Antal Hayat Bab 2 Episode 1 by siddiqui

انت الحیاۃ ( از قلم صدیقی)

باب دوم : میرا دل صرف تُمہارے لیے ہے۔۔۔

قسط نمبر ۱

کچھ کہانیاں مکمل نہیں ہوتیں…
ان کے چند اوراق وقت کی الماری میں کہیں دبے رہ جاتے ہیں، اور ان کے کردار زندگی کی بھیڑ میں بھی تنہا رہتے ہیں۔ وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہوتے ہیں جس کی موجودگی ان کی ادھوری دنیا کو ایک معنی دے دے۔ مگر ہر تلاش منزل تک نہیں پہنچتی، کچھ راستے صرف انسان کو بدلنے کے لیے ہوتے ہیں۔

زاویار آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے اپنے ہی عکس کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے کسی اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ فجر کا وقت تھا۔ باہر آسمان پر سورج کی ہلکی ہلکی کرنیں بکھرنے لگی تھیں، اور فضا میں ایک عجیب سی خاموشی رچی ہوئی تھی۔
کیا میں واقعی محبت کے لائق نہیں…؟
خیال دل میں کانٹے کی طرح چبھا۔
کیا لوگ واقعی مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہیں… کیا میرا لہجہ اتنا تلخ ہو چکا ہے کہ کوئی مجھ سے بات کرنا گوارا نہیں کرتا…؟
اس نے آئینے میں اپنی آنکھوں میں جھانکا، جیسے جواب وہیں کہیں چھپا ہو۔
میں پہلے ایسا نہیں تھا۔ ہاں… میں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ نہ ہی بننا چاہتا تھا۔ مگر اس دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہی عقلمندی ہے۔ کسی کے پیچھے بھاگنے والے تھک جاتے ہیں… دل رو دیتا ہے، لہجہ بدل جاتا ہے، اور آخر میں خود سے ہی نفرت ہونے لگتی ہے۔
اس نے کنگھی میز پر رکھی اور ایک لمحے کے لیے خود کو غور سے دیکھا، جیسے کسی پرانے شناسا کو الوداع کہہ رہا ہو۔
اور پھر… سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ محبت بھی، عداوت بھی۔ باقی رہ جاتا ہے تو بس گم شدگی کا احساس، اور ایک ٹوٹا ہوا دل۔
وہ بالکونی میں آ نکلا۔ فجر کا حسین منظر اس کی آنکھوں کے سامنے پھیلا ہوا تھا۔ ہر طرف سناٹا تھا، سوائے پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ کے، جو اس خاموشی کو اور بھی گہرا کر رہی تھی۔ اس نے یہ منظر دیکھا اور ایک سرد آہ بھری، پھر واپس کمرے میں لوٹ آیا۔
فون کان سے لگائے، ہاتھ میں گھڑی پھینستے ہوئے، اس نے دھیمے سے کہا
ہمم؟
سر، میٹنگ کے لیے آپ لیٹ ہو رہے ہیں… کلائنٹ کا بار بار فون آ رہا ہے۔ دوسری طرف سے مایا کی آواز سنائی دی
زاویار نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ چھے بج کر تیس منٹ ہورہے تھے، اچھا ٹھیک ہے۔
اتنا کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا۔ مایا نے موبائل جیب میں رکھتے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے کہا، عجیب انسان ہیں یہ بھی، اتنی صبح کون میٹنگ رکھتا ہے۔
زاویار سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا جہاں مکمل سناٹا تھا۔ کوئی نہیں تھا، یہاں تک کہ لاؤنج کی لائٹس بھی بند تھیں۔
عجیب…
اس نے ایک آہ بھری اور آگے بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ میٹنگ کے لیے کیفے پہنچ چکا تھا۔
شیراز صاحب، جو زاویار کے والد کی عمر کے تھے اور دی شیراز کے مالک تھے، کپڑوں کی مینوفیکچرنگ اور ڈریس ڈیزائننگ کی کمپنی، زاویار کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور ہاتھ آگے بڑھایا۔
زاویار نے گھڑی پر ایک اچٹتی نظر ڈالی۔
چھے پینتالیس کے وقت کی بات ہوئی تھی ہماری۔
اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
شیراز صاحب کچھ بوکھلا گئے۔
ہاں…
زاویار نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
ہمم بیٹھیے۔
شیراز صاحب نے بیٹھتے ہی بات شروع کرنے کی کوشش کی۔
بیٹا پھر ڈیل کی بات کر لیں؟
زاویار کے چہرے پر سنجیدگی مزید گہری ہو گئی۔
میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں… نام لیجیے میرا۔
شیراز صاحب گھبرا کر بولے، اچھا اچھا۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جو اُن کے سامنے بیٹھا ہے اسے کیسے متاثر کریں، کیسے اسے اس ڈیل پر آمادہ کریں۔ وہ شخص دیکھنے میں ہی خشک لگ رہا تھا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ سب فیصلہ پہلے سے کر کے آیا ہو۔
آپ کے پاس تیس منٹ ہیں، جلدی بولیے، اس سے زیادہ میں یہاں نہیں رکوں گا۔
زاویار نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
ہاں ہاں۔ شیراز صاحب نے اپنی اسسٹنٹ کو اشارہ کیا۔ اس نے جلدی جلدی لیپ ٹاپ کھول کر آگے بڑھایا۔
یہ دیکھیں، یہ ہمارا نیا پراجیکٹ ہے ڈیزائننگ کا۔ ہم پچھلے بیس سال سے کپڑوں کی ڈیزائننگ کرتے آ رہے ہیں۔ لوگوں کو ہمارا کام بہت پسند آتا ہے، اور اگر اللہ نے چاہا تو یہ بھی پسند آئے گا۔
اور…؟
زاویار نے مختصر سا سوال کیا۔ شیراز صاحب ایک بار پھر گھبرائے۔
اور… یہی کہ ہماری کمپنی چاہتی ہے کہ دی بلیک روز ہمارے ساتھ کوآپریٹ کرے اور اس پراجیکٹ میں ہمارا ساتھ دے۔
اور دی بلیک روز کمپنی ایسا کیوں کرے گی…؟ ایسا بھی کیا خاص ہے آپ کے پراجیکٹ میں…؟
یہ ویمنز کا نیا اسٹائل ہے، یہ دیکھیں۔ شیراز صاحب نے لیپ ٹاپ کی سلائیڈ بدلتے ہوئے کہا۔
زاویار نے ایک ہی سانس میں کہا، سوری، ناٹ انٹرسٹڈ، نیکسٹ ٹائم۔ کوشش اچھی تھی آپ کی، لیکن اتنی بھی اچھی نہیں کہ دی بلیک روز کمپنی آپ کے اس پراجیکٹ میں آپ کا ساتھ دے۔
شیراز صاحب کے منہ سے بس اتنا نکلا، لا… لیکن…
تیس منٹ پورے ہو گئے ہیں۔ اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔
زاویار کھڑا ہوا، کوٹ کا بٹن لگایا اور ہاتھ آگے بڑھایا۔
لیکن تم سن لیتے تو اچھا ہوتا۔
شیراز صاحب بھی کھڑے ہوتے ہوئے بولے اور اس سے ہاتھ ملایا۔
نیکسٹ ٹائم۔
اتنا کہہ کر زاویار وہاں سے نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی شیراز صاحب غصے میں بڑبڑانے لگے۔
عجیب آدمی ہے یار یہ… دیکھا بھی نہیں ٹھیک سے پراجیکٹ، اور فیصلہ سنا کے چلا گیا۔ پتا نہیں امن اسے کیوں بھیج دیتا ہے، خود کیوں نہیں آتا۔ عجیب… نہ سنتا ہے نہ بولنے دیتا ہے۔ انسان مسکرا کر ہی بات کر لیتا ہے، لیکن نہیں، اس کا چہرہ دیکھ کے تو بندہ جو بولنے آیا ہے وہ بھی بھول جائے۔

++++++++++++

زاویار کی گاڑی آفس کی طرف رواں دواں تھی۔ راستے میں اچانک گاڑی کی رفتار دھیمی پڑ گئی۔ اس نے شیشہ نیچے کیا تو سامنے وہ کھڑی تھی۔ صِرف ایک سیکنڈ اور پھر اچانک ہی شیشہ اوپر ہو گیا، گاڑی تیز رفتاری سے آگے نکل گئی، جیسے کوئی منظر تھا ہی نہیں۔
کچھ ہی دیر میں وہ آفس کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ گھڑی آٹھ بجا چکی تھی، آفس کے تمام ملازمین اپنی اپنی نشستوں پر پہنچ چکے تھے۔ زاویار لفٹ کی طرف بڑھا، بٹن دبایا اور انتظار کرنے لگا۔
اتنے میں عشا بھاگتی ہوئی پارکنگ میں داخل ہوئی۔ سانس پھولی ہوئی تھی، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بہت دور سے پیدل چل کر آئی ہو۔ لفٹ آ چکی تھی، مگر زاویار کی نظریں اس پر ہی ٹکی رہ گئیں۔

سادہ سا لائلک رنگ کا شلوار قمیض، دوپٹہ سلیقے سے سر پر رکھا ہوا، اور خود کو ایک بڑی چادر میں لپیٹے ہوئے، وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی سنور کر آئی تھی۔ بالوں کا ہاف جوڑا بنایا ہوا تھا، جسے گلاب کے پھول سے تشبیہ دی جا سکتی تھی، بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
اگلے ہی پل زاویار نے اپنی نظریں اس سے ہٹائیں اور لفٹ میں داخل ہو گیا، جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔

زاویار نے آفس میں داخل ہوتے ہی سرد لہجے میں پوچھا۔
آ گئے سب…؟ سب کی اٹینڈنس مجھے دکھاؤ۔
زارا نے فوراً کمپیوٹر پر ایک ویب سائٹ کھولی اور اسکرین اس کی طرف موڑ دی۔
ج… جی سر۔
زارا نے جلدی سے کمپیوٹر پر اٹینڈنس پورٹل کھولا اور اسکرین اس کی طرف موڑ دی۔
عین اسی لمحے عشا ہڑبڑاتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
سوری سوری، میں تھوڑا لیٹ ہو گئی۔
اس نے زاویار کو دیکھے بغیر جلدی سے اپنا کارڈ زارا کی طرف بڑھایا۔ زاویار کی نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ گئیں، آواز میں خنکی مزید بڑھ گئی۔
مس عشا۔۔۔۔
زویار کی سخت آواز عشا کے کانوں سے ٹکرائی
عشا چونک کر رک گئی۔
جی… سر؟
اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت تھی؟ آرام سے بھی بات کی جا سکتی تھی۔
وہ خاموش رہی۔
آپ کو آفس کے اوقات معلوم ہیں نا؟ پھر دیر کیوں ہوئی؟ ہر جگہ کچھ اصول ہوتے ہیں، اور ان اصولوں کی پابندی سب پر لازم ہے۔
سوری سر…
اس نے نظریں جھکا لیں۔
صرف ‘سوری’ کہہ دینے سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے؟
اس کی آواز مزید سخت ہو گئی۔
ہر جگہ کا کوئی رول ہوتا ہے، اور آپ ٹائم دیکھیں؟ پتا نہیں آپ لڑکیوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، خود کو پتا نہیں کیا سمجھتی ہیں۔ اگر آپ اتنا تیار ہو کے نہیں بھی آئیں گی تو آپ کو انٹری مل جائے گی، اور البتہ آپ ٹائم پہ بھی آ جائیں گی۔ لیکن نہیں، آپ لوگوں کو تو فیشن کرنا ہوتا ہے۔
عشا نے بےاختیار اپنی انگلیاں مضبوطی سے آپس میں بھینچ لیں۔
س…سوری سر۔
زاویار ایک بار پھر چلایا۔
جائیے اب، اور آئندہ لیٹ نہیں ہونا چاہیے۔
ج… جی سر۔
اس کی آواز میں لرزش تھی، یوں لگتا تھا جیسے اگر وہ اسے تھوڑی دیر اور ڈانٹتا تو وہ رو پڑتی۔ خیر، وہ اب کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ میں آ چکی تھی۔ اپنا پرس ایک طرف رکھ کر ٹشو سے آنسو صاف کرنے لگی۔
سمیر، جو ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا، فکرمندی سے بولا۔
کیا ہوا، میڈم جی؟
عشا نے فوراً چہرہ دوسری طرف کر لیا۔
کچھ نہیں۔
سمیر ہلکا سا مسکرایا۔
پھر آج اتنی دیر کیسے ہو گئی؟
عشا نے آہستہ سے جواب دیا۔
میں کافی دور سے آتی ہوں… آج جس کیب میں آ رہی تھی وہ راستے میں خراب ہو گئی، اسی لیے لیٹ ہو گئی۔
تو مجھے کال کر دیتیں۔ میں آ کر لے جاتا آپ کو۔
عشا نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… اس کی ضرورت نہیں تھی۔
ضرورت کیوں نہیں تھی؟
سمیر نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
ہم دوست ہیں۔ کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو، بلا جھجھک بتا دیا کریں۔
عشا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
اگلی بار ضرور۔
بس، یہی بات ہوئی نا۔ وہ مسکرا کر بولا۔
ویسے تمہیں پتا ہے، میں آج ٹفن میں اپنے ہاتھوں سے پاستا بنا کے لایا ہوں، تم ٹرائے کرو گی؟
کیوں، تمہارے گھر میں کوئی نہیں ہے کوکنگ کرنے والا؟
ہیں، میری امی اور آپی تھیں، پھر ان کی شادی ہو گئی۔ اب میری امی ہی کوکنگ کرتی ہیں، اسی لیے میں ان کا ساتھ دے دیتا ہوں۔ رات میں ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، تو صبح وہ سو رہی تھیں، تو میں نے انہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ اور الحمدللہ کوکنگ تو مجھے آتی ہی ہے، اسی لیے خود ہی بنا کے لے آیا۔
کبھی تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو تو مجھے بتا دیا کرو، میں بنا کے لے آؤں گی ٹفن، اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
جی ضرور۔ فی الحال کام پہ فوکس کرتے ہیں، ورنہ زاویار سر آ کے پھر سنائیں گے۔
ہممم…
+++++++++++++

زاویار اپنے کیبن میں بیٹھا فائلیں چیک کر رہا تھا، مگر بار بار اس کے ذہن میں اس کی معصوم شکل نظریں چراتی ہوئی آ رہی تھی۔
وہ سچ میں رونے لگی تھی…
اس نے قلم گھماتے ہوئے بڑبڑایا، اس کا ذہن یکدم فائل سے ہٹ چکا تھا۔
شاید میں زیادہ بول دیا… لیکن وہ بھی تو لیٹ آئی تھی۔ لیکن میں ایسے بغیر وجہ جانے اس پہ تنقید تو نہیں کر سکتا نا، کیا پتا کوئی جینوئن مسئلہ ہو۔
ہم، ہو سکتا ہے…
لیکن پھر اچانک اس کے ذہن میں کچھ آیا، اور اس کے تاثرات یکدم سخت ہو گئے۔
نہیں، صحیح کیا ہے میں نے۔ لڑکیاں سب ایسی ہی ہوتی ہیں، وہ ڈزرو کرتی ہیں یہ سب۔ لیکن وہ رونے لگی تھی…
وہ اسی کشمکش میں بیٹھا تھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا۔ سامنے نتاشا کافی لیے کھڑی تھی۔
یہ لو تمہاری کافی۔ گھر سے بھی بغیر ناشتہ کیے نکل گئے تھے تم۔
اس نے کافی میز پر رکھی۔ زاویار کا چہرہ فوراً سپاٹ ہو گیا۔
۔Excuse me… پہلی بات تو دروازہ ناک کر کے آیا کرو، یہ کوئی دھرم شالہ نہیں ہے جہاں منہ اٹھائے گھسی آ رہی ہو۔ دوسری بات، تمہیں کب سے میری اتنی فکر ہونے لگی؟ مجھے تمہاری یہ فضول کی sympathy نہیں چاہیے۔ اٹھاؤ اپنی کافی اور جاؤ یہاں سے، اور آئندہ بغیر پوچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔ نتاشا کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔
تم اتنا over react کیوں کر رہے ہو؟ ایک تو میں اتنی تمیز سے اور پیار سے تمہارے لیے کافی لائی ہوں، اوپر سے تم مجھے ہی attitude دکھا رہے ہو۔
attitude… over react… attitude… over react…
یہ الفاظ اس کے ذہن میں گونجنے لگے، جیسے یہ الفاظ اس نے پہلے بھی کہیں سنے ہوں…
تمہیں ایک دفعہ میں بات سمجھ نہیں آتی ہے؟ اٹھاؤ اپنی کافی اور جاؤ یہاں سے، میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زاویار چلایا، غصے میں اس کی آواز پہلے سے بلند تھی۔
ناتاشا نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ہاں ہاں، جا رہی ہوں۔ تم سے تو بات کرنا ہی بیکار ہے۔
تو کھڑی ہو کے میرا منہ کیوں تک رہی ہو، جاؤ۔
Whatever.
اتنا کہہ کر وہ کیبن سے نکل گئی، دروازہ ہلکا سا کھلا چھوڑ گئی۔ زاویار نے ایک گہری سانس لی اور سر جھٹکا۔
عجیب ہی تماشا چل رہا ہے اس کا… میں کہا تھا…
اس نے دوبارہ فائل پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی۔ ابھی چند سطریں ہی پڑھی تھیں کہ کیبن کا دروازہ دوبارہ کھلا۔ اس نے سر اٹھائے بغیر ہی، غصے میں بھری آواز میں کہا۔
عجیب، اب کیا ہے؟ سکون سے کام نہیں کر سکتی ہو تم کیا؟
اس کی آواز میں وہی خنکی، وہی جھنجھلاہٹ تھی جو ابھی چند لمحے پہلے نتاشا کے لیے تھی۔
نہیں ہے سکون، اور بولو؟
زاویار نے چونک کر سر اٹھایا، اس کے چہرے کی سختی تھوڑی نرم پڑ گئی۔
بھائی…؟ اب تم کو کیا مسئلہ ہے؟
امن اندر آتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا، ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کر۔
تمہارا دماغ ومماغ کام کرتا ہے؟ اتنی صبح صبح کون میٹنگ رکھتا ہے؟
میں رکھتا ہوں… زاویار نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
تمیز سے بات کرو۔ امن نے آنکھیں دکھائیں۔
جی مسٹر امن، میں رکھتا ہوں۔ اب ٹھیک ہے؟ زاویار نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
زاویار، میں تھپڑ ماروں گا۔ امن نے تنبیہی انداز میں کہا،
عجیب، جا کے کام کرو اپنا۔ زاویار نے فائل کی طرف دوبارہ توجہ دیتے ہوئے کہا۔
میں اپنا کام ہی کر رہا ہوں۔ امن نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
فی الحال تو تم فضول کا ٹائم پاس کر رہے ہو۔
زاویار نے قلم میز پر رکھتے ہوئے، سرد نظروں سے امن کی طرف دیکھا۔
ہاں میرا یہی کام ہے…
بڑے ہی کوئی فارغ انسان ہو تم۔ زاویار نے طنزیہ انداز میں کہا۔
پھر؟
میرا کیا مطلب پھر؟
کچھ نہیں… زاویار نے بات ٹالنے کی کوشش کی، مگر امن نے پیچھا نہ چھوڑا۔
میری بات کا جواب دو؟
دیا تو جواب کہ میں رکھتا ہوں صبح صبح میٹنگ…
کیوں…؟
کیونکہ میں تمہاری طرح نو بجے تک سویا نہیں رہتا۔ اٹھ جاتا ہوں تو کام ہوتا ہے کر لیتا ہوں۔
طنعہ دے رہے ہو…؟ امن نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔
ہاں۔ زاویار نے بلا جھجھک جواب دیا۔
اچھا… اور؟ کیا بنا پھر ڈیل کا؟
کچھ نہیں، بولا تو تھا میں کہ نہیں کرنا ان کے ساتھ ڈیل۔ تو مطلب نہیں کرنا ہے۔
امن نے ذرا سنجیدگی سے پوچھا۔ اچھا پراجیکٹ کیسا تھا…؟
زاویار نے فائل بند کرتے ہوئے، بے دلی سے کہا۔
ٹو نمبر… ایک دم بیکار۔ لڑکیوں کا عجیب عجیب سا کپڑا ڈیزائن کیا ہوا ہے ان لوگوں نے، بے ہودہ سا۔
امن کے چہرے پر ایک لمحے کو تجسس ابھرا۔
اور…؟
اور کیا، ہماری کمپنی ایسے کپڑے کہاں ڈیزائن کرتی ہے۔
تو…؟ امن نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
تو کیا، منع کر دیا۔ اب وہ اتنے اچھے تو ہیں نہیں کہ ان کی وجہ سے ہم اپنا اصول بدلیں۔
امن نے اچانک موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ اچھا تو پھر ناشتہ کرنے چلے؟
زاویار نے حیرت سے پوچھا، اسے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔ ہاہ؟؟؟
ناشتہ کرنے چلو۔ امن نے دوبارہ کہا۔
کیوں، تم گھر سے کر کے نہیں آتے ہو؟
نہیں، اور مجھے سو فیصد پتا ہے کہ تم بھی نہیں کیے ہو۔
زاویار نے خاموشی سے تسلیم کیا۔ ہاں…
کیوں نہیں کیے ناشتہ…؟
ٹائم نہیں ملا۔
ابھی ایک گھما کے تھپڑ دوں گا نا، پھر ملنے لگے گا ٹائم۔ امن نے آنکھیں دکھائیں۔
زاویار نے ہار مانتے ہوئے فائل شیلف میں رکھی۔
چلو… پھر ذرا تجسس سے پوچھا۔
ویسے بھائی، تم کو یہ سب کیسے پتا چل جاتا ہے…؟
امن نے مسکراتے ہوئے، بھاری بھرکم انداز میں کہا۔
مجھے سب پتا چل جاتا ہے۔ بڑا بھائی ہوں نا، نظر رکھنا پڑتا ہے تم سب پہ۔
زاویار نے طنزیہ نظروں سے دیکھا۔ مجھے دانیال سمجھے ہو تم…؟
امن کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی، مگر لہجہ ابھی بھی ہلکا پھلکا رہا۔
تم اس سے بھی بدتر ہو، at least وہ میری بات سن لیتا ہے۔ لیکن تمہارا تو ضد پن ہی ختم نہیں ہوتا۔
ہاں تو obviously میں دانیال نہیں ہوں۔ زاویار نے سرد لہجے میں کہا۔
امن نے سر ہلاتے ہوئے ہنس دیا۔
ہم ہم، چلو۔
دونوں ناتاشا کو بتا کر وہاں سے کیفے کی طرف نکل گئے۔ زاویار گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا، امان اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، جیسے کچھ سوچنے میں گم ہو۔۔۔
امن نے سنجیدگی سے پوچھا۔ تم سدھروگے نہیں…؟
میں بگڑا ہوا کب ہوں… زاویار نے بے پرواہی سے کہا۔
میں بگڑے ہونے کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ رات کے تین بجے تک جاگ رہے تھے تم، اور پھر صبح صبح میٹنگ کے لیے چلے گئے…؟
سو گیا تھا میں گیارہ بجے، لیکن تین بجے آنکھ کھل گئی۔ میری تو نیند نہیں آئی پھر۔ زاویار نے وضاحت دی، مگر لہجے میں کوئی خاص پرواہ نہ تھی۔
زاویار دیکھو، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اپنی زندگی کو ایک direction میں گزارو۔ امن کے لہجے میں فکرمندی جھلک رہی تھی۔
میں اٹھا ہوا تھا آن لائن تھا، یہ تم کو پتا چلا تو اس بات سے واضح ہے کہ تم بھی اٹھے ہوئے ہو گے۔ تبھی تم مجھے آن دیکھے۔ زاویار نے موضوع پلٹنے کی کوشش کی۔
میں تمہاری طرح پاگل نہیں ہوں، میں سو جاتا ہوں ٹائم پہ اور اٹھ بھی جاتا ہوں۔
ہاں تو flex کیوں مار رہے ہو بیکار میں۔
میں flex نہیں مار رہا، سمجھا رہا ہوں۔ اس بار منہ سے سمجھا رہا ہوں، نیکسٹ ٹائم ہاتھوں سے سمجھاؤں گا۔
امن نے آنکھیں دکھائیں۔ زاویار نے شکوہ آمیز نظروں سے دیکھا۔
تم میرے پہ نظر رکھواتے ہو…؟
ہاں تو بولا تو بڑا بھائی ہوں، رکھنا پڑتا ہے نظر۔
عجیب… ویسے پتا کیسے چلا تم کو؟ دانیال بتایا ہو گا؟ زاویار نے شک بھری نظروں سے پوچھا۔
نہیں، سو جاتا ہے وہ بھی، اسے یونی جانا ہوتا ہے نا۔
تو یوسف بتایا ہو گا؟ زاویار نے دوسرا نام لیا۔
حیات بتائی ہے۔ امن نے سیدھا سا جواب دیا،
ہاہ؟ زاویار کو جیسے دوبارہ جھٹکا لگا۔

فلیش بیک۔۔۔۔

حیات سو جاؤ، ٹائم دیکھو۔ امن نے فون کان سے لگائے حیاتِ کو تنبیہ کی۔۔۔
حیات کو سونا ہو گا تو سو جائے گی، اس کے لیے ٹائم دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔
حیات، بدتمیزی نہیں کرو، سو جاؤ۔ امن نے ہلکی سی سختی سے کہا۔
حیات کی مرضی۔ اس نے اٹھلاتے ہوئے کہا۔
تم سو رہی ہو یا نہیں…؟ امن نے دوبارہ پوچھا۔
آپ خود بھی تو جاگ رہے ہیں۔ حیات نے فوراً جوابی وار کیا۔
میری ابھی نیند کھلی ہے، وہ بھی تمہارے میسج کی ٹون سے۔
اتنی کچی نیند ہے آپ کی…؟
ہاں، اب سو تم بھی۔ امن نے بات ختم کرنے کی کوشش کی، مگر حیات کہاں ماننے والی تھی۔
آپ کا بھائی بھی تو جاگ رہا ہے، اس کو بھی بولیں سونے۔ صرف حیات اکیلے کیوں سوئے؟
عجیب ضد ہے، دانیال لوگ سب سو چکا ہے بارہ بجے ہی۔
ہاں تو…؟ حیات نے بے پرواہی سے کہا۔
تو…؟ آپ کے مُطابق میرا کون سا بھائی جاگ رہا ہے؟
میری سوتن… زاویار۔
پاگل لڑکی۔ امن مسکراتے ہوئے بولا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی نرمی تھی جو صرف حیات کے لیے مخصوص تھی۔
ہاں نا، یہ دیکھیے…
حیات نے فوراً زاویار کی انسٹاگرام آئی ڈی کا اسکرین شاٹ بھیجا، جس میں صاف صاف “Active now” لکھا ہوا تھا۔
یہ کیوں جاگ رہا ہے اتنی دیر تک، کوئی کام کر رہا ہو گا۔ اُسے چھوڑو، تم سو جاؤ چپ سے۔
حیات نے فوراً اعتراض کیا۔
ہاں، آپ کا حکم صرف حیات پہ ہی چلتا ہے۔ عجیب… اپنے بھائی کو بھی بولیں سونے۔
تم پہ بھی کہاں چلتا ہے۔ امن نے دھیمے سے کہا، جیسے خود سے ہی بڑبڑا رہا ہو۔
کیا کیا… کیا کہا اپنے؟ حیات کی برائی کر رہے ہیں نا ، گناہ ملے گا، ڈریں اللہ سے۔
نہیں الحمدللہ، میں حیات کی طرح خود میں بڑبڑاتا نہیں ہوں۔
سو جائیے، حیات کا دماغ کیوں خراب کر رہے ہیں اتنی رات کو۔
تم بھی سو جاؤ۔
ہاں ہاں، سو رہی ہے حیات بھی۔ اور ہاں، notification off کر کے سوئیے، تاکہ ڈسٹرب نہ ہوں آپ۔
مطلب تم ابھی بھی فالتو کی reel بھیجو گی…؟
امن نے شک بھری آواز میں پوچھا۔
نہیں، ان فیوچر کی بات کر رہی ہے حیات۔
اچھا، سو جاؤ اب۔
امن نے بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
ہاں اوکے، اللہ حافظ بائے بائے گڈ نائٹ ٹیک کیئر سو جائیے۔
اتنا کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا۔ امن کے چہرے پر ایک مطمئن سی مسکراہٹ رہ گئی، اور وہ بھی دوبارہ نیند کی وادی میں اتر گیا۔

امن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں… اس کے اندر بھی کیڑا ہے تمہاری طرح رات میں جاگنے کا۔
میں نہیں جاگتا ہوں، بولا تو کل آنکھ کھل گئی تھی تو نیند نہیں آئی پھر۔ زاویار نے دوبارہ وضاحت دی، لہجے میں ہلکی سی جھنجھلاہٹ تھی۔
امن نے سنجیدگی سے کہا۔
اب جو بھی ہے، اپنے آپ کو سدھارو۔ لاسٹ وارننگ ہے اب یہ۔
ہاں ہاں۔ زاویار نے بات ٹالتے ہوئے کہا، پھر فوراً موضوع بدلا۔
بائے دا وے، حیات کو بولو خود پہ دھیان دے۔
میں بڑا بھائی ہوں تو وہ بھی تو بڑی بھابھی ہے، نظر رکھنا تو اس کا بھی کام ہے۔ امن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
زاویار نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ دنیا میں سارے کام ختم ہو گئے ہیں نا، جو دونوں میاں بیوی مل کے میری، میری جاسوسی کرو گے۔
ہاں تو…؟ امن نے بے پرواہی سے کہا۔ To be honest، تم کو بھی خود کو سدھارنے کی ضرورت ہے۔
اچھا اور کچھ…؟
نہیں… زاویار نے مختصر جواب دیا، اتنے میں دونوں کیفے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے،
ناشتے کے بعد امن کو میٹنگ میں جانا تھا، تو اس نے زاویار کو واپس آفس ڈراپ کیا اور خود میٹنگ کے لیے نکل گیا۔

++++++++++++++

پیون نے عشا کی میز پر چائے رکھتے ہوئے کہا۔
یہ لیجیے میڈم، آپ کی چائے۔
عشا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
شکریہ۔
آپ کو اور کچھ چاہیے ہو تو بتائیے گا۔
جی ٹھیک ہے۔
پیون جانے لگا، پھر اچانک مڑا، جیسے کچھ یاد آ گیا ہو۔
ہم، اور ہاں، آپ آدھے گھنٹے بعد زاویار سر کے آفس چلے جائیے گا، انہوں نے بلایا ہے۔
عشا کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
م…مجھے؟
جی آپ کو۔
اتنا کہہ کر پیون وہاں سے چلا گیا۔ عشا نے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پریشانی سے بڑبڑایا۔
اب پتا نہیں کیا مسئلہ ہے ان کو… صبح ہی اتنا سنا چکے ہیں، اب پھر کیا کسر رہ گئی ہے۔
اس نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا، مگر ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔ آنکھوں میں وہی خوف تھا جو صبح کی ڈانٹ کے بعد سے اس کے چہرے پر جما ہوا تھا۔

+++++++++++

کمرے میں نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ پردوں کے درمیان سے چھن کر آتی دھوپ بھی ابرار کے چہرے کی اداسی کو کم نہ کر سکی۔ وہ بستر کے کنارے بیٹھا، دونوں کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹکائے، خالی نظروں سے فرش کو گھور رہا تھا۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، مگر جواب کا انتظار کیے بغیر ازلان اندر داخل ہوگیا۔
جیسے ہی اس کی نظر ابرار پر پڑی، اس نے بھنویں سکیڑ لیں۔
کیا ہوا تجھے؟
ابرار نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کچھ نہیں۔
ازلان نے بازو باندھ لیے۔
بزنس میں لاس ہوا ہے؟
ابرار نے بے سمجھی سے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں تو۔
تو پھر ہر بات پر اتنا غصہ کیوں آرہا ہے؟ ہر ایک سے الجھ رہا ہے۔
ایسی کوئی بات نہیں۔
ازلان نے لمبی سانس بھری اور سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
بتا بھی دے، آخر مسئلہ کیا ہے؟
ابرار نے نظریں چرا لیں۔
کچھ بھی نہیں ہوا۔
ازلان ہلکا سا مسکرایا، مگر اس کی آنکھوں میں سنجیدگی برقرار تھی۔
اب تو ازلان سے بھی چھپائے گا؟
ابرار خاموش رہا۔
ازلان نے کچھ لمحے اسے غور سے دیکھا، پھر آہستہ سے بولا،
اگر تجھے بھابھی پسند نہیں تو صاف صاف بتا دے۔ میں بھائی سے بات کرلوں گا۔
ابرار نے فوراً سر اٹھایا۔
کون؟ حیات؟
ہاں۔ اگر پسند نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ابھی صرف منگنی ہوئی ہے، بات کی جاسکتی ہے۔
ابرار نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… وہ اچھی ہے۔ تھوڑی پاگل ہیں پر دِل کی بُری نہیں ہیں۔۔
پھر مسئلہ کیا ہے؟
کچھ بھی نہیں۔
ازلان نے بے بسی سے ہنکارا بھرا۔
منگنی کے بعد سے میں تجھے دیکھ رہا ہوں۔ بلاوجہ سب پر غصہ نکال رہا ہے۔ آفس بھی ٹھیک سے نہیں جارہا۔ گھر میں بھی ہر وقت چڑچڑا رہتا ہے۔ آخر ہوا کیا ہے؟
کافی دیر خاموشی رہی۔
پھر ابرار نے دھیرے سے کہا،
دل آ گیا ہے۔
ازلان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
کس پراپرٹی پر؟
ابرار نے پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
اس بار… ایک لڑکی پر آیا ہے۔
ازلان نے اطمینان کا سانس لیا۔
بس؟ میں تو سمجھا کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پسند ہے نا؟ تو شادی کرلے۔
ابرار نے تلخی سے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔
پہلے یہ تو پوچھ… وہ لڑکی کون ہے۔
ازلان نے کندھے اچکائے۔
کوئی بھی ہو۔ تجھے پسند ہے، یہی کافی ہے۔ باقی دادی سے میں بات کرلوں گا۔ بھائی کی شادی کے بعد تیری بھی شادی طے ہوجائے گی۔
ابرار نے دھیرے سے سر نفی میں ہلایا۔
نہیں…
کیوں؟
اس سے شادی نہیں ہوسکتی۔
ازلان کا ماتھا شکن آلود ہوگیا۔
کیوں؟
ابرار نے آنکھیں بند کرلیں، جیسے وہ ایک سچ زبان پر لانے کی ہمت جمع کر رہا ہو۔
چند لمحوں بعد اس نے بمشکل لب کھولے۔
کیونکہ…
اس کی آواز بھرّا گئی۔
وہ پہلے ہی کسی اور کی منگیتر ہے۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *