ASHOOB BY KHANUM EPISODE 2.

وہ لوٹ آئے گا—

مگر
کسی دروازے سے نہیں،
کسی خبر کی طرح۔

پہلے
چند چہرے بدلیں گے،
پھر لہجوں میں خوف اترے گا،
پھر دروازے بند ہوں گے،
اور آخرکار—

وہ تخت لرزے گا
جسے برسوں سے
ناقابلِ شکست سمجھا گیا تھا۔

وہ آئے گا
تو اپنے ساتھ
کوئی اعلان نہیں لائے گا،

صرف ایک نام—

اور اُس نام کے پیچھے
دفن کیا ہوا
ایک پورا ماضی۔

کیونکہ
کچھ واپسیوں کا مقصد
ملنا نہیں ہوتا—

وہ لوٹتے ہیں
تاکہ دنیا کو یاد دلا سکیں
کہ کچھ حساب
وقت کے حوالے نہیں کیے جاتے۔

اور کچھ حساب…

خود وقت لینے آتا ہے۔

 

17 نومبر 2014ء — اڈیالہ جیل، راولپنڈی

رات 2 بج کر 13 منٹ

اڈیالہ جیل کی بلند بیرونی دیواریں رات کے اندھیرے میں کسی خاموش قلعے کی مانند کھڑی تھیں۔

گیٹ کے قریب نصب روشنیاں سرد سفید دائرے بناتی ہوئی زمین پر پھیلی تھیں۔ مسلح پہرہ، لوہے کے بھاری دروازے، دور تک جاتی تاریں اور ہر چند لمحوں بعد بدلتی ہوئی نگرانی کی آوازیں…

یہ وہ جگہ تھی جہاں رات صرف وقت کا نام نہیں تھی۔

یہاں رات کا مطلب تھا—

انتظار۔

اور انتظار کا مطلب ہمیشہ آزادی نہیں ہوتا تھا۔

جیل کی ایک اندرونی راہداری میں زرد روشنی کا ایک بلب جل رہا تھا۔

دیواروں پر نمی کے پرانے نشان تھے۔

فرش پر کہیں کہیں پانی کے خشک دھبے۔

اور ہوا میں ایسی باسی خاموشی تھی جس میں دور کسی قیدی کی کھانسی بھی غیر معمولی طور پر بلند محسوس ہوتی تھی۔

راہداری کے آخری سرے پر ایک لوہے کا دروازہ تھا۔

دروازے کے باہر دو اہلکار کھڑے تھے۔

ایک نے گھڑی دیکھی۔

2:13۔

دوسرے نے خاموشی سے دروازے کی طرف دیکھا۔

اندر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔

“ابھی تک ہوش میں ہے؟”

پہلے نے آہستہ سے پوچھا۔

دوسرے نے کندھے اچکائے۔

“پتا نہیں۔”

چابی تالے میں گھومی۔

دروازہ کھلا۔

اندر مدھم روشنی تھی۔

کمرے کے ایک کونے میں ایک شخص فرش پر بیٹھا تھا۔

پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی۔

سر ذرا سا جھکا ہوا۔

قمیض کے کالر پر خون کے خشک دھبے تھے۔

چہرے پر تازہ زخم تھا۔

ہونٹ کے کنارے سے خون کی ایک لکیر ابھی تک سوکھی نہیں تھی۔

مگر سب سے عجیب بات اُس کا سکون تھا۔

وہ زخمی تھا۔

تھکا ہوا تھا۔

مگر خوف زدہ نہیں تھا۔

اہلکار نے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا۔

“اٹھو۔”

کوئی جواب نہیں۔

وہ قریب گیا۔

“سنا نہیں؟”

اُس شخص نے آہستہ سے سر اٹھایا۔

آنکھیں کھلیں۔

گہری۔

پُرسکون۔

ایسی جیسے اس رات کی تاریکی بھی اُنہیں ڈرا نہ سکتی ہو۔

اہلکار چند لمحوں کے لیے خاموش رہا۔

پھر بولا:

“اب بھی زبان نہیں کھولو گے؟”

وہ شخص خاموش رہا۔

“تمہیں معلوم ہے تم پر کیا کیا الزام ہیں؟”

اس بار اُس نے جواب دیا۔

“الزام…”

آواز کمزور تھی، مگر صاف۔

“معلوم ہیں۔”

“پھر مان کیوں نہیں لیتے؟”

اُس نے چند لمحے اُسے دیکھا۔

“کیونکہ میں نے کیے نہیں۔”

اہلکار کے چہرے پر سختی آ گئی۔

“یہاں سچ اور جھوٹ تم طے نہیں کرو گے۔”

قیدی کے ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“اسی لیے تو میں خاموش ہوں۔”

کمرے میں خاموشی اتر گئی۔

اہلکار نے میز پر رکھی فائل اٹھائی۔

“آخری موقع ہے۔”

اس نے فائل اُس کے سامنے پھینک دی۔

“دستخط کر دو۔”

وہ شخص فائل کو دیکھتا رہا۔

“تمہارے خلاف سب کچھ موجود ہے۔”

خاموشی۔

“گواہ ہیں۔”

خاموشی۔

“کاغذات ہیں۔”

خاموشی۔

“لوگ ہیں۔”

وہ شخص آہستہ سے فائل کی طرف جھکا۔

پھر اُس نے ایک ایک کاغذ دیکھا۔

اور بہت سکون سے بولا:

“لوگ خریدے جا سکتے ہیں۔”

اہلکار کی آنکھیں سکڑ گئیں۔

“کاغذ بنائے جا سکتے ہیں۔”

ایک وقفہ۔

“گواہ بدل سکتے ہیں۔”

اس نے نظریں اٹھائیں۔

“مگر وقت…”

اس کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔

“وقت کو خریدنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔”

اہلکار نے فائل بند کر دی۔

“تمہیں لگتا ہے تم باہر جاؤ گے؟”

اُس شخص نے جواب نہیں دیا۔

“بارہ سال بھی لگ جائیں تو؟”

اس بار اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی ابھری۔

“بارہ سال…”

وہ چند لمحے رکا۔

“بہت ہوتے ہیں۔”

پھر اپنی مٹھی کھولی۔

اُس میں سیاہ دانوں والی ایک چھوٹی سی تسبیح تھی۔

چند دانے ٹوٹے ہوئے تھے۔

اُس نے ایک دانہ انگلیوں کے درمیان گھمایا۔

“مگر کافی نہیں ہوتے۔”

اہلکار نے اسے دیکھا۔

“کس لیے؟”

اُس شخص نے پہلی بار نظریں بالکل سیدھی اُس پر رکھیں۔

“واپس آنے کے لیے۔”

دروازے کے باہر کھڑے دوسرے اہلکار نے بےاختیار اپنے ساتھی کی طرف دیکھا۔

کمرے میں چند لمحوں تک کوئی آواز نہیں ہوئی۔

پھر دروازہ بند کر دیا گیا۔

بھاری کنڈی لگی۔

قدموں کی آواز دور ہوتی گئی۔

وہ شخص دوبارہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

اس نے تسبیح کو مٹھی میں بند کیا۔

آنکھیں بند کیں۔

اور نہ جانے کس کے نام کے ساتھ…

بہت آہستہ کہا:

“انتظار کرنا۔”

خاموشی۔

پھر ایک اور سرگوشی:

“میں مر نہیں سکتا۔”

باہر راہداری میں بلب پھر ایک بار جھپکا۔

اور اڈیالہ جیل کی اُس رات میں—

کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ایک قیدی اپنی سزا نہیں گن رہا تھا۔

وہ صرف…

اپنی واپسی کے دن گن رہا تھا۔»

—

12 اگست 2026ء — مری

رات 11 بج کر 47 منٹ

ولا کے پچھلے حصے میں موجود وسیع لان کی روشنیاں بند تھیں۔

صرف دور پہاڑی ڈھلوان پر چند زرد بلب جل رہے تھے، جن کی مدھم روشنی درختوں کے درمیان کہیں دکھائی دیتی، کہیں اندھیرے میں گم ہو جاتی۔

ولا کے اندر عجیب خاموشی تھی۔

وہ خاموشی جو کسی خالی گھر کی نہیں ہوتی۔

بلکہ اُس جگہ کی ہوتی ہے جہاں ہر چیز اپنی جگہ موجود ہو، مگر کسی کو بولنے کی اجازت نہ ہو۔

اوپری منزل کے آخری سرے پر ایک کمرے کا دروازہ نیم وا تھا۔

اندر شطرنج کی بساط اب بھی ویسی ہی رکھی تھی۔

سیاہ اور سفید مہرے اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے تھے۔

مگر سیاہ بادشاہ اپنی معمول کی جگہ پر نہیں تھا۔

وہ بساط کے تقریباً عین درمیان کھڑا تھا۔

جیسے کھیل کے اصول بدل دیے گئے ہوں۔

ایک سیاہ گھوڑا اُس کے چند خانے پیچھے تھا۔

اور سفید مہرے…

ابھی تک اپنے دفاع میں کھڑے تھے۔

کھڑکی کے قریب وہ شخص خاموش کھڑا تھا۔

سیاہ لباس اُس کی شخصیت کا حصہ محسوس ہوتا تھا۔

اُس کے ایک ہاتھ میں سیاہ دانوں والی تسبیح تھی۔

دوسرے ہاتھ میں وہی سیاہ نگینے والی انگوٹھی۔

وہ انگوٹھی جو ہمیشہ اُس کی انگلی میں رہتی تھی۔

سیاہ نگینہ روشنی میں مکمل سیاہ دکھائی دیتا تھا، مگر ہاتھ کی معمولی سی جنبش پر اُس کے اندر کہیں بہت گہرائی میں ایک باریک سی چمک تیر جاتی۔

اُس کے ہاتھ غیر معمولی طور پر خوب صورت تھے۔

لمبی، متناسب انگلیاں۔

صاف اور ابھری ہوئی رگیں۔

مضبوط مگر نفیس گرفت۔

ایسے ہاتھ جنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے وہ طاقت استعمال کرنے کے بجائے طاقت کو قابو میں رکھنے کے عادی ہوں۔

وہ تسبیح کا ایک دانہ انگلیوں میں آگے بڑھاتا۔

پھر دوسرا۔

پھر تیسرا۔

ہر حرکت میں ایک عجیب ٹھہراؤ تھا۔

جیسے وقت اُس کے لیے باقی لوگوں کی طرح نہیں چلتا تھا۔

دروازہ کھلا۔

رایان اندر آیا۔

چند قدم چل کر رک گیا۔

“خبر پہنچ گئی ہے۔”

وہ شخص نہیں مڑا۔

“کہاں تک؟”

“اسلام آباد۔”

تسبیح کا ایک دانہ اُس کی انگلیوں کے درمیان رک گیا۔

“اچھی بات ہے۔”

رایان نے میز پر ایک سیاہ فائل رکھی۔

“اور تصویر بھی۔”

وہ آہستہ سے مڑا۔

“کس نے دیکھی؟”

“جنہیں دیکھنی چاہیے تھی۔”

اُس کے لبوں پر نہایت ہلکی مسکراہٹ آئی۔

“اچھا جواب ہے۔”

رایان خاموش رہا۔

وہ شخص شطرنج کی بساط کے قریب آیا۔

اس نے سیاہ بادشاہ کو انگلیوں سے چھوا۔

“اور ملکہ؟”

رایان نے ایک لمحے کے لیے نظریں جھکائیں۔

“وہ location دیکھ چکی ہیں۔”

تسبیح چلتی انگلیاں رک گئیں۔

چہرے پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

صرف آنکھوں کی سختی ایک لمحے کے لیے نرم ہوئی۔

“کیا اُس نے سوال کیا؟”

“نہیں۔”

“تو ابھی تک اُسے کچھ معلوم نہیں۔”

“نہیں۔”

اُس نے بہت دھیرے سے کہا:

“اچھا ہے۔”

رایان نے حیرت سے دیکھا۔

“آپ چاہتے ہیں کہ اُسے معلوم نہ ہو؟”

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر سیاہ بادشاہ کو اٹھا کر دوبارہ بساط پر رکھا۔

“نہیں۔”

اُس کی آواز مدھم تھی۔

“میں چاہتا ہوں… اُسے خود معلوم ہو۔”

—

13 اگست 2026ء — اسلام آباد

رات 12 بج کر 18 منٹ

اسلام آباد سویا نہیں تھا۔

بس اُس کی آوازیں کم ہو گئی تھیں۔

شہر کے ایک ایسے حصے میں جہاں رات کے بعد بھی چند عمارتوں کی کھڑکیوں میں روشنی جلتی رہتی تھی، ایک نجی meeting room میں پانچ افراد آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

میز پر موجود موبائل فون پہلے ہی باہر رکھوا دیے گئے تھے۔

دروازے کے باہر دو سیکیورٹی اہلکار کھڑے تھے۔

اندر سیاسی اختلافات عارضی طور پر ایک طرف رکھ دیے گئے تھے۔

ملک فہیم قریشی اپنی کرسی پر سیدھا بیٹھا تھا۔

وہ اُن سیاست دانوں میں سے تھا جنہوں نے کئی بار اپنی جماعت بدلنے کے بجائے حالات بدلتے دیکھے تھے۔

چہرے پر ہمیشہ رہنے والی سیاسی مسکراہٹ آج غائب تھی۔

اُس کے سامنے یازدان خان بیٹھا تھا۔

سیاسی میدان میں ملک فہیم کا مخالف۔

دونوں کئی بار ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو چکے تھے، مگر آج میز پر موجود معاملہ اُن کی سیاسی دشمنی سے کہیں بڑا تھا۔

تیسری نشست پر سردار حارث مگسی خاموش بیٹھا تھا۔

وہ اپنی انگلیوں سے میز پر ہلکی ہلکی ضربیں لگا رہا تھا۔

چوتھی نشست پر ایک شخص بیٹھا تھا جس کا نام کمرے میں کسی نے نہیں لیا۔

مگر اُس کی موجودگی باقی سب سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔

وہ سیاست دان نہیں تھا۔

کم از کم کاغذوں پر نہیں۔

مگر اس شہر میں بعض لوگ عہدوں سے نہیں…

فائلوں سے حکومت کرتے ہیں۔

اس کا نام کامران وقار تھا۔

وفاقی سطح پر کئی اہم عہدوں پر رہ چکا تھا۔

ایسی فائلیں اُس کی میز سے گزرتی تھیں جن کے فیصلے ایوانِ اقتدار سے کہیں دور تک اثر ڈالتے تھے۔

وہ کم بولتا تھا۔

اور جب بولتا تھا تو کمرے میں بیٹھے لوگ عموماً اُس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کرتے تھے۔

آج بھی اُس کے سامنے ایک بند فائل رکھی تھی۔

مگر اُس نے اُسے کھولا نہیں تھا۔

وہ لوگوں کے چہرے دیکھ رہا تھا۔

کس کے لہجے میں بےچینی تھی۔

کس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔

اور کون پہلے ہی کچھ جانتا تھا۔

کمرے کے آخری سرے پر بیٹھا دوسرا شخص اُس سے بھی زیادہ خاموش تھا۔

سیاہ سوٹ۔

سفید قمیض۔

سادہ گھڑی۔

کوئی نمایاں علامت نہیں۔

کوئی ایسا انداز نہیں جس سے اُس کی حیثیت کا اندازہ ہو۔

وہ اُن لوگوں میں سے تھا جنہیں پہلی نظر میں کوئی اہم نہیں سمجھتا۔

دوسری نظر میں محتاط ہو جاتا ہے۔

اور تیسری نظر میں سمجھ جاتا ہے کہ شاید اُسے دیکھنا ہی غلطی تھی۔

وہ ایک اعلیٰ ریاستی ادارے سے منسلک افسر تھا۔

مگر اُس کی اصل طاقت اُس کے عہدے سے زیادہ اُن راستوں میں تھی جن تک عام آدمی کی رسائی نہیں ہوتی۔

کمرے میں موجود چند لوگ اُسے صرف ایک مختصر سے لفظ سے جانتے تھے۔

“صاحب۔”

وہ اب تک تصویر کے بغیر بیٹھا تھا۔

جیسے اُسے پہلے ہی معلوم ہو کہ تصویر میں کیا ہونے والا ہے۔

دروازہ کھلا۔

ایک شخص اندر آیا۔

ہاتھ میں sealed envelope تھا۔

اُس نے envelope میز کے عین درمیان رکھا۔

“یہ ابھی پہنچا ہے۔”

ملک فہیم نے فوراً پوچھا:

“کہاں سے؟”

“معلوم نہیں۔”

“کس نے بھیجا؟”

“یہ بھی معلوم نہیں۔”

ملک فہیم نے ناگواری سے اسے دیکھا۔

“تو پھر تمہیں کیا معلوم ہے؟”

وہ شخص چند لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا:

“صرف اتنا کہ اسے آپ تک پہنچانا ضروری تھا۔”

وہ واپس مڑ گیا۔

دروازہ بند ہوا۔

کمرے میں کسی نے فوراً envelope کو ہاتھ نہیں لگایا۔

جیسے سب جانتے ہوں…

کچھ لفافے کاغذ نہیں لاتے۔

وہ مسئلے لاتے ہیں۔

آخرکار یازدان نے ہاتھ بڑھایا۔

seal توڑی۔

اندر سے ایک تصویر نکلی۔

اُس نے تصویر دیکھی۔

پھر دوبارہ دیکھی۔

اُس کی انگلیاں آہستہ آہستہ ڈھیلی پڑ گئیں۔

“یہ…”

ملک فہیم نے تصویر اُس کے ہاتھ سے لے لی۔

صرف دو سیکنڈ لگے۔

اُس کا چہرہ بدل گیا۔

“یہ نہیں ہو سکتا۔”

حارث آگے جھکا۔

“کون ہے؟”

کوئی جواب نہیں آیا۔

حارث نے تصویر خود لے لی۔

تصویر میں کراچی کی ایک تقریب تھی۔

روشنیاں۔

لوگ۔

کتابوں کے stacks۔

اور ہجوم سے کچھ فاصلے پر…

ایک سیاہ hoodie میں کھڑا شخص۔

چہرہ مکمل طور پر واضح نہیں تھا۔

مگر آنکھیں واضح تھیں۔

وہی گہری سیاہ آنکھیں۔

وہی سکون۔

وہی خطرناک ٹھہراؤ۔

حارث نے تصویر میز پر رکھ دی۔

“آپ لوگ اسے جانتے ہیں۔”

کامران وقار نے تصویر کی طرف دیکھا۔

پھر بہت سکون سے پوچھا:

“یہ تصویر کہاں کی ہے؟”

“کراچی۔”

“کب کی؟”

“بارہ اگست۔”

کمرے میں خاموشی اتر گئی۔

“بارہ اگست؟”

“جی۔”

کامران نے تصویر دوبارہ اٹھائی۔

اس بار اُس نے زیادہ دیر تک دیکھی۔

پھر چشمہ اتار کر میز پر رکھا۔

“یہ تصویر کس ذریعے سے آئی؟”

“نام ظاہر نہیں کیا گیا۔”

اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“تو پھر سمجھو… کسی نے بہت سوچ کر اسے یہاں پہنچایا ہے۔”

حارث نے بےچینی سے کہا:

“اگر یہ واقعی وہ ہے تو؟”

کامران نے تصویر میز پر رکھ دی۔

“تو مسئلہ اُس کے زندہ ہونے کا نہیں ہے۔”

“پھر؟”

“مسئلہ یہ ہے کہ وہ بارہ سال بعد واپس کیوں آیا ہے۔”

یازدان نے دھیرے سے کہا:

“اور اگر یہ وہ نہیں؟”

کمرے کے آخری سرے پر بیٹھے خاموش افسر نے پہلی بار تصویر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

اُس نے اسے اٹھایا۔

چند سیکنڈ تک دیکھا۔

پھر واپس میز پر رکھ دی۔

“تو کسی نے ہمیں یہ یقین دلانے کی بہت مہنگی کوشش کی ہے کہ یہ وہی ہے۔”

ملک فہیم نے اُس کی طرف دیکھا۔

“اور دونوں صورتوں میں؟”

اُس نے جواب دیا:

“دونوں صورتوں میں مسئلہ ایک ہی ہے۔”

“کیا؟”

وہ ذرا سا آگے جھکا۔

“کسی نے کھیل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔”

—

ملک فہیم نے تصویر کے نیچے پڑا سیاہ کارڈ اٹھایا۔

اُس پر صرف دو سطریں تھیں۔

“بارہ سال پہلے تم نے ایک باب بند کیا تھا۔”

نیچے:

“بادشاہ واپس آ گیا ہے۔”

حارث نے بےاختیار کرسی کی پشت سے کمر لگا لی۔

“بادشاہ…”

یازدان نے اُسے دیکھا۔

“آپ جانتے ہیں یہ کس کے لیے لکھا گیا ہے؟”

حارث نے جواب دینے کے بجائے ملک فہیم کی طرف دیکھا۔

ملک فہیم نے آنکھیں بند کیں۔

ایک لمحہ۔

پھر اُس نے کہا:

“سائم۔”

کمرے میں جیسے ہوا رک گئی۔

ایک نام…

جو بارہ برس سے صرف چند بند فائلوں، چند پرانی خبروں اور چند خوف زدہ لوگوں کی یاد میں زندہ تھا۔

سائم۔

یازدان نے دھیرے سے کہا:

“سائم مر چکا ہے۔”

خاموش افسر نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔

“آپ کو یقین ہے؟”

“ریکارڈ موجود ہے۔”

“میں ریکارڈ پوچھ نہیں رہا۔”

اُس کی آواز اب بھی پُرسکون تھی۔

“میں یقین پوچھ رہا ہوں۔”

یازدان خاموش ہو گیا۔

کامران وقار نے تصویر دوبارہ اٹھائی۔

“چہرہ مکمل نہیں ہے۔”

ملک فہیم نے کہا:

“مگر آنکھیں ہیں۔”

کامران نے اُس کی طرف دیکھا۔

“آنکھیں شناخت نہیں ہوتیں۔”

ملک فہیم کی آواز میں بےچینی تھی۔

“کبھی کبھی ہوتی ہیں۔”

کسی نے جواب نہیں دیا۔

خاموش افسر نے اپنی نشست سے پشت ہٹا کر سیدھا بیٹھتے ہوئے کہا:

“اس معاملے کو ابھی باہر نہیں جانا چاہیے۔”

“اور اگر خبر باہر نکل گئی؟”

اُس نے سیدھا جواب دیا:

“تو ہم دیکھیں گے خبر کس نے نکالی۔”

ملک فہیم نے تصویر پر نظر جمائے رکھی۔

“اور اگر واقعی وہ واپس آ گیا ہے؟”

افسر نے پہلی بار اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“تو پھر یہ صرف ایک آدمی کی واپسی نہیں ہوگی۔”

“پھر؟”

“پھر بارہ سال پرانی بہت سی قبریں کھلیں گی۔”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

کامران وقار نے اُس کی طرف دیکھا۔

مگر وہ شخص مزید کچھ کہنے کے بجائے خاموش ہو گیا۔

اُسے معلوم تھا…

کچھ باتیں جتنی کم کہی جائیں، اتنی ہی زیادہ سمجھ آتی ہیں۔

—

تصویر کے ساتھ ایک چھوٹا سا سفید کاغذ بھی تھا۔

ملک فہیم نے اُسے کھولا۔

صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“بادشاہ واپس آ گیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تخت کس کا رہتا ہے۔”

ملک فہیم کے ہاتھ میں کاغذ ٹھہر گیا۔

حارث نے بےاختیار پوچھا:

“یہ کس نے بھیجا ہے؟”

خاموش افسر نے کہا:

“جس نے بھیجا ہے، وہ چاہتا ہے کہ آپ یہ سوال پوچھیں۔”

“تو پھر؟”

“تو پھر اُس نے اپنا کام کر دیا۔”

یازدان نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا:

“ہمیں معلوم کرنا ہوگا کہ یہ آدمی ہے کون۔”

افسر نے اُسے دیکھا۔

“آپ جانتے ہیں۔”

یازدان رک گیا۔

“کیا؟”

“آپ جانتے ہیں وہ کون ہے۔”

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر افسر نے بہت دھیرے سے کہا:

“آپ صرف یہ نہیں جانتے کہ وہ اب کس شکل میں واپس آیا ہے۔”

یہ جملہ کمرے میں دیر تک معلق رہا۔

پھر وہ شخص اپنی کرسی سے اٹھا۔

فائل بند کی۔

دروازے کی طرف بڑھا۔

رکتے ہوئے بولا:

“کسی کو کچھ مت بتانا۔”

“میڈیا کو؟”

“کسی کو نہیں۔”

“اور اگر خبر باہر نکل گئی؟”

اُس نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا:

“خبر باہر نہیں نکلے گی۔”

ایک لمحے کا توقف۔

“اگر نکلی بھی…”

اُس نے پلٹ کر میز پر پڑی تصویر کو دیکھا۔

“تو ہماری طرف سے نہیں نکلے گی۔”

وہ باہر چلا گیا۔

دروازہ بند ہوا۔

کمرے میں موجود لوگوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ مسئلہ کسی مرد کی واپسی نہیں تھا۔

مسئلہ یہ تھا کہ…

بارہ سال پہلے جس کھیل کا اختتام لکھا گیا تھا، شاید اختتام ہوا ہی نہیں تھا۔

—

13 اگست 2026ء — کراچی

صبح 6 بج کر 12 منٹ

عین پوری رات سو نہیں سکی تھی۔

اُس کے study room میں پردے ابھی تک بند تھے۔

میز پر آشوب کھلی پڑی تھی۔

کتاب کے صفحات پر صبح کی ہلکی روشنی پڑ رہی تھی، مگر اُس کی نظر ایک لفظ پر بھی نہیں تھی۔

اُس کے سامنے سیاہ نگینے والی انگوٹھی رکھی تھی۔

وہ کئی بار اُسے اٹھا چکی تھی۔

پھر رکھ دیتی۔

ہر بار اُسے لگتا جیسے اُس چھوٹے سے نگینے میں کوئی ایسا سوال چھپا ہے جس کا جواب وہ جانتی ہے…

مگر ماننا نہیں چاہتی۔

فون دوبارہ روشن ہوا۔

07:00 AM — Location Reminder

عین نے screen بند کر دی۔

چند لمحے وہ وہیں بیٹھی رہی۔

پھر اچانک اُٹھی۔

الماری کھولی۔

وہاں سے ایک سادہ مگر نفیس گہرے رنگ کا coat نکالا۔

آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی۔

چند لمحوں تک اپنے عکس کو دیکھتی رہی۔

اُسے ایک عجیب سا احساس ہوا۔

جیسے اُس کے سامنے موجود عورت کے پیچھے کوئی اور لڑکی کھڑی ہو۔

بہت پرانی۔

بہت خاموش۔

جس کی آنکھوں میں ابھی زندگی کے اتنے سوال نہیں تھے۔

جس نے ابھی یہ نہیں سیکھا تھا کہ کچھ لوگ انسان سے محبت نہیں کرتے…

وہ صرف اُس کی کمزوریوں سے محبت کرتے ہیں۔

عین نے آنکھیں جھپکیں۔

عکس دوبارہ وہی تھا۔

وہی عین۔

مضبوط۔

خاموش۔

اور اپنے ماضی کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے مجبور۔

اُس نے میز سے انگوٹھی اٹھائی۔

کچھ دیر اسے دیکھا۔

پھر handbag میں رکھ لی۔

دروازے تک پہنچی۔

اچانک رک گئی۔

جیسے کسی بہت پرانی آواز نے اندر سے اُسے پکارا ہو۔

اُس نے پلٹ کر study کو دیکھا۔

اور نہ جانے کیوں…

اُس کے لبوں سے ایک نام نکلا۔

“سائم…”

وہ خود بھی چونک گئی۔

کمرے میں کوئی نہیں تھا۔

مگر اُس ایک نام نے…

بارہ سال پرانا دروازہ کھول دیا تھا۔

—

13 اگست 2026ء — مری

صبح 6 بج کر 28 منٹ

ولا کے باہر گاڑی تیار کھڑی تھی۔

رایان نے آخری بار فون دیکھا۔

“وہ نکل چکی ہیں۔”

وہ شخص کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔

اُس نے کچھ نہیں کہا۔

رایان نے پوچھا:

“کیا میں راستہ بدل دوں؟”

“نہیں۔”

“اگر وہ سیدھا یہاں پہنچ گئیں تو؟”

اُس نے تسبیح کا ایک دانہ آگے بڑھایا۔

“تو دروازہ کھول دینا۔”

رایان نے چند لمحے اُسے دیکھا۔

“اور اگر وہ آپ کو دیکھ کر واپس چلی گئیں؟”

اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“بارہ سال پہلے وہ چلی گئی تھی۔”

اُس کی نگاہ دور پہاڑوں پر ٹھہر گئی۔

“اس بار… میں اسے جانے نہیں دوں گا۔”

رایان خاموش ہو گیا۔

وہ شخص نے میز پر رکھی شطرنج کی بساط کی طرف دیکھا۔

سیاہ بادشاہ اپنی جگہ تھا۔

پھر اُس نے ایک سفید مہرہ اٹھایا۔

چند لمحے اُسے انگلیوں کے درمیان گھمایا۔

“رایان۔”

“جی؟”

“اُسے کچھ مت بتانا۔”

“کیا؟”

وہ پلٹا۔

اُس کی سیاہ آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔

“کہ بادشاہ کون ہے۔”

رایان خاموش رہا۔

وہ شخص نے سفید مہرہ واپس بساط پر رکھا۔

“یہ اُسے خود یاد آنے دو۔”

رایان نے سر جھکا دیا۔

“اور ملکہ؟”

وہ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔

پھر اُس کی آنکھوں میں پہلی بار ایک نرم سی چمک ابھری۔

“ملکہ کو تخت تک پہنچنے کے لیے بادشاہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔”

ایک وقفہ۔

“اُسے صرف یہ یاد دلانا پڑتا ہے کہ وہ ملکہ ہے۔”

رایان چلا گیا۔

وہ شخص کچھ دیر اکیلا کھڑا رہا۔

پھر شطرنج کی بساط پر آخری نظر ڈالی۔

سیاہ بادشاہ۔

سفید ملکہ۔

اور دونوں کے درمیان…

ایک خالی خانہ۔

جیسے کسی آنے والے مہرے کا انتظار کر رہا ہو۔

باہر گاڑی کے انجن کی آواز بلند ہوئی۔

پھر آہستہ آہستہ دور ہوتی چلی گئی۔

اُس نے تسبیح کو مٹھی میں بند کیا۔

اور بہت دھیرے سے کہا:

“آؤ، ملکہ۔”

ایک لمحہ۔

“دیکھتے ہیں… بارہ سال نے تمہیں کتنا بدل دیا ہے۔”

مگر شاید اُسے معلوم نہیں تھا…

کہ بعض لوگ وقت کے ساتھ نہیں بدلتے۔

وہ صرف اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں…

کہ جب ماضی واپس آتا ہے،

تو اُس سے بھاگتے نہیں۔

اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھتے ہیں—

“اب کیا لینے آئے ہو؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *