HURF E HAYA BY LAIBA MAQBOOL AHMED EPISODE 4.


ناول کا نام ۔حرفِ حیا
قلم از۔لائبہ
قسط نمبر —04
کک۔۔کک۔ کیا کہا تم نے امامہ پوری طرح حیران تھی ۔
ہمم۔۔ یہی کہ زوئی اوراضلان کی بہت جلد شادی ہونے والی ہے ۔ اور سب لوگ اوپر اسی لئے تو جمع ہیں۔
ہمم ۔۔کیا ؟ تم – اضلان غصے میں ایان کی طرف بڑھا ۔ اور زویا جو ابھی تک اس شاک سے باہر نہیں نکل پائی تھی وہ اب بھی حیرت زدہ نظروں سے اضلان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
کیا یہ سچ ہے؟زویا نے اضلان سے پوچھا ۔
ہمم۔۔وہیں امامہ حیرت سے ان سب کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
تم اپنی زبان منھ میں نہیں رکھ سکتے تھے کیا؟
کیا مطلب تم نے زویا کو ابھی تک کچھ نہیں بتایا تھا ۔
نہیں ۔ کیا؟کیا مطلب تم زوئی کو پسند کرتے ہو۔ ہمم۔۔ میں۔۔نن۔۔نہیں۔ میرا مطلب ہاں تھا ۔اضلان گھبراگیا ۔اور وہی امامہ اضلان کو غصہ زدہ نظروں سے گھوررہی تھی ۔
یہی بات تم تایا ابو کو پہلےہی بتا دیتے تو وہ کم از کم میری شادی کی جلدی تو ناں کرتے ۔
تو پھر کیا کر لیتی تم- کم از کم مہلت تو ملتی مجھے۔ اب جیسے کہ تایا ابو کا کہنا ہے کہ شایان انکا لاڈلہ بیٹا ہے تو کیا پتہ وہ شادی جلدی کرنے کی ضد کریں ۔
اور اگر تم لوگوں نے تایا ابو سے رشتے کی بات پہلے کی ہوتی تو کم ازکم تایا ابو کے پاس انہیں ٹالنے کا کوئی تو بہانہ ہوتا ۔امامہ غصے میں اضلان پر چلا رہی تھی اور باقی سب بس خاموشی سے اسے سن رہے تھے ۔
زویا بیٹا ،اضلان ایان اور امامہ بیٹا صاحب صرف آپ لوگوں کو اوپر بلا رہے ہیں ۔شیبہ نے ان چاروں کو فرقان کاپیغام دیا۔
چلو ۔چلو اوپر جا کر دیکھتے ہیں کہ کیافیصلہ ہوا ہے؟ایان یہ کہہ کر سب سے آگے بڑھا اور سیڑھیاں چڑھنےلگا۔دعاکرو کہ سب مان جائیں۔
پھر میری شادی نہیں ہوگی۔ کیا ؟زویا نے حیرانی سے امامہ کی طرف دیکھا ۔
ایان نے دروازے پر دستک دی ۔ آجاؤ ۔
امامہ کہاں ہے؟ فرقان نے پریشان لہجے میں پوچھا۔
. جی تایا ۔میں یہاں ہوں ۔ امامہ زویا اور ایان کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد کمرے میں داخل ہوئی اور پھر آخر میں اضلان –
ہمم – – بیٹھو – طارق نے ان چاروں کو بیٹھنے کا کہا ۔
نہیں ابو میں ٹھیک ہوں ۔جی چچا ۔جی ماموں شکریہ۔ امامہ کے بیجھے ہی ان تینوں نےبھی بیٹھنے سے انکار کر دیا ۔
ہمم — امامہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے ۔
کمرے میں تھوڑی خاموشی کے بعد فرقان نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
کہ اگر تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تو ہم ۔ ہم زویا کے لئے وہاں رشتہ بھیجیں گے۔
کیا ؟ یہ بات سنتے ہی وہ چاروں زوردار آواز میں چلائے ۔
اور اضلان نے اپنے ماں باپ کی طرف دیکھا ۔
کیا ہوا؟ ہمم۔کیا ہوا ۔ کک۔۔کک۔۔کچھ نہیں ۔ ان چاروں نے نفی میں سر ہلایا ۔
یہ بات تو سچ ہے کہاس میں ہماری بے عزتی بھی ہوگی اور ان کی بھی۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہم سے اتنی پرانی دوستی توڑ دیں ۔فرقان نے پرانی پر زور دیا ۔
یا پھر وہ زویا کے رشتہ سے انکار کر دیں ۔ وُہ ان میں سے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔
کیا ؟ پر وہ آپ سے دوستی کیوں توڑیں گے تایا ابو ۔وہ تو آپ کے بہت پرانےدوست ہیں نا۔
ہممم۔۔ یہ تو ہے پر مجھے خود ہی بہت شرمندگی ہوگی انکارکرتے ہوئے کیونکہ ریحان نے زندگی میں پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا تھا ۔ اور مجھے افسوس ہو رہا کہ میں اُسے کچھ نہیں دے پاؤں گا ۔
ابو۔۔ امامہ پوری طرح بےبس تھی۔
ابو آپ زویا کا رشتہ رہنے دیں۔ آپ انہیں بلالیں پرسوں۔ پر میری ایک شرط ہے ۔
امامہ کی بات سنتے ہی سب خوش ہو گئے۔ لیکن اسکی شرط والی بات سن کر سب خاموش ہوگئے ۔
کیا شرط ہے تمھاری بیٹا
طارق امامہ کی طرف بڑھا- یہی کہ شادی میری گریجوایشن کے بعد ہوگی ۔اور گر یجوایشن سے پہلے مجھے کوئی بھی شادی کرنے کے لئے فورس نہیں کرے گا ۔
از اٹ اوکے ۔ سو آل رائٹ ۔(Is it ok-so Alright)۔ ورنہ ۔۔۔۔نہیں۔۔نہیں۔ ٹھیک ہے۔

اس سے پہلے کہ امامہ کچھ اور کہتی ۔اقصٰی نے فوراً ہامی بھر دی۔۔
چلو شکر ہے کہ امامہ مان گئی۔ اب بھائی صاحب آپ مجھے زویا دے دیں۔ مبین نے فرقان کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ کر کہا۔
کیا مطلب ہے مبین ؟
یہی کہ میں زویا کا ہاتھ اضلان کے لئے مانگنا چاہتی ہوں ۔
کیا؟ زیبا مبین کی طرف حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
جی بھائی میں نے تو زویا اور امامہ کو بچپن سے ہی اپنی بیٹیاں مانا ہے ۔ اور میں نے یہ بہت پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ میں امامہ یا زویا میں سے ایک کو اپنی بہو بناؤں گی ۔اب امامہ کا فیصلہ تو قدرت نے کر دیا تو آپ زویا مجھے دے دیں۔
مبین کی یہ بات سن کر زیبا اور فرقان کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔
فرقان نے زویا کی طرف دیکھا ۔
زویا نے فرقان کی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہِلا دِیا۔ اور پھر اس نے زیبا کی طرف دیکھا ۔
جیسے آپکی مرضی – زیبا نے زویا کی ہامی دیکھ کر فیصلہ فرقان پر چھوڑ دیا۔
تو پھر ٹھیک ہے۔ زویا آج سے تمھاری ہوئی۔
ہا۔ ۔۔شکریہ ماموں اضلان فرقان کی طرف بڑھا۔
کوئی بات نہیں بیٹا ۔
شکریہ بھائی جان-
کوئی بات نہیں ۔ فریحہ تم خوش ہوناں ۔
جی بھائی۔ میں تو آپ لوگوں کی خوشی میں خوش ہوں۔
فریحہ نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے ۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اُس نے مجھے تم جیسی بہنیں اور فرمانبردار اولاد دی ۔
فرقان نے ان سب کی طرف دیکھ کر کہا۔
ہمم – – چلو چلو سب اُھو آج سے ہی سب کام پر لگ جاؤ۔ ابھی گھر کی صفائیاں بھی تو کرنی ہیں ناں۔مبین اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور ساتھ میں اقصیٰ اور زیبا کو بھی کھڑا کر لیا۔
جی ۔ وہ دونوں فوراً ہی اپنی جگہ سے اٹھ گئیں۔ پہلے شام کا کھانا تو بنا لیں۔
جی بھابھی ۔چلو آؤ ۔یہ کہتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔
اسی طرح کرتےسب بڑے کمرے سے چلے گئے۔
اب کمرے میں صرف وہ چاروں ہی بچے تھے۔
امامہ – اضلان نے امامہ کو بُلایا ۔
۔۔ ہمم –
تمھارا بہت بہت شکریہ اگر تم راضی نہ ہوتی تو-
اٹس او کے ۔اضلان بھائی –
ہممم ۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس کا رشتہ کس سے ہو رہا ہے۔
مجھے تو بس شادی کے فنکشن انجوائے کرنے ہیں۔
اچھا بچو۔ تمہاری بھی بار آئے گی ۔
پھر میں تم سے پوچھوں گی۔زویا نے کشن اٹھا کر ایان کی طرف پھینکا۔پر وہ جا کر اضلان کو لگا۔
آ ۔۔زویا۔
ازلان نے وہی کو چن اٹھا کر دوبارہ زویا کی طرف پھینکا۔
ان لوگوں کو اپس میں باتیں کرتے کرتے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔
آپی ۔رات کے اٹھ بج چکے ہیں۔اب اس نے دروازہ کھولا اور انہیں وقت بتایا۔
کیا؟آٹھ ۔
وہ چاروں زور سے چلا ئے۔
ہمم۔۔اور اپ نے کمرے کا یہ کیا حال کیا ہوا ہے۔شیبا ابرش کے پیچھے ہی کمرے میں ائی تھی اور کمرے کا حال دیکھ کر پریشان ہو رہی تھی۔
آنٹی۔ہم صاف کر دیں گے۔
نہیں نہیں زویا بیٹا تم لوگ جا کر کھانا کھاؤ میں کر لوں گی۔
ہمم۔زویا چپ کر کے کمرے سے اٹھی اور باہر نکل گئی۔
چلو اب ہم بھی چلتے ہیں۔امامہ نے ان چاروں کی طرف دیکھ کر کہا۔
انشاءاللہ باقی ائندہ میں شمار رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *