بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۳
رات کافی گزر چکی تھی…
ہوٹل کی راہداریوں میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ زیادہ تر لوگ اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
رن یون اپنے کمرے میں بیٹھا فون پر ریلس دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
آ جاؤ۔
دروازہ کھلا اور جے کیونگ اندر آ گیا۔
رن یون نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
اس وقت؟ خیریت ہے؟
جے کیونگ نے دروازہ بند کیا اور سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سیونگ روم میں کہیں نہیں تھا، شاید وہ باہر تھا۔۔۔جے کیونگ کے پاس یہ صحیح موقع تھا،
بھائی… مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔
ہاں، بولو۔
جے کیونگ نے چند لمحے الفاظ چنے، پھر بولا،
کل… مجھے کہیں جانا ہے۔
رن یون نے سوالیہ انداز میں ابرو اٹھائے۔
کہاں جانا ہے؟
میرا ایک دوست ہے یہاں۔
رن یون چونکا۔
یہاں؟ پاکستان میں؟
ہاں۔
جے کیونگ نے فوراً بات سنبھالتے ہوئے کہا،
اصل میں وہ بھی گھومنے آیا ہوا ہے۔ کل اتفاق سے شاپنگ مال میں ملاقات ہو گئی تھی۔ اس نے کل شام مجھے ملنے کے لیے بلایا ہے۔
رن یون نے آہستہ سے سر ہلایا۔
اوہ… اچھا۔
پھر مسکرا کر بولا،
تو مل لینا۔
جے کیونگ نے فوراً اصل بات کی طرف آتے ہوئے کہا،
لیکن… میں اس سے اکیلے ملنا چاہتا ہوں۔
رن یون چند لمحے خاموش رہا، پھر نہایت سادگی سے بولا،
کوئی مسئلہ نہیں۔ میں مینیجر سے بات کر لیتا ہوں۔
بھائی…
اب کیا ہوا؟
آپ مینیجر سے بات کریں گے… پھر مینیجر سر کو فون کرے گا… پھر سب کو پتا چل جائے گا… پھر یا تو سب میرے ساتھ چلیں گے یا مجھے جانے ہی نہیں دیں گے۔
اس نے ہلکی سی سانس لی۔
اسی سب کی وجہ سے تو میں تنگ آتا ہوں
رن یون کچھ لمحے سوچتا رہا۔
پھر بولا،
اچھا… تو ایسا کرتے ہیں، تم صرف سیکیورٹی کے ساتھ چلے جانا۔
جے کیونگ نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں۔
کیوں؟
میں کسی کے ساتھ نہیں جانا چاہتا۔ نہ سیکیورٹی… نہ مینیجر… کسی کے ساتھ بھی نہیں۔
اس نے سنجیدگی سے رن یون کی طرف دیکھا۔
اسی لیے تو پہلے آپ کو بتا رہا ہوں۔
رن یون نے دونوں بازو باندھ لیے۔
میں تمہیں اکیلے نہیں جانے دوں گا۔
جے کیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
اچھا… پھر تائیجون کو ساتھ لے جاتا ہوں۔
رن یون نے فوراً سختی سے جواب دیا۔
ہرگز نہیں۔۔۔
جے کیونگ چونکا۔
کیوں؟
رن یون بے اختیار ہنس پڑا۔
وہ خود سنبھلتا نہیں، تمہیں کیا سنبھالے گا؟
جے کیونگ بھی ہنس دیا۔
بات تو ٹھیک ہے۔
اس نے چند لمحے سوچ کر دوبارہ پوچھا،
پھر… ہیوک کو ساتھ لے جاؤں؟
اس بار رن یون نے اطمینان سے سر ہلا دیا۔
ہاں… یہ ٹھیک رہے گا۔
پھر اس نے مزید کہا،
میں سب کو کہہ دوں گا کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے تم ہوٹل میں آرام کر رہے ہو۔ مینیجر کو بھی یہی بتا دوں گا۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر سنجیدہ لہجے میں بولا،
لیکن مجھے وقتاً فوقتاً اپنی لوکیشن اور خیریت بتاتے رہنا۔
جے کیونگ کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
ٹھیک ہے… وعدہ۔
رن یون نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
جے کیونگ خوشی چھپاتے ہوئے اٹھا، دروازے کی طرف بڑھا اور باہر نکل گیا۔
++++++++++++
سوہان، سومین کے سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے کسی ننھے بچے کو اچانک کوئی بہت بڑا راز معلوم ہو گیا ہو، اور اب وہ خوشی سے پھٹا جا رہا ہو۔
وہ بار بار آگے جھکتا، پھر خود ہی مسکرا دیتا۔
آخرکار وہ مزید نہ رک سکا۔
تجھے پتہ ہے…؟
سومین نے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے بے دلی سے پوچھا۔
کیا؟
پتہ ہے… ہان وو کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے۔۔۔
سومین نے فوراً سیدھا ہو کر اس کی طرف دیکھا۔
ہین…؟ کیا بکواس کر رہا ہے؟
بکواس نہیں… سچ!
سوہان نے پورے اعتماد سے سر ہلایا۔
وہ بھی لاہور میں… یہاں کسی لڑکی کو پسند کر بیٹھا ہے۔
(جب جے کیونگ ہان ووو کو فاطمہ کے بارے میں سب کچھ بتا رہا تھا، تو سُہان باہر سے کان لگا کے سب سن رہا تھا، لیکن افسوس اسے آدھی ادھوری باتیں ہی پتا چلی تھیں، اس کا حال ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا۔)
سومین چند لمحے اسے گھورتا رہا، پھر اچانک ہنس پڑا۔
تو پاگل ہو گیا ہے کیا؟
میں بالکل ٹھیک ہوں۔
سوہان نے فخر سے سینہ پھلایا۔
کل رات میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔
کب؟
کل رات…
وہ ذرا سا اور قریب آ گیا، جیسے کوئی خفیہ رپورٹ دے رہا ہو۔
تو سو گیا تھا نا… ورنہ میں رات کو ہی تجھے بتا دیتا۔
سومین کی دلچسپی اب واقعی بڑھنے لگی تھی۔
کہاں سنا؟
میں ہیوک کے کمرے کی طرف جا رہا تھا… چارجر لینے۔
ہممم…
راستے میں ہان وو کے کمرے سے آوازیں آ رہی تھیں۔
پھر؟
پھر میں نے…
سوہان نے شرارتی انداز میں دائیں بائیں دیکھا، جیسے کوئی دیکھ نہ لے۔
دروازے کے ساتھ کان لگا دیا۔
سومین نے فوراً اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
بے شرم۔۔۔
ابے… پہلے پوری بات تو سن۔۔
سوہان نے احتجاج کیا۔
میں نے اندر سے سنا… جے کیونگ اور ہان وو کسی فاطمہ نام کی لڑکی کی بات کر رہے تھے۔
فاطمہ؟
ہاں۔۔۔۔
اور پھر؟
اور پھر کیا یہ بات تائیجون کو بھی پتہ ہے… ہیوک کو بھی پتہ ہے… بس صرف ہمیں نہیں پتہ۔
ہیں، واقعی میں؟ چل ان سے پوچھتے ہیں۔ سومین بستر سے اٹھنے لگا۔
اوئے۔۔۔
سوہان نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
پاگل ہے کیا؟ جیسے تُو ان سے پوچھے گا اور وہ تجھے بتا دیں گے…
ہاں تو۔۔۔
اگر تجھے بتانا ہوتا تو تیرا جگری دوست ہان وو پہلے ہی تجھے نہیں بتا دیتا؟
سومین کچھ سوچنے لگا۔ اچھا تو اب۔۔۔۔۔
وہ سرگوشی کے انداز میں بولا۔
تو اب کچھ نہیں… خاموش رہ اور تماشا دیکھ، اور ہان ووو پر نظر رکھ۔
اچھا۔
ہاں…
نظر کیا رکھنا، بھائی کو سب بتا دے۔
نہیں ابھی نہیں۔ سوہان نے فوراً انکار کیا۔
تو کب۔۔۔؟؟
بعد میں۔۔۔ جب صحیح وقت آئے گا۔۔۔۔ ابھی سو جا تُو… تُو بھی کسی کو مت بتانا۔
مینوں کی… ابھی بتا، بعد میں بتا یا نہ بتا۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ ستر پر لیٹ گیا۔ چند ہی لمحوں بعد اس نے کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر دیر تک جاگتا رہا تو صبح اپنے معمول کے مطابق جلدی نہیں اٹھ سکے گا۔ اس کی روز کی یہ عادت ہوچکی تھی… کیوں کہ سوہان روزآنہ رات کے دو سے تین بجے تک سوتا تھا۔۔۔ تب تک سومین جاگتا تو اُسے چار بجے نیند آنے لگتی تھی، اسی لیے وہ سوہان کے سونے سے پہلے سوجاتا تھا، اور سوہان کے سونے کے بعد اُٹھ جاتا تھا۔۔
اور پھر قرآن پڑھتا۔۔۔ اسے کے لیے ابھی سب سے زیادہ ضروری قرآن پڑھنا اور اُسے سمجھنا تھا۔۔۔۔
ادھر سوہان اب بھی جاگ رہا تھا۔
وہ چھت کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے بڑبڑایا۔
جو تُم لوگ مُجھے سے باتیں چھپاتے ہوئے نہ۔۔ چھوڑوں گا نہیں کِسی کو بھی میں دیکھنا۔۔۔۔۔ بہت گندا بدلہ لونگا۔۔۔
اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا…
کہ جس شخص کی محبت کی کہانی وہ اپنے ذہن میں بنا چکا تھا…
حقیقت میں وہ کہانی کسی اور کی تھی۔
++++++++++
ناشتے کی میز حسبِ معمول قہقہوں اور ہلکی پھلکی باتوں سے آباد تھی۔ کوئی جوس پی رہا تھا، کوئی ٹوسٹ پر جام لگا رہا تھا، تو کوئی ابھی تک آدھی نیند میں بیٹھا تھا۔
اسی دوران منیجر نے گلا صاف کیا۔
ایک ضروری بات سن لیں سب۔
سب کی نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔
منیجر نے سکون سے کہا،
پرسوں ہماری فلائٹ ہے۔ ہم لاہور سے کراچی روانہ ہوں گے۔
یہ سنتے ہی سوہان نے فوراً احتجاج کیا۔
اتنی جلدی؟ ابھی تو ہم نے پورا لاہور دیکھا ہی نہیں۔
منیجر ہلکا سا مسکرایا۔
پورا لاہور تو شاید کوئی بھی ایک دو دن میں نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن جہاں جہاں جانا تھا، تقریباً سب اچھی جگہیں ہم دیکھ چکے ہیں۔
سیونگ نے سر ہلایا۔
ہاں… یہ بات تو ٹھیک ہے۔
رین یون نے ناشتے کی پلیٹ ایک طرف رکھتے ہوئے کہا،
اور ایک بات…
سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔
جے کیونگ کی طبیعت تھوڑی ڈاؤن ہے۔
ہیوک نے نظریں جھکا لیں، جیسے اسے پہلے ہی معلوم ہو۔
رین یون نے بات جاری رکھی،
اس لیے آج ہم لوگ باہر جائیں گے، لیکن ہیوک…
جی؟
تم ہوٹل میں ہی رہنا۔ جے کیونگ کا خیال رکھنا۔
ہیوک نے مختصر سا جواب دیا۔
اچھا۔
اسے پہلے ہی ساری بات معلوم تھی، اس لیے اس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔
اتنے میں تائیجون نے چونک کر پوچھا،
اسے کیا ہوا؟
پھر فوراً کرسی سے اٹھنے لگا۔
میں جا کے دیکھ کے آتا ہوں۔
رین یون نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
ضرورت نہیں۔
کیوں؟
وہ سو رہا ہے۔ میں ابھی اس کے کمرے سے آ رہا ہوں۔
تائیجون نے ہونٹ سکیڑے۔
تو پھر میں یہیں رک جاتا ہوں۔
سیونگ نے فوراً طنزیہ انداز میں کہا،
تاکہ جو تھوڑا سا بیمار ہے، اسے مکمل بیمار کر دو؟
تائیجون نے حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں۔
ہین؟
ہان وو نے بالکل سنجیدگی سے کہا،
ہاں۔ پھر اس نے تائیجون کی طرف دیکھتے ہوئے مزید کہا، تم سے تو خود اٹھ کر پانی تو پیا جاتا نہیں ہے… اور تم کسی اور کی دیکھ بھال کرو گے؟
میز پر دبی دبی ہنسی پھیل گئی۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا،
ہاں تو… تو ہی رک جا۔ تُجھے ویسے بھی سب کی امی بننے کا بڑا شوق ہے۔
اسی لمحے سوہان اچانک زور سے بولا،
نہیں! ہان وو نہیں روکے گا۔۔۔
اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ سب چونک کر اسی کی طرف دیکھنے لگے۔
ہیوک نے حیرت سے پوچھا،
تجھے کیا ہوا ہے؟
سوہان نے ایک لمحے کے لیے نظریں چرائیں۔
ک… کچھ نہیں۔
سیونگ نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
تمہیں وقفے وقفے سے دورے پڑتے ہیں کیا؟
سوہان نے فوراً منہ بنایا۔
مجھے کیوں دورے پڑیں گے؟
سیونگ نے کندھے اچکائے۔
پھر ایسے اچانک چیخنے کی کیا ضرورت تھی؟
سوہان نے جلدی سے بہانہ بنایا۔
میں تو بس… ڈر گیا تھا۔
کس سے؟ رین یون نے حیرت سے پوچھا۔
ہان وو کے روک جانے سے؟؟
سوہان نے دو سیکنڈ سوچنے کی اداکاری کی۔
نہیں وہ میرے ناشتے میں مکھی تھی۔
چند لمحے خاموشی رہی…
پھر تائیجون زور سے ہنس پڑا۔
مکھی؟
اتنی بڑی مکھی تھی کہ تُو چیخ ہی پڑا؟
ہیوک نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
یہ بھی بیمار ہے۔۔۔
ہان وو نے پرسکون لہجے میں کہا،
اسے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔
سوہان نے فوراً احتجاج کیا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں!
تائیجون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا،
ہاں ہاں… ہمیں بھی یہی لگ رہا ہے۔
سب دوبارہ ہنسنے لگے، جبکہ سوہان خاموشی سے ناشتے میں مصروف ہونے کا ڈرامہ کرنے لگا۔
مگر حقیقت یہ تھی… وہ دل ہی دل میں خوش تھا۔
آج ہان وو ہوٹل میں نہیں رکے گا…
اس کے ذہن میں فوراً پچھلی رات سنی ہوئی آدھی ادھوری باتیں گھومنے لگیں۔
+++++++++++++
ہوٹل سے باقی سب لوگ گھومنے کے لیے جا چکے تھے۔
پورا فلور غیر معمولی طور پر پرسکون تھا۔
کمرے میں صرف جے کیونگ اور ہیوک موجود تھے۔
گھڑی کی سوئیاں صبح کے گیارہ بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔
جے کیونگ صوفے پر نیم دراز بیٹھا موبائل گھما رہا تھا، جبکہ ہیوک کھڑکی کے پاس کھڑا باہر شہر کا منظر دیکھ رہا تھا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ہیوک نے مڑ کر پوچھا،
تم نے بھائی کو منایا کیسے؟
جے کیونگ نے بے پروائی سے جواب دیا،
دوست کا کہا تھا۔
اور بھائی مان گئے؟
ہاں… پھر خود ہی ہلکا سا ہنس دیا۔
میں بھی حیران ہوں۔ شاید اسی لیے مان گئے کہ انہیں لگا میں سچ بول رہا ہوں۔
اس نے کندھے اچکائے۔
اور… میں خود جا کر پوچھ رہا تھا نا۔
بھائی پہلے بھی کہہ چکے ہیں، ‘کچھ بھی ہو، مجھے پہلے بتایا کرو۔ پوچھ کر جایا کرو۔ میں تم لوگوں کا ہی ساتھ دوں گا۔’ شاید اسی لیے زیادہ سوال نہیں کیے۔
ہیوک نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہاں… ہو سکتا ہے۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر جے کیونگ اچانک سیدھا بیٹھ گیا۔
خیر… چھوڑ نا۔
کہیں گھومنے چلتے ہیں۔
ہیوک نے فوراً پوچھا،
کہاں؟ کیفے؟
جے کیونگ نے عجیب سا منہ بنایا۔
کیفے کیوں؟
ابھی تو ناشتہ کیا ہے۔
ہیوک بھی مسکرا دیا۔
ہاں… یہ بھی ہے۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا،
اور باقی جگہوں کا ہمیں پتہ بھی نہیں۔ جائیں گے کیسے؟
جے کیونگ نے لمبی سانس لی۔
ہاں… یہ بھی مسئلہ ہے۔
دونوں پھر خاموش ہو گئے۔
ہیوک سوچتے ہوئے کبھی فرش کو دیکھتا، کبھی چھت کو۔ اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا۔
اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
ارے۔۔۔
جے کیونگ نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیا ہوا؟
ہیوک مسکراتے ہوئے بولا،
ماہم کی یونیورسٹی چلیں؟
جے کیونگ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
تجھے… اس کی یونیورسٹی کا پتہ ہے؟
ہاں۔
ہیوک نے سر ہلایا۔
اس نے بتایا تھا۔
یہ سنتے ہی جے کیونگ نے گہرا سانس لیا۔
پھر مصنوعی افسوس سے بولا،
ایک یہ ماہم ہے… کتنی اچھی لڑکی ہے۔
بات کرتی ہے تو لگتا ہے باتوں سے پھول جھڑ رہے ہیں۔ پھر فوراً منہ بنا کر بولا،
اور ایک فاطمہ ہے… وہ تو بس ایک نظر دیکھتی ہے اور لگتا ہے ابھی آنکھوں ہی آنکھوں سے کچا چبا جائے گی۔
ہیوک بے اختیار ہنس پڑا۔
ہاہاہا… سب کا اپنا اپنا نیچر ہوتا ہے۔ ماہم بہت معصوم ہے۔ شاید… اس نے ابھی دنیا زیادہ نہیں دیکھی۔
جے کیونگ نے فوراً بات پکڑی۔
ہاں… ساری دنیا تو فاطمہ نے ہی دیکھ لی ہے۔
اس نے ہلکی سی سانس خارج کی۔
اتنی دیکھ لی… کہ اب اسے اس دنیا میں کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔
یہ کہتے ہوئے پہلی بار اس کے لہجے میں مذاق کم… اور فاطمہ کے لیے ہلکی سی ہمدردی زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔
لگتا ہے… جیسے اُس نے دنیا کی کوئی اچھی چیز دیکھی ہی نہیں۔۔۔ ساری دنیا ہی بری چیز ہی دیکھی ہے۔۔۔
ہیوک نے اس کی طرف دیکھا۔
تو بھی تو اپنی زندگی سے تنگ ہے۔
میں دنیا سے تنگ نہیں ہوں…
میں اپنی اس قید والی زندگی سے تنگ ہوں۔
اس نے گہری سانس لی۔
ورنہ… دنیا تو بہت خوبصورت ہے۔
ہیوک نے اثبات میں سر ہلایا۔
واقعی۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر جے کیونگ نے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا،
چل… اب تیار ہو جا۔
نکلتے ہیں۔
ہیوک بھی بستر سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
جوتے پہنتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے بولا،
ویسے… اس دنیا کے لوگ بھی بہت خوبصورت ہیں۔
جے کیونگ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
کون لوگ؟
ہیوک نے شرارتی انداز میں جواب دیا،
ماہم کی جو یونیورسٹی ہے… فاطمہ کی بھی وہی ہے۔
بس دونوں کے ڈیپارٹمنٹ الگ الگ ہیں۔
پھر آنکھ مار کر بولا،
دعا کر… کہ وہ بھی تجھے کہیں نظر آ جائے۔
پھر یہ دنیا تجھے اور بھی خوبصورت لگنے لگے گی۔
جے کیونگ کی آنکھیں فوراً چمک اٹھیں۔
ہیں؟
سچی؟
ہیوک نے ہنسی روکتے ہوئے سر ہلایا۔
مچی۔
جے کیونگ فوراً ہنس پڑا۔
چل گندے…
ہیوک نے ماتھا پیٹ لیا۔
ابے… وہ والا ‘مچی’ نہیں۔
دونوں ہنسنے لگے۔
چند لمحوں بعد جے کیونگ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔
ویسے ایک بات بتا…
ہیوک نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کیا؟
تو چرچ جاتا ہے کیا؟
ہیوک نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں۔
کیوں؟
کبھی نہیں گیا؟
نہیں۔
پھر نہایت سکون سے بولا،
کیونکہ میں اب خود کو کرسچین نہیں مانتا۔
بہت پہلے… خود کو اُس سے الگ کر چکا ہوں۔
یہ سن کر جے کیونگ کی بھنویں حیرت سے اٹھ گئیں۔
پھر؟
دعا؟
میں نے تجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر دعا کرتے دیکھا ہے… اور ہر وقت کہتے بھی سنا ہے۔ تو پھر کس سے دعا کرتا ہے؟
ہیوک نے بغیر کسی جھجک کے جواب دیا،
میں ایک خدا پر یقین رکھتا ہوں۔
یہ سن کر جے کیونگ چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش رہ گیا۔
اس نے حیرت سے ہیوک کو دیکھا۔
ہیں…؟ یہ بات اس کے لیے بالکل نئی تھی۔
تو اُس دن… جب تائیجون وہ سب باتیں کر رہا تھا…
تب تُو نے کچھ کہا کیوں نہیں؟
ہیوک نے شرٹ کی آستینیں سیدھی کرتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا،
وہ بکواس کرتا ہے… کرنے دے۔ میں بول بھی دیتا…
تو کون سا اُس نے میری بات مان لینی تھی۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
اور ویسے بھی…
اُس دن میں زیادہ خاموش سوہان کی وجہ سے تھا۔
جے کیونگ نے حیرت سے پوچھا،
کیوں؟
کیونکہ اُس کے دماغ کا تو تُجھے بھی پتا ہے۔
بالکل بچوں جیسا ہے۔
اگر اُس دن میری اور تائیجون کی بحث شروع ہو جاتی…
تو نہ وہ میری بات سمجھتا…
اور نہ تائیجون کی۔
الٹا دونوں کی باتوں میں ہی الجھ کر رہ جاتا۔
پھر کئی کئی دن وہی سوچتا رہتا…
یہ صحیح تھا یا وہ؟
یہ کیوں کہا؟ وہ کیوں کہا؟
ہیوک نے سر ہلاتے ہوئے لمبی سانس لی۔
اور اُس کے دماغ کو دوبارہ کلئیر کرنا…
مطلب… بیچ سمندر میں چھلانگ لگانے کے برابر ہے۔
یہ سن کر جے کیونگ زور سے ہنس پڑا۔
ہاہاہا… یہ تو سچ بولا۔
چند لمحے بعد اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
تو کیا…
سوہان واقعی تائیجون کی بات سے اگری کرتا ہے؟
ہیوک نے حیرت سے اسے دیکھا۔
تجھے لگتا ہے؟ وہ کرے گا؟
جے کیونگ نے ہنستے ہوئے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
نہیں… بالکل نہیں۔
ہیوک بھی ہنس پڑا۔
رات کو ہوٹل آ کر مجھ سے کہہ رہا تھا…
بھائی… میرا دل نہیں مان رہا۔
پتہ نہیں کیوں… یقین ہی نہیں آ رہا۔
جے کیونگ دلچسپی سے سنتا رہا۔ پھر پوچھا، تو تُو نے کیا کہا؟
ہیوک نے کندھے اچکائے۔
میں نے کہا… جو تیرا دل کرتا ہے، وہ کر۔
اگر تیرا دل کہتا ہے کہ خدا ہے… تو مان لے۔
تائیجون کی بکواس چھوڑ دے۔
اور اگر تیرا دل ابھی نہیں مانتا… تو مت مان۔
جے کیونگ نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہلایا۔
ویسے… جو بھی ہو… دل بہت صاف ہے اُس کا۔
ہیوک ہنس پڑا۔
ہاں… دِماغ کے ساتھ ساتھ دل بھی تو بچوں والا ہے۔
اور بچوں کا دل تو صاف ہی ہوتا ہے۔
جے کیونگ زور سے ہنس پڑا۔
ہاہاہا… ابھی یہاں ہوتا نا… تو زور زور سے چیخ رہا ہوتا۔
ہیوک بھی ہنسنے لگا۔
آپس کی بات ہے… لیکن وہ ہے میرے جگر کا ٹکڑا۔
جے کیونگ نے حیرت سے ابرو اٹھائے۔
اچھا؟ دن بھر تو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہتے ہو… ایک دوسرے سے دور بھگتے رہتے ہو۔۔ اور اب وہ جگر کا ٹکڑا ہو گیا؟
ہیوک نے قہقہہ لگایا۔
ہاں نا… یہی تو پیار ہے۔
چل اب… دیر ہو رہی ہے۔
دونوں نے جلدی سے اپنی چیزیں اٹھائیں، کمرے کا دروازہ لاک کیا اور یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے۔
++++++++++++
چند ہی دیر بعد دونوں ماہم کی یونیورسٹی پہنچ گئے۔
یونیورسٹی کے وسیع لان، درختوں کے سائے اور ادھر اُدھر جاتے طلبہ کو دیکھتے ہوئے ہیوک نے آہستہ سے کہا،
ویسے… جب بات دل کی آ جائے نا…
تو ساری غیرت مر جاتی ہے۔
جے کیونگ نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا۔
تو سچ میں… اُسے لے کر انٹرسٹڈ ہے؟
ہیوک نے بنا کسی تاثر کے جواب دیا،
نہیں… جوس پینے آیا ہوں اِدھر۔
جے کیونگ ہنس پڑا۔
پھر بھی… وہ تُجھے کیسے ملے گی؟
ہیوک نے فون نکالتے ہوئے کہا،
جس طرح پہلے ملی تھی…
ویسے ہی آگے کا راستہ بھی مل جائے گا۔
پھر اس نے ماہم کو میسج ٹائپ کیا۔
السلام علیکم، اگر فری ہو تو ذرا مین گیٹ پر آ سکتی ہو؟
میسج بھیج کر وہ بولا، اگر کلاس میں ہوئی… تو نہیں دیکھے گی۔ لیکن اگر اِدھر اُدھر ہوگی… تو دیکھ لے گی۔
چند منٹ بعد دور سے ایک مانوس وجود ان کی طرف آتا دکھائی دیا۔
کالی عبایا میں ملبوس، گلابی فائل ہاتھ میں لیے، ماہم تیز قدموں سے ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔
قریب آ کر اُس نے مسکراتے ہوئے سلام کیا۔
السلام علیکم۔
آپ دونوں یہاں کیا کر رہے ہیں؟
ہیوک نے بھی مسکرا کر جواب دیا،
وعلیکم السلام۔ ٹورسٹ ہیں… سب جگہیں گھوم لیں… تو سوچا… ملک کا تعلیمی مرکز بھی دیکھ لیا جائے۔
ماہم نے ایک بھنو اُچکا کر کہا،
اچھا…
اور آپ کو میری ہی یونیورسٹی ملی تھی؟
ہاں۔ ہیوک نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا۔
ماہم ہنس پڑی۔
ارے… اتنی آسانی سے سچ بول دیا؟ کتنے سادہ ہیں آپ۔ یہاں تو بہانے بازی کرنی چاہیے تھی۔
ہیوک نے معصومیت سے سر جھکا لیا۔
سوری… نیکسٹ ٹائم۔
یہ سن کر جے کیونگ بھی مسکرا دیا۔
پھر اُس کی نظر ماہم کے عبایا پر گئی۔
اتنی گرمی میں… عبایا؟ وہ بھی صبح صبح؟
ماہم نے بڑے سکون سے جواب دیا،
ہاں… کیا کروں؟ جہنم کی گرمی بھی تو برداشت نہیں کر سکتی نا میں۔
جے کیونگ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا مطلب؟
ہیوک نے فوراً کہنی مار کر آہستہ سے اُس کے کان میں کہا،
ابے… وہ مسلمان ہے۔ پردہ کرتی ہے۔
جے کیونگ نے اردگرد گزرتی دوسری لڑکیوں کی طرف دیکھا۔
لیکن… یہاں اور بھی تو لڑکیاں ہیں۔
وہ مسلمان نہیں ہیں کیا؟
اس بار جواب ماہم نے دیا۔
ہیں… لیکن سب کی اپنی اپنی چوائس ہوتی ہے۔
جے کیونگ نے فوراً پوچھا،
تو… تمہاری یہ اپنی چوائس ہے؟
جی۔ ماہم نے مختصر جواب دیا۔
جے کیونگ نے بےساختہ اگلا سوال کر دیا۔
کیا مجبوری تھی؟
یہ سنتے ہی ہیوک کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا،
بلاوجہ ایسی بات پوچھ رہا ہے جس سے ماہم ناراض ہو جائے گی۔
مگر ماہم کے چہرے پر نہ غصہ آیا، نہ ناگواری۔
وہ ہلکا سا مسکرائی اور بولی،
یہ سوال… آپ فاطمہ سے پوچھیے گا۔
وہ آپ کو اس کا بہت اچھا جواب دے گی۔
فاطمہ کا نام سنتے ہی جے کیونگ چونک گیا۔
فاطمہ… یہاں ہے؟
ماہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… میں ابھی اُسے یہاں بُلا لیتی لیکن وہ مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود ہی یہاں آجائے گی۔۔۔
ہیوک نے پوچھا، ابھی کہاں ہے وہ؟
کلاس میں۔ ماہم نے جواب دیا۔
بس… ابھی اُس کی کلاس ختم ہونے والی ہوگی۔
اچھا… ہیوک نے سر ہلایا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ماہم نے اردگرد نظر دوڑائی اور بولی،
اچھا… آئیے، کینٹین میں بیٹھتے ہیں۔
دھوپ میں کھڑے رہنے سے بہتر ہے وہاں آرام سے بات بھی ہو جائے گی۔
چلو۔ ہیوک نے فوراً کہا۔
جے کیونگ نے بھی خاموشی سے سر ہلایا۔
تینوں آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی کینٹین کی طرف بڑھنے لگے۔
راستے میں طلبہ کے چھوٹے چھوٹے گروہ باتیں کرتے گزر رہے تھے، کہیں درختوں کے نیچے لڑکے کتابیں کھولے بیٹھے تھے تو کہیں چند لڑکیاں ہنستے ہوئے کلاسوں کی طرف جا رہی تھیں۔
وہ چلتے چلتے ہر چیز کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
کبھی سرسبز لان… کبھی عمارتیں… اور کبھی اِس آزاد، بےفکر ماحول میں گھومتے طلبہ۔
آخرکار تینوں کینٹین کے اندر داخل ہوئے۔
ماہم نے کھڑکی کے قریب ایک خالی میز کی طرف اشارہ کیا۔
اُدھر بیٹھتے ہیں۔
دونوں نے اثبات میں سر ہلایا اور اُس کے ساتھ جا کر میز کے گرد بیٹھ گئے۔
+++++++++++++
انہیں بیٹھے ابھی چند ہی منٹ ہوئے تھے کہ جے کیونگ کی نظر اچانک کینٹین کے دروازے کی طرف گئی۔
اگلے ہی لمحے اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
آ گئی…
ہیوک اور ماہم نے بھی پلٹ کر دیکھا۔
فاطمہ ہاتھ میں کتابیں لیے اندر داخل ہو رہی تھی۔
چند قدم چلنے کے بعد جیسے ہی اس کی نظر میز پر بیٹھی تینوں شخصیات پر پڑی، وہ وہیں رک گئی۔
سب سے پہلے اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
یہ… یہاں؟
پھر اس کی نظر ہیوک اور ماہم پر گئی…
اور اگلے ہی لمحے حیرت کی جگہ ہلکا سا غصہ آ گیا۔
وہ سیدھی چلتی ہوئی میز کے پاس آ کر رکی۔
ایکسکیوز می؟
جے کیونگ نے بڑے سکون سے جواب دیا۔
السلام علیکم۔
فاطمہ نے سلام کا جواب دیا، مگر نظریں اب بھی اسی پر جمی تھیں۔
یہاں تشریف کیسے لانا ہوا؟
پھر اس نے ماہم کی طرف دیکھا۔
ماہم… تم نے بلایا اِنہیں؟
ماہم نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں تو۔
ہیوک نے بات سنبھالی۔
اصل میں… ہم یونیورسٹی وزٹ کرنے آئے تھے۔
ماہم نے فوراً اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
ہاں… ہاں۔
جے کیونگ نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا،
اتفاق سے مل گئے۔
فاطمہ نے تینوں کو باری باری ایک گہری، شک بھری نظر سے دیکھا۔
پھر خاموشی سے سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
یہی تو جے کیونگ کو چاہیے تھا۔ اسے موقع مل گیا۔
وہ فوراً مسکراتے ہوئے بولا،
ویسے… اتنی گرمی میں عبایا؟
ہیوک نے فوراً ذرا سا جھک کر ماہم کے کان میں سرگوشی کی،
یہ پکا پٹے گا آج۔
ماہم نے ہنسی دباتے ہوئے سر ہلایا۔
ہاں…
فاطمہ نے بالکل سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
مجھے شوق ہے۔
جے کیونگ نے معصوم بن کر پوچھا،
عبایا کا؟
فاطمہ نے اسی سنجیدگی سے کہا،
نہیں… گرمی میں رہنے کا۔
جے کیونگ ہنس دیا۔
تاکہ ہر وقت دماغ گرم رہے… اور باقی سب کا بھی کرے؟
فاطمہ نے کندھے اچکائے۔
ہاں… ایسا ہی کچھ۔
جے کیونگ نے اسے غور سے دیکھا۔ لیکن مجھے لگتا ہے… آج دماغ ٹھنڈا ہے۔
فاطمہ نے فوراً پلٹ کر پوچھا،
گرم کرنے کا ارادہ ہے؟
نا نا… جے کیونگ نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
میں اتنا بہادر نہیں ہوں۔
یہ سن کر ماہم بے اختیار ہنس پڑی۔
پھر اس نے بات کا رخ بدلتے ہوئے پوچھا،
اچھا یہ بتائیں…۔ آپ لوگوں کے جانے کا کب کا سین ہے؟ اور آپ نے بتایا بھی نہیں… آپ کے کتنے دوستوں کا گروپ آیا ہے؟
جے کیونگ نے جواب دیا،
ہماری پرسوں لاہور سے کراچی کی فلائٹ ہے۔
پھر کراچی گھومیں گے… اس کے بعد کشمیر…
اور پھر اپنے ملک واپس۔
اوہو…۔ماہم نے حیرت سے کہا۔
یعنی آپ لوگوں نے تو آدھا پاکستان گھوم لیا۔
ہیوک مسکرا دیا۔
تقریباً۔
ماہم نے تجسس سے پوچھا،
تو آپ لوگوں کا کوئی یوٹیوب چینل وغیرہ ہے؟
یہ سوال سنتے ہی ہیوک اور جے کیونگ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
دونوں چند لمحے خاموش رہے۔
پھر تقریباً ایک ساتھ بولے،
نہیں…
نہیں۔
ماہم نے پھر پوچھا،
تو پھر… جاب کیا کرتے ہیں آپ لوگ؟
اس بار دونوں واقعی چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گئے۔
آخر جے کیونگ نے جواب دیا،
فیملی بزنس۔
فاطمہ نے فوراً طنزیہ انداز میں کہا،
جاب بتانے میں کافی وقت نہیں لگ گیا؟
ہیوک نے جلدی سے کہا،
نہیں نہیں…۔ایسی بات نہیں ہے۔
فاطمہ نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا،
اتنا گھومتے پھرتے رہتے ہیں…۔تو کام کرنے کا وقت کب ملتا ہے؟
جے کیونگ نے بنا گھبرائے جواب دیا،
اصل میں… ہم نے مختلف کمپنیوں میں انویسٹمنٹ کر رکھی ہے۔ وہیں سے پروفٹ آتا رہتا ہے… اس لیے وقت کافی مل جاتا ہے۔
اوہ…
ماہم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
نائس…
ہیوک نے مسکراتے ہوئے کہا،
ہم چاہتے تھے کہ جانے سے پہلے ایک بار آپ دونوں سے ضرور ملیں۔
فاطمہ نے بےتاثر لہجے میں پوچھا،
کیوں؟
میموریز….ہیوک نے مختصر سا جواب دیا۔
ماہم ہنس دی۔
اب ہم ایئرپورٹ تو آپ کو اللہ حافظ کہنے نہیں آ سکتے۔
جے کیونگ نے چونک کر پوچھا،
اللہ حافظ؟
فاطمہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا،
گوڈ بائے۔
اوہ… جے کیونگ نے سر ہلایا۔
اچھا… ہیوک بولا،
اگر فلائٹ رات کی ہوئی تو صبح مل لیں گے۔
اور اگر صبح کی ہوئی….تو ایک دن پہلے شام کو۔
اوکے۔ ماہم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد جے کیونگ نے اچانک پوچھ لیا،
ویسے….لگتا تو نہیں….لیکن آپ دونوں سنگل ہو؟
ہیوک نے فوراً اس کے بازو پر ہلکی سی چپت لگائی۔
بھائی، تُو چپ کر کے بیٹھ۔
جے کیونگ نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
میں نے ایسا بھی کیا بول دیا؟
ماہم ہلکا سا مسکرائی۔
It’s okay.
اب تو مسلمانوں میں بھی یہ ساری باتیں کافی عام ہو گئی ہیں۔
فاطمہ نے اچانک ہیوک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
I noticed…
کیا نام ہے آپ کا؟
ہیوک۔. ہیوک…
فاطمہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
میں نے نوٹس کیا ہے…
آپ کو پاکستان کے بارے میں، خاص طور پر اسلام کے بارے میں کافی معلومات ہیں۔
ہیوک نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
جی… سرچ کی ہے میں نے۔ اور ابھی بھی کر رہا ہوں۔
پھر کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا،
آپ لوگوں میں شاید شادی سے پہلے ریلیشن شپ الاو نہیں ہے؟
ہاں۔ فاطمہ نے مختصر جواب دیا۔
کیا؟.جے کیونگ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ماہم نے اس کی طرف دیکھ کر کہا،
آپ اتنا حیران کیوں ہو رہے ہیں؟
یہاں تک کہ ہمیں کسی غیر محرم سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
یہ کیوں؟ جے کیونگ نے فوراً پوچھا۔ یہ تو زیادتی ہے۔
فاطمہ نے پُرسکون لہجے میں کہا،
کوئی زیادتی نہیں۔
جے کیونگ نے الجھن سے پوچھا،
ایک منٹ… غیر محرم کون؟
ماہم نے سمجھاتے ہوئے کہا، ہمارے ابو، بھائی، دادا، نانا، پوتا، نواسا، بھتیجا اور بھانجا محرم ہوتے ہیں۔
جے کیونگ نے فوراً پوچھا،
اور باقی رشتے؟
غیر محرم۔ ماہم نے جواب دیا۔
اور اگر اُن سے بات کرنی ہو تو؟
ماہم نے فاطمہ کے عبائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
ایسے پردے میں۔
جے کیونگ اب بھی مطمئن نہیں ہوا۔
لیکن کیوں؟
فاطمہ نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے جواب دیا،
کیونکہ ہم بہت قیمتی ہیں، اس لیے۔
ہیں؟ جے کیونگ نے حیرت سے کہا۔
ماہم مسکرائی اور نرمی سے بولی،
میری ایک بات سنیں۔
اگر آپ کے پاس کوئی بہت پیاری چیز ہو…
جو بہت خوبصورت ہو…
اتنی خوبصورت کہ آپ اُسے گردوغبار سے بچانے کے لیے کپڑے یا کسی ڈبے میں سنبھال کر رکھیں…
اور اتنی قیمتی ہو کہ اگر ایک بار کھو جائے تو آپ پوری زندگی بھی محنت کر لیں، پھر بھی دوبارہ اسے حاصل نہ کر سکیں…
اور اتنی نازک ہو کہ ذرا سی لاپروائی سے ٹوٹ جائے…
اور اُس میں اتنی چمک ہو کہ آپ اُسے ہر بری نظر سے بچا کر رکھنا پڑے۔۔۔
اور وہ آپ کی لکی چارم بھی ہو…
جسے آپ کسی اور کو دینا تو دور، کسی کے ہاتھ میں بھی نہ دینا چاہیں…
اب بتائیے…
اگر ایسی کوئی چیز آپ کے پاس ہو، تو آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے؟
جے کیونگ نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر جواب دیا،
وہی جو تم نے کہا…
میں اُسے بہت سنبھال کر رکھوں گا…
جیسے کوئی انمول خزانہ ہو۔ پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا، ویسے بھی وہ کوئی عام چیز تو ہوگی نہیں… کوئی ڈائمنڈ… یا دنیا کا سب سے خوبصورت پتھر۔
فاطمہ نے فوراً اس کی بات کاٹ دی۔
وہ ہم ہیں۔
ہیں؟ جے کیونگ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ماہم نے مسکراتے ہوئے کہا،
جی… وہ ہم لڑکیاں ہیں۔
اللہ نے ہمیں اسی طرح عزت اور قدر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اسی لیے اس نے ہمیں پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے…
جے کیونگ نے الجھن سے سر کھجایا۔
لیکن… کوئی چیز اپنی مرضی سے پیاری بنے تو ٹھیک ہے۔ کسی کو زبردستی ڈبے میں بند کر دینا… یہ تو آزادی چھیننے والی بات ہوئی نا؟
فاطمہ نے پرسکون لہجے میں کہا،
یہی تو غلط فہمی ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم سے آزادی چھین لی گئی ہے… حالانکہ ہمیں عزت دی گئی ہے۔ فرق صرف سوچ کا ہے۔
جے کیونگ نے شک بھرے انداز میں پوچھا،
اچھا… لیکن اگر کوئی خود اپنی مرضی سے یہ سب نہ کرنا چاہے تو؟
ماہم مسکرا کر بولی،
اسی لیے تو کہا تھا… یہ ہماری اپنی چوائس ہے۔ کسی پر جبر نہیں۔
جے کیونگ نے آہستہ سے سر ہلایا۔
اب بات کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے… اگر کوئی چیز واقعی قیمتی ہو… تو اسے ہر کسی کی نظر کے سامنے نہیں رکھا جاتا۔
ماہم نے مسکرا کر کہا،
بالکل۔ اور اللہ سے زیادہ اپنے بندوں کی قدر کوئی نہیں جانتا۔ جس نے ہمیں پیدا کیا، وہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ہیوک نے سوال کیا،
تو کسی لڑکے سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں؟
ماہم نے نرمی سے سر ہلایا۔
اجازت ہے… لیکن صرف ضرورت کے تحت۔
وہ ایک لمحہ رکی، پھر سامنے یونیورسٹی کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی،
جیسے آج کا زمانہ ہے… آپ خود یونیورسٹی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر دفاتر ہیں، ہسپتال ہیں، بازار ہیں۔ اگر کوئی عورت گھر سے نکلتی ہے تو اسے نہ جانے کتنے مردوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی لیے اللہ نے پہلے پردے کا حکم دیا۔
اور جب بات کرنے کی نوبت آئے تو بھی حدود مقرر کر دیں۔
مختصر، ضرورت کی بات…
اور نرم لہجے میں ایسی گفتگو نہیں جس سے سامنے والے کے دل میں کوئی غلط خیال پیدا ہو۔
فاطمہ نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا،
اور اگر بات کیے بغیر کام چل جائے… تو وہی زیادہ بہتر ہے۔
جے کیونگ نے فوراً فاطمہ کی طرف دیکھا۔
تبھی تم ہر وقت اتنی تپتی پھرتی ہو؟
فاطمہ نے بےتاثر لہجے میں جواب دیا،
نہیں… میں ویسے ہی ایسی ہوں۔
اس کے جواب پر ماہم نے ہونٹ بھینچ کر اپنی ہنسی دبائی جبکہ ہیوک نے نظریں جھکا لیں۔
جے کیونگ نے ہلکا سا ماتھا سکیڑا۔
لیکن یہ تو ٹھیک نہیں۔ سامنے والے پر تمہارا کتنا غلط تاثر پڑتا ہوگا۔
فاطمہ نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں…
میں اس کی ذمہ دار نہیں ہوں۔
مجھے صرف یہ فکر ہوتی ہے کہ اللہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے۔
فاطمہ کی آخری بات پر چند لمحوں کے لیے میز پر خاموشی چھا گئی۔
جے کیونگ اس کے چہرے کو دیکھتا رہ گیا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا…
فاطمہ کے لہجے کی سختی میں غرور نہیں تھا۔
بلکہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی ایک عجیب سی مضبوطی تھی۔
چند لمحوں بعد اس نے آہستہ سے پوچھا،
لیکن… اگر کوئی واقعی اچھا انسان ہو تو؟
تب بھی؟
فاطمہ نے بغیر ایک لمحہ سوچے جواب دیا،
اسلام لوگوں کے کردار پر نہیں، رشتوں کی حدود پر حکم دیتا ہے۔
ماہم نے مسکراتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔
بالکل۔
بو سکتا ہے سامنے والا دنیا کا بہترین انسان ہو…
پھر بھی اگر وہ غیر محرم ہے تو وہ غیر محرم ہی رہے گا۔
ہیوک خاموشی سے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔
اس نے دھیرے سے کہا،
یہ بات… میں نے بھی اپنی ریسرچ میں پڑھی تھی۔
اسلام پہلے حدود مقرر کرتا ہے…
پھر انہی حدود کے اندر رہ کر تعلقات رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔
ماہم نے اثبات میں سر ہلایا۔
جی۔۔۔۔کیونکہ انسان ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔
دل بدلنے میں دیر نہیں لگتی…
اسی لیے اسلام اُن راستوں کو بھی بند کر دیتا ہے جو بعد میں گناہ تک لے جا سکتے ہیں۔
جے کیونگ نے میز پر انگلی سے ہلکی ہلکی دستک دیتے ہوئے کہا،
ہماری طرف تو… پہلے دوستی ہوتی ہے…
پھر پسند… پھر ریلیشن شپ…
اور بریک اپ بھی ہوا تو شادی۔
فاطمہ نے سکون سے جواب دیا،
ہمارے ہاں پہلے نکاح…
پِھر ساری زندگی کی دوستی۔
یہ جملہ سن کر ہیوک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
چند لمحوں بعد فاطمہ نے گھڑی پر نظر ڈالی۔
میری اگلی کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔
ماہم نے بھی فوراً اپنا بیگ اٹھا لیا۔
میری بھی۔
جے کیونگ نے بےاختیار کہا،
اتنی جلدی؟
ماہم ہنس دی۔
یونیورسٹی میں کلاسیں ہمارا انتظار نہیں کرتیں۔
ہیوک بھی کھڑا ہو گیا۔
ٹھیک ہے… پھر ہم بھی چلتے ہیں۔
ماہم نے مسکرا کر کہا،
ان شاء اللہ، پھر ملاقات ہوگی۔
اگر آپ لوگ کراچی جانے سے پہلے وقت نکال سکے تو۔
ہیوک نے سر ہلایا۔
ضرور۔
فاطمہ نے مختصر سا کہا،
اللّٰہ حافظ
اس بار جے کیونگ نے فوراً مسکرا کر جواب دیا،
اللہ حافظ…
لفظ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں ایک عجیب سی نرمی آ گئی تھی۔
فاطمہ اور ماہم دونوں مڑ کر اپنی اپنی کلاسوں کی طرف چل دیں۔
جے کیونگ کافی دیر تک اُنہیں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
جب دونوں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو اُس نے آہستہ سے کہا، چلیں؟
ہاں۔
دونوں آہستہ آہستہ کینٹین سے باہر نکل گئے۔
+++++++++++++
یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد دونوں نے قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں لنچ کیا۔ اس کے بعد وقت ضائع کیے بغیر جے کیونگ اپنی طے شدہ لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
شام کے ٹھیک پانچ بجے وہ وہاں پہنچ چکا تھا۔
اگلے دو گھنٹے شوٹ میں گزر گئے۔
شوٹ ختم ہوتے ہی جے کیونگ جیسے ہی باہر نکلا، ہیوک نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس کی طرف دیکھا۔
جو تُو نے کیا ہے… تجھے اندازہ بھی ہے اس کا کیا امپیکٹ پڑ سکتا ہے؟
جے کیونگ نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
دیکھ لیں گے۔
ہیوک نے جھنجھلا کر اسے دیکھا۔
ہر بار ایسا کیوں کرتا ہے تُو؟
جے کیونگ چند لمحے خاموش رہا۔۔پھر ہلکا سا مسکرایا۔
یار…۔مجھے اس وقت نہ آگے کا کچھ دکھائی دے رہا ہے… نہ پیچھے کا…
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر نہایت آہستہ بولا،
مجھے اس وقت۔۔۔ بس فاطمہ کی مسکراہٹ دکھائی دے رہی ہے۔
ہیوک نے چند لمحے اسے خاموشی سے دیکھا۔
پھر ماتھے پر ہاتھ مار کر بولا،
تجھے پتا ہے؟
اس وقت تُو دنیا کا سب سے بڑا پاگل لگ رہا ہے۔
جے کیونگ ہنس دیا۔
فرق نہیں پڑتا۔
ہیوک نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
فرق پڑے گا۔ تیری آج کی اس حرکت کی وجہ سے تیرے کیریئر تک بات جا سکتی ہے۔
سمجھ رہا ہے نا تُو؟
جے کیونگ نے بغیر کسی پریشانی کے جواب دیا،
آنے دے… کس کو فرق نہیں پڑتا ہے۔۔۔
ہیوک نے بےبسی سے لمبی سانس لی۔
اسے اچھی طرح معلوم تھا…
اس وقت جے کیونگ سے بحث کرنا بالکل بےکار تھا۔
کیونکہ جب وہ کسی بات پر دل سے اڑ جاتا تھا…
پھر دنیا کا کوئی شخص اسے بدل نہیں سکتا تھا۔
چند لمحوں بعد جے کیونگ نے سڑک کنارے رکی ہوئی کیب کا دروازہ کھولا۔
بیٹھنے سے پہلے اس نے ایک بار شام کے دھندلکے میں ڈوبتے آسمان کی طرف دیکھا…
اور بےاختیار اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
پھر وہ خاموشی سے کیب میں بیٹھ گیا۔
ہیوک بھی اس کے ساتھ دوسری طرف سے آ کر بیٹھ گیا۔
اگلے ہی لمحے کیب ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئی…
جبکہ دونوں میں سے کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا…
کہ آج لیا گیا ایک فیصلہ…
آنے والے دنوں میں کتنا بڑا طوفان لا سکتا تھا۔۔۔
++++++++++++++
شام ڈھل چکی تھی۔
منیجر سب کو لے کر لاہور کی مشہور عثمان گلی کی طرف آ گیا۔
گلی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔ دونوں طرف پرانی طرز کی دکانیں قطار میں سجی تھیں۔ کہیں ہاتھ سے بنے ہوئے کھسے، کہیں رنگ برنگی چوڑیاں، کہیں لکڑی کی نقش و نگار والی اشیاء، تو کہیں روایتی کپڑوں کی دکانیں۔ ہر طرف خریداروں کا رش تھا اور دکاندار اپنی اپنی آوازیں لگا رہے تھے۔
تائیجون تو پہلے ہی ایک دکان کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔
یہ دیکھو… کتنی چھوٹی چھوٹی جوتیاں!
دکاندار مسکرا دیا۔
صاحب، یہ کھسے ہیں۔
تائیجون نے ایک کھسا ہاتھ میں اٹھا لیا۔
یہ پہنتے کیسے ہیں؟
سیونگ نے فوراً کہا،
پہلے خریدتے ہیں، پھر پہنتے ہیں۔
سب ہنس پڑے۔
ادھر رین یون ایک دکان پر رکھے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑی کے شوپیس دیکھ رہا تھا۔
منیجر اس کے پاس آ کر بولا،
یہاں کی ہینڈی کرافٹس کافی مشہور ہیں۔ اگر کسی کو تحفہ لینا ہو تو یہی بہترین جگہ ہے۔
رین یون نے اثبات میں سر ہلایا۔
واقعی کام بہت خوبصورت ہے۔
ادھر سوہان ایک دکان پر لٹکے رنگ برنگے اجرک نما اسکارف دیکھ کر رک گیا۔
یہ کتنے اچھے ہیں۔
ہان وو بھی اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔
اگر لینا ہے تو لے لے۔
سوہان نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں… بس دیکھ رہا تھا۔
اسی دوران تائیجون ایک اور دکان سے آواز لگانے لگا۔
بھائی! اِدھر آؤ… یہاں تلواریں بھی ہیں!
یہ سن کر منیجر فوراً مڑا۔
تائیجون! صرف دیکھنا… ہاتھ نہیں لگانا۔
اوکے… تائیجون نے منہ بنا لیا۔
سیونگ آہستہ سے بولا،
اسے پانچ منٹ کے لیے اکیلا چھوڑ دو…
یہ پوری گلی خرید لے گا۔
ہان وو نے خشک لہجے میں کہا،
خریدنے کے پیسے نہیں ہیں…
صرف پوچھ پوچھ کر دکانداروں کو تنگ کرے گا۔
یہ سن کر سومین اور سوہان ہنسنے لگے۔
چلتے چلتے سب ایک چھوٹے سے چائے خانے کے سامنے رک گئے۔
مٹی کے برتنوں میں چائے پیش کی جا رہی تھی، اور تازہ الائچی کی خوشبو دور تک پھیلی ہوئی تھی۔
منیجر نے سب کی طرف دیکھا۔
ایک آخری چائے ہو جائے؟
ہاں! سوہان نے سب سے پہلے جواب دیا۔
تائیجون بھی فوراً بولا،
اور ساتھ سموسے بھی!
سب مسکراتے ہوئے چائے خانے کی طرف بڑھ گئے، جبکہ لاہور کی پررونق گلی اپنی مخصوص رونق اور روشنیوں کے ساتھ ان کی یادوں میں ایک اور خوبصورت شام کا اضافہ کر رہی تھی۔۔۔
+++++++++++++++
پورے ٹرپ کے دوران ایک عجیب ہی منظر دیکھنے میں آ رہا تھا۔
سوہان ہر وقت ہان وو کے آگے پیچھے ہی گھوم رہا تھا۔
جہاں ہان وو جاتا، سوہان بھی وہیں پہنچ جاتا۔
اگر ہان وو کسی دکان کے سامنے رکتا تو سوہان بھی وہیں رک جاتا، اور اگر وہ چل پڑتا تو سوہان بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا۔
یہ پہلی بار ہو رہا تھا۔
ورنہ جب بھی وہ کہیں گھومنے آتے، سوہان کبھی تائیجون کے ساتھ ہوتا، کبھی سومین کے ساتھ، اور کبھی خود ہی کسی نئی چیز کے پیچھے نکل جاتا تھا۔
مگر آج… وہ جیسے ہان وو سے چپک ہی گیا تھا۔
آخرکار ہان وو نے تنگ آ کر پوچھ ہی لیا۔
تجھے کیا ہوا ہے؟
اس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
صبح سے میرے آگے پیچھے کیوں ڈول رہا ہے؟
سوہان نے فوراً معصوم سا چہرہ بنایا۔
ویسے ہی…
تمہیں انجوائے کروا رہا ہوں۔
تائیجون، جو ساتھ ساتھ چل رہا تھا، فوراً بولا،
ابے… وہ خود بھی انجوائے کر سکتا ہے۔
سوہان نے بغیر اس کی طرف دیکھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
تو بیچ میں مت بول۔
اور سوہان نے واقعی اسے ہلکا سا دھکا دے کر پیچھے کر دیا۔
پیچھے ہو۔
پھر اس نے سومین کو پکڑ کر آگے کر دیا۔
تو یہاں چل…
مگر اگلے ہی لمحے کچھ سوچ کر سر ہلایا۔
نہیں… تُو ہان وو کے لیفٹ سائیڈ آ جا۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ ہان وو کے بائیں طرف رین یون چل رہا تھا۔
سوہان فوراً رین یون کی طرف مڑا۔
بھائی… یار تُم پیچھے جاؤ۔۔۔ اپنے دوست کے پاس۔۔۔
یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ سے پیچھے سیونگ کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔
رین یون چند لمحے اسے گھورتا رہا۔
تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟ یہ کیا کر رہے ہو؟
ہان وو نے بیزاری سے پھر کہا
مجھے باڈی گارڈ کی ضرورت نہیں ہے۔
تائیجون نے موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
ابے، باڈی گارڈ کو تو دیکھو!
اس نے سوہان کی طرف اشارہ کیا۔
اس باڈی گارڈ کو خود ایک باڈی گارڈ کی ضرورت ہے۔
سوہان نے غصے سے اسے گھورا۔
تو چپ! بیچ میں ایک دم مت بولا کر!
اس کی آواز اس بار واقعی اونچی تھی۔
تائیجون بھی ایک لمحے کو چونک گیا۔
سیونگ نے پیچھے سے حیرانی سے دونوں کو دیکھا۔
یار، سوہان… ہوا کیا ہے تجھے؟
ہان وو نے بےبسی سے سر ہلاتے ہوئے اس کا بازو پکڑا۔
آ جا… میرے ساتھ ہی چل۔ پھر آہستہ سے بولا،
لیکن ایسے تپتی دھوپ کی طرح ٹاپ مت۔۔۔
سومین، جو اب تک خاموش تھا، ہان وو کے قریب آیا اور معنی خیز انداز میں بولا،
دیکھ لے ہان وو… تو نے سوہان کے ساتھ ایسا ویسا تو کچھ نہیں کر دیا… جو نہیں کرنا چاہیے تھا؟
وہ دراصل ہان وو کو اشارہ دینا چاہ رہا تھا، مگر ہان وو کچھ سمجھا ہی نہیں۔
نہیں تو… میں کیا کروں گا؟
تائیجون فوراً ہنس پڑا۔
ارے اس نے کچھ نہیں کیا۔
پھر سوہان کی طرف دیکھ کر بولا،
یہ خود ہی دماغ سے پیدل ہو گیا ہے۔
آج کل نہ…
اس کی ہان وو کے لیے بہت زیادہ وہ والی محبت جاگ رہی ہے۔
سومین نے فوراً حیرت سے پوچھا،
وہ والی…؟
ہان وو بھی چونک گیا۔
کون سی والی؟
سوہان نے گھبرا کر رین یون کی طرف دیکھا۔
بھائی! اسے چپ کرواؤ!
تائیجون نے سینے پر ہاتھ باندھ لیے۔
نہ نہ نہ… یہ ماؤتھ کبھی نہ ہوگا لاک۔۔
رین یون نے چند لمحے سوہان کو غور سے دیکھا، پھر سنجیدگی سے پوچھا،
ہوا کیا ہے تمہیں؟
سوہان نے فوراً نظریں چرائیں۔
کچھ نہیں ہوا مجھے۔
رین یون نے بھنویں سکیڑ لیں۔
کچھ تو ہوا ہے۔
صبح سے تمہاری حرکتیں بالکل نارمل نہیں ہیں۔
سیونگ بھی بات میں شامل ہو گیا۔
پہلے ہمیں ناشتے کی میز پر چیخا تُم نے ہان وو کو لے کر۔۔۔
اب ہان وو کے ساتھ ایسے چپکے ہوئے ہو جیسے کہیں بھاگ نہ جائے۔
تائیجون نے فوراً موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
مجھے تو لگتا ہے… اسے ہان وو پر کرش آ گیا ہے۔
ہاہاہاہا…
چپ!
سوہان تقریباً چیخا۔ بکواس مت کر!
ہان وو نے بےزاری سے تائیجون کو دیکھا۔
فضول باتیں مت کیا کر۔
تائیجون نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
اچھا جی… میں تو مذاق کر رہا تھا۔
رین یون نے دوبارہ سوہان کی طرف دیکھا۔
تو پھر اصل بات کیا ہے؟
کچھ تو ہے…
سوہان نے جلدی سے مسکرا کر کہا،
ارے بھائی…
دل کیا کہ آج ہان وو کے ساتھ ساتھ گھوموں، بس۔
سیونگ نے مشکوک انداز میں سر ہلایا۔
نہیں… بات صرف اتنی نہیں ہے۔
سومین نے فوراً نظریں جھکا لیں تاکہ کہیں ہنسی نہ نکل جائے۔ وہ جانتا تھا… اصل بات کیا تھی۔
لیکن اُس نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔
ادھر ہان وو نے بھی زیادہ سوال کرنا مناسب نہ سمجھا۔
اس نے آہستہ سے سوہان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
چل… اب اتنا ساتھ رہنا ہے تو کم از کم نارمل انسانوں کی طرح چل۔
سوہان فوراً خوشی سے اس کے برابر آ کر چلنے لگا۔
یہ دیکھ کر تائیجون نے ایک لمبی آہ بھری۔
یار… اس کا تو واقعی کچھ علاج کرواؤ۔
یہ دن بہ دن مزید عجیب ہوتا جا رہا ہے۔
یہ سن کر سب ہنس پڑے۔
صرف سوہان خاموش رہا…
کیونکہ اس کے ذہن میں اب بھی ایک ہی بات گھوم رہی تھی۔
بس ہان وو کو اکیلا نہیں چھوڑنا…
کہیں موقع ملتے ہی فاطمہ سے ملنے نہ نکل جائے…
اور حسبِ معمول…
وہ ایک بار پھر اپنی غلط فہمی کو پوری ایمانداری سے سچ مان بیٹھا تھا۔
+++++++++++++
رات کے آٹھ بج رہے تھے۔
ہوٹل کے کمرے میں صرف جے کیونگ اور ہیوک موجود تھے۔ دونوں کب سے باقی سب کا انتظار کر رہے تھے، مگر ابھی تک کسی کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔
ہیوک نے بستر پر الٹا لیٹتے ہوئے لمبی سانس بھری۔
لگتا ہے آج یہ لوگ ہمیں ترسا ترسا کر ہی ماریں گے۔
جے کیونگ نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
کیوں؟
یہ نہیں ہوا کہ ہم ہوٹل میں اکیلے ہیں تو ہمارا بھی کچھ خیال کر لیں۔ اس نے منہ بنایا۔ لیکن نہیں… خود مزے سے گھوم رہے ہوں گے۔
جے کیونگ ہنس دیا۔
تجھے ان کی یاد آ رہی ہے؟
ہیوک نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
یاد نہیں آ رہی۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
میں تو بس یہ سوچ رہا ہوں کہ اس وقت وہاں ان سب کو کتنا مزہ آ رہا ہوگا۔
جے کیونگ بھی مسکرا دیا۔
ہاں… یہ تو ہے۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر جیسے اسے اچانک کچھ یاد آیا۔
اچھا سن…
ہمم؟
تو نے مجھے کبھی بتایا ہی نہیں۔
ہیوک نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
کیا نہیں بتایا؟
یہی کہ تُو اسلام کے بارے میں سرچ بھی کرتا ہے۔
جے کیونگ نے حیرت سے کہا۔
اور یہ ابھی شروع کیا ہے… یا پہلے سے؟
ہیوک نے سکون سے جواب دیا۔ پاکستان کا ٹرپ شروع ہونے کے بعد سے۔
جے کیونگ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اوئے چھپا رستم!
اتنا کچھ کرتا رہا… اور ہمیں خبر تک نہیں ہوئی؟
مطلب ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتا تھا!
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
انٹروورٹ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
ہر چھوٹی بڑی بات کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔
جے کیونگ نے بھنویں سکیڑیں۔
لیکن ہم تو تیرے دوست ہیں۔
ہیوک نے چند لمحے خاموش رہ کر دھیرے سے کہا،
ہمم… دوست تو ہو…
اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جسے جے کیونگ پوری طرح سمجھ نہ سکا۔
اس نے بات بدل دی۔
اچھا یہ بتا…
اسلام کے بارے میں اتنی ریسرچ کیوں کر رہا ہے؟
ماہم سے ملنے کے بعد شروع کیا؟
ہیوک نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، اُس سے ملنے کے بعد۔
پھر اس کی نظریں کہیں کھو گئیں۔
اور ابھی بھی ختم نہیں ہوئی۔
میں اُس کے پورے مذہب کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔
جے کیونگ نے حیرانی سے پوچھا،
کیوں؟
ہیوک نے فوراً جواب نہیں دیا۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا،
اُٹھ۔
جے کیونگ نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
اُٹھوں کیوں؟
ہیوک بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔
بس آ… ونڈو کے پاس چل۔
دونوں اٹھ کر کھڑکی کے پاس آ گئے۔
نیچے سڑک پر زندگی اپنی رفتار سے رواں تھی۔ گاڑیاں ایک کے بعد ایک گزر رہی تھیں، دکانوں پر لوگ خریداری میں مصروف تھے، کہیں بچے دوڑ رہے تھے تو کہیں چائے کے ہوٹلوں پر لوگ بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔
ہیوک نے شیشے سے باہر اشارہ کیا۔
وہ دیکھ…
جے کیونگ نے اس کی انگلی کے رخ پر نظر دوڑائی۔
سڑک کے دوسری طرف قطار میں چار درخت کھڑے تھے۔
ہیوک نے پوچھا،
دیکھ رہا ہے؟
ہاں۔
یہ چاروں درخت ایک جیسے لگ رہے ہیں نا؟
جے کیونگ نے غور سے دیکھا، پھر سر ہلایا۔
ہاں… بالکل ایک جیسے۔
ہیوک نے آہستہ سے کہا،
اب مان لے… ان میں سے صرف ایک درخت اصلی ہے۔
اور باقی؟
باقی تین… نقلی ہیں۔
جے کیونگ نے کندھے اچکا دیے۔
ٹھیک ہے، مان لیا۔
ہیوک نے فوراً پوچھا،
اتنی آسانی سے کیسے مان لیا؟
جبکہ چاروں تو ایک جیسے ہی نظر آ رہے ہیں۔
جے کیونگ ہنس پڑا۔ ابے۔۔۔
ہیوک نے دوبارہ باہر اشارہ کیا۔
اچھا، اب سیریز۔۔۔ مان لے اس میں سے پہلا والا درخت اصلی ہے۔
ٹھیک ہے۔
اور باقی سب نقلی ہیں۔
ٹھیک ہے۔
اور یہ بات نہ ہی مُجھے پتہ ہے نہ تُجھے، کہ کونسا اصلی ہے۔۔۔ میں نے وہ بس تُجھے مثلاً دی ہے کہ ایک اصلی ہے۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔
ہیوک نے اب اس کی طرف دیکھا۔
لیکن ہمیں پتا کیسے چلے گا کہ کون سا اصلی ہے؟
جے کیونگ نے بھی سوالیہ انداز میں کہا،
کیسے؟
ہیوک نے ایک لمحہ خاموش رہ کر پوچھا،
اگر ابھی میں کہہ دوں کہ دوسرا والا اصلی ہے۔
تو کیا تُو میری بات مان لے گا؟
جے کیونگ نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
ہرگز نہیں۔
کیوں؟
کیونکہ مجھے یہی سوال آئے گا…
اس نے ہیوک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
کہ تجھے کیسے پتا؟
ہیوک کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
پھر تُو کیا کرے گا؟
جے کیونگ نے بغیر سوچے جواب دیا،
جا کر خود دیکھوں گا۔
دور سے تو سب ایک جیسے لگ رہے ہیں…
قریب جا کر ہی پتا چلے گا کہ اصلی کون سا ہے اور نقلی کون سا۔
ہیوک نے آہستہ سے سر ہلایا۔
Exactly…
پھر اس نے کھڑکی سے باہر نظریں جما دیں۔
اسلام کو بھی میں نے ابھی تک دور سے ہی دیکھا ہے… کچھ خود پڑھا… کچھ ماہم کی زبان سے سنا…
لیکن اب…
اس نے گہری سانس لی۔
میں قریب جا کر دیکھنا چاہتا ہوں۔
یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ واقعی سچ کہہ رہی تھی یا نہیں۔
جو کچھ وہ بتاتی ہے…
وہ واقعی اسلام ہے یا صرف اس کی اپنی سوچ۔
جے کیونگ چند لمحوں تک خاموش رہا۔
پھر دھیرے سے بولا،
اوہ
اب اس کی بات پوری طرح سمجھ آ چکی تھی۔
اس نے مسکرا کر ہیوک کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اب سمجھ گیا…
ہیوک بھی مسکرا دیا۔
اسی لیے میں کسی کی بات پر اندھا یقین نہیں کرتا… نہ ماننے سے پہلے انکار کرتا ہوں… اور نہ سننے کے بعد فوراً مان لیتا ہوں…میں پہلے خود جا کر دیکھتا ہوں… پھر فیصلہ کرتا ہوں۔
جے کیونگ نے اثبات میں سر ہلایا۔
اچانک اسے ہان وو کی وہ بات یاد آگئی…
جب اُس نے بائبل کے بارے میں کہا تھا۔۔۔
جے کیونگ بےاختیار سوچنے لگا۔
ہان وو کی بات بھی میں صرف سن نہیں سکتا…
مجھے خود بھی تلاش کرنا ہوگا…
خود قریب جا کر دیکھنا ہوگا…
ضروری تو نہیں… جو کوئی مجھے بتا رہا ہے، وہ سب سچ ہی ہو۔
کسی پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے…
خود حقیقت تک پہنچنا زیادہ ضروری ہے۔
کہاں کھو گیا؟
ہیوک کی آواز نے اس کے خیالات کا سلسلہ توڑ دیا۔
جے کیونگ چونک کر اس کی طرف مڑا۔
ک… کچھ نہیں۔
پھر اس نے گھڑی پر نظر ڈالی اور ہلکی سی بےزاری سے کہا،
یہ لوگ بھی نہ… پتہ نہیں کہاں رہ گئے۔
ہیوک نے بھی باہر جھانکتے ہوئے آہ بھری۔
ہاں نا…
ایسا لگ رہا ہے جیسے آج واپس آنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں ہے۔
دونوں پھر خاموشی سے کھڑکی کے پاس کھڑے شہر کی جگمگاتی روشنیوں کو دیکھنے لگے،
+++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
