؟ آخر آپ کب لڑکی دیکھیں گے اور آپ کی شادی کب ہوگی؟””آپ بھی شادی کریں، مزا آئے گا آپ کی شادی میں…” حارث نے فرنٹ مرر (شیشے) میں سے علماء کی چمکتی آنکھوں کو دیکھا۔ اس کے لبوں پر ایک گہری اور معنی خیز مسکراہٹ آئی۔ اس نے گاڑی کا گیئر بدلا اور بالکل دھیمے، سنجیدہ لہجے میں بولا، “جب تم راضی ہو جاؤ۔”
“میں؟!” علماء کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ “میں کیوں راضی ہوں؟ شادی آپ کی ہونی ہے، لڑکی آپ نے دیکھنی ہے، اس میں میری رضامندی کا کیا تعلق؟”
“لو بھئی! تعلق کیوں نہیں ہے؟” پیچھے بیٹھی ایمن نے فوراً حارث کا ساتھ دیتے ہوئے علماء کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “امی تو کب سے کہہ رہی ہیں کہ حارث کے لیے علماء سے بہتر لڑکی پورے خاندان میں نہیں مل سکتی۔”حارث نے علماء کو دیکھا، جو چپ ہو گئی تھی۔ یہ دیکھتے ہوئے حارث نے ایمن سے کہا، “بہنا، بس کرو اور پریشان نہ کرو اسے۔”یہ کہتے ہوئے ماحول سے اوکواردنیس ختم کرنے کی کوشش کی ایمن نے بھی حارث کا اشارہ سمجھ کر ہنس کر کندھے اچکا دیے اور باہر سڑک کے مناظر دیکھنے لگی۔
تقریباً دس منٹ بعد حارث نے گاڑی شہر کے سب سے بڑے اور پررونق شاپنگ مال کی پارکنگ میں لگا دی۔
وہ تینوں مال کے اندر داخل ہوئے اور دھیرے دھیرے مختلف دکانوں کا چکر لگانے لگے۔ کچھ دیر بعد علماء ایک خوبصورت ہلکے رنگ کے لباس کو پسند کر کے، اسے دیکھنے کے لیے دکان کے دوسرے کونے میں اکیلی چلی گئی۔ وہ دکاندار سے کچھ پوچھنے میں مصروف ہو گئی اور اس کا پورا دھیان کپڑے پر تھا۔
دوسری طرف کھڑی ایمن نے جب دیکھا کہ علماء کافی دور ہے اور ان کی باتیں نہیں سن سکتی، تو اُس نے حارث سے کہا، “آج پھر آپ چپ ہو گئے؟ کیوں نہیں بتا دیتے اُسے کہ محبت کرتے ہیں اورشادی کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ کب بتائیں گے کہ آپ کو اس سے محبت ہے؟”
“اتنی آسان نہیں ہوتی، ایمن، کچھ باتیں…” حارث نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی آواز کو جتنا ہو سکے دھیما رکھتے ہوئے بولا، “ہم سامنے والے کو سب بتا دینا چاہتے ہیں، پر الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم بتا ہی نہیں پاتے، خاموش ہو جاتے ہیں۔ کچھ باتیں کہہ دینا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ لمحہ، ہفتہ، مہینہ، سال، یا زندگی گزر جاتی ہے، پر کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔”
“ایمن نے حارث کی آنکھوں میں جھانکتی اس گہری خاموشی کو دیکھا اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔
بالکل اسی لمحے علماء نے دکاندار کو شکریہ کہا اور وہ خوبصورت سوٹ ہاتھ میں لیے چہکتی ہوئی ان کی طرف بڑھی۔
“حارث بھائی! ایمن! دیکھو، یہ کلر کتنا پیارا ہے۔”
“ہاں بھئی، آپ کی پسند تو ہمیشہ ہی لاجواب ہوتی ہے۔ اب اگر آپ کی شاپنگ ختم ہو گئی ہو تو چلیں؟ مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے اور مجھے میری پسند کی چائے بھی پینی ہے!”
“اچھا اچھا، چلو۔”
وہ تینوں مال کی دکان سے باہر نکلے اور حارث کی فرمائش پر مارکیٹ کے ایک پرسکون چائے خانے کی طرف بڑھ گئے۔ وہاں بیٹھ کر انہوں نے گرما گرم چائے پی۔
کچھ ہی دیر میں وہ سب شاپنگ کا سامان لے کر واپس گاڑی کی طرف آ گئے۔ حارث نے گاڑی حویلی کے راستے پر ڈال دی۔
جب حارث نے علماء کو گھر ڈراپ کیا، تو سعدیہ بیگم نے ان دونوں کو رکنے کا کہا، لیکن حارث نے معذرت کر لی۔
اگلی صبح…
علماء بالکل وقت پر اٹھی۔ جب وہ یونیورسٹی کے مین گیٹ پر پہنچی،
تو اس کی نظریں لاشعوری طور پر انوشے کو ڈھونڈ رہی تھیں، لیکن انوشے وہاں موجود نہیں تھی۔جب وہ کلاس میں پہنچی، اُس نے دیکھا کہ انوشے پہلے سے ہی کلاس میں تھی۔ اُس کے ساتھ والی بینچ پر زارا بھی بیٹھی تھی۔انوشے کی نظر علماء پر پڑی۔
“علماء، اِدھر آؤ… آؤ تمہیں کل کی بات بتاتے ہیں۔ کل ہم نے بہت شاپنگ کی۔”
علماء ایک پل کے لیے وہیں رک گئی۔
“یار علماء! تم سوچ بھی نہیں سکتیں،” انوشے نے جوش سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ “ہمیں مارکیٹ میں وہ جو سنہری دوپٹہ چاہیے تھا نا، وہ بالکل آخری دکان پر مل گیا۔”
“بہت اچھا ہوا… چلو، تمہاری شاپنگ تو مکمل ہوئی۔”
معاذ اور دانیال پہلے سے ہی کلاس میں موجود تھے اور ہمیشہ کی طرح اپنی سیٹ پر بیٹھے پروفیسر کا انتظار کر رہے تھے۔
ابھی علماء انوشے کی باتیں سن ہی رہی تھی کہ پروفیسر رحمان کلاس میں داخل ہوئے اور باقاعدہ لیکچر شروع ہو گیا۔
علماء کا دماغ تو کلاس میں تھا ہی نہیں، وہ بس گھڑی کی سوئیوں کو دیکھ رہی تھی کہ کب یہ کلاس ختم ہو اور وہ یہاں سے نکلے۔
جیسے ہی پروفیسر نے اپنے جانے کا اعلان کیا، علماء نے ایک راحت کا سانس لیا۔ اس نے جلدی سے اپنا بیگ سمیٹا اور کسی سے بھی زیادہ بات کیے بغیر، انوشے اور زارا کو خدا حافظ کہہ کر حویلی کی طرف روانہ ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موبائل فون بج رہا تھا۔ علماء نے فون اٹھایا۔
“یار، کب تک آؤ گی؟” انوشے نے دوسری طرف سے ہلکی سی جلدی اور جوش والے لہجے میں پوچھا۔
“یار، بس دس منٹ، آ رہی ہوں۔ راستے میں ہی ہوں۔”
“اچھا، ٹھیک ہے۔ جلدی سے آ جاؤ،” انوشے نے دوسری طرف سے کہا اور فون کٹ ہو گیا۔
علماء نے فون اپنے چھوٹے سے پرس میں رکھا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ گاڑی مین روڈ سے ہٹ کر شادی ہال کی خوبصورت، روشنیوں سے نہائی ہوئی پارکنگ میں داخل ہو رہی تھی۔
ہال پہنچ کر حارث نے گاڑی ایک طرف روکی۔ چونکہ نکاح کا فنکشن روایتی انداز میں تھا، اس لیے ہال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ مردوں کے لیے الگ حصہ تھا اور خواتین کے لیے بالکل الگ پورشن سجایا گیا تھا۔”تم دونوں اندر جاؤ۔ میں مردوں والی سائیڈ پر جا رہا ہوں،” حارث نے گاڑی لاک کرتے ہوئے کہا۔
علماء اور ایمن نے اپنے دوپٹے اور شال سنبھالے اور لیڈیز ہال کے بڑے شیشے والے دروازے سے اندر داخل ہو گئیں۔
پورا ہال سفید اور پیسٹل رنگوں کے پردوں اور فانوس کی روشنیوں سے چمک رہا تھا، اور خواتین کی چہل پہل عروج پر تھی۔
علماء جیسے ہی ہال کے بیچ میں پہنچی، انوشے کی نظر اس پر پڑ گئی۔ سیاہ رنگ کے بھاری اور خوبصورت لہنگے میں ملبوس انوشے، زارا کا ہاتھ پکڑے اسٹیج کے پاس ہی کھڑی تھی۔
“علماء! شکر ہے تم آ گئیں،” انوشے نے آگے بڑھ کر علماء کو گلے سے لگایا۔”مبارک ہو، انوشے! تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
“بالکل میری بیگم لگ رہی ہو۔”
“اچھا، آپ لڑکی ہیں؟ یہ ڈائیلاگ تو میرا شوہر بولے گا، جو نجانے اس وقت کدھر گھوم رہا ہوگا۔”
“لو بھئی! ابھی شادی ہوئی نہیں اور اِن کو دولہا میاں کی فکر پہلے سے ستانے لگی،” زارا نے انوشے کو کہنی مارتے ہوئے چھیڑا۔
“ارے، فکر کیوں نہ ہو؟ آخر آج نکاح ہے میرا!”
“میڈم، نکاح آپ کا نہیں، آپ کے بھائی کا ہے۔ زیادہ سپنے نہ دیکھیں۔” علماء نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہاں، آج نہیں ہے، پر کبھی تو ہوگا نا۔”
“اچھا، تب جب ہوگا تب دیکھا جائے گا۔ ابھی سپنوں سے باہر آ جائیں۔”
کچھ دیر بعد نکاح پڑھا جا چکا تھا۔ سب بہت خوش تھے۔
نکاح کی اس گہما گہمی کے فوراً بعد کھانے کا اعلان کر دیا گیا اور ہال کے دروازے کھل گئے۔ نکاح اور رخصتی کا پورا فنکشن بہت جلدی اور خیر و عافیت سے مکمل ہو گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مہمان رخصت ہونے لگے اور ہال میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔
انوشے اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ ان کے گھر روانہ ہو گئی اور زارا بھی اپنے گھر چلی گئی۔

علماء نے بھی حارث اور ایمن کے ساتھ خدا حافظ کہا اور وہ سب واپس حویلی کی طرف روانہ ہو گئے۔
گاڑی کی کھڑکی سے باہر اندھیری سڑک کو دیکھتے ہوئے علماء بالکل خاموش تھی۔
گھر پہنچ کر وہ بغیر کسی سے زیادہ بات کیے سیدھی اپنے کمرے میں آئی، کپڑے تبدیل کیے اور بستر پر لیٹ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“انوشے، ویسے یہ تو بتاؤ، علماء اتنے دنوں سے یونیورسٹی کیوں نہیں آ رہی؟”
سب کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے، تبھی معاذ نے انوشے سے پوچھا۔”چار پانچ دن گزر گئے ہیں۔ وہ ٹھیک تو ہے نا؟” معاذ نے سوال کیا۔”کیا علماء یونی نہیں آ رہی؟”
“نہیں آ رہی۔ نہ تم بھی آج آئی ہو، لیکن وہ آج بھی نہیں آئی۔ میری اس سے بات نہیں ہوئی۔ دراصل میں شادی کی وجہ سے بہت مصروف تھی اور آج فری ہوئی تو آئی۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ نہیں آ رہی۔”
“اچھا، ٹھیک ہے۔ تم اسے آج پوچھ لینا کہ کیوں نہیں آ رہی۔”
“ہاں، فکر نہ کرو۔ میں آج گھر جاتے ہی اس سے پوچھ لوں گی یا یہ کہ اُس کے گھر ہی چلی جاؤں گی۔”
“ہاں، پھر ہمیں بھی بتا دینا کہ وہ کیسی ہے۔” معاذ نے حامی بھرتے ہوئے کہا۔
یونیورسٹی کی کلاسز ختم ہوتے ہی انوشے نے اپنا بیگ سمیٹا۔
جب انوشے کی گاڑی حویلی کے بڑے لوہے کے گیٹ کے سامنے رکی، تو وہاں وہی پرانی مانوس خاموشی تھی۔ انوشے نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور تیز قدموں سے دالان سے ہوتی ہوئی لاؤنج کے بڑے شیشے والے دروازے کی طرف بڑھی۔
اس نے دستک دی، تو چند ہی پلوں میں سعدیہ بیگم نے دروازہ کھولا۔ انوشے کو اچانک وہاں دیکھ کر ان کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ آ گئی۔
“السلام علیکم، چچی جان!” انوشے نے جلدی سے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام، انوشے! کیسی ہو بیٹا؟ بڑے دنوں بعد چکر لگایا۔ بھائی کی شادی خیریت سے ہو گئی؟” سعدیہ بیگم نے پیار سے پوچھا۔
“جی چچی جان، سب بہت اچھے سے ہو گیا۔ ویسے… علماء کہاں ہے؟ وہ اتنے دنوں سے یونیورسٹی بھی نہیں آئی۔”
“بیٹا، اُس کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی۔ ابھی وہ ٹھیک ہے، کل سے یونیورسٹی بھی جائے گی۔ وہ اوپر کمرے میں ہے، تم جاؤ، اسے مل لو۔”
“ٹھیک ہے چچی، میں جائے اسے مل کے آتی ہوں۔”
کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا اور اندر بالکل نیم اندھیرا تھا۔ علماء بیڈ پر کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی۔انوشے کمرے میں داخل ہوئی اور دھیمی آواز میں پکارا، “علماء…”علماء نے چونک کر سر اٹھایا۔
“تم یہاں؟” علماء نے حیرانی سے سوال کیا۔ اُسے توقع نہیں تھی کہ انوشے آئے گی، کیوں کہ ان گزرے ہوئے دنوں میں انوشے کا ایک فون بھی علماء کے پاس نہیں آیا تھا۔
علماء چاہتی تھی کہ انوشے اسے فون کرے، مگر نہیں، انوشے نے فون نہیں کیا تھا۔ اس وجہ سے آج وہ اُسے اپنے گھر پر دیکھ کر حیران ہوئی۔”یہ کیا طریقہ ہے؟ تم اتنے دنوں سے یونیورسٹی کیوں نہیں آ رہیں؟ تمہیں پتا ہے، مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ تم یونیورسٹی نہیں آ رہی۔ وہ تو آج معاذ نے تمہارا پوچھا، تب مجھے پتا چلا کہ تم گزرے دنوں یونی نہیں آئی۔”
“معاذ نے؟ اُس نے بھلا میرا کیوں پوچھا؟”
“وہ سوتیلا بھائی جو ہے تمہارا،” انوشے نے ہنستے ہوئے کہا۔
“وہ میرا کوئی بھی بھائی نہیں ہے!” علماء نے بری طرح منہ بنا کر چڑتے ہوئے کہا۔
“بھائی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟” انوشے نے شرارت سے ابرو اچکا کر علماء کے بالکل پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“وہ کچھ بھی نہیں ہے!” علماء نے جھنجھلا کر اپنا رخ موڑا اور بیڈ پر رکھے ایک کشن کو گود میں سمیٹ لیا۔ “تم بس اس اکھڑ مزاج کا نام لینا بند کرو۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ اسے میری غیر حاضری کا پتا چل گیا اور میری سب سے پکی سہیلی کو ہوش ہی نہیں تھا!”
علماء نے اپنی کڑواہٹ اور شکایت کو ایک بار پھر زبان دے ہی دی۔

“یار، تمہیں کیا بتاؤں؟ وہ بھی کہ شادی کی وجہ سے بہت مصروف تھی۔ وہ تو بس ایک دو بار زارا سے بات ہوئی، کچھ کام تھا، اس لیے۔”زارا کا نام سنتے ہی علماء کے چہرے پر مدھم سی اداسی آئی۔
“اور تم دیکھو، علماء، مجھے جیسے ہی پتا چلا، میں آ گئی تمہارے پاس۔ ویسے یہ بتاؤ، کل یونی آؤ گی؟” انوشے نے پوچھا۔
“ہاں، آؤں گی۔ ابھی طبیعت ٹھیک ہے اور چھٹیاں بھی زیادہ کرنا مناسب نہیں۔””اچھا، پھر ٹھیک ہے۔ کل ہم یونی میں ملتے ہیں۔ ابھی میں چلتی ہوں، ورنہ امی نے تو میرا کام بنا دینا ہے، پوچھ پوچھ کے کہ اتنی لیٹ کیوں ہو گئی۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء نے آج ہلکے نیلے رنگ کا کُرتا پہنا تھا۔ چار پانچ دن بعد یونیورسٹی آنے کی وجہ سے اس کے دل میں ایک عجیب سی جھنجھلاہٹ اور ہچکچاہٹ تھی۔
جیسے ہی علماء نے کلاس روم کے بڑے لکڑی کے دروازے کو دھکیلا اور اندر داخل ہوئی۔
“السلام علیکم!” علماء نے نرمی سے کہا۔
“وعلیکم السلام! شکر ہے، مہرانی جی، آپ تشریف لے آئیں، ورنہ مجھے تو لگا تھا آج بھی مجھے اکیلے ہی پروفیسر رحمان کا لیکچر جھیلنا پڑے گا،” انوشے نے لاڈ سے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا، جس پر زارا بھی ہنس پڑی۔”ویلکم بیک، علماء! اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟” زارا نے بھی گرمجوشی سے پوچھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں، زارا۔ تھینک یو،” علماء نے مسکرا کر جواب دیا اور اپنا رجسٹر ڈیسک پر نکال کر رکھنے لگی۔
“اچھا سنو، تم سب! اب ہم پروجیکٹ پر کام کریں گے۔ پوری ڈسکشن ہم لائبریری میں کریں گے۔” علماء نے چاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
“ویسے علماء، کل میں نے اور زارا نے پروجیکٹ کے بارے میں ڈسکس کیا تھا اور معاذ اور دانیال کو بھی بتایا تھا،” انوشے نے کہا۔
“تم لوگوں نے پہلے ہی پلان بنا لیا میرے بغیر؟”
“تم نہیں تھی تو ہم نے سوچا، ہم ڈسکس کر لیتے ہیں اور جو پلان بنے گا تمہیں بتا دیں گے۔”علماء کو برا لگا تھا۔
“پھر بھی، انوشے! کم از کم میرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ ہم ساتھ میں ہوتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ اگر یہ سب یہ چیز کرتے تو مجھے برا نہیں لگتا، پر تم بھی ان کے ساتھ تھی۔ کم از کم تمہیں تو سوچنا چاہیے تھا نا کہ میرا انتظار کر لیں۔ میں ہمیشہ کے لیے تو نہیں چلی گئی تھی نا۔”
“یار، علماء! کیا ہوا اگر تمہارے بنا ہم نے ڈسکس کر لیا؟ تمہیں بتا تو رہے ہیں نا۔” انوشے نے اُس کی بات ٹالتے ہوئے کہا۔
“یہ بتانے میں اور ساتھ میں کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔”
“علماء، اور اب تم بات کو بڑھا رہی ہو۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔”
“ہاں، تمہارے لیے یہ بڑی بات نہیں ہے، پر میرے لیے ہے۔ کیونکہ جب ایک گروپ بنتا ہے تو ہر ایک ممبر ضروری ہوتا ہے اور ہمیں ہر ایک کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ ایک نہیں آیا تو اُس کے بغیر چیز کر لی۔ ہاں، اگر میں دو ہفتے، تین ہفتے نہیں آتی تو وہ الگ بات تھی۔ اور میں تو تمہاری بیسٹ فرینڈ تھی نا؟ تم تو میرے ساتھ ہی ہر چیز ڈسکس کرتی تھی اور میرے بنا تم نے کبھی یہ چیز نہیں کیا۔” علماء نے اسے شکایت کی۔
“وہ زارا تھی نا، تو ہم نے ساتھ میں کرلیا۔ اور تم ہمارا پلان سنو گی تو تمہیں بھی ضرور اچھا لگے گا۔”
علماء خاموش ہو گئی۔کچھ دیر بعد اب لائبریری گئے ہوئے تھے۔ وہاں ایک طرف زارا اور انوشے کچھ بکس دیکھ رہی تھیں اور علماء پاس میں ہی ایک سائیڈ پر کھڑی تھی۔ اُسی وقت معاذ علماء کے پاس آیا اور بات کرنے لگا۔
“علماء، سنو۔”
“ہاں، بولو۔”
“کیا ہوا ہے تمھیں؟” معاذ نے سوال کیا۔
“تم سے مطلب، کچھ بھی ہوا ہو۔”
“اچھا، یہ بتاؤ طبیعت کیسی ہے؟”
“پتہ نہیں۔” علماء نے سپاٹ سے جواب دیا تھا۔
“یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہو؟ اُن کے پاس کیوں نہیں کھڑی؟”
“میرا دل چاہ رہا تھا میں یہیں کھڑی رہوں۔ اور تمھیں کیا؟ میں کچھ بھی کروں۔”
“میں نے تو بس ایسے ہی پوچھا، تم اُداس لگ رہی تھی۔”
“اگر میں اُداس بھی رہوں تو تمھیں کیا فرق پڑتا؟ جس کو پڑنا چاہیے، فرق اُسے تو پڑ ہی نہیں رہا۔”
“پڑتا ہے فرق۔” معاذ نے آہستہ سے کہا۔
“کیا؟” علماء نے سوال کیا۔
“کچھ نہیں۔ اچھا، ٹھیک ہے۔ اگر میرا پوچھنا تمھیں برا لگا تو معذرت۔ میرا ارادہ تمھیں ہرٹ کرنے کا نہیں تھا۔”
معاذ کے معذرت کرنے سے علماء کو اندازہ ہوا کہ وہ دوسرے کا غصہ اُس پر نکال رہی تھی۔
“آئی ایم سوری، معاذ۔” علماء نے معاذ سے کہا۔ “دراصل میں پریشان تھی اور ہر چیز کا غصہ تم پر نکال دیا۔ معذرت، غلطی تو میری تھی۔ مجھے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔”
معاذ شاہ نے جب علماء کے لبوں سے یہ اعتراف سنا، تو اس کے لبوں پر ایک بے حد پیاری، دھیمی سی مسکراہٹ ابھر آئی، جو اس نے علماء سے چھپانے کے لیے اپنا سر جھکا دیا۔
اب یونیورسٹی کا آف ٹائم ہو گیا۔ اسٹوڈنٹس اپنے بیگز سنبھالے تیزی سے کوریڈورز سے باہر نکل رہے تھے۔ علماء نے اپنا رجسٹر بیگ میں ڈالا، اس کا دل انوشے کی باتوں کی وجہ سے اب بھی تھوڑا بھاری تھا، لیکن معاذ سے معافی مانگنے کے بعد اس کے اندر کی جھنجھلاہٹ کافی حد تک کم ہو چکی تھی۔ وہ انوشے اور زارا کو بس ایک رسمی سا خدا حافظ کہہ کر تیز قدموں سے یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔

وہ رکشے کا انتظار کر رہی تھی کہ سامنے اُسے ایک کالی رنگ کی کار دکھائی دی۔ ایک نوجوان گاڑی سے نکلا، جس نے معمولی سی سیاہ رنگ کی شرٹ اور بلیو جینز پہن رکھی تھی۔ وہ اُس کی طرف ہی آ رہا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں تھا، وہ حارث تھا۔
“حارث بھائی، آپ بھی یہاں؟”
“ہاں، وہ میں تمھارے گھر ہی جا رہا تھا تو سوچا تمھارے گھر جانا ہے تو تمھارے ساتھ ہی جایا جائے۔ اس لیے تمہارا یہیں انتظار کر رہا تھا۔”
“ویسے سچ کہوں تو میں بہت خوش ہوں کہ آپ مجھے لینے آئے۔ آج ویسے ہی میرا موڈ آف تھا۔”
“کیوں بھئی؟ تمھارا موڈ کیوں آف تھا؟”
“چھوڑیں اس بات کو اور چلیں نا، ہم گھر چلتے ہیں۔ ویسے ہی بہت دھوپ ہے۔”
“اچھا، یہ بتاؤ، آئس کریم کھاؤ گی؟” حارث نے جیسے آفر کی تھی۔
“نیکی اور پوچھ پوچھ؟” علماء نے مسکرا کر کہا۔ “آئس کریم اور میں نہ کھاؤں؟ ایسا ہو سکتا ہے بھلا؟” علماء مسکرا کر کہہ رہی تھی۔
دانیال اور معاذ علماء سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ معاذ علماء کو دیکھ رہا تھا۔ معاذ نے آج تک علماء کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا، مگر آج وہ اس لڑکے کے سامنے بہت خوش تھی۔ معاذ کو یہ جاننے کا تجسس ہو رہا تھا کہ یہ شخص کون ہے۔

اُسی پل زارا اور انوشے بھی گیٹ کے پاس پہنچیں۔ تبھی معاذ نے انوشے سے پوچھا، “انوشے، سنو۔”
“ہاں، کیا ہوا؟”
“تم سے کچھ پوچھنا تھا۔”
“پوچھو۔”
“وہ دیکھو، علماء جس کے ساتھ جا رہی ہے، وہ کون ہے؟”
“اچھا، وہ؟ وہ تو حارث بھائی ہیں، علماء کے کزن۔ لیکن تمھیں ایک چیز بتاؤں، مجھے نہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ علماء سے محبت کرتے ہیں۔”
“محبت؟” معاذ کو لگا کہ اس نے غلط سنا ہے۔
“ہاں، محبت۔ بہت خیال رکھتے ہیں وہ علماء کا۔”
نہ جانے کیوں، مگر یہ سن کے معاذ کو بالکل اچھا نہیں لگا۔ گلا سوکھ چکا تھا، جیسے دل پر ایک زخم لگا ہو، جس کی تپش اس کے پورے وجود میں پھیل رہی تھی۔
“اچھا، ٹھیک ہے۔ میں چلتی ہوں، بھائی آگے لینے۔” انوشے یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔

معاذ وہیں اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہا۔ اس کی نظریں اب بھی اسی سڑک پر جمی تھیں جہاں حارث کی گاڑی اب دھیرے دھیرے دور ہو رہی تھی۔
“تمھیں کیا ہوا، معاذ؟” دانیال نے معاذ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں ہوا ہے یار، سب ٹھیک ہے۔”
“پسند کرتے ہو علماء کو؟” دانیال نے صاف لفظوں میں پوچھا۔
“نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ وہ تو بس ایسے ہی۔۔۔”
“لگ رہا ہے کہ پسند کرتے ہو۔ جس طرح تم اُسے دیکھتے ہو اور جس طرح تم ابھی سوال کر رہے تھے علماء اور اس لڑکے کے بارے میں، اور وہ بات کہ وہ اُس کا کزن ہے اور شاید محبت بھی کرتا ہے، یہ سنتے ہی تمہارا چہرہ اُداس ہو گیا تھا۔”

“نہیں، ایسی بات نہیں۔ تمھیں غلط لگ رہا ہے۔” یہ کہتے ہوئے معاذ وہاں سے چلا گیا۔
حارث نے گاڑی سامنے روکی۔ اس نے علماء کی پسند کی ونیلا آئس کریم لی اور دونوں گاڑی کے اندر ہی بیٹھ کر خاموشی سے کھانے لگے۔ علماء کا موڈ اب کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا اور وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔
حارث نے گاڑی دوبارہ حویلی کے راستے پر ڈال دی۔ جیسے ہی گاڑی مین روڈ سے ہٹ کر ایک پُرسکون، درختوں سے گھری سڑک پر آئی، علماء نے آئس کریم کا آخری چمچ منہ میں رکھتے ہوئے حارث کی طرف رخ کیا، اس کی آنکھوں میں ایک معصوم سا تجسس تھا۔
“ویسے حارث بھائی…” علماء نے سیٹ پر تھوڑا سیدھا ہوتے ہوئے پوچھا۔ “آپ پورے ایک سال انڈیا میں رہ کر آئے ہیں، پر آپ نے مجھے کبھی یہ نہیں بتایا کہ انڈیا اصل میں کیسا ہے؟ وہاں کا ماحول، وہاں کے لوگ… خصوصاً دہلی کیسا ہے؟”
حارث نے علماء کے اِس اچانک سوال پر مسکرا کر اسے دیکھا۔
“دہلی… دہلی صرف ایک شہر نہیں ہے، علماء، وہ ایک زندہ تاریخ ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے یہاں کاٹھمنڈو کے کچھ پرانے علاقوں میں ہے۔”
“سچ میں؟” علماء نے دلچسپی سے پوچھا۔
“ہاں!” حارث کے لہجے میں دہلی کے لیے ایک واضح ستائش تھی۔ “لیکن پتا ہے علماء، دہلی میں رہتے ہوئے مجھے ہر روز ایک اور شہر بہت یاد آتا تھا۔۔۔”
“کون سا شہر؟” علماء نے پوچھا۔
“لاہور…” حارث نے دھیمی اور گہری آواز میں کہا۔ “انڈیا میں میرے جتنے بھی دوست بنے، وہ ہمیشہ کہتے تھے، دہلی اگر دل ہے تو لاہور اس دل کی دھڑکن ہے۔”
“لاہور اور دہلی کا کنکشن؟”علماء نے حیرت سے دہرایا، اس کی آئس کریم اب ختم ہو چکی تھی اور وہ پوری طرح حارث کی باتوں میں کھو گئی تھی۔

“ہاں علماء، یہ دونوں شہر ایک دوسرے کا عکس ہیں، بالکل کسی آئینے کے دو حصوں کی طرح،” حارث نے مسکراتے ہوئے گاڑی کو ایک پرسکون سڑک پر آگے بڑھایا۔ “پتا ہے، تاریخ نے 1947 میں ایک لکیر کھینچ کر ان دونوں کو الگ تو کر دیا، لیکن یہ شہر اپنی روح نہیں بدل پائے۔ دہلی کی سب سے مشہور جگہ لال قلعہ (Red Fort) کا جو مین گیٹ ہے، اسے ‘لاہوری گیٹ’ کہتے ہیں کیونکہ وہ راستہ لاہور کی طرف جاتا تھا۔ اور بالکل اسی طرح، جب تم پرانے لاہور جاؤ گی، تو وہاں کے سب سے بڑے اور تاریخی دروازے کا نام ‘دہلی گیٹ’ ہے۔ یہ دونوں دروازے صدیوں سے ایک دوسرے کا نام لیے کھڑے ہیں، جیسے ایک دوسرے کو پکار رہے ہوں۔”

“ارے واہ! مجھے تو یہ پتا ہی نہیں تھا،” علماء نے دنگ رہ کر کہا۔

“صرف یہی نہیں علماء، وہاں کے لوگوں کا موازنہ دیکھو،” حارث کے لہجے میں دہلی کے دنوں کی یادیں تازہ ہو رہی تھیں۔ “دہلی کی شاہ جہاں کی بنائی ہوئی ‘جامع مسجد’ دیکھو اور لاہور کی ‘بادشاہی مسجد’… دونوں کا جلال، لال پتھر اور سفید گنبد بالکل ایک جیسے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات وہاں کی ‘تہذیب’ اور زبان ہے۔ دہلی میں اردو کا جنم ہوا تھا۔ وہاں آج بھی جب پرانے لوگ بات کرتے ہیں، تو ان کے لہجے میں وہی ‘آپ اور جناب’ کا ادب ہوتا ہے۔ جب بٹوارا ہوا، تو دہلی کے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے لاہور آ کر بس گئے، اور لاہور کے ہندو اور سکھ دہلی چلے گئے۔ یعنی دہلی کا ایک بڑا حصہ اب لاہور میں دھڑکتا ہے، اور لاہور کی روح دہلی کی گلیوں میں بستی ہے۔”

باتیں کرتے کرتے نہ جانے کب گھر آ گیا، انہیں پتا بھی نہیں چلا۔”اچھا، اب گھر آ گیا ہے تو اب آپ یہ چیز کبھی اور بتا دینا۔””ہاں، ٹھیک ہے۔ تم جاؤ اندر اور ہاں، ایمن کو بھیج دو۔ اسی کے لیے یہاں آیا تھا۔”
“ٹھیک ہے، میں بھیجتی ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے علماء اندر چلی گئی اور جاتے ہی کہا، “ایمن، حارث بھائی تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”
اور یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
*********************
اگلی صبح یونی کے لیے علماء لیٹ ہو چکی تھی۔ جب وہ کلاس میں پہنچی تو اس نے دیکھا پروفیسر رحمان کلاس روم میں پہلے سے تھے اور بچوں کو کچھ بتا رہے تھے۔ وہ اجازت لے کر کلاس کے اندر بیٹھ گئی۔
پروفیسر نے سنجیدہ لہجے میں کہا، “ایک ضروری اناؤنسمنٹ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے سمسٹر کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جو بزنس کمیونیکیشن کا پروجیکٹ آپ کو دو ہفتے بعد جمع کروانا تھا… اب اس کی فائنل ڈیڈ لائن اگلے تین دن میں ہے!”
“کیا؟!”

پوری کلاس میں جیسے ایک دم ہنگامہ مچ گیا۔ اسٹوڈنٹس ایک دوسرے کی طرف صدمے سے دیکھنے لگے۔ تین دن میں اتنا بڑا پروجیکٹ اور مارکیٹ ریسرچ مکمل کرنا تقریباً ناممکن تھا۔

پروفیسر نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کروایا۔ “تین دن بعد جس گروپ کا پروجیکٹ میرے ڈیسک پر نہیں ہوگا، اسے اس سمسٹر میں فیل کر دیا جائے گا۔ آپ لوگ جا سکتے ہیں، اور جا کر اپنے گروپس کے ساتھ کام شروع کریں۔”
پروفیسر کے جاتے ہی کلاس میں ایک افرا تفری مچ گئی۔
سب لوگ اپنے اپنے گروپ کے ممبرز کو دیکھ رہے تھے۔
“یار! اب کیا کریں گے؟ تین دن میں پروجیکٹ کیسے بنے گا؟” انوشے نے گھبرا کر کہا۔
“ہمیں روزانہ کلاس کے بعد لائبریری میں گھنٹوں بیٹھنا پڑے گا، اور رات کو بھی آن لائن کنیکٹ رہنا ہوگا،” دانیال نے معاذ اور علماء کو دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ دو دن پورے گروپ کے لیے کسی طوفان سے کم نہیں تھے۔ پانچوں اسٹوڈنٹس صبح سے لے کر دیر شام تک یونیورسٹی کی لائبریری کے ایک کونے میں سر جوڑے بیٹھے رہتے تھے۔ نوٹس بنانا، لائیو ڈیٹا اکٹھا کرنا، اور پریزنٹیشن سلائیڈز تیار کرنا—سب اتنے مصروف تھے کہ کسی کو سانس لینے کی بھی فرصت نہیں تھی۔
اور اسی جلدی اور بھاگ دوڑ کے بیچ، علماء کی زندگی میں ایک خاموش تبدیلی آ رہی تھی۔
پہلی بار علماء معاذ شاہ کو اتنے قریب سے اور ایک بالکل الگ روپ میں دیکھ رہی تھی۔ معاذ گروپ کا سب سے سمجھدار اور فوکسڈ ممبر ثابت ہو رہا تھا۔ جب باقی سب تھک کر ہار مان جاتے، تو معاذ بالکل پرسکون انداز میں چائے کے کپ اپنے ہاتھ میں لیے آتا اور سب کا حوصلہ بڑھاتا۔
علماء نے نوٹس کیا کہ معاذ جتنا باہر سے سخت اور اکھڑ دکھتا تھا، اندر سے وہ اتنا ہی ذمہ دار اور خیال رکھنے والا انسان تھا۔
کام کے دوران جب علماء کسی پوائنٹ پر الجھ جاتی، تو معاذ بغیر کسی طنز کے، بہت دھیمے اور گہرے لہجے میں اس کے پاس بیٹھ کر اسے سمجھاتا۔ اس کے بولنے کا انداز، اس کی کلف لگی آستینوں کو اوپر چڑھانے کا طریقہ نہ جانے کیوں اپنے سحر میں جکڑ رہی تھیں۔
“چلو بھئی لوگو! فائنل پروجیکٹ تیار ہے۔”
بالکل اسی لمحے دانیال، انوشے اور زارا چائے کے کپ ہاتھ میں لیے واپس میز کے پاس آ پہنچے اور لائبریری کا وہ خاموش سحر ایک پل میں ٹوٹ گیا۔

“شکر ہے خدا کا! اب کل ہم اسے آرام سے پروفیسر رحمان کے ڈیسک پر رکھ سکتے ہیں،” انوشے نے راحت کی سانس لیتے ہوئے کہا۔
علماء نے مسکرا کر حامی بھری۔
اگلے دن صبح پوری کلاس میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ ہر کسی کی نظریں پروفیسر رحمان کے ڈیسک پر تھیں، جہاں ایک ایک کر کے گروپس اپنے پروجیکٹس جمع کروا رہے تھے۔علماء، فائل سنبھال کر رکھنا،انوشے نے فائل کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا۔
“اتنی بھی نازک نہیں ہے جتنی تم بنا رہی ہو،” علماء نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
“تمہیں کیا پتا! تین راتوں کی نیند قربان کی ہے ہم نے اس کے لیے۔”
“تم نے نیند قربان نہیں کی، موبائل قربان کیا تھا۔”
علماء کے کہتے ہی دانیال ہنس پڑا۔
“یہ بات بالکل درست ہے۔ کل رات تین بجے تک محترمہ آن لائن تھیں۔”
“دانیال! تم میری جاسوسی کرتے ہو؟”
“جاسوسی نہیں، گروپ چیٹ میں سب دیکھ رہے تھے۔”
اسی دوران معاذ نے ان کے ہاتھ سے فائل لے لی۔
“میں جمع کروا دیتا ہوں۔”
علماء نے چونک کر اسے دیکھا۔
“نہیں، میں کر دوں گی۔”
“آپ کو ابھی دو اور فائلیں سنبھالنی ہیں۔”
معاذ نے سادہ لہجے میں کہا اور فائل لے کر پروفیسر کے ڈیسک کی طرف بڑھ گیا۔
علماء کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی۔
“کیا ہوا؟”
انوشے نے اس کے کندھے سے کندھا ملاتے ہوئے سرگوشی کی۔
“کچھ نہیں۔”
“پھر اتنی غور سے کیوں دیکھ رہی ہو؟”
“میں اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔”
“اچھا؟”
انوشے نے معنی خیز انداز میں بھنویں اٹھائیں۔
“ہاں!”
علماء نے فوراً نظریں دوسری طرف کر لیں۔
کچھ ہی دیر بعد پروفیسر رحمان نے تمام گروپس کی فائلیں دیکھیں اور آخرکار ان کے گروپ کی طرف متوجہ ہوئے۔
“گڈ ورک، everyone۔ خاص طور پر مارکیٹ ریسرچ کافی اچھی ہے۔”
سب کے چہروں پر سکون پھیل گیا۔
دانیال نے فوراً دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے۔
“الحمدللہ! اب میں زندہ رہ سکتا ہوں۔”
“تم ایسے بول رہے ہو جیسے پروجیکٹ نہیں، جنگ جیتی ہو،” زارا نے ہنستے ہوئے کہا۔
“میرے لیے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔”
سب ہنس پڑے۔
پروفیسر رحمان نے فائل ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی عینک اتاری اور سب کی طرف دیکھا۔
“اچھا، چونکہ آپ لوگوں نے اپنا پروجیکٹ وقت پر مکمل کر لیا ہے، تو اگلے ہفتے سے ہم پریزنٹیشنز شروع کریں گے۔ ہر گروپ کو پندرہ منٹ دیے جائیں گے۔”
“سر، پندرہ منٹ؟” دانیال نے فوراً ہاتھ کھڑا کر دیا۔
پروفیسر رحمان نے اسے دیکھا۔
“جی؟”
“سر، اگر ہماری پریزنٹیشن پندرہ منٹ سے پہلے ختم ہو گئی تو؟”
“تو آپ بیٹھ جائیں گے۔”
پوری کلاس میں ہنسی پھیل گئی۔
دانیال نے سنجیدہ شکل بنائی۔
“سر، میرا مطلب تھا کہ اگر پندرہ منٹ میں ہماری قابلیت ختم ہو گئی تو؟”
“وہ تو آپ کی پریزنٹیشن شروع ہونے کے پانچ منٹ بعد ہی پتا چل جائے گا۔”
اس بار معاذ بھی اپنی ہنسی نہیں روک سکا۔
دانیال نے اسے گھور کر دیکھا۔
“تم بھی ہنس رہے ہو؟”
“ہاں۔”
“دوست ہو یا دشمن؟”
“فی الحال فیصلہ نہیں کیا۔”
زارا نے فوراً کہا، “دانیال، تمہاری قسمت ہی خراب ہے۔”
“میری قسمت نہیں، میری کلاس خراب ہے۔”
“مجھے کیا پتا تھا یہاں اتنے ظالم لوگ ملیں گے۔”
علماء بے اختیار مسکرا دی۔
معاذ کی نظر ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پر پڑی۔
وہ مسکرا رہی تھی۔
بہت ہلکی سی، مگر اس کے چہرے پر پہلی بار وہ سختی نہیں تھی جو معاذ نے اسے پہلی ملاقات میں دیکھی تھی۔
“مس صدیقی۔”
پروفیسر رحمان کی آواز پر علماء فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“جی سر؟”
“آپ کے گروپ کی پریزنٹیشن اگلے ہفتے کی پہلی پریزنٹیشن ہوگی۔”
علماء کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
“پہلی؟”
“جی۔ کوئی اعتراض؟”
“نہیں سر۔”
اس نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
پروفیسر رحمان نے مزید چند ضروری ہدایات دیں اور پھر کلاس ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
طلبہ اپنی اپنی چیزیں سمیٹنے لگے۔
انوشے نے فوراً علماء کی طرف دیکھا۔
“بس! اب تو تیاری شروع کرنی پڑے گی۔”
“ہاں، لیکن ابھی سے کیوں پریشان ہو رہی ہو؟ ایک ہفتہ ہے ہمارے پاس۔”
“ایک ہفتہ؟” دانیال نے پیچھے سے آواز لگائی۔ “میرے لیے تو یہ صرف سات دن ہیں، اور سات دن بہت کم ہوتے ہیں۔”
معاذ نے اپنی کتابیں بیگ میں رکھتے ہوئے کہا، “آج کون کون لائبریری جا رہا ہے؟”
علماء نے فوراً سر اٹھایا۔
.آج؟”
معاذ نے اس کی طرف دیکھا۔
“ہاں۔ بہتر ہے کام پہلے تقسیم کر لیں۔”
انوشے نے علماء کی طرف دیکھا، پھر معاذ کی طرف۔
“مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں۔”
کچھ دیر بعد چاروں لائبریری پہنچ چکے تھے زارا کو کسی کام کی وجہ سے اپنے گھر جانا پڑ گیا تھا۔
چاروں ایک کونے والی میز پر جا کر بیٹھ گئے۔ اردگرد مکمل خاموشی تھی، صرف کبھی کبھار کسی کتاب کے صفحات پلٹنے کی آواز آتی۔
معاذ نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔
“اچھا، سب سے پہلے یہ طے کرتے ہیں کہ پریزنٹیشن کا ٹاپک کون سا حصہ کس کے پاس ہوگا۔”
دانیال نے کرسی پیچھے کرتے ہوئے کہا، “میں انٹروڈکشن کر لیتا ہوں۔ بس زیادہ لمبی نہیں ہونی چاہیے، ورنہ پروفیسر صاحب پہلی سلائیڈ پر ہی ہمیں واپس بھیج دیں گے۔”
انوشے ہنس پڑی۔
“تمہاری انٹروڈکشن لمبی نہیں ہوگی، یہ معجزہ ہوگا۔”
“دیکھا؟ ابھی سے میری صلاحیتوں پر شک کیا جا رہا ہے۔”
معاذ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
“تم دونوں بحث بعد میں کرنا۔”
علماء خاموشی سے نوٹس دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے ایک صفحہ آگے کیا۔
“یہ حصہ میں کر لیتی ہوں۔ اس میں ریسرچ زیادہ ہے، تو میں آج ہی کچھ مواد نکال لوں گی۔”
معاذ نے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے۔ پھر میں ڈیٹا اور مین پوائنٹس دیکھ لیتا ہوں۔ انوشے، تم پریزنٹیشن کی سلائیڈز سنبھال لینا۔”
“اور دانیال؟”
انوشے نے جان بوجھ کر پوچھا۔
دانیال نے فوراً سینہ پھلا لیا۔
“میں ٹیم کا مورال بلند رکھوں گا۔”
علماء بے اختیار ہنس پڑی۔
“یعنی کام نہیں کرو گے؟”
“میں نے ایسا کب کہا؟”
کچھ دیر تک چاروں اسی طرح کام میں مصروف رہے۔ پھر جب ضروری مواد کافی حد تک جمع ہو گیا تو معاذ نے لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
“بس، آج کے لیے اتنا کافی ہے۔ باقی کل کر لیں گے۔”
انوشے نے لمبی سانس لی۔
“آخرکار۔ مجھے لگا تھا آج ہم لائبریری میں ہی رہ جائیں گے۔”
دانیال نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
“ویسے کافی دیر ہو گئی ہے۔”
علماء نے اپنے نوٹس سمیٹتے ہوئے کہا، “وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔”
چند لمحوں کے لیے سب خاموش بیٹھے رہے۔
پھر دانیال نے اچانک کہا، “ایک بات پوچھوں؟”
معاذ نے اسے دیکھا۔
“پوچھو۔”
دانیال نے علماء اور انوشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“یار، تم لوگ بتاؤ… یہ لڑکیاں اتنا روٹھتی کیوں ہیں؟”
انوشے نے فوراً اسے گھورا، پھر ہنستے ہوئے بولی،
“کیوں؟ تمہیں جلن ہو رہی ہے اُن کے روٹھنے سے؟ چاہو تو تم مرد بھی روٹھ سکتے ہو۔”
“ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔”
معاذ اور دانیال نے ایک ساتھ کہا۔
انوشے ہنس پڑی۔کیوں بھئی؟ مردوں کو روٹھنے کا حق نہیں؟”
علماء جو اب تک خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھی، اچانک بول اٹھی،
“کیوں نہیں؟”
سب کی نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔
علماء نے ایک لمحے کے لیے سب کو دیکھا، پھر بہت سکون سے بولی،
“بلکہ دیکھا جائے تو دنیا میں سب سے خوبصورت چیز تو یہ لگتی ہے جب مرد روٹھے اور عورت اسے منائے، اس کے لیے ایفَرٹس کرے۔”دانیال کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
علماء نے بات جاری رکھی،
“کیونکہ عورت روٹھتی ہی ہے، عورت کو تو روٹھنے کا حق حاصل ہے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکی۔
“پر مرد کو بھی تو تھوڑا سا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہیں بھی تو کوئی ایسا چاہیے جو انہیں سمجھے، منائے، محبت کرے۔”
اس کی آواز میں اب پہلے جیسی شوخی نہیں تھی۔
مرد تو اسیرِ محبت ہوتے ہیں۔ انہیں بس اپنی عورت سے محبت چاہیے ہوتی ہے۔”
چند لمحوں کے لیے وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔
معاذ کی نظریں علماء پر ٹھہر گئی تھیں۔
اور علماء کو شاید اس بات کا احساس بھی نہیں تھا کہ اس کے چند جملے کسی کے دل میں ایک عجیب سا سوال چھوڑ گئے تھے۔۔
ویسے علماء تم وہی مارکیٹ والی ہی لڑکی ہو؟ معاذ نے جیسے حیرانی سے پوچھا ۔
تم اور اتنی گہری بات کر رہی ہو ایسا لگ ہی نہیں رہا کے ہے وہی لڑکی ہے جس سے میں پہلی بار ملا تھا۔
کیوں بری لگ رہی ہوں؟ علماء نے سوال کیا۔
نہیں نہ میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں ۔معاذ نے فوراً وضاحت کی۔
علماء نے اسے دیکھا۔
“تو پھر کیا مطلب تھا؟”
معاذ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔۔اور کہا کچھ نہیں۔
کچھ ہی دیر بعد وہ چاروں لائبریری سے باہر نکل آئے۔ باہر شام کا دھندلاکا پھیل رہا تھا۔چلو بھئی، اب گھر نکلتے ہیں، کل کلاس میں ملیں گے،” دانیال اور انوشے نے خدا حافظ کہا اور اپنے اپنے راستے پر بڑھ گئے۔
علماء نے سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر رکشے کا انتظار کرنا شروع کیا، اسی لمحے، اس کا موبائل فون بج اٹھا۔ اس نے پرس سے فون نکالا، اسکرین پر ‘حارث بھائی’ کا نام چمک رہا تھا۔
“السلام علیکم حارث بھائی!” علماء نے سڑک کے کنارے رکشوں کو دیکھتے ہوئے فون کان سے لگا کر کہا۔”وعلیکم السلام علماء! کدھر ہو تم اس وقت؟
بس بھائی، ابھی ابھی لائبریری سے فری ہوئی ہوں، کالج کے باہر کھڑی رکشے کا انتظار کر رہی ہوں
اچھا، وہیں رکی رہو، میں آ رہا ہوں!” حارث نے فوراً کہا۔
“میں اسی روڈ کے پاس کسی کام سے آیا تھا، بس پانچ منٹ میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں۔”
“ٹھیک ہے، میں گیٹ کے پاس ہی کھڑی ہوں،” علماء نے یہ کہہ کر فون پرس میں رکھ لیا۔ٹھیک پانچ منٹ بعد حارث کی سفید گاڑی گیٹ کے سامنے آ کر رکی۔ علماء مسکرا کر آگے بڑھی اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ گاڑی کے اندر چلتے ہیٹر کی گرمائش نے اسے باہر کی سرد ہوا سے ایک دم سکون دیا۔
“شکر ہے آپ آ گئے حارث بھائی، ورنہ اس وقت رکشہ ملنا بہت مشکل ہو رہا تھا،
حارث نے گاڑی کو مین روڈ پر ڈالتے ہوئے مسکرا کر اسے دیکھا۔ “چلو، اچھا ہوا میں وقت پر پہنچ گیا۔ ویسے علماء… آج ہم حویلی نہیں جا رہے،”ارے واہ! یہ تو بہت اچھا ہو گیا، ایمن بھی گھر پر ہی ہوگی نا؟” علماء نے چمکتی آنکھوں سے پوچھا۔
“ہاں، وہ صبح سے امی کے ساتھ مل کر کچن میں لگی ہوئی ہے۔” حارث نے مسکراتے ہوئے گاڑی کی رفتار ذرا بڑھا دی۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی حارث کے گھر کے سامنے جا کر رکی۔
لاؤنج میں سعدیہ بیگم، چاچا جان اور حارث کی امی صوفے پر بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ علماء نے سب کو سلام کیا اور پھر ایمن کے ساتھ بیٹھ گئی۔
کچھ ہی دیر بعد کھانے کے لیے سب میز کے گرد جمع ہو گئے۔
میز پر مٹن چھوئلا، مٹر پلاؤ، سلاد اور کئی دوسری چیزیں سجی ہوئی تھیں۔ کھانے کے ساتھ ساتھ باتوں اور قہقہوں کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔
حارث حسبِ معمول سب کو ہنسانے میں مصروف تھا، کبھی ایمن کو چھیڑتا اور کبھی علماء کی کسی بات پر شرارت سے مسکرا دیتا۔کھانے کے بعد سب دوبارہ لاؤنج میں آ بیٹھے۔ سامنے گرم قہوے کے کپ رکھے تھے اور گفتگو ایک بار پھر شروع ہو گئی۔
کچھ دیر تک عام باتیں ہوتی رہیں، پھر اچانک حارث کی امی نے سعدیہ بیگم کی طرف دیکھا۔
ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر لہجے میں اب پہلے جیسی بے فکری نہیں رہی تھی۔
“سعدیہ۔۔۔ اب بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں۔”
سعدیہ بیگم نے ان کی طرف دیکھا۔
“ہاں، وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔”
چچی جان نے ایک نظر حارث کی طرف ڈالی، پھر علماء کی طرف۔
“حارث بھی انڈیا سے اپنا کام مکمل کر کے واپس آ گیا ہے۔ اب تو اس کا بھی مستقل ارادہ ہے یہیں رہنے کا۔”
حارث کے ہاتھ میں پکڑا قہوے کا کپ وہیں رک گیا۔
وہ خاموش بیٹھا رہا۔
چچی جان نے بات جاری رکھی۔
“میں تو کافی عرصے سے سوچ رہی تھی کہ اب مزید دیر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
سعدیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
“کیا کہنا چاہ رہی ہو؟”
چچی جان مسکرائیں۔
“یہی کہ کیوں نہ حارث اور علماء کے رشتے کی بات پکی کر دی جائے؟”
ایک لمحے کے لیے جیسے پورے لاؤنج کی آوازیں تھم گئیں۔
حارث کی انگلیاں کپ کے گرد ذرا مضبوط ہو گئیں۔
اس نے بے اختیار نظریں اٹھائیں۔
سامنے علماء بیٹھی تھی۔
اس کی آنکھوں میں حیرت تھی، جیسے اسے ابھی تک یقین ہی نہ آیا ہو کہ گفتگو کا رخ اچانک اس کی طرف مڑ گیا ہے۔
چچا جان نے بھی مسکراتے ہوئے کہا،
“ہماری طرف سے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ حارث کی رضامندی بھی ہے، اور ہم علماء کو بچپن سے جانتے ہیں۔ اس سے بہتر رشتہ ہمیں اور کیا چاہیے۔”
حارث نے نظریں جھکا لیں۔
اس کے چہرے پر ایک ایسی خاموش خوشی تھی جسے شاید وہ سب سے چھپانا چاہتا تھا، مگر چھپا نہیں پا رہا تھا۔آج حارث کی دل کی بات کی جا رہی تھی ۔آج علماء صدیقی کو حارث کے نام کی جانے کی بات ہو رہی تھی۔
علماء نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد آہستہ سے نظریں اٹھائیں اور سامنے بیٹھے حارث کو دیکھا۔
حارث بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر علماء کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر نہ سکیں۔
اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
“امی۔۔۔”علماء نے ہلکی سی جھجھک کے ساتھ کہا،
“میں ابھی پڑھ رہی ہوں۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر جیسے اپنے دل کی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی،
“اور۔۔۔ میں نے ابھی اتنی جلدی شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے۔”
لاؤنج میں موجود سب خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔
علماء نے ایک نظر پھر حارث کی طرف ڈالی۔
“اور حارث بھائی کو تو میں نے ہمیشہ بھائی ہی سمجھا ہے۔”
“مجھے کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ۔۔۔”
وہ آگے کچھ نہ کہہ سکی۔
حارث کے چہرے پر موجود مسکراہٹ ایک لمحے کو ٹھہر گئی۔
مگر اس نے نظریں جھکا لیں اور کچھ نہیں کہا۔
اچھا علماء ہم تھوڑی کہہ رہے اسی وقت جواب دو تم کچھ ٹائم لو سوچ لو اچھے سے پھر جواب دے دینا امی نے اُسے تسلّی دی۔
کچھ ہی دیر بعد دعوت اختتام کو پہنچی اور واپسی کا وقت آ گیا۔
رات کافی گزر چکی تھی، اس لیے طے پایا کہ حارث ہی اپنی گاڑی میں چچی جان، یعنی سعدیہ بیگم، اور علماء کو واپس حویلی چھوڑ آئے گا۔
پورے راستے گاڑی میں ایک بوجھل اور گہری خاموشی چھائی رہی۔
علماء نے نظریں کھڑکی سے باہر جما رکھی تھیں، جہاں اندھیری سڑک پر گزرتی روشنیوں کے عکس بار بار شیشے پر ابھر کر مٹ رہے تھے۔ دوسری طرف حارث خاموشی سے اسٹیئرنگ تھامے گاڑی چلا رہا تھا۔ گاڑی کے ہیٹر کی گرمائش بھی دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی اس عجیب سی اجنبیت اور خاموشی کو کم نہیں کر پا رہی تھی۔
تقریباً بیس منٹ بعد گاڑی حویلی کے بڑے لوہے کے گیٹ کے سامنے آ کر رک گئی۔
گاڑی رکتے ہی سعدیہ بیگم نے ایک گہرا سانس لیا اور دروازہ کھولتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا۔
“حارث بیٹا! بہت شکریہ تمہارا۔ رات کافی ہو گئی ہے، تم آرام سے گھر جانا اور پہنچ کر فون کر دینا۔”
“جی چچی جان، آپ فکر نہ کریں۔”سعدیہ بیگم گاڑی سے اتر کر حویلی کے اندرونی دالان کی طرف بڑھ گئیں تاکہ مین ہال کا تالا کھول سکیں۔
علماء نے بھی اپنا بیگ سنبھالا اور جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگی، حارث کی دھیمی اور سنجیدہ آواز نے اس کے قدم وہیں روک دیے۔
“علماء… ایک منٹ رکو۔”اس نے آہستہ سے پلٹ کر دیکھا۔
حارث نے گاڑی کا انجن بند کر دیا تھا۔ اب وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی گہری اداسی اور درد تھا جسے علماء نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“حارث بھائی… رات کافی ہو گئی ہے، امی بھی اندر چلی گئی ہیں”میں جانتا ہوں، علماء۔” حارث نے ایک سرد آہ بھری۔ “میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔”علماء خاموش کھڑی اسے سنتی رہی۔
“تم نے جو کچھ کہا، وہ بالکل سچ ہے، علماء۔ تم نے مجھے ہمیشہ ایک کزن، ایک بھائی کی طرح سمجھا… اور اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔”
حارث کے لبوں پر ایک مدھم سی، مگر بے حد دردناک مسکراہٹ ابھری۔
“لیکن…” وہ ایک لمحے کے لیے رکا، “میرے دل کا حال مختلف تھا۔”
علماء کی پلکیں بے اختیار جھک گئیں۔
“انڈیا میں گزارا ہوا میرا ایک ایک دن تمہارے نام تھا۔”تم میرے دل کی وہ خواہش تھیں، علماء… جسے میں نے برسوں سے اپنے اندر سنبھال کر رکھا تھا۔ میں نے کبھی تم سے کچھ مانگا نہیں، کبھی تم پر اپنی محبت کا بوجھ نہیں ڈالا… بس دل ہی دل میں یہ یقین لیے جیتا رہا کہ شاید ایک دن تم میری محبت کو سمجھ جاؤ گی۔””حارث بھائی…” علماء کی آواز رندھ گئی، “آئی ایم سوری… میں واقعی…””سوری مت کہو۔”
حارث نے نرمی سے اس کی بات کاٹ دی۔
“محبت پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا، علماء۔ نہ تم نے میرے دل میں یہ احساس پیدا کیا، نہ تم اسے ختم کر سکتی ہو۔”
علماء نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔
حارث نے ایک گہری سانس لی اور قدرے سنبھل کر بولا،
“چچی جان نے تمہیں وقت دیا ہے۔ تم آرام سے سوچو۔ میں تمہیں کسی فیصلے کے لیے مجبور نہیں کروں گا
مگر ایک چیز کہنا چاہونگا ۔
ایک دن ویسے بھی تمہاری شادی کسی نہ کسی سے ہونی ہے، علماء…”
وہ ایک پل کو رکا، پھر بہت دھیمی آواز میں بولا،
“تو کیا وہ میں نہیں بن سکتا؟”
علماء کے دل نے ایک دم جیسے دھڑکنا بھول گیا۔
حارث نے فوراً نظریں چرا لیں۔
“آج نہیں… کل نہیں… ٹھیک ہے۔ میں تم سے ابھی کوئی جواب نہیں مانگ رہا۔”
اس کی آواز میں عجیب سی عاجزی اتر آئی تھی۔
“بس اتنا بتا دو کہ کیا کبھی… کسی دن… ہمارے رشتے کی کوئی امید ہو سکتی ہے؟”علماء کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے تھے۔
حارث نے اس کی خاموشی کو دیکھا تو فوراً بولا،
“نہیں، علماء، ابھی جواب مت دو۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔میں آپ کو کوئی جھوٹی امید نہیں دینا چاہتی۔”
حارث نے فوراً سر ہلا دیا۔
“اور میں جھوٹی امید مانگ بھی نہیں رہا۔”
اس نے ایک گہری سانس لی۔
“بس ایک چھوٹا سا امکان مانگ رہا ہوں… کہ شاید کبھی تم مجھے صرف اپنے کزن یا بھائی کی نظر سے نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے دیکھ سکو جو تمہیں اپنی پوری زندگی دینا چاہتا ہے۔”
میں تمھیں اپنا بنا نا چاہتا ہوں ۔
وہ گاڑی سے اتر گئی۔
چند قدم آگے بڑھنے کے بعد نہ جانے کیوں اس کے قدم رک گئے۔
اس نے پلٹ کر حارث کی طرف دیکھا۔
حارث اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
دونوں کی نظریں ایک لمحے کے لیے ملیں۔
پھر علماء نے نظریں جھکا لیں اور تیزی سے حویلی کے اندر چلی گئی۔
************************
ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اس پورے ہفتے علماء نے خود کو حارث سے دور رکھا تھا اور اپنا پورا دھیان پریزنٹیشن کی تیاری پر لگا دیا تھا۔ آج ان کے گروپ کی باری تھی۔
علماء نے آج سفید رنگ کا نفیس سا کُرتا پہن رکھا تھا اور کندھوں پے ایک ہلکا گلابی رنگ کا پشمینہ اوڑھا ہوا تھا۔
“اوکے کلاس!”
پروفیسر رحمان نے رجسٹر بند کرتے ہوئے کہا۔
“آج کی پہلی پریزنٹیشن معاذ اور علماء کے گروپ کی ہے۔ آپ لوگ آ سکتے ہیں۔”
دانیال، انوشے اور زارا اپنی جگہوں سے اٹھ کر آگے بڑھ گئے۔
پریزنٹیشن شروع ہوئی۔
دانیال نے تعارف پیش کیا، انوشے نے سلائیڈز سنبھالیں اور پھر علماء کی باری آ گئی۔
وہ کلاس کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی۔
پہلی سلائیڈ اس کے سامنے تھی۔وہ بولتی چلی گئی۔
ایک سلائیڈ…
پھر دوسری…
پھر تیسری۔
اب اس کے لہجے میں وہی اعتماد واپس آ چکا تھا جو تیاری کے پورے ہفتے میں اس نے حاصل کیا تھا۔
کلاس مکمل خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔
پروفیسر رحمان بھی پوری توجہ کے ساتھ اس کی وضاحتیں سن رہے تھے۔
اور معاذ…
وہ بس اسے دیکھ رہا تھا۔آخرکار آخری سلائیڈ بھی مکمل ہو گئی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پوری کلاس تالیوں سے گونج اٹھی۔
پروفیسر رحمان نے مسکراتے ہوئے کہا،
“Excellent work, علماء. Your explanation was very clear.”
علماء نے شکریہ ادا کیا اور اپنی جگہ واپس آنے لگی۔
مگر راستے میں اس کی نظر ایک بار پھر معاذ سے ملی۔
پریزنٹیشن ختم ہونے کے بعد کلاس آہستہ آہستہ خالی ہونے لگی۔
علماء اپنی فائلیں سمیٹ رہی تھی کہ انوشے اس کے پاس آ گئی۔
“علماء!”
“ہمم؟”
“آج میرے ساتھ مارکیٹ چل رہی ہو۔”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آج؟”
“جی ہاں، آج ہی۔” انوشے نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑنے کے بجائے صرف اس کے سامنے آ کر راستہ روک لیا۔ “مجھے کچھ چیزیں لینی ہیں، اور تمہیں بھی پچھلے کتنے دنوں سے کتابوں اور پریزنٹیشن کے علاوہ کچھ یاد ہی نہیں۔ تھوڑا سا باہر چلو، دماغ بھی فریش ہو جائے گا۔”
علماء نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔
گزشتہ ایک ہفتے سے واقعی اس کی زندگی پڑھائی، پریزنٹیشن اور اپنے الجھے ہوئے خیالات کے گرد ہی گھوم رہی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔”
انوشے نے فوراً مسکرا کر کہا،
“یہ ہوئی نا بات!”
شام کے تقریباً پانچ بج رہے تھے ۔عصر کی اذان ہوئی اُسی پل انوشے کا فون آیا ۔
علماء جلدی باہر آنآ میں باہر ہوں ۔ یار نماز پڑھ لوں پہلے ورنہ امی بہت ڈنٹینگی ۔یار بعد میں پڑھ لینا ایک وقت کی نماز نہیں پڑھنی تو کوئی مسئلہ تھوڑی ہوجائےگا ۔
اچھا میں آتی ہوں ۔علماء نے نماز نہیں پڑھ تھا وہ بن نماز پڑھے انوشے کے ساتھ چلی گئی۔
مارکیٹ ہمیشہ کی طرح لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ کہیں کپڑوں کی دکانوں کے باہر لائٹس جگمگا رہی تھیں، کہیں چوڑیوں کی کھنک سنائی دے رہی تھی. وہ دونوں ایک دکان کی طرف بڑھی ہی تھی کے پیچھے سے ایک آواز آئی ۔
انوشے سنو! وہ زارا تھی۔
زارا جلدی سے دونوں کے قریب آئی ۔تُم دونوں یہاں کُچھ لینا تھا کیا؟
ہاں کچھ سامان لینا تھا علماء نے کہا۔
اچھا ہے تم بھی مل گئی چلو اب ساتھ میں شاپنگ کرینگے انوشے نے جیسے اوفر کی۔
ہاں کیوں نہیں۔
تینوں اپنی شاپنگ میں مصروف ہوگئے ۔
زارا دیکھو یہ دوپٹہ کیسا ہے ۔ انوشے نے زارا سےمخاطب ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔
یاردوپٹہ تو بہت پیارا ہے ۔
روز پنک اور مرون کے ملے جلے شیڈ کا وہ دوپٹہ نہایت نرم اور ہلکے، چمکدار کپڑے کا تھا۔ روشنی پڑنے پر اس کے ریشمی کپڑے میں ہلکی سی چمک ابھر رہی تھی۔ چاروں طرف باریک سنہری زری کی نفیس لیس لگی ہوئی تھی، جس کے کنارے پر ننھی ننھی جھالر اسے مزید دلکش بنا رہی تھیں۔ سادہ ہونے کے باوجود اس دوپٹے میں ایک الگ ہی نزاکت اور خوبصورتی تھی۔
دہ سا دوپٹہ تھا، مگر اس کے رنگوں اور نفاست میں ایسی دلکشی تھی کہ پہلی نظر میں ہی اچھا لگتا تھا۔
انوشے نے دوپٹہ اپنے سامنے پھیلا کر دوبارہ دیکھا۔
“یہ تو میں لے رہی ہوں۔”
ہاں لے لوں تُم پے بہت اچّھا لگے گا ۔
یہ پہلی بار تھا جب انوشے علماء کے ساتھ آئی ہو اور بنا اُسکی پسند کے اور بنا اُس سے پوچھے کوئی چیز خریدی ہو۔ علماء اُسے دیکھ رہی تھی پر لفظ نہیں تھے ۔۔خاموشی تھی دل میں ایک خاموشی ۔۔ دوستی میں جب تیسرا آتا ہے اور ہمیں ہماری ویلیو( value )، کم لگنے لگتی ہے تو رشتے بدلنے لگتے ہے ۔
جب محسوس ہو تا ہے کے ہماری جگہ اب صرف ہماری نہیں رہی وہ جگہ کوئی اور بھی لے سکتا ہے تو ہم اس دوستی میں اس طرح نہیں رہ پاتے جیسے پہلے رہتے تھے جیسے ہر چیز ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے دھیرے دھیرے چیزیں ختم ہونے لگتی ۔یا تو ہم چُپ ہوجاتے ہیں یا سامنے والے کو بار بار بتاتے ہے کے ہمیں اچّھا نہیں لگ رہا تمہارا اُس سے اتنی قریبی ۔رِشتہ چاہئے محبّت کا ہو یا دوستی کا اگر تیسرا آتا ہے تو انسکریٹی بھی آہی جاتی ہے ۔کے ہماری جگہ نہ کے لیے۔
کچھ دیر بعد وہ مارکیٹ میں گھوم ہی رہے تھے تبھی انوشے نے کہا۔چلو، کچھ کھا لیتے ہیں۔ اتنی دیر سے گھوم رہے ہیں، مجھے تو بہت بھوک لگی ہے۔”
زارا فوراً بولی،
“مجھے بھی۔”
“پھر آج تم دونوں کی فرمائش پوری کرتے ہیں۔”
تینوں قریب ہی موجود ایک ریسٹورنٹ میں چلی گئیں۔
ریسٹورنٹ میں شام کے وقت معمول کی نسبت کچھ زیادہ رش تھا۔ ہلکی روشنی، میزوں کے درمیان آہستہ آہستہ چلتے ویٹر اور مختلف میزوں سے آتی گفتگو کی آوازیں ماحول کو مصروف مگر پُرسکون بنا رہی تھیں۔
تینوں ایک کونے والی میز پر بیٹھ گئیں۔
انوشے نے مینو اٹھایا اور زارا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا،
“تم بتاؤ، آج کیا کھانا ہے؟”
زارا نے مینو لینے کے بجائے شرارت سے کہا،
“جو تم کھلاؤ گی۔”
تم دونوں کو دیکھ کے لگ رہا ہے بچپن کی سہیلی ہوئے علماء نے اُن کی بات سنتے ہوئے کہا تھا۔
زارا نے مسکرا کر کہا،
“کیونکہ ہماری وائب ملتی ہے۔”
“بالکل!”
دونوں پھر ہنس پڑیں۔
علماء نے پانی کا گلاس اٹھا لیا۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے اتنی بے چینی کیوں ہو رہی ہے۔
وہ جانتی تھی کہ انوشے کو نئے لوگوں سے گھلنے ملنے میں کبھی وقت نہیں لگتا تھا۔ پھر آج زارا کے ساتھ اس کی دوستی اسے اتنی عجیب کیوں لگ رہی تھی؟
شاید اس لیے کہ اسے پہلی بار اپنی جگہ کسی اور کے ساتھ بانٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
اسی دوران ریسٹورنٹ کے دوسرے حصے میں موجود ایک میز پر بیٹھے معاذ کی نظر اچانک سامنے پڑی۔وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا تھا، مگر علماء کو دیکھ کر اس کی نگاہ چند لمحوں کے لیے وہیں رک گئی۔
وہی علماء۔
وہی خاموش چہرہ، مگر آج معمول سے کچھ مختلف۔
معاذ نے دیکھا کہ انوشے اور زارا آپس میں ہنس رہی تھیں، باتیں کر رہی تھیں، جبکہ علماء زیادہ تر خاموش بیٹھی تھی۔
اس نے چند لمحے انہیں دیکھا، پھر دوبارہ اپنی میز کی طرف متوجہ ہو گیا۔
لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کی نظر پھر بے اختیار اسی طرف اٹھ گئی۔
علماء اس وقت بھی خاموش تھی۔
انوشے نے کچھ کہا تو زارا ہنس پڑی۔ علماء نے بھی مسکرانے کی کوشش کی، مگر اس کی مسکراہٹ چند لمحوں سے زیادہ اس کے چہرے پر نہ ٹھہر سکی۔معاذ نے یہ فرق محسوس کیا۔
وہ اسے دیکھتا رہا، جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ اتنے شور کے درمیان بھی وہ اتنی خاموش کیوں ہے۔
دھیرے دھیرے رات کا اندھیرا بڑھتے جا رہا تھا وہ لوگ وہاں سے کھانے کے بعد اپنے گھر کے لیے جا چکے تھے۔۔
*******************

علماء گھر پہنچ کر کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اپنے کمرے میں آ گئی۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی، مگر ذہن ابھی تک شام کے منظر میں الجھا ہوا تھا۔
ریسٹورنٹ میں انوشے اور زارا کی باتیں، ان دونوں کی بے تکلفی، انوشے کا اس سے پوچھے بغیر دوپٹہ خرید لینا۔۔۔ جانے کیوں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی اسے بار بار یاد آ رہی تھیں۔اپنا دھیان ہٹانے کے لیے اس نے بیڈ کے پاس رکھا موبائل اٹھایا اور یونہی اسکرین پر انگلی پھیرنے لگی۔ چند لمحے بعد واٹس ایپ پر ایک نوٹیفکیشن نمودار ہوا۔
نامعلوم نمبر۔
علماء نے کچھ حیرت سے میسج کھولا۔
صرف ایک جملہ تھا۔
“السلام علیکم۔”
اس نے بھنویں سکیڑیں۔ نمبر کے ساتھ کوئی تصویر بھی نہیں تھی، صرف گہرے سرمئی رنگ کا وال پیپر تھا۔
اس نے جواب لکھا۔
“وعلیکم السلام۔ کون؟”
جواب فوراً آ گیا۔
“معاذ شاہ۔”
علماء چند لمحوں تک اسکرین کو دیکھتی رہی۔
“معاذ؟”
وہ بے اختیار سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
اسے سمجھ نہیں آیا کہ معاذ نے اسے اس وقت میسج کیوں کیا تھا۔
پھر ایک میسج آیا کے اُداس ہو؟
تمھیں کیا چاہئے اُداس رہوں یا نہ رہوں یہ میرا مسئلہ ہے۔
اُداس لگ رہی ہو۔
تم اتنے کنفائڈنس سے کیسے بول سکتے ۔علماء نے حیران ہوتے ہوئے میسج کیا۔
اُداس نہ ہوا کرو ہمیشہ خوش رہا کرو ۔علماء کچھ پل کے لیے یہ میسج دیکھتی رہی۔
“آج ریسٹورنٹ میں تم اتنی خاموش کیوں تھیں؟”
علماء کی انگلی اسکرین پر رک گئی۔
تو معاذ نے اسے وہاں دیکھا تھا۔”میں خاموش نہیں تھی۔ اور تمہیں کیا ضرورت تھی مجھے اتنی غور سے دیکھنے کی؟”
کچھ دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔
پھر اسکرین روشن ہوئی۔
“غور سے نہیں دیکھ رہا تھا۔ بس نظر پڑ گئی تھی۔”
علماء نے فوراً جواب دیا۔
“تو تمہاری نظر غلط تھی۔ میں بالکل ٹھیک تھی۔”علماء نے فوراً جواب دیا۔
اس بار جواب آنے میں چند لمحے لگے۔
“اچھا، اگر تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں۔”
پھر ایک اور پیغام آیا۔
“لیکن ایک بات کہوں؟”
علماء نے بے اختیار اسکرین کو دیکھا۔
“کیا؟”
معاذ کا جواب مختصر تھا۔
“تم جب پریشان ہوتی ہو تو تمہاری آنکھیں بتا دیتی ہیں۔”
علماء کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
اس نے موبائل کو کچھ دیر ہاتھ میں تھامے رکھا۔
اسے اچھا نہیں لگا تھا کہ کسی نے اس کے اندر کی کیفیت اتنی آسانی سے پڑھ لی تھی۔
وہ جواب لکھنے لگی، پھر مٹا دیا۔
دوبارہ لکھا۔
“تمہیں ہر بات نوٹس کرنے کی عادت ہے کیا؟”
معاذ کا جواب آیا۔
“ہر کسی کی نہیں۔”
علماء کچھ دیر تک اس جملے کو دیکھتی رہی۔
اس کا دل بے وجہ ایک لمحے کے لیے تیز دھڑکا۔
اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔
“کتنا عجیب لڑکا ہے۔”
اس نے موبائل ایک طرف رکھنے کی کوشش کی، مگر چند سیکنڈ بعد پھر اٹھا لیا۔
ایک آخری میسج اسکرین پر موجود تھا۔
“ویسے، اگر واقعی سب ٹھیک ہے تو اچھی بات ہے۔ بس اپنا خیال رکھا کرو، علماء۔”نہ جانے اس ایک لفظ میں کیا تھا کہ وہ چند لمحوں تک اسکرین کو دیکھتی رہی۔
پھر اس نے موبائل بند کیا اور تکیے کے پاس رکھ دیا۔
چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تھی، جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
شاید معاذ کی بات میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔
شاید وہ صرف ایک عام سا جملہ تھا۔
مگر بعض اوقات معمولی سے جملے بھی دل کے کسی ایسے کونے کو چھو جاتے ہیں، جس کے بارے میں ہمیں خود بھی خبر نہیں ہوتی۔۔
*****”********
اگلے دن یونیورسٹی میں علماء نے کوشش کی کہ وہ معمول کے مطابق رہے۔
مگر نہ جانے کیوں صبح سے اس کی نظر بار بار موبائل کی اسکرین پر جا رہی تھی۔
رات کی آخری گفتگو ذہن کے کسی کونے میں اب بھی موجود تھی۔
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ معاذ کے اگلے میسج کا انتظار کر رہی ہے یا محض اتفاق سے بار بار فون دیکھ رہی ہے۔
کلاس شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے موبائل پر ایک میسج آیا۔
معاذ:”کلاس آ گئی ہو؟”
علماء نے چند لمحے اسکرین کو دیکھا، پھر جواب دیا۔
علماء:”ہاں۔ کیوں؟”
چند سیکنڈ بعد جواب آیا۔
معاذ:”ایسے ہی پوچھا۔ کل تم کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھیں۔”
علماء نے بے اختیار مسکرا کر فون نیچے رکھ دیا۔
علماء: بہت فکر جو رہی ہے میری۔
معاذ :”ہن، بس دل چاہ رہا تھا تم سے پوچھوں۔”
علماء نے اس کا جواب پڑھا تو چند لمحوں کے لیے خاموش رہی۔
پھر انگلیاں خود بخود کی بورڈ پر چلنے لگیں۔
“ایسا کیا خاص ہو گیا کہ آج دل چاہا؟”
معاذ کا جواب فوراً آیا۔
“کچھ خاص نہیں۔”
پھر ایک لمحے بعد دوسرا میسج آیا۔
“بس کل تم خاموش تھیں۔”
علماء نے اسکرین کو دیکھا۔ نہ جانے کیوں اس معمولی سی بات نے اسے اچھا محسوس کروایا۔
“میں ہمیشہ ہی ایسی ہوں۔”
“نہیں۔”
“تو پھر؟”
پہلے بھی دیکھا ہے تمہیں۔ تم اتنی خاموش نہیں ہوتیں۔”
علماء کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“تم مجھے اتنا نوٹس کیوں کرتے ہو؟”
کچھ دیر تک جواب نہیں آیا۔
پھر صرف اتنا لکھا آیا۔
“پتا نہیں۔”
علماء نے موبائل میز پر رکھ دیا، مگر چند لمحوں بعد دوبارہ اٹھا لیا۔
“اچھا چھوڑو۔ کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
“ہاں، کلاس پر دھیان دو۔”
“تم بھی۔”
“کوشش کروں گا۔”
یہ ان کی بات چیت کا آغاز تھا۔
اس دن گفتگو وہیں ختم ہو گئی، مگر اگلے دن پھر کسی نہ کسی بہانے بات ہو گئی۔
پھر اس کے اگلے دن بھی۔
شروع میں باتیں بالکل معمولی تھیں۔
کلاس کا کام، اسائنمنٹ، پریزنٹیشن اور یونیورسٹی کی مصروفیات۔
کبھی معاذ پوچھ لیتا،
“آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئی؟”
علماء جواب دیتی،
“امی کے ساتھ کام تھا۔”
کبھی علماء خود پوچھ لیتی،
“آج تم اتنے خاموش کیوں ہو؟”
اور معاذ ہنس کر کہتا،
“تمہیں بھی اب فرق محسوس ہونے لگا ہے؟”
وہ صرف “ہاں” لکھ کر رہ جاتی۔
پھر آہستہ آہستہ ان کی باتوں کا وقت بڑھنے لگا۔
جو بات پہلے چند میسجز میں ختم ہو جاتی تھی، اب وہی بات کبھی کبھی گھنٹے بھر چلتی۔
علماء کو خود بھی معلوم نہیں ہوا کہ کب معاذ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔
اب اگر صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے بارش ہو رہی ہوتی تو سب سے پہلے اسے میسج کرنے کا دل کرتا۔
“آج بہت بارش ہے۔”
اور معاذ جواب دیتا،
“چھتری لے کر نکلی ہو؟”
“نہیں۔”
“علماء!”
“اچھا بھئی، اب اتنا بھی نہ ڈانٹو۔”
کبھی وہ کسی نئی ڈش کی تصویر بھیج دیتی۔
“آج یہ بنایا ہے۔”
معاذ کا جواب آتا،
“تم نے بنایا ہے؟”
“ہاں۔”
“پھر تو اچھا ہی ہوگا۔”
“تم نے کھایا بھی نہیں اور فیصلہ بھی کر لیا؟”
“تم نے بنایا ہے، کافی ہے۔”
وہ ایسے جملوں کو پڑھ کر ہنس دیتی، مگر کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں کہتی۔
وقت گزرتا گیا اور علماء کی عادتیں بھی بدلنے لگیں۔
پہلے اگر کوئی بات اسے پریشان کرتی تو وہ خاموش ہو جاتی تھی۔
اب نہ جانے کیوں معاذ کو بتانے کا دل کرتا۔
ایک دن انوشے نے یونیورسٹی میں اس سے پوچھا،
“کیا ہوا ہے؟ آج کچھ پریشان لگ رہی ہو۔”
علماء نے بس اتنا کہا،”کچھ نہیں۔”
انوشے نے دوبارہ پوچھنے کی کوشش کی، مگر علماء نے بات بدل دی۔
اسی شام اس نے معاذ کو میسج کیا۔
“آج امی سے تھوڑی سی ڈانٹ پڑی۔”
معاذ نے فوراً پوچھا،
“کیوں؟”
“پتا نہیں، شاید میں صبح دیر سے اٹھی تھی۔”
“تو پھر وقت پر اٹھا کرو۔”
علماء نے ناراضی سے جواب دیا،
“تم بھی امی کی طرح باتیں کرنے لگے ہو۔”
“اچھا، پھر نہیں کہوں گا۔”
“نہیں، کہو۔”
وہ خود بھی اپنے جواب پر رک گئی۔
اسے محسوس ہوا کہ وہ واقعی چاہتی تھی کہ معاذ اسے سمجھائے۔
اب وہ اسے صرف اپنی بڑی باتیں نہیں بتاتی تھی۔
کبھی بتاتی کہ آج کلاس میں کس بات پر ہنسی آئی، کبھی یہ کہ اسے کون سا لباس پسند آیا، کبھی انوشے سے ہونے والی کوئی معمولی سی بات، کبھی گھر میں امی نے کیا کہا۔

کبھی وہ صرف اتنا میسج کرتی،
“آج میرا موڈ اچھا نہیں ہے۔”
اور معاذ پوچھ لیتا،
“کیوں؟”
علماء پھر پوری کہانی بتا دیتی۔
وہ خود نہیں جانتی تھی کہ یہ کب ہوا۔
کب ایک اجنبی سا کلاس فیلو اس شخص میں بدل گیا جسے وہ اپنے دن کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بتانا چاہتی تھی۔

اور شاید سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اب اسے انوشے سے بات کرنے کی اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی جتنی پہلے ہوتی تھی۔
انوشے اب بھی اس کی دوست تھی، مگر علماء کی بہت سی باتیں اب اس کے پاس جانے سے پہلے ہی معاذ تک پہنچ جاتی تھیں۔
کبھی وہ کچھ سوچتی اور بے اختیار موبائل اٹھا لیتی۔
نام سامنے آتا۔
معاذ شاہ۔
اور انگلیاں خود ہی لکھنے لگتیں۔
“ایک بات بتاؤں؟”
اور دوسری طرف سے تقریباً ہمیشہ ایک ہی جواب آتا۔
“ہاں، بتاؤ۔”
شاید یہی دو لفظ علماء کو سب سے زیادہ اپنے لگنے لگے تھے۔
ہاں، بتاؤ۔
کیونکہ اب اسے یقین ہونے لگا تھا کہ وہ کچھ بھی کہے، معاذ اسے سن لے گا۔
****************””
شام کے وقت حارث گھر آیا تو سعدیہ بیگم نے اسے کھانے پر روک لیا۔
“آؤ حارث، کھانا لگ گیا ہے۔ پہلے کھانا کھا لو، پھر آرام سے باتیں کرنا۔”کچھ ہی دیر بعد علماء بھی کمرے سے نکل کر کھانے کی میز پر آ بیٹھی۔
حارث سے اس کی معمول کی سلام دعا ہوئی، مگر اس کے بعد دونوں کے درمیان زیادہ بات نہیں ہوئی۔ سعدیہ بیگم کبھی علماء سے کچھ پوچھتیں اور کبھی حارث سے اس کے کام کے بارے میں۔
کھانا ختم ہونے کے بعد سعدیہ بیگم نے برتن سمیٹنے شروع کیے تو حارث نے علماء کی طرف دیکھا۔
“علماء، تم سے ایک بات کرنی تھی۔”
علماء نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“مجھ سے؟”
“ہاں۔ اگر تمہارے پاس تھوڑا وقت ہو۔”
علماء کچھ کہتی، اس سے پہلے سعدیہ بیگم نے بھی حارث کی طرف دیکھا، جیسے وہ سمجھ گئی ہوں کہ بات کس بارے میں ہے۔
“تم دونوں بیٹھ کر بات کر لو۔”
حارث نے سر ہلایا۔
سعدیہ بیگم وہیں قریب بیٹھ گئیں۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد حارث نے علماء کی طرف دیکھا۔
اس کے لہجے میں آج پہلے جیسی بے تکلفی نہیں تھی۔
“علماء، میں آج تم سے ایک جواب لینے آیا ہوں۔”
علماء کے دل میں ایک انجانی سی گھبراہٹ پیدا ہوئی۔
“کیسا جواب؟”
حارث نے نظریں ایک لمحے کے لیے جھکائیں، پھر دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔
“کیا تمہیں ہماری شادی کی کوئی امید ہے؟”
علماء بالکل خاموش ہو گئی۔
اس نے شاید توقع نہیں کی تھی کہ حارث اتنی سیدھی بات کرے گا۔علماء نے بے اختیار سعدیہ بیگم کی طرف دیکھا۔
سعدیہ بیگم نے نرمی سے کہا،
“بیٹا، حارث ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ہم نے تمہیں کافی وقت دیا ہے۔””ہاں، میں جانتی ہوں تمہارے لیے یہ آسان نہیں ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تم خود بھی واضح ہو جاؤ۔”
سعدیہ بیگم نے حارث کی طرف دیکھا، پھر علماء سے کہا،
“اگر تمہارے دل میں حارث کے لیے ہاں ہے تو صاف کہہ دو۔ اور اگر نہیں ہے تو وہ بھی صاف کہہ دو۔ کسی کو امید میں رکھنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔”علماء نے اپنے ہاتھ آپس میں بھینچ لیے۔
حارث اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
“میں صرف تمہارا جواب چاہتا ہوں، علماء۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔
علماء کے ذہن میں جیسے بہت سی باتیں ایک ساتھ گردش کرنے لگیں۔
وہ ابھی تک حارث کو اپنے لیے ایک رشتے کے طور پر دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔”میں تمہیں کبھی اس نظر سے دیکھ ہی نہیں پائی۔”
حارث کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے خاموشی اتر آئی۔”میرے لیے تم ہمیشہ سے حارث بھائی جیسے رہے ہو۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ تم میرے شوہر ہو سکتے ہو۔”
سعدیہ بیگم خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں۔
حارث نے بھی کچھ نہیں کہا۔
حارث کے جانے کے بعد گھر ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوب گیا تھا۔حارث کے لیے اس کے دل میں احترام ضرور تھا، مگر وہ احترام کبھی محبت میں نہیں بدلا تھا۔
اس رات علماء نے فون بھی زیادہ نہیں دیکھا۔ معاذ کا میسج آیا تو اس نے جواب دینے کے بجائے فون ایک طرف رکھ دیا۔
دوسری طرف معاذ کافی دیر تک اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔
اس نے ایک بار پھر چیٹ کھولی۔
پچھلا میسج وہیں موجود تھا۔اس نے کچھ لکھنے کا سوچا، پھر رک گیا۔
شاید وہ مصروف ہو۔
یا شاید آج اس کا بات کرنے کا دل نہ ہو۔
معاذ نے فون سائیڈ پر رکھ دیا، مگر کچھ دیر بعد پھر اٹھا لیا۔اگلی صبح یونیورسٹی میں بھی علماء اور معاذ کی خاص بات نہیں ہو سکی۔
کلاس میں دونوں اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے۔ کبھی نظر ملتی تو علماء فوراً نظریں کتاب کی طرف کر لیتی۔
معاذ نے بھی اسے کچھ پوچھنے کی کوشش نہیں کی۔
وہ شاید سمجھ رہا تھا کہ علماء خود بات کرنا چاہے گی تو کرے گی۔
کلاس ختم ہوئی تو انوشے نے حسبِ معمول سب کو کینٹین چلنے کا کہا۔
کچھ دیر بعد علماء، انوشے، زارا، دانیال اور معاذ کینٹین کی ایک میز کے گرد بیٹھے تھے۔
دانیال اور زارا کسی بات پر بحث کر رہے تھے جبکہ معاذ خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا۔
علماء سامنے رکھی چائے کو دیکھ رہی تھی.جبکہ انوشے کبھی ان دونوں کی بات سنتی اور کبھی علماء کو دیکھ لیتی۔
کچھ دیر بعد اس نے علماء سے پوچھا،
“تم اتنی خاموش کیوں ہو؟”
علماء نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا،
“بس… کل گھر میں کچھ بات ہوئی تھی۔”
معاذ کی نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ گئیں۔
انوشے نے پوچھا،
“کیا بات؟”
علماء نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے کہا،
“کل حارث بھائی گھر آئے تھے۔”
“اچھا؟”
“ہاں۔ ان کے لیے… میرا رشتہ آیا تھا۔”
یہ سنتے ہی میز پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
زارا نے بھی علماء کی طرف دیکھا، جبکہ دانیال نے اپنی بات روک دی۔
معاذ خاموش بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔
انوشے نے نرمی سے پوچھا،
“پھر؟”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“انہوں نے مجھ سے خود پوچھا کہ کیا ہماری شادی کی کوئی امید ہے۔ امی نے بھی کہا کہ اب مجھے صاف جواب دے دینا چاہیے۔”
“اور تم نے؟” انوشے نے فوراً پوچھا۔
علماء نے دھیرے سے کہا،
“میں نے منع کر دیا۔”تم نے منع کو کر دیا مجھے تو لگا تھا تم دونوں ایک دوسرے سے ہی شادی کروگے تم دونوں ایک ساتھ اتنے اچھے دیکھتے ۔
۔انوشے کی بات سنتے ہی معاذ نے ایک نظر علماء کی طرف دیکھا۔معاذ نے کچھ نہیں کہا۔
چند لمحے خاموش بیٹھنے کے بعد وہ اپنی کرسی سے اٹھا۔
“میں چلتا ہوں۔”
دانیال نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“ابھی؟”
“ہاں، کچھ کام ہے۔”
معاذ نے مختصر سا جواب دیا اور وہاں سے چلا گیا۔
علماء کی نظریں بے اختیار اس کے پیچھے اٹھیں، مگر وہ کچھ کہہ نہ سکی۔
*********
رات کافی گزر چکی تھی۔
علماء اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب کھولے ہوئے تھی، مگر اس کی توجہ کتاب میں نہیں تھی۔
بار بار اس کے ذہن میں کینٹین کا وہ لمحہ آ رہا تھا۔
معاذ کا اسے دیکھنا…
پھر خاموشی سے اٹھ کر چلے جانا۔
اس نے فون اٹھایا۔
واٹس ایپ کھولا۔
معاذ کی چیٹ سامنے تھی۔
کچھ دیر تک وہ صرف اس کا نام دیکھتی رہی۔
پھر اچانک ایک میسج آیا۔
معاذ:”سو گئی ہو؟”علماء کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
علماء:”نہیں۔ تم؟”چند لمحے بعد جواب آیا۔
معاذ:”میں بھی نہیں۔”علماء نے فون ہاتھ میں تھامے رکھا۔
علماء:”آج تم اتنی جلدی کیوں چلے گئے تھے؟”کافی دیر تک جواب نہیں آیا۔پھر اسکرین پر تین نقطے نمودار ہوئے اور غائب ہو گئے۔دوبارہ نمودار ہوئے۔آخرکار میسج آیا۔
معاذ:”تم سے ایک بات پوچھوں؟”
علماء:”ہاں۔”
معاذ:”آج انوشے نے جو کہا… تمہیں برا لگا؟”
علماء کچھ دیر سوچتی رہی۔
علماء:”کون سی بات؟”
معاذ:”حارث کے بارے میں۔”
علماء نے فون تھوڑا سا نیچے کیا۔پھر لکھا:
علماء:”نہیں۔ کیوں؟”
اس بار معاذ کا جواب فوراً نہیں آیا۔کچھ دیر بعد صرف ایک جملہ آیا۔
معاذ:”کیونکہ مجھے لگا شاید تمہیں اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ لوگ تمہیں اور حارث کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔”
علماء نے آہستہ سے ٹائپ کیا۔
علماء:”مجھے فرق نہیں پڑتا۔ میں نے تمہیں بتایا نا، میں نے حارث بھائی کو کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا۔”
معاذ نے جواب نہیں دیا۔علماء نے دوبارہ لکھا۔
علماء:”معاذ؟”
چند لمحوں بعد جواب آیا۔
معاذ:”ہمم۔”
علماء:”تم ناراض ہو؟”
معاذ:”نہیں۔”
علماء:”پھر اتنے خاموش کیوں ہو؟”
اس بار جواب آنے میں کچھ زیادہ وقت لگا۔
معاذ:”کیونکہ آج پہلی بار مجھے لگا کہ شاید میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔”
علماء کی انگلیاں کی بورڈ پر رک گئیں۔
وہ کچھ دیر اس ایک جملے کو دیکھتی رہی۔
دل کی دھڑکن جیسے اچانک تیز ہو گئی ہو۔اس نے لکھا:
علماء:”کھونے سے؟”
معاذ:”ہاں۔”پھر ایک اور میسج آیا۔
معاذ:”شاید مجھے یہ بات بہت پہلے سمجھ جانی چاہیے تھی۔”
علماء خاموش رہی۔
معاذ:”علماء، میں نہیں جانتا یہ سب کب ہوا۔ کب تم سے بات کرنا میری عادت بن گئی، کب تمہارا ایک میسج میرے پورے دن کا مزاج بدلنے لگا۔”
علماء کی آنکھیں اسکرین پر جمی رہیں۔کچھ دیر تک وہ خاموش بیٹھی رہی، پھر جیسے بہت سوچنے کے بعد اس کی انگلیاں کی بورڈ پر چلیں۔
علماء:”معاذ… محبت کرتے ہو؟”
میسج بھیجنے کے بعد وہ خود ہی چند لمحوں تک اسکرین کو دیکھتی رہی۔
جو سوال اس نے لکھ دیا تھا، اب اسی کا جواب اسے بے چین کر رہا تھا۔
کافی دیر تک معاذ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
پھر اچانک اسکرین پر تین نقطے نمودار ہوئے۔
غائب ہوئے۔
پھر دوبارہ نمودار ہوئے۔آخرکار جواب آیا۔
معاذ:”شاید۔”
علماء نے فوراً لکھا۔
علماء:”شاید؟”
معاذ:”ہاں… شاید محبت ہی ہے۔”علماء کچھ دیر خاموش رہی۔
علماء:”اور اگر محبت نہیں ہے تو؟”معاذ کا جواب آیا۔
معاذ:”تو پھر مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تمہاری فکر مجھے اتنی کیوں رہتی ہے۔ تم سے بات نہ ہو تو دن ادھورا کیوں لگتا ہے۔ تم پریشان ہو تو میرا دل بھی بے چین کیوں ہو جاتا ہے۔”
علماء کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
علماء:”تو تمہیں خود نہیں پتا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے یا نہیں؟”
کچھ لمحوں بعد جواب آیا۔
معاذ:”پتا ہے…”علماء کی نظریں اسکرین پر رک گئیں۔
معاذ:”بس شاید اسے محبت کہنے میں دیر کر دی۔”
علماء نے فون تھامے تھامے نظریں جھکا لیں۔
پھر بہت آہستہ سے لکھا:”ساتھ دو گے؟”
معاذ کا جواب چند ہی لمحوں میں آ گیا۔
معاذ:”جب تک سانس چلے گی، تب تک ساتھ دوں گا۔”
علماء نے اسکرین کو دیکھا اور پھر اگلا سوال لکھا۔
علماء:”عزت دو گے؟”
اس بار جواب پہلے سے بھی زیادہ واضح تھا۔
معاذ:”اتنی کہ تمہیں کبھی اپنی عزت کے لیے میرے سامنے بھی کچھ کہنا نہ پڑے۔ میں تمہاری عزت کو اپنی عزت سمجھوں گا۔”
علماء کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر آخری سوال لکھا۔
علماء:”محبت کرتے ہو؟”
کچھ لمحوں تک کوئی جواب نہیں آیا۔
پھر معاذ کا میسج آیا۔
معاذ:”اتنی کہ تمہیں کبھی اپنے ہونے پر اکیلا محسوس نہیں ہونے دوں گا۔”
علماء نے وہ جملہ کئی بار پڑھا۔پھر اس کی انگلیاں خود بخود کی بورڈ پر چلیں۔
علماء:”پھر ایک وعدہ اور کرو۔”
معاذ:”کہو۔”
علماء:”اگر کبھی مجھ سے ناراض ہو جاؤ تو خاموش ہو کر دور مت جانا۔”کچھ دیر بعد جواب آیا۔
معاذ:”وعدہ۔ تم سے بات کیے بغیر دور رہنا شاید میرے لیے بھی آسان نہیں ہوگا۔”
علماء کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
دھیرے دھیرے باتیں کرتے کرتے رات گزر گئی اور انہیں خبر ہی نہ ہوئی کہ صبح ہونے والی ہے۔
علماء نے فون ایک طرف رکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے معاذ کی چیٹ دیکھی۔ آج کی رات شاید ان دونوں کے درمیان بہت کچھ بدل گیا تھا۔
اگلی صبح علماء یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی ۔کے امی نے کہا علماء ۔آج حارث انڈیا واپس چلا جائےگا اور شاید جُدا وقت کے لیے ۔ یہ تو اچھی بات ہے نہ امی اُنکی کام وہاں اچّھا ہے۔ آج یونیورسیٹی سے گھر تمھیں وہ ڈراپ کر دیگا تُم وہاں انتظار کرنا۔
وہ کیوں؟ ایسے ہی وہ کے رہا تھا کے آج تمھیں گھر وہ چھوڑے گا ۔اچّھا ٹھیک ہے میں انتظار کرونگی یہ کہتے ہوئے وہ یونی چلی گئی ۔
یونیورسٹی پہنچنے کے بعد علماء اپنی کلاس میں چلی گئی۔
آج عجیب بات تھی کہ رات بھر معاذ سے ہونے والی باتوں کے باوجود اس کے ذہن کے ایک کونے میں حارث کی بات بھی موجود تھی۔
حارث آج انڈیا واپس جا رہا تھا۔
شاید ایک لمبے عرصے کے لیے۔
کلاس کے دوران علماء کئی بار اپنا فون دیکھنے سے خود کو روک نہ سکی۔ معاذ کا ایک میسج آیا ہوا تھا۔
معاذ:”کلاس میں ہو؟”
علماء:”ہاں۔”
معاذ:”آج بھی بہت خاموش لگ رہی ہو۔”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
علماء:”بس گھر میں کچھ بات ہوئی تھی۔”
معاذ:”حارث کے بارے میں؟”
علماء چند لمحے اسکرین دیکھتی رہی۔
علماء:”ہاں۔ امی نے بتایا ہے کہ وہ آج انڈیا واپس جا رہے ہیں۔”
معاذ نے کچھ دیر بعد جواب دیا۔
معاذ:”اچھا۔”پھر ایک اور میسج آیا۔
معاذ:”تم ٹھیک ہو؟”
علماء:”ہاں، بس تھوڑا عجیب لگ رہا ہے۔”
معاذ نے مزید سوال نہیں کیا۔
معاذ:”گھر پہنچ کر بات کرتے ہیں۔”
علماء نے صرف “ہمم” لکھ دیا۔
دن معمول کے مطابق گزرتا رہا۔
کلاسز ختم ہوئیں تو علماء نے اپنا بیگ اٹھایا اور یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف جانے لگی۔ راستے میں اسے اچانک یاد آیا کہ امی نے کہا تھا حارث اسے لینے آئے گا۔
وہ گیٹ کے قریب کھڑی ہو کر انتظار کرنے لگی۔
چند منٹ بعد ایک گاڑی اس کے سامنے آ کر رکی۔
علماء نے گاڑی کی طرف دیکھا۔
حارث تھا۔
وہ کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی، پھر آہستہ سے گاڑی کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔
“السلام علیکم۔”
“وعلیکم السلام۔”حارث نے مختصر سا جواب دیا۔
گاڑی چل پڑی۔
کچھ دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔
علماء نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا،
“آپ واقعی آج جا رہے ہیں؟”
حارث نے سڑک پر نظریں رکھتے ہوئے کہا،
“ہاں۔”
“کتنے دن کے لیے؟”
“پتہ نہیں۔ شاید کافی عرصے کے لیے۔”
علماء خاموش ہو گئی۔
حارث نے چند لمحوں بعد خود ہی کہا،”تم نے جو کہا، وہ تمہارا سچ تھا۔ مجھے اس کا احترام ہے۔”
علماء کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
حارث نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،اگر تمھاری فیصلہ بدل تو مُجھے ضرور بتانا اگر تمھیں کبھی لگے کے ہم ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں تو ۔۔۔۔وہ چپ ہوگیا۔
گاڑی گھر کے قریب پہنچ گئی۔
حارث نے گاڑی روک دی۔
علماء نے دروازہ کھولنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔
“اللہ حافظ، حارث بھائی۔”
حارث نے اس کی طرف دیکھا۔
“اللہ حافظ، علماء۔”
علماء گاڑی سے اتر گئی۔
وہ چند قدم چل کر گھر کے دروازے تک پہنچی تو ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔
گاڑی وہاں نہیں تھی۔
وہ خاموشی سے اندر چلی گئی۔
حارث اپنی گھر جا چکا تھا گھر پہنچتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔
اُسکے انکھ سے آنسو آرہے تھے ۔ یا اللہ اُسکے لیے میرے دل میں اتنی محبّت کیوں ڈالی وہ مجھے نہیں مل رہی تو ایسا لگ رہا ۔میرے پاس کچھ بھی بچا ۔کاش اُسکے دل میں بھی میرے لیے مُحبّت ہوتی تو شاید ہم ساتھ ہوتے ۔وہ رو رہا تھا ۔۔اللہ اُسکے دل میں میرے لیے مُحبّت ہو سکتی ہے؟ آج نہیں کل نہیں کبھی بھی؟
کاش مجھے اسے محبّت نہ ہوتی اگر ہوگئی تو وہ مجھے مل جاتی تو شاید میں یہاں رو نہیں رہا ہوتا ۔ اگر میں نےاس سے اتنی بات نہیں کی ہوتی اس سے اتنا بے تکلّف نا ہوا ہوتا تو شاید درد کم ہوتا ۔ شاید اسی لیے کہا گیا ہے نامحرم سے ہسی مذاق ، کرنا صحیح نہیں اسی لیے منا کیا گیا ہے وہ بھلے میری كذن تھی ۔” تھی تو ایک نا محرم ہی نہ۔ میں نے غلطی کی مجھے آج اُسکی سزا مل رہی ۔۔۔ اللہ مجھے معاف کر دینا اللہ یہ بندہ آپ کا آج آپ کے سامنے آپ سے سچے دل سے معافی مانگ رہا ۔اور وعدہ کر رہا آئندہ کبھی نا محرم سے اتنا فری نہیں ہوانگا چاہئے وہ۔۔اس نے اپنے آنسو پونچھے۔
میں کوشش کروں گا، یا اللہ۔”اور حارث پہلی بار یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ بعض محبتیں انسان کو ملنے کے لیے نہیں، خود کو سمجھنے کے لیے ملتی ہیں۔
شام ہوتے ہوتے حارث انڈیا کے لیے روانہ ہو گیا۔
گھر سے نکلتے وقت اس نے سب سے مختصر سا سلام کیا اور کسی سے زیادہ بات نہیں کی۔ علماء بھی خاموشی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔رات تک گھر معمول کے مطابق پرسکون ہو چکا تھا۔
علماء اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ ہاتھ میں فون تھا مگر وہ کسی چیز پر توجہ نہیں دے رہی تھی۔
کچھ دیر بعد فون کی اسکرین روشن ہوئی۔
معاذ کی کال۔
علماء کے چہرے پر بے اختیار ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اس نے کال اٹھائی۔ہیلو۔”
دوسری طرف سے معاذ کی آواز آئی۔
“السلام علیکم۔”
“وعلیکم السلام۔”
“کیا کر رہی تھیں؟”
“کچھ نہیں… بس بیٹھی تھی۔”آواز سے لگ رہا ہے کچھ سوچ رہی تھیں۔”
علماء ہلکا سا مسکرائی۔
“تمہیں ہر بات کیسے پتا چل جاتی ہے؟”
“اب تمہیں تھوڑا بہت جاننے لگا ہوں۔”
کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر معاذ نے پوچھا،
“حارث آج چلا گیا؟”
علماء کی مسکراہٹ ہلکی پڑ گئی۔
“ہاں۔ شام کو۔”تم ملی تھیں اس سے؟”
علماء:”ہاں،
“پھر؟”
“کچھ خاص نہیں۔ بس بات ہوئی تھی۔”
معاذ خاموش رہا۔
علماء نے خود ہی کہا،
“وہ کافی اداس تھا، معاذ۔”
“ہمم۔”مجھے برا لگ رہا تھا۔ میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ اسے میری وجہ سے اتنی تکلیف ہو۔”
معاذ نے نرم لہجے میں کہا،
“تم نے اس کے ساتھ غلط نہیں کیا، علماء۔ تم نے صرف اپنے دل کی بات کہی ہے۔”
“پھر بھی…””ہر کسی کی محبت کا جواب محبت سے دینا ضروری نہیں ہوتا۔”
علماء کچھ دیر خاموش رہی۔
“شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔”
معاذ ہلکا سا ہنسا۔
“شاید؟”علماء بھی مسکرا دی۔
“ہاں، شاید۔”
کچھ دیر دونوں عام باتیں کرتے رہے۔ یونیورسٹی، کلاس، انوشے کی باتیں، زارا اور دانیال کی نوک جھونک۔
پھر اچانک علماء نے کہا،
“معاذ؟”
“ہمم؟”
“آج تم سے بات کرنے کا دل کر رہا تھا۔”
دوسری طرف چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
“مجھے بھی۔”
“سچ؟”
ہاں۔”
معاذ کی آواز میں ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“شاید اسی لیے تو فون کیا ہے۔”
علماء نے کچھ نہیں کہا۔
بس خاموشی سے مسکراتی رہی۔
رات مزید گہری ہوتی گئی، مگر دونوں کی باتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
آخرکار علماء نے گھڑی دیکھی۔
“بہت دیر ہو گئی ہے۔”
“ہاں، لیکن تم نے فون بند کرنے کی بات ابھی تک نہیں کی۔”
علماء ہنس پڑی۔تم بھی تو کر سکتے تھے۔”
“میں؟ میں تو کب سے تمہاری بات سن رہا ہوں۔”
“اچھا، اب سو جاؤ۔”
“تم بھی۔”
“گڈ نائٹ، معاذ۔”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر معاذ نے آہستہ سے کہا،
“گڈ نائٹ، علماء۔ اپنا خیال رکھنا۔”
علماء نے فون بند کیا تو کچھ دیر تک اسکرین کو دیکھتی رہی۔
پھر فون اپنے پاس رکھ کر لیٹ گئی۔

دھیرے دھیرے وقت گزرتا گیا۔
لمحے پل میں بدلے، پل سیکنڈوں میں، سیکنڈ منٹوں میں اور منٹ گھنٹوں میں ڈھلتے گئے۔
پھر دن ہفتوں میں بدلنے لگے، ہفتے مہینوں میں اور مہینے جانے کب سالوں میں بدل گئے
زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔
یونیورسٹی کے دن بھی اسی طرح گزرتے رہے۔ کبھی کلاسز، کبھی اسائنمنٹس، کبھی امتحانات اور کبھی دوستوں کے ساتھ کینٹین میں بیٹھ کر گھنٹوں باتیں۔
پہلی پہلی محبت تھی، ٹین ایج کی محبت تھی جب انسان کو دنیا فضول لگتی وہ سب بھول جاتا صرف اُسے ایک انسان دیکھتا۔
انسان کو مُحبّت میں اتنا اندھا نہیں ہونا چاہیے اور ہمیشہ خود کو سنبھال کے رکھنا چاہیے۔
پہلے بات کرنے کو کوئی بہانہ چاہیے ہوتا تھا، پھر بات نہ کرنے کے لیے بہانہ ڈھونڈنا پڑتا تھا۔
ایک میسج دن کا حصہ تھا، ایک کال رات کا سکون۔
وقت گزرتا گیا اور انہیں احساس ہی نہ ہوا کہ محبت کب عادت بنی، اور عادت کب ضرورت۔
اور شاید عادت کی سب سے خطرناک بات یہی ہوتی ہے…
کہ انسان محبت کے بغیر شاید رہ لے، مگر عادت کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرنے لگتا ہے۔۔عادت جان لے لیتی ہے ۔عادت جان نکال لیتی ہے ۔ عادت سکون سے انسان کو جینے نہیں دیتی۔
کچھ دن اسی طرح گزرتے رہے۔

ایک شام علماء اپنے کمرے میں بیٹھی اسائنمنٹ مکمل کر رہی تھی۔ کتابیں سامنے پھیلی تھیں اور موبائل بار بار اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
اسکرین پر معاذ کا میسج آیا۔
معاذ: “ابھی تک جاگ رہی ہو؟”
علماء نے مسکرا کر جواب لکھا۔
علماء: “اسائنمنٹ ختم کر رہی ہوں۔ تم؟”
چند سیکنڈ بعد جواب آیا۔
معاذ: “میں تو کب کا ختم کر چکا ہوں۔ اب تمہاری نگرانی کر رہا ہوں۔”
علماء ہنس دی۔
علماء: “میری نگرانی کی ضرورت نہیں ہے۔”
معاذ: “ہے۔ تم کام کے چکر میں کھانا بھی بھول جاتی ہو۔”
علماء نے سامنے رکھی گھڑی کی طرف دیکھا۔ واقعی کافی دیر ہو چکی تھی۔
علماء: “اچھا بابا، کھا لوں گی۔”
معاذ: “صرف کہہ نہیں رہی؟”
علماء: “نہیں، واقعی۔”
معاذ: “ٹھیک ہے، پھر کھانے کے بعد بتانا۔”
علماء نے سر جھٹکا۔
علماء: “تم بھی نا…”
معاذ: “کیا؟”
علماء: “کچھ نہیں۔”
وہ موبائل ایک طرف رکھ کر دوبارہ اسائنمنٹ کی طرف متوجہ ہونے لگی، مگر چہرے پر مسکراہٹ اب بھی موجود تھی۔
اسی دوران نیچے سے سعدیہ بیگم کی آواز آئی۔
“علماء!”
“جی امی؟”
“ذرا نیچے آؤ!”
علماء کتاب بند کرکے باہر نکلی۔
سیڑھیاں اترتے ہی اس نے دیکھا کہ سعدیہ بیگم کے چہرے پر عجیب سی خوشی تھی۔
“کیا ہوا امی؟”
سعدیہ بیگم نے اسے دیکھتے ہی کہا،
“تمہیں ایک خبر دوں؟”
“کیا؟”
“کیف آ رہا ہے۔”
علماء چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گئی۔
“کیف بھائی؟”
“ہاں، تمہارا بھائی۔ اگلے ہفتے کی فلائٹ ہے۔ اس بار واپس آ رہا ہے۔”علماء کے چہرے پر فوراً خوشی پھیل گئی۔
“سچ؟”
“ہاں۔ اب وہیں کام نہیں کرے گا۔ کہہ رہا تھا کافی عرصہ ہو گیا، اب گھر والوں کے ساتھ رہنا ہے۔”
علماء کے لیے یہ خبر واقعی خوشی کی تھی۔ کیف کو گھر سے گئے کافی وقت ہو چکا تھا۔ کبھی فون پر بات ہو جاتی، کبھی ویڈیو کال، مگر گھر میں اس کی موجودگی کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی تھی۔

“میں انوشے کو بتاؤں گی!” علماء نے فوراً کہا۔
سعدیہ بیگم مسکرا دیں۔
“پہلے اپنے بھائی کے آنے کی خوشی منا لو، پھر دوستوں کو بتانا۔”
علماء ہنس دی۔
اسی رات اس نے معاذ کو بھی یہ خبر بتائی۔
علماء: “ایک بات بتاؤں؟”
معاذ: “ہاں، بتاؤ۔”
علماء: “کیف بھائی واپس آ رہے ہیں۔”
کچھ لمحے بعد جواب آیا۔
معاذ: “واقعی؟”
علماء: “ہاں۔ اب باہر کام نہیں کریں گے۔ گھر آ کر رہیں گے۔”
معاذ: “یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تمہیں بھی خوشی ہوئی ہوگی۔”
علماء نے فوراً جواب دیا۔
علماء: “بہت زیادہ۔ کافی عرصے بعد گھر میں پھر سے سب ساتھ ہوں گے۔”
معاذ: “پھر تو تم کچھ دن بہت مصروف رہو گی۔”
علماء نے مسکرا کر لکھا۔
علماء: “ہو سکتا ہے۔”
معاذ: “اچھا ہے۔ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارو۔”
علماء کچھ دیر اس کا جواب دیکھتی رہی۔ پھر لکھا:
علماء: “اور تم؟”
معاذ: “میں کیا؟”
علماء: “تمہیں میری یاد نہیں آئے گی؟”
کچھ دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔
علماء کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
پھر موبائل پر پیغام نمودار ہوا۔
معاذ: “یاد تو ابھی بھی آتی ہے، علماء۔ تم مصروف ہو جاؤ گی تو شاید تھوڑی زیادہ آئے گی۔”
علماء نے موبائل اپنے سینے سے لگا لیا اور بے اختیار مسکرا دی۔
کچھ رشتے وقت کے ساتھ بدلتے نہیں تھے، بلکہ وقت انہیں انسان کی زندگی کا ایسا حصہ بنا دیتا تھا کہ ان کے بغیر دن کا تصور بھی عجیب لگنے لگتا تھا۔
اگلی صبح علماء ابھی یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی کہ سعدیہ بیگم نے اسے آواز دی۔
“علماء، ذرا نیچے آؤ۔”
“جی امی، آ رہی ہوں۔”
وہ اپنا بیگ اٹھائے نیچے آئی تو باہر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
علماء نے بے دھیانی میں ادھر دیکھا۔
اگلے ہی لمحے اس کے قدم رک گئے۔
سامنے کیف کھڑا تھا۔
چند لمحوں کے لیے اسے یقین ہی نہیں آیا۔
“کیف بھائی؟”
کیف نے مسکرا کر کہا۔
“ہاں۔”
علماء فوراً اس کے قریب گئی۔
“آپ تو اگلے ہفتے آنے والے تھے؟”
“تاریخ بدل گئی۔ کل رات ہی ٹکٹ مل گیا تھا، سوچا تم لوگوں کو بتانے سے بہتر ہے سیدھا آ جاؤں۔”
امی کو پتا تھا؟”
“رات کو بتایا تھا۔”
علماء نے سعدیہ بیگم کی طرف دیکھا۔
“اور مجھے نہیں بتایا۔”
سعدیہ بیگم مسکرا دیں۔
“تمہیں بتاتے تو تم ساری رات انتظار کرتی رہتیں۔”
علماء نے کیف کی طرف دیکھا۔
“اتنے سال باہر رہ کر بھی آپ نے سرپرائز دینا نہیں چھوڑا۔”
“اور تم اتنے سال بعد بھی پہلے جیسی ہی ہو۔”
“کیسی؟”
“بہت سوال کرتی ہو۔”
علماء ہنس دی۔
کیف نے اپنا سامان ایک طرف رکھا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
“پانی ملے گا؟”
“خود لے لیں۔”
کیف نے اسے دیکھا۔
“اچھا، بھائی ابھی آیا ہے اور پہلے ہی یہ رویہ؟”
علماء کچن کی طرف جاتے ہوئے مسکرا دی۔
“آپ کو اتنے سال بعد گھر یاد آیا ہے، مجھے نہیں۔”
“اچھا، اب تو آ گیا ہوں۔”
سعدیہ بیگم دونوں کی باتیں سنتے ہوئے خاموشی سے مسکراتی رہیں۔
کیف واقعی واپس آ گیا تھا۔
اور اس بار صرف کچھ دنوں کے لیے نہیں۔
باہر کی ملازمت ختم کر کے وہ اب گھر ہی رہنے والا تھا۔
کہیں جانے کی پلاننگ ہوئے رہی ہے؟ کیف نے پوچھا۔
ہاں وہ یونی جا رہی تھی لیکن اب آج نہیں جاؤنگی۔
اچھا کس خوشی میں نہیں جاؤ گی؟ آپ کے آنے کی خوشی میں اور کیا؟
اچھا جی ایک بہا نہ مل گیا یونی نہیں جانے جائے کا (دونوں ہس نے لگے)
کچھ دیر بعد ناشتہ کیے سب مل کرناشتہ ختم ہونے کے بعد دن معمول کی مصروفیات میں گزر گیا۔ کیف سفر کی تھکن کی وجہ سے زیادہ دیر آرام کرتا رہا، جبکہ علماء بھی کبھی امی کے ساتھ بیٹھتی، کبھی کیف کے پاس جا کر اس سے باتیں کرتی رہی۔
دھیرے دھیرے دیں گزرتا گیا رات ہو چُکی تھی۔گھر میں خاموشی پھیل گئی تھی۔ سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
علماء اپنے کمرے میں بستر پر بیٹھی تھی۔ کمرے کی روشنی مدھم تھی اور اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔
اسکرین پر معاذ کا نام روشن تھا۔
“آج تو تم سارا دن غائب رہی۔”
علماء نے مسکرا کر جواب دیا۔
“کیف بھائی آ گئے تھے نا، ان کے ساتھ بیٹھی رہی۔”
“اچھا، تو آج مجھے تھوڑا کم وقت ملا۔”
“صرف آج؟”
“ہاں، باقی دنوں کا حساب ابھی نہیں مانگ رہا۔”
علماء ہنس دی۔
دونوں کی باتیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ کبھی یونیورسٹی کی بات، کبھی کیف کے اچانک آ جانے کا ذکر، اور کبھی بلاوجہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں۔
علماء ابھی معاذ کا جواب پڑھ ہی رہی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
علماء نے جلدی سے اپنا موبائل جیسے چھپانے کی کوشش کی تھی۔کیف کی آواز تھی۔
دروازہ کھلا اور کیف اندر آ گیا۔
“سوئی نہیں ابھی؟”
“نہیں، بس… ایسے ہی۔”
کیف نے اسے دیکھا۔
“کیا کر رہی تھی؟”
“کچھ نہیں، بس موبائل دیکھ رہی تھی۔”
“اچھا۔”دل کر رہا تھا تُم سے بات کروں اور بتاؤ کیسا ہو؟
کوئی پریشانی تو نہیں ہے نہ تمھیں۔؟
نہیں بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں۔
اگر کبھی بھی کوئی بھی پریشانی رہے تُم مجھے بن جھجھک بتا سکتی ہو۔
جی ضرور اگر کبھی بھی مُجھے کوئی پریشانی ہوئی میں آپ کو ضرور بتاؤنگی ۔
کچھ دیر دونوں کی بات جاری رہی فر۔اچّھا علماء رات کافی ہوگی ہے تمھیں کل یونیورسیٹی بھی جانا ہے اب سو جاؤ ۔
ٹھیک ہے بھائی ۔
کیف اب اپنے کمرے میں جا چکا تھا ۔
علماء نے فوراً اپنا موبائل اٹھایا اور میسیج دیکھنے لگی ۔
معاذ کا میسیج ابھی تک اسکرین پر موجود تھا۔
معاذ: “کہاں چلی گئی تھیں؟”
علماء نے جواب لکھا۔
علماء: “کیف بھائی آ گئے تھے، ان سے بات کر رہی تھی۔”
چند ہی لمحوں بعد جواب آ گیا۔
معاذ: “اچھا، مجھے لگا شاید سو گئی ہو۔”
علماء: “نہیں، بس بھائی کافی عرصے بعد آئے ہیں نا، اس لیے باتیں ہو رہی تھیں۔”
معاذ: “پھر اب سو جاؤ۔ کل یونیورسٹی بھی جانا ہے۔”
علماء نے موبائل ہاتھ میں لیے کچھ دیر اسکرین کو دیکھا۔
علماء: “تم بھی سو جاؤ۔”
معاذ: “تمہارے گڈ نائٹ کہنے کے بعد۔”
علماء کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
علماء: “گڈ نائٹ۔”
معاذ: “گڈ نائٹ، علماء۔”
علماء نے موبائل ایک طرف رکھا اور لیٹ گئی۔
مگر آج پہلی بار اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔
ابھی کچھ دیر پہلے جب کیف کمرے میں آیا تھا تو اس نے فوراً موبائل چھپا لیا تھا۔
پہلے تو اس نے اس بات پر زیادہ غور نہیں کیا، مگر اب خاموشی میں وہی بات بار بار ذہن میں آ رہی تھی۔علماء نے کروٹ بدلی۔
“شاید بس ایسے ہی…”
اس نے خود کو تسلی دی اور آنکھیں بند کر لیں۔صبح آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اس کا ہاتھ موبائل کی طرف گیا۔
اس نے اسکرین کھولی اور رات کی چیٹ سامنے آ گئی۔
ایک لمحے کے لیے وہ خاموش رہی۔
پھر اس کی نظر دروازے کی طرف گئی۔
اگر کیف کبھی اس کا موبائل اٹھا لے تو؟
اس خیال کے آتے ہی علماء نے پوری چیٹ کھولی اور رات کے میسیجز دیکھنے لگی۔
کچھ دیر بعد اس نے ایک ایک کرکے وہ میسیجز ڈیلیٹ کر دیے۔
موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے گہری سانس لی۔ پر دل میں ایک بےچینی سی ہو رہی تھی۔۔
ماء نے اس احساس کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ وہ تیار ہوئی، اپنا بیگ اٹھایا اور کمرے سے باہر آ گئی۔
نیچے کیف پہلے ہی تیار بیٹھا تھا۔
“چلو؟”
علماء نے اسے دیکھا۔
“آپ مجھے یونیورسٹی چھوڑیں گے؟”
“ہاں، کیوں؟ کوئی مسئلہ ہے؟”
“نہیں، بس سوچ رہی تھی آپ تو ابھی سفر سے آئے ہیں، آرام کر لیتے۔”
کیف نے گاڑی کی چابی اٹھائی۔
“آرام بہت کر لیا۔ اب ذرا بھائی بننے کی باری ہے۔”
علماء مسکرا دی۔
“اچھا جی۔”
دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔
راستے میں کیف کبھی باہر دیکھتا اور کبھی علماء سے یونیورسٹی کے بارے میں پوچھتا۔
“کتنا وقت رہ گیا ہے تمہاری ڈگری میں؟”
“زیادہ نہیں۔”
“پھر آگے کیا سوچا ہے؟”ابھی تو کچھ خاص نہیں سوچا۔”
“سوچ لینا چاہیے۔ وقت بہت جلدی گزر جاتا ہے۔”
علماء نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا،
“آپ بھی یہی کہتے تھے جب باہر گئے تھے؟”
کیف ہنس پڑا۔
“تب تو مجھے صرف یہ سوچنا تھا کہ جلدی سے کام مل جائے۔”
“اور اب؟”
“اب سوچتا ہوں کہ گھر سے اتنا دور کیوں گیا تھا۔”
علماء نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
کچھ دیر بعد یونیورسٹی کا گیٹ سامنے آ گیا۔
کیف نے گاڑی آہستہ کر دی۔
“یہیں اتار دوں؟”ہاں ۔
“واپسی کا بتا دینا۔ میں لینے آ جاؤں گا۔”
“نہیں، میں خود آ جاؤں گی۔ آپ کو زحمت ہوگی۔”
“زحمت کیسی؟ فون کر دینا بس۔”
“اچھا ٹھیک ہے۔”
علماء نے دروازہ بند کیا اور یونیورسٹی کی طرف بڑھ گئی۔
کچھ قدم ہی چلی تھی کہ پیچھے سے کیف نے ہارن دیا۔
علماء نے پلٹ کر دیکھا۔
کیف نے شیشہ نیچے کیا۔
“اور سنو!”
“اب کیا ہوا؟”
“آج پڑھائی بھی کر لینا۔ صرف دوستوں کے ساتھ گپیں مت لگاتی رہنا۔”
علماء نے ہنستے ہوئے کہا،آپ کو کیسے پتا میں گپیں لگاتی ہوں؟”
“تمہارا چہرہ بتا رہا ہے۔”
“جائیں آپ!”
کیف ہنستا ہوا گاڑی لے کر چلا گیا۔
علماء ابھی گیٹ کے قریب پہنچی ہی تھی کہ سامنے سے انوشے آتی دکھائی دی۔
اس نے علماء کو دیکھا تو فوراً بولی،
“اوہو! آج تو میڈم کی گاڑی بھی الگ ہے!”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟”گاڑی سے اترتے دیکھا ہے میں نے۔ کون تھا؟”
“میرے بھائی کیف۔”
انوشے نے فوراً آنکھیں بڑی کر لیں۔
“کیف بھائی آ گئے؟”
“ہاں، کل ہی آئے ہیں۔”
“اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں؟”
“کل ہی تو آئے ہیں، میں خود ابھی تک ٹھیک سے یقین نہیں کر پا رہی۔”
دونوں باتیں کرتی ہوئی کلاس کی طرف بڑھنے لگیں۔
کلاس کے باہر زارا اور دانیال پہلے ہی کھڑے تھے۔ معاذ بھی کچھ فاصلے پر موبائل دیکھتے ہوئے ان کا انتظار کر رہا تھا۔
زارا نے علماء کو دیکھتے ہی پوچھا،
“آج اتنی دیر؟”
انوشے نے فوراً جواب دیا،
“میڈم کو ان کے بھائی یونیورسٹی چھوڑنے آئے تھے۔”
دانیال نے مسکرا کر کہا،
“اوہ، تو آج پروٹوکول کے ساتھ انٹری ہوئی ہے۔”
علماء نے اسے گھورا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔”
زارا نے ہنستے ہوئے کہا،
“ویسے کیف بھائی واقعی آ گئے؟”
“ہاں۔”
“پھر تو گھر میں کافی رونق ہو گئی ہوگی۔”
“ہاں، امی تو بہت خوش ہیں۔”
دانیال نے معاذ کی طرف دیکھ کر کہا،
“تم اتنے خاموش کیوں ہو؟”
معاذ نے نظریں موبائل سے اٹھائیں۔
“میں؟ میں تو سن رہا ہوں۔”
انوشے نے فوراً کہا،
“تم سب سنتے ہو، بولتے کم ہو۔”
“ہر بات میں بولنا ضروری نہیں ہوتا۔”
علماء نے بے اختیار معاذ کی طرف دیکھا۔
اس کی نظر بھی ایک لمحے کے لیے علماء سے ملی، پھر دونوں نے نظریں ہٹا لیں۔
کلاس شروع ہونے کی اطلاع ہوئی تو سب اندر چلے گئے۔
دن معمول کے مطابق گزر گیا۔ لیکچر، کچھ اسائنمنٹس اور درمیان میں کینٹین پر پانچوں دوستوں کی ہمیشہ کی طرح کچھ دیر بیٹھک بھی ہوئی۔
شام کو علماء کیف کے ساتھ گھر واپس آ گئی۔
گھر میں کیف کی موجودگی واقعی محسوس ہو رہی تھی۔ کبھی وہ امی کے ساتھ بیٹھا باتیں کرتا.رات کو کھانے کے بعد علماء اپنے کمرے میں آ گئی۔
اس نے بیگ ایک طرف رکھا،پھر عادتاً موبائل اٹھا لیا۔
کچھ میسیجز تھے، چند یونیورسٹی کے نوٹیفکیشنز اور سوشل میڈیا کی عام پوسٹس۔
وہ بغیر کسی خاص مقصد کے اسکرول کر رہی تھی کہ اچانک اس کی انگلی رک گئی۔
اسکرین پر ایک ویڈیو آ گئی۔
علماء نے پہلے تو اسے نظر انداز کرنے کے لیے اسکرول کرنا چاہا، مگر ویڈیو کے پہلے ہی چند سیکنڈز نے اس کی توجہ روک لی۔ ویڈیو کا background سیاہ تھا۔بارش ہو رہی تھی ویڈیو میں اور اردو فونٹ میں لکھا تھا۔ حلال تنہائی حرام گفتگو سے بہتر ہے۔ دو پل کے لیے وہ رکی اُس نے فر اسکرول کیا۔ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک گھڑی تھا وہ غندی بہُت پرانے زمانے کا لگ رہا تھا گاڑی دائیں جانب تھا اور بائیں جانب لکھا تھا۔
Surat No 67 : سورة الملك – Ayat No 12

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا ثواب ہے ۔

علماء نے موبائل اپنی گود میں رکھ دیا۔
کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ فون اٹھایا، مگر اس بار اس کی توجہ اسکرین پر نہیں تھی۔
وہ بے اختیار اسی جملے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
“حلال تنہائی… حرام گفتگو…”
اس نے آہستہ سے سر جھٹکا اور موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
“بس ایک ویڈیو تھی۔”
مگر دل نے اس بات کو اتنی آسانی سے قبول نہیں کیا۔
کچھ جملے صرف پڑھے نہیں جاتے۔
وہ خاموشی سے ذہن میں اتر جاتے ہیں۔ اور جب وہ ذہن میں اترتے ہی تو بہت کچھ بدل جاتا ہے۔
علماء ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ موبائل کی اسکرین روشن ہوئی۔
ایک نیا میسیج آیا تھا۔
اس نے فون اٹھائے بغیر صرف اوپر نظر ڈالی۔
معاذ: “ابھی جاگ رہی ہو؟”
علماء چند لمحے اسکرین کو دیکھتی رہی۔
پہلے وہ ایسے میسیج کا جواب فوراً دے دیتی تھی۔
مگر آج اس کی انگلی موبائل کی طرف نہیں بڑھی۔
اس نے نوٹیفکیشن ہٹا دیا اور فون دوبارہ ایک طرف رکھ دیا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر موبائل دوبارہ روشن ہوا۔
معاذ: “کیا ہوا؟ آج اتنی خاموش کیوں ہو؟”
علماء نے اس بار بھی میسیج پڑھ لیا۔
اس کے دل میں جواب دینے کی خواہش ہوئی۔
بس ایک چھوٹا سا جواب…
“کچھ نہیں۔”
مگر وہ لکھ نہ سکی۔
اس نے موبائل کی اسکرین بند کر دی۔
کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس کے ذہن میں سوال بہت تھے۔اُس نے فر موبائل ہاتھ میں لیا میسیج دیکھیں اور رپلائی کر دیا۔ “کُچھ نہیں”.
کچھ ہی دیر بعد معاذ کا جواب آیا۔
“پھر آج اتنی خاموش کیوں ہو؟”علماء نے کچھ دیر سوچا۔
“بس تھک گئی ہوں۔”
معاذ: “یونیورسٹی سے؟”
علماء: “ہاں، شاید۔”
معاذ نے کچھ دیر بعد لکھا،
“اچھا، زیادہ مت سوچا کرو۔ آرام کرو۔”
علماء نے جواب دیا۔”ہمم۔”
کچھ دیر بعد اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لیٹ گئی۔
معاذ کا آخری میسیج اسکرین پر موجود تھا۔
معاذ: “گڈ نائٹ، علماء۔ اپنا خیال رکھنا۔”
علماء نے اس کا جواب نہیں دیا۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
صبح معمول کے مطابق یونیورسٹی جانے کی تیاری کی۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کیف نے پوچھا،
“نیند پوری ہوئی؟”
“ہاں۔”
سچی؟”جی بھائی۔”
وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
یونیورسٹی پہنچ کر انوشے اور زارا سے ملاقات ہوئی۔
سب معمول کے مطابق باتیں کرتے رہے۔
معاذ بھی وہاں تھا۔
علماء کی نظر ایک بار اس پر پڑی، مگر اس نے صرف معمولی سا سر ہلایا اور اپنی جگہ بیٹھ گئی۔
معاذ نے بھی اسے دیکھا، مگر اس دن دونوں کے درمیان پہلے جیسی بات نہیں ہوئی۔
کلاس میں بھی وہ اپنے کام میں مصروف رہے۔
کینٹین میں سب ساتھ بیٹھے تو انوشے اور دانیال کسی بات پر بحث کر رہے تھے، زارا ہنس رہی تھی۔
علماء بھی ان کی باتیں سنتی رہی، مگر آج اس کی توجہ بار بار اپنے موبائل کی طرف جا رہی تھی۔
معاذ نے ایک بار پوچھا،
“سب ٹھیک ہے؟”
علماء نے مختصر سا جواب دیا۔
“ہاں۔”
“پکی بات؟”
“ہاں، بالکل۔”
معاذ نے مزید کچھ نہیں پوچھا۔
شام کو یونیورسٹی ختم ہوئی تو علماء کیف کے ساتھ گھر واپس آ گئی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ کمرے میں رکھا اور کچھ دیر بستر پر بیٹھ گئی۔
دن معمول کے مطابق ہی گزرا تھا۔پھر بھی اسے لگ رہا تھا جیسے کل رات کے بعد اس کے اندر کچھ بدل گیا ہو۔
اس نے موبائل اٹھایا۔
اسکرین پر کئی نوٹیفکیشنز موجود تھے۔
علماء نے ایک ایک کر کے نوٹیفکیشنز دیکھے، پھر سوشل میڈیا کھول لیا۔ کچھ دیر تک وہ بغیر کسی خاص مقصد کے مختلف پوسٹس اور ویڈیوز دیکھتی رہی۔
ایک ویڈیو اسکرول کرتے ہوئے اچانک اس کے سامنے آ گئی۔
سفید بیک گراؤنڈ تھا اس پے ایک آیت تھی۔

Surat No 4 : سورة النساء – Ayat No 108
یَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ وَ ہُوَ مَعَہُمۡ اِذۡ یُبَیِّتُوۡنَ مَا لَا یَرۡضٰی مِنَ الۡقَوۡلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطًا ﴿۱۰۸﴾

اور کیپشن میں لکھا تھا ۔ جس دن اس آیت کی میننگ سمجھ جاؤگے ترجمہ پڑھو گے بہت کُچھ سمجھنے لگلو گے دھیرے دھیرے۔
علماء نے جلدی سے قرآن کھولا ۔ Surat No 4 : سورة النساء – Ayat No 108
کھولا آیت سامنے آئی

یَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ وَ ہُوَ مَعَہُمۡ اِذۡ یُبَیِّتُوۡنَ مَا لَا یَرۡضٰی مِنَ الۡقَوۡلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطًا(۱۰۸

ترجمہ: وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں ( لیکن ) اللہ تعالٰی سے نہیں چھپ سکتے وہ راتوں کے وقت جب کہ اللہ کی ناپسندیدہ باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے ، ان کے تمام اعمال کو وہ گھیرے ہوئے ہے .

علماء نے ترجمہ دوبارہ پڑھا۔
پھر ایک بار اور۔
وہ آیت کو جانے کتنی دیر تک دیکھتی رہی۔ آخرکار اس نے آہستہ سے دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔
ایک بار…
دوسری بار…
تیسری بار…
وہ تقریباً دس مرتبہ آیت پڑھ چکی تھی، مگر ہر بار اسے یوں لگتا جیسے اس کے کسی ایک لفظ پر اس کی نظر رک جاتی ہو۔
اس کی آنکھوں سے آنسو خودبخود بہنے لگے۔
اس نے جلدی سے آنکھیں صاف کرنے کی کوشش کی، مگر آنسو رکنے کے بجائے مزید بہنے لگے۔
اچانک اسے کل رات کا وہ منظر یاد آ گیا۔
دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
کیف بھائی اندر آئے تھے۔
اور اس نے فوراً موبائل چھپا لیا تھا۔وہی چھوٹا سا منظر اس کے سامنے بار بار آ رہا تھا۔
لوگوں سے چھپایا جا سکتا ہے۔
لیکن اللہ سے؟
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
اس نے قرآن کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور کافی دیر خاموش بیٹھی رہی۔کمرے میں خاموشی تھی۔
علماء ابھی بھی قرآن اپنے ہاتھوں میں لیے بیٹھی تھی کہ پاس رکھا موبائل اچانک وائبریٹ ہوا۔
اس نے موبائل کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
چند لمحوں بعد دوبارہ وائبریشن ہوئی۔
اسکرین پر معاذ کا نام نمودار ہوا، مگر علماء کی نظریں قرآن پر ہی رہیں۔
موبائل کچھ دیر بعد خاموش ہو گیا۔
علماء نے گہری سانس لی اور دوبارہ آیت پر نظریں جما دیں۔
کچھ دیر بعد موبائل ایک بار پھر وائبریٹ ہوا۔
اس بار بھی اس نے اسے نہیں اٹھایا۔
اسے معلوم تھا کہ شاید معاذ کا میسج ہے، مگر آج پہلی بار اس کے دل میں اسے فوراً دیکھنے کی خواہش نہیں ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن علماء حسبِ معمول یونیورسٹی چلی گئی۔
کلاس سے پہلے وہ کوریڈور سے گزر رہی تھی کہ اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح ایک طرف خاموش بیٹھی تھی۔
وہ لڑکی اکثر اکیلی ہی نظر آتی تھی۔ نہ کسی کے ساتھ زیادہ بات کرتی، نہ دوستوں کے گروپ میں شامل ہوتی۔ علماء نے اسے کئی بار دیکھا تھا، مگر کبھی بات نہیں ہوئی تھی۔
آج نہ جانے کیوں علماء کے قدم خود ہی اس کی طرف بڑھ گئے۔
وہ اس کے قریب جا کر رک گئی۔
“آپ یہاں اکیلی بیٹھی ہیں؟”
لڑکی نے سر اٹھا کر علماء کو دیکھا، جیسے اسے اس کے بات کرنے کی توقع نہ ہو۔
“ہاں… بس۔”
علماء اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“کلاس شروع ہونے میں ابھی وقت ہے، سوچا آپ کے پاس بیٹھ جاؤں۔”
لڑکی نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
“آپ علماء ہیں نا؟”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“جی… آپ کو میرا نام کیسے پتا؟”
“کلاس میں سنا تھا۔”
کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھی رہیں۔
پھر لڑکی نے اچانک علماء کی طرف دیکھا۔
“ایک بات پوچھوں؟”
“ہمم، پوچھیں۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر سیدھا سوال کر دیا۔
“آپ محبت کرتی ہیں؟”
علماء ایک لمحے کے لیے خاموش رہ گئی۔
“کیا؟”
“معاذ سے…”
علماء کی نظریں بے اختیار اس کے چہرے پر اٹھیں۔علماء نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کے ذہن میں کل کی آیت کے الفاظ ایک بار پھر گونجنے لگے۔
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر نظریں جھکا لیں۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا؟””پتا نہیں… بس کبھی کبھی کچھ چیزیں نظر آ جاتی ہیں۔”
علماء نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کلاس شروع ہونے کی گھنٹی بجی تو دونوں اپنی جگہ سے اٹھ گئیں، مگر اس ایک سوال نے علماء کے ذہن میں جگہ بنا لی تھی۔کلاس کے بعد علماء لائبریری چلی گئی۔
وہ ایک کونے والی میز پر بیٹھ کر اپنی کتاب کھولے ہوئے تھی۔ آس پاس چند طلبہ خاموشی سے پڑھ رہے تھے۔
کچھ دیر بعد وہی لڑکی سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
علماء نے کتاب سے نظریں اٹھائیں۔
“آپ بھی پڑھنے آئی ہیں؟”
لڑکی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
“ہاں، لیکن آپ سے ایک بات کرنی تھی۔”
علماء نے کتاب بند کر دی۔
“کیا ہوا؟”
وہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر بولی:
“صبح میں نے آپ سے معاذ کے بارے میں پوچھا تھا۔ شاید آپ کو برا لگا ہو۔”
“نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔”
“میں بس یہ کہنا چاہتی تھی کہ کبھی کبھی ہمیں اپنے کچھ تعلقات کے بارے میں رک کر سوچنا چاہیے۔”
علماء خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔لڑکی نے کچھ لمحے علماء کو دیکھا، پھر آہستہ سے بولی:
“ہاں، محبت ہو جاتی ہے۔کبھی کسی کے لیے احساس پیدا ہو جاتے ہیں، کسی کی عادت ہو جاتی ہے، کسی کی باتیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔”
علماء خاموشی سے سنتی رہی۔
“لیکن محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ہر حد بھول جائے۔ محبت ہو جانا کوئی گناہ نہیں، مگر محبت کو اپنی زندگی کا ایسا حصہ بنا لینا کہ انسان صحیح اور غلط کا فرق بھول جائے… یہ ٹھیک نہیں۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی۔
“ہم مسلمان ہیں۔ ہمارا دین ہمیں نامحرم سے حدود قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ صرف یہ سوچ لینا کہ دل میں نیت صاف ہے، ہر چیز کو جائز نہیں بنا دیتا۔”علماء کی نظریں کتاب پر جم گئیں۔
لڑکی نے نرم لہجے میں کہا:
“محبت ہو جائے تو انسان اللہ سے مدد مانگ سکتا ہے، اپنے دل کو سنبھال سکتا ہے، اور اگر واقعی اس رشتے میں خیر ہو تو اسے حلال راستے سے حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ لیکن جب تک وہ رشتہ حلال نہ ہو، فاصلے اور حدود کا خیال رکھنا ہی بہتر ہے۔”
علماء نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ اس کے لبوں تک آ کر رک گئے۔
لڑکی نے مزید کچھ نہیں کہا۔
وہ خاموشی سے اپنی کتاب کھول کر بیٹھ گئی، اور علماء کافی دیر تک اسی ایک بات کے بارے میں سوچتی رہی۔لائبریری سے نکلنے کے بعد علماء واپس کلاس کی طرف آ گئی۔
معاذ بھی وہیں موجود تھا۔
اس کی نظر علماء پر پڑی تو اس نے معمول کے مطابق مسکرا کر پوچھا،
“کیا ہوا؟ آج اتنی خاموش کیوں ہو؟”
علماء نے مختصر سا جواب دیا۔
“کچھ نہیں۔”
پھر وہ اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئی۔
معاذ نے ایک دو بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر علماء ہر بار بات کو مختصر کر دیتی۔ پہلے جہاں وہ خود بات شروع کر دیتی تھی، آج وہ نظریں بھی چرا رہی تھی۔
معاذ نے آخرکار مزید کچھ نہیں پوچھا۔
باقی دن بھی اسی طرح گزر گیا۔
کلاس ختم ہوئی تو علماء نے اپنا بیگ اٹھایا اور کیف کے ساتھ گھر واپس آ گئی۔
گھر پہنچ کر اس نے کپڑے بدلے اور کچھ دیر اپنے کمرے میں بیٹھی رہی۔ اذان کی آواز سنائی دی تو وہ اٹھ گئی۔
اس نے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑی ہو گئی۔ وہ نماز پڑھ رہی تھی اُسکے انکھ سے آنسو قطرہ قطرہ گر رہا تھا ۔آج سے پہلے کبھی بھی وہ نماز میں نہیں روی تھی مگر آج آنسو خود آرہی تھے ۔ نماز کی ادائگی کے بعد دعا کے لیے اس نے ہاتھ اٹھائے آج دل میں بہت چیز تھی،بہُت بات تھی ،آج وہ اپنے رب کو بہت کچھ بتانا چاہ رہی تھی ۔اللہ میں بہت گناہ گار ہوں، بہت غلطیاں کی ہیں، میرے مالک جس چیز سے آپ نے منع کیا تھا آپ نے وہ بھی کر دیا۔
ایک آنسو اس کے ہاتھ پر گرا۔ میں پاگل تھی، میرے ملک میں آج آپ سے میری ہر غلطی کی معافی مانگنے آئی ہوں۔ آپ تو معاف کر دیتے ہونا، کیا مجھے بھی معافی ملے گی؟ کیا میں بھی کبھی ایک نیک انسان بن پاؤں گی؟ اللہ بہت تکلیف ہو رہی ہے۔آنسو مزید نکل رہے تھے۔وہ کافی دیر تک ہاتھ اٹھائے بیٹھی رہی۔
پھر آہستہ سے ہاتھ چہرے پر پھیرے اور آنکھیں صاف کیں۔ کچھ دیر جائے نماز پر خاموش بیٹھی رہی، جیسے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا ہو۔
اتنے میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
علماء نے فوراً آنسو صاف کیے۔
“کون؟”
“میں ہوں۔”
کیف کی آواز سن کر علماء نے جلدی سے دوپٹہ درست کیا۔
“آ جائیں۔”
کیف اندر آیا تو ایک نظر علماء کے چہرے پر پڑی۔ آنکھیں ابھی بھی سرخ تھیں۔
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
“رو رہی تھی؟”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“نہیں… بس۔”
کیف نے اسے غور سے دیکھا۔
“علماء، مجھے نہیں پتا کیا بات ہے، لیکن اگر کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتا سکتی ہو۔”
علماء خاموش رہی۔
کیف نے دوبارہ پوچھنے کے بجائے کچھ دیر اسے خاموش رہنے دیا۔
“دیکھو، میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا۔ جب دل کرے تب بتانا۔علماء نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔
کچھ لمحوں بعد اس نے آہستہ سے کہا،
“بھائی… ایک بات بتانی ہے۔”
“ہمم، بتاؤ۔”
“آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہوں گے؟”
کیف نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“پہلے بتاؤ تو سہی۔ پھر دیکھیں گے ناراض ہونا ہے یا نہیں۔””مجھے… معاذ پسند ہے۔”
کیف خاموش ہو گیا۔
علماء نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
“ہم یونیورسٹی میں ایک ساتھ تھے، پھر بات چیت ہونے لگی۔ پہلے بس عام سی باتیں ہوتی تھیں، پھر… پتا ہی نہیں چلا کب بات کرنا عادت بن گئی۔”
وہ کچھ لمحے رکی۔
“اور پھر مجھے اس سے محبت ہو گئی۔”
کیف نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا۔
تم اُس لڑکے کو کے دو رِشتہ لیکے آئے۔ اور ہاں میں نہیں چاہونگا کے تم اُس لڑکے سے بات کرو ۔محبّت ہوگئی ہم کُچھ نہی کر سکتے ۔
بس ایک چیز کر سکتے ہیں وہ ہے نکاح یہ زیادہ بہتر رہےگا۔
علماء نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔کیف کمرے سے باہر چلا گیا۔
—
اگلے دن علماء یونیورسٹی پہنچی تو اس کے ذہن میں کیف کی باتیں بار بار آ رہی تھیں۔
کلاس کے بعد معاذ نے اسے روک لیا۔
“علماء، ایک منٹ۔”
علماء رک گئی۔
“کیا ہوا؟”
معاذ نے اسے غور سے دیکھا۔
“کچھ دنوں سے تم بہت بدل گئی ہو۔ مجھ سے بات بھی نہیں کر رہی۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو بتاؤ۔”علماء نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے کہا،
“معاذ، ہمیں بات نہیں کرنی چاہیے۔”
معاذ کے چہرے پر حیرت آ گئی۔
“کیوں؟”
“کیونکہ ہمارا رشتہ حلال نہیں ہے۔ ہم ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں۔ اور میں نے بہت سوچنے کے بعد یہ بات سمجھی ہے کہ نامحرم سے بلاوجہ باتیں کرنا، ہنسی مذاق کرنا، ایک دوسرے سے اس طرح جڑے رہنا… یہ سب مجھے نہیں کرنا چاہیے۔”
معاذ کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر اس نے دھیرے سے کہا،
“تو تم کہہ رہی ہو کہ ہمارا رشتہ حرام ہے؟”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“ہمارا تعلق جس طرح چل رہا تھا، وہ صحیح نہیں تھا۔”
معاذ نے ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا، پھر بولا،
“تو پھر ہمیں بات نہیں کرنی چاہیے۔”
علماء نے سر ہلا دیا۔
“ہاں۔”
معاذ نے اچانک پوچھا،
“لیکن ایک بات پوچھوں؟”علماء نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم اپنے کزن سے بھی تو اتنا ہنسی مذاق کرتی تھیں۔ اس وقت تمہیں یہ غلط نہیں لگتا تھا؟”
علماء کچھ لمحے خاموش رہی۔
پھر اس نے صاف لہجے میں کہا،
“لگتا تھا۔”
معاذ نے اسے دیکھا۔
“کیا؟”
“غلط تھا۔”
وہ کچھ لمحے رکی۔
“میں تب غلطی پر تھی، شاید مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ میں نے جو کیا، غلط کیا۔ لیکن صرف اس لیے کہ میں پہلے غلط تھی، اب بھی وہی غلطی دہراتی رہوں، یہ تو ٹھیک نہیں۔”
معاذ خاموش رہا۔
علماء نے آہستہ سے کہا،
“میں مانتی ہوں کہ میں گمراہ تھی۔ مجھے بہت سی باتوں کا احساس نہیں تھا۔ لیکن اب مجھے احساس ہو گیا ہے۔ اور اب میں کسی بھی نامحرم سے بلاوجہ بات نہیں کروں گی، نہ ہنسی مذاق، نہ ایسی دوستی جس کا دین میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔”
معاذ نے نظریں جھکا لیں۔
علماء کی آواز میں اب پہلے جیسی گھبراہٹ نہیں تھی۔
“اگر محبت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر چیز جائز سمجھ لیں۔ اگر ہمارے لیے اس رشتے میں خیر ہے تو پھر اسے صحیح راستہ بھی ملے گا۔”
معاذ نے کچھ نہیں کہا۔
علماء نے آہستہ سے کہا،
میں چاہتی ہوں کہ ہمارا راستہ حرام کی طرف نہ جائے۔ میں نے کل بھی بھائی کو اپنے بارے میں بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں تُم سے کہیں راستہ لینے کے لیے۔
معاذ چند لمحے خاموش رہا، پھر ہلکی سی حیرت کے ساتھ بولا،
“تم پاگل ہو؟ اپنے بھائی کو بھی بتا دیا؟”
علماء نے اسے دیکھا۔
“اس میں پاگل ہونے والی کیا بات ہے؟”
“تمہیں اتنی جلدی سب کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟”
علماء نے دھیرے سے کہا،
“کیونکہ اگر ہمیں ایک دن شادی ہی کرنی ہے تو گھر والوں کو بتانا تو پڑے گا نا۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ ہم چھپ چھپ کر باتیں کرتے رہیں اور پھر کبھی نہ کبھی سب کچھ گھر والوں کے سامنے آئے۔”
معاذ خاموش ہو گیا۔
علماء نے بات جاری رکھی۔
“میں تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتی، معاذ۔ لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ تمہیں پانے کے لیے میں اللہ کی نافرمانی کرتی رہوں۔ اگر ہمارے نصیب میں ایک دوسرے کا ساتھ ہے تو وہ صحیح راستے سے بھی مل سکتا ہے۔”

معاذ نے نظریں جھکا لیں۔
کچھ لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر معاذ نے آہستہ سے کہا،
“تم واقعی بدل گئی ہو۔”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“شاید بدلنا ضروری تھا۔”پوچھا،
“تم لوگ میرا ہاتھ مانگنے آؤ گے نا؟ ہمارے اس رشتے کو نکاح کا نام دو گے نا؟”
معاذ نے نظریں چرا لیں۔
“علماء… میں نہیں کر سکتا۔”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیوں؟”
“میں تمہارا رشتہ نہیں لے کر آ سکتا۔”
“تم نہیں لا سکتے؟”
اس کی آواز میں بے یقینی تھی۔
“محبت کرتے ہو مجھ سے، پھر رشتہ نہیں لا سکتے؟”
معاذ خاموش رہا۔پھرمعاذ نے آہستہ سے کہا،
“ابھی ہماری پڑھائی چل رہی ہے۔ ابھی شادی نہیں کر سکتے۔”
علماء نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔
“اچھا، ابھی شادی نہیں کریں گے۔”
وہ ذرا رکی، پھر بولی،
“لیکن بات تو پکی کر سکتے ہیں نا؟”
معاذ نے کچھ نہیں کہا۔
“ہم اپنے گھر والوں کو بتا دیں گے۔ رشتہ طے ہو جائے گا۔ پھر دو سال بعد جب ہماری پڑھائی ختم ہو جائے گی تو شادی کر لیں گے۔”
معاذ نے نظریں جھکا لیں۔
علماء کی آواز میں اب نرمی تھی۔
“لیکن تب تک ہم ایسے چھپ کر بات نہیں کریں گے۔ نہ روز میسج کریں گے، نہ فون پر باتیں کریں گے۔ اگر ہم واقعی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو دو سال انتظار بھی کر سکتے ہیں۔”معاذ خاموش رہا۔
علماء نے آہستہ سے کہا،
“میں نہیں چاہتی کہ ہم دوبارہ اسی غلط راستے پر جائیں۔ میں نہیں چاہتی کہ ہم گھر والوں سے چھپ کر بات کرتے رہیں۔ اگر تم میرے لیے صحیح ہو تو پھر یہ رشتہ صحیح طریقے سے بھی ہو سکتا ہے۔”
معاذ نے سر اٹھایا۔
“علماء…”
“ہمم؟”
“میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔”
علماء کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی۔
“کیوں نہیں کر سکتے؟”
معاذ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
علماء نے دوبارہ پوچھا،
“معاذ، کیوں؟”
مگر وہ خاموش رہا۔
علماء کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی،
“تم نے مجھ سے کہا تھا نا کہ ساتھ دو گے؟”
معاذ خاموش رہا۔
“وہ وعدہ یاد ہے تمہیں؟ تم نے کہا تھا جب تک سانس چلے گی، ساتھ دو گے۔”
اس کی آواز دھیمی ہوتی گئی۔
“آج وہ ساتھ دینے کا وقت آیا ہے، معاذ۔ تم دو گے نا میرا ساتھ؟”
معاذ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
علماء نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم نے یہ بھی کہا تھا کہ میری عزت کو اپنی عزت سمجھو گے۔ مجھے عزت دو گے نا؟”
معاذ نے نظریں جھکا لیں۔
علماء کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔
“اور تم نے کہا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو…”
وہ کچھ لمحے رکی۔
“تو اب جب مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے، تم خاموش کیوں ہو؟”
معاذ نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔
پھر اس نے بہت سادہ لہجے میں کہا،
“نہیں کرتا میں تم سے محبت۔”
علماء جیسے اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔
معاذ نے نظریں ہٹا لیں۔
“وہ سب جھوٹ تھا۔”
کچھ لمحوں تک علماء کچھ نہیں بولی۔

اسے یوں لگا جیسے ابھی ابھی کہی ہوئی ہر بات کا مطلب بدل گیا ہو۔
“جھوٹ…؟”
اس کے منہ سے بمشکل نکلا۔
معاذ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
علماء نے اسے دیکھا، جیسے شاید وہ اگلے ہی لمحے کہہ دے گا کہ وہ مذاق کر رہا تھا۔
مگر معاذ خاموش رہا۔
اس خاموشی میں علماء کو اپنے ہی سوال کا جواب مل گیا۔
وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی۔
آج پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ جس شخص کے ساتھ نے اسے ہمیشہ مضبوط رکھا تھا، وہی شخص اسے اکیلا چھوڑ کر کھڑا ہے۔
آج اس نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔آج اس نے بے وفائی کر دی تھی۔وفا کی باتیں کرنے والے نے آج وفا نہیں نبھائی آج وہ اُسے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
اسے یاد آیا، معاذ نے کبھی کہا تھا کہ وہ اس کا ساتھ دے گا۔ اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھے گا۔ اسے کبھی اکیلا محسوس نہیں ہونے دے گا۔
مگر آج وہ سب باتیں اس کے سامنے بکھری ہوئی تھیں۔
نہ کوئی وضاحت تھی، نہ کوئی وعدہ۔
بس ایک جملہ تھا۔
“وہ سب جھوٹ تھا۔”
علماء نے آہستہ سے سانس لیا۔
اسے رونا نہیں آیا۔وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی، پھر بغیر کچھ کہے اپنا بیگ اٹھا لیا۔
معاذ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا، مگر روکا نہیں۔
علماء نے بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
آج وہ اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔
اور شاید سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ جس کے ساتھ کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی، وہی آج اس کے ساتھ نہیں تھا۔
علماء گھر پہنچی تو سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
سعدیہ بیگم نے اسے آواز دی، مگر اس نے صرف اتنا کہا کہ وہ تھک گئی ہے۔
کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔
اس کے ہاتھ میں ابھی بھی بیگ تھا۔
اس نے آہستہ سے بیگ نیچے رکھا اور بستر پر بیٹھ گئی۔
صبح سے جو کچھ ہوا تھا، وہ بار بار اس کے ذہن میں آ رہا تھا۔
“میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔”
پھر اس کا وہی چہرہ۔
وہی خاموشی۔
اور آخر میں—
“نہیں کرتا میں تم سے محبت۔”
علماء نے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ خود کو سمجھانا چاہتی تھی کہ شاید اسے غلط فہمی ہوئی ہو، شاید معاذ کے پاس کوئی وجہ ہو، شاید وہ غصے میں تھا۔
مگر پھر وہی جملہ یاد آ جاتا۔
“وہ سب جھوٹ تھا۔”
اس نے آنکھیں کھولیں اور موبائل اٹھا لیا۔
اسکرین پر معاذ کا نام دیکھ کر اس کی انگلی کچھ لمحوں کے لیے رک گئی۔
نہ کوئی نیا میسج تھا، نہ کوئی کال۔
اس نے موبائل واپس رکھ دیا۔
شام گزرتی گئی۔رات کو سب کے سو جانے کے بعد کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
علماء بستر پر لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔علماء کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
اس نے کروٹ بدل لی اور چہرہ تکیے میں چھپا لیا۔
پھر جیسے سارا دن روکے ہوئے آنسوؤں کو راستہ مل گیا۔
وہ بے آواز روتی رہی۔
کبھی آنکھیں پونچھتی، پھر کچھ دیر بعد آنسو دوبارہ بہنے لگتے۔
آج اسے سمجھ آ رہا تھا کہ کسی کے ساتھ کی عادت پڑ جائے تو اس کے چلے جانے کے بعد کمرے کی خاموشی بھی کتنی بھاری لگتی ہے۔
اس نے تکیے سے چہرہ اٹھایا۔
آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔
کچھ دیر وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔ پھر آہستہ سے بستر سے اٹھی، وضو کیا اور جائے نماز بچھا لی۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ وہیں بیٹھ گئی۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
علماء نے ہاتھ اٹھائے، مگر کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“اللہ…”
آواز بھرا گئی۔
“مجھے معاف کر دیں۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر جیسے دل میں جمع ہر بات اپنے رب کے سامنے رکھ دی۔
“آج مجھے سمجھ آیا ہے…”
اس نے آنسو صاف کیے۔
“آج مجھے سمجھ آیا ہے کہ آپ نے نامحرم سے دور رہنے کا کیوں کہا تھا۔ مجھے پہلے یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔اس کی آواز پھر ٹوٹ گئی۔
“لیکن میں غلط تھی، اللہ۔”
وہ سر جھکا کر رونے لگی۔
“مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب بات کرنا عادت بن گیا، کب اس کی آواز سننے کی عادت پڑ گئی، کب اس کے ایک میسج کا انتظار ہونے لگا… اور کب میں آپ سے زیادہ ایک انسان کے بارے میں سوچنے لگی۔”
کمرے میں اس کی سسکیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔
“آپ نے تو مجھے پہلے ہی سمجھا دیا تھا… کہ نامحرم سے فاصلے رکھو۔ مگر میں نہیں سمجھی۔ میں اپنی محبت کو صحیح سمجھتی رہی۔”اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
“آج سمجھ آ گیا ہے، اللہ… آج واقعی سمجھ آ گیا ہے۔”
کچھ دیر بعد اس نے ہاتھ دوبارہ اٹھائے۔
“دن میں میں حرام کی طرف آتی رہی… اور رات کو آپ کے سامنے آ کر معافی مانگ رہی ہوں۔”
اس کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
“میں نے غلط کیا۔ بہت غلط کیا۔ مجھے معاف کر دیں۔”
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا،
“میں نے آپ کو بھلا دیا تھا، اللہ۔ مجھے اپنی محبت سب سے بڑی لگنے لگی تھی۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جس دل کو آپ نے دیا ہے، اس دل کا حق سب سے پہلے آپ کا ہے۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہی۔
“آج وہ شخص بھی چلا گیا… لیکن شاید آپ نے مجھے نہیں چھوڑا۔ شاید اسی لیے آج مجھے اپنی غلطی سمجھ آ گئی۔”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“اللہ، میں نہیں جانتی کہ میں آپ کے سامنے کس منہ سے معافی مانگوں… لیکن آپ ہی تو ہیں جن کے پاس گناہ گار واپس آ سکتا ہے۔”
اس کی آواز بہت دھیمی ہو گئی۔
“مجھے معاف کر دیں۔””اور اگر میں دوبارہ کبھی اس راستے پر جانے لگوں تو مجھے روک لینا۔ میرے دل کو اپنے قریب کر لینا۔”
وہ روتے ہوئے بولی،
“مجھے حلال اور حرام کا فرق سمجھنے والی بنا دیں۔ مجھے ایسا دل دے دیں جو آپ کی رضا کو اپنی خواہش پر ترجیح دے۔”
پھر کچھ دیر وہ خاموش رہی۔
آنسو آہستہ آہستہ بہتے رہے۔
“اللہ… آج مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ لیکن شاید یہ تکلیف ضروری تھی۔ شاید مجھے یہ سمجھنے کے لیے اتنا ٹوٹنا ہی تھا
اس نے ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے۔
“بس ایک بات ہے… مجھے اپنے سے دور مت کرنا۔” اپنے رب سےباتیں کرتے کرتے نا جانے کب وہ سو گئی تھی اُسے خود بھی پتہ نہیں چلا تھا۔

صبح کی ہلکی روشنی پردوں سےکمرے میں آ رہی تھی۔
علماء کی آنکھ کھلی تو کچھ دیر وہ خاموش لیٹی رہی۔ رات کو جو کچھ ہوا تھا، سب آہستہ آہستہ یاد آنے لگا۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور بستر سے اٹھ گئی۔
نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد وہ کچھ دیر جائے نماز پر بیٹھی رہی، پھر کمرے سے باہر آ گئی۔
کیف ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا۔
علماء خاموشی سے آ کر اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
کیف نے اسے دیکھا۔
“کیا ہوا؟”
علماء نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا،
“بھائی… مجھے آپ سے ایک بات بتانی ہے۔”
کیف نے ناشتہ ایک طرف رکھ دیا۔
“ہاں، بتاؤ۔”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“کل میں معاذ سے ملی تھی۔”
کیف کا چہرہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
“وہی یونیورسٹی والا لڑکا؟”
علماء نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
“جی۔”
“کیا ہوا؟”
علماء نے اسے کل کی ساری بات بتا دی۔ کہ اس نے معاذ سے نکاح کے بارے میں بات کی، اپنے اور اس کے درمیان فاصلے رکھنے کی بات کی، اور پھر معاذ نے کیا جواب دیا۔
آخر میں اس نے دھیمی آواز میں کہا،
“اس نے کہا کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا… اور جو کچھ اس نے پہلے کہا تھا، وہ سب جھوٹ تھا۔”
کیف کچھ لمحے خاموش رہا۔
پھر اس نے پوچھا،
“اور تم؟”
“میں…”
علماء کی آواز بھرا گئی۔
“میں بہت روئی تھی۔”
کیف نے آہستہ سے سانس لی۔
“علماء، اس نے جو بھی کہا، وہ اس کی بات ہے۔ لیکن میں ایک بات ضرور پوچھوں گا۔”
علماء نے اسے دیکھا۔
“وہ لڑکا ہے کون؟”
علماء خاموش رہی۔
کیف نے دوبارہ پوچھا،
“نام معاذ ہے نا؟”
“جی۔”
“کون سے ڈیپارٹمنٹ میں ہے؟”
“میرے ساتھ ہی کلاس میں ہے۔”
کیف نے کچھ لمحے سوچا، پھر سیدھا سوال کیا،
“آج یونی جا رہی ہو؟”
“جی۔”
“تو آج مجھے دکھانا اسے۔”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ کو؟”
“ہاں۔”
“کیوں؟”
کیف نے بالکل سادہ لہجے میں کہا،
“بس دیکھنا ہے کون ہے وہ لڑکا جس نے تمہیں اتنا پریشان کیا۔”
علماء کچھ نہیں بولی۔
کیف نے مزید کہا،
“میں کوئی تماشا نہیں کروں گا۔ بس اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ آخر مجھے بھی تو پتا ہو کہ تم کس کے بارے میں اتنے دنوں سے سوچتی رہی ہو۔”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“بھائی، پلیز آپ اس سے کچھ کہنا مت۔”
کیف نے اسے دیکھا۔
“میں نے کہا نا، میں کچھ نہیں کروں گا۔”کچھ دیر بعد دونوں یونیورسٹی جانے کے لیے گھر سے نکل گئے۔
راستے میں کیف نے اس موضوع کو دوبارہ نہیں چھیڑا۔
یونیورسٹی کے گیٹ کے قریب پہنچ کر علماء نے باہر دیکھا۔
طلبہ حسبِ معمول اپنی کلاسز کی طرف جا رہے تھے۔
کیف نے گاڑی روکی۔
“کہاں ہے؟”
علماء نے ایک نظر سامنے دیکھا۔
کچھ فاصلے پر معاذ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔
علماء چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی،
“وہ…”
کیف نے اس کی نظر کے رخ کو دیکھا۔
“کون؟”
علماء نے ہلکے سے اشارہ کیا۔
“وہ جو بلیک شرٹ میں کھڑا ہے۔”
کیف نے معاذ کی طرف دیکھا۔
کچھ لمحے اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
پھر علماء کی طرف متوجہ ہوا۔
“یہ ہے؟”
علماء نے سر ہلا دیا۔
“جی۔”
کیف نے دوبارہ ایک نظر معاذ پر ڈالی۔
اس کے چہرے پر اب بھی سنجیدگی تھی، مگر اس نے علماء سے کچھ نہیں کہا۔
بس اتنا بولا،
“اچھا۔”
علماء نے بیگ اٹھایا اور گاڑی سے اترنے لگی۔
کیف نے اسے روکا۔
“علماء۔”
وہ مڑی۔
“جی؟”
“فکر مت کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
علماء نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر خاموشی سے سر ہلا دیا۔
“جی بھائی۔”
وہ یونیورسٹی کی طرف چل دی۔
کیف کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا، پھر اس کی نظر دوبارہ معاذ پر گئی۔
اس نے گاڑی اسٹارٹ کی، مگر جانے سے پہلے ایک بار پھر اسی طرف دیکھا۔
علماء یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئی تو سامنے انوشے اور زارا کھڑی تھیں۔
انوشے کے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا اور زارا اس کے موبائل کی اسکرین دیکھ رہی تھی۔
علماء ان کے پاس پہنچی۔
“کیا دیکھ رہی ہو؟”
زارا نے موبائل اس کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ دیکھو، ہماری کلاس کا نیا ٹائم ٹیبل آیا ہے۔”
علماء نے اسکرین دیکھی۔
“اچھا، تو جمعرات کو بھی کلاس ہے؟”
“ہاں، اور وہ بھی صبح آٹھ بجے۔” انوشے نے منہ بنایا۔ “اتنی صبح کون یونیورسٹی آتا ہے؟”
علماء ہنس دی۔
“ہم آتے ہیں۔”
“تم آ جایا کرو، میں تمہاری حاضری لگوا دوں گی۔”
زارا نے فوراً کہا،
“اور پھر پروفیسر پکڑ لیں گے کہ انوشے کہاں ہے۔”
تینوں ہنس پڑیں۔
کلاس شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا، اس لیے وہیں کھڑی ہو کر اسائنمنٹ اور اگلے ہفتے ہونے والے کوئز کے بارے میں بات کرتی رہیں۔
کچھ دیر بعد انوشے نے علماء سے پوچھا،
“تم نے وہ پریزنٹیشن والی فائل دوبارہ بنائی تھی؟”
“ہاں، کل رات۔”
“مجھے بھیج دینا۔ میری فائل کہیں غائب ہو گئی ہے۔”
“تم ہر چیز آخری وقت پر کیوں ڈھونڈتی ہو؟”
“کیونکہ وقت سے پہلے کام کرنا مجھے آتا ہی نہیں۔”
زارا نے ہنستے ہوئے کہا،
“یہ اس کی پرانی بیماری ہے۔”
علماء مسکرا دی۔
کلاس کا وقت ہوا تو تینوں اندر چلی گئیں۔
علماء نے پورا دن عام دنوں کی طرح گزارنے کی کوشش کی۔ کبھی لیکچر، کبھی نوٹس، کبھی دوستوں کے ساتھ چھوٹی موٹی باتیں۔
معاذ بھی وہیں تھا۔
اس کی نظر ایک دو بار علماء کی طرف گئی، مگر دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
چھٹی کے وقت انوشے نے اپنا بیگ اٹھایا۔
“میں آج سیدھا گھر جا رہی ہوں۔ امی نے کہا ہے جلدی آنا۔”
زارا نے پوچھا،
“کل آؤ گی؟”
“اگر صبح اٹھ گئی تو۔”
علماء ہنس دی۔
“تمہیں کوئی الارم نہیں جگا سکتا۔”
“تم دعا کیا کرو میرے لیے۔”
تینوں یونیورسٹی کے گیٹ تک ساتھ آئیں، پھر اپنی اپنی طرف چل دیں۔
علماء بھی گھر واپس آ گئی۔
رات کو سب کے سو جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی تھی۔
اس نے ہاتھ اٹھائے۔
“اللہ…”
کچھ لمحے خاموش رہی۔
پھر آہستہ سے بولی،
“دیکھیں، آج بھی میں نے اس سے بات نہیں کی۔”
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“وہ سامنے تھا… لیکن میں نے خود کو روک لیا۔”
اس نے گہری سانس لی۔
“دل میں بہت سے سوال تھے، مگر میں نے کوئی سوال نہیں کیا۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی۔اس نے ہاتھ چہرے پر پھیر لیے۔
“مجھے دوبارہ وہی غلطی نہیں کرنی۔”
رات اسی خاموشی میں گزر گئی۔
اگلی صبح علماء معمول کے مطابق یونیورسٹی پہنچ گئی۔ جیسے ہی وہ میں گاتے کے اندر پہنچی سب اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔
وہ اپنے کلاس روم میں گئی اُسے بہت عجیب لگ رہا تھا ۔
سب کی نظر اسپ تھی ۔انوشے بھی وہیں تھی علماء انوشے کے پاس گئی اور کہا ۔انوشے یار یہ سب لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے۔انوشے نے اپنا فون نکالا۔
“یہ دیکھو۔”
علماء نے فون اس کے ہاتھ سے لیا۔
اسکرین پر ایک چیٹ کھلی ہوئی تھی۔
علماء کی نظریں پہلے میسج پر پڑیں، پھر اگلے پر۔
وہ چند لمحوں میں ہی پہچان گئی۔
یہ اس کی چیٹ تھی۔
اس کے اپنے الفاظ۔
اس کے اپنے میسجز۔
وہ باتیں جو اس نے کبھی معاذ سے کی تھیں۔
لیکن چیٹ میں کہیں بھی معاذ کا نام نہیں تھا۔
نہ اس کا ذکر، نہ کوئی ایسی چیز جس سے صاف پتا چلتا کہ وہ کس سے بات کر رہی تھی۔
علماء کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔
اس نے فوراً انوشے کی طرف دیکھا۔
“یہ چیٹ تمہارے پاس کیسے آئی؟”
انوشے نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ صرف علماء کو دیکھتی رہی۔
پھر بولی،
“علماء… تم یہ سب کیا کر رہی تھیں؟”
“کیا مطلب؟”
“یہ سب تمہاری چیٹ ہے نا؟”
علماء نے فون کی اسکرین کی طرف دیکھا۔
“ہاں…”
پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا۔
“لیکن یہ تمہارے پاس کیسے آئی؟”
اسی وقت زارا پیچھے سے ان کے قریب آئی۔
“صرف انوشے کے پاس نہیں ہے۔”
علماء نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“کیا؟”
زارا نے اپنا فون نکالا اور اسکرین علماء کے سامنے کر دی۔
وہی چیٹ وہاں بھی کھلی ہوئی تھی۔
علماء کچھ لمحوں تک اسے دیکھتی رہی۔
“یہ… تمہارے فون میں بھی؟”
زارا نے سر ہلایا۔
“ہاں۔”
علماء کے چہرے پر پریشانی واضح ہو گئی۔
“لیکن… یہ تو میری پرائیویٹ چیٹ تھی۔”
انوشے نے آہستہ سے کہا،
“علماء، یہ صرف میرے اور زارا کے فون میں نہیں ہے۔”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تو اور کس کے پاس ہے؟”
زارا نے کلاس کی طرف دیکھا۔
“سب کے فون میں۔”
علماء کے قدم جیسے وہیں رک گئے۔
“سب کے…؟”
انوشے نے سر ہلایا۔
“ہاں۔”
کچھ لمحوں کے لیے تینوں خاموش رہیں۔
علماء نے دوبارہ فون کی اسکرین دیکھی۔
وہی الفاظ۔
وہی چیٹ۔
مگر سامنے والے شخص کا نام کہیں نہیں تھا۔
بس اس کی اپنی باتیں تھیں۔
اور اب پوری کلاس جانتی تھی کہ وہ باتیں علماء کی تھیں۔
علماء ابھی تک زارا کے فون کی اسکرین دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر کلاس کے دوسرے کونے کی طرف گئی۔
معاذ اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا۔
وہ بالکل پرسکون نظر آ رہا تھا۔ جیسے کلاس میں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
علماء کی نظر اس پر ٹھہر گئی۔
کچھ لمحے وہ اسے دیکھتی رہی۔اس نے دوبارہ فون کی اسکرین دیکھی، پھر معاذ کی طرف دیکھا۔
وہ اب بھی اپنی جگہ بیٹھا تھا، فون ہاتھ میں لیے کچھ دیکھ رہا تھا۔
علماء کے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔
اسے لگا شاید معاذ نے ہی ان کی چیٹس سب کو بھیجی ہیں۔
شاید اسی لیے وہ اتنا پرسکون بیٹھا ہے۔
شاید وہ چاہتا تھا کہ سب کو ان کی باتوں کا پتا چل جائے۔
علماء نے نظریں فوراً ہٹا لیں۔
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
انوشے نے اس کی طرف دیکھا۔
“علماء؟”
علماء نے جواب نہیں دیا۔
اس کی نظر ایک بار پھر بے اختیار معاذ کی طرف گئی۔
اس بار معاذ کی نظر بھی اس سے مل گئی۔
دونوں کی نظریں صرف ایک لمحے کے لیے ملیں۔
علماء نے فوراً نظریں جھکا لیں۔علماء کچھ دیر کلاس میں بیٹھی رہی، مگر اس کا دھیان بار بار اسی چیٹ کی طرف جا رہا تھا۔
آخرکار وہ اپنی کتابیں اٹھا کر لائبریری چلی گئی۔
لائبریری میں نسبتاً خاموشی تھی۔ وہ ایک کونے والی میز پر جا کر بیٹھ گئی اور کتاب کھول لی، مگر چند لمحے گزرنے کے باوجود ایک صفحہ بھی نہیں پڑھ سکی۔
اس کے سامنے بار بار وہی چیٹ آ رہی تھی۔اور پھر معاذ کا پرسکون بیٹھا ہونا اسے مزید الجھا رہا تھا۔
کچھ دیر بعد لائبریری کا دروازہ کھلا۔
علماء نے بے اختیار نظر اٹھائی۔
معاذ اندر آیا۔
اس کی نظر بھی علماء پر پڑی، مگر وہ کچھ کہے بغیر ایک طرف سے چلتا ہوا اسی میز کے قریب آ گیا۔
علماء نے فوراً کتاب بند کر دی۔
معاذ نے کرسی کھینچ کر سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا،
“کیا ہوا؟”
علماء نے اسے چند لمحے دیکھا۔
پھر سیدھا سوال کیا،
“یہ چیٹ تم نے سب کو بھیجی ہے؟”
معاذ کے چہرے پر حیرت آئی۔
“کون سی چیٹ؟”
علماء نے اپنا فون اس کے سامنے رکھ دیا۔
“یہ۔”
معاذ نے اسکرین کی طرف دیکھا۔
چند لمحے خاموش رہا۔
علماء اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
“یہ سب کے فون میں ہے، معاذ۔”
معاذ نے دوبارہ اسکرین دیکھی۔
“تمہیں لگتا ہے میں نے یہ بھیجی ہے؟”
علماء نے نظریں نہیں ہٹائیں۔
“مجھے نہیں پتا۔ لیکن مجھے اور کون نظر آتا ہے؟”
معاذ کچھ دیر خاموش رہا۔فر کہنا شروع کیا ہاں میں نے بھیجی ہے ۔ علماء دو پل کے لیے سکات کھڑی رہی۔ تُم نے ایسا کیوں کیا معاذ۔ آنکھوں میں آنسو تھے ۔ تمھیں کیا ملا یہ کرکے۔
تمھاری وجہ سے سب مجھے ایسے دیکھ رہے ہیں۔میری عزت بولتے ہوئے اُسکے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔
تمھیں اندازہ بھی ہے تم نے میری زندگی برباد کی ہے ۔ تمھیں احساس بھی ہے ۔محبّت کرتے تھے یہ کہہ تھا تُم نے کبھی آج تُم نے محبّت کو رُسوا کردیا معاذ شاہ ۔
تمھیں اندازہ بھی ہے تمھارے اس ایک حرکت کی وجہ سے مجھے کیا کچھ نہیں سہنا پڑےگا ۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہی۔
“میری زندگی تو تم نے برباد کر دی۔”علماء نے اسے دیکھا۔
“میں نے تم پر بھروسہ کیا تھا۔ تمہیں اپنی باتیں بتائیں، اپنی کمزوریاں بتائیں… محبّت کرتی تھی تمھیں۔۔اور تم سے محبت کرکے مجھے کیا ملا یہ ؟ اس کی آنکھ سے ایک آنسو گر گیا۔
“تم نے میرا وہ بھروسہ بھی توڑ دیا۔”کیوں کیا تمنے ایسا؟
معاذ نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا،
“کیونکہ تمہارے بھائی نے مجھ سے ملنے کی کوشش کی تھی۔”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیف بھائی؟”
“ہاں۔”
معاذ کی آواز اب بھی پرسکون تھی۔
“وہ میرے پاس آیا تھا۔”
علماء کچھ نہیں بولی۔
“اور اس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ تم سے دور رہوں۔””مجھے اس کا اس طرح آنا اور مجھے دھمکی دینا بالکل پسند نہیں آیا۔”
علماء کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
میںنے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ میں اس دھمکی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔
اور میںنے لے لیا۔ علماء کو جیسے بھروسہ ہی نہیں ہو رہا تھا۔
علماء نے کہنا شروع کیا اُس بات کا بدلہ تمنے میری عزت داؤ پے لگا دی۔ میری زندگی برباد کردی ۔میں تو اس معاذ کو نہیں تھی جانتی ۔ تُم کیو ایسا کر رہے ۔ میں نے تم سے بہت محبت کی تھی ۔
مگر آج جیسے لگ رہا میں تمھیں جانتی ہی نہیں ۔آج مجھے گھیںن آرہی ہے تم سے ۔ میں تمھیں کبھی معاف نہیں کرونگی معاذ کبھی نہیں ۔ تُم نے میرے آنکھوں میں بہت آنسو لائے ہے تُم نے میرے ساتھ بہت غلط کیا ۔بہت زیادہ ۔ میں نے کتنی تُم سے محبّت کی تھی آج اُس سے زیادہ نفرت ہو رہی ہے ۔ شدید نفرت ۔ یہ کہتے ہوئے علماء وہاں سے چلی گئی یونی چھوٹتے ہی علماء فوراً اپنے گھر پہنچی آج کیف اُسے لینے نہیں آیا تھا وہ جانتی تھی۔ کے آج کیف باہر گیا ہیں
وہ اکیلے اپنے گھر آئی تھی اور آتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ کمرے میں جاتے ہی اس نے سب سے پہلے اپنا بگ اُترا پھر بیڈ پے لیٹ گئی وہ رو رہی تھی آنسو انکھ سے بہ رہے تھے ۔سے فت رہا تھا تکلیف ہو رہی۔ آج غلطی کی سزا ملی تھی اُسے ۔ آج اُسے اس کے محبّت نے رُسوا کیا تھا ۔روتے روتے وہ سو چکی تھی رات کا وقت تھا سعدیہ بیگم علماء کو کھانا کھانے کے لیے بولنے آئی تھی ۔ علماء نے کھانے کے لیے منع کر دیا تھا اور وہ بعد پے لیٹی رہی ۔سعدیہ بیگم وہاں سے چلی گئی۔
وہ رات بھر اپنے کمرے میں روتی رہی۔ رات نجانے کب گزر گئی اُسے پتہ بھی نہیں چلا ۔
صوبہ ہو چکی تھی لیکن آج علماء نیچے یونی جانے کے لیے نہیں آئی تھی ۔کُچھ دیر بعد کیف علماء کے کمرے میں آیا ۔اُسے دیکھا اُسکی بہن بہت تکلیف میں ہے آنکھوں کے نیچے ہلکے بنے ہوئے ہے۔اُسے علماء سے سوال کیا۔
علماء کیا ہوا تمھیں تُم تو رہی تھی آج یونی نہیں جانا؟ علماء نے کچھ نہیں کہا۔ کُچھ دیر خاموش رہی ۔کیف اُسے دیکھ کے بہت پریشان ہو رہا تھا ۔علماء نے کہنا شروع کیا ۔بھائی میں یونی نہیں جاؤنگی ۔کیو نہیں جاؤ گی ؟ بھائی کل آپ معاذ سے ملے تھے؟ کیف کچھ لمحے کچھ نہیں بولا پھر کہا۔ہاں ملا تھا اور کہ کے آیا ہوں تُم سے دور رہے۔
علماء کے انکھ میں آنسو آئے۔کیا ہوا علماء بچے رو کیو رہی ہو بچے مجھے تکلیف ہو رہی ہے تمھارے آنسوؤں سے بھائی علماء کے انکھ نم تھے۔
بھائی اس نے کبھی مجھ سے مُحبّت کی ہی نہیں بھائی اس نے مُجھے سب کے سامنے رُسوا کر دیا میری عزت برباد کردی اُس نے۔
علماء کیا کیا اُس نے تم مجھے بتاؤ بچے رو مت ! بھائی ہماری چیٹ میری اور معاذ کی اُسے لیک کردی ہمارے پورے یونی میں سب کے پاس ہے چیٹ لیکن وہ چت میں یہ پتا نہیں چل رہا لڑکا کون ہے اور لڑکی میں ہوں یہ پتا چل رہا بھی سب مجھے جس طرح سے دیکھ رہے تھے مجھے بالکل بھی اچّھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ بھی مُجھ سے بہت بڑی گلتی ہو گئی میں نے غلط شخص کا انتخاب کیا تھا ۔
کیف نے علماء کی بات خاموشی سے سنی۔ اس کے چہرے پر غصہ بھی تھا.کیف چند لمحے خاموش رہا۔”فکر مت کرو۔”
کیف نے اسے تسلی دی، پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد وہ یونیورسٹی پہنچ گیا۔
وہاں معمول کے مطابق طلبہ آ جا رہے تھے۔ کچھ لوگ کیف کو دیکھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے، مگر کیف نے کسی پر توجہ نہیں دی۔
اس کی نظریں صرف ایک شخص کو تلاش کر رہی تھیں۔
معاذ۔
کچھ دیر بعد کیف کی نظر اس پر پڑ گئی۔
معاذ اپنے چند دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا۔
کیف سیدھا اس کی طرف بڑھا۔
معاذ نے بھی اسے آتے ہوئے دیکھ لیا۔
وہ چند لمحے خاموشی سے کیف کو دیکھتا رہا، پھر بولا،
“آپ یہاں؟”
کیف اس کے سامنے جا کر رک گیا۔
“ہاں۔ تم سے بات کرنی تھی۔”
معاذ نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا، پھر کیف کی طرف۔
“کیا بات ہے؟”
کیف نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
“تھوڑا باہر چل کر بات کرتے ہیں۔”
معاذ نے چند لمحے اسے دیکھا۔
پھر بولا،
“ٹھیک ہے۔”
دونوں یونیورسٹی کی عمارت سے کچھ فاصلے پر ایک نسبتاً سنسان جگہ کی طرف بڑھ گئے۔
چند لمحے دونوں خاموش رہے۔
آخر کیف نے معاذ کے گالوں پر ایک تھپڑ جڑا اور اُسکا کولر پکڑ لیا ۔اور کہنا شروع کیا تیری ہمت کیسے ہوئی ہے میری بہن کے ساتھ ایسا کچھ کرنے کی ۔معاذ خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔ تیری وجہ سے میری نہیں کی زندگی برباد ہو رہی وہ رو رہی تونے میری بہن کے آنکھوں میں آنسو لایا ۔کیف نے پھر ہاتھ اُٹھ مگر اس بار معاذ نے اُسکا ہاتھ پکڑ لیا اور جھٹک دیا۔
آپ نے مُجھے دھمکی دی اُسکا بدلہ میںنے آپ کی بہن سے لیا ۔
سالے کیف کے مح سے بیساختہ نکلا ۔معاذ نے پھر کہا سالا نہیں ہونے والا سالا ۔پر میںنے تیری بہن کو شادی کے لیے منا کر دیا تو سالا تو بننے سے رہا ۔”تو یہ سب تو نے جان بوجھ کر کیا تھا؟”
معاذ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ “آپ نے مجھے دھمکی دی تھی۔ میں نے صرف جواب دیا ہے۔”
کیف ایک قدم آگے بڑھا، مگر معاذ نے فوراً اپنا فون نکالا اور یونس کو کال کر دی۔
“یونس، کہاں ہو؟”
دوسری طرف سے جواب آیا تو معاذ نے مختصر سا کہا، “بس یونیورسٹی کے پیچھے آ جاؤ۔ کچھ لوگ بھی ساتھ لے آنا۔”
کیف نے یہ سنا تو طنزیہ انداز میں ہنسا۔ “لوگ بلا کر کیا کرے گا؟”
معاذ نے فون جیب میں رکھتے ہوئے اسے دیکھا۔ “ابھی پتا چل جائے گا۔”
چند ہی منٹ گزرے تھے کہ یونس اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ یونس نے پہلے معاذ کی طرف دیکھا، پھر کیف کی طرف۔
“کیا مسئلہ ہے؟”
معاذ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا، “یہ صاحب مجھے سمجھانے آئے تھے۔”
کیف نے غصے سے کہا، “سمجھانے نہیں آیا تھا، اپنی بہن کا حساب لینے آیا تھا!”
یونس نے ایک لمحے کے لیے معاذ کو دیکھا۔ پھر ماحول کی کشیدگی محسوس کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔ کیا ہوا دیر گئے کیف نے ہستے ہوئے کہا۔ معاذ نے ٹھنڈ لہزے میں جواب دیا ۔تمھاری دھمکی کا بدلہ کل میں نے تیری بہن سے لے لیا آج تُجھ سے لونگا ۔کیف کے پیٹھ پر اچانک سے کسی نے بامبو کی لڑکی سے مار کیف کو درد محسوس ہوا چوٹ بہت تیز لگی تھی اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھال پاتا، ایک اور وار ہوا اور وہ زمین پر گر پڑا۔بس کرو!” کیف نے غصے اور تکلیف کے ملے جلے لہجے میں کہا۔
مگر معاذ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔یونس کے ساتھیوں نے کیف کو دوبارہ پکڑ لیا۔ کیف نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔کیف کے بدن پر زخم بن گئے تھے۔ایک اور دھکا لگا تو کیف دوبارہ زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے ہاتھ سے اپنا چہرہ صاف کیا اور کچھ دیر خاموش رہا۔ اب کیف کو سانس لینے میں پریشانی ہو رہی تھی اُسکے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔اُسے اپنے آنکھوں کے سامنے سب دھندلا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ لوگ کیف کو ماتے رہے ۔کیف کو سانس روک چُکی تھی۔یونس نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔
“چلو، بہت ہو گیا۔”
معاذ نے کیف کو دیکھا اور پھر یونس کے ساتھ وہاں سے چل پڑا۔
کچھ دیر بعدیونیورسٹی کی چھٹی ہو چکی تھی۔ ایک ایک کر کے سارے طلبہ باہر نکلنے لگے۔ اچانک چند بچوں کی نظر زمین پر پڑے کیف پر گئی۔
“ارے… یہاں کوئی پڑا ہے!”
دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ کا ہجوم وہاں جمع ہو گیا۔ ہر کوئی حیرت اور خوف سے کیف کو دیکھ رہا تھا۔کُچھ بچّےاُسکے پاس آئے انہوں نے دیکھا کیف کی سانس نہی چل رہی تھی ۔کیف مر چکا تھا۔اسی ہجوم میں انوشے بھی وہاں آ پہنچی۔
اس نے جیسے ہی زمین پر پڑے لڑکے کو دیکھا، چند لمحوں کے لیے اس کے قدم وہیں رک گئے۔ اُس نے جیسے اس شخص کو پہچان لیا تھا۔ “کیف…؟”
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
وہ گھٹنوں کے بل کیف کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ یہ وہی کیف تھا جسے وہ اچھی طرح جانتی تھی۔
“نہیں… یہ کیف نہیں ہو سکتا…”
انوشے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کانپتے ہاتھ سے کیف کو ہلانے کی کوشش کی۔کیف آپ مجھے یوں چھوڑ کے نہیں جا سکتے میں نے تو ابھی تک آپ کو یہ بھی نہیں بتایا تھا کے میں محبّت کرتی ہوں ۔اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔کچھ دیر بعد انوشے نے اپنے آنسو پونچھے اور کانپتے ہاتھوں سے اُس کیف کو چھوا ایک بندے نے انوشے سے پوچھا۔ کیا آپ اس شخص کو جانتی ہے۔ہیں جانتی ہُوں۔ ہمیں انھیں گھر لیکے جانا چاہیے یہں صحیح نہیں ۔اُس شخص نے اُسے تاکید کی۔ کُچھ دیر بعد کیف کو گھر لایا گیا۔ علماء اُس وقت اپنے کمرے میں تھی اور سعدیہ بیگم کچن میں ۔دروازے پر دستک ہوئی علماء نے دروازہ کھولا تھا۔ اُس نے سامنے دیکھا اوشے تھی اور دو چار لڑکے ساتھ میں انھوں نے ایک لڑکے کو اٹھایا تھا علماء کی نظر اس لڑکے پے پڑی وہ کیف تھا۔ زخمی تھا ۔اُسکے چہرے سے خون نکل رہا تھا علماء جیسے ختم ہو چُکی تھی وہ سانس نہیں لے پا رہی تھی اُسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔آج ایک بھائی مر چکا تھا ۔ وہ چیخنا چاہتی تھی، مگر اس کے حلق سے آواز نہ نکلی۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ جیسے ختم ہو چکے تھے۔
کون ہے علماء کون آیا؟ سعدیہ بیگم پوچھتی ہوئی دالان کی طرف آئی ۔وہ ایک لمحے کے لیے وہیں رک گئیں۔ان کے قدم لڑکھڑا گئے۔
کیف۔۔ان کے منہ سے بمشکل یہ لفظ نکلا۔
علماء کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
“امی…”
سعدیہ بیگم نے کیف کی طرف دوبارہ دیکھا۔
اچانک ان کے سینے میں شدید درد اٹھا۔ انہوں نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور سانس لینے کی کوشش کی۔
“میرا… کیف…”
ان کی آواز ٹوٹ گئی۔”امی!”
علماء چیخ اٹھیں اور فوراً اپنی ماں کی طرف بڑھی۔علماء روتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گئی۔وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر گہری سانس لینے کی کوشش کرنے لگیں۔
“نہیں… میرے بچے کو کچھ نہیں ہو سکتا…”
انوشے بھی روتے ہوئے کھڑی تھی۔ اس نے فوراً کسی کو مدد کے لیے بلانے کو کہا۔ سعدیہ بیگم بےہوش تھی ۔اُنھیں اسپتال لیجایا گیا۔ علماء بھی اُنکی ساتھ اسپتال گئی تھی جبکہ انوشے گھر پے کیف کے پاس رکی تھی۔اسپتال کی سفید، خاموش راہداری میں علماء بےچینی سے چہل قدمی کر رہی تھیں۔ ان کی نظریں بار بار ایمرجنسی کے بند دروازے پر جا ٹھہرتی تھیں۔
ان کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔
“یا اللہ۔۔۔ میری امی کو کچھ نہ ہو۔”
ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر ہی رہی تھیں کہ اچانک ایمرجنسی کا دروازہ کھلا۔
ایک ڈاکٹر تیزی سے باہر آیا۔
علماء فوراً اس کی طرف بڑھی۔
“ڈاکٹر! میری امی۔۔۔ وہ کیسی ہیں؟”
ڈاکٹر نے ایک لمحے کے لیے خاموش ہو کر علماء کو دیکھا۔
“آپ سعدیہ بیگم کی بیٹی ہیں؟”
“جی۔۔۔ جی، میں ان کی بیٹی ہوں۔ بتائیے نا، میری امی ٹھیک ہیں؟”
ڈاکٹر نے گہری سانس لی۔
“ہم نے پوری کوشش کی۔۔۔”
علماء کے دل کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کو رک گئی۔
“کیا مطلب؟”
ڈاکٹر نے نظریں جھکا لیں۔
“مجھے افسوس ہے۔۔۔ ہم انہیں بچا نہیں سکے۔””میری امی کو کچھ نہیں ہوا ہوگا۔۔۔ آپ دوبارہ دیکھیں۔ پلیز، ایک بار پھر دیکھیں۔۔۔ وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتیں۔”
ڈاکٹر خاموش رہا۔
علماء کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگا۔آج وہ اپنے سب سے قریب رشتے کو کو چکی تھی اُسے ایک ہی دن میں ماں،اور بھی دونوں کو کھو دیا تھا۔ان کے منہ سے ایک درد بھری چیخ نکلی۔
“امی۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔۔۔”
راہداری میں اس کی سسکیاں گونجنے لگیں۔ کُچھ دیر بعد ڈاکٹر نے اُسے کہا کے آپ پیشنٹ کو یہں سے لیکے جا سکتی ہے ۔ وہ وہیں پے بیٹھی رہی ۔کُچھ دیر بعد اس نے معاذ کو اپنی طرف آتے دیکھا ۔۔معاذ اُسکے سامنے اکرکھڑا ہوگیا ۔ معاذ ڈاکٹر سے بات کرنے لگا ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ علماء کے ساتھ والے کُرسی پے بیٹھ گیا۔علماء جیسے اس وقت بھول چُکی تھی کے معاذ نے اُسکے ساتھ کیا کیا ہے۔
علماء نے کہنا شروع کیا معاذ۔۔آنکھوں میں آنسو بھرے تھے ۔بابا مجھے بچپن میں ہی چھوڑ کے اللہ میاں کے پاس چلے گئے تھے۔ آج امی اور بھائی بھی چلے گئے میں اکیلے رہگئی یار ۔علماء نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔
“میں نے سب کو کھو دیا۔۔۔ سب کو۔۔۔”
رات کافی گزر چکی تھی جب وہ لوگ سعدیہ بیگم کو لےکر گھر آئے۔صحن میں لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ عورتوں کی سسکیاں اور مردوں کی دھیمی آوازیں ماحول کو مزید سوگوار بنا رہی تھیں۔
علماء کی نظر جب سفید چادر میں لپٹے کیف پر پڑی تو اس کا دل جیسے پھٹ گیا۔
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھی۔
“کیف بھائی ۔۔اس کی آواز بمشکل نکلی۔کچھ دیر بعد جنازے کی تیاری مکمل ہوئی۔ سعدیہ بیگم اور کیف دونوں کو نمازِ جنازہ کے لیے لے جایا جا رہا تھا علماء اُنھیں جاتے دیکھ رہی تھی۔۔
دھیرے دھیرے وہ آنکھوں سے اونجھل ہو چکے تھے۔ کُچھ دیر عورتیں وہی بیٹھی رہی پھر ایک ایک کرکے سب اپنے گھر جا رہی تھی انوشے اُس رات علماء کے پاس ہی رکی تھی۔ ابھی کچھ عورتیں دالان میں تھی انوشے بھی وہیں تھی جبکہ علماء نمازِ عشاء کی ادائگی کرنے کے لیے اپنے کمرے میں آئی۔اُس نے وضو کیا اور جائے نماز بچھایا اُس نے نماز پڑھنا شروع کیا ۔انکھ نم تھی خدا سے بہت فریاد تھی ۔اُس نے نماز پڑھی سلام پھیرا کُچھ دعا پڑھنے کے بعد اس نے اللہ سے دعا مانگنا شروع کیا ۔اپنے درد بتانا شروع کیا ۔وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئی۔ آنسو اس کی انگلیوں سے پھسل کر جائے نماز پر گرنے لگے۔میں بہت کمزور ہوں، یا اللہ۔۔۔ بہت کمزور۔”کمرے میں دستک ہوئی انوشے اندر آئی اُسکے ساتھ بیٹھ گئی علماء اور انوشے کے بیچ خاموشی تھی۔
ایسے ہی ایک دو دن گزر گئے دوسرے دن انوشے علماء کے ساتھ بیٹھی تھی اور اسے بات کر رہی تھی تب ہی اُسے سوال کیا علماء تمھیں پتا ہے کیف کے ساتھ کیسے ہوا کس نے کیا تمھیں کُچھ پتا؟ اُسکا کسی کے ساتھ جھگڑا ۔ علماء کو اس وقت کیف اور اُسکی آخری بات یاد آئی ۔وہ چند لمحے خاموش رہی شاید بھی معاذ سے ملنے گئے تھے۔
معاذ سے؟ معاذ سے کو ملنے گئے؟
علماء بتانا نہیں چاہتی تھی مگر اُسے سب بتانا شروع کیا وہ چت میری تھی وہ چت میری اور معاذ کی تھی محبّت ہو گئی مجھے اس سے اس نے بھی کہا تھا محبّت کرتا ہے پر۔۔ پر کیا؟ انوشے نے بات سنتے ہوئے کہا
پر جب میںنے کہا شادی کا وہ مکر گیا دھوکا دے دیا کہتا شادی نہیں کر سکتا ۔اور چت بھی اسی نے لیک کی تھی ۔
انوشے کو جیسے اُسکی باتوں پے یکن نہیں آیا۔میں نے بھائی کو بتا دیا تھا شاید وہ معاذ کے پاس ہی گئے تھے۔
انوشے کچھ وقت خاموش رہی ۔تمھاری وجہ سے میری کیف اب اس دنیا میں نہیں تماری وجہ سے اُسکے ساتھ یہ سب ہوا ۔
تمنے کیو بتایا کیف کو سب نا بتاتی کُچھ نہیں ہوتا۔میں کیف کو بتا بھی نہیں سکی میں کتنی محبت کرتی تھی شادی کرنا چاہتی تھی اس سے پر تمھاری وجہ سے سب ختم ہوگیا میں تمھیں کبھی معاف نہیں کرونگی علماء کبھی بھی نہیں ۔میری محبت تُم نے چھنی ہے ۔انوشے کیا کہ رہی جو بھی تھے میرےوہ میں تھوڑی چاہتی تھی اُنکے ساتھ ہو مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا۔ تمہارا بھائی اور ما تو میر ہی گئے ہے علماء۔۔تُم بھی مر جاؤ تم نے مجھے میری محبّت چھین لی۔یہ کہتے ہوئے انوشے وہاں سے چلی گئی۔علماء وہاں اکیلے رہ گئی تھی ۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے انوشے کے ایک ایک لفظ نے اس کے اندر کچھ توڑ دیا ہو۔
“تم بھی مر جاؤ۔۔۔ تم نے مجھے میری محبت چھین لی۔”
یہ الفاظ بار بار اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
علماء نے اپنے آنسو پونچھے اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔ پھر اچانک اس کے ذہن میں معاذ کا خیال آیا۔نہ جانے کیوں وہ معاذ سے ملنے چاہ رہی تھی ۔ ۔
علماء آہستہ سے اٹھی۔ دوپٹہ درست کیا اور کمرے سے باہر نکل آئی۔گلی میں قدم رکھا تو چند عورتیں ایک گھر کے باہر بیٹھی تھیں۔ علماء کو دیکھتے ہی ان میں سے ایک نے دوسری کو کہنی ماری۔
“دیکھو، علماء ہے نا؟”
دوسری عورت نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
“ہاں، وہی ہے۔”
پہلی عورت نے دھیمی آواز میں کہا، مگر اتنی دھیمی بھی نہیں کہ علماء نہ سن سکے۔
“ماں کو مرے ابھی دو دن نہیں ہوئے اور لڑکی کو گھر میں بیٹھنے کا صبر نہیں۔ دیکھو، کہاں چلی جا رہی ہے اکیلی؟”
علماء کے قدم وہیں رکنے کو ہوئے، مگر اس نے خود کو سنبھالا اور آگے بڑھ گئی۔پیچھے سے دوسری عورت کی آواز آئی۔
“میں تو کہتی ہوں اسے گھر میں ہی رہنا چاہیے۔ ایسے وقت میں لڑکی کا اکیلے گھومنا اچھا نہیں لگتا۔”
پہلی عورت نے فوراً کہا،
“ارے میری بیٹی بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ بتا رہی تھی کہ یہ کسی لڑکے سے بات کرتی ہے۔”
“دیکھا! میں نہ کہتی تھی کہ معاملہ کچھ اور ہے۔”
“پتا نہیں آج کل کی لڑکیوں کو کیا ہو گیا ہے۔ ماں کا جنازہ اٹھا نہیں کہ۔۔۔”
باقی الفاظ علماء نے نہیں سنے۔
اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔
ہر قدم کے ساتھ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے لوگ اس کے کردار کا فیصلہ کر رہے ہوں، جیسے اس کے دکھ کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔کچھ دیر بعد وہ معاذ کے گھر کے قریب پہنچ گئی۔
دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر علماء کے قدم رک گئے۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور دروازے پر دستک دے دی۔
کچھ لمحوں بعد دروازہ کھلا۔
سامنے معاذ کھڑا تھا۔ “معاذ۔۔۔”
اس کی آواز بمشکل نکلی۔
معاذ نے نظریں چرا لیں۔
“کیا ہوا؟”
علماء نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
“کیف بھائی تم سے ملنے آئے تھے؟”
معاذ کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
علماء نے غور سے اسے دیکھا۔
“جواب دو معاذ۔۔۔ کیا کیف بھائی تم سے ملنے آئے تھے؟”
معاذ نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔
“ہاں۔”
علماء کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
“کب؟”
“اُس دن۔۔۔”
“جس دن ان کے ساتھ یہ سب ہوا؟”
معاذ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
علماء کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“وہ تم سے کیا بات کرنے آئے تھے؟”
“مجھے نہیں معلوم۔”
“جھوٹ مت بولو معاذ!”
علماء کی آواز پہلی بار بلند ہوئی۔تُم نے ہی مارا ہے نہ اُنھیں ۔
میںنے اُنھیں نہیں مارا معاذ نے ٹھنڈ لہجے میں کہا ۔ پہلے انھوں نے مجھ پے ہاتھ اٹھایا۔ میں نہیں جانتا تھا وہ مر جائینگے ہن تھوڑا مار پیٹ ہوئی تھی پر میں نہیں چاہتا تھا وہ مر جائے۔ علماء بے ساختہ اُسے دیکھتی رہی ۔ اور ایک تھپڑسیدھا اُسکے گال پے جڑا۔۔معاذ شاہ تُم مرجاؤ اللہ کرے تُم مر جاؤ تم تڑپ تڑپ کر مرو ۔تمنے مُجھ سے میرا سب چھین لیا میرے پاس کوئی نہیں بچا ۔ میں تُم سے کبھی یہ توقع کر ہے نہیں سکتی تھی میرا سب کچھ چھین نے والے تُم ہوگئے۔میں دعا کرتی ہوں تم کبھی خوش نا رہ پاؤں ۔جیسے تمنے میری زندگی برباد کی ہے ویسے تمھاری زندگی بھی برباد ہو ۔۔ میں تُم سے بدلہ لیکے رہونگی ۔کیسے لوگو بدلہ؟ کیسی کو نہیں پاتا کس نے مارا کون بھروسہ کریگا تمھاری بات؟ وہ مسکرایا تھا۔نجانے کو علماء کو معاذ کی مسکراہٹ دنیا کی سب سے بیکار مسکراہٹ لگی تھی۔۔ میں بدلہ نہیں لے سکتی لیکن میرا رب ہے میرا رب میرا بدلہ تُم سے لیگا ۔میرے ہر ایک آنسو کا بدلہ ۔تمھاری بکوس بند ہوگئی ہو تو اب تُم یہں سے جاسکتی ہو۔معاذ نے سخت لہجے میں کہا تھا
میں جا رہی ہوں پر دیکھنا ایک دن تُم تڑپو گے ۔یہ کہتے ہوئے علماء وہاں سے چلی گئی ۔
علماء سیدھا اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی ۔مگر جیسے ہی وہ اپنے محلے کے قریب پہنچی، اس کے قدم اچانک رک گئے۔
آسمان پر دھوئیں کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔
دور سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔وہ گھبرا کر آگے بڑھی تو منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔
اس کا گھر آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا تھا۔
کھڑکیوں سے آگ باہر نکل رہی تھی، دروازے کے قریب لکڑیاں اور ملبہ بکھرا پڑا تھا۔ آس پاس کے کئی گھروں سے بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ گلی میں لوگ خوف زدہ ہو کر بھاگ رہے تھے، کچھ اپنے گھروں سے بچوں اور بزرگوں کو نکال رہے تھے۔
ایک طرف مشتعل لوگوں کا ہجوم تھا اور دوسری طرف محلے کے لوگ اپنے گھروں اور جانوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کُچھ لوگ لوگوں سے انکا مہذب پوچھ کے اُنھیں مار رہے تھے ۔ اگر کوئی کے دیتا مسلمان ہے تو عزت لوٹی جا رہی تھی ۔ گھر کے مردوں کومارا جا رہا تھااس کے کانوں میں مسلسل چیخیں گونج رہی تھیں۔ کہیں شیشے ٹوٹنے کی آواز آتی، کہیں لوگ اپنے دروازے بند کر رہے تھے۔ علماء ہر موڑ پر رک کر دیکھتی، پھر کسی نہ کسی طرح خود کو بھیڑ سے بچاتے ہوئے آگے بڑھ جاتی۔
ایک جگہ چند لوگ سڑک کے بیچ کھڑے تھے۔
علماء کا دل حلق میں آ گیا۔
وہ فوراً ایک تنگ گلی میں مڑ گئی اور دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔ ایک آدمی اُسکے پاس آرہا تھا علماء وہاں سے بھاگ نکلی علماء کے پاس موبائل بھی نہیں تھا ۔پورے گاؤں میں جھگڑے کا ماحول تھا۔ وہ کوشیش کرتے ہوئے وہاں سے نکل رہی تھی ایک آدمی نے پوچھا کیا تھا۔مگر وہ بہت آگے نکل چکی تھی۔وہ بگٹی بھاگتے تھامل کی گلیوں میں پہنچ چکی تھی ۔وہاں لوگو کا ہجوم تھا کُچھ لوگ سیاح تھے کُچھ وہیں کے رہنے والے اُسے ایک شال ایک دکان سے چپک سے لے لی تھی اور اسے اوڑھ لیا تھا۔وہ اکیلی رہ گئی تھی۔
آج نہیں بھائی تھا۔نہ باپ، نہیں ماں اور نہیں ہے محبّت ۔ہاتھ کانپ رہے تھے۔اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔ کاہن جائے اب اُسکے پاس گھر بھی نہیں تھا وہاں کا ماحول دیکھ کے اب وہ وہاں جا بھی نہیں سکتی تھی۔اللہ آپ مجھے راستہ دکھائے ۔۔اللہ میرے ساتھ کو ہو رہا اللہ ۔۔اللہ تکلیف ہو رہی ہے ۔ اللہ میںنے بہت غلطیاں کی ۔۔میں جانتی ہوں پر میں نہیں چاہتی اب کوئی غلط کروں۔۔اللہ ۔۔اُسکے آنسو گیس رہے تھے ۔اُسے نجانے کو نماز پڑھنے کا دل چاہ رہا تھا۔ وہاں کہیں جگہ نہ تھی کے وہ نماز پڑھ لیتی۔ وہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اُسے وہ دین یاد آیا جب نماز نہیں پڑھنی چاہتی تھی ۔اُس دِن سب تھا اُسکے پاس۔آج کُچھ نہیں تھا۔۔ آج صرف اللہ کا ساتھ تھا۔ اللہ کی محبت اللہ پر بھروسہ۔ اُسے خود سے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی آج وہ رب سے مانگ رہی تھی آج وہ اپنے رب کے پاس تھی۔۔ جب سب تھا تب نہیں تھی تب اُس نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا کے نماز ایک دن نہیں پڑھونگی تو کچھ تھوڑی ہو جانا آج اُسے شدّت سے نماز پڑھنے کی چاہ ہو رہی تھی۔۔اُسکا دل چاہ رہا تھا اللہ اُسے تھامے رہے ۔ہم انسان بہت خودغرض ہوتے ہیں ۔جب ہر چیز ہوتی ہے ہر خوشی ہوتی ہے تو رب سے دور ہونے لگتے ہیں ۔اور جب کچھ نہ ہو تو سب سے پہلے اللہ کو یاد کرتے ۔ انسان کو اللہ کے لیے لوئل ( loyal)ہونا چاہیے ہر وقت ، ہے لمحہ ۔صرف گمو میں یاد نہیں کرنا چاہیے خوشیوں میں بھی اللہ کو یاد کرنا چاہیے بھول نہیں جانا چاہیئے ۔

غم میں بھی وہی
خوشی میں بھی وہی
تنہائی میں بھی وہی
اور ہجوم میں بھی وہی۔
کاش ہم ایسے بندے بن جائیں
جنہیں رب صرف ضرورت کے وقت نہیں
محبت کے وقت بھی یاد آئے۔

علماء کچھ دیر اسی کونے میں بیٹھی رہی۔
لوگ اس کے آس پاس سے گزر رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں کیمرہ تھا، کوئی ہنستے ہوئے اپنے ساتھی سے بات کر رہا تھا، کوئی دکان کے باہر کھڑا قیمت پوچھ رہا تھا۔ تھمیل کی گلیاں اپنی معمول کی زندگی میں رواں تھیں، مگر علماء کے لیے جیسے وقت وہیں رک گیا تھا۔
اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔
اب بھی کانپ رہے تھے۔
آنکھیں بند کیں تو گھر کا منظر سامنے آ گیا۔
وہ شور… وہ جھگڑا… وہ آدمی جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا…
علماء نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے پشمینہ مزید اپنے گرد لپیٹ لیا۔
اس کے پاس نہ موبائل تھا، نہ پیسے کا کوئی ٹھکانہ، نہ یہ معلوم تھا کہ رات کہاں گزارے گی۔
بس ایک رب تھا، جسے وہ آج پہلی بار اتنی شدت سے پکار رہی تھی۔
وہ آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
قریب ہی ایک چھوٹی سی مسجد کا سبز بورڈ نظر آیا۔
علماء کی نظریں وہیں رک گئیں۔
دل جیسے ایک لمحے کے لیے ٹھہر گیا۔
وہ بے اختیار اس طرف چل پڑی۔وہ عورتوں کی مسجد تھی۔مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہی اسے عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ باہر کا شور جیسے پیچھے رہ گیا تھا۔
وہ ایک طرف بیٹھ گئی۔
کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر اس کے ہونٹ ہلے۔
“یا اللہ…”
آواز اتنی دھیمی تھی کہ شاید اسے خود بھی پوری طرح سنائی نہ دی۔میں کیا کروں؟آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میرے پاس کوئی نہیں ہے…”
وہ رک گئی۔
پھر خود ہی دل میں ایک خیال آیا۔وہی تو غلط کہہ رہی تھی۔
کوئی تھا۔
ہمیشہ سے تھا۔
بس وہ خود اسے بھولتی رہی تھی۔
علماء نے اپنے آنسو صاف کیے۔
“آپ ہیں نا، اللہ؟”
اس بار اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“آپ تو ہیں۔”
کچھ دیر بعد اس نے وضو کیا۔
پانی کے ٹھنڈے چھینٹے چہرے پر پڑے تو جیسے دل کی گھٹن بھی تھوڑی کم ہوئی۔
وہ نماز کے لیے کھڑی ہوئی۔
آج اسے نماز جلدی ختم نہیں کرنی تھی۔
آج وہ رب سے بھاگ کر نہیں، رب کے پاس آئی تھی۔
سجدے میں جاتے ہی اس کے ضبط کے بند ٹوٹ گئے۔
“یا اللہ… مجھے معاف کر دیں۔”
آنسو جائے نماز میں جذب ہونے لگے۔
“میں نے آپ کو صرف تب یاد کیا جب مجھے آپ کی ضرورت تھی…”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“جب سب کچھ تھا، تب میں نے آپ کو بھلا دیا تھا۔”
ایک لمحے کے لیے وہ خاموش رہی۔
“لیکن آج… آج میرے پاس کچھ نہیں ہے۔”
اس نے پیشانی مزید جھکا دی۔
“بس آپ ہیں۔”
سجدہ طویل ہوتا گیا۔
اور شاید پہلی بار علماء کو محسوس ہوا کہ کبھی کبھی انسان کے پاس جب کچھ نہیں بچتا، تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس سب سے قیمتی چیز پہلے ہی موجود تھی۔
اللہ۔
وہ آہستہ سے اٹھی، پشمینہ درست کیا اور مسجد سے باہر آ گئی۔
تھمیل کی گلی میں قدم رکھتے ہی لوگوں کا ہجوم پھر سے اس کے سامنے تھا۔
وہ کچھ فاصلے پر جا کر رک گئی۔
اسی وقت اس کی نظر دو لڑکیوں پر پڑی۔
دونوں نے سیاہ عبایا پہن رکھے تھے۔ ایک کے کندھے پر بیگ تھا جبکہ دوسری اپنے ہاتھ میں چھوٹا سا سوٹ کیس لیے ہوئے تھی۔ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی تھا، جو شاید ان کا کوئی جاننے والا تھا۔ وہ کچھ بات کر رہے تھے علماء کو سنائی دے رہا تھا۔”جلدی کرو، لاہور کی ٹرین ابھی نکلنے والی ہے۔”
ایک لڑکی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں، اگر دیر ہو گئی تو پھر اگلی کا انتظار کرنا پڑے گا۔”
دوسری نے اپنا سوٹ کیس سنبھالا۔
ساتھ کھڑے آدمی نے بے فکری سے کہا،
“تم دونوں بس میرے پیچھے رہنا، بھیڑ بہت ہے۔”لاہور۔
نہ جانے کو اُسکا دل چاہ رہا تھا وہ اُنکے پیچھے چلی جائے یہں سے بہت دور ۔ علماء اُنکے پیچھے چل رہی تھی۔کچھ دیر بعد سامنے اسٹیشن کی عمارت دکھائی دینے لگی۔
اس کے قدم خود بخود تیز ہو گئے۔
وہ تینوں اندر داخل ہوئے۔
علماء بھی چند لمحوں بعد اندر آ گئی۔
اسٹیشن لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔
اعلانات کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
لوگ اپنے سامان کے ساتھ ادھر ادھر جا رہے تھے۔
وہ دونوں لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہو گئیں۔
علماء ان سے کچھ فاصلے پر رک گئی۔
پھر اچانک دور سے ٹرین کے آنے کی آواز سنائی دی۔
لوہے کے پہیوں کی آواز آہستہ آہستہ قریب آ رہی تھی۔
پلیٹ فارم پر موجود لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔
“آ گئی!”
ایک لڑکی نے فوراً کہا۔چند لمحوں بعد ٹرین پلیٹ فارم پر آ کر رک گئی۔
دروازے کھلے۔
لوگ جلدی جلدی سوار ہونے لگے۔
وہ آدمی دونوں لڑکیوں کے ساتھ آگے بڑھا۔
علماء کچھ فاصلے پر کھڑی رہی۔
اس نے ٹرین کو دیکھا۔
اور پہلی بار دل میں ایک فیصلہ کیا۔
وہ بھی جائے گی۔
کہاں؟
اسے نہیں معلوم تھا۔
کیسے؟
یہ بھی نہیں معلوم تھا۔
بس اتنا معلوم تھا کہ اسے اس جگہ سے نکلنا ہے۔
اس نے اپنا قدم آگے بڑھایا۔
پھر ایک اور۔
اور پھر وہ بھیڑ میں ان تینوں کے پیچھے ٹرین کی طرف چل پڑی۔
اس کے دل میں صرف ایک دعا تھی—
“یا اللہ… اگر یہ راستہ میرے لیے نہیں ہے تو مجھے روک دیجیے۔”
وہ ٹرین کے دروازے تک پہنچی۔
ایک لمحے کے لیے ٹھہری۔
پھر اندر قدم رکھ دیا۔
اور جیسے ہی اس نے ٹرین میں قدم رکھا، باہر پلیٹ فارم پر کھڑی دنیا آہستہ آہستہ اس سے دور ہونے لگی۔ نہ جانے کیوں اُسے بھروسہ تھا اللہ اُسے رُسوا نہیں ہونے دینگے۔ وہ اپنی بندی کو صحیح جگہ پہنچا ئینگے ۔ اُسے توکل تھا۔
علماء نے کھڑکی کے پاس جگہ تلاش کی۔
وہ بیٹھ گئی۔
ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔
مگر اس بار ان کانپتے ہاتھوں میں خوف کے ساتھ ایک عجیب سا یقین بھی تھا۔
شاید وہ منزل نہیں جانتی تھی۔
مگر اسے یقین تھا—
جس رب نے اسے یہاں تک پہنچایا ہے، وہ آگے کا راستہ بھی دکھا دے گا۔ ٹرین میں زیادہ بھیڑ نہیں تھا۔ جگہ آسانی سے مل گئی تھی۔ وہ دو لڑکیاں بھی اسی ڈبّے میں بیٹھی تھی۔ کچھ دیر تک وہ آپس میں دھیمی آواز میں بات کرتی رہیں، پھر ان میں سے ایک کی نظر علماء پر پڑی۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی، جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔
پھر اس نے نرمی سے پوچھا،
“آپ کہاں جا رہی ہیں؟”
علماء نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
ایک لمحے کے لیے اسے سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔
پھر آہستہ سے بولی،
“آپ لوگ کہاں جا رہی ہیں؟”
دونوں لڑکیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“لاہور۔”
علماء کے دل میں جیسے کچھ ہل سا گیا۔
اس نے چند لمحوں کے لیے نظریں جھکا لیں۔
پھر دھیمی آواز میں کہا،
“میں بھی… لاہور جا رہی ہوں۔”
دونوں لڑکیوں کے چہروں پر ہلکی سی حیرت آئی۔
“اچھا؟”
علماء نے بس سر ہلا دیا۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد دوسری لڑکی نے پوچھا،
“آپ اکیلی جا رہی ہیں؟”
علماء کی انگلیاں بے اختیار پشمینے کے کنارے سے الجھ گئیں۔
“جی… اکیلی۔”
“کوئی ساتھ نہیں ہے؟”
علماء نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
“نہیں۔”
لڑکی نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا۔
“کوئی گھر والا؟”
اس سوال پر علماء کی نظریں کھڑکی سے باہر چلی گئیں۔
باہر منظر تیزی سے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا،
“نہیں… کوئی ساتھ نہیں ہے۔”
دونوں لڑکیاں خاموش ہو گئیں۔
آپ کے گھر والے آپ کو اکیلے آنے جانے دیتے ہے؟
لاہور میں آپ رہتی ہے؟
وہ لڑکیاں سوال کیے جا رہی تھی ۔
میرے گھر میں کوئی نہیں ہے ۔علماء نے بہت آہستہ سے کہا۔
دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔ شاید انہیں اس جواب کی توقع نہیں تھی۔
“آپ کا مطلب؟” پہلی لڑکی نے پوچھا۔
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“بس… کوئی نہیں ہے۔”
اس کی آواز میں ایسی تھکن تھی کہ اس کے بعد سوال کرنا جیسے مناسب نہیں لگا۔
کچھ لمحوں کے لیے دونوں خاموش رہیں۔
پھر دوسری لڑکی نے نرمی سے پوچھا،
“تو لاہور میں آپ کس کے پاس جا رہی ہیں؟”
علماء کے لب کھلے، مگر آواز نہیں نکلی۔اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
“مجھے نہیں معلوم۔”
دونوں لڑکیوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟””لیکن وہاں آپ رہیں گی کہاں؟”
علماء خاموش رہی۔
اس سوال کا جواب اس کے پاس واقعی نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد پہلی لڑکی نے آہستہ سے پوچھا،
“آپ گھر سے ناراض ہو کر نکلی ہیں؟”
علماء کی آنکھیں فوراً نم ہو گئیں۔
اس نے نظریں چرا لیں۔
“نہیں…”پہلی لڑکی نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور علماء کی طرف بڑھا دی۔
“پانی پی لیں۔”
علماء نے پہلے بوتل کو دیکھا، پھر لڑکی کی طرف۔
“نہیں، ٹھیک ہے۔”
“لے لیں۔ آپ کافی دیر سے خاموش بیٹھی ہیں۔”
علماء نے کچھ لمحے ہچکچانے کے بعد بوتل لے لی۔
“شکریہ۔”
اس نے ایک گھونٹ پانی پیا۔
پانی حلق سے اترا تو اسے احساس ہوا کہ واقعی اس کا گلا خشک ہو رہا تھا۔
ویسے میرا نام شفاء ہے پہلی لڑکی نے کہا ۔
اور وہ میرے شوہر ہے ۔اور یہ اُنکی بہن مریم ۔”ہم لوگ نیپال گھومنے آئے تھے۔” شفاء نے کچھ دیر بعد کہنا شروع کیا۔ “سوچا تھا کچھ دن سکون سے گزاریں گے، نئی جگہیں دیکھیں گے… لیکن یہاں آ کر حالات ہی بدل گئے۔”
مریم نے بھی آہستہ سے کہا، “کچھ گاؤں میں مسلمانوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ حالات اتنے خراب ہوگئے کہ لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔”
شفاء کے لہجے میں خوف صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“کچھ جگہوں پر تو مسلمانوں کے گھروں کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو گھر سے نکلتے دیکھا ہے۔ اس کے بعد وہاں رکنا ممکن نہیں تھا، اس لیے ہم نے بھی واپسی کا فیصلہ کر لیا۔”
علماء کے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل وہیں رک گئی۔اس کے ذہن میں اپنے گھر کے مناظر ایک دم سے گھوم گئے۔ شور، چیخیں، بھاگتے ہوئے قدم… اور پھر آگ کے شعلے۔
اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں۔
شفاء نے اس کے چہرے پر بدلتے ہوئے تاثرات دیکھے۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”
علماء نے جواب نہیں دیا۔
اس کی انگلیاں پشمینے کے کنارے کو مضبوطی سے پکڑ چکی تھیں۔
کچھ لمحوں بعد اس کے لب ہلے۔
“میرا… گھر بھی جلا دیا۔”
آواز اتنی مدھم تھی کہ شاید اگر ڈبے میں ٹرین کی آواز نہ ہوتی تو شفاء بھی نہ سن پاتی۔
شفاء چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
“کیا؟”
علماء نے اس بار نظریں اٹھائیں۔ آنکھوں میں آنسو جمع تھے، مگر وہ انہیں بہنے نہیں دے رہی تھی۔
“میرا گھر بھی… جلا دیا گیا۔”
ڈبے میں اچانک خاموشی چھا گئی۔
مریم نے بے اختیار علماء کو دیکھا، جبکہ شفاء کے چہرے پر دکھ ابھر آیا۔
“یا اللہ…” شفاء کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
علماء نے نظریں کھڑکی کی طرف موڑ لیں۔
باہر اندھیرا تھا۔
اور اس اندھیرے میں اسے اپنا وہ گھر یاد آ رہا تھا۔شفاء نے کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھا، پھر آہستہ سے پوچھا،
“آپ لاہور میں کہاں رہیں گی؟”
علماء نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کی نظریں اب بھی کھڑکی سے باہر تھیں۔
شفاء نے دوبارہ پوچھا،
“کوئی رشتہ دار ہیں وہاں؟”
علماء نے بہت آہستہ سے سر نفی میں ہلا دیا۔
“نہیں۔”
“پھر… کہاں جائیں گی؟”
علماء خاموش رہی۔
اس کے پاس واقعی کوئی جواب نہیں تھا۔
شفاء نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر جیسے کچھ یاد آیا۔
“ویسے ہمارے گھر کے پاس ایک مسجد ہے۔”
علماء نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
شفاء نے بات جاری رکھی،
“وہ عام مسجد جیسی نہیں ہے۔ عورتوں کے لیے الگ جگہ ہے۔ وہاں کچھ عورتیں رہتی بھی ہیں۔ قرآن سمجھایا جاتا ہے، دینی باتیں سکھائی جاتی ہیں… اور رہنے کا انتظام بھی اچھا ہے۔”
مریم نے بھی آہستہ سے سر ہلایا۔
“ہاں، کافی عورتیں وہاں کچھ عرصے کے لیے رہتی ہیں۔”
شفاء نے علماء کی طرف دیکھا۔
“اگر آپ کا لاہور میں کوئی ٹھکانہ نہیں ہے تو آپ وہاں رہ سکتی ہیں۔”
علماء کچھ نہ بولی۔
شفاء نے نرمی سے کہا،
“میں آپ کو مشورہ دوں گی کہ آپ وہیں چلی جائیں۔ جگہ محفوظ ہے، خاص طور پر عورتوں کے لیے۔”
علماء کی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوگئیں۔
اتنی دیر سے وہ صرف یہی سوچ رہی تھی کہ لاہور پہنچ کر جائے گی کہاں۔
اور اب پہلی بار کسی نے اس کے سامنے ایک راستہ رکھا تھا۔
شفاء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“آپ فکر نہ کریں۔ ہم آپ کو وہاں تک لے جائیں گے۔ ہمارے گھر کے قریب ہی ہے، آپ کو اکیلے نہیں جانا پڑے گا۔”
علماء نے کچھ لمحے شفاء کو دیکھا۔
پھر بہت آہستہ سے سر ہلا دیا۔
“شکریہ…”
بس اتنا ہی کہہ سکی۔
اس کے بعد اس نے دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا۔
دل میں ایک عجیب سا سکون اترنے لگا تھا۔
وہ لاہور جا رہی تھی، جہاں نہ اسے کوئی جانتا تھا، نہ وہ کسی کو جانتی تھی۔ٹرین کے سفر میں نہ جانے کتنے گھنٹے گزر گئے تھے۔
کبھی علماء کھڑکی سے باہر دیکھتی رہتی اور کبھی آنکھیں بند کر کے سیٹ سے سر ٹکا دیتی۔ شفاء اور مریم بھی کبھی کبھار اس سے بات کر لیتیں، پھر خاموشی سے اپنے سفر میں مصروف ہو جاتیں۔
رات گہری ہوتی گئی۔
علماء کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنی دیر سوئی رہی۔
اچانک ٹرین کی رفتار کچھ کم ہونے لگی۔
باہر روشنیوں کی قطاریں دکھائی دینے لگیں۔
شفاء نے کھڑکی سے باہر دیکھا، پھر علماء کی طرف متوجہ ہوئی۔
“لگتا ہے لاہور آ گیا۔”
علماء نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔
“لاہور؟”
“جی۔”
ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر داخل ہوئی۔
کھڑکی کے باہر لوگوں کی بھیڑ نظر آنے لگی۔ کہیں مسافر اپنا سامان اٹھائے جلدی میں چل رہے تھے، کہیں قلی آوازیں لگا رہے تھے، اور کہیں لوگ اپنے آنے والوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔
ٹرین آخرکار رک گئی۔
شفاء نے اپنا بیگ اٹھایا۔
“چلیں؟”
علماء نے ایک لمحے کے لیے اپنی نشست کو دیکھااس کے پاس نہ کوئی سامان تھا، نہ کوئی منزل۔پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی علماء چند لمحوں کے لیے رک گئی۔
یہ لاہور تھا۔
ایک ایسا شہر جہاں اس کا کوئی نہیں تھا۔
وہ خاموشی سے چاروں طرف دیکھنے لگی۔
شفاء نے اس کے قریب آ کر کہا،
“آپ ہمارے ساتھ ہی رہیں۔ بھیڑ میں کہیں الگ نہ ہو جائیں۔”
علماء نے سر ہلا دیا۔
وہ شفاء اور مریم کے پیچھے چلنے لگی۔
کچھ فاصلے پر شفاء کا شوہر بھی ان کے ساتھ آ گیا تھا۔ اس نے ان کا سامان اٹھا لیا اور وہ لوگ اسٹیشن کے باہر کی طرف بڑھنے لگے۔علماء خاموشی سے ان کے ساتھ چل رہی تھی۔
ہر قدم کے ساتھ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنی پچھلی زندگی سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ھر دل ہی دل میں کہا،
“یا اللہ… اب آگے بھی آپ ہی میرا راستہ آسان کیجیے۔”
اور پھر وہ شفاء کے ساتھ لاہور اسٹیشن سے باہر نکل گئی۔
لاہور اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی شفاء کے شوہر نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔

“چلیں، گھر زیادہ دور نہیں ہے۔”
علماء خاموشی سے ان کے ساتھ چل پڑی۔
پورے راستے وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت، دکانوں کے باہر روشنیاں اور لوگوں کی چہل پہل دیکھ کر اسے عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔
یہ شہر اس کے لیے بالکل اجنبی تھا۔
کچھ دیر بعد گاڑی ایک نسبتاً پرسکون گلی میں آ کر رک گئی۔

شفاء نے دروازہ کھولا۔”آئیں۔”
علماء اس کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔
گھر سادہ مگر بہت صاف ستھرا تھا۔ ایک چھوٹا سا صحن، سامنے کمرے اور ایک طرف نماز کے لیے الگ جگہ بنی ہوئی تھی۔

شفاء نے علماء کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“آپ سفر سے بہت تھک گئی ہوں گی۔ پہلے آرام کر لیں۔”
علماء نے صرف سر ہلا دیا۔
شفاء کچھ دیر بعد اس کے لیے کھانا اور چائے لے آئی۔
“تھوڑا سا کھا لیں۔”

علماء نے سامنے رکھے کھانے کو دیکھا۔ سفر کے دوران اسے واقعی ٹھیک سے کچھ کھانے کا خیال نہیں رہا تھا۔
اس نے خاموشی سے چند لقمے لیے۔
شفاء پاس ہی بیٹھی رہی، مگر اس نے علماء سے کوئی سوال نہیں کیا۔
شاید اسے اندازہ تھا کہ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں فوراً پوچھا نہیں جاتا۔
کھانے کے بعد شفاء نے ایک کمرہ دکھایا۔
“آپ کچھ دیر یہاں آرام کر لیں۔”
علماء نے آہستہ سے کہا،”شکریہ۔”
وہ کمرے میں چلی گئی۔
بستر پر بیٹھتے ہی اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کے جسم میں کتنی تھکن جمع ہو چکی تھی۔
وہ لیٹی اور نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔
—
شام کے قریب اس کی آنکھ کھلی۔
کمرے میں ہلکی سی نارنجی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
شفاء دروازے کے پاس کھڑی تھی۔”علماء…”
علماء نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اسے دیکھا۔
“جی؟”
“پانچ بج گئے ہیں۔ اگر آپ تیار ہیں تو میرے ساتھ چلیں۔”
“کہاں؟””اسی مسجد میں جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا۔”
علماء کچھ لمحے خاموش رہی، پھر سر ہلا دیا۔
شفاء نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک چھوٹا سا تھیلا اس کی طرف بڑھایا۔

“یہ آپ کے لیے ہے۔”
علماء نے حیرت سے تھیلا دیکھا۔
“میرے لیے؟”
“ہاں۔”
اس نے تھیلا کھولا تو اندر چند سادہ اور صاف ستھرے کپڑے تھے۔علماء چند لمحے انہیں دیکھتی رہی۔
“یہ تو…”
“میرے کچھ کپڑے ہیں۔ آپ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے نا۔”
شفاء نے بہت سادگی سے کہا۔
علماء کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
“میں یہ کیسے لے سکتی ہوں؟”

شفاء مسکرا دی۔
“جیسے ایک بہن دوسری بہن کے کپڑے لے لیتی ہے۔ بس۔”
علماء نے کپڑوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔”
“آمین۔ اب جلدی سے تیار ہو جائیں۔”
کچھ دیر بعد علماء نے شفاء کے دیے ہوئے کپڑوں میں سے ایک سادہ لباس پہنا اور پشمینہ اپنے ساتھ لے لیا۔پانچ بجنے کے کچھ دیر بعد دونوں گھر سے نکلیں۔مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔
گلی سے آگے نکلتے ہی ایک پرسکون سی عمارت دکھائی دی۔ باہر سادہ سا دروازہ تھا، جس کے ایک طرف خواتین کے داخلے کے لیے الگ راستہ بنا ہوا تھا۔
شفاء نے علماء کو اسی طرف لے جایا۔
دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی علماء کچھ لمحوں کے لیے رک گئی۔
اندر کا ماحول باہر کی دنیا سے بالکل مختلف تھا۔
صحن صاف ستھرا تھا۔ ایک طرف چند عورتیں خاموشی سے بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھیں۔ کہیں سے تلاوت کی دھیمی آواز آ رہی تھی، اور دوسری طرف چند لڑکیاں ایک بزرگ خاتون کے گرد بیٹھی تھیں جو انہیں قرآن کا مفہوم سمجھا رہی تھیں۔

فضا میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
نہ شور…
نہ جلدی…
نہ کسی سے کوئی سوال۔
بس قرآن کی آہستہ آہستہ پڑھی جانے والی آیات کی آواز۔
علماء نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لیں۔شفاء نے آہستہ سے کہا،”یہی ہے وہ جگہ جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا۔”علماء نے چاروں طرف دیکھا۔
اسے پہلی بار لگا کہ شاید اللہ نے واقعی اسے کسی راستے پر لا کھڑا کیا تھا۔وہ خاموشی سے مسجد کے صحن میں آگے بڑھ گئی۔شفاء اسے صحن کے ایک کونے میں بنے چھوٹے سے دفتر کی طرف لے گئی۔
دروازے کے باہر ایک تختی لگی تھی۔
“انتظامیہ”
شفاء نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
اندر سے ایک عورت کی آواز آئی۔
“آ جائیں۔”
شفاء نے دروازہ کھولا اور علماء کے ساتھ اندر داخل ہوگئی۔
کمرے میں ایک درمیانی عمر کی خاتون میز کے سامنے بیٹھی کچھ کاغذات دیکھ رہی تھیں۔ سر پر سادہ سا دوپٹہ تھا اور چہرے پر ٹھہرا ہوا سکون۔
شفاء نے سلام کیا۔
“السلام علیکم۔”
خاتون نے سر اٹھایا۔
“وعلیکم السلام۔ آؤ شفاء۔”
پھر ان کی نظر علماء پر پڑی۔
چند لمحے وہ اسے دیکھتی رہیں۔
“یہ کون ہیں؟”
شفاء نے علماء کی طرف دیکھا۔
“یہ علماء ہیں۔”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
شفاء نے آہستہ سے بات شروع کی۔
“یہ ابھی ہمارے ساتھ لاہور آئی ہیں۔ ان کا یہاں کوئی نہیں ہے، اس لیے میں انہیں آپ کے پاس لائی ہوں۔”
خاتون نے علماء کی طرف دوبارہ دیکھا۔
“بیٹی، بیٹھو۔”
علماء کرسی کے ایک کنارے پر بیٹھ گئی۔
خاتون نے نرمی سے پوچھا،
“تمہارا پورا نام کیا ہے؟”
“علماء صدیقی۔”
“اچھا۔”
انہوں نے چند لمحے توقف کیا، پھر پوچھا،
“اور لاہور میں پہلے کبھی آئی ہو؟”
علماء نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“نہیں۔”
“تمہارے گھر والے؟”
یہ سوال سنتے ہی علماء کی انگلیاں آپس میں الجھ گئیں۔
وہ کچھ نہ بولی۔
شفاء نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔
خاتون نے علماء کے چہرے کو غور سے دیکھا، پھر مزید سوال نہیں کیا۔
“ٹھیک ہے۔ اگر ابھی بتانا مشکل ہے تو کوئی بات نہیں۔”
علماء نے پہلی بار ان کی طرف دیکھا۔
خاتون نے نرم لہجے میں کہا،
“یہاں کسی کو اپنی پوری کہانی فوراً سنانا ضروری نہیں ہوتا۔ جب دل چاہے، تب بتانا۔”
علماء کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
“میں… یہاں رہ سکتی ہوں؟”
خاتون نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔
پھر بہت سادگی سے جواب دیا،
“اگر تم واقعی رہنا چاہتی ہو تو کیوں نہیں۔”
علماء کی پلکیں جھک گئیں۔
“میرے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔”
خاتون نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
“تو پھر فی الحال یہی تمہاری جگہ ہے۔ باقی اللہ بہتر کرے گا۔”
شفاء کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
علماء نے کچھ کہنا چاہا، مگر آواز گلے میں ہی رک گئی۔
اس نے صرف اتنا کہا،
“جزاک اللہ…”
خاتون نے مسکرا کر جواب دیا،
“اللہ تمہیں سکون دے، بیٹی۔”
پھر انہوں نے شفاء سے کہا،
“تم اسے خواتین والے حصے میں لے جاؤ۔ وہاں نادیہ آپا موجود ہوں گی۔ انہیں بتا دینا کہ علماء آج سے یہیں رہیں گی۔”
شفاء نے سر ہلایا۔
“جی۔”
علماء اٹھنے لگی تو اس خاتون نے اسے روک کر کہا،
“بیٹی۔”
علماء پلٹی۔
“جی؟”
“یہاں تمہیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آرام سے رہو۔ نماز پڑھو، قرآن پڑھو… اور جب دل چاہے، اللہ سے بات کرو۔”
علماء کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے۔
اس نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔پھر شفاء کے ساتھ باہر نکل آئی۔
وہیں مسجد کے صحن میں، چند قدم دور، علماء رک گئی۔
اس نے اپنے سامنے پھیلی ہوئی اس پُرسکون جگہ کو دیکھا۔
شاید اللہ نے اسے واقعی اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔رات آہستہ آہستہ مسجد کے صحن پر اترنے لگی۔
دن بھر کی چہل پہل کم ہو چکی تھی۔ صحن میں اب پہلے جیسی رونق نہیں تھی۔عشاء کی اذان کی آواز آئی تو مسجد میں موجود عورتیں آہستہ آہستہ نماز کے لیے جمع ہونے لگیں۔
علماء بھی خاموشی سے وضو کرنے چلی گئی۔
نماز کے بعد نادیہ آپا اسے خواتین کے رہنے والے حصے میں لے گئیں۔
ایک کشادہ سا کمرہ تھا، جہاں چند عورتیں پہلے ہی آرام کر رہی تھیں۔ کسی کے پاس تسبیح تھی، کوئی قرآن بند کر کے رکھ رہی تھی، اور کوئی خاموشی سے اپنے بستر کی چادر درست کر رہی تھی۔
نادیہ آپا نے ایک طرف اشارہ کیا۔
“یہاں سو جاؤ بیٹی۔”
علماء نے سر ہلا دیا۔
کچھ دیر بعد ایک خاتون اس کے لیے ایک صاف ستھرا کمبل لے آئیں۔
“یہ لے لو۔ رات کو ٹھنڈ ہو سکتی ہے۔”
علماء نے دونوں ہاتھوں سے کمبل تھام لیا۔
“شکریہ۔”
خاتون مسکرا کر چلی گئیں۔
علماء کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔
آس پاس موجود عورتیں آہستہ آہستہ سو رہی تھیں۔ کمرے میں اب صرف ہلکی ہلکی سانسوں کی آوازیں تھیں۔
علماء نے کمبل اپنے گرد لپیٹا اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
اس کے پاس اب ایک چھت تھی۔
ایک بستر تھا۔
ایک کمبل تھا۔علماء آہستہ سے لیٹ گئی اور کمبل اپنے سر تک کھینچ لیا۔
کمرے میں کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا کہ کمبل کے اندر اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔
وہ چھت کو دیکھنے لگی۔
چند لمحے گزرے۔
پھر اس کی پلکوں سے ایک آنسو نکل کر کنپٹی سے ہوتا ہوا تکیے میں جذب ہوگیا۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور جیسے ہی آنکھیں بند ہوئیں، وہ سارے منظر پھر سے سامنے آ گئے۔
گھر…
شور…
وہ خوف…
وہ بھاگتے ہوئے قدم…
اور آگ کے شعلے۔
علماء نے کمبل اپنے چہرے پر مزید کھینچ لیا۔
اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ اس کی سسکی کسی کو سنائی نہ دے۔
مگر آنسو رک نہیں رہے تھے۔
وہ کمبل کے اندر منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
خاموشی سے۔
اتنی خاموشی سے کہ پاس سوئی ہوئی کسی عورت کو خبر تک نہ ہوئی۔
اس کے کندھے ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔
وہ روتے ہوئے دل ہی دل میں کہہ رہی تھی،
“یا اللہ… میں کہاں آ گئی ہوں؟”
ایک لمحے کے لیے اس کی آواز اندر ہی اندر ٹوٹ گئی۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا…”
آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔
“بس آپ مجھے چھوڑنا مت۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر کمبل کے اندر ہی اپنے ہاتھ سینے پر رکھ لیے۔
“سب چلے گئے… سب کچھ ختم ہو گیا…”
اس کے لب کانپے۔
“لیکن آپ ہیں نا؟”
اس سوال کا جواب اسے کسی آواز میں نہیں ملا۔
مگر اس بار بھی اس نے خود ہی دل کو جواب دیا۔
“ہاں… وہ ہیں۔”علماء نے آنکھیں بند کر لیں۔
آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے، مگر اس کے دل میں ایک چھوٹا سا یقین باقی تھا۔
شاید صبح کچھ آسان ہو۔
شاید اللہ کوئی نیا راستہ کھول دے۔
اور اسی امید کو اپنے اندر لیے وہ کمبل میں سمٹ کر روتی رہی۔
کب آنکھوں سے آنسو بہتے بہتے نیند آ گئی، اسے خود بھی معلوم نہ ہوا۔صبح کی ہلکی روشنی کھڑکی سے چھن کر کمرے میں داخل ہوئی تو علماء کی آنکھ کھلی۔

چند لمحوں تک وہ خاموشی سے چھت کو دیکھتی رہی۔
پھر اسے یاد آیا کہ وہ کہاں ہے۔
وہ آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ کمبل اب بھی اس کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ آنکھیں رات بھر رونے کی وجہ سے بھاری تھیں۔
کمرے میں باقی عورتیں بھی جاگ چکی تھیں۔ کوئی وضو کے لیے جا رہی تھی، کوئی اپنی چادر درست کر رہی تھی۔
علماء نے بھی وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔
نماز کے بعد وہ کچھ دیر جائے نماز پر بیٹھی رہی۔
اس کے دل میں رات والا بوجھ اب بھی تھا، مگر کل کی نسبت کچھ ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔
کچھ دیر بعد نادیہ آپا نے سب کو ناشتے کے لیے بلایا۔
“بیٹیو، ناشتہ لگ گیا ہے۔”
علماء بھی باقی عورتوں کے ساتھ ہال کی طرف چلی گئی۔
وہاں فرش پر دسترخوان بچھا ہوا تھا۔ چائے، انڈے، روٹیاں اور کچھ ہلکا سا ناشتہ رکھا تھا۔
علماء خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔
نادیہ آپا نے اس کے سامنے پلیٹ رکھی۔
“لو، ناشتہ کرو۔”
“جی۔”
علماء نے آہستہ سے ناشتہ شروع کیا۔
اسے کل سے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس نے سکون سے کچھ کھایا ہے۔
ناشتے کے بعد سب عورتیں دوبارہ ایک بڑے کمرے میں جمع ہونے لگیں۔سامنے قرآنِ پاک رکھے تھے۔

ایک عمر رسیدہ خاتون آگے بیٹھیں اور قرآن کھول لیا۔
علماء بھی خاموشی سے سب کے درمیان بیٹھ گئی۔
خاتون نے تلاوت شروع کی۔

کمرے میں قرآن کی آواز پھیل گئی۔علماء کی نظریں قرآن پر جم گئیں۔تلاوت کے بعد خاتون نے آیت کا ترجمہ اور مفہوم سمجھانا شروع کیا۔وہ بہت سادہ انداز میں بات کر رہی تھیں۔

“اللہ اپنے بندے کو اس کی طاقت سے زیادہ آزمائش نہیں دیتا۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے سب راستے بند ہو گئے ہیں، لیکن اللہ کے ہاں کوئی راستہ بند نہیں ہوتا۔”
علماء کی نظریں جھک گئیں۔
اس کے دل میں جیسے کسی نے دستک دی۔
کل تک اسے بھی یہی لگ رہا تھا کہ اس کے لیے سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔
گھر نہیں رہا تھا۔
اپنے نہیں رہے تھے۔
کوئی منزل نہیں تھی۔
لیکن پھر بھی…
وہ یہاں تک پہنچ گئی تھی۔
خاتون نے قرآن بند نہیں کیا تھا۔وہ کہہ رہی تھیں،
“کبھی کبھی انسان جس چیز کو اپنی زندگی کا اختتام سمجھ رہا ہوتا ہے، اللہ اسی جگہ سے اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع کر دیتا ہے۔”
علماء کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔تلاوت ختم ہونے کے بعد کچھ دیر تک کمرے میں خاموشی رہی۔
عمر رسیدہ خاتون نے قرآن آہستہ سے بند کیا اور اپنے سامنے رکھ دیا۔ عورتیں ایک ایک کرکے اٹھنے لگیں۔ کوئی وضو کے لیے جا رہی تھی، کوئی اپنی کتابیں سمیٹ رہی تھی، اور کچھ لڑکیاں وہیں بیٹھ کر آپس میں آہستہ آواز میں باتیں کرنے لگیں۔
علماء اپنی جگہ بیٹھی رہی۔
اس کے دل میں عجیب سا سکون تھا۔
زندگی ابھی بھی وہیں تھی جہاں کل تھی۔ سوال وہی تھے، ماضی وہی تھا، اور آنے والا کل اب بھی بے یقینی میں ڈوبا ہوا تھا۔ مگر آج پہلی بار اسے محسوس ہوا تھا کہ شاید ہر سوال کا جواب فوراً ملنا ضروری نہیں۔
کبھی کبھی بس اتنا کافی ہوتا ہے کہ انسان کو ایک جگہ مل جائے جہاں وہ سانس لے سکے۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تو راستے میں نادیہ آپا مل گئیں۔
“علماء۔”
وہ رک گئی۔
“جی؟”
نادیہ آپا نے اسے غور سے دیکھا۔
“اب طبیعت کچھ بہتر لگ رہی ہے؟”
علماء نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“جی…نادیہ آپا چند لمحے خاموش رہیں، پھر جیسے کچھ سوچ کر بولیں۔
“ایک بات کہوں؟”
“جی۔”
“اگر تم چاہو تو یہاں رہتے ہوئے کوئی کام بھی کر سکتی ہو۔”
علماء نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
“کام؟”
“ہاں۔”
نادیہ آپا نے قدرے دھیمی آواز میں کہا۔
“یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا اسکول ہے۔ ہمارے ہی ادارے سے وابستہ ہے۔ وہاں بچیوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ کافی عرصے سے ایک انگلش ٹیچر کی ضرورت ہے، لیکن کوئی مناسب لڑکی مل نہیں رہی۔”
علماء خاموشی سے سنتی رہی۔
“اگر تمہیں انگلش اچھی آتی ہے اور تم پڑھا سکتی ہو تو تم وہاں جا سکتی ہو۔”
علماء کے ذہن میں جیسے ایک خیال آیا۔
“لیکن… میں؟”
“کیوں؟ تم کیوں نہیں؟”
نادیہ آپا مسکرائیں۔
“کام کرو گی تو تھوڑے بہت پیسے بھی مل جائیں گے۔ اپنے چھوٹے موٹے خرچ کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
علماء کی نظریں جھک گئیں۔یہاں کی ہر کوئی لڑکی ایسے ہی کرتی ہی کسی کو سلائی آتی ہے وہ کپڑے سلتا ہے اور کُچھ لوگ پڑھا تے ہے ۔تمھیں دیکھ کے لگتا ہے تمھیں انگلش اچھی آتی ہوگئی۔وہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔
نادیہ آپا نے مزید کہا،
“اسکول بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ صبح جاؤ گی، دوپہر تک واپس آ جاؤ گی۔ باقی وقت یہاں رہو، نماز پڑھو، قرآن پڑھو۔”
علماء نے کچھ دیر سوچا۔
پھر بہت آہستہ سے بولی،
“میں پڑھا سکتی ہوں۔”
“تو پھر کل چلتے ہیں۔”
نادیہ آپا نے جیسے فیصلہ کر لیا۔
“پہلے اسکول دیکھ لینا۔ اگر تمہیں مناسب لگا تو کام شروع کر دینا۔”
علماء نے سر ہلا دیا۔
“جی۔”
نادیہ آپا آگے بڑھ گئیں۔
علماء کچھ دیر وہیں کھڑی رہ گئی۔
**************””************
اگلے دن شام کے وقت مسجد کے دروازے سے شفاء اندر داخل ہوئی۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔
علماء صحن کے ایک کونے میں بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی۔
شفاء کی نظر اس پر پڑی تو وہ سیدھی اس کی طرف آگئی۔
“علماء!”
علماء نے قرآن سے نظریں اٹھائیں۔
شفاء کو دیکھ کر اس کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“آپ آگئیں؟”
“ہاں۔ تمہیں دیکھنے کا دل کر رہا تھا۔”
شفاء اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“کیسی ہو اب؟”
“ٹھیک ہوں۔”
“واقعی؟”
علماء نے اس بار ذرا بہتر انداز میں مسکرا کر سر ہلایا۔
“جی، اب کافی بہتر ہوں۔”
شفاء نے اطمینان کا سانس لیا۔اچھا، پھر میرے ساتھ چلو۔”
علماء نے حیرت سے دیکھا۔
“کہاں؟”
“ایک جگہ دکھانی ہے۔”
“کہاں؟”
شفاء نے مسکرا کر کہا،
“وہی اسکول جس کا نادیہ آپا نے تمہیں بتایا تھا۔”
علماء کچھ لمحے خاموش رہی۔
“آج؟”
“ہاں، آج ہی۔ ابھی چلتے ہیں۔”
علماء نے قرآن بند کیا۔
شفاء نے اس کے لیے لائے ہوئے بیگ کی طرف اشارہ کیا۔
“اور یہ تمہارے لیے کچھ کپڑے ہیں۔ زیادہ نہیں، بس چند چیزیں۔”
علماء نے بیگ اپنی طرف کھینچتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا،
“شفاء… بہت شکریہ۔”
شفاء نے مسکرا کر جواب دیا۔
“شکریہ اللہ کا ادا کرنا۔ ہم تو صرف ذریعہ ہیں۔”
علماء کی نظریں ایک لمحے کے لیے جھک گئیں۔
یہ جملہ اسے بہت اپنا سا لگا۔
وہ دونوں مسجد سے باہر نکلیں۔شام کی روشنی آہستہ آہستہ مدھم ہو رہی تھی۔
علماء شفاء کے ساتھ چل رہی تھی۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ آنے والے دن اس کی زندگی کو کہاں لے جائیں گے۔
لیکن آج پہلی بار…
اس کے قدم کسی نامعلوم جگہ کی طرف نہیں جا رہے تھے۔
اس کے سامنے ایک راستہ تھا۔
اور اس راستے پر چلنے کے لیے اس کے پاس ایک چھوٹی سی امید تھی۔
اللہ پر بھروسے کی امید۔
اسکول مسجد سے زیادہ دور نہیں تھا۔ چند منٹ پیدل چلنے کے بعد شفاء ایک چھوٹی سی عمارت کے سامنے رک گئی۔

عمارت بہت بڑی نہیں تھی، مگر صاف ستھری تھی۔ سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جہاں چند بچیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ دیوار کے ساتھ گملے رکھے تھے اور ایک طرف چھوٹا سا بورڈ لگا تھا۔
شفاء نے دروازہ کھولا۔
اندر سے بچیوں کے پڑھنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
علماء نے خاموشی سے اردگرد دیکھا۔
جگہ سادہ تھی، لیکن اسے اچھی لگی۔
نہ شور تھا، نہ بہت زیادہ ہجوم۔
بس ایک پرسکون سا ماحول تھا۔
شفاء اسے ایک کمرے کی طرف لے گئی جہاں چند بچیاں کتابیں کھولے بیٹھی تھیں۔
“یہیں انگلش کی کلاس ہوتی ہے،” شفاء نے کہا۔
علماء نے کمرے میں نظر دوڑائی۔
پھر آہستہ سے بولی،
“اچھی جگہ ہے۔”
شفاء مسکرا دی۔
“تو پھر کل سے آ جاؤ گی؟”
علماء نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر سر ہلا دیا۔
“جی۔”
“صبح نو بجے آنا ہوگا۔”
“اور کتنے بجے تک؟”
“ایک بجے تک۔ پھر تم واپس مسجد آ جانا۔”
علماء نے دوبارہ سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے۔”
اس وقت اسے پہلی بار اپنے آنے والے دن کا ایک معمول دکھائی دیا۔
صبح نماز۔
پھر قرآن۔
اور اس کے بعد اسکول۔
کسی کام کے لیے باہر جانا۔
کچھ بچیوں کو پڑھانا۔
اور پھر واپس اسی جگہ آ جانا جہاں اس نے اپنے رب کے سامنے خود کو دوبارہ جوڑنا شروع کیا تھا۔

************

اگلی صبح علماء معمول سے کچھ پہلے اٹھ گئی۔
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اس نے کچھ دیر قرآن پڑھا۔
پھر نادیہ آپا نے اسے ناشتہ دیا۔
“آج پہلا دن ہے، گھبرا تو نہیں رہی؟”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“نہیں۔ بس تھوڑا سا۔”
“گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جو آتا ہے وہ پڑھانا، اور جو نہیں آتا وہ سیکھ لینا۔”
علماء مسکرا دی۔
“جی۔”

ناشتے کے بعد اس نے شفاء کے دیے ہوئے کپڑوں میں سے ایک سادہ سا لباس پہنا اور وقت دیکھ کر اسکول کی طرف چل پڑی۔
نو بجنے سے چند منٹ پہلے وہ اسکول پہنچ گئی۔
وہاں پہنچ کر اسے وہی سادہ سا ماحول ملا۔
بچیاں آ چکی تھیں۔
کچھ اپنی کتابیں کھول رہی تھیں اور کچھ آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔علماء کو دیکھ کر ایک خاتون نے اسے اپنے پاس بلایا۔
“تم علماء ہو نا؟”
“جی۔”

“آؤ، آج تم کلاس لے لو۔ پہلے دن دیکھ لیتے ہیں بچیوں کے ساتھ تمہارا طریقہ کیسا رہتا ہے۔”علماء نے اثبات میں سر ہلایا۔وہ کلاس کے اندر گئی۔سامنے بیٹھی بچیوں نے اسے غور سے دیکھا۔علماء کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہی۔

پھر اس نے کتاب کھولی اور بہت سادہ انداز میں پڑھانا شروع کیا۔
شروع میں اس کی آواز تھوڑی دھیمی تھی۔
لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ خود بھی پرسکون ہو گئی۔
بچیاں سوال کرتی رہیں۔وہ جواب دیتی رہی۔
کبھی کسی لفظ کا مطلب سمجھاتی، کبھی جملہ بنواتی۔
وقت کا اسے اندازہ ہی نہیں ہوا۔
جب گھڑی میں ایک بجے تو کلاس ختم ہوئی۔
ایک بچی نے جاتے جاتے کہا،
“ٹیچر! آپ کل بھی آئیں گی نا؟”
علماء ایک لمحے کو رک گئی۔
پھر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“ہاں، ان شاء اللہ۔”
بچی چلی گئی۔
علماء نے خالی ہوتی کلاس کو دیکھا۔
دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔
کچھ دن پہلے تک اسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی میں کچھ باقی نہیں رہا۔
اور آج…کسی نے اسے “ٹیچر” کہا تھا۔
وہ لفظ بہت معمولی تھا۔لیکن علماء کے لیے نہیں۔

اس نے اپنی کتابیں سمیٹیں اور اسکول سے باہر نکل آئی۔
واپسی پر اس کے قدم پہلے سے ہلکے تھے۔
وہ دوبارہ اسی مسجد کی طرف جا رہی تھی۔
وہی جگہ جہاں اسے رہنے کی جگہ ملی تھی۔
وہی جگہ جہاں اس نے نماز میں سکون پایا تھا۔
اور اب اس کی زندگی کا ایک نیا معمول بھی بن گیا تھا۔
صبح سے دوپہر تک اسکول۔
اور دوپہر کے بعد مسجد۔
پھر نماز، قرآن، اور اللہ کے ساتھ وہ خاموش وقت جس میں وہ اپنے دل کی ہر بات کہہ دیتی تھی۔
دن اسی طرح گزرنے لگے۔
ایک دن۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
علماء ہر صبح نو بجے اسکول جاتی، دوپہر ایک بجے تک بچیوں کو پڑھاتی اور پھر واپس مسجد آ جاتی۔
آہستہ آہستہ بچیاں بھی اس سے مانوس ہونے لگیں۔اور علماء بھی۔اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ زندگی شاید دوبارہ اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
ماضی ختم نہیں ہوا تھا۔زخم بھی موجود تھے۔
لیکن اب ان زخموں کے ساتھ جینا سیکھنے کا ایک راستہ ضرور مل گیا تھا۔
اور وہ راستہ…
اُسے نہ جانے کہاں لے جانے والا تھا۔ ایسے ہی مہینہ گزر گیا شفاء کبھی کبھی شام کے وقت علماء سے ملنے آجایا کرتی تھی۔
وہ دونوں مسجد کے صحن میں بیٹھ کر باتیں کرتیں۔
علماء اب پہلے کی نسبت کچھ زیادہ بات کرنے لگی تھی۔
ایک شام شفاء نے اسے غور سے دیکھا۔
“تم بدل گئی ہو۔”
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“میں؟”
“ہاں۔”
شفاء مسکرائی۔
“پہلے تمہارے چہرے پر ہر وقت ایک خوف سا ہوتا تھا۔ اب بھی اداسی ہے، لیکن تم اس اداسی کے ساتھ جینا سیکھ رہی ہو۔”
علماء نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس سامنے آسمان کو دیکھتی رہی۔
شاید شفاء ٹھیک کہہ رہی تھی۔
وہ ٹھیک تو نہیں ہوئی تھی۔
لیکن ٹوٹ کر بکھرنے کے بعد خود کو دوبارہ سمیٹنا ضرور سیکھ رہی تھی۔
مہینے کے آخری دن اسکول سے واپسی پر نادیہ آپا نے اسے اپنے پاس بلایا۔
“علماء، ذرا ادھر آؤ۔”
علماء ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
“جی، نادیہ آپا؟”
نادیہ آپا نے ایک سفید لفافہ اس کی طرف بڑھایا۔
“یہ تمہاری پہلی تنخواہ ہے۔”
علماء چند لمحے لفافے کو دیکھتی رہی۔
جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔
“میری؟”
نادیہ آپا مسکرا دیں۔
“ہاں، تمہاری۔ پورے چالیس ہزار پاکستانی روپے۔”
علماء نے آہستہ سے لفافہ ہاتھ میں لے لیا۔
اس نے کبھی اس طرح اپنی کمائی ہاتھ میں نہیں تھامی تھی۔
لفافہ کھولا تو اندر پاکستانی روپے کے نوٹ تھے۔
علماء نے ایک ایک نوٹ کو دیکھا۔ اُسے دیکھا نیپال اور پاکستان کے نوٹ میں کافی فرق تھا۔علماء نے دوبارہ نوٹوں کو دیکھا۔
چالیس ہزار۔
یہ رقم شاید کسی اور کے لیے معمولی ہو۔
لیکن اس کے لیے…
یہ صرف چالیس ہزار روپے نہیں تھے۔
یہ اس کی پہلی کمائی تھی۔
اس کی اپنی محنت کے پیسے۔
کسی سے مانگے ہوئے نہیں۔
کسی کے احسان کے نہیں۔
اس نے لفافہ بند کیا اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔
پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
نادیہ آپا نے پوچھا،
“کیا ہوا؟”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا۔
“کچھ نہیں… بس…”
وہ رک گئی۔
“بس کیا؟”
علماء نے لفافے کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
“مجھے لگ رہا ہے جیسے میں واقعی دوبارہ اپنی زندگی شروع کر رہی ہوں۔”
نادیہ آپا کی آنکھوں میں بھی شفقت اتر آئی۔
“زندگی کبھی ایک جگہ رکتی نہیں، علماء۔ بس کبھی ہمیں اس کے ساتھ چلنے میں وقت لگ جاتا ہے۔”
علماء نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
اس رات وہ اپنے کمرے میں واپس آئی تو لفافہ اپنے سامان کے درمیان رکھ دیا۔
پھر جائے نماز بچھائی۔
نماز ادا کی۔
اور سجدے میں چلی گئی۔
کافی دیر تک وہ کچھ نہیں بولی۔
پھر آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“یا اللہ…”
اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔
“آپ نے مجھے پھر سے کھڑا ہونا سکھا دیا۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
“میں نے سوچا تھا میرے پاس کچھ نہیں بچا… لیکن آپ نے مجھے ایک راستہ دے دیا۔”
اس کے آنسو جائے نماز پر گر رہے تھے۔
“بس… مجھے اس راستے سے کبھی دور مت کرنا۔”
اس رات پہلی بار اسے اپنی تنہائی اتنی بھاری محسوس نہیں ہوئی۔
اس کے پاس بہت کچھ نہیں تھا۔
مگر اس کے پاس ایک چھت تھی۔
نماز تھی۔
قرآن تھا۔
ایک کام تھا۔
اپنی پہلی کمائی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر…
اس کا رب تھا۔
اگلی صبح علماء حسبِ معمول وقت پر اٹھ گئی۔
فجر کی نماز کے بعد اس نے کچھ دیر قرآن پڑھا، پھر ناشتہ کیا اور تیار ہو کر نو بجے اسکول کے لیے نکل گئی۔
آج بھی کلاس میں وہی معمول تھا۔
بچیوں نے سبق پڑھا، علماء نے انہیں انگلش کے نئے الفاظ سمجھائے اور پھر کچھ دیر ان سے جملے بنوائے۔
ایک مہینے میں وہ اس ماحول کی عادی ہو چکی تھی۔
اب اسکول جاتے ہوئے اسے اجنبیت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
دوپہر ایک بجے کلاس ختم ہوئی تو وہ اپنی کتابیں سمیٹ کر واپس مسجد آ گئی۔
ظہر کی نماز ادا کی، کچھ دیر قرآن پڑھا اور پھر اپنے کمرے میں آ کر آرام کرنے لگی۔
شام کے تقریباً چار بجے اسے اچانک شفاء کا خیال آیا۔
وہ اٹھ کر نادیہ آپا کے پاس گئی۔
“نادیہ آپا، وہ موبائل…؟”
“ہاں، لے لو۔ کیوں؟”
“شفاء کو فون کرنا ہے۔”
نادیہ آپا نے موبائل اس کی طرف بڑھا دیا۔
علماء نے شفاء کا نمبر ملایا۔
کچھ دیر بعد دوسری طرف سے شفاء کی آواز آئی۔
“السلام علیکم، علماء!”
“وعلیکم السلام۔”
علماء کے لہجے میں ہلکی سی خوشی تھی۔
“شفاء، تم آج آ سکتی ہو؟”
“آج؟”
“ہاں… اگر مصروف نہ ہو تو۔”
شفاء ہنس پڑی۔
“تم جب اتنے عرصے بعد خود فون کر کے بلاؤ گی تو میں کیوں نہیں آؤں گی؟ بس تھوڑا وقت دو، میں آتی ہوں۔”
کال ختم ہوئی تو علماء کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد شفاء مسجد پہنچ گئی۔
“السلام علیکم!”
علماء اسے دیکھتے ہی صحن کی طرف آگئی۔
“وعلیکم السلام۔”
شفاء نے اسے غور سے دیکھا۔
“اچھا! آج تو چہرے پر خاص خوشی ہے۔”
علماء مسکرا دی۔
“ایک بات بتانی تھی۔”
“کیا؟”
“مجھے پہلی تنخواہ ملی ہے۔”
شفاء کے چہرے پر بھی خوشی پھیل گئی۔
“واقعی؟”
“ہاں۔”
“ماشاءاللہ! مبارک ہو۔”
علماء نے دھیرے سے کہا،
“میں سوچ رہی تھی… کچھ سامان لینا ہے۔”
“تو لے لیتے ہیں۔”
شفاء نے فوراً کہا۔
علماء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“ابھی؟”
“ہاں، ابھی۔”
پھر شفاء نے اپنا فون نکالا اور کسی کو کال کی۔
“بھائی، آپ کہاں ہیں؟”
کچھ دیر دوسری طرف کی بات سنتی رہی، پھر بولی،
“اگر فارغ ہیں تو مسجد کے پاس آ جائیں۔ ہمیں کچھ سامان لینا ہے۔”
کال ختم کرکے اس نے علماء کی طرف دیکھا۔
“بھائی آ رہے ہیں۔ گاڑی میں چلیں گے۔”
علماء نے فوراً کہا،
“لیکن میں زیادہ چیزیں نہیں لوں گی۔”
شفاء ہنس دی۔
“تمہیں ابھی سے وضاحت دینے کی ضرورت نہیں۔ پہلے بازار چلتے ہیں، پھر دیکھیں گے۔”
کچھ دیر بعد شفاء کا بھائی گاڑی لے کر مسجد کے باہر آ گیا۔
علماء نے اپنے دوپٹے کو درست کیا اور شفاء کے ساتھ باہر نکل آئی۔ علماء نے سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی اسے صرف اُسکی آنکھیں نظر آرہی تھی۔شفاء نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
“آؤ۔”
علماء پچھلی نشست پر بیٹھ گئی اور شفاء اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔شفاء کا بھائی گاڑی کے باہر کھڑا تھا۔
لمبا قد، سنجیدہ چہرہ، گھنے سیاہ بال اور ہلکی سی بڑھی ہوئی داڑھی۔ اس نے سادہ سا سفید کُرتا پہنا ہوا تھا۔ لباس میں کوئی خاص بناوٹ نہیں تھی، لیکن اس کی شخصیت میں ایک ٹھہرا ہوا سا وقار تھا۔ اُسکا نام فیض تھا۔فیض ملک۔ وہ 25 سال کا خوبصورت مرد تھا۔
وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر ایک لمحے کے لیے پچھلی نشست کی طرف اٹھ گئی۔
سیاہ شال میں لپٹی ہوئی علماء کی صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔
بس ایک نظر۔
وہ چند لمحے اس کی آنکھوں پر ٹھہرا، پھر فوراً نظریں ہٹا لیں۔
اس نے دوبارہ اس طرف نہیں دیکھا۔اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
علماء نے بھی ایک بار سامنے کی طرف دیکھا، مگر اس کا دھیان ڈرائیور کی طرف نہیں گیا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
شہر کی سڑکیں شام کی روشنی میں بدل رہی تھیں۔
دکانوں کے باہر روشنیاں جل چکی تھیں۔ سڑک پر لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی تھی۔کچھ دیر بعد گاڑی ایک مصروف مارکیٹ کے سامنے جا کر رک گئی۔
فیض نے گاڑی ایک طرف پارک کی اور انجن بند کر دیا۔
“شفاء۔”
“جی، بھائی؟”
فیض نے سامنے مارکیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“آپ لوگ یہاں شاپنگ کر لو۔ مجھے پاس ہی ایک کام ہے۔”
شفاء نے فوراً پوچھا،
“آپ ہمارے ساتھ نہیں چلیں گے؟”
“نہیں، بس تھوڑی دیر کا کام ہے۔”
فیض نے گھڑی پر نظر ڈالی۔
“جب تم لوگوں کی شاپنگ ہو جائے تو مجھے فون کر دینا، میں آ جاؤں گا۔”
“ٹھیک ہے۔”
فیض گاڑی سے باہر نکل آیا۔
شفاء بھی دروازہ کھول کر اترنے لگی تو علماء نے اپنا سیاہ شال دوبارہ درست کر لیا۔ اس کا چہرہ مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا، صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں۔
وہ دونوں گاڑی سے باہر نکلیں۔
فیض نے ایک لمحے کے لیے ان کی طرف دیکھا، پھر فوراً نظریں ہٹا لیں۔
“احتیاط سے جانا۔”
شفاء نے سر ہلایا۔
“جی، بھائی۔”
فیض دوسری سمت چل پڑا۔
علماء نے اس کی طرف دوبارہ نہیں دیکھا۔ اس کی توجہ سامنے پھیلی ہوئی مارکیٹ پر تھی۔
شفاء نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا،
“چلو، پہلے تم اپنے لیے کپڑے لے لو۔”
“زیادہ نہیں لینے۔”
“جو ضرورت ہے، وہ تو لینا ہے۔”
دونوں ایک کپڑوں کی دکان میں داخل ہو گئیں۔
دکان میں ہر طرف مختلف رنگوں کے کپڑے سجے ہوئے تھے۔ علماء کچھ دیر خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔
شفاء نے ایک سادہ سا سوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
“یہ کیسا ہے؟”
علماء نے کپڑے کو دیکھا۔
“اچھا ہے۔”
“تو یہ لے لو۔”
علماء نے دوسرا کپڑا بھی دیکھا۔ اس بار اس نے خود ایک ہلکے رنگ کا سادہ سوٹ پسند کیا۔
“یہ بھی لے لیتی ہوں۔”
شفاء نے مسکرا کر کہا،
“بس دو؟”
“ہاں، فی الحال اتنے کافی ہیں۔”
کپڑے پیک ہونے کے بعد دونوں دکان سے باہر نکل آئیں۔
چلتے چلتے شفاء کی نظر ایک چھوٹی سی جیولری شاپ پر پڑی۔
“ایک منٹ۔”
وہ علماء کو ساتھ لے کر اندر چلی گئی۔
دکان میں شیشے کی الماریوں میں چھوٹی چھوٹی انگوٹھیاں، چوڑیاں اور دوسری چیزیں رکھی تھیں۔
شفاء کی نظر ایک سادہ سی انگوٹھی پر رک گئی۔
علماء نے اس کی نظر کا پیچھا کیا۔
“پسند آئی؟”
شفاء نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
“بس اچھی لگی تھی۔”
علماء نے دکاندار کی طرف دیکھا۔
“یہ دکھائیے۔”
شفاء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“علماء، رہنے دو۔”
علماء نے انگوٹھی ہاتھ میں لے کر دیکھی۔
“تم نے میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے۔ یہ میری طرف سے ہے۔”
“لیکن تمہیں اپنی چیزیں بھی لینی ہیں۔”
علماء ہلکا سا مسکرائی۔
“وہ بھی لے رہی ہوں۔”
پھر اس نے وہ انگوٹھی شفاء کے لیے خرید لی۔
دکان سے نکلنے کے بعد شفاء کچھ دیر تک انگوٹھی کو دیکھتی رہی۔
“تمہیں واقعی یہ نہیں لینا چاہیے تھا۔”
علماء نے اپنے ہاتھ میں پکڑے تھیلے کی طرف دیکھا۔
“پہلی تنخواہ تھی۔ سوچا کسی اپنے کے لیے بھی کچھ لے لوں۔”
شفاء کی آنکھوں میں اپنائیت اتر آئی۔
“تم مجھے اپنی سمجھتی ہو؟”
علماء چند لمحے خاموش رہی۔
پھر بہت آہستہ سے بولی،
“اگر نہ سمجھتی تو تمہارے لیے یہ نہ لیتی۔”
شفاء مسکرا دی۔
“اچھا، اب ایک لباس بھی میرے لیے دیکھ لیتے ہیں۔”
علماء نے سر ہلایا۔
دونوں دوبارہ دکان کی طرف مڑ گئیں۔
شام آہستہ آہستہ رات میں بدل رہی تھی۔
اور بازار کی روشنیوں کے درمیان علماء اپنی پہلی تنخواہ سے خریدی ہوئی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔
اس کے پاس ابھی بھی بہت کچھ نہیں تھا۔
مگر اب اسے ہر چیز دوبارہ حاصل کرنے کی امید ہونے لگی تھی۔دونوں دکان سے باہر نکلیں تو شفاء نے اپنے ہاتھ میں پکڑے تھیلے دیکھے۔
اچھا، اب فیض بھائی کو فون کر دیتی ہوں۔”
اس نے موبائل نکالا اور فیض کا نمبر ملایا۔
“بھائی، ہماری شاپنگ ہو گئی ہے۔”
“اچھا، میں کہاں آؤں؟”
“وہیں جہاں آپ نے چھوڑا تھا۔”
“ٹھیک ہے، پانچ منٹ میں پہنچتا ہوں۔”
کال ختم ہوئی تو دونوں کچھ دیر وہیں کھڑی رہیں۔
چند منٹ بعد فیض گاڑی لے کر ان کے سامنے آ کر رک گیا۔
شفاء نے علماء کی طرف دیکھا۔
“چلو۔”
علماء خاموشی سے گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئی۔ شفاء بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور فیض نے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔

راستے میں علماء زیادہ تر کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
کچھ دیر بعد گاڑی مسجد کے سامنے رک گئی۔
شفاء نے اس کی طرف دیکھا۔
“تم اتر جاؤ، ہم تمہیں مسجد چھوڑ دیتے ہیں۔”
علماء نے اپنے ہاتھ میں پکڑے تھیلے سنبھالے۔
“بہت شکریہ۔”
“کس بات کا؟”
شفاء مسکرا دی۔”چلو، اندر جاؤ۔”
علماء گاڑی سے اتر گئی۔
اس نے ایک بار شفاء کی طرف دیکھا۔”اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ۔ علماء نے سر ہلایا اور مسجد کے اندر چلی گئی۔
فیض نے گاڑی دوبارہ آگے بڑھا دی۔
اب گاڑی میں صرف شفاء اور فیض تھے۔
کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔
پھر شفاء نے خود ہی بات شروع کی۔
“بھائی؟”
“ہمم؟”
“علماء اچھی لڑکی ہے۔
فیض نے سڑک پر نظریں رکھتے ہوئے کہا،
“ہاں۔”
شفاء نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ کو کیسے پتا؟”
فیض نے مختصر سا جواب دیا۔
“تمہاری باتوں سے۔”
شفاء مسکرا دی۔
“نہیں، میں نے اس کے ساتھ وقت گزارا ہے۔ وہ واقعی بہت اچھی ہے۔”فیض خاموش رہا۔
شفاء نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا،
“بہت کچھ برداشت کر کے یہاں پہنچی ہے۔ شروع میں بالکل خاموش رہتی تھی۔ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔”
فیض کی نظریں اب بھی سڑک پر تھیں۔
“کیا ہوا ہے اسے؟”شفاء چند لمحے خاموش رہی۔

“مجھے بھی پوری بات نہیں معلوم۔ نادیہ آپا نے بھی زیادہ پوچھا نہیں۔ بس اتنا معلوم ہے کہ اس کا گھر نہیں رہا اور وہ اکیلی یہاں تک آئی ہے۔”
فیض کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
“اکیلی؟”
“ہاں۔”
شفاء نے آہستہ سے کہا،” ایک بات ہے۔”
“کیا؟”
“مجھے یہ لڑکی اچھی لگتی ہے۔”فیض نے کوئی جواب نہیں دیا۔
شفاء نے مسکرا کر کہا،”پتا نہیں کیوں، لیکن دل چاہتا ہے اس کا خیال رکھوں۔ شاید اس لیے کہ وہ بالکل اکیلی ہے۔”

فیض نے صرف اتنا کہا،”اچھی بات ہے۔”
شفاء نے بھائی کی طرف دیکھا، پھر خاموش ہو گئی۔
گاڑی سڑک پر آگے بڑھتی رہی۔
کچھ دیر بعد وہ شفاء کے سسرال کے قریب پہنچ گئے۔
فیض نے گاڑی روک دی۔
شفاء نے اپنا سامان اٹھایا اور دروازہ کھولنے لگی۔”اللہ حافظ، بھائی۔””اللہ حافظ۔”
شفاء گاڑی سے اتر گئی۔
فیض نے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
باہر آسمان پر اندھیرا پھیل رہا تھا۔
علماء نے نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں۔
“یا اللہ…”
لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
بس دل میں ایک ہی خیال آیا۔
شاید زندگی واقعی ختم نہیں ہوئی تھی۔
شاید اللہ نے اسے ایک ایسے راستے پر لا کھڑا کیا تھا، جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
وہ کافی دیر وہیں بیٹھی رہی، پھر وضو کیا اور نماز کے لیے چلی گئی۔
اس رات پہلی بار اسے اپنے کمرے کی خاموشی ڈرانے کے بجائے سکون دینے لگی۔
اگلی صبح علماء معمول کے مطابق اسکول گئی۔
کلاس میں بچیوں کو پڑھاتے ہوئے اس کے چہرے پر پہلے جیسی گھبراہٹ نہیں تھی۔ اب وہ اس جگہ کو اجنبی نہیں سمجھتی تھی۔
چھٹی کے بعد وہ واپس مسجد آئی تو عصر کے بعد شفاء بھی آ گئی۔
“علماء!”
شفاء کی آواز سنتے ہی علماء باہر آ گئی۔
“آپ آگئیں؟”
“ہاں، تم سے ملنے کا دل کر رہا تھا۔”
شفاء نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دونوں کچھ دیر صحن میں بیٹھ گئیں۔
پھر شفاء کی نظر علماء کے چہرے پر گئی۔
“ویسے ایک بات بتاؤں؟”
علماء نے اس کی طرف دیکھا۔
“کیا؟”
“تمہیں میرے بھائی کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟”
علماء نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
“نہیں…”
شفاء ہلکا سا مسکرائی۔
“وہ بھی ویسے زیادہ بات نہیں کرتا۔”
علماء خاموش رہی۔
شفاء نے چند لمحے توقف کیا، پھر دھیرے سے بولی۔
“ہم دونوں کی زندگی کچھ زیادہ آسان نہیں رہی۔”
علماء نے پہلی بار پوری توجہ سے اس کی طرف دیکھا۔
شفاء کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی تھی۔
“ہماری امی کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا۔ تب میں بہت چھوٹی تھی۔”
علماء خاموشی سے سنتی رہی۔
“امی کے جانے کے بعد ابو نے ہی ہمیں پالا۔ فیض بھی تب بھی بہت ذمہ دار تھے۔ مجھ سے عمر میں بڑا تھے، لیکن مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھائی کم اور میرے لیے باپ جیسا زیادہ بن گیا ہو۔”
شفاء نے نظریں نیچے کر لیں۔
“پھر جب فیض بھی سترہ سال کے تھے تو ابو بھی انتقال کر گئے۔”
علماء کے چہرے پر دکھ ابھر آیا۔
“سترہ سال؟”
“ہاں۔”
شفاء نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“اور میں پندرہ سال کی تھی۔”
کچھ لمحوں کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔
“اس عمر میں شاید انسان کو سمجھ بھی نہیں آتی کہ والدین کے بغیر زندگی کیا ہوتی ہے۔ ہمیں بھی نہیں آئی تھی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ اب گھر میں ابو کی آواز نہیں آئے گی۔”
شفاء کی آواز میں ہلکی سی نمی آ گئی۔
“فیض بھائی نے پھر سب سنبھال لیا۔ اپنی پڑھائی بھی، میرا خیال بھی… گھر بھی۔”
علماء نے دھیرے سے پوچھا۔
“وہ اتنا سب کیسے کر لیتے تھے؟”
شفاء کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“پتا نہیں۔ شاید حالات انسان کو سکھا دیتے ہیں۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی۔
“اسی لیے فیض بھائی ایسےہیں۔ بہت کم بولتے ہے۔ ہر چیز خود سنبھالنے کی عادت ہے اُنھیں۔ اگر پریشان بھی ہو تو کسی کو بتائے گا نہیں۔”
علماء نے کچھ نہیں کہا۔شفاء نے علماء کی خاموشی کو دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔”میری شادی کو کچھ عرصہ ہو گیا ہے۔ میرے شوہر زیادہ تر کام کی وجہ سے باہر رہتے ہیں، اسی لیے میں بھی اکثر اپنے سسرال میں ہی ہوتی ہوں۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر مسکرا کر بولی،
“ویسے تمہیں یاد ہے مریم؟”
علماء نے فوراً سر اٹھایا۔
“مریم؟”
“ہاں، وہی جو ٹرین میں ہمارے ساتھ تھی۔”
علماء کو ٹرین کا وہ سفر یاد آ گیا۔ مریم کا خاموش مزاج، شفاء کے ساتھ اس کی باتیں، اور وہ سفر جس نے علماء کو ایک ایسی جگہ پہنچا دیا تھا جہاں اسے زندگی دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملا۔
“ہاں، یاد ہے۔”
شفاء نے مسکرا کر کہا،
“وہ بھی میری نند ہے۔ میرے شوہر کی بہن۔”
“اچھا…”
علماء نے آہستہ سے کہا۔
“اسی لیے وہ ہمارے ساتھ تھی۔”
شفاء ہنس دی۔
“ہاں۔”
پھر اس نے قدرے اطمینان سے کہا،
“اور الحمدللہ، میرے ساس سسر بہت اچھے ہیں۔ بہت خیال رکھتے ہیں۔ مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں اس گھر میں نئی ہوں۔”
علماء کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“یہ بہت اچھی بات ہے۔”
“ہاں، میں واقعی خوش قسمت ہوں۔”
شفاء نے دھیرے سے کہا۔
“زندگی میں سب کچھ ایک جیسا نہیں ہوتا نا… کچھ چیزیں ہم سے چھن جاتی ہیں، لیکن اللہ کچھ رشتے ایسے دے دیتا ہے جو ان کمیوں کو محسوس نہیں ہونے دیتے۔”
علماء نے اس کی بات سنی تو کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر شفاء نے اس کی طرف دیکھ کر کہا،
“بس میرے شوہر زیادہ تر باہر رہتے ہیں، تو کبھی کبھی گھر میں اکیلا پن محسوس ہوتا ہے۔ لیکن ساس، سسر، مریم… سب ہیں، اس لیے زیادہ مشکل نہیں ہوتی۔”
علماء نے سر ہلا دیا۔”پتا نہیں کیوں، لیکن تم سے مل کر ایسا نہیں لگا کہ تم اجنبی ہو۔”
شفاء کی بات ختم ہوئی تو دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھی رہیں۔
باہر آسمان پر اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ مسجد کے صحن میں لگی روشنیاں ایک ایک کر کے جل گئی تھیں۔ دیواروں پر پڑتی زرد روشنی کے درمیان صحن پہلے سے زیادہ پُرسکون دکھائی دے رہا تھا۔
شفاء اب اپنے گھر جا چکی تھی۔دھیرے دھیرے رات ہوگی۔آج علماء کو نہ جانے کیوں ہر چیز بڑی شدت سے یاد آرہی تھی۔
رات کا وقت تھا کچھ دیر بعد علماء بھی اپنے کمرے میں آ گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ آہستہ سے بند کیا اور بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔وہ اپنے سامنے رکھے سامان کو دیکھنے لگی۔
وہی چند کپڑے جو اس نے اپنی پہلی تنخواہ سے خریدے تھے۔اس نے کپڑوں پر ہاتھ پھیرا اور آنکھیں نم ہو گئیں۔
“یا اللہ…”
آواز بمشکل نکلی۔
وہ بستر سے نیچے اتر کر جائے نماز پر بیٹھ گئی۔
کچھ لمحے ہاتھ اٹھائے خاموش بیٹھی رہی، پھر آنسو بہنے لگے۔
“یا اللہ… شکریہ۔”
اس کے ہونٹ کانپے۔
“آپ نے مجھے وہاں سے نکال لیا جہاں مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی ختم ہو گئی ہے۔”
آنسو مسلسل گرتے رہے۔
“میرے پاس کچھ نہیں تھا… لیکن آپ نے مجھے راستہ دیا۔ رہنے کی جگہ دی… کام دیا… ایسے لوگ دیے جنہیں میں جانتی تک نہیں تھی، لیکن انہوں نے مجھے اپنے گھر کی طرح جگہ دی۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر رونے لگی۔
“میں آپ کا شکر کیسے ادا کروں؟”
کمرے میں اس کی سسکیاں پھیل گئیں۔
کچھ دیر بعد اس نے آنسو پونچھے۔
“اور یا اللہ…”
اس کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔
“مجھ سے جو غلطیاں ہوئیں… مجھے معاف کر دیجیے۔”
وہ سر جھکا کر بیٹھ گئی۔
“میں بہت دور چلی گئی تھی آپ سے”مجھے معاف کر دیجیے، یا اللہ۔ مجھے ایسا نہ بنائیے کہ میں صرف مصیبت میں آپ کو یاد کروں۔”
وہ دیر تک اسی طرح بیٹھی اللہ سے بات کرتی رہی۔
پھر نہ جانے کیوں اس کے ذہن میں ایک چہرہ ابھرا۔
معاذ۔
علماء کی آنکھیں ایک دم کھل گئیں۔
دل میں عجیب سی کسک اٹھی۔
معاذ کی آواز…
اس کے پیغامات…
وہ راتیں جب وہ دیر تک بات کرتے تھے…
اور پھر وہ جھوٹ۔
وہ بات جس نے اس کے اندر سب کچھ توڑ دیا تھا۔
علماء نے آنکھیں بند کر لیں۔
“کاش…”
لفظ اس کے لبوں پر آ کر رک گیا۔
اس نے خود کو روکنے کی کوشش کی، مگر یادیں ایک ایک کر کے واپس آنے لگیں۔
کاش وہ اس سے کبھی بات ہی نہ کرتی۔
کاش اسے کبھی اپنا سمجھ کر اس پر بھروسہ نہ کرتی۔
کاش وہ اس کی باتوں کو حقیقت نہ سمجھتی۔
کاش وہ اس کی محبت پر یقین نہ کرتی۔
ایک آنسو اس کے رخسار پر بہہ گیا۔
“شاید… مجھے کبھی کسی پر اتنا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
اس نے نظریں جھکا لیں۔
دل کے کسی کونے میں اب بھی وہ سوال زندہ تھا جس کا جواب اسے کبھی نہیں ملا تھا۔
آخر اس نے جھوٹ کیوں بولا تھا؟
کیا وہ ساری باتیں جھوٹی تھیں؟
کیا وہ تمام راتیں، وہ گفتگو، وہ وعدے… سب صرف ایک دھوکا تھے؟درد اب بھی کہیں اندر موجود تھا۔
لیکن اس درد کے ساتھ ایک اور احساس بھی تھا۔
وہ اب پہلے والی علماء نہیں رہی تھی۔
جس لڑکی کو کبھی لگتا تھا کہ ایک شخص کے چلے جانے سے دنیا ختم ہو جاتی ہے، آج وہ جان چکی تھی کہ انسان سب کچھ کھو کر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔
اللہ کے سہارے۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔
“یا اللہ…”
ایک لمحے کے لیے آواز ٹوٹ گئی۔
“اگر وہ میرے لیے نہیں تھا تو میرے دل سے بھی اس کی ہر ایسی یاد نکال دیجیے جو مجھے آپ سے دور کرے۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بہت آہستہ سے بولی،
“اور اگر میری غلطی یہ تھی کہ میں نے ایک انسان پر آپ سے زیادہ بھروسہ کر لیا تھا… تو مجھے دوبارہ ایسی غلطی نہ کرنے دیجیے۔”
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔
باہر رات مزید گہری ہو چکی تھی۔
علماء نے جائے نماز پر اپنا سر جھکا دیا۔
اس رات اسے معاذ بہت یاد آیا۔
مگر اس بار اس یاد میں محبت سے زیادہ ملال تھا۔
اور شاید یہی ملال اسے آہستہ آہستہ اللہ کے اور قریب لے جا رہا تھا۔
گزرتے گئے۔
مسجد کی زندگی اب علماء کے لیے معمول بن چکی تھی۔ صبح اسکول، دوپہر کو واپسی، پھر قرآن، نماز اور مسجد کی دوسری ذمہ داریاں۔ کبھی شفاء آ جاتی، کبھی علماء خود اس کے سسرال چلی جاتی۔
ماضی اب بھی کبھی کبھار یاد آ جاتا، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا درد کچھ مدھم پڑتا جا رہا تھا۔
ایک دن دوپہر کے بعد علماء مسجد کے صحن میں بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی کہ نادیہ آپا نے اسے آواز دی۔
“علماء، تمہارا فون آیا ہے۔”
علماء نے قرآن بند کیا اور اٹھ کر ان کے پاس آ گئی۔
“کس کا؟”
“شفاء کا۔”
علماء نے فون ہاتھ میں لیا۔
دوسری طرف شفاء کی آواز سنتے ہی اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“السلام علیکم۔”
“وعلیکم السلام۔ علماء، آج میں اپنے میکے میں ہوں۔”
“اچھا؟”
“ہاں۔ اور میں نے فیض بھائی کو تمہیں لینے کے لیے بھیج دیا ہے۔”
علماء چند لمحے خاموش رہی۔
“مجھے؟”
“ہاں، تمہیں۔ تم میرے پاس آ جاؤ۔ آج ذرا دل کر رہا تھا تم سے باتیں کرنے کا۔”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“اچھا، ٹھیک ہے۔”
“وہ باہر ہی ہوگا۔ تم تیار ہو جاؤ، وہ تمہیں لے آئے گا۔”
“جی۔”
کال ختم ہوئی تو علماء نے فون نادیہ آپا کو واپس کر دیا۔
نادیہ آپا نے پوچھا،
“شفاء نے بلایا ہے؟”
“جی۔ وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہے۔ کہہ رہی تھی فیض مجھے لینے آئے ہیں۔”
نادیہ آپا نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اچھا، جاؤ۔ لیکن مغرب سے پہلے واپس آ جانا اگر دیر نہ ہو۔”
“جی۔”
علماء اپنے کمرے میں گئی۔
اس نے سادہ سا لباس پہنا اور اوپر اپنا مرون رنگ کا بڑا سا شال لے لیا۔ شال کو اس طرح لپیٹا کہ اس کا چہرہ تقریباً مکمل طور پر ڈھک گیا۔ صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں۔
وہ آئینے کے سامنے ایک لمحے کو رکی۔
پھر شال درست کیا اور باہر آ گئی۔
مسجد کے گیٹ کے باہر ایک گاڑی کھڑی تھی۔
فیض گاڑی کے پاس نہیں، بلکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔
علماء گیٹ سے باہر نکلی تو فیض نے سامنے سے آتی ہوئی آہٹ پر نظر اٹھائی۔
بس ایک لمحے کے لیے۔
مرون شال کے پیچھے سے نظر آتی دو آنکھیں…
فائز کی نگاہ چند لمحے سے زیادہ نہ ٹھہری۔
اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
“السلام علیکم۔”
علماء نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
“وعلیکم السلام۔”
فیض نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
علماء اندر بیٹھ گئی۔
اس نے شال کو دوبارہ اپنے گرد درست کیا اور کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی۔
فیض نے ایک بار بھی اس طرف نہیں دیکھا۔
اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور خاموشی سے سڑک پر لے آیا۔
گاڑی کے اندر صرف انجن کی ہلکی آواز تھی۔
علماء خاموش بیٹھی باہر دیکھتی رہی۔
اور فیض کی نظریں سڑک پر تھیں۔
دونوں کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
بس ایک مختصر سی ملاقات…
ایک نظر…
گاڑی کچھ دیر سڑک پر چلتی رہی۔کچھ دیر بعد فیض نے گاڑی ایک نسبتاً پرسکون گلی میں موڑ دی۔
چند منٹ بعد گاڑی ایک دو منزلہ گھر کے سامنے آ کر رک گئی۔
فیض نے گاڑی بند کی۔
“شفاء کا گھر آ گیا ہے۔”
علماء نے شال درست کی اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
فیض بھی گاڑی سے باہر آیا، مگراس نے فر نظرِ نہیں اٹھائی۔
اس نے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“آپ اندر چلی جائیں۔”وہ چند قدم آگے بڑھی، پھر فیض کی آواز پیچھے سے آئی۔
“دائیں طرف سے اندر جانا ہے۔”
علماء نے مڑ کر دیکھا۔
فیض نے ہاتھ سے راستہ بتاتے ہوئے کہا،
“سامنے والا دروازہ ڈرائنگ روم کا ہے، آپ دائیں طرف سے چلی جائیں۔ شفاء وہیں ہوگی۔”
“جی، شکریہ۔”
علماء آگے بڑھ گئی۔
فیض نے ایک لمحے کے لیے اسے جاتے دیکھا، پھر فوراً نظریں ہٹا لیں اور گھر کے اندر داخل ہو گیا۔
علماء دائیں طرف سے گھر کے اندر پہنچی تو شفاء پہلے ہی اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔
“آ گئی تم!”
شفاء نے خوش ہو کر کہا۔
“جی۔”
شفاء نے اسے اندر لے جاتے ہوئے کہا،
“آؤ، میں تمہیں گھر دکھاتی ہوں۔”
گھر بہت بڑا نہیں تھا، مگر صاف ستھرا اور سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔ دیواروں پر چند سادہ سی تصویریں، لکڑی کا فرنیچر اور ایک طرف کتابوں کی چھوٹی سی الماری تھی۔
شفاء نے مسکراتے ہوئے کہا،
“یہ ہمارا گھر ہے۔”
علماء نے آس پاس دیکھا۔
“بہت اچھا ہے۔”
“ہم دونوں اسی گھر میں رہتے تھے۔”
شفاء کی آواز قدرے بدل گئی۔
“امی ابو کے انتقال کے بعد میں اور فیض کافی عرصہ یہیں ساتھ رہے۔”
علماء نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا۔
“پھر میری شادی ہو گئی تو میں اپنے سسرال چلی گئی۔”
شفاء نے ایک لمحے کے لیے گھر کی طرف دیکھا۔
“اب فیض یہاں اکیلا رہتا ہے۔”
“اکیلا؟”
“ہاں۔”
شفاء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“کبھی کبھی میں آ جاتی ہوں۔لیکن زیادہ تر وہ اپنے کام میں مصروف رہتا ہے۔”
علماء نے کچھ نہیں کہا۔
شفاء اسے گھر کے دوسرے حصے کی طرف لے گئی۔
“یہ میرا پرانا کمرہ تھا۔ اب جب بھی آتی ہوں تو یہیں رہتی ہوں۔”
پھر اس نے ایک بند دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
“اور یہ فیض کا کمرہ ہے۔”
علماء کی نظر ایک لمحے کے لیے دروازے پر گئی۔
اسی وقت اوپر سے قدموں کی ہلکی سی آواز آئی۔
شفاء نے کہا،
“وہ شاید اپنے کمرے میں چلا گیا ہے۔”
علماء نے نظریں ہٹا لیں۔
“اچھا۔”
شفاء نے مسکرا کر کہا،
“تم بیٹھو، میں کھانے کا دیکھتی ہوں۔”
کچھ دیر بعد دونوں کھانے کی میز پر بیٹھی تھیں۔
شفاء نے علماء کے لیے کھانا نکالتے ہوئے کہا،
“زیادہ تو کچھ نہیں بنایا، لیکن گھر کا کھانا ہے۔”
علماء نے مسکرا کر کہا،
“اتنا کافی ہے۔”
دونوں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے کھانا کھاتی رہیں۔
کبھی شفاء اسکول کے بارے میں پوچھتی، کبھی علماء اسے اپنے کام کے بارے میں بتاتی۔
کھانے کے بعد علماء نے گھڑی دیکھی۔
“شفاء، اب مجھے واپس جانا چاہیے۔”
شفاء نے باہر دیکھا۔
“ہاں، کافی دیر ہو گئی ہے۔”
اسی دوران فیض نیچے آ گیا۔
اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔ وہ خاموشی سے کمرے میں آیا۔
شفاء نے کہا،
“فیض، علماء کو مسجد چھوڑ آؤ۔”
فیض نے صرف سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے۔”
علماء نے شفاء کو دیکھا۔
“اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ۔ اور جلدی آنا دوبارہ۔”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
وہ باہر آ گئی۔
فیض نے گاڑی نکالی اور علماء کے لیے دروازہ کھول دیا۔ علماء بیٹھ گئی تو وہ دوسری طرف جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
واپسی کا سفر بھی خاموش تھا۔
کچھ دیر بعد علماء نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا،
“آپ کا شکریہ۔”
فیض نے سڑک سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا،
“کوئی بات نہیں۔”
پھر دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
مسجد قریب آئی تو فیض نے گاڑی آہستہ کر دی۔
“مسجد آ گئی۔””اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ۔”
علماء گاڑی سے اتر کر مسجد کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
فیض نے اس وقت تک گاڑی نہیں چلائی جب تک وہ اندر داخل نہ ہو گئی۔
پھر اس نے گاڑی موڑی اور واپس گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
فیض علماء کو مسجد چھوڑ کر واپس گھر پہنچا تو رات کافی ہو چکی تھی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے گاڑی کی چابی ایک طرف رکھی اور کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔
پھر اسے خیال آیا کہ کھانا بھی کھا لینا چاہیے۔
وہ کچن میں گیا، کھانا نکالا اور خاموشی سے کھانے کی میز پر بیٹھ گیا۔
چند لقمے ہی کھائے تھے کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔
شفاء سو چکی تھی۔کھانے کے بعد وہ کچھ دیر صوفے پر بیٹھا رہا۔ گھر میں معمول کے مطابق خاموشی تھی۔
وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
کمرے میں آ کر اس نے کپڑے بدلے، وضو کیا اور عشاء کی نماز کے لیے جائے نماز بچھا دی۔
کمرے کی خاموشی میں اس نے تکبیر کہی۔
نماز شروع ہوئی تو اس کے ذہن میں دن بھر کی مصروفیات ایک ایک کر کے پیچھے رہ گئیں۔
وہ ہمیشہ کی طرح سکون سے نماز پڑھ رہا تھا۔
سجدے میں گیا تو کچھ دیر وہیں ٹھہرا رہا۔
جیسے دنیا کی ہر آواز سے الگ ہو کر صرف اپنے رب کے سامنے رہ گیا ہو۔
نماز ختم کرنے کے بعد وہ کچھ دیر جائے نماز پر بیٹھا رہا۔
پھر دونوں ہاتھ اٹھا لیے۔
“یا اللہ…”
اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔
“سب سے پہلے آپ کا شکر ہے۔”
وہ ایک ایک کر کے اپنے دن کی نعمتیں یاد کرنے لگا۔
“صحت کا… رزق کا… گھر کا… میری بہن کا… اور اس بات کا بھی کہ آپ نے مجھے ہر مشکل وقت میں سنبھالا۔”
وہ خاموش ہوا۔
پھر اچانک اس کے ذہن میں علماء کی آنکھیں آ گئیں۔
وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔
“اور… آج…”
اس نے نظریں جھکا لیں، جیسے دعا میں بھی اس بات کو کہنے میں جھجک محسوس ہو رہی ہو۔
“پتا نہیں کیوں… میں نے آج اسے دوسری بار دیکھا۔”
اس کی آواز میں ہلکی سی الجھن تھی۔
“اور ہر بار جیسے ہی میری نظر اس پر پڑتی ہے… میں فوراً نظر جھکا لیتا ہوں۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
“میں جانتا ہوں کہ نظر جھکا لینا چاہیے۔ یہ درست بھی ہے۔”
اس نے آہستہ سے سانس لیا۔
“لیکن اس لڑکی کے معاملے میں… پتا نہیں کیوں کچھ اور ہی ہو جاتا ہے۔”
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
“ایسا لگتا ہے… اگر دوسری بار نظر پڑی تو شاید…”
وہ رک گیا۔
بات مکمل نہ کر سکا۔
کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر بہت آہستہ سے بولا،
“یا اللہ… میں اپنے دل کو بھی آپ سے چھپا نہیں سکتا۔”
اس نے ہاتھوں کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“اگر یہ صرف ایک خیال ہے تو اسے میرے دل سے نکال دیجیے۔ اور اگر اس کے پیچھے کوئی ایسی بات ہے جسے میں ابھی نہیں سمجھ پا رہا… تو مجھے اس میں بھی اپنی رضا کا راستہ دکھائیے۔”
وہ خاموش ہو گیا۔
صبح کی روشنی آہستہ آہستہ کھڑکیوں سے اندر اترنے لگی فیض فجر کے بعد کچھ دیر قرآن پڑھ کر اپنے کمرے سے باہر آیا تو شفاء پہلے ہی ناشتے کی میز پر بیٹھی تھی۔
“آؤ بھائی، ناشتہ کر لو۔”
فیض کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
شفاء نے اس کے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا،
“آج دفتر نہیں جانا؟”
“جاؤں گا۔ کچھ دیر بعد۔”
دونوں خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے۔
کچھ دیر بعد شفاء نے اچانک فائز کی طرف دیکھا۔
“بھائی؟”
“ہمم؟”
“آپ کو ایک بات کہوں؟”
فیض نے کپ میز پر رکھتے ہوئے اسے دیکھا۔
“کہو۔”
شفاء مسکرائی۔
“آپ کو اب شادی کر لینی چاہیے۔”
فیض کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں آیا۔
“کیوں؟”
“کیوں کہ آپ کی عمر ہو گئی ہے۔ اور کب تک اکیلے رہیں گے؟”
فیض نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“میں اکیلا نہیں ہوں۔ تم ہو۔”
شفاء ہنس پڑی۔
“میں شادی شدہ ہوں بھائی۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ تو نہیں رہ سکتی۔”
فیض خاموش ہو گیا۔
شفاء نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا،
“ویسے مریم اچھی لڑکی ہے۔ تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے بھی ہو۔ اگر تم کہو تو میں گھر والوں سے بات کر سکتی ہوں۔”
فیض نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
“نہیں۔”
شفاء نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“اتنی جلدی جواب؟”
“ہاں۔”
“کیوں؟ مریم میں کیا خرابی ہے؟”
“کوئی خرابی نہیں۔ مریم اچھی لڑکی ہے۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
“بس… میں نے اس بارے میں کبھی نہیں سوچا۔”
شفاء نے اسے غور سے دیکھا۔
“تو پھر کس کے بارے میں سوچا ہے؟”
فیض نے فوراً جواب نہیں دیا۔
اس کی نظریں چند لمحوں کے لیے میز پر رکیں۔
پھر اس نے بہت سنجیدگی سے شفاء کی طرف دیکھا۔
“شفاء…”
“ہاں؟”
“اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں تو برا تو نہیں مانو گی؟”
شفاء کے چہرے پر تجسس آ گیا۔
“پوچھو۔”
فیض نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی۔
پھر دھیرے سے بولا،
“کیا میری اور علماء کی شادی ہو سکتی ہے؟”
شفاء کے ہاتھ میں پکڑا کپ وہیں رک گیا۔
وہ چند لمحے فائز کو دیکھتی رہی۔
“علماء؟”
فیض نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں۔”
شفاء کے چہرے پر حیرت بھی تھی اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ بھی۔
“آپ… علماء کی بات کر رہے ہیں؟”
“ہاں۔”
“آپ کو اس کے بارے میں اتنا کیسے سوچنے لگے؟”
فیض نے نظریں جھکا لیں۔
“پتا نہیں۔”
پھر کچھ توقف کے بعد بولا،پتا نہیں کیوں پر شاید اچھی لگتی ہے مجھے وہ ۔فیض نے مزید کہا،
“میں کوئی غلط قدم نہیں اٹھانا چاہتا۔ اگر مجھے اس کے لیے کچھ محسوس ہو رہا ہے تو میں اسے صحیح طریقے سے ہی آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ اسی لیے تم سے پوچھ رہا ہوں۔”
شفاء کی مسکراہٹ اب قدرے گہری ہو گئی۔
“بھائی…”
وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ فیض نے آہستہ سے کہا،
“لیکن ایک بات ہے۔”
“کیا؟”
“فیصلہ اس کا ہوگا۔ اگر وہ راضی نہ ہو تو بات وہیں ختم۔”
شفاء نے اثبات میں سر ہلایا۔
“یہ بات مجھے سب سے اچھی لگی۔”
فیض خاموش ہو گیا۔ناشتے کے بعد فیض کچھ دیر گھر میں رکا، پھر دفتر کے لیے نکل گیا۔
وہ اب اپنے کام میں کافی مصروف رہتا تھا۔ اپنی بنائی ہوئی سافٹ ویئر کمپنی کے معاملات، کلائنٹس کی میٹنگز اور ٹیم کے کام دیکھنے کے لیے اسے اکثر صبح سے شام تک وقت دینا پڑتا تھا۔
شفاء اسے دروازے تک چھوڑنے آئی۔
“شام کو جلدی آ جانا۔”
فیض نے گاڑی کی چابی ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا،
“کوشش کروں گا۔”
“اور ہاں…”
شفاء نے مسکرا کر کہا،
“جو بات صبح ہوئی ہے، میں اسے بھولی نہیں ہوں۔”
فیض نے اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“شفاء۔”
“اچھا، اچھا۔ کچھ نہیں کہتی۔”
شفاء ہنس دی۔
فیض گاڑی میں بیٹھا اور دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔
ادھر علماء صبح کے معمول کے مطابق اسکول پہنچ چکی تھی۔
بچیوں کو انگریزی پڑھاتے ہوئے اب اسے کافی اطمینان محسوس ہوتا تھا۔ شروع کے دنوں کی جھجھک ختم ہو چکی تھی۔ بچیاں بھی اس سے مانوس ہو گئی تھیں۔
دوپہر کے قریب کلاس ختم ہوئی تو چند بچیاں اس کے پاس رک گئیں۔
“میڈم، کل والا سبق دوبارہ سمجھا دیں گی؟”
علماء مسکرا دی۔
“ہاں، کل دوبارہ سمجھا دوں گی۔”
وہ اپنا سامان سمیٹ کر اسکول سے نکلی اور مسجد واپس آ گئی۔
واپس آ کر اس نے پہلے وضو کیا، نماز پڑھی اور پھر کھانا کھانے کے لیے باقی خواتین کے ساتھ بیٹھ گئی۔
سادہ سا کھانا تھا۔
لیکن علماء کو اب ان چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی سکون محسوس ہونے لگا تھا۔
کھانے کے بعد وہ قرآن کی کلاس میں جا بیٹھی۔
آج نادیہ آپا چند لڑکیوں کو دین کی بنیادی باتیں سمجھا رہی تھیں۔
“ہمیں دین صرف عبادات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔”
انہوں نے آہستہ سے کہا۔
“نماز ضروری ہے، قرآن ضروری ہے، لیکن ہمارے معاملات بھی ہماری عبادت کا حصہ ہیں۔ ہمارا اخلاق، ہماری زبان، ہمارا کسی کے ساتھ برتاؤ… یہ سب بھی دیکھا جاتا ہے۔”
سب خاموشی سے سن رہی تھیں۔
“کبھی کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ نیکی صرف بڑی بڑی چیزوں کا نام ہے۔ حالانکہ کسی کا دل نہ توڑنا، کسی کی مدد کرنا، کسی کی پردہ پوشی کرنا، کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی اللہ کے ہاں بہت معنی رکھتا ہے۔”
علماء کی نظریں جھک گئیں۔
یہ بات اسے اپنے ماضی کی کئی باتیں یاد دلا گئی۔
نادیہ آپا نے مزید کہا،
“اور سب سے اہم بات… انسان کو اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق کسی ایک حالت سے وابستہ نہیں کرنا چاہیے۔ خوشی ہو تو اللہ کے ساتھ، غم ہو تو اللہ کے ساتھ، کامیابی ہو تو اللہ کے ساتھ اور آزمائش آئے تو بھی اللہ کے ساتھ۔”
علماء نے دل ہی دل میں سوچا،
اب شاید وہ یہی سیکھ رہی تھی۔
کلاس ختم ہوئی تو عصر کا وقت قریب تھا۔
نماز کے بعد علماء کچھ دیر صحن میں بیٹھی رہی۔
شام کے تقریباً پانچ بجے مسجد کے دروازے سے شفاء اندر داخل ہوئی۔
اس کی نظر علماء پر پڑی تو وہ سیدھی اس کے پاس آ گئی۔
“علماء!”
علماء نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“آپ آگئیں؟”
“ہاں۔”
شفاء اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“کیا کر رہی تھی؟”
“بس ابھی نماز پڑھی ہے۔”
“اچھا۔”
کچھ دیر دونوں خاموش رہیں۔
پھر شفاء نے اچانک پوچھا،
“اچھا ایک بات بتاؤ۔”
“جی؟”
تمھاری عمر کتنی ہے۔
22 سال۔ 23 اکتوبر کو 22 مکمل ہو جائےگا۔
“اچھا علماء… ایک اور بات پوچھوں؟”
“پوچھیں۔”
“تم شادی کب کرو گی؟”
علماء چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر اس کے چہرے پر حیرت سی آئی۔
“شادی؟”
“ہاں، شادی۔”
شفاء نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“آخر کبھی تو کرنی ہے نا۔”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“میں نے… اس بارے میں ابھی نہیں سوچا۔”
شفاء نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔
“بالکل نہیں سوچا؟”
“نہیں۔”
علماء نے دھیرے سے کہا۔
“ابھی تو بس یہی سوچتی ہوں کہ اپنی زندگی کو دوبارہ سنبھال سکوں۔””سمجھ سکتی ہوں۔”
پھر وہ مسکرا کر بولی،
“لیکن زندگی ہمیشہ صرف گزرے ہوئے کل کے بارے میں سوچتے ہوئے تو نہیں گزارنی چاہیے۔ کبھی کبھی آنے والے کل کے لیے بھی دل میں جگہ رکھنی پڑتی ہے۔”
علماء نے کچھ جواب نہیں دیا۔
وہ خاموشی سے سامنے پھیلے مسجد کے صحن کو دیکھتی رہی۔شفاء نے علماء کو کچھ دیر دیکھا، پھر جیسے دل میں کوئی بات طے کر کے بولی،
“علماء… میں چاہتی ہوں تم میری بھابھی بن جاؤ۔”
علماء ایک دم خاموش ہو گئی۔
اس نے شفاء کی طرف دیکھا، جیسے اسے یقین نہ آیا ہو کہ اس نے کیا کہا ہے۔
“میں…؟”
“ہاں، تم۔”
شفاء نے مسکرا کر کہا۔
“میں چاہتی ہوں تم میرے بھائی سے شادی کرو۔”
علماء نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
“شفاء… میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
“کیوں؟”
“بس… میرا دل نہیں چاہتا۔”
شفاء نے کچھ دیر اسے دیکھا، پھر نرمی سے بولی،
“میں تمہیں مجبور نہیں کر رہی۔ لیکن علماء، پوری زندگی اکیلے بھی تو نہیں گزاری جا سکتی۔”
علماء خاموش رہی۔
“کبھی نہ کبھی تمہیں اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اور میں چاہتی ہوں کہ اگر تم شادی کرو تو تمہارا ایک ایسا راستہ ہو جہاں تمہیں کسی اجنبی کے درمیان خود کو دوبارہ ثابت نہ کرنا پڑے۔”
شفاء کی آواز میں خلوص تھا۔
“میں چاہتی ہوں کہ تم میرے گھر کا حصہ بنو۔ میری بھابھی بنو۔”
علماء کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“لیکن میں ابھی… اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔”
“تو مت سوچو ابھی۔”
شفاء نے فوراً کہا۔
“تمہیں آج کوئی جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔”
وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر بولی،
“بس ایک بات بتا دوں؟ فیض نے خود تمہارے بارے میں مجھ سے بات کی ہے۔”
علماء نے حیرت سے سر اٹھایا۔
“کیا؟”
“اس نے کہا کہ وہ تمہیں پسند کرنے لگا ہے۔ اور اگر تم راضی ہو تو وہ تم سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔”
علماء کے دل کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کو رک گئی۔
وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ شفاء نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
“ابھی جواب مت دینا۔”
“سوچ لو۔ وقت لو۔ چاہو تو فیض سے ایک بار بات کر لو۔
علماء نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔
“میں… سوچوں گی۔”
شفاء مسکرا دی۔
“بس، مجھے یہی جواب چاہیے تھا۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں چلتی ہوں۔”
“اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ۔”
شفاء چلی گئی۔
علماء وہیں کچھ دیر بیٹھی رہی۔
مغرب کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گئی۔
دروازہ بند کیا تو باہر کی دنیا جیسے ایک دم دور ہو گئی۔
وہ بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔
شفاء کی بات بار بار ذہن میں گونج رہی تھی۔
“میں چاہتی ہوں تم میری بھابھی بن جاؤ۔”
علماء نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور اچانک ایک پرانا منظر اس کے سامنے آ گیا۔
وہ دن…
جب وہ معاذ کے سامنے اپنی زندگی کا خواب لے کر گئی تھی۔
اس نے سوچا تھا شاید وہ اسے قبول کرے گا۔
شاید وہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی بات کرے گا۔
مگر اس کے بدلے اسے جو ملا تھا، وہ صرف شرمندگی تھی۔
الفاظ اب بھی کہیں اندر محفوظ تھے۔
وہ رسوائی…
وہ ٹوٹتا ہوا بھروسہ…
وہ احساس کہ جس شخص کو اپنا سمجھا تھا، اسی کے سامنے خود کو کتنا بے بس محسوس کیا تھا۔
علماء کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“میں دوبارہ نہیں کر سکتی…”
وہ دھیرے سے بولی۔
“میں دوبارہ کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔”
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
علماء نے فوراً آنسو پونچھے۔
“کون؟”
“میں ہوں، بیٹا۔”
نادیہ آپا کی آواز تھی۔
دروازہ کھلا تو نادیہ آپا اندر آ گئیں۔
انہوں نے علماء کو دیکھا اور فوراً سمجھ گئیں کہ وہ رو رہی تھی۔
“کیا ہوا؟”
علماء نے کچھ نہیں کہا۔
نادیہ آپا اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
“مجھے بتاؤ۔”
کچھ لمحوں بعد علماء نے دھیمی آواز میں شفاء کی ساری بات انہیں بتا دی۔
نادیہ آپا خاموشی سے سنتی رہیں۔
جب علماء خاموش ہوئی تو انہوں نے کہا، فیض ایک اچّھا لڑکا ہے جانتی ہُوں میں اُسے۔
اُسے عورتوں کی عزت کرنی آتی ہے اور وہ نماز بھی پڑھتا ہے۔
اگر تمھیں سمجھ نہیں آرہا کیا کارو تو تم ایک بار اسے بات کرلو پھر تمھیں جو ٹھیک لگے۔
ویسے بھی شادی بہت خوبصورت رِشتہ ہے۔
“شادی پوری زندگی کا فیصلہ ہے، بیٹا۔ صرف کسی کے اچھا ہونے سے فیصلہ نہیں ہوتا۔ دل کا اطمینان، دین، اخلاق، ذمہ داری… سب دیکھنا ہوتا ہے۔”
علماء نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“جی۔”
“اور سب سے بڑھ کر اللہ سے دعا کرنا۔ اگر فیض تمہارے لیے بہتر ہے تو اللہ تمہارے دل میں اطمینان ڈال دے گا، اور اگر بہتر نہیں تو اللہ تمہیں اس سے بھی بہتر راستہ دے گا۔”
علماء کی آنکھیں پھر نم ہو گئیں۔
“میں دعا کروں گی۔”
نادیہ آپا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“بس یہی کرو۔”
رات ہو چکی تھی۔
عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں قرآن کی تلاوت ہو رہی تھی۔
ایک خاتون سورۃ الشرح کی آیات پڑھ رہی تھیں۔
پھر نادیہ آپا نے ترجمہ پڑھا:
“فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”
بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
پھر دوبارہ فرمایا گیا:
“بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”
علماء خاموش بیٹھی سنتی رہی۔
اس کے ذہن میں اپنی پوری زندگی جیسے ایک ایک منظر بن کر گزرنے لگی۔
وہ گھر…
وہ جدائی…
وہ تنہائی…
معاذ…
وہ رسوائی…
پھر مسجد…
پہلی تنخواہ…
شفاء…
اور اب فیض کا نام۔
اس نے آہستہ سے نظریں جھکا لیں۔
شاید ہر مشکل کے بعد واقعی آسانی آتی ہے۔
شاید اللہ اسے ایک ایسے راستے کی طرف لے جا رہا تھا جس کا اسے ابھی اندازہ بھی نہیں تھا۔
اس نے دل ہی دل میں کہا،
“یا اللہ… اگر یہ بھی آپ کی طرف سے کوئی راستہ ہے تو مجھے اسے پہچاننے کی سمجھ عطا کر دیجیے۔”اگلی صبح علماء معمول کے مطابق فجر کے لیے اٹھ گئی۔
نماز کے بعد کچھ دیر قرآن پڑھا، پھر اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں لگ گئی۔دوپہر کو اسکول سے واپس آنے کے بعد علماء نے نماز پڑھی اور کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا۔ عصر کے قریب وہ صحن میں بیٹھی تھی کہ اس نے شفاء کو دیکھا۔
شفاء حسبِ معمول مسکراتی ہوئی اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“آج بڑی خاموش ہو۔”
علماء ہلکا سا مسکرائی۔
“بس ایسے ہی۔”
شفاء نے اسے غور سے دیکھا۔
“کل والی بات کے بارے میں سوچا؟”
علماء نے چند لمحے خاموش رہ کر سر ہلایا۔
“ہاں۔”
“پھر؟”
علماء نے اپنی انگلیاں آپس میں الجھائیں۔
“میں… ایک بار فیض سے ملنا چاہتی ہوں۔”
شفاء کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آ گئی، مگر اس نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے علماء کو جھجھک محسوس ہو۔
“ٹھیک ہے۔”
علماء نے اس کی طرف دیکھا۔
“بس بات کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔”
“میں جانتی ہوں۔”
شفاء نے نرمی سے کہا۔
“اور تمہیں جتنی بات کرنی ہو، اتنی ہی کرنا۔ کوئی جلدی نہیں ہے۔”
علماء نے سکون کا سانس لیا۔”میں بھائی کو بتا دیتی ہوں۔”
اس نے فیض کو کال کی۔
چند لمحوں بعد کال اٹھ گئی۔
“السلام علیکم۔”
“وعلیکم السلام۔ بھائی، آپ کہاں ہیں؟”
“دفتر میں ہوں۔ کیوں؟”
شفاء نے علماء کی طرف دیکھا۔
“علماء آپ سے ایک بار بات کرنا چاہتی ہیں۔”
دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی ہوئی۔
پھر فیض کی آواز آئی۔
“اچھا۔”
شفاء نے مسکراتے ہوئے کہا،
“وہ آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے۔”
فیض نے مختصر سا جواب دیا۔
“ٹھیک ہے۔ جب وہ مناسب سمجھے۔”
شفاء نے علماء کو دیکھا۔
“سن لیا؟”
علماء نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔
شفاء نے فون بند کر دیا۔
“کل میرے ساتھ گھر چلو۔ وہ بھی ہوگا۔ آرام سے بات کر لینا۔”
علماء کے دل میں ہلکی سی گھبراہٹ اٹھی۔
“گھر؟”
“ہاں۔”
شفاء نے فوراً وضاحت کی۔
“میں بھی ساتھ ہوں گی۔ تم دونوں اکیلے نہیں ہوگے۔ پہلے تمہیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے۔ باقی جو اللہ کو منظور۔”
علماء نے کچھ دیر سوچا، پھر آہستہ سے کہا،
“ٹھیک ہے۔”
اگلے دن شفاء دوپہر کے بعد علماء کو لینے مسجد آ گئی۔
علماء نے سادہ لباس پہنا ہوا تھا اور سر پر ہلکا سا دوپٹہ تھا۔ اور سیاہ کلر کی شال اس کے چہرے پر معمول کی سنجیدگی تھی، مگر دل میں ایک انجانی سی بے چینی موجود تھی۔
وہ شفاء کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔راستے بھر شفاء کبھی اسکول کی بات کرتی رہی اور کبھی اپنے گھر کی۔ علماء زیادہ تر خاموش رہی۔
کچھ دیر بعد گاڑی ایک پرسکون سی رہائشی سڑک پر جا کر رک گئی۔
علماء نے سامنے موجود گھر کو دیکھا۔شفاء نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا،
“آؤ۔”
علماء اس کے ساتھ اندر داخل ہو گئی۔
دروازہ کھولا تو سامنے فیض موجود تھا۔
وہ چند قدم کے فاصلے پر رک گیا۔
اس کی نظر علماء پر پڑی تو ہمیشہ کی طرح فوراً جھک گئی۔
“السلام علیکم۔”
علماء نے بھی نظریں نیچی رکھتے ہوئے جواب دیا۔
“وعلیکم السلام۔”
شفاء نے دونوں کی طرف دیکھا اور ماحول کی سنجیدگی محسوس کرتے ہوئے مسکرا دی۔
“اچھا… تم دونوں بیٹھو۔”
فیض نے سامنے والے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
“آپ لوگ ادھر بیٹھ جائیں۔”
تینوں بیٹھ گئے۔
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
شفاء نے دونوں کے چہروں کو دیکھا، پھر اچانک کھڑی ہو گئی۔
“اچھا، تم دونوں بات کرو۔”
علماء نے فوراً اسے دیکھا۔
“آپ؟”
“میں چائے بناتی ہوں۔”
شفاء مسکرا کر بولی۔
“جو بات کرنی ہے، کر لو۔ میں یہیں ہوں، بس کچن میں جا رہی ہوں۔”
فیض نے کچھ کہنا چاہا، مگر شفاء پہلے ہی کچن کی طرف جا چکی تھی۔
کمرے میں خاموشی رہ گئی۔
علماء نے سامنے بیٹھے فیض کی طرف دیکھا۔
فیض بھی خاموش تھا۔
اس نے نظریں اٹھانے کے بجائے سامنے میز پر رکھے کپ کی طرف دیکھا۔
کچھ لمحوں بعد علماء نے خود خاموشی توڑی۔
“آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔”
فیض نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا، مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔
“میں جانتا ہوں۔”
علماء کی آواز میں سنجیدگی تھی۔
“نہیں۔ آپ نہیں جانتے۔”
وہ چند لمحے رکی۔
“آپ کو نہیں معلوم میں کہاں سے آئی ہوں۔ آپ کو میرے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ میری زندگی میں کیا کچھ گزر چکا ہے۔”
فیض خاموشی سے سنتا رہا۔
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“اور پھر بھی آپ نے شفاء سے میرے بارے میں بات کی۔”
فیض نے آہستہ سے جواب دیا،
“میں نے آپ کے بارے میں بہت کم جانا ہے۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔وہ تھوڑی دیر خاموش رہا۔
“شادی کسی ایک شخص کی خواہش سے نہیں ہوتی، علماء۔ دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔”
فیض آپ میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے میں نے اپنے ماضی میں بہت غلطیاں کی ہیں۔
میں جانتا ہوں کہ میں آپ کے بارے میں نہیں جانتا پر میں آپ کے بارے میں جتنا بھی جانتا ہوں آپ میرے لیے بہت خاص ہوگئی ہو میں آپ کے ساتھ ایک حلال راستہ قائم کرنا چاہتا ہوں میں آپ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔میں آپ سے تعلق بننا چاہتا ہوں میں حرام تعلق نہیں بنا نا چاہتا ہوں
میں نکاح کرنا چاہتا ہوں آپ سے ۔
میں دو پل بات نہیں کرنا چاہتا
میں آپ سے ساری زندگی بات کرنا چاہتا ہوں

“میں جانتا ہوں کہ آپ نے اپنی زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہوں گی۔ شاید ایسی بھی جن کے بارے میں آپ کسی کو بتانا نہیں چاہتیں۔”
وہ چند لمحے رکا۔
“مگر آپ مجھے اپنی ہر غلطی کے ساتھ قبول ہیں۔”
علماء کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
فیض نے نظریں جھکا لیں۔
“مجھے یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ آپ کے ماضی میں کیا ہوا، کیوں ہوا۔ وہ آپ کا ماضی ہے۔”
پھر اس نے آہستہ سے کہا،
“مجھے آپ کے حال اور مستقبل سے مطلب ہے۔”
علماء خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
” جو گزر گیا، وہ واپس نہیں آ سکتا
“میں آپ کو یہ نہیں کہوں گا کہ آپ مجھے سب کچھ بتائیں۔ نہ میں آپ پر کوئی سوال مسلط کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہا۔
“میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگر آپ مجھے اپنی زندگی میں جگہ دیں تو میں آپ کے ماضی کا فیصلہ کرنے والا نہیں، آپ کے ساتھ آپ کے مستقبل میں چلنے والا انسان بنوں۔”فیض نے دھیرے سے کہا،
“میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے مستقبل کا ایک اہم حصہ بنیں۔”
اگر آپ کا جواب ہاں ہوگا تو مجھے لگے گا کہ میں بہت خوش نصیب ہوں… کیونکہ مجھے آپ مل جائیں گی۔”
اس کے لہجے میں خوشی تھی، “میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی مرضی سے چنیں۔”
کچھ لمحوں تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔
علماء کے پاس فیض کی بات کا کوئی فوری جواب نہیں تھا۔ وہ بس اسے دیکھتی رہی۔ اس کے الفاظ میں کوئی اصرار نہیں تھا، نہ کوئی سوال… صرف ایک ایسا یقین تھا جس کے سامنے علماء کو اپنے اندر کے بہت سے بند دروازے یاد آنے لگے تھے۔
اسی خاموشی میں شفاء نے چائے کے کپ میز پر رکھ دیے۔
“چائے رکھ دی ہے۔”
علماء نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
شفاء نے دونوں کی طرف ایک نظر دیکھا، جیسے محسوس کر لیا ہو کہ وہ کسی بات کے درمیان آئی ہے، مگر کچھ پوچھا نہیں۔
“پی لیں، ٹھنڈی ہو جائے گی۔” کُچھ دیر بعد چائے کا کو خالی ہو چکا تھا وہاں خاموشی برقرار تھی علماء نے شفاء سے کہا۔
شفاء اب چلنا چاہیے ۔
ہاں ٹھیک ہے چلو بھائی آپ ہمیں چھوڑ دے۔ علماء مسجد چلی جائےگی اور مجھے سسرال چھوڑ دینا۔
تینوں گاڑی میں بیٹھے ہوا ٹھنڈی چل رہی تھی ۔کچھ دیر بعد علماء مسجد کے پاس پوچھ گئی اور اللہ حافظ کرکے اندر چلی گئی ۔فیض اور شفا بھی اب وہاں سے جا چکے تھے۔
دھیرے دھیرےرات کافی گزر چکی تھی۔
علماء اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی، مگر نیند اس کی آنکھوں سے بہت دور تھی۔
فیض کے الفاظ بار بار ذہن میں آ رہے تھے۔
“میں آپ کے ماضی کا فیصلہ کرنے والا نہیں… آپ کے ساتھ آپ کے مستقبل میں چلنے والا انسان بنوں۔”
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
کاش ماضی صرف ماضی ہوتا۔
کاش کچھ یادیں انسان کے پیچھے چلنا چھوڑ دیتیں۔
مگر کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے۔
وہ دن بھی ایسا ہی تھا۔
وہی دن…
جب اس کے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔
علماء کے ذہن میں وہ منظر ایک بار پھر تازہ ہو گیا۔
گھر میں پھیلی ہوئی بےچینی، لوگوں کی آوازیں، کسی کے رونے کی آواز، اور پھر وہ خبر جس نے جیسے ایک ہی لمحے میں سب کچھ بدل دیا تھا۔
اس کے بھائی کی موت۔
اور اس موت کے بعد ماں کو پڑنے والا دل کا دورہ۔
اس دن علماء نے صرف اپنا بھائی نہیں کھویا تھا۔
اس نے اپنی ماں کی وہ حالت بھی دیکھی تھی جس نے اسے اندر سے کہیں توڑ دیا تھا۔
اور اس سب کے پیچھے…
ایک نام تھا۔
معاذ۔
علماء نے کروٹ بدلی۔
کبھی وہ سوچتی تھی کہ شاید اسے معاذ سے محبت تھی۔
پھر وقت گزرا تو اسے محسوس ہوا کہ محبت تو کب کی ختم ہو چکی ہے۔
لیکن نفرت؟
وہ بھی اتنی سادہ نہیں تھی۔
شاید کبھی تھی۔
بہت زیادہ تھی۔
مگر اب…
اب معاذ کے لیے اس کے دل میں محبت نہیں تھی۔
نہ وہ اسے معاف کر پائی تھی، نہ مکمل طور پر بھلا سکی تھی۔
وہ اس کی زندگی کا ایک ایسا باب تھا جسے علماء پڑھنا نہیں چاہتی تھی، مگر پھاڑ کر پھینک بھی نہیں سکتی تھی۔
وہ اس کا ملال تھا۔
ایک ایسا ملال جو وقت کے ساتھ کم تو ہو گیا تھا، مگر ختم نہیں ہوا تھا۔
علماء نے آنکھیں کھولیں۔
فیض نے اس سے اس کے ماضی کا حساب نہیں مانگا تھا۔
مگر کیا وہ واقعی اپنے ماضی سے آزاد ہو چکی تھی؟
وہ دیر تک خاموشی سے چھت کو دیکھتی رہی۔علماء نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس سوال کا جواب ابھی اس کے پاس نہیں تھا۔
اور شاید اسی لیے…
اسے فیض کو بھی جواب دینے کے لیے کچھ وقت چاہیے تھا۔۔
دوسری طرف فیض نماز پڑھ رہا اُس نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی یا اللہ اُسے میرے نصیب میں لکھ دو پلیز اللہ تعالیٰ پتہ نہیں کیوں میں چاھتا ھوں وہ میرے پاس آجائے پوری زندگی میرے ساتھ رہے ۔
,********************,********************
اگلے دو تین دن بھی اسی طرح گزر گئے۔
علماء کی زندگی بظاہر معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ صبح اسکول، دوپہر میں مسجد واپسی، نماز اور پھر قرآن کی کلاس۔ مگر اس کے دل میں فیض کی باتیں اب بھی کہیں نہ کہیں موجود تھیں۔
وہ بار بار سوچتی۔کیا وہ اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر اپنی زندگی کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ کر سکتی ہے؟
وہ ابھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچی تھی۔
ایک رات عشاء کی نماز کے بعد علماء اپنے کمرے میں بیٹھی قرآن کی تلاوت کر رہی تھی۔ اس کے سامنے قرآن کھلا تھا اور ساتھ ہی ترجمہ بھی رکھا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ آیات پڑھتی جا رہی تھی۔
کچھ صفحات کے بعد اس کی نظر ایک آیت پر ٹھہر گئی۔
وہ رک گئی۔
اس نے آیت دوبارہ پڑھی، پھر نیچے لکھا ہوا ترجمہ پڑھنے لگی۔
78.8
Surah An Naba

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ (8)
ترجمہ: اور ہم نے تمہیں جوڑے پیدا کیا۔

علماء کچھ دیر بالکل خاموش بیٹھی رہی۔
اس کی نظر دوبارہ اسی جملے پر گئی۔
اور ہم نے تمہیں جوڑے پیدا کیا۔

علماء کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوئی۔ نہ وہ اسے مکمل طور پر سمجھ پا رہی تھی، نہ اس خیال سے خود کو الگ کر پا رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے قرآن کے صفحے پر ہاتھ رکھا اور گہری سانس لی۔
تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
“علماء؟”
یہ نادیہ آپا کی آواز تھی۔
علماء نے فوراً قرآن کی طرف دیکھا۔
“جی؟”
دروازہ ذرا سا کھولتے ہوئے نادیہ آپا اندر آئیں۔
“نیچے آ جاؤ، سب خواتین بیٹھی ہیں۔ قرآن کی آیات پڑھی جا رہی ہیں اور آپی سب کو سمجھا رہی ہیں۔”
علماء نے ایک لمحے کے لیے اپنے سامنے کھلے قرآن کو دیکھا، پھر اسے احتیاط سے بند کیا۔
“اچھا، آتی ہوں۔”
وہ قرآن کو اپنی جگہ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
کچھ دیر بعد وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے بڑے کمرے میں پہنچی۔
وہاں گھر کی تقریباً سب خواتین دائرے کی صورت میں بیٹھی تھیں۔ درمیان میں قرآنِ پاک کھلا ہوا تھا اور نادیہ آپا کے پاس بیٹھی بڑی آپی آہستہ آہستہ آیات پڑھ رہی تھیں۔
علماء خاموشی سے ایک طرف جا کر بیٹھ گئی۔
اس نے نظریں جھکا لیں اور ہاتھ گود میں رکھ لیے۔
تلاوت ختم کرنے کے بعد آپی نے قرآن کے صفحے پر انگلی رکھتے ہوئے کہا،
“آج ہم سورۃ الروم کی ایک بہت خوبصورت آیت پڑھیں گے۔”
کمرے میں موجود سب خواتین خاموش ہو گئیں۔
انہوں نے تلاوت شروع کیا۔

Ar-Rum 30:21

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجࣰا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةࣰ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتࣲ لِّقَوۡمࣲ يَتَفَكَّرُونَ
ترجمہ:اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ بے شک ا س میں غوروفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔
Urdu – Tafsir Ahsanul Bayaan
٢١۔١ یعنی تمہاری ہی جنس سے عورتیں پیدا کیں تاکہ وہ تمہاری بیویاں بنیں اور تم جوڑا جوڑا ہو جاؤ زوج عربی میں جوڑے کو کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرد عورت کے اور عورت مرد کے لیے زوج ہے۔ عورتوں کے جنس بشر ہونے کا مطلب ہے کہ دنیا کی پہلی عورت۔ حضرت حوا کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا۔ پھر ان دونوں سے نسل انسانی کا سلسلہ چلا۔
٢١۔۲مطلب یہ ہے کہ اگر مرد اور عورت کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہوتی، مثلاً عورتیں جنات یا حیوانات میں سے ہوتیں، تو ان سے سکون کبھی حاصل نہ ہوتا جو اس وقت دونوں کے ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ ایک دوسرے سے نفرت وحشت ہوتی۔ یہ اللہ تعالٰی کی کمال رحمت ہے کہ اس نے انسانوں کی بیویاں، انسان ہی بنائیں۔
٢١۔٢ مَوَدَّۃ یہ ہے کہ مرد بیوی سے بےپناہ پیار کرتا ہے اور ایسے ہی بیوی شوہر سے۔ جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔ ایسی محبت جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے، دنیا میں کسی بھی دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتی۔ اور رحمت یہ ہے کہ مرد بیوی کو ہر طرح کی سہولت اور آسائش بہم پہنچاتا ہے، جس کا مکلف اسے اللہ تعالٰی نے بنایا ہے اور ایسے ہی عورت بھی اپنے قدرت و اختیار کے دائرہ میں۔ تاہم انسان کو یہ سکون اور باہمی پیار انہی جوڑوں سے حاصل ہوتا ہے جو قانون شریعت کے مطابق باہم نکاح سے قائم ہوتے ہیں اور اسلام انہی کو جوڑا قرار دیتا ہے۔ غیر قانونی جوڑوں کو وہ جوڑا ہی تسلیم نہیں کرتا بلکہ انہیں زانی اور بدکار قرار دیتا ہے اور ان کے لئے سزا تجویز کرتا ہے۔ آج کل مغربی تہذیب کے علم بردار شیاطین ان مذموم کوششوں میں مصروف ہیں کہ مغربی معاشروں کی طرح اسلامی ملکوں میں بھی نکاح کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے بدکار مرد و عورت کو جوڑا تسلیم کروایا جائے اور ان کے لیے سزا کے بجائے وہ حقوق منوائے جائیں جو ایک قانونی جوڑے کو حاصل ہوتے ہیں۔ (قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ۡ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ) 63۔ المنفقون:4)۔

تفسیر مکمل ہونے کے بعد بھی کچھ دیر تک کمرے میں اسی آیت کا ذکر ہوتا رہا۔
کچھ خواتین نکاح کے بارے میں بات کرنے لگیں، کوئی آیت کے الفاظ پر غور کر رہی تھی اور کوئی میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحمت کے رشتے کو بیان کر رہی تھی۔
علماء خاموش بیٹھی سب سنتی رہی۔
اس کے ذہن میں صرف ایک بات بار بار گردش کر رہی تھیتاکہ تم ان کی طرف سکون حاصل کرو۔
کچھ دیر بعد خواتین اٹھنے لگیں۔
علماء بھی سب کو اللہ حافظ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
کمرے میں پہنچ کر اس نے دروازہ بند کیا اور کچھ دیر خاموش کھڑی رہی۔پھر آہستہ سے بستر پر بیٹھ گئی۔
اس کے ذہن میں آج سنی ہوئی آیت اور تفسیر کے الفاظ ایک ایک کرکے واپس آنے لگے۔
جوڑا۔
سکون۔
محبت۔
رحمت۔
نکاح۔
اس نے گہری سانس لی۔
“شاید انسان پوری زندگی اکیلا نہیں گزار سکتا…”
یہ خیال اس کے دل میں آیا۔
اس نے سامنے رکھے قرآن کو دیکھا۔
اللہ نے انسان کے لیے جوڑے بنائے تھے۔ نکاح کے ذریعے ایک ایسا رشتہ قائم کیا جس میں سکون، محبت اور رحمت رکھی گئی۔
پھر اچانک اس کا ذہن اپنے ماضی کی طرف چلا گیا۔
معاذ۔
اس کا نام آتے ہی علماء کے دل میں ایک بوجھ سا اتر آیا۔
کچھ راستے ایسے ہوتے ہے کو بھولتے نہیں جاتے ۔ ہم کتنا بھی چاہے مگر بھول نہیں پاتے۔
اسے ان کے درمیان ہونے والی وہ ساری چیٹ یاد آ گئی۔
وہ راتیں جب وہ گھنٹوں ایک دوسرے سے بات کرتے تھے۔
وہ پیغامات…
وہ بے فکری…
وہ تعلق جسے اس وقت وہ محبت سمجھ رہی تھی۔
لیکن پھر معاذ نے اسے دھوکا دیا تھا۔
جس شخص پر اس نے اعتبار کیا، اسی نے اس اعتبار کو توڑ دیا تھا۔
علماء نے آنکھیں بند کر لیں۔
اب اسے اپنے اس ماضی پر بھی شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔
اسے معلوم تھا کہ نکاح سے پہلے اس طرح کسی غیر محرم سے تعلق اور بے تکلف گفتگو درست نہیں تھی۔
اس نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔یا اللہ… مجھ سے جو غلطی ہوئی، مجھے معاف کر دینا۔”
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک اور چہرہ آیا۔
فیض۔جس نے اس سے چھپ کر تعلق قائم کرنے کے بجائے نکاح کا راستہ اختیار کیا تھا۔اسے اپنی باقی زندگی ماضی کی ایک غلطی کے نام نہیں کرنی تھی۔
اگر اللہ نے اس کے سامنے ایک نیا راستہ رکھا تھا تو اسے اس راستے کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔
اور فیض…
اس نے فیض کے بارے میں سوچا۔
اس کی باتیں یاد آئیں۔
اس کا انداز یاد آیا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ اس نے علماء کو حاصل کرنے کے لیے کوئی غلط راستہ نہیں چنا تھا۔
اس نے رشتہ بھیجا تھا۔
علماء کے دل میں پہلی بار اس فیصلے کے حوالے سے وہ خوف نہیں تھا جو پہلے تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا،
“میں فیض کو ہاں کر دوں گی۔”
مگر پھر اس نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کر لیں۔اس کے دل میں ایک اطمینان اترنے لگا۔
وہ فیض سے شادی کے لیے ہاں کرنا چاہتی تھی۔
اگلے دن اس نے شفا کو فون کیا۔
کچھ دیر بعد شفا نے فون اٹھایا۔
“ہیلو علماء؟”
“شفا، تم آج میرے پاس آ سکتی ہو؟”
شفا اس کی آواز سن کر چونک گئی۔
“خیریت؟”
“ہاں… بس تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”
کچھ دیر بعد شفا اس کے پاس پہنچ گئی۔
دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ گئیں۔
شفا نے علماء کو دیکھا۔
“اب بتاؤ، کیا بات ہے؟”
علماء نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے کہا،
“میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔”
“کس بارے میں؟”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
“فیض کے رشتے کے بارے میں۔”
شفا خاموش ہو گئی۔
علماء نے دھیرے سے کہا،
“میں فیض کو ہاں کہنا چاہتی ہوں۔”
شفا کے چہرے پر حیرت اور خوشی ایک ساتھ نمودار ہوئی۔
“واقعی؟”
علماء نے سر ہلا دیا۔
“ہاں۔”
پھر وہ کچھ لمحے خاموش رہی اور بولی،میں چاہتی ہوں کہ اگر میری شادی ہو تو سنت کے طریقے سے ہو۔شفا نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
علماء نے آہستہ سے کہا،
“میں فیض سے شادی کے لیے ہاں کر رہی ہوں۔”وہ جانتی تھی کہ ماضی واپس نہیں بدلا جا سکتا۔
معاذ نے جو دھوکا دیا، وہ بھی اب اس کی زندگی کا حصہ نہیں تھا۔
لیکن مستقبل…
وہ ابھی اس کے ہاتھ میں تھا۔
اور اس بار علماء نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کا راستہ غلط تعلق سے نہیں، نکاح سے شروع کرے گی
شام کے وقت شفا اپنے گھر پہنچی۔
دروازہ کھولتے ہی اس نے آواز لگائی،
“فیض!”
اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔
“فیض!”
اب کی بار بھی خاموشی رہی۔
شفا نے جوتے اتارے اور اندر آتے ہوئے بلند آواز میں کہا،
“جناب! کہاں ہیں؟”
کچھ دیر بعد کمرے سے فیض کی آواز آئی،
“کیا ہوا ہے؟ اتنی آواز کیوں لگا رہی ہو؟”
فیض باہر آیا تو شفا کو سامنے کھڑا دیکھ کر رک گیا۔
“تم اچانک؟”
شفا نے سنجیدہ چہرہ بنایا۔
“ہاں۔ بہت ضروری کام ہے۔”
فیض فوراً متوجہ ہوا۔
“کیا ہوا؟”
شفا صوفے پر بیٹھ گئی۔
“پہلے پانی پلاؤ۔”
فیض نے اسے حیرت سے دیکھا۔
“تمہیں پانی چاہیے یا واقعی کوئی ضروری بات ہے؟”
“دونوں۔”
فیض پانی لے آیا۔
شفا نے گلاس ہاتھ میں لیا، ایک گھونٹ پیا اور پھر جان بوجھ کر خاموش ہو گئی۔
فیض نے بے چینی سے پوچھا،
“اب بتاؤ بھی۔”
شفا نے گلاس میز پر رکھا۔
“علماء نے ہاں کر دی ہے۔”
فیض جیسے ایک لمحے کے لیے سمجھ ہی نہ پایا۔
“کیا؟”
شفا نے مسکراتے ہوئے دوبارہ کہا،
“علماء نے تمہارے رشتے کے لیے ہاں کر دی ہے۔”
فیض کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی۔
وہ چند لمحے کچھ نہیں بولا۔
شفا اسے دیکھتی رہی۔
پھر ہنس کر بولی،
“اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟”مجھے یقین نہیں ہو رہا۔”
“کیوں؟”
“پتہ نہیں…”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
ویسے شفاء کہیں تُم جھوٹ تو نہیں بول رہی ؟
ہاں بھئی میرے اندر تو اتما آئی ہے نہ ہو میں جھوٹ بولوں۔
“ایک بات اور کہی ہے اس نے۔”
فیض نے فوراً سر اٹھایا۔
“کیا؟”
“وہ چاہتی ہے کہ شادی سنت کے طریقے سے ہو۔”
فیض کے چہرے پر اس بار مسکراہٹ کے ساتھ اطمینان بھی آ گیا۔
“یہ تو میں بھی چاہتا ہوں۔”
شفا نے فوراً کہا،
“اچھا؟”
“ہاں۔”
“پھر ٹھیک ہے۔”
,********************,********************
ایک مہینہ جیسے پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔
ان ایک مہینے میں گھر کی فضا ہی بدل گئی تھی۔ علماء کے لیے ہر دن اپنے ساتھ ایک نئی مصروفیت لے کر آتا۔ کبھی کپڑوں کی تیاری، کبھی نکاح کے انتظامات، کبھی شفا کے ساتھ بیٹھ کر شادی کی چھوٹی چھوٹی باتیں طے کرنا۔
اور آج وہ دن آ ہی گیا تھا۔

ایک ماہ بعد
علماء اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔ آج اس نے گہرے میرون رنگ کا خوبصورت لہنگا پہنا تھا، جس پر سنہری اور سلور دھاگے سے نفیس کڑھائی کی گئی تھی۔ آستینوں اور دامن پر بھاری کام تھا، جبکہ دوپٹے کے کنارے پر باریک زری اور موتیوں کا کام اسے مزید خوبصورت بنا رہا تھا۔
اس نے دوپٹا سر پر اس طرح لیا ہوا تھا کہ اس کا آدھا چہرہ بھی ہلکی سی اوٹ میں آ گیا تھا۔
زیورات بھی بہت زیادہ نہیں تھے۔
کانوں میں چھوٹے مگر نفیس جھمکے، گلے میں ایک نازک سا ہار، ہاتھوں میں میرون اور سنہری چوڑیاں اور انگلی میں ایک سادہ سی انگوٹھی۔
اس کے ہاتھوں پر مہندی کا رنگ گہرا ہو چکا تھا۔
دوسری طرف فیض بھی تیار ہو چکا تھا۔
اس نے کالا سادہ مگر نفیس کُرتا شلوار کے ساتھ بلیک ویسٹ کوٹ پہنا تھا۔ لباس میں کوئی غیر ضروری چمک دمک نہیں تھی، بس نفاست اور سادگی تھی۔
کلائی پر گھڑی اور ہلکی سی خوشبو۔
آئینے کے سامنے کھڑا وہ خود کو دیکھ رہا تھا مگر اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی۔
شفا کی بات اسے بار بار یاد آ رہی تھی۔
“علماء نے تمہارے رشتے کے لیے ہاں کر دی ہے۔”
اس نے بے اختیار مسکرا کر سر جھکا لیا۔
“الحمدللہ…”
آج وہ اس لڑکی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے جا رہا تھا جس سے اسے محبّت ہوگئی تھی۔
کتنی اچھی نصیب تھی نہ جس سے محبّت ہوئی وہ آج اُسکی ہونے جا رہی تھی۔
مسجد
مغرب کے بعد مسجد کے ایک پُرسکون حصے میں نکاح کا انتظام کیا گیا تھا۔
مسجد میں نہ کوئی شور تھا، نہ موسیقی، نہ غیر ضروری ہنگامہ۔ سفید چادریں بچھائی گئی تھیں اور قریب ہی چند سفید پھول رکھے تھے۔
مولانا صاحب سامنے بیٹھے تھے۔
فیض اپنے چند قریبی لوگوں کے ساتھ ان کے سامنے موجود تھا۔
دوسری طرف خواتین کے حصے میں علماء بیٹھی تھی۔
اس کے سر پر میرون دوپٹا تھا۔نظریں مسلسل جھکی ہوئی تھیں، مگر دل میں عجیب سی بے قراری تھی۔
شفا اس کے پاس بیٹھی تھی۔
اس نے علماء کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“گھبرا رہی ہو؟”
علماء نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“تھوڑی سی۔”مگر پھر اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھوں پر پڑی۔اور دل میں ایک خیال آیا۔
کاش آج ابو ہوتے۔
بس ایک لمحے کے لیے اس کے دل میں اپنے والد کی تصویر ابھری۔
اسے یاد بھی تو بہت کم تھا۔
وہ تو اس وقت دنیا سے چلے گئے تھے جب علماءچھوٹی سی تھی۔
مگر کچھ رشتے یادوں کے محتاج نہیں ہوتے۔
باپ کی کمی عمر کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔
آج اسے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا کہ اگر ابو زندہ ہوتے تو شاید اسی طرح اس کے سامنے بیٹھے ہوتے۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے۔اور شاید اسکی زندگی اتنی مشکل نہیں ہوتی۔ والد زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتے ہے ۔ ان کے چلے جانے سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔
علماء کی آنکھیں نم ہوگئیں۔اس نے جلدی سے آنکھیں جھپکائیں
ادھر مولانا صاحب نے نکاح کی کارروائی شروع کی۔
ضروری تفصیلات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے علماء کی طرف دیکھا۔
کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔
مولانا صاحب نے نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا،
“محترمہ علماء صدیقی بنت عبدالرحمن صدیقی، آپ کے والد محترم اس دنیا میں موجود نہیں ہیں اور آپ کے نکاح کے لیے یہاں آپ کی اجازت سے میں بطور شرعی ولی نکاح کی کارروائی انجام دے رہا ہوں۔”
علماء نے نظریں جھکا لیں۔
مولانا صاحب نے آگے کہا،
“میں آپ کا نکاح فیض ملک ابن سلمان ملک کے ساتھ، پانچ لاکھ روپے حقِ مہر کے عوض طے کرتا ہوں۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
اُسے اپنے والد کی شدّت سے یاد آرہی تھی۔مگر آج وہ موجود نہیں تھے۔اس نے آنکھیں بند کیں۔
پھر بہت دھیمی مگر واضح آواز میں کہا،
“جی ہاں۔۔۔ مجھے قبول ہے۔”
مولانا صاحب نے دوبارہ پوچھا،
“آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
علماء کی آواز اس بار ذرا واضح تھی۔
“جی ہاں، مجھے قبول ہے۔”
تیسری بار سوال ہوا۔
“علماء صدیقی بنت عبدالرحمن صدیقی، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
علماء کی آنکھ سے ایک آنسو پھسل گیا۔
اس نے اسے فوراً صاف نہیں کیا۔
بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“جی ہاں۔۔۔ مجھے قبول ہے۔”
مولانا صاحب نے سر ہلایا۔
پھر فیض کی طرف متوجہ ہوئے۔
“فیض ملک ابن سلمان ملک۔۔۔”
فیض نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے مولانا صاحب کی طرف دیکھا۔
“میں نے علماء صدیقی بنت عبدالرحمن صدیقی کا نکاح، جس کی جانب سے میں نکاح کی کارروائی انجام دے رہا ہوں، آپ کے ساتھ پانچ لاکھ روپے حقِ مہر کے عوض باندھا۔ انہوں نے اس نکاح کو قبول کر لیا ہے۔ کیا آپ نے اس نکاح کو اپنے عقد میں قبول کیا؟”میں نے قبول کیا۔”
مولانا صاحب نے دوبارہ پوچھا،
“فیض ملک ابن سلمان ملک، کیا آپ نے یہ نکاح قبول کیا؟میں نے قبول کیا۔”
تیسری بار سوال ہوا۔
“کیا آپ نے علماء صدیقی کا نکاح اپنے عقد میں قبول کیا؟”
اس بار فیض کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“جی ہاں۔۔۔ میں نے قبول کیا۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد مولانا صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
سب نے ہاتھ اٹھا لیے۔
علماء نے بھی اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے۔
اس کی پلکوں پر آنسو ٹھہرے ہوئے تھے۔
مولانا صاحب دعا کر رہے تھے، مگر علماء کا دل کہیں اور تھا۔
وہ اپنے ابو کو یاد کر رہی تھی۔
آج اگر وہ ہوتے۔۔۔شاید وہ فیض کو اپنے قریب بلا کر کہتے،
“میری بیٹی کا خیال رکھنا۔”وہ سوچ رہی تھی۔
علماء کی آنکھوں سے ایک اور آنسو بہہ نکلا۔دعا ختم ہوئی۔
مولانا صاحب نے سب کو مبارک باد دی۔
شفا نے علماء کو دیکھا تو اس کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
وہ جھک کر علماء کے کان کے قریب بولی،
“مبارک ہو۔۔۔”
علماء نے نم آنکھوں کے ساتھ مسکرانے کی کوشش کی۔
شفا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
مسجد کے باہر رات کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
علماء نے اپنا دوپٹا سنبھالتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم باہر کی طرف بڑھائے۔
باہر دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔
شفا نے علماء کی طرف دیکھا۔
“تم فیض کے ساتھ چلی جاؤ۔ میں دوسری گاڑی میں آ رہی ہوں۔”
علماء ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگئی۔
اب تک وہ سب کے درمیان تھی، مگر اچانک اسے احساس ہوا کہ اب اسے فیض کے ساتھ اکیلے گھر جانا ہے۔شفا نے مسکرا کر کہا،
“اور اتنا مت گھبراؤ۔ وہ تمہیں کھا نہیں جائے گا۔”
علماء نے فوراً اسے گھورا۔فیض پہلے ہی گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔
اس نے علماء کو آتے دیکھا تو دروازہ کھول دیا۔
“آئیے۔”
علماء نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
فیض نے دروازہ بند کیا اور خود دوسری طرف جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
کچھ ہی لمحوں بعد شفا کی گاڑی بھی مسجد سے روانہ ہوگئی۔
فیض نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔
سڑک پر رات کی روشنیاں پھیل رہی تھیں۔
علماء کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
فیض نے ایک نظر اسے دیکھا۔
آج پہلی بار وہ اس کے ساتھ اس طرح بیٹھی تھی۔
نکاح کے بعد۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
“تھک گئی ہو؟”
علماء نے کھڑکی سے نظریں ہٹائے بغیر کہا،
“تھوڑی سی۔”کچھ لمحے پھر خاموشی رہی۔
پھر علماء نے آہستہ سے کہا،
“شفا آپی بھی ہمارے ساتھ آ رہی ہیں۔”
“ہاں، انہوں نے کہا تھا کہ وہ دوسری گاڑی سے آئیں گی۔”
علماء نے سر ہلایا۔کچھ دیر بعد گاڑی گھر کے سامنے رک گئی۔
فیض نے انجن بند کیا۔
علماء نے گھر کی طرف دیکھا۔
وہی گھر تھا، مگر آج اس کے لیے سب کچھ بدل چکا تھا۔
فیض نے آہستہ سے کہا،
“چلیں؟”
علماء نے سر ہلایا۔
دونوں گاڑی سے باہر نکلے۔
چند لمحوں بعد شفا کی گاڑی بھی گھر کے سامنے آ کر رک گئی۔
شفا گاڑی سے اتری اور مسکراتے ہوئے علماء کے قریب آئی۔
“پہنچ گئے؟”
“جی۔”
شفا نے اسے دیکھا۔
“چلو اندر۔”
سب گھر میں داخل ہوگئے۔
گھر کے اندر ابھی بھی ہلکی سی رونق باقی تھی۔ چند قریبی رشتہ دار موجود تھے جو انہیں دیکھتے ہی دوبارہ مبارک باد دینے لگے۔
“ماشاءاللہ، اللہ دونوں کو خوش رکھے۔”
“آمین۔”کچھ دیر بعد جب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو گھر کی رونق بھی آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل گئی۔
شفا علماء کے پاس آئی۔
“اب تم آرام کرو۔”
علماء نے کمرے میں آ کر اپنا دوپٹا درست کیا ہی تھا کہ باہر سے عشاء کی اذان کی آواز سنائی دی۔
کچھ دیر بعد فیض بھی کمرے میں آگیا۔
فیض نے بھی اذان سنی تو بولا،
“نماز پڑھ لیں؟”
علماء نے سر ہلایا۔دونوں نے وضو کیا۔ فیض نے جائے نماز آگے بچھائی اور علماء اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔
نکاح کے بعد یہ ان کی پہلی نماز تھی۔
فیض نے تکبیر کہہ کر نماز شروع کی۔ علماء اس کے پیچھے خاموشی سے کھڑی رہی۔
رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے علماء کے دل میں عجیب سا سکون اتر رہا تھا۔ آج کا پورا دن جیسے ایک طرف رہ گیا تھا۔ نکاح، لوگوں کی مبارک بادیں، ابو کی یاد اور فیض کا اس کی زندگی میں آ جانا۔۔۔ سب کچھ۔
سجدے میں اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔نماز ختم ہوئی تو دونوں نے دعا کیعلماء نے آنکھیں بند کر لیں۔ آج دل میں بہت کچھ تھا، مگر دعا کے لیے الفاظ بہت کم۔
اس نے خاموشی سے دعا کی،
“یا اللہ۔۔۔ میری آنے والی زندگی آسان کر دے۔ میرے ہر فیصلے میں خیر رکھ۔ مجھے اپنے قریب کر دے، میرے دل کو اپنی یاد سے جوڑے رکھ، اور مجھے ایسا بنا دے کہ میں ہر حال میں تجھے راضی کرنے کی کوشش کروں۔ میرے اس نئے رشتے میں بھی برکت عطا فرما اور مجھے اپنے دین سے کبھی دور نہ کرنا۔”
اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ نکلا۔
دوسری طرف فیض نے بھی ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
اس کے دل میں شکر کا احساس تھا۔
“یا اللہ۔۔۔ تیرا شکر ہے۔ تو نے مجھے وہ عطا کیا جس کی میں نے خواہش کی تھی۔ علماء کو میری زندگی میں حلال رشتے کے ساتھ شامل کرنے کے لیے تیرا شکر ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اس کا خیال رکھنے کی کوشش کروں گا، اس کی عزت کروں گا اور اسے خوش رکھنے کی کوشش کروں گا۔ مجھے اس رشتے کی ذمہ داری نبھانے کی توفیق دینا۔”
کچھ دیر دونوں خاموشی سے دعا کرتے رہے۔
پھر علماء نے اپنے ہاتھ چہرے پر پھیر لیے۔
فیض نے بھی دعا ختم کی۔
علماء نے نظریں اٹھائیں تو فیض کی نظر اس پر تھی۔
دونوں کے درمیان چند لمحوں کی خاموشی رہی۔فیض نے آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور علماء کا ہاتھ تھام لیا۔
علماء نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔
فیض نے نرم لہجے میں کہا،
“اب آپ صرف میری محبت نہیں ہیں، آپ میری شریکِ حیات ہیں۔”
علماء خاموشی سے اسے سنتی رہی۔
“اور میرے لیے بہت خاص ہیں۔”
“میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہماری زندگی میں کبھی مشکل نہیں آئے گی۔ لیکن میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ جب بھی کوئی مشکل آئے، ہم ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں۔”فیض نے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت ذرا مضبوط کی۔
“میں ہمیشہ آپ کا خیال رکھنے کی کوشش کروں گا۔ آپ کی عزت کروں گا اور کبھی جان بوجھ کر آپ کو تکلیف نہیں دوں گا۔”
علماء نے دھیرے سے پوچھا،
“اور اگر کبھی مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی؟”
فیض کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“تو ہم بات کریں گے۔ خاموش ہو کر ایک دوسرے سے دور نہیں ہوں گے۔”
علماء کی آنکھوں میں ایک نرم سی مسکراہٹ اتر آئی۔
“وعدہ؟”
“وعدہ۔”
کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔
پھر فیض نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور کہا،”اب آپ کو آرام کرنا چاہیے
صبح کی اذان کی آواز نے خاموش فضا کو آہستہ آہستہ اپنے حصار میں لے لیا۔
فیض نے اذان سنتے ہی علماء کی طرف دیکھا۔
“فجر کا وقت ہو گیا ہے۔”
علماء نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔ فیض اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ آرام سے فریش ہو جائیں۔ میں مسجد میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔”
“جی۔”
فیض نے ایک نظر علماء کو دیکھا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد علماء بھی اٹھ گئی۔ اس نے وضو کیا، فریش ہوئی اور نمازِ فجر ادا کی۔ نماز کے بعد کچھ دیر جائے نماز پر بیٹھی رہی۔ دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ کل تک جو زندگی اسے بہت دور اور غیر واضح محسوس ہو رہی تھی، آج اسی زندگی کا ایک نیا باب اس کے سامنے تھا۔
نماز کے بعد اس نے قرآنِ پاک کھولا اور کچھ دیر تلاوت کی۔
پھر وہ قرآن بند کرکے احتیاط سے ایک طرف رکھ کر کمرے میں بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔
فیض اندر آیا۔
مسجد سے واپسی کے بعد اس کے چہرے پر بھی ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ اس نے علماء کو دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔
“اٹھ گئی تھیں؟”
“جی۔ نماز پڑھ لی، فریش بھی ہو گئی۔”
“اچھا۔”
فیض نے کمرے میں ایک نظر ڈالی اور پھر قرآنِ پاک کی طرف بڑھا۔ اس نے قرآن اٹھایا اور بیٹھ کر اس کے صفحات کھولنے لگا۔
علماء اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
کچھ لمحوں بعد علماء نے پوچھا،
“میں آپ کے لیے چائے بنا دوں؟”
فیض نے فوراً سر اٹھایا۔
“نہیں، آپ رہنے دیں۔ شفا چائے بنا رہی ہے۔ ابھی کچھ مہمان بھی باہر ہیں۔”
“اچھا۔”
علماء خاموش ہو گئی۔
فیض نے قرآن کھولا اور پھر علماء کی طرف دیکھ کر قدرے نرم لہجے میں کہا،
“آپ ادھر آ کر بیٹھ جائیں۔”
علماء آہستہ سے اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی، مگر مناسب فاصلے پر۔
فیض نے نظریں قرآن کی طرف جھکا لیں۔
کمرے میں کچھ لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔
پھر اس کی آواز سنائی دی۔
نرم، ٹھہری ہوئی اور پرسکون۔
وہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگا۔
علماء خاموشی سے سنتی رہی۔
ہر آیت کے ساتھ جیسے کمرے کی فضا بدلتی جا رہی تھی۔ باہر گھر میں مہمانوں کی ہلکی ہلکی آوازیں تھیں، شفا کے برتن رکھنے کی آواز کبھی کبھی سنائی دیتی، مگر اس کمرے کے اندر صرف قرآن کی تلاوت گونج رہی تھی۔
علماء نے ایک لمحے کے لیے فیض کی طرف دیکھا۔
اسے محسوس ہوا کہ شاید زندگی کا سکون ہمیشہ بڑی بڑی چیزوں میں نہیں ہوتا۔
کچھ دیر تک فیض تلاوت کرتا رہا۔ پھر اس نے قرآنِ پاک کو احتیاط سے بند کیا اور اسے ایک طرف رکھ دیا۔
علماء اب بھی خاموش بیٹھی تھی۔
فیض نے اس کی طرف دیکھا۔
“آپ یہیں بیٹھیے، میں ابھی آتا ہوں۔”
“جی۔”
وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔
کچھ دیر بعد دروازہ دوبارہ کھلا تو فیض کے ہاتھ میں دو کپ تھے۔ اس نے ایک کپ علماء کی طرف بڑھایا اور خود دوسرا کپ لے کر سامنے بیٹھ گیا۔
“آپ کے لیے چائے۔”
علماء نے کپ لیتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“شکریہ۔”
دونوں کچھ دیر خاموشی سے چائے پیتے رہے۔
فیض نے کپ میز پر رکھا اور کچھ لمحوں تک سامنے دیکھتا رہا۔
پھر دھیمی آواز میں بولا،
“علماء… ایک بات سوچ رہا تھا۔”
علماء نے اس کی طرف دیکھا۔
“کیا؟”
فیض کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ آئی۔
“اگر آج ہمارے والدین ہوتے نا… تو شاید بہت سی چیزیں مختلف ہوتیں۔”علماء خاموش ہو گئی۔
فیض نے نظریں جھکا لیں۔
“شاید آج کا دن بھی کچھ اور ہوتا۔ گھر میں اتنی خاموشی نہ ہوتی۔ کوئی ماں آپ کو صبح اٹھ کر دیکھتی، آپ سے پوچھتی کہ ناشتہ کیا یا نہیں… اور کوئی باپ شاید مجھے بیٹھا کر کچھ سمجھاتا۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“شاید وہ آپ کو اپنی بیٹی کی طرح رخصت کرتے… اور مجھے سمجھاتے کہ اب یہ صرف میری ذمہ داری نہیں، میری امانت ہے۔”
علماء کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
فیض نے آہستہ سے کہا،
“کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ کچھ خوشیاں انسان کو اس لیے بھی ادھوری لگتی ہیں کیونکہ جن لوگوں کے ساتھ وہ خوشی بانٹنا چاہتا ہے، وہ موجود نہیں ہوتے۔”
علماء نے کپ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
“آپ کو ان کی بہت یاد آتی ہے؟”
فیض نے چند لمحے خاموش رہ کر سر ہلایا۔
“ہاں… بہت۔”
پھر اس نے دھیرے سے کہا،
“لیکن شاید اللہ نے ہماری زندگی میں کچھ لوگوں کو اس لیے بھیجا ہے کہ جو جگہیں خالی رہ گئی ہیں، وہ کم از کم تنہائی نہ بن جائیں۔”
علماء نے اس کی طرف دیکھا۔
فیض نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،
“میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ میرے والدین کی کمی پوری کر دیں۔ وہ جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔
“بس اتنا چاہتا ہوں کہ جو زندگی ہمیں ملی ہے، اسے ہم مل کر اچھا بنا دیں۔”
علماء کی آنکھ سے ایک آنسو بہہ نکلا۔
اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
فیض نے نرم لہجے میں کہا،
“روئیں نہیں۔”
علماء نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنسو صاف کیا۔
“میں رو نہیں رہی۔”
فیض بھی مسکرا دیا۔
“اچھا… تو یہ آنکھ میں جو پانی ہے، وہ چائے کی بھاپ سے آیا ہے؟”
علماء بے اختیار ہنس دی۔
کمرے کی اداسی میں پہلی بار ایک ہلکی سی مسکراہٹ گھلی۔
اور اس چھوٹی سی صبح میں، دو ایسے لوگ جو اپنی اپنی زندگیوں میں کچھ خالی جگہیں لیے چل رہے تھے، پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ ان خالی جگہوں کو سمجھنے لگے تھے۔
وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا۔
صبح کی رونق آہستہ آہستہ دوپہر کی خاموشی میں بدلنے لگی۔ ایک کے بعد ایک مہمان علماء سے ملنے آتا رہا۔ کوئی اسے دعائیں دیتا، کوئی آنے والی زندگی کے لیے نیک خواہشات دیتا اور کوئی چند لمحے اس کے پاس بیٹھ کر محبت سے باتیں کرتا۔
علماء بھی سب سے مسکرا کر ملتی رہی۔
کچھ دیر بعد جو لوگ باقی رہ گئے تھے، وہ بھی رخصت ہونے لگے۔
گھر میں اب پہلے جیسی چہل پہل نہیں رہی تھی۔
شفا بھی صبح سے مسلسل کاموں میں مصروف تھی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد اس نے کچن سمیٹا اور پھر علماء کے کمرے میں آ کر بولی،
“علماء، میں بھی اب چلتی ہوں۔ سسرال سے کافی دیر سے فون آ رہے ہیں۔ وہاں کچھ ضروری کام ہے۔””فیض، مجھے ذرا گھر چھوڑ دو۔” شفاء اتنی جلدی کیوں نہ رہی ہو کم سے کم دو تین دن تو روک جاؤ۔
بھی وہ صوبہ سے فون آرہا ہیں وہاں ضرورت ہے میری۔
اچّھا ٹھیک ہے۔
فیض نے فوراً رضامندی ظاہر کی۔
علماء نے شفا کی طرف دیکھ کر کہا،
“اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ، اپنا خیال رکھنا۔”
شفا نے اسے پیار سے دیکھا اور پھر فیض کے ساتھ باہر نکل گئی۔
کچھ دیر بعد فیض گاڑی لے کر شفا کو اس کے سسرال چھوڑنے چلا گیا۔
گھر میں اب علماء اکیلی رہ گئی تھی۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھی رہی
کچھ دیر بعد باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔
علماء نے نظریں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں بعد فیض کمرے میں داخل ہوا۔
“شفا کو چھوڑ آیا ہوں۔”فیض نے گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر علماء سے پوچھا،
“آپ نے کچھ کھایا؟”
علماء نے نفی میں سر ہلا دیا۔
فیض نے فوراً کہا،
“تو پھر پہلے کچھ کھا لیجیے۔ صبح سے آپ مسلسل سب سے مل رہی ہیں۔ اب تھوڑا آرام بھی ضروری ہے۔”
علماء نے دھیرے سے کہا،
“آپ بھی تو صبح سے مصروف ہیں۔”
فیض مسکرا دیا۔
“میری فکر بعد میں کیجیے گا، پہلے اپنی فکر کرنا سیکھیے۔”
علماء نے اسے دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا کوئی شخص اُسکا اتنا خیال رکھ رہا تھا۔
دونوں کھانے کے میز پے آگئے ۔علماء نے خاموشی سے پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی۔
دونوں کُچھ دیر خاموشی سے کھاتے رہے۔کھانے کے بعد علماء نےپلیٹ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو فیض نے فوراً کہا،
رہنے دیں،
کیوں؟
آپ آرام کرے،میں رکھ دیتا ہوں ۔
میں کر سکتی ہوں ۔
مجھے معلوم ہے آپ کر سکتی ہے پر ضروری تو نہیں میں یہ کام آپ سے کروائیں؟
تو آپ مجھ سے جھاڑو پوچھا کروائنگے؟
فیض بے اختیار ہنس دیا۔
آپ کیسی باتیں کر رہی ہے۔میں آپ کو اس لیے تو نہیں کہا۔
آپ فرق نا کرے میں آپ سے جھاڑو پوچھا نہیں کرونگا۔ آپ کو میری جان ہو۔
علماء کچھ لمحے وہی بیٹھی اُسے دیکھتی رہی۔فیض پلیٹ اٹھا کے کچن کی طرف چلا گیا۔
شاید خیال رکھنا بڑے وعدے کہ نام نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی یہ ایک پلیٹ اٹھا لینا ،وقت پر کھانا یاد دلانے اور تھکن دیکھ کر آرام کرنے کو کہہ دینے میں بھی چھپا ہوتا ہے۔
کچھ دیر بعد فیض آیا علماء ابھی خاموش بیٹھی تھی۔
آپ کیا سوچ رہی ہے؟
کچھ نہیں۔
یہ کچھ نہیں مجھے بہت کچھ لگ رہا ہے۔
کچھ وقت بعد دونوں اپنے کمرے میں گئے۔ فیض بعد پے بیٹھا لیپٹاپ میں کُچھ کام کر رہا تھا۔ علماء اپنے بال کنگھی کر رہی تھی۔ پھر اس نے کچھ سوچتے ہوئے فیض سے پوچھا،
آپ کو مجھے سے محبّت کب اور کیسے ہوئی؟
فیض نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ محبّت کب اور کیسے ہوجانے کا کھیل نہیں ہے محبّت بس ہوجاتی ،ایک پل ایک لمحے میں اور مجھے آپ سے ہوگئی۔
,********************,********************
نیپال

معاذ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔
وہ کافی دیر سے رو رہا تھا۔
آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں، سانسیں بے ترتیب تھیں اور آنسو مسلسل اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔
وہ اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔
اس کے دل میں بار بار ایک ہی خیال آ رہا تھا۔
کاش وہ ایک بار میرے سامنے آ جائے…
اچانک اس نے سر اٹھایا۔
اور پھر وہ ساکت رہ گیا۔
اس کے سامنے علماء کھڑی تھی۔
وہی چہرہ۔
وہی آنکھیں۔
وہی خاموشی۔
معاذ کی سانس جیسے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
دونوں کی نظریں ملیں۔
اور پھر دونوں نے ایک ہی وقت میں نظریں چرا لیں۔
معاذ نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
اس کے دل میں ایک ساتھ ہزاروں باتیں اٹھیں۔
وہ چاہتا تھا کہ اٹھے، اس کے پاس جائے، اسے اپنے سامنے دیکھ کر سب کچھ کہہ دے۔
کہ وہ کتنا ٹوٹ گیا ہے۔
کہ اس نے اسے کتنا یاد کیا ہے۔
کہ وہ ہر لمحہ اپنے کیے پر پچھتا رہا ہے۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر روئے، چیخ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرے۔
مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہل سکا۔
علماء نے اسے دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں نہ غصہ تھا، نہ انتقام۔
بس ایک ایسی تھکن تھی جو بہت کچھ سہنے کے بعد آتی ہے۔
معاذ کے لب کانپے۔
“علماء…”
وہ کچھ اور کہہ پاتا، اس سے پہلے علماء نے دھیرے سے کہا،
“میں نے تمہیں کتنا چاہا تھا، معاذ…”
معاذ کی آنکھیں دوبارہ نم ہو گئیں۔
علماء کی آواز میں درد تھا۔
“اتنا چاہا تھا کہ میں تمہارے لیے ہر چیز کرنے پر راضی تھی۔ تمہاری ایک خوشی کے لیے میں اپنی کتنی ہی خوشیاں چھوڑ سکتی تھی۔”
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی۔
“تمہاری وجہ سے مجھے بہت اذیت ہوئی۔ بہت کچھ سہنا پڑا۔ لیکن پھر بھی… میں تمہیں چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔”
معاذ نے نظریں جھکا لیںمیں نے تمہارے لیے ہر چیز چاہی تھی… تمہارے ساتھ ایک زندگی کا خواب دیکھا تھا۔”
اس کی آواز مزید بھاری ہو گئی۔
“لیکن تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟”
معاذ کے آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔
“دھوکا… فریب… اور خاموشی۔”
وہ اسے دیکھتی رہی۔
“جب تم مجھے چھوڑ کر جا رہے تھے، میں نے تمہیں کتنا روکا تھا نا؟”
معاذ نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں۔
وہ منظر جیسے دوبارہ اس کے سامنے آ گیا تھا۔علماء کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
“میں نے تمہیں روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔ تم سے کہا تھا کہ مت جاؤ… لیکن تم نے کیا کیا؟”
اس کی آنکھوں میں نمی اور گہری ہو گئی۔
“تم نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔ ایک بار بھی نہیں سوچا کہ تمہارے جانے کے بعد میں کس حال میں رہوں گی۔”
معاذ نے سر اٹھایا۔
“علماء…”مگر اس کی آواز جیسے اس تک پہنچی ہی نہیں۔
وہ بولتی رہی۔
“تمہاری وجہ سے میں نے اپنے بہت سے لوگوں کو دکھ پہنچایا۔ بہت سے فیصلے کیے، بہت کچھ برداشت کیا… صرف اس لیے کہ مجھے لگتا تھا تم بھی مجھے اتنا ہی چاہتے ہو جتنا میں تمہیں چاہتی ہوں۔”
اس نے ایک گہری سانس لی۔
“لیکن میں غلط تھی۔”
یہ الفاظ معاذ کے لیے کسی زخم کی طرح تھے۔
علماء نے دھیرے سے کہا،
“اب مجھے سمجھ آ گیا ہے کہ شاید تم نے مجھے کبھی اس طرح چاہا ہی نہیں تھا، جیسے میں تمہیں چاہتی تھی۔”
معاذ کے لبوں سے بے اختیار نکلا،
“ایسا نہیں تھا…”
علماء خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
“تو پھر کیا تھا، معاذ؟”
معاذ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ صرف رو سکتا تھا۔علماء کی آواز اب بہت دھیمی ہو گئی۔
“تم میری زندگی کا ایسا ملال ہو… جسے میں چاہ کر بھی اپنی زندگی سے الگ نہیں کر سکتی۔”
اس نے آنکھیں جھکا لیں۔
“تم نے میری زندگی برباد نہیں کی شاید… لیکن میرے اندر ایک ایسی کمی ضرور چھوڑ گئے ہو جسے میں ساری زندگی محسوس کروں گی۔”معاذ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
علماء نے آہستہ سے کہا،
“اور اب مجھے تمہارے اس جھوٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ نہ تمہاری وضاحت کی… نہ اپنے لیے کسی جواب کی۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر علماء نے آخری بات کہی۔
“اور رہی بات معافی کی…”اس کے لبوں پر ایک بےحد اداس مسکراہٹ آئی۔
“تو میں تمہیں بہت پہلے معاف کر چکی ہوں۔”
معاذ نے اسے دیکھا۔
علماء کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل میں نفرت نہیں۔
“مجھے تم سے کبھی نفرت ہو ہی نہیں سکی، معاذ۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
“تم سے نفرت کرنا میرے بس میں ہی نہیں تھا۔”
معاذ کے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔وہ چاہتا تھا کہ آگے بڑھ کر اسے روک لے۔حالات نے اسے توڑا تھا۔
کہ اس سے غلطی ہوئی تھی۔
مگر اس کے قدم جیسے زمین میں جم گئے تھے۔
اس نے بھیگی آنکھوں سے علماء کو دیکھا۔
“مجھے معاف کر دو…”
علماء نے کچھ نہیں کہا۔
بس اسے دیکھتی رہی۔
معاذ نے آنکھیں بند کیں۔اور جب چند لمحوں بعد دوبارہ آنکھیں کھولیں تو سامنے کوئی نہیں تھا۔
کمرہ خالی تھا۔
صرف اس کی اپنی سانسوں کی آواز باقی تھی۔
معاذ نے خالی جگہ کو دیکھا۔
وہ جانتا تھا علماء وہاں حقیقت میں موجود نہیں تھی۔وہ صرف اس کے ذہن کا ایک وہم تھی، ایک ایسی تصویر جو اس کے اندر جمع ہوتے دکھ، پچھتاوے اور یادوں سے بن گئی تھی۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
اچانک ایک پرانی یاد پوری شدت سے اس کے ذہن میں ابھری۔
کچھ عرصہ پہلے…
وہ دن جب علماء اس سے آخری بار ملی تھی۔
وہ دونوں کچھ دیر کے لیے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ علماء کی آنکھوں میں شکایت تھی اور معاذ کے دل میں بے شمار ایسی باتیں جنہیں وہ زبان پر نہیں لا پا رہا تھا۔
اس ملاقات کے دوران معاذ نے وہ حدود بھی پار کی تھیں جنہیں اسے کبھی پار نہیں کرنا چاہیے تھا۔
علماء کے چلے جانے کے بعد بھی وہ منظر اس کے ذہن سے نہیں نکلا تھا۔
لیکن زندگی آگے بڑھ گئی تھی۔
پھر ایک دن—
معاذ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔
سب کچھ اتنی اچانک ہوا کہ اسے کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو وہ شدید تکلیف میں تھا۔ چند دن علاج کے بعد ڈاکٹروں نے مزید ٹیسٹ کروائے۔
اور پھر وہ خبر آئی ۔۔۔
اسے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔
معاذ کئی لمحوں تک ڈاکٹر کے سامنے خاموش بیٹھا رہا۔کینسر۔
ایک لفظ تھا، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے سامنے اس کی پوری زندگی کھول کر رکھ دی ہو۔
وہ خاموشی سے ڈاکٹر کو دیکھتا رہا۔
ڈاکٹر مزید کچھ سمجھا رہا تھا، علاج، رپورٹس، اگلے مراحل… مگر معاذ کے کانوں میں کچھ صاف سنائی نہیں دے رہا تھا۔
اس کے ذہن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا۔
اگر میں مر گیا تو؟
اس نے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے تک اسے لگتا تھا کہ زندگی بہت لمبی ہے۔لیکن اب پہلی بار اسے احساس ہوا کہ “بعد میں” ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
وہ اسپتال کے کمرے میں اکیلا بیٹھا چھت کو دیکھتا رہا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کے ایک ایک منظر گزرنے لگا۔
وہ دن جب علماء سے پہلی بار ملا تھا۔
وہ دن جب اسے اس کی محبت کا یقین ہوا تھا۔
وہ لمحے جب علماء نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔
پھر وہ سب کچھ جو اس نے اس بھروسے کے ساتھ کیا۔
وہ خاموشی…
وہ جھوٹ…
وہ جدائی…
اور وہ آخری ملاقات۔
معاذ نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسے علماء کا چہرہ یاد آیا۔
پھر اچانک اسے اس کی وہ بات یاد آئی جو غصے اور بے بسی میں اس کے لبوں سے نکلی تھی۔
مر جاؤ معاذ تم مر جاؤ، تڑپ تڑپ کے مرو ۔ تُم بہت تڑپو گے۔
معاذ کا پورا وجود جیسے سن ہو گیا۔
اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“بددعا…”
لفظ اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
اس نے سر جھکا لیا۔
کیا یہ وہی درد تھا؟
کیا یہ اسی بددعا کا نتیجہ تھا؟
نہیں۔
اس نے فوراً خود کو روکا۔
نہیں…
وہ یہ کیسے کہہ سکتا تھا؟
بیماری کی حقیقت کو وہ اپنی غلطیوں یا کسی کی بددعا کا یقینی نتیجہ نہیں بنا سکتا تھا۔
لیکن اس وقت اس کا پچھتاوا اتنا شدید تھا کہ ہر چیز اسے اسی طرف لے جا رہی تھی۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔
“یا اللہ…”
اس کی آواز لرز گئی۔
آج اُسے اللہ یاد آرہا تھا۔
لیکن زندگی نے پہلی بار اسے بتایا تھا کہ انسان کے پاس ابھی تو ہوتا ہے، بعد میں کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
اس کا سینہ بھاری ہونے لگا۔اس نے آنکھیں بند کر لیں، مگر آنکھیں بند کرتے ہی ماضی کی تصویریں ایک ایک کرکے اس کے سامنے آنے لگیں۔
علماء کا چہرہ…
اس کی نم آنکھیں…
اس کے بھی کا وہ چہرہ جب وہ مر گیا تھا۔۔
صرف معاذ کی وجہ سے مرا تھا۔
اس کی وہ آواز، جس میں کبھی محبت ہوا کرتی تھی اور پھر صرف درد رہ گیا تھا۔
معاذ نے بے اختیار آنکھیں کھول دیں۔
“نہیں…”
اس نے خود سے کہا۔
“اب نہیں… میں مزید نہیں سوچ سکتا۔”
مگر سوچیں کہاں رکتی تھیں۔
کچھ دیر بعد اس کے والدین باہر سے واپس آ گئے۔ معاذ کو اس حالت میں دیکھ کر اس کی والدہ فوراً اس کے پاس آئیں۔
“معاذ… کیا ہوا؟”
معاذ نے جواب نہیں دیا۔
اس کے والد نے ڈاکٹر سے بات کی اور کچھ ضروری کاغذات مکمل کیے۔ ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ابھی کچھ مزید ٹیسٹ اور ابتدائی علاج ہوگا، جس کے لیے چند دن ہسپتال میں رہنا ضروری ہے۔
اگلے چند دن معاذ کے لیے جیسے وقت سے لڑنے کے دن تھے۔
کبھی دوا، کبھی ٹیسٹ، کبھی ڈاکٹرز کی آمد…
اور ہر بار جب ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوتا، معاذ کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہر جاتیں۔
وہجاننا چاہتا تھا کہ شاید کوئی اچھی خبر مل جائے۔
شاید کوئی راستہ ہو۔
شاید ابھی بہت وقت باقی ہو۔
لیکن ایک دن ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوا تو اس کے چہرے کی سنجیدگی پہلے سے مختلف تھی۔
اس نے کچھ دیر رپورٹس دیکھیں، پھر معاذ کے والدین کی طرف دیکھا۔
“میں آپ لوگوں سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔”
معاذ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
ڈاکٹر نے گہری سانس لی۔
“ہم نے علاج کی پوری کوشش کی ہے، لیکن بیماری کافی آگے بڑھ چکی ہے۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
معاذ کی والدہ نے فوراً پوچھا،
“لیکن ڈاکٹر صاحب… علاج تو ہو سکتا ہے نا؟”
ڈاکٹر چند لمحے خاموش رہا۔
“کچھ دن پہلے تک ہم امید کے ساتھ علاج آگے بڑھا رہے تھے، لیکن اب رپورٹس واضح ہیں۔ کینسر آخری مرحلے میں ہے۔”
معاذ کی انگلیاں چادر میں دھنس گئیں۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔
ڈاکٹر کی آواز اب بہت نرم تھی۔
“اب اس مرحلے پر ہم وہ علاج نہیں کر سکتے جس سے بیماری ختم ہو جائے۔”معاذ کے والد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“تو پھر…؟”
ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا،
“میرا مشورہ ہے کہ آپ اسے گھر لے جائیں۔”
یہ الفاظ معاذ کے کانوں میں جیسے گونج کر رہ گئے۔
گھر لے جائیں۔
یعنی اب ہسپتال کے پاس بھی اس کے لیے کچھ نہیں تھا۔
یعنی اب علاج ختم نہیں ہوا تھا…
بلکہ امید کا وہ حصہ ختم ہو گیا تھا جسے وہ علاج سمجھتا تھا۔
معاذ نے پہلی بار ڈاکٹر کی طرف سیدھا دیکھا۔
“ڈاکٹر… میرے پاس کتنا وقت ہے؟”
ڈاکٹر خاموش ہو گیا۔کچھ سوالوں کے جواب الفاظ میں نہیں دیے جا سکتے تھے۔
“ہم کوئی حتمی وقت نہیں بتا سکتے، معاذ۔ ہر مریض مختلف ہوتا ہے۔ ابھی آپ کو آرام، دواؤں اور اپنے گھر والوں کی ضرورت ہے۔”
معاذ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
“سمجھ گیا۔”
مگر وہ سمجھا نہیں تھا۔
وہ صرف سن رہا تھا۔
اور اپنے اندر ٹوٹ رہا تھا۔
گھر واپس آتے ہوئے گاڑی کی کھڑکی سے باہر سڑکیں تیزی سے پیچھے جا رہی تھیں۔
وہ خاموش بیٹھا تھا۔
اس کی والدہ بار بار اسے دیکھ رہی تھیں، مگر معاذ کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔
اس کے ذہن میں صرف ایک بات گردش کر رہی تھی۔
“اب کتنا وقت ہے؟”کبھی وہ سوچتا…
اگر میں نے اس دن علماء کی بات سن لی ہوتی تو؟اگر میں نے اسے دھوکا نہ دیا ہوتا؟
اگر میں نے اس کے آنسوؤں کو سمجھا ہوتا؟
اگر میں نے محبت کو کھیل نہ سمجھا ہوتا؟
اگر…
اگر…
اگر…
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
کتنے “اگر” تھے اس کی زندگی میں۔
اور کتنے ہی “بعد میں”۔مگر آج اسے پہلی بار سمجھ آیا تھا کہ “بعد میں” صرف ایک لفظ ہے، وعدہ نہیں۔
اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر گال پر بہہ گیا۔
اس نے فوراً چہرہ دوسری طرف کر لیا تاکہ والدین نہ دیکھ سکیں۔
مگر اندر سے ایک سوال بار بار اٹھ رہا تھا۔
اگر موت واقعی اتنی قریب ہو تو کیا اللہ مجھے معاف کرے گا؟
پھر علماء یاد آئی۔
اس کی وہ آنکھیں…
وہ آنسو…
وہ آخری درد…
اور اس کی بددعا۔
“اللہ تمہیں بھی کبھی وہ درد دے جس سے میں گزر رہی ہوں…”
معاذ کا دل زور سے دھڑکا۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
“یا اللہ…”
اس کی آواز بمشکل نکلی۔”میں نہیں جانتا یہ میری سزا ہے یا صرف ایک بیماری… اور میں یہ جاننے کے قابل بھی نہیں ہوں۔”
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
“بس… اگر میرے پاس تھوڑا سا وقت باقی ہے تو مجھے توبہ کا موقع دے دے۔”
وہ خاموش ہو گیا۔
پھر ایک اور خیال آیا۔
علماء کہاں ہوگی؟
کیا وہ خوش ہوگی؟
کیا وہ کبھی اسے یاد کرتی ہوگی؟
کیا اسے معلوم بھی ہے کہ وہ کس حال میں ہے؟
پھر اس نے خود ہی آنکھیں بند کر لیں۔
“نہیں…”اس نے خود کو روکا۔
“اسے کچھ بتانا ضروری نہیں۔”
مگر اگلے ہی لمحے دل نے سوال کیا—
اگر یہ وقت اس کی زندگی کا آخری حصہ ہے تو کیا وہ علماء کو ایک بار دیکھنا چاہے گا؟
جواب فوراً اندر سے آیا۔
ہاں۔
صرف ایک بار۔
صرف اتنا کہ وہ اس کے سامنے بیٹھ کر کہہ سکے—
“علماء… مجھے معاف کر دو۔” اگلے چند دن معاذ نے علماء کو ڈھونڈنے میں گزار دیے۔
اس نے کئی جگہوں پر پوچھا، پرانے نمبروں پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، ان لوگوں سے بھی معلومات لیں جو شاید اس کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔ مگر کوئی جواب نہیں ملا۔
علماء کہاں تھی، اسے معلوم نہیں تھا۔
اس کا گھر بھی اب وہاں نہیں تھا۔
اور نیپال کے حالات بھی دن بہ دن ایسے ہوتے جا رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا معمول بن گیا تھا۔ ہر کوشش کے باوجود معاذ تک علماء کی کوئی خبر نہیں پہنچی۔
وہ ہر رات یہی سوچ کر سو جاتا کہ شاید کل کوئی خبر مل جائے۔
مگر ہر صبح پہلے سے زیادہ خالی ہوتی۔
آج بھی وہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔
کھڑکی کے باہر شام اتر رہی تھی۔
کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی، مگر معاذ کئی گھنٹوں سے اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے میز پر دوائیں پڑی تھیں، پانی کا گلاس رکھا تھا اور ایک طرف وہ رپورٹس جنہوں نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔
اس نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں۔
“علماء…”
نام لبوں پر آیا تو دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
وہ کرسی سے اٹھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے کمرے کے دوسرے سرے پر کوئی کھڑا ہے۔
وہ رک گیا۔
اس کی نظریں وہیں جم گئیں۔
سفید لباس۔۔
جھکی ہوئی نظریں۔۔
وہی چہرہ۔۔
وہی آنکھیں۔۔
“علماء…؟”
اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا۔
مگر چند قدم بعد ہی وہ رک گیا۔
اس نے آنکھیں جھپکیں۔
سامنے کوئی نہیں تھا۔
صرف خالی کمرہ تھا۔
معاذ نے بے بسی سے ہنسنے کی کوشش کی۔
“تم یہاں نہیں ہو…”
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
“مجھے معلوم ہے۔”
وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر آہستہ سے واپس کرسی پر بیٹھ گیا۔
لیکن اس بار اس کے دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ اتر چکی تھی۔
اس نے میز پر رکھا پانی کا گلاس اٹھایا۔
ہاتھ کانپ رہا تھا۔
گلاس لبوں تک پہنچا ہی تھا کہ اچانک اس کے سینے میں شدید درد اٹھا۔
اس نے گلاس فوراً میز پر رکھ دیا۔
“آہ…”
اس کا ہاتھ سینے پر جا ٹھہرا۔
سانس بھاری ہونے لگی۔
وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا، مگر جسم نے ساتھ نہیں دیا۔
اگلے ہی لمحے اسے شدید کھانسی آئی۔
ایک بار۔۔
پھر دوسری بار۔۔۔
اور تیسری بار کھانستے ہی اس کے ہونٹوں پر خون آ گیا۔
معاذ چند لمحے ساکت رہ گیا۔
اس نے اپنی ہتھیلی دیکھی۔
سرخ خون۔
اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔
۔”یا اللہ
وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔
پھر ایک اور شدید کھانسی آئی اور اس بار خون زیادہ تھا۔
کرسی ایک طرف سرک گئی اور معاذ زمین پر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔
آواز سن کر باہر موجود اس کی والدہ فوراً کمرے میں آئیں۔
“معاذ!”
وہ چیخ اٹھیں۔
معاذ نے سر اٹھانے کی کوشش کی، مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔
اس کے والد بھی فوراً اندر پہنچے۔
“کیا ہوا اسے؟”
“خون… معاذ کو خون آ رہا ہے!”
والد نے فوراً اسے سہارا دیا۔
“بیٹا، آنکھیں کھولو۔ معاذ!”
معاذ نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔
اس کے ہونٹوں پر اب بھی خون کے آثار تھے۔
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔
صرف ایک نام زبان تک آیا۔
“علماء…”
پھر اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
“نہیں بیٹا، آنکھیں بند مت کرو!”
اس کے والد کی آواز لرز گئی۔
چند ہی لمحوں میں اسے گاڑی میں ہسپتال لے جایا گیا۔
راستے بھر اس کی والدہ اس کا ہاتھ تھامے دعائیں پڑھتی رہیں۔
اور معاذ نیم بے ہوشی کی حالت میں صرف ایک ہی بات سوچتا رہا—
کے کوئی جاکے علماء کو بتائے آج وہ مر رہا تھا۔تڑپ تڑپ کے مر رہا۔
آج بددعا نے اثر کر دیا تھا ۔ہسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے معاذ کو فوراً ایمرجنسی میں منتقل کر دیا۔
اس کے والدین باہر کھڑے تھے۔ ماں مسلسل دعائیں پڑھ رہی تھیں جبکہ اس کے والد بار بار ایمرجنسی کے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر تیزی سے باہر آیا۔
“مریض کے ساتھ کون ہے؟”
“ہم… ہم اس کے والدین ہیں۔”
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے پوچھا،
“اسے پہلے سے کینسر کی تشخیص ہے؟”
اس کے والد نے فوراً سر ہلایا۔
“جی… آخری اسٹیج بتایا ہے۔ چند دن پہلے ہی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اب گھر لے جائیں۔”
ڈاکٹر نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
“اور آج سے پہلے ایسی حالت ہوئی تھی؟ خون کی الٹی؟”
“نہیں… آج پہلی بار اتنا خون آیا ہے۔”
ڈاکٹر نے کچھ لمحے سوچا، پھر کہا،
“ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس کی حالت بہت نازک ہے۔ آپ خود کو ذہنی طور پر تیار رکھیں۔”
معاذ کی والدہ کے قدم لڑکھڑا گئے۔
“ڈاکٹر صاحب… میرا بیٹا بچ جائے گا نا؟”
ڈاکٹر نے کوئی جھوٹی امید نہیں دلائی۔
“میں ابھی کچھ حتمی نہیں کہہ سکتا۔”
وہ دوبارہ اندر چلا گیا۔
اندر معاذ کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔
مشینوں کی آوازیں مسلسل کمرے میں گونج رہی تھیں۔
اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔
اسے کچھ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اس کے سینے میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔
اس نے ہلنے کی کوشش کی مگر جسم نے ساتھ نہیں دیا۔چند لمحوں بعد مشین کی آواز بدل گئی۔
ڈاکٹرز فوراً اس کے گرد جمع ہو گئے۔
“بلڈ پریشر گر رہا ہے۔”
“جلدی کریں۔”
“معاذ! آنکھیں کھولو!”
مگر اس بار معاذ جیسے بہت دور جا چکا تھا۔
اس کے ذہن میں آخری بار علماء کا چہرہ آیا۔پھر اس کی سانس آہستہ آہستہ مدھم پڑ گئی۔
کوشش جاری رہی۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے ایک طویل خاموشی کے بعد مشین کی طرف دیکھا۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔
اور پھر باہر کھڑے والدین کی طرف قدم بڑھائے۔
معاذ کی والدہ ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئیں۔ڈاکٹر نے بہت دھیمی آواز میں کہا،
“ہم نے پوری کوشش کی… لیکن ہم اسے بچا نہیں سکے۔”
ان کی دنیا جیسے وہیں رک گئی۔
معاذ کے والد دیوار کا سہارا لے کر کھڑے رہے۔
اور اندر، ایک کمرے میں، معاذ کی زندگی خاموش ہو چکی تھی۔
اسے یہ کبھی معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی بیماری کسی بددعا کا نتیجہ تھی یا نہیں۔
لیکن اپنی آخری گھڑی میں وہ اسے اپنی غلطیوں کی سزا سمجھ کر تڑپتا رہا تھا۔
اور علماء…
وہ اس وقت کہاں تھی، اسے کچھ خبر نہیں تھی۔
آج اُسکا محبوب ختم ہو چکا تھا۔ پر وہ محبوب محبوب تھا ہی نہیں کبھی۔ وہ تو قاتل بن گیا تھا۔ وہ بھی اُسکے سگے بھائی کا۔
آج معاذ شاہ نے اپنی آخری سانس لی تھی آج معاذ شاہ ختم ہو چکا تھا۔

اس کہانی کا یہاں اختتام ہوگیا ہے یا ایک نیا آغاز ہوگایہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

,********************,********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *