سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر11
صبح کے وقت ایمان کچن میں کھڑی ناشتا بنا رہی تھی، جبکہ اقراء بھی وہیں موجود تھی۔ کچن میں صبح کی خاموش فضا کے درمیان برتنوں کی ہلکی ہلکی آوازیں گونج رہی تھیں۔
اتنے میں ماں نے اقراء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’پتا ہے، محلے والے تمہارے بارے میں نہ جانے کیا کیا باتیں بنا رہے ہیں۔‘‘
اقراء کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گئے، مگر اس نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
ماں بولتی رہی۔
’’کل بھی محلے کی فلاں عورت مجھے روک کر تمہارے بارے میں نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھی۔ کہتی ہے، ہماری بیٹی کی وجہ سے پورے علاقے میں طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘‘
ایمان خاموشی سے ناشتہ بناتی رہی اور ماں کی ہر بات سن رہی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ اقراء نے کچھ غلط نہیں کیا تھا، مگر لوگوں کو حقیقت سے کیا غرض تھی؟
ان کے پاس بس باتیں تھیں۔۔۔
اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ باتیں مزید بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔
ایمان نے ناشتہ بناتے ہوئے ماں کی باتیں سنیں تو آخرکار خاموش نہ رہ سکی۔
’’امّی، لوگوں کی باتیں تو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ کیا ہم لوگوں کی باتوں کی وجہ سے جینا چھوڑ دیں؟ ۔ کیا وہ ساری زندگی اسی طرح مار کھاتی رہتی؟ کیا آپ کو اچھا لگتا ہے یہ سب؟‘‘
ماں نے بے بسی سے اسے دیکھا۔’’نہیں، میں تو یہ نہیں چاہتی۔۔۔‘‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتیں، اقراء نے خاموشی سے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر پُرسکون لہجے میں بولی’’میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔‘‘
ماں اور ایمان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’کیسا فیصلہ؟‘‘
اقراء نے گہری سانس لی۔
’’ہم لوگ یہاں سے شفٹ ہو جائیں گے۔ بس۔ میں ایک دو دن میں دوبارہ جاب شروع کرنے والی ہوں اور ساتھ ہی گھر بھی دیکھ رہی ہوں۔ جیسے ہی مناسب گھر مل گیا، ہم یہاں سے شفٹ ہو جائیں گے۔‘‘
ایمان کے چہرے پر فوراً اطمینان آ گیا۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ‘اچھا ہے ہماری ان لوگوں سے جان چھوٹے گی۔۔
ان کے والد کچن کے باہر کھڑے اپنی بیوی اور بیٹیوں کی باتیں سن رہے تھے۔ ان کے چہرے پر بے بسی چھائی ہوئی تھی۔ وہ خاموشی سے سب سنتے رہے، مگر کسی سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے۔ آخرکار وہ بوجھل قدموں کے ساتھ واپس پلٹ گئے۔
انہوں نے ساری زندگی محنت مزدوری کرکے اپنی بیٹیوں کو پالا پوسا تھا۔ خود تکلیفیں برداشت کیں، اپنی خواہشات کو قربان کیا، مگر ہمیشہ یہی کوشش کی کہ ان کی بیٹیوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔ لیکن آج حالات نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو سہارا دینا تو دور، ان کے لیے کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے
۔
اس فیصلے کی ایک اور وجہ بھی تھی، جس کا ذکر ایمان
نے آج تک اپنی بہن سے نہیں کیا تھا۔
اسے اپنے بہنوئی زہر سے بھی برا لگتا تھا۔ جب بھی وہ گھر آتا، اس کی نظریں ایمان کو بے چین کر دیتی تھیں۔ وہ بہت ہی گندی نظروں سے ایمان کو دیکھتا تھا۔۔اس کا انداز ایسا ہوتا کہ ایمان خود کو اس کے سامنے غیرمحفوظ محسوس کرتی۔
ایک بار اس نے ایمان کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش بھی کی تھی، مگر ایمان نے کبھی یہ بات اقرا کو نہیں بتائی تھی۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بہن پہلے ہی اتنی مشکلات کے درمیان ایک اور پریشانی میں مبتلا ہو۔
مگر اب جب اقراء طلاق لے رہی تھی اور اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ایمان کے دل سے جیسے ایک بوجھ سا کم ہو گیا تھا۔
اسے خوشی تھی کہ اس کی بہن بھی اس ماحول سے آزاد ہو رہی تھی۔۔۔
اور شاید وہ خود بھی۔
مگر اس کے باوجود ایمان کچھ پریشان سی دکھائی دے رہی تھی۔
اقراء نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
’’تم کچھ پریشان نظر آ رہی ہو۔‘‘
ایمان نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
’’نہیں، کچھ نہیں۔ بس پیپرز کی ٹینشن ہے، اسی وجہ سے۔‘‘
اقراء نے پوچھا۔
’’تمہارے پیپرز کب ہیں؟‘‘
’’دو مہینے بعد۔‘‘
ایمان نے مختصر سا جواب دیا۔
کچھ دیر بعد سب نے ناشتہ کیا۔ پھر ایمان یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہوئی اور اپنا بیگ اٹھا کر گھر سے باہر نکل گئی۔
مگر اسے کیا معلوم تھا کہ آج اس کی زندگی کا اخری دن ہوگا۔۔۔
ایک گلی کراس کرنے کے بعد جب وہ دوسری گلی کراس کر رہی تھی تو اچانک اسے اپنے اردگرد کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔
ایمان کے قدم ایک لمحے کے لیے رک گئے۔
اس نے بے اختیار اپنے دائیں بائیں دیکھا، جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہو۔۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی، پھر اپنے دل کو سمجھاتے ہوئے دوبارہ آگے بڑھ گئی۔۔۔
صبح کا وقت تھا۔ گلی میں معمول سے بھی زیادہ خاموشی تھی۔ آس پاس کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہ تیسری گلی کراس کرنے ہی والی تھی کہ اچانک سامنے سے ایک لڑکا آتا دکھائی دیا۔
ایمان کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئی۔ دل میں ایک انجانا سا خوف جاگا۔
وہ پیچھے ہٹنے ہی والی تھی کہ اس سے پہلے ہی وہ شخص تیزی سے اس کے قریب آیا۔
ایمان کچھ سمجھ پاتی، اس سے پہلے ہی اسے زبردستی قابو کر لیا گیا اور وہ چند ہی لمحوں میں ہوش و حواس کھو بیٹھی۔
سنسان گلی میں وہ بے سدھ ہو کر گرنے لگی تو وہاں دو لوگوں نے فوراً اسے سنبھال لیا۔
اسی دوران دور سے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
وہ لوگ گھبرا گئے۔
انہوں نے جلدی سے ایمان کو اٹھایا اور قریب کھڑی گاڑی کی طرف لے گئے۔ چند ہی لمحوں بعد گاڑی وہاں سے تیزی سے نکل گئی اور سنسان گلی ایک بار پھر خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔۔
جب ایمان کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک اجنبی کمرے میں پایا۔
کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی۔
اس نے آنکھیں کھول کر چند لمحے خالی نظروں سے چھت کو دیکھا، جیسے اسے سمجھ ہی نہ آ رہا ہو کہ وہ کہاں ہے۔
دیوار پر لگی گھڑی پر نظر پڑی تو دن کے بارہ بج رہے تھے۔
ایمان فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’میں کہاں ہوں؟‘‘
اس نے گھبرا کر اپنے اردگرد دیکھا۔
کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی۔ صرف ایک دروازہ تھا۔
وہ فوراً اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی اور اسے کھولنے کی کوشش کی، مگر دروازہ باہر سے لاک تھا۔
ایمان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
اس نے دوبارہ دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
وہ گھبرا کر دروازے پر ہاتھ مارنے لگی۔
’’کوئی ہے؟‘‘
کوئی جواب نہیں آیا۔
ایمان کی آواز میں خوف بڑھ گیا۔
’’کوئی ہے؟ پلیز! مجھے یہاں سے باہر نکالو!‘‘
وہ بار بار دروازہ کھٹکھٹاتی رہی، مگر باہر مکمل خاموشی تھی۔
اب اسے واقعی خوف محسوس ہونے لگا تھا۔
اس نے کمرے کے چاروں طرف نظریں دوڑائیں، مگر وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ایمان ابھی اسی سوچ میں کھڑی تھی کہ اچانک دروازے کے لاک کھلنے کی آواز سنائی دی۔
وہ ایک دم سیدھی ہو کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔
اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا اور ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔
ایمان کی نظریں جیسے ہی اس کے چہرے پر پڑیں، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
وہ چند لمحوں تک بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی۔
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
وہ لڑکا کوئی اجنبی نہیں تھا۔۔۔
بلکہ اس کی اپنی یونیورسٹی کا فیلو حمزہ تھا۔
ایمان کے چہرے پر خوف کے ساتھ حیرت بھی نمایاں ہو گئی۔
’’تم۔۔۔؟‘‘
اس کے لبوں سے بمشکل ایک لفظ نکلا۔
مگر سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں تھی، جیسے وہ پہلے ہی جانتا ہو کہ ایمان اسے پہچان لے گی۔
حمزہ اکثر یونیورسٹی میں اس کے آگے پیچھے گھومتا رہتا تھا۔ کئی بار وہ ایمان کو تنگ کرنے کی کوشش کر چکا تھا۔ ایک دو مرتبہ تو اس نے حد پار کرنے کی کوشش کی، جس پر ایمان نے سب کے سامنے اسے تھپڑ بھی مارا تھا۔
اس کے باوجود حمزہ باز نہیں آیا تھا۔
نہ جانے اسے ایمان کا نمبر کہاں سے مل گیا تھا۔ وہ آئے دن نئے نمبروں سے اسے کال کرتا، میسجز بھیجتا اور ایسی بے ہودہ باتیں کرتا جنہیں پڑھ کر ایمان کا خون کھول اٹھتا۔
ایمان ہر بار بغیر کچھ سوچے اسے بلاک کر دیتی، مگر کچھ دن بعد ایک نئے نمبر سے پھر کال آ جاتی۔
یونیورسٹی میں بھی وہ اس کا پیچھا کرنے سے باز نہیں آتا تھا۔
مگر آج اسے یہاں دیکھ کر ایمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔
وہ ابھی حمزہ کو ہی دیکھ رہی تھی کہ دروازے سے ایک اور لڑکا اندر داخل ہوا۔
ایمان کی سانس جیسے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔
وہ حارث تھا۔
حارث۔۔۔
اس کا پڑوسی، جو تیسری گلی میں رہتا تھا اور اسی کی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔
وہ بھی اکثر آتے جاتے ایمان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتا تھا۔
مگر سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ حمزہ اور حارث صرف یونیورسٹی کے ساتھی نہیں تھے۔
وہ دونوں بچپن کے دوست تھے۔
اسکول سے لے کر کالج اور پھر یونیورسٹی تک، دونوں ہمیشہ ساتھ رہے تھے۔
ایمان کی نظریں دونوں پر جمی رہ گئیں۔
اب اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ زیادہ خوفزدہ ہو یا حیران۔
جس شخص سے وہ پہلے ہی تنگ تھی، وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
اور اس کے ساتھ وہ شخص بھی موجود تھا جسے وہ برسوں سے اپنا پڑوسی سمجھتی آئی تھی۔
اس لمحے ایمان کو پہلی بار احساس ہوا کہ شاید اسے یہاں اتفاقاً نہیں لایا گیا تھا۔۔۔۔
حارث اپنے چند آوارہ دوستوں کے ساتھ کھڑا ہنسی مذاق کر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر سامنے سے گزرتی ہوئی ایمان پر پڑی۔
اس نے فوراً سیٹی بجائی۔
’’ہیلو بیبی! کیسی ہو؟ اپنے بابو سے بات نہیں کرو گی؟‘‘
ایمان نے ایک نظر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا اور اسے مکمل نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
حارث نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور مسکرا دیا۔
اگلے روز بھی وہ جان بوجھ کر ایمان کے راستے میں آ کھڑا ہوا۔
’’ہیلو بیبی!‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا، ’’میں تمہیں بہت پسند کرتا ہوں۔ کیا تم مجھے اپنا نمبر دو گی؟‘‘
ایمان نے غصے سے اسے دیکھا۔
’’مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے، اور پلیز دوبارہ اس طرح میرا راستہ مت روکنا۔‘‘
وہ اسے دو ٹوک جواب دے کر آگے بڑھ گئی۔
حارث نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اسے جاتے ہوئے دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
’’ایسے نہیں پگھلے گی۔۔۔ تھوڑے پاپڑ تو بیلنے پڑیں گے۔‘‘
اگلے دن وہ ایک بار پھر ایمان کے سامنے آ گیا۔
’’دیکھو، میں تمہیں سچ میں پسند کرتا ہوں۔ بہت شدت سے پسند کرتا ہوں۔‘‘
ایمان نے اسے چند لمحے خاموشی سے دیکھا، پھر مضبوط لہجے میں بولی،
’’حارث، پسند اور زبردستی میں فرق ہوتا ہے۔ میں نے تمہیں پہلے بھی صاف جواب دیا تھا۔ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں، اس لیے میری بات سمجھو اور میرا پیچھا کرنا بند کرو۔‘‘۔۔
ایک دن حمزہ اپنے دوست حارث کے ساتھ یونیورسٹی کے ایک کونے میں بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا۔ اچانک حارث اس کی نظر دور سے آتی ہوئی ایمان پر پڑی۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر اپنے دوست کی طرف متوجہ ہوا۔
جہاں حمزہ کہتا ہے یار آج کل کوئی ڈھنگ کی لڑکی ہی نہیں ملی۔ یہاں تو بالکل مزہ نہیں آ رہا۔”
حارث کے دماغ میں شیطانی ائی اس نے جان بوجھ کر کہا کیا میں تمہیں لڑکی بتاؤں۔۔
حمزہ نے فوراً پوچھا، “کون سی لڑکی؟ جلدی بتاؤ۔”
تمہارے لیے آج میں ایک ٹارگٹ دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسے پٹا لیا نا، تو میں مان جاؤں گا۔”
اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا، جہاں ایمان پُرسکون انداز میں چلتی ہوئی ان کی طرف آ رہی تھی۔
حمزہ کی نظر ایمان پر پڑی تو اس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“واہ! کیا کمال چیز دکھائی ہے تم نے۔ نئی لگتی ہے۔”
“ہاں، بالکل نئی۔”
حمزہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“اب تو دیکھ، میں کیا کرتا ہوں۔”
وہ اکڑتا ہوا ایمان کے راستے میں جا کر بالکل اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
“ہائے کیوٹی! کیسی ہو؟”
ایمان نے ایک نظر اسے دیکھا، پھر بغیر کسی جواب کے اسے نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔ وہ ایسے لڑکوں کو اچھی طرح جانتی تھی اور ہمیشہ ان سے فاصلہ رکھتی تھی۔ یونیورسٹی کے یہ آوارہ امیرزادے اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے بل پر خود کو ہر کسی سے برتر سمجھتے تھے، مگر ایمان کو ان کی ذرا بھی پروا نہیں تھی۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھ رہی تھی کہ حمزہ نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
ایمان کا توازن بگڑا اور وہ سیدھا اس کے سینے سے جا لگی ایمان نے ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اس نے خود کو اس کے قریب ہونے سے روکا۔۔۔
اس حرکت پر ایمان کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔ ایسی گھٹیا حرکت پر ایمان کا غصے سے برا حال تھا۔ اس کا چہرہ غصے کی شدت سے ایک دم سرخ ہو گیا تھا، جبکہ آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔اس نے غصے سے حمزہ کو دیکھا اور اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا۔
تڑاخ!
اچانک چھائی خاموشی میں تھپڑ کی آواز صاف سنائی دی۔
حمزہ چند لمحوں کے لیے بالکل ساکت رہ گیا۔
وہ غصے میں آگے بڑھا اور ایمان کے بال پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“تم تو میں۔۔۔”
مگر اس کے جملے کے مکمل ہونے سے پہلے ہی ایمان نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔
ایمان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ وہ انگلی اٹھا کر حمزہ کو خبردار کرتے ہوئے بولی،
“خبردار! میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا۔ ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اس سے بھی برا جواب دوں گی۔”
حمزہ اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔
ایمان نے غصے سے اسے گھورا اور بولی،
“تم جیسے گھٹیا انسانوں سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ تم لوگ ہمیشہ لڑکیوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر ان کی طرف ایسی نظروں سے دیکھتے ہو، پھر انہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ لیکن جب کوئی لڑکی تمہیں نظرانداز کر دے تو تم لوگ اس کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہو۔”
وہ ایک قدم پیچھے ہٹی اور سخت لہجے میں بولی،
“آج کے بعد اگر تم نے دوبارہ ایسی حرکت کی یا میرا راستہ روکنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”
یہ کہتے ہوئے ایمان نے اسے آخری بار گھورا، پھر غصے سے وہاں سے چلی گئی۔
حمزہ غصے سے اپنی مٹھی بھینچتا ہوا اسے جاتے دیکھتا رہا۔
“اسے میں چھوڑوں گا نہیں۔”
حارث نے اس کے قریب آتے ہوئے پوچھا،
“اب کیا ارادہ ہے؟”
حمزہ کی آنکھوں میں عجیب سی ضد اتر آئی۔
“کسی بھی طرح اسے اپنے قابو میں کرنا ہے۔”
دونوں نے وہیں کھڑے ہو کر ایمان کے خلاف ایک منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔
اگلے دن حمزہ نے جان بوجھ کر دو لڑکیاں سے دوستی کی اور انہیں اپنے منصوبے میں شامل کر لیا۔ اس نے ان سے کہا کہ وہ ایمان سے دوستی کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ان کی مدد چاہیے۔
“مجھے وہ لڑکی بہت پسند ہے۔ میں اس سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم لوگ میری مدد کرو گی؟”
لڑکیوں کو حمزہ کی بات سچ لگی۔ اور ویسے بھی انہیں پیسوں سے مطلب تھا کیونکہ انہیں پیسے مل رہے تھے اس کام کے۔۔انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس کے پیچھے کوئی اور مقصد چھپا ہوا ہے۔
چند دن بعد وہ جان بوجھ کر ایمان سے دوستی بڑھانے لگیں۔ پھر ایک دن اسے شاپنگ کے بہانے مال لے گئیں۔
ایمان کو ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔
وہ مال میں ان لڑکیوں کے ساتھ گھوم رہی تھی کہ اچانک وہ دونوں غائب ہو گئیں۔
“یہ کہاں چلی گئیں؟”
ایمان نے انہیں فون کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی جواب نہ ملا۔
وہ پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے انہیں تلاش کرنے لگی۔ حمزہ اور حارث پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے اور کچھ فاصلے پر اس کا پیچھا کر رہے تھے۔
جب ایمان نے حارث اور حمزہ کو اپنا پیچھا کرتے دیکھا تو وہ مزید پریشان ہو گئی۔ وہ بار بار ان لڑکیوں کو فون کر رہی تھی، مگر دوسری طرف سے کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔
اسے اب واضح طور پر کچھ گڑبڑ محسوس ہونے لگی تھی۔
ایمان جان بوجھ کر مال کی رش والی جگہ کی طرف بڑھنے لگی تاکہ وہ دونوں اس کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکیں جس سے وہ مشکل میں پڑ جائے۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر حارث اور حمزہ کو دیکھ رہی تھی، جبکہ وہ دونوں مسلسل اس کے پیچھے آ رہے تھے۔
ہنی نے اسے دیکھا، پھر اس کے چہرے پر پریشانی محسوس کرتے ہوئے فوراً اس کے قریب آ گئی۔
“کیا ہوا۔۔آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے کیا۔۔
ایمان نے اسے ساری بات بتائی تو ہنی نے اسے تسلی دی، جبکہ کچھ فاصلے پر کھڑے حمزہ اور حارث دونوں کی نظریں انہی پر تھیں۔
حمزہ نے ہنی کو دیکھا تو اس کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
ہنی کی وجہ سے ان کا پلان خراب ہو گیا تھا۔۔۔
ایمان نے جب اس لڑکی کو دیکھا جس نے ان لڑکوں کو جس طرح سبق سکھایا تھا، تو دل ہی دل میں اسے خوشی بھی ہوئی۔ اسے اچھا لگا تھا کہ کسی نے اس کا ساتھ دیا، مگر ساتھ ہی ایک انجانا خوف بھی اس کے دل میں بیٹھ گیا۔۔
اسی خوف کی وجہ سے وہ بری طرح گھبرا گئی تھی۔
اس لڑکی نے جب اسے پریشان دیکھا تو فوراً اس کی مدد کرنے کی کوشش کی اور پوچھا،
“اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ، شاید میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں۔”
مگر ایمان گھبرا گئی۔
“نہیں، نہیں… میں خود چلی جاؤں گی۔”
یہ کہتے ہوئے وہ جلدی سے وہاں سے چلی گئی۔
گھر پہنچنے کے بعد بھی اس کے ذہن سے وہ سارا واقعہ نکل نہیں رہا تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھی بار بار یہی سوچ رہی تھی کہ اگر اگلی بار بھی ایسا کوئی مسئلہ ہوا تو وہ کیا کرے گی؟
آج تو اس لڑکی نے اچانک آ کر اس کی مدد کر دی تھی، مگر اگلی بار کیا ہوگا؟
وہ یہ بات گھر والوں کو بھی نہیں بتا سکتی تھی۔ گھر میں پہلے ہی اس کی بڑی بہن کی طلاق کی وجہ سے سب بہت پریشان تھے۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے گھر والوں کی پریشانی مزید بڑھ جائے۔
وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں تھی۔ ایک طرف یونیورسٹی، دوسری طرف گھر کے حالات، اور اب حمزہ اور حارث کا مسئلہ اسے اندر ہی اندر پریشان کیے جا رہا تھا۔۔۔۔
“تم لوگ۔۔۔؟”
اس کی آواز خوف اور حیرت سے لرز گئی۔
حمزہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“آخر تمہیں سمجھ آ ہی گیا کہ ہم تمہیں اتنی آسانی سے چھوڑنے والے نہیں تھے۔”
ایمان نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا،
“تم لوگوں نے مجھے یہاں کیوں لایا ہے؟ مجھے فوراً جانے دو۔”
حارث خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا، جبکہ ایمان نے دروازے کی طرف دیکھا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ مشکل میں ہے، مگر اس کے باوجود اس نے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔
“اگر تم سمجھتے ہو کہ مجھے ڈرا کر اپنی مرضی کروا لو گے تو یہ تمہاری بھول ہے۔”
حمزہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
“اب بھی اتنا ہی غرور ہے؟”
ایمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا،
“غرور نہیں، تم جیسے لوگوں سے خوفزدہ نہ ہونے کی عادت ہے۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
ایمان کے دل میں خوف ضرور تھا، مگر وہ گھبرا کر ان کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرے گی۔۔۔۔
حارث ایمان کی بات سن کر طنزیہ انداز میں ہنس پڑا۔
“یہ دیکھنے کے بعد بھی شاید تم میں اتنی ہمت نہیں رہے گی۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے فوراً اپنا موبائل نکالا اور اس میں کچھ کھول کر ایمان کے سامنے کر دیا۔
موبائل کی اسکرین پر نظر پڑتے ہی ایمان کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئیں۔ اس کی بے ہوشی کے دوران اس کی ایک نامناسب ویڈیو بنائی گئی تھی۔
ایمان چند لمحوں تک ساکت نظروں اسکرین کو دیکھتی رہی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
حارث نے موبائل واپس کرتے ہوئے کہا،
“اب شاید تمہیں اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ہمارے ہاتھ میں کیا ہے۔”
اپنی ویڈیو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس لمحے اسے خود سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔ دل میں بار بار ایک ہی خیال اٹھ رہا تھا کہ کاش وہ یہ سب دیکھنے سے پہلے ہی مر گئی ہوتی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح اس اذیت کو برداشت کرے۔ شرمندگی کے احساس سے اس کی نظریں جھک گئی تھیں، جیسے وہ خود اپنی نظروں میں بھی مجرم بن چکی ہو، حالانکہ قصور اس کا تھا ہی نہیں۔
مگر دوسری طرف، وہ دونوں لڑکے جنہوں نے اس کی ویڈیو بنائی تھی، ان کی آنکھوں میں ذرا سی بھی شرمندگی نہیں تھی۔ ان کے چہروں پر پچھتاوے کا کوئی نشان تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جیسے انہوں نے کچھ غلط کیا ہی نہ ہو، جیسے کسی کی عزت اور جذبات سے کھیلنا ان کے لیے کوئی معنی ہی نہ رکھتا ہو۔
کیا انہیں ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی کی بیٹی ہے؟ کسی کی بہن ہے؟ ایک ایسی لڑکی جس کی عزت اور وقار کو انہوں نے اپنے چند لمحوں کے گھناؤنے عمل سے مجروح کر دیا تھا۔ آخر ان کے دلوں میں اتنی بے حسی کہاں سے آ گئی تھی کہ انہیں اپنی حرکت پر ذرا سا بھی افسوس نہیں ہو رہا تھا؟
وہ تو شرمندگی کے بوجھ تلے دبی جا رہی تھی، جبکہ اصل شرمندگی تو ان دونوں کو ہونی چاہیے تھی۔ غلطی ان کی تھی، مگر اس کا بوجھ وہ لڑکی اٹھا رہی تھی جس کے ساتھ ظلم ہوا تھا۔
“کیا تم لوگوں کو اپنی ماں بہنوں کا ذرا سا بھی خیال نہیں کہ دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ ایسا کرو؟”
ایمان کی آواز آنسوؤں سے بھیگ چکی تھی۔
“پلیز… مجھے جانے دو، اور وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دو۔”
حارث اس کی بے بسی دیکھ کر بھی ذرا نہ پسیجا۔ اس کے چہرے پر ایک بے رحم مسکراہٹ آ گئی۔۔۔
بلکہ اسے تو خوشی ہو رہی تھی۔ وہ اسے اس طرح بے بسی سے اپنے آگے ہاتھ جوڑتے دیکھ کر ہنس رہا تھا، جیسے اس کی بے بسی اسے مزید محظوظ کر رہی ہو۔
“ڈیلیٹ؟ ہم نے بنائی ہی اس لیے تھی کہ تمہیں اپنے قابو میں رکھ سکیں۔ اگر ڈیلیٹ ہی کرنی ہوتی تو اتنی محنت کیوں کرتے؟”
ایمان کا دل جیسے ڈوب گیا۔
“اور یہاں سے جانے کی بات تو بھول ہی جاؤ۔ جب تک تم ہماری بات نہیں مانو گی، ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے۔”
ان کے ارادے سمجھتے ہی ایمان خوف سے پیچھے ہٹنے لگی، یہاں تک کہ اس کی پشت دیوار سے جا لگی۔
“خبردار! تم لوگوں نے میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی تو…”
اس کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی، مگر وہ پھر بھی انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
حمزہ نے طنزیہ انداز میں اسے دیکھا۔
“اب بھی تم میں اتنی اکڑ باقی ہے؟”
پھر اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا،
“اگر نہیں چاہتیں کہ تمہاری وہ ویڈیو پوری دنیا تک پہنچے، تو ہماری بات ماننی ہوگی۔”
“نہیں۔۔۔ بالکل نہیں!”
ایمان فوراً رو پڑی۔ وہ ان دونوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی،
“پلیز، مجھے جانے دو۔ خدا کے لیے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دو۔”
اس کی آواز میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔
“تم لوگوں کو ذرا احساس نہیں کہ تم کیا کر رہے ہو؟ میرے ماں باپ پہلے ہی بہت پریشان ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں… میں ایک غریب لڑکی ہوں۔ میرے پاس دولت نہیں، میرے پاس صرف اپنی عزت ہے۔”
وہ روتے ہوئے بولتی چلی گئی۔
“تم لوگ امیرزادے ہو، تمہیں کسی کی مجبوری کا احساس نہیں ہوتا۔ تمہیں ہزاروں لڑکیاں مل جائیں گی، پھر میں ہی کیوں؟ پلیز… مجھے جانے دو۔”
مگر حمزہ اور حارث کے چہروں پر ذرہ بھر رحم نہیں آیا۔
حمزہ نے سرد نظروں سے اسے دیکھا اور بے رحمی سے کہا،
“تم وہ ضد ہو جو اب ہماری ضد بن چکی ہے۔ تم نے ہمیں سب کے سامنے ٹھکرایا تھا۔ ہماری انا کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ اب اتنی آسانی سے تمہیں جانے نہیں دیں گے۔”
ایمان اسے دیکھ کر سہم گئی۔ اس لمحے اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ سامنے کھڑے دونوں لڑکے اس کی التجاؤں کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔۔۔
ایمان نے گھبرا کر اپنے آس پاس دیکھا۔ اس کے ذہن میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا۔ اسے صرف کسی طرح اس جگہ سے نکلنا تھا۔
اسی لمحے حمزہ ایک قدم آگے بڑھا۔
ایمان فوراً دیوار سے لگ گئی اور چیخ کر بولی،
“پلیز! میرے پاس مت آؤ… میرے پاس مت آؤ!”
مگر حمزہ رکنے والا نہیں تھا۔
ایمان نے خود کو بچانے کی کوشش کی اور مسلسل چیختی رہی،
“مجھے چھوڑ دو! پلیز، مجھے جانے دو!”
اس کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی، مگر دونوں کے رویے میں ذرا سا رحم بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
حمزہ نے حارث کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہا،
“یار، یہ تو بہت ہاتھ پاؤں چلا رہی ہے۔”
حارث نے سرد نظروں سے ایمان کو دیکھا۔
“ہاں، مشکل تو ہوگی۔”
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، جیسے کسی نئے منصوبے کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔
ایمان ان کی نظریں دیکھ کر مزید خوفزدہ ہو گئی۔
“تم لوگ کیا کرنے والے ہو؟”
مگر اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں آیا۔
کمرے میں ایمان کی گھبرائی ہوئی آواز اور ان دونوں کی خاموش نظریں ایک خطرناک خاموشی پیدا کر رہی تھیں۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اسے خود کو بچانے کے لیے کسی نہ کسی طرح موقع تلاش کرنا ہوگا۔۔۔
ایمان نے موقع دیکھتے ہی حمزہ کو پوری طاقت سے دھکا دیا اور فوراً دروازے کی طرف بھاگنے لگی۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ اسے بس کسی طرح اس کمرے سے باہر نکلنا تھا۔
مگر وہ دروازے تک پہنچ پاتی، اس سے پہلے حارث نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا اور اسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔
ایمان اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سیدھی بیڈ پر جا گری۔
وہ فوراً اٹھنے کی کوشش کرنے لگی، مگر دونوں کو اپنے قریب دیکھ کر اس کے چہرے پر خوف مزید نمایاں ہو گیا۔
حارث نے غصے میں ایمان کو ایک تھپڑ مارا۔
“کمینی! دوبارہ بھاگنے کی کوشش کرے گی؟ اب بھاگ کر دکھا!”
ایمان چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر اس کے چہرے پر خوف کے ساتھ غصہ بھی نمایاں تھا۔
وہ کانپتی ہوئی حارث کو دیکھنے لگی، جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ کوئی انسان اتنی بے رحمی سے کسی کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔۔۔
وہ فوراً روتے ہوئے اس سے واسطہ دینے لگی۔
“پلیز۔۔۔ تم تو میرے پڑوسی ہو۔ تمہیں تو سب پتا ہے۔ تمہاری امی ہمارے گھر بھی آتی ہیں۔ پلیز، تم تو مجھے جانے دو۔”
حارث نے اس کی بات سن کر بھی کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ اس نے بے اعتنائی سے اسے دیکھا اور جھٹ سے جواب دیا،
“بس کرو! مجھے تمہاری ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔
دونوں پر جیسے کسی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ان کے اندر کی انسانیت جیسے ختم ہو چکی تھی، اور وہ ایمان کی کسی فریاد کو سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
ایمان مسلسل چیخ رہی تھی، رو رہی تھی، انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر انہیں اس کی کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
وہ بار بار مدد کے لیے پکار رہی تھی، مگر اس کمرے کی بند دیواروں کے درمیان اس کی آواز کہیں گم ہو رہی تھی۔
حارث نے اس کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ باندھے اب وہ بالکل بے بس ہو گئی تھی ۔۔۔
حمزہ نے اسے کہا تم نے ہاتھوں باندھ دیے تو پاؤں کون باندھے گا۔۔۔
جس پر حارث میں اگے پیچھے دیکھا کوئی چیز نہیں تھی جس سے اس کے پاؤں باند سکے۔۔۔
حمزہ کہتا ہے تم اگے پیچھے کیوں دیکھ رہے ہو اس سے کہ جسم سے اتار لو۔۔اور اس کے بعد سمجھتے ہوئے ہنس پڑا۔۔جبکہ حمزہ نے اگے بڑھ کر اس کی قمیض کھینچ کر اتار دی۔۔قمیض اگے سے پٹ گئی تھی۔۔
حمزہ نے وہ اٹھا کر اور حارث کی طرف پھینکی جب کہ ایمان نے اپنی انکھیں بند کر لی تھی ۔۔شرم سے بے بسی سے وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی۔۔۔
وہ حیوان بن چکے تھے، درندے بن چکے تھے۔ ایسے بھیڑیے، جن کے لیے لڑکیوں کی عزت اور زندگی کی کوئی قیمت نہ تھی، جو اپنی ہوس کے آگے ہر حد پار کر جاتے تھے۔
ایمان مسلسل چیخ رہی تھی، رو رہی تھی، انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر انہیں اس کی کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
۔
“یا اللہ۔۔۔ میری مدد کرو۔۔۔ مجھے ان درندوں سے بچا لو!”
ایمان کی چیخیں بند کمرے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ وہ مسلسل روتی اور مدد کے لیے پکارتا رہی، مگر اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔
حمزہ نے اس کی چیخیں سنتے ہوئے تنگ ا کر پاس پڑا ہوا ڈیکوریشن پیس اس کے سر میں دے مارا۔۔۔جس کی وجہ سے اس کے سر سے خون نکلنے لگا اس نے چاہا کہ وہ مر جائے۔۔
مسلسل ظلم اور اذیت برداشت کرتے کرتے ایمان کی آنکھیں بوجھل ہو کر بند ہو گئیں۔ ہوش کی ڈوبتی کیفیت میں اس کے لبوں سے بس آخری الفاظ نکلے۔۔
“اللہ جی۔۔۔”
اور وہ رات اس کی زندگی پر ایک ایسا زخم چھوڑ گئی جسے وقت بھی آسانی سے مٹا نہیں سکتا تھا۔
صرف ایک لفظ اس کے لبوں سے نکلا، اور پھر اس کی آواز ہمیشہ کے لیے جیسے اس کے اندر کہیں دفن ہو گئی۔
ان درندوں نے اس کے ساتھ ایسا ظلم کیا کہ اس کی چیخیں اسی کمرے کی چار دیواری میں دفن ہو کر رہ گئیں۔۔۔
کمرے میں چھائی خاموشی اس رات کے ظلم کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
+++++++++++
سب خان ہاؤس میں موجود تھی اور دن کے وقت کھانا کھا رہتی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد ہنی ٹی وی لاؤنج میں جا کر بیٹھ گئی، جہاں خان صاحب پہلے ہی صوفے پر بیٹھے نیوز چینل دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی آج واپس آ گئے تھے۔
اچانک ٹی وی پر ایک ایسی خبر نشر ہوئی جس نے ہنی کو اپنی جگہ ساکت کر دیا۔
ٹی وی اسکرین پر نیوز چل رہی تھی کہ لاہور کے ایک ویران علاقے سے ایک نوجوان لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لڑکی کی عمر بائیس سال بتائی جا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
اسی دوران ٹی وی اسکرین پر اس لڑکی کی تصویر بھی دکھائی گئی۔
ہنی کی پہلی نظر جیسے ہی اس تصویر پر پڑی، اس کی آنکھیں صدمے سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ فوراً صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
کیونکہ ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والی وہ لڑکی ۔۔
وہ کوئی اور نہیں، بلکہ وہی لڑکی تھی جس کی ہنی نے کچھ دن پہلے مال میں مدد کی تھی۔
ہنی کے ہاتھ سے ریموٹ اچانک پھسل کر نیچے جا گرا۔ وہ ساکت کھڑی اسکرین کو دیکھتی رہی، جیسے اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آ رہا ہو۔
خان صاحب نے فوراً اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔
“ہنی! کیا ہوا؟”
ہنی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس خاموشی سے کانپتے ہاتھ سے ٹی وی اسکرین کی طرف اشارہ کر دیا۔
افی نے بھی نیوز کی آواز سنی تو فوراً ٹی وی کی طرف دیکھا۔ اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویر دیکھتے ہی وہ بھی وہیں ساکت رہ گئی۔ اس کے چہرے پر بھی صدمہ واضح تھا۔
پری خاموشی سے سب کے چہرے دیکھ رہی تھی۔ ہنی اور افی کو اس طرح ٹی وی کی طرف دیکھتے دیکھ کر اس نے بھی اپنی نظریں اسکرین کی طرف اٹھائیں۔
چند لمحوں تک پری کی نگاہیں ٹی وی اسکرین پر جمی رہیں، پھر اس نے ہنی کی طرف دیکھا، جو اب بھی بے یقینی کے عالم میں اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔
اسی دوران رومی کچن سے باہر آئی۔ وہ بی جان کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ سب کو یوں خاموش کھڑا دیکھ کر وہ حیرت سے رک گئی۔
“کیا ہوا؟ سب اتنے خاموش کیوں کھڑے ہو؟”
وہ دراصل سب سے چائے کا پوچھنے آئی تھی، مگر ہنی نے فوراً ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
“رومی، دیکھو… یہ وہی لڑکی ہے نا جس کی ہم نے مال میں ہیلپ کی تھی؟”
رومی نے فوراً ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھا۔ تصویر دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“ہاں… یہ تو وہی ہے۔”اس کے لب ہلے، مگر منہ سے ایک لفظ تک نہ نکل سکا۔ جیسے اچانک ملنے والی اس خبر نے اس کی آواز ہی چھین لی ہو۔ آنکھیں سامنے کے منظر پر جمی رہیں اور وہ بےیقینی سے دیکھتی رہی۔
افی نے فوراً اپنا فون نکالا اور بغیر کچھ کہے باہر کی طرف چلی گئی۔ پری خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
ہنی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے، جبکہ رومی بھی اس خبر سے کچھ گھبرا گئی تھی۔
پری نے سب کے چہروں پر پھیلی پریشانی کو دیکھا۔ پھر وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھی، آگے بڑھی، نیچے گرا ہوا ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی بند کر دیا۔
اس کے بعد ہال میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔۔۔۔
ہنی کا صدمے سے برا حال تھا۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بس ایک ہی بات بار بار کہہ رہی تھی۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس دن تو میں نے اس کی ہیلپ کی تھی۔۔۔”
وہ بے یقینی سے پری کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
“پری دی… یہ وہی لڑکی ہے جس کی میں نے ہیلپ کی تھی۔ یہ سب کیسے ہو گیا؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔”
صدمے کی شدت ایسی تھی کہ اس کے منہ سے الفاظ بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہے تھے۔ ہنی بہت حساس دل کی لڑکی تھی؛ وہ کسی کو تکلیف میں دیکھتی تو خود بھی رو پڑتی تھی۔ اور آج تو معاملہ اس لڑکی کا تھا جس کی کچھ دن پہلے اس نے خود مدد کی تھی۔
پری نے اسے خاموشی سے دیکھا۔ وہ ہنی کی کیفیت سمجھ چکی تھی۔
ہنی نے گھبرا کر پری کے ہاتھ پکڑ لیے۔ پری نے خاموشی سے اسے دیکھا، پھر نرمی سے اسے لے جا کر صوفے پر بٹھا دیا۔
“ہنی، پہلے خود کو سنبھالو۔”
پری نے نور کو پانی لانے کے لیے کہا۔ پانی آنے پر پری نے گلاس ہنی کی طرف بڑھایا۔
“یہ لو، پانی پیو۔”
ہنی نے آنسو بھری آنکھوں سے گلاس پکڑا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور چند گھونٹ پانی پی ۔
پری نے پھر رومی کی طرف دیکھا، جو ابھی تک وہیں صدمے کی حالت میں کھڑی تھی۔ اس خبر نے اسے بھی اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
خان صاحب بھی اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر کافی پریشان ہو گئے۔ انہوں نے فوراً ہنی کو اپنے گلے سے لگا لیا۔
“پریشان مت ہو، بیٹا۔”
ہنی نے ان کے سینے سے لگے ہوئے ہی روتے ہوئے کہا،
“بابا… کتنی تکلیف ہوئی ہوگی اسے؟ اس نے کتنا کچھ جھیلا ہوگا۔ وہ اُس دن کتنی پریشان تھی، بابا… اور آج اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہو گیا۔”
اس کی آواز آنسوؤں میں ڈوب گئی۔
پری نے خاموشی سے نور کی طرف دیکھا اور اشارے سے اسے رومی کو وہاں سے لے جانے کو کہا۔
نور نے بےسود کھڑی رومی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے کہا،
“میرے ساتھ چلو۔”
رومی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ جیسے اپنے حواس کھو بیٹھی ہو۔ نور کے ساتھ روبوٹ کی طرح قدم اٹھاتی ہوئی وہ خاموشی سے کمرے میں چلی گئی۔
کمرے میں پہنچ کر نور نے رومی کو سمجھاتے ہوئے کہا،
“تم ٹھیک ہو؟”
رومی ابھی تک صدمے کی کیفیت میں تھی۔ اس نے بس آہستہ سے سر ہلایا۔
“میں ٹھیک ہوں… بس مجھے سونا ہے۔”
یہ کہتے ہی وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔
نور وہیں اس کے پاس بیٹھ گئی۔ وہ رومی کی حالت کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس وقت اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔
کچھ سال پہلے جو کچھ ہوا تھا، زندگی جیسے ایک بار پھر انہیں وہیں لا کھڑا کر رہی تھی۔ پرانے زخم ابھی پوری طرح بھرے بھی نہیں تھے کہ آج ایک نئی خبر نے وہ سب کچھ دوبارہ ان کے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہنی کی حالت قدرے بہتر ہوئی ۔۔۔پری نے بڑی مشکل سے اسے سمجھا بجھا کر بیڈ پر لٹایا اور سُلایا، پھر بی جان کو اس کے پاس رہنے کا کہہ کر رومی کی طرف ائی۔۔
نور رومی کو دوا دے رہی تھی تاکہ وہ کچھ دیر سو سکے اور اس کی حالت کچھ بہتر ہو جائے۔ پری نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، جس پر نور نے صرف اشارے سے نہ کہا۔ پری سمجھ گئی تھی کہ اس وقت ان دونوں کی حالت کیا تھی۔
ہال میں خان صاحب ابھی تک کافی پریشان بیٹھے تھے۔ پری کو آتے دیکھ کر انہوں نے فوراً پوچھا،
“اب ہنی کیسی ہے؟”
“اب پہلے سے بہتر ہے، میں نے اسے سُلا دیا ہے۔ وہ ابھی صدمے میں ہے، کچھ وقت لگے گا اسے ٹھیک ہونے میں۔”
خان صاحب نے گہری سانس لی۔
خان صاحب نے پریشانی سے پری کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،
“آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”
پری نے ایک گہری سانس لی اور انہیں مختصر الفاظ میں ساری صورتحال بتانے لگی۔ وقت کم تھا، اس لیے اس نے غیرضروری تفصیل میں جائے بغیر جلدی جلدی انہیں سب کچھ سمجھا دیا، تاکہ خان صاحب بھی اصل معاملے سے واقف ہو سکیں۔
“مجھے جانا ہوگا۔ افی کو اس وقت میری ضرورت ہوگی۔”
خان صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھنا۔”
پری نے سر ہلایا اور بغیر مزید کچھ کہے ہال سے باہر نکل گئی۔
باہر آتے ہی اس نے فوراً اپنا فون نکالا اور کسی کو کا نمبر ملایا۔
میرا ایک کام کرو۔۔۔؟؟
فون پر بات ختم کرنے کے بعد اس نے فوراً ہسپتال کا رخ کیا۔
++++++++++++
کچھ دیر بعد ڈاکٹرز نے اقرا کو اپنی بہن کی شناخت کے لیے بلایا۔ سفید چادر میں ڈھکی ڈیڈ باڈی اس کے سامنے لائی گئی۔
اقرا نے کانپتے ہاتھوں سے سفید چادر کا کنارہ تھاما۔ چند لمحوں تک وہ بس اسے دیکھتی
جیسے ہی اس کی نظر اپنی بہن کے چہرے پر پڑی، اس کی چیخ نکل گئی۔!”
سامنے اپنی بہن کا چہرہ دیکھتے ہی اس کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔
” ایمان ۔۔۔”
اس کے لبوں سے اپنی بہن کا نام نکلا، مگر اگلے ہی لمحے اس کی چیخ پورے ہسپتال کی راہداری میں گونج اٹھی۔
نہیں۔۔۔ نہیں، ایمان۔۔۔!”
وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“یہ میری بہن کے ساتھ کیا ہو گیا؟ ایمان۔۔۔ تمہارے ساتھ یہ سب کیسے ہو گیا؟”
اس کی آواز پورے ہسپتال کی راہداری میں گونج رہی تھی۔ وہ اپنی بہن کو پکارتی رہی، مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔
افی سے بھی وہ منظر مزید نہیں دیکھا گیا۔ اس نے نظریں جھکا لیں۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اور دل جیسے اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔
ڈاکٹرز نے آہستگی سے ڈیڈ باڈی دوبارہ ڈھانپ دی۔
“ہمیں پوسٹ مارٹم کے لیے لے جانا ہوگا۔ اس میں کچھ وقت لگے گا۔”
ڈاکٹرز ڈیڈ باڈی لے کر آگے بڑھ گئے، جبکہ پیچھے اقرا زمین پر بیٹھی بدستور رو رہی تھی۔ اس کی ماں بھی فوراً اس کے پاس بیٹھ گئی اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے سے لپٹ کر روتی رہیں۔
دوسری طرف ایمان کا باپ چند قدم کے فاصلے خاموش کھڑا تھا۔ وہ اپنی بیٹی کی طرف دیکھ رہا تھا، مگر جیسے اس کے پاس رونے کے لیے بھی الفاظ نہیں تھے۔ اس نے سر جھکا لیا۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر چہرے پر ایک ایسی خاموشی تھی جو کسی بھی چیخ سے زیادہ درد ناک محسوس ہو رہی تھی۔
ان کی چیخوں اور سسکیوں نے ہسپتال کی فضا کو بوجھل کر دیا تھا۔ وہاں سے گزرنے والا ہر شخص چند لمحوں کے لیے رک کر ان کی طرف دیکھتا، مگر ان کے دکھ کے سامنے کسی کے پاس کوئی لفظ نہیں تھا۔
افی کی آنکھوں سے بھی خاموشی سے آنسو بہنے لگے۔ وہ جانتی تھی کہ اقرا اور اس کے خاندان پر اس وقت کیا گزر رہی ہوگی، مگر اس تکلیف کے سامنے وہ بھی خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔
افی خاموش کھڑی رہی اس کے لبوں سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا۔۔۔۔
++++++++++
ایمان کے کیس سے متعلق تمام ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد، میتیں ان کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی تھیں تاکہ وہ انہیں دفن کر سکیں۔ ڈیڈ باڈی کی مکمل رپورٹ ابھی صبح تک آنا باقی تھی، مگر افی الحال پری اپنی طرف سے تمام ضروری کام مکمل کر چکی تھی۔
رات کافی گزر چکی تھی جب پری گھر واپس پہنچی۔ تھکن اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہی تھی، مگر ہمیشہ کی طرح اس کے انداز میں سکون اور سنجیدگی برقرار تھی۔
وہ سیدھا ہنی کے روم کی طرف گئی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
کمرے میں بی جان موجود تھی، جبکہ ہنی سو رہی تھی۔۔
پری نے اندر آتے ہی ہنی کی طرف دیکھا، پھر بی جان سے پرسکون لہجے میں پوچھا،
“اس نے کھانا کھایا؟”
بی جان نے ہنی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا،
“ہاں، زبردستی تھوڑا سا کھلایا ہے۔ اب ٹھیک ہے۔”
پری نے ہنی کو دیکھا۔ وہ خود بھی کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔
بی جان باریک کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“تم بھی تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔ فریش ہو جاؤ، میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔”
پری بھی خاموشی سے سر ہلاتی ہوئی فریش ہونے کے لیے چلی گئی، جبکہ بی جان پری کے لیے کھانا لینے کے غرض سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
بی جان پری کے لیے کھانا لے کر آئیں تو پری نے انہیں دیکھتے ہی کہا،
“آپ جائیں، آپ دن بھر کی تھکی ہوئی ہوں گی۔ جا کر ریسٹ کریں، اب میں ہنی کے پاس موجود ہوں۔”
بی جان نے محبت سے اسے دیکھا اور کہا،
“تم بھی کھانا کھا کر سو جانا۔”
یہ کہتے ہوئے انہوں نے پری کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور پھر کمرے سے باہر چلی گئیں۔
پری نے کھانا کھانے کے بعد برتن واپس کچن میں رکھے اور پھر موبائل اٹھا کر نور کو کال ملائی۔ نور اور رومی جنت ہاؤس واپس جا چکی تھیں، اس لیے پری نے فون پر نور سے رومی کی حالت کے بارے میں پوچھا۔
“اب رومی کیسی ہے؟”
نور نے جواب دیا،
“وہ ٹھیک ہے، لیکن ابھی تک بولی نہیں ہے۔ بس خاموش ہے۔”
میں نے اسے نیند کی دوا دے کر سلا دیا ہے۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔
نور سے دو تین باتیں کرنے کے بعد پری نے فون بند کیا اور واپس ہنی کے کمرے میں آ گئی۔۔
کچھ دیر گزری تو ہنی بے چینی سے کروٹیں بدلنے لگی۔ اس کے چہرے پر پسینہ آ گیا تھا۔ خواب میں اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہر طرف سے آگ میں گھری ہوئی ہو۔ چاروں طرف شعلے ہی شعلے تھے اور وہ ان کے بیچ بے بسی سے کھڑی چیخ رہی تھی۔
“بچاؤ… کوئی مجھے بچاؤ!”
اس کی چیخ کے ساتھ ہی اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔
ہنی گھبرا کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں اور چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔
پری فوراً اس کے پاس آئی۔
“کیا ہوا؟”
ہنی نے پری کو دیکھا تو اگلے ہی لمحے اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا۔
پری سمجھ گئی کہ شاید اس نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا تھا۔ اس نے ہنی کی کمر پر نرمی سے ہاتھ پھیرا اور اسے تسلی دیتے ہوئے کہا،
“کوئی بات نہیں، خواب تھا۔ بس ایک خواب۔”
پھر اس نے جگ سے گلاس میں پانی ڈالا اور ہنی کو پانی پلایا۔ پانی پینے کے بعد پری نے اسے دوبارہ آرام سے لٹایا۔
“تم سو جاؤ، میں یہی ہوں تمہارے پاس۔”
یہ کہتے ہوئے پری بھی اس کے ساتھ ہی بستر پر لیٹ گئی، تاکہ ہنی خود کو اکیلا محسوس نہ کرے۔۔۔
پری ہنی کے چہرے کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی ایک بار پھر انہیں اسی موڑ پر لا کھڑا کر چکی ہو، جہاں سے وہ بڑی مشکل سے نکلے تھے۔ وہ سب کچھ، جسے وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے، دوبارہ ان کے سامنے آ رہا تھا۔
مگر اس بار تکلیف صرف ایک کے حصے میں نہیں آئی تھی…وہ سب ایک دوسرے کا سہارا تھیں، مگر اس بار حالات کچھ ایسے تھے کہ ہر ایک اپنی ہی جنگ میں گھری ہوئی تھی۔ بظاہر سب خاموش تھیں… مگر اندر کہیں بہت کچھ شور کر رہا تھا۔
کچھ زخم ایسے بھی تھے جو پری کے اندر خاموشی سے دوبارہ جاگ اٹھے تھے۔
جب سے اس کی یادداشت واپس آئی تھی، اس کے اپنے ماضی نے اسے ایک ایسی الجھن میں ڈال دیا تھا جس کا کوئی سرا اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ دوسروں کو سنبھال رہی تھی، مگر خود اندر سے بکھرے ہوئے سوالوں کو سمیٹنے میں ناکام ہو رہی تھی۔
زندگی نے اسے پھر ایک ایسے راستے پر لا کھڑا کیا تھا جہاں ہر قدم کے آگے ایک نیا راز تھا… اور ہر راز کے پیچھے ماضی کا ایک اور باب۔
پری نے ہنی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
شاید اسے ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ سب صرف آغاز تھا…
اصل امتحان تو ابھی باقی تھا۔۔۔۔۔۔
++++++++++
عرشمان اپنی دادی کے ساتھ بیٹھا کسی بات پر گفتگو کر رہا تھا کہ اسی وقت زرنش کمرے میں داخل ہوئی۔
عرشمان کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، وہ چند لمحے اسے گھورتا رہا، مگر زرنش نے جان بوجھ کر اسے نظرانداز کیا اور سیدھی دادی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
اور دادی کے گلے لگ گئی۔
دادی نے پیار سے اس کے بازو پر ہلکی سی چپت لگائی۔
“تم کہاں تھی؟ اتنی دیر لگا دی آنے میں!”
زرنیش نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا،
“بس دادی، آج کام کچھ زیادہ تھا، اسی وجہ سے تھوڑی دیر ہو گئی۔”
پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا تو وہ عرشمان کی طرف مڑی۔
“ویسے مبارک ہو، جناب! پروجیکٹ جیتنے کی۔”
عرشمان نے اسے گھورا۔
“تم وہاں کیا کر رہی تھی؟”
زرنش نے آنکھیں گھمائیں اور جان بوجھ کر اسے چڑانے والے انداز میں بولی،
“کیوں؟ میرے بھی اپنے ذرائع ہیں، اپنی جان پہچان ہے۔”
وہ ذرا رکی، پھر دادی کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی،
“دادی، آپ نے دیکھا؟ آپ کے پوتے نے مجھے انٹرویو تک نہیں دیا تھا، اور”آج میں نے شہر کے بڑے بڑے بزنس مینوں کے انٹرویوز لیے۔۔۔۔
“میری پیاری بیٹی… ۔۔۔ میرا بیٹا بھی تو بہت پیارا ہے۔ اللہ تم دونوں کو ہمیشہ کامیاب رکھے۔”
دادی نے دونوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا،
“اللہ تم دونوں کو اسی طرح کامیاب رکھے ۔۔۔
امین!! دونوں نے ایک ساتھ کہا۔۔
پھر دادی کی بات اچانک ایک نئے رخ پر مڑ گئی۔
“اور پھر تم دونوں کی شادی ایک ساتھ دیکھوں… پھر میرے گھر میں بھی تو پوتے پوتیوں کی رونق ہونی چاہیے۔”
عرشمان اور زرنش نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
دونوں ایک ساتھ ہنس پڑے۔
“اُف دادی!”
دونوں تقریباً ایک ساتھ بولے۔
زرنش نے فوراً دادی کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
دادی کی بات سنتے ہی زرنش فوراً ان کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی۔
“دادی، میں نے آپ کو کہیں چھوڑ کر نہیں جانا۔ میں نے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے۔”
دادی اس کی بات سن کر ہنس پڑیں۔
“پگلی! ایسے تھوڑی ہوتا ہے۔ لڑکیوں کو ایک دن اپنے گھر کا ہونا ہی پڑتا ہے۔”
زرنش نے فوراً سر اٹھایا اور حیرت سے دادی کو دیکھنے لگی۔
“کیوں ہونا پڑتا ہے؟ کس نے کہا ہے؟ مجھے نہیں جانا کہیں بھی۔ مجھے آپ کے پاس ہی رہنا ہے۔”
دادی اس کی معصوم ضد پر ہنستی رہیں۔
“اب تک خاموش بیٹھا عرشمان بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ اس نے زرنش کو چڑاتے ہوئے کہا،
“تو پھر ٹھیک ہے، میں بھی تب تک شادی نہیں کروں گا جب تک تم اس گھر میں ہو۔ جب تم چلی جاؤ گی، تب میں شادی کروں گا۔”
زرنش نے فوراً اسے گھورا۔
عرشمان نے مزید اسے چھیڑتے ہوئے کہا،
“آخر تمہارا کیا بھروسہ؟ کل کو میری بیوی کو اتنا تنگ کرو گی کہ وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گی۔”
زرنش نے حیرت سے منہ کھولا۔
“کیا؟ میں آپ کو ایسی لگتی ہوں کہ میں اپنی بھابی کو تنگ کروں گی؟”
عرشمان نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
انسان کو بدلتے ہوئے تھوڑا سا وقت ہی تو لگتا ہے۔”تمہارا کیا بھروسا؟ کل کو تم بدل گئیں اور پرانے دور کی نندوں کی طرح میری پیاری سی بیوی کو تنگ کرنے لگیں تو میں کیسے برداشت کروں گا۔۔۔۔
“اچھا! تو اب آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں؟”
زرنش نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
زرنیش فوراً دادی کی طرف مڑی اور معصومیت سے بولی،
“دیکھا دادی! آپ دیکھ رہی ہیں؟ آپ کا پوتا مجھے کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے تو مجھے ظالم بنا دیا!”
دادی ان دونوں کی نوک جھونک دیکھ کر بے اختیار ہنس پڑیں۔
دادی دونوں کی نوک جھونک سن کر مسلسل مسکرا رہی تھیں۔ وہ خوب سمجھ رہی تھیں کہ دونوں جان بوجھ کر اصل بات کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ کچھ کہنے ہی والی تھیں کہ اچانک دروازے کے پاس سے زیشان کی آواز آئی۔
“کس کی شادی ہو رہی ہے؟”
تینوں نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا۔
زیشان نے دروازہ ذرا سا کھولا اور خود اندر آنے کے بجائے صرف اپنا چہرہ کمرے کے اندر کیا۔ اس کے چہرے پر ایسی شرارتی مسکراہٹ تھی جیسے وہ بس موقع دیکھ کر کوئی نئی شرارت کرنے والا ہو۔
دادی! آپ ان دونوں کو چھوڑیں، میری شادی کی تیاری کریں۔ یہ لوگ تو کرنے سے رہے، میں ہی کر لیتا ہوں!”
وہ بڑے اطمینان سے اندر اتے ہوئے بولا۔
“ویسے بھی میرا کوئی خیال رکھنے والا نہیں ہے۔ کم از کم میری بیگم ہی میرا خیال رکھ لیا کرے گی۔”
عرشمان نے اسے گھورا، جبکہ زرنش نے فوراً صوفے سے ایک کشن اٹھا لیا۔
“زیشان!”
اگلے ہی لمحے عرشمان اور زرنش دونوں نے اپنے اپنے کشن اٹھائے اور ایک ساتھ زیشان کی طرف پھینک دیے۔
“بھاگو یہاں سے!”
زیشان قہقہہ لگاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور جلدی سے دروازے سے باہر نکل گیا۔۔۔دونوں کشن دروازے سے ٹکرا کر نیچے جا گرے۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی کے بعد دادی بےاختیار ہنس پڑیں۔
“تم لوگ بھی نا…!”
زرنش نے منہ بنا کر دروازے کی طرف دیکھا۔
“یہ زیشان بھی نہ، جہاں شادی کی بات ہو اسے اپنی شادی یاد آ جاتی ہے!”
عرشمان نے بھی سر جھٹکتے ہوئے کہا،
“اسے کوئی اور کام نہیں ہے۔
زرنش فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ویسے میں آپ کو بلانے ہی آئی تھی۔ چلیں، کھانا کھاتے ہیں۔”
دادی مسکراتے ہوئے اٹھنے لگیں تو زرنش نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
ڈائننگ ٹیبل پر سب بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ زیشان نے ایک بار پھر اپنی مستی شروع کر دی۔ وہ آہستہ سے ارشمان کے کان کے قریب جھکا اور شرارتی انداز میں بولا:
میں نے سنا ہے آپ کسی لڑکی کے ساتھ کام کرنے والے ہیں۔ دیکھنے میں کیسی ہے؟””پیار ی ہے
عرشمان نے فوراً اسے گھور کر دیکھا، جیسے صرف ایک نظر سے ہی اسے خاموش کر دینا چاہتا ہو۔
دوسری طرف زرنش کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔ وہ فوراً دونوں بھائیوں کی طرف متوجہ ہوئی اور چپکے سے ان کی بات سننے کی کوشش کرنے لگی کہ آخر وہ آپس میں کیا بات کر رہے تھے۔۔۔
اسی وقت اس کے بڑے بھائی عرشیان نے اسے جیتنے پر Congratulations کہا۔۔۔۔
جبکہ اس کی ماں نے بھی مسکراتے ہوئے اسے مبارکباد دی۔۔۔۔
وہ مسکرا کر سر ہلاتا ہے اور مبارکباد وصول کرتا ہے۔ پھر اس کی نظر اپنے والد کی طرف اٹھتی ہے، جیسے دیکھ رہا ہو کہ وہ بھی اسے مبارکباد دیں گے یا نہیں۔
مگر والد نے اسے مبارک باد دینے کے بجائے الٹا سوال کرتے ہیں۔۔۔
“دوسری کمپنی کون سی ہے، جس کے ساتھ تم کام کرنے والے ہو؟”
ارشمان پُرسکون انداز میں جواب دیا ائی جی کمپنی۔””
زیشان فوراً بول پڑتا ۔۔ائی جی کمپنی کی کی اونر تو ایک لڑکی ہے نا، ویسے بھائی؟
عر شمان اسے دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔۔
“ہاں، تو کیا مسئلہ ہے؟ کیا لڑکی کے ساتھ کام نہیں کیا جا سکتا؟”
باقی سب تو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کرتے، مگر اس کی ماں کو یہ بات کچھ اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔
کمپنی کا نام سنتے ہی اس کے والد کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے۔ وہ حیرت بھری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے۔ پھر اچانک ان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔۔
عرشمان نے ان کے چہرے پر ابھرتی اس مسکراہٹ کو دیکھ لیا تھا۔۔اورسوچ رہا تھا کہ آخر وہ کس بات پر مسکرا رہے ہیں۔۔۔۔
