SAFAR E YARAN BY MOMINA AZAM EPISODE 5.

Email I’d :mominaazam420@gmail.com

Instagram User I’d : mominaaz_pen

 

https://www.instagram.com/mominaaz_pen?igsh=ajM5ZnZnM2pucmJ3

 

Writer Name in English and Urdu :

مومنہ اعظم

Momina Azam

 

Novel Name in English and Urdu :

سفرِ یاراں

Safar e Yaran

 

Novel Description in Urdu :

داڑھیوں، تسبیحوں، مصّلوں، برقعوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ان کے پیچھے چھپی نیتیں جب میزان میں رکھی جائیں گی تب حشر برپا ہوگا۔قیامت لگے گی۔

 

Novel theme: college Based, Romcom, Emotional, Religious ,Social reform, Mystery & Thriller 

 

Episode : 05

 

Total Words:6452

 

Novel Status: Ongoing

سفرِ یاراں از مومنہ اعظم


پانچویں قسط

 

ڈھیلے ڈھالے لباس پر سٹریٹ بال جو کہ کندھے تک آتے تھے( جنہیں آج علشبہ نے خلافِ عادت پونی ٹیل میں باندھ رکھا تھا) ، آنکھوں پر آرٹیفیشل گلاسز لگائے ہاتھ میں مینگو مارگریٹا تھامے وہ اسوقت اپنے لیے کچھ ہیلز لینے میں مصروف نظر آ رہی تھی۔
بہت سے لڑکوں نے مڑ مڑ کر اس لاپرواہ حسینہ کو دیکھا تھا جو کہ اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔

اس دن کے بعد سے اس نے شاہزیب سے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی اسے شاہزیب کا اسطرح سے زینب کے ساتھ گھلنا ملنا بالکل بھی پسند نہ آیا تھا۔
شاہزیب اسے کال کرتا تو وہ پک نہ کرتی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس بار کافی زیادہ ناراض ہے اس سے۔۔ بہت دیر تلاش کرنے کے بعد دوسرے شیلف میں اسے ایک پستہ رنگ کی نہایت ہی خوبصورت ہیل نظر آ ہی گئی جو کہ اسکی تھیم سے میچ کر رہی تھی۔ اسنے اسے ٹرائی کیا وہ تو شاید بنی ہی اسکیلیے تھی۔

اچانک ہی اس کی نظر مال میں داخل ہوتے دو نفوس پر پڑی۔

سنہرے بال، جو اس وقت جوڑے میں مقید تھے۔ سبز آنکھوں پر سن گلاسز لگائے، گولڈن جیولری اور سرخ رنگ کی میکسی میں زینب کسی بات پر قہقہہ لگاتے شاہزیب کا ہاتھ تھامے مال میں داخل ہوئی تھی۔
علشبہ کو لگا جیسے کسی نے اس کے دل کو بے دردی سے مسل دیا ہو۔ آنکھوں سے گرم سیال بہتا اس کے گلابی رخسار کو تر کر گیا۔ ایک کے بعد دوسرا اور پھر جیسے اتنے دنوں سے قید کیے آنسوؤں کو باہر آنے کا موقع مل چکا تھا۔

وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اطراف میں موجود لوگ اس کی طرف لپکے۔سٹاف ہکا بکا سا اسے تک رہا تھا۔
“میم، میم کیا آپ ٹھیک ہیں؟” وہ اس سے پوچھ رہے تھے۔ شور کی وجہ سے شاہزیب نے نظر اٹھا کر اس طرف دیکھا تو ساکت رہ گیا۔ اس کے قدم تھم گئے۔ اس کے کان جیسے قوتِ سماعت سے محروم ہو چکے تھے۔
اس کے دل کی ملکہ سامنے اس حالت میں بیٹھی تھی۔ اس کی دنیا کیوں نہ متزلزل ہوتی۔ وہ جان چکا تھا کہ اس کی یہ حالت کس وجہ سے ہوئی تھی۔ اسے خود سے نفرت ہونے لگی تھی۔

اور پھر بھاگتے وقت نے، چلتی ہوا نے، وہاں گھومتے پھرتے لوگوں نے دیکھا تھا کہ وہ بزنس کی دنیا کا چمکتا ستارہ، وہ مردانہ حسن کا منہ بولتا ثبوت شخص کس طرح دیوانہ وار اپنی محبوبہ من کی جانب بھاگا تھا۔

‘علشبہ، علشبہ اٹھو میری جان۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔ آئی ایم سو سوری۔ پلیز دیکھو میں یہاں ہوں نا، میں تمہارے ساتھ تمہارے پاس ہوں۔ آئندہ کبھی بھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ پلیز اٹھو۔’ وہ اس روتی بلکتی علشبہ کے پاس زمین پر بیٹھتا اس کے ہاتھ تھامے اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ چلبلی سی لڑکی اس کے معاملے میں بہت حساس ہو جاتی تھی۔ وہ بچپن سے ہی اسے کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے ڈرتی تھی۔
‘جائیں آپ یہاں سے۔ میں آپ کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتی۔ شاہزیب آپ بہت برے ہیں۔ میں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔ آپ بے وفا ہیں، بہت برے ہیں آپ۔ بہت برے ہیں۔۔ چلے جائیں یہاں سے۔۔”
وہ زار و قطار روتی ہوئی اس کے سینے پر مُکّے اور تھپر برساتے ہوئے بولی تھی۔وہ بہت زیادہ بکھری ہوئی لگ رہی تھی۔لوگوں کو اس پر ترس آیا۔
“علشبہ پلیز، میری جان ایسے مت کہو۔۔۔ دیکھو میں ہوں تمہارے پاس۔۔۔ ہوں میں تمہارے ساتھ۔۔۔” وہ اسے اپنے سینے سے لگائے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“نہیں شاہزیب، مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی، آپ بے درد ہیں۔ آپ کو کبھی میری تکلیف کا احساس نہیں ہوا۔آپ جائیں یہاں سے۔۔۔ جائیں۔زینب آپ کا انتظار کر رہی ہوگی۔” وہ اس کے بازوؤں سے خود کو آزاد کرواتے ہوئے اٹھ رہی تھی کہ سر میں شدید قسم کی ٹیس اٹھی۔وہ چکرا کر واپس بیٹھ گئی۔سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
سارے کا سارا شاہزیب تڑپ اٹھا۔
“علشبہ گڑیا، پلیز معاف کر دو مجھے۔ پلیز آؤ، ہم گھر چلیں۔ گھر جا کر بات کرتے ہیں۔ یہاں سب دیکھ رہے ہیں۔ آ جاؤ۔” وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا، مگر علشبہ اس کے سینے سے لگی بے ہوش ہو چکی تھی۔
شاہزیب نے تڑپ کر اسے اپنی باہوں میں اٹھاتے ہوئے باہر کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ زینب کی حاسد آنکھوں نے انہیں دور جاتے ہوئے ناگواری سے دیکھا تھا۔

وہ یہاں شاہزیب سے شادی کرنے آئی تھی کیونکہ اسے اپنے لیے ایک ویل اسٹیبلشڈ شخص چاہیے تھا۔۔۔ اور لندن سے پاکستان وہ آئی ہی شاہزیب کی علشبہ سے علیحدگی کروانے تھی۔

______________


دو دن ہونے کو تھے،
بازل ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ وہ رات جاگ جاگ کر اس کا انتظار کرتی تھی مگر وہ تھا کہ واپس آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ سویرا کا خوف اب گلٹ (پچھتاوے) میں بدلتا جا رہا تھا۔

“کہیں اسے کچھ ہو تو نہیں گیا؟
وہ ٹھیک ہوگا؟
اس کا زخم؟ اس کا زخم ٹھیک ہوا ہوگا یا نہیں؟؟
کہیں میں نے بازل کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا دیا؟
ک۔۔۔ کہیں وہ م۔۔۔ مر تو نہیں گیا؟؟
اور اگر وہ م۔۔۔ مر گیا تو؟؟” اور یہ بات سوچتے ہی اس کی سانسیں اٹکنے لگ جاتیں۔ اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔
“وہ۔۔۔ وہ اتنا تو برا نہیں تھا۔ محافظ تھا وہ میرا۔ اس نے میری اتنی حفاظت کی۔ عزت دی مجھے، عزت دار بنایا مجھے۔ وہ تو گینگسٹر تھا، وہ چاہتا تو مجھے اٹھا کر لے جاتا، مگر وہ میرے گھر آیا اور مجھ سے، میرے والدین کی رضامندی کے بعد ہی نکاح کیا۔ اگر اس نے مجھ سے نکاح کر ہی لیا ہے تو کیا ہو گیا؟ شادی تو ہونی ہی ہوتی ہے، ایک نہ ایک دن سب کی ہو ہی جاتی ہے، میری بھی ہو گئی۔ اس میں اتنا واویلا کرنے کی کیا ضرورت تھی مجھے؟ اسے مارنے کی کیا ضرورت تھی؟؟ بات ہی کرنے آیا تھا نا وہ۔۔۔ سن لیتی اس کی بات تو کیا چلا جاتا میرا؟” اس کا گلٹ اسے کھائے جا رہا تھا۔

وہ بس ایک بار بازل کو صحیح سلامت دیکھنا چاہتی تھی۔۔ بس اک بار۔۔ وہ کہیں سے آ جائے۔۔ وہ اسے دیکھ لے، تسلی ہو جائے اس کی۔۔ کہ وہ ٹھیک ہے، اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔۔
سارا سارا دن وہ اس کے بارے میں سوچتی رہتی۔۔ کھانے پینے کا تو ہوش ہی نہیں تھا جیسے،
سارا دن اس کے لیے دعائیں کرتی رہتی، سجدوں میں روتی رہتی۔۔ اگر بازل اسے خود کے لیے روتا اور دعائیں کرتا دیکھتا تو خود پر رشک کرتا۔۔

رضیہ بی اس کی حالت دیکھ کر بہت فکر مند رہتی تھیں۔۔ بار بار اس نے رضیہ بی اور باقی ملازمین سے بھی اس کے بارے میں پوچھا تھا مگر بازل کے بارے میں کسی کے پاس کوئی خبر نہ تھی۔

_________________


مومنہ کالج سے تھکی ہاری گھر لوٹی تھی۔ کمرے میں بیگ وغیرہ رکھ کر ہالہ کو بلانے لگی مگر وہ لان میں پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ وہ آتے ہوئے اسے پانی پلانے کا کہہ آئی تھی مگر شاید اس نے سنا نہیں تھا۔ وہ ویسے ہی عبایا اوڑھے لان میں چل دی۔
ہالہ اب پودوں کی کاٹ چھانٹ میں مصروف تھی۔ بابا شاید باہر گئے ہوئے تھے اور امی تو کل سے خالہ کے گھر گئی ہوئی تھیں کیونکہ ان کی طبیعت خاصی خراب تھی تو امی کو وہیں رکنا پڑا تھا۔
“یار ہالہ پانی پلاؤ۔۔۔ باہر بہت گرمی تھی۔” مومنہ وہی رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
“ارے چھوڑو اسے، ادھر آؤ میری بات سنو۔۔۔ پتا ہے آج کیا ہوا؟؟ آج ساتھ والی آنٹی راحیلہ نے بہت ہی مزے کی بریانی بھیجی تھی تمہارے لیے۔۔۔ اتنے مزے کی تھی میں تمہیں بتا ہی نہیں سکتی۔” ہالہ چہکتے ہوئے مزے سے کہہ رہی تھی۔مومنہ نے بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
“ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ کیا مطلب ‘تھی’ ہاں؟؟” مومنہ نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
“‘تھی’ مطلب مجھے بھوک لگ رہی تھی تو میں کھا گئی۔” ہالہ دانت نکالتے ہوئے کہہ کر بھاگی۔
“کیااااااا! رکو ذرا میں بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔ بچ کر دکھاؤ اب میرے ہاتھوں سے تم۔۔بھوکی لڑکی۔سوکھی بھنڈی ہو تم”
مومنہ پانی کا پائپ اٹھاتی اس کے پیچھے بھاگی۔ “ارے ارے پلیز نہیں، پانی نہیں۔ پلیز، میرے کپڑے گیلے ہو جائیں گے۔” ہالہ جلدی سے بھاگی۔ وہ خود کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔پانی کی دھار تیز تھی۔چند لمحوں میں ہی وہ ساری بھیگ جاتی۔
وہ دونوں ہنستے کھیلتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ تبھی گیٹ کھلا اور احمد صاحب اندر آئے۔ ہالہ مدد کے لیے انہیں پکارنے لگی۔وہ جلدی سے انکی طرف لپکی. مومنہ بھی اسکی پیچھے ہولی۔احمد صاحب “ارے، ارے بچیوں” کرتے رہ گئے۔
“بابا آج آپ اسے نہیں بچا پائیں گے۔اس نے میری بریانی کھا لی ہے۔بھوکی”
مومنہ نے پانی کا رخ احمد صاحب کی جانب بھی کر ڈالا۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ گھر احمد صاحب اور ان کی پھول سی بیٹیوں کے قہقہوں سے گونج اٹھا تھا۔

مگر یہ کیا؟
کچھ عجیب تھا۔
احمد صاحب اکیلے تو نہیں آئے تھے۔ ان کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔

اور وہ شخص اس وقت ساکت سا، مومنہ کی نقاب سے جھانکتی ان کھلکھلاتی آنکھوں میں خود کو ڈوبتا محسوس کر رہا تھا۔

“قوسِ قزح کے سارے رنگ، اس کی بھوری آنکھوں کا سایہ ہیں۔
محترمہ! آپ کی نظر کا یہ آسمان، حاکم خانزادہ کو خود میں سمیٹ رہا ہے۔”
حاکم نے دھیرے سے دل میں کہا۔سرگوشی اتنی واضح تھی کہ فضاؤں میں امر ہوگئی۔
________


حاکم ہاسپٹل سے واپس گھر جا رہا تھا۔ اچانک ہی گاڑی چلنا بند ہو گئی۔ اس نے چیک کیا تو پتا چلا انجن اوور ہیٹ ہو چکا ہے، تھوڑے پانی کی ضرورت تھی. اسکے پاس رکھا پانی تو ختم ہوچکا تھا. اس نے اطراف میں نظر دوڑائی تو مایوس ہوا، یہاں تو کوئی شاپ بھی نظر نہیں آرہی۔

وہ مایوس سا کھڑا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ حاکم نے مڑ کر دیکھا تو احمد صاحب کھڑے اسے مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔ “حاکم بیٹا تم؟” وہ خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“السلام علیکم انکل! کیسے ہیں آپ؟” حاکم نے بھرپور مسکراہٹ سے ان سے مصافحہ کیا۔ “وعلیکم السلام بیٹا! جیتے رہو، میں تو بالکل ٹھیک ہوں، الحمدللہ۔ تم سناؤ کیسے ہو؟ اور اس دن کے بعد سے نظر ہی نہیں آئے۔۔”
“جی انکل! معذرت، آج کل بہت مصروف تھا، اسی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ میں آپ سے ایک دو دن میں ملنے آنے ہی والا تھا۔” وہ شرمندگی سے بولا۔ “ضرور بیٹا! کیوں نہیں، آتے جاتے رہا کرو ایسے ہی۔ تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔ میرا تو کوئی بیٹا نہیں ہے، تمہاری وجہ سے دل لگا رہتا ہے۔” احمد صاحب نے شفقت سے اس کے کمدھے پر ہاتھ رکھا ۔
“جی انکل! ضرور۔” حاکم نے سر ہلادیا۔ سی گرین رنگ کے کرتا شلوار میں وہ بہت جاذبِ نظر لگ رہا تھا۔”بیٹا! تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے؟” احمد صاحب نے کار کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔ “جی انکل! اصل میں میں ابھی گھر جا رہا تھا مگر انجن اوور ہیٹ ہو گیا۔ تو اب مجھے پانی چاہیے تھا۔یہاں کوئی شاپ نہیں ہے۔” حاکم افسردہ سا کہہ رہا تھا
۔ “ارے بیٹا! اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ سامنے ہی گھر تھا، جا کر لے لیتے۔ آؤ چلو میرے ساتھ۔” احمد صاحب حاکم کے ہمراہ آگے بڑھے۔ وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے۔


مگر سامنے کا منظر دیکھتے ہی حاکم ساکت ہو گیا تھا۔

سامنے ہی وہ تھی۔۔ ہاں وہ بھوری آنکھوں والی لڑکی۔۔ اس کا یوں کھلکھلا کر ہنسنا حاکم کی دھڑکنوں کو منتشر کر چکا تھا۔ وہ محوِ حیرت سامنے اس کی ان بھوری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔


مشہدِ آمسیتہ رطبتہ بثلاث عیون
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

اس نے اپنے دل کو سرگوشی کرتے سنا تھا۔

کچھ آنکھیں محض رنگ نہیں ہوتیں، وہ کائنات کے پراسرار ترین راز اپنے اندر سموئے رکھتی ہیں۔ حاکم اس سحر سے نکلنا ہی کہاں چاہتا تھا۔ وہ تو اس بھورے رنگ کی جھیل میں ڈوب کر ابھرنا بھول چکا تھا، جہاں وقت تھم گیا تھا اور سانسیں اس کی مسکراہٹ کی محتاج ہو گئی تھیں۔

اسے یاد تھا۔۔ جب پچھلی بار اس نے وہ آنکھیں دیکھی تھیں تو وہ پوری رات کسی ان دیکھے سحر میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کرتا رہا تھا۔


تم کیا جانو دید کا عذاب! جہاں آنکھیں ایک چہرے کو ترسیں، اور سماعتیں صرف ایک آواز کی قیدی ہو جائیں۔

“ارے بیٹا! تم تو بھیگ گئے۔” احمد صاحب کی آواز نے اسے سوچوں سے نکالا تو وہ حال (حواس) میں واپس آیا۔ “اوہ میرے کپڑے!” وہ حیران سا اپنے بھیگے لباس کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے تو خود پر دھیان ہی اب دیا تھا۔ “معذرت حاکم بیٹا۔۔” احمد صاحب ندامت سے بولے۔
مومنہ اور ہالہ شرمندہ سی ایک طرف کھڑی تھیں۔

حاکم نے جب مومنہ کو اس طرح سے شرمندہ ہوتے دیکھا تو اس کا دل بے چین ہوا۔

“ارے انکل! اس میں معذرت کی کیا بات ہے، آپ پلیز مجھے شرمندہ نہ کریں۔ کپڑے ہی ہیں، ابھی سوکھ جائیں گے، آپ پلیز پریشان نہ ہوں۔” وہ ہڑبڑاتے ہوئے بولا۔ “آؤ بیٹا! اندر چل کر بیٹھتے ہیں۔ مومنہ بیٹا! حاکم کے لیے ایک اچھی سی چائے بناؤ۔” وہ کہہ کر حاکم کے ساتھ اندر چل دیے تو مومنہ اور ہالہ سر ہلاکر کچن کی طرف بڑھیں۔
کچن میں آکر مومنہ نے ہالہ کو ٹہوکا دیا. “شرم نام کی چیز نہیں ہے تمہارے پاس۔۔سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔بیچارا وہ شخص بھیگ گیا۔”ہالہ ہنس دی۔
“شرم؟ وہ کیا ہوتی ہے؟ کوئی کھانے پینے کی چیز ہے کیا؟ “اس نے اچھنبے سے پوچھا۔
“اونہوں چندا شرم کھانے پینے کی چیز نہیں ہے۔لیکن اگر تمہیں بھوک لگی ہے تو میرے پاس تمہارے لیے خوبصورت سی چپل ہے بتاؤں کھلاؤں چپل؟” مومنہ نے اسکا کان کھینچا۔” چھوڑو مومنہ پلیز۔۔میں نے نہیں کھانی چپل تم سنبھال کر رکھو اپنے پاس۔۔میں تو چلی۔تم بناؤ بابا کے بھیگے مہمان کے لیے کڑک چائے۔یہ نہ ہو اسے فلو ہوجائے۔”ہالہ نے کان سہلاتے کہا۔

” اونہوں۔۔میں ان کیلئے دار چینی والی چائے بنا دیتی ہوں۔۔ان شاءاللہ تعالیٰ انہیں فلو نہیں ہوگا۔”مومنہ نے پین چولہے پر رکھتے ہوئے کہا۔

حاکم نے چائے بہت شوق سے پی تھی۔تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد وہ گھر چل دیا۔

اپنے کمرے میں آکر اس نے اپنی ڈائری اٹھائی اور کھڑکی کے قریب نیچے ہی فرش پر بیٹھ گیا۔
اس نے قلم کو ڈائری کے کورے کاغذ پر گھسیٹا۔

اَنتَ حُلمُ عِینِیّ الجَمِیل

میری ویران آنکھوں کا اکلوتا اور سب سے خوبصورت خواب ہو تم۔۔۔

محترمہ! میں، حاکم خانزادہ، آج کائنات کے تمام سچائیاں گواہ بنا کر یہ اعتراف کرتا ہوں کہ
تم خوبصورت ہو۔۔۔
بے پناہ، بے مثال، اور بلا کی خوبصورت ہو!

وﷲ! جب یہ بے جان شیشہ تمہارے حسن کا نظارہ کرتا ہوگا،
تو تمہارے سحر انگیز عکس کے صدقے،
وہ اپنی بے نور آنکھیں بھی خیرات کر دیتا ہوگا۔۔۔

تمہاری وہ دلنشین، جادوئی بھوری آنکھیں مجھے اس دنیا سے بیگانہ کر کے مسحور کر دیتی ہیں۔
میں نے جب بھی، جس پل بھی، ان گہری آنکھوں کے سمندر میں جھانکا،
مجھے یوں لگا جیسے میں ہوش و حواس کی سرحدیں پار کر کے کہیں ڈوب رہا ہوں۔۔۔

اور ہاں! میں تو اسی روز، اسی لمحے ہی فنا ہو گیا تھا،
جب زندگی میں پہلی مرتبہ، ان سحر انگیز آنکھوں کے آئینے میں
میں نے خود کا عکس دیکھا تھا!

“حاکم بیٹا، حاکم! کیا کر رہے ہو بیٹا؟ میں کب سے تمہیں آوازیں دے رہی ہوں۔ کہاں کھویا رہتا ہے میرا بیٹا آج کل؟؟” آمنہ خانم حاکم کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں۔
“ارے امی آپ! آپ کب آئیں؟؟” وہ ڈائری بند کر کے ٹیبل پر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ صوفے پر آبیٹھا۔
“میں نے تمہیں آوازیں دیں مگر تم نجانے کہاں کھوئے ہوئے تھے، جواب بھی نہیں دیا۔ ویسے کیا لکھ رہا تھا میرا بیٹا؟؟” انہوں نے ڈائری کی طرف اشارہ کیا۔
“میں۔۔۔ میں، کچھ خاص نہیں۔۔ بس ایسے ہی۔۔ آپ بتائیں کوئی کام تھا؟؟” وہ بہانہ بناتے ہوئے بولا۔
“ہاں بیٹا! تمہارے ہاتھ کی چائے پینے کا دل کر رہا تھا۔۔ پلا دو گے؟؟”
“ارے امی! آپ کا حکم سر آنکھوں پر، میں ابھی ابھی گرما گرم کڑک چائے کے ساتھ حاضر ہوتا ہوں۔۔” وہ آمنہ خانم کے ہاتھ چومتا ہوا اٹھ کر کچن کی طرف چل دیا۔


________________

 

ایک اور دن گزر گیا مگر بازل ابھی تک واپس نہیں آیا۔
مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ سویرا اس کے لیے بہت پریشان ہو رہی تھی۔ ہر وقت دعائیں کرتی رہتی۔ نوافل ادا کرتے کرتے وہ تھک نہیں رہی تھی۔ اور یہ منفی سوچیں تھیں کہ اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں۔

“وہ ٹھیک نہیں ہو گا، اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور ہوا ہے۔ مگر یا رب العالمین! اگر وہ ٹھیک ہے تو وہ آ کیوں نہیں رہا؟ میں پریشان ہوں، میں تکلیف میں ہوں۔ آپ کا وہ بندہ جسے آپ نے میرا محافظ بنایا تھا، وہ اس وقت میرے پاس نہیں ہے۔ وہ کہاں ہو گا؟ میں نہیں جانتی۔ کسی سے پوچھ نہیں سکتی، کسی سے اس کے متعلق بات نہیں کر سکتی۔
مگر اللہ! آپ تو سنتے ہیں نا؟ آپ ہی تو سنتے ہیں۔
آپ سن لیں میری فریاد اللہ! مگر مجھے لگتا ہے آپ بھی مجھ سے ناراض ہوں گے، میں نے آپ کی دی ہوئی نعمت کی بے قدری جو کی ہے۔ میں نے اپنے محافظ اور اپنے مسیحا کو خود اپنے ہی ہاتھوں سے گنوایا ہے۔ اللہ! کہیں میں نے اس کا قتل۔۔؟ کہیں میں قاتل؟؟” اُف! سوچ سوچ کر اس کا دماغ درد کرنے لگا تھا،
کل رات تو وہ بالکل بھی سو نہیں پائی تھی۔
اب بھی وہ بارگاہِ الٰہی میں دستِ سوال دراز کیے اپنے رب سے بازل کی صحتیابی کے لیے دعا گو تھی۔

کمرے میں اس کی سسکیاں گونجنے لگیں۔ خاموش فریادیں،
وہ فریادیں جو صرف اللہ سنتا ہے۔ وہ “کُن” کہتا ہے تو “فیکون” ہو جاتا ہے۔ اس نے کُن کہہ دیا تھا۔
دروازہ کھلا اور بازل گھر میں داخل ہوا۔ اس نے کچن میں موجود رضیہ بی کو سلام کیا۔ رضیہ بی نے جب اس کی غیر موجودگی کے متعلق استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ وہ دو دن کے لیے کسی کام کے سلسلے میں دبئی گیا تھا۔ واپس آتے ہی اس کے بہت سے کام اور مختلف انڈر ورلڈ گینگسٹرز کے ساتھ میٹنگز تھیں۔ سو وہ مصروف ہونے کی وجہ سے گھر نہیں آ سکا تھا۔
اب بھی وہ صرف اپنی ایک فائل ہی اٹھانے آیا تھا۔
رضیہ بی نے اسے سویرا کی حالت کے متعلق بھی آگاہ کیا تھا لیکن وہ چپ رہا اور اس کے چہرے پر کوئی تاثر ظاہر نہیں ہوا۔ ہاں مگر وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔

وہ اس وقت اس سے ناراض تھا، سو یہ طے تھا کہ وہ اسے آج کوئی لفٹ نہیں کروائے گا۔
پھر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ سویرا جائے نماز پر لیٹی شاید سو رہی تھی۔ بازل نے آرام سے دروازہ بند کیا اور بغیر چابی کے الماری کی طرف بڑھا۔ لاکر کھول کر وہ مطلوبہ فائل ڈھونڈنے لگا کہ کھٹکے کی آواز سن کر سویرا اٹھ بیٹھی۔

بازل کو دیکھتے ہی وہ فوراً اس کے پاس آئی۔ “ب، بازل تم ٹھیک ہو؟ تم، تمہارا زخم کیسا ہے؟” سویرا فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
بازل اس کو دیکھنے سے احتراز برت رہا تھا۔ اگر اسے دیکھ لیتا تو مزید ضبط کرنا مشکل ہو جاتا۔

وہ پوری توجہ سے فائل ڈھونڈنے لگا۔
“بازل تم مجھے جواب کیوں نہیں دے رہے؟ مجھے بتاؤ تم ٹھیک ہو؟ زخم کیسا ہے…” اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کر پاتی، بازل کو مطلوبہ فائل مل چکی تھی۔ وہ اسے اٹھا کر سویرا کے ساتھ سے نکل کر سیدھا باہر چل دیا۔

سویرا شاکڈ (حیران و پریشان) سی وہیں کھڑی رہ گئی۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
“بازل نے میری طرف دیکھا بھی نہیں؟؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟ اس نے میری بات کا جواب تک دینا پسند نہیں کیا؟؟” بے یقینی سے وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اسے اپنی آنکھیں نم ہوتی محسوس ہوئیں۔
چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

آج ان سب نے ہی کالج سے چھٹی کی تھی۔ کیونکہ سویرا اور علشبہ آ نہیں رہی تھیں اور مومنہ بھی اپنی خالہ کے گھر تھی تو اس نے آنا نہیں تھا۔ اُمِ ہانی اور وثقیٰ اس وقت اپنے کمپیوٹر کورس کی کلاس لے رہی تھیں۔

دروازہ بجا اور سینئر سر عبدالاحد قریشی کلاس میں داخل ہوئے۔ سب نے انہیں سلام کیا۔

مگر وہ اکیلے تو نہیں آئے تھے۔
ان کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔
جو وہاں موجود ہر لڑکی کے دل کی دھڑکنوں کو منتشر کر چکا تھا۔

کالی پینٹ پر سفید ڈریس شرٹ پہنے، نیلی آنکھوں پر آرٹیفیشل گلاسز، کتھئی رنگ بالوں کو جیل سے پیچھے کی طرف سیٹ کیے، وہ مغرور شہزادہ وثقیٰ کے پُر سکون دل میں ہلچل مچا چکا تھا۔ وہ ٹک ٹکی باندھے اسے دیکھے گئی۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اس سے نظر نہیں ہٹا سکے گی اب۔
اسے لگا کہ وہ اسے پہچانتی ہے۔
وہ کوئی شناسا شخص تھا۔

_____________

اسے کب سے کسی کی نظریں خود پر محسوس ہو رہی تھیں۔
اس نے جب اس طرف دیکھا تو کچھ پل کے لیے وہ وثقیٰ کو دیکھ کر حیران ہوا۔ مگر اگلے ہی پل اس کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ بکھری تھی۔۔
مگر بس ایک پل۔۔
ایک پل کے لیے ہی وہ مسکرایا تھا اور پھر سے اس نے اپنا رخ کلاس کی جانب پھیر لیا تھا۔
وثقیٰ نے اس کی مسکراہٹ دیکھ لی تھی۔ وہ الجھی۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے؟؟”۔ وثقیٰ بڑبڑائی۔
“کچھ کہا کیا؟؟”۔ اُمِ ہانی نے پوچھا۔
“نہیں، نہیں کچھ نہیں۔” وثقیٰ گھبراتے ہوئے بولی۔


“السلام علیکم بچوں۔ یہ آپ کے نیو ٹیچر ہیں راحم غزنوی۔۔ یہ آپ کو پروگرامنگ سکھائیں گے۔ اچھا اب میں چلتا ہوں، باقی کا انٹرو یہ خود دیں گے۔ اللہ حافظ۔” سر احد قریشی کہہ کر چلے گئے۔

” السلام علیکم سٹوڈنٹس! میں راحم غزنوی ہوں۔ میرا باقی کا تعارف سر قریشی کروا چکے ہیں تو اب ہمیں بغیر وقت ضائع کیے اپنا کام سٹارٹ کرنا چاہیے۔ آج میں آپ کو پروگرامنگ کے بیسکس بتا دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ آپ سب کو میری کلاس ریگولر لینی ہوگی۔ اور مجھے میرا اسائن کیا گیا کام وقت پر ہی چاہیے۔ اور ہماری کلاس میں کسی بھی قسم کی فالتو باتوں سے پرہیز کیا جائے گا۔ اب آپ سب اپنی بکس اور رجسٹرز نکال لیں۔ میں پروگرامنگ کے کچھ بیسکس بتاؤں گا، آپ وہ نوٹ کر لیجیے گا۔”
صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے ہر کام وقت پر کرنے کا عادی تھا۔
“شکل سے تو کسی ریاست کا شہزادہ لگتا ہے مگر ہے بہت کھڑوس، بالکل میر بخت سر کی طرح۔” اُمِ ہانی ناگواری سے کہتی بیگ سے رجسٹر نکالنے لگی۔
“شہزادے کھڑوس نہیں، مغرور ہوا کرتے ہیں۔ اور راحم سر کی پرسنلٹی پر غرور سوٹ کرتا ہے۔ ڈئیر ہانی” وثقی پیار سے اُمِ ہانی کے گال کھینچتے ہوئے بولی۔

“آپ کو میری بات سمجھ نہیں آئی کیا؟؟ شاید ابھی میں نے یہ کہا ہے کہ میری کلاس میں کسی قسم کی فالتو باتوں سے پرہیز کیا جائے۔” راحم، جس نے وثقیٰ کو باتیں کرتے دیکھ لیا تھا، اس نے ابرو اچکا کر ان دونوں کو دیکھا۔
“سر، میں وہ۔۔۔” وثقیٰ بولنے لگی تھی کہ راحم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا.
“میں نے آپ سے وضاحت نہیں مانگی، مجھے وہ لوگ بالکل نہیں پسند جو فالتو میں میرا وقت برباد کرتے ہیں۔” راحم نے وثقیٰ کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔ماتھا شکن آلود تھا۔
وثقیٰ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔اُمِ ہانی خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ “سوری سر،” وثقیٰ نے شرمندگی سے سر جھکائے کہا۔ ارد گرد تمام طالبات چہ مگوئیاں کرنے میں مصروف تھیں۔
“کلاس! میں نے کیا آپ سب کو باتیں کرنے کی اجازت دی ہے؟” راحم نے پوری کلاس کو گھورا۔ سب طالبات نے جلدی سے معذرت کی۔ “چلیں اب کام کا آغاز کرتے ہیں۔” وہ اپنا مارکر اٹھاتا وائٹ بورڈ کی طرف بڑھا۔

_______________


آج موسم بہت خراب تھا۔
مغرب ہو رہی تھی۔ سارا دن سویرا کمرے میں ہی بیٹھی رہی۔ تھوڑی دیر رضیہ بی سے باتیں کیں پھر وہ بھی اپنے کاموں میں لگ گئیں تو سویرا واپس کمرے میں آگئی اور نماز ادا کی۔
دعا مانگ کر وہیں جائے نماز پر ہی بیٹھی تھی کہ رضیہ بی کمرے میں آئیں۔
“بیٹا موسم بہت خراب ہو رہا ہے مجھے گھر جانا ہوگا باقی ملازمین کو بھی چھٹی چاہیے گھر میں انکے بیوی بچے منتظر ہونگے۔۔۔” رضیہ بی فکر مندی سے بولیں۔
تو سویرا اٹھ کر کھڑکی کے پاس آئی اور باہر جھانکا۔ موسم زرد ہو رہا تھا۔ تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔
“جی آنٹی موسم واقعی بہت خراب ہو رہا ہے آپ گھر چلی جائیں اور باقی ملازمین سے بھی کہہ دیں کہ وہ بھی گھر جا سکتے ہیں۔” سویرا نے کہا تو رضیہ بی کے چہرے پر فکر مندی چھائی۔ “مگر بیٹا تم اکیلی ہوگی موسم خراب ہے مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے۔” وہ بہت فکرمند لگ رہی تھیں۔سویرا مسکرادی۔
“نہیں آنٹی کوئی بات نہیں میں تو اپنے گھر میں ہی ہوں اور ویسے بھی مجھے نیند آ رہی ہے تو میں سو جاؤنگی۔ آپ میری ٹینشن نالیں آرام سے گھر جائیں۔” سویرا بولی تو رضیہ بی نے اسے سلامتی کی دعائیں دیں اور چلی گئیں۔

_____________


رضیہ بی کے جاتے ہی وہ واپس جائے نماز پر آ کر بیٹھ گئی۔ اور اللہ سے بازل کی خیریت کے لیے دعا مانگنے لگی۔ دعا مانگ کر وہ جائے نماز رکھتی اٹھی اور کچن سے پانی لینے چل دی۔ واپس آ کر بوتل سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور جب بستر پر لیٹی تو بارش شروع ہو چکی تھی۔
دل میں وہ لگاتار بازل کی خیریت کی دعائیں کر رہی تھی۔

“پتہ نہیں وہ کہاں ہوگا؟؟” چھت کو دیکھتے وہ بڑبڑائی۔ اچانک زوردار بجلی چمکی تو سویرا اچھل سی گئی۔ “یا اللہ خیر۔” وہ خوفزدہ سی بولی۔پریشان نگاہیں کمرے کا طواف کررہی تھیں۔ ایک اور بار بجلی چمکی تو لائٹ بند ہو گئی۔ سویرا چیختی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
“ج، جنریٹر، رض، رضیہ آنٹی جنریٹر آن کریں پلیز۔”وہ ڈری ہوئی لگ رہی تھی۔سہمی نظروں سے اندھیرے میں ڈوبے کمرے کو دیکھا۔اسے یاد آیا رضیہ بی تو گھر جا چکی تھیں۔ وہ کپکپانے لگی اسے اندھیرے سے شدید وحشت ہونے لگی۔
“کوئی ہے؟ جنریٹر آن کرے پلیز۔” وہ روہانسی بولی۔ مگر کوئی ہوتا تو اسے سنتا نا۔ سارے ملازمین تو جا چکے تھے۔ خوف کے مارے وہ بیڈ سے اٹھ تک نہیں پا رہی تھی کہ باہر دروازے پر جا کر گارڈ کو ہی بلا لائے۔


تیز بارش اور بجلی کی چمک سے سویرا کی جان حلق میں آ گئی تھی۔
“ب۔۔بازل کہاں ہو تم؟ بازل پلیز آ جاؤ، مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔ یا اللہ! پلیز بازل کو بھیج دیں، میرے پاس نہیں تو میں مر جاؤں گی میرے اللہ۔” وہ زار و قطار روتے ہوئے اللہ سے فریاد کرنے لگی۔
ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ قابلِ ترس لگ رہی تھی۔ “بازل پلیز واپس آ جاؤ، پلیز بازل تمہاری سویرا مر جائے گی۔ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔” وہ روتے ہوئے بولی۔

بازل اپنے آفس میں اکیلا بیٹھا تھا۔ خراب موسم کے سبب سب جا چکے تھے، مگر وہ وہیں بیٹھا رہا۔ فون بجا تو اس نے کال ریسیو کی۔
“بولو اسلم! سب ٹھیک ہے؟ بی بی ٹھیک ہیں؟” بازل کے لہجے میں فکر واضح تھی۔
“صاحب! موسم خراب ہو رہا تھا، ہم سب نے گھر جانا تھا تو بی بی نے ہم سب کو چھٹی دے دی، اب وہ گھر میں اکیلی ہیں۔ رضیہ بی بی اپنے گھر جا رہی ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ آپ سے کہوں کہ آپ گھر چلے جائیں، بی بی پریشان نہ ہو رہی ہوں۔”
ملازم نے اطلاع دی تو بازل سر ہلا کر جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔میز سے والٹ اور بائیک کی کیز اٹھائیں۔” ٹھیک ہے میں نکلنے لگا ہوں تم خیر سے جاؤ۔” دروازہ کھول کر وہ باہر نکل گیا۔

__________________


اپارٹمنٹ پر پہنچا تو اسے اندھیر پا کر وہ بہت پریشان ہوا۔
فوراً سے گارڈز کو جنریٹر چیک کرنے بھیجا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔
“سویرا، سویرا آپ کہاں ہیں؟” فکرمند سا پورے گھر میں اسے ڈھونڈتے اور آوازیں دیتے بازل نے اپنے قدم کمرے کی جانب بڑھائے۔ دروازہ کھولتے ہی جو منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا وہ بہت تکلیف دہ تھا۔
سویرا گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی شاید وہ اسے پکار بھی رہی تھی۔ بازل فوراً اس کی جانب دوڑا۔

“سویرا!” اس کا نام پکارا تو سویرا نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ “ب، بازل” آنسوؤں سے تر چہرہ لیے وہ بے یقینی سے کہتی فوراً اٹھی اور اگلے ہی لمحے اس کے گلے لگ گئی۔ “بازل تم کہاں چلے گئے تھے۔۔۔ میں بہت اکیلی ہو گئی تھی۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔۔۔” وہ زار و قطار روتے ہوئے کہے جارہی تھی۔
“سویرا میری جان کچھ نہیں ہوا۔ میں ہوں نا یہاں آپ کے پاس۔ دیکھیں میں پھر آگیا آپ کے لیے۔ ڈریں نہیں میں آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا آپ کو یقین ہے نا مجھ پر؟” وہ اس کا سر پیار سے سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“اگر تم نہ آتے تو تم آج مجھے کھو دیتے۔ میں مر جاتی آج۔” سویرا اس کے سینے سے لگی رہی۔آنسو روانی سے بہے جارہے تھے۔وہ بہت ڈر چکی تھی۔
“اونہوں، ایسے نہیں کہتے۔ میں پہلے بھی آپ کے لیے آتا تھا، اب بھی آپ کے لیے ہی آؤں گا۔ کبھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا، وعدہ ہے میرا۔” نرمی سے کہتے بازل نے اسکے بال سہلائے۔

سویرا کو لگا وہ اب کبھی بھی اس کے بغیر رہ نہیں پائے گی اور یہی حقیقت تھی۔

جنریٹر آن ہوا تو کمرہ روشنی میں نہا گیا۔ بازل نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگائے بیڈ پر بٹھایا اور اس کا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ صاف کیا۔
“بس کریں، بیوی! رو آپ رہی ہیں، تکلیف مجھے ہو رہی ہے۔ آپ مجھے تکلیف میں دیکھنا چاہتی ہیں؟” وہ لہجے میں بے پناہ محبت سموئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا تو سویرا نے جھٹ سے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، مگر تمہیں بھی تو مجھے تکلیف میں دیکھنا اچھا لگتا ہے ناں۔ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر خود جانے کہاں چلے گئے۔ میں اس دن تم سے بات کرتی رہی مگر تم نے میری ایک بات کا جواب دینا تک پسند نہیں کیا۔ اب میں بھی تم سے بات نہیں کروں گی۔ ہونہہ۔۔۔” سویرا منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔شکوہ کیا گیا۔۔بازل نے نرم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“کتنے دن ناراض رہنے کا ارادہ ہے، میری پیاری سی بیوی کا؟”کتنی نرمی تھی نہ اس کے لہجے میں۔ سویرا کو خود پر رشک آ رہا تھا۔
“جتنے دن میں چاہوں۔۔” سویرا مزے سے کندھے اچکا کر بولی۔ “ٹھیک ہے جناب ہو جائیں ناراض، ہم بھی جی جان سے منانے کی کوشش کریں گے۔” بازل مسکرا کر بولا تو سویرا کھلکھلا اٹھی۔ بازل پرسکون ہو گیا، اس کی سویرا خوش تھی۔ اس کے ساتھ نارمل ہو گئی تھی، اسے زندگی سے اور کیا چاہیے تھا۔۔۔

بارش اب بھی اسی زور و شور سے برس رہی تھی۔ مگر اب سویرا کو کوئی ڈر نہ تھا، اس کا محافظ جو اس کے پاس موجود تھا، اس کی حفاظت کرنے کے لیے۔۔۔


____________________


خان ولا کو اس وقت کسی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ پوری حویلی روشنیوں سے نہا رہی تھی۔ ہر طرف افرا تفری مچی تھی۔ ہر کوئی اپنی تیاریوں میں مگن تھا۔
آج شاہزیب کی بہن کا مائیوں تھا۔

“شاہزیب بیٹا! بہن تیار ہو گئی ہے۔ جاؤ اسے پارلر سے لے آؤ۔” شاہزیب کی امی نے اسے کہا تو اس نے سر ہلادیا۔
“جی امی! ابھی زینب کی کال آئی تھی، میں ان دونوں کو ہی لینے جا رہا ہوں۔”
“اوکے بیٹا! خیر سے جاؤ۔”
شاہزیب کار کی چابی اٹھا کر چلا گیا۔

 

“علشبہ بیٹا! کیا ہوا؟ تم تیار کیوں نہیں ہوئیں ابھی تک؟ جانا نہیں ہے کیا؟” علشبہ کی امی، جو کہ اس وقت مکمل تیار ہو چکی تھیں، اسے ابھی تک سادہ سے حلیے میں دیکھ کر پوچھنے لگیں۔ “نہیں امی! میں نہیں جاؤں گی، آپ لوگ چلے جائیں۔۔ میری طبیعت کچھ خراب ہے، چکر آ رہے ہیں۔” علشبہ نے بہانہ بناتے ہوئے کہا۔ وہ شاہزیب کے گھر بالکل بھی نہیں جانا چاہتی تھی۔

“کیا ہوا بیٹا؟ طبیعت زیادہ خراب تو نہیں ہے؟” اس کی امی پریشانی سے اسکی طرف بڑھیں ماتھے ہر ہاتھ رکھ کر ٹمپریچر چیک کیا۔ٹمپریچر نارمل تھا.
“نہیں امی، زیادہ نہیں، بس سر میں درد تھا۔ ابھی میڈیسن لے کر ریسٹ کروں گی تو تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔” علشبہ نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا۔
“اوکے بیٹا، ٹھیک ہے۔ تم آرام کرو، ہم جلد آنے کی کوشش کریں گے۔”انہوں نے اس پر بلینکٹ صحیح سے اوڑھایا اور چلی گئیں۔

علشبہ جانتی تھی کہ زینب ہر وقت شاہزیب سے چپکی رہے گی اور ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر اسے بہت تکلیف ہوگی۔ اس وجہ سے وہ شادی پر بھی نہیں جا رہی تھی۔

اس کے علاوہ اس نے شادی کے کپڑے بھی نہیں لیے تھے، کیونکہ اس دن کے بعد سے ہی اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب رہنے لگی تھی، تو وہ بس آرام ہی کرتی تھی۔

فنکشن شروع ہونے والا تھا۔
شاہزیب، زاریہ اور زینب کو پارلر سے لے کر آ چکا تھا۔ شاہزیب کی متلاشی نظریں پورے ہال میں علشبہ کو تلاش کر رہی تھیں، مگر وہ کہیں ہوتی تو اسے نظر آتی نا۔

اس نے علشبہ کے والدین سے پوچھا تو انہوں نے بتایا تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہے، اس وجہ سے وہ گھر پر ہی ہے۔ مگر شاہزیب جانتا تھا کہ وہ صرف اس کی وجہ سے گھر پر رکی تھی۔ اس نے اپنی کار کی کیز (چابیاں) اٹھائیں اور علشبہ کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔

راستے میں وہ ایک مال میں رکا اور اس کے لیے مسٹرڈ رنگ کا بہت ہی خوبصورت سا فراک لیا جس پر نارنجی رنگ کا بہت ہی نفیس سا کام کیا ہوا تھا۔

علشبہ کے گھر کے باہر پہنچ کر اس نے علشبہ کو کال کی مگر وہ بار بار کال کاٹ دیتی۔
ایک گہرا سانس لے کر وہ کار سے اترا اور علشبہ کے گھر کی بیل بجائی۔

علشبہ رو رہی تھی۔ اس کی آنکھیں اور ناک رو رو کر لال ہو چکے تھے۔ اسے شاہزیب سے اس طرح کی بے وفائی کی امید نہیں تھی۔

اسے شاہزیب پر بہت زیادہ غصہ آ رہا تھا۔ شاہزیب کی کالز آئیں تو اس نے غصے میں کال کاٹ دی۔
وہ اس سے بالکل بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اچانک دروازہ بجنے لگا۔
اسے لگا تھا کہ اس کے والدین جلد واپس آنے والے ہیں۔ اس نے جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر دروازہ کھولا۔
مگر سامنے شاہزیب کو دیکھ کر اس نے ناگواری سے منہ موڑا۔
وہ کم از کم اس سے اس وقت بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔

سفید رنگ کے کرتے پر مسٹرڈ کلر کی ویسٹ کوٹ پہنے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟” شاہزیب نے اس ناراض سی گڑیا کو دیکھ کر بہت معصومیت سے پوچھا۔
“آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟” علشبہ نے اس کے سوال کو یکسر اندازِ نظر کیا۔
“اپنی فیوچر وائف کو منانے” شاہزیب نے اپنے بتیس دانتوں کی بھرپور نمائش کرتے ہوئے جھٹ سے کہا۔


“ایسی حرکتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اتنے بڑے گھوڑے ہو گئے ہیں، ایسی حرکتیں کرتے بہت زہر لگ رہے ہیں آپ!” علشبہ نے اسے گھور کر دیکھا۔
“اچھا ناں بابا، سوری! پلیز مجھے اندر تو آنے دو، میری ٹانگوں میں کھڑے کھڑے درد ہو رہا ہے۔ اور دیکھو نا،آتے جاتے لوگ بھی ہم دونوں کو ہی دیکھ رہے ہیں۔” شاہزیب ہار مانتے ہوئے بولا؛ اسے پتا تھا کہ ابھی اس کی دال یہاں نہیں گلنے والی۔
“آ جائیں،” علشبہ کہہ کر لاؤنج کی طرف چل دی۔ شاہزیب بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔
“بیٹھ جاؤں؟” شاہزیب نے آنکھیں پٹپٹا کر انتہائی معصومیت سے پوچھا۔ علشبہ اس کی اس دلکش ادا پر مسکرائے بنا نہ رہ سکی۔
“جی، بیٹھ جائیں۔”
“تھینک یو، ڈئیر فیوچر وائف!” شاہزیب صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
“آپ پلیز مجھے بار بار اس طرح سے مت پکاریں، اور یہ بتائیں کہ یہاں کیوں آئے ہیں؟” علشبہ کو اس طرح سے بار بار شاہزیب کا یوں ‘فیوچر وائف’ کہنا اچھا نہیں لگا تھا۔


“تمہیں لینے آیا تھا مجھے تمہاری فکر ہو رہی تھی۔”
“میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔ اور آپ کو میری فکر کب سے ہونے لگی؟ آپ جائیں جا کر اس زینب کے ساتھ گھومیں۔ میری فکر کرنے کی آپ کو ضرورت نہیں ہے۔”
علشبہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔ “علشبہ پلیز یار مجھے معاف کر دو۔ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں۔ پلیز تم ایک دفعہ میرے ساتھ تو چلو۔”
وہ مان سے کہہ رہا تھا۔
“میں نے کہا نہ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی، آپ جائیں یہاں سے پلیز۔” علشبہ رونے لگی۔شاہزیب اٹھ کھڑا ہوا۔جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ بٹھایا۔
“علشبہ چندا پلیز رو مت، ادھر آؤ یہاں بیٹھو میری بات سنو۔” شاہزیب اسے بٹھاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ “علشبہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ بہت زیادہ۔۔ تم جب جب مجھے زینب کے ساتھ دیکھ کر جیلس فیل کرتی ہو، مجھے بہت اچھا لگتا ہے، سکون ملتا ہے میرے دل کو یہ جان کر کہ تم بھی میرے معاملے میں اسی طرح حساس ہو جیسے میں تمہارے بارے میں ہوں۔”


“میں جانتا ہوں کہ تمہیں مجھے اس طرح اس کے ساتھ دیکھنا اچھا نہیں لگتا، پر علشبہ! میں تمہیں ایک بات بتاؤں؟ میں نے کبھی بھی زینب کو اس نظر سے نہیں دیکھا۔ میں اسے اپنی بہن سمجھتا ہوں اور وہ میرے لیے بالکل زاریہ جیسی ہے۔۔۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ زینب میرے بارے میں ایسا سوچتی ہوگی۔ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں کبھی بھی اسے اتنی اہمیت نہ دیتا۔ پلیز میری جان! میری بات کو سمجھو، پلیز اس طرح روؤ مت۔۔ شاہزیب خان صرف اور صرف اپنی محبوبہ سے محبت کرتا ہے۔ شاہزیب خان اپنی علشبہ کو اس دنیا کی ہر شے سے زیادہ چاہتا ہے۔ تم مجھے بہت عزیز ہو۔۔ تمہیں یقین ہے ناں مجھ پر اور میری محبت پر؟” شاہزیب کے اس اقرار نے علشبہ کو سرشار کر دیا تھا۔
“جی،” علشبہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔


“تو چلو پھر اٹھو، میرے ساتھ چلو۔” شاہزیب اسے اٹھاتے ہوئے بولا۔ “میں نہیں جا سکتی شاہزیب، میرے پاس کپڑے نہیں ہیں۔”
“مجھے پتا تھا کہ تم نے ضد میں آ کر کپڑے نہیں لیے ہوں گے، اس لیے میں لایا ہوں اپنے ساتھ۔ تم بس چلو، ورنہ دیر ہو جائے گی۔” شاہزیب علشبہ کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
اس نے پہلے سے ہی پارلر سے علشبہ کے لیے اپائنٹمنٹ بک کر لی تھی۔ علشبہ اپنا ڈریس لے کر تیار ہونے چل دی۔
شاہزیب کار میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *