SAAT RANG E HAYAT BY HIFZA MIRZA EPISODE 10.


سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 10

 

ایک وسیع و عریض اور پُروقار ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہال کی چھت پر روشنیاں جگمگا رہی تھیں جبکہ سامنے ایک بڑا سا اسٹیج بنایا گیا تھا، جس کے عقب میں بڑی اسکرین نصب تھی۔ اسکرین پر اسی پروجیکٹ کا لوگو نمایاں تھا جس کے لیے آج مختلف بڑی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ ہونے جا رہا تھا۔

اسٹیج کے سامنے قطار در قطار کرسیاں لگی ہوئی تھیں، جہاں شہر کی معروف کمپنیوں کے اونرز، بڑے بزنس مین اور مختلف اداروں کے نمائندے بیٹھے تھے۔

ہال کے ایک جانب میڈیا کے لیے الگ جگہ مختص تھی۔ کیمرہ مین اپنے کیمرے سنبھالے مختلف کمپنیوں کے اونرز اور مہمانوں کی تصاویر لے رہے تھے، جبکہ صحافی اپنے نوٹس اور کیمرے کے ساتھ ہر لمحے کو ریکارڈ کرنے میں مصروف تھے۔

سامنے والی نشستوں پر اس پروجیکٹ کو لانچ کرنے والی کمپنی کے اونرز اور اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اس بڑے پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا اور آج مختلف کمپنیوں کی پریزنٹیشنز سننے کے بعد فیصلہ کرنا تھا کہ آخر یہ پروجیکٹ کس کمپنی کو دیا جائے گا۔

ہال کے ماحول میں ایک عجیب سا دباؤ اور سنجیدگی تھی۔

ہر کمپنی کا اونر اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھا۔۔۔ ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں مصروف تھے۔

اسٹیج پر موجود مائیک، بڑی ایل ای ڈی اسکرین، روشنیاں اور سامنے بیٹھے بڑے کاروباری نام اس پورے ماحول کو مزید پُرشکوہ بنا رہے تھے۔

اور اب سب کی نظریں اسٹیج کی جانب تھیں۔

کیونکہ چند ہی لمحوں بعد اس پروجیکٹ کے لیے پہلی کمپنی کی پریزنٹیشن شروع ہونے والی تھی۔

مگر ایک کمپنی کی نشست پر…

پری ابھی تک موجود نہیں تھی۔۔۔۔۔

زرنش پہلے ہی وہاں پہنچ چکی تھی۔ اس نے فوراً پری کو کال ملائی، مگر پری نے فون نہیں اٹھایا۔ زرنش نے دوبارہ کال کرنے کے بجائے وہیں رک کر انتظار کرنا مناسب سمجھا۔

ادھر پری اپنی سیکریٹری کو زرنش کے بارے میں بتا چکی تھی، اسی لیے کچھ ہی دیر بعد سیکریٹری زرنش کے پاس پہنچ گئی۔

“آپ زرنش میم ہیں؟” اس نے مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔

“جی، ہاں۔”

“آپ میرے ساتھ آئیے۔”

وہ زرنش کو اپنے ساتھ لے کر ہال کے اندر چلی گئی۔ ہال میں ایک طرف مختلف کمپنیز کے نمائندے اور بزنس سے وابستہ افراد موجود تھے، جبکہ دوسری جانب میڈیا کے لوگ اپنے کیمروں کے ساتھ موجود تھے۔

سیکریٹری نے زرنش کو وہیں روکتے ہوئے کہا، “اب آگے آپ خود سنبھال لیں گی۔”

زرنش نے اطمینان سے سر ہلایا۔ “ہاں، تم بے فکر ہو جاؤ۔”

پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا، اس نے فوراً پوچھا، “اور پری کہاں ہے؟”

“وہ تھوڑی دیر تک آ جائیں گی۔”

زرنش نے اثبات میں سر ہلایا اور میڈیا کی جانب بڑھ گئی۔

وہاں پہلے ہی کئی کیمرے لگے ہوئے تھے۔ زرنش نے اپنے ساتھ موجود میڈیا پرسن کو اشارہ کیا تو اس نے فوراً کیمرہ سیٹ کیا۔ چند ہی لمحوں میں ریکارڈنگ شروع ہو گئی اور زرنش اپنی جگہ چیئر پر بیٹھ گئی۔۔

آرزو نے ٹائم دیکھتے ہوئے پری میم ابھی تک نہیں آئیں؟”

ہنی نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
“پریزنٹیشن شروع ہونے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے ہیں۔ پری کہاں رہ گئی؟”

آرزو نے پری کو کال ملائی۔نمر Call Busy

آرزو کے ماتھے پر ہلکی سی شکن نمودار ہوئی۔۔۔۔

اچانک ہال کے دروازے کھلے۔

ایک دوسری کمپنی کی ٹیم اندر داخل ہوئی۔

میڈیا کے کیمرے فوراً ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ فلیشز چلنے لگیں۔

ہنی اور رومی نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔

ہنی”یہ کون ہیں؟”
آرزو نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا:
“یہ شاہ کمپنی کے اونر ہیں۔”

ہنی کے چہرے پر حیرت ابھری۔۔”یہ وہی کمپنی ہے جس کا تم ذکر کر رہی تھیں؟”
آرزو نے سر ہلایا۔۔
“ہاں۔ پاورفل کمپنی ہے۔ اب تک ہر بڑے مقابلے میں یہی جیتتے آئے ہیں۔ پہلے بیرونِ ملک کام کرتے تھے، اب پاکستان میں بھی اپنا بزنس شروع کر چکے ہیں۔ آج کل ہر کوئی ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔”

ہنی نے پریشانی سے آرزو کی طرف دیکھا۔”تو پھر پری کے لیے یہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔”

آرزو کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔۔
“ہماری پری میم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے ضرور کچھ ایسا سوچا ہوگا جس کے بارے میں ہم نے ابھی سوچا بھی نہیں۔”

رومی نے کہا ۔ اگر مقابلے کے دوران ان کے ڈرافٹ کی کاپی کیے جانے کا معاملہ سامنے آ گیا، تو پری کی پوری پریزنٹیشن متاثر ہو سکتی تھی۔
آرزو اور ہنی نے رومی کی بات سنتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا، جبکہ ہنی فوراً بول اٹھی۔

ہنی نے پُراعتماد انداز میں کہا۔”ان شاء اللہ پری ہی جیتے گی۔”

رومی نے بھی مسکرا کر کہا:”وہ کسی سے کم نہیں ہے۔”

آرزو نے ایک بار پھر دروازے کی طرف دیکھا۔

پری ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔۔
جبکہ ہنی نے وقت پر نظر ڈالتے ہوئے کہا،
“میں دیکھ کر آتی ہوں۔”

یہ کہتے ہوئے وہ فوراً نیچے جانے کے لیے نکل گئی۔ باہر آ کر اسے معلوم ہوا کہ لفٹ خراب ہو چکی تھی، اس لیے وہ سیڑھیوں کے ذریعے نیچے اتر آئی۔

ہال میں پہنچ کر اس نے نظریں دوڑائیں۔ اس نے ہر طرف پری کو تلاش کیا، مگر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔ ہنی نے فوراً اس کا فون ملایا، لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

وہ کچھ دیر پریشان کھڑی رہی، پھر واپس اوپر آ گئی۔

“پری نیچے ہے ہی نہیں،” ہنی نے واپس آتے ہی بتایا۔

یہ سنتے ہی رومی اور آرزو بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں۔ دونوں کے چہروں پر پریشانی نمایاں ہو گئی تھی، کیونکہ پری کی باری اگلی تھی اور پریزنٹیشن پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔۔۔
رومی اور ہنی نے ایک ساتھ آرزو کی طرف دیکھا۔ ان دونوں کی نظریں خود پر پڑتی دیکھ کر آرزو قدرے حیران ہوئی۔

“کیا ہوا؟”

رومی نے سنجیدگی سے کہا،
“اگر پری نہیں ہے تو تمہیں پریزنٹیشن دینی پڑے گی۔”

آرزو نے حیرت سے دونوں کو دیکھا۔
“میں؟ لیکن میں کیسے دے سکتی ہوں؟”

ہنی نے فوراً کہا،
“کیوں؟ تم بھی تو پریزنٹیشن دے سکتی ہو۔”

آرزو نے بے یقینی سے دونوں کو دیکھا، جبکہ رومی اور ہنی بھی اپنی اپنی جگہ پریشان تھیں۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور پری کا ابھی تک کوئی پتا نہیں تھا۔

پری نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی۔

لفٹ میں پھنسے انہیں تقریباً پندرہ منٹ گزر چکے تھے، مگر لفٹ ابھی تک بحال نہیں ہوئی تھی۔ اس کے پاس پریزنٹیشن شروع ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی تھے۔


اس نے فوراً اسپیکر بٹن دبایا اور سیکیورٹی گارڈ سے پوچھا،
“اور کتنا وقت لگے گا؟”

دوسری جانب سے جواب آیا،
“میڈم، ہم کوشش کر رہے ہیں۔”

پری نے گہری سانس لی۔

اس کے ساتھ موجود وہ لڑکی بھی مسلسل پریشان ہو رہی تھی۔ وہ کبھی پری کو دیکھتی اور کبھی بند دروازے کی طرف۔

پری نے موبائل کی ٹارچ سے۔ لفٹ کے دروازے کا جائزہ لینے لگی۔دونوں دروازوں کے درمیان کے قریب ایک معمولی سا خلا دکھائی دیا۔۔۔

وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی، پھر اطمینان سے اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔

اب اسے انتظار کرنے کے بجائے خود کوئی راستہ تلاش کرنا تھا۔

اس نے اپنے پاس موجود سامان پر ایک نظر ڈالی۔ اس کے پاس صرف اپنی اسٹک اور فون تھا۔۔۔ پھر اس کی نظر ساتھ کھڑی لڑکی کے بیگ پر پڑی۔۔۔۔

“تمہارے بیگ میں کچھ ایسی چیز ہے جو ہماری مدد کر سکے؟”۔

لڑکی نے حیرت سے پری کی طرف دیکھا۔

“سخت چیز؟”

پری نے اثبات میں سر ہلایا۔

“ہاں۔ جو مضبوط ہو۔”

لڑکی نے فوراً اپنا بیگ کھولا اور پری کے سامنے کر دیا۔

پری نے جھک کر بیگ کے اندر موجود چیزوں کا جائزہ لیا۔

“تم یہ ساری چیزیں باہر نکال دو۔”

لڑکی نے بیگ الٹا کر اس میں موجود سامان ایک طرف نکالنا شروع کیا۔

پرفیوم کی بوتل، میک اَپ کا سامان، کچھ ضروری چیزیں اور روزمرہ استعمال کی کئی اشیاء ایک ایک کر کے باہر آ گئیں۔

پری خاموشی سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھی۔

وہ کسی چیز کو بے مقصد نہیں دیکھ رہی تھی۔

اس کے ذہن میں صرف ایک سوال تھا—

ان چیزوں میں سے کون سی چیز اس وقت واقعی کام آ سکتی ہے؟۔۔۔۔

پری نے سب سے پہلے پرفیوم کی بوتل اٹھائی۔ شیشے کی بوتل کافی موٹی تھی، اس لیے پری نے اسے اچھی طرح جانچ کر دیکھا۔
پری نے دوسری بوتل اٹھائی۔ وہ فاؤنڈیشن کی بوتل تھی۔ اس نے اسے بھی غور سے دیکھا۔ اس کا شیشہ بھی خاصا موٹا اور مضبوط تھا۔

پری نے دونوں بوتلیں اپنے پاس رکھ لیں اور باقی سامان ایک طرف کر دیا۔

پھر وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے لڑکی کی طرف دیکھا۔

“کیا تم میری مدد کرو گی؟”

لڑکی نے فوراً سر ہلا دیا۔

مگر اس کی حالت اب کچھ خراب ہونے لگی تھی۔ لفٹ کے اندر گھٹن اور گرمی بڑھتی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے وہ پسینے سے بھیگ رہی تھی اور مسلسل بےچینی سے سانس لے رہی تھی۔

پری کے ماتھے پر بھی پسینے کے چند قطرے نمودار ہو چکے تھے، مگر اس کے چہرے پر اب بھی وہی سنجیدگی اور سکون تھا۔

اس نے لڑکی کو دیکھتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا،
“گھبرانے کی ضرورت نہیں۔”

پھر اس نے دروازے کے قریب موجود معمولی سے خلا کی طرف اشارہ کیا۔

“یہاں ایک چھوٹا سا خلا ہے۔ میں کوشش کروں گی کہ دروازہ تھوڑا سا پیچھے ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو تم نے فوراً یہ بوتل درمیان میں رکھ دینی ہے، تاکہ دروازہ دوبارہ بند نہ ہو۔”

لڑکی نے پری کی بات غور سے سنی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

“ٹھیک ہے۔”

اب اسے سمجھ آ چکی تھی کہ پری کیا کرنا چاہ رہی تھی۔

پری نے ایک بار پھر دروازے کی طرف دیکھا، پھر اطمینان سے اپنی اسٹک سنبھالی۔

اس کے چہرے پر خوف کا کوئی نشان نہیں تھا۔

وہ بس اپنے اگلے قدم کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔

پری نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی۔

اب صرف دس منٹ باقی تھے۔

یعنی تب تک دو پریزنٹیشن ہو چکی ہوں گی، اور اس کے بعد ان کی باری آنے والی تھی۔

پری نے بغیر کسی گھبراہٹ کے ایک گہری سانس لی۔

“بسم اللہ۔”

وہ فوراً حرکت میں آئی۔ اس نے اپنی اسٹک سنبھالی اور دروازے کی طرف متوجہ ہوئی۔پری نے اپنی اسٹک کی مدد سے اسے دروازے کے کنارے میں پھنسایا اور آہستہ سے دروازے کو پیچھے کی جانب دھکیلا۔ پھر اس نے ایک ہاتھ دروازے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسٹک کو ایک طرف کر دیا۔

دونوں ہاتھ دروازے پر جما کر اس نے پوری قوت سے ایک پٹ کو پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔

چند لمحوں کی کوشش کے بعد دروازہ معمولی سا پیچھے ہوا۔

“اب!”

پری نے فوراً لڑکی سے کہا۔

لڑکی نے جلدی سے بوتل درمیان میں رکھنے کی کوشش کی، مگر گھبراہٹ میں بوتل ذرا ٹیڑھی ہو گئی۔
تھوڑا سا ہلنے پر دروازے دوبارہ آپس میں بند ہونے لگے، جس کی وجہ سے پری کے دونوں ہاتھ ان کے درمیان آ گئے۔
جس کی وجہ سے اس کے ہاتھوں پر چوٹ لگی تھی۔

پری نے فوراً اسے دیکھا۔

“کوئی بات نہیں۔ گھبراؤ نہیں۔”

اس کے لہجے میں اب بھی وہی اطمینان تھا۔
۔ ایک ہاتھ سے دروازے کو قابو میں رکھتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے پھر سے زور لگایا۔۔۔

دروازہ دوبارہ معمولی سا پیچھے ہوا۔

“اب بوتل رکھو۔”

لڑکی نے فوراً بوتل کو مناسب جگہ پر جما دیا۔

اس بار بوتل اپنی جگہ ٹھہر گئی۔

دروازے کے دونوں حصوں کے درمیان ایک معمولی سا فاصلہ بن گیا۔

لڑکی نے حیرت سے اس خلا کو د یکھنے ۔۔

وقت مسلسل گزر رہا تھا۔

اور اب انہیں صرف لفٹ سے باہر نکلنا نہیں تھا…

پریزنٹیشن تک بھی وقت پر پہنچنا تھا۔۔۔۔
لڑکی کی نظر پری کے ہاتھوں پر گئی۔ بوتل پہلی کوشش میں اپنی جگہ ٹھیک سے نہیں رک سکی تھی اور اس دوران پری کے دونوں ہاتھ دروازے کے قریب آ گئے تھے۔
پری کے ہاتھوں پر دستانے ہونے کی وجہ سے اسے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ اسے کتنی چوٹ لگی تھی۔
لڑکی نے پریشان ہو کر کہا،
“سوری…”

پری نے اسے دیکھا اور بالکل پرسکون لہجے میں بولی،
“کوئی بات نہیں۔ تم نے اچھی کوشش کی۔”

پھر اس نے بوتل کی طرف دیکھا اور کہا،
“اب دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔ دوسری بوتل بھی تیار رکھو۔”

لڑکی نے فوراً سر ہلا دیا۔

پری نے دوبارہ اپنی توجہ دروازے کی طرف مرکوز کی اور پوری احتیاط سے کوشش کی۔ جیسے ہی دروازے میں معمولی سا فاصلہ بنا، اس نے فوراً کہا،

“اب!”

لڑکی نے اس کی ہدایت کے مطابق دوسری بوتل بھی وہاں رکھ دی۔

چند لمحوں بعد دروازے کے درمیان پہلے سے زیادہ فاصلہ پیدا ہو چکا تھا۔

دونوں نے اس خلا کو دیکھا۔

اب اتنی جگہ بن گئی تھی۔۔وہ آسانی سے اپنا ہاتھ باہر نکال سکتی تھی۔ درمیان میں اتنی جگہ ضرور تھی کہ چھوٹی چیزیں آگے پیچھے کی جا سکتی تھیں، مگر اتنی نہیں کہ کوئی انسان وہاں سے گزر سکے۔

پری نے پہلے خود راستہ دیکھا، پھر اس لڑکی کی طرف متوجہ ہوئی۔

اس کی نظر لڑکی کے جسمانی حلیے پر گئی تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کے لیے اس تنگ جگہ سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

پری نے فوراً فیصلہ کیا۔۔۔
“گھبراؤ نہیں۔ میں پہلے تمہیں باہر نکالوں گی۔”

لڑکی نے حیرت سے پری کی طرف دیکھا۔

پری نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“میں دروازے کے قریب جاؤں گی اور اسے جتنا ممکن ہو سکے کھلا رکھنے کی کوشش کروں گی۔ تمہیں جیسے ہی جگہ ملے، فوراً باہر نکل جانا ہے۔”

لڑکی کے چہرے پر تشویش ابھر آئی۔

“لیکن آپ خود اس میں پھنس سکتی ہیں!”

پری نے بغیر کسی گھبراہٹ کے اسے دیکھا۔

“نہیں۔ تم بس وہی کرو جو میں کہہ رہی ہوں۔”

اس کے لہجے میں اتنا یقین تھا کہ لڑکی مزید کچھ نہ کہہ سکی۔

لفٹ کے پاس صرف سیکیورٹی کے دو اہلکار موجود تھے، جو مسلسل لفٹ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کے علاوہ راہداری تقریباً خالی تھی۔

اندر پری اور وہ لڑکی اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں، جبکہ باہر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی اس صورتحال کو سنبھالنے میں مصروف تھے۔

وہ جانتی تھی کہ گھبرانے سے وقت واپس نہیں آنا تھا۔

اس لیے اس نے خاموشی سے اگلا قدم سوچا اور لڑکی کی طرف متوجہ ہوئی۔


پری نے ایک نظر دروازے کے درمیان موجود معمولی سی جگہ پر ڈالی، پھر اس لڑکی کی طرف دیکھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس تنگ راستے سے پہلے اسے ہی باہر نکالنا ہوگا۔

پری نے اپنے دونوں ہاتھ دروازے پر رکھے اور انہیں پوری طاقت سے پیچھے کی جانب دھکیلنے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنا ایک پاؤں مضبوطی سے دروازے کے قریب جما دیا تاکہ دروازہ دوبارہ بند نہ ہو۔

دروازہ آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف سرکنے لگا اور راستہ کچھ کشادہ ہونے لگا۔
“اب تم آرام سے نکلنے کی کوشش کرو۔ جلدی مت کرنا۔”

وہ لڑکی پری کی طرف دیکھتے ہوئے ہچکچائی، مگر پھر آہستہ آہستہ اس خلا سے باہر نکلنے لگی، جبکہ پری مسلسل دونوں ہاتھوں اور ایک پاؤں کی مدد سے دروازے کو پیچھے کی جانب تھامے کھڑی رہی۔پری بالکل دروازے کے درمیان کھڑی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ دروازے پر جمے ہوئے تھے، جبکہ اس نے اپنے پاؤں سے بھی پوری قوت لگا کر دروازے کو پیچھے کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی۔۔۔۔

آخرکار وہ لڑکی تھوڑا سا جھک کر پری کے ہاتھوں کے نیچے سے بنتی ہوئی جگہ میں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔

اس کے باہر نکلتے ہی پری نے فوراً خود کو بھی دروازے کی طرف سے ہٹا لیا۔ دروازہ دوبارہ اپنی جگہ آنے لگا، دروازے زور سے آپس میں ٹکرا کر بند ہو گئے۔ ایک بوتل ٹوٹ چکی تھی، جبکہ دوسری بوتل درمیان کی جگہ سے نکل کر باہر جا گری تھی۔


وہ لڑکی چند لمحوں تک حیرت سے لفٹ اور پھر پری کو دیکھتی رہی۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس طرح صحیح سلامت لفٹ سے باہر نکل آئی تھی۔۔
لفٹ کے باہر موجود دونوں سیکیورٹی گارڈز بھی حیرت سے کبھی ان دونوں لڑکیوں کو اور کبھی لفٹ کے دروازے کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر ان دونوں نے یہ کیسے کر دکھایا۔

تبھی پری نے اپنے خالی ہاتھوں کی طرف دیکھا۔

اس کا موبائل اور اس کی اسٹک ابھی بھی لفٹ کے اندر ہی رہ گئے تھے۔

اس نے فوراً سیکیورٹی گارڈ کی طرف دیکھا۔

“میرا فون اور اسٹک اندر رہ گئے ہیں۔”

پھر اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔
پری کے چہرے کے تاثرات فوراً سنجیدہ ہوئے۔ اسے کسی بھی صورت چوتھی منزل پر اپنی پریزنٹیشن کے لیے پہنچنا تھا۔

لفٹ ابھی بھی بند تھی، اس لیے پری نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھا دیے۔

وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ ہر لمحہ قیمتی تھا۔ آخرکار وہ چوتھی منزل پر پہنچی اور راہداری میں آتے ہی چند لمحوں کے لیے رک گئی۔

سانس قدرے تیز ہو رہی تھی۔

اس نے ایک گہری سانس لی، خود کو سنبھالا اور بغیر وقت ضائع کیے پریزنٹیشن ہال کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔
اناؤنسمنٹ ہو چکی تھی۔

“آئی جی کمپنی کی اونر، پری، پریزنٹیشن دینے کے لیے تشریف لا رہی ہیں۔”

مگر کوئی بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا نہیں ہوا تھا۔

رومی، ہنی اور آرزو تینوں پریشانی کے عالم میں بار بار ہال کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ایک مرتبہ پھر پری کا نام پکارا گیا، مگر دروازہ نہ کھلا۔

پھر تیسری مرتبہ بھی اناؤنسمنٹ ہوئی تو رومی اور ہنی نے بے بسی سے آرزو کی طرف دیکھا۔

“آرزو، اٹھ جاؤ!”

آرزو بھی فوراً اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔

اسی لمحے ہال کا دروازہ کھلا۔
تینوں نے جیسے ہی پری کو دروازے پر دیکھا، ان کی سانس میں سانس آئی۔
دروازے کے باہر سے آنے والی روشنی سیدھی اندر پڑی، اور اس روشنی کے درمیان ایک لڑکی دکھائی دی۔

اس نے مکمل سیاہ لباس پہن رکھا تھا، سر پر سیاہ ہُڈ تھی اور کیپ کا اگلا حصہ اتنا نیچے تھا کہ اس کا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آ رہا تھا۔

وہ بغیر رکے پُراعتماد قدموں سے سیدھی اسٹیج کی جانب بڑھ رہی تھی۔

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، ہال میں موجود تمام کیمروں کا رخ یکدم اسی کی طرف ہو گیا۔

میڈیا کے کیمرے اس کے ساتھ ساتھ حرکت کرنے لگے، جبکہ ہال میں موجود تقریباً ہر شخص کی نظریں بھی اسی پر جم گئیں۔

عرشمان اپنی سیکریٹری سے پوچھنے ہی والا تھا کہ کیا آئی جی کمپنی کی اونر ابھی تک نہیں آئی، مگر اسی لمحے اچانک ایک لڑکی کی ہال میں انٹری ہوئی۔
عرشمان کی نظر جونہی اس پر پڑی، وہ وہیں رک گیا اور غور سے اسے دیکھنے لگا۔

سیاہ ہُڈ، سیاہ لباس اور چہرہ تقریباً مکمل طور پر چھپا ہوا…

وہ لڑکی ہر کسی کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

ہنی، رومی اور آرزو کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔

“پری…” ہنی کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔

پری ان کے قریب سے گزری تو آرزو فوراً لیپ ٹاپ اٹھا کر اسٹیج کی طرف بڑھی۔ وہ تیزی سے میز تک پہنچی، لیپ ٹاپ کھولا اور اسے آن کرنے لگی۔

ادھر پری اسٹیج کے سامنے پہنچی اور بغیر کسی توقف کے دو سیڑھیاں چڑھ کر اسٹیج پر جا پہنچی۔

ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

پری نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر ایک نظر پورے ہال پر ڈالی۔
پری نے ایک گہری سانس لی، پھر دونوں ہاتھوں سے اپنی ہُڈ کو پیچھے کیا اور سیدھا سامنے دیکھنے لگی۔
اور پھر اپنی پریزنٹیشن شروع کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔۔۔۔
پری نے اپنی جیب سے یو ایس بی نکالی اور اسے لیپ ٹاپ کے ساتھ لگا دیا۔


ہال میں موجود تمام نظریں اس پر مرکوز تھیں۔

پری نے پُرسکون لہجے میں کہا،۔۔۔”دیر کے لیے معذرت چاہتی ہوں۔”


سامنے موجود چند افراد نے اثبات میں سر ہلایا۔
پری نے سب کو سلام کیا اور پھر اپنا پروجیکٹ شروع کرتے ہوئے پریزنٹیشن دینا شروع کر دی۔ اس نے ہاتھ میں موجود ریموٹ اٹھایا اور بٹن دبایا، جس کے ساتھ ہی سامنے لگی اسکرین روشن ہو گئی۔
اس نے کلکر کا بٹن دبایا اور پہلی سلائیڈ اسکرین پر نمودار ہو گئی۔

پری اسکرین پر اگلی سلائیڈ لے کر آئی تو ہال میں بیٹھے ان کی اپنی ٹیم کے افراد کے چہروں پر اچانک حیرت ابھر آئی۔

یہ وہ پروجیکٹ نہیں تھا۔۔۔انہوں نے تیار کیا تھا۔۔

اسکرین پر ایک بالکل مختلف پروجیکٹ موجود تھا۔

جبکہ ایچ آر کمپنی کے اونر کے چہرے پر بھی واضح حیرت تھی۔ سب کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ آخر یہ نیا پروجیکٹ کہاں سے آ گیا؟

آرزو تو چند لمحوں کے لیے بالکل ساکت رہ گئی۔

وہ اسکرین کو دیکھتی،”یہ کون سا پروجیکٹ ہے؟”

اس کے ذہن میں سوال گردش کر رہا تھا۔

ہنی اور رومی نے بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فوراً سمجھ گئیں کہ پری نے آخری لمحے میں پروجیکٹ تبدیل کر دیا ہے۔

ہنی نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔
“انہیں اچھی طرح پتا ہے کہ کب اور کہاں بازی پلٹنی ہے۔”

رومی اور آرزو نے بھی اس کی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا۔ اب وہ تینوں بالکل مطمئن تھیں اور سکون سے پری کی پریزنٹیشن دیکھنے لگیں۔
“
ادھر ان کی اپنی کمپنی کی پوری ٹیم بھی حیرت سے اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر پری نے اتنے کم وقت میں سب کچھ کیسے تبدیل کر دیا۔

مگر اسٹیج پر کھڑی پری بالکل پُرسکون تھی۔

نہ اس کے چہرے پر گھبراہٹ تھی، نہ کسی وضاحت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔
اسی لمحے اس کے ہاتھ میں ہلکا سا درد اٹھا، مگر پری نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ چہرے پر وہی سنجیدگی اور اعتماد برقرار رکھتے ہوئے اس نے اپنی بات شروع کر دی۔

جیسے ہی پری نے بولنا شروع کیا، پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔

اس کا اندازِ گفتگو پُراعتماد تھا، الفاظ واضح تھے اور ہر بات انتہائی ٹھہراؤ کے ساتھ بیان کر رہی تھی۔ وہ نہ جلدی کر رہی تھی اور نہ کسی کے ردِعمل سے متاثر ہو رہی تھی۔

سامنے بیٹھے افراد پوری توجہ سے اسے سن رہے تھے۔

عرشمان کی نظریں بھی مسلسل پری پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کی نگاہ ایک لمحے کے لیے بھی اس سے ہٹ نہیں رہی تھی۔ وہ پری کے اعتماد اور پریزنٹیشن کے انداز کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔

اسکرین پر ایک کے بعد ایک سلائیڈ تبدیل ہوتی جا رہی تھی، اور پری ہر نکتے کو انتہائی پُراعتماد انداز میں سمجھا رہی تھی۔
ائی سی کمپنی کے اونر بھی غور سے پریزنٹیشن سن رہے تھے۔ ایک اہم نکتے پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا، پھر اپنے ساتھ بیٹھے شخص کی طرف جھک کر دھیمی آواز میں کہا،

“پریزنٹیشن واقعی بہت اچھی ہے۔”

دوسرے شخص نے بھی اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے سر ہلایا۔

“بلاشبہ، تیاری کافی مضبوط لگ رہی ہے۔”

پری اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھی، جبکہ ہال میں موجود ہر شخص اب پوری توجہ سے اسی کی پریزنٹیشن دیکھ رہا تھا۔۔۔۔وہ اعتماد کے ساتھ نئے پروجیکٹ کی تفصیلات بیان کر رہی تھی، جیسے یہ سب پہلے سے طے شدہ ہو۔۔۔۔
ادھر ایچ آر کمپنی کے اونر کے لیے اب صورتحال بالکل واضح ہو چکی تھی۔

ان کے چہرے سے غصہ صاف جھلک رہا تھا۔

انہوں نے جس پروجیکٹ کو کاپی کر کے اپنی پریزنٹیشن تیار کی تھی، پری اسٹیج پر اس سے بالکل مختلف پروجیکٹ پیش کر رہی تھی۔ جس چیز کو وہ اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے، وہ اب ان کے لیے کسی کام کی نہیں رہی تھی۔

وہ غصے سے اسکرین کو دیکھتے رہے، مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔

ان کے ساتھ بیٹھے افراد بھی خاموش تھے۔
پری کا نیا پروجیکٹ واقعی مضبوط تھا، اور اس کی پریزنٹیشن کا انداز بھی بےحد پُراعتماد تھا۔

وہ خاموشی سے اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھے رہے۔

پریزنٹیشن ختم ہونے کے بعد اب اگلی باری شاہ کمپنی کی تھی۔

 

پری نے اپنی پریزنٹیشن ختم کی تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ وہ پُرسکون انداز میں چلتی ہوئی واپس اپنی جگہ پر آئی اور بیٹھ گئی۔

اب اگلی باری شاہ کمپنی کی تھی۔۔۔عرشمان پریزنٹیشن دے کےلیے اٹھ کر اسٹیج کی جانب جانے لگا۔

پری نے پانی کی بوتل اٹھائی اور چند گھونٹ پانی پیا، جبکہ آرزو، ہنی اور رومی نے اسے انگوٹھا اوپر اشارہ دیا۔۔ جیسے کہہ رہی ہوں، “بہت اچھے!”
اسٹیج پر ایک نوجوان سیاہ تھری پیس سوٹ میں پُراعتماد انداز سے کھڑا تھا۔ اسکرین پر دکھایا جانے والا پروجیکٹ واقعی شاندار تھا۔ ایک کے بعد ایک سلائیڈ تبدیل ہو رہی تھی اور وہ شخص ہر نکتے کو نہایت واضح انداز میں بیان کر رہا تھا۔

پری، شاہ کمپنی کی پریزنٹیشن پوری توجہ سے دیکھ رہی تھی کہ اچانک ایک پوائنٹ پر آ کر اس کی نظریں اسکرین پر ٹھہر گئیں۔ اس کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی حیرت نمودار ہوئی۔

پری نے چند لمحے اس کی پریزنٹیشن کو غور سے دیکھا، پھر ہلکا سا سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

اس کے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ اب مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔

“کمال کی ٹکر ہوگی اب…”

وہ خاموشی سے سوچنے لگی۔

اسٹیج پر کھڑے شخص پر ایک نظر ڈالی تو پری کو یوں محسوس ہوا جیسے اس نے اسے کہیں پہلے دیکھا ہو۔۔۔۔۔۔۔
پری سامنے ہی بیٹھی تھی۔ عرشمان پریزنٹیشن دے رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر پری پر پڑی، جو نہایت غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔
عرشمان نے ایک لمحے کے لیے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

اس کے یوں اچانک دیکھنے پر پری ایک پل کو گھبرا گئی۔ اس نے فوراً اپنی نظریں ہٹا لیں اور نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

شاہ کمپنی کی پریزنٹیشن ختم ہونے کے بعد آدھے گھنٹے کا وقفہ تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد اعلان ہونا تھا کہ یہ اہم پروجیکٹ آخر کس کمپنی کے حصے میں جاتا ہے۔

ہال میں موجود لوگ اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔ کوئی کاروباری معاملات پر بات کر رہا تھا تو کوئی اپنے جاننے والوں سے ملنے میں مصروف تھا۔

اسی دوران پری اپنی نشست سے اٹھی ..
جبکہ ہنی کو بھوک لگنے لگی تو وہ آرزو کے ساتھ کچھ کھانے کے لیے چلی گئی۔ جبکہ اس کے ساتھ رومی موجود تھی۔


“تم نے یہ پروجیکٹ کب چینج کیا؟”

پری نے اس کی طرف دیکھا اور بالکل پرسکون انداز میں بولی، “اسی وقت۔ ہمیشہ پلان بی بھی رکھنا چاہیے۔”
واقعی…

پری کی یہی بات اسے سب سے الگ بناتی تھی۔

وہ کسی ایک منصوبے پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ہمیشہ دوسرا راستہ پہلے سے تیار رکھتی تھی۔۔۔

“واقعی، تم کمال کی لڑکی ہو۔”

پری نے بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا اور آگے بڑھتی رہی تھی کہ۔۔
اپنے سامنے زرنش کر کھڑا دیکھ کر رک گئی۔۔۔

زرنش ایک رپورٹر کے ساتھ کھڑی تھی۔ آئی جی کمپنی کے اونر کے آنے کا اعلان ہو چکا تھا، مگر وہ ابھی تک وہاں نہیں پہنچی تھی۔ تیسری بار بھی اناؤنسمنٹ ہو چکی تھی، لیکن اب تک اونر کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔

زرنش ساتھ کھڑے رپورٹر سے بات کرنے ہی والی تھی کہ وہ خود بول اٹھا۔

“شاید چوری کے ڈر سے نہیں آئی۔”
زرنش نے الجھن سے اسے دیکھا۔
“چوری کے ڈر سے؟ کیا مطلب؟”
رپورٹر نے قدرے آہستہ آواز میں کہا،
“تمہیں نہیں پتا؟ آئی جی کمپنی کے پروجیکٹ پر الزام لگا ہے کہ انہوں نے پروجیکٹ کاپی کیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کر رہی ہیں۔”

زرنش ابھی اس کی بات کا جواب دینے ہی والی تھی کہ اچانک ہال کا دروازہ کھلا۔

دونوں کی نظریں بے اختیار دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔

ایک لڑکی پُرسکون انداز میں ہال کے اندر داخل ہوئی۔

زرنش اسے دیکھتے ہی حیرت سے اسے تکنے لگی۔

وہ لڑکی سیدھی چلتی ہوئی اسٹیج کی جانب بڑھی۔ اسٹیج پر پہنچ کر اس نے چند لمحے توقف کیا اور پھر اپنے سر سے کیپ اتار دی۔

زرنش کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

اسے اپنے سامنے موجود چہرے پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔

وہ پری تھی۔
زرنش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

جسے وہ آج تک صرف اپنی دوست سمجھتی آئی تھی، آج وہی لڑکی اس کے سامنے آئی جی کمپنی کی اونر بن کر کھڑی تھی۔

زرنش چند لمحوں تک اسے بے یقینی سے دیکھتی رہی۔

“پری…؟”

اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ آخر وہ اپنی دوست کے بارے میں اتنا کچھ کیسے نہیں جان سکی؟۔۔۔۔
+++++++++


صبح سویرے ہی افی اقراء کے پاس پہنچ گئی تھی۔ اقراء کی بہن کے لاپتہ ہونے کے بعد وہ اس کیس کو پوری سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی۔

افی نے اقراء سے اس کی بہن کا موبائل نمبر مانگا تاکہ اسے ٹریس کروایا جا سکے۔

“اس کا نمبر دو، میں ٹریس کے لیے دے دیتی ہوں۔ شاید اس سے ہمیں کوئی سراغ مل جائے۔”

اقراء نے فوراً نمبر اسے دے دیا۔

افی نے نمبر ٹریس کے لیے متعلقہ لوگوں کو دے دیا تھا۔ جواب میں اسے بتایا گیا کہ نمبر کی لوکیشن ٹریس تب تک نہیں ہوگی جب تک فون ان نہیں ہوگا جب کہ اس کا نمبر ابھی تک بند ہے۔

افی نے اقراء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

“میں نے نمبر ٹریس کے لیے دے دیا ہے۔ اگر ہمیں کوئی موومنٹ ملتی ہے تو ہمیں فوراً پتا چل جائے گا۔ لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں کرنا۔”

وہ کچھ لمحے رکی، پھر بولی،

“ہمیں ہسپتالوں میں بھی چیک کرنا چاہیے۔ کہیں کوئی حادثہ نہ پیش آ گیا ہو۔ اس کے علاوہ لوکل گاڑیوں سے بھی معلومات لینی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کسی نے اسے کہیں جاتے ہوئے دیکھا ہو۔”

اقراء نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔

افی نے کہا،

“تو پھر چلتے ہیں۔”

اقراء نے اپنے والدین کو تسلی دی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ اپنی بہن کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کریں گی۔ پھر اس نے چادر اٹھائی اور افی کے ساتھ گھر سے باہر نکل آئی۔

دونوں گاڑی میں بیٹھیں اور کچھ ہی دیر بعد اس جگہ پہنچ گئیں جہاں سے لوکل گاڑیاں اور رکشے مختلف علاقوں کی طرف جاتے تھے۔

اقراء گاڑی سے اترتے ہی لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے لگی۔ اس نے اپنے بیگ سے ایک تصویر نکالیں اور وہاں موجود رکشہ ڈرائیورز کو دکھاتے ہوئے سوال کرنے لگی،
اقراء نے تصویر رکشہ ڈرائیور کے سامنے کرتے ہوئے پوچھا،

“کیا کل آپ نے اس لڑکے کو یہاں کہیں دیکھا تھا؟”

رکشہ ڈرائیور نے تصویر کو غور سے دیکھا، پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

“نہیں باجی، میں نے اسے یہاں نہیں دیکھا۔”

اقراء نے مایوسی سے تصویر واپس لے لی۔۔”

اسی دوران افی کی نظر اقراء کے ہاتھ میں موجود تصویر پر پڑی۔

وہ اچانک رک گئی۔

اس کی نظریں تصویر پر جم گئیں۔

چہرہ دیکھتے ہی افی کے تاثرات بدل گئے۔

اس نے فوراً اقراء کے ہاتھ سے تصویر لے لی۔

کچھ لمحوں تک وہ خاموشی سے تصویر کو دیکھتی رہی، جیسے اپنے ذہن میں کسی منظر کو یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

پھر اس کی نظریں تصویر سے اٹھ کر اقراء کے چہرے پر جا ٹھہریں۔۔۔

افی نے تصویر کو ایک بار پھر غور سے دیکھا، پھر اقراء کی طرف متوجہ ہوئی۔

“کیا یہ تمہاری بہن ہے؟”

اقراء نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔

“جی۔”

افی نے سنجیدہ لہجے میں کہا،

“گاڑی میں بیٹھو، ہمیں پولیس اسٹیشن جانا ہوگا۔”

اقراء نے پریشانی سے اسے دیکھا۔

“کیوں؟ کیا ہوا ہے؟”

افی نے مختصر سا جواب دیا،

“تم گاڑی میں بیٹھو، میں تمہیں بتاتی ہوں۔”

دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ راستے میں افی نے اقراء کو ساری بات بتا دی۔

اقراء خاموشی سے سنتی رہی، مگر اس کے چہرے پر پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسے یہ سوچ کر ہی خوف محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی بہن کے ساتھ کچھ ہو رہا تھا اور اسے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں پولیس اسٹیشن پہنچ گئیں۔

پولیس اسٹیشن پہنچتے ہی افی اور اقراء اندر داخل ہوئیں۔ انہیں دیکھتے ہی وہی افسر ایک بار پھر ان کی طرف متوجہ ہوا اور قدرے ناگواری سے بولا،

 

“ہم نے آپ سے کہا تھا کہ اگر ہمیں کوئی معلومات ملیں گی تو ہم آپ کو خود اطلاع کر دیں گے۔ آپ کو بار بار یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔”

افی نے فوراً بات سنبھالتے ہوئے کہا،

“مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے۔”

افسر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

افی نے اسے ساری تفصیلات بتانا شروع کر دیں۔۔۔

تفصیل سننے کے بعد افسر نے پوچھا،

“آپ کو پورا یقین ہے کہ وہ یہی لڑکی تھی؟”

افی نے فوراً جواب دیا،

“جی، بالکل۔ یہی لڑکی تھی۔ میں نے اسے اسی مال میں دیکھا تھا۔”

افسر نے کچھ لمحے سوچا، پھر کہا،

“ٹھیک ہے۔ ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔”

کچھ ہی دیر بعد افی، اقراء اور پولیس اہلکار اسی مال کی طرف روانہ ہو گئے۔

مال پہنچ کر پولیس اہلکاروں نے وہاں کے اونر سے ملاقات کی۔

افسر نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا،

“ہمیں یہاں کے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ دیکھنی ہے۔ ایک لڑکی لاپتہ ہے اور ہمیں شبہ ہے کہ وہ یہاں موجود تھی۔ ہمیں اسی دن کی فوٹیج چاہیے۔”

مال کے اونر نے کچھ لمحوں کے لیے انہیں دیکھا، پھر بے بسی سے سر ہلا دیا۔

“سر، وہ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ تو ڈیلیٹ ہو چکی ہے۔”

افسر اس لڑکے سے پوچھا۔

“ڈیلیٹ؟ کیسے؟”

اس نے جواب دیا،

“پتا نہیں سر۔ اچانک کمپیوٹر میں کچھ خرابی ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے سارا ڈیٹا ڈیلیٹ ہو گیا۔”

افی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

اسے یہ بات کچھ عجیب لگی تھی کہ اتنے بڑے مال کا پورا سی سی ٹی وی ڈیٹا اچانک ہی کیسے غائب ہو سکتا تھا۔

وہ خاموشی سے اونر کو دیکھتی رہی، جیسے اس کے جواب پر یقین کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال آیا—

“کیسے لوگ ہیں یہ…”
سی ٹی وی کی ریکارڈنگ بھی ڈیلیٹ ہو چکی تھی اور کوئی دوسرا سراغ بھی ہاتھ نہیں آیا تھا۔ افی کو محسوس ہو رہا تھا کہ جو تھوڑی بہت امید اسے نظر آئی تھی، وہ بھی آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی ہے۔

اسی دوران پولیس افسر نے افی کی طرف دیکھا۔
“میڈم، اب تو کوئی خاص سراغ نہیں مل رہا۔ کیا آپ ان لڑکوں کی شناخت میں ہماری مدد کر سکتی ہیں؟”
افی نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
“میں کوشش کر سکتی ہوں۔”
افسر نے کہا،
“ٹھیک ہے۔ آپ میرے آدمی کے ساتھ چلی جائیں۔ جو کچھ آپ کو یاد ہے، اس کے مطابق ان کا خاکہ بنوانے کی کوشش کریں۔ شاید اس سے ہمیں اندازہ ہو جائے کہ وہ لوگ کیسے دکھتے تھے۔”

پھر وہ پولیس اہلکار کے ساتھ چلی گئی، جہاں اس نے اپنی یادداشت کے مطابق ان لڑکوں میں اسے ایک لڑکے کا حلیے اور چہروں کی تفصیلات بتائی۔
کچھ دیر بعد تیار کیے۔۔۔جبکہ دوسرے لڑکے کا کا فیس اسے صحیح سے یاد نہیں تھا۔۔۔
سکیچ تیار ہونے کے بعد افی نے اسے غور سے دیکھا۔ کچھ دیر تک تصویر کو دیکھنے کے بعد اس نے چند تبدیلیاں کروائیں۔

“نہیں، اس کے چہرے کی شیپ کچھ ایسی تھی… اور بال بھی اس طرح تھے۔”

سکیچ آرٹسٹ نے اس کی بتائی ہوئی تفصیلات کے مطابق دوبارہ تبدیلیاں کیں۔

کچھ دیر بعد جب سکیچ مکمل ہوا تو افی نے اسے غور سے دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔

“ہاں… یہ بالکل ایسے ہی تھا۔”

اس نے سکیچ اقراء کی طرف بڑھایا۔

“تم اس لڑکے کو پہچانتی ہو؟”

اقراء نے سکیچ کو غور سے دیکھا، پھر نفی میں سر ہلا دیا۔

“نہیں، میں نے اس پہلی دفعہ دیکھا ہے۔”

پولیس افسر نے سکیچ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا،

“ٹھیک ہے، اب ہم خود اس پر کام کریں گے۔ آپ دونوں گھر جا سکتی ہیں۔ اگر ہمیں کوئی معلومات ملیں تو ہم آپ کو اطلاع کر دیں گے۔”

افی نے خاموشی سے سر ہلایا۔

پولیس افسر سکیچ لے کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔
ان کے پاس اب بھی کوئی واضح جواب نہیں تھا، لیکن افی کے دل میں یہ یقین ضرور پیدا ہو چکا تھا کہ اس معاملے کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسی حقیقت ضرور چھپی ہے جو ابھی ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔افی کے ذہن میں بار بار یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ پولیس افسر بھی بات کو ٹال مٹول سے لے رہا ہے، جیسے وہ اپنا کام ٹھیک طرح سے کرنا ہی نہیں چاہتا ہو۔ اس رویے پر اسے شدید غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔
ہاسپٹل اور گاڑی والوں سے پوچھنے میں لوکل گاڑی ڈھونڈنے میں کافی وقت لگ گیا تھا۔ شام کے چار بج چکے تھے۔۔۔۔۔
افی یہ سب کام نمٹاتے ہوئے وقت کا اندازہ ہی نہیں کر پائی تھی۔ اسے بالکل یاد نہیں رہا تھا کہ آج اسے پری کی پریزنٹیشن میں بھی جانا ہے۔
اب شام کے چار بجنے والے تھے کہ اچانک اسے یاد آیا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اقراء کو گھر ڈراپ کیا اور پھر خود اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔
*********************************


آدھے گھنٹے کے وقفے کے دوران ہال میں موجود تقریباً سبھی لوگ اپنی اپنی جگہوں پر موجود تھے۔ کوئی دوسرے بزنس لیڈرز سے گفتگو کر رہا تھا تو کوئی آنے والے اعلان کا انتظار کر رہا تھا۔

دوسری ایچ ار کمپنی کا اونر غصے میں کھڑا تھا۔

اسے اب تک یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر آخری وقت میں ائی جی کمپنی نے اپنا پروجیکٹ کیسے تبدیل کر لیا؟

“یہ کیسے ممکن ہے؟” وہ غصے سے بڑبڑایا۔ “آخر وقت پر پروجیکٹ کیسے بدل لیا انہوں نے؟

اس کے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا تھا۔اسے اپنی ہار کسی صورت برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ایک طرف کھڑا دور سے سب کو غور سے دیکھتا رہا، جیسے ذہن میں کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر اچانک وہ دوسری جانب موجود چند بزنس لوگوں کی طرف بڑھ گیا، جہاں آئی سی کمپنی کے اونر بھی کھڑے آپس میں کسی معاملے پر گفتگو کر رہے تھے۔

وہ چند لمحے خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا، پھر جان بوجھ کر گفتگو کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے ایک ایسی بات چھیڑ دی جس کا مقصد صرف ان کے درمیان موجود معاملے کو مزید الجھانا تھا۔

دونوں کچھ دیر کاروباری معاملات پر گفتگو کرتے رہے۔وہ لوگ شاہ کمپنی اور آئی جی کمپنی کے مشترکہ پروجیکٹ کے بارے میں بات کر رہے تھے، جسے سب بےحد شاندار قرار دے رہے تھے۔ پروجیکٹ کی تیاری، اس کی تفصیلات اور دونوں کمپنیوں کی محنت پر گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ کچھ فاصلے پر کھڑا ان کی باتیں غور سے سن رہا تھا، مگر اپنی شکست ابھی تک برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

پھر ایچ ار کمپنی کے اونر نے قدرے بلند آواز میں کہا، “ہاں، مانتا ہوں ائی جی کمپنی کا پروجیکٹ بہت اچھا ہے، لیکن جو کام ایک مرد کر سکتا ہے، وہ ایک لڑکی نہیں کر سکتی۔”

اس نے جان بوجھ کر یہ بات اس انداز میں کی کہ وہ لوگ سن لیں۔۔

“لڑکیاں جذباتی ہوتی ہیں۔ جذبات میں آ کر غلط فیصلے بھی کر سکتی ہیں۔ ایک اچھا پروجیکٹ بنانا الگ بات ہے، ضروری نہیں کہ وہ آگے بھی اسی طرح اچھا کام کر سکیں۔”

اس کا اصل مقصد اپنی بات آگے پہنچانا تھا۔

اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی بات پری سن رہی تھی۔

اور صرف پری ہی نہیں…

کچھ فاصلے پر کھڑا عرشمان بھی اس گفتگو کو غور سے سن رہا تھا۔

پری چند لمحے خاموش رہی، پھر اس کی طرف بڑھی۔

وہ اس کے قریب جا کر رک گئی۔

“اگر آپ کو لڑکیوں پر اتنا ہی کم بھروسا ہے،” “تو لڑکیوں کا کام چوری کرنے میں آپ اتنے اچھے کیسے ہیں؟”


“کیا مطلب ہے آپ کا؟”

پری نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “آپ کو اچھی طرح معلوم ہے میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں۔ اور بہت جلد یہ بات سب کے سامنے بھی آ جائے گی۔”

“شاید آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”
“غلط فہمی وہاں ہوتی ہے جہاں کوئی ثبوت نہ ہو۔ یہاں تو مقصد بھی صاف نظر آ رہا ہے اور چوری کیا گیا پروجیکٹ بھی۔”
’’آپ بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘ کاشف صاحب نے غصے سے کہا۔

پری نے نہایت پرسکون انداز میں ان کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ذرا بھی گھبراہٹ نہیں تھی۔

’’میرے پاس ثبوت موجود ہے، کاشف صاحب۔‘‘ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا، ۔۔۔۔ اگر ضرورت پڑی تو میں سب کے سامنے لے آؤں گی۔‘‘

پری کی بات سنتے ہی کاشف صاحب کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ ایک لمحے کے لیے ان کے چہرے پر گھبراہٹ صاف دکھائی دی، جیسے اچانک انہیں کسی ایسی بات کا خوف لاحق ہو گیا ہو جسے وہ چھپانا چاہتے تھے۔

وہ چند لمحے پری کو دیکھتے رہے، مگر اس کے بعد کچھ کہہ نہ سکے۔ بس غصے سے جبڑا بھینچتے ہوئے اسے گھورتے رہے، جیسے ان کے پاس اس کے جواب میں کہنے کے لیے الفاظ ہی ختم ہو گئے ہوں۔


دوسری جانب عرشمان نے اپنے سیکریٹری کی طرف دیکھا۔

“یہ کیا معاملہ ہے؟
سیکریٹری نے اس سب کچھ ڈیٹیل سے بتایا۔۔
عرشمان خاموشی سے اس کی باتیں سنتے ہوئے سامنے دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر حسبِ معمول سنجیدگی نمایاں تھی۔


عرشمان نے چند لمحے خاموشی سے سامنے کا منظر دیکھا، پھر آہستہ سے سر ہلاتے ہوئے پوچھا،
’’تمہیں کیا لگتا ہے؟‘‘

سیکریٹری نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر محتاط لہجے میں بولا،
’’سر، مجھے ایچ ار کمپنی پر کچھ شک ہے۔ وہ ہمیشہ آگے بڑھنے کے لیے غلط طریقوں کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ممکن ہے اس بار بھی معاملہ ویسا ہی ہو۔‘‘

اسی وقت اس کے سیکریٹری کی بیوی وہاں آ پہنچی۔ اسے دیکھتے ہی اذان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور فوراً پوچھا،

’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘

“سوری سر، میں لیٹ ہو گئی۔”
عرشمان نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

“تم لیٹ کیوں ہوئی؟”

لڑکی نے سانس سنبھالتے ہوئے جواب دیا، “سر، میں لفٹ میں پھنس گئی تھی۔”

عرشمان کی نظر بے اختیار اس پر رک گئی۔

“لفٹ میں؟”

“جی سر۔”

لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
اذان کی نظریں اپنی بیوی پر جمی ہوئی تھیں، جو پسینے سے بری طرح بھیگی ہوئی تھی۔ پھر اس نے اپنے سر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔

’’تو… جو بات ہم نے صبح سنی تھی، وہ سچ تھی؟‘‘

عرشمان نے اثبات میں سر ہلایا۔ انہیں پہلے ہی خبر مل گئی تھی کہ آج ان کے لیے یہاں لفٹ خراب کی گئی ہے، اسی لیے اس نے لفٹ کے بجائے سیڑھیوں سے آنا زیادہ مناسب سمجھا تھا۔

مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ جس لفٹ کو ان کے لیے خراب کیا گیا تھا، اس میں کوئی اور جا کر پھنس جائے گا۔

اس کا سیکریٹری فوراً بولا،

’’اس کا مطلب ہے کہ آپ دونوں، یعنی شاہ کمپنی اور ائی جی کمپنی، کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔۔۔

وہ چند لمحے رکا، پھر سنجیدگی سے بولا،
’’تم پتا لگاؤ کہ اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔‘‘

عرشمان نے اپنے سیکریٹری کو حکم دیا، جس پر وہ فوراً اثبات میں سر ہلا کر گیا۔۔

اسی لمحے اس کی بیوی نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا،
’’شکر ہے وہ لڑکی وہاں موجود تھی، ورنہ میں تو ابھی تک اسی لفٹ میں پھنسی ہوئی ہوتی۔‘‘

اذان اور عرشمان نے بیک وقت حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

’’کون سی لڑکی؟‘‘ دونوں کے لہجے میں یکساں سوال تھا۔

اس نے سامنے کھڑی پری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
’’وہ… اسی لڑکی نے مجھے بچایا تھا۔ یہ بھی میرے ساتھ لفٹ میں پھنس گئی تھی۔‘‘

عرشمان کی نظریں فوراً پری کی طرف اٹھ گئیں۔ چند لمحوں کے لیے وہ اسے دیکھتا رہا،۔۔۔

تو یہی وجہ تھی کہ وہ دیر سے پہنچی تھی…
اذان نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ ائی جی کمپنی کے اونر ہے جس پر اس کی بیوی حیرت سے اسے دیکھتی ہے۔۔

اس کی نظریں اب بھی پری پر ٹکی ہوئی تھیں، ۔۔۔
وہ چند قدم کے فاصلے پر کھڑی اپنی دوستوں سے بات کر رہی تھی۔۔۔
اسی وقت عرشمان کی بہن بھی پری کے پاس آ پہنچی۔ اسے وہاں دیکھ کر ارشیمان ایک لمحے کے لیے حیران رہ گیا۔

یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟

وہ کچھ فاصلے پر کھڑا اپنی بہن کو پری سے بات کرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو نے اس کے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا کر دیا تھا، مگر وہ خاموشی سے وہیں کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔

زرنش پری کو مسلسل گھور رہی تھی، جیسے اسے ابھی تک یقین نہ آ رہا ہو کہ پری نے اس سے اتنی بڑی بات چھپا رکھی تھی۔

پری نے اپنی آئی براؤز اٹھاتے ہوئے پوچھا،
’’کیا ہوا۔۔۔‘

زرنش نے خفگی سے اسے دیکھا اور بولی،
’’تم نے مجھے بتایا نہیں! میں کتنی بےوقوف لگ رہی تھی اُس دن تمہارے سامنے، جب میں آئی جی کمپنی کے اونر کو ڈھونڈ رہی تھی اور تم مزے سے میرے سامنے بیٹھی ہوئی تھیں۔‘‘

پری اس کی بات سن کر بے اختیار ہنس پڑی۔
نقاب کی وجہ سے پری کی مسکراہٹ تو نظر نہیں آ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں کی چمک صاف بتا رہی تھی کہ وہ مسکرا رہی ہے۔

زرنش نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’تمہیں میری بات پر ہنسی آ رہی ہے؟‘‘

پری نے فوراً دوسری طرف دیکھتے ہوئے بولی،
’’نہیں تو… میں تو نہیں ہنس رہی۔‘‘

زرنش نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا،
’’پھر تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟‘‘

پری نے بالکل سادہ انداز میں جواب دیا،
’’تم نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں۔‘‘

زرنش ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی۔ پھر جیسے اسے اپنی ہی غلطی کا احساس ہوا، دل ہی دل میں سوچنے لگی،

ہاں… میں نے کبھی پوچھا ہی نہیں کہ پری یہاں کرتی کیا ہے۔

اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی، دوسری طرف سے اس کی ٹیم کے افراد نے اسے آواز دینا شروع کر دیا۔

’’زرنش! اِدھر آؤ، ذرا!‘‘

زرنیش نے مڑ کر اپنی ٹیم کی طرف دیکھا، پھر پری سے بولی،

وہ آگے بڑھنے لگی تو اچانک مڑ کر پری کی طرف دیکھا اور دو انگلیاں اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اس کی طرف کرتے ہوئے گویا دھمکی دی،

’’میں تمہیں بعد میں دیکھتی ہوں!‘‘

پری نے اس کے اشارے کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور بڑے اطمینان سے دوسری طرف دیکھنے لگی، جیسے اسے زرنش کی کوئی بات سنائی ہی نہ دی ہو۔۔۔۔۔
عرشمان پری کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ راستے میں کسی نے اسے روک لیا۔ وہ وہیں رک گیا اور اس شخص کے ساتھ کھڑے ہو کر بات کرنے لگا

اسی وقت وہ لفٹ والی لڑکی بھی پری کے پاس آ پہنچی۔
اس نے پری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

’’بہت بہت شکریہ۔ مجھے آپ کو تھینک یو کہنے کا وقت ہی نہیں ملا تھا،
آپ اس وقت جلدی میں تھی اور میں نے پوچھا بی نہیں یہ آپ کون ہے۔۔۔۔

پری نے ہلکے سے سر ہلاتے ہوئے کہا،
’’کوئی بات نہیں۔ تم اب ٹھیک ہو؟‘‘

’’جی، اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘

اس کی نظریں اچانک پری کے ہاتھوں پر پڑیں تو وہ چونک کر بولی،
’’آپ کے ہاتھوں کیسے ہیں۔۔

پری نے بے اختیار اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ رومی نے بھی فوراً اس کے ہاتھوں کو دیکھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ رومی نے تشویش سے پوچھا۔

سیکریٹری کی بیوی نے پریشان لہجے میں بتایا،
’’لفٹ میں دروازے کے بیچ ان کے ہاتھ پھنس گئے تھے۔‘‘

یہ سنتے ہی رومی نے فوراً پری کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے ہاتھ پر چڑھے دستانے اتارنے لگی۔

پری نے روکنا چاہا۔
’’نہیں، رہنے دو۔‘‘

’’ایک منٹ… پہلے دیکھنے تو دو۔‘‘ رومی نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔

اس نے ایک ہاتھ سے دستانہ اتارا تو پری کے ہاتھ پر نیل کا نشان واضح تھا۔ پھر دوسرے ہاتھ کا دستانہ اتارا تو وہاں بھی نیل پڑا ہوا تھا اور جلد کی اوپری تہہ سی اتر گئی تھی۔

رومی نے پریشان نظروں سے اس کے ہاتھ دیکھے۔
’’تمہیں درد نہیں ہو رہا؟‘‘

پری نے سکون سے اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے جواب دیا،
’’اتنا نہیں۔‘‘

یہ کہتے ہوئے اس نے دوبارہ دونوں ہاتھوں پر دستانے چڑھا لیے۔

رومی نے اسے گھورا۔
’’تمہیں اس پر کچھ لگانا چاہیے۔ چلو، میرے ساتھ۔‘‘

پری نے فوراً انکار کیا،
’’نہیں، ابھی وقت نہیں ہے۔ بعد میں لگا لوں گی۔‘‘

سیکریٹری کی بیوی بھی پریشان ہو کر بولی،
’’میم، آپ کو کچھ لگانا چاہیے۔ یہاں ویٹنگ ایریا بھی ہے، وہاں شاید کچھ نہ کچھ مل جائے۔‘‘

رومی نے بھی فوراً اس کی تائید کی۔
’’ہاں، میرے ساتھ چلو۔‘‘

پری نے دونوں کو دیکھا اور آخرکار ہلکا سا سر ہلا دیا۔

’’اچھا، ٹھیک ہے۔‘‘

رومی نے اطمینان کا سانس لیا اور پری کے ساتھ ویٹنگ ایریا کی طرف چل پڑی۔۔۔


وہاں پہنچ کر رومی نے ہوٹل کے ویٹر سے ہاتھوں کے زخم پر لگانے کے لیے کچھ منگوایا۔ مرہم لگانے کے بعد اس نے دونوں ہاتھوں پر پٹی باندھی اور دوبارہ دستانے چڑھا لیے، جیسے وہ اس معمولی سی تکلیف کو زیادہ اہمیت ہی نہ دینا چاہتی ہو۔

کچھ دیر بعد عرشمان اس شخص سے بات ختم کرکے فارغ ہوا تو بے اختیار اس کی نظریں پورے ہال میں پری کو تلاش کرنے لگیں۔

مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی۔
اس کی نظریں ایک بار پھر ہال کے ہر کونے میں اسے تلاش کرنے لگیں، مگر پری کہیں دکھائی نہ دی۔۔۔۔۔

 


کچھ دیر بعد سب اپنی اپنی نشستوں پر واپس آ کر بیٹھ گئے۔ ہال میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی، جبکہ ووٹنگ کا سلسلہ آگے بڑھا۔

آخرکار نتیجہ سب کے سامنے تھا۔

چار ووٹ شاہ کمپنی کے حق میں آئے تھے اور چار ہی ووٹ آئی جی کمپنی کے حق میں۔۔۔ائی سی کمپنی کے اونر اپنی نشست سے اٹھے اور اسٹیج کی جانب بڑھ گئے۔ ا ایک طرف پری خاموشی سے کھڑی تھی، جبکہ دوسری طرف عرشمان موجود تھا۔ سب کی نظریں اب اسٹیج کی طرف تھیں۔

انہوں نے مائیک سنبھالتے ہوئے مسکراتے انداز میں کہا،

’’سب سے پہلے میں آپ سب کا یہاں آنے اور اپنا قیمتی وقت دینے کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘

انہوں نے مختصر سا توقف کیا، پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا،

’’چونکہ ووٹنگ کا نتیجہ برابر آیا ہے، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ پروجیکٹ کسی ایک کمپنی کو دینے کے بجائے دونوں کمپنیوں کو دیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئی جی کمپنی اور شاہ کمپنی اس پروجیکٹ پر ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔‘‘

ہال میں موجود لوگوں کے درمیان سرگوشیاں ہونے لگیں۔
کمپنی کے اونر نے باری باری پری اور عرشمان کی طرف دیکھا۔

’’تو کیا آپ دونوں کو اس فیصلے پر کوئی اعتراض ہے؟‘‘
عرشمان اور پری نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔دونوں کی نظریں چند لمحوں کے لیے ایک دوسرے میں ٹھہر گئیں۔ ۔
۔ دونوں ہی اس اچانک فیصلے پر حیران تھے۔

عرشمان نے چند لمحے سوچنے کے بعد مائیک تھاما۔

’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

اس کے جواب کے بعد سب کی نظریں پری کی طرف اٹھ گئیں۔

پری ابھی خاموش کھڑی تھی۔وہ سوچ رہی تھی کہ وہ انکار کرے گا جبکہ اس نے تو فورا ہاں کر دیا تھا۔۔۔ اس کی سیکریٹری بھی منتظر نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔

کچھ لمحوں بعد پری نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا اور سامنے دیکھا۔ ۔
پھر پری نے مائیک کی طرف دیکھتے ہوئے پُرسکون لہجے میں کہا،

’’مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

اس کے الفاظ ختم ہوتے ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
پری کی سیکریٹری نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ پری اتنی آسانی سے اس فیصلے پر راضی ہو گئی تھی۔

جبکہ ہال میں موجود لوگ نئے فیصلے پر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔
اس کے بعد اس نے دونوں کو مبارکباد دی اور کہا، ’’ہم بہت جلد اس کانٹریکٹ پر سائن کریں گے۔‘‘

جس پر دونوں نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے اسٹیج سے نیچے اتر گئے۔ ابھی وہ نیچے اترے ہی تھے کہ میڈیا کے لوگ ان کی طرف بڑھنے لگے۔

’’آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟‘‘
’’آپ دونوں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟‘‘

ایک کے بعد ایک سوال ان کی طرف اچھالا جا رہا تھا۔

پری نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی سے ایک طرف ہوئی اور میڈیا کے درمیان سے نکل گئی، جبکہ عرشمان وہیں میڈیا کے حصار میں گھِرا رہ گیا۔ وہ اطمینان سے صحافیوں کے سوالات سنتا اور ایک ایک کر کے ان کے جواب دیتا رہا۔۔۔
ایک صحافی نے مائیک آگے کرتے ہوئے سوال کیا،
’’عرشمان صاحب، آپ نے آج تک کسی لڑکی کے ساتھ پروفیشنل پارٹنرشپ میں کام نہیں کیا۔ آج پہلی بار آپ ایک لڑکی کے ساتھ اتنے بڑے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، تو آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟‘‘

عرشمان نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر نہایت سنجیدگی سے جواب دیا،
’’میرے لیے یہ بات اہم نہیں کہ میرے ساتھ کام کرنے والا مرد ہے یا عورت۔ میرے لیے اس کی قابلیت، محنت اور اپنے کام کو سمجھنے کی صلاحیت اہم ہے۔ اور جہاں تک آج کی بات ہے، مجھے خوشی ہے کہ مجھے ایک ایسی پروفیشنل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو اپنے کام میں پوری طرح ماہر ہے۔‘‘

صحافی نے فوراً دوسرا سوال کیا،
’’تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پری کے ساتھ کام کرنا آپ کے لیے ایک اچھا تجربہ رہا؟‘‘

عرشمان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
’’یقیناً۔ آج کی پریزنٹیشن نے اس سوال کا جواب خود دے دیا ہے۔‘‘


’’شکریہ۔‘‘

عرشمان مختصر سا جواب دے کر آگے بڑھ گیا۔ اس کا سیکریٹری بھی فوراً اس کے ساتھ ہو لیا، جبکہ میڈیا کے لوگ پیچھے رہ گئے۔


دوسری طرف شاہ کمپنی کے اونر کا بیٹا زین پری کے پاس آیا اور اسے مبارکباد دیتے ہوئے بولا،
’’آپ کے بارے میں جیسا سنا تھا، آپ ویسی ہی ہیں۔‘‘

پری نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’مطلب؟‘‘

زین ہلکا سا مسکرایا۔
’’میں نے آپ کے بارے میں بہت سنا تھا۔ آپ کے کام کو دیکھ کر بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ واقعی اپنے کام میں کمال رکھتی ہیں۔ آپ کا پروجیکٹ شاندار تھا۔ اگرچہ میں خود پریزنٹیشن نہیں دیکھ پایا، لیکن جو کچھ سنا ہے، اس سے اندازہ ہو گیا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ بہت بہت مبارک ہو۔‘‘

’’تھینک یو۔‘‘ پری نے مختصر جواب دیا۔

پھر اس نے ایک نظر وقت کی طرف دیکھا اور کہا،
’’مجھے جانا ہوگا۔‘‘

’’ضرور،‘‘ زین نے فوراً کہا، ’’اب تو ملاقات ہوتی رہے گی۔‘‘

پری نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں، بس مختصر سا کہا،
’’خدا حافظ۔‘‘

وہ مڑ کر وہاں سے آگے بڑھ گئی۔

پری زین کو پہچان چکی تھی کہ وہ کون ہے، مگر اس نے جان بوجھ کر اس بات کو اہمیت نہیں دی۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھتی چلی گئی، جبکہ زین وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

’’اب تو ملاقات ہوتی رہے گی،‘‘ اس نے زیرِلب دہرایا۔

کچھ فاصلے پر کھڑا عرشمان یہ سب دیکھ رہا تھا۔ زین کی نظریں اب بھی پری کے تعاقب میں تھیں، اور یہ بات عرشمان کو بالکل پسند نہیں آئی۔ اس نے زین کی طرف سخت نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
عرشمان چلتا ہوا اس کے پاس ایک گزرنے لگا کہ زین اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس کا راستہ روک لیا۔

عرشمان نے رک کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں صاف غصہ تھا۔

زین نے ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
’’ہیلو، پارٹنر! کیسے ہو؟‘‘

عرشمان نے اسے سرد نظروں سے گھورا اور سخت لہجے میں کہا،
’’میں تمہارا پارٹنر نہیں ہوں۔‘‘

زین کی مسکراہٹ ذرا گہری ہو گئی۔
’’ارے، ابھی سے غصہ؟ اتنے عرصے بعد ملاقات ہوئی ہے اور تم ابھی سے غصے میں آ گئے؟‘‘
پرانا دوست ہوں یار حال چال تو پوچھو۔۔
عرشمان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

زین نے اسے چند لمحے دیکھا، پھر بولا،
’’ویسے تم پاکستان کیسے آ گئے؟‘‘

عرشمان بدستور خاموش رہا۔

زین نے طنزیہ انداز میں کہا،
’’اب بھی وہی انداز ہے تمہارا…

عرشمان نے سپاٹ لہجے میں کہا،
’’راستے سے ہٹو۔‘‘

زین ایک طرف ہوتے ہوئے مسکرایا۔
’’ضرور، پارٹنر۔‘‘

عرشمان نے اسے ایک سخت نظر سے دیکھا اور بغیر کچھ کہے آگے بڑھ گیا۔

+++++++++++

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *