Girdaab Episode 21 written by siddiqui

 

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۱

امل نے کچھ فاصلے پر جا کر گاڑی روک دی اور ایک نظر ساتھ بیٹھی تانیہ پر ڈالی۔ وہ ابھی تک بےہوش تھی۔
امل نے پریشانی سے اُسے دیکھا۔
اب اسے کیسے اٹھاؤں؟
وہ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھی سوچتی رہی، پھر اچانک جیسے کچھ یاد آیا۔ اُس نے پیچھے مڑ کر اپنا بیگ کھولا اور اُس میں سے پانی کی بوتل نکالی۔ اگلے ہی لمحے اُس نے بوتل کا پانی تانیہ کے چہرے پر پھینک دیا۔
تانیہ نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور ہڑبڑا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
کیا ہوا؟ کیا آپ ٹھیک ہیں؟
امل نے اطمینان سے جواب دیا۔
ہاں، میں بالکل ٹھیک ہوں۔
تانیہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اور وہ سب گاڑیاں؟ کہاں گئیں؟
امل نے بےزاری سے سانس خارج کی۔
فی الحال مجھے گھر پہنچاؤ۔
مطلب؟
مطلب یہ کہ مجھے نہیں پتا یہ کون سا راستہ ہے۔ میں نے گاڑی تو موڑ لی ہے، لیکن اب یہ بھی نہیں معلوم کہ گھر جانے کا راستہ کون سا ہے۔
تانیہ نے فوراً اپنا فون نکالا۔
اچھا، میں لوکیشن دیکھ کر آپ کو پہنچا دوں گی۔
امل نے سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے۔
یہ کہہ کر وہ ڈرائیونگ سیٹ سے اتری، گاڑی کے پیچھے کی طرف گئی اور پچھلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی۔ تانیہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی دوبارہ سڑک پر ڈال دی۔

+++++++++++++

کمرے میں موجود بڑے سے آئینے کے سامنے امن کھڑا اپنی گھڑی درست کر رہا تھا۔ اُس نے سفید شرٹ کے کف لنکس بند کیے، پھر میز پر رکھا اپنا کوٹ اٹھا کر کندھوں پر ڈال لیا۔ وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا، مگر کمرے میں موجود دو افراد کی بحث نے اُس کے سکون کا بیڑہ غرق کر رکھا تھا۔
سنان اور زرقان کمرے کے درمیان آمنے سامنے کھڑے تھے۔ دونوں کے چہروں سے صاف ظاہر تھا کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا بھی اُن کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔
بھائی! یا تو مجھے نکال دو یا اِسے۔۔۔
زرقان نے فوراً اُس کی بات کاٹی۔
ہاں، تو تُو نکل۔ ویسے بھی تیرا کوئی کام نہیں یہاں۔
امن نے آئینے میں ہی دونوں کو دیکھا، پھر پلٹ کر اُن کی طرف رُخ کیا۔
تم دونوں کو آخر ایک دوسرے سے کیا مسئلہ ہے؟ ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتے؟
نہیں۔۔۔۔
دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔
سنان نے زرقان کی طرف ناگواری سے دیکھا۔
میں اِس منحوس کے ساتھ کام کر کے مر نہ جاؤں۔
زرقان نے بھی فوراً جواب دیا۔
Same to you!
میں تیرے ساتھ کام کرنے سے پہلے مرنا پسند کروں گا۔
امن نے گہری سانس لی۔ اور ان کی طرف مڑا اور دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
دیکھو، جو کام تم دونوں اکیلے اکیلے کر رہے ہو، اگر وہی مل کر کرو گے تو کتنا فائدہ ہوگا۔ ایک وقت میں ایک کے بجائے دو کام ہو سکیں گے۔
زرقان نے فوراً اعتراض کیا۔
لیکن میں اِس کا حکم نہیں مان سکتا۔ اِسے بولو، میرا آرڈر فالو کرے گا۔ جو میں کہوں گا، وہ کرے گا، تو ٹھیک ہے۔
سنان نے طنزیہ انداز میں سر ہلایا۔
آہاں! خوش فہمیاں تو دیکھیں جناب کی۔ سنن حیدر آرڈر دیتا ہے، آرڈر لیتا نہیں۔۔
اِسے نکالو اِس گھر سے۔ میں اور میری گینگ کافی ہیں، ہمیں اِس نِکَمّے کی کوئی ضرورت نہیں۔
امن نے دونوں کو باری باری دیکھا، پھر پوچھا۔
تم ٹیم کے ساتھ کام کرتے ہو؟
سنان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اور زرقان، تم؟
زرقان نے بےنیازی سے جواب دیا۔
میں اکیلا کافی ہوں۔
تو پھر کیا مسئلہ ہے؟ تم سنان کے ساتھ کام کر لو۔
نہیں… زرقان نے فوراً جواب دیا۔
اصل میں معاملہ پہلے کچھ اور تھا۔ پہلے سنان کی ساری توجہ گھر کے اندر چھپے ہوئے بندے کو ڈھونڈنے پر تھی، جبکہ زرقان باہر کے معاملات دیکھ رہا تھا۔ لیکن جب گھر کا مسئلہ حل ہو گیا تو اب دونوں کے درمیان ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔
کیونکہ اب جو معلومات سنان حاصل کرتا، وہی زرقان بھی نکال رہا ہوتا۔ یوں دونوں الگ الگ ایک ہی کام کر رہے تھے، اور ایک وقت میں صرف ایک ہی کام مکمل ہو پاتا تھا۔ اگر دونوں مل کر کام کرتے تو ایک ہی وقت میں دو کام کیے جا سکتے تھے، مگر دونوں کی انا آڑے آ رہی تھی۔ کوئی بھی دوسرے کے ماتحت کام کرنے کو تیار نہیں تھا۔
اور امن کے لیے یہی سب سے بڑی پریشانی تھی۔
اُس نے تنگ آ کر کہا۔
جو مرضی کرو تم دونوں! جب میری سننی ہی نہیں تھی تو میرے پاس آئے کیوں ہو؟
سنان نے فوراً شکایت لگائی۔
یہی بولنے کہ اِس نِکَمّے کو نکال دو۔ میرا نیٹ ورک خراب کر رہا ہے یہ۔
امن نے اُس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
ریپر کا کیا صورتحال ہے؟
زرقان نے جواب دیا۔
خاموش ہے ابھی وہ۔۔
سنان نے فوراً زرقان کو گھورا۔
ابے بھائی نے مجھ سے پوچھا ہے۔۔
زرقان نے بھی اُسی انداز میں جواب دیا۔
بھائی نے نام تو نہیں لیا؟
امن نے دونوں کو گھور کر دیکھا۔
چپ کرو دونوں! میں سیریس ہوں۔
اُس نے اپنی گھڑی پر ایک نظر ڈالی، پھر سنجیدگی سے بولا۔
ابھی تک میں اُس کے گروپ کی دو گینگز پکڑوا چکا ہوں۔ ایک ڈرگ ڈیلر اور دوسرا اسلحہ ڈیلر، لیکن وہ اب تک خاموش بیٹھا ہے۔ اُس کی طرف سے ابھی تک کوئی جوابی وار نہیں ہوا۔
سنان نے سوچتے ہوئے کہا۔
کچھ بڑا کرنے کا سوچ رہا ہوگا وہ۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، تو بس یہی پتا کرو کہ وہ کیا بڑا کرنے والا ہے، تاکہ میں پہلے سے اُس کے لیے تیار رہوں۔
سنان نے زرقان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
سب ہو جائے گا، بس اِسے بولو دور رہے۔
زرقان نے ناگواری سے اُسے دیکھا۔
ابے چل، نکل۔۔۔
یہ کہہ کر زرقان کمرے سے باہر نکل گیا، جبکہ سنان ابھی بھی غصے سے اُس کے پیچھے دیکھ رہا تھا۔ امن نے ایک بار پھر گہری سانس لی، اپنا کوٹ درست کیا اور سر جھٹک کر رہ گیا۔ دونوں کو ایک ساتھ کام پر لگانا شاید ریپر کو پکڑنے سے بھی زیادہ مشکل ہونے والا تھا۔

+++++++++++++

امل جب گھر واپس پہنچی تو آتے اتے اُسے، گیارہ بج چکے تھے۔ وہ گاڑی سے اترتے ہی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی، جیسے جلد از جلد خود کو سب کی نظروں سے اوجھل کر دینا چاہتی ہو۔ مگر ابھی وہ راہداری سے گزر ہی رہی تھی کہ انیسہ بیگم نے اُسے دیکھ لیا۔
ارے! ابھی تو گئی تھی تُو؟ ابھی واپس بھی آ گئی؟
امل نے چلتے چلتے ہی جواب دیا۔
ہاں دادی! آج میری صرف ایک ہی کلاس تھی۔
یہ کہہ کر وہ مزید رُکے بغیر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر لیا۔
اُس نے فوراً اپنا فون نکالا اور اسکرین روشن کی۔ شوہر کے نام سے محفوظ اُس نمبر پر نظر پڑتے ہی اُس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
ریپر نے اپنا نمبر اُس کے فون میں ہسبنڈ کے نام سے سفے کیا تھا۔۔۔
یہ دیکھ کر اُس کا دماغ مزید گھوم گیا۔ وہ غصے سے فون دیوار پر دے مارنے ہی والی تھی کہ اچانک فون وائبریٹ ہوا۔
ایک نیا میسج موصول ہوا تھا۔
فون توڑ دو گی تو مجھے پھر تمہیں نیا فون گفٹ کرنا پڑے گا۔۔۔!!
امل نے غصے سے دانت پیسے اور فوراً جواب ٹائپ کیا۔
کیا کروں؟ کسی انسان کو تو میں توڑ نہیں سکتی، اِسی لیے فون ہی توڑ رہی ہوں۔ نہ رہے گا فون، نہ رہے گی ٹینشن۔۔
جواب آنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔
ارے! میں ہوں نا۔۔۔ مجھے بتاؤ کس انسان کو توڑنا ہے۔ مجھے اچھے اچھوں کو اچھے سے توڑنا آتا ہے۔
امل نے آنکھیں گھمائیں اور انگلیاں اسکرین پر چلا دیں۔
تو پھر آپ اپنے آپ کو ہی اچھے سے توڑ لیں۔۔۔ پہلے پاؤں دیوار میں ماریں، پھر ہاتھ دیوار میں ماریں اور پھر اپنا سر دیوار میں دے ماریں۔
ارے! تمہیں تو اچھے سے توڑنا آتا ہے۔۔۔ تم خود ٹرائی کیوں نہیں کرتیں یہ؟
آپ پہلے کر کے دیکھیں۔ سکسیس فل ہوئے تو پھر میں بھی ٹرائی کر لوں گی۔
لو۔۔ تم میرے ساتھ ہی اپنی قبر بنوانا چاہتی ہو؟ اتنی محبت ہے اپنے شوہر سے؟
امل نے بےساختہ دانت پیسے۔
ہاں۔۔ اتنی محبت ہے کہ بس فوراً آپ کی قبر دیکھنا اور آپکی قبر پر فاتحہ پڑھنا چاہتی ہوں۔
یہ پیغام بھیج امل کو لگا اب ریپر کو غصہ تو آہی گیا ہوگا۔۔۔ لیکن ریپر کا اگلا میسج امل کا خون کھولا اُٹھتا۔۔
پہلے میری قبر پر فاتحہ پڑھنا چاہتی ہو یا اپنے بھائی کی؟
میسج پڑھتے ہی امل کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔ اُس کی آنکھوں میں غصہ اُتر آیا اور انگلیاں فون پر سختی سے جم گئیں۔ ایک لمحے کے لیے اُس نے فون پوری قوت سے دیوار پر دے مارنے کا ارادہ کیا، مگر عین آخری لمحے پر رک گئی۔
نہیں۔۔۔ فون کا کیا قصور؟
اُس نے ایک گہری سانس لی، غصے سے فون کو مٹھی میں جکڑا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
امل غصے میں تیز تیز قدم اٹھاتی راہداری سے گزر رہی تھی کہ سامنے سے ایک ملازمہ آتی دکھائی دی۔ امل نے فوراً اُسے روک لیا۔
علی بھائی گھر پر ہیں؟
جی، ابھی امن بھائی کے کمرے سے اپنے کمرے کی طرف گئے ہیں۔
امل نے سر ہلایا۔ ٹھیک ہے، جاؤ۔
ملازمہ کے وہاں سے جاتے ہی وہ زرقان کے کمرے کی طرف بڑھی۔ غصے اور ٹینشن کی کیفیت ایسی تھی کہ دروازے پر دستک دینے کا خیال بھی ذہن میں نہ آیا۔ اُس نے سیدھا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔
زرقان لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا تھا۔ لیپ ٹاپ آن تھا، مگر اُس کی ساری توجہ اپنے فون پر مرکوز تھی۔ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی تھی، جیسے کسی دلچسپ پیغام نے اُس کا موڈ اچھا کر رکھا ہو۔
مگر اچانک امل کو یوں اندر آتے دیکھ کر اُس کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گئے۔ اُس نے فوراً اپنا فون اور لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
ارے، ارے! ایسے کون اندر گھسا چلا آتا ہے؟ مانا کہ یہ کمرہ اور گھر تمہارا ہے، لیکن فی الحال اِس کمرے میں تو میں رہتا ہوں۔۔۔
امل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اُس نے فوراً ہاتھ ماتھے پر مارا۔
سوری، سوری! میں اتنی زیادہ ٹینشن اور غصے میں تھی کہ دھیان ہی نہیں رہا۔ سوری، ریئلی سوری! آپ شاید مصروف تھے؟
زرقان نے اُس کے پریشان چہرے کو دیکھا۔
اتنی ٹینشن میں کیوں ہو؟ کیا ہوا؟
امل آگے بڑھی اور اپنا فون اُس کے سامنے کر دیا۔
زرقان نے فون کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
میرے پاس اپنا فون ہے۔
نہیں، یہ دیکھیں۔۔۔ اِس میں ریپر کا نمبر سیو ہے۔
زرقان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
لو! تمہیں ریپر کا نمبر سیو ہی کروانا تھا تو مجھ سے اتنی سیٹنگز کیوں کروائی تھیں؟
میں نے خود تھوڑی نا سیو کیا ہے نمبر! میری بات تو پوری سن لیں۔
اچھا، بولو، بولو۔
امل نے بےبسی سے فون اُس کے سامنے کیا۔
ریپر نے میرے فون میں اپنا نمبر سیو کر لیا ہے، اور اب میں اُس کا نمبر ڈیلیٹ بھی نہیں کر سکتی۔ آپ کچھ ایسا کریں کہ اِس فون میں اُس کا نمبر بھی ڈیلیٹ نہ ہو اور وہ مجھے کوئی ٹیکسٹ یا کال بھی نہ کر سکے۔
زرقان نے فوراً مشورہ دیا۔
بلاک کر دو۔
نہیں نا! بلاک کروں گی تو ریپر کو پتا چل جائے گا۔ آپ کچھ ایسا کریں کہ نہ مجھے نمبر ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت پڑے، نہ بلاک کرنے کی، اور ریپر مجھے کال بھی نہ کر سکے۔ اور ریپر کو پتہ بھی نہ چلے۔۔۔
زرقان نے اُسے گھورا۔
تم مجھے کیا کوئی جادو کا چراغ سمجھتی ہو؟ ہیکر ہوں میں، علاؤالدین کا جن نہیں کہ تمہارے فون میں جادو کر دوں! ایسی کوئی سیٹنگ نہیں ہوتی فون میں۔ جو ہو سکتا تھا، وہ میں نے کر دیا تھا۔ نمبر سیو کروایا ہی کیوں تم نے؟
امل نے فوراً صفائی دی۔
تو اور میں کیا کرتی؟ پھنس گئی تھی میں۔۔۔
زرقان نے چند لمحے سوچا، پھر اُس کے ہاتھ سے فون لے لیا۔
اچھا، ایک کام کرو۔
اُس نے فون کا سم ٹرے نکالا اور سم باہر نکال کر امل کے سامنے کر دی۔
یہ لو! بغیر نمبر بلاک کیے، بغیر ڈیلیٹ کیے، کام ہو گیا۔
امل نے حیرت سے سم کو دیکھا۔
اب؟
اب یہ سم میں اپنے فون میں لگا لوں گا۔ پھر وہ کال کرتا رہے گا اور میں اُٹھاؤں گا نہیں؟ اور تم نیا سم لے لو۔ اُس میں اپنے دوستوں کے نمبر سیو کر لینا۔
امل نے قدرے اطمینان سے پوچھا۔
اِس سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا نا؟
نہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
امل کے چہرے پر سکون پھیل گیا۔
تھینک یو! اور ہاں، بھائی کو مت بتائیے گا اِس بارے میں۔
زرقان نے فوراً پوچھا۔
کیوں؟
امل نے ذرا دھیمے لہجے میں وضاحت کی۔
یہ چھوٹا موٹا سا مسئلہ ہے۔ بھائی کو بتاؤں گی تو وہ اپنا سارا کام چھوڑ کر پریشان ہو جائیں گے۔ اُن پر پہلے ہی بہت سی ذمہ داریاں ہیں، میں اپنی ٹینشن بھی اُن کے سر نہیں ڈال سکتی۔
زرقان نے اُس کی بات سنی اور سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ نہیں بتاتا بھائی کو۔۔۔ بھائی کی سگی۔۔
امل کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ اُس نے ایک بار پھر شکریہ ادا کیا اور مطمئن قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
جبکہ زرقان کچھ دیر اُس کے جاتے ہوئے راستے کو دیکھتا رہا، پھر اُس کے ہاتھ میں موجود سم پر نظر پڑی۔ اُس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

+++++++++++

اچھا، میری بات سنو۔۔۔
امن نے آئینے میں اُس کا عکس دیکھا، مگر اپنے کام میں مصروف رہا۔
صرف ایک منٹ ہے تمہارے پاس، جلدی بولو۔
سنان نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
تم یُسریٰ سے دور رہو۔
امن کا ہاتھ بالوں پر ہی رک گیا۔ وہ فوراً پلٹا۔
کیا؟
میرا مطلب ہے، یُسریٰ کو اپنے معاملات سے دور رکھو۔
امن نے اُسے غور سے دیکھا۔
کیوں؟ تمہیں اُس پر شک ہے؟
شک نہیں ہے، لیکن اُس سے عجیب سی فِشّی فِشّی وائبز آتی ہیں۔
امن نے حیرت سے بھنویں اچکائیں۔
مطلب، نوکری سے نکال دوں اُسے؟
سنان نے اُلٹا سوال کر دیا۔
اگر میں صرف اتنا کہوں کہ مجھے اُس پر شک ہے، تو نکال دو گے؟
امن نے بغیر کسی توقف کے جواب دیا۔
ہاں۔
سنان نے چونک کر اُسے دیکھا۔
کیوں؟
تمہیں رکھا ہی کس لیے ہے؟ اگر تمہیں کسی پر شک ہوگا تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ اُس کے اندر کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔
سنان نے اُسے گھورا۔
کچھ زیادہ ہی بھروسا نہیں کر لیا مجھ پر؟ کیا پتہ میں ہی ریپر نِکل آؤں پِھر۔۔۔۔
امن نے ہاتھ میں پکڑا کنگھا میز پر رکھا۔
اپنی بات مکمل کرو۔ کیا کہنا چاہتے ہو؟
سنان نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر بولا۔
مطلب، کبھی وہ مجھے ٹھیک لگتی ہے اور کبھی بالکل ٹھیک نہیں لگتی۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
صحیح کہہ رہے ہو۔ مجھے بھی اُس سے کچھ ایسی ہی وائبز آتی ہیں۔
ہاں، تو بس اُسے اپنے سے اور اپنے معاملات سے دور رکھو۔ وہ شیف ہے نا، تو بس اُسے نیچے کچن اور دادی تک ہی محدود رکھو۔ اِس طرح اگر وہ ٹھیک ہوئی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اور اگر غلط ہوئی تو بھی نہیں۔
امن نے چند لمحے سوچنے کے بعد سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے، میں اُسے کہہ دوں گا۔
سنان نے اطمینان سے سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گیا،
سنان کے کمرے سے نکلتے ہی چند لمحوں بعد یُسریٰ بھی امن کے کمرے میں داخل ہوئی۔ یہ اُس کا روز کا معمول تھا کہ صبح امن کے تیار ہو کر کمرے سے نکلنے سے پہلے وہ وہاں پہنچ جاتی۔ کمرے کی صفائی کرنا، ہر چیز کو اپنی جگہ سے اٹھا کر اُس کی ترتیب کے مطابق دوبارہ رکھنا، یہ سب اُس کے روزمرہ کے کاموں میں شامل تھا۔
یوں اُس کا کام بھی ہو جاتا اور صبح صبح امن کا دیدار بھی۔
مگر آج امن نے اُسے دیکھتے ہی بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ شاید یہی مناسب وقت تھا۔
یہاں بیٹھو۔
اُس نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
یُسریٰ نے قدرے حیرت سے اُسے دیکھا، پھر خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
کیا ہوا؟ آپ کو مجھ سے کچھ بات کرنی ہے؟
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہمم۔۔۔
اور وہ خود صوفے پر بیٹھنے کے بجائے بیڈ پر جا بیٹھا۔
میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا، اب دوبارہ کہہ رہا ہوں۔ بلکہ اِس بار تمہیں حکم دے رہا ہوں۔
یُسریٰ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
حکم؟
ہاں، حکم۔ مجھے پتا ہے، میں تمہیں کچھ کہوں گا تو تم دو دن اُس بات پر عمل کرو گی اور پھر دوبارہ وہی سب کرنے لگو گی۔ اِسی لیے اِس بار حکم دے رہا ہوں۔ اور اگر تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی تو۔۔۔
امن نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
تو؟
تو تمہیں اِس گھر سے جانا ہوگا۔
یہ سنتے ہی یُسریٰ کی سانس جیسے حلق میں اٹک گئی۔
نہیں، نہیں۔۔۔ وہ فوراََ بولی۔۔۔
نہیں جانا نا؟ تو پھر میری بات ماننی پڑے گی۔
بات کرنا تو امن سے سیکھے کوئی۔ کسی بھی صورتِ حال کو کیسے سنبھالنا ہے اور سامنے والے کو اپنی بات کیسے منوانی ہے، یہ اُسے خوب آتا تھا۔
یُسریٰ نے بےبسی سے سر ہلایا۔
جی، میں مانوں گی۔ آپ بتائیں؟
آج کے بعد تم میرے آس پاس نظر نہیں آؤ گی۔ نہ میرے کسی کام کو ہاتھ لگاؤ گی، نہ میرے کمرے میں آؤ گی، نہ میری کسی چیز کو ہاتھ لگاؤ گی اور نہ ہی مجھ سے براہِ راست کوئی بات کرو گی۔
یُسریٰ خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
یہ کیا تھا؟ وہ کیا کہہ رہا تھا؟ اُسے اپنے سے دور کر رہا تھا، اپنی چیزوں سے دور، اپنے کمرے سے دور۔۔۔ مگر کیوں؟
اُس نے بمشکل اپنی آواز سنبھالی۔
کیوں؟ مجھ سے کچھ غلط ہو گیا ہے کیا؟
امان نے اطمینان سے جواب دیا۔
میں اپنا کام خود کرنے کا عادی ہوں۔ تم میری عادتیں خراب کر رہی ہو، اِسی لیے کہہ رہا ہوں۔ مجھ سے زیادہ میری بہن کے ساتھ رہا کرو، اُس کا خیال رکھا کرو۔ ویسے بھی دادی نے تمہیں اُسی کے لیے رکھا ہے۔
یُسریٰ نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔
تو کیا میں آپ کے لیے کھانا بھی نہ بناؤں؟
نہیں، کچھ بھی مت کرو۔
لیکن آپ کو میرے ہاتھ کی کافی بہت پسند ہے۔
امن نے فوراً اُس کی بات کاٹی۔
میں نے تم سے ایسا کب کہا؟
خود سے باتیں فرض مت کیا کرو۔ میں نے بس اتنا کہا تھا کہ تم اچھا کھانا بناتی ہو۔ اور مجھ سے زیادہ تمہارے ہاتھ کا کھانا امل کو پسند ہے، جبکہ نہات کو کافی پسند ہے۔ جب بھی وہ آئے تو اُس کے لیے بنا دیا کرنا۔
یُسریٰ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
مطلب میں سب کا کام کروں، لیکن آپ کے لیے کچھ نہ کروں؟
امن نے مختصراً جواب دیا۔
ہمم۔۔۔
لیکن اچانک ایسا کیوں؟ میں سمجھ نہیں پا رہی۔
امن نے ایک بار پھر وہی بات دہرائی۔
میں نے ابھی تو کہا، مجھے اپنا کام خود کرنے کی عادت ہے۔ اور جو تھوڑا بہت کام ہوتا ہے، وہ میں بُوا سے ہی کروانا پسند کرتا ہوں۔
اچھا۔۔۔
یُسریٰ نے نظریں جھکا لیں۔ آنکھوں میں جمع آنسو پلکوں کی دہلیز پر ٹھہرے ہوئے تھے، جیسے بس ایک لمحے کی دیر ہو اور گالوں پر بہہ نکلیں۔
امن نے اُسے دیکھتے ہوئے آخری بار تنبیہ کی۔
اب یہ میرا حکم ہے۔ اگر تم نے میرے حکم کے خلاف جا کر کچھ بھی کیا تو تمہیں مجبوراً اِس گھر سے جانا ہوگا۔
یُسریٰ نے ایک نظر اُٹھا کر اُسے دیکھا۔
ایک ہی شخص اتنا نرم بھی ہو سکتا تھا اور اتنا سخت بھی؟ آخر کوئی اتنا پتھر دل کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا اُسے یُسریٰ کی محبت نظر نہیں آتی تھی؟ اُس کی فکر، اُس کا خیال، اُس کی ہر وقت امن کے آس پاس رہنے کی کوشش۔۔۔ کیا وہ کچھ بھی نہیں دیکھتا تھا؟
یا شاید وہ سب دیکھ کر بھی اَن دیکھا کر رہا تھا۔
یُسریٰ نے اپنے لب بھینچے اور بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
اور کچھ کہنا ہے یا میں جاؤں؟
امن نے سر ہلایا۔
ہمم۔۔۔ جاؤ۔
وہ خاموشی سے اُٹھی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ مگر دروازے کے قریب پہنچ کر اُس کے قدم رک گئے۔ چند لمحے وہ وہیں کھڑی رہی، پھر پلٹے بغیر دھیمی آواز میں بولی۔
آپ ہمیشہ سب کو سنبھالتے ہیں۔۔۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کو بھی کوئی سنبھالے؟
امن نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر نہایت سکون سے جواب دیا۔
ہاں، مجھے لگتا ہے لیکن مجھے سنبھالنے والا کوئی دوسرا نہیں ہوگا، وہ میری اپنی ہی ذات ہوگی،
وہ چند لمحے رُکا، پھر اپنی بات مکمل کی۔
میں خود کو خود ہی سنبھال سکتا ہوں۔

+++++++++++++

شہر بھر کے نیوز چینلز پر امن کے چرچے ہو رہے تھے۔ ہر طرف ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی کہ امن نے جو کہا تھا، وہ کر دکھایا تھا۔ وہ اپنے وعدے کا پکا نکلا تھا۔
کراچی میں امن قائم کرنے کی اُس کی کوششیں جاری تھیں۔ ریپر کے تین خطرناک نیٹ ورکس کے افراد، جن میں منشیات فروش، اسلحے کے ڈیلر اور اسمگلنگ میں ملوث لوگ شامل تھے، گرفتار کیے جا چکے تھے۔ چھوٹی موٹی کارروائیاں بھی مسلسل جاری تھیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس چھاپے مار رہی تھی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا تھا۔
دوسری طرف تھانوں میں بھی صورتِ حال بدلتی دکھائی دے رہی تھی۔ اب چھوٹی سے چھوٹی شکایت اور بڑی سے بڑی ایف آئی آر باقاعدہ درج کی جا رہی تھی۔ پہلے جہاں لوگوں کو اپنی شکایت درج کروانے کے لیے بھی دھکے کھانے پڑتے تھے، اب اُن شکایات پر فوری کارروائی کی جا رہی تھی۔ پولیس کی غفلت ہو یا اختیارات کا ناجائز استعمال، ہر معاملے پر نظر رکھی جا رہی تھی۔
صرف یہی نہیں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر سرکاری و نجی اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں اور ناانصافیوں کے خلاف بھی کارروائی شروع ہو چکی تھی۔ جہاں کسی کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی، وہاں پولیس کی ٹیم پہنچ رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر کے بگڑے ہوئے نظام کو ایک ایک کر کے درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
واقعی تبدیلی آ رہی تھی۔
مگر سوال یہ تھا کہ کیا برسوں سے جمی ہوئی گندگی چند دنوں کی کارروائیوں سے صاف ہو سکتی تھی؟ کیا دہائیوں سے بگڑے ہوئے نظام کو اتنی آسانی سے بدلا جا سکتا تھا؟
یا پھر یہ تبدیلی صرف اُس وقت تک تھی، جب تک امن کی نظریں شہر پر جمی ہوئی تھیں؟
کیونکہ نظام بدلنے کا دعویٰ کرنا آسان تھا۔۔۔ مگر اسے بدل کر قائم رکھنا ایک بالکل الگ جنگ تھی۔

++++++++++++++

یُسریٰ سے بات کرنے کے بعد امن سیدھا امل کے کمرے کی طرف آیا۔ دروازے کے سامنے رک کر اُس نے ہلکی سی دستک دی اور پھر اندر داخل ہو گیا۔
امل بیڈ پر تکیے سے کمر لگائے نیم دراز تھی۔ امن کو دیکھتے ہی اُس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
یونیورسٹی؟
آ گئی میں یونیورسٹی سے۔
اتنی جلدی؟
ہاں، بس ایک ہی کلاس تھی۔
امن نے چند لمحے اُسے بغور دیکھا، پھر بیڈ کے قریب آ کر بولا۔
اتنی بڑی ہو گئی ہو تم کہ اب مجھ سے جھوٹ بھی بولنے لگی ہو؟
امل نے معصومیت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے اُسے دیکھا۔
بھائی…
بتاؤ، کیا ہوا؟ میں نے تمہیں کہا تھا کہ اپنے ساتھ مزید باڈی گارڈز لے کر جایا کرو، مگر تم نے صاف انکار کر دیا تھا۔
امل نے بے بسی سے کندھے اچکائے۔
اچھا نہیں لگتا۔ اور ویسے بھی اگر اتنے سارے باڈی گارڈز اور گاڑیوں کے ساتھ نکلوں گی تو سات محلے کو پتا چل جاتا ہے کہ امل باہر جا رہی ہے۔
تو لگنے دو پتا! وہ سب تمہاری حفاظت کے لیے ہیں،
بھائی، تانیہ تو میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔
امن نے ایک گہری سانس لی اور قدرے سخت لہجے میں بولا۔
ہاں، تانیہ تمہارے ساتھ تھی، تبھی تو تم ایک سنسان سڑک پر اکیلی کھڑی تھیں؟
امل کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ اُس نے ذرا حیرت سے امن کو دیکھا۔
وہ۔۔۔ بھائی، لیکن آپ کو پتا کیسے چلا؟ تانیہ نے بتایا؟
نہیں، ارباز کی کال آئی تھی میرے پاس۔
امل نے دل ہی دل میں سوچا۔
ہونہہ! اُن کے سامنے اتنے جھوٹ بولنے کا کیا فائدہ ہوا، آخر میں  جب اُنہوں نے سب کچھ بھائی کو بتا ہی دیا۔
امن نے اب مزید سوال کرنا شروع کردیا۔۔۔
ہاں، اب بتاؤ، کیسے غلط راستے پر چلی گئی تھیں؟ ڈرائیور بھی تمہارے ساتھ تھا۔ اور یہ بھی بتاؤ کہ ریپر نے کیا کیا؟
امل نے چونک کر اُسے دیکھا۔
بھائی! آپ کو کیسے پتا؟ ریپر نے کیا؟
اور کیا بات ہو سکتی ہے؟ میں نے ابھی اتنا کچھ کیا ہے، تو اُس کی طرف سے کوئی ردِعمل تو آنا ہی تھا۔
امن کی آواز میں سنجیدگی در آئی۔ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر جیسے کوئی فیصلہ کرتے ہوئے بولا۔
میں سوچ رہا ہوں کہ تمہیں کچھ عرصے کے لیے یہاں سے باہر بھیج دوں۔
امل کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔
اُس سے کیا ہوگا؟
تمہیں یہ سب کچھ نہیں جھیلنا پڑے گا۔
امل فوراََ بولی  تو وہ سمجھے گئے کہ ہم ڈر گئے ہیں۔
امن نے گہری نظر سے اُسے دیکھا۔
سمجھنے دو اُسے جو سمجھنا ہے۔ اُس کے ایک سمجھنے کی وجہ سے میں تمہیں اس طرح بیچ میں پھنسا کر تو نہیں رکھ سکتا نا۔
امل نے فوراً صفائی دی۔
بھائی، لیکن اُنہوں نے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ بس یہ کیپ دی تھی۔
یہ کہتے ہوئے اُس نے اپنے پاس رکھی کیپ اٹھا کر امن کے سامنے کر دی۔
امن نے کیپ پر لکھی تحریر پر ایک سرسری نظر ڈالی، مگر اُسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔
اگر اُسے تمہیں کوئی ذاتی نقصان پہنچانا ہوتا تو جب اُس نے تمہیں اغوا کیا تھا، اُسی وقت پہنچا سکتا تھا۔ اصل میں وہ تمہیں صرف میرے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
امل نے کیپ پر لکھے لفظ کی طرف اشارہ کیا۔
بھائی، یہ گریملِن کا کیا مطلب ہے؟
امن نے اُس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
چھوڑو، ان سب باتوں پر دھیان مت دو۔ اور باہر جانے کی تیاری کرو، میں تمہیں یہاں سے بھیج رہا ہوں۔
امل نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں بھائی، نہیں! میں باہر اکیلی کیسے رہوں گی؟ مجھے اکیلے رہنا نہیں آتا۔
امن نے قدرے نرمی سے جواب دیا۔
دادی کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دوں گا۔
بھائی، پھر آپ؟
تم میری فکر کرنا چھوڑ کر اپنی فکر کرو۔
امل نے کچھ توقف کے بعد کہا۔
بھائی، لیکن ہم نے کچھ اور پلان کیا تھا۔
امن نے اُس کی بات کاٹ دی۔
جانے دو اُسے بھی۔ تم بس اپنا خیال رکھو۔
لیکن بھائی، میں باہر نہیں جاؤں گی۔
ضد مت کرو اور آرام سے اس بارے میں سوچو۔ ابھی تمہارے پاس وقت ہے۔ پاسپورٹ بننے میں بھی وقت لگتا ہے۔ اور ایک بات یہ بھی سوچو کہ تمہاری جان ریپر سے چھوٹ جائے گی۔ وہاں سکون سے اپنی پڑھائی جاری رکھنا۔ اپنی زندگی پر توجہ دینا، اور خوب دل لگا کر پڑھنا۔
یہ کہتے ہوئے امن کمرے سے باہر نکل گیا۔
امل وہیں بیڈ پر بیٹھی دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔
اُس کے بھائی کے پاس واقعی اُس کی ہر پریشانی کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا تھا۔ وہ جب بھی کسی مشکل میں پھنستی، امن اُس کے لیے راستہ نکال ہی لیتا تھا۔ مگر اس بار جو راستہ امن نے  نکلا تھا۔۔۔ اُس راستے پر  وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔
امل نے سر پیچھے تکیے سے ٹکا دیا۔
اُسے باہر نہیں جانا تھا۔ بالکل بھی نہیں۔
اپنے گھر سے، اپنے لوگوں سے اور سب سے بڑھ کر اپنے بھائی سے دور۔۔۔ وہ کیسے رہ سکتی تھی؟

+++++++++++++++

دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ پولیس اسٹیشن کے باہر سے کارروائی مکمل کر کے آفیسر مائرہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی، اُس کے قدم ایک لمحے کے لیے وہیں رک گئے۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اُس کی بھنویں حیرت سے تن گئیں۔
پولیس اسٹیشن میں تو گویا کسی دعوت کا سماں تھا۔ ہر دوسرے افسر کی میز پر تکّے کی پلیٹیں سجی ہوئی تھیں، ساتھ کولڈ ڈرنکس کے گلاس رکھے تھے اور سب بڑے مزے سے کھانے میں مصروف تھے۔ ماحول ایسا تھا جیسے آج  عید کا دن ہو۔
یہاں تک کہ اُس کے دونوں دوست، معاذ اور دعا بھی تکّے سے خوب انصاف کر رہے تھے۔
مائرہ سیدھی دعا کے پاس پہنچی اور اُس کی پلیٹ کو دیکھتے ہوئے بولی۔
یہ ڈیوٹی کا وقت ہے؟
دعا نے اُسے دیکھتے ہی خوش دلی سے مسکرایا۔
اوہ ہو! لنچ بریک ہے، میڈم۔ آؤ تم بھی کھاؤ۔
یہ کہتے ہوئے اُس نے روٹی کا ایک نوالہ بنایا اور مائرہ کی طرف بڑھایا، مائرہ میرا نے اُس کا ہاتھ پیچھے کر دیا۔
تم ہی کھاؤ۔ لیکن یہ سب کیا ہے؟ تم سب نے مل کر کوئی منوایا ہے؟
معاذ نے فوراً جواب دیا۔
نہیں، ظفر سر نے پارٹی دی ہے۔
مائرہ نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
ابھی وہ مزید کچھ پوچھتی کہ ظفر اُن کی طرف آتا دکھائی دیا۔ اُس کے چہرے پر حسبِ معمول مسکراہٹ تھی۔
آ گئیں آپ! بتائیے، کیا کھانا پسند کریں گی؟ زنگر یا تکّہ؟
اُس نے ذرا توقف کے بعد خوش دلی سے اضافہ کیا۔
آج ظفر کی طرف سے سب کے لیے پارٹی ہے۔
مائرہ نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔
آپ کی برتھ ڈے ہے؟
نہیں۔
پھر انگیجمنٹ؟
ظفر کے لبوں پر مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
آپ کے بغیر انگیجمنٹ ممکن نہیں۔
مائرہ نے الجھن سے اُسے دیکھا۔
مطلب؟
مطلب یہ کہ ہماری انگیجمنٹ ہو اور آپ کو دعوت نہ دی جائے، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔
مائرہ نے بے تاثر انداز میں پوچھا۔
پھر کس خوشی میں؟
ظفر نے فخر سے سینہ ذرا آگے کیا۔
میں نے بہت بڑا کیس حل کیا ہے، اسی خوشی میں۔
مائرہ نے ایک نظر اُس پر ڈالی، پھر اردگرد موجود لوگوں کی طرف دیکھا۔
مجھے کوئی ایسا بڑا کیس حل ہوتا نظر کیوں نہیں آ رہا؟
ارے! ابھی دو دن پہلے ہی تو آپ کے سامنے آپ کے کیس کے مجرم کو اندر کیا تھا۔
کیا وہ کیس میرا نہیں تھا؟ مائرہ نے اُسے گھورتی بولی۔۔
ظفر نے فوراً بات سنبھالی۔
آپ اور میں الگ الگ تھوڑی ہیں۔ آپ نے کیس حل کیا، میں نے مجرم کو گرفتار کر لیا۔ ٹیم ورک کہتے ہیں اسے۔۔۔
مائرہ نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر نہایت سنجیدگی سے بولی۔
ابھی بھی وقت ہے، جلدی اپنا علاج کروا لیجیے۔ زیادہ دیر ہو گئی تو بات اس سے بھی زیادہ بگڑ سکتی ہے۔
ظفر نے جیسے اُس کی بات سنی ہی نہ ہو۔ وہ دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔
تو بتائیے، کیا کھانا پسند کریں گی آپ؟
کچھ بھی چل جائے گا۔
ظفر نے قریب کھڑے ایک کانسٹیبل کو اشارہ کیا۔ اُس نے فوراً ڈبے سے زنگر اور تکّے دونوں نکال کر ایک پلیٹ میں سجا دیے اور ظفر کے ہاتھ میں تھما دیے۔
ظفر نے پلیٹ مائرہ کی طرف بڑھا دی۔
میرا پلیٹ لے کر اپنی میز کی طرف چلی گئی۔ اُس کے وہاں سے ہٹتے ہی کانسٹیبل ظفر کے قریب آیا اور اُس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
سر، انہیں معلوم نہیں ہوا؟
ظفر نے اطمینان سے جواب دیا۔
نہیں، میں نے اُسے گرفتار جو کر لیا تھا۔ اگر گرفتار نہ کرتا تو شک کرتی۔
کانسٹیبل نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
اب کیا کرنا ہے، سر؟
ظفر نے ایک نظر مائرہ کی طرف ڈالی، جو اپنی میز پر بیٹھ کر پلیٹ رکھ رہی تھی۔ پھر اُس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر بولا۔
ابھی ایک دو دن میں کوئی اچھا سا وقت دیکھ کر اُسے آزاد کر دینا۔ اور ہاں، دھیان رہے، اسے معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پتا چل بھی گیا تو۔۔۔ وہی کہنا جو میں نے بتایا ہے۔
کانسٹیبل نے فوراً سر ہلایا۔
جی سر، سمجھ گیا۔
ظفر نے اطمینان سے اُس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی۔
گڈ! اب جاؤ، تم بھی انجوائے کرو۔
جی سر، تھینک یو۔
کانسٹیبل واپس اپنی جگہ چلا گیا، جبکہ ظفر ایک بار پھر پولیس اسٹیشن کے اس غیر معمولی جشن میں شامل ہو گیا۔

+++++++++++++++

یُسریٰ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو اُس کے قدموں میں جیسے جان ہی نہیں رہی تھی۔ دروازہ بند کرتے ہی وہ خود کو بیڈ پر گرا کر لیٹ گئی۔ اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
کیوں؟ آخر کیوں امن اُسے خود سے دور کر رہا تھا؟
اُس نے تو کبھی اُس کا دل نہیں دکھایا تھا۔ ہمیشہ اُس کا خیال رکھا تھا، اُس کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھا تھا۔ پھر بھی امن کے رویّے میں اُس کے لیے اتنی بے رخی کیوں تھی؟
کیا اُسے کبھی امن کی محبت نہیں مل سکتی تھی؟
وہ صرف ایک لمحہ چاہتی تھی۔۔۔ بس ایک لمحہ، جب امن اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھتا، اُس کا نام محبت سے پکارتا۔ کبھی تو اُسے محسوس کرواتا کہ وہ بھی اُس کے لیے اہم ہے۔
وہ امن کے لیے ہر حد سے گزر سکتی تھی۔ اُس کی خاطر کچھ بھی کر سکتی تھی۔ مگر کیا امن اُسے ایک لمحے کے لیے بھی ویسی محبت بھری نظر سے نہیں دیکھ سکتا تھا، جیسی نظروں سے وہ اُسے دیکھتی تھی؟
اور اب تو اُس نے اُسے خود سے دور رہنے کا حکم دے دیا تھا۔
ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے وہ خود کو امن کے قریب جانے سے کیسے روک پائے گی؟ جس شخص کے آس پاس رہنا اُس کی عادت بن چکا تھا، اب اُسی کے کمرے میں جانے تک کی اجازت نہیں رہی تھی۔
امن نے اُسے صرف خود سے ہی نہیں، اپنی چیزوں سے بھی دور کر دیا تھا۔۔ اور اگر اُس نے امن کی بات نہ مانی تو شاید اُسے یہ گھر بھی چھوڑنا پڑ جائے۔
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ امن کی یہ بے رخی اُس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ اُس کے دل میں ایک ہی سوال بار بار اٹھ رہا تھا کہ آخر اُس سے ایسی کیا غلطی ہوئی تھی جس کی سزا اُسے یوں مل رہی تھی؟
پھر اچانک جیسے اُس کے ذہن میں کوئی خیال آیا۔
امن تم سے محبت نہیں کرتا۔۔۔
ہاں! امن تو اُس سے محبت کرتا ہی نہیں تھا۔ محبت تو اُس نے کی تھی، یُسریٰ نے۔ تو پھر وہ رو کیوں رہی تھی؟ جب امن نے کبھی اُسے محبت کا یقین ہی نہیں دلایا تو اُس سے محبت کی امید لگانے کا کیا فائدہ؟
اگر امن اُس سے محبت کرتا تو شاید کبھی اُس کے ساتھ ایسا نہ کرتا۔ اور جس دن وہ اُس سے محبت کرنے لگے گا، اُس دن وہ بھی ایسا نہیں کرے گا۔
یہ سوچتے ہی اُس نے اپنے آنسو صاف کیے اور بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔
نہیں۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے ہار نہیں مان سکتی تھی۔
ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب امن اُس سے وہ سب کہے گا، جو وہ خوابوں میں اُس سے کہا کرتا تھا۔
مگر ابھی رونے دھونے کا وقت نہیں تھا۔ اُسے یہ جاننا تھا کہ امن نے اچانک اُس کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کیا تھا۔
آخر کیا وجہ تھی؟
کیا امن کو اُس پر شک ہو گیا تھا؟ یا پھر گھر میں کسی اور کو اُس کے بارے میں کچھ معلوم ہو چکا تھا؟
اُس نے ایک گہری سانس لی۔
اس سے پہلے کہ حالات اُس کے ہاتھ سے نکل جائیں، اُسے امن کے اس فیصلے کے پیچھے چھپی اصل وجہ معلوم کرنی ہوگی۔
کیونکہ وہ یہ تو برداشت کر سکتی تھی کہ امن اُس سے محبت نہ کرے۔۔۔ مگر یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ اُسے امن سے دور رہنا پڑے۔
اس نے جلدی سے کیٹی کا نمبر ملایا۔
فون اٹھتے ہی کیٹی نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔
ایسے ڈائریکٹ مجھے کال مت کیا کرو۔ پہلے مسڈ بیل دیا کرو، میں جب فری ہوں گی تو خود تمہیں کال کر لوں گی۔
چپ رہو اور میری بات غور سے سنو۔ مجھے ایک منی کیمرہ اور منی مائیکروفون چاہیے۔ یُسریٰ نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا۔
کیوں؟ کیٹی نے حیرت سے پوچھا۔
چپ چاپ دو۔ زیادہ سوال مت کرو مجھ سے۔
نہیں دے رہی میں۔ کاٹی نے صاف انکار کر دیا۔
میں یہاں کیا کام کرتی ہوں؟ یُسریٰ نے الٹا سوال کیا۔
نظر رکھتی ہو، خبریں دیتی ہو۔
ہاں، تو اسی کام کے لیے چاہیے مجھے۔
لیکن تمہیں تو کہیں بھی جانے سے کوئی منع نہیں کرتا، پھر اب اس کی ضرورت کیسے پڑ گئی؟
پڑ گئی نا اب! تو دے دو۔ یُسریٰ نے جھنجھلا کر کہا۔
اچھا، حیدری مارکیٹ آ جانا۔
اللہ حافظ۔۔۔ جواب سنتے ہی یُسریٰ نے فون بند کر دیا۔

++++++++++++

رات کے گیارہ بج رہے تھے جب نہات گھر واپس آیا۔ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اُس کی نظر صوفے پر بیٹھی ارحا پر پڑی، ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس وہ بڑے مزے سے چائنیز کھانے میں مصروف تھی۔
نہات نے اُسے دیکھا، پھر بے اختیار بڑبڑایا۔
عیاشی تو اِس کی چل رہی ہے۔۔۔ ہیلتھی کھانے کے نام پر بھی اتنے مزے مزے کے کھانے ملتے ہیں اِسے۔ ہنہ۔۔
وہ سر جھٹکتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا، مگر تبھی ارحا کی نظر اُس پر پڑ گئی۔
کھانا؟
نہات نے رُکے بغیر جواب دیا۔
میں کھا کر آیا ہوں۔
کہاں سے؟
امن بھائی کے گھر سے۔
ارحا نے فوراً اگلا سوال کیا۔
اُن کے گھر کون کون ہے؟
نہات نے پلٹ کر اُسے دیکھا۔
وہ ہیں، اُن کے دادا دادی اور اُن کی ایک بہن۔۔۔ پھر اچانک جیسے اُسے سنان اور زرقان کا خیال آیا، تو اُس نے بات مکمل کی۔
اور دو بھائی بھی ہیں۔
یہ کہتے ہوئے نہات نے الٹا اُس سے سوال کر دیا۔
اور تمہارے گھر میں کون کون ہے؟
ارحا نے ایک لمحے کے لیے اُسے دیکھا، پھر بے نیازی سے جواب دیا۔
کوئی نہیں۔
یہ کہہ کر اُس نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔
نہات چند لمحے اُسے جاتا دیکھتا رہا، پھر سر جھٹکتے ہوئے بڑبڑایا۔
عجیب۔۔۔
اور یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

++++++++++++

سنان کے فون پر کال موصول ہوئی تو اُس نے فوراً کال ریسیو کر لی۔
بھائی، معلوم ہو گیا ہے، وہ کامرس کی اسٹوڈنٹ ہے۔ وہ بی بی ای کر رہی ہے۔۔۔
سنان نے قدرے بے تاثر انداز میں پوچھا۔
اچھا، اور؟
اور بھائی، وہ میتھ میں بہت کمزور ہے۔ بی بی ای کی اسٹوڈنٹ ہے وہ اور اُس کی میتھ بہت کمزور ہے، باقی پڑھائی میں کافی اچھی ہے، رینک بھی اُس کے بہت اچھے آتے ہیں۔
سنان نے دوسری طرف سے مزید تفصیل سننے کے لیے مختصراً کہا۔
اور؟
اور ایک بھی کلاس نہیں چھوڑتی، نہ ہی یونیورسٹی سے کبھی غیر حاضر ہوتی ہے۔
اچھا، اور؟
ہاں، بہت شریف لڑکی ہے۔
سنان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
اور شکل دیکھی اُس کی؟
نہیں، بھائی۔ چہرہ ہمیشہ کور رہتا ہے۔
ٹھیک ہے، فون رکھو۔
سنان نے کال منقطع کر دی۔ اُس نے فون کی اسکرین کھولی تو وہاں مزید کئی پیغامات موجود تھے۔ اُن میں اُس کے ڈیپارٹمنٹ، کلاس، یونیورسٹی کی ٹائمنگ اور دیگر معمولات کے بارے میں تفصیلات بھیجی گئی تھیں۔
سنان نے ایک ایک پیغام غور سے پڑھا اور تمام معلومات ایک جگہ نوٹ کر لیں۔
اب اُس کے پاس اُس لڑکی کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ معلومات تھیں۔۔۔ بس ایک چیز ابھی تک نامعلوم تھی، اُس کا چہرہ۔

+++++++++++++

صبح کے وقت نہات ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا کہ ارحا سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی۔ اُس نے نہات کو دیکھتے ہی اپنا سوال داغ دیا۔
تم نے تو مجھے بتایا تھا کہ تمہارا نام نومی ہے؟
نہات نے ناشتہ کرتے ہوئے سر اٹھا کر اُسے دیکھا۔
تو؟
تو پھر نہات کون ہے؟ نومی تمہارا نک نیم ہے؟
ہاں، بھائی نے رکھا تھا۔
اور نہات تمہارا اصل نام ہے؟
ہاں۔ نہات نے سر ہلایا۔۔۔
تو نومان کون ہے؟ کل ایک میڈ نے تمہیں نومان صاحب کہہ کر بلایا تھا۔
نہات نے نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
میں ہی ہوں۔
ارحا نے الجھن سے اُسے دیکھا۔
تو نہات نومان پورا نام ہے تمہارا؟
نہیں! نہات خان ہے۔ نومی بھی میں ہوں اور نومان بھی میں ہوں۔
اُس نے جیسے اپنی ہی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انگلیوں پر گنتے ہوئے کہا۔
نومی، امن بھائی کا چھوٹا بھائی ہے۔۔۔ نومان، امن کا بیسٹ فرینڈ ہے۔۔۔ اور نہات، اُس کا ورک پارٹنر ہے۔
ارحا چند لمحے اُسے گھورتی رہی، پھر ایک عجیب سا منہ بناتے ہوئے سر جھٹک دیا۔
نہات نے اُس کے تاثرات دیکھے تو ناشتہ چھوڑ کر اُلٹا اُس سے سوال کر بیٹھا۔
تمہارا پورا نام کیا ہے؟
ارحا نے کوئی جواب نہیں دیا اور سیدھی کچن کی طرف بڑھ گئی۔
ارے! جواب تو دو!
نہات نے پیچھے سے آواز لگائی، مگر ارحا اُس کی آواز کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے کچن میں جا چکی تھی۔
نہات چند لمحے کچن کے دروازے کو دیکھتا رہا، پھر بڑبڑایا۔
عجیب لڑکی ہے۔۔۔

+++++++++++++

افتخار صاحب کے گھر میں اس وقت دوپہر کے کھانے کے لیے ڈائننگ ٹیبل سجایا جا رہا تھا۔ ناشتے، لنچ اور ڈنر، تینوں وقت گھر کے تمام افراد کا ڈائننگ ٹیبل پر موجود ہونا لازمی تھا۔ یہ امن کے بنائے ہوئے اصولوں میں سے ایک تھا، تاکہ گھر کے تمام افراد اپنی مصروفیات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزار سکیں۔
اس وقت بھی ڈائننگ ٹیبل پر کھانے کی تمام ڈشز سجی ہوئی تھیں، البتہ ابھی وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
سنان ابھی ابھی باہر سے آیا تھا۔ وہ سیدھا ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھا اور ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ سامنے رکھی ڈش کا ڈھکن اٹھا کر اندر جھانکا تو اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے کے تاثرات بگڑ گئے۔
یہ کیا بنا ہے کھانے میں؟
ایک ملازمہ نے فوراً جواب دیا۔
سر، لوکی کی سبزی۔۔
سنان نے جیسے یہ الفاظ سن کر ہی کھانا کھانے کا ارادہ ترک کر دیا۔
یہ لوکی کی سبزی کون کھاتا ہے؟ میں نہیں کھاؤں گا یہ!
ملازمہ اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔
سوری سر، آپ کو یہی کھانا پڑے گا۔
سنان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟ کوئی اور کھانا نہیں بن سکتا؟ جاؤ، میرے لیے کچھ اور بنا کر لاؤ۔
ملازمہ نے قدرے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
نہیں سر، امن سر نے ہمیں سختی سے منع کیا ہے۔ آپ کو یہی کھانا ہوگا۔
سنان نے بے یقینی سے اُس کی طرف دیکھا۔ ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ امن بھی ڈائننگ ٹیبل کی طرف آ گیا۔۔
سنان نے ایک نظر امن کو دیکھا، پھر اپنا موڈ ٹھیک کرنے کے ملازمہ سے کہا۔
اچھا، کولڈ ڈرنک لے آؤ۔
ملازمہ نے ایک کولڈ ڈرنک لا کر اُس کے سامنے رکھ دی۔
سنان نے بوتل کو دیکھا، پھر ملازمہ کی طرف۔
ایک؟ اس ایک بوتل میں کیا ہوگا؟ اتنے دنوں سے تم لوگ مجھے صرف ایک ہی کولڈ ڈرنک دے رہے ہو۔ صبح ناشتہ میں بھی مُجھے کولڈ ڈرنک نہیں دیا تھا تُم لوگوں نے۔۔۔ ابھی ایک اور لے کر آؤ۔
امن فوراََ کہا نہیں، ایک ہی ملے گی۔
سنان نے فوراً غصے سے کرسی پیچھے دھکیلی اور غصے سے کھڑا ہو گیا۔ 
کیا۔۔۔ عجیب میں نہیں کھا رہا اب کُچھ۔۔۔
میں اپنی مرضی کا مالک ہوں.. اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا عادی ہوں۔ کوئی مجھ پر حکمرانی نہیں کر سکتا… میرا جو دل کرے گا، میں وہ کھاؤں گا، جو دل کرے گا پیوں گا، جو دل کرے گا پہنوں گا۔ مجھے کوئی نہ بتائے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ کیا نہیں۔۔ میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے جیتا ہوں..
سنان غصے میں تقریباً چیخ رہا تھا۔
امن نے اُس کی طرف ایک سخت نگاہ ڈالی، پھر وہاں موجود ملازمین کو خاموشی سے جانے کا اشارہ کیا۔ تمام ملازمین ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے فوراً وہاں سے نکل گئے۔
جیسے ہی آخری ملازم بھی ڈائننگ ہال سے باہر نکلا، امن اپنی جگہ سے آگے بڑھ اور اگلے ہی لمحے اُس کا ہاتھ سنان کے چہرے پر پڑا۔
ایک زوردار تھپڑ سنان کے گال پر جا پڑا۔
سنان کا چہرہ ایک طرف گھوم گیا۔ وہ چند لمحوں تک اپنی جگہ ساکت کھڑا رہا۔ اُسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ابھی، اسی لمحے اُس کے ساتھ کیا ہو گیا تھا۔
وہ غصے سے امن کو گھورتا ہوا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

+++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *