داستانِ عشق (از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱
رات کا سناٹا ہر سو چھایا ہوا تھا
تاریکی اپنی پوری شدت کے ساتھ زمین پر بکھری ہوئی تھی
وہ گاڑی کے اسٹیئرنگ پر مضبوطی سے ہاتھ جمائے سڑک پر نظریں گاڑے منزل کی طرف رواں دواں تھا
اس کے چہرے پر وہی بےنیازی تھی جو ہمیشہ اس کے مزاج کا حصہ رہی تھی
اچانک ایک جھٹکا لگا اور گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی
اُس کے ماتھے پر ناگواری کی شکنیں ابھریں
وہ غصے میں بڑبڑایا
اب اس منحوس کو کیا ہوا؟
وہ خود سے ہمکلام ہوتا گاڑی سے اتر کر اس نے انجن چیک کرنے کی کوشش کی
گرد و پیش میں مکمل سناٹا تھا
سڑک کے دونوں طرف اندھیری رات کا سایہ پھیلا تھا
کہیں دور کوئی آوارہ کتا بھونکنے لگا اور پھر اچانک خاموشی چھا گئی
اب کے وہ جیب سے اپنا فون نکالتا اور کسی کو کال کرنے کی کوشش کرنے لگا
ایسے میں اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ ضرور پریشان ہوجاتا کیونکہ کار کا انجن بھی خراب ہوچکا تھا اور پٹرول بھی ختم ہوچکا تھا
لیکن وہ ہمدان ملک تھا جس نے لوگوں کو پریشان کرنا سیکھا تھا خود پریشان ہونا نہیں سیکھا
وہ ابھی اپنے فون پر ہی مصروف تھا کہ اچانک سے کسی نے اس کا بازو آکے پکڑ لیا
کون ہے؟
وہ ایک جھٹکے سے پلٹا
سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی
بڑی معصوم اور سہمی ہوئی آنکھیں جو آنسوؤں سے لبریز تھیں
پلیز میری مدد کریں!
اس نے لرزتی آواز میں کہا
وہ ایک نظر اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا
سرخ رنگ کا لہنگا پہنے
ہاتھوں میں اتنی ساری چوڑیاں
کانوں میں بڑے بڑے جھمکے
یہی نہیں ناک میں فل سائز کی نَت بھی پہن رکھی تھی اس نے
آپ سن رہے ہیں مُجھے؟ میری ہیلپ کریں پلیز
اُس نے پھر سے التجا کی
لگتا ہے شادی سے بھاگی ہے یہ
وہ اس کا حلیہ دیکھ کر سمجھ گیا اور دل ہی دل میں اپنے آپ سے مخاطب ہوا
پلیز میری ہیلپ کریں
وہ بہت بےبس نظر آرہی تھی
دُور ہٹو مُجھ سے!
وہ ایک جھٹکے سے اُس کو دور دھکیلا جس سے بمشکل ہی وہ لڑکی گرتے گرتے بچی
تُم جیسی لڑکیوں کو میں اچھے سے جانتا ہوں
ہینڈسم لڑکا دیکھا نہیں پیچھے پڑ گئیں
لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے مگر ہمدان ملک کی سختی کم نہ ہوئی
اپنے باپ کی عزت کا کوئی خیال نہیں تمہیں
تم جیسی ہی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے باقی شریف لڑکیاں بدنام ہیں
وہ اسے کھڑے کھڑے سنا رہا تھا اور وہ بالکل رو دینے والی تھی
نہیں کر رہا میں تمہاری مدد
دفع ہو جاؤ!
وہ سرد لہجے میں گویا ہوا جیسے اُس کی آنکھوں میں ترستی ہوئی آنکھوں کا کوئی اثر نہ ہو
جیسے رحم کا کوئی جذبہ دل کے آس پاس سے بھی نہ گزرا ہو
لڑکی نے ایک لمحے کو ساکت ہو کر اُسے دیکھا
ایک ایسی نظر سے جس میں شکوہ بھی تھا سوال بھی اور کہیں نہ کہیں ایک ان کہی کہانی کا بوجھ بھی
اُس کی پلکیں نم تھیں لب کانپ رہے تھے اور بدن تھرتھرا رہا تھا
مگر اُس کے قدموں نے پیچھے ہٹنے میں دیر نہ کی
وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس اُسی سڑک کی جانب پلٹی جہاں سے آئی تھی
سناٹے سے بھری خوف سے لدی ہوئی تاریک سڑک
ہمدان ملک نے ایک پل کو سر جھکایا
جیسے کچھ لمحے کے لیے ضمیر نے دستک دی ہو
مگر وہ پھر سے فون اسکرین پر نظریں جما کر خود کو دنیا سے کاٹنے لگا
مگر اگلے ہی لمحے جیسے کوئی خیال زنجیر کی طرح اُس کے دل سے لپٹ گیا
اُس نے چونک کر سر اُٹھایا
ایک بےنام سی بےچینی نے اُس کے اندر کروٹ لی
اُس نے تیزی سے قدم بڑھائے سڑک کے اُس حصے کی طرف جہاں وہ لڑکی گئی تھی
اور پھر
اُس کی آنکھوں کے سامنے کا منظر لمحے بھر کو اُسے جیسے منجمد کر گیا
چند خوفناک چہرے
اجڑے ہوئے کپڑے پہنے
بدن پر خنجر اور چھریاں لٹکائے ہوئے چار بدذات لوگ اُس لڑکی کو گھسیٹتے ہوئے ایک وین کی طرف لے جا رہے تھے
لڑکی چیخنا چاہ رہی تھی مگر آواز جیسے حلق میں اٹک کر رہ گئی تھی
وہ تڑپ رہی تھی
مزاحمت کر رہی تھی
مگر کمزور بازو وحشی طاقت کے آگے ناتواں ثابت ہو رہے تھے
اور تب
ہمدان ملک کا دل جیسے ایک پل میں بدل گیا
رُکو!
وہ پکارا مگر دیر ہو چکی تھی
لڑکی کو زبردستی گاڑی میں دھکیل دیا گیا تھا
گاڑی کے دروازے بند ہو چکے تھے
انجن کی گھڑگھڑاہٹ سنائی دی اور وین آگے بڑھنے لگی
ہمدان ایک قدم آگے بڑھا کچھ کرنے کا ارادہ تھا — لیکن
ٹرن ٹرن
ٹرن ٹرن
فون کی رِنگ ٹون اُسے پھر سے واپس اُس دنیا میں کھینچ لائی
جہاں وہ جذبات سے الگ حقیقت میں جیتا تھا
وہ چونک کر رُکا
فون کان سے لگایا
ہاں میری گاڑی خراب ہو گئی ہے
اُس کی آواز میں اب وہ سرد مہری نہیں تھی
نہ ہی وہ بےنیازی جو کچھ لمحے پہلے اُس کی پہچان تھی
آواز میں ایک عجیب سی کھویا ہوا پن تھا
جیسے ضمیر کی زمین ہل چکی ہو
جیسے اندر کچھ ٹوٹ کر خاموش ہو گیا ہو
+++++++++++
وہ لمبے لمبے قدموں سے پرنسپل کے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا
قدموں میں نہ کوئی ہچکچاہٹ تھی نہ آنکھوں میں کوئی گھبراہٹ
بس وہی خاص سنجیدگی وہی بےنیازی جو ہمیشہ اس کے وجود کے ساتھ چپکی رہتی تھی
راہداری کے ایک موڑ پر دو لڑکے اچانک اس کے سامنے آ کھڑے ہوئے
کیا بھائی تمہیں کوئی کام نہیں ہوتا؟ پرنسپل نے بلایا اور تم چلے آئے؟ حد ہے قسم سے۔ کسی کو اتنا بھی فرق نہیں ہونا چاہیے!
ایک لڑکے کی زبان تھی یا مشین گن؟ تیز تند اور مسلسل چلتی ہی جا رہی تھی
دوسرا اُس کے پیچھے کھڑا اُس کی ہر بات پر سر ہلا رہا تھا جیسے وہ اپنا کردار صرف ہم آواز بن کر نبھا رہا ہو
وہ رکا ایک لمحے کو ان کی طرف دیکھا پھر سنجیدہ لہجے میں بولا
ابھی پرنسپل سے مل کر آتا ہوں پھر تم دونوں کو بتاتا ہوں
ایک ہاتھ جیب میں چہرے پر وہی پرسکون سرد مہری — جیسے دنیا کا کوئی معاملہ اسے چھو بھی نہیں سکتا
یار بھائی قسم سے میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا!
یہ وہی دوسرا لڑکا تھا جو اب ہڑبڑا کر بولا
پہلا لڑکا فوراً اس کے کان کے قریب آیا سرگوشی میں غرایا
اوے صبر کر جا! اتنی جلدی سچ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟
وہ دونوں کی باتوں کو نظر انداز کرتا ہوا آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ پہلا لڑکا ایک بار پھر اس کے سامنے آ گیا
ایسے تھوڑی ہوتا ہے بھائی! اتنا آسان نہیں ہے ریحان ملک کو چکما دے کر نکل جانا!
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اکڑ کر کھڑا تھا جیسے کوئی میدان جنگ میں دشمن کے سامنے صف بندی کر رہا ہو — مگر بھول گیا تھا کہ جس کے سامنے وہ کھڑا ہے اُس کے آگے اُس کی خود کی کبھی نہیں چلتی تھی
سامنے سے ہٹو ریحان۔ مجھے غصّہ مت دلاؤ۔ میں ویسے ہی ایک اہم میٹنگ چھوڑ کر آیا ہوں
اُس کا لہجہ ہمیشہ کی طرح سخت اور سنجیدہ تھا
بس یہی بات تمہیں پرنسپل سر کو کہنی چاہیے تھی! یہ تم مجھے کہہ رہے ہو؟
اب دوسرا لڑکا بھی پوری دلچسپی سے منظر دیکھ رہا تھا جیسے کوئی فلم شروع ہو چکی ہو
چلو پرنسپل سے سننے سے پہلے تم دونوں سے ہی سن لیتا ہوں۔ کیا گل کھلایا ہے؟
اب دونوں کی بولتی بند ہو گئی
مگر جب خاموشی کچھ زیادہ ہی طول پکڑنے لگی تو ایک نے ہمت کی
بس وہ…
دوسرا بولنے لگا تو ریحان نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
رک جا! میں بتاتا ہوں
جلدی کرو۔ ٹائم نہیں ہے
وہ… بس زیادہ کچھ نہیں کیا… وہ…
اب ریحان بولنے میں ڈر رہا تھا
جو کسی سے نہیں ڈرتا تھا وہ اپنے بھائی سے بہت ڈرتا تھا
بولو بھی؟
اُس نے ریحان کو گھورا
وہ… ہم نے اسائنمنٹ غلط بنایا تھا
اُس نے آخر کہہ ہی ڈالا
اچھا! اور صرف اسائنمنٹ غلط بنانے کی وجہ سے مُجھے کال آئی نہ؟ ہٹو اب اندر جانے دو مُجھے
وہ یہ کہتا دونوں کو پیچھے ہٹاتا آفس کی طرف بڑھ گیا
وہ اندر جا چکا تھا
پیچھے وہ دونوں لڑکے سر جھٹک کر کھڑے رہ گئے
اب کیا ہوگا؟
ایک نے دھیمی آواز میں پوچھا
کچھ نہیں بھائی سے معافی مانگ لیں گے۔ چل جب تک وہ اندر ہیں کنٹین چلتے ہیں
دوسرے نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے ساتھ لے لیا
+++++++++
کمرے میں مدھم سرخ روشنی پھیلی ہوئی تھی
ہوا میں عطر پسینے اور بیڑی کے دھوئیں کی ملی جلی بُو گھل رہی تھی
دیواروں پر پرانے بھڑکیلے پردے لٹک رہے تھے جو وقت کے ساتھ اپنی چمک کھو چکے تھے
فرش پر ایک لڑکی بے بسی سے پڑی تھی
اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے
ہونٹ خشک اور زخموں سے سجے تھے
آنکھوں میں خوف کی گہری پرچھائیاں تھیں جیسے کوئی پرندہ پنجروں میں پھڑپھڑا رہا ہو
سامنے دو عورتیں کھڑی تھیں
دونوں کے چہروں پر سنگدلی اور بے رحمی کے واضح آثار تھے
ایک کے ہاتھ میں بید کی چھڑی تھی جو بار بار ہوا میں لہرا کر دھمکی دے رہی تھی
جبکہ دوسری کی انگلیوں میں سگریٹ پھنسی تھی جس سے اٹھتا ہوا دھواں کمرے کے بوجھل ماحول کو مزید خوفناک بنا رہا تھا
ناچنے کے لیے کہہ رہے ہیں سنائی نہیں دے رہا؟
پہلی عورت نے اس کی کلائی کھینچ کر جھٹکا دیا
زخمی لڑکی کراہتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اس کے نازک جسم پر لگے نیل اسے مزید تکلیف دے رہے تھے
دوسری عورت نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ سختی سے پکڑا اور سرگوشی میں بولی
یہ کوٹھا ہے یہاں آنکھوں میں خواب نہیں قدموں میں ساز ہوتے ہیں۔ جب طبلہ بجے گا تمہیں ناچنا ہوگا
لڑکی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے
اس نے نفرت سے سر جھٹک دیا جیسے اپنی بغاوت کا آخری اظہار کر رہی ہو
مگر یہی لمحہ اس پر بھاری پڑا
اگلے ہی لمحے چھڑی کی تیز چوٹ اس کی کمر پر پڑی اور وہ تکلیف سے چیخ پڑی
اب بھی ضد کرے گی؟
پہلی عورت غرائی
دوسری نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سگریٹ کا دھواں اس کے چہرے پر پھینکا اور کہا
یہاں درد کے ساتھ جینا سیکھو ورنہ درد ہی تمہیں ختم کر دے گا
لڑکی نے بے بسی سے دروازے کی طرف دیکھا جو بند تھا ہمیشہ کی طرح
پھر پردے کے پیچھے سے آتی موسیقی کی آواز سنائی دی
وہی بے روح ساز
وہی زبردستی کا رقص
وہی کہانی جو روز لکھی جاتی تھی مگر کبھی ختم نہیں ہوتی تھی
+++++++++++++
وہ ابھی پرنسپل صاحب کے آفس میں کرسی پر بظاہر پُرسکون انداز میں بیٹھا تھا
کمرے میں ایک گونجتی خاموشی تھی جسے صرف دیوار پر چلتی گھڑی کی ٹک ٹک توڑ رہی تھی
یہ دیکھیے سر
پرنسپل صاحب نے میز کی دوسری جانب رکھے فائل کی جلد کھولی
آپ کے بھائی کا کارنامہ
اُس کی آنکھوں میں کوئی حرکت نہ ہوئی
چہرہ ساکت رہا
لیکن پرنسپل صاحب کی آواز میں دبی دبی تشویش تھی
آپ کے بھائی نے جو لکھا ہے وہ محض گستاخی نہیں ہے۔ یہ دھمکی ہے توہین ہے اور شاید بہت کچھ
اُس نے آہستگی سے فائل کی طرف ہاتھ بڑھایا
اور پھر اس نے پڑھنا شروع کیا
سر جی یہ آپ کے نام۔۔۔
مجھے کیا لگتا ہے سر؟ آپ نہ بہت معصوم ہیں۔۔۔
پتا ہے کیوں؟ کیونکہ آپ ریحان ملک کو جانتے ہی نہیں۔۔۔
میں اس ملک کے وزیراعظم سے بھی زیادہ خطرناک ہوں۔۔۔
لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں کچھ تو خاص بات ہے نا مجھ میں۔۔۔
ارحان کی پلکیں جھپکیں پہلی بار
سانس تھوڑا سا گہرا ہوا
اس کے دل میں کچھ چبھا
اگر آپ کو یہ بات پتا ہوتی تو آپ ریحان ملک کو کبھی ذلیل نہیں کرتے وہ بھی ایسے سب کے سامنے۔۔۔
اور اگر آپ کو جاننا ہے تو ایک دفعہ مجھ سے باہر ملے۔
وہ کیا ہے نا یونیورسٹی میں آپ میرے سر ہیں۔۔۔
اور میرے بھائی کہتے ہیں سر کی عزت کیا کرو۔۔۔
تو میں یونیورسٹی میں آپ کے ساتھ کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔
ہاں مجھ سے باہر ملے پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ ریحان ملک کس بلا کا نام ہے۔۔۔
بس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کچھ بُرا نہ ہو۔۔۔
تو اب تو ریحان ملک کی عزت کرنی پڑے گی۔۔۔
اور ہاں اب یہ سب دیکھنے کے بعد میرے بھائی کو آفس بلانے والی حرکت مت کیجیے گا۔۔۔
صرف ایک سوری کہیے اور بات یہیں ختم
ورنہ یہ بات کبھی ختم نہیں ہوگی۔۔۔
پرنسپل صاحب خاموش تھے جیسے ان کے پاس اب کچھ کہنے کو بچا ہی نہ ہو
انہوں نے بقیہ بچوں کی اسائنمنٹ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
یہ صرف ریحان کی نہیں ہے۔ پوری کلاس میں یہی لکھا ہے
اور ہمیں معلوم ہے اُن بچوں سے یہ کس نے اور کیسے لکھوایا
کمرے میں ایک سناٹا اتر آیا تھا
++++++++++
پردے کے پیچھے سے آتی موسیقی اب تیز ہو چکی تھی
طبلے کی تھاپ میں وہی وحشت تھی جو اُس کے دل کی دھڑکن میں اتر چکی تھی
ہر دھڑکن چیخ تھی ہر تھاپ ایک زنجیر
دروازے کے باہر شور بڑھتا جا رہا تھا — قہقہوں کی گونج گھنگھروؤں کی جھنکار اور کچھ بگڑی ہوئی آوازیں جو ناموں کے ساتھ قیمتیں لگا رہی تھیں
نئی آئی ہے؟ چہرہ چھپا ہے دل دُکھا ہے؟ قیمت بتاؤ جذبہ نہیں دیکھنا ہمیں جسم دیکھنا ہے
اندر بیٹھے اس پرندے کی سانسیں اب تیز ہو گئی تھیں
پسینے اور دھواں درد اور رقص سب ایک مٹی کی گڑیا پر بوجھ بن چکے تھے
اٹھ
پہلی عورت نے جھک کر اس کا بازو پھر سے کھینچا
لڑکی کے بدن سے جیسے ہڈیوں کا شور بلند ہوا
یہاں رونا نہیں نچنا آنا چاہیے اگر ہنر نہیں تو تکلیف کو ہنر بنانا سیکھو
لڑکی نے گردن اٹھا کر پہلی بار آنکھیں کھولیں — وہ آنکھیں جو کسی وقت نیلے آسمان کی طرح روشن رہی ہوں گی اب اندر ہی اندر کسی خالی قبر کی طرح گہری اور سیاہ ہو چکی تھیں
اس نے پہلی بار لب کھولے آواز بہت دھیمی تھی جیسے کوئی لفظ بھی اس ماحول میں گناہ ہو
جسم بیچ دینا نجات ہے؟
دوسری عورت ہنسی ایک کھوکھلی زہریلی ہنسی
یہاں سوال کرنے کی اجازت نہیں جو سوال کرتی ہیں اُن کے وجود مٹا دیے جاتے ہیں تم ابھی باقی ہو مت باقی رہنے کی غلطی کرو
ایک لمحہ خاموشی کا آیا پھر دروازہ کھلا — روشنی کی ایک کرن اندر جھانکی اور فوراً باہر دھکیل دی گئی
ریمل جہاں آرا اندر داخل ہوئی
وہ نیلے مخملی لہنگے میں ملبوس تھی جس پر چاندی کا باریک کام جگمگا رہا تھا
چہرہ ایک طرف سے دوپٹے سے ڈھکا ہوا تھا اور اُسی کنارے سے کاجل بھری آنکھ جھانک رہی تھی — ادھ کھلی ادھ کہی
چھوڑ دے اس کو روم نمبر نو کی ماہ جبین تیار ہو چکی ہیں اُسے لے جا اسے میں سنبھال لوں گی
وہ بولی اور وہ دونوں عورتیں سر خم کر کے نکل گئیں
لڑکی نے اپنی سیاہ آنکھیں اٹھا کر ریمل کو دیکھا
میں مر جاؤں گی لیکن وہ کام نہیں کروں گی جو تُم لوگ چاہتے ہو
ریمل نے کہا
دیکھ تُجھے میں ہر دفعہ یہاں سے بھگا چکی ہوں ایک دفعہ اور بھگا رہی ہوں
پھر اُس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے
خدا کا واسطہ ہے اب واپس نہ آنا بھاگ جانا ہر بار ریمل جہاں آرا تُجھے یہاں سے نہیں بھگائے گی
ریمل جہاں آرا دروازہ ہلکا سا کھول کر وہاں سے نکل گئی
آگے کا راستہ وہ لڑکی اچھے سے جانتی تھی
+++++++++++++
وہ دونوں کینٹین کے ایک کونے میں بیٹھے تھے
دنیا سے بے خبر
کوک کی بوتل ہاتھ میں لیے
بے ساختہ قہقہے لگاتے اپنی باتوں میں مگن تھے
سب کچھ معمول میں تھا جب ایک لڑکا ہانپتا ہوا اُن کے پاس آیا
بھائی… وہ… تمہارے بھائی چلے گئے
ریحان نے چونک کر اُسے دیکھا
کیا مطلب چلے گئے؟
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ یونیورسٹی سے باہر جا رہے تھے
دوسرے لڑکے کا چہرہ یکدم سنجیدہ ہو گیا
بھائی بنا کچھ بولے ہی چلے گئے؟ غصہ بھی نہیں کیا؟
ارے یار میٹنگ میں جانا ہوگا گھر جا کر غصہ نکالیں گے
ریحان نے ہلکے سے مسکرا کر بات ختم کرنا چاہی لیکن کچھ تھا جو دل کے کسی کونے میں چپ سا بیٹھ گیا تھا
مجھے ڈر لگ رہا ہے ریحان اُس نے آہستگی سے کہا
بھائی کا کوئی میٹنگ ہم سے زیادہ ضروری نہیں ہو سکتا کچھ تو بات ہے
ریحان نے ایک پل کو اُسے دیکھا
وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اُس کے فون کی اسکرین روشن ہوئی
رُک جا اُس نے کہا اور کال اُٹھا لی
دوسری طرف مکمل خاموشی تھی
ہیلو؟ ریحان نے دوبارہ کہا
خاموشی
جیسے کوئی سانس روک کر سن رہا ہو پر کچھ بول نہیں رہا
ابے کون ہے؟ بول بھی! وہ جھنجھلا کر چلایا
لیکن اگلے ہی لمحے کال کٹ گئی
ریحان نے فون کو غور سے دیکھا جیسے اس کی اسکرین پر کوئی جواب چھپا ہو
عجیب… اُس کے لبوں سے بےاختیار نکلا
کون تھا؟
پتا نہیں ریحان نے آہستہ سے کہا
تیرا کوئی دوست ہی ہوگا
ہاں چھوڑ دے ریحان نے کاندھے اُچکا کر بات ختم کی
++++++++++
ارحان نے آہستہ سے فون اٹھایا
ایک کال ملائی اور ساتھ ہی ایئر بڈز کانوں میں فٹ کیے
گاڑی اسٹارٹ کی ایک لمحے بعد کال کنیکٹ ہوئی
ہاں کون سے کیفے آؤں کہاں پر میٹنگ سیٹ کی ہے تم نے؟
آواز میں معمول کی سنجیدگی تھی
یحییٰ کیفے
سیکریٹری کی آواز مختصر مگر واضح تھی
اوکے تم پہنچو میں بھی پہنچ رہا ہوں… بس راستے میں ہوں
کال کٹ گئی
مگر اُس کے اندر جو سوالات جاگ گئے تھے
وہ نہ بند ہوئے نہ چپ ہوئے
گاڑی کی رفتار بڑھتی گئی
سڑک پیچھے رہنے لگی
اور ذہن کی پگڈنڈی پر صرف ایک ہی نقش بار بار اُبھر رہا تھا — ریحان کی اسائنمنٹ
ارحان کی نظریں سڑک پر تھیں
چند لمحوں بعد گاڑی نرمی سے رک گئی
سامنے ایک خواب جیسا منظر بکھرا ہوا تھا
سبز اور کریم رنگ کا حسین امتزاج
ایک بلند سا بورڈ تھا
جس پر چمکتے سنہری حروف میں لکھا تھا
یحییٰ کیفے
ابھی وہ یحییٰ کیفے کے دروازے میں داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے سے ایک لڑکی تیزی سے آتی دکھائی دی
ایک پل ایک ٹکر
اور وہ لڑکی لڑکھڑائی — گرنے ہی والی تھی
کہ دو سیاہ آنکھوں نے خواب کی مانند اُسے تھام لیا
وہ گرنے سے بچ گئی
لیکن… دل شاید بچ نہ سکا
Are you fine?
ارحان نے ہلکی حیرانی سے پوچھا
لیکن وہ بس اُسے دیکھتی گئی جیسے اُس کی آنکھوں میں کچھ پڑھ رہی ہو
اس کا حلیہ — بکھرے بال پھٹی جینز میلی شرٹ
اور ان آنکھوں کے نیچے گہرے سائے
گال پر سرخ نشان پھٹے ہونٹ
آپ ٹھیک ہو؟
وہ سمجھے شاید انگریزی نہیں آتی
پتہ نہیں…
ہونٹوں پر لرزش تھی لہجے میں گمشدگی
Any problem?
پھر فوراً اردو میں بولا
آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟
پتہ نہیں…
جواب وہی پر انداز پہلے سے خالی
کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟
ارحان نے نرم لہجے میں پوچھا
جیسے اُس کے چہرے پر لکھی تکلیف پڑھ لی ہو
لڑکی نے آہستہ کہا
ہاں مُجھے آپ کی مدد چاہیے
تبھی ایک بھاری آواز فضا میں گونجی
یہاں کیا کر رہی ہو تارا؟
ایک موٹی عورت تیزی سے آئی
پیچھے سے کسی کو آواز دی
سائمہ! کیا کر رہی ہو؟ تارا کو پکڑو!
Any problem here?
ارحان نے تیزی سے اس عورت کی طرف دیکھا
نہیں سر!
Everything is fine.
یہ تارا میری بیٹی ہے اسے ذہنی کچھ مسئلہ ہے آپ برا نہ مانیں
عورت نے ایک مصنوعی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ارحان نے غور سے دیکھا
پر… اس کا حلیہ؟
یہ خود کو اکثر ایسی حالت میں لے آتی ہے۔ میں ذرا سا ادھر اُدھر جاؤں تو…
You know I’m sure you understand. Please have a seat and enjoy our café
وہ بات ختم کرتی اُسے راستہ دیتی وہاں سے نکل گئی
ارحان کے پیچھے سے اسسٹنٹ اندر داخل ہوا
سر!
Any problem?
نہیں
ارحان مختصر سا جواب دے کر قریب کی میز پر جا بیٹھا
لیکن اندر کہیں…
کچھ ابھی باقی تھا
کوئی سوال
کوئی تشویش
کوئی نظر جو ابھی بھی اُس لڑکی کی سیاہ آنکھوں میں الجھی ہوئی تھی
++++++++++++
کمرے میں ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
سامنے شیشے کی بڑی کھڑکی سے شہر کا شور صاف دکھائی دے رہا تھا
ہمدان ملک اپنی گھومنے والی کرسی پر ٹیک لگائے انگلیوں میں قلم گھماتے ہوئے خاموش بیٹھا تھا
دفتر کا دروازہ کھلا
مینجر اندر آیا چہرے پر گھبراہٹ اور آواز میں لرزش
سر ہمیں بہت بڑا نقصان ہوا ہے مارکیٹ ڈاؤن جا رہی ہے اگر یہی رہا تو اگلے مہینے تنخواہ دینا مشکل ہو جائے گا
ہمدان نے ایک لمحے کے لیے قلم گھمانا روکا اور پرسکون لہجے میں بولا
کتنا نقصان ہوا ہے
سر تقریباً تین کروڑ
ہمدان نے آہستگی سے لیپ ٹاپ اپنی طرف کھسکایا اور فائلیں کھولنے لگا
یہ دیکھو اُس نے اسکرین کی طرف اشارہ کیا
ہمارے پاس باقی فنڈز کتنے ہیں
مینجر نے جلدی سے فائلیں کھولیں
سر سات کروڑ کے قریب
ہمدان نے پرسکون انداز میں گلاس کی چسکی لی اور بولا
اگر ہم یہ نقصان برداشت کر سکتے ہیں تو ٹھیک ہے اگر نہیں تو سب کی تنخواہ سے دس فیصد کم کر دو
مینجر نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا
سر دس فیصد پورے اسٹاف کی
ہمدان نے کرسی پیچھے دھکیلتے ہوئے سخت لہجے میں کہا
ہاں کیوں نہیں جب منافع ہوتا ہے تو انہیں بونس ملتا ہے جب ان کا منافع پر حق ہے تو نقصان پر بھی حصہ ڈالنا پڑے گا یہ بزنس ہے خیرات نہیں
وہ رکا میز پر قلم زور سے رکھا اور مزید بولا
جب کمپنی کماتی ہے تو سب تنخواہ کے ساتھ بونس کھاتے ہیں تب کسی کو مسئلہ نہیں ہوتا اب اگر نقصان ہوا ہے تو برداشت بھی سب کو مل کر کرنا ہوگا
مینجر نے گھبرا کر سر جھکا دیا
جی سر
ہمدان نے اپنی ٹائی سیدھی کی اور پرسکون لہجے میں کہا
اب جاؤ
مینجر باہر نکل گیا
پریشانی یا الجھن کا اُس کے چہرے پر شائبہ تک نہ تھا
تین کروڑ کا نقصان باقی فنڈز پر دباؤ یا پھر پورے اسٹاف کی تنخواہیں
کچھ بھی اُس کے وجود کو ہلا نہیں سکا
ہمدان ملک وہ شخص تھا جس کے نزدیک پریشانی نام کی چیز تھی ہی نہیں
نہ دفتر میں نہ زندگی میں نہ رشتوں میں
ابھی اگر اُس کی کمپنی ڈوب بھی جاتی تو بھی اُسے فرق نہ پڑتا
یہ اُس کا اصول تھا
دنیا کی کوئی چیز مستقل نہیں تو فکر کس بات کی
وہ ہمیشہ یہی کہتا تھا
مجھ سے کسی بات پر اثر لینا مت سیکھو کیونکہ مجھے کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا
اسی بےنیازی کے ساتھ اُس نے لیپ ٹاپ بند کیا گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور اپنے مخصوص انداز میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی
+++++++++++++
رنگ محل کی بھاری دہلیز سے قدم رکھتے ہی
حلیمہ بیگم نے غصے میں تارا کو بازو سے کھینچ کر یوں زمین پر پٹخا
جیسے وہ کوئی وجود نہ ہو
بس ایک بےجان چیز ہو جسے بس پھینک دینا ہو
وہ سیدھی جا کر جہان آرا بیگم کے قدموں میں جا گری
فرش پر پڑی سانسیں بےترتیب اور آنکھوں میں وہی پرانا شعلہ
سنبھال اس کو
حلیمہ بیگم کی آواز زہر میں بجھی ہوئی تھی
سالی کیفے تک پہنچ گئی بھاگ رہی تھی وہاں سے
ارے کیسے پہنچ گئی وہاں تک تھکتی نہیں ہے بھاگ بھاگ کے
جہان آرا نے تارا کے پاؤں کو انگلیوں سے دبایا
جیسے جانچ رہی ہو کہ اس میں اب بھی بغاوت باقی ہے یا نہیں
تارا نے سر اٹھا کر دیکھا
چہرہ زخمی تھا آنکھیں سرخ مگر لبوں پر اب بھی وہی دلیری تھی جو کسی بادشاہ کی وراثت جیسی لگتی تھی
تمہیں پتہ ہے میں کس کی بیٹی ہوں
ایک بار یہاں سے نکل گئی نا
تو دیکھنا یہ کوٹھا بند نہ کروا دیا تو میرا نام بھی مشا نہیں**
ایک تھپڑ بجلی کی طرح اس کے گال پر پڑا
مشا نہیں تمہارا نام تارا ہے.
جہان آرا بیگم کی آنکھوں میں وہی پرانا زہر وہی اختیار وہی سفاکیت
تمہیں یہاں کی ہوا برداشت نہیں ہو رہی نا
بس ابھی بھیج دیتے ہیں تمہیں بڑی حویلی پھر وہاں جا کر تم اپنے وجود پر ماتم کرو گی
مگر تارا یا مشا وہ ساکت رہی
ایک لمحے کو نہیں پورے وقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا
بڑی حویلی چھوٹی حویلی — میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک مشا خود نہ چاہے
یہ وہ لڑکی تھی جس نے پورے ایک سال میں نہ سر جھکایا نہ آنکھیں جھکائیں
رنگ محل کی دیواریں ظلم سے رنگی تھیں مگر مشا کی آنکھوں کا رنگ آج بھی وہی تھا
بغاوت کا غرور کا جینے کا
جہان آرا نے پلکیں میچی پھر غصے سے حکم دیا
نُوراں لے جاؤ اِسے اور اِس بار دوسری والی سے دو گنا مار لگاؤ — آج رنگ محل کو اس کی چیخیں سننی چاہئیں
نُوراں نے بےدردی سے اُسے گھسیٹا اور مشا کا وجود چیختے ہوئے اندھیرے میں کھو گیا
+++++++++++++
شام ڈھل رہی تھی
حویلی کے جھاڑ فانوسوں کی روشنی اور زیادہ نمایاں ہورہی تھی لیکن اس وقت کمرے کا ماحول اس روشنی کے بالکل برعکس تھا
دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی ہمدان ایک بار پھر سب نگاہوں کا مرکز بن گیا
بختیار صاحب کی آنکھوں میں غصہ بھڑک رہا تھا
نگاہوں کی سختی یوں تھی جیسے ایک لمحہ اور گزرا تو وہ ضبط کھو بیٹھیں گے
رُقیہ بیگم کی نظریں بے بسی اور اداسی سے بھری ہوئی تھیں
اور شاہزیب صاحب
وہ بھی کسی کم غصے میں نہ تھے
اتنا ہوا کہ سمیرا بیگم جلدی سے آگے بڑھیں اور ہمدان کے قدم روکے
کہاں تھے تم؟ ان کے لبوں سے بے اختیار سوال نکلا
ہمدان نے سر اٹھایا
آنکھیں پُرسکون مگر لہجہ ٹھنڈا اور کاٹ دار
وہیں جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا
رُقیہ بیگم فوراً قریب آکر بولیں
بیٹا اب تیار ہوجاؤ وقت کم ہے
ہمدان نے چونک کر دیکھا
کیوں کہاں جانا ہے؟
سمیرا بیگم نے مسکراہٹ کے ساتھ کہا
آج ہماری بڑی دعوت ہے سید حویلی میں سب انتظار کر رہے ہیں
میں نہیں جارہا ہمدان نے قطعیت سے کہا
بےبی ضد نہیں کرتے سمیرا بیگم نے نرمی سے سمجھایا
میں نے کہہ دیا نہ مجھے ایسے فنکشنز میں کوئی دلچسپی نہیں آپ جائیں میں نہیں جاؤں گا
بختیار صاحب کا ضبط ٹوٹنے کو تھا
لیکن تمہارا جانا ضروری ہے
شاہزیب صاحب نے غصے سے کہا
ہاں تم میری اکلوتی اولاد اور اس گھر کے اکلوتے وارث ہو
اکلوتے وارث کا جملہ ہوا میں تیر کی طرح لگا
بختیار صاحب کے چہرے پر لمحے بھر کو دکھ کی جھلک ابھری
شاہزیب کا یہ کہنا انہیں ذرا بھی پسند نہ آیا تھا
لوگ تمہارے بارے میں پوچھیں گے ہمدان رُقیہ بیگم نے آہستہ کہا
تو میں کیا کروں میرا دل نہیں میں نہیں جاؤں گا یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا سیدھا اپنے کمرے کی طرف
میں دیکھتی ہوں اسے سمیرا بیگم جلدی سے اس کے پیچھے ہو لیں
کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے پیار سے کہا
ڈارلنگ چلو نا
ہمدان نے گہری نظروں سے دیکھا
کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ سے بدتمیزی کروں؟
سمیرا بیگم کی آنکھوں میں ناگواری ابھری
تم مجھے ایسا اسی لیے کہہ رہے ہو نہ کیونکہ میں تمہاری سوتیلی ماں ہوں؟
ہمدان نے نظریں جھکا کر سرد آہ بھری
نہیں میں نہیں چاہتا کہ آپ سے بدتمیزی کروں اسی لیے پہلے ہی خبردار کر رہا ہوں ورنہ آپ میری طبیعت اچھی طرح جانتی ہیں
سمیرا بیگم کو سمجھ آگئی
اب جب اُس نے ایک دفعہ کہہ دیا نہیں تو نہیں
پھر اُسے دنیا کی کوئی طاقت یہ رشتہ نہیں سے ہاں پر نہیں لاسکتا تھا
اچھا ٹھیک ہے نہ جاؤ
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں
دل چاہ رہا تھا کہ اور بھی منائیں اسے زبردستی کرے مگر پھر خیال آیا
کہیں ایسا نہ ہو کہ ضد کے بیچ بحث چھڑ جائے اور بحث کے بیچ وہ عزت جو انہوں نے برسوں کی محنت سے اس کے دل میں بنائی تھی ٹوٹ کر بکھر نہ جائے
+++++++++++++++
ارحان رات کے سنّاٹے میں جب گھر لوٹا تو خاموشی کے عالم میں آ کر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گیا.
چہرہ سپاٹ نگاہیں جھکی ہوئیں
اور چمچ ہاتھ میں تھامے وہ یونہی کھانے کی پلیٹ میں چُپ چاپ گھورتا رہا
اُس کے دونوں بھائی ریحان اور ارشیان اُس کے سامنے بیٹھے تھے
لیکن ڈائننگ ٹیبل پر خاموشی تھی
ارشیان نے آہستگی سے ریحان کے کان میں کہا
بھائی کچھ بول کیوں نہیں رہے؟
ریحان نے سر کو تھوڑا سا جھٹکا دیا اور ہلکی آواز میں کہا
وہی تو میں بھی سوچ رہا ہوں
اچانک ریحان نے جھجکتے ہوئے ارحان کی طرف دیکھا اور نرمی سے بولا
بھائی… کیا ہوا ہے؟
ارحان نے نظریں نہیں اٹھائیں
بس سپاٹ لہجے میں کہا
کچھ بھی نہیں
ارشیان جھنجھلا گیا
اُس کے لہجے میں التجا تھی
بھائی بتاؤ نا… کیوں ناراض ہو؟ کچھ تو بولو… غصہ بھی نہیں کر رہے؟
ارحان نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور کرسی سے اٹھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا
آج سے اور ابھی سے میں تم دونوں کے معاملات میں کچھ نہیں بولوں گا، جو دل چاہے کرو
سوری نا بھائی، غلطی ہو گئی، آئندہ نہیں ہوگا
اب کی بار ریحان کی آواز میں شرمندگی تھی
ارحان نے ایک دم پلٹ کر نگاہ اُن دونوں پر ڈالی
پھر گہری سانس لے کر بولا
غلطی؟ یہ غلطی نہیں تھی۔ مجھے آج یونیورسٹی کے پرنسپل کے سامنے جتنی شرمندگی ہوئی ہے نا، بس مت پوچھو۔ تم دونوں نے مجھے بہت شرمندہ کیا ہے۔ یہ کوئی شرارت نہیں تھی، یہ بدتمیزی تھی۔ ریحان، تم نے اپنے استاد کے ساتھ بدتمیزی کی۔ استاد، جو باپ کے برابر ہوتا ہے۔ کیا یہ تربیت کی تھی میں نے تم دونوں کی؟ اپنا گھر، اپنے دادا دادی، چچا چچی کو چھوڑا تاکہ تمہیں ایک بہتر مستقبل دوں، اور تم نے مجھے یہ دن دکھایا؟ اور وہ جو تم نے لکھا، “باہر ملیے” — کیا تم کوئی غنڈے ہو جو ایسی دھمکیاں دیتے ہو؟
کیا سوچیں گے لوگ؟ ارحان ملک اتنا اچھا اور اس کے بھائی؟ یونیورسٹی میں غنڈہ گردی کرتے پھرتے ہیں!
ریحان کچھ کہنے کو ہوا، مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے
پھر بمشکل بولا
بھائی… میری بات تو سُنو—
ہاں بھائی، آپ ہم سے پوچھیں تو سہی، ہم نے ایسا کیوں کیا؟
ارشیان نے بھی جلدی سے لقمہ دیا
لیکن ارحان کچھ نہیں بولا
بس ایک خاموش سی نظر دونوں پر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
بھائی! سنو تو!
دونوں بیک آواز لپکے
مگر ارحان نے پیچھے مڑ کر ایک تیز نگاہ اُن پر ڈالی
مجھ سے بات مت کرنا
یہ کہتے ہی اُس نے دروازہ بند کر لیا
میں نے تجھے کہا تھا، نہ کر! دیکھا؟ بھائی سچ میں ناراض ہو گئے…
ارشیان روندی آواز میں بولا
بھائی! سن لو نا بات، بھائی…
ریحان بھی بےبسی سے دروازے پر ہاتھ مارتا رہا
ارے تُو رونا بند کر، مان جائیں گے بھائی…
مگر
مجھ سے بات مت کرنا
یہ جملہ جو کسی اور کے لیے ایک عام سی بات ہو سکتی تھی
ارحان کے بھائیوں کے لیے زلزلے سے کم نہ تھی
یہ وہ خاموشی تھی جو دل چیر دیتی تھی
اور اب دروازے کے اُس پار صرف سناٹا تھا
اور اس پار دو نادم بھائی
++++++++++
رات کے بارہ بج چکے تھے۔
باہر کی دنیا نیند کی آغوش میں سو رہی تھی،
لیکن رنگ محل…
وہاں تو جاگتی روشنیوں، موسیقی اور خوشبوؤں کا راج تھا۔
محل کے در و دیوار جگمگا رہے تھے،
ہر گوشہ کسی طلسماتی دنیا میں ڈھلا ہوا۔
باریک کام والے غرارے، مہکتی خوشبوئیں، سنہری جھمکے، لہراتی چوٹیاں…
ہر دوشیزہ اپنی دلکشی کے ساتھ موجود،
اور اُن سب کی موجودگی سے رنگ محل کا جادو اور بھی گہرا ہو گیا تھا۔
قہقہوں، سرگوشیوں اور گھنگروؤں کی چھنکار میں
محل کا ایک کونا سب کی نظروں سے ذرا اوجھل مگر سب سے زیادہ اہم تھا۔
وہاں بیٹھی تھیں — جہان آرا بیگم۔
مخملی گاؤتکیوں پر ٹیک لگائے،
سفید و سرخ امتزاج کے لباس میں،
چہرے پر غازہ، آنکھوں میں خمار اور ہونٹوں پر نیم مسکراہٹ۔
وہ محل کی ملکہ لگ رہی تھیں،
چہرے سے صاف جھلک رہا تھا کہ آج کی کمائی غیر معمولی ہوگی۔
اسی لمحے ایک دبلی سی عورت اُن کے کان میں آہستگی سے کچھ کہہ گئی۔
جہان آرا بیگم کے لبوں کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
وہ عورت سر ہلا کر خاموشی سے محل سے نکل گئی۔
کچھ لمحوں بعد—
گھنگروؤں کی آوازوں سے فضا لرز اُٹھی۔
محل کی ہر روشنی جیسے مزید تیز ہو گئی۔
اور ہر نظر ایک ہی سمت کھنچ گئی۔
وہ داخل ہوئی — ایک نئی لڑکی۔
لباس میں سرخی،
لہجے میں نرمی،
آنکھوں میں وحشت کی مٹھاس۔
سرخ لہنگے میں لپٹی وہ حسن کا قہر بن کر اتری تھی۔
اُس کی آمد کے ساتھ ہی قہقہے رک گئے،
ساز تھم گئے،
اور لمحے بھر کو محل پر ایک خاموش جادو سا چھا گیا۔
جہان آرا بیگم نے دونوں ہاتھ پھیلا کر کہا:
“Welcome… welcome!
آپ کا رنگ محل میں ایک رنگ بننا مبارک ہو۔”
یوں لگا جیسے پورے رنگ محل کی رگوں میں نئی زندگی دوڑ گئی ہو۔
ہر ساز اُس کی چال کے ساتھ بجنے لگا،
ہر دل اُس کے سحر میں جکڑ گیا۔
+++++++++++++
رات کا سنّاٹا تھا۔
کمرے میں محض ایک مدھم بلب جل رہا تھا، مگر ہمدان ملک نیند کی گہری وادی میں ڈوبا ہوا تھا۔
اچانک —
وہی سڑک۔
وہی اندھیرا۔
وہی وحشت ناک خاموشی۔
اور پھر —
وہی لڑکی!
سرخ لہنگے میں لپٹی، کانوں میں جھمکے لرزتے ہوئے، آنکھوں میں آنسو، اور ہونٹوں پر کپکپاتی صدا:
“پلیز… میری مدد کریں!”
ہمدان کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔
اس بار وہ چاہ کر بھی اپنی جگہ جمی پتھر کی مانند کھڑا نہ رہ سکا۔
“میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا!”
وہ پوری طاقت سے آگے بڑھا۔
مگر —
لڑکی کے گرد اچانک دھند چھا گئی۔
وہ لڑکھڑائی، زمین پر گری، اور چار بھیانک سایے نمودار ہوئے۔
وحشی مرد — ہاتھوں میں خنجر، چھریاں، آنکھوں میں درندگی۔
ہمدان نے چیخ کر کہا:
“رُکو! ہاتھ مت لگانا اسے!”
لیکن جیسے زمین نے اُس کے قدموں کو بیڑیاں پہنا دی ہوں۔
اُس کا جسم بھاری، آواز کمزور۔
وہ دوڑنا چاہتا تھا، مگر بس وہیں جکڑا رہ گیا۔
لڑکی نے آخری بار پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا —
وہ نظر جس میں شکوہ بھی تھا، سوال بھی، اور خاموش التجا بھی۔
“کیوں نہیں بچایا مجھے۔۔۔؟”
یہ صدا ہمدان کی رگوں میں بجلی کی طرح دوڑ گئی۔
اندھیرا مزید گہرا ہوا، لڑکی کا وجود غائب ہوا،
اور صرف اُس کی چیخیں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجتی رہیں۔
ہمدان جھٹکے سے جاگ اُٹھا۔
پسینہ اُس کے ماتھے سے بہہ رہا تھا، سانسیں بےترتیب، دل جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آنا چاہتا ہو۔
وہ پلنگ پر سیدھا بیٹھا۔
کانوں میں اب بھی وہی آواز گونج رہی تھی:
“کیوں نہیں بچایا مجھے۔۔۔؟”
ہمدان نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
سر تھام کر وہ دیر تک ساکت بیٹھا رہا،
جیسے یہ خواب نہیں، کوئی حقیقت اُس کے پیچھے لگی ہو۔
++++++++++
صبح کے آٹھ بجے تھے۔
الارم بجا، اور ارحان کی آنکھ کھل گئی۔ وہ معمول کے مطابق اُٹھا، شاور لیا، کلف لگے سفید کپڑے زیب تن کیے، بال سنوارے، گھڑی باندھی اور کمرے کا دروازہ کھولا—
اچانک قدم رک گئے۔
سامنے کا منظر چونکا دینے والا تھا۔
کمرے کے عین باہر، دیوار کے ساتھ فرش پر اُس کے دونوں بھائی بیٹھے بیٹھے ہی سو گئے تھے۔
سروں کو دیوار سے ٹکائے، ہاتھ سینے پر بندھے، اور تھکن کے باوجود چہروں پر ایک معصومیت۔
یقیناً وہ پوری رات یہیں بیٹھے رہے ہوں گے… دروازہ کھلنے کے انتظار میں، منانے کی ضد میں، یا شاید پچھتاوے کے بوجھ تلے۔
ارحان کی نظروں میں لمحہ بھر کے لیے نرمی اُتری۔
دل میں ایک چبھن جاگی —
یہ دونوں پوری رات یہیں بیٹھے رہے۔۔۔؟؟ دروازہ کھلنے کے انتظار میں؟
اُس پل اُسے اپنے دونوں بھائیوں پر بےحد پیار آیا۔
دل چاہا ابھی کے ابھی جھک کر انہیں بانہوں میں بھر لے، پیشانی پر بوسہ دے۔
لیکن نہیں… اگر وہ کمزوری دکھا دے تو پھر اُن کی اچھی تربیت کیسے کرے گا؟
وہ دھیرے سے مسکرایا، آہستہ جھک کر ایک نظر ان دونوں پر ڈالی اور دل ہی دل میں کہا:
سوری… لیکن ابھی جگاؤں گا تو یہ زیادتی تمہارے ساتھ ہوگی، میرے ساتھ نہیں۔
یہ سوچتے ہوئے وہ دبے قدموں نیچے اُتر گیا۔
ناشتہ میز پر لگا ہوا تھا۔ اُس نے کافی کا ایک گھونٹ لیا اور ملازمہ کو ہدایت دی:
میرے نکلتے ہی انہیں اُٹھا دینا، یونیورسٹی جانا ہے دونوں کو۔
ملازمہ نے سر جھکا کر جواب دیا۔
اور ارحان، اپنے بھائیوں کو یوں ہی سویا چھوڑ کر خاموشی سے آفس نکل گیا۔
+++++++++++++++
رات کی رنگ رلیوں کے بعد رنگ محل گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔
ہر طرف تھکن کے سائے تھے۔ سب اپنے اپنے کمروں میں محوِ نیند تھے۔
جہان آرا بیگم بھی رات کی بھاری کمائی کے بعد سکون سے سو رہی تھیں۔
مگر ایک کمرے میں روشنی جل رہی تھی — ریمل جاگ رہی تھی۔
اس نے دروازہ بند کیا اور آہستہ سے کہا:
جلدی کرو… یہ کپڑے پہنو۔
سامنے بیٹھی لڑکی کے آگے اُس نے سیاہ چولی، رنگین لہنگا اور چمکتے زیورات رکھ دیے۔
وہی لباس… جو رنگ محل کی کنیزیں پہنتی تھیں۔
لڑکی نے حیرت سے دیکھا، پھر ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ آ گئی۔
بھوری آنکھوں میں برسوں بعد پہلی بار خوشی اُتری۔
وہ لپکی، کپڑے اٹھائے، اور لمحوں میں بدل آئی۔
ریمل نے اُس کے چہرے پر براؤن پاؤڈر پھیر دیا،
چمکتا دودھیا رنگ ڈھک گیا، اور نقوش بدل گئے۔
پھر اُس نے کچھ عجیب و غریب نشان بنا دیے۔
چند ہی لمحوں میں حسین لڑکی ایک عام، بدصورت سی لگنے لگی۔
ریمل نے سکون کی سانس لی:
اب ٹھیک ہے… چلو۔
وہ دونوں دبے قدموں دروازے تک پہنچیں۔
پہرے دار نے روک کر پوچھا:
کہاں جا رہی ہیں بیگم صاحبہ؟
ریمل مسکرائی:
سامان لینا ہے، اماں نے کہا ہے۔ یہ بھی ساتھ جا رہی ہے۔
گارڈ نے بےفکری سے سر ہلایا اور راستہ دے دیا۔
رنگ محل سے خاصا فاصلہ طے کر کے ریمل رُکی۔ اُس نے لڑکی کی طرف دیکھ کر دھیرے سے کہا:
آزادی مبارک ہو… جہاں جانا ہے جاؤ۔
لڑکی کی پلکیں لرزیں، آنکھوں میں نمی آ گئی۔
لیکن… تم واپس کیسے جاؤ گی؟ وہ میرا پوچھیں گے نہیں؟
ریمل نے بےنیازی سے کہا:
وہ ریمل کا مسئلہ ہے۔
لڑکی کے لب کپکپائے۔
اللہ تمہیں بھی اس جہنم سے نکالے… آمین۔
ریمل کی آنکھیں سخت ہو گئیں۔
یہ جہنم ریمل نے خود چُنی ہے۔ اگر اللہ نے مجھے یہاں سے نکال دیا… تو ریمل کہاں جائے گی؟
لڑکی ساکت رہ گئی۔ پھر دھیرے سے کہا:
تو اللہ تمہیں ایسا اجر دے… اتنا بڑا… کہ تم حیران رہ جاؤ۔
ریمل کے ہونٹوں پر پہلی بار مسکراہٹ اُبھری۔
ہاں… یہ ٹھیک کہا۔ اس پر ریمل بھی کہے گی… آمین۔
لڑکی مسکراتی ہوئی اپنی راہ چل دی۔
ریمل وہیں کھڑی رہی، اُس کی پشت دیکھتی رہی۔
ایک اور قید پرندہ آج اُس کی بدولت آزاد ہوا تھا۔
ریمل نے پھر سے جہان آرا کے رنگ محل کی تاریکیوں میں چھپی ایک اسیر حور کو رہائی دے کر روشنی کا جہاں بخش دیا۔
+++++++++++++
ملازمہ کے آہٹ دینے پر دونوں لڑکے چونک کر جاگ اٹھے
آنکھیں ملتے ہی ان کے لبوں پر ایک ہی سوال تھا دونوں نے ایک ساتھ کہا
بھائی کہاں ہیں وہ چلے گئے؟
ملازمہ نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا
دونوں کے چہرے ایک پل میں بجھ گئے
ارشیان نے بے بسی سے اپنے بڑے بھائی کی خالی کمرے کی طرف دیکھا
بھائی اب کیا کریں گے ہم؟
ریحان نے آہستہ کہا
بھائی کے آنے کا انتظار
ملازمہ نے کہا
ناشتہ تیار ہے آپ دونوں کو یونی جانا ہے
ریحان نے غصے میں کہا
ہم نہیں جا رہے یونی
وہ جملہ ابھی ہوا میں تھا کہ اس کا فون بجا
ریحان نے جھنجلاہٹ سے فون اٹھایا
ہاں ہیلو کون؟
دوسری طرف سناٹا تھا
ریحان کی برداشت جواب دے گئی
ابے او کون منحوس ہے دماغ مت خراب کر بولتا کیوں نہیں ہے وہ چیخا اور اگلے ہی لمحے کال کٹ گئی
ارشیان نے حیرت سے پوچھا
کون تھا بھائی؟
ریحان نے غصے سے فون میز پر پٹخا
پتا نہیں کوئی مانوس تنگ کر رہا ہے
ارشیان نے شانے اچکائے اور نرم لہجے میں کہا
اچھا چھوڑ چل یونی چلتے ہیں
ریحان نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا
ہم نہیں جا رہے یونی
بھائی چل نا بھائی ناراض ہیں ماننا بھی تو ہے نا، اگر ہم یونی نہیں گئے تو اور ناراض ہو جائیں گے
ارشیان نے ریحان کو سمجھایا
ریحان نے بھڑک کر کہا
تو بھیجنا چاہیے تھا نا یونی آج بھی جیسے روز بھیجتے ہیں
وہ چوبیس سالہ جوان نہیں لگ رہا تھا
وہ بالکل ایک ضدی بچہ لگ رہا تھا جو اپنی ماں سے روٹھ کر بیٹھ جائے اور منانے کی ضد کرے
ارشیان نے آہستہ سے اس کا کندھا تھاما
چل نا پلیز بھائی کو بھی ماننا ہے واپس آ کر ان سے بات کریں گے
ریحان نے لاچاری سے گردن جھکا دی
آخرکار دونوں ناشتے کی میز پر آ کر بیٹھ گئے
چائے کی بھاپ انڈوں کی خوشبو اور دونوں کے دل میں عجیب سا بوجھ
+++++++++++++
ریمال آہستہ سے کمرے میں داخل ہوئی
ہاتھ میں ناشتے کی پلیٹ تھی مگر نظر فوراً اس لڑکی پر جا رکی جو فرش پر پڑی تھی
زخمی نڈھال اور پھر بھی زندہ
رات بھر کے اذیت ناک شکنجے کے بعد بھی وہ سانس لے رہی تھی
ریمال کی آنکھوں میں چبھن اتر آئی
بھاگی کیوں نہیں تُو؟ وہ تیز لہجے میں بولی
تارا نے گردن اٹھائی لبوں پر کٹی پھٹی سی مسکراہٹ تھی
نہیں بھاگ سکی
ریمال نے جھنجلا کر کہا
تو ہر بار نہیں بھاگ پاتی ایک بار مان ہی لے ان کی بات یہ سب نہیں ہوگا پھر تیرے ساتھ
تارا کے لبوں سے سخت جواب نکلا
ہرگز نہیں
ریمال کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا
تو پھر مر جا لیکن مر بھی نہیں رہی تُو
تارا نے گہری سانس لی آنکھوں میں عجیب سی روشنی بھر آئی
ڈھیٹ ہوں اس سب سے نہیں مر سکتی
ریمال کے ہاتھ کانپے اس نے پلیٹ زور سے فرش پر رکھ دی
اب تجھے نہیں بھگاؤں گی میں یہاں سے،! مر یہیں پر اور یہ ناشتہ کھا لے
پلیٹ میں ایک پراٹھا تھا اور ایک کپ چائے
نہ سالن نہ پھل نہ کوئی لذت
صرف زندہ رہنے کا بہانہ
ریمال تیز قدموں سے واپس پلٹ گئی
کمرے میں اب صرف تارا تھی
وہ پلیٹ کو دیکھ رہی تھی
آنکھوں کے کناروں پر نمی تھی اور ہونٹوں پر وہی ضدی مسکراہٹ
اس کے اندر اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ نوالہ حلق سے اتار سکے
لیکن اتنی جان ضرور تھی کہ ابھی بھی جیتی رہے
+++++++++++++
آفس کی شیشے کی اونچی کھڑکیوں سے دھوپ اندر آ رہی تھی
ارحان اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جھکا فائلوں میں الجھا ہوا تھا کہ فون کی بیل بجی
اسکرین پر نام دیکھ کر اُس کے ہونٹوں پر پہلی بار ایک نرم سی مسکراہٹ آئی — دادی جان
ارحان نے کال اٹھائی سر کو کرسی سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیں
السلام علیکم دادی کیسی ہیں آپ؟
اُدھر سے لرزتی مگر محبت بھری آواز ابھری
وعلیکم السلام ہم ٹھیک ہیں تُو کیسا ہے ہمیں تو لگتا ہے اب تجھے ہماری یاد ہی نہیں آتی
ارحان کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ آگئی
یاد تو آتی ہے دادی… پر وقت نہیں ملتا کال کرنے کا
وقت نہیں ملتا یا چاہ نہیں ہوتی؟
دادی کی گہری بات پر اُس نے آنکھیں کھول دیں
ایسا نہیں ہے دادی آپ جانتی ہیں نا میں مصروف رہتا ہوں
چند لمحے سکوت رہا پھر دادی کی آواز تھوڑی بھاری ہوئی
بیٹا وہاں تیرا خیال کون رکھتا ہے کھانے کی فکر کون کرتا ہے انسان جتنا بھی بڑا ہو جائے ماں باپ یا بیوی کے بغیر ادھورا ہی رہتا ہے
ارحان نے مدھم لہجے میں کہا
دادی… میں اب چھوٹا بچہ تو نہیں ہوں اپنا خیال خود رکھ لیتا ہوں
نہیں وقت آگیا ہے بیٹا کہ تُو اپنا گھر بسا لے دادی کی آواز میں فیصلہ چھپا ہوا تھا
شادی کر لے ارحان کب تک اکیلا رہے گا؟
ارحان نے سر کو ہلکا سا دائیں بائیں جھٹکا اور بےساختہ مسکرا دیا
پھر آپ ہی ڈھونڈ لیجیے نہ کوئی لڑکی جسے آپ پسند کریں گی، میں کرلوں گا اُس سے شادی
ہم جس لڑکی سے بولیں گے تو کرلے گا اُس سے شادی ؟
جی دادی آپ ڈھونڈیں میں انکار نہیں کروں گا
ٹھیک ہے پھر ہم ڈھونڈتے ہیں تیرے لیے اچھی سی لڑکی
جی ڈھونڈیں ارحان نے محبت سے کہا
پھر کال کٹ گئی
کمپیوٹر اسکرین پر کھلتے بند ہوتے ای میلز قطار در قطار نمبرز اور چارٹس
اُسے لگ رہا تھا جیسے یہ ساری فائلیں اُس کی آنکھوں کے گرد دائرے بناتی جا رہی ہیں
اُس نے تھکے ہوئے ہاتھوں سے ٹائی ڈھیلی کی اور کرسی سے ٹیک لگا لی
آنکھیں بند کیں تو سب سے پہلے کانوں میں دادی کی آواز گونجی
شادی کر لے ارحان… کب تک اکیلا رہے گا؟
وہ بے ساختہ مسکرایا
اس کی زندگی میں شادیاں کبھی خواب نہیں رہیں
نہ اسے کبھی کسی لڑکی سے خاص دلچسپی رہی نہ وہ محبت کے چکر میں پڑا
اس کے نزدیک شادی بھی دفتر کے دوسرے کاموں کی طرح ایک ذمہ داری تھی —
جیسے بجٹ رپورٹ وقت پر تیار کرنا جیسے ٹارگٹ اچیو کرنا
کرنی ہے کبھی نہ کبھی کرنی ہے
اُس نے دل ہی دل میں سوچا اور گھڑی کی طرف دیکھا
ساڑھے دس بج رہے تھے اگلی میٹنگ الارم بجنے والا تھا
لیکن میٹنگ سے زیادہ دادی کی باتیں دماغ میں گھوم رہی تھیں
دفتر کی بڑی کھڑکی سے باہر جھانکا تو سامنے آسمان پر چمکتی دھوپ کو دیکھ کر وہ مدھم ہنسا
شادی بھی ایک پروجیکٹ ہوگی… دادی کو سکون دینے کے لیے بس ایک اور ڈیل جسے کلوز کرنا ہے
اس کے لیے شادی بس ایک لائن تھی
To-Do List
پر جسے چیک لگانا باقی تھا
++++++++++++
بارہ بجتے ہی واقعی رنگ محل کا نقشہ بدل گیا تھا
جیسے کسی نے مردہ جسموں میں جان ڈال دی ہو…
ہنسی کھنکھناہٹ چوڑیوں کی جھنکار اور خادماؤں کی بھاگ دوڑ سے محل گونج اٹھا
ایک سے ایک حسین دوشیزائیں بھڑکیلے جوڑوں میں اپنے بالوں میں گجرے سجائے ناشتے کی میز پر جلوہ گر تھیں
جہاں آرا بیگم بھی اب اپنے بلند و بالا تخت پر نیم کج کلاہی سے بیٹھی تھیں لبوں پر وہی رعب دار مسکراہٹ جو ایک ساتھ شفقت بھی لگتی اور زہر بھی
اچانک ایک خادمہ ہانپتی کانپتی بھاگتی ہوئی آئی
چہرہ پسینے سے شرابور اور آنکھوں میں دہشت
بیگم صاحبہ… بیگم صاحبہ… وہ گلبہار اپنے کمرے میں نہیں ہے!
جہاں آرا کے چہرے کی مسکراہٹ ایک دم پتھر کی طرح جم گئی
تو کہاں گئی؟ اُن کی آواز میں اتنی سرد مہری تھی کہ پورا ہال لمحے بھر کو ساکت ہوگیا
پ… پتہ نہیں بیگم صاحبہ… کہیں بھی نہیں مل رہی خادمہ کی زبان کانپ رہی تھی
جہاں آرا کے ابرو تن گئے
انہوں نے فوراً اپنی بارعب آواز میں پکارا
ریمل!… نازمین!… نازو!…
اور جیسے ہی اُن کی صدا محل میں گونجی تینوں تیز قدموں سے بھاگتی ہوئی حاضر ہوئیں
جی بیگم صاحبہ… تینوں نے ایک ساتھ سر جھکایا
جہاں آرا نے سخت لہجے میں کہا
یہ گلبہار کو ڈھونڈو… دیکھو کہاں گئی ہے اگر محل کے اندر ہے تو خیر… ورنہ فوراً عالم اور سلیم کو بھیجو
محل کی فضا لمحے بھر میں جشن سے خوف میں بدل گئی تھی
اب ہر آنکھ ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی
اور ہر دل یہ سوچ رہا تھا کہ اگر واقعی گلبہار رنگ محل کی دیواروں سے باہر نکل گئی ہے
تو آنے والے طوفان سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا
+++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔
