4
ناول کا نام: میرا مقدر میرا اثاثہ
قلم از: ملائکہ مقبول احمد
زے گیٹ اچھے سے بند کر دینا – عکاشہ جس نے حجاب پِن کی مدد سے دوپٹے کا ایک کونااپنے چہروں پر لگایا ہوا تھا۔
عکاشہ دروازے سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی زے سے کہہ رہی تھی ۔
اور انو سے اپنے ارد گرد دیکھ رہی تھی جہاں چند ایک بچے کھیل رہے تھے اور کچھ آدمی اور لڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جا رہے تھے ۔
کیا ہوا ؟ پھر سے لاک اٹک گیا کیا ؟
باسط اور کبیر جو کہ ناشتہ کر کے ابھی باہر نکلے ہی تھے اُن تینوں کو یوں کھڑے دیکھ اُن کی طرف آچکے تھے ۔
اور یہ بات ان سے باسط نے پو چھی اور کبیر اُس کے پیچھے کھڑا موبائل چلا رہا تھا ۔
نن۔۔۔۔ نہیں اور یہ پھر سے کا کیا مطلب ہے ؟ عکاشہ نے غصے سے باسط کو دیکھا۔
ارے نہیں آپ مجھ غلط سمجھ رہی ہیں۔
میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا تھا ۔۔۔
ہے ناکبیر — کبیر یہ کہاں گیا ؟ باسط نے جب خود کو مصیبت میں محسوس کیا تو اپنے تحفظ کے لئے کبیر کو شامل کرنا چاہا جو کہ وہاں سے کب کا جا چکا تھا ۔
سوری -۔۔۔ معاف کیجیے گا ۔ باسط نے یہ کہتے ہی وہاں سے نکالنا چاہا۔
عکاشہ اب زے کو دیکھ رہی تھی جو کہ ہکی بکی کھڑی اسی کو دیکھ رہی تھی۔
یہ کیا کہہ رہے تھے ؟ عکاشہ نے زے کو ہلا کر پوچھا ۔
وہ کل رات میں اور ابیہا جب دوپٹہ لینے کے لیے آئے تھے تو تب لاک اٹک گیا تھا اور ان لوگوں نے دروازے کو کھولنے میں میری مدد کی تھی۔
زے نے دروازے کے بند ہوتے ہی آگے بڑھ کر عکاشہ سے کہا اور انوشے کے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔
یہ تمھارے ساتھ فلرٹ کر رہا تھا۔۔۔
ہے ناں انوشے کی اس بات پر وہ دونوں ایک جھٹکے سے رکی ۔
چلیں ارزہن – ابلاج نے ناشتہ کرنے کے بعد ارز ہن اور آکف کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
کہاں؟ اُس نے انتہائی بے زاری سے جواب دیا ۔
کہاں کا کیا مطلب یہاں آئے ہو تو اب یہاں کے لوگوں سے ملو چلو تاکہ تمھیں یہاں کے رہن سہن کا پتہ چل سکے –
ابلاج نے دور سے آتے باسط اور کبیر کو دیکھ کر کہا ۔
جی تو کیا چل رہا ہے ؟ باسط نے ابلاج اور اُن دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
ابلاج کہیں جانا ہے یا پھر میرے ساتھ انکل نے جو کام کہے ہیں وہ کرواؤ گئے ۔
باسط نے کبیر کی بات کو اگنور کر کے پوچھا۔
کیوں بھئی میں کیوں کہیں جاؤ گا بلکہ آج تو ار زہن اور آکف بھی تو ہیں ناں ہمارے ساتھ۔
ابلاج نے ارزہن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
جس نے بے زاری سے اُسے دیکھا اور پھر ان دونوں کو ۔
دیکھو اگر تمھیں ان کے ساتھ رہنا ہے تو رہ لو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے باسط نے ارز ہن کی طرف دیکھ کر کہا۔
ارے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم لوگ۔
بلکہ میں تو آپ کے ساتھ ہی رہوں گا آکف جو ابلاج سے کافی متاثر تھا اُس نےارزہہن کے گھورنے پر ابلاج اور باسط سے کہا۔
کیا ہوا تم دونوں کی لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ ابلاج نے کبیر کی شکل اور باسط کے غصے کودیکھ کر پوچھا ۔
ارے نہیں نہیں یہ تونا بس ایسےہی ۔۔۔۔
چل باسط تجھے میں ایک چیز دکھاتا ہوں تم لوگ آرام سے باتیں کرو ہم چلتے ہیں۔
کبیر نے اپنا بازو باسط کے کندھے کے گرد جما کر کہا۔
پر چلو بھی اب ۔۔۔
باسط جو کہ اُس کے ساتھ جانا نہیں چاہ رہا تھاپر اُس کے زور سے کھینچے پر اس کے ساتھ چلا گیا ۔
یہ دونوں تو گئے۔ اب ابلاج بھائی ہم کیا کریں گئے؟
آکف نے اُن دونوں کو جاتے دیکھ کہا ۔
ہم نہیں تم دونوں ۔۔۔
میں تو نہ ہی کہیں جا رہا ہوں اور نہ ہی کوئی کام کر رہا ہوں میرا تھوڑا آفس ورک رہتا ہے میں تو گھر جا کر وہ کروں گا۔
ابلاج اور اکف کو ٹوک کر از زہن نے یہ بات کہی اور پھر خود وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
کیا مطلب ہے انوشے ؟ عکاشہ جو کہ ولیم کے گھر کی دوسری منزل پر کھڑی تھیں انھوں نے فوراً انوشے کو گھورا –
دیکھو میرا مطلب صاف ہے یہاں کا ماحول دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مگن ہے ۔
وہ دونوں بھی چاہتے تو وہاں سے جا سکتے تھے لیکن نہیں گئے۔
بلکہ انھوں نے تم دونوں کو مدد کی پیش کش کی جو کہ ہر کوئی تو نہیں کرتا۔
یاں پھر تم لوگوں نے اُسے لفٹ -۔۔۔۔ انو شے کہتے کہتے رکی۔
کیونکہ اُس کی اس بات پر وہ دونوں تقریباً آگ بگولہ ہو چکی تھیں۔
دیکھو انوشے ایسی بات بالکل بھی نہیں ہے۔
میں تو کل اُن سے مدد لینے کے حق میں نہیں تھی وہ تو ابیہا نے حامی بھری تو ۔۔
زے نے عکاشہ کی طرف دیکھ کر کہا ۔
ایک تو یہ ابیہا پلے ہی بندھ گئی ہے ۔
عکاشہ ہے غصے سے اپنی بھوری اور گول آنکھوں کو گھمایا اور پھر آگے بڑھ گئی۔
اسے کیا ہوا ؟ اُسے یوں جاتے دیکھا انوشے نے زے سے پوچھا ۔
جو کہ اب اُس کے پیچھےجانے ہی لگی تھی ۔
کچھ نہیں چھوڑو اُس کی اور آپی کی آج کل معمولی سے جھڑپ چل رہی ہے ۔
زے نے مسکرا کر کہا اور پھر اُسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔
جس کے اشارے پر وہ آگے بڑھ گی –
ہم — ٹھیک ہے ۔ انوشے نے آئی برو اچکا کر کہا۔
ارے دیکھو یہ وہی لڑکی ہے ۔۔۔۔
جیسے ہی انوشے ناشتہ کرنے کے لیے زے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔
تو اُسی لڑکی نے کہا جس نے اُنھیں کل شام دیکھا تھا ۔
کو نسی لڑکی؟
زے نے ابروا چکا کر سائرہ سے ہو چھا جو کہ اُس کی چچی کی بہن کی بیٹی تھی ۔
کک۔۔کک۔۔۔۔کوئی بھی نہیں اُس نے کمرے سے باہر جاتے ہوئے کیا ۔
ارے ۔ اسلام ۔ یہ کون ہے ؟ ہالہ اور کنیز جو کہ ناشتہ کرنے کے لئے بیٹھی ہی تھیں اُن دونوں نے بیک وقت اُس سے پوچھا ۔
یہ انوشے ہے ۔ سفیان ماموں کی بیٹی – عکاشہ نے اُس کا تعارف کروایا۔
اوہ۔۔۔ ہیلو – ہالہ نے انگلش میں بات کرنے کی کوشش کی۔۔۔ –
اسلام – اُس نے ہالہ سے ہاتھ ملا کر کہا ۔
آپ کو اردو آتی ہے کیا ؟ ہالہ تقریبا شاک ہوئی ۔
اُس کی اس بات عکاشہ اورزے دونوں ہی مسکرائی۔
انھیں اور بھی بہت سی زبانیں آتی ہیں عکاشہ نے اُن کے برابر بیٹھ کر کہا ۔
چلو اب – ابلاج نے آکف سے کہا جو کہ ارزہن کو جاتے دیکھ رہا تھا۔
جی بھائی کہاں جاناہے؟
اکف نے پھرتیلے انداز میں ابلاج سے پوچھا ۔
تو تم ایسا کرو کہ میرے بابا کے پاس جاؤ اور اُن سے پو چھ کر آؤ۔۔۔بلکہ رکو ہم دونوں ہی چلتے ہیں۔
ابلاج نے جب وہاں سے ابیہا کو نکلتے دیکھا تو آکف جو کہ تقریبا گیٹ پار کر چکاتھا اُسے روک کر کہا ۔
جی چلیں ۔ آکف نے اسے اپنی طرف آتے دیکھ کہا اور پھر وہ دونوں وہاں سےسامنے موجود گھر میں چلے گئے ۔
دکھاؤ کیا دکھانا ہے مجھے ؟ باسط نے کبیر سے کہا جو کہ اسے ولیم کے گھر کی تیسری منزل پرلے آیا تھا۔
باسط کیا تھیں پتہ ہے کہ یہ گھر کس کا ہے؟
کبیر نے تیسری منزل پر موجود واٹر کولر کے ساتھ کھڑے ہو کر نیچے کی طرف دیکھ کر کہا۔
ہاں – ابلاج کا گھر ہے ۔ باسط نے اُس سے دور ہو کر کہا۔
تم مجھے یہ بتاؤ کہ مجھے یہاں کیوں لائے ہو ؟ باسط نے اپنا غصہ ضبط کر کے کبیر سے کہا۔
دیکھو اپنا یہ غصّہ تھوڑا کم کرو اور میری بات سنو ۔
کبیر نے اپنے دونوںہاتھ اپنے بچاؤ کے لئے اوپر کر کے کہا ۔
ہاں لولو ۔ باسط نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سمیٹ کر اس کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
دیکھو یار — –
میں اُس وقت بالکل بھی اُس لڑ کی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
بس اسی لیے تمھیں بتائے بغیر وہاں سے چلا گیا ۔
کیا مطلب سامنا نہیں کر سکتے تھے کا ؟ باسط نے کھلے منہ سے پوچھا۔
دیکھو تم نے نا اُس لڑکی کو مشکل میں ڈال دیا تھا ۔
اب وہ کیسے ؟
کبیر نے اپنی دونوں کہنیوں کو ساتھ موجود دیوار پر رکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے ملایا۔
اور پھر باسط کی طرف دیکھا جو کہ اُس کی بائیں جانب کھڑا تھا ۔
ہاں وہ کیسے ؟ کبیر کے کہنے کے فوراً بعد جواب جھٹ سے آیا اور باسط بھی بالکل اُسی کی طرح ہی کھڑا تھا ۔
دیکھو یار ! تمہیں ششکے بازیوں میں آکر مدد کے لیے نہیں پوچھنا چاہیے تھا ۔تمہارے اِس طرح پوچھنےپرکسی کو چاہے ذرا برابر بھی فرق نہ پڑا ہو لیکن اُس لڑکی کی رنگت بالکل سفید ہو چکی تھی۔
اور میں یہ بات اب پوری گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اب تم اُسے دوبارہ دکھائی دیے نا تو وہ تمھاری
بے عزتی ضرور کرے گی ۔
کبیر اب نیچے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور جب اُس نے باسط کو دیکھا تو اُس کا چہرہ بالکل سُرخ ہو چکا تھا۔
اور اب وہ اپنی دونوں مٹھیاں بھینچے اُسے دیکھ رہا تھا ۔
اچھا اب بس بھی کردو۔ جان لے لو گے کیا میری ؟میں نے تو بس سرسری سی بات کی تھی ۔
کبیر اب سیدھا کھڑا تھا اور اُس نے اپنے دونوں کندھوں کو اپنے کانوں کے برابر کر کے باسط سے کہا۔اب نیچے چلیں ۔ کبیر نے ایک ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور دوسرا ہاتھ گلے کی طرف کر کے اپنی طرف گیا۔
اور پہلے ہاتھ سے ملایا اور اُسے کھینچ کر نیچے سیڑھیوں کی طرف لے گیا۔
باقی آئندہ شمارے میں ۔ انشاءاللہ
