HURF E HAYA BY LAIBA MAQBOOL AHMED EPISODE 6.


ناول کا نام ۔حرفِ حیا
قلم از ۔لائبہ
قسط نمبر 06
اس سے پہلے کہ کامران اسے کچھ اور کہتا ارم نے اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔ امامہ انگیجڈہے۔
تو اس سے دور رہنا ۔
اورہاں اگر تم نے دوبارفلر ٹنگ کرنے کی کوشش کی ناں تو میں-
تمھیں اپنے گروپ سے نکال دوں گی ۔
سمجھے تم ۔
اوکے کام ڈاؤن ۔مس ڈائنا کامران نے بالکل اس کےسامنے والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے ایک نظر امامہ ڈالی۔ جو اُس وقت بھی موبائل میں گم تھی۔
میرنام ڈائنانہیں ہے ۔ارم ہے ۔
لیکن آپ کا نام مس ڈائناہونا چاہیے تھا ۔
تو اسلئے میں آپ کو میں مس ڈائنا ہی کہوں گا ۔
یو۔۔۔
چپ کر جاؤ ۔ کتنا بولتے ہو تم۔
اس سے پہلے ارم کامران سے کچھ اور کہتی ایک اور لڑکی نے ان کی بات میں انٹر فئیر کیا ۔
ہائے ۔میرا نام سارا ہے ۔ہائے۔اس نے ارم اورامامہ دونوں سے سلام لیا۔
تم تو آتے ہی کامران پر برس
پڑی۔
ہمم۔ تم دونوں سے تو مل لیا ۔
اب باقی دو ہی رہ گئے ہیں ۔پتہ نہیں ان سے کب ملیں گے ۔
آ – ارم ۔چلو چلتے ہیں۔
کافی ٹائم ہو گیا ہے۔
اور تائی امی نے کل مُجھے پارلر جانے کی خاص تاکید کی تھی۔ تو مجھے وہاں بھی جانا ہے۔
چلو۔
اور ہاں زویا بھی شہرائی ہوئی ہے۔
تو ہمیں اسے بھی پک کرنا ہے۔
چلو او کے گائز ۔بائے۔
اگر باقی لوگ آئیں تو انہیں بتا دینا کہ اب ہم یونی ورسٹی پرسوں ہی آئیں گی۔ پر کیوں۔ تمھیں بتانا ضروری نہیں۔
تم ہمارے پروجیکٹ ممبر ہو۔ کوئی فرینڈ نہیں ۔
سب کچھ بتانا ضروری نہیں ہے۔
ارم نے اسے پھر سے جھڑکا ۔
جیسے دیکھ کر سار ا ہنسنے لگی۔
ایز یو وِش ۔مس ڈائنا –
کامران کی مسکراتے ہوئے کہا ۔
اس کی مسکراہٹ دیکھ کر ارم گھبرا گئی۔
کک ۔کک ۔۔۔کیا۔ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟
بس ایسے ہی مِس ۔۔
بس اگر اب تم نے مجھے یہ دوبارہ کہا تو ۔۔ تو میں تمھاری جان لے لوں گی ۔
اوہ – – اِٹس مائی پلیئنٹ۔
الله ۔۔
وہ اب بھی مسکرائے جا رہا تھا ۔
اوہ – کم آنارم —
چھوڑواسے ۔
چلو۔ امامہ اُسے کھینچتے ہوئے لے کر جا رہی تھی ۔
آ۔۔۔
کسی کی زور دار چیخ نکلی – امامہ کسی سے ٹکرائی تھی۔ جس وجہ سے اس ہاتھوں میں پکڑی ہوئی کھانے پینے کی تمام چیزیں نیچے گر گئیں ۔
آئی ایم سوری ۔
امامہ یہ کہہ کر ارم کو لے کر وہاں سے چلی گئ۔
امامہ تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔
کیا؟ امامہ ارم کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔
آئی مین تمھیں اُن لڑکوں سے تو معذرت کر لینی چاہیے تھی ۔
ہاں تو کی تو تھی معذرت۔
معذرت ۔تم نے بات کو رفع دفع کیا تھا ۔
کیا؟امامہ نے گاڑی ریستوران کے سامنے کھڑی کی۔
آ۔۔یہی سے زوئی کو پِک کرنا ہے ناں ۔ارم نے گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے کہا ۔ہاں یہی لوکیشن بھیجی ہے اس نے ۔
یہی کہی ہو گی ۔اب ڈھونڈنا پڑے گا کیا اسے؟ارم نے امامہ کو اِدھر اُدھر دیکھتے کہا ۔
اوہ ۔۔۔تم یہاں ہو زوئی ۔امامہ نے پیچھے سے زویا کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
ہاں وہ اضلان ۔۔۔
کیا اضلان؟
اضلان اب بس بھی کردو ۔تمہاری ہونے والی بیوی ہے یہ اب اس سے ملنا بند کر دو۔
ہمم۔اضلان اب بس بھی کر دو ۔یہ تمہاری ہونے والی بیوی ہے اب اس سے ملنا بند کر دو۔
ہہ۔یہ میری ہونے والی بیوی بعد میں ہے پہلے یہ میرے ماموں کی بیٹی ہے۔تو میرا جب دل کرے گا میں تو اس سے ملوں گا ہی۔جو کرنا ہے کر لو۔
تمہیں اس سے کوئی پرابلم کیا؟
مجھےنہیں پر تائی امی کو ضرور ہو گی۔
ارے یہ ارم کہاں ہے ؟
بہت دن ہو گئے اس سے ملے ہوئے۔
تمہارے ساتھ نہیں آئی ۔ زویا نے بات بدلنی چاہی ۔ آئی تو میرے ساتھ ہی تھی پر – –
پر تمھیں ڈھونڈنے کے چکروں میں مجھ سے الگ ہو گئی۔
تو اب کہاں ہے۔
امامہ ا گر زوئی مل ہی گئی تھی تو مجھے فون کر دیتی ۔
میں اسے یہاں وہاں پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہوں – ارم امامہ کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی۔
اوہ سودی – باتوں باتوں میں میں بھول گئی۔
اچھا – – ارم امامہ کے برابر میں کھڑی تھی۔
چلیں۔
اضلان اُن کی باتوں کے دوران وہاں سے جا چکا تھا ۔ ابھی وہ جاکر گاڑی میں بیٹھی ہی تھیں کہ تبھی زویا نے ارم کو گاڑی سٹارٹ کرنے سے روک دیا۔
پر کیوں ؟
کیا ہوا اب ۔
ان دونوں نے باری باری اس سے سوال کیے۔
اضلان کہہ رہا ہے کہ اُسے ہم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے ۔
ہمم — اچھا ۔
ایسی بھی کیا ضروری بات کرنی ہے اب اسے۔
ابھی تو ہمارے پاس ہی تھا ناں ۔ارم نے گاڑی کی چابی واپس نکالی۔
پتہ نہیں ۔
ایک منٹ اضلان نے ایک لوکیشن بھیجی ہے ۔اور کہہ رہا ہے کہ ہم ابھی وہاں پہنچیں ۔
دِکھاؤ۔یہ تو پاس ہی ہے چلو چلتے ہیں ۔
وہ تینوں گاڑی سے باہر نکلیں ۔
اور جلد ہی اضلان کی بتائی ہوئی لوکیشن پر پہنچ گئی۔
ہمیں یہاں پر کیوں بلایا ہے اضلان ۔
انہوں نے اضلان کوکسی رستوران کے سامنے کھڑا دیکھ کر پوچھا۔
ہمم ۔زویا جلدی یہاں آؤ ۔ وہ تینوں اُس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی تھیں ۔
وہ ان تینوں کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
کیا ہوا؟
وہ دیکھو ۔
امامہ اضلان سے انھیں یہاں بلانے کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ جس پر اضلان نے ریسٹوران کے اندر بیٹھے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ۔۔۔یہ توایان ہے –
امامہ ایک دم زور سے چلائی ۔ ہمم ۔ اور ساتھ میں کوئی لڑکی بھی ہے ۔ارم نے ان کا دھیان اس لڑکی کی طرف کروایا جو اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔
ہمم ۔ ارم نے غور سے اس لڑکی کو دیکھا ۔
یہ تو سارا ہے۔
کیا؟
ہمم – ہماری گروپ ممبر ۔ آج صبح ہی ہم اس سے ملیں ہیں۔
کیونکہ وہ دونوں دیوار کے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے ۔اسلئے وہ چاروں اُسے با آسانی دیکھ پا رہے تھے ۔
چلوجا کر اُسے پکڑتے ہیں ۔ ہممم ۔ چلو ۔
امامہ ٫ ارم اور زویا تینوں ریستوران کے اندر کی طرف بڑھیں ۔
نہیں رُکو ۔اضلان نے انہیں آواز دی ۔
رکو۔ آج نہیں -کسی اور دن- –
پر کیوں۔
پہلے ہم اس سے پیار سےپوچھیں گے ۔
اور اگر بتا دیا تو ٹھیک ورنہ۔۔
اضلان نے ان تینوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔
اور پھر ایان کی طرف دیکھا۔
ور نہ پھر ہمیں تو یہ جانتا ہی ہے ۔
صحیح کہا۔ان سب نے ایان پر ایک الودائی نظر ڈالی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *