ASHOOB BY KHANUM EPISODE 1.

کچھ واپسیوں کی آہٹ قدموں سے نہیں آتی،
وہ پہلے شہر کی خاموشی میں اترتی ہیں۔
پھر بند دروازوں کے پیچھے چراغ جلتے ہیں،
پرانے نام دوبارہ سرگوشیوں میں لیے جاتے ہیں،
اور وہ لوگ بےچین ہونے لگتے ہیں
جنہوں نے کبھی سمجھا تھا کہ قصہ ختم ہو چکا ہے۔
مگر قصے کبھی ختم نہیں ہوتے۔
صرف اپنے کردار بدل لیتے ہیں۔
کبھی مقتول کی قبر سے سوال اٹھتا ہے،
کبھی قیدخانے کی دیواروں سے جواب۔
کبھی ایک عورت اپنے زخموں کو کتاب بنا دیتی ہے،
اور کبھی ایک مرد اپنی خاموشی کو ہتھیار۔
اور جب ماضی بارہ سال بعد لوٹ کر آئے،
تو وہ معافی مانگنے نہیں آتا۔
وہ صرف ایک چیز مانگتا ہے
حساب۔
کیونکہ کچھ کھیل وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے…
صرف بساط پر مہرے بدلتے ہیں۔
اور بادشاہ…
ہمیشہ آخری چال کے لیے زندہ رہتا ہے۔

____________
پہاڑوں پر اُس رات کچھ عجیب تھا۔
ہوا چل رہی تھی، مگر درخت خاموش تھے۔
دھند پہاڑی راستوں پر اس طرح پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے پوری وادی کو سفید کفن میں لپیٹ دیا ہو۔ دور کہیں بادل گرجتے تو چند لمحوں کے لیے سیاہ آسمان روشن ہو جاتا، پھر سب کچھ پہلے سے زیادہ تاریک محسوس ہونے لگتا۔
پہاڑ کی چوٹی پر بنا وہ ولا اس اندھیرے میں کسی محل سے زیادہ ایک قلعہ لگ رہا تھا۔
بارہ برس سے وہاں کوئی نہیں آیا تھا۔
بارہ برس سے اُس دروازے کے باہر کسی گاڑی کے رکنے کی آواز نہیں سنی گئی تھی۔
پھر…
رات کے دو بج کر چھپن منٹ پر گیٹ کھلا۔
آہستہ۔
بہت آہستہ۔
جیسے لوہے کا وہ بھاری دروازہ بھی جانتا ہو کہ کس کے لیے کھل رہا ہے۔
دھند کے پار دو سفید روشنیاں نمودار ہوئیں۔
ایک سیاہ گاڑی۔
وہ بغیر کسی جلدی کے اندر داخل ہوئی اور پورچ کے نیچے آ کر رک گئی۔
انجن بند ہوا۔
پہاڑ دوبارہ خاموش ہو گئے۔
چند لمحے کچھ نہیں ہوا۔
پھر پچھلا دروازہ کھلا۔
سب سے پہلے ایک ہاتھ باہر آیا۔
لمبی، مضبوط انگلیاں۔
کلائی پر سیاہ گھڑی۔
پھر ایک قدم زمین پر پڑا۔
اور وہ شخص گاڑی سے باہر آ گیا۔
وہ غیر معمولی طور پر بلند قامت تھا۔
چوڑے شانے، متناسب جسم، اور سیاہ کوٹ میں لپٹا ہوا ایسا وجود جو پہلی نظر میں ہی اپنی جگہ کا تعین کر دیتا تھا۔
بارش کے ننھے قطرے اس کے کوٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے۔
سیاہ بال قدرے بھیگے ہوئے تھے؛ گھنے، نرم اور بےترتیب انداز میں ماتھے پر گرے تھے۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ اٹھایا اور بالوں کو پیچھے کیا۔
پھر روشنی اس کے چہرے پر پڑی۔
اور شاید پہلی نظر میں سب سے زیادہ حیران کن چیز اس کی آنکھیں تھیں۔
گہری سیاہ آنکھیں۔
بےحد پرسکون۔
اتنی پرسکون کہ ان میں چھپا ہوا خطرہ اور بھی نمایاں ہو جاتا تھا۔
تیز جبڑا، صاف تراشی ہوئی ہڈیوں کا نقش، سیدھی ناک، بھنوؤں کی ہلکی سی سخت خمیدگی اور ہونٹوں پر ٹھہری وہ خاموشی…
وہ خوبصورت تھا۔
مگر اس کی خوبصورتی میں کوئی نرمی نہیں تھی۔
وہ ایسی خوبصورتی تھی جو تعریف مانگتی نہیں تھی۔
بس نظر کو روک لیتی تھی۔
اور پھر دل میں ایک بےنام سا خوف چھوڑ جاتی تھی۔
جیسے سامنے کوئی حسین چہرہ نہیں…
کوئی ایسا راز کھڑا ہو جسے جاننے کی خواہش بھی خطرناک ہو۔
اس نے کوٹ کی جیب سے سگریٹ نکالی۔
ہونٹوں کے درمیان رکھی۔
لائٹر جلایا۔
شعلے کی مختصر سی روشنی میں اس کا چہرہ اور نمایاں ہوا۔
اس نے پہلا کش لیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
پہلا قدم۔
پھر دوسرا۔
ولا کی پہلی کھڑکی روشن ہوئی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
ایک ایک کر کے پوری عمارت جاگنے لگی۔
پردوں کے پیچھے سائے حرکت کرنے لگے۔
راہداریوں میں قدموں کی چاپ سنائی دی۔
دروازے کھلے۔
مگر کوئی باہر نہیں آیا۔
جیسے اس عمارت کے ہر شخص کو خبر ہو گئی ہو کہ…
جس شخص کا انتظار نہیں کیا جا رہا تھا، وہ آ چکا ہے۔
دروازہ اس کے قریب پہنچنے سے پہلے کھل گیا۔
سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا۔
سیاہ سوٹ، ہاتھ میں فائل، چہرے پر ضبط اور آنکھوں میں برسوں کی وفاداری۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔
“ویلکم بیک، سر۔”
وہ شخص رکا۔
اس کی نظریں نوجوان پر ٹھہریں۔
“رایان۔”
صرف نام۔
مگر رایان نے فوراً سر جھکا دیا۔
“جی۔”
وہ اندر داخل ہوا۔
چلتے ہوئے پوچھا،
“کتنے سال؟”
“بارہ۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر دھیرے سے بولا،
“بہت کچھ بدل گیا ہوگا۔”
رایان نے فائل مضبوطی سے تھامی۔
“بہت کچھ۔”
وہ رک گیا۔
“اور جو نہیں بدلا؟”
رایان نے اس کی طرف دیکھا۔
“وہ اب بھی آپ کا انتظار کر رہا ہے۔”
اس کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
“اچھا۔”
وہ ہال کے آخری سرے تک پہنچا۔
وہاں ایک سیاہ کرسی رکھی تھی۔
بارہ برس سے خالی۔
وہ اس کے سامنے کھڑا رہا۔
کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔
پھر ہاتھ بڑھایا۔
کرسی کی پشت پر انگلیاں رکھیں۔
اور آہستہ سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
کرسی کی ہلکی سی آواز پورے ہال میں پھیل گئی۔
وہ بیٹھ گیا۔
اسی لمحے…
کمرے میں موجود ہر شخص نے سر جھکا دیا۔
رایان نے دھیرے سے پوچھا،
“کیا سب کو اطلاع کر دوں؟”
وہ شخص نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی۔
“نہیں۔”
“پھر؟”
وہ کھڑکی کے باہر دیکھتا رہا۔
دھند کے پار شہر سو رہا تھا۔
بارہ برس سے بےخبر۔
بارہ برس سے بےفکر۔
اس کے ہونٹوں پر ایک نہایت ہلکی مسکراہٹ آئی۔
“خبر پھیلاؤ۔”
رایان خاموش رہا۔
“کیا خبر؟”
وہ آہستہ سے مڑا۔
اس کی سیاہ آنکھوں میں اب سکون نہیں تھا۔
وہی پرانی سردی واپس آ چکی تھی۔
“یہ نہیں کہ میں واپس آ گیا ہوں۔”
ایک لمحے کی خاموشی۔
پھر اس نے انگلیوں سے میز پر ایک بار دستک دی۔
ٹھک۔
“خبر یہ پھیلاؤ کہ…”
اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔
مگر پورا ہال جیسے اسے سننے کے لیے جھک گیا۔
“بادشاہ نے اپنا دربار دوبارہ کھول دیا ہے۔”
رایان نے سر جھکا دیا۔
“جی، حضور۔”
وہ شخص کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
باہر بجلی چمکی۔
ایک لمحے کے لیے اس کا پورا چہرہ روشن ہوا۔
اور پھر اندھیرا لوٹ آیا۔
مگر اس بار…
اندھیرا خالی نہیں تھا۔
بارہ برس بعد، پہاڑوں پر صرف ایک شخص واپس نہیں آیا تھا۔
ایک ایسی سلطنت جاگ اٹھی تھی جسے دنیا نے مدتوں پہلے مردہ سمجھ لیا تھا۔
___________

کراچی

رات — 8:00 بجے

کراچی کی رات کبھی مکمل خاموش نہیں ہوتی۔
سمندر کی طرف سے آتی نمکین ہوا، دور تک پھیلی سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کی روشنیاں، بلند عمارتوں کی شیشے کی کھڑکیوں میں جلتے مدھم بلب اور کہیں دور سے آتی موسیقی…
یہ شہر شاید سونے کے لیے بنا ہی نہیں تھا۔
مگر اُس رات شہر کے نسبتاً پُرسکون حصے میں، دریا کے کنارے قائم ایک نفیس اٹالوی طرز کے ریسٹورنٹ کے باہر معمول سے کہیں زیادہ ہلچل تھی۔
سفید پتھر سے بنی عمارت کے بلند محراب دار دروازے، گہرے لکڑی کے فریم، شیشے کی وسیع دیواریں اور داخلی راستے کے دونوں جانب نصب قدیم طرز کے لمبے چراغ اسے رات کی تاریکی میں کسی پرانے یورپی محل جیسی خوب صورتی دے رہے تھے۔
بارش کچھ دیر پہلے ہی رکی تھی۔
فرش پر جمی نمی روشنیوں کو اپنے اندر منعکس کر رہی تھی۔
ہوا میں گیلی مٹی، لکڑی اور دریا کے پانی کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔
پارکنگ میں ایک کے بعد ایک مہنگی گاڑیاں آ کر رک رہی تھیں۔
سیکیورٹی معمول سے کہیں زیادہ تھی۔
اندر تقریباً ہر میز پُر تھی۔
کسی کے ہاتھ میں موبائل تھا، کسی کے پاس کیمرہ، اور کئی میزوں پر ایک ہی کتاب رکھی ہوئی تھی۔
آشوب۔
آج اس کتاب کی باضابطہ لانچ تھی۔
مگر سچ یہ تھا کہ لوگوں کی دلچسپی کتاب سے کہیں زیادہ اُس عورت میں تھی جس نے اسے لکھا تھا۔
پاکستان کی معروف کلینیکل سائیکالوجسٹ—
عین سائمے۔
عین سائمے محض ایک سائیکالوجسٹ نہیں تھی۔
وہ ایک نام تھی۔
ایک آواز تھی۔
ایک ایسا چہرہ جسے لوگ اسکرین کے اُس پار سے دیکھتے اور اپنے اندر کی کسی ایسی بات کو پہچان لیتے تھے جسے وہ برسوں سے لفظ نہیں دے پائے تھے۔
اس کے سیشنز کے مختصر کلپس لاکھوں ویوز حاصل کرتے تھے۔
اس کے انٹرویوز پر بحث ہوتی تھی۔
اس کے جملے کوٹس بن کر لوگوں کی اسکرینز پر گردش کرتے تھے۔
مگر عین کے بارے میں ایک سوال آج تک اَن آنسرڈ تھا۔
سائمے۔
یہ نام کہاں سے آیا تھا؟
کیا یہ اُس کے خاندان کا نام تھا؟
کسی پرانی شناخت کا حصہ؟
یا پھر کسی ایسی کہانی کا ٹکڑا جسے عین نے دنیا سے چھپا رکھا تھا؟
لوگوں نے بہت سے اندازے لگائے تھے۔
مگر عین نے کبھی وضاحت نہیں کی۔
شاید اس لیے کہ کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے۔
وہ اپنے اندر پوری زندگیاں چھپا کر رکھتے ہیں۔

رات کے ٹھیک آٹھ بجے اسٹیج پر لگی روشنی قدرے تیز ہوئی۔
مدھم گفتگو آہستہ آہستہ خاموشی میں بدلنے لگی۔
ایک نوجوان ہوسٹ مائیک تھامے اسٹیج کے درمیان آ کھڑا ہوا۔
“خواتین و حضرات…”
چند آخری سرگوشیاں بھی ختم ہو گئیں۔
“آج کی شام یقیناً ہمارے لیے بہت خاص ہے۔”
اُس نے ہال پر ایک نظر ڈالی۔
“کیونکہ آج ہم صرف ایک کتاب کی لانچ کے لیے یہاں جمع نہیں ہوئے… بلکہ اُس شخصیت کو سننے کے لیے بھی آئے ہیں جس نے گزشتہ چند برسوں میں ہزاروں لوگوں کو اپنے اندر جھانکنے کا حوصلہ دیا۔”
تالیاں بجیں۔
وہ مسکرایا۔
“آپ سب کی پسندیدہ کلینیکل سائیکالوجسٹ، اسپیکر اور آتھر…”
اُس نے ایک مختصر توقف کیا۔
“مس عین سائمے۔”
پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
موبائل فونز کی اسکرینیں روشن ہو گئیں۔
کیمروں کا رخ داخلی راستے کی طرف ہوگیا۔
مگر…
ہال کے بائیں جانب، تیسری میز کے کونے میں بیٹھا ایک شخص بالکل خاموش رہا۔
اُس نے تالیاں نہیں بجائیں۔
بس اپنی جگہ بیٹھا رہا۔
سیاہ ہُوڈی اُس کے سر کے گرد سایہ بنائے ہوئے تھی۔
گھنے سیاہ بالوں کی چند بےترتیب لٹیں پیشانی پر گری ہوئی تھیں۔
چہرہ مکمل روشنی میں نہیں تھا۔
روشنی صرف کبھی اُس کے رخسار کے ایک حصے کو چھوتی، کبھی جبڑے کی لکیر کو نمایاں کرتی، اور کبھی آنکھوں تک پہنچنے سے پہلے ہی اُس کے چہرے کو دوبارہ سائے میں چھوڑ دیتی۔
مگر جتنا چہرہ دکھائی دیتا تھا…
اُس میں ایک عجیب سی مردانہ وجاہت تھی۔
سیدھی ناک۔
مضبوط جبڑا۔
ہلکی سی بڑھی ہوئی داڑھی۔
ترشے ہوئے نقوش۔
اور ایک ایسی خاموش کشش جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں تھا۔
مگر اُس شخص کی اصل پراسراریت اُس کے چہرے میں نہیں تھی۔
اُس کی آنکھوں میں تھی۔
سیاہ۔
گہری۔
غیرمعمولی طور پر پرسکون۔
ایسی آنکھیں جن میں غصہ بھی خاموش تھا اور انتظار بھی۔
اعلان ختم ہوا۔
اُس کے لبوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
اُس نے میز پر رکھی انگلیوں کو آہستہ سے سمیٹا۔
پھر دھیرے سے بولا—
“فائنلی… عین۔”
اُس کی نظریں داخلی دروازے پر جم گئیں۔
ایک لمحے بعد اُس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی۔
“بارہ سال…”
لفظ اُس کے لبوں پر آیا۔
پھر وہ خاموش ہوگیا۔
جیسے بارہ سال…
صرف وقت نہ ہوں۔
ایک لمبی سزا ہوں۔
اسی وقت…
ریسٹورنٹ کے باہر ایک سیاہ گاڑی آ کر رکی۔
ڈرائیور فوراً باہر نکلا۔
پچھلا دروازہ کھولا گیا۔
سب سے پہلے ایک نفیس سفید ہیل زمین پر آئی۔
پھر ہلکے فیروزی رنگ کا لباس۔
اور اُس کے بعد…
عین۔
اُس کے ساتھ عائشہ تھی۔
کائنات عین کی صرف دوست نہیں تھی۔
وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھی جنہیں عین اپنی خاموشیوں کے درمیان بھی جگہ دیتی تھی۔
گزشتہ کئی برسوں میں جب عین نے اپنی پروفیشنل زندگی کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا، کائنات اُن چند لوگوں میں رہی جو اُس کی شہرت سے نہیں…
اُس کی ذات سے واقف تھے۔
وہ اُس وقت بھی اُس کے ساتھ تھی جب عین صرف ایک امبیشَس لڑکی تھی، جس کے خواب بہت بڑے تھے مگر راستے بہت الجھے ہوئے۔
اور شاید اسی لیے…
کائنات عین کی اُن خاموشیوں کو بھی پڑھ لیتی تھی جنہیں عین لفظوں میں بیان نہیں کرتی تھی۔
کائنات کا جسم قدرے بھرا ہوا تھا۔
چہرے پر واضح پختون نقوش، کشادہ پیشانی، متوازن ناک، گہری آنکھیں اور وہ مخصوص سنجیدگی جو اُس کے چہرے پر بڑے فریم والے عینک کے پیچھے اور نمایاں محسوس ہوتی تھی۔
وہ اکثر بڑے، موٹے فریم والے گلاسز پہنتی تھی جو اُس کے چہرے کا حصہ محسوس ہوتے تھے۔
مگر اُن گلاسز کے پیچھے چھپی آنکھوں میں ہمیشہ ایک شرارتی سی روشنی رہتی تھی۔
وہ عین کے بالکل برعکس تھی۔
عین اپنے احساسات چھپا لیتی تھی۔
کائنات اُنہیں چھپانا جانتی ہی نہیں تھی۔نہ ہی چھپانا چاہتی تھی۔
گاڑی سے اترتے ہی اُس نے عین کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
پھر اُس کی نظر لباس پر رک گئی۔
“ایک منٹ۔”
عین نے مڑ کر دیکھا۔
“کیا ہوا؟”
کائنات نے اپنی گلاسز ذرا اوپر کیں۔
“تم نے میرا چوز کیا ہوا کلر پہنا ہے؟”
عین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔
“تمہیں کیسے پتا؟”
“کیونکہ یہ کلر میں نے تمہیں پچھلے ہفتے بھی سجسٹ کیا تھا۔”
“اور میں نے کہا تھا مجھے پسند نہیں۔”
“ہاں۔”
کائنات نے فخر سے سر ہلایا۔
“پھر بھی پہن لیا۔”
عین ہنس دی۔
“شاید آج تمہاری بات ماننے کا موڈ تھا۔”
کائنات نے فوراً اُس کا بازو پکڑ لیا۔
“یہ موڈ خطرناک ہے۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ آج تم پہلی بار میری بات مان رہی ہو۔”
عین نے اُس کی طرف دیکھا۔
“اور اگر دوسری بار بھی مان لی تو؟”
کائنات نے عینک کے اوپر سے اُسے دیکھا۔
“پھر میں تمہاری شادی بھی خود کروا دوں گی۔”
عین کی مسکراہٹ ایک لمحے کو رکی۔
پھر اُس نے کائنات کو ہلکا سا دھکا دیا۔
“چلو اندر۔”
کائنات نے اُس کے ساتھ قدم ملایا۔
“اچھا اچھا… سائیکالوجسٹ صاحبہ ناراض ہوگئیں۔”
“میں ناراض نہیں ہوتی۔”
“تم ہوتی ہو۔”
“نہیں۔”
“تم بہت ہوتی ہو۔”
عین نے اُس کی طرف دیکھا۔
“تم بہت بولتی ہو۔”
کائنات مسکرا دی۔
“اور تم بہت چھپاتی ہو۔”
ایک لمحے کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی آئی۔
عین نے نظریں سامنے کر لیں۔
کائنات نے مزید کچھ نہیں کہا۔
وہ جانتی تھی…
کچھ باتیں مذاق میں شروع ہو کر بھی اُن جگہوں تک پہنچ جاتی ہیں جہاں جانا دونوں نہیں چاہتے۔
دونوں اندر داخل ہوئیں۔
جیسے ہی عین نے ہال میں قدم رکھا، کیمروں کی فلیش ایک ساتھ چمکی۔
کسی نے پکارا—
“عین!”
اُس نے آواز کی سمت دیکھا۔
ہلکا سا مسکرائی۔
کسی نوجوان لڑکی نے ہاتھ ہلایا۔
عین نے بھی جواب میں ہاتھ اٹھایا۔
وہ شہرت کی عادی تھی۔
مگر اُس نے کبھی شہرت کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیا تھا۔
اُس کا لباس سادہ تھا مگر نفیس۔
ہلکے فیروزی رنگ کا لانگ فراک اُس کے وجود پر بےحد وقار سے سجا ہوا تھا۔
کپڑے کی سطح روشنی پڑنے پر ہلکی سی چمک پیدا کر رہی تھی۔
دامن زمین کے قریب تک آتا تھا، جس کے نیچے سفید پنسل ہیلز کی صرف ایک نازک سی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
اسی رنگ کا نفیس حجاب اُس کے سر پر سلیقے سے بندھا ہوا تھا، جبکہ ایک ہلکی شال اُس کے کندھے سے ہوتی ہوئی بازو کے قریب ٹھہری ہوئی تھی۔
ہاتھ میں ایک چھوٹا سا اسٹرکچرڈ ہینڈ بیگ تھا۔
مگر اُس کے لباس سے زیادہ توجہ اُس کے چہرے نے اپنی طرف کھینچی۔
بڑی، گہری آنکھیں۔
نرم مگر واضح نقوش۔
ناک میں جڑی باریک سی نوز رنگ۔
اور ہونٹ کے بائیں جانب وہ چھوٹا سا تل…
جیسے کسی مصور نے تصویر مکمل کرنے سے پہلے آخری لمحے میں ایک نقطہ رکھ دیا ہو۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
تل اور نمایاں ہوگیا۔
مگر اُس مسکراہٹ میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو صرف غور سے دیکھنے والا محسوس کر سکتا تھا۔
جیسے زندگی نے اُسے مسکرانا تو سکھا دیا ہو…
مگر بےفکری سے ہنسنا بھلا دیا ہو۔
اور اُسی لمحے…
تیسری میز پر بیٹھے شخص کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
اُس نے جیسے برسوں بعد پہلی بار سانس لی ہو۔
اُس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے وہ سرد سکون نہیں رہا۔
کچھ اور تھا۔
ایک ایسی کیفیت…
جس کا نام شاید وہ خود بھی نہیں لینا چاہتا تھا۔
اُس کی نگاہ عین کے لباس پر گئی۔
لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“یہ رنگ…”
وہ بہت آہستہ بولا۔
“تم پر اب بھی خوب صورت لگتا ہے۔”
ایک لمحہ۔
پھر اُس کی نظریں عین کے چہرے پر رک گئیں۔
“نہیں۔”
مسکراہٹ قدرے گہری ہوئی۔
“خوب صورتی رنگ میں نہیں۔”
اُس نے بہت دھیرے سے کہا—
“تم میں ہے۔”
اسٹیج کے قریب پہنچتے ہی زویا اُن کے استقبال کے لیے آگے بڑھی۔
زویا عین کی سیکریٹری تھی۔
گزشتہ کئی برسوں سے وہ عین کے پروفیشنل کمٹمنٹس، میٹنگز، انٹرویوز، پبلشنگ شیڈیولز اور بےشمار پبلک اپیئرنسز سنبھال رہی تھی۔
قدرے لمبا قد، نفیس لباس، ہمیشہ ترتیب سے بندھے بال اور ہاتھ میں ٹیبلیٹ یا ڈائری…
وہ اُن لوگوں میں سے تھی جو عین کے دن کو اُس وقت بھی ترتیب میں رکھ سکتی تھی جب عین خود اپنی زندگی کے کسی گوشے کو ترتیب دینے کی حالت میں نہ ہو۔
زویا نے مسکرا کر کہا:
“ریڈی؟”
عین نے ہلکا سا سر ہلایا۔
“آل ویز۔”
زویا نے اُس کی طرف جھک کر آہستہ سے کہا:
“اور پلیز… آج کوئی ایگزسٹینشل کرائسس آڈیئنس کے سامنے مت شروع کر دینا۔”
عین ہنس دی۔
“میں ایسا کبھی نہیں کرتی۔”
کائنات فوراً بولی:
“جھوٹ۔”
زویا ہنس پڑی۔
“گڈ۔ پھر آج کی شام بچ سکتی ہے۔”
عین نے دونوں کو دیکھا۔
“تم دونوں مل کر مجھے ایمبیرَس کرنے آئی ہو؟”
کائنات نے گلاسز درست کیے۔
“ہم تو صرف حقیقت بتانے آئے ہیں۔”
زویا نے مائیک سنبھالا۔
“چلیں؟”
عین نے ایک گہری سانس لی۔
“چلیں۔”
اور وہ اسٹیج کی طرف بڑھ گئی۔
“گڈ ایوننگ، ایوری ون۔”
زویا کی آواز ہال میں پھیلی۔
تالیاں بجیں۔
“جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، آج ہم صرف ایک کتاب کی لانچ کے لیے یہاں جمع نہیں ہوئے…”
اُس نے عین کی طرف دیکھا۔
“بلکہ اُس ذہن اور اُس دل کو سننے کے لیے بھی آئے ہیں جس نے یہ کتاب لکھی۔”
پھر اُس نے مائیک عین کی طرف بڑھا دیا۔
عین نے اسے تھاما۔
چند لمحے اُس نے سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھا۔
اتنے سارے چہرے۔
اتنی ساری نظریں۔
اتنی ساری توقعات۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا:
“شاید کتاب لکھنے سے زیادہ مشکل… اپنے اندر کے اُن حصوں کو لفظ دینا ہوتا ہے جنہیں ہم خود بھی نام نہیں دے پاتے۔”
ہال خاموش ہوگیا۔
“آشوب میرے لیے صرف ایک کتاب نہیں۔”
اُس نے میز پر رکھی کتاب کی طرف دیکھا۔
“یہ اُن سوالوں کا مجموعہ ہے جن کے جواب انسان اکثر دوسروں سے نہیں… خود سے مانگتا ہے۔”
ایک لمحہ۔
“ہم سب کے اندر ایک ایسا کمرہ ضرور ہوتا ہے…”
اُس کی آواز قدرے دھیمی ہوئی۔
“جس کا دروازہ ہم دوسروں کے لیے تو کیا… کبھی کبھی اپنے لیے بھی بند رکھتے ہیں۔”
کسی نے سر ہلایا۔
عین نے کتاب کی طرف دیکھا۔
“آشوب اُنہی بند دروازوں کے بارے میں ہے۔”
تالیاں بجیں۔
مگر عین کی نظر ایک لمحے کے لیے ہال کے اُس کونے کی طرف گئی جہاں تیسری میز تھی۔
سیاہ ہُوڈی والا شخص اب بھی وہیں بیٹھا تھا۔
اندھیرے میں۔
خاموش۔
صرف اُس کی آواز…
اور وہ بھی ابھی نہیں۔
عین نے نظریں واپس موڑ لیں۔
سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔
ایک نوجوان لڑکی نے پوچھا:
“کیا انسان واقعی اپنے پاسٹ سے نکل سکتا ہے؟”
عین نے چند لمحے سوچا۔
“نکل سکتا ہے۔”
پھر مسکرائی۔
“مگر پاسٹ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔”
“پھر کیا کیا جائے؟”
“اُسے اپنی شناخت بننے سے روکیں۔”
اگلا سوال آیا۔
“کیا وقت ہر زخم بھر دیتا ہے؟”
اس بار عین فوراً جواب نہ دے سکی۔
اُس کی نظریں چند لمحوں کے لیے نیچے ہوئیں۔
پھر وہ بولی:
“وقت زخم نہیں بھرتا۔”
ہال خاموش ہوا۔
“وقت صرف ہمیں اُس زخم کے ساتھ جینا سکھاتا ہے۔”
ایک نوجوان نے پوچھا:
“کیا محبت انسان کو کمزور بناتی ہے؟”
عین کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
“محبت نہیں۔”
ایک مختصر توقف۔
“غلط انسان کو اپنی پوری دنیا بنا دینا کمزور کرتا ہے۔”
ہال میں ہلکی سی سرگوشی ہوئی۔
کائنات نے عین کو دیکھا۔
وہ اُس جواب کو جانتی تھی۔
کچھ جواب سائکولوجی کی کتابوں میں نہیں ہوتے۔
وہ زندگی لکھتی ہے۔
پھر ایک سوال آیا:
“اگر کوئی شخص ہمیں دھوکا دے تو کیا اُسے معاف کر دینا چاہیے؟”
عین نے مائیک مضبوطی سے تھاما۔
“معاف کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔”
ایک لمحہ۔
“مگر دوبارہ اعتماد کرنا ضروری نہیں۔”
تالیاں بجیں۔
اور پھر…
ہال کے پچھلے حصے سے نہیں۔
سامنے سے نہیں۔
بلکہ اُس تاریک کونے سے ایک آواز ابھری۔
“اگر کسی انسان نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل دن اکیلے گزارے ہوں…”
عین کی نظریں اُس سمت اٹھیں۔
سیاہ ہُوڈی۔
اندھیرا۔
چہرہ واضح نہیں۔
صرف آواز۔
“اپنے آنسو خود پونچھے ہوں…”
آواز پرسکون تھی۔
“اپنے زخم خود سلے ہوں…”
ایک وقفہ۔
“اور آخرکار یہ سیکھ لیا ہو کہ اُسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں…”
عین کے ہاتھ میں موجود مائیک ذرا سا رک گیا۔
وہ شخص اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
“تو کیا اُس کا دوبارہ کسی پر اعتبار کرنا اُس کی کمزوری ہوگی؟”
ہال مکمل خاموش تھا۔
“یا اصل بہادری یہ ہوگی…”
اُس کی آواز میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
“کہ وہ ایک بار پھر اپنے دل کو یہ اجازت دے کہ اگر کوئی شخص سچ میں اُس کے لیے واپس آئے…”
ایک مختصر وقفہ۔
“تو شاید اُسے ہر بار یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑے کہ وہ اکیلا ہی کافی ہے۔”
عین کے اندر جیسے کسی نے اچانک ایک پرانا دروازہ کھول دیا۔
وہ چند لمحوں تک خاموش رہی۔
پھر اُس نے مائیک اپنے قریب کیا۔
“شاید…”
اُس کی آواز بہت ہلکی تھی۔
“دوبارہ اعتبار کرنا کمزوری نہیں ہوتا۔”
وہ اُس سمت دیکھتی رہی۔
“لیکن ہر اُس شخص کو دوبارہ اپنے قریب آنے دینا جس نے ایک بار آپ کو توڑا ہو… یہ بھی ضروری نہیں۔”
ہال میں مکمل خاموشی تھی۔
“معاف کرنا اور دوبارہ اُسی جگہ کھڑے ہو جانا… دونوں الگ چیزیں ہیں۔”
اُس نے ایک لمحے کے لیے سانس لی۔
“کبھی کبھی انسان معاف کر دیتا ہے…”
ہونٹوں پر اداس سی مسکراہٹ آئی۔
“مگر اُس کا دل دوبارہ اُس جگہ نہیں جاتا جہاں سے اُسے ایک بار خود کو نکالنا پڑا ہو۔”
تالیاں بج اٹھیں۔
لوگوں کو جواب مل گیا تھا۔
مگر عین کے لیے…
سوال ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
کیونکہ اُس شخص کی آواز میں کچھ تھا۔
کچھ ایسا…
جسے وہ پہچان نہیں رہی تھی۔
مگر جس نے اُس کے اندر کسی بھولی ہوئی جگہ کو ضرور چھو لیا تھا۔
عین نے صرف ایک لمحے کے لیے اُس سمت دیکھا۔
خالی کرسی۔
وہ جا چکا تھا۔
سوال جواب کے بعد کتاب سائننگ شروع ہوئی۔
زویا نے فوراً سائننگ ڈیسک ترتیب دیا۔
کتابوں کا ایک خوب صورت ڈھیر میز کے ایک جانب رکھا گیا تھا۔
سیاہ جلد پر سنہری حروف میں لکھا تھا:
آشوب
عین کرسی پر بیٹھی۔
پہلی لڑکی کتاب لے کر آئی۔
“میم، میرے لیے کچھ لکھ دیں۔”
عین نے مسکرا کر پوچھا:
“نام؟”
“حورین۔”
عین نے کتاب کھولی۔
کچھ لمحے سوچا۔
پھر لکھا:
“اپنے آپ سے دوبارہ ملنے کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا،
مگر یہ سفر ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔”
نیچے اُس نے دستخط کیے۔
“تھینک یو۔”
“ٹیک کیئر۔”
پھر دوسرا شخص آیا۔
پھر تیسرا۔
کسی نے تصویر بنوائی۔
کسی نے اُس سے اُس کی کتاب کا فیورٹ چیپٹر پوچھا۔
کسی نے کہا:
“میم، آپ کی ایک لائن نے میری لائف بدل دی۔”
عین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“پھر اُسے اپنی لائف ہی رہنے دینا… میری لائن مت بنانا۔”
وہ شخص ہنس پڑا۔

ایک کے بعد ایک کتاب۔
ایک کے بعد ایک چہرہ۔
ایک کے بعد ایک دستخط۔
اور پھر…
قطار ختم ہوگئی۔
عین نے قلم میز پر رکھا۔
اُس نے تھکے ہوئے انداز میں سانس خارج کی۔
کائنات قریب آئی۔
“بس؟”
عین نے سر ہلایا۔
“بس۔”
“زندہ ہو؟”
“مشکل سے۔”
کائنات ہنس دی۔
“میں نے کہا تھا سائیکالوجسٹ موڈ بند رکھنا۔”
عین نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔
“اور تم نے کہا تھا تین منٹ بھی لیٹ ہوتے ہیں۔”
“میں نے صحیح کہا تھا۔”
دونوں ہنس دیں۔
مگر اُس ہنسی کے درمیان…
عین کی نظر میز کے قریب پڑی ایک چیز پر جا ٹھہری۔
کچھ سیاہ سا…
مدھم روشنی میں چمک رہا تھا۔
وہ جھکی۔
ایک انگوٹھی۔
اُس نے اُسے اٹھایا۔
سیاہ نگینہ۔
اُس کے گرد سفید دھات کا نہایت باریک فریم تھا، جو تاج کی چھوٹی سی ساخت جیسا معلوم ہوتا تھا۔
اور نگینے کے اندر…
ایک عجیب سا نشان۔
پہلی نظر میں محض ایک بےترتیب لکیر۔
مگر غور سے دیکھنے پر…
وہ ایس جیسا لگتا تھا۔
عین کی انگلیاں اچانک رک گئیں۔
“یہ…”
کائنات نے اُس کی طرف دیکھا۔
“کیا ہوا؟”
عین نے جواب نہیں دیا۔
اُس کی نظریں نگینے پر تھیں۔
اُس کے اندر جیسے کہیں بہت دور…
دھند اٹھنے لگی تھی۔
پہاڑ۔
بارش۔
ٹھنڈی ہوا۔
اور ایک آواز۔
وہ آواز جو یاد نہیں آ رہی تھی…
صرف محسوس ہو رہی تھی۔
عین نے فوراً مٹھی بند کر لی۔
“کچھ نہیں۔”
کائنات نے اُس کے چہرے کو دیکھا۔
“عین۔”
“میں ٹھیک ہوں۔”
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
عین نے اُس کی طرف دیکھا۔
کچھ کہنا چاہا۔
پھر خاموش ہوگئی۔
“مجھے خود نہیں معلوم…”
اُس نے بہت آہستہ کہا۔
“کہ یہ چیز مجھے اتنی جانی پہچانی کیوں لگ رہی ہے۔”
رات ساڑھے گیارہ بجے عین ریسٹورنٹ سے باہر نکلی۔
بارش دوبارہ شروع ہو چکی تھی۔
اس بار بوندیں بہت ہلکی تھیں۔
سڑک کی زرد روشنی میں وہ قطرے چند لمحوں کے لیے چمکتے، پھر اندھیرے میں گم ہو جاتے۔
عین گاڑی میں بیٹھی۔
کائنات اُس کے ساتھ تھی۔
کچھ دیر دونوں خاموش رہیں۔
پھر عائشہ نے دھیرے سے پوچھا:
“وہ انگوٹھی؟”
عین نے اپنی مٹھی کھولی۔
سیاہ نگینہ مدھم روشنی میں چمکا۔
“پتا نہیں۔”
“تم نے رکھ کیوں لی؟”
عین نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
بارش شیشے پر لکیریں بنا رہی تھی۔
“شاید…”
وہ رک گئی۔
“شاید مجھے اس کا جواب چاہیے۔”
“کس سوال کا؟”
عین نے اپنی انگلیاں دوبارہ انگوٹھی کے گرد بند کر لیں۔
“یہ مجھے کیوں دی گئی۔”
کائنات نے اُس کی طرف دیکھا۔
اس بار اُس نے کچھ نہیں کہا۔
کیونکہ کائنات جانتی تھی…
عین جب کسی چیز کا جواب ڈھونڈنے لگتی تھی، تو پھر اُس سوال کو چھوڑتی نہیں تھی۔
عین کا گھر شہر کے نسبتاً پُرسکون حصے میں تھا۔
باہر سے دیکھنے پر اُس کی خوب صورتی شور نہیں کرتی تھی۔
اونچی سفید اور خاکستری دیواریں، بڑے شیشے کے پینلز، لکڑی کا مرکزی دروازہ، دونوں طرف ترتیب سے لگے اولیو ٹریز اور نرم وارم لائٹس…
گھر کے اندر داخل ہوتے ہی ایک وسیع فوئر تھا۔
دائیں جانب لکڑی کی خوب صورت اسٹیئرکیس اوپر کی منزل تک جاتی تھی۔
ایک طرف بلند بُک شیلفس تھیں۔
دوسری جانب ایبسٹریکٹ پینٹنگز۔
فرش پر خاکی رنگ کا وسیع رگ۔
اور پورے گھر میں ایک ایسی خاموشی تھی جو عین کو ہمیشہ پسند رہی تھی۔
وہ اندر داخل ہوئی۔
ہیلز اتاریں۔
ہینڈ بیگ کنسول پر رکھا۔
شال اُتاری۔
پھر سیدھی اپنے اسٹڈی کی طرف چلی گئی۔
اسٹڈی گھر کا سب سے پرسکون حصہ تھا۔
ایک بڑی شیشے کی کھڑکی۔
باہر خاموش باغ۔
لکڑی کی میز۔
کتابوں کی بلند شیلفس۔
ایک آرم چیئر۔
اور میز پر ہمیشہ کی طرح جلتا ہوا ایک چھوٹا لیمپ۔
عین نے اوور ہیڈ لائٹ نہیں جلائی۔
وہ صرف لیمپ کی مدھم روشنی میں بیٹھ گئی۔
پھر اُس نے ہینڈ بیگ کھولا۔
انگوٹھی نکالی۔
میز پر رکھی۔
کافی دیر تک اُسے دیکھتی رہی۔
— مری، پہاڑوں کے درمیان —

رات کے تین بج کر بیس منٹ تھے۔

مری کی پہاڑیوں پر دھند اس قدر گہری اتر چکی تھی کہ چند قدم کے فاصلے پر کھڑے چیڑ کے درخت بھی دھندلے سایوں کی مانند دکھائی دے رہے تھے۔

بارش کچھ دیر پہلے تھمی تھی۔

مگر چھتوں کے کناروں، درختوں کی شاخوں اور پتھریلے راستوں سے پانی کے قطرے اب بھی وقفے وقفے سے گرتے تھے۔

پہاڑ کی بلند چوٹی پر بنا وہ ولا دور سے کسی خاموش قلعے کی مانند دکھائی دیتا تھا۔

بارہ برس سے بند۔

بارہ برس سے خاموش۔

اور شہر کے بیشتر لوگوں کے لیے…

بارہ برس سے ایک بند باب۔

مگر آج رات اُس کی اوپری منزل کی ایک کھڑکی میں روشنی جل رہی تھی۔

پھر دوسری۔

پھر تیسری۔

جیسے کسی مردہ گھر میں اچانک زندگی واپس آ گئی ہو۔

ولا کے اندر لمبی راہداریوں میں مدھم زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ گہرے لکڑی کے فرش پر قدموں کی آوازیں دبے پاؤں چل رہی تھیں، جیسے یہاں موجود ہر شخص جانتا ہو کہ اس گھر کی خاموشی کو توڑنے کی اجازت کسی کو نہیں۔

اوپری منزل کے آخری سرے پر ایک وسیع اسٹڈی کا دروازہ نیم وا تھا۔

اندر صرف ایک لیمپ روشن تھا۔

اور اُس روشنی کے سامنے…

وہ کھڑا تھا۔

سیاہ قمیض کی آستینیں کہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں۔

گھنے سیاہ بال قدرے نم تھے اور چند بےترتیب لٹیں ماتھے پر گری ہوئی تھیں۔

بارہ برس نے اُس کے چہرے سے جوانی کی نرمی چھین لی تھی۔

مگر اُس کے بدلے…

ایک ایسی خاموش وجاہت دے دی تھی جسے دیکھ کر انسان بےاختیار محتاط ہو جائے۔

سیدھی ناک۔

تیز مگر متوازن نقوش۔

مضبوط جبڑا۔

ہلکی بڑھی ہوئی داڑھی۔

اور وہ آنکھیں…

گہری سیاہ۔

پُرسکون۔

مگر اُس سکون کے پیچھے جیسے ایک پورا طوفان دفن ہو۔

ایک ہاتھ میں جلتا ہوا سگریٹ تھا۔

دوسرے میں ایک پرانی تصویر۔

وہ کچھ دیر تک تصویر کو دیکھتا رہا۔

پھر اسے میز پر رکھ دیا۔

میز کے عین وسط میں شطرنج کی بساط بچھی ہوئی تھی۔

سیاہ اور سفید مہرے اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے۔

جیسے کسی حکم کے منتظر ہوں۔

دروازہ کھلا۔

رایان اندر داخل ہوا۔

درمیانے قد کا، گہرے رنگ کے سوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں فائل لیے وہ چند قدم دور آ کر رک گیا۔

اس کے چہرے پر برسوں کی وفاداری اور خاموشی صاف دکھائی دیتی تھی۔

“پہلی خبر آ گئی ہے۔”

وہ شخص نہیں مڑا۔

“کتنی دیر لگی؟”

“اکتیس منٹ۔”

سگریٹ کی راکھ فرش پر گری۔

“دیر ہے۔”

رایان نے دھیرے سے کہا،

“شہر کو بارہ سال کی خاموشی کی عادت ہو چکی ہے۔”

اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“اسی لیے شور آہستہ شروع ہوگا۔”

وہ میز کی طرف بڑھا۔

سیاہ بادشاہ کو انگلیوں کے درمیان اٹھایا۔

کچھ لمحے اسے دیکھا۔

پھر بساط کے عین وسط میں رکھ دیا۔

ٹھک۔

“اگلا؟”

رایان نے فائل کھولی۔

“تین لوگ آپ کی واپسی سے پریشان ہیں۔”

وہ رک گیا۔

“صرف تین؟”

رایان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“فی الحال۔”

وہ شخص ہلکا سا مسکرایا۔

“میں نے سوچا تھا… زیادہ سمجھدار ہوں گے۔”

رایان نے اگلا صفحہ پلٹا۔

“دو نے شہر چھوڑنے کی کوشش کی ہے۔”

“کرنے دو۔”

رایان نے سر اٹھایا۔

“انہیں جانے دیں؟”

وہ شخص نے سیاہ گھوڑا اٹھایا اور ایک خانہ آگے بڑھا دیا۔

“شکار کو بھاگنے دو، رایان۔”

گھوڑا بساط پر رکھ دیا۔

“ورنہ اسے کبھی یقین نہیں آئے گا کہ وہ آزاد ہے۔”

رایان خاموش رہا۔

چند لمحوں بعد اُس نے پوچھا،

“اور تیسرا؟”

اس شخص کی انگلی سیاہ وزیر پر ٹھہر گئی۔

“وہ ابھی خود کو بادشاہ سمجھ رہا ہے۔”

کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

پھر اُس نے ایک سفید مہرہ اٹھایا۔

بغیر کسی جلدی کے…

اسے بساط سے باہر رکھ دیا۔

“اسے کچھ مت کہنا۔”

“جی۔”

“بساط بچھنے دو۔”

رایان نے سر جھکا دیا۔

وہ دروازے کی طرف بڑھا۔

مگر باہر نکلنے سے پہلے رک گیا۔

پیچھے سے آواز آئی۔

“رایان۔”

وہ فوراً مڑا۔

“جی؟”

وہ شخص اب بھی شطرنج کی بساط کو دیکھ رہا تھا۔

“بارہ سال پہلے…”

وہ چند لمحے رکا۔

“میں نے کھیل ادھورا چھوڑا تھا۔”

اُس نے سیاہ بادشاہ کو انگلی سے ذرا سا آگے کیا۔

“اس بار…”

اُس کی سیاہ آنکھوں میں سرد روشنی ابھری۔

“شہ سے شروع کریں گے۔”

رایان کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آئی۔

“اور مات؟”

وہ پہلی بار اُس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔

“مات تو آخر میں ہوتی ہے، رایان۔”

ایک مختصر توقف۔

“میں جلدی میں نہیں ہوں۔”

رایان باہر نکل گیا۔

دروازہ آہستہ سے بند ہو گیا۔

کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔

وہ کچھ دیر بساط کے سامنے کھڑا رہا۔

پھر سگریٹ بجھایا۔

اُس کی نگاہ سیاہ بادشاہ پر ٹھہر گئی۔

“شہر کو خبر ہو جانے دو…”

وہ بہت دھیرے سے بولا۔

“بادشاہ واپس آ گیا ہے۔”

ایک لمحہ۔

پھر اُس کے لبوں پر وہی سرد مسکراہٹ ابھری۔

“دربار خود سمجھ جائے گا…”

اُس نے سیاہ بادشاہ کو انگلی سے چھوا۔

“کہ اب کس کے سامنے جھکنا ہے۔”

—

اسی رات…

کراچی میں عین اپنے اسٹڈی میں بیٹھی تھی۔

میز پر وہی سیاہ نگینے والی انگوٹھی رکھی تھی۔

تاج جیسا باریک فریم۔

اور اُس کے اندر چھپا ہوا وہ پراسرار سا نشان۔

اُس کے برابر اُس کا فون پڑا تھا۔

اَن نون نمبر کا آخری پیغام اب بھی اسکرین پر موجود تھا۔

“کچھ نشانیاں بھلائی نہیں جاتیں، عین۔”

عین نے فون اٹھایا۔

پیغام دوبارہ پڑھا۔

پھر آہستہ سے اسکرین بند کر دی۔

اُس نے انگوٹھی اٹھائی۔

سیاہ نگینہ لیمپ کی مدھم روشنی میں چمکا۔

اُسے دیکھتے ہوئے اُس کے دل میں خوف سے زیادہ ایک عجیب سی بےچینی پیدا ہوئی۔

جیسے کسی بہت پرانی یاد نے ابھی ابھی اُس کے اندر آنکھ کھولی ہو۔

اُس نے انگوٹھی اپنی ہتھیلی میں بند کر لی۔

اور اُسی لمحے…

فون دوبارہ روشن ہوا۔

نیا پیغام۔

صرف ایک جملہ۔

“کچھ ملاقاتیں اتفاق نہیں ہوتیں۔”

عین کی نظریں اس جملے پر جم گئیں۔

چند لمحے تک وہ بالکل ساکت بیٹھی رہی۔

پھر اُس نے فون میز پر رکھ دیا۔

مگر اس بار…

اُس کے چہرے پر وہی سکون نہیں تھا۔

جس ماضی کو وہ برسوں پہلے دفن سمجھ چکی تھی…

وہ شاید دفن ہوا ہی نہیں تھا۔

صرف خاموش تھا۔

اور خاموش چیزیں…

جب واپس آتی ہیں تو ہمیشہ شور نہیں کرتیں۔

کبھی صرف ایک نشانی چھوڑتی ہیں۔

ایک آواز۔

ایک انگوٹھی۔

ایک جملہ۔

اور پھر…

انسان خود اُن کے پیچھے چل پڑتا ہے۔

—

مری میں اُس رات شطرنج کی بساط بچھ چکی تھی۔

کراچی میں ایک عورت کے ہاتھ میں ایک ایسی نشانی تھی، جس کا مطلب وہ ابھی نہیں جانتی تھی۔

اور دونوں کے درمیان…

بارہ برس کا فاصلہ تھا۔

مگر فاصلے ہمیشہ لوگوں کو جدا نہیں کرتے۔

کبھی کبھی…

وہ صرف واپسی کو زیادہ خطرناک بنا دیتے ہیں۔

اُس رات شہر سو رہا تھا۔

کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پہاڑوں کے درمیان ایک دروازہ دوبارہ کھل چکا ہے۔

بارہ برس پہلے جس کھیل کو ادھورا سمجھ کر چھوڑ دیا گیا تھا…

اُس کی بساط دوبارہ بچھ چکی ہے۔

اور سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ…

کھیل کا پہلا مہرہ ابھی تک نظر نہیں آیا تھا۔

کیونکہ اصل کھیل ہمیشہ اُس چال سے شروع نہیں ہوتا…

جو سب کو دکھائی دے۔

اصل کھیل اُس وقت شروع ہوتا ہے—

جب کوئی شخص خاموشی سے اپنی جگہ سنبھال لے…

اور باقی دنیا کو خبر بھی نہ ہو کہ

بادشاہ واپس آ چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *