PARAYA MAZHAB BY KAINAT SHAH.

پرایا مذہب
از قلم : کائنات شاہ

انتساب

ہر اس لڑکی کے نام جو محبت میں اندھی ہو کر اپنے لوگوں کو، اپنے مذہب کو چھوڑ کر پرایا مذہب اپنا لیتی ہے، پھر بعد میں اسے احساس ہوتا ہے کہ اپنے مذہب سے، اپنے ماں باپ سے، اپنے اللہ سے اپنے گھر سے دور رہنا کتنا تکلیف دہ ہے۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جب وہ آئی تو رات کے نو بج رہے تھے۔ سب ہال میں بیٹھے تھے، جو دراصل ایک چھوٹا سا صحن تھا۔ اس نے سب کو نظرانداز کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اسے پتہ تھا کہ سب اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
وہ جلدی سے کپڑے بدل کر بیڈ کی طرف بڑھی۔ باہر سے آوازیں ابھی بھی آ رہی تھیں، مگر ماہم بغیر پرواہ کیے کمبل تان کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
وہ سکون سے لیٹی تھی، حالانکہ نیند اسے نہیں آنی تھی۔ بہت دیر تک وہ کروٹیں بدلتی رہی۔ اسے نیند نہ آئی تو کمبل سے منہ نکال کر پڑی رہی۔ اسے شُبھم کے آنے کی آہٹ کمرے میں کچھ دیر پہلے محسوس ہو چکی تھی، اسی لیے اس نے کروٹ نہیں بدلی تھی۔
کافی دیر بعد، شاید ایک گھنٹے بعد، اس نے کروٹ بدلی تو دیکھا وہ سو چکا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ شاید شُبھم آ کر لڑے گا اس سے، مگر وہ تو خاموش تھا۔ لب کاٹتے ہوئے وہ اسے دیکھ رہی تھی، پھر اٹھی اور بالکنی کی طرف آ گئی۔
اسے ایسا لگا جیسے وہ آزاد ہے۔ خود کو پرسکون سمجھ رہی تھی۔ گہری سانس لے کر ماضی میں چلی گئی تھی، چہرے پر اس کے مسکراہٹ تھی۔
وہ ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ یاسر رضا اور آزار رضا۔ دونوں بھائی میں بے انتہا محبت تھی۔ دونوں نے ماں باپ کے جانے کے بعد بھی سب کچھ ویسے کا ویسا ہی رکھا۔ ماں باپ کی زندگی میں ہی دونوں نے گھر الگ کر لیا تھا، مگر پیار دونوں گھرانوں میں مثالی تھا۔ اوپر والا پورشن یاسر رضا کا اور نیچے والا پورشن آزار رضا کا تھا۔
دونوں کی شادی ان کی کزن سے ہوئی تھی۔ یاسر رضا کی بیوی عروہ ان کی خالہ زاد تھیں اور آزار رضا کی بیوی سویرا ان کی ماموں زاد تھیں۔
عروہ اور سویرا دوست، کزن اور جیٹھانی دیورانی تھیں۔ شاید اتنے سارے رشتوں کی وجہ سے ان دونوں میں روایتی جھگڑا کبھی نہیں ہوا تھا۔
یاسر اور عروہ کے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں عارفہ، حنان اور عروج۔ عارفہ نے بی اے کیا اور گھر بیٹھ گئی، گھرداری سیکھنے لگی۔ حنان نے بی کام کیا، پھر باپ اور چچا کے ساتھ بزنس سنبھالنے لگا اور عروج نے بھی انٹر مکمل کیا تھا۔ آگے پڑھنے کا کوئی شوق نہیں تھا لیکن اس کی خواہش تھی کہ وہ جاب کرے، اس لیے اسے آگے تعلیم جاری رکھنی تھی۔ مگر ابھی وہ فارغ تھی۔
پھر آزار اور سویرا کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی روحان، فرحان، المیر اور المیر سے ایک دو منٹ چھوٹی ماہم۔
روحان بھی حنان کی طرح بی کام کے بعد بزنس سنبھال رہا تھا اور وہ عارفہ سے منسوب تھا۔ فرحان ڈاکٹر تھا۔
پھر ان چاروں سے چھوٹے ماہم، المیر اور عروج تینوں ہم عمر تھے۔ ماہم حنان سے منسوب تھی اور المیر عروج سے۔ اِن کی بات بھی بچپن سے طے تھی۔
سب ہی اس رشتے سے راضی تھے، بلکہ ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ یہ جوائنٹ فیملی تھی، بہت پیار و محبت سے رہتی تھی۔ پھر اچانک۔۔۔۔
“کیا مصیبت ہے یار عروج، میں تو پیسے بھول گئی” ماہم نے رونی صورت بنا کر کہا۔
عروج کا تو خون ہی کھول گیا اس کی اِس بات پر۔ ایک تو بڑی مشکل سے شاپنگ کی اجازت ملی تھی اور دونوں شاپنگ کرنے آئی تھیں، مگر اب کیا خاک شاپنگ ہونی تھی۔ اس کا دل چاہا چلتی گاڑی کے نیچے آ جائے۔
“بیڑا غرق ہو تیرا ماہا” عروج نے جل کر کہا۔
“تم کیوں نہیں لائی تب؟” ماہم اسی پر چڑھنے لگی۔
“اوہ بہن، رات کو میں نے اپنے پیسے بھی تجھے ہی دیے تھے۔۔۔اگر تجھے یاد ہو تو” عروج نے اسے یاد دلایا۔
“اچھا اب کیا کریں؟” ماہم نے منہ بنایا۔
“اب یہ اے ٹی ایم لے اور جا کر پیسے لے آ۔ خبردار جو مجھے ساتھ چلنے کا کہا، میں سامنے سے آئس کریم کھانے جا رہی ہوں۔” عروج نے پرس سے اے ٹی ایم نکال کر اسے تھما دیا۔
“کس کا ہے؟” ماہم نے اے ٹی ایم تھامتے ہوئے پوچھا۔
“حنان بھائی کا۔” عروج نے جواب دیا۔
“میرے منگیتر کا اے ٹی ایم تیرے پاس کیسے؟” ماہم نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
“تمہارے منگیتر میرے اکلوتے بھائی بھی ہیں۔” عروج نے جتایا۔
“اور تم ان کی زبردستی کی بہن۔” ماہم نے جواب دیا اور اے ٹی ایم ہاتھ میں گھومانے لگی۔
“اور یہ اپنا فون بھی رکھ لو کہیں یہ بھی نہ بھول جانا۔” عروج نے اس کے دوسرے ہاتھ میں فون تھمایا۔
“تم بھی چلو نا۔” ماہم نے التجا کی۔
“نہیں، تم جاؤ۔” عروج نے کہا اور آگے چل دی۔
ماہم منہ بناتے ہوئے بینک کی طرف چلنے لگی۔ بینک قریب ہی تھا، وہ فوراً پہنچ گئی۔
ابھی وہ اندر پہنچی ہی تھی کہ اس کی ٹکر ایک لڑکے سے ہوئی۔ ماہم نے سوری کہا، مگر وہ اجنبی پھر بھی راستے سے نہیں ہٹا۔ وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے نظر پلٹنا ہی بھول گیا ہو۔
وہ شاید ماہم کا جائزہ لے رہا تھا۔ پنک کلر کی کرتی، بلیک پینٹ، گلے میں دوپٹہ فولڈ کیا ہوا، بالوں کی اونچی پونی، ہلکا سا میک اپ، ہاتھ میں گھڑی۔ پریشان کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
ماہم نے اسے ہوش میں لانے کے لیے اس کے آگے چٹکی بجائی تو وہ واقعی ہوش میں آ گیا۔
“مسٹر ایک تو آپ کی وجہ سے مجھے چوٹ آئی اور آپ مجھے گھور رہے ہیں۔ اب میں پیسے کیسے نکالوں گی؟” ماہم نے اسے سنایا۔
“مس، آپ غصے میں بہت پیاری لگتی ہیں۔ لائیے میں آپ کے پیسے نکال دوں۔” اس اجنبی کے کہنے پر وہ جھینپ گئی۔ اس کا غصہ مسکراہٹ میں بدل گیا اس نے اے ٹی ایم دیا اور پاس پڑے صوفے پر بیٹھ کر اپنا پیر دیکھنے لگی۔ جو ہیل کی وجہ سے موچ کھا گیا تھا پھر اس اجنبی نے واقعی اسے ایمانداری سے پیسے لا کر دیے۔ اور اس نے اسے آئس کریم کی آفر کی تو ماہم کو عروج یاد آ گئی اور اس نے انکار کر دیا۔ اجنبی نے مسکرا کر اپنا نمبر اسے دیا تو تھوڑا سا جھجھکتے ہوئے ماہم نے نمبر لے گیا۔ پھر ماہم تو وہاں سے چلی آئی مگر دل وہیں رہ گیا تھا۔ وہ خوشی خوشی شاپنگ کرنے لگی، لیکن اس کے دل میں بار بار وہی الفاظ گونج رہے تھے، “آپ غصے میں پیاری لگتی ہیں”۔ یہ سوچ سوچ کر وہ بس مسکرائے جا رہی تھی۔
اسے اچھا لگتا تھا کہ کوئی اس کی تعریف کرے۔ گھر پر بڑے تو کہتے ہی تھے کی اچھی لگتی ہو، لیکن بڑے بزرگوں کو تو بچے ہمیشہ اچھے ہی لگتے ہیں۔ حنان نے تو کبھی اس پر توجہ دی ہی نہیں تھی۔ اور عروج وغیرہ کبھی تعریف بھول کر بھی نہیں کرتے تھے۔ آج پہلی بار کسی اجنبی نے نہ صرف اس کی تعریف کی تھی، بلکہ اس کی خواہش بھی پوری کی تھی۔ اور یہی تعریف اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی بننے والی تھی۔
وہ شاپنگ کے بعد گھر آئی تو سب نارمل تھا۔ رات کے کھانے کے بعد اس نے کمرہ لاک کیا، بیڈ پر گری اور کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملانے لگی۔ دوسری بیل پر ہی کال اٹھا لی گئی۔ ماہم نے سوچا تھا ایک دفعہ ہی کرے گی اگر نہیں اٹھی تو نمبر بلاک کر دے گی۔ مگر اسے نہیں پتہ تھا گناہ کی طرف ایک قدم بڑھاؤ تو وہ خود چل کر دس قدم آپ کی طرف بڑھتا ہے۔ ماہم کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا جبکہ دوسری طرف سے تھوڑی دیر بعد آواز آئی۔
مجھے معلوم تھا آپ کال کریں گی سچ پوچھیں تو آپ کی اس خوبصورت سی آواز کا انتظار کر رہا تھا میں” اس لڑکے کا یہ دوسرا جملہ تھا جس نے ماہم کو اکسایا تھا۔ ماہم کی نظر اچانک سے بند دروازے پر گئی مگر اس لڑکے کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔ ایک پل کو اس نے کان سے ہٹا کر موبائل سامنے کیا جیسے اس کا دل کہہ رہا ہو، مت کرو ماہم، مت کرو۔ مگر وہ دل کی نہ سن سکی۔
پانچ منٹ، دس منٹ، آدھا گھنٹہ، ایک گھنٹہ اور پھر بات کرتے کرتے رات کے دو بج گئے۔ اسے ہوش ہی نہیں رہا۔ جب عروج کی آواز آئی تو ماہم نے بے اختیار گھڑی دیکھی تو فجر کا وقت تھا۔ اس نے جلدی سے بائے بول کر دروازے کھولنے کے لیے گئی۔
کیا کر رہی تھی کب سے آواز دے رہی ہوں” عروج نے اس کا جائزہ لیا۔
کچھ نہیں تم چلو میں وضو کر کے آتی ہوں” ماہم نے چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔
پھر یہ روز رات کا معمول بن گیا۔ وہ اس کی تعریف کرتا اور ماہم خوش ہو جاتی۔ بعض دفعہ لڑکیاں اسی جال میں منہ کے بل گرتی ہیں اور ایسے مردوں کو انہیں گرانے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔
ماہم اس سے بات کرتے وقت یہ بھول ہی گئی تھی کہ وہ حنان کی امانت ہے۔ پہلی ہی کال پر اسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ لڑکا غیر مسلم ہے۔ اس کا نام شُبھم راٹھور تھا۔
یہ جاننے کے بعد بھی اس کا دل اس سے بات کرنے کو کرتا تھا۔ اس نے دھیرے دھیرے اپنے قدم گناہ کی طرف بڑھا دیے۔ وہ شُبھم سے گھنٹوں باتیں کرتی۔ اسی طرح ایک ماہ گزر گیا۔ وہ بالکل بھول گئی تھی کہ وہ کسی کی منگیتر ہے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ ایک مسلمان ہے۔
اسے یاد تھا تو بس یہ کہ شُبھم حنان سے زیادہ اچھا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے، تعریفیں کرتا ہے، کبھی کبھی اگر اس کی ٹکر حنان سے ہوتی تو اس کا دل پہلے کی ہی طرح دھڑکتا تھا۔ مگر وہ فوراً آگے بڑھ جاتی۔ وہ اکثر اکیلے بیٹھ کر حنان اور شُبھم کا مقابلہ کرتی جس میں گھوم پھر کر حنان ہی اول آتا تھا۔ مگر وہ سر جھٹک کر اپنے دل کو ڈپٹ دیتی تھ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ حنان کو جلانے کے لیے شُبھم سے باتیں کرتی ہے مگر حنان کو کہاں خبر تھی کہ اس کی امانت میں خیانت شروع ہو چکی ہے۔
ایک روز اس کے کمرے میں عروج آئی۔
“کیا ہو رہا ہے جانی؟” عروج بولتے ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“تمہیں تمیز نہیں ہے؟ کسی کے روم میں ناک کر کے آتے ہیں” ماہم نے غصے سے کہا اور جلدی سے موبائل تکیے کے نیچے چھپا دیا۔ وہ شُبھم کے ساتھ کال پر تھی۔
“ہمارے بیچ کب سے یہ تمیز آ گئے؟” عروج کو حیرت ہوئی۔
“چھوڑو، یہ بتاؤ کوئی کام ہے؟ اگر ہے تو پلیز جلدی بولو، میں مصروف ہوں۔” ماہم نے بیزاری سے کہا۔
“ماہم، تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا؟ کیسے بات کر رہی ہو؟” عروج سیدھی ہو کر بیٹھی۔
“یار عروج پلیز جاؤ یہاں سے” ماہم نے تنگ آ کر کہا۔
عروج بنا کچھ بولے اسے ایک نظر دیکھ کر اٹھ کر جانے لگی۔ تبھی دروازے پر المیر سے ٹکرا گئی۔
“کہاں جا رہی ہو؟ کسی کا قتل تو نہیں کرنے کا ارادہ ہے؟” المیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کا اشارہ اس کے نئے جوڑے اور تیاری پر تھا، وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
“تمہارا قتل کرنے جا رہی ہوں۔۔۔ہٹو سامنے سے” عروج نے غصے سے کہا۔
“اگر نہیں ہٹوں تو؟” المیر نے اسے مزید تنگ کرنا چاہا۔
“اف، تب مر جاؤ تم” عروج نے دانت پیس کر کہا۔
“مر تو پہلے ہی گیا ہوں تم پر۔۔۔اور اب مرے کو کیا مارنا۔” المیر کا انداز شرارتی ہوا۔ عروج غصے سے اسے دیکھتی رہی، تب جا کر المیر دروازے سے ہٹا۔
اور پھر دوسرے روز ماہم عروج کو منانے گئی اور وہ مان تو گئی، مگر اب ان میں ذرا ذرا سی بات پر لڑائی ہو جاتی تھی۔ خاص کر تب جب عروج اسے حنان کے حوالے سے تنگ کرتی۔
ایک رات انہیں خبر ملی کہ کل عارفہ روحان کا نکاح المیر عروج اور ماہم حنان کی منگنی ہوگی۔ صبح جمعہ بعد رسم تھی۔ عروج ابھی ابھی آئی تھی۔ اور ماہم کے دائیں جانب آ کر بیٹھ گئی۔
“مبارک ہو ماہم بھابھی” عروج نے ماہم کو آئینے میں شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“عروج بس کر دو، ہٹو سامنے سے” ماہم نے عروج کو ہٹایا۔
“ماہا، آر یو اوکے؟” عروج پریشان ہو گئی۔
“پلیز ہٹو، میں ذرا لیٹوں گی۔” اس بار ماہم نرم ہوئی۔
“کوئی پریشانی ہے تو شیئر کرو۔” عروج نے پیار سے کہا۔
“مجھے منگنی نہیں کرنی۔” ماہم نے کہا۔ تو عروج نے اسے حیرانی سے دیکھا۔
“کیا۔۔۔مگر کیوں؟ حنان بھائی تم پر توجہ نہیں دیتے پر وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔” عروج کو لگا یہی بات ہو گی کیونکہ ماہم حنان کو پسند کرتی تھی۔ مگر حنان کے نظر انداز کرنے پر اکثر ناراض ہو جاتی تھی۔
“میں حنان سے شادی نہیں کرنا چاہتی عروج۔” ماہم نے عروج کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
عروج کچھ کہتی، اس سے پہلے ہی عروہ بیگم آ گئیں۔ دونوں خاموشی سے ان کے ساتھ باہر آ گئیں۔ رسم شروع ہو چکی تھی چاروں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔ پھر تصویریں بننے لگی۔ عروج نے ماہم کو کئی بار دیکھا اور ہر بار وہ اسے پریشان ہیں نظر آئی۔
اس دن کے بعد عروج نے ماہم سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ منگنی ہو گئی تھی۔ چار پانچ دن بعد وہ شام کو باہر نکلی۔ عروج سے اس کی بات نہیں ہوئی تھی اس بارے میں دوبارہ، وہ شُبھم سے ملنے آئی تھی۔ وہ اس کی گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔
“شُبھم، تم اپنی فیملی میں کب بات کرو گے؟” ماہم نے بے چینی سے پوچھا۔
“میں نے بات کر لی ہے، بس وہ اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ تم دوسرے مزہب سے ہو۔” شُبھم نے اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔ وہ کسمسائی مگر پیچھے نہ ہٹی۔
“ایک آئیڈیا ہے میرے پاس، ہم شادی کر لیتے ہیں۔” اس نے معصومیت سے کہا۔
“تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے شادی کی۔۔۔تھوڑا بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ بن کر ڈیٹ کرتے ہیں۔” شُبھم نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
“نہیں نہیں۔۔۔ہم جلدی شادی کریں گے۔” ماہم نے نفی میں سر ہلایا۔
“کیوں۔۔کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟” شُبھم نے اس کے بالوں کو اپنے ہاتھ میں لیا جو ریت کی طرح اس کے ہاتھ سے گرنے لگے۔
“میرا مذہب مجھے اجازت نہیں دیتا۔” ماہم نے اپنے بال پیچھے کیے۔
“حیرت ہے۔۔۔تمہارا مذہب یہ اجازت دیتا ہے کسی پرائے مذہب سے شادی کرنے کا؟” شُبھم ہنس رہا تھا۔ ماہم کو یہ ہنسی نا جانے کیوں زہر لگی۔ اس کا دل برا ہوا، وہ تھوڑی دیر رکی اور گھر آ گئی۔
پھر دو دن بعد دونوں نے طے کیا اور ماہم نے کہا کہ اگلے مہینے میرے دونوں بھائیوں کی شادی ہے، سب مصروف ہوں گے اور میں آ جاؤں گی۔ وہ پوری طرح سے اس دلدل میں گر چکی تھی جہاں سے واپسی نا ممکن تھی۔
پھر جیسے تیسے وہ دن بھی آ گیا جس دن ماہم کو بھاگنا تھا۔
آج اس کا دل صبح سے دھڑک رہا تھا۔ عروج نے نوٹ کیا پر بولی کچھ نہیں۔ ماہم اور عروج میں بات تو ہوتی تھی مگر بہت کم۔ اکثر کسی تیسرے کے آ جانے سے رشتوں میں دراڑیں آ ہی جاتی ہیں۔
صبح شُبھم کا فون آیا، اس نے کہا کہ دو دن بعد آنا۔ ماہم نے شکر ادا کیا، جیسے اسے آج پھانسی ہونی تھی پر ڈیٹ دو دن تک بڑھا دی گئی ہو۔ پھر جس دن اسے جانا تھا، اس دن اس کے بھائی اور ان کی بیویاں اپنے اپنے میکے سے آئے ہوئے تھے۔
وہ پہلے اپنے ابو کے کمرے میں گئی۔ اس کے ابو نا جانے کس بات پر فون پر کسی سے بحث کر رہے تھے۔ اسے اپنی امی کی یاد آئی جو دو سال پہلے اسے چھوڑ کر اللہ کے پاس چلی گئی تھیں۔ پھر وہ اپنے بابا کے سینے سے لگ گئی۔ انہوں نے مسکرا کر اس کے سر پر بوسہ دیا۔ اور فرحان عارفہ سے جا کر ملی۔ اس کے بعد اپنی نئی بھابھی فرحان اور حبیبہ کے کمرے میں گئی۔ فرحان نے اپنی دوست کی سالی حبیبہ سے شادی کی تھی۔ پھر المیر کو کافی بنا کر دی اور اوپر عروج کی طرف چلی گئی۔ یعنی سب سے مشکل گھڑی آ گئی تھی۔
تائی سے ملی، ان کے سر پر تیل رکھا تایا سے ملی۔ اور کی شال محبت سے ان کے کندھے پر ڈالی وہ ٹہلنے جا رہے تھے ۔ یہ ایک مزے کی بات تھی – ماہم عروج کے بابا کی لاڈلی تھی اور عروج ماہم کے بابا کی لاڈلی تھی۔ پھر کچن میں گئی تو عروج وہیں تھی۔
“ابھی تک ناراض ہو؟” اس نے پیچھے سے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
“جب تک تم اُس بات کو ختم نہیں کرو گی، میں تب تک ناراض رہوں گی۔” عروج نے اسے ہٹاتے ہوئے کہا۔
تو کیا تم واقعی ناراض ہو؟۔۔۔مگر بات تو کرتی ہو” ماہم نے سیب کو اٹھا کر منہ سے لگایا۔
تو گھر میں شادی تھی لوگ آ جا رہے تھے اور ویسے بھی میں ناراض نہیں ہوں” عروج نے چایے کپ میں ڈالی۔
“عروج، شُبھم بہت اچھا ہے۔” ماہم کے کہنے پر عروج کے ہاتھ پر چایے گری۔ ماہم فوراً آگے بڑھی مگر عروج نے ہاتھ پیچھے کیا ساتھ خود بھی ہوئی۔
“شُبھم۔۔۔کیا وہ غیر مسلم ہے؟” عروج کو صدمہ لگا۔
“ہاں، وہ غیر مسلم ہے۔” ماہم نے نظریں نیچی کر کے یہ بات کہی۔
“تم یہ کیا کر رہی ہو؟ پاگل ہو گئی ہو کیا؟”
عروج نے اسے پکڑ کر کہا۔ پھر بہت دیر تک اسے سمجھایا پر وہ نہ مانی۔ وہ جانے لگی۔ عروج کو یہ بات پتہ ہی نہیں تھی کہ وہ گھر سے بھاگ رہی ہے۔
جب وہ کچن سے نکلی تو حنان سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔مگر رکی نہیں، فوراً بھاگ گئی تھی۔ حنان بھی چلا گیا۔
عروج کو دونوں پر ترس آیا۔ حنان پر بھی اور ماہم پر بھی۔ ماہم پر اس لیے کہ وہ اپنے ساتھ کتنا غلط کر رہی ہے، اور حنان پر اس لیے کہ وہ اپنی محبت کا اظہار کیوں نہیں کرتا تھا۔ اگر وہ کرتا تو ماہم یوں نہ کرتی۔ عروج نے سوچا کہ المیر سے بات کرے، پر پھر سوچا کہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ مگر عروج کی محض یہ غلط فہمی تھی۔
پھر رات کے ایک بجے وہ بیگ لے کر اپنے کمرے سے نکلی، پھر گھر سے، پھر اپنے شہر سے، اور پھر حنان اور اپنے گھر والوں کی زندگی سے بھی نکل گئی۔ وہ رات کے اس پہر گہری خاموشی میں دبے پاؤں گھر سے نکلی تھی۔
ماہم خان کی کہانی یہیں پر ختم ہوئی تھی، اور شروع ہوئی تھی یہاں سے ماہی راٹھور کی کہانی۔
شُبھم کی فیملی نے اسے ایکسپٹ کر لیا تھا، اور کرتی بھی کیسے نہ، شُبھم اپنے دونوں بھائیوں سے زیادہ جو کماتا تھا۔ جیسے ہی اس نے گھر میں قدم رکھا، تو اسے عجیب سی بے چینی ہوئی۔ پھر اسے شُبھم روم میں لے گیا اور چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ وہ خاموش کھڑی اس روم کا جائزہ لینے لگی۔
ایک تخت تھا جس پر ہرے رنگ کی بیڈشیٹ تھی، تکیے کا کور شاید دوسری بیڈ شیٹ کا تھا۔ تخت کے پاس ایک چھوٹا سا ٹیبل تھا اور ایک طرف کپڑوں کا ڈھیر تھا۔ کمرہ بہت چھوٹا تھا۔ اسے حیرت کم، فکر زیادہ ہوئی تھی۔ اسے اپنا کمرہ بہت یاد آیا۔
بھاری دل کے ساتھ بیگ ایک طرف رکھا اور گھڑی دیکھی جہاں صبح کے پانچ بج رہے تھے۔ بہت دیر تک جب اس کو سکون نہ آیا تو اس نے نماز پڑھی۔ وہ بالکنی میں وضو کر آئی اور ایک طرف اپنے بیگ سے چادر نکال کر بچھا کر فجر کی نماز ادا کی۔ قبلہ تو اسے نہیں ملا تھا مگر سجدہ تو اسے اللہ کو کرنا تھا۔ اس نے نیت کی۔ اور کر لیا اس اللہ کے سامنے جسے وہ گھنٹوں پہلے چھوڑ آئی تھی۔ یہ بات اسے بہت دیر سے سمجھ آئی تھی کہ اللہ کبھی کسی کی نماز نہیں چھینتا، انسان خود اپنے ہاتھوں سے اپنی سجدوں والی چادر چھوڑ آتا ہے، اور پھر ساری زندگی اسی چادر کو ڈھونڈتا رہتا ہے جس پر وہ محسوس کر سکے کہ وہ اللہ کے قریب ابھی بھی ہے اور سکون پا سکے۔ ماہم نے بھی وہی چادر اپنے بیگ میں رکھی تھی۔
چھ بجے کے قریب شُبھم آیا اور بغیر کوئی بات کیے تخت پر لیٹ گیا اور ماہم بھی بوجھل دل کے ساتھ لیٹ گئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور دنیا میں آ گئی ہے۔ ایک پل کو اس نے سوچا کہ یہاں سے بھاگ جائے مگر پھر خیال آیا، بھاگ کر جائے گی کہاں؟ وہاں جہاں اس وقت قیامت آئی ہوگی۔ بیٹیاں صرف گھر سے نہیں بھاگتیں، اپنے ساتھ عزت بھی لے جاتی ہیں۔ یہی سب وہ سوچتی رہی اور نا جانے وہ کب سوئی۔
پھر دس بجے کے قریب ماہم اٹھی۔ خیر اٹھی کیا، بلکہ اسے کسی نے جاہلوں کی طرح دروازہ پیٹ کر اٹھایا تھا۔
وہ منہ بناتی، اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ کر، دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھی تو دیکھا ایک عورت ساڑی پہنے کھڑی تھی۔ شاید اس کی جیٹھانی تھی۔ اسے دیکھتے ہی شُبھم تولیہ لے کر باہر نکل گیا۔
“نام کیا ہے تمہارا؟” اس عورت نے ایسے پوچھا جیسے وہ کوئی ملازمہ ہو۔
“جی ماہم۔۔۔” ماہم نے آگے خان لگانے سے خود کو روکا۔
“ایک تو تمہارا نام بہت کٹھن ہے۔۔۔اور ہاں بہوئیں اتنی دیر تک نہیں سویا کرتیں ماہی جی۔” آرتی نے کہا تو اس نے حیرانی سے اسے دیکھا ماہم سے وہ ماہی بن گئی تھی۔
“آپ کا نام؟” ماہم نے دھیرے سے پوچھا۔
“آرتی۔۔۔تمہاری سب سے بڑی جیٹھانی۔” آرتی نے اپنا تعارف کروایا۔
“بھابھی مجھے نہانا ہے۔” ماہم نے جلدی سے پوچھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ کچھ اور نا پوچھے۔
“چلو میں بتاؤں باتھ روم کدھر ہے۔” آرتی نے کہا۔
سارا دن وہ اپنی ساس کے ساتھ بیٹھی رہی اور وہ اسے سب سکھا رہی تھی۔ شام کو مندر جانا تھا۔ شُبھم اسے نظر ہی نہیں آیا۔ وہ بہت مشکل سے کمرے میں تیار ہونے گئی مگر شُبھم وہاں بھی نہیں تھا۔ جیسے ہی شُبھم آیا وہ تیزی سے اس کے سامنے آئی۔
“شُبھم ہم مندر نہیں جا رہے نا۔ سمجھایا تم نے اپنی ممی کو میں پرایا مذہب نہیں اپناؤں گی۔” ماہم نے امید سے اسے دیکھا۔
“میں بات کر لوں گا مگر ابھی۔۔۔ابھی تم ساتھ چلو مندر میں مت جانا باہر ہی رہنا مگر پلیز ساتھ چلو۔” شُبھم نے اسے کندھے سے پکڑا تو وہ کسمسا کر پیچھے ہوئی۔
“میں تمہارا مذہب نہیں اپناؤں گی یہ طے نہیں ہوا تھا۔” ماہم چیکھی تو شُبھم نے اسے غصے سے گھورا۔
“تو چلی جاؤ اپنے مذہب میں، چھوڑ دو یہ پرایا مذہب مگر یہ یاد رکھنا تمہارے گھر والے زندہ دفن کر دیں گے تمہیں۔” شُبھم نے کہا اور باہر نکل گیا۔ تبھی سونیا اندر آئی۔
“کیا ہو رہا تھا شادی کے دوسرے دن ہی لڑائی۔۔۔ایسے تو نہیں ہوتی لو میرج۔” سونیا اس کی چھوٹی جیٹھانی تھی۔
“آپ کو تمیز نہیں ہیں اس طرح کسی کی باتیں نہیں سنتے۔” ماہم نے اپنے بالوں کو ربر بینڈ سے جکڑا۔
“کیا کریں کچن تو دیور جی کے کمرے کے پاس ہے، آواز تو آئے گی ہی۔ویسے تیار نہیں ہوئی تم۔” سونیا نے مزے سے کہا۔
“نہیں۔۔۔میں نہیں جاؤں گی میں نے شُبھم سے شادی کی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں مندر وغیرہ جاؤں گی، میں اب بھی مسلمان ہوں۔” ماہم کو لگا آخری الفاظ اس نے خود سے کہا تھا۔
“ماں جی کا راج ہے ادھر اور دیور جی ان کے آگے ایک شبد نہیں بولتے۔۔۔مندر تو تم جاؤ گی۔” سونیا نے فخریہ انداز میں کہا اور باہر نکل گئی۔
پھر وہی ہوا جو سونیا کہہ کر گئی تھی۔ اس کی ساس نے آرتی کے ہاتھوں سے تھالی لے کر اس کے ہاتھوں پر رکھی۔ اس میں رکھے دیے جل رہے تھے۔ ماہم کو لگا اس کے ہاتھ جل جائیں گے جبکہ اس کا دل جل رہا تھا۔ بے زاری سے اس نے تھالی تھامے رکھا۔ شُبھم کے ساتھ وہ مندر تو گئی تھی مگر اندر نہ گئی، باہر کھڑی رہی۔
دھیرے دھیرے وہ ساڑی پہننے لگی، پھر پوجا بھی کرتی تھی۔ ایک مہینے سے وہ تنگ ہو گئی تھی۔ پھر ایک دن اس نے نماز پڑھی تو آرتی نے کہیں سے اسے دیکھ لیا تو واویلا مچا دیا۔ پھر ہوا وہی جو سب چاہتے تھے۔ “نماز نہیں پڑھے گی ماہی” یہی طے ہوا۔
شُبھم نے بھی کچھ نہیں کہا تو اسے رونا اس بات پر آیا کہ وہ تو اس کے گھر والوں کی ہر بات مانتی ہے، اور صرف نماز پڑھنے کے لیے اتنا ہنگامہ؟ اس نے سب سے چھپ کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔ ہاں عشاء اور فجر کے وقت شُبھم دیکھتا تھا مگر بولتا کچھ نہیں تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ بس حنان کو اور اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر آئی ہے، مگر وہ غلط تھی۔ وہ تو بہت کچھ چھوڑ آئی تھی۔ وہ اپنا سکون چھوڑ آئی تھی، اپنا مذہب چھوڑ آئی تھی، اپنی جائے نماز کا وہ نرم سا کونا چھوڑ آئی تھی جہاں بیٹھ کر وہ اللہ سے سب سے زیادہ قریب محسوس کرتی تھی، اور وہ قبلہ چھوڑ آئی تھی جس کی طرف رخ کر کے اسے لگتا تھا کہ چاہے ساری دنیا ناراض ہو جائے، اس کا خدا اس سے ناراض نہیں ہوگا۔ اب اس نئے گھر میں سب کچھ تھا، مگر وہ سکون نہیں تھا جو اس گھر میں اور اس سجدے میں ملتا تھا۔ مگر وہ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے تباہ کر آئی تھی۔
پھر ایسے ہی ڈیڑھ ماہ گزر گیا اور ایک دن وہ موبائل لے کر بیٹھ گئی۔ اس نے موبائل نہیں کھولا تھا کیونکہ اس کا دل چاہتا تھا وہ سب سے بات کرے جو کہ ممکن نہیں تھا۔ سب سے اوپر المیر کی چیٹ تھی۔ اس نے بھیگی آنکھوں سے چیٹ اوپن کی۔ اور خود پر ضبط کرتے ہوئے پڑھنے لگی۔
“ماہا تمہیں اللہ پوچھے گا۔ تم نے ہم سب کو برباد کر دیا، خاک کر دیا ہماری عزت۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر خیر۔۔۔تم اللہ کے حوالے۔ ایک بات کا جواب ضرور دینا، کیا کمی تھی ہم میں؟ ہماری محبت میں؟ اور حنان بھائی کا نہیں سوچا تم نے؟ اف ہے تم پر ماہا۔ اللہ تمہیں ہدایت دے، اللہ کرے تم ساری زندگی پچھتاؤ۔” ماہم کا سانس وہیں اٹک گیا۔ آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔
اس نے سکرول کیا۔ پھر کچھ دن بعد کا دوسرا میسج تھا۔۔۔۔
“ماہم میری جان، کاش تم مشورہ کر لیتی، کوئی حل نکالتے۔ تمہارا فون بند ہے، تم کہاں ہو؟ کوئی رابطہ تو کر لو۔ میری دعا ہے بس تم خوش و آباد رہو۔ کبھی بھی ضرورت ہو کسی کا تو نہیں پتہ، مگر اپنے بھائی المیر سے ضرور رابطہ کرنا اوکے۔ اللہ کے حفظ و امان میں، اللہ حافظ۔” ماہم وہیں بالکنی میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
یہ وہی المیر تھا جو اس کے ایک آنسوؤں پر بے قابو ہو جاتا تھا اور اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ سارا جہاں اس کے قدموں میں لا کر رکھے دے۔ مگر آج اس نے پہلے غصے میں بددعا دے دی، پھر اسی غصے میں دعا بھی دے دی۔ یہی تو بھائی ہوتا ہے۔ اور اس لمحے اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ اس نے عزت نہیں، محبتیں دفن کی ہیں۔ المیر کے میسج کے بعد اس نے کانپتے ہاتھوں سے عروج کی چیٹ کھولی۔ وہ چیٹ جو کبھی ہنسی سے بھری رہتی تھی، آج اس میں اداسی تھی۔ ایک لمبا سا میسج تھا ماہم نے سسکتے ہوئے پڑھنا شروع کیا۔
“کیا ملا یار تجھے؟ حنان بھائی سے تو محبت کرتی تھی نا؟ کیا یہی تھی تمہاری محبت؟ اتنی خود غرض، اتنی گری ہوئی؟ میری بددعا ہے ماہم، تم برباد رہو۔ میرا بھائی جس طرح دن رات بے چین ہے، جس طرح وہ تمہیں یاد کر کے روتا ہے، اللہ کرے تم بھی ویسے ہی تڑپو۔ تمہاری وجہ سے ہمارا ہنستا کھیلتا گھر قبرستان بن گیا ہے۔ جاؤ ماہم۔۔۔معاف کرنا، ماہم شُبھم راٹھور، تمہیں ہم سب کی آہ لگے۔ تم نے اللہ کے ساتھ شرک کیا ہے، تم نے کلمہ توڑا ہے۔ تم نے پرایے مزہب کے لیے اپنا مزہب چھوڑا ہے۔ واپس کبھی مت آنا۔ جس طرح تم میرے بھائی کو چھوڑ گئی ہو نا، اسی طرح تمہارا بھائی بھی آزاد ہے۔ غارت کرے اللہ تمہیں، آج سے میری تم سے دوستی ختم۔ مجھے شرم آتی ہے کہتے ہوئے کہ بیس سالوں سے میں نے تجھ سے دوستی رکھی تھی۔”ماہم نے دیوار سے ٹیک لگایا۔
وہ زمین پر بیٹھی چلی گئی۔ اس کی سانسیں اٹکنے لگیں۔ ایک طرف المیر کی سسکتی ہوئی دعائیں تھیں اور دوسری طرف عروج کی جلتی ہوئی بددعائیں۔ اور بددعائیں ہمیشہ دعاؤں پر بھاری پڑ جاتی ہیں۔
“یا اللہ۔۔۔یہ میں نے کیا کر دیا؟” وہ گھٹنوں میں سر دے کر چیخ چیخ کر روئی۔ بے چین تو وہ پہلے سے تھی، مگر عروج کے اس ایک میسج نے اس کی بے چینی کو ہمیشہ کی اذیت میں بدل دیا تھا۔
رونے میں جب کمی آئی تو اس نے دوبارہ واٹس ایپ کھولا۔ حنان کا نمبر آج بھی اس کے موبائل میں ‘قلبِ سکون’ کے نام سے سیو تھا۔ یہی وہ نام تھا جسے دیکھ کر کبھی اس کے دل کو قرار آتا تھا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے اس نام کو ڈیلیٹ کیا اور لکھ دیا حنان۔۔۔بس حنان۔ کیونکہ اب اسے وہ کھو چکی تھی۔ بہت ہمت جمع کر کے، آنکھوں میں آنسو بھر کر اس نے حنان کی چیٹ کھولی۔
“ماہم، یہ کیا کیا تم نے؟ کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے؟ ابھی بھی وقت ہے لوٹ آؤ۔ تم نے صرف اپنی نہیں، سب کی زندگی خراب کر دی ہے۔” اور وہ وہیں اٹک گئی۔ “سب کی زندگی۔۔۔۔” اس کے دماغ میں ہتھوڑے چلنے لگے۔
سب کی زندگی کا کیا مطلب ہے؟ کیا مطلب ہے اس کا حنان؟ کیا عروج نے بھی المیر سے رشتہ ختم کر لیا؟ کیا میری وجہ سے روحان بھائی اور عارفہ آپی کی ہنستی بستی زندگی اجڑ گئی؟ کیا ابو نے میری وجہ سے سر جھکا لیا؟۔۔۔کیا سب بکھر گیا۔
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔ایسا نہیں ہوا ہوگا” اس نے خود کو تسلی دی۔
اس کا دماغ پھٹنے لگا، اسے لگا وہ مر رہی ہے اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ مگر فوراً سے اس نے آنسوں صاف کیے اور دوبارہ میسج پڑھنے لگی۔
” جب بھی آؤ گی مجھ سے ملنا ضرور میں وہی ہوں جہاں تم چھوڑ کر گئی ہو۔۔۔مجھ میں نہیں ہمت تمہیں بھولنے کی۔ اٹھائس دن ہو گئے ہے تمہیں گئے ہوئے ماہا مگر مجھ سے نہیں ہو رہا میں تمہیں نہیں بھول سکتا۔۔۔۔”
اسے لگا کہ اسے سانس نہیں آ رہی وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے اٹھی اور تخت پر آ کر بیٹھی۔ اور بے آواز رونے لگی اسے احساس ہوا کہ اس نے گھر نہیں چھوڑا، اس نے ایک پورا خاندان اجاڑ دیا ہے۔ وہ تو بس حنان کی توجہ کے لیے یہاں تک آ گئی تھی۔ مگر حنان کے الفاظ تو کچھ اور تھے ابھی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سب گھوم رہا تھا اسے چکر آ رہے تھے سر کے پچھلے حصے میں درد اٹھا۔ وہ جسے محبت کی جیت سمجھ کر شُبھم کے ساتھ آئی تھی، وہ جیت نہیں تھی۔ وہ تو اس کی زندگی کی سب سے بڑی ہار تھی، وہ سب کچھ تباہ کر آئی تھی۔ اس نے اپنا سکون، اپنے گھر والوں کو، اور اپنے اللہ کو، اپنا قبلہ سب کچھ ہار گئی تھی وہ۔
پھر دن گزرتے گئے، مہینہ گزر گیا، اور ماہم کو اس گھر میں رہتے ہوئے ایک سال گزر گیا۔ اس کے یہاں بیٹے کی آمد ہوئی۔ ساس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی تھیں، پہلا پوتا جو تھا۔ دونوں بڑی بہوؤں کو بیٹیاں تھیں، اس دن اس گھر میں صرف عاریان کا جشن تھا۔
ماہم نے اپنے اوپر توجہ دینا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ وہ آئینہ نہیں دیکھتی تھی۔ نماز وہ اب بھی چپکے سے، کبھی کبھی سجدے میں اسے اتنا رونا آتا کہ وہ وہیں سو جاتی۔
اس کے بیٹے کا نام عاریان رکھا گیا۔ عاریان راٹھور۔ عاریان اب دھیرے دھیرے تین سال کا ہو گیا تھا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے قدم پورے گھر میں شور کرتے تھے۔ سب کی جان بستی تھی اس میں۔ شُبھم کو بھی وہ بہت پیارا تھا، شام کو آتے ہی سب سے پہلے اس سے ملتا تھا اور شُبھم کی ممی کی تو آنکھیں ہر وقت اسی کو ڈھونڈتی تھیں۔ وہ ماہم کی گود سے زیادہ اپنی دادی کی گود میں رہتا تھا۔ گاہے بگاہے دونوں بڑی جٹھانیاں اس کے چھپ کر نماز پڑھنے پر واویلا مچا دیتیں، “یہ کیا ڈرامہ ہے؟ مندر میں دیا کیوں نہیں جلاتی؟۔۔۔۔ماہم نے ایک بار بہت ہمت کر کے ساس سے کہا، “ممی جی، مجھے روزہ رکھنے دیں، نماز پڑھنے دیں۔” ساس نے اسے سر تا پیر دیکھا اور جھڑک دیا، “اس گھر میں یہ سب نہیں چلے گا۔ اب تم راٹھور ہو، سمجھی؟” تو وہ خاموش ہو گئی۔ اس دن کے بعد اس نے دوبارہ اس بارے میں بات نا کرنے کے لیے عہد کر لیا خود سل۔ بے چینی اب بھی اس کے دل میں ویسی ہی تھی۔ بلکہ اب تو وہ بے چینی اس کی رگوں میں دوڑتی تھی۔ اسے ایک پل کو بھی سکون نہ تھا، نہ دن میں، نہ رات میں۔
ایک رات جب عاریان اپنی دادی کے پاس سو گیا تھا، نہ جانے کیوں اس نے سالوں بعد انسٹاگرام کی پرانی آئی ڈی کھولی۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے باہر آ جائے گا۔ اور سامنے عروج کی پوسٹ پر اس کی انگلیاں پتھر کی ہو گئیں۔
حنان کی منگنی ہو گئی تھی۔ سرخ جوڑے میں ملبوس، ہاتھوں میں مہندی لگائے وہ لڑکی۔۔۔اس نے دلہن کو پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ وہ حنان کی امی کی دوست کی بیٹی تھی۔۔۔زہراء۔ وہی زہرا جس سے ماہم ہمیشہ جلتی تھی۔ کیونکہ وہ حنان کی دوست تھی۔ اور اسی تصویر میں پیچھے، ہلکے گلابی لہنگے میں عروج کسی لمبے سے لڑکے کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی، اس کے ہاتھ میں بھی مہندی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پروفائل میں جا کر چند اور پوسٹس دیکھیں۔ اس لڑکے کے ساتھ عروج نے کولب کیا ہوا تھا۔ اور اس لڑکے نے ایک کیپشن میں”My forever” لکھا تھا۔ اس کا شک صحیح نکلا، عروج کی بھی منگنی ہو چکی تھا۔
مطلب سب آگے بڑھ گئے تھے۔ وہ بہت دن تک اداس رہی۔ اب اس نے رونا چھوڑ دیا تھا کیونکہ رو دھو کر پھر سے معمول پر ہی تو آنا تھا۔ یوں اس کی شادی کو تین سال گزر گئے۔
عاریان سب کا لاڈلا۔ اس کی دادی تو اس کے بغیر سوتی ہی نہیں تھی۔ شاید اسی وجہ سے وہ ماہم کے زیادہ قریب نہیں تھا۔ سچ تو یہ تھا کہ ماہم خود بھی اسے اپنے قریب نہیں آنے دیتی تھی۔ اور پھر اس کی دادی ہر وقت اسے اپنے ساتھ لیے رہتی کہی بھی جاتی ساتھ لے جاتی صاف مطلب تھا وہ عاریان کو ماہم سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
اس نے خود کو مصروف کر لیا تھا۔ سارا دن کچن میں۔ وہ اب الگ سونے لگی تھی۔ شُبھم کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ باہر جاتی تو کسی ہوٹل میں بیٹھ کر چکن کھا کر آتی، جیسے اپنے ہی مرے ہوئے ایمان کو تسلی دے رہی ہو کہ دیکھو، میں ابھی مسلمان ہوں۔
اس نے بہت بار سوچا کہ واپس چلی جائے، مگر کس منہ سے جاتی؟۔۔۔ ایک رات اس نے قرب سے آنکھیں بند کر لیں اور وہی چیٹ نکالی جو آج بھی اس کے واٹس ایپ میں سب سے اوپر پن تھی، جسے اس نے آج تک ڈیلیٹ نہیں کیا تھا۔ “تم جہاں چھوڑ کر گئی ہو، میں وہیں ہوں۔” اس نے سسک کر موبائل سینے سے لگا لیا۔
مگر حنان تو آگے بڑھ گیا تھا۔ اور بڑھنا بھی چاہیے تھا۔ خیر، وہ کب تک کرتا انتظار؟ تین سال کیا کم تھے کسی کی بے وفائی کے لیے؟
ماہم اب بہت خاموش رہتی تھی۔ بالکل گونگی۔ اکثر ساس اور جٹھانیوں سے نماز کے لیے بحث کر لیتی تھی، جس پر اسے باتیں سننی پڑتیں۔ شُبھم کچھ کہتا نہیں تھا، وہ بس دیکھتا رہتا۔ وہ اس سے دور ہو رہی تھی اور شُبھم نے بھی اسے پاس لانے کی کوشش چھوڑ دی تھی۔ ان کے بیچ اب صرف عاریان تھا، اور کچھ نہیں۔ اور اسی طرح دو سال مزید اور گزر گئے تھے ماہم کو شک تھا کہ شُبھم کسی لڑکی سے بات کرتا ہے مگر اس نے کبھی کچھ کہا نہیں پہلی دفعہ جب پوچھا تو اس نے غصے سے کہا تھا کہ ” تم سے مجھے کچھ حاصل نہیں تم نے میری زندگی برباد کر دی ہے دوبارہ مجھ سے سوال مت کرنا اس حوالے سے”۔۔۔بس پھر ماہم نے کبھی کچھ پوچھا نہیں۔
ایک دن وہ آرتی کے ساتھ مارکیٹ گئی تو اسے کسی نے پیچھے سے آواز دی۔۔۔۔۔
“ماہا۔۔۔۔” جانی پہچانی آواز اسے اپنے پیچھے سے آئی۔
اس کا دل حلق میں آ گیا۔ شکر ہے آرتی بھابھی اس وقت دوکان کے اندر چلی گئی تھیں۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کی سانسیں وہیں رک گئیں۔ وہ منال تھی۔ اس کی اور عروج کی بچپن کی دوست۔
ماہم کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ساڑی میں لپٹی (اس نے اپنی ساس کے دباؤ کے باوجود سندور وغیرہ نہیں لگایا تھا اس نے کورٹ میرج کی تھی) مگر ساڑی مین اس کا حلیہ پھر بھی عجیب لگ رہا تھا۔۔۔وہ منال سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔
منال ایک لمحے کو اسے غور سے دیکھتی رہی، پھر آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں گلے لگی۔ ماہم مسکراتے ہوئے اس سے الگ ہوئی، مگر اس کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ مسلسل اپنی ساڑی کا پلو درست کر رہی تھی، جیسے اپنا آپ چھپا رہی ہو۔ ان دونوں کی تھوڑی سی بات ہوئی، بہت ڈری ڈری سی۔ پھر منال نے جلدی سے اپنے پرس سے ایک کاغذ نکالا، اس پر اپنا نمبر اور ایڈریس لکھ کر ماہم کی طرف بڑھایا۔
“جب دل کرے آ جانا۔ وہ یہ کہ کر چلی گئی۔
آرتی کے ساتھ شاپنگ مکمل کر کے وہ گھر آ گئی، مگر سارا راستہ اس کی مٹھی میں وہ کاغذ پسینے سے بھیگتا رہا۔ اس میں منال کے فلیٹ کا ایڈریس تھا۔
ایک دن وہ سو کر اٹھی تو دیکھا گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔ آرتی سو رہی تھی اور ساس چھوٹی بہو کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ عاریان بھی ان کے ساتھ ہی گیا ہوا تھا۔ یہی موقع تھا۔
ماہم نے جلدی سے پرس اٹھایا، ساڑی کا پلو ٹھیک کیا اور دبے قدموں باہر نکل گئی۔ تھوڑی مشکلوں کے بعد، رکشے والوں سے پوچھتے پوچھتے آخر اسے منال کا گھر مل گیا۔ دروازہ کھلا تو منال اسے دیکھ کر خوشی سے چیخ پڑی۔
“اندر آؤ، خوش آمدید میری جان” منال چہکی۔ ماہم اندر داخل ہوتے ہی سہم گئی۔
“کوئی گھر پر تو نہیں ہے نا؟” اس نے گھبرا کر اپنی ساڑی پر ایک نظر ڈالی۔
“نہیں نہیں، کوئی نہیں ہے۔ بچے ٹیوشن گئے ہیں اور فراز شاپ پر ہے۔” منال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے کر آئی۔
گھر بہت پیارا، بہت صاف ستھرا تھا۔ ماہم ہال کا جائزہ لینے لگی۔ یہاں سب سے خوبصورت چیز دیوار پر لگا ایک بڑا سا فریم تھا جس پر سنہری حروف میں کلمہ طیبہ لکھا تھا۔ “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”۔ اسے دیکھتے ہی ماہم کی آنکھیں بھر آئیں۔
صوفے پر بیٹھتے ہی اتنے سالوں میں پہلی دفعہ اسے سکون محسوس ہوا تھا۔ اپنے مزہب کا سکون۔ اُس گھر میں تو پوجا آئے دن بڑی دھوم دھام سے ہوتی تھی، جگہ جگہ مورتیاں اور عجیب و غریب تصویریں۔۔۔ماہم کو یہ سوچ کر ہی جھرجھری آ گئی کہ اسے ابھی پھر اسی گھر میں واپس جانا ہے۔
منال ٹرالی گھسیٹ کر لائی تو ماہم بے اختیار اٹھ کر اس کے گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ کتنے دنوں بعد، بلکہ سالوں بعد وہ کسی اپنے سے ملی تھی۔ اپنے مذہب کے، اپنے لوگوں سے ملنے کی یہ کیفیت شاید ہی کوئی سمجھ پاتا جو اس اذیت سے نہ گزرا ہو۔
“کیا کھاؤ گی؟” منال نے اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے پوچھا۔
“جو بھی بنا ہے جلدی سے لا دو چکن یا مٹن کچھ بھی” ماہم نے سسکیوں کے درمیان کہا تو منال بے اختیار ہنس دی۔
“اب سمجھ آیا نا بچو کہ پرایا مذہب کیا ہوتا ہے؟” منال ابھی بھی ہنس رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔
“ہاں واقعی۔۔۔۔” ماہم نے گہری، تھکی ہوئی سانس لی۔
“ویسے بنایا تو کچھ نہیں ہے، لیکن فریج میں کباب، گرم کر کے لاتی ہوں۔ اور گوشت رکھا ہے، بتا کیا بناؤں؟” منال نے الٹا اسی سے پوچھا
بریانی۔۔۔” اس نے بچوں کی طرح فرمائش کی۔
کباب کھا کر وہ کچن میں منال کے ساتھ کام کروانے لگی۔ اتنا عرصہ ہو گیا تھا گوشت دیکھے ہوئے، وہ تو شاید گوشت دھونے کا طریقہ بھی بھول گئی تھی۔ وہ پیاز کاٹتے ہوئے بار بار اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی۔
“سسرال میں سب کیسے ہیں؟” منال نے پیاز اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
“کیسے مطلب؟۔۔۔” ماہم سمجھ نہ سکی کہ اس نے حال پوچھا ہے یا رویہ۔ اس نے منال کے کپڑے پہن لیے تھے ساڑی اتار کر۔
“ارے مطلب ان کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے؟” منال نے تصحیح کی۔
“ٹھیک۔۔۔بلکہ نہیں۔ ان کو مسئلہ ہے میرے مذہب سے۔” ماہم الجھ سی گئی۔
“اور تمہیں ان کے مذہب سے؟” منال نے سیدھا اس کے چہرے پر نظریں ٹکا دیں۔ ماہم کے ہاتھ رک گئے۔
“میں نے کوشش بہت کی۔۔۔بلکہ کر رہی ہوں” یہ کہتے ہوئے وہ پھر رو دی۔
“اچھا گھر سے کسی سے رابطے میں ہو؟”و منال نے بات بدل دی۔
“نہیں۔۔۔نہ انہوں نے کوشش کی، نہ میں نے ” اس نے گہری سانس لی، ماہم کا لہجہ ایک دم سرد پڑ گیا تھا۔ وہ سردی جو نفرت سے نہیں، شرمندگی سے آتی ہے۔
میں ابھی اگلے ماہ گئی تھی حنان بھائی کی منگنی ہوئی ہے۔۔۔زہراء دبئی ہے” منال نے تو جیسے سیدھا ماہم کے دل پر پیر رکھ دیا تھا۔
“میں بہت شرمندہ ہوں منال۔۔مجھے سکون میسر ہی نہیں” ماہم روتے ہوئے بولی۔ پھر منال کے پوچھنے پر اس نے پہلے دن سے لے کر اب تک کی ساری بات بتا دی اس کا دل ہلکا ہوا۔ منال نے اسے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
“یہ چھوڑ تو یہ بتا گھر گئی تھی میرے نا تو سب کیسے ہیں” ماہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
تیرے بابا کے انتقال کو ڈھائی سال ہو گیا ہے۔ منال نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ماہم ساکت کھڑی رہ گئی آنکھیں بھیگ چکی تھی۔
عروج بتا رہی تھی سب نے بہت کوشش کی تم سے رابطے کی مگر ہو نہیں سکا۔ کسی کو تمہارا نمبر بھی نہیں مل رہا تھا، شاید تم نے نمبر چینج کر لیا ہے۔ منال نے ابرو اچکائی۔
ہاں وہ بند ہو گیا۔۔۔بابا کو کیا ہوا تھا؟” ماہم کی آواز کانپ رہی تھی، ماہم کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ وہ بابا جو اس کی ایک چیخ پر پورا گھر سر پر اٹھا لیتے تھے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں تھے۔
تیرے بعد وہ بیمار ہی رہنے لگے تھے ماہم۔ کسی سے بات نہیں کرتے تھے۔ ڈاکٹروں نے کہا دل کمزور ہو گیا ہے۔ اور پھر ایک رات۔۔۔” منال خاموش ہو گئی۔ ماہم نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔ اس کی سسکیاں پورے کچن میں گونج رہی تھیں۔
اور تمہارے جانے کے بعد عارفہ آپی کو گھر بٹھا دیا عروج کی امی نے۔ بہت طعنے دیے کہ تمہاری بہن بھاگ گئی ہے۔ مگر انہوں نے بڑے پاپڑ بیلے اور آخر روحان بھائی کے ساتھ واپس آ گئیں۔ عروج کی شادی ہو گئی تھی مگر جب اس کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو دوسرے دن ہی اس کے میاں نے طلاق دے دی۔ انہیں عروج اور المیر کے بارے میں پتہ چل گیا تھا۔ عروج تمہارے آفس میں ہی کام کرتی ہے۔ باقی سب ٹھیک ہیں۔ المیر کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ عروج نے بتایا کہ اکثر دیر رات کو آتا ہے، اور حنان بھائی۔۔۔” منال ذرا سا رکی کیونکہ اس نام پر ماہم نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔
حنان بھائی کا تو پوچھو ہی مت۔ پہلے بھی لیے دیے رہتے تھے اور اب تو بالکل خاموش ہو گئے ہیں۔ نہ ہنستے ہیں نہ بولتے ہیں۔ عروج کہہ رہی تھی کہ بڑی مشکلوں سے زہراء سے منگنی کی ہے انہوں نے۔” پھر منال نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
اتنا کہنا بنتا ہے میرا ماہم کہ تمہاری وجہ سے تینوں بے قصور سزا بھگت رہے ہیں” منال کا اشارہ حنان المیر اور عروج کی طرف تھا ماہم نے نظریں مزید نیچی کر لی۔
” میں بے سکونی میں جی رہی ہوں” ماہم پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“ماہم ابھی بھی وقت ہے، لوٹ آؤ، تم خوش رہنے لگو گی اور اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ سب تم سے نفرت کرتے ہیں تو تم غلط ہو” منال نے اس کا ہاتھ نرمی سے دبایا، اس کی آواز میں ایسی اپنائیت تھی کہ ماہم کا دل بھر آیا۔
“منال میں جاؤں گی، میں کوشش کروں گی” اس نے جلدی سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، جیسے اپنے ہی آنسوؤں سے شرمندہ ہو۔
“یہ ہوئی نہ بات، برسوں سے روزہ ہے تو پورا روزہ رکھنا اور اس عید کے ساتھ اس پرائے مذہب کو بھی ہمیشہ کے لیے رخصت کر دینا، اور اب بہت باتیں ہو گئیں، چل کھانا کھاتے ہیں، فراز بھی آنے والے ہیں” منال نے مسکرا کر ماحول ہلکا کیا تو دونوں نے جلدی جلدی ٹیبل سیٹ کی۔
پھر ماہم نے کافی دنوں بعد سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، سب ہنس رہے تھے، باتیں کر رہے تھے اور وہ صرف سن رہی تھی، اسے لگ رہا تھا جیسے وہ کتنے عرصے بعد اس ہنسی میں شامل ہوئی ہے، کھانے کے بعد سب باہر آئس کریم کھانے چلے گئے۔
واپسی پر منال نے ماہم کو ڈراپ کیا، وہ جلدی سے اتر کے جانے لگی تو منال نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“ماہا تو گھبرانا مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، جب بھی میری ضرورت ہو مجھے ایک میسج کر دینا اور ہاں جاتے ساتھ ہی عروج اور حنان بھائی سے معافی پہلے مانگنا، ضد مت کرنا” منال نے پیار سے تاکید کی۔
ماہم نے اثبات میں سر ہلایا، اس کا بالکل دل نہیں تھا اب کسی سے بحث کرنے کا، وہ تھک چکی تھی۔
جب وہ گھر آئی تو رات کے نو بج رہے تھے، سب ہال میں بیٹھے تھے جو دراصل ایک چھوٹا سا صحن تھا، اس نے سب کو نظرانداز کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اسے پتہ تھا کہ سب اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
وہ جلدی سے کپڑے بدل کر بیڈ کی طرف بڑھی۔ باہر سے آوازیں ابھی بھی آ رہی تھیں، مگر ماہم بغیر پرواہ کیے کمبل تان کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
وہ سکون سے لیٹی تھی، حالانکہ نیند اسے نہیں آنی تھی۔ بہت دیر تک وہ کروٹیں بدلتی رہی۔ اسے نیند نہ آئی تو کمبل سے منہ نکال کر پڑی رہی۔ اسے شُبھم کے آنے کی آہٹ کمرے میں کچھ دیر پہلے محسوس ہو چکی تھی، اسی لیے اس نے کروٹ نہیں بدلی تھی۔
کافی دیر بعد، شاید ایک گھنٹے بعد، اس نے کروٹ بدلی تو دیکھا وہ سو چکا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ شاید شُبھم آ کر لڑے گا اس سے، مگر وہ تو خاموش تھا۔ لب کاٹتے ہوئے وہ اسے دیکھ رہی تھی، پھر اٹھی اور بالکنی کی طرف آ گئی۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ آزاد ہے۔ خود کو پرسکون سمجھ رہی تھی۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر۔۔۔اذان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ ہوش میں آ گئی، اس نے پانچ سالوں کا سفر پانچ گھنٹوں میں طے کر لیا تھا۔ اذان کو غور سے سن کر وہ اٹھی اور وضو کر کے نماز ادا کی، پھر تلاوت کرنے لگی، رات وہ منال کے گھر سے ایک جائے نماز اور چھوٹا سا قرآن لے آئی تھی جو کسی نے نہیں دیکھا تھا، اسے عجیب سا سکون آیا۔
پھر جب تلاوت سے فارغ ہوئی تو اسے نیند آنے لگی مگر اس نے ارادہ بدل دیا اور کچن کا رخ کیا، شاید اس کی ساس اٹھ چکی تھی اور پوجا وغیرہ میں لگ گئی تھی، ماہم نے فوراً جا کے ہیڈ فون لیا اور کانوں میں لگا لیا اور جلدی سے اپنا ناشتہ بنانے لگی، پھر بچوں کے لیے پاستہ بنا کر لنچ باکس وہیں رکھ کر چلی گئی، جاتے وقت اس نے دیکھا تو دونوں جیٹھانیاں اٹھ چکی تھیں، اس نے اپنا ناشتہ اٹھایا اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔
پھر وہ تیار ہوئی، اتنے سالوں بعد وہ اپنے پہلے والے حلیے میں باہر نکلی تھی، پینٹ اور کرتی میں، دوپٹہ گلے میں ڈالے ہوئے اور بالوں کی چوٹیاں بنائے ہوئے، منال والا اسکارف لے کر وہ باہر نکل گئی، اسے جاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ مسجد گئی جہاں منال اس کا انتظار کر رہی تھی، کچھ دیر وہاں بیٹھ کر ایک عالمہ کی تقریر سنتی رہی، پھر گیارہ بجے کے قریب شاپنگ کے لیے چلی گئی، منال کے ساتھ مل کر سب کے لیے گفٹ لیے، اس نے منال سے پیسے لیے تھے، پھر ایک بجے کے قریب واپس آئی تو اس کی امید کے مطابق سب وہیں موجود تھے، اس نے جانے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کہ
ماہی رکو” آرتی نے اسے پکارا۔
جی کیا ہوا؟۔۔۔” ماہم رکی۔
“چھوٹی بہو، یہ کیا حرکت ہے؟ ہمارے گھر کی بہوئیں دیر رات اور دوپہر کو یوں اکیلے بازاروں میں نہیں گھومتیں۔ یہاں یہ سب نہیں چلے گا۔” ماہم کی ساس کی آواز میں سختی کے ساتھ ساتھ نفرت بھی گھلی ہوئی تھی۔
“میں صرف کل اور آج گئی ہوں۔” ماہم نے بے بسی سے جواب دیا اور کنکھیوں سے آرتی کو دیکھا، جس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
“تمہارے میکے میں یہ سب چلتا ہوگا کہ بیٹی بہو کہاں رہتی ہے دن بھر، دیر رات تک کہاں گھومتی ہے۔۔۔۔ مگر یہ میرا گھر ہے اور یہاں میرے اصول چلیں گے۔” ساس کی دوسری ضرب پہلے سے بھی زیادہ کاری تھی۔ ماہم نے نم آنکھوں سے شُبھم کی طرف دیکھا کہ شاید وہ کچھ بولے، مگر اس نے ہمیشہ کی طرح نظریں پھیر لیں۔ وہ اسی کے سامنے اسے ذلیل کر رہی تھیں اور ماہم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
“ارے ماں جی، ان لوگوں کو تو اتنے سالوں میں یہ بھی خبر نہیں لی کہ ان کی بیٹی کہاں ہے، کس کے ساتھ ہے۔” آرتی نے جیسے جلتی پر تیل ڈالا۔
“میرے گھر والوں پر مت جائیں، ورنہ بہت برا ہوگا۔” ماہم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا، اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔
“ممی سے کس طرح بات کر رہی ہو ماہی؟” سونیا فوراً بیچ میں کودی۔
“سونیا، میرا نام ماہی نہیں ماہم ہے، اور آپ بیچ میں مت بولیں۔” ماہم نے پہلی بار اسے اس کے نام سے اور اتنے سخت لہجے میں پکارا تھا۔
کچھ دیر تک یونہی زہر اگلتی بحث چلتی رہی، یہاں تک کہ ظہر کی اذان کی آواز آئی۔ ماہم نے کسی کو جواب دینا مناسب نہ سمجھا، وہ سب کو وہیں اگنور کر کے وضو کرنے چلی گئی۔ جائے نماز بچھا کر نماز پڑھی اور پھر دھیمی آواز میں قرآن کی تلاوت کرنے لگی، تاکہ اس کا دل کچھ ٹھہر جائے۔
رات کو وہ سحری کے لیے کمرے سے نکلی، سحری کی، نماز پڑھی اور پھر سو گئی۔ اسی خاموش عبادت میں کسی کو خبر بھی نہ ہوئی اور ماہم نے اکیس روزے مکمل کر لیے تھے۔ ایک دن وہ چپکے سے منال سے ملی اور اپنے جانے کی پیکنگ کا سارا سامان اسی کے گھر رکھوا آئی تھی۔
آج بائیسواں روزہ تھا۔ سب ہال میں ساتھ بیٹھے تھے۔ آرتی نے اسے زبردستی لا کر بٹھایا تھا۔ ساس صاحبہ اونچی آواز میں رامائن سنا رہی تھیں۔ ماہم کچھ دیر بیٹھ کر گھٹن کے مارے اٹھ کر چلی گئی، پھر ایک گھنٹے بعد واپس آئی تو سب اب بھی وہیں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔
اس کی بڑی جیٹھانی نے شرارت سے اس کے آگے پاپ کارن کا باؤل بڑھایا، “لو ماہم، کھا لو۔”
“نہیں، شکریہ۔” ماہم نے آہستہ سے انکار کیا۔
وہ ضد کرنے لگی اور بار بار باؤل اس کے منہ کے قریب لے جانے لگی۔ ماہم نے تنگ آ کر اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“بہو یہ کیا بدتمیزی ہے؟ بڑی جیٹھانی ہے وہ، کیسے ہاتھ جھٹکا تم نے؟ اور پاپ کارن تو تم شوق سے کھاتی ہو۔” ساس نے ابرو اچکا کر اسے گھورا۔ آرتی فاتحانہ انداز میں سونیا کے پاس جا بیٹھی۔
“آنٹی، میرا روزہ ہے، پلیز مجھ سے لڑائی نہ کریں۔” ماہم نے بے چارگی سے کہا، بھوک اور پیاس سے اس کا حلق خشک ہو رہا تھا۔
“شک تو مجھے پہلے سے ہی تھا، اور کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے کہیں کی مہارانی ہو۔” آرتی نے تمسخر اڑایا۔ ماہم بس اسے گھور کر رہ گئی۔
“سونیا پانی لے کر آؤ، یہ سب میرے گھر میں نہیں چلے گا۔” ساس کے حکم پر سونیا سے پہلے آرتی بجلی کی تیزی سے اٹھی اور پانی کا گلاس بھر کر جن کی طرح حاضر ہو گئی۔
“آپ مجھ سے زبردستی نہیں کر سکتیں۔” ماہم نے خود کو باہر سے مضبوط دکھایا، مگر اندر سے وہ ٹوٹ رہی تھی۔ اس کی نظر ایک بار پھر شُبھم پر پڑی جو خاموش تماشائی بنا بیٹھا تھا۔
“میں سب کر سکتی ہوں، یہ میرا گھر ہے۔” ساس نے آرتی کے ہاتھ سے گلاس چھینا اور اس کی طرف بڑھنے لگیں۔ ماہم خوف سے پیچھے ہٹتی گئی، مگر وہ اس تک پہنچ چکی تھیں۔ انہوں نے اپنے سخت ہاتھوں سے اس کا چہرہ جکڑ لیا۔ ماہم نے اپنی جان بچانے کے لیے ایک زور دار جھٹکے سے انہیں دھکا دیا۔ ان کا توازن بگڑا اور وہ فرش پر گر گئیں۔
پورے گھر میں کہرام مچ گیا۔ سب ان کی طرف لپکے۔ آرتی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر شیرنی کی طرح ماہم پر جھپٹی۔ ماہم کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ تم جیسی بے حیا لڑکی اس حد تک گر جائے گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔” آرتی نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ اسی لمحے ساس جو زمین سے اٹھ چکی تھیں، انہوں نے دور سے ہی پانی کا بھرا گلاس ماہم پر اچھال دیا۔ گلاس اس کے چہرے کے پاس سے چھوتا ہوا گزرا۔ آنکھیں تو بچ گئیں مگر پانی اور شیشے کی چوٹ نے اسے لرزا دیا۔
“جس کے لیے تو یہ ڈرامے کر رہی ہے نا، وہ کچھ نہیں ہے۔ سب جھوٹ ہے۔ (نعوذ باللہ) اللہ واللہ کوئی نہیں ہوتا۔ چل اپنا روزہ توڑ، ورنہ نکل جا میرے گھر سے۔۔۔۔” وہ حلق کے بل چلا رہی تھیں۔ ماہم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ ہر ظلم برداشت کر سکتی تھی، مگر اپنے رب کی توہین، اپنے ایمان کی توہین برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ اسی لمحے اسے یقین ہو گیا کہ یہ واقعی پرایا مذہب ہے، پرائے لوگ ہیں۔
“اپنی حد میں رہیں جاہل عورت” ماہم کی برداشت جواب دے گئی اور وہ پوری قوت سے چیخی۔
“ممی سے اس طرح بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تیری؟” شُبھم جیسے اسی موقع کے انتظار میں تھا، وہ دھاڑتا ہوا آگے آیا۔
“اچھا؟ تمہاری فیملی نے جو کہا وہ ٹھیک ہے؟” ماہم نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“ہاں، ٹھیک کہا انہوں نے، کیونکہ تم اسی لائق ہو۔ تم نے ایک ایسے اجنبی کے لیے جس سے تم چند مہینے پہلے ملی تھی، اس کے لیے اپنا مذہب، اپنا شہر، اپنے لوگ، یہاں تک کہ اپنے منگیتر تک کو چھوڑ دیا۔ اس کو ٹھوکر مار کر میرے پاس چلی آئی۔ تم جیسی لڑکیوں کو اپنے گھر والوں کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ تم جیسی لڑکی ہی اپنے خاندان کی عزت پر کلنک ہوتی ہے۔ شاید اب تمہیں کوئی اور مل گیا ہے، اسی لیے یہاں سے بھی جانے کا سوچ رہی ہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، عاریان تمہارے ساتھ نہیں جائے گا۔” شُبھم نے ہر لفظ زہر میں بجھا کر اس کے دل میں اتارا۔
“مجھے عاریان چاہیے بھی نہیں، جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ تمہارا بیٹا تم سب کا خون ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لے جا کر یا اس پرائے مذہب میں رکھ کر وہی درد نہیں دینا چاہتی جو میں یہاں سہہ رہی ہوں۔ میں اس کی ماں ہوں، باپ نہیں جو بے وفائی کرے یا اولاد کو تکلیف دے۔” ماہم سسکیوں کے درمیان بولی، اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے گھر والے تمہیں رکھ لیں گے؟ کوئی نہیں رکھے گا تمہیں۔ تو میرے پاس واپس آنے کا سوچنا بھی مت۔ یہ لو ڈائیورس پیپر سائن کرو اور دفع ہو جاؤ۔ اور ہاں، حنان تمہیں کبھی نہیں اپنائے گا۔” وہ یہ کہہ کر اندر گیا اور طلاق کے کاغذات اور وہ بیگ جو آرتی اور سونیا پہلے سے تیار کر چکی تھیں، لا کر اس کے سامنے کھڑا کیا۔
ماہم نے کانپتے ہاتھوں سے پیپرز پر سائن کیا اور ایک پل بھی وہاں رکے بغیر باہر نکل گئی۔ وہ سڑکوں پر دور تک چلتی رہی، یہاں تک کہ تھک ہار کر ایک ویران بینچ پر بیٹھ گئی۔ روزے کی شدت سے اس کا جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ مغرب کا وقت ہونے کو تھا۔
اس نے ہمت جمع کی اور منال کے گھر کی طرف قدم بڑھائے۔ جیسے ہی وہ منال کے گھر پہنچی، اذان ہوچکی تھی۔ اس نے روزہ کھولا، اور پھر منال کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور اسے ساری بات بتائی۔
“بس کر دو ماہم، جو ہونا تھا جو مکتوب تھا وہ ہو گیا، اب بس معافی مانگو سب سے اور مداوا کرو،” منال نے نرمی سے اس کے بکھرے بالوں کو پیچھے کیا۔
“میں کہاں جاؤں گی مجھے عدت بھی پوری کرنی ہے،” ماہم سسکی کے درمیان بولی۔
“عدت؟ مجھے لگتا ہے یہ ضروری نہیں، ایسا کرو ہم مسجد جا کر مولوی صاحب سے پوچھتی ہیں،” منال بولی۔
“نہیں نہیں پلیز مجھے مزید شرمندہ مت کرو، میں گزار لوں گی عدت بیشک فرض ہو یا نہ ہو مگر مجھے لگتا ہے کہ فرض ہے، میں گزار لوں گی مگر میں رہوں گی کہاں، فراز نہیں رہنے دے گا،” ماہم نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
“ارے کیوں نہیں رہنے دے گا، ہم دوست ہیں تمہارے، تم یہاں عدت گزار سکتی ہو ویسے بھی فراز ڈیڑھ ماہ کے لیے دبئی جا رہا ہے واپس آئے گا پھر ترکی جائے گا، تم میرے پاس رہنا،” منال نے اس کا ہاتھ تھاما۔
“میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گی،” ماہم روتے ہوئے بولی۔
“میں بھی نہیں بھولی ہوں تم نے اور عروج نے میری کتنی دفعہ مدد کی ہے اب جب میں اس قابل ہوں تو کیوں نہ کروں،” منال نے کہا تو وہ مسکرائی۔
پھر یہاں بھی ماہم کے دن گزرتے گئے، ہر دن ماہم اسلام کے مزید قریب ہو رہی تھی، وہ دن رات عبادت میں مشغول رہتی تھی، تہجد اذکار نماز قرآن اس کا ہر چیز میں دل لگ رہا تھا اور پھر یونہی عدت مکمل ہو گئی۔
دوسرے دن ہی وہ منال کے ساتھ مارکیٹ گئی، وہ کل اپنے گھر جانے والی تھی، سب کے لیے گفٹس لینے آئی تھی، تقریباً اس نے سب کچھ لے لیا تھا مگر منال نے کہا کہ وہ گاڑی تک جائے وہ بچوں کے لیے ڈونٹس لے کر آتی ہے، وہ سر ہلاتی آگے بڑھی۔ جیسے ہی وہ مال سے نکلی سامنے ہی اسے جانوی اور شُبھم دکھے، جانوی شُبھم کی کولیگ تھی۔
ان کے ہاتھ میں ماہم سے زیادہ شاپر تھے۔ ماہم اور شُبھم نے ایک دوسرے کو دیکھا، تب تک عاریان جو گاڑی میں موجود تھا نکل کر جانوی کے پاس آیا، جانوی اسے لے کر واپس گاڑی تک گئی اور سامان رکھنے لگی، عاریان نے ماہم کو نہیں دیکھا تھا۔ ماہم نے گہری سانس لی اور آگے بڑھنے لگی۔
“ماہی بات سنو،” شُبھم نے اسے پکارا، وہ ٹھہر گئی۔
“ماہم۔۔۔ماہم خان،” ماہم نے اپنا تعارف کرایا۔
“میں جانوی سے شادی کر رہا ہوں اسی ہفتے، عاریان کی فکر مت کرو، سب اس کا خیال رکھیں گے،” شُبھم نے بات کا آغاز کیا۔
“ہمم،” ماہم نے نظریں نیچی ہی رکھی، وہ سیاہ رنگ کے عبایا میں ملبوس تھی اور حجاب کر رکھا تھا البتہ چہرہ کھلا تھا۔
“جب ملنا چاہو عاریان سے مل لینا، میں تمہارے پاس لے آؤں گا اسے،” وہ بولا۔
“ضرور کیوں نہیں،” ماہم مسکرائی۔
“آئی وش کہ حنان تمہیں قبول کر لے،” اس نے کہا تو ماہم نے نظریں اٹھائیں۔
“میں نے تمہیں حنان کے لیے نہیں چھوڑا ہے، میں نے اس پرایا مذہب چھوڑا ہے اپنے مذہب کے لیے، اپنے اللہ سے لیے چھوڑا ہے۔۔۔۔اور ہاں حنان منگنی کر چکے ہیں” ماہم نے دو ٹوک کہا۔
“اوہ اچھا۔۔۔دیکھو ماہی۔۔ماہم تم بہت اچھی ہو، یہ سچ ہے کہ میں نے تم سے پیار کیا ہے اب بھی کرتا ہوں، پہلے دن کی طرح ہی تم مجھے خوبصورت لگتی ہو مگر قسمت کو منظور نہیں ہمارا ساتھ، جب تم خود کو مجھ سے دور کر رہی تھی نہ میں سمجھ گیا تھا کہ تم اب نہیں رہ سکتی میرے ساتھ، بس میں نے تبھی فیصلہ کر لیا تھا کہ کسی طرح تمہیں آزاد کر دوں، ورنہ میں تمہارے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا، جانوی سے دوستی ہے پیار بھی ہے مگر وہ تم نہیں ہو تمہارے جیسی مجھے کبھی نہیں ملے گی،” شُبھم کی آنکھیں نم تھیں، ماہم نے رخ بدلا۔
“مگر مجھے تم سے اب محبت نہیں ہے، میں تم سے کب کا دور ہو چکی ہوں،” ماہم نے جواب دیا۔
“پتہ ہے تبھی تو جانے دیا تمہیں، سچ کہوں تو تمہیں مجھ سے محبت تھی ہی نہیں، تم اس حنان کی لا پرواہی کی وجہ سے میرے ساتھ تھی، شادی کے شروع دنوں میں ہی تمہیں احساس ہو گیا تھا، اچھا چھوڑو اب، ویسے وہ اردو لفظ ہے نہ کمبخت… کمبخت ہمارے بیچ پرایا مذہب آ گیا،” شُبھم نے جس انداز میں کہا تو ماہم کھلکھلا کر ہنس دی۔ تبھی جانوی عاریان کو لے کر مال میں جانے لگی مگر عاریان ماہم کو دیکھ کر رکا اور جانوی سے ہاتھ چھڑا کر ماہم کے پیروں سے لگ گیا۔
“ماما آپ کہاں چلی گئی تھیں۔۔۔” عاریان نے کہا تو ماہم مسکرائی اور اسے اٹھا کر گھٹنوں کے بل بیٹھی۔
“ماما اپنے گھر جا رہی ہیں، آپ کے پاس نئی ماما ہے نہ، آپ کو جب میری یاد آئے پاپا یا نئی ماما سے بول دینا، ہم بات کریں گے پھر،” ماہم نے کہا تو اس نے معصومیت سے سر ہلایا۔
“ماہی عاریان کی طرف سے بے فکر رہو،” جانوی نے کہا تو وہ کھڑی ہوئی، منال اس کے قریب آ کر کھڑی ہوئی اور عاریان کو اپنی طرف لے کر پیار کرنے لگی۔
“میں عاریان کو لے جانا نہیں چاہتی تھی مگر اب کہہ رہی ہوں کہ جب دل بھر جائے تو مجھے ایک کال کر دینا، میں اپنے بچے کو لینے آ جاؤں گی،” ماہم نے کہا۔
“بے فکر رہو۔۔۔وہ میرا بھی بیٹا ہے” شُبھم نے کہا، پھر وہ دونوں عاریان کو لے کر آگے بڑھ گئے۔
“کیا یہ لڑکی عاریان کو تمہارے جیسا پیار دے گی؟” منال نے جاتے ہی کہا۔
“جانوی کو میں جانتی ہوں اور عاریان کی دادی کے ہوتے ہوئے اسے کچھ نہیں ہو سکتا، میری کمی عاریان کو زیادہ نہیں کھلے گی، اس گھر میں سب کا لاڈلا ہے وہ،” ماہم نے تسلی دی۔
“پھر سہی ہے، اچھا چلو پاس ریسٹورنٹ سے لنچ کر لیں،” منال نے کہا تو وہ اس کے ساتھ چل دی۔ اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو وہاں جانوی عاریان کے اوپر ایک ٹی شرٹ رکھ کر کچھ کہہ رہی تھی اور عاریان ہنس رہا تھا، وہ مسکرائی اور منال کے ساتھ چل دی، اب وہ واقعی پر سکون تھی۔ کیونکہ اس نے اللہ کو چن لیا تھا اور اللہ نے اسے۔
وہ پانچ سالوں بعد واپس جا رہی تھی اپنے گھر، اپنے شہر جو وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ آئی تھی۔ منال سے ملی، اس نے ڈھیروں تسلی دی اور اللہ کے حوالے کہہ کر اسے رخصت کیا۔ وہ بھاری دل مگر خوشی کے ساتھ اپنے گھر پہنچنے والی تھی۔ شام کا وقت تھا جب وہ اپنے شہر میں داخل ہوئی اور پاس کی مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔
اسے بے اختیار یاد آیا جب وہ یہاں سے گئی تھی تب بھی اذان ہی ہو رہی تھی۔ اس نے دیکھا گاڑیاں چل رہی تھیں، روڈ پر ٹریفک کی وجہ سے رفتار آہستہ تھی۔ ماہم نے نم آنکھوں سے سامنے کمپنی دیکھی، وہ اس کی تھی، وہاں کبھی اس کے بابا، تایا اور حنان ہوتے تھے۔ مگر اب نا جانے کون کون تھا وہاں۔ اس کا دل چاہا وہ جائے مگر خود پر ضبط کیے بیٹھی رہی اور اپنا پرس اپنے کندھوں پر رکھا۔
تھوڑی دیر میں وہ اپنا بھاری سوٹ کیس لے کر اتر چکی تھی، اب وہ ایک طرف کھڑی تھی۔ سامنے مال تھا جہاں وہ عروج کے ساتھ آتی تھی، تھوڑی دور پر وہ اسکول تھا جہاں سے اس نے تعلیم حاصل کی تھی۔
اپنا شہر اپنا ہوتا ہے، کتنے سالوں بعد کیوں نہ آؤ مگر ہر چیز ذہن میں نقش ہوتی ہے۔ ماہم نے گہری سانس لی اور بیگ لے کر آگے بڑھی، سامنے گلی تھی، وہ اب اس میں داخل ہو رہی تھی۔
وہ اپنے محلے میں آ گئی تھی، اس نے کھڑکی، دروازے اور چھت کی دیواروں سے لگی ان عورتوں کو دیکھا جن کو وہ کبھی چچی یا خالہ کہا کرتی تھی، اس نے نظریں نیچی کر لیں۔
اس نے اپنا چہرہ ڈھکا ہوا تھا، اکثر پچھتاوے کے لیے چہروں کو چھپانا پڑتا ہے۔ جب وہ اپنے گھر کے گیٹ پر کھڑی ہوئی تو گیٹ کھلا تھا، وہ آگے بڑھی مگر کسی نے اسے روکا۔
“اوہ بی بی کہاں؟ کس سے ملنا ہے؟” وہ اسلم چچا تھے، ان کے چوکیدار۔
ماہم مسکرائی، بچپن سے لے کر اب تک وہ اور عروج ان ہی کو نشانہ بناتی تھی، کبھی یہ چیز لانے کے لیے تو کبھی جھوٹ بولنے کے لیے، کتنی یادیں تھیں مگر آج وہ اسے نہیں پہچان رہے تھے۔
“السلام علیکم چچا” ماہم نے سلام کیا تو انہوں نے چونک کر اسے دیکھا مگر پھر سر جھٹکا۔
“وعلیکم السلام، کس سے ملنا ہے آپ کون ہیں؟” انہوں نے کہا۔
“میں ماہم۔۔۔اسلم چچا اندر جاؤں؟” ماہم نے چہرے سے نقاب ہٹایا، وہ نم آنکھوں سے حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“میں کون ہوتا ہوں اس گھر کی بیٹی کو روکنے والا” اسلم چچا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔
وہ اندر بڑھی مگر سامنے بچوں کو دیکھ کر وہ ٹھہری، چچا اندر چلے گئے تھے بیگ لے کر۔
“ہیلو” ماہم نے کہا تو وہ پانچوں اسے دیکھنے لگے۔
“آپ تون (آپ کون)” ان میں سے ایک لڑکی نے توتلی زبان میں پوچھا۔
“آپ کون ہو؟” ماہم نے اس کی پونی پکڑی تو وہ پیچھے ہوئی۔
“آپ اندر جائیں ہمیں تنگ مت کریں” ایک لڑکے نے کہا جو ہو بہو روحان تھا۔
“میں تنگ کہاں کر رہی ہوں، اچھا چاکلیٹ لائی ہوں۔۔۔چاہیے؟” ماہم نے ابرو اچکائی۔
“نہیں میر دے گا ہمیں” اسی لڑکی نے کہا۔
“میر کون؟” ماہم نے ابرو اچکائی۔
“یہ عروج بی بی کی بیٹی ہے فریال” پیچھے سے چچا کی آواز آئی، وہ بیگ رکھ کر آ چکے تھے۔
“آہ ماشاءاللہ مگر میر کون ہے؟” ماہم نے پلٹ کر ان سے پوچھا۔
“المیر صاحب کو میر کہتی ہے۔۔۔یہ حدید اور عربان ہے روحان صاحب کے بیٹے اور یہ فرحان صاحب کی بیٹی عتیقہ ہے” چچا نے تعارف کروایا۔
ماہم سب کو محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگی، فریال آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھور رہی تھی۔
“اور یہ۔۔۔یہ کون ہے؟” ماہم نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ پڑوس سے آئی ہے صفوان میاں کی بیٹی زرمین” انہوں نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
تبھی گاڑی اندر آئی، چچا جلدی سے گیٹ کی طرف بڑھے۔
“مامو آ دے (مامو آ گئے)” فریال خوشی سے بولی۔
ماہم نے چونک کر دیکھا وہ حنان تھا،کالے رنگ کی گاڑی سے وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ باہر نکلا، اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ سیدھا کمپنی سے آیا تھا۔ جھک کر اس نے پچھلی سیٹ سے بیگ اور فائلیں نکالیں۔
“چاچو۔۔” حدید نے پکارا تو ماہم ہوش میں آئی اور جلدی سے نظریں نیچی کر لیں۔
حنان نے غور سے اسے دیکھا اور گاڑی کا دروازہ بند کرتا ہوا اس کی طرف بڑھا، تھوڑی دیر میں وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
ماہم کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا، اس نے ایک دفعہ پھر تسلیم کیا کہ وہ حنان کو کبھی بھول ہی نہیں سکی، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
ماہم نے نظریں اٹھائیں مگر پھر جب پانچ سال پہلے کا اپنا فیصلہ یاد آیا تو اس نے فوراً نظریں جھکا لیں، اسلم چچا بچوں کو اندر لے کر چلے گئے تھے۔
“ماہم۔۔” اس کی آواز بھاری تھی، جیسے وہ تصدیق کر رہا ہو کہ ماہم واقعی ہے یا یہ اس کا وہم ہے۔
ماہم جواب میں کچھ نہ بولی، اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ٹپک کر اس کے عبایا پر گرنے لگے۔
“حنان سوری۔۔۔ میں نے۔۔۔ میں نے غلط کیا، میں شرمندہ ہوں۔۔۔” ماہم نے ہچکیوں کے ساتھ کہا، اسے بہت ڈر لگ رہا تھا۔
“میں سوری لے کر کیا کروں گا؟ میری زندگی لے گئی تھی تم، وہ واپس کر سکو تو کر دینا۔۔۔ میں مزید یہاں کھڑا رہا تو رو دوں گا، میرا ضبط توڑنے میں تم ماہر ہو” حنان کی آواز میں نمی تھی۔
ماہم نے سر اٹھایا، حنان کی آنکھیں بلکہ اس کا پورا چہرہ بھیگا ہوا تھا۔
دونوں کی نظریں ملیں، درمیان میں اب بھی فاصلہ تھا، وہ اسے خفگی سے دیکھتا ہوا اندر چلا گیا۔ اسی لمحے دوسری گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی جس میں سے روحان نکلا تھا، اسلم چچا نے اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ دوڑتا ہوا اس کی طرف آیا۔
“میری جان۔۔۔میری گڑیا” روحان نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور ماہم جو اتنے سالوں سے اسی لمس کے لیے تڑپ رہی تھی، اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اسے گھٹن ہونی چاہیے تھی مگر وہ عجیب سے سکون میں بیٹھی تھی۔ اسے کسی نے کچھ نہیں کہا تھا، بلکہ روحان اور عارفہ نے تو اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلایا تھا۔ پھر بہت دیر تک فرحان اس کے پاس بیٹھا رہا تھا، آج اس کی بیوی کی ہسپتال میں نائٹ ڈیوٹی تھی۔ فرحان کے جانے کے بعد اس نے عشاء کی نماز پڑھی اور پھر باہر آ کر لان میں بیٹھ گئی۔
المیر اور تایا ابو ابھی تک نہیں آئے تھے، وہ انہی کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے شال لے رکھی تھی، ٹھنڈ تھی۔ عشاء وہ پڑھ چکی تھی اس لیے اسے فکر نہیں تھی۔ منال کی کال آئی تو تھوڑی دیر بات ہوئی، اس نے کہا کہ اوپر جا کر عروج سے مل لے مگر ماہم نے ہوں کہہ کر ٹال دیا۔ وہ ابھی تیار نہیں تھی، عروج کا سامنا کرنے کے لیے۔ پھر فون بند کر دیا۔
وہ سب کچھ بہت محبت سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اور عروج اسی لان میں ٹہلتی تھیں جب تک بابا اور تایا جان نہ آ جاتے۔ بابا کا خیال آتے ہی اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور جلدی سے آنکھوں سے آنسو صاف کر لیے۔
وہ سمجھی تھی گھر سے بھاگ کر وہ محبت پا لے گی، اسے کیا پتہ تھا گھر سے بھاگ کر لڑکیاں محبت نہیں صرف پناہ ڈھونڈتی ہیں، اور پناہ کبھی پرائے مذہب میں نہیں ملتی۔ وہ اپنے اس فیصلے پر خوش اور مطمئن تھی، اس کے لیے یہی کافی تھا۔
تبھی گیٹ کھلا۔ گیٹ کھلنے کی آواز پر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ فوراً شال درست کر کے کھڑی ہو گئی۔ سامنے تایا ابو تھے۔
تایا ابو نے اسے دیکھا، لمحے بھر کو رکے، پھر آہستہ آہستہ لان کی طرف آئے۔ ماہم کی آنکھیں جھک گئیں، ہاتھ ٹھنڈ سے نہیں، خوف سے کانپ رہے تھے۔ وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے المیر انہیں سہارا دے کر لا رہا تھا۔
“تایا ابو۔۔۔” اس کی آواز حلق میں ہی رہ گئی۔
تایا ابو اس کے پاس آ کر رکے۔ انہوں نے کچھ کہا نہیں، بس اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
وہ ہاتھ جو اتنے سالوں بعد اسے وہی شفقت محبت محسوس کروا رہا تھی، وہ ان کی سینے سے لگ گئی۔
“بس۔۔۔بس میری بچی” تایا ابو نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
“مجھے معاف کر دیں تایا ابو، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی” اس نے سسکتے ہوئے کہا۔
“معافی اللہ سے مانگو بیٹا، ہم نے تو تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا جس دن تمہارے باپ نے کہا تھا کہ میری بیٹی جب آئے تو اسے آنے دینا۔ گھر کی بیٹیاں خفا تو کرتی ہیں،مگر بے گھر نہیں ہوتیں۔” انہوں نے اس پشت تھپتھپائی۔
“آپ مجھ سے خفا نہیں ہیں نا؟” وہ ان سے الگ ہوتے ہوئے بولی، آواز میں وہی بچپن والی ضد تھی جو ڈانٹ کھانے کے بعد معافی مانگتے ہوئے آ جاتی ہے۔
“نہیں میرے بچے، بڑے کبھی بچوں سے ناراض نہیں ہوتے اور پھر آپ تو میری گڑیا ہو۔ تھک گئی ہو گی، سو جاؤ۔” انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، وہ بوسہ جس میں برسوں کی ناراضگی نہیں، برسوں کا انتظار تھا۔
“میں آپ سے صبح ملوں گا، ابھی آپ جا کر آرام کرو۔” کہہ کر وہ اندر بڑھ گئے۔ ان کے قدم بھاری تھے مگر دل ہلکا ہو چکا تھا۔
لان میں اب صرف وہ دو تھے۔ المیر انہیں چھوڑ کر واپس آ چکا تھا۔ اسے دیکھ کر آہستہ سے کھڑی ہوئی، دوپٹے کو انگلیوں میں جکڑے ہوئے۔
“تم۔۔۔تم ناراض ہو؟” ماہم کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ المیر جو کمرے میں جا رہا تھا وہ ٹھہر گیا۔
بولو ناراض ہو نا؟۔” ماہم اس کے سامنے ہوئی۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر لان میں لگی کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑ لیا۔
“ہاں۔۔۔بہت ناراض ہوں۔ ایک دفعہ ماہا، بس ایک دفعہ مجھ سے بات کر لیتی۔ میں تمہارا کیا لگتا تھا؟ تم نے ایک پل میں سب ختم کر دیا۔” اس کی آواز میں غصہ کم، شکوہ زیادہ تھا۔
“میں بالکل پاگل ہو گئی تھی المیر مجھے ہوش ہی نہیں تھا میں کیا کر رہی ہوں۔ مجھے لگا وہی محبت ہے، وہی سب کچھ ہے۔ میں نے نہیں سوچا کہ وہ پرایا مذہب ہے، پرائے لوگ ہیں۔ مجھے لگا میں بہت بہادر ہوں، گھر سے بھاگ کر اپنی دنیا بسا لوں گی۔۔۔مگر میں غلط تھی” وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی، جیسے معافی مانگ رہی ہو۔
وہ سسک پڑی۔
“پتہ ہے وہاں جا کر کیا ملا؟ ہر روز ایک نیا طعنہ، ہر روز یہ احساس کہ میں وہاں کی نہیں ہوں۔ میں نماز پڑھنا چاہتی تھی تو چھپ کر پڑھتی تھی۔ میں اپنے اللہ کو یاد کرتی تھی تو دل کانپ جاتا تھا۔ تب سمجھ آیا کہ میں محبت کے لیے اپنا سکون چھوڑ آئی ہوں” ماہم تو رہی تھی۔ المیر نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔
“ان سب میں میرا کیا قصور تھا ماہا؟۔ نہ تم نے میرے بارے میں سوچا، نہ عروج نے۔ تم دونوں نے مجھے بیچ میں کہیں چھوڑ دیا۔ میں تمہارا انتظار کرتا تھا” اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
وہ خاموش ہو گیا، لفظ اس کے گلے میں اٹک گئے۔ ماہم نے آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑا۔
“میں لوٹ آئی ہوں المیر، اللہ کے لیے بھی اور تم سب کے لیے بھی۔ کیا تم بھی مجھے معاف نہیں کرو گے؟” اس نے آس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
“معاف کروں گا کیوں نہیں؟…تم میری بہن ہو، میری زندگی ہو، تم سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں؟” المیر نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس کی آنکھوں میں آج غصہ نہیں، صرف اپنی ٹوئن کے لیے محبت تھی۔
“مجھے اللہ نے ہدایت دی، میں سب چھوڑ آئی، میں نے اپنا بیٹا بھی چھوڑ دیا۔ میرا دل کہتا تھا وہ میرا نہیں، وہ اس مذہب کا ہے جہاں میرا اللہ نہیں۔ میں وہاں سجدہ نہیں کر سکتی تھی المیر۔” ماہم نے روتے ہوئے بتایا، اس کی آواز لرز رہی تھی۔ المیر نے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔
“وہ لوگ کیسے تھے تمہارے ساتھ؟ تمہیں ہم نے کتنی کالز کیں، انسٹا پر اتنے میسج کیے مگر تم نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔” بابا چلے گئے ماہا۔۔۔وہ آخری وقت میں تمہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تمہارا نام لیتے لیتے گئے ہیں۔” اس کی آواز بھرا گئی۔ یہ سن کر ماہم رو پڑی۔
“ارے یہ کیا؟” روحان کی آواز پر دونوں پلٹے۔ دروازے پر عارفہ اور روحان کھڑے تھے، دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
“خود بھی رو رہے ہو، ماہا کو بھی رلا رہے ہو۔” عارفہ جلدی سے آگے بڑھی اور ماہم کے آنسو صاف کیے، اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“سب میری وجہ سے ہوا ہے، سب کچھ بکھر گیا بھابھی۔۔۔عروج اور تائی جان مجھ سے بات نہیں کریں گی، مجھے پتہ ہے۔ میں نے سب کا دل دکھایا ہے۔” ماہم عارفہ کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رونے لگی۔
“تم بس خود کا خیال رکھو، میری جان۔ سب ٹھیک ہو جائے گا، اللہ سب ٹھیک کر دے گا۔” عارفہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
روحان نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔
“اچھا چلو، اب بہت رو لیا۔ آرام کر لو، تم تھک گئی ہو۔” روحان نے کہا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر کمرے کی طرف لے گیا۔ المیر بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا، اور عارفہ اس کے لیے کھانا لینے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
~♡
رات ہو چکی تھی، باہر گہری خاموشی تھی۔ ماہم اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی، باہر لان میں دیکھ رہی تھی۔ اس کے کمرے میں بھی اندھیرا تھا، اس نے جان بوجھ کر لائٹ نہیں جلائی تھی۔ وہ صوفے پر سر ٹکائے بیٹھی، یک ٹک لان میں پڑے پودوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ پودے اس نے عروج اور المیر نے مل کر لگایا تھا۔
کتنا سکون تھا یہاں۔ اس نے آج نماز بالکل آزادی سے پڑھی تھی، سجدہ لمبا کیا تھا، دل بھر کر روئی تھی۔ قرآن بھی تیز اور بلند آواز میں پڑھا تھا، کوئی ڈر نہیں تھا کہ کوئی آ کر کہے گا “آواز آہستہ کرو”۔ پھر تسبیح وغیرہ پڑھ کر وہ یونہی بیٹھی رہی، اندھیرے میں اللہ کا شکر ادا کرتی رہی۔
اسے بے اختیار چار سال پہلے کی ایک خوبصورت سی آیات یاد آئی جو اس نے موبائل پر اسکرولنگ کرتے دیکھی تھی۔ اس وقت وہ شُبھم کے گھر میں تھی، دل بہت بے چین رہتا تھا، تو وہ راتوں کو چپکے سے اسلامک ویڈیوز دیکھا کرتی تھی۔ تبھی اسے یہ آیات دکھی تھی۔


﴿ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴾

“بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”

اس وقت اسے لگتا تھا یہ آیت اس کے لیے نہیں، لیکن آج۔۔۔مگر آج چار سال بعد وہ اپنے گھر میں، اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“اللہ۔۔۔تون نے سچ کہا تھا۔ تو نے میرے ہر عسر کے بعد یسر دے دیا۔” وہ آہستہ سے بولی۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
“ماہا؟ سوئی نہیں؟” المیر کی آواز تھی، ہاتھ میں دو کپ چائے تھی۔
“میں تو سمجھا میری بہن سو گئی۔” اس نے کمرہ روشن کیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھا۔
تم سوئے نہیں” ماہم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ اور اس کے ہاتھ سے چایے لی۔
“کیا سوچ رہی تھی؟” المیر نے پوچھا۔
“یہی کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا، المیر۔۔۔اللہ نے مجھے بہت بڑے نقصان سے نکالا ہے” ماہم نے کپ کو دیکھا۔
“المیر، تمہیں پتہ ہے میں کیوں بھاگی وہاں سے؟”۔
“کیوں؟” المیر نے اسے دیکھا۔
ماہم نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا موبائل اٹھایا، اس میں اب بھی وہی پرانا اسکرین شاٹ تھا جو اس نے چار سال پہلے لیا تھا۔ اس نے المیر کو دکھایا۔
“یہ آیت۔۔۔اسی نے مجھے وہاں سونے نہیں دیا۔” ماہم نے اس کے سامنے موبائل کیا۔ اسکرین پر سورہ المائدہ کی آیت لکھی تھی۔

وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ
“تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا، جو ان جیسا بنے گا، وہ انہی میں سے ہو جائے گا”

المیر نے زیر لب پڑھا۔ ماہم کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
“وہ لوگ مجھ سے کہتے تھے، ماتھا ٹیکو، پرساد کھا لو، کیا فرق پڑتا ہے۔ پہلے میں کہتی تھی، چلو دوستی کے لیے کر لیتی ہوں۔ پھر ایک رات میں نے یہ آیت پڑھی۔” اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
“میں ڈر گئی المیر۔۔۔بہت ڈر گئی۔ مجھے لگا اگر میں نے ان کے ساتھ دیا، ان کے بتوں کے سامنے سر جھکایا تو میں بھی انہی میں سے ہو جاؤں گی۔ میرا اللہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ میرا نام مسلمانوں میں نہیں رہے گا۔” وہ سسکی۔
“تو تم اس آیت کی وجہ سے لوٹی؟” المیر نے آہستہ سے پوچھا۔
“ہاں۔۔۔۔میں بہت گناہگار ہوں نا المیر؟ اس نے اس سے سوال کیا۔
المیر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، اس کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
“نہیں ماہا۔۔۔۔تم اب گناہگار نہیں، تم تو لوٹ آئی۔ اور وہ آیات نہیں سنی کیا تم نے۔۔۔۔

إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
“بے شک اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔”

“سچ میں معاف کر دے گا نا؟” ماہم نے بچوں کی طرح پوچھا۔
“ہاں، میری بہن۔ تم بس اب واپس آ گئی ہے، اب اللہ تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔” اس نے کہا تو وہ مسکرائی۔ دونوں بہن بھائی اندھیرے سے روشنی کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“تو وہ تم سے ماتھا ٹکوایا کرتے تھے؟۔۔۔تم ان کے ساتھ پوجا وغیرہ سب کرتی تھی” اس نے آبرو اچکائی۔
“نہیں، میں نے کبھی نہیں یہ سب نہیں کیا۔ شروع میں اگر کبھی کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے بے دلی سے کیا مگر جب مجھے سب سمجھ آیا تو میں بس دور کھڑی رہتی تھی۔ ان میں شامل نہیں ہوتی تھی” ماہم نے تفصیل سے کہا۔
دونوں کی چایے ختم ہونے کے قریب تھی۔
“عروج سے نہیں ملی تم ابھی تک؟” المیر نے آہستہ سے پوچھا، اس کی آواز میں تھکن تھی۔
“نہیں، میری ہمت نہیں ہے، اسے سب پتا تھا۔” ماہم نے نظریں چرا لیں۔
“ہاں، اس نے سب کے پوچھنے پر بتا دیا تھا۔” المیر نے تلخی سے کہا۔
“کیا وہ خود تمہارے پاس آ کر رشتہ ختم کر کے گئی تھی؟” ماہم نے پوچھا تو وہ نہ جانے کیوں ایک زخمی ہنسی ہنس دیا۔
“ہاں، خود آئی تھی، چھت پر۔ شام کا وقت تھا۔” المیر نے گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا، جیسے وہی شام دوبارہ دیکھ رہا ہو۔
“بہت ذلیل کیا ہوگا اس نے، ہے نا؟ ویسے بھی وہ تمہارے سامنے بہت بولتی ہے۔” ماہم نے غور سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے۔
“بولتی نہیں، برس رہی تھی۔” المیر کی آواز بھاری ہو گئی۔ “جب کسی عورت کو پتا ہوتا ہے نا کہ وہ کسی مرد کی پسندیدہ عورت ہے، اس کی کمزوری ہے، تو پھر دنیا جہاں کا سارا غصہ، ساری شکایتیں وہ اسی پر نکالتی ہے۔ اتنا ذلیل کرتی ہے اور ایسی ایسی باتیں بولتی ہے کہ اگر وہی باتیں اس مرد کو کوئی اور بولے تو وہ اسے وہیں زندہ دفن کر دے۔ پر وہ۔۔۔وہ تو عروج تھی۔ میری پسندیدہ عورت۔۔۔عروج نے مجھے بہت کچھ سنایا، مجھے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا تھا، اونچی آواز میں وہ بار بار میرے سینے پر ہاتھ مار رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور غصہ بھی۔ تین دفعہ اس نے میرا گریبان پکڑا، جیسے مجھے ہوش میں لانا چاہتی ہو۔ جب وہ تھک کر ہار گئی تو مجھے طعنے دیے اور چیخ کر کہا کہ ‘ایسی غیرت پر میں تھوکتی ہوں’ اور پھر میرے بہت محبت سے دیے ہوئے وہ سارے تحفے، وہ چوڑیاں، وہ جھمکے، سب کچھ میرے قدموں میں اچھال کر چلی گئی، بنا پیچھے مڑے۔۔۔مجھے سب سے زیادہ درد اس بات کا تھا کہ وہ پہلی بار میرے پاس سے روتے ہوئے جا رہی تھی” المیر کی نظریں نیچی تھیں، اس کے گال پر آنسو کی ایک لکیر چمک رہی تھی۔ ماہم کے آنسو ابھی رکے ہی تھے کہ یہ سن کر اور اپنے بھائی کو اس حال میں دیکھ کر وہ خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، اس نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
“اس نے تمہیں سزا کیوں دی، غلطی تو میری تھی، ساری غلطی میری تھی۔” وہ تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔
“غلطی واقعی تمہاری تھی ماہم، مگر وہ تو حنان بھائی کی بہن تھی، ان کا درد اس کا درد تھا اور اسی حساب سے تمہاری غلطی میری غلطی بھی بن گئی۔ وہ تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، اس لیے اس نے مجھے میری محبت کی سزا دی۔” المیر نے اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹائے اور آنسوں صاف کرنے لگا۔
“پھر۔۔پھر کبھی اس سے بات نہیں ہوئی تمہاری؟ اس کی شادی میں تم کہاں تھے؟” ماہم نے سسکتے ہوئے پوچھا۔
“میرا اس سے رابطہ ہوا تھا، اس کی مایوں والے دن، وہ عارفہ بھابھی کے لیے نیچے آئی تھی تبھی میرے کمرے میں بھی آئی تھی۔” المیر بولتے بولتے رک گیا، اس کی سانس اکھڑنے لگی۔
“کیا کہہ رہی تھی پھر؟” ماہم نے بے چینی سے اپنے بھائی کو دیکھا۔
” کہہ کیا رہی تھی، حکم دینے آئی تھی۔” وہ ہنسا۔ “کہہ رہی تھی کہ المیر تم میری شادی میں نظر بھی مت آنا، تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں”۔ جیسے میں رکنے والا تھا اس کی شادی میں۔” اس کی ہنسی میں اب صرف درد تھا اور وہ درد ماہم کو اپنے دل پر بوجھ محسوس ہوا۔
“بابا۔۔۔۔بابا نے کچھ نہیں کہا؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔
“بابا تمہارے جانے کے بعد سے بستر سے لگ گئے تھے۔ عروج کی شادی کے دوسرے دن ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ کہتے تھے عروج میری دونوں بیٹیاں میری آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ تایا ابو بہت رو رہے تھے اس دن اور تائی امی کو ڈانٹ رہے تھے کہ ‘لو دیکھ لی اپنی ضد؟’ بس پھر وہیں سے تائی امی نرم پڑ گئیں تھوڑا۔
اور عارفہ بھابھی سے بھی رشتہ پہلے جیسا کر لیا، مجھ سے بھی بات کرنے لگیں مگر وہ پہلی والی بات نہیں رہی، آتی نہیں ہے اب ہماری طرف۔” المیر نے تفصیل سے بتایا۔
“اور عروج کی طلاق کیسے ہوئی، کیا تمہیں اس کا علم تھا؟” ماہم نے بہت غور سے اسے دیکھا، جب دونوں کی نظریں ملیں تو المیر کا ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا، جس پر ماہم نے اسے الجھ کر دیکھا۔
“تمہیں پتا ہے طلاق کی اصل وجہ کیا تھی؟” المیر نے ابرو اچکائی۔
“کسی نے میسج کر کے تمہارا اور عروج کا بتا دیا تھا، منال بتا رہی تھی۔” ماہم نے منال کی بات دہرائی۔
“میسج کس نے کیا تھا؟” المیر مسکرایا، اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک چمک تھی۔
“اللہ، بہت ذلیل ہو تم، مطلب یہ تم تھے؟ عروج نے تمہارا قتل نہیں کیا؟ یہ سب اسے پتہ ہے” ماہم کو اس کے چہرے کے تاثرات سے ہی پتا لگ گیا تھا کہ یہ نیک کام المیر نے سر انجام دیا تھا۔ اس کے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا جس کا مطلب تھا کہ عروج کو نہیں پتہ۔
“اس کی شادی ہوئی، پھر بابا کا انتقال، تو دوسری دفعہ عروج دو ہفتے بعد گئی تھی اپنے سسرال۔ بس میں ہر وقت یہی سوچتا تھا کہ وہ کیسی ہے، خوش ہے یا نہیں، مگر میرا رابطہ مشکل تھا، اس نے ہر جگہ سے مجھے بلاک کیا ہوا تھا۔ پھر میں نے بڑی مشکلوں سے، عروج کی چھوٹی نند کی انسٹاگرام آئی ڈی ڈھونڈی، پھر اس کی اور میری باتیں ہونے لگیں، وہ بہت باتونی تھی، اکثر اپنے گھر کی باتیں مجھ سے شیئر کرتی۔ جو کہ مجھے پسند آئی یہ عادت اس کی۔ اس نے مجھے دو دفعہ بتایا کہ عروج اور اس کے بھائی کا جھگڑا ہوا ہے جس پر اس کے کمینے شوہر نے عروج پر ہاتھ اٹھایا تھا، پھر اکثر یہ سب ہوتا، ہر دوسرے دن وہ بتاتی کہ آج بھائی نے بھابھی سے لڑائی کی۔ اور حد تو تب ہوئی ماہا۔۔۔حد تو تب ہوئی جب اس نے عروج کو صرف اس لیے ساری رات ٹھنڈ میں باہر دروازے پر کھڑا رکھا کہ عروج کو چھوڑنے فرحان بھائی گئے تھے۔ اس گھٹیا انسان کا کہنا تھا کہ وہ رات کو پرائے مرد کے ساتھ آئی ہے۔” المیر کی مٹھیاں بند ہو گئیں۔
“پھر اس کے دوسرے روز ہی عارفہ بھابھی نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ عروج کے سسرال والے عروج کو کہتے ہیں کہ وہ ہر وقت بیمار رہتی ہے، کسی کام میں اس کا دھیان نہیں رہتا۔ ان عقل کے اندھوں کو پتا بھی تھا کہ She is pregnant اس حالت میں یہ سب نارمل تھا پھر اسے کون سا وہاں سکون تھا خیر۔۔۔” وہ رکا ماہم بہت غور سے اسے سن رہی تھی۔
اور پھر۔۔۔پھر مجھ سے رہا نہیں گیا ماہم۔ مجھے بہت غصہ آیا، میں نے اسی وقت اس کی نند کو بلاک کیا اور فوراً اس کے گھٹیا شوہر کو میسج کیا۔ میں نے اسے عروج اور میری وہ پرانی تصویریں بھیجیں، وہ وائس نوٹ بھیجے جو عروج نے کبھی مجھے بھیجے تھے۔ یہ بہت غلط حرکت تھی، میں جانتا ہوں، بہت گھٹیا حرکت تھی مگر مجھے یہ کرنا پڑا۔ میں اسے وہاں مرتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اور پھر۔۔۔پر دو دن کے اندر اس کی طلاق ہو گئی۔” المیر نے بات ختم کی اور سر جھکا لیا، جیسے اپنے جرم کا اقرار کر رہا ہو۔ تو دیکھا ماہم اسے حیرت سے گھور رہی تھی۔
“کوئی اور طریقہ نہیں تھا، جاہل انسان؟۔” ماہم نے کشن اٹھا کر اس کے بائیں ہاتھ پر زور سے دے مارا، مگر اس کی آنکھوں میں المیر کے لیے شکریہ بھی تھا۔
“اور کیا طریقہ ہوتا تم نے کوئی اور طریقہ چھوڑا تھا” المیر نے جل کر کہا تو اس نے منہ بنایا۔
” اچھا اب جاؤ مجھے نیند آ رہی ہے” ماہم کھڑی ہوئی المیر کچھ بولے بغیر دونوں خالی کپ لے کر باہر نکلا ماہم نے لائٹ بند کی تسبیح میں ہاتھ میں لی اور کمبل کے اندر گھس گئی۔
~♡
“بھائی اندر آ جاؤں؟” عروج نے دروازہ ناک کیا۔
“ہاں آ جاؤ۔” وہ مسکرایا۔
“کھانا لے کر آؤں؟” عروج نے جھک کر اس کے جوتے اٹھا کر ایک طرف رکھے۔ حنان نے محبت بھری نظروں سے اپنی بہن کو دیکھا، یہ بہنیں کتنی پیاری ہوتی ہیں، بغیر کہے سب کچھ کر دیتی ہیں۔
“بولیں، لے آؤں؟ یا پھر اس کے آنے سے بھوک ہی مر گئی آپ کی۔” عروج نے اسے دیکھا، وہ ہنس دیا۔
“اپنی دوست کی بات کر رہی ہو؟” حنان نے مسکراہٹ ضبط کی کیونکہ وہ اسے گھور رہی تھی۔
“دوست نہیں ہے میری وہ۔” عروج نے خفگی سے کہا اور صوفے کے کنارے پر بیٹھ گئی۔
“رشتہ تو نند بھابھی کا ختم ہوا تھا، دوستی تو ہوگی۔” حنان نے شرارت سے کہا، وہ نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی۔
“دوستی بھی ختم ہو گئی تھی بھائی۔” اس نے مایوسی سے جواب دیا، اس کی آواز میں ایک شکوہ تھا۔
“جب میں آیا تو لان میں تھی وہ۔” حنان سمجھ چکا تھا وہ اس بارے میں بات کرنا چاہ رہی ہے تبھی وہ صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔
“کوئی بات ہوئی آپ کی اس سے؟” عروج نے جلدی سے پوچھا، اس کی آنکھوں میں تجسس تھا۔
“نہیں، کچھ خاص نہیں۔” حنان نے جھوٹ بولا، اب وہ ہر بات تو بتانے سے رہا، بات کا تعلق بھی تو ماہم سے تھا اور ماہم کا ذکر وہ ابھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“کیسی ہے وہ؟” عروج نے بالآخر وہ سوال پوچھ لیا جس کے لیے وہ یہاں آئی تھی اور اب بیٹھ بھی گئی تھی۔
“پہلے سے زیادہ خوبصورت اور پاکیزہ۔۔۔ماشاءاللہ۔” حنان زیر لب بولا، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آ گئی تھی جو عروج سے چھپی نہ رہ سکی۔
“بھائی یہی باتیں آپ پہلے کر لیتے نا تو وہ نہیں بھاگتی، نہ یہ سب ہوتا۔” عروج نے اسے گھورا۔
“امی سو گئی کیا؟” حنان نے بات کا رخ بدلا۔
“جی، سخت پریشان ہیں کہ کہیں اس کے آنے سے آپ زہراء آپی کو انکار نہ کر دیں۔” عروج نے کہا اور ساتھ اسے دیکھا۔
“اوہ، ان سے کہو بے فکر رہیں، میں ان سے کچھ نہیں کہوں گا۔ ہاں زہراء خود ختم کر دے رشتہ تو وہ الگ بات ہے۔” حنان نے تسلی دی، اس کے لہجے میں اب ضد نہیں، تھکن تھی۔
“بھائی، کیا آپ ماہا کو۔۔۔” عروج نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
“جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا۔” حنان نے بات کاٹ دی۔
“میں کھانا لے کر آتی ہوں۔” وہ کہہ کر چلی گئی، جاتے ہوئے اس نے ایک نظر اپنے بھائی کو دیکھا جو کچھ سوچ رہا تھا۔
وہ مسکراتا ہوا بیڈ پر گرا، تھکن سے اس کا برا حال تھا مگر لان میں ماہم کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اب تو اس کے چہرے پر اطمینان تھا، سکون تھا۔ دل میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔
وہ نیند آج رات سوؤں گا میں،
جس نیند کی تلاش عرصے سے تھی۔
~♡
“ماہم ناشتہ کر لیا تو اوپر چلی جاؤ۔” عافیہ نے حدید کے الجھے ہوئے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں نرمی تھی۔
“بھابھی۔۔۔نہیں۔” ماہم نے سرد آہ بھری۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا چمچ وہیں کا وہیں رک گیا۔ اوپر والے پورشن میں تین فرد تھے، حنان، عروج اور تائی جان۔ ان تینوں سے نظریں ملانا اس کے لیے موت کے برابر تھا۔ ایک سے اس نے دل توڑا تھا، دوسری سے دوستی توڑی تھی اور تیسری کے تو اس نے خواب توڑے تھے۔ اسی دوران اسے حنان کی وہ بات یاد آئی جو اس نے لان میں کہی تھی، “میری زندگی لے گئی تھی، ہو سکے تو وہی واپس کر دینا”۔۔۔ اف اس کی باتیں۔ ماہم نے زور سے سر جھٹکا جیسے ان باتوں کو پیچھے دھکیل رہی ہو۔
“تم اب یہیں رہو گی تو بہتر ہے سب سے مل لو اور نئی زندگی شروع کرو۔” حبیبہ (فرحان کی بیوی) نے آگے ہو کر اس کے سرد ہاتھ پر اپنا گرم ہاتھ رکھا۔
“یہ میں نہیں کر سکتی۔۔۔مجھ سے نہیں ہوگا بھابھی۔” ماہم نے نظریں گھمائیں۔ کچن میں المیر تھا۔
“اچھا میں نے ڈیزرٹ بنایا ہے اس کو پکڑو اور دے کر آؤ، بہانہ بن جائے گا جانے کا۔” عافیہ نے چالاکی سے کہا۔
“جی اچھا۔” ماہم نے ہار مانی اور ڈرتے ڈرتے اٹھ کر چلی گئی۔ المیر باہر جا چکا تھا، اب صرف میز پر عارفہ اور حبیبہ رہ گئی تھیں۔
“بھابھی ایک بات پوچھوں؟” حبیبہ نے جھجھکتے ہوئے کہا، وہ کافی دیر سے یہ سوال دل میں دبائے بیٹھی تھی۔
“ہاں پوچھو۔” عافیہ نے اجازت دی اور حدید کو جانے دیا جو المیر کے پیچھے جانے کے لیے مچل رہا تھا۔
“آپ نے فوراً ماہم کو معاف کیوں کر دیا؟ آپ کے بھائی اور بہن دونوں کی زندگی الجھ گئی ماہم کے جانے کے بعد، حنان بھائی تو بالکل بدل گئے تھے۔” حبیبہ نے آہستہ آواز میں کہا تاکہ ماہم سن نہ لے۔ عافیہ مسکرائی، اس مسکراہٹ میں سکون تھا۔
“وہ میری نند بعد میں ہے پہلے میری بہن ہے۔ چچی کے انتقال کے بعد مجھے امی نے ادھر ہی بھیج دیا تھا کیونکہ ماہم چھوٹی تھی۔ میں امی کا ہاتھ بٹا کر نیچے آ جاتی، کبھی کبھی دیر ہو جاتی تو یہیں سو جاتی تھی۔ ماہم چھوٹی تھی جب میں رات رکتی تو عروج بھی آ جاتی تھی ویسے اکثر وہ یہیں سوتی تھی۔ ماہم مجھ سے بہت مانوس ہو گئی تھی اور مجھے عروج سے زیادہ اس سے محبت ہو گئی تھی۔ وہ میرے ہاتھ سے ہی کھانا کھاتی تھی۔ پھر روحان کی بھی بہت لاڈلی ہے وہ۔ بس یہی دو وجہ ہے جس نے مجھے غصہ یا بد مزاج ہونے سے روکا۔ پھر مہینے بعد بابا نے کہا کہ ایک جگہ کھانا بنے گا اور سب ساتھ کھائیں گے” عافیہ ٹھہری اور لمبی سانس لی۔
“ماہم کی ایک غلطی نے یہ ہنستا کھیلتا گھر تباہ کر دیا۔” حبیبہ نے کافی کا گھونٹ اپنے اندر اتارا۔
“غلطی تو بچوں سے ہی ہوتی ہے نا، اور بچے تو معافی کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ اب وہ آ گئی ہے انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔” عافیہ مسکرائی۔
“کیا مطلب۔۔۔حنان بھائی سے دوبارہ۔۔” وہ رک گئی، بات مکمل کرنا مناسب نہیں لگا۔
“بھائی اور امی کی مرضی ہے میں وہ بہن نہیں ہوں جو بھائیوں کی زندگی میں ٹانگ اڑائے۔ میرا کام جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔” عافیہ نے سر جھٹکا۔ حبیبہ خاموش ہو گئی۔
یہ نہیں تھا کہ اسے ماہم پسند نہیں تھی، اس کے آنے پر وہ بھی خوش تھی، اس کے دل میں آئی بات اس نے عافیہ سے پوچھنی ضروری سمجھی تھی۔ سامنے ہی ماہم ہاتھ میں ڈیزرٹ کی ٹرے لے کر کھڑی تھی جس میں اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ عافیہ اور حبیبہ نے اسے اشارے سے تسلی دی، وہ ایک گہری سانس بھرتی، اپنا دوپٹہ درست کرتی اوپر کی طرف بڑھی، ہر سیڑھی کے ساتھ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔
~♡
ماہم کے قدم سیڑھیوں پر بہت بھاری تھے۔ ہر قدم پر ٹرے ہل رہی تھی۔ اوپر خاموشی تھی۔ سامنے ہی ہال تھا جہاں سب موجود تھے۔ حنان صوفے پر بیٹھا موبائل میں مصروف تھا، عروج سبزی کاٹ رہی تھی اور تائی جان تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ ماہم کے سلام کرنے پر سب نے ایک ساتھ سر اٹھایا۔ عروج فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ سب نے آہستہ آواز میں جواب دیا۔
“وہ۔۔۔بھابھی نے ڈیزرٹ بھیجا ہے۔” ماہم کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ خود اسے بھی بمشکل سنائی دی۔ وہ نظریں جھکائے ہوئے فرش کو گھورنے لگی۔
بیگم عروہ نے پہلے ماہم کو دیکھا، پھر ٹرے کو۔ ان کی آنکھوں میں کچھ بھی نہ تھا ماہم نے سوچا نفرت ہوگی، غصہ ہوگا مگر وہ خالی تھی۔
“یہیں رکھ دو۔” انہوں نے اشارہ کیا۔ ماہم نے کانپتے ہاتھوں سے میز پر ٹرے رکھ دی۔
حنان نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ مسلسل موبائل پر نظریں جمائے بیٹھا تھا، لیکن اس کی انگلیاں سکرین پر رکی ہوئی تھیں۔
“میں ذرا تمہارے بابا کو چایے دے آؤں” عروہ بیگم اٹھ کر جا چکی تھی۔ ماہم نے ایک پل کو سوچا وہ چلی جایے مگر کب تک؟۔
“بیٹھو۔” تبھی عروج کی آواز گونجی وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ حنان کے سامنے والے صوفے پر
کچھ دیر خاموشی رہی۔ صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
“کھا کر بتاؤ کیسا بنا ہے؟” ماہم نے ہمت کر کے کہا۔
” آپی کے ہاتھ میں تو ہمیشہ سے ذائقہ ہے۔” عروج نے دو ٹوک کہا۔
“عروج میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں” اس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا۔
کس چیز کی۔۔دوستی میں کی بے وفائی کی یا میرے بھائی سے۔۔۔” عروج نہ جانے کیوں رک گئ۔ ماہم نے سب نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو معلوم ہوا کہ حنان کی گھورنے پر وہ خاموش ہوئی ہے۔ جب ماہم اور حنان کی نظریں ملی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“بھائی ناشتہ تو کر لیں” عروج نے کہا۔
“زہراء کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے پھر شاپنگ پر جانا ہے اسے” حنان نے کہا اور لمبے لمبے قدموں سے وہ نیچے چلا گیا۔
“زہراء بھابھی نے شادی کی شاپنگ کرنی ہے” عروج نے کہا تو ماہم نے سر ہلایا۔
“معاف نہیں کرو گی” ماہم نے دوبارہ کہا۔
“نہیں۔۔ہرگز نہیں” عروج نے نفی میں سر ہلایا۔
دوستوں کا دل دکھانا اور پھر بعد میں انہیں راضی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، ماہم کو یہ بات آج سمجھ آ گئی تھی۔
“ارے ہماری بیٹی آئی ہے” یاسر رضا کی آواز پر وہ اٹھی۔
“السلام علیکم تایا جان” وہ ان کے گلے لگی پھر ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اب اسے اپنائیت محسوس ہوئی تھی پہلی والی ورنہ وہ تو جب سے آئی تھی اجنبی سمجھ رہی تھی خود کو۔ عروج سبزی لے کر کچن من چلی گئی جبکہ تائی جان نہ جانے کہاں تھی۔
“کیسی ہو” یاسر رضا نے اپنی گڑیا کو غور سے دیکھا۔
“ٹھیک ہوں تایا جان۔” ماہم نے مسکرانے کی کوشش کی۔
“لگ تو نہیں رہی” یاسر صاحب مسکرائے۔
“تایا جان، سب مجھ سے ناراض ہیں نا؟” ماہم نے بچوں کی طرح پوچھا۔
“ناراضگی تو اپنوں سے ہی ہوتی ہے نا بیٹا۔ پرائے سے کون ناراض ہوتا ہے؟” یاسر رضا نے اس کا سر سہلایا۔
اسی وقت عروج کچن سے واپس آئی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے۔ اس نے ایک کپ اپنے بابا کو دیا اور دوسرا ماہم کی طرف بڑھایا۔ ماہم نے حیرت سے اسے دیکھا۔ پھر کپ تھام لیا۔
یاسر رضا خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اب ان دونوں کو اکیلا چھوڑ دینا چاہیے۔ وہ آہستہ سے اٹھے، “میں ذرا عروہ کو دیکھ کر آتا ہوں، تم دونوں بیٹھو۔” اور وہ اندر چلے گئے۔ اب ہال میں صرف ماہم اور عروج رہ گئیں۔
“معاف کر دو گی؟” ماہم نے پھر وہی سوال کیا۔
“معافی مانگنے سے سب ٹھیک نہیں ہو جاتا ماہم۔ تم چلی گئی تھی، میرے بھائی کا سکون برباد کر کے اس گھر کو توڑ کر” عروج نے سختی سے جواب دیا۔
“مجھے پتا ہے میں نے بہت غلط کیا۔” ماہم نے سر جھکا لیا۔
“غلط کیا؟ تم نے میرا دل توڑا ماہم” عروج کی آواز بھر آئی۔
ماہم اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اس کے قدموں میں بیٹھ گئی، “تو سزا دے دو، جو سزا دینی ہے دے دو، لیکن اس طرح خاموش مت رہو۔ تمہاری خاموشی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی۔” عروج نے اسے دیکھا، جو لڑکی کبھی اس کے برابر بیٹھتی تھی آج اس کے قدموں میں تھی۔ اس کا دل پگھل گیا۔
“اٹھو، پاگل ہو کیا؟” عروج نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور گلے لگا لیا۔ وہ اس سے ناراض کیسے ہوتی، عروج ماہا سے ناراض ہو ہی نہیں سکتی۔ دوستیں عرصہ بعد ملے پھر بھی دوست ہی رہتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد انفال اٹھ گئی، اس کے رونے کی ہلکی سی آواز آئی تو عروج اسے دیکھنے چلی گئی۔ ماہم نیچے آ گئی وہ پرسکون تھی۔ عروج نے اسے گلے لگایا تھا، اس کا مطلب تھا کہ عروج نے اسے معاف کر دیا تھا۔ اس ایک گلے میں چار سال کی ناراضگی ختم ہو گئی تھی۔ اب بس تائی جان سے بات کرنی تھی۔ تائی جان سخت مزاج ہیں، وہ آسانی سے معاف نہیں کرتیں، مگر ماہم جانتی تھی وہ اندر سے موم ہیں۔
ماہم نے ایک پل کو سکون کا سانس لیا۔ شکر الحمدللہ، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو رہا ہے۔ مگر دوسرے ہی پل حنان یاد آیا۔
وہ کیا معاف کرے گا اسے؟۔ اس کا دل ایک دم سے بیٹھ گیا۔ ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اس نے بے خیالی میں مروڑنا شروع کر دیا۔
ہاں۔۔۔کر دے گا۔ کیونکہ وہ آگے بڑھ چکا ہے۔ آگے بڑھنے والے پیچھے رہ جانے والوں کو عرصے بعد معاف کر ہی دیتے ہیں۔
اس نے خود کو یہ تسلی دی، مگر یہ تسلی خود اس کے دل کو چیر رہی تھی۔ اسے یہ سوچ کر زیادہ تکلیف ہو رہی تھی کہ حنان نے اسے معاف کر دیا ہے کیونکہ اب اسے فرق نہیں پڑتا۔ اسے تو چاہیے تھا کہ حنان ناراض ہوتا، چیختا، کہتا کہ تم نے کیوں کیا میرے ساتھ؟ اس کی بے حسی، اس کا یہ کہنا کہ ” زہراء کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے پھر شاپنگ پر جانا ہے اسے ” یہ معافی سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں آ گئی۔ اس نے سوچا کپڑے سیٹ کر لیتی ہوں، دل ہلکا ہو جائے گا۔ اس نے الماری کھولی تو وہیں جم کر رہ گئی۔
کتنی پرانی چیزیں محفوظ تھیں۔ اس کے سارے کپڑے، جو وہ چھوڑ کر گئی تھی، ویسے ہی ہینگرز پر لٹک رہے تھے۔ اس کی جیولری، اس کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس، اس کی چوڑیاں، جو عید پر بابا لائے تھے۔ اس کے سینڈلز، اس کے پرس، اس کی کتابیں، اس کی وہ ڈائری جس پر اس نے بڑا سا لاک لگایا ہوا تھا، سب کچھ محفوظ تھا۔ کسی نے ایک دھاگہ بھی نہیں ہٹایا تھا۔
اس کی نظر اپنے سفید سنیکرز پر پڑی، جن پر اب بھی پارک والی مٹی لگی تھی۔ وہ آخری بار عروج اور المیر کے ساتھ گئی تھی۔
اس کا مطلب تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کمرے کو کسی نے اسٹور نہیں بنایا تھا۔ اسے کسی اور کو نہیں دیا تھا۔ یہ کمرہ اس کا انتظار کر رہا تھا۔
اسے بے اختیار اپنے گھر والوں پر ٹوٹ کر پیار آیا۔ ان لوگوں نے اس کی بے وفائی کے بعد بھی اس کی چیزوں سے بے وفائی نہیں کی تھی۔ وہ آہستہ سے فرش پر بیٹھ گئی، اس نے اپنا ایک پرانا سوٹ نکالا، وہی جو اسے سب سے زیادہ پسند تھا، اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس میں سے اب بھی اس کے گھر کی خوشبو آ رہی تھی۔ وہ خوشبو جو شُبھم کے گھر میں چار سال تک اسے نصیب نہیں ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔
“مجھے معاف کر دیں، بابا۔۔۔میں بہت بری ہوں۔” وہ بڑبڑائی۔
مگر معافی دینے والا تو قبر میں دفن ہو چکا تھا۔ اسی کو پکارتے پکارتے، مگر وہ بد قسمت نہیں آ سکی۔ وہ سسکتی ہوئی چیزیں جگہ پر رکھنے لگی۔
~♡
ظہر کی اذان ہونے لگی تھی، “حی علی الصلوۃ” کی آواز کھڑکی سے اندر آ رہی تھی مگر ماہم کو ہوش ہی نہیں رہا تھا۔ اسے احساس ہوا، سب کچھ ہو چکا تھا۔ وہ کام میں مصروف تھی۔ اسے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ وہ جلدی سے اٹھی۔ اس نے شاور لیا، بال سکھائے، اور جلدی سے وضو کر کے جائے نماز بچھا لی۔
اس نے ظہر کی نماز پڑھی۔ نماز میں اس کا دل اتنا نرم تھا کہ ہر رکعت میں اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بے اختیار رو دی۔ وہ ہاتھ نہیں اٹھا رہی تھی، وہ اپنا دل کھول رہی تھی۔
“یا اللہ۔۔میں آ گئی۔۔میں بھاگ کر بھی کہیں نہ جا سکی۔۔تیرا در ہی میرا گھر ہے۔۔۔دیکھ میں تڑپ کر آئی ہوں۔۔۔بیشک تو ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے، تو مجھے معاف کر دے۔۔۔میرے بابا کو معاف کر دے۔۔میرے گھر والوں کا دل میرے لیے نرم کر دے۔۔”
وہ روتے روتے دعا مانگ رہی تھی، اس کے آنسو جائے نماز پر گر رہے تھے۔ پھر اس نے تسبیح اٹھائی اور دیر تک استغفار پڑھتی رہی۔ استغفراللہ، استغفراللہ۔۔۔ہر دانے کے ساتھ اس کا دل ہلکا ہو رہا تھا۔
جب گھڑی دیکھی تو تین بج چکے تھے۔ وہ سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ اس کا موبائل رنگ ہوا۔ شُبھم کی ویڈیو کال تھی۔ اس نے فوراً اٹھائی۔ اس کی امید کے مطابق سکرین پر عاریان سامنے تھا، شُبھم یا جانوی نے پیچھے سے کیمرہ پکڑا ہوا تھا۔
“مما۔۔۔یہ دیکھیں میری نیو سائیکل” وہ خوشی سے چلاتے ہوئے بولا، نیلی چمکتی سائیکل دکھا رہا تھا۔
“واؤ۔۔تمہیں پسند آئی یہ؟” ماہم نے اسی کے انداز میں، خوشی سے آنکھیں کھول کر کہا، حالانکہ اس کی آنکھیں نم تھیں۔
“ہاں آپ کو مئے ٹوائز بھی دکھاتا ہوں۔۔۔” عاریان اب ایک ایک چیز اٹھا اٹھا کر دکھا رہا تھا – اس کے نئے کھلونے، اس کی ڈرائنگ۔ ماہم دل کھول کر ہر چیز کی تعریف کر رہی تھی۔
تھوڑی دیر بات کر کے، عاریان کو پیار دے کر اس نے کال بند کر دی۔ موبائل سینے پر رکھ کر وہ لیٹ گئی۔ تھکن اور سکون دونوں کی وجہ سے اس کی آنکھ خود بخود لگ گئی۔
~♡
“پھوپھو۔۔ماہا پھوپھو” عتیقہ اسے آوازیں دیتی ہوئی کچن میں آئی۔
“جی پھوپھو کی جان” ماہا نے کڑاہی میں پیاز ڈالی۔
“آپ کو عروج آنی نے چھت پر بلایا ہے” عتیقہ کے بجائے عربان بولا۔
” اچھا جاؤ تم لوگ پھوپھو جا رہی ہیں” حبیبہ نے کہا تو وہ لوگ باہر نکلیں۔
“ماہا جاؤ یہ میں دیکھ لوں گی” عارفہ کے کہنے پر وہ سر ہلاتی باہر نکلی۔
“لگتا ہے دونوں میں صلح ہو گئی” حبیبہ مسکرائی۔
“دوستوں سے ناراضگی زیادہ عرصہ چل جاتی ہے، مگر جب آمنے سامنے آ جائے تو پل بھر بھی نہیں لگتا گلے لگنے میں” عارفہ بھی مسکرائی اور اللہ کا ڈھیروں ڈھیر شکر ادا کیا۔
~♡
وہ دونوں کتنی دیر تک خاموش کھڑی رہیں۔ شام ہو چکی تھی اور اندھیرا چھا چکا تھا۔ دونوں کے ہاتھوں میں مصالحے والے چنوں کے پیکٹ تھے۔
“یہ صفوان بھائی کی بیٹی زرمین، ماشاء اللہ سے کتنی بڑی ہو گئی ہے۔” ماہم نے سامنے چھت پر کھیلتی آٹھ سالہ زرمین کو دیکھا۔
“ہاں۔۔۔ تمہیں پتہ ہے اسجد کی بیوی نے چند ماہ پہلے طلاق لے لی۔” عروج نے کہا تو ماہم ہنس دی، عروج بھی۔
“اچھا ہوا، کسی کے ساتھ رہنے لائق نہیں ہے وہ۔” ماہم نے ہنستے ہوئے کہا۔
“جب میں نے سنا تو میں بھی خوب ہنسی۔۔۔ایک وقت تھا جب ہم دونوں اس سے کتنی تنگ تھیں۔” عروج ہنس دی۔
“اس نے کتنی دفعہ یہی چھت پر اپنا نمبر لکھ کر پھینکا تھا۔” ماہم نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
“ہاں، حالانکہ اس کی کتنی گرل فرینڈز تھیں۔۔۔تمہیں یاد ہے جب اس نے اپنی بہن کو بھیجا تھا رشتے والی خالہ کے ساتھ؟” عروج نے کہا تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر مزید ہنس دیں۔
“کیسے بھولوں گی یار، میں نے صاف صاف انکار کر دیا تھا سب کے سامنے۔” ماہم نے مسکراہٹ ضبط کی۔
“تم اس دن اتنا چیخی تھیں کہ اس کی ہمت کیسے ہوئی رشتہ بھیجنے کی، تم تو حنان بھائی کی امانت ہو وغیرہ وغیرہ۔” عروج نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔ ماہم نے اس کے چہرے کو دیکھا۔
“ہاں، یاد ہے مجھے یہ سب بھی۔” ماہم نے گہری سانس لی۔
“جب تم سے منال پہلی دفعہ ملی تھی تو مجھے کال کر کے سب بتایا تھا۔” عروج نے چنے نکالے جو بدقسمتی سے نیچے گر گئے۔
“اوہ۔۔ یعنی کہ تمہیں سب پتہ تھا؟” ماہم حیران ہوئی۔
“ظاہر ہے۔۔۔میں نے اس سے کہا کہ تم سے ملتی رہے اور پھر جب سب پتہ چلا تو مجھے بہت برا لگا تمہارے لیے۔” عروج سنجیدگی سے بول رہی تھی۔
“تم نے بددعا دی تھی، مجھے سکون آیا ہی نہیں، میں عرصہ بے چین رہی۔” ماہم نے شکوہ کیا۔
“میں نے توبہ کر لی اللہ سے، اور پتہ ہے مجھے بہت خوشی ہوئی تمہیں اس طرح دیکھ کر۔” وہ مسکرائی۔
“میری توبہ صرف اللہ ہی معاف کر سکتا تھا اور اتنے سارے گناہوں کے بعد میرا اپنے رب کی طرف واپس آنا بنتا تھا۔” ماہم نے بھی مسکرا کر جواب دیا۔ دونوں ایک ساتھ پیچھے ہوئیں پھر چھت کی دوسری طرف کھڑی ہو گئیں جہاں سے نیچے لان دکھ رہا تھا۔
“میں تم سے معافی مانگتی ہوں، میں نے تمہیں اور حنان دونوں کو بہت تکلیف دی۔” ماہم نے کہا۔
“اب کیسی معافی، چھوڑو خیر ہے۔ اچھا ایک بات بتاؤ، تمہیں جب بھائی نے بتایا کہ انہیں تم سے محبت ہے تو تمہیں کچھ محسوس نہیں ہوا؟” عروج نے نیچے دیکھا، انفال، عتیقہ اور حدید تینوں المیر کے ساتھ فٹ بال کھیل رہے تھے۔
“میں سکتے میں آ گئی تھی، برا مت منانا مگر تمہارا بھائی میسنا تھا، ہے اور رہے گا۔ اگر وہ سب بکواس پہلے کر لیتا تو یہ سب نہ ہوتا۔” ماہم نے کہا تو عروج کھلکھلا کر ہنس دی۔
“بھائی تمہارے جانے کے بعد ہفتے کمرے سے نہیں نکلے تھے، ان کی طبیعت مہینوں خراب رہی، ان کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جا رہی تھی، پھر میں نے۔۔۔” وہ رک گئی۔
“ہاں ہاں بات پوری کرو۔۔۔۔پھر تم نے بدلہ لیا میرے بھائی سے۔” ماہم نے خود اس کی بات پوری کی۔
“لگتا ہے تم دونوں میں صلح ہو گئی۔” عروج نے ایک نظر ماہم کو دیکھا پھر نیچے دوڑتے ہوئے المیر کو۔
“ہاں ہو گئی ہے۔” ماہم نے کہا۔
“سب بتا دیا اس نے تمہیں؟” عروج نے وہ سوال پوچھا جس کا جواب “ہاں” میں اسے پہلے سے پتہ تھا۔
“ہاں، سب بتا دیا۔” ماہم نے لفظ “سب” پر کافی زور دیا۔
“مجھے جو ٹھیک لگا میں نے کیا” عروج نے گہری سانس لے کر کہا۔
“میرا بھائی آج بھی تم سے محبت کرتا ہے” ماہم نے المیر کو دیکھا جو انفال سے کچھ کہ رہا تھا۔
“مگر شاید اب میرا بھائی نہیں کرتا” عروج نے جھوٹ بولا ماہم جانتی تھی حنان اسے بھول نہیں سکا اس کے کانوں میں وہ آواز پھر گونجی “میں کھڑا رہا تو دوں گا اور میرا ضبط توڑنے میں تم ماہر ہو” ماہم نے سر جھٹکا۔
“میں بھی نہیں کرتی” ماہم نے بھی جھوٹ بولا۔ وہ حنان کو بھول ہی نہیں سکی تھی۔
“میں بھی نہیں کرتی” عروج نے اس کے الفاظ دوہرائے ماہم مسکرائی اس نے بھی جھوٹ بولا تھا۔
“آگے کچھ سوچا ہے کیا کرنا ہے۔۔انفال بہت چھوٹی ہے” ماہم نے اسے دیکھا جو دوسری طرف جا رہی تھی۔
“ہاں سوچ تو رہی ہوں کیونکہ کچھ ہی دن میں زہراء بھابھی آ جائیں گیء اور بھابھیوں سے طلاق یافتہ نندیں زیادہ عرصہ برداشت نہیں ہوتی” عروج کی بات سن کر ماہم خود کے بارے میں سوچنے لگی۔
“تم بے فکر رہو تمہارا معاملہ ذرا الٹ ہے اور ابھی المیر کی شادی نہیں ہوئی پھر عارفہ آپی تم سے بہت محبت کرتی ہیں” عروج نے اس کو دیکھ کر کہا۔
“ہمم شاید۔۔۔عروج ایک بار خود کے لیے نہ سہی انفال کے لیے ایک دفعہ المیر کو موقع دو اس کا کوئی قصور نہیں ہے” ماہم تھی تو آخر بہن ہی اور بہنیں اکثر بھائی کی سفارشی ہوتی ہے۔
“واقعی قصور تو اس کا نہیں ہے مگر المیر نے میری طلاق کروائی ہے۔۔۔اس کے بعد قصور وار تو ہے وہ” عروج نے مانو ماہم کے سر پر بم پھوڑا۔
“تمہیں کیسے پتہ” وہ حیران تھی۔
“اور تمہیں تمہارے بھائی نے بتایا ہے سہی کہا نہ؟۔۔۔مجھے پتہ ہے اچھی سے کیونکہ المیر کے علاوہ میری تصویر صرف تمہارے پاس تھی۔ ظاہر ہے، جو تصویریں میرے منہ پر ماری، انفال کے باپ نے اس میں المیر کا چہرہ بلر تھا۔ مگر مجھے یاد تھی ساری تصویریں، جو میں نے اس کے فون پر لی تھی، یا بھیجی تھی” عروج کچھ پل کو رکی‌۔
“تو تم ناراض ہو المیر سے۔۔پلیز تائی جان کو مت بتانا” ماہم نے ہاتھ جوڑے۔
“ناراض تھی مگر پھر اب شکر گزار ہوں۔ مجھے اس جہنم سے نکالا اس نے، میری تو ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ حنان بھائی یا بابا سے کچھ کہنے کی۔ اور بے فکر رہو میں نے امی سے نہیں کہا کیونکہ ان کی عادت سے میں واقف ہوں” عروج نے تسلی دی۔
“تو تم اس سے شادی کر لو گی” وہ اس کے جواب کے انتظار میں اسے دیکھنے لگی۔
“تم حنان بھائی سے شادی کرو گی” عروج نے الٹا اسی سے سوال کیا، وہ گڑبڑا گئی۔
“یہ ممکن نہیں ہے” ماہم نے جواباً کہا۔
“تو میرا بھی یہی جواب ہے” عروج نے رخ بدلا۔
“مگر تمہارے اور المیر کے بیچ کوئی تیسرا نہیں ہے” ماہم نے بے قراری سے کہا۔
“اگر یہ تیسرا نہ ہوا تو تم بھائی سے شادی کر لو گی؟” عروج الٹا سوال اسی سے کر رہی تھی۔
“شاید ہاں مگر میں خود سے نہیں کہوں گی کبھی اگر مجھے آفر ہوئی یہ بات تو میں تیار ہوں۔۔۔اب توں بتا” ماہم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“بکواس بند کرو اور چلو نیچے اتنے سالوں میں تم بلکل نہ بدلی” عروج زینے کی طرف بڑھی ماہم منہ بناتے ہوئے اس کے پیچھے آئی۔
“آج رات ہم ساتھ سوئیں گے” ماہم نے آواز دی۔
“میری ایک عدد بیٹی بھی ہے۔۔اور اس کو نیند نہیں آتی میرے اور ہمارے کمرے کے بغیر۔۔۔تو تم آ جانا” عروج نے سیڑھیاں اترتے ہوئے جواب دیا۔
“اور تائی جان” ماہم نے پوچھا۔
“وہ عشاء پڑھ کر سو جاتی ہے اور ویسے بھی کچھ نہیں کہیں گی” عروج نے کہا اور کچن کی طرف بڑھی ماہم نیچے جانے لگی تبھی سیڑھیوں پر حنان سے ٹکرائی۔ (ایک بات یاد رکھنا سب دنیا بھر میں کہیں بھی دل لگا لینا کزنز سے مت لگانا لاکھ سوچو کہ سامنے نہیں جائیں گے مگر گھوم پھر کر دن میں ایک بار ضرور دشمنِ جاں سے ٹکرا جاتے ہے)۔
اب تم اتنی بھی ہلکی نہیں ہو کہ میں تمہیں اٹھا کر سائیڈ پر رکھوں” حنان نے سنجیدگی سے کہا تو وہ ہوش میں آئی۔
“آپ خود بھی سائیڈ سے جا سکتے تھے” ماہم نے خفگی سے کہا۔
“جائیں ملکہ عالیہ” حنان ذرا سا سائیڈ ہو کر ہاتھ آگے بڑھا کر بولا۔
“شکریہ۔۔” ماہم مسکراہٹ ضبط کرتے نیچے اتری۔ زہراء کی کال پر حنان فوراً اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
~♡
جب وہ فجر کی نماز اور تلاوت سے فارغ ہو کر اٹھی تو اس کی آنکھیں نم تھی۔ اس کے ذہن میں بار بار وہی بات چل رہی تھی جو کل عارفہ حبیبہ کو بتا رہی تھی کہ اگلے ماہ کی بارہ تاریخ کو حنان اور زہراء کی شادی ہوگی۔ اس بات کی وجہ سے وہ عروج کے پاس سونے بھی نہیں گئی تھی۔
اسے پتہ تھا یہ اس کے لیے مشکل ہوگا مگر اتنا مشکل ہوگا اس نے سوچا نہیں تھا۔ اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ کروٹیں بدل بدل کر تھک گئی تھی، دل جیسے سینے میں بوجھ بن گیا تھا۔ اس نے رات منال سے بات کی تو وہ کہنے لگی کہ عروج سے بات کروں۔ ماہم نے فوراً انکار کر دیا کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے عروج کا حنان سے جھگڑا ہو۔
وہ بے چین تھی کافی بنا کر وہ لان میں آ گئی اندھیرا اب بھی تھا اس نے وہی چہل قدمی شروع کر دی۔ پیچھے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ پلٹی سامنے حنان تھا۔
“مجھے بات کرنی ہے۔” اس نے کہا
ماہم کا دل زور سے دھڑکنے لگا، ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا “جی کہیں۔”
“وہاں آ جاؤ بیٹھ کر بات کرتے ہے” حنان کہ کر آگے بڑھ گیا۔
ماہم کتنی دیر تک زمین کو گھورتی رہی، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جائے یا نہ جائے۔ دل کہہ رہا تھا مت جاؤ، مگر قدم خود بخود اٹھنے لگے تھے۔
~♡
“حنان۔۔۔” ماہم نے دھیرے سے پکارا تو اسے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی، وہ گھبرا گئی۔
“مجھے لگا تم نہیں آؤ گی۔” حنان کی آواز اندھیرے میں سے آئی تو اس نے سکون کا سانس لیا۔ وہ کونے میں کھڑا تھا، اس کی سفید شرٹ اندھیرے میں بھی نمایاں ہو رہی تھی۔
“بولیں، کیا ہوا؟” ماہم نے ہمت کر کے پوچھا، آواز میں لرزش تھی۔
“جس کے لیے مجھے چھوڑ کر گئی تھی، اسے کیوں چھوڑ کر آئی ہو؟” حنان نے بغیر تمہید باندھے کہا، اس کی آواز میں شکوہ تھا۔
“میں آپ کی حرکت پر آپ کو چھوڑ کر گئی تھی، اور شُبھم اور اس کا مذہب جو کہ میرے لیے پرایا تھا، اسے چھوڑ کر میں اپنے اللہ اور اس کے مذہب کے لیے آئی ہوں۔” اسے نہ جانے کیوں غصہ آیا تھا حنان کی اس بات پر۔
“میری کون سی حرکت؟” حنان کی آواز اسے تھوڑی دور سے آئی۔
“یہ جو آپ ابھی کر رہے ہیں، نہ کہ پہلے کر لیتے تو یہ سب نہ ہوتا۔” ماہم نے جل کر کہا۔
“کیا؟۔۔یہ جو بلایا ہے؟” حنان کا انداز سوالیہ تھا، اس کے چہرے پر الجھن تھی۔
“جی ہاں۔” ماہم نے صبر سے جواب دیا۔
“تو کیا تم خود نہیں آ سکتی تھی؟ یہ گھر کا میرا کمرہ میری کوئی پرسنل جائیداد تو تھی نہیں اور نہ تم میری اتنی فرمانبردار تھی جو نہیں آ سکتی تھی۔” حنان نے ایک ایک لفظ پر زور دیا۔
“میں یہ بات نہیں کر رہی۔۔۔” ماہم جھنجھلا کر بولی۔
“پھر؟” حنان نے ابرو اچکائی جو ماہم اندھیرے میں دیکھ نہ سکی۔
“میں آپ کی اس حرکت پر بات کر رہی ہوں جو آپ نے مجھے بلا کر کی ہے، اس وقت مجھے اگنور کرتے تھے آپ۔” ماہم نے تنگ آ کر کہا، اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“اوہ۔۔۔تمہیں ذرا بھی خیال نہیں آیا کسی اور کے ساتھ جاتے ہوئے؟ تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ میں کیسے رہوں گا؟۔۔۔اور تم اتنی بیوقوف کیسے ہو ماہا ہمارا رشتہ سالوں سے طے تھا مجھے اعتراض ہوتا میں ہاں کیوں کرتا پھر ” حنان نے اس کے جواب دینے کے بجائے خود سوال کیا تو وہ شرمندہ ہوئی، نظریں جھکا لیں۔
“نہیں۔۔۔اور شاید آ جاتا، مگر پلیز مجھ سے مزید یہ سوال نہ کریں۔ میں اس وقت بہت گناہگار تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔” ماہم روہانسی ہوئی۔
“اب کیا سوچا ہے۔۔شادی کرو گی مجھ سے؟” حنان سے اس بات کی توقع ماہم کو ہرگز نہ تھی، وہ حیران رہ گئی۔
“آپ بھول رہے ہیں، آپ کی زہراء آپی سے شادی ہے۔” ماہم نے خود کو نارمل کیا۔
“میں نے کل ساری رات ہر طرح سے یہ سوچا، جائے نماز پر بیٹھ کر سوچا، ہر بار مجھے یہی جواب ملا کہ کوئی تمہاری جگہ میری زندگی میں نہیں لے سکتا۔ زہراء بہت اچھی لڑکی ہے، مگر میں اس کے ساتھ انصاف نہیں کر پاؤں گا۔” حنان نے کہا تو ماہم دو قدم پیچھے ہوئی، اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
“حنان۔۔۔میں دوبارہ تائی جان کا دل نہیں دکھا سکتی، انہوں نے مجھے معاف کیا ہے، میں پھر سے کوئی تماشہ نہیں چاہتی۔” ماہم نے جیسے خود کو وجہ دی۔
“تو شادی تم نے مجھ سے کرنی ہے، تائی جان سے نہیں۔ اور تائی جان کو میں خود منا لوں گا۔” حنان بیزار ہوا۔
“میں۔۔میں جا رہی ہوں” ماہم جیسے ہی پلٹی، حنان نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے واپس اپنے سامنے لا کھڑا کیام
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے تم سے شادی کرنے کا، بے وفائی ایک بار کی ہے تو دوبارہ بھی کر سکتی ہو۔۔۔مجھے بس خود کی فکر ہے کیونکہ میں تمہیں سامنے دیکھ کر کسی اور کے ساتھ نہیں رہ سکتا، مجھ سے نہیں ہوگا یہ۔” حنان نے ایک ایک لفظ ٹھہر کر کہا۔ماہم نے غصے سے اسے دیکھا۔
“میں چلی جاؤں گی کہیں، تب آپ رہ لیں گے۔ میں خود یہاں سے چلی جاؤں گی۔” ماہم نے اسے گھورا۔
“میں تمہارا منہ توڑ دوں گا، شرافت سے کل جو بابا یا روحان پوچھیں اس کا جواب میرے حق میں دینا، یعنی کہ ہاں میں۔ سمجھی؟” حنان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا مگر جو بھی تھا ماہم سمجھنے سے قاصر تھی۔
“عجیب دھمکی ہے، ہٹیں ورنہ میں شور مچا دوں گی۔” ماہم نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
“شور مچاؤ۔۔۔” حنان نے کہا اور پیچھے ہوا۔
وہ جانے کے لیے آگے بڑھی مگر اس نے دوبارہ اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑا۔ وہ واپس اپنی جگہ آ کھڑی ہوئی۔
“ماہا، مجھے تم سے کوئی نفرت نہیں ہے، میری بات صرف اتنی ہے کہ مجھے تم سے اب بھی محبت ہے۔ میں نے ساری رات سب چیزیں رکھ کر دیکھیں، میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔ میں نے زہراء سے بات کی، اسے کوئی مسئلہ نہیں، اس نے خود کہا ہے کہ وہ ہمارے لیے دعا کرے گی بلکہ وہ امی سے خود بات کرے گی۔” حنان ایک پل کو رکا اور اس کے سامنے آ کھڑا ہوا، اس کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔
“پھر میں کیا کروں؟” ماہم نے اپنی دھڑکنیں قابو میں کیں، اسے ڈر تھا اگر کوئی آ گیا تو؟
“جو کل پوچھا جائے اس کا جواب ہاں میں دینا بس۔۔۔اب جاؤ، اس سے پہلے کہ کوئی دیکھ لے۔” حنان کے کہتے ہی ماہم فوراً نیچے کی جانب بھاگی، اس کا دوپٹہ ہوا میں لہرایا۔
“اب یہ محبت مجھے یہاں تک لے کر آ گئی کہ میں یہ سب کرنے پر اتر آیا۔۔۔اف عجیب مصیبت ہے، اللہ بس یہ بیوقوف لڑکی کل ہاں کر دے، آمین۔ اس نے تو میری نیندیں اڑا رکھی ہیں۔” حنان بڑبڑاتا ہوا خود بھی آگے بڑھا، چہرے پر سکون تھا۔
~♡
عروج کچن میں موجود تھی، وہ اسی کی طرف آ گیا۔ چولہے پر چائے کی پتیلی رکھ کر وہ دوسری طرف آملیٹ بنا رہی تھی۔
“آپ آج مسجد سے جلدی آ گئے؟” عروج نے حیرانی سے حنان کو دیکھا، جو آج واقعی بہت جلدی آ گیا تھا۔
“ہاں بس۔۔۔سر میں درد ہے۔” حنان نے جواب دیا اور آہستہ سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں جیسے ساری رات سویا نہ ہو۔
“خیریت؟۔۔چائے آپ کے لیے بھی بنا دوں؟” عروج نے فکرمندی سے پوچھا، اس نے اپنے بھائی کی بے چینی کو محسوس کر لیا تھا۔
“ہاں بنا دو۔” حنان نے جواب دیا اور میز پر رکھے اخبار کو الٹ پلٹ کرنے لگا، مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا۔
“کیا ہوا بھائی، آپ پریشان ہیں؟” عروج نے اسے ایک نظر دیکھا اور چائے کا کپ اس کے سامنے رکھ کر خود بھی بیٹھ گئی۔ حنان نے چائے کو دیکھا، پھر بہن کو۔ کتنی دیر خاموش رہا جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔
“میں نے زہراء سے بات کر لی ہے، وہ کہتی ہے اسے کوئی مسئلہ نہیں۔” حنان نے بغیر تمہید باندھے جواب دیا۔
عروج کے ہاتھ میں پکڑا چمچ رک گیا۔
“تو آپ ماہا سے شادی کرنے پر راضی ہیں؟” عروج نے آہستہ سے پوچھا، اس کی آواز میں خوشی تھی۔
“ہاں، میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے بہت کوشش کی عروج، سچ میں بہت کوشش کی اسے بھلانے کی، مگر نہیں ہوتا۔” حنان نے نفی میں سر ہلایا، اس کی آواز میں تھکن تھی۔
“آپ نے اسے معاف کر دیا؟” عروج نے اسے دیکھا جو تھکا تھکا سا تھا، بال اس کے بکھرے ہوئے تھے۔
“تم نے معاف کر دیا اسے؟” حنان نے الٹا اسی سے سوال کیا۔
“جی ہاں، کیونکہ میری دوست ہے وہ۔ اور کیونکہ اس نے سچے دل سے توبہ کی ہے۔” عروج نے فوراً جواب دیا۔
“تو میری وہ محبت ہے۔” حنان نے کہا تو عروج مسکرائی، اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
“چلیں پھر آج آپ اپنی محبت کا ذکر امی سے کریں گے نا؟” عروج نے شرارت سے “اپنی محبت” پر زور دیا۔
حنان بھی ہلکا سا مسکرا دیا، پہلی بار صبح سے۔
“ہاں، کروں گا۔ امی سے بھی اور بابا سے بھی۔ مگر تم سے بھی ایک بات کرنی تھی۔۔۔دیکھو جو ہو گیا سو ہو گیا، فضول میں وقت کو مزید نہ گھسیٹیں تو بہتر ہے.۔۔۔ہم چاروں کی زندگی کا سوال ہے۔” حنان نے چائے اٹھا کر لبوں سے لگائی۔
ہم چاروں؟” عروج نے نہ سمجھی سے دیکھا۔
“ہاں، میں، تم، ماہم اور۔۔ المیر۔ تم المیر کے لیے ہاں کر دو عروج۔” حنان نے چائے کا گھونٹ لے کر کہا۔ عروج کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔
“بھائی، یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟” وہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔
“وہی جو سچ ہے۔” حنان نے سکون سے کہا۔
“بھائی فلحال خود پر توجہ دیں۔۔۔ میں چلتی ہوں، انفال اٹھ گئی ہوگی۔” عروج نے بات بدلنی چاہی اور جلدی سے فیڈر اٹھا کر جانے لگی۔
“عروج۔” حنان نے پیچھے سے آواز دی۔ وہ رکی، مگر مڑی نہیں۔
“میں مذاق نہیں کر رہا۔ سوچ لینا۔ اگر میں ماہم کو دوسرا موقع دے سکتا ہوں تو تم کیوں نہیں حالانکہ المیر بے قصور ہے” حنان نے نرم لہجے میں کہا۔
عروج کچھ نہ بولی، بس تیزی سے کچن سے نکل گئی۔ اس کے جانے کے بعد حنان اپنے کپ کو دیکھنے لگا، چائے ٹھنڈی ہو رہی تھی مگر اس کے دل کو سکون ملا تھا۔ بعض دفعہ چیزیں دل میں رکھ کر ازیت دینے سے بہتر ہے کہ زبان پر لا کر سکون حاصل کر لیا جائے۔
~♡
دو ہفتے بعد ~

آج لان میں عجیب سی خاموشی تھی، وہ خاموشی جو طوفان سے پہلے نہیں، طوفان کے بعد والی ہوتی ہے جب سب کچھ سنور جاتا ہے۔ بچھڑے مل جاتے ہیں۔ خدا ہر خطا کو معاف دیتا ہے، سب کے دل سے شکوے گلے ختم ہو جاتے ہیں، محبتوں کو منزل مل جاتی ہے، اور کسی کو اپنا اللہ، اپنا مذہب، اور اپنے لوگ دوبارہ مل جاتے ہیں۔
لان میں سفید چادریں لگی تھیں، ایک طرف کرسیاں تھیں، اور بیچ میں سفید پردے تھے اور تھوڑی دور پر نکاح خواں کے لیے کرسی۔
اندر کمرے میں دو دلہنیں اور ایک چھوٹی سی گڑیا بیٹھی تھی۔
ماہم نے ہلکے گلابی رنگ کا جوڑا پہنا تھا، بیگم عروہ نے خود اس کے لیے لیا تھا۔ نہ زیادہ بھاری، نہ زیادہ سادہ۔ اس کے ہاتھوں پر مہندی تھی مگر دل اب بھی کانپ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ آج وہی دن ہے جس کے لیے اس نے تہجد میں اتنے آنسو بہائے تھے۔
عروج نے آف وائٹ جوڑا پہنا تھا۔ وہ بار بار اپنی چوڑیاں ٹھیک کر رہی تھی۔ انفال اس کی گود میں تھی، چھوٹے سے سفید فراک میں۔
“ماہم۔۔۔میرا دل بہت زور سے دھڑک رہا ہے۔” عروج نے سرگوشی کی۔
“میرا بھی۔” ماہم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“یاد ہے ہم بچپن میں کہتے تھے ہماری شادی ایک ہی دن ہوگی؟” عروج کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“اللہ نے سن لی۔” ماہم مسکرائی۔
“نکاح خواں آ گئے ہیں۔” باہر سے آواز آئی۔
تائی جان اندر آئیں، آنکھوں میں آنسو، ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ انہوں نے دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“میرے دونوں بیٹے خوش رہیں، میری دونوں بیٹیاں آباد رہیں۔” انہوں نے کہا اور ماہم کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
“مجھے معاف کر دینا بیٹا، میں نے تمہارے ساتھ برا رویہ رکھا تھا۔” بیگم عروہ نے ماہم کا ہاتھ تھاما۔
“تائی جان پلیز۔۔۔” ماہم رو پڑی۔
“بس بس، آج رونے کا دن نہیں، آج تمہارے والدین ہوتے تو کتنا خوش ہوتے” تائی جان نے خود اپنے آنسو پونچھے۔
“تو کیا ہوا آپ اور بابا تو ہیں نہ” عارفہ نے کہا۔
“ہاں کیوں نہیں، اچھا باہر لے کر آؤ تمہارے بابا بلا رہے ہیں۔” بیگم عروہ کہہ کر باہر نکلیں۔ عارفہ، حبیبہ، زہراء اور منال چاروں نے دونوں کے دوپٹے مزید نیچے کیے اور دونوں کے کندھے پر شال رکھی۔ انفال عتیقہ کے ساتھ پہلے ہی باہر جا چکی تھی۔ منال کل آئی تھی جبکہ زہراء آج صبح۔
~♡
باہر لان میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔ زیادہ لوگ نہیں تھے مگر اپنوں سے گھر بھرا ہوا تھا۔
ایک طرف حنان سفید کرتا پاجامہ میں بیٹھا تھا، چہرے پر وہی سنجیدگی مگر آنکھیں بار بار اندر والے دروازے پر تھیں۔ اس کے ساتھ ہی المیر بیٹھا تھا، نیلے کرتے میں۔ وہ تو خوش تھا ہی، مگر گھبراہٹ اس کے چہرے پر صاف نظر آ رہی تھی۔
بالآخر دلہنیں آ گئیں اور اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئیں۔ یاسر اور عروہ دونوں عروج اور ماہم کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ فرحان اور روحان بھی ماہم کے پاس تھے۔
نکاح خواں نے سب کو خاموش کرایا۔ بسم اللہ کیا، اور پہلے حنان اور ماہم کا نکاح ہوا۔ پھر المیر اور عروج کا۔
“اے اللہ، تو نے آج چار بچھڑے ہوئے دلوں کو ملا دیا۔ اے اللہ اس نکاح میں برکت دے۔ سب کی خطاؤں کو معاف فرما جیسے تو نے مجھے معاف کیا۔ اور سب کی محبت کو قیامت تک قائم رکھ۔” سب کی آنکھیں نم تھیں۔
~♡
نکاح کے بعد عروج اور ماہم دونوں دوبارہ کمرے میں آ گئیں۔ منال اور زہراء دونوں موجود تھیں۔
“یہ تم مجھے تھوڑی تھوڑی دیر میں دیکھ کیوں رہی ہو؟” زہراء نے آنکھیں چھوٹی کر کے ماہم کو دیکھا۔
“دیکھ رہی ہوں آپ کتنی ظرف والی ہیں۔” ماہم نے محبت سے کہا، اس کی آنکھوں میں شرمندگی اور احترام دونوں تھے۔
زہراء مسکرائی۔ وہ آج ہلکے آسمانی جوڑے میں تھی، نہ دلہن بنی تھی نہ اداس۔ اس نے آ کر ماہم کے برابر بیٹھ کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
“گڑیا اگر حنان سے شادی ہو جاتی مگر وہ تمہیں نہیں بھول پاتا تو میری آدھی زندگی تمہیں اس کے دل سے نکالنے میں لگ جاتی۔ بہتر تھا میں ابھی پیچھے ہٹ جاؤں۔ میری حنان سے صرف دوستی تھی، محبت نہیں۔ اور دوستی میں قربانی دی جاتی ہے، ضد نہیں۔” زہراء نے ایک ہی بار میں ماہم کے سارے سوالوں کا جواب دے دیا۔ ماہم کی آنکھیں بھر آئیں۔
“آپ کا بہت شکریہ۔” ماہم اس کے گلے لگ گئی۔
“نہیں پگلی، حق تو تمہارا تھا۔ میں تو بس بیچ میں آ گئی تھی۔ بس دعا کرو مجھے بھی میرے حصے کا شہزادہ مل جائے۔” زہراء بولی تو وہ تینوں مسکرائیں۔
آمین۔۔” تینوں نے بیک وقت کہا، وہ ہنس دی۔
ماہم کے ایک غلط قدم کی وجہ سے سب کچھ بکھرا تھا، تو اسی کی واپسی سے، اسی کی توبہ سے سب صحیح بھی ہوا تھا۔ وہ پانچ سال ایک برے خواب کی طرح تھے۔ اور بلا آخر سب اسے بھول گئے تھے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی، مگر یہ اداس خاموشی نہیں تھی۔ یہ شکر والی خاموشی تھی۔
~♡
سب کے لیے یہ روز کی طرح معمولی دن تھا مگر چار ایسے فرد تھے جن کے لیے یہ دن معجزہ تھا۔
حنان جس کی وجہ سے ان سب نے ایک دوسرے کو دوبارہ موقع دیا تھا۔ جس نے سب کو معاف کرنا سکھایا۔
ماہم جس نے سچے دل سے توبہ کر لی تھی اور اللہ کے بھروسے سب چھوڑ دیا تھا، اور پھر اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا نکلا۔
المیر جس نے ان پانچ سالوں میں صرف عروج کے خوش رہنے کی دعا کی تھی اور ساتھ کوشش بھی کی تھی۔
اور عروج جس نے ہار مان لی تھی کیونکہ اس نے المیر کو بغیر کسی غلطی کے دکھ دیا تھا۔
چاروں نے ڈھیروں ڈھیر شکر ادا کیا۔
تھوڑی دیر بعد ماہم کو حنان کے کمرے میں اوپر لے جایا گیا جبکہ عروج کو ماہم کے کمرے سے المیر کے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔
~♡
عروج کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ انفال عارفہ کے پاس تھی۔ کمرہ خالی تھا، عروج المیر کا انتظار کر رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ آیا نہیں تھا، وہ آیا تھا، اس سے باتیں بھی کیں، عشاء کی نماز بھی اس کے ساتھ ادا کی، پھر عروج نے منہ دکھائی کا کہا تو وہ اچانک سے باہر نکل گیا۔
تھوڑی دیر گزری تو المیر اندر آیا، اس کے ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے۔
“لو، تمہاری منہ دکھائی، تمہاری فیورٹ، بغیر چینی والی چائے۔” اس نے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔
“مجھے تم سے یہی سستی منہ دکھائی کی امید تھی۔” عروج نے منہ بناتے ہوئے کپ تھاما۔
“پہلے تو تم کہتی تھی کہ المیر تمہارے ہاتھ کی چائے مجھے دنیا کی تمام آسائشوں سے زیادہ عزیز ہے۔” المیر نے اسے یاد دلایا۔
“تمہیں یاد ہے؟” عروج نے حیرانی سے اسے دیکھا، یہ تو کتنے سالوں پرانی بات تھی، جب وہ کالج میں تھے۔
“مجھے تمہارے بارے میں سب یاد ہے۔ تمہیں چائے میں چینی پسند نہیں، تمہیں بارش میں چائے پینا پسند ہے، اور تمہیں جب غصہ آتا ہے تو تم بالوں کو پیچھے کرتی ہو، جیسے اب کر رہی ہو۔” المیر نے کہا۔
عروج نے جلدی سے ہاتھ نیچے کر لیا۔ المیر ہنسا۔
“اچھا ایک منٹ” المیر کہہ کر الماری کی طرف بڑھا۔ واپسی پر اس کے ہاتھ میں کچھ شاپر تھے۔ عروج نے شرمندگی سے اسے دیکھا۔ یہ وہی سب تھا جو اس نے چھت پر المیر کے قدموں میں اچھالا تھا۔ کچھ ڈبے ٹوٹ چکے تھے، کچھ ویسے ہی تھے۔
“سوری المیر۔۔۔” عروج نے وہ سب اس کے ہاتھ سے لے کر صوفے پر رکھا۔
“چھوڑو پرانی باتیں۔ میں نے بس اس لیے سنبھال کر رکھی تھیں کہ بعد میں تمہیں یہ نہ لگے کہ تمہارے بعد میں نے یہ سب اپنی گرل فرینڈ کو دے دیا۔” المیر نے معصوم شکل بنا کر کہا۔
عروج نے زور سے اس کے پیر پر اپنی سینڈل رکھ دی۔ وہ کراہ اٹھا۔
“آآآہ۔۔۔ظالم عورت”۔۔۔
“بکواس بعد میں کرنا پہلے منہ دکھائی دو!” عروج نے کہا اور اپنا پیر اٹھایا تو المیر نے شکر کا سانس لیا۔
“واقعی بہت خوار ہوا ہوں منہ دکھائی کے چکر میں۔ جیولری وغیرہ تمہیں پسند نہیں۔۔۔مگر میں نے لیا ہے تحفہ۔” المیر نے تھوک نگلا کیونکہ عروج اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔
“چلو لے کر آؤ۔” عروج نے حکم دیا تو اس نے دراز سے ایک لفافہ نکالا۔ عروج نے جب وہ ہاتھوں میں لیا تو اس نے حیرانی اور خوشی سے ملی جلی نظروں سے المیر کو دیکھا۔
“ہم واقعی عمرہ پر جائیں گے وہ بھی اگلے ہفتے؟” عروج نے تصدیق چاہی۔
“جی ہاں، ہمارے ساتھ حنان بھائی اور ماہم بھی آئیں گے۔” المیر نے کہا۔
“بہت شکریہ المیر” عروج خوشی سے اس کے گلے لگ گئی۔
“جزاکِ اللہ، مگر کس لیے؟” المیر نے کہا تو عروج نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“اس گفٹ کے لیے” عروج نے کہا۔
“نہیں یہ تو روحان بھائی نے گفٹ دیا ہے ہمیں۔” المیر کا اتنا کہنا تھا کہ عروج نے اسے دھکا دیا اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی۔
“المیر شکل گم کرو اپنی” عروج کا صبر اب جواب دے گیا تھا۔
المیر نے مسکرا کر ایک اور باکس اس کی طرف کیا۔ عروج نے تھاما، وہاں ایک خوبصورت اور سادہ سا ڈائمنڈ سیٹ تھا۔
“کتنا خوبصورت ہے۔۔۔واقعی یہ تمہارے پیسوں کا ہے؟” عروج نے ابرو اچکائی۔
“ہاں میرے حق حلال اور ذاتی پیسوں کا ہے” المیر نے فخر سے کہا۔
“شکریہ تمہارا۔” عروج نے مسکرا کر کہا۔
“عروج ‘آپ’ کہو مجھے اچھا لگے گا۔” المیر نے دانت نکالے۔
“اب بس بکواس مت کرو۔۔۔یہ پہناؤ۔” عروج نے جھٹکا تو وہ خاموشی سے اس کے حکم کی تعمیل کرنے لگا۔
المیر نے پہنایا۔ اور عروج کو آئینے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ عروج نے آئینے میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
“اچھا لگا؟” المیر نے شیشے میں عروج کو دیکھا۔
“بہت۔۔مگر عمرہ والا گفٹ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔” عروج بولی۔
ہاں یہ تو ہے” المیر نے ہامی بھری۔
“مجھے لگ رہا ہے یہ خواب ہے میں نے اپنی زندگی بس انفال کے ساتھ تصور کی تھی” عروج نم آنکھوں سے بولی
“اور میں نے ہمارے ساتھ انفال کو بھی تصور کیا تھا کیونکہ مجھے اللہ پر بھروسہ تھا وہ میری دعائیں رد نہیں کر سکتا تھا” المیر نے اس کے کندھے پر سر ٹکایا۔
~♡
حنان کا کمرہ آج بھی ویسا ہی تھا جیسا سالوں پہلے تھا حنان ہی کی طرح سنجیدہ۔ چیزیں سلیقے سے رکھی ہوئی تھی، ماہم حنان کی اس عادت سے بچپن سے واقف تھی۔
دروازہ کھلا۔ حنان اندر آیا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔
“ماہم۔” حنان نے پکارا۔
“جی” ماہم نے جواب دیا۔
“مجھے لگا تم یہاں بیڈ پر بیٹھی ہوگی” حنان نے صدمے سے کہا۔ ماہم نے شرمندگی سے اسے دیکھا۔
“میں بس ٹہل رہی تھی۔۔۔میں ابھی بیٹھ جاتی ہوں” ماہم فوراً بیڈ پر جا کر بیٹھی۔
“ہاں۔۔شکریہ” حنان نے اسے دیکھا جو پیروں کو نیچے کیے بیڈ پر بیٹھ کر اسے دیکھ رہی تھی۔
حنان آگے بڑھا اور خود بھی بیٹھا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ تو اس نے نظریں نیچی کی۔
“ماہا۔۔۔” حنان نے دوبارہ پکارا۔
“جی” ماہم نے جواب دیا۔
“مت شرمانے کی اداکاری کرو قسم سے بہت بری لگ رہی ہو” حنان کی کہتے ہی ماہم نے اسے گھورا، جو ہنسنے میں مصروف تھا۔
“اچھا سوری” حنان نے مسکراہٹ ضبط کی۔
“آپ نے مجھے معاف کر دیا نہ؟۔۔۔سچے دل سے” وہ نظریں جھکائے ہوئے بولی۔
“میں نے تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا جس دن تم گئی تھیں۔ میں تم سے ناراض تھا، تمہاری خطا سے نہیں۔ پھر عروج کے بتانے پر مجھے اندازہ ہوا غلطی میری ہے۔ میں نے سوچا تم خوش رہو گی اس کے ساتھ مگر اس دوران مجھے احساس ہوا میں خوش نہیں رہ سکتا۔ اور جب تم آئی تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں مزید بیوقوفی نہ کروں” حنان نے نرمی سے بات مکمل کی۔
دونوں نے نماز پڑھی، ماہم نے اللہ رب العالمین کا شکریہ کیا جس نے اسے اپنی غلطیوں کے بعد بھی اسے اس کی خوشی دی۔ نماز کے فارغ ہو کر ماہم حنان کو دیکھنے لگی جو دعا مانگتے ہوئے دلکش لگ رہا تھا۔
“کیا ہوا” حنان نے دعا ختم کی تو اس نے دیکھا ماہم اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ کا شکریہ” ماہم نے مسکرا کر اس کے مضبوط کندھے پر سر رکھا۔ اسے اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا۔
سامنے میز پر اس کی منہ دکھائی کا تحفہ تھا۔ عمرہ پر جانے کی خوشی، اور گلے میں خوبصورت سی حنان کی نام کی لاکیٹ اسے مزید سکون دے رہی تھی۔
~♡
مکہ : مسجد الحرام کے سامنے ~

حرم کی روشنیاں دور سے نظر آ رہی تھیں۔ سفید روشنیوں میں حرم کسی اور ہی دنیا کا لگ رہا تھا۔ جیسے ہی پہلی بار کعبہ نظر آیا، چاروں رک گئے۔ قدم جیسے زمین میں جم گئے۔ زبان خاموش ہو گئی۔
ماہم کی آنکھیں سب سے پہلے بھیگی تھیں۔ وہ ہاتھ میں تسبیح پکڑے بس تکتی رہی۔ اسے لگا جیسے اللہ نے اس کی ساری تہجدیں، سارے سجدے آج قبول کر لیے ہوں۔
المیر اس کے پیچھے کھڑا رو رہا تھا۔ پانچ سال کی ساری دعائیں، ساری راتیں، سارا انتظار اس ایک منظر میں پورا ہو گیا تھا۔ وہ مرد جو کبھی کسی کے سامنے نہیں رویا تھا، آج اس کے آنسو رک نہیں رہے تھے۔
عروج نے کعبہ کو دیکھا تو اس کے قدم وہیں جم گئے۔ اس نے بے اختیار المیر کا بازو پکڑ لیا۔
تھوڑی دیر اسی کیفیت میں گزری۔ نہ کوئی دعا، نہ کوئی بات۔ صرف آنسو اور شکر۔ پھر طواف شروع ہوا۔
بھیڑ بہت تھی، مگر چاروں ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔ حنان نے ماہم کو اپنے حصار میں رکھا ہوا تھا، المیر نے عروج اور انفال کو۔
سات چکر، سات دعائیں، سات بار اللہ سے معافی۔
سات چکر پورے ہوئے تو چاروں مطاف میں ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ انفال اب جاگ گئی تھی اور حیرانی سے کعبہ کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے ننھی انگلی سے اشارہ کیا۔ تو ماہم نے اسے اپنی گود میں لیا۔
عروج نے ماہم کو دیکھا، دونوں گلے لگ کر رونے لگیں۔
“عروج، اللہ نے ہماری ایک ساتھ شادی والی دعا کی طرح یہ دعا بھی سن لی۔” ماہم روتے ہوئے بولی۔
“اور آئندہ بھی سنے گا۔” عروج نے اس کے آنسو پونچھے۔
ماہم نے بہت غور سے کعبہ کو دیکھا اور محسوس کیا جو غلطی اس سے ہوئی تھی اس کی توبہ قبول ہونے کی سب سے بڑی نشانی یہی تو تھی۔ اس کا گناہ بہت بڑا تھا شرک کیا تھا اس نے اللہ کے ساتھ مگر بعد میں بے چین ہوئی اسے احساس ہوا کہ پرایا مزہب وہ سکون نہیں دے سکے گا اسے جو اپنے مزہب میں اسے میسر ہوتا۔ اس نے روتے ہوئے حنان کو دیکھا پھر کعبہ کو اور شکر کیا۔
چاروں نے وہیں شکرانے کے دو نفل پڑھے۔ وہ نفل جو پانچ سال کے صبر، توبہ، اور معجزے کے شکرانے کے تھے۔
ان چاروں کو دعاؤں سے زیادہ شکر کرنا تھا اور سب نے اپنے حصے کا شکر ادا کیا۔ آگے ایک بہترین اور خوبصورت زندگی ان سب کے انتظار میں تھی۔
~♡
مصنفہ کا پیغام :

یہ کہانی جو آج سے شاید پانچ سال پہلے میں نے لکھنی شروع کی تھی، مگر ادھوری رہ گئی تھی اور میری منتظر تھی۔ اسی سال میں نے اس کو مکمل کیا اور آپ سب کی نظر کیا۔
میرا پیغام بالکل صاف ہے کہ جو سکون ہمیں اللہ کی ذات سے ملتا ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہے، بیشک وہ مذہب غیر مسلم کا ہو یا عیسائی، یہودی وغیرہ کسی کا بھی۔ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
اور ہاں میری ان لوگوں سے بھی گزارش ہے جو غیر مسلموں کے تہواروں جیسے راکھی، دیوالی وغیرہ میں یہ کہہ کر ساتھ دیتے ہیں کہ “ایسا کچھ نہیں ہے ہم تو بس دوستی نبھاتے ہیں” تو خدارا آپ سن لیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے صاف صاف کہا ہے کہ جس نے ان کے ساتھ ان کے کاموں میں شرکت کی وہ ان ہی میں سے ہے۔ آپ اس بات کی تصدیق بہ خوبی کر سکتے ہے۔
کچھ دن بعد پھر ملیں گے ایک اور نئی کہانی کے ساتھ۔ آپ سب کا شکریہ، اللہ آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے۔

جزاک اللہ خیراً کثیرا
ختم شد

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *