SAAT RANG E HAYAT BY HIFZA MIRZA EPISODE 12.


سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرز
قسط نمبر 12
فاروق صاحب اپنے بیٹے پر غصے سے چیخ رہے تھے۔

“کیا ضرورت تھی تمہیں یہ سب کرنے کی؟ کیا تمہیں کسی لڑکی کی کمی تھی جو تم ایک ہی لڑکی کے پیچھے پڑ گئے تھے؟ اور اگر پڑ ہی گئے تھے تو اسے چھوڑ دیتے!”

حمزہ سر جھکائے ان کے سامنے کھڑا تھا۔ چند لمحوں بعد دھیمی آواز میں بولا:

“سوری پاپا… مجھے کیا پتا تھا کہ وہ مر جائے گی۔”

فاروق صاحب نے غصے سے اسے گھورا۔

“تمہیں پتا نہیں تھا؟ تم لوگوں کو اندازہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا ہے؟ اب میں پولیس والوں کو کیا جواب دوں گا؟ پریس والوں کو کیا کہوں گا؟ الیکشن آنے والے ہیں اور تم یہ سب کر رہے ہو!”

حمزہ پریشانی سے بولا:

“پاپا پلیز… اس دفعہ مجھے بچا لیں۔ نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا۔”

“ہر بار تم یہی کہتے ہو! ہر بار میں تمہیں بچاتا ہوں، لیکن اس بار تم نے حد ہی کر دی ہے!”

فاروق صاحب کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔

ان کی بیوی کافی دیر سے پیچھے کھڑی اپنے بیٹے کو ڈانٹتا ہوا دیکھ رہی تھیں۔ آخرکار وہ بھی بول پڑیں۔۔۔اب بس بھی کریں۔۔

“یہ تمہاری ہی غلطی ہے۔ تم نے ہی اسے سر چڑھا رکھا ہے۔ اب پولیس اسے پکڑنے آ رہی ہے،۔۔۔
فاروق صاحب کی بیگم بولیں،
“آپ کو تو بس موقع چاہیے ڈانٹنے کا۔ مجھے نہیں پتا، میں نے اپنا بیٹا پولیس کے حوالے نہیں کرنا۔ جو بھی کریں، جیسے بھی کریں،۔۔
فاروق صاحب نے سے ایک گہری سانس لی۔

“اب بس دعا کرو کہ اس کا ڈی این اے اس لڑکی سے میچ نہ کرے۔ اگر میچ ہو گیا تو بہت کچھ ہمارے خلاف جا سکتا ہے۔ مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔”

اسی لمحے باہر سے گاڑیوں کے رکنے کی آواز آئی۔
ان کے نوکر نے آ کر بتایا کہ باہر پولیس والے آئے ہیں، جس پر فاروق صاحب نے سنجیدگی سے کہا،
“ٹھیک ہے۔”

یہ کہتے ہوئے وہ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر باہر جانے لگے تو ان کی بیگم نے پریشانی سے پوچھا،
“آپ میرے بیٹے کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟”

فاروق صاحب نے سخت لہجے میں کہا،
“تم چپ رہو۔ میں جیسا کہتا ہوں، ویسا ہی ہوگا۔ خبردار، جو کسی نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو۔”

ان کی بیگم فوراً خاموش ہو گئیں، جبکہ ان کا بیٹا بھی خاموشی سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ آخر اس کا باپ کیا کرنے والا ہے۔
فاروق صاحب کی نظریں فوراً دروازے کی طرف اٹھیں۔

چند لمحوں بعد کاشف صاحب باہر نکلے۔ پولیس افسر ان کے سامنے کھڑا تھا۔

کاشف صاحب نے رسمی انداز میں پوچھا۔۔

“کیسے آنا ہوا؟”

افسر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔

“آپ کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔ ہم انہیں تفتیش کے لیے ساتھ لے جانے آئے ہیں۔ ایک لڑکی کے کیس میں ان کا نام سامنے آیا ہے۔”

فاروق صاحب نے فوراً پوچھا۔۔۔

“کیا کوئی ثبوت ہے؟”

“فی الحال کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے۔ لیکن ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا۔ اگر ڈی این اے میچ کر گیا تو معاملہ کافی سنگین ہو جائے گا، اور اگر میچ نہ ہوا تو پھر تفتیش دوسرے رخ پر جائے گی۔”

فاروق صاحب خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔

پولیس افسر نے آس پاس نظر دوڑائی، پھر قدرے فاصلے پر جا کر فاروق صاحب سے دھیمی آواز میں بات کرنے لگا۔

“آپ فکر نہ کریں، میں اپنی طرف سے معاملہ دیکھ رہا ہوں۔”

فاروق صاحب نے پولیس افسر کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا،
“ٹھیک ہے، تم اپنا کام کرو، تمہیں تمہارا انعام مل جائے گا۔ اور ہاں، میرے بیٹے کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی ہے، سارا کیس اسی پر ڈال دو۔”

پولیس افسر نے فوراً سر ہلاتے ہوئے کہا،
“ٹھیک ہے، آپ بے فکر رہیں۔”

“تم یہاں سے سنبھالو، آگے کا کام میں دیکھ رہا ہوں۔”

افسر نے سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے۔ لیکن ابھی میڈیا بھی ساتھ ہے، اس لیے فی الحال آپ کو اپنا بیٹا ہمارے ساتھ بھیجنا پڑے گا۔”

فاروق صاحب نے کچھ کہے بغیر حمزہ کی طرف دیکھا۔

پولیس حمزہ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں سے روانہ ہو گئی۔

گاڑی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی فاروق صاحب نے فوراً اپنا فون نکالا اور کسی کو کال ملائی۔

“جو کام کہا ہے، وہ جلدی کرو۔ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کے اندر مجھے نتیجہ چاہیے۔”

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا ۔۔۔۔

“مجھے کسی بہانے کی ضرورت نہیں۔ بس کام ہونا چاہیے۔”

یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔

ان کی بیوی بے چینی سے ان کے قریب آئیں۔

“کیا بنا؟”

فاروق صاحب نے غصے سے بھری نظروں کے ساتھ سامنے دیکھا۔

“تم صبر کرو۔ کام ہونے میں وقت تو لگتا ہے۔”

وہ یہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے، مگر ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ اس بار معاملہ ان کے اندازے سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکا تھا۔۔۔۔

++++++++++++++++++++++++
پری تیار ہونے کے بعد آفس آ گئی تھی۔ ہنی کو گھر پر ریسٹ کرنے کو کہا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اسی لیے اسے گھر میں رہنے اور باہر نہ جانے کو کہا ۔۔۔
، مگر آج پری کی آئی سی کمپنی کے ساتھ ایک اہم میٹنگ تھی۔

ٹریفک کی وجہ سے اسے پہنچنے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔ جب وہ میٹنگ ہال میں داخل ہوئی تو وہاں سب پہلے ہی موجود تھے۔ شاہ کمپنی کا اونر بھی وہاں موجود تھا۔۔۔۔
چند لمحوں کے لیے وہاں موجود تمام لوگوں کی نظریں اسی پر جم گئیں۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی تھی،۔۔پری آج بھی بلیک کلر کے عبایا میں تھی، البتہ آج اس نے کوٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔
قدم پُراعتماد اور انداز ایسا کہ اسے دیکھ کر کسی کے لیے بھی اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔

وہ خاموشی سے اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گئی۔ اس کی موجودگی ہی کافی تھی کہ ہال میں موجود لوگوں کی آوازیں مدھم پڑ گئیں۔

شاہ کمپنی کا اونر بھی اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار پری کو اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا، جبکہ آئی سی کمپنی کے مالک کا بیٹا زین کی نظر بھی پری پر تھی۔

میٹنگ کا آغاز ہوا تو کچھ ہی دیر بعد ایک کانٹریکٹ پری کے سامنے رکھا گیا۔

پری نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر اس کی نظریں اچانک رک گئیں۔

“یہ کیا ہے؟”

اس کی آواز میں ایسی سختی تھی کہ سامنے بیٹھے شخص نے فوراً اپنی نشست درست کی۔

،
کنٹریکٹ میں درج ہے کے میں اپنا بلیو پروجیکٹ آپ کو سیل کروں گی ۔۔۔۔
پری نے فائل پر انگلی رکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی اور لہجے میں ایسا رعب تھا کہ الفاظ بھی دوٹوک انداز میں ادا ہوئے۔

’’میں اپنا پروجیکٹ آپ کو کیوں سیل کروں گی؟‘‘ اس نے سخت لہجے میں سوال کیا۔
“اس کے لہجے میں اب صاف ناراضی جھلک رہی تھی۔

زین نے قدرے سنبھل کر کہا،۔۔۔
“ہم دراصل آپ کے بلیو پروجیکٹ کو آئی جی اور شاہ کمپنی کے گراف کے ساتھ ملا کر ایک مشترکہ پروجیکٹ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے—”

“اسی لیے آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر کنٹریکٹ میں یہ سب لکھ دیا؟”

پری کی آواز پہلے سے زیادہ سخت ہو چکی تھی۔

ہال میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔

شاہ کمپنی کا اونر خاموشی سے پری کو دیکھ رہا تھا، جبکہ زین بھی پہلی بار اس کے غصے کو اتنے قریب سے محسوس کر رہا تھا۔
“میرا پروجیکٹ میری اجازت کے بغیر کسی معاہدے کا حصہ نہیں بن سکتا۔”
میٹنگ ہال میں آئی سی کمپنی کا اونر اور چند شیئر ہولڈرز بھی موجود تھے۔ پری کی بات سن کر آئی سی کمپنی کے اونر نے قدرے نرمی سے کہا،
“آپ ایک بار سوچیں تو سہی، اس میں آپ ہی کا فائدہ ہے۔ آپ بھی تو… آپ کی کمپنی کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے، آپ کے لیے یہ—”

وہ اپنی بات مکمل بھی نہ کر پائے تھے کہ پری نے فوراً سوال کیا،
“آپ کو کس نے کہا کہ میری کمپنی کے حالات خراب ہیں؟”

اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ سامنے بیٹھے لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
پری نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا،

“میرے حالات اتنے بھی خراب نہیں کہ میں اپنی ہی چیزیں، اپنی محنت بیچنا شروع کر دوں۔”
“میں آج بھی آپ جیسی تمام کمپنیوں کو ٹکر دے سکتی ہوں۔”
اس کے لہجے میں اتنا اعتماد تھا کہ چند لمحوں کے لیے سب خاموش ہو گئے۔ عرشمان بھی بے اختیار اسے دیکھنے لگا۔ اس کی نظریں پری کے پُراعتماد چہرے پر ٹھہر گئی تھیں

پری نے فوراً اپنے سامنے رکھی فائل ایک طرف رکھتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

“میں اپنا پروجیکٹ سیل نہیں کروں گی۔ اگر آپ کو کچھ اور کہنا ہے تو بتائیں، ورنہ میں یہاں سے جا سکتی ہوں۔ آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں۔”
آئی سی کمپنی کے اونر نے پری کی بات سنی تو چند لمحے اسے دیکھتے رہے، پھر قدرے تنبیہہ بھرے لہجے میں بولے،

“اگر آپ اسی انداز میں بات کرتی رہیں گی تو آخرکار نقصان آپ ہی کا ہوگا۔”

پری نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے نیازی سے کہا،

“منظور ہے۔”
پری نے نظریں اس پر جمائے رکھیں اور دوٹوک انداز میں کہا،

“لیکن اپنا پروجیکٹ میں کسی صورت سیل نہیں کروں گی۔”

میٹنگ ہال میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔

وہ سب حیرت سے پری کو دیکھنے لگے۔ انہیں شاید توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے پروجیکٹ سے دستبردار ہونے کی بات کر دے گی۔

۔۔جبکہ زین بھی اس کی بات سن کر پریشان ہو گیا وہ کسی قیمت پر اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا اس نے اپنے باپ کو بہت مشکل سے منایا تھا۔۔۔
زین نے پری کی طرف دیکھا، جبکہ شاہ کمپنی کا اونر اب تک خاموش بیٹھا ہوا پوری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔
وہ سب یہی سمجھ کر بیٹھے تھے کہ شاید پری کو قابو کرنا آسان ہوگا، جبکہ شاہ کمپنی کے اونر عرشمان شاہ کو راضی کرنا مشکل ہوگا۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا تھا۔ مشکل تو پری تھی، جس کے سامنے ان کی کوئی چال کام نہیں آ رہی تھی۔

عرشمان شاہ ابھی تک خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اب تک ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا، مگر جیسے ہی سب اپنی اپنی باتوں میں الجھے، اس نے ایک گہری سانس لی اور پُرسکون لہجے میں کہا،
“میں بھی اپنا پروجیکٹ نہیں دوں گا۔”

اس کی بات پر سب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

پری نے بھی ایک نظر اٹھا کر عرشمان کو دیکھا۔۔دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔پری نے فوراً اپنی نظریں چرا لیں اور ٹیبل پر رکھے اپنے فون اور گاڑی کی چابی پر جما لیں۔۔۔ اس کے سامنے زین بیٹھا ہوا تھا، آئی سی کمپنی کے اونر کا بیٹا، جو خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد آئی سی کمپنی کے اونر نے کہا،
“ٹھیک ہے، ہمیں اس بارے میں سوچنے کا کچھ وقت دیں۔ ہم دو دن کے اندر آپ دونوں کو بتا دیں گے۔”

اسی دوران زین نے کہا،
“ہم ایک کام کر سکتے ہیں۔”

سب کی نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ گئیں۔

زین نے بات جاری رکھی،
“ہم ایک نیا پروجیکٹ بنا سکتے ہیں، جس پر دونوں کمپنیاں مل کر کام کریں۔ اس طرح نہ مس پری کو اپنا پروجیکٹ سیل کرنا پڑے گا اور نہ شاہ کمپنی کو اپنا پروجیکٹ دینا ہوگا۔ میرے خیال میں یہ زیادہ بہتر رہے گا۔”

پری نے چند لمحے سوچا، پھر پُرسکون لہجے میں کہا،
“ٹھیک ہے، میں اس بارے میں سوچ سکتی ہوں ۔۔۔۔ اگر ایسا ممکن ہے تو میں اس پروجیکٹ کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔
، لیکن ایک بات واضح ہے… میں اپنا پروجیکٹ سیل نہیں کروں گی، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔

ایک بار پھر سب خاموش ہو گئے۔

وہ سب ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد اب عرشمان شاہ کی طرف دیکھنے لگے۔

عرشمان شاہ نے بھی کچھ لمحے سوچا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔ نیا پروجیکٹ بنانا زیادہ بہتر رہے گا۔”

اس کی بات پر باقی سب بھی متفق ہو گئے۔

“ٹھیک ہے، پھر دو دن بعد دوبارہ میٹنگ ہوگی اور نئے پروجیکٹ کا کنٹریکٹ تیار کیا جائے گا۔”

سب نے اتفاق کیا، اور کچھ ہی دیر بعد میٹنگ ختم ہوگئی۔ ایک ایک کر کے سب لوگ میٹنگ ہال سے باہر نکلنے لگے۔۔۔۔۔
پری میٹنگ ہال سے باہر نکلی تو زین بھی فوراً اس کے پیچھے آ گیا۔

“مس پری!”

پری نے قدم روکے بغیر صرف ایک نظر پیچھے ڈال کر اسے دیکھا، پھر دوبارہ آگے بڑھنے لگی۔

زین نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا،
“ویسے ایک بات کہوں؟”

پری خاموش رہی۔

“میں نے آپ کو پہلی دفعہ اتنا غصے میں دیکھا ہے۔”

پری رک گئی اور آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔

“تو؟”

زین اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر مسکرایا۔
“تو کچھ نہیں… بس یہ کہنا تھا کہ غصے میں بھی آپ کافی اچھی لگتی ہیں۔”

پری کی پیشانی پر ناگواری کی ہلکی سی شکن نمودار ہوئی۔

“آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں۔”

زین نے فوراً کہا،
“اچھا، وقت ضائع نہیں کرتا۔ بس ایک بات اور… آپ ہمیشہ اتنی سیریس رہتی ہیں یا آج ہماری کمپنی کی وجہ سے خاص طور پر ناراض ہیں؟”

پری نے سرد نظروں سے اسے دیکھا۔

“آپ کو ہر بات مذاق لگتی ہے؟”

زین کی مسکراہٹ ذرا مدھم ہوئی، مگر وہ پھر بھی ہمت نہیں ہارا۔

“نہیں، بس آپ کو ناراض دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کو مسکرانے کی ضرورت ہے،
پری نے زین کی بات سنی اور سنجیدہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا،
“ہو گیا؟”

زین نے ہلکا سا سر ہلا دیا۔۔۔”جی،

پری بغیر کسی مزید جواب کے آگے بڑھ گئی۔جبکہ زین وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔۔

دور کھڑا عرشمان خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ نہ جانے کیوں اسے زین کا اس طرح پری سے بات کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔ اسے خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر کیوں۔

وہ چند لمحے پری کو جاتا ہوا دیکھتا رہا، پھر اپنی نظریں ہٹا لیں۔۔۔
+++++++++++++
زین سے بات ختم کرنے کے بعد پری ہال سے گزرتی ہوئی آفس سے باہر نکلی۔ وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک سامنے کھڑی ایک بلیک مرسڈیز پر اس کی نظر پڑی۔

وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر فوراً نمبر پلیٹ پر جا ٹھہری۔

پری کے قدم وہیں رک گئے۔

نمبر پلیٹ دیکھتے ہی اسے فوراً وہی گاڑی یاد آ گئی جس نے رومی کو ٹکر ماری تھی۔

اس نے چند لمحوں تک گاڑی کو خاموشی سے دیکھا، پھر قریب کھڑے گارڈ سے پوچھا،

“یہ گاڑی کس کی ہے؟”

“عرشمان شاہ سر کی۔”

گارڈ کا جواب سنتے ہی پری کی نظریں ایک بار پھر گاڑی پر جا ٹھہریں۔

وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے بجائے وہیں رک گئی۔

اسے عرشمان سے بات کرنی تھی۔

کچھ ہی دیر بعد دروازہ کھلا اور عرشمان باہر آیا۔

پری کی نظریں فوراً اس پر اٹھیں۔

عرشمان نے بھی اسے وہاں کھڑا دیکھا تو چند لمحوں کے لیے رک گیا۔

پری نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔

“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”مسٹر عرشمان شاہ

عرشمان نے حیرت سے اسے دیکھا اور ایک بھنویں اٹھاتے ہوئے جیسے پوچھا ہو، “جی، فرمائیے؟”
پری نے عرشمان کے قریب آتے ہی اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر اس کی نظر ایک بار پھر پیچھے کھڑی بلیک مرسڈیز پر جا ٹھہری۔

“مجھے نہیں معلوم تھا کہ بزنس کرنے کے ساتھ ساتھ آپ لوگ لوگوں کو ٹکر مار کر راستہ بدل لینا بھی جانتے ہیں۔”

عرشمان نے اس کی بات پر حیرت سے ایک بھنویں اٹھائیں۔

“جی؟”

پری نے گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔

“تقریباً تین دن پہلے اسی گاڑی سے ایک لڑکی کو ٹکر لگی تھی۔”

عرشمان کے چہرے پر اچانک حیرت ابھری۔

“کیا؟”

“آپ کو یاد نہیں؟”

“نہیں۔”

اس کا جواب اتنا سادہ تھا کہ پری چند لمحوں کے لیے اسے دیکھتی رہ گئی۔

“عجیب ہے۔۔۔” وہ آہستہ سے بولی، “آپ کی گاڑی سے کسی کو ٹکر بھی لگی اور آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں کس واقعے کی بات کر رہی ہوں۔”

عرشمان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

“میں واقعی نہیں جانتا آپ کس بارے میں بات کر رہی ہیں۔”

پری کی نظریں چند لمحوں کے لیے اس کے چہرے پر ٹھہری رہیں۔ وہ جیسے اس کے لہجے سے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ سچ بول رہا ہے یا بات ٹال رہا ہے۔

مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتی، اس کا فون بج اٹھا۔

پری نے فوراً فون اٹھایا۔

دوسری طرف سے آنے والی بات سنتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔

“میں ابھی آتی ہوں۔”

وہ فون بند کر کے عرشمان کی طرف پلٹی۔

ایک لمحے کے لیے اسے غصے سے دیکھا، جیسے اس سے ہونے والی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔تو ایک لمحے کے لیے عرشمان کی نظریں اس کی نظروں سے جا ملیں۔

دونوں چند لمحوں تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

نہ پری کی آنکھوں میں وہ سختی رہی، نہ عرشمان کے چہرے پر پہلے والی حیرت۔

بس ایک عجیب سی خاموشی تھی۔۔۔ جیسے دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے کوئی ایسی بات کہہ رہی ہوں جسے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھے۔

پری نے سب سے پہلے نظریں چرا لیں۔

عرشمان کی نگاہیں چند لمحے مزید اس کے چہرے پر ٹھہری رہیں، پھر وہ بھی جیسے اچانک اپنی سوچ سے باہر آیا۔

دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس مختصر سے لمحے میں آخر ایسا کیا تھا جس نے انہیں چند لمحوں کے لیے خاموش کر دیا تھا۔

پری نے خود کو سنبھالا اور پھر بنا کچھ کہے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی، دروازہ کھولا اور اگلے ہی لمحے گاڑی وہاں سے روانہ کر دی۔
عرشمان خاموش کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
۔۔۔ اور پہلی بار اسے خود بھی سمجھ نہیں آیا کہ اس کی نظریں اس کا پیچھا کیوں کر رہی تھیں۔

پھر وہ بھی جیسے اچانک اپنی سوچ کو جھٹلایا۔۔
آخر وہ کس حادثے کی بات کر رہی تھی؟۔۔
اس کے چہرے پر اب بھی حیرت نمایاں تھی۔
وہ زیرِلب بڑبڑایا۔۔۔۔۔
پری کے جاتے ہی عرشمان فوراً اپنی گاڑی میں جا بیٹھا۔

اس نے گاڑی کا کیمرا آن کیا اور تین دن پہلے کی ریکارڈنگ نکلوائی۔

چند لمحوں بعد اس کی نظریں اسکرین پر جم گئیں۔

ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس کا ڈرائیور جب عرشیان کو ہسپتال چھوڑنے جا رہا تھا، تب راستے میں اس کی گاڑی ایک لڑکی سے ٹکرا گئی۔

عرشمان کی آنکھوں میں فوراً غصہ اتر آیا۔
اس نے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا ۔۔

۔۔۔ ڈرائیور نے اس سے یہ بات چھپائی کیسے؟
اس نے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مضبوطی سے جمایا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑنے لگی، جبکہ عرشمان کی آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
اس وقت اسے سب سے زیادہ غصہ اپنے ڈرائیور پر تھا، جس نے اس سے یہ بات چھپائی تھی۔ عرشمان کو جھوٹ اور باتیں چھپانے سے سخت نفرت تھی۔ اب وہ کسی کی کوئی وضاحت سننے کے موڈ میں نہیں تھا، بس اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ اسے اپنے ڈرائیور سے اس کا جواب لینا ہے۔
++++++++++++++++++++++++++++
افی میر خان کو اسکول ڈراپ کرنے کے لیے لے جا رہی تھی۔ راستے میں سگنل آیا تو اس نے گاڑی روک دی۔ میر خان آرام سے چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھا۔

افی نے ٹشو باکس سے ایک ٹشو نکالا اور اس کے منہ پر لگی چاکلیٹ صاف کرتے ہوئے اسے گھورا۔

“آپ بہت چاکلیٹ کھانے لگ گئے ہو۔۔ کل سے آپ کی چاکلیٹ بند۔”

میر خان نے فوراً معصومیت سے اسے دیکھا۔

“نہیں! میں میٹھا نہیں کھاؤں گا تو پھر میں جلدی بڑا کیسے ہوں گا؟”

افی ہنس پڑی۔

“کس نے کہا میٹھا کھانے سے انسان جلدی بڑا ہوتا ہے؟ آپ کے دانت خراب ہو جائیں گے، پھر جب دانت ہی نہیں ہوں گے تو آپ کھاؤ گے کیسے؟”
“ہنی آپی بھی تو ہر وقت چاکلیٹ کھاتی رہتی ہیں۔” اس نے معصومیت سے کہا۔

“وہ بڑی ہیں اور اپنے دانت روز برش کرتی ہیں۔ کھانے کے بعد آپ برش کرتے ہو؟” اِفّی نے اسے سمجھاتے ہوئے پوچھا، جس پر وہ معصومیت سے سر ہلا کر “نہیں” کہنے لگا۔
“اور اگر میں بھی روز برش کروں گا تو کیا مجھے روز چاکلیٹ ملے گی؟” میر خان نے معصومیت سے پوچھا۔

اِفّی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا، “نہیں، آپ کے دانت ابھی چھوٹے ہیں۔ زیادہ چاکلیٹ کھاؤ گے تو آپ کے دانت خراب ہو جائیں گے۔ جب آپ بڑے ہو جاؤ گے، تب چاکلیٹ کھا لینا، ابھی نہیں۔”
میر خان نے چند لمحے سوچا، پھر فوراً سر ہلا دیا۔

“اوکے۔۔۔۔

افی نے پیار سے اس کے دونوں گال کھینچے اور پھر ایک گال پر بوسہ دیتے ہوئے مسکرا دی۔
سگنل کھلا تھا، اس نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اچانک اسے کچھ یاد آیا تو اس نے پوچھا۔۔۔

“اچھا، آپ کی وہ فرینڈ کیسی ہے؟”

میر خان نے فوراً حیرت سے اسے دیکھا۔

“کون سی فرینڈ؟”

افی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

“وہی چھوٹی سی، جو اُس دن مجھے ملی تھی۔”

میر خان کو یاد آیا تو اس نے گال پر انگلی رکھتے ہوئے بڑے ہی معصومیت سے کہا۔۔

“ہاں، وہ والی!”

پھر منہ بنا کر بولا”وہ مجھے بالکل پسند نہیں ہے۔ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں اُس کا؟”

افی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“کیوں؟ آپ کو کیوں نہیں پسند؟ اتنی کیوٹ سی تو ہے۔”

میر خان نے فوراً اپنی رائے پیش کی۔

“ایک تو اس کی ناک بہت بہتی ہے۔ دوسرا وہ ہر وقت بولتی رہتی ہے۔”

افی اس کی بات سن کر ہنس دی۔

“لڑکیاں تو باتیں کرتی ہوتی ہیں نا، تو وہ بولتی ہے تو اس میں کیوٹ لگتی ہے۔ اس میں کون سی بڑی بات ہے ناک تو آپ کی بھی بہتی ہے”
“لیکن میں تو اپنی ناک صاف رکھتا ہوں، وہ ناک بھی صاف نہیں کرتی۔”

“اچھا! وہ اسکول آتی ہے؟”

میر خان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔۔”نہیں۔۔۔۔
کیوں۔۔؟؟
پتہ نہیں ۔۔میر خان نے جواب دیا۔

“وہ تو دو تین دن سے اسکول نہیں ائی”

افی کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سوچ کے آثار نمودار ہوئے۔

“ایسا کیسے؟””کیا آپ کو پتا ہے وہ کیوں نہیں آ رہی؟”

پھر اس نے میر خان سے پوچھا۔۔۔

نہیں !!!افی نے گاڑی اسکول کے گیٹ کے سامنے روکی اور میر خان کو اتار دیا۔

“چلو، اب جاؤ۔”

میر خان اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے گاڑی سے اترا اور اسکول کی طرف بڑھ گیا۔

افی نے اسے اندر جاتے دیکھا، پھر گاڑی آگے بڑھا دی۔ لیکن میر خان کی بات ابھی تک اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی۔

دو تین دن سے اسکول نہیں آ رہی… آخر کیوں؟

میر خان کو اسکول چھوڑنے کے بعد افی نے گاڑی کا رخ اسپتال کی طرف کر لیا۔

اسپتال پہنچ کر وہ سیدھا زینب آنٹی کے کمرے کی طرف گئی۔ دروازے کے قریب پہنچ کر اس نے دیکھا کہ زینب آنٹی ایک مریض سے بات کر رہی تھیں۔ افی خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی اور ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

دوسری طرف وہ کبھی اپنے فون پر مصروف ہو جاتی اور کبھی نظریں اٹھا کر زینب آنٹی کو دیکھ لیتی۔

کچھ دیر بعد مریض وہاں سے چلا گیا۔

زینب آنٹی نے افی کی طرف دیکھا تو مسکرا کر بولیں۔۔۔

“ارے افی! تم کب آئیں؟”

“بس ابھی کچھ دیر پہلے۔ آپ مریض کے ساتھ مصروف تھیں، اس لیے میں نے ڈسٹرب نہیں کیا۔”

زینب آنٹی نے اسے غور سے دیکھا۔

“خیریت؟ آج اچانک کیسے آنا ہوا؟”پری تو ٹھیک ہے نہ۔۔
“پری آئی کیوں نہیں؟” وہ حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

“کیوں؟ کیا ہوا؟”

“میں نے اسے بولا تھا کہ ٹیسٹ کروا لے۔ مجھے اس کی کنڈیشن ٹھیک نہیں لگی تھی۔”

یہ سن کر وہ تھوڑی پریشان ہوئی، پھر بولی، “مجھے اس بارے میں نہیں پتا۔”

“اچھا، ٹھیک ہے۔ میں خود اس سے دوبارہ بات کر لوں گی۔ تم ٹھیک ہو؟”

جی۔۔۔
“بس مجھے آپ سے ایک ہیلپ چاہیے تھی۔”

“ہاں، بتاؤ۔”

زینب آنٹی نے توجہ سے اس کی طرف دیکھا۔

افی نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا:

“آنٹی، آپ کے اسپتال میں کل ایک کیس آیا تھا… ایمان نام کی ایک لڑکی کا۔ ریپ کیس۔ کیا آپ اس کیس کے بارے میں جانتی ہیں؟”

زینب آنٹی نے چند لمحے سوچا، پھر سر ہلاتے ہوئے بولیں:

“ہاں، میں نے صبح ہی اس کیس کے بارے میں سنا تھا۔”

افی نے فوراً کہا۔۔۔

“مجھے اس کی رپورٹ چاہیے تھی۔ ابھی جو رپورٹ ہے، وہ پولیس کے پاس ہے۔ وہ اس کیس کی تفتیش تو کر رہے ہیں، لیکن ہمیں کچھ بتا نہیں رہے۔ تو کیا آپ مجھے اس کیس کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہیں؟”

“اوکے، تھوڑا ویٹ کرو۔”

زینب آنٹی نے اسی کمرے میں رکھا اپنا فون اٹھایا اور کسی کو کال ملائی۔ دوسری طرف سے کال اٹھائی گئی تو انہوں نے دو تین باتیں کرنے کے بعد کہا:

“اچھا، ایمان کیس کی رپورٹ دیکھنے کے لیے تم مجھے بھیج سکتے ہو۔”

جس پر وہ اسے کہتے ہیں، “اوکے، ٹھیک ہے۔”

کچھ دیر بعد ان کے فون پر رپورٹ موصول ہو گئی۔

زینب آنٹی نے رپورٹ کھولی اور خاموشی سے اسے پڑھنے لگیں، جبکہ افی بے چینی سے ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی۔

رپورٹ پڑھتے پڑھتے زینب آنٹی کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ چند لمحوں بعد انہوں نے نظریں اٹھا کر افی کی طرف دیکھا۔

“کیا تم سن سکو گی؟”

افی نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔

“جی۔”

زینب آنٹی نے ایک گہری سانس لی اور رپورٹ میں درج باتیں اسے بتانے لگیں۔

“میں خود شاک میں ہوں کہ ایک بچی کے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے…”

ان کی آواز میں دکھ نمایاں تھا۔

وہ ایمان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتی گئیں، جبکہ افی خاموشی سے سنتی رہی۔

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی آنکھوں میں نمی بڑھتی گئی۔۔۔۔

افی نے نظریں جھکا لیں اور غصے سے اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لی۔ں۔

اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال گونج رہا تھا کہ ایک معصوم لڑکی کو آخر کس قدر تکلیف سے گزرنا پڑا تھا۔

“رپورٹ کے مطابق… ایمان کے ساتھ دو دن تک مسلسل زیادتی ہوتی رہی۔ اس کیس میں دو افراد ملوث تھے۔”

“اس کے بعد اس کی حالت انتہائی تشویش ناک ہو گئی تھی۔ اندرونی خون بہنے کی وجہ سے اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ اس کے علاوہ سر پر بھی شدید چوٹ آئی تھی، جس کے باعث اندرونی طور پر خون بہا۔ یہی دونوں وجوہات اس کی موت کی بنیادی وجوہات میں شامل
ہیں۔”

“اس کے جسم پر مختلف جگہوں پر چوٹ اور زخموں کے نشانات بھی موجود تھے۔ ہاتھوں اور پاؤں پر بندھے ہونے کے نشانات ملے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے باندھا گیا تھا۔”

یہ سنتے ہی افی کے اندر جیسے غصے کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس نے اپنی دونوں مٹھیاں بھینچ لیں۔

ایک لڑکی کے ساتھ دو دن تک یہ سب ہوتا رہا… آخر اس نے کتنا کچھ برداشت کیا ہوگا؟
کمرے میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی، مگر دونوں کے چہروں پر ایمان کے لیے دکھ اور غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔
زینب آنٹی نے افی کو دیکھتے ہوئے پوچھا،
“اب تم کیا کرنے والی ہو؟”

افی نے سنجیدگی سے جواب دیا،
“مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔ دو دن سے میں نے ان لڑکوں کی تلاش کروائی ہے ۔ اوپر سے پولیس والے بھی ہمیں صحیح سے کچھ نہیں بتا رہے، بس ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔اب انہیں پکڑ تو لیا گیا ہے، مگر وہ کچھ بتا نہیں رہے

وہ ایک لمحے کو رکی، پھر مضبوط لہجے میں بولی،
“مجھے خود ہی یہ سب کچھ ہینڈل کرنا پڑے گا۔ آخر یہ لوگ کون ہیں ۔ مجھے خود پتہ کرنا ہوگا۔”۔
زینب آنٹی نے اس کی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا اور بولیں،
“ٹھیک ہے، دھیان سے۔ اور اگر میری ضرورت ہو تو مجھے بتانا۔”

افی نے ایک لمحے کو سوچتے ہوئے کہا،
” ہو سکتا ہے وہ ڈی این اے میں کچھ کر کھیل رہے ہوں۔ کیا آپ اس کے بارے میں کچھ پتہ کر سکتی ہیں؟”

زینب آنٹی نے فوراً سر ہلایا۔
“ہاں، میں دیکھتی ہوں۔ جو بھی معلومات ملیں گی، میں تمہیں بتا دوں گی۔”

“ٹھیک ہے۔”

افی نے مختصر سا جواب دیا اور وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔
+++++++++++++++++++++++

گھر میں آنے جانے والوں کا سلسلہ جاری تھا۔ کچھ عورتیں افسوس کرنے کے بہانے دوبارہ آ بیٹھی تھیں۔ چہروں پر ہمدردی تھی، مگر زبانوں پر وہی پرانے سوال۔
ایک عورت نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا، “بہت افسوس ہوا… مگر آج کل کی بچیاں بھی تو جانے کیا کیا کر رہی ہیں۔”
دوسری نے فوراً بات بڑھائی، “ہاں، اب بھلا کوئی یہ بھی بتائے کہ یونیورسٹی جانے والی لڑکی اتنی دیر تک کہاں رہتی تھی؟ گھر والوں کو بھی تو دیکھنا چاہیے تھا۔”
اقراء خاموش بیٹھی سب سن رہی تھی۔ اس کے چہرے پر دکھ کے ساتھ ساتھ غصہ بھی ابھرنے لگا۔
آخرکار وہ خود کو مزید روک نہ سکی۔
“بس کریں آپ لوگ!”
کمرے میں یکدم خاموشی چھا گئی۔
اقرٰاء نے نم آنکھوں سے ان عورتوں کی طرف دیکھا۔
“آپ لوگوں کو دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ایک بار اپنے گھر کی بیٹیوں کے بارے میں کیوں خیال نہیں آتا؟ آپ کے اپنے گھروں میں بھی بیٹیاں ہیں۔ کل کو اگر کسی نے ان کے بارے میں ایسی باتیں کیں تو کیا آپ برداشت کر لیں گی؟”
عورتیں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگیں۔
اقراء نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، “کسی کے گھر کا دکھ تماشہ نہیں ہوتا۔ اور کسی کی بیٹی کے بارے میں اندازے لگا کر فیصلہ سنا دینا انصاف نہیں ہوتا۔ آپ لوگوں نے اپنی بات کہہ دی، مگر ایک بار یہ نہیں سوچا کہ جس گھر میں آپ بیٹھ کر یہ سب کہہ رہی ہیں، وہاں ایک ماں اپنی بیٹی کھو چکی ہے۔”
اس کے بعد کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
اسی دوران پروسن کی بیٹی نے اقرا کے پاس آ کر اسے اپنے موبائل پر ایک ویڈیو دکھائی۔ ویڈیو میں دو لڑکے اقرا کے ساتھ بدتمیزی کرتے دکھائی دے رہے تھے، جبکہ ایک لڑکی آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتی ہے۔ چند ہی لمحوں میں وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھی۔

صرف دو دن میں ایمان کا نام پورے سوشل میڈیا پر پھیل چکا تھا۔ مختلف لوگ اس کے لیے ویڈیوز بنا رہے تھے، انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے اور پولیس سے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔

پھر مال کی وہ ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

جب ہنی ان دونوں لڑکوں کو مار رہی تھی، تب کسی نے اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا لی تھی۔۔۔۔ اب ایمان کا کیس سامنے آنے کے بعد کسی نے وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں موجود لڑکوں میں سے ایک کو اقرا فوراً پہچان گئی۔ وہ ان کے پڑوس میں رہنے والے شخص کا بیٹا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اقرا کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے اور وہ کچھ لمحوں تک خاموشی سے اسکرین کو دیکھتی رہی۔
وہ کافی دیر تک موبائل اسکرین کو خاموش نظروں سے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار ایمان کا چہرہ آ رہا تھا۔

آخرکار اس نے موبائل ایک طرف رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

اب وہ خاموش نہیں رہے گی۔

اگر لوگ اس کی بہن کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں تو وہ خود کیوں نہیں؟

وہ تیزی سے گھر سے باہر نکل گئی۔

“اقرٰاء! کہاں جا رہی ہو؟”

ماں کی آواز پر وہ ایک لمحے کو رکی، مگر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

“پوچھنے جا رہی ہوں… کہ اس نے میری بہن کے ساتھ ایسا کیوں کیا۔”

وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔

کچھ ہی دیر بعد وہ اسی پڑوسی کے گھر کے سامنے کھڑی تھی۔

اس نے غصے میں دروازہ زور زور سے بجانا شروع کر دیا۔

“دروازہ کھولو!”

چند لمحوں بعد دروازہ کھلا۔

سامنے ہی پڑوسی کی بیوی کھڑی تھی۔

اقرٰاء نے بنا کسی تمہید کے پوچھا،
“کہاں ہے تمہارا بیٹا؟”

عورت نے اسے گھورتے ہوئے کہا،
“کون سا بیٹا؟”

اقرٰاء نے غصے سے جواب دیا،
“وہی! جس کا نام اس ویڈیو کے بعد ہر جگہ لیا جا رہا ہے۔”

عورت کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔

“اسے پولیس لے گئی ہے۔”

اقرٰاء ایک قدم آگے بڑھی۔

“اچھا ہے۔ کم از کم اب وہ پولیس کو جواب تو دے گا کہ اس نے میری بہن کے ساتھ جو کیا۔۔

عورت فوراً بھڑک اٹھی۔

“اپنی زبان سنبھال کر میرے بیٹے کے بارے میں بات کرو!”

اقرٰاءکی آنکھوں میں غصہ مزید گہرا ہو گیا۔

“زبان میں کیوں سنبھالوں؟ تمہیں اپنے بیٹے کے کرتوت نظر نہیں ارہے۔۔

پڑوسن نے طنزیہ انداز میں کہا،
“ایک ذرا سی ویڈیو کیا سامنے آ گئی، تم تو اپنے آپ کو اور اپنی بہن کو نہ جانے کیا سمجھنے لگی ہو۔ یونیورسٹی کے بہانے کہاں کہاں گھومتی پھرتی تھی، کس کس سے ملتی تھی، یہ بھی تو دیکھو!”
ارے بی بی! پہلے اپنی بہن کو تو دیکھو، جو لڑکوں کے ساتھ غلط حرکتیں کرتے ہوئے دیکھی گئی ہے، اس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے۔ میرے بیٹے کے پیچھے پڑی ہوئی ہو اور اب میرے بیٹے پر تہمت لگا رہی ہو!

اقرٰاءکا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

پڑوسن پھر بولنے لگی،۔۔۔
“اب میرے بیٹے کو پھنسانے چلی ہو؟ میرا بیٹا بے قصور ہے۔ دیکھ لینا، وہ بہت جلد باہر آ جائے گا۔”جبکہ اقراء کو اس کی بات سمجھ نہیں ائی تھی ۔۔کہ اس کی بہن کی کون سی ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ جبکہ اس کی بہن تو سوشل میڈیا یوز ہی نہیں کرتی اور نہ ہی کچھ ایسا۔۔۔۔

اقراءنے اسے چند لمحے خاموش نظروں سے دیکھا، پھر تلخ لہجے میں بولی،

“لعنت ہے تم جیسے لوگوں پر!”

عورت ایک لمحے کو خاموش ہو گئی۔

“اپنے بیٹے کی تربیت ٹھیک نہیں کر سکتیں اور کسی اور کی بیٹی پر انگلی اٹھانے چلی آتی ہو؟”

اقرٰاء کی آواز بلند ہو گئی۔

“تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی؟ تمہیں اپنی بیٹی اور بہن کی عزت یاد آتی ہے، مگر دوسروں کی بیٹی کے لیے تمہارے پاس صرف الزام ہیں؟”دوسروں کی بیٹیوں پر تہمت لگاتے ہوئے تم لوگ ذرا بھی نہیں سوچتے؟
دوسروں کے معاملوں میں تم لوگ خود کو خدا سمجھنے بیٹھے ہو ۔
پڑوسن نے کچھ کہنا چاہا، مگر اقراء نے اسے روک دیا۔

“میری بہن اب اس دنیا میں نہیں ہے، اس لیے تمہیں لگتا ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتی۔ لیکن میں زندہ ہوں
وہ اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتی ہے۔
اور جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا کہ میری بہن کے ساتھ حقیقت میں کیا ہوا تھا، میں خاموش نہیں بیٹھوں گی۔”

وہ ایک لمحے کے لیے رکی، پھر مضبوط لہجے میں بولی،

“اور اگر تمہارا بیٹا واقعی بے قصور ہے تو قانون اسے بے قصور ثابت کر دے گا۔ لیکن اگر اس ویڈیو کے پیچھے کوئی حقیقت چھپی ہے… تو پھر میں اسے سامنے لا کر رہوں گی۔”


اقرٰاء غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
“اپنے بیٹے کو بچانے کی جتنی کوشش کرنی ہے کر لو، لیکن میں اسے چھوڑنے والی نہیں ہوں۔ اگر اس نے میری بہن کے ساتھ کچھ کیا ہے تو میں اسے قانون کے کٹہرے تک لے جاؤں گی، اور ضرورت پڑی تو پھانسی کے پھندے تک چڑھوا کر دم لوں گی۔”

پڑوسن نے طنزیہ انداز میں اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور ہنستے ہوئے بولی،
“جاؤ، جاؤ بی بی! پہلے اپنے کرتوتوں کا حساب تو خود عدالتوں میں دیتی رہی ہو۔ طلاق لے کر اسی لیے تو واپس آئی ہو نا؟ اب یہاں بیٹھ کر تم میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گئی ہو؟”

“اپنی زبان سنبھال کر بات کرو! میری طلاق کا تیرے بیٹے کے معاملے سے کیا تعلق ہے؟ اپنے بیٹے کی غلطی دیکھنے کے بجائے تمہیں میری زندگی میں عیب نظر آ رہے ہیں؟”

پڑوسن نے فوراً جواب دیا۔۔۔۔
“میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا! وہ بے قصور ہے۔ ایک ویڈیو دیکھ کر تم نے فیصلہ کر لیا کہ وہ مجرم ہے؟”

اقرٰاء ایک قدم آگے بڑھی۔تم لوگ بھی تو یہی کرتے ہو، بنا دیکھے، بنا جانے کسی پر بھی الزام اور تہمت لگا دیتے ہو۔ اپنے دفاع کے لیے ثبوت چاہیے تم لوگوں کو؟

“فیصلہ عدالت کرے گی، میں نہیں۔ لیکن اتنا یاد رکھنا، اگر میری بہن کے ساتھ ہونے والی ناانصافی میں تمہارے بیٹے کا ہاتھ نکلا، تو میں اسے بچنے نہیں دوں گی۔”

وہ غصے سے مڑی اور وہاں سے نکل گئی، جبکہ پڑوسن دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہ گئی۔

یہ کہہ کر اقرٰاء پلٹی اور تیز قدموں سے وہاں سے نکل گئی۔

اس کے دل میں غصہ تھا، دکھ تھا، مگر اس سب سے بڑھ کر ایک فیصلہ تھا۔

ایمان کے لیے انصاف۔
اس نے اسی لمحے دل میں ایک عہد کر لیا۔
وہ اپنی بہن کو انصاف دلائے گی۔
چاہے اسے کتنے ہی دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، کتنی ہی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے، یا اس کے راستے میں کتنے ہی طاقتور لوگ کیوں نہ آ جائیں۔
وہ اپنی بہن کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو یوں دفن نہیں ہونے دے گی۔۔؟۔۔
بہت سے میڈیا والے اسے بار بار کال کر رہے تھے اور انٹرویو کے لیے گھر کے باہر بھی آ رہے تھے۔ آخرکار اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی بہن کے لیے خود میڈیا کے سامنے آئے گی، اس کی آواز بنے گی اور اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرے گی۔

چنانچہ جب وہ کیمرے کے سامنے بیٹھی تو اس نے اپنی بہن کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا،
“میں آج یہاں اپنی بہن کے لیے آئی ہوں، کیونکہ اب میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، اس کا جواب ملنا چاہیے اور اسے انصاف ملنا چاہیے۔”
جب اسے ان کے بارے میں مکمل معلومات مل گئیں تو اس نے میڈیا کے سامنے آ کر سب کچھ بتا دیا۔
اس نے بتایا کہ ان میں سے ایک ان کا پڑوسی تھا، جبکہ دوسرا اس کا دوست تھا، جو ایک بڑے سیاسی رہنما کا بیٹا تھا۔ جیسے ہی اس نے اس سیاسی رہنما کا نام میڈیا کے سامنے لیا، معاملہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو گیا۔
اس انٹرویو کے بعد میڈیا مزید متحرک ہو گیا۔ اس کا بیان ہر چینل پر چلنے لگا، ہر طرف اسی کے انٹرویو کی ویڈیو دکھائی جا رہی تھی اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی بات تیزی سے پھیلنے لگی تھی۔

+++++±++++++++++++++++

اینا نے تمام کمپیوٹرز اور سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے۔مگر مسئلہ یہ تھا کہ اسے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ اسے بھیجا کس نے تھا۔

اس نے فوٹیج میں موجود وقت کو دوبارہ دیکھا تو اس کی نظر ان کیمروں پر گئی جو اس مخصوص وقت میں خراب تھے۔ اینا نے فوراً ان کیمروں کو بھی ٹھیک کروایا اور دوبارہ ان کی فوٹیج چیک کرنے لگی۔

وہ سیکیورٹی روم میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر فوٹیج دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر اسکرین پر ایک منظر پر جا ٹھہری۔
اسے پوری کہانی سمجھ آ چکی تھی۔

اس نے فوراً لیپ ٹاپ بند کیا اور باقی چیزیں ایک طرف رکھ دیں۔ پھر سیکیورٹی روم سے باہر نکل کر تیزی سے پری کے آفس کی طرف بڑھنے لگی۔
مگر راستے میں اچانک کسی سے اس کی ٹکر ہو گئی۔
وہ غصے سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کے الفاظ لبوں پر ہی رک گئے۔
وہ تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ قد کا ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ سادہ مگر اسٹائلش لباس، تراشی ہوئی ہلکی داڑھی اور چہرے پر عجیب سا اطمینان لیے وہ اینا کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔

وہ موڑ مڑتے ہوئے اچانک سامنے سے آنے والے شخص سے ٹکرا گئی۔

“اندھے ہو؟ دیکھ کر نہیں چل سکتے؟”

اینا نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔

مگر سامنے کھڑے شخص نے حیرت سے اسے دیکھا، جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو کہ غلطی بھی اسی کی تھی اور ڈانٹ بھی اسے پڑ رہی تھی۔

چند لمحوں بعد اس نے قدرے طنزیہ انداز میں کہا۔

“اندھی تو آپ ہیں میڈم … دیکھ کر آپ کو چلنا چاہیے تھا”

ا”کیا کہا تم نے؟”

نے کندھے اچکاتے ہوئے بڑے سکون سے کہا۔

“جو سنا ہے، وہی کہا ہے۔”

اینا اسے گھورتی رہی، جبکہ اس لڑکے کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔

شاید اسے پہلی بار کسی نے یوں بےجھجک جواب دیا تھا، اور شاید اینا کو پہلی بار کوئی ایسا شخص ملا تھا جسے اس کے غصے سے ذرا بھی فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔
“ہٹو میرے راستے سے!”

اینا نے غصے سے کہا، پھر اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے بولی،

“اور تم ہو کون؟ تم یہاں کے ہو بھی یا نہیں؟ اگر نہیں ہو تو پھر یہاں انٹر کیسے ہوئے؟ پہلے مجھے یہ بتاؤ۔”
ایک ساتھ اس نے کہیں سوال کر دیے۔۔


“کیا تم کوئی چور ہو؟”

اینا نے اسے شک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

آن نے حیرت سے اسے دیکھا، پھر اپنے کپڑوں کی طرف نظر دوڑائی اور واپس اسے دیکھتے ہوئے بولا،

“اچھے بھلے ہینڈسم لڑکے کو تم نے چور بنا دیا ہے؟”

“میں نے آج سے پہلے تمہیں یہاں نہیں دیکھا۔ ٹھہرو، رکو! میں ابھی سیکیورٹی سے پوچھتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ تم بغیر اجازت آفس کے اندر کیسے داخل ہوئے ہو۔”

“ہیلو میڈم!”

آن نے فوراً اسے روکتے ہوئے کہا، “زبان سنبھال کر۔ میں کوئی چور وور نہیں ہوں، اور میں یہاں کسی سے چھپ کر نہیں آیا۔”

وہ ایک لمحے کو رکا، پھر قدرے مسکراتے ہوئے بولا،

“بس تمہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں۔۔۔”
“دیکھا تو میں نے بھی تمہیں بھی پہلی دفعہ ہی ہے، پھر تم کون ہو؟”

اینا نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اینا ابھی آن کو کچھ کہنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے پری کی آواز سنائی دی۔
“یہاں کیا ہو رہا ہے؟”
دونوں نے ایک ساتھ پلٹ کر پری کو دیکھا، پھر فوراً ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ چور ہے!”
دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا۔۔۔پری نے دونوں کو غورکر دیکھا۔۔

میرے آفس میں آؤ۔”
پری کی بات سنتے ہی دونوں خاموش ہو گئے اور اس کے پیچھے چل پڑے۔۔۔۔
پری نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا،
“تم واپس کب آئے؟”

“کل رات،” وہ مختصر سا جواب دیتا ہے۔

پری نے اثبات میں سر ہلایا، پھر پوچھا،
“کیسا رہا کام؟ وہاں سب کچھ کیسے چل رہا تھا؟”

“ٹھیک چل رہا ہے، ابھی سب کچھ،” وہ اطمینان سے کہتا ہے۔

وہ گزشتہ دو سال سے ایک بزنس ٹرپ کے سلسلے میں باہر تھا۔ پری کے نئے آفس کا سارا انتظام وہیں سے سنبھال رہا تھا۔ کمپنی کا مینیجر ہونے کی وجہ سے پری کی غیر موجودگی میں کاروبار کی ذمہ داری اسی کی تھی۔

اب جب وہ پاکستان واپس آیا تو آج اسے معلوم ہوا کہ پری نے کانٹریکٹ جیت لیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی وہ اسے مبارکباد دیتا ہے۔

“ویسے آپ کو مبارک ہو، کانٹریکٹ جیتنے پر۔”

پری نے بس ہلکا سا سر ہلایا۔۔۔
پری اور آن کی باتیں سنتے ہوئے اینا نے غور سے آن کی طرف دیکھا۔ آن کا نام اس نے پہلے بھی سن رکھا تھا۔۔پری کی باتوں سے اب اسے سمجھ آ گئی تھی کہ یہ وہی آن ہے، جو گزشتہ دو سال سے بیرونِ ملک کمپنی کا کاروبار اور وہاں کے تمام معاملات سنبھال رہا تھا۔۔۔۔

، مگر اب اپنی بہن آرزو کی شادی کے باعث وہ واپس پاکستان آ گیا تھا۔ ۔۔

پری کو آن کی واپسی اور اس کے آنے کی وجہ کے بارے میں پہلے ہی سب معلوم تھا، مگر اینا اس بات سے بالکل بےخبر تھی۔۔۔۔

پری نے سر ہلایا اور پھر اینا کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
“بتاؤ، کیا بات ہے؟”
اینا نے پہلے پری کی طرف دیکھا، پھر آن کی جانب۔ اس کے انداز سے صاف محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سوچ رہی ہو کہ آن کے سامنے بات کرنا مناسب ہوگا یا نہیں۔

پری اس کے اشارے کو سمجھ گئی۔ اس نے ہلکے سے سر ہلاتے ہوئے کہا،”ہاں،
اینا نے فوراً اپنی بات شروع کی۔
“آفس کے ایک پرانے ایمپلائی نے نئے ایمپلائی کے کمپیوٹر سے ڈرافٹ بھیجا تھا۔ اور وہ کوئی اور نہیں، وہ مہرین ہے۔”
اس نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور پری کے سامنے رکھتے ہوئے کہا،
“یہ دیکھو، جس وقت ڈرافٹ بھیجا گیا تھا، اس سے صرف پانچ منٹ پہلے یہ لڑکی آفس میں داخل ہوئی تھی۔ جبکہ باقی سب لوگ اس وقت لنچ بریک پر تھے اور لنچ کرنے کے لیے باہر گئے ہوئے تھے۔”

وہ چند لمحوں کے لیے اسکرین کو دیکھتی رہی، پھر بولی،
“تو شک تو اسی پر جاتا ہے کہ یہ سب اسی نے کیا ہوگا۔”
پری نے چند لمحے اسے دیکھا، پھر پرسکون انداز میں کہا،
“اچھا۔”بلاؤ اسے پھر۔۔
آن خاموشی سے پری کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ آفس کا معاملہ کیا ہے ۔۔۔۔
وہ اندر سے کافی ڈری ہوئی تھی، مگر پھر بھی خاموشی سے سامنے دیکھ رہی تھی۔ پری نے اسے غور سے دیکھا، پھر سوالیہ انداز میں پوچھا؟؟

“تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم تو کافی پرانی ہو ہمارے ساتھ، اتنے عرصے سے یہ کام کر رہی ہو۔”

وہ پری کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
“میں نے کیا کیا ہے؟”

اینا نے فوراً اسے ٹوکتے ہوئے کہا،
“معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں پتہ چل چکا ہے کہ وہ ڈرافٹ تم نے بھیجا تھا۔”
پری اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی، جیسے جانچ رہی ہو کہ وہ سچ بولے گی یا ایک بار پھر جھوٹ کا سہارا لے گی۔
چند لمحوں بعد پری نے دوبارہ کہا،
“میں تم سے آخری بار پوچھ رہی ہوں، تم نے ایسا کیوں کیا؟”
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی تھی، مگر پری کی نظریں اتنی پُرسکون اور گہری تھیں کہ وہ زیادہ دیر ان کا سامنا نہ کر سکی۔۔۔
“کیا تم نے یہ پیسوں کے لیے کیا تھا یا کوئی اور وجہ تھی؟”

وہ چند لمحے پری کو دیکھتی رہی۔ بے چینی سے اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے جیسے الفاظ تلاش کر رہی ہو، پھر دھیمی آواز میں بولی،
“پیسوں کے لیے؟”
پری کے چہرے پر سختی ابھر آئی۔ اس نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر سرد لہجے میں کہا،۔۔
تمہیں تمہارا ٹرمینیشن لیٹر مل جائے گا۔ اور دوبارہ کبھی اس آفس کے اندر یا باہر نظر مت آنا۔”
جا سکتی ہو تم۔۔۔پری نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہہ دیا۔
اینا خاموشی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ اسے اسمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پری نے اسے اتنی آسانی سے جانے کیوں دیا۔۔۔۔
مہرین کے باہر نکلتے ہی اینا نے پری کی طرف دیکھا۔

“یہ کیا؟ آپ نے اسے جانے کیوں دیا؟”

پری نے کوئی جواب نہیں دیا تو اینا نے دوبارہ حیرت سے کہا:

” آپ نے اس سے کچھ پوچھا بھی نہیں۔ نہ یہ کہ کس نے کہا، نہ کس کے کہنے پر کیا، نہ یہ کہ اس کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی۔ بس اسے جانے کا کہہ دیا ؟”
اس نے اینا کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے آن کی طرف دیکھا اور سنجیدگی سے کہا،
“اب یہ معاملہ تم سنبھالو۔”

اینا اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔ اس کے چہرے پر حیرت کے ساتھ غصہ بھی نمایاں تھا، جیسے اسے پری کا یوں اچانک سارا معاملہ اس کے حوالے کرنا بالکل پسند نہیں آیا تھا۔۔
آن اور آرزو کے آفس سے باہر جاتے ہی اینا نے پری کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ابھی تک حیرت تھی۔

کچھ لمحے وہ پری کو غور سے دیکھتی رہی۔۔

“اب کیا ہوا؟”

پری نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔

اینا نے فوراً سوال کیا۔۔۔

“آپ نے یہ کام آن کو کیوں دیا؟ پہلے تو یہ کام آپ نے مجھے دیا تھا، اور اب اچانک اسے دے دیا۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا،”تم کچھ زیادہ سوال نہیں پوچھنے لگ گئی ہو؟”
“وہ یہ کام اچھے سے کر لے گا۔”

اینا نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تو پری نے بات مکمل کر دی۔

“اور فی الحال تمہیں ایک اور کام کرنا ہے۔ اسی لیے میں نے یہ کام آن کو دے دیا۔”

اینا اب سمجھ گئی تھی کہ پری نے یہ فیصلہ کسی وجہ کے بغیر نہیں کیا۔

“اچھا…

اینا خاموشی سے سنتی رہی۔ پری کی بات مکمل ہونے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے،۔۔

پری نے صرف سر ہلا دیا۔

اینا بھی مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے چلی گئی، جبکہ پری دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
وہ جانتی تھی کہ اس کا “پیسوں کے لیے” کہنا مکمل سچ نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر خوف، لہجے میں جھجھک اور جواب دینے سے پہلے کی وہ بے چینی بہت کچھ بتا رہی تھی۔
پری چاہتی تو اس پر مزید دباؤ ڈال کر حقیقت اگلوا سکتی تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ ایسا کرنے سے شاید وہ خاموش ہو جاتی یا کسی ایسے شخص کو خبردار کر دیتی جو اصل معاملے کے پیچھے تھا۔
اسی لیے اس نے اسے صرف ٹرمینیشن لیٹر دے کر آفس سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اب وہ باہر جا کر کس سے رابطہ کرتی ہے اور اس کے بعد کون سا قدم اٹھاتی ہے۔۔۔
اینا نے باہر آ کر دیکھا تو آن اور آرزو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ اگلے ہی لمحے آن نے شرارت سے آرزو کے بال کھینچے۔

“آن! چھوڑو!”

آرزو نے جھنجھلا کر اسے ہلکی سی چپت لگائی۔

“کہا ہے نا، ایسا مت کرو!”

اینا یہ منظر دیکھ کر چند لمحے انہیں گھورتی رہی۔

“عجیب ہیں یہ دونوں…”

وہ سر جھٹک کر ان کے پاس سے گزر گئی۔

آن اور آرزو نے حیرت سے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔

“اسے کیا ہوا؟”

آرزو نے بھی اینا کو دیکھا۔۔۔ کہ آج اینا نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔۔

آن نے پوچھا”یہ کون ہے؟”

آرزو نے اس کی طرف دیکھا اور مختصر سا جواب دیا:

“اینا۔۔۔آن نے کہا ۔بس اتنا ہی۔۔
وہ ہلکا سا سر ہلاتے ہوئے بولی،
“ہاں، میں بس اتنا ہی جانتی ہوں کہ یہ پری کے لیے کام کرتی ہے۔”

آن نے جاتے ہوئے اینا کی طرف دیکھا، جیسے اس کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔۔

++++++++++
رومی اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے اس کی سانس بھاری ہونے لگی ہو۔

وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔

اس نے جلدی جلدی سانس لینے کی کوشش کی، مگر دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔ سینے میں گھبراہٹ سی پھیل گئی اور ہاتھ پاؤں میں عجیب سی کپکپاہٹ محسوس ہونے لگی۔

“نہیں… نہیں…”

وہ بے اختیار بڑبڑائی اور فوراً بستر سے اٹھی۔

اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ وہ تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھی اور اسے کھول دیا۔ ٹھنڈی ہوا اندر آئی، مگر اس کی گھبراہٹ کم نہ ہوئی۔

اسے اپنی دوا یاد آئی۔

وہ فوراً ڈریسنگ ٹیبل کے پاس پہنچی اور ایک دراز کھولی۔۔

دوسری دراز کھولی۔

وہاں بھی دوا نہیں تھی۔

اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔ وہ جلدی سے تیسری دراز کھولنے لگی، پھر بے چینی سے اپنا بیگ اٹھایا اور اسے کھول کر چیزیں ڈھونڈنے لگی۔

“کہاں ہے…؟”

اس کی سانس اب بھی بے ترتیب تھی۔.”

وہ فوراً بیگ کے اندر ہاتھ ڈال کر دوا تلاش کرنے لگی۔ چند لمحوں بعد اس کی انگلیاں دوا کے پیکٹ سے ٹکرائیں۔
رومی نے جھٹ سے جگ اٹھایا اور کانپتے ہاتھوں سے گلاس میں پانی ڈالنے لگی، مگر ہاتھوں کی کپکپاہٹ اتنی شدید تھی کہ گلاس اس کی گرفت سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔

چھناکے کی آواز کے ساتھ شیشہ ٹوٹ گیا اور اس کا ایک ٹکڑا سیدھا اس کے پاؤں سے جا لگا۔

رومی درد کے باعث ایک لمحے کو پیچھے ہٹی، مگر اس وقت اسے درد سے زیادہ اپنی سانس کی فکر تھی۔ وہ تکلیف برداشت کرتے ہوئے فوراً دوا منہ میں رکھتی ہے اور جھٹ سے جگ سے پانی پیتی ہے۔

اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے .۔۔۔۔
دل ابھی بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا، مگر وہ آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
رومی کی پوری پیشانی اور چہرہ پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ جسم میں جیسے ساری طاقت ختم ہو گئی ہو۔ وہ آہستہ سے بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھ گئی اور آنکھیں بند کرکے اپنی سانس کو معمول پر لانے کی کوشش کرنے لگی۔

تقریباً بیس منٹ بعد اس کی سانس کچھ بحال ہوئی تو اس نے قدرے سکون کا سانس لیا۔ جسم اب بھی کمزور محسوس ہو رہا تھا، مگر پینک اٹیک کی شدت گزر چکی تھی۔

اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور اِفّی اندر داخل ہوئی۔

سامنے کا منظر دیکھتے ہی وہ فوراً گھبرا گئی اور تیزی سے رومی کے پاس پہنچی۔

“رومی! تم ٹھیک ہو؟ کیا ہوا ہے؟”

رومی نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور خود کو سنبھالتے ہوئے آہستہ سے بولی۔

“ہاں… میں ٹھیک ہوں۔”
نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا، پھر اس کے پینے سے بھیگے بال اور کانپتے ہاتھ دیکھ کر اس کی آواز مزید نرم ہو گئی۔
اس نے کمرے کی حالت دیکھی۔ ٹوٹا ہوا گلاس اور پانی زمین پر بکھرا ہوا تھا۔ پھر اس کی نظر رومی کے پاؤں پر پڑی، جو معمولی سا زخمی تھا۔ افی نے فوراً اسے سہارا دے کر اٹھایا اور بیڈ پر بٹھا دیا۔ پھر فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اس کے پاؤں کو صاف کیا اور پٹی باندھ دی۔

رومی آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹی تھی، ایک بازو آنکھوں پر رکھا ہوا تھا۔ افی نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ رومی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔۔۔
افی نے دھیمی آواز میں پوچھا،
“تم نے میڈیسن لی؟”

رومی نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔

افی نے اس پر کمبل ٹھیک سے بچھایا اور وہیں اس کے پاس بیٹھ گئی۔ جب تک رومی سو نہیں گئی۔۔۔

رومی کے سو جانے کے بعد افی کچھ سوچتے ہوئے کمرے سے باہر آئی اور اپنا فون اٹھا لیا۔ پھر فون پر بات کرتے ہوئے اس نے سامنے والے کو رومی کی حالت کے بارے میں بتایا۔
کال ختم کرنے کے بعد وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی، پھر سوچنے لگی کہ ایک حادثے نے سب کو کس طرح ہلا کر رکھ دیا تھا
افی کے جانے کے بعد اس نے اپنا فون اٹھایا۔ اسکرین پر کئی مس کالز اور بے شمار میسجز موجود تھے۔ وہ بری طرح خوف زدہ تھی۔۔۔
اس کے فون پر مسلسل ایسے میسجز آ رہے تھے جنہیں پڑھ کر وہ مزید خوف زدہ ہو جاتی۔ زیادہ تر میسجز میں اسے دھمکیاں دی گئی تھیں، اور کچھ میں اسے ڈرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ میسجز کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ شخص کون ہے جو اسے صبح و شام کالز اور میسجز کر رہا ہے۔
++++++++++++
پولیس والوں نے اسے بیان کے لیے بلایا تھا۔ گزشتہ دو گھنٹوں سے وہ پولیس اسٹیشن میں بیٹھی اپنے بیان کے لیے نتظار کر رہی تھی، مگر ابھی تک کسی نے اس کا بیان نہیں لیا تھا۔ ہر بار یہی کہا جاتا کہ افسر ابھی مصروف ہیں۔

اب دو گھنٹے سے بھی زیادہ وقت گزر چکا تھا، تو اس نے بےزاری سے اپنے بابا کی طرف دیکھا۔

“اس نے منہ بناتے ہوئے کہا بابا، چلتے ہیں۔”

اس کے بابا نے بھی پولیس والوں کی طرف دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلایا۔

“ہاں چلتے ہیں، مجھے بھی لگتا ہے یہ لوگ ابھی کوئی بیان نہیں لیں گے۔۔”شاید یہ ہمیں ٹال رہے ہیں۔۔

وہ دونوں اٹھنے ہی والے تھے کہ عین اسی وقت پولیس اسٹیشن کے دروازے سے افی اور پری اندر داخل ہوئیں۔۔۔
پری فوراً ہنی کے پاس آئی اور بے چینی سے پوچھا،
“تم ٹھیک ہو؟ اور کیا بیان ہو گیا؟”
ہنی نے نفی میں سر ہلایا۔

“نہیں، پچھلے دو گھنٹوں سے بٹھایا ہوا ہے۔ ہر بار یہی کہتے ہیں کہ صاحب مصروف ہیں، ابھی فارغ ہوں گے تو بیان لے لیں گے۔”

پری نے ایک نظر سامنے موجود کانسٹیبل پر ڈالی، پھر ہنی کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔
پری نے ہنی کو ایک طرف کیا اور پھر پیچھے بیٹھے کانسٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،
“آپ کے افسر کہاں مصروف ہیں؟”

کانسٹیبل نے جواب دیا،
“کسی کام میں مصروف ہیں۔ بس آپ کو ہی بلایا جا رہا ہے۔”

پری نے سپاٹ لہجے میں کہا،
“ضرورت نہیں اب ہم بیان نہیں دیں گے۔۔

کانسٹیبل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“یہ کیا بات ہوئی؟ آپ بیان دینے ہی تو آئی تھیں۔”

“ہاں، دینے تو آئی تھی، لیکن شاید آپ لوگوں کو بیان لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تو اب ہم بیان نہیں دیں گی۔”

کانسٹیبل اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔

“ایسے کیسے آپ بیان نہیں دیں گی؟”

پری نے اسی پُرسکون لہجے میں جواب دیا،
“بالکل ویسے ہی جیسے آپ لوگ پچھلے دو گھنٹوں سے بیان نہیں لے رہے۔”

کانسٹیبل نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
“آپ بدتمیزی سے بات کر رہی ہیں۔”

پری کی نظریں اس پر جم گئیں۔

“اور آپ لوگ جو پچھلے دو گھنٹوں سے ان کو بٹھا کر رکھے ہوئے ہیں اور بیان نہیں لے رہے، وہ کیا ہے؟

پھر اس نے ہنی کی طرف دیکھا۔

“چلو، اب چلتے ہیں۔”

دونوں جانے کے لیے مڑیں ہی تھیں کہ ان کی آوازیں سن کر اندر سے ایس ایچ او باہر آ گیا۔

“کیا ہوا؟”

اس کی آواز پر سب کی نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔۔۔
کانسٹیبل نے فوراً اپنے افسر کو صورتِ حال بتائی۔

“سر، یہ بیان نہیں دے رہیں۔”

افسر نے پری کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،
“کیوں بھئی؟”

پری نے بغیر کسی جھجک کے جواب دیا،
“ہم جب بیان دینے آئے تھے تو آپ لوگوں نے لیا نہیں۔ اب ہم بیان نہیں دیں گے۔”

کانسٹیبل فوراً بولا،
“سر، میں بھی اِن سے یہی پوچھ رہا تھا، لیکن یہ۔۔

۔افسر نے پری کو دیکھا اور قدرے سمجھانے والے انداز میں بولا،
“بی بی، ایسے بات نہیں ہوتی۔ آپ بیان دینے آئی ہیں تو بیان دیں۔”
تو پچھلے دو گھنٹوں سے آپ کیا کر رہے ہیں لیتے نا بیان۔۔
افسر نے غصے سے پری کی طرف دیکھتا ۔۔
“ہمیں اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں، کیا ہم صرف یہاں بیان لینے کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں؟”

ہنی اور افی خاموشی سے افسر کی بات سن رہے تھے، مگر اس کا لہجہ دونوں کو ہی ناگوار گزر رہا تھا۔ خاص طور پر خان صاحب کو شدید غصہ آ رہا تھا کہ وہ پری سے اس انداز میں بات کر رہا تھا۔۔۔
پری نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔
گھنٹوں فون پر باتیں کرنا بھی تو کام ہوتا ہے نا۔”
پری کی بات سن کر وہ گڑبڑا گیا۔افسر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ پری کس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے پری اسے کچھ دیر پہلے اپنے کمرے میں فون پر بات کرتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔”

“آپ کو ذرا تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے۔ آپ ایک لڑکی ہیں، اسی لیے میں آپ کو کچھ نہیں کہہ رہا۔”
پری نے اس کی بات پر ایک نظر اسے دیکھا، پھر دوٹوک لہجے میں بولی،
“آپ کو بھی تمیز کے دائرے میں رہ کر لڑکیوں سے بات کرنی چاہیے۔ آپ ایک افسر ہیں، اور پھر بھی ایک لڑکی سے اس لہجے میں بات کر رہے ہیں۔”

وہ ایک لمحے کو رکی، پھر اسی سنجیدگی سے بولی،
“ذرا اپنی ماں یا بہن کو یہاں بٹھا کر دیکھیے، دو گھنٹے کے لیے۔ پھر میں آپ سے پوچھوں گی کہ کیسا لگتا ہے جب کسی کو اتنی دیر انتظار کروایا جائے۔وہ بھی ایک پولیس سٹیشن میں۔۔۔ پچھلے دو گھنٹوں سے آپ نے انہیں بٹھا کر رکھا ہوا ہے، بیان لیا نہیں،
اور اب الٹا ہم سے بدتمیزی کی جا رہے ہیں۔”

پری مزید کچھ کہنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے ایک سخت آواز سنائی دی۔

“یہ سب کیا چل رہا ہے؟”

سب نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو دروازے کے پاس التمش آیت کو اٹھائیں کھڑا تھا۔۔۔۔
+++++++++++++++++++++++++++

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *