JUNG E BAQA BY MAHNOOR AWAN EPISODE 5.

جنگِ بقاء
مصنفہ: ماہ نور اعوان
قسط نمبر 5
آغاز

کچھ ملاقاتیں ضروری ہوتی ہیں کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے۔
قصہ گو کچھ کرداروں کو واپس لاتا ہے، نئے انداز میں، تاکہ وہ کہانی کو آگے بڑھائیں اور چھپی ہوئی کہانی مکمل طور پر کھل سکے۔
اس لیے تو کہانی نامکمل ہوتی ہے، کسی بھی اختتام کے بغیر۔
***********
ہسپتال میں اس وقت روح کو چیرتی ہوئی خاموشی تھی۔ ٹھنڈے کوریڈور میں قدموں کی دھاپ ہر بڑھتے ہوئے قدم کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ کمروں سے آتی بیپ بیپ کی آواز کانوں کو پھاڑ رہی تھی۔
کوریڈور میں چلتے ہوئے دیان جہانزیب اپنے دونوں محافظوں، مینوئل اور جوف، کے ساتھ سیدھ میں چلتا ہوا ایک کمرے کے سامنے رکا۔ چہرہ سرد تاثرات سے بھرا ہوا تھا۔
جوف اور مینوئل باہر رک گئے۔
دیان اندر داخل ہوا تو سامنے نالیوں میں جکڑا وجود آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا۔ وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس گیا اور آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھتا رہا۔
کمرے میں بیپ بیپ کی آواز گونج رہی تھی۔ اے سی کی گرمائش کے باوجود کمرہ گھٹن زدہ محسوس ہو رہا تھا۔
“کیسے ہو؟ لیو۔”
دیان کی سرد آواز سنتے ہی وجود نے آنکھیں ہلکی سی کھولیں۔
بیڈ پر پڑے وجود نے ایک بار آنکھیں بند کیں اور پھر دوبارہ کھولیں۔ اپنے ساتھ کھڑے انسان کو دیکھ کر اس کے وجود کے اندر وحشت پھیل گئی۔ اس کے منہ سے غرغر کی آوازیں آنے لگیں۔ چہرے پر بے چینی پھیل گئی۔
دیان نے مسکراتے ہوئے اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا:
“پورے پانچ سال انتظار کیا تمہارے ہوش میں آنے کا، اور اب تمہیں ہوش میں دیکھ کر مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ بلکہ تمہیں اذیت دے کر محسوس ہوگی۔”
لیو کا وجود ہل نہیں پا رہا تھا، لیکن اس کی بے بسی چہرے سے واضح تھی۔ آنکھوں میں نفرت ہلکورے لے رہی تھی، جیسے باہر آنے کو بے تاب ہو۔
“تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں زندہ کیوں رکھا؟ تو وہ اس لیے کہ تمہیں تڑپا تڑپا کر ماروں، جس طرح تم نے سالوں پہلے کیا تھا۔ اسی طرح تمہارے ساتھ کروں۔”
دیان کمرے میں چلتا ہوا چکر کاٹ رہا تھا۔
کمرے کے شیشوں کے پار آواز نہیں جاتی تھی، کیونکہ دیواریں ساؤنڈ پروف تھیں، لیکن باہر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔
یہ ہسپتال دیان جہانزیب کی ملکیت میں آتا تھا۔
“تمہیں اس طرح دیکھ کر مجھے جو خوشی محسوس ہو رہی ہے، لیو، وہ بتانے سے نہیں، دیکھنے سے بھی نظر آ رہی ہوگی۔”
وہ اس کے اوپر جھکا اور طنزیہ مسکراہٹ سے بولا۔
لیو نے نفرت سے منہ موڑ لیا۔ آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں۔
“تمہیں میں سالوں پہلے مار دیتا، لیکن شاید تمہاری قسمت میں ابھی موت نہیں آئی۔ اس لیے تم زندہ ہو۔ ورنہ دیان جہانزیب صرف ایک کام کرتا ہے؛ دوسرا موقع دیے بغیر ادھر ہی زندگی کی دوڑ ختم کر دیتا ہے۔”
ہوا میں یہ الفاظ جذب ہو گئے۔
کہانی میں آنے والا ہر کردار کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے، اور پھر وہ واپس چلا جاتا ہے۔
لیو کا جسم کانپ کر رہ گیا، لیکن وہ ہل نہیں سکتا تھا۔ بے بسی سے دیان کو دیکھ رہا تھا۔
دیان نے اس کی حالت دیکھ کر محظوظ ہوتے ہوئے سر ایک جانب ڈھلکایا اور طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا:
“چچ، چچ! تم نہیں ہل سکتے، لیو، کیونکہ تم پیرالائزڈ ہو۔ تم صرف سن سکتے ہو، دیکھ سکتے ہو، بس۔ باقی تم ناکارہ ہو چکے ہو۔”
لیو کی بائیں آنکھ سے آنسو ڈھلک گیا، اپنی بے بسی پر۔ کچھ نہ بول سکنے کی وجہ سے وہ صرف آنکھوں سے اپنا غم بیان کر سکتا تھا۔
دیان اس کے بیڈ کے قریب آیا اور اس کے کان کے پاس جھک کر بولا:
“تمہیں موت اتنی آسانی سے نصیب نہیں ہوگی، بلکہ پل پل تڑپنا ہوگا، اور تمہاری موت کا تعین میں کروں گا۔ میں، دیان جہانزیب۔”
وہ کہتے ہی پیچھے ہوا، اسے ہاتھ ہلایا اور باہر نکل گیا۔
لیو کی آنکھوں سے اپنی بے بسی اور کسی انسان کی شدت سے یاد آنے پر آنسو رواں ہو گئے۔
***********
دیان باہر نکلا تو جوف اور مینوئل دیوار کے ساتھ لگی کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی اسے دیکھا، چائے تھامے کپ ان کے ہاتھوں میں لرزنے لگے اور جلدی سے گرم گرم چائے کے گھونٹ بڑھتے دانتوں کی بتیسی نکالنے لگے۔
دیان نے ایک نظر ان پر ڈالی اور پھر آگے بڑھ گیا۔
وہ دونوں جلی ہوئی زبانیں باہر نکالے، ہاتھوں سے ہوا مارتے ہوئے اس کے پیچھے چل پڑے۔
************
عشاء جیسے ہی اپنے ہاشمی ولا میں داخل ہوئی تو جون نے کار روک دی۔ اس کی کار کو اندر جاتے دیکھ کر جیکسن نے سکھ کا سانس لیا۔
جون نے جیکسن کے تاثرات دیکھے اور ناک پھولاتے ہوئے بولا:
“تمہیں بڑی فکر ہو رہی ہے اس کی؟”
انداز طنزیہ تھا۔
جیکسن نے جون کو دیکھا اور سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا:
“تم جیلس ہو رہے ہو۔”
“میں کیوں جیلس ہوں گا؟ اور ویسے بھی وہ کون سا تمہاری زندگی میں ہے یا آ جائے گی۔”
اُف کرتے ہوئے جون نے آبرو اچکائی اور ٹیڑھی نظروں سے جیکسن کو دیکھا۔
“فضول مت بولو۔”
جیکسن کو جون کی باتوں سے چڑ رہی تھی۔
“اچھا! میں فضول بولتا ہوں اور تم۔۔۔”
ابھی جون کچھ اور بھی کہتا کہ کار کے شیشے پر دستک ہوئی۔ دونوں نے چونک کر دیکھا تو میخائل شیشے پر جھکا ہوا تھا۔
میخائل کو دیکھتے ہوئے جیکسن کے اندر تک زہر گھل گیا، جبکہ جون نے خاص ردِعمل نہیں دیا۔
جون نے کار کا شیشہ نیچے کیا اور جیکسن نے میخائل کو گھورتے ہوئے کہا:
“تم یہاں تک کیسے پہنچے؟”
وہ لوگ کار میں بیٹھے تھے، جبکہ میخائل کار کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ ان کی کار ہاشمی ولا کے باہر سڑک کنارے کھڑی تھی۔ اندھیرے اور دھند کے باعث زیادہ واضح کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
“آپ کو میرے ساتھ گھر چلنا ہوگا، سر۔”
روبوتک انداز میں حکم سنایا گیا۔
“تم یہاں تک کیسے پہنچے اور ہماری لوکیشن کیسے معلوم ہوئی؟”
جیکسن نے جانتے ہوئے پوچھا۔
“سر، میں آپ کو ہسپتال سے فالو کر رہا ہوں۔”
جون کے ساتھ جیکسن نے بھی داد دیتے انداز میں سر ہلایا۔
“اچھا! تو تم اب یہ کام بھی کرو گے؟”
جیکسن نے غصے بھرے انداز میں چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
“یہ میری ڈیوٹی ہے۔ جو اس کے لیے ضروری ہوگا، کروں گا، اور آپ بھی مجھے نہیں روک سکتے۔”
میخائل کے دوٹوک انداز میں جواب دینے پر جیکسن کے ساتھ جون کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا۔
پھر جیکسن نے میخائل کو گھورتے ہوئے کار کا دروازہ کھولا، جون کو بائے بولا، باہر نکلا، کار کا دروازہ بند کیا اور بے ساختہ ہاشمی ولا کی اوپری منزل کی جانب نظر اٹھائی، جہاں لائٹس روشن تھیں۔
اس نے ایک پل دیکھا اور پھر میخائل کے ساتھ چلتے ہوئے کار کی جانب بڑھ گیا۔
جون اپنی کار لے کر جا چکا تھا اور جیکسن اپنے گارڈز اور مینیجر کے ساتھ اپنی کار میں وہاں سے روانہ ہو چکا تھا۔
*********
عشاء بیرونی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سامنے لاؤنج میں سب موجود تھے۔ اسے دیکھتے ہی سب اٹھ کھڑے ہوئے۔
گل مہر نے عشاء کو دیکھا تو تیزی سے اس تک پہنچیں۔
“تم ٹھیک ہو، عشاء؟”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔
“میں ٹھیک ہوں، مما۔”
اس نے ماں کے ہاتھوں کو پکڑ کر آنکھوں سے یقین دلاتے ہوئے کہا۔
عصر وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔ حاد کچھ دیر پہلے ہی چلا گیا تھا۔ سمنان اور میرب بھی اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔ شائل کو کورین ڈرامے دیکھنے کا شوق تھا، تو وہ بھی موجود نہیں تھی۔
باقی گھر والے موجود تھے۔
ادیب ہاشمی نے صرف ایک ہی جملہ کہا۔ وہ صوفے پر بیٹھے ہوئے عشاء کو دیکھ کر بولے:
“اپنا خیال رکھنا سیکھو۔”
عشاء نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور پھر اپنی ماں کی طرف۔
“میں ٹھیک ہوں اور آپ پریشان نہ ہوں۔ کچھ نہیں ہوا۔”
“کیسے پریشان نہ ہوں؟ تم جانتی ہو، تمہیں کوئی تکلیف ہو تو مجھے دکھ ہوتا ہے۔”
وہ ماں تھیں، ان کے لہجے میں درد تھا۔
“آپ فکر مت کریں۔ میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں۔ اور اب آپ سب بھی آرام کیجیے۔”
باقی سب کو کہتے ہوئے اس نے ایک نظر باپ پر ڈالی، جو اپنے موبائل فون میں مصروف تھے۔
“عشاء، کھانا لگواؤں؟”
“نہیں مما، مجھے بھوک نہیں ہے۔ جب لگے گی تو کھا لوں گی۔”
اس کی بھوک اڑ چکی تھی۔ ماں کو کیسے بتاتی کہ اب بھوک تو دور، پانی کی ایک بوند بھی گلے سے نہیں اترتی۔
“چلو، جو تمہاری مرضی۔”
گل مہر نے دھیمے سے مسکرا کر کہا اور پھر وہاں سے چلی گئیں۔
“چلیں، ان کا ڈرامہ تو ختم ہوا، ورنہ میرے تو کان سن ہونے لگے تھے۔”
فردوس ہاشمی نے توصیف صاحب کے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
“چپ کرو۔”
انہوں نے ٹوک دیا۔
فردوس نے اُف کرتے ہوئے منہ موڑ لیا۔
ادیب ہاشمی فکر اس کی کر رہے تھے، لیکن عصر کی ناراضگی کی وجہ سے اس سے فاصلہ کر رکھا تھا۔ لیکن اس کی ہر معلومات ان کے پاس ہوتی تھی۔
********
“بھابی، آپ تو ویسے ہی پریشان ہو رہی تھیں۔ وہ بالکل ٹھیک ہے۔”
فردوس نے اس موقع پر تیر مارنا ضروری سمجھا۔
گل مہر نے خود کو سنبھالا اور پھر فردوس کی طرف دیکھ کر بولیں:
“وہ ٹھیک ہے، شکر ہے۔ لیکن کچھ لوگ نظروں سے ہی نہیں بلکہ زبان سے بھی نظر لگا دیتے ہیں۔”
گل مہر کے طنز پر فردوس اندر تک جل اٹھی۔
“آپ مجھ پر طنز کر رہی ہیں، بھابھی؟”
فردوس ہاشمی نے جانتے ہوئے پوچھا۔
“چپ کر جائیں آپ دونوں خواتین اور جائیں اپنے کمروں میں۔ رات کافی زیادہ ہو گئی ہے۔”
توصیف ہاشمی نے غصہ کرتے ہوئے کہا۔
فردوس تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی۔
تو گل مہر نے ایک شکوہ کناں نظر ادیب ہاشمی پر ڈالی اور آنسو گلے میں اتارتی ہوئی چلی گئیں۔
ادیب ہاشمی نے ان کے جانے کے بعد توصیف سے کہا:
“توصیف، میری بات سنو۔”
“جی بھائی، بولیں۔”
وہ بھی ساتھ صوفے پر ہی بیٹھ گئے۔
“عشاء کے ساتھ جو کچھ ہوا اور وہ بھی جس کو گولی لگی ہے، یہ سارا معاملہ دیان کو کہتے ہیں۔ وہ دیکھے گا۔ اور اس کے علاوہ عشاء کی سیکیورٹی بڑھانا ہوگی۔”
ادیب ہاشمی سرگوشی میں کہہ رہے تھے۔
توصیف ہاشمی نے سر ہلایا۔
“بھائی، آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ ہم نہ بھی بولیں، تب بھی دیان سنبھال لے گا۔ اور آپ کو کیا لگتا ہے، یہ حملہ عشاء پر ہوا ہے یا اس بچے پر؟”
“یہ حملہ بچے پر کوئی کیوں کرے گا؟ ذرا سوچو کہ ایک چھوٹے سے بچے سے کس کی دشمنی ہو سکتی ہے؟ اور دوسری بات، مجھے یقین ہے کہ کوئی ہے جو عشاء کو مارنے آیا تھا۔ لیکن اس کی قسمت اچھی تھی جو وہ بچ گئی، ورنہ۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
توصیف ہاشمی بھی ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔
“تم جتنا ہو سکے، یہ جلدی سے دیکھو۔”
یہ کہتے ہی وہ وہاں سے چلے گئے۔
توصیف ہاشمی موبائل نکالتے ہوئے شیشے کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔ وہاں سے باہر لان کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔ لائٹ کی روشنی میں چیری بلاسم کے درختوں کے درمیان لٹکتا جھولا آنے والے کا انتظار کر رہا تھا، جو آج شاید نہیں آنے والا تھا۔
***********
ہسپتال سے کار نکلتے ہوئے سڑک پر دوڑتی ہوئی جا رہی تھی۔ دیان خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں سوچوں کی پرچھائیاں واضح تھیں۔
“دیان، آج کی ملاقات، مجھے لگتا ہے، اس کا اثر اگلے کئی دن تک نہیں جائے گا۔”
مینوئل نے دیان کی جانب دیکھا۔
“اس کا اثر نہ جائے تو بہتر ہے، کیونکہ اپنے دشمن کو اسی طرح مارنے میں سکون آتا ہے، مینوئل۔”
وہ مسکراتے ہوئے مینوئل کی جانب دیکھ کر بولا۔
جوف آگے بیٹھا شیشے میں دیکھ رہا تھا اور باتیں بھی سن رہا تھا۔
اچانک کال بجی تو باتوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔
جوف کے نمبر پر کال آئی تھی۔
دیان نے اسپیکر پر رکھنے کا کہا۔ اس نے کال اسپیکر پر لگائی اور موبائل درمیان میں کر دیا۔
“کیسے ہو، دیان؟”
موبائل کی دوسری جانب سے آواز ابھری۔
“آپ نے کال کیوں کی، چھوٹے ماموں؟”
سوال کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا۔
“اس لیے کہ بھائی صاحب کہہ رہے ہیں کہ آج جو واقعہ ہوا ہے، وہ تم سنبھالو گے۔ اسی سلسلے میں تم سے بات کرنی تھی۔”
مینوئل نے آبرو اچکائی۔ اسے یہ بالکل پسند نہیں تھا کہ کوئی دیان کو تب یاد کرے جب اس کی ضرورت ہو، بلکہ ہمیشہ یاد کرے۔
“ان کو بول دیں کہ ان کے کہنے پر میں کام نہیں کرتا، بلکہ جو کام مجھ سے جڑا ہوا ہو، اس کی تہہ تک پہنچ کر دم لیتا ہوں۔ اس لیے یہ ان کا نہیں، میرا معاملہ ہے اور میں دیکھ لوں گا۔”
دیان نے سنجیدگی سے کہہ کر بات مکمل کر لی۔
“ٹھیک ہے، میں بتا دوں گا۔”
وہ چپ ہو گئے تھے۔ شاید کال رکھنے والے تھے۔
“وہ گھر پہنچ گئی ہیں، سر؟”
مینوئل نے جلدی سے کہہ کر کال کٹ کرنے سے روک دیا۔
دیان کی جانب دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے اس نے جواب سنا۔
“وہ گھر پہنچ گئی ہیں اور بالکل ٹھیک ہیں۔”
“اوکے، سر۔ شکریہ۔”
مینوئل نے کہتے ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے موبائل نکال کر کال کاٹ دی۔
“مینوئل، سدھر جاؤ، ورنہ مجھے سدھارنا آتا ہے۔ یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو۔”
“میں نے یہ تمہارے لیے پوچھا، اب جان کر تم بن رہے ہو۔ لیکن دل میں خوش ہو رہے ہوگے۔”
مینوئل نے چھیڑتے ہوئے کہا۔
تو دیان نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کھڑکی کی جانب کر لیا، لیکن دل میں اطمینان اتر آیا تھا کہ وہ ٹھیک تھی۔
*********
جولی نے خود کو کمرے میں بند کر رکھا تھا۔
ہیڈلے ساتھ نیچے بیٹھے ایک چھوٹا سا لکڑی کا باکس کھولے ہوئے تھے۔ اس میں سے تصویریں نکالتے ہوئے ایک ایک کرکے دیکھتی جا رہی تھی۔
اور پھر اس نے آخر میں ایک تصویر نکالی اور دونوں ہاتھوں میں تھام لی۔
“بابا! آپ چلے گئے تو سب چلا گیا۔ آپ نہ جاتے تو آج ہم خوش ہوتے، لیکن آپ کے چھوڑ جانے کے بعد آپ کی جولی تنہا ہو گئی اور آج میں بہت اکیلی ہوں۔ ماں بھی اب میری اور آپ کی نہیں ہے۔ وہ اب اس آدمی کی بیوی بن چکی ہے۔”
وہ چپ کر گئی۔
ہچکچاتے ہوئے تصویر سے باتیں کرتی وہ بول رہی تھی:
“آپ جانتے ہیں، میری ایک دوست ہے، لیانا۔ وہ بھی اب مجھے چھوڑ کر جا رہی ہے۔ وہ بھی باقی سب کی طرح مجھے چھوڑ کر جا رہی ہے۔ اور میں پھر سے اکیلی ہو جاؤں گی۔ میں کیا کروں گی؟”
“میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ بابا، کیا مجھے وہ ملے گا جس کی خواہش میں کرتی ہوں؟ سب کو سب مل جاتا ہے اور مجھے کیوں نہیں مل رہا؟”
“کیا سب کی طرح مجھے وہ ملے گا؟ کیا وہ بھی نہیں ملے گا؟ مجھے جوجو چاہیے، بابا۔ مجھے جوجو چاہیے۔”
تصویر میں اس کا باپ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
“جولی کیا بہت ہی بری ہے جو سب اس کو چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ میں بری ہوں، بابا؟”
وہ پھر آنسو بہاتی چلی گئی اور تصویر سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
دروازے کے پار اس کی باتیں سنتی ماں نیچے بیٹھی دروازے سے ٹیک لگائے، منہ پر ہاتھ رکھے سسکی دبا رہی تھی۔
دونوں ماں بیٹی کو دیکھ کر ایڈنبرا کی ہوائیں تک اداس ہو گئی تھیں۔
**********
لیانا ہسپتال آ گئی تھی۔ اب وہ سونیلا آنٹی اور ان کے بیٹے والس کے ساتھ اندر سے آنے والی خبر کا انتظار کر رہی تھی۔
میڈی بھی اسی ہسپتال کے سرد خانے میں موجود تھا۔ اس کا پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا۔ لونا آپا کے بعد سونیلا آنٹی تھیں، جنہوں نے اس کی اجازت دے دی تھی۔
لونا آپا کی طبیعت ناساز ہوتی جا رہی تھی۔ ڈاکٹر ان کا چیک اپ کر رہے تھے۔
لیانا دل ہی دل میں ڈھیروں دعائیں کر چکی تھی لونا آپا کی صحت کے لیے۔ اگر ان کو کچھ ہو جاتا تو لیانا اکیلی رہ جاتی اور پھر گھر بھی چلا جاتا۔
لیانا کو وہ پانچ سالوں سے اپنے پاس رکھے ہوئے تھیں، بیٹی کی طرح۔ اور اب ان کی یہ حالت لیانا کو تکلیف دے رہی تھی۔
“بیٹا، لیانا، تم کچھ کھا لو۔”
سونیلا آنٹی کے لہجے میں ماں جیسی ممتا تھی۔
“نہیں آنٹی، میڈی اور لونا آپا کے ساتھ اتنا سب ہو چکا ہے، مجھ سے نہیں کھایا جائے گا۔”
وہ روتے ہوئے بولی۔
والس بل پے کرنے گیا ہوا تھا۔ وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔
“بیٹا، تم جانتی ہو، لونا کو پتا چل گیا کہ تم بھوکی ہو تو جانتی ہو وہ کتنا غصہ کرے گی۔ اور تم کب سے آئی ہو، روئے جا رہی ہو۔ خداوند سے دعا کرو کہ لونا ٹھیک ہو جائے۔”
ان کی آواز بھرا گئی تھی۔
لیانا نے ان کے ہاتھوں کو تھام لیا اور سر ہلاتے ہوئے یقین دلایا۔
ہسپتال کا عملہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔
پولیس آفیسر نے تفتیش کر لی تھی۔ اب وہ اپنی ٹیم تیار کر چکے تھے، اس قاتل تک پہنچنے کے لیے۔
“بیٹا، ایک بات مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میڈی کے ساتھ وہ لڑکی کون تھی؟”
انہوں نے سوچتے ہوئے کہا۔
لیانا کے دماغ میں جھماکا سا ہوا۔ اسکرین پر نظر آتا چہرہ تو عشاء میم کا تھا۔ وہ میڈی کے ساتھ تھیں۔
“وہ آنٹی عشاء ہاشمی ہیں۔ ہاشمی انسٹیٹوٹ آف آرٹ کی مالک ہیں۔”
لیانا نے انہیں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
سونیلا آنٹی نے ہلکے سے لبوں پر نام دہرایا:
“عشاء ہاشمی۔”
لیانا نے اپنی طرف والس کو آتے دیکھا تو سونیلا آنٹی کی طرف چہرہ موڑ کر انہیں بتایا، جو نجانے کہاں کھو سی گئی تھیں:
“آنٹی، والس آ گیا ہے۔”
ان کی نظریں لیانا سے والس کی طرف گئیں۔
“ماں، میں نے بل دے دیا ہے۔ باقی میڈی کے حوالے سے پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ جلد ہی وہ اپڈیٹ دیں گے۔”
“چلو، خداوند مدد کرے۔”
سونیلا آنٹی نے دعا کرتے ہوئے کہا۔
لیانا کی سوچیں میڈی سے ہوتی ہوئی لونا آپا تک اور پھر عشاء تک جا پہنچیں۔
تین لوگ، تین مختلف سوچیں لیے، آنے والی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔
**********
جوف اپنے اولڈ ٹاؤن کے علاقے میں بنے چھوٹے سے دو کمروں کے گھر میں داخل ہوا تو لاؤنج میں لائٹ آف کر کے لیمپ کی روشنی میں صوفے پر سمٹ کر بیٹھی بیلا کا سراپا سائے کی طرح لگ رہا تھا۔
وہ آگے بڑھا اور کچن کے ساتھ لگے سوئچ آن کیا، تو اس کے وجود میں ذرا سی بھی جنبش نہ ہوئی۔
جوف صوفے پر جیکٹ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھا اور ہاتھ پکڑ کر بولا:
“بیلا، میری جان، کیا ہوا ہے؟”
بیلا نے سر موڑ کر بھائی کو دیکھا اور پھر اس کے سینے سے لگ گئی۔
“کیا ہوا ہے؟ کچھ بتاؤ۔”
ماں جیسی شفقت اس کے لہجے میں تھی۔
“بھائی، مما اور بابا یاد آ رہے ہیں۔”
اس کا لہجہ گیلا تھا۔
جوف نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ چہرہ تو اس کا بھی غمگین ہو گیا تھا، لیکن یہ وقت بیلا کو اس سے باہر نکالنے کا تھا۔
اس نے بیلا کو پیچھے کیا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام کر بولا:
“دیکھو، بیلا، میرا بچہ، میں ہوں تمہارے ساتھ۔ تمہاری ماں اور باپ کی جگہ تو نہیں، لیکن میں تمہارا خیال رکھ سکتا ہوں۔ تم اداس مت ہوا کرو۔ جو بولو گی، میں کروں گا، اور تمہیں جو چاہیے ہوگا، پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔ تم بس اداس مت ہوا کرو، خوش رہا کرو۔”
بیلا ہونٹوں کو کاٹ رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو باہر بہہ نکلے۔
درد تو ریجیکٹ ہونے کا تھا، لیکن کمبخت جب دل ٹوٹا ہوتا تو ماں اور باپ یاد آ جاتے۔ وہ ہوتے تو کوئی اس طرح نہ کرتا ہمارے ساتھ۔
“بھائی، لیکن ماں اور باپ تو جو ہوتے ہیں، ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ بھائی یا بہن بھی نہیں۔ وہ جو ہمارے لیے ہوتے ہیں، ویسا کوئی نہیں بن سکتا۔”
بات سچ تھی، لیکن وہ دل غم میں ڈوب جاتے ہیں جن کو اولاد کی طرح پالا ہو اور وہ آپ کو صرف بھائی یا بہن سمجھ کر ڈیل کریں۔
جوف نے گہری سانس لے کر اپنے اندر بہت کچھ اتارا۔ پھر خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولا:
“یہ بات سچ ہے کہ ہم ماں باپ کی جگہ نہیں لے سکتے، لیکن ان کی طرح خیال رکھ سکتے ہیں۔ ان کی طرح پیار کرتے ہیں، بے شک ان کی طرح نہیں، تھوڑا سا تو کرتے ہیں ان کی طرح۔ بڑے بہن بھائی کی محبت کو جج مت کرو۔ وہ ماں باپ کے بعد دوسرے ماں باپ ہوتے ہیں، جو آپ کو اپنا آپ مار کر پالتے ہیں، آپ کی ضرورت پوری کرتے ہیں، آپ کے لیے ہر مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔”
جوف خاموش ہو گیا۔
بیلا چاہتی تھی وہ اور بولے، وہ صرف سنتی رہے۔
وہ جان بوجھ کر ایسا موضوع چھیڑتی تاکہ بھائی اس کے پاس رہے اور کہیں جائے نہ۔
آج دل ٹوٹا تھا، لیکن اس کا بدلہ جانے انجانے میں جوف سے لے گئی تھی۔ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ہر نقصان کا کفارہ جوف کو تکلیف دے کر لیتی تھی، اور جوف جانتے ہوئے بھی انجان بن جاتا تھا۔
آج وہ اس کے افسردہ ہونے کی وجہ تو نہ سمجھ سکا، لیکن اس کے تلخ انداز میں بات کرنے پر، اس کی سالوں کی محبت کو پل بھر میں جج کرنے پر، دکھی ہوا تھا۔ لیکن ظاہر نہیں ہونے دیا۔
“بھائی، سوری۔ میں زیادہ بول گئی، لیکن آپ کی بات سمجھ گئی ہوں۔”
وہ ندامت بھرے لہجے میں بولی۔
“کوئی بات نہیں۔ بس دل میں جو بات تنگ کر رہی ہو، کہہ دیا کرو۔ میں برا نہیں ماؤں گا۔”
جوف نے اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“اوکے، لیکن ایک بات۔ آپ روز دیر سے آتے ہو اور میں آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہوں۔”
وہ شکوہ کرتے ہوئے بولی۔
“اوکے، آئندہ کوشش کروں گا کہ جلدی آؤں۔”
خود کو اس کا یقین دلاتے ہوئے بولا۔
“میں بھوکی ہوں، بھائی۔ مجھے بھوک لگی ہے۔”
“اوہو، بیلا! ایک تو تم۔۔۔ بیٹھو، کھانا لے کر آتا ہوں۔”
وہ کہتے ہی اٹھا اور کچن کی جانب بڑھا، لیکن سوچیں کچھ یوں تھیں:
“کاش میں تمہیں ماضی بتا سکتا۔۔۔ ہمارے ماں باپ جب ہم سے چھین لیے گئے تھے۔”
وہ کچن میں چلا گیا۔
بیلا اسے لاؤنج میں بیٹھی کھانا تیار کرتے دیکھتی رہی۔
***********
عشاء اپنے کمرے میں موجود بیڈ پر بیٹھی، کمبل ٹانگوں پر ڈالے، موبائل فون پر انسٹاگرام اسکرول کر رہی تھی۔
اچانک نوٹیفیکیشن بجا۔ عبدالعزیٰ لائیو لکھا آ رہا تھا۔
وہ چند لمحے سوچتی رہی، پھر لائیو ویڈیو میں شامل ہو گئی۔
اسے اچھا لگتا تھا عبدالعزیٰ کا بولنا۔ اسے سننا۔
عبدالعزیٰ کا چہرہ نظر نہیں آتا تھا۔ وہ ہمیشہ آدھے چہرے کے زاویے پر رکھ کر لائیو چلاتا تھا۔ وہ آج تک نہیں سمجھ پائی تھی کہ اس کا یوں خود کو گمنام رکھنا کیوں ضروری تھا۔
کسی نے سوال پوچھا تھا:
“سر، ہم مسلم ہیں اور یونیورسٹی میں نون مسلم کی جانب سے روز کسی نہ کسی بات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیا کریں؟”
سوال پوچھا گیا تھا، لیکن واضح انداز میں نہیں پوچھا گیا تھا۔
عشاء اسکرین کو دیکھتے ہوئے اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔ بلکہ وہ سب کر رہے تھے جو اس کے لائیو آنے کا انتظار کرتے تھے۔
“نون مسلم جو کہتے ہیں، وہ کہتے رہیں۔ آپ ان کی باتوں پر دھیان نہ دیا کریں۔ اور دوسری بات، آپ جب ان کو اپنے رویے سے باہر کرتے ہو کہ آپ کو فرق پڑ رہا ہے، تو وہ آپ کو اور زیادہ غصہ دلاتے ہیں، تاکہ یہ کوئی بھی ایسا لفظ نکالیں اور اس بات کو وجہ بنا کر ان کی ساکھ کو خراب کیا جائے۔ مطلب یہ کہ مسلم میں برداشت اتنی ختم ہو چلی ہے کہ وہ اپنی نفرت میں سب کچھ خراب کر رہے ہیں۔ آپ نے صرف مثبت سوچنا ہے اور ان کی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے سکون سے رہنا ہے۔ کچھ دن اور، پھر وہ سب ختم کر دیں گے۔ میں امید کرتا ہوں آپ کو میری بات کی سمجھ آئی ہوگی۔”
عشاء کے لب مسکرا اٹھے۔
وہ بولتا تھا تو اس کو سننے کا دل کرتا تھا۔ وہ خاموش ہوتا تھا تو بے چینی ہوتی کہ وہ خاموش نہ ہو، بولتا رہے اور دل اس کو سنتا رہے۔
سوال اس کا بھی تھا، لیکن وہ سب کے سامنے نہیں پوچھنا چاہتی تھی۔ وہ بعد میں پوچھے گی، کسی اور وقت میں۔
عبدالعزیٰ ایک گھنٹے کے لیے لائیو آتا تھا اور پھر وہ آف ہو گیا۔
عشاء نے موبائل کی ای میل کھولی۔ اس میں ایک نئی میل آئی ہوئی تھی، عبدالعزیٰ کی جانب سے۔
اس نے کھولی اور پھر اس کی آنکھوں نے وہ الفاظ دیکھے اور زبان سے پڑھنے لگی:
“پیاری عشاء ہاشمی!
السلام علیکم!
امید ہے آپ ٹھیک ہوں گی۔ آپ نے جو کام کہا تھا، وہ ہو گیا۔ اس پرائیویٹ نمبر کا معلوم ہو گیا۔ وہ کسی کوسس نامی پادری کا ہے، جو چرچ میں ہی رہتا ہے۔ اس کا مکمل پتہ میں نے دے دیا ہے۔ آپ چاہیں تو اس سے مل سکتی ہیں۔
اور دوسری بات، آپ پر حملے کا مجھے معلوم ہوا۔ مجھے بہت دکھ ہوا کہ ایک چھوٹا بچہ جان سے چلا گیا۔ لیکن جو مکتوب ہو، وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔
اپنا خیال رکھیے۔
شکریہ،
عبدالعزیٰ”
ای میل پڑھتے ہوئے اس کی نظریں اس نمبر پر ٹھہر گئیں۔ وہ نمبر اور پتے کو اسکین کرتی رہی، پھر ملنے کا ارادہ کرتے ہوئے موبائل آف کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
لیکن دماغ میں صبح انسٹیٹوٹ کے حادثے سے لے کر جیکسن کے ساتھ ہوئی ملاقات اور اب اس بچے کا قتل، عشاء کے آگے گھوم رہا تھا۔
معصوم بچے کا چہرہ اس کی آنکھوں کے آگے سے نہیں ہٹ رہا تھا۔
وہ خوشبو جانی پہچانی سی تھی، اور وہ خوشبو جو لگاتا تھا، عشاء کے دماغ میں نہیں آ رہا تھا۔ لیکن وہ اس تک ضرور پہنچے گی۔
آج کی رات نیند اس کی آنکھوں سے غائب تھی۔
اچانک نوٹیفیکیشن بجا تو عشاء نے موبائل اٹھایا۔ سامنے پروفیسر احتشام کی جانب سے میسج آیا ہوا تھا۔
عشاء نے اوپن کیا اور جو اس نے میسج پڑھا اور ویڈیو ڈاؤن لوڈ کی، تو اس کی آنکھوں میں بے یقینی اتر آئی۔
ایک لمحے میں آپ ایک انسان کو پہچانتے ہیں، اور اگلے ہی لمحے اسے موت آ دبوچے، تو صدمہ بہت گہرا ہوتا ہے۔
***********
جاری ہے۔۔۔
چند دنوں بعد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *