Dil ya dharkan Episode 25 written by siddiqui


دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۵

ماہی… ماہی… رُکو….
سڑک پر دوڑتی، دھول میں لپٹی، وہ لڑکی اچانک تھم گئی۔ اُس کے قدم جیسے جم سے گئے ہوں۔ اُس کے سامنے کوئی کھڑا تھا۔

مسکان ماہی کی آواز میں حیرت تھی، اُلجھن تھی…

مسکان نے بےتابی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا،
چلو میرے ساتھ… میں تمہیں محفوظ جگہ لے جا رہی ہوں…

ماہی پیچھے ہٹی، آنکھوں میں بے یقینی بھری ہوئی۔
پِیچھے ہٹو… مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا۔۔۔
اُس کا لہجہ سخت تھا، لہجہ نہیں… وہ دل تھا جو ٹوٹ کر لہجوں میں بکھر رہا تھا۔

ماہی، پلیز… مجھے ولید نے بھیجا ہے… اُس نے کہا ہے کہ تمہیں بچانا ہے۔
مسکان کے لہجے میں التجا تھی،

اُس کا نام مت لو میرے سامنے! تم سب ایک جیسے ہو… ایک سازش میں لپٹے ہوئے لوگ۔۔۔

تمہیں میرے ساتھ چلنا پڑے گا۔۔ مسکان نے پھر سے کوشش کی۔

ہٹو۔۔۔۔
ماہی نے زور سے اُسے دھکا دیا،
دیکھو… دیکھو نا، ماہی برباد ہو گئی… اور کیا چاہیے تم لوگوں کو؟
وہ سڑک کے کنارے دھم سے بیٹھ گئی، جیسے سارا بوجھ جسم سے اتر گیا ہو مگر روح پر کہیں زیادہ بھاری ہو گیا ہو۔ آنکھوں سے آنسو، لفظوں سے شکایات اور دل سے سسکیاں نکل رہیں تھیں۔
تم سب کہتے تھے نا، ماہی ویسی ہے… ایسی ہے… اب دیکھ لو، ماہی اب کچھ بھی نہیں رہی… ماہی ختم ہو گئی…

اس کا لہجہ بکھرا ہوا، آواز رندھی ہوئی، اور ہاتھ کانپتے ہوئے زمین پر گر گئے جیسے ہار مان چکے ہوں۔

مسکان اس کے پاس بیٹھ گئی، دل پر پتھر رکھ کر اُس لڑکی کو سہارا دینے لگی جو خود پتھر بن چکی تھی۔۔۔

ماہی دھاڑیں مار کر رو رہی تھی… سڑک کی خاموشی میں اس کی آواز گونج رہی تھی،
تُم سب مُجھے دھوکہ دیتے ہو… جھوٹ بولتے ہو… سب کے سب تُم جھوٹے ہو۔۔۔۔

وہ اپنے ہاتھوں سے سر کو تھامے چیخی
تُم جھوٹی! اریبہ جھوٹی۔۔۔ سٹیلا جھوٹی۔۔۔ کرن جھوٹی۔۔۔ عبداللہ جھوٹا۔۔۔
ہر نام کے ساتھ اس کی آواز میں اور زیادہ زہر گھلتا گیا۔

ولید جھوٹا۔۔۔
…اور اب… اب حارث بھی جھوٹ۔۔۔
یہ کہتے ہی جیسے اس کا وجود لرز گیا، وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی
میرا یقین جھوٹ تھا… میری محبت جھوٹ تھی… یا شاید میں ہی جھوٹ ہوں…

ماہی… میری بات سنو… میں تم سے ہمدردی نہیں کر رہی… اور نہ ہی یہ دعویٰ ہے کہ مجھے تمہاری پرواہ ہے۔
میں وہی مسکان ہوں، خودغرض… موقع پرست… لیکن میں جھوٹ نہیں بول رہی۔
ہاں، مجھے ولید نے بھیجا ہے… یہ دیکھو، اُس کا میسج بھی ہے میرے پاس…
ایئرپورٹ پر میں تمہیں ہی دیکھنے آئی تھی، ولید کے کہنے پر۔
اور عبداللہ کو جو میسج کیا، وہ بھی اُس کے کہنے پر… سب ایک پلان تھا۔

ماہی خاموش بیٹھی رہی، آنکھیں ساکت تھیں، لب تھر تھرا رہے تھے…
اب بھی، میں اُس کے کہنے پر ہی آئی ہوں۔ اگر تم نہ چلی، اور کچھ ہو گیا… تو ولید… وہ جی کر بھی مر جائے گا۔۔۔

ماہی کے لب کانپے، مگر زبان خاموش تھی۔
وہ صرف اتنا بولی،
مجھے اکیلا چھوڑ دو… بس… سب چلے جاؤ میری زندگی سے۔
وہ زمین پر بیٹھ گئی، اپنے آنسو چھپاتی ہوئی…
ماہی ختم ہو گئی… تم سب جیت گئے… اب اور کیا چاہیے؟

مسکان جان چکی تھی، اب یہ لڑکی سننے کی حالت میں نہیں…
پھر اُس نے چپکے سے جیب سے چھوٹا سا شیشی نکالا، روئی پر چڑھایا… اور ماہی کی ناک کے قریب لے گئی۔

چند لمحے…

ماہی کی پلکیں جھپکیں، جسم نے لرز کر ہار مان لی…
اور وہ مسکان کی بانہوں میں بےحس ہو گئی۔

مسکان نے گہرا سانس لیا، اُسے بانہوں میں اٹھایا…
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور رفتار پکڑ لی۔

کچھ میل دور، شہر سے باہر…
جہاں سڑکیں سنسان تھیں اور خاموشی کے سائے پھیلے ہوئے تھے، وہاں ایک ٹرک کھڑا تھا — ایک بڑا، بھاری بھرکم ایکسپورٹ امپورٹ کا ٹرک۔

مسکان نے اِدھر اُدھر دیکھا…
پھر ماہی کو گاڑی سے نکالا، اور دھیرے سے اُس ٹرک کے اندر ایک محفوظ کارٹن میں لٹا دیا — جیسے کوئی قیمتی چیز رکھ رہی ہو۔

آرام سے ماہی… اب تم حفاظت سے دوسرے شہر پہنچو گی۔

اُس نے ایک نظر پیچھے ڈالی…
پھر اپنے فون کو دیکھا، مسکرا کر بولی،
ابھی نہیں… جب ٹرک دوسرے شہر پہنچ جائے گا… تب ولید کو یہ گُڈ نیوز دوں گی۔

مسکان کی آنکھوں میں چمک تھی، عجیب سی تسکین…
جیسے اُسے یہ سب کر کے سکون ملا ہو…

مگر سوال یہ تھا… اُسے اس کے بدلے میں کیا ملنے والا تھا؟
مسکان ایک خودغرض لڑکی تھی…
وہ کبھی کسی کے لیے بے لوث کچھ نہیں کرتی تھی۔
اور یہ سب اُس نے ولید کے کہنے پر ماہی کے لیے کیا ہے تو ضرور ولید اس کے بدلے اُسے اس کے فائدہ کا کچھ نہیں کچھ ضرور دینے والا تھا۔۔۔

+++++++++++++

کہاں تھا تُو؟ فون کہاں ہے تیرا؟
ولید کا لہجہ فکر اور غصے کے بیچ جھول رہا تھا، آنکھوں میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔

میرا فون… تجھے پتا ہے نا یہاں پاکستان میں سگنل کے کیسے مسائل ہیں،
کبھی ہیں، کبھی نہیں ہوتے…
حامد نے اپنا مسئلہ بتایا۔ ولید کی بہت سی کوششوں کے بعد وہ اب اس کے سامنے موجود تھا۔

بندے کو کوئی آرڈر تو نہیں دیا نا؟ حارث کے کہنے پر کچھ کیا تو نہیں؟

نہیں دیا یار، کچھ بھی نہیں۔ تُو نے چاہے مجھ سے سب کچھ چھپایا،
لیکن میں پھر بھی تیری مدد کر رہا ہوں۔

ماہی… اپنے گھر سے پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے،
مجھے بہت فکر ہو رہی ہے اُس کی…
میں کیا کروں، کہاں جاؤں؟ کہاں سے ڈھونڈوں اُسے؟
چہرے پر بےبسی سب چھلک رہی تھی۔۔۔

تُو حوصلہ رکھ، میں نے اپنے ممبرز کو کہہ دیا ہے
ڈھونڈنے کے لیے… وہ جلد کچھ خبر لے آئیں گے۔
حامد نے تسلی دی۔

میں کیسے حوصلہ رکھو حامد۔۔۔
حامد… جب تمہارے دل اور دھڑکن کے درمیان جنگ چل رہی ہو اور دونوں تم سے جدا ہونے لگیں،
تب تم میری حالت سمجھ سکتے ہو۔
اگر دل کو بچاؤں تو دھڑکن چھن جائے گی…
اور اگر دھڑکن کو بچاؤں تو دل چھوٹ جائے گا…
اور… اور دونوں ہی میرے جینے کے لیے ضروری ہیں…

اسی لمحے ولید کے فون پر مسکان کا میسج آیا۔۔۔
وہ چونکتا ہے، فوراً فون چیک کرنے لگا

پیغام پڑھتے ہوئے ایک لمحے کو اس کا چہرہ پریشان ہُوا۔۔۔
لیکن فوراً حامد کی بات یاد آئی
حامد نے تو کہا تھا، اُس نے کسی بندے کو نہیں بھیجا…

اس سوچ سے اُسے ایک پل کی تسلی ملی

اگر حامد نے واقعی کوئی آرڈر نہیں دیا، تو… ماہی ٹرک میں سیف ہے…
اور اب تک تو آدھے راستے میں پہنچ چکی ہوگی۔

ولید نے گہری سانس لی، لیکن دل کا بوجھ ابھی بھی ہلکا نہیں ہوا تھا…

لیکن۔۔۔ ایسا کیا ہوا کہ تیرے بھائی ایسے ماہی کی جان کا دشمن بن گیا ہے۔۔۔۔
حامد نے سوال کیا۔۔۔

وہ ماہی حارث سے شادی کرنا چاہتی ہے۔۔۔ اور میں ایسا چاہتا ہوں، کہ حارث ماہی سے شادی کرلے،
ولید نے دھیمے آواز میں کہا

لیکن ماہی سے تو۔۔تو محبت کرتا تھا نہ۔۔۔
حامد نے چونکا۔۔۔ تیری شادی ہورہی تھی نہ اُس سے۔۔؟؟

ولید ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔
آنکھیں جھک گئیں، جیسے برسوں کی تھکن ایک ساتھ پلکوں پر آ ٹھہری ہو۔
ہاں…
اس کے ہونٹوں سے نکلا ہوا لفظ بمشکل سنائی دیا۔
محبت کرتا تھا… اور اب بھی کرتا ہوں۔

حامد نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔
وہ وہی ولید تھا، مگر کہیں نہ کہیں ٹوٹا ہوا… بکھرا ہوا۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ حامد کی آواز میں الجھن تھی۔ اگر تُو ماہی سے محبت کرتا ہے تو حارث کو بیچ میں لانے کا کیا مطلب؟
اپنی ہی محبت کی راہ میں خود دیوار کیوں بن رہا ہے؟

ولید نے تلخی سے مسکرا کر سر اٹھایا۔
وہ مسکراہٹ خوشی کی نہیں تھی، قربانی کی تھی۔
کیونکہ میں اس کی محبت میں خود غرض نہیں بن سکتا، حامد…
اس کی آواز بھرا گئی۔
میں اسے اپنے ساتھ باندھ کر خوش نہیں دیکھ سکتا،
اور نہ ہی اپنی خوشی کے لیے اس کی زندگی داؤ پر لگا سکتا ہوں۔۔

ماہی جس راستے پر خوش ہے، اگر وہ راستہ میرے بغیر ہے… تو مجھے وہی قبول ہے۔

حامد کے چہرے پر حیرت اور دکھ ایک ساتھ ابھرا۔
اور حارث؟
اس نے آہستہ سے پوچھا۔

کیا وہ واقعی ماہی کو خوش رکھ سکے گا؟
ولید نے گہری سانس لی۔
اگر وہ ماہی کی مسکراہٹ کی وجہ بن سکتا ہے،
تو پھر وہی اس کا حق دار ہے۔

حامد نے بے اختیار کہا،
مگر یہ ناانصافی ہے… تمہارے ساتھ۔

ولید ہلکا سا مسکرایا۔
ہاں… ہے۔
مگر محبت میں انصاف کہاں ہوتا ہے؟
وہ لمحہ بھر رکا، جیسے الفاظ اکٹھے کر رہا ہو۔
اگر میں ماہی کو اپنے ساتھ باندھ بھی لیتا ہوں…
تو وہ زندہ تو رہے گی، مگر خوش نہیں۔
اور میں اس کی آنکھوں میں وہ خاموش شکوہ
ساری عمر نہیں دیکھ سکتا تھا۔

اور تم؟ تمہاری خوشی؟

اس نے نظریں جھکائیں اور دھیرے سے کہا،
اس کی خوشی کے لیے
میں اپنی خوشی ہار جاتا ہوں۔

حامد اُس کی بات سن کر خاموش ہوگیا پھر کچھ دیر بعد بولا۔۔۔
چل میں ماہی کو جلدی ہی ڈھونڈتا ہوں۔۔۔۔ تو فکر نہ کر
پھر حامد نے ولید کو تسلی دی اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔

++++++++++++

کراچی—اک شور زدہ شہر، جو اب دہکتا ہوا شعلہ بن چکا تھا۔
رات کا وقت، مگر اندھیرا نہیں تھا…
کیونکہ ہر طرف آگ تھی۔
یہ وہ رات تھی جسے شہر کبھی نہیں بھولے گا۔
کراچی کی فضائیں اس وقت نہیں، بس ایک زہر کی طرح گئیں، جس کی ہر سانس میں تکلیف تھی۔
ہر طرف دھواں پھیل چکا تھا، جیسے آسمان نے اپنا رنگ بدل لیا ہو، اور زمین نے خود کو جلانے کی ٹھان لی ہو۔

ایم ڈی کے بندے پورے شہر میں پھیل چکے تھے۔ ہر گلی، ہر نکڑ، ہر سڑک اُن کے قدموں تلے دب چکی تھی۔ اُن کی آنکھوں میں ایک ہی تصویر تھی — ماہی کی۔

بغیر نام لیے، بغیر آواز لگائے، وہ ہر لڑکی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ رکشے، بسیں، ٹرینیں، پیدل چلتی خواتین — کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔ وہ تصویریں موبائل پر دکھا کر چہروں کا میل ملا رہے تھے۔

ایم ڈی کا حکم واضح تھا
یہ لڑکی کسی بھی قیمت پر نہیں بچنی چاہیے۔ جو بھی رکاوٹ بنے، مٹا دو۔

ایم ڈی کے تربیت یافتہ چھ بندے، جن میں سے ہر ایک پچاس پر بھاری، الگ الگ سمتوں میں پھیل چکے تھے۔ کچھ ایئرپورٹ کی نگرانی پر، کچھ ریلوے اسٹیشن پر، اور باقی شہر کی بڑی سڑکوں پر ناکے لگائے بیٹھے تھے۔

ان کے ہاتھوں میں جدید ہتھیار، آنکھوں میں درندگی اور دل میں صرف ایک جنون ،
ماہی کو ختم کرنا ہے… اور اُس کی ویڈیو، ایم ڈی کو بھیجنی ہے۔

شہر میں گویا دہشت کی لہر دوڑ چکی تھی۔ ہر طرف خوف کا سایہ، ہر گاڑی مشکوک،
اور ہر اجنبی چہرہ — ممکنہ ٹارگٹ۔

ایئرپورٹ سے لے کر ریلوے اسٹیشن تک،
ہر راستہ بند تھا، ہر محلہ بے جان،
کسی کا دل دھڑک رہا تھا تو بس خوف کی شدت میں۔

جہاں تک انسانوں کی نگاہیں پہنچتی تھیں، وہاں تک آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل چھا گئے تھے۔

پولیس کی وردیاں،
یہ وہ وردیاں تھیں جو کبھی امن کی علامت ہوتی تھیں، مگر اب وہ بھی دشمن بن چکی تھیں،
انہوں نے بھی ان غیر انسانی ہاتھوں میں اپنا ضمیر بیچ دیا تھا۔

کوئی شہر کے باہر نہیں جائے گا۔
کسی کو بچایا نہیں جائے گا،
تمام راستے بند ہیں۔۔۔

یہ وہ حکم تھا جو شہر کے دل میں بیٹھا تھا، اور سڑکوں پر رائج تھا،
اس حکم کو کوئی نہیں چیلنج کر سکتا تھا، کیونکہ جس کے پاس طاقت تھی، وہی قانون تھا۔

+++++++++++

صبح کے چھ بج رہے تھے، دھند، جلی ہوئی ربڑ کی بو، اور دور کہی جلتی ہوئی آگ کا منظر — ہر چیز جیسے کہانی کے اختتام کا اعلان کر رہی تھی۔

حامد نے کال کی باس کام ہو گیا ہے۔
ماہی کو ختم کر دیا۔ وہ ایک ٹرک میں تھی…
ہم نے اُسے وہیں اُس ٹرک سمیت جلا کر راکھ کر دیا۔

حارث کی  سانسیں رک گئیں، جیسے کسی نے اس کے دل پر مکے مارے ہوں، لیکن چہرے پر ایک عجیب سا سکون، جیسے کوئی جنون اپنے اختتام کو پہنچا ہو۔ پھر بھی، اُس کی آنکھوں میں شک کی ایک لکیر اب بھی باقی تھی۔
ثبوت دو مجھے…!
مجھے یقین نہیں ہے…
۔Evidance چاہیے۔۔۔۔
اب وہ صرف ایک چیز کا طلبگار تھا — ثبوت۔

Boss, location send
کر رہا ہوں… خود دیکھ لو… اپنی آنکھوں سے، پھر یقین آ جائے گا۔
دل میں کہیں نہ کہیں یہ تسلی بھی تھی کہ
ماہی کی وجہ سے ولید بار بار برباد ہو رہا تھا۔
شاید اُس کا ہٹ جانا ہی بہتر تھا…

حارث نے فون زور سے پھینکا، اور دوڑ لگا دی…
آنکھوں میں ایک خالی پن، دل میں ایک عجب ٹھہراؤ…

جب وہ اُس جگہ پہنچا — جہاں ٹرک جلا تھا،
راکھ، لوہے کے جلے ہوئے فریم، اور دھوئیں کے مرغولے اب بھی فضاء میں تیر رہے تھے۔
اُس نے موبائل نکالا، اور صرف ولید ہی نہیں
بلکہ سب کو ایک ہی میسج بھیجا
ماہی مل گئی ہے…
اور ساتھ ہی لوکیشن بھی بھیج دی۔
اس کے نزدیک یہ منظر بہت خوبصورت تھا…
اور وہ چاہتا تھا کہ سب یہ دیکھیں۔
ماہی کا اختتام… ولید کا زوال… اور اُس کی فتح۔۔..

اور جب ولید اُس جگہ پر پہنچا، جہاں حارث نے اُسے بلایا تھا…
اُس کے سامنے ایک ٹوٹا پھوٹا، جلا ہُوا ٹرک کھڑا تھا… جو ہولناک حد تک راکھ بن چکا تھا۔
ہر طرف سے جلنے کی بو، دھواں، اور بےحسی کا عالم چھایا ہُوا تھا۔
اور مسکان کے پیغام نے یہ یقین دلا دیا تھا کہ اسی تباہ شدہ ٹرک میں ماہی تھی۔۔۔
حارث کو ثبوت دینے کے لیے حامد آگے بڑھا اور جھکے ہاتھوں اُس تباہ شدہ ٹرک کے ملبے سے ایک جلا ہوا دوپٹہ اور ایک پگھلا ہُوا زیور نکالا —
یہ دیکھیں… یہ  ہے، ماہی کا…
حامد کی آواز میں سرد مہری تھی۔
کیونکہ ماہی کی لاش… مکمل طور پر جل چکی تھی، پہچان کے قابل نہ رہی تھی۔
ولید کی آنکھوں کے سامنے سب دھندلا گیا تھا…
دوپٹہ، جسے کبھی اُس نے خود ماہی کے لیے خریدا تھا،
آج راکھ بن چکا تھا۔
ہر شے خاموش تھی…
سوائے اس کی دھڑکن کے،
جو اب بے ترتیب چل رہی تھی۔
آنکھیں پھیلی رہ گئیں، سانس جیسے سینے میں ہی اٹک گئی، اور دل کی دھڑکن…
بس ایک ہی صدا دیتی رہی نہیں… یہ خواب ہے، یہ حقیقت نہیں ہو سکتی۔
جلی ہوئی راکھ، ٹرک کا مسخ چہرہ،
فضا میں دھواں، جلتی ہوئی لکڑی کی بُو،
ولید کے ہونٹ کپکپا گئے،
قدم لڑکھڑا گئے، اور وہ بےیقینی کی حالت میں بس منظر کو تکنے لگا،
کیا واقعی ماہی… اُس کے ہوتے ہوئے…
کیا وہ اُسے بچا نہ سکا؟

حارث کی آواز گونجی—  ایک زہر آلود فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ
کہا تھا نا میں نے؟ دیکھ کر دکھایا…
سارے فساد کی جڑ تھی ماہی۔
کاٹ ڈالی میں نے… اب زندگی میں صرف سکون ہی سکون ہوگا۔۔۔
ولید نے پلٹ کر اُسے دیکھا، نظریں خون اُگل رہی تھیں،
چہرہ سن ہو چکا تھا، اور اندر جیسے کچھ ٹوٹ کر بکھر چکا تھا…
ماہی…جس کی ہنسی اُس کے دن کی روشنی تھی،
وہ اگر گئی تھی… تو ولید کا آسمان بھی ساتھ لے گئی تھی۔
ولید زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا،
سامنے وہی ٹرک جو کبھی رُخِ زندگی کی طرف رواں تھا،
آج موت کی بے رحم گواہی دے رہا تھا۔
شعلے بجھ چکے تھے،
مگر راکھ سے اٹھتی تپش نے ولید کے دل میں وہ آگ لگا دی تھی جو اب کبھی نہیں بجھنی تھی۔
ولید کی آنکھوں سے آنسو نہیں، انگارے برس رہے تھے۔
ادھر دیکھ حارث… میری طرف دیکھ…
میری آنکھوں میں دیکھ ۔۔  کیا تُجھے مُجھے پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔۔۔

حارث کے چہرے پر سرد مہری چھائی رہی۔
ترس ہی آیا تھا، تبھی تو مار دیا…
تاکہ تُو ہر بار کی طرح اُس کی وجہ سے برباد نہ ہو۔

اور تب… ولید کو لگا جیسے اُس کی روح کا آخری کنارہ بھی ٹوٹ گیا ہو۔
تو ہمیشہ سوچتا تھا نہ،
دو بھائی کیسے ایک دوسرے کو تباہ کر سکتے ہیں…
دیکھ ایسے کر سکتے ہیں۔۔۔
جیسے تُو نے لگا دی میری خوشیوں کو آگ…
حامد خاموش کھڑا رہا،

ولید نے وہ کپڑا اٹھایا، آنکھوں سے لگایا،
اور پھر جیسے ایک ایک یاد، ایک ایک پل،
ماہی کی مسکراہٹ، اُس کی آواز، اُس کے آنسو،
سب کچھ ذہن میں کسی فلم کی طرح گھومنے لگا۔
ماہی…
ایک ٹوٹی ہوئی، روتی ہوئی پکار…
جس میں صرف درد تھا، صرف ویرانی۔
کھڑے ہو کر، مجھے لڑتا دیکھ رہے تھے،
میرے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے کیا؟
ماہی کی وہ آواز گونجی— پہلی ملاقات میں کہا گیا وہ جملہ، جو دل پر لکھا گیا تھ
ا
تمہیں ڈر لگ رہا ہے مجھ سے؟
جب وہ تینوں مووی دیکھ رہے تھے

ایک لڑکے کا سر پھاڑ دیا تھا میں نے۔۔۔
جب وہ ولید کے گھر آئی تھی،

تم بولتے بھی ہو؟ مجھے تو لگا گونگے ہو۔۔۔
جب وہ ایم ڈی کا بندہ بنا ہوا تھا۔۔۔

یہ… یہ نہیں، یہ نہیں کرنا…
ماہی ایسی گاڑی میں جا کر بیٹھ جائے گی…
اسے انجیکشن سے ڈر لگتا تھا… ولید کو یہ بات آج بھی یاد تھی۔۔

ابھی میں تم لوگوں کی باس ہوتی نا،
تو ایسے اصول بناتی کہ سب خوش ہو جاتے۔۔۔

تم مجھے کچھ کرنے کیوں نہیں دیتے ہو؟
تمہیں کیا لگتا ہے، میں جو بھی کام کروں گی،
وہ خراب کر دوں گی؟

ہی ہی ہی… بہت اچھے بندے سے سیکھی ہے فائٹنگ۔۔
یہ غلطی سے ماہی نے ولید کی تعریف کردی تھی۔۔

تم وزیرِاعظم ہو یہاں کے؟ جو تم کہو گے، سب وہی کریں گے؟
ولید کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
ایک ایک جملہ، ایک ایک لمحہ، جیسے دل کے پردے پر کندہ ہو گیا تھا۔

تم ایک نمبر کے جاہل انسان ہو۔۔۔۔
ماہی نے غصے میں کہا تھا… مگر وہ غصہ بھی کیسا خوبصورت تھا۔۔۔
ماہی کبھی جھوٹ نہیں کہتی۔۔
تم پر تو بالکل یقین نہیں ہے۔۔۔
تو تم بچا لو مجھے خطرے سے…
اور آج… وہ خطرہ خود ماہی کو نگل چکا تھا۔
اور وہ، جس پر ماہی نے آخری بار یقین کیا تھا— وہی اسے کھو بیٹھا تھا۔
ولید اب کچھ نہیں سن پا رہا تھا…
صرف ماہی کی آوازیں تھیں،
یادیں تھیں،
اور ایک پچھتاوا،
جو شاید عمر بھر اس کا ساتھ نہ چھوڑے گا۔
اسے حامد پر، مسکان پر، حارث پر یقین نہیں کرنا چاہیے تھا…
اس نے اپنے عزیزوں پر بھروسہ کیا،
اور انہی عزیزوں نے اس کی عزیز جان کو چھین لیا…

کسی نے ایک بار بھی ولید کے دل کا حال نہ سوچا،
ماہی سے نفرت کرتے کرتے، وہ سب ولید کو بھول گئے۔
اُسے ماہی کے معاملہ میں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔

فضا میں آگ کی بو اب بھی باقی تھی، ٹرک کے قریب کھڑے سب چہروں پر دکھ، پچھتاوا، غصہ اور بےبسی کی ایک تصویر بنے ہوئے تھے

ہم نے بالکل صحیح کیا ہے ولید…
وہ سب سے بڑی مصیبت تھی تیری زندگی کی…
ایک تو تیری سنتی نہیں تھی، اوپر سے ہر بار تجھے مصیبت میں ڈال دیتی تھی…
اور پھر تو… ہر بار اسے بچانے کے چکر میں خود جلتا تھا…
ایک دوست ہونے کے ناطے میرا فرض تھا…
کہ تیری زندگی سے ہر تکلیف دینے والی چیز کو نکال باہر پھینکوں… حامد نے نرمی سے کہا

چپ کر جا، چپ کر جا!!!
جو کچھ وہ کرتی تھی، میرے ساتھ کرتی تھی…
تجھے کیا پرابلم ہے، ہاں؟ وہ چلایا۔۔۔

حامد پر جو روپ آج ولید نے دکھایا، وہ ناقابلِ یقین تھا۔۔۔

جیسے میں نے تجھے دوستی کا حق دیا تھا،
ویسے ہی ماہی کو بھی وہی حق حاصل تھا…
وہ جو کچھ میرے ساتھ کرے، مجھے فرق نہیں پڑتا!
بس… وہ خوش رہے، یہی کافی تھا میرے لیے…
اور تم دونوں نے وہ سب ختم کر دیا…
ماہی مصیبت نہیں تھی۔۔۔ ماہی میری زندگی تھی۔۔۔
ولید نم آنکھوں، ٹوٹی ہوئی آواز
خود ہی ڈرتا تھا نا… ہابیل قابیل کی کہانی سے؟
کہیں ہم ویسے نہ بن جائیں…
لیکن دیکھ…
تو خود ہی قابیل بن گیا۔۔۔
ماہی کو نہیں مارا تُو نے۔۔۔
تُو نے اپنے بھائی کو مارا ہے۔۔۔
میرے جینے کی وجہ چھین لی تُو نے،
میرے دل کی دھڑکن… میری روشنی… میری سانس…
سب کچھ ختم کر دیا…
وہ دوپٹہ مٹھی میں بھینچتے ہوئے، بےبسی کے آنسو روتے کہہ رہا تھا چلا رہا تھا….
اب تُو زندہ ہے، میں نہیں…
اتنے میں مسکان بھی موقع پر پہنچ گئی۔۔۔
اس نے ماہی کے ٹرک کی لوکیشن اپنے فون پر سیٹ کر رکھی تھی، تاکہ جیسے ہی ماہی دوسرے شہر پہنچے، اسے خبر ہو جائے…
مگر یہ منظر دیکھ کر، اس کے قدم بھی ڈگمگا جاتے ہیں…
حارث نے سرد لہجے میں مسکان کو دیکھتے کہا
آؤ آؤ، تم بھی دیکھ لو ماہی کی موت۔۔۔
اب تو سب کچھ واضح ہے۔۔۔

ولید…
الفاظ اس کے لبوں پر آ کر اٹک گئے، نہ تسلی دے پاتی ہے، نہ معافی مانگ پٹی

چھوڑ دو اسے، ابھی تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ حارث نے لاپروائی سے کہا

کیا واقعی اتنا آسان تھا؟ ولید کا ٹھیک ہونا
سب گھر والے بھی پہنچ چکے تھے،
اور یہاں… قیامت کا منظر تھا۔۔۔
ہر طرف چیخ و پکار، آنسو، غصہ، ماتم…
ہر شخص حارث کو قصوروار ٹھہرا رہا تھا…
حارث کے والد نے اسے طمانچہ بھی مارا، مگر وہ ویسا ہی بے حس کھڑا رہا…
ارشد  صاحب مسلسل دھمکی دے رہے تھی
ہم تجھے جیل بھیج دیں گے، تو قاتل ہے ماہی کا۔۔۔۔
سونیہ پھوپو روتے روتے بددعائیں دے رہی تھیں،
نازیہ بیگم بھی رو رہی تھی… مگر وہ خاموش تھی…
بس ایک سسکی تھی جو بار بار ٹوٹتی تھی…
مینی ایک طرف بت بنی بیٹھی تھی،
اور مہر اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی…
حفصہ بیگم  بھی رو رہی تھی…
کون نہیں روئے گا ایک جوان بیٹی کی موت پر؟
نور یہاں نہیں تھی۔۔۔
وہ گھر پر تھی، ماہ نور کے ساتھ،
انھیں ابھی علم تک نہیں تھا کہ یہ قیامت ٹوٹ چکی ہے…
اور ولید…
وہ اب بھی زمین پر بیٹھا تھا،
اپنی مٹھیوں میں ماہی کا جلا ہوا دوپٹہ، زیور اور ٹوٹا ہوا کڑا لیے…
خاموش، ساکت، اور… ٹوٹا ہوا۔
زخم جسم پر نہیں تھے، روح پر تھے، دل پر تھے… اور شاید… وہ کبھی نہیں بھر سکتے تھے۔
سب رو رہے تھے ..
ہر آنکھ اشکبار تھی…
ہر دل غمزدہ…
سوائے اُس کے جس سے ماہی نے محبت کی تھی۔

وہ وہیں کچھ دُور کھڑی تھی… خاموش، ساکت…
اور آنسو اُس کی آنکھوں سے تب تب گر رہے تھے
بس خاموشی سے کھڑی، یہ منظر دیکھتی رہی…
پھر اُس نے ولید کو اُٹھتے دیکھا…
اور اگلے ہی لمحے… ولید نے حارث کا کالر پکڑ لیا۔
وہ آنکھیں جن میں کبھی صرف محبت ہوتی تھی،
آج اُن میں صرف نفرت تھی، دُکھ تھا، اذیت تھی بھائی کی دی ہوئی ازیت ۔۔۔

1…
2…
3…
چماٹ پہ چماٹ… وہ مارتا گیا…
ہر چماٹ کے ساتھ ولید کی چیخ نکلتی،
لیکن زبان سے نہیں… دل سے… روح سے۔

(ماضی…)

مسکان نے ماہی کو بے ہوش کر کے ٹرک میں ڈال دیا تھا، اور اپنے فون میں ٹرک کی لوکیشن سیٹ کر کے وہاں سے جا چکی تھی۔
ٹرک ابھی زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ حامد وہاں تک پہنچ گیا۔
ماہی کا لوکیشن ابھی کسی کو پتا نہیں چلا تھا، بس حامد کو شک تھا، کیونکہ وہ مافیا کا بندہ تھا، اسے اندازہ تھا کہ ماہی کیسے اور کن ذرائع سے شہر سے باہر جا سکتی ہے۔
اور اس نے اپنے ممبر کو پہلے ہی کہا ہوا تھا، کہ اگر ماہی کہیں ملے تو سب سے پہلے اُسے اطلاع دے۔
سارے ٹرکس چیک کرتے کرتے حامد اس ٹرک تک بھی پہنچ گیا… اور بالآخر، ماہی اُسے مل گئی۔ وہ ٹرک کو رکواتا ہے، ڈرائیور کو سائیڈ پر کرتا اور ماہی کو باہر نکلتا۔۔۔۔
پھر اُسے ہوش میں لانے کی کوشش کی۔۔۔
کچھ دیر کی کوشش کے بعد ماہی کو ہوش آیا۔م۔۔

شکر ہے تمہیں ہوش آیا… ادھر، ابھی میری بات سنو!
جلدی جلدی بولتا ہے جیسے وقت بہت کم ہو۔۔۔

یا اللّٰہ… اب تم؟ ماہی حیرانی سے حامد کو دیکھا۔۔

یہ کپڑے چینج کرو… اور جیسے میں بولوں، ویسا ہی کرو….
دل ہی دل میں بھی بڑبڑاتا.. قسم سے اگر ولید اس سے محبت نہ کرتا، تو میں خود اس کا گلا گھونٹ دیتا…

ماہی کچھ نہیں کہتی، لیکن چہرے سے صاف لگ رہا تھا، وہ حامد کی کوئی بات ماننے والی نہیں ہے…

تم اتنی ضدی اور arrogant کیوں ہو؟ پتا نہیں ولید کیسے برداشت کرتا ہے تمہیں! کبھی کسی کی سن بھی لیا کرو…

تم یہاں مجھے باتیں سنانے آئے ہو؟

نہیں… تمہیں بچانے آیا ہوں…

کیوں؟

کیونکہ… اگر تم مر گئی، تو کوئی اور بھی مر جائے گا… اور میں اسے مرتے نہیں دیکھ سکتا…

مجھے وہ اچھا نہیں لگتا…

تو میں کون سا تمہاری اُس سے شادی کروا رہا ہوں؟
وہ ہنسا لیکن آنکھوں میں درد جھلک رہا تھا۔۔۔

دیکھو، میں تمہیں مار دوں گا — لیکن تم زندہ رہو گی…  بس ماحول ایسا بناؤں گا کہ سب کو لگے تم مر چکی ہو…
پھر اپنی آنکھوں سے دیکھنا حارث کا ریئیکشن…
اور پھر تم جو صحیح سمجھو، وہ کرنا…
لیکن جب تک میں نہ کہوں، باہر مت آنا…

ماہی نے چپ چاپ سر ہلایا۔۔۔
ہاں، وہ مان گئی تھی۔
شاید وہ بھی دیکھنا چاہتی تھی… کیا واقعی اگر وہ مر گئی، تو کسی کو فرق پڑے گا…
یا نہیں۔ اب دو کپڑے…

حامد جو کپڑے لے کر آیا تھا، ماہی نے  وہ لے لیا۔۔ اور کار کی پچھلی سیٹ پر جا کر چینج کرلیا۔۔۔

حال۔۔۔

ارشد صاحب غصے سے پاگل ہو چکے تھے، اُن کی آنکھوں میں خون اُترا ہوا تھا، چہرہ تمتمایا ہوا اور آواز میں لرزش تھی جیسے ضبط کا آخری کنارہ ٹوٹ چکا ہو۔
مار دو! مار دو اس کو… زِندہ نہیں چھوڑنا اسے….

اور حارث۔۔۔ وہ بےحس بنا، آنکھیں جھکائے کھڑا تھا جیسے اُسے کوئی پچھتاوا ہی نہ ہو۔۔۔
ارشد صاحب غصے سے دوبارہ بولے…
پولیس آئے یا نہ آئے۔۔۔
یہ بچنا نہیں چاہیے۔۔۔
ماہی تو چلی گئی۔۔۔
اب اگر یہ زندہ رہا،
تو ہم سب روز مریں گے اُس کے دکھ میں۔۔۔

اور پھر۔۔۔
جب صبر کی حد ٹوٹ گئی،
جب دل کی دھڑکنیں چیخنے لگیں،
جب آنکھوں کے پردے آنسوؤں سے دھندلا گئے…
ماہی سے اب یہ منظر برداشت نہ ہوا۔
وہ، جو کار کے پیچھے چھپی ہوئی تھی،
دل تھامے، سانس روکے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہر چیخ، ہر طعنہ، ہر تھپڑ، ہر آہ۔۔۔
اس کے دل پر نقش ہو رہا تھا۔
اور پھر۔۔۔ وہ خاموشی سے،
آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ہوئی آگے آئی۔۔۔
ہر قدم کے ساتھ سب کی سانسیں تھمتی گئیں۔
وہ قریب آئی۔۔۔
اور بہت نرم، لرزتی آواز میں پکارا
ولید۔۔۔
یہ آواز گویا کسی نے صدیوں بعد کسی قبر سے پکاری ہو۔۔۔

ولید کے کانوں میں جیسے بجلی سی کوندی،
اس نے آہستہ سر اٹھایا۔
وہ ماہی تھی۔۔۔
زندہ۔۔۔
سچ میں زندہ۔۔۔
آنکھوں کے سامنے۔۔۔
اور ولید کی آنکھیں پھٹ گئیں، لب کپکپائے،
ماہی۔۔۔؟
بس اتنا ہی نکلا اس کے منہ سے۔
اور پیچھے سب۔۔۔

ماہی…
مسکان نے جیسے ہی ماہی کو دیکھا، اس کا چہرہ، اس کا وجود… آنکھیں پھاڑ کے بس وہی دیکھتی رہی۔

ماہی؟
مینی بے یقینی میں اس کا نام لیتی ہے جیسے دل کہہ رہا ہو  نہیں… یہ خواب ہے۔۔۔
اور سامنے، ماہی خاموش کھڑی تھی،
ایسی خاموشی جیسے صدیوں کا درد اس کے اندر دفن ہو،
لیکن چہرے پر سکون… ایک تھکا ہوا، زخموں سے لٹا ہوا سکون۔
سب کے قدم جیسے زمین سے چپک گئے۔
زبانوں پر تالے، سانسیں اٹک گئی تھیں،
صرف آنکھیں بول رہی تھیں… حیرانی، خوشی، شرمندگی، محبت، اور وہ سب کچھ جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا۔

یا اللہ… میں نے تو منع کیا تھا… یہ لڑکی کسی کی نہیں سنتی…حامد اُسے دیکھ دِل ہی دل میں بڑبڑایا

مینی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، لیکن وہ آنسو خوشی کے تھے۔
اسے لگا جیسے اس کا رب سن رہا ہو…
اس نے اپنی سب سے قیمتی دوست کو بچا لیا تھا۔

سونیہ پھوپو نے بے اختیار آگے بڑھ کر ماہی کو گلے لگا لیا۔
میری بچی… میری ماہی… میری جان۔۔۔
ان کی چیخ سی نکلی،
جیسے دل میں دبا ہوا سارا درد، ایک ہی لمحے میں باہر نکل آیا ہو۔
وہ رو رہی تھیں… شکر ادا کر رہی تھیں۔
اور ولیـد؟
وہ تو جیسے دنیا بھول گیا تھا…
ماہی کی واپسی کی خوشی ابھی زباں پر آئی بھی نہ تھی کہ حارث نے پھر سے سب کے چہروں پر خوف طاری کر دیا۔ اس نے تیزی سے حمید کے ہاتھ سے بندوق چھینی۔۔۔
اس کی آنکھوں میں جنون تھا، لہجہ زہر سے بھرا ہوا، اور ہاتھ میں بندوق، جو اب پھر سے ماہی کی طرف اُٹھی تھی۔
تمہیں لگتا ہے، میرے ہاتھوں ہی مرنا ہے۔۔۔؟
اور اس بار۔۔۔ گولی واقعی چل گئی۔
حارث۔۔۔۔
ولید کی چیخ فضا چیر گئی۔
اُس نے بجلی کی سی تیزی سے حارث کی بندوق کا رُخ اوپر کی طرف موڑ دیا،
گولی آسمان کی طرف چلی گئی۔

میں تجھے مار دوں گا!!!
ولید کا چہرہ غصے سے سرخ، آنکھیں انگاروں کی طرح دہکنے لگی تھیں۔
تو میری بات کیوں نہیں سمجھتا حارث؟!!
یہ وہ ولید تھا جو کبھی اپنے بھائی کو اونچی آواز میں بات کرتے بھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
لیکن آج۔۔۔ ماہی کی جان کی قیمت پر وہ خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔
حارث خاموش کھڑا تھا، جیسے کسی نے دل کے عین بیچ تیر مار دیا ہو۔
وہ صرف ایک لمحے کو ولید کی آنکھوں میں جھانک کر بولا
میں نے اُس دن بھی کہا تھا نا۔۔۔ یا میں، یا وہ۔۔۔
The choice is your ۔
تو بول نہیں بول میں تو ویسے بھی تیرے دل کا حال جان لیتا ہوں ۔۔۔
اب بھی تیرے بولنے سے پہلے ہی جان گیا ہوں۔۔۔
وہ آہستہ سے بندوق دوبارہ لوڈ کرنے لگا تھا۔

تیری چوائس ماہی ہے۔۔۔
یہ کہہ کر حارث نے ایک آخری نظر ولید پر ڈالی۔۔۔ وہ نظر جس میں دکھ، محبت، اور شکست سب کچھ تھا
پھر۔۔۔ اس نے بندوق اپنی کنپٹی پر رکھی۔۔۔
اور ٹَھاک!
گولی چل چکی تھی۔۔۔
سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔
حاااارث!!!
اُس کے ہاتھ خون سے رنگ گئے، پر وہ اپنے بھائی کو بچا نہ سکا
ایک چیخ۔۔۔ ایک گولی۔۔۔ اور ہمیشہ کا سکوت۔
حارث، جس سے وہ لڑا، جس سے نفرت کی، جسے مارنے کا کہا —
اب اُس کے بازوؤں میں تھا، بے جان۔۔۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

1 Comment

  1. Ye kayyyyy haris 🙂😭🤌🏻ye kqy hu rahaha haaaaa whyyy hariss whyyyy abyy jeeneee duu wali kooooo 😭🤌🏻🔪🔪

Leave a Reply to Eman Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *