Dil ya dharkan Last Episode written by siddiqui

دِل یا دھڑکن ( از قلم صدیقی )

آخری قسط۔۔۔۔

حارث دروازہ دھکیلتے ہُوا اندر آیا۔۔۔۔
ہو گیا تیار؟
ولید آئینے کے سامنے کھڑا، برش بالوں میں چلاتا ایک لمحے کو خاموش رہا۔۔
پھر برش میز پر رکھتے ہوئے بس ایک “ہمم” میں جواب دیا۔۔۔۔
حارث سنجیدگی کو چھپاتے ہوئے شوخی سے کہا
اوہ! کیا ہوا؟ کسی کی میّت پہ نہیں جا رہے، تیرا نکاح ہے۔
اور تو دیکھ اپنا منہ! ایسے جیسے ماما نے مار مار کے تُجھے شادی کے لیے منوایا ہو۔
واقعی، ولید کے چہرے پر وہ چمک، وہ خوشی نظر نہیں آ رہی تھی جو ایک دولہے کے چہرے پر ہونی چاہیے۔
جو رونق اُس کے چہرے پر مایوں کے دن تھی… اب وہ جیسے کہیں کھو گئی تھی۔
ولید نظریں چراتا اور حارث کی بات کو نظر انداز کیے کہا۔۔۔حامد کہاں ہے؟ آیا وہ؟

آ گیا ہے… نیچے ہے۔۔ تو بتا کیا سوچ رہا ہے۔۔۔ حارث نے سنجیدگی سے جواب دیا

رہنے دے تُو… تُو نے میرا دل توڑا ہے۔ اب مجھ میں تُجھ پر بھروسہ باقی نہیں رہا۔ ولید نے تخلی سے سر جھکتا۔۔۔
حارث کے اندر کچھ ٹوٹا لیکن اُس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔
تو پھر بھی اب بھی مجھ سے ہی بات کرے گا کہ تجھے اب کونسی بات پریشان کر ربی ہے؟
ولید کے تلخ جواب نے اُسے تکلیف ضرور دی تھی، لیکن دل کے کسی کونے میں شکر بھی کیا کہ ولید نے بات چیت تو بند نہیں کی… چھوڑ کر تو نہیں گیا۔۔۔
میں تیرے اور ماہی کے کہنے پر ہاں تو کر چکا ہوں…
لیکن دل میں کہیں نہ کہیں اب بھی شک ہے کہ ماہی واقعی یہی چاہتی ہے؟
کہیں تُو نے اُسے کوئی دھمکی تو نہیں دی؟
یا پھر… وہ کہیں مجبور تو نہیں؟ ولید نے آہستہ سے کہا

تُو پاگل ہے کیا؟ میں کیوں دوں گا اُسے دھمکی؟
پھر ہونٹ بھینچتے ہوئے جھنجلایا۔۔۔۔
اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں خود تیری بھی شادی اس سے نے کرواتا۔۔۔۔ حارث نے دانت پیستے کہا

جو بھی ہے، میرا دل نہیں مانتا… کچھ ہے جو ٹھیک نہیں لگ رہا۔ ولید کا دل مانے کو ابھی بھی تیار نہ تھا ایک ڈر تھا جو ختم نہیں ہوکے دے رہا تھا۔۔۔

حارث نے نرمی سے کہا، وہ صرف ولید کے سامنے یا ولید کے معاملے میں ہی نرمی سے پیش آسکتا تھا۔۔۔
وہ اپنی مرضی سے کر رہی ہے تُجھ سے شادی…
اور ہسپتال وہ مجھے منانے ہی آئی تھی۔
لیکن دل میں ایک آواز اسے بار بار کہتی
کیا وہ دل سے یہ سب کر رہی ہے؟
اسے لگتا تھا کہ ماہی ولید پر ترس کھا کر،
شاید کسی خاموش جذباتی قرض چکانے کے لیے شادی کر رہی ہے…)
(حارث جانتا تھا… یہ محبت نہیں تھی۔
یہ وہ ماہی نہیں تھی جو کسی سے سمجھوتہ کرتی۔
پھر کیا تھا یہ سب؟
یہی سوال اُسے مسلسل بےچین کر رہا تھا…)
میں نے نہیں بلکہ اُس نے مجھے دھمکایا ہے کہ اگر میں نے اُسے بھابھی accept نہیں کیا تو وہ تُجھے مُجھے سے دور کر دے گی۔۔۔
حارث کے لہجے میں خفگی بھی تھی اور ایک چھپا سا دکھ بھی۔۔۔

کیا۔۔۔؟ وہ بے یقینی سے مسکرایا، جیسے کوئی انوکھا مزاق سن لیا ہو۔
قسم سے، تم دونوں ایک جیسے ہو۔۔۔

تو اب ہنس کیوں رہا ہے؟ یہ کوئی جوک تو نہیں تھا۔۔۔
حارث نے منہ بنا کر کہا، اور آنکھیں تریچھی کر کے اُسے گھورا۔

دونوں کو بس ایک ہی کام آتا ہے۔۔۔ چلانا اور دھمکی دینا۔۔۔
وہ قہقہہ مار کر ہنسا، جیسے ابھی ابھی کوئی بڑی حقیقت سامنے آئی ہو۔

حارث نے لب بھینچ کر ایک گہری سانس لی،
ہنسی نہیں آ رہی مجھے۔۔۔ وہ واقعی سیریس تھی۔۔۔

اور تم بھی تھے نا سیریس۔۔۔ جب اُس پر چیخ رہے تھے؟
اس بار اُس کی مسکراہٹ میں شرارت نہیں، سمجھ تھی۔۔۔

آیا بڑا میں نے صحیح اُس پر چیخا تھا۔۔۔چل اب نیچے ۔۔۔ سب انتظار کر رہے۔۔۔ اور فضول کا سوچنا چھوڑ دے ۔۔ وہ اُسے ساتھ لیتا سمجھتا روم سے نکل گیا۔۔۔

++++++++++

پورے گھر کو رنگ برنگی فینسی لائٹس سے سجا دیا گیا ہے۔ دروازے سے لے کر چھت تک ہر کونا جگمگا رہا ہے۔ باہر گیٹ پر سفید اور گلابی پھولوں کا ایک بڑا سا “Welcome” آرچ بنا ہے، جس کے درمیان “Waleed weds Mahi” لکھا چمک رہا ہے۔۔۔

اندر داخل ہوتے ہی فرش پر گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی ہیں، اور دیواروں پر fairy lights کا جال بچھا ہے۔ چھوٹے چھوٹے lanterns اور scented candles کی مہک فضا میں گھل چکی ہے۔ کمرے کے کونے میں DJ کی rhythm پر بچے، لڑکیاں اور مہمان جھوم رہے ہیں۔
ڈرائنگ روم۔۔۔۔۔
یہاں خاص مہمانوں کے لیے white and gold theme رکھا گیا ہے۔ صوفوں پر designer cushions، center table پر fresh flowers اور کونے میں ایک فوٹو بووتھ – جہاں لوگ “bride tribe”, “dulha in love”, “crazy cousins” جیسے props کے ساتھ تصاویر کھنچوا رہے تھے۔۔۔
لاؤنج ایریا
لاؤنج ایریا کو آج کچھ یوں سجایا گیا تھا دیواروں پر ہلکے گلابی اور سفید رنگ کے پردے جھول رہے تھے، جن پر چھوٹی چھوٹی fairy lights جگمگا رہی تھیں، جیسے ہر روشنی نکاح کی خوشی میں جھوم رہی ہو۔
کمرے کے وسط میں ایک خوبصورت سا stage بنایا گیا تھا، جس پر سفید اور ہلکے سنہری رنگ کا صوفہ رکھا گیا تھا- دلہن اور دلہا کے بیٹھنے کے لیے۔ صوفے کے پیچھے soft floral backdrop تھا، جس پر تازہ گلاب، موتیے اور آرکڈز کے پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں، اور ان کے بیچ بیچ میں delicate hanging lanterns جھولتے تھے۔
فرش پر سفید قالین بچھایا گیا تھا، جس کے دونوں اطراف پھولوں سے سجے aisle کھینچے گئے تھے، جیسے نکاح کے لمحے کو کسی شاہی قصے کا منظر بنا دیا گیا ہو۔ corner table پر عود کی خوشبو مہک رہی تھی، اور subtle instrumental موسیقی ماحول کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔
مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے ivory رنگ کی کرسیوں پر گلابی satin کی بانڈز بندھی تھیں، اور ہر سیٹ کے ساتھ ایک چھوٹا سا personalized thank-you card بھی رکھا گیا تھا۔

منی اِدھر اُدھر بھاگتے آج بہت زیادہ خوش نظر آرہی تھی ۔۔۔سرخ رنگ کے بھاری کام والے خوبصورت فراک میں، جیسے کوئی افسانوی کہانی کی شہزادی ہو۔ لمبا، گھیر دار فراک جس پر نفیس گولڈن زری کا کام اور چھوٹے چھوٹے سفید ستاروں کی جھلکیاں اسے کہیں زیادہ دلکش بنا رہی تھیں۔
فراک کے ساتھ میچنگ دوپٹہ شانوں پر ایسے رکھ کر لپیٹا گیا تھا جیسے کوئی شاہی رانی اپنے وقار کے ساتھ چل رہی ہو۔ دوپٹے کی بارڈر پر نازک زری کا کام اور ہلکی ہلکی جھلملاتی گوٹہ کناری دور سے ہی اپنی خوبصورتی کا احساس دلا رہی تھی۔
منی نے اپنی کمر تک آتے ہوئے سلکی بالوں کو نرم کرل میں ترتیب دیا تھا، اور ماتھے پر ہلکا سا جھکتا ہوا جھومر اور کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے اس کے روپ کو مکمل کر رہے تھے۔ اس کا میک اپ بھی بہت نفیس اور ہلکا تھا۔ ہلکی سی پنک لپ اسٹک، گولڈن شیمر آئی شیڈو اور آنکھوں میں کاجل کی ہلکی لکیر – سب کچھ بہت قدرتی انداز میں تھا۔۔۔
گلے میں باریک مگر قیمتی ہار، اور ہاتھوں میں سرخ اور سنہری چوڑیاں، جن کی کھنک ہر بار جب وہ ہنستی یا بولتی تو پورے ماحول کو مہکا دیتی تھی

تبھی پیچھے سے سونیا پھوپو کی آواز آئی:
مینی۔۔۔ ولید آچکا ہے نیچے۔ اب ماہی کو لے آؤ، نور اُس وقت سے کمرے میں ہی ہے۔

جی پھوپو۔۔۔
اس نے سر ہلایا، اور سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ یکدم۔۔۔
کسی نے اُس کا نازک ہاتھ تھام کر اُسے زور سے ایک طرف دیوار کی سمت کھینچ لیا۔
آہ۔۔۔۔۔۔
وہ بمشکل اپنا توازن برقرار رکھ پائی۔ دل ایک پل کو جیسے سینے سے نکل کر ہاتھ میں آگیا ہو۔ گھبرا کر نظر اُٹھائی۔۔۔ تو سامنے وہ تھا۔
آنکھوں میں شدت، چہرے پر تناؤ، اور سانسیں بھاری۔۔۔
تُم۔۔۔ تم کیا کر رہے ہو یہ؟
مینی نے کانپتی آواز میں پوچھا، مگر لہجے میں اب بھی وہی روایتی اکڑ تھی۔

ایک بات سچ سچ بتاؤ گی۔۔۔ حارث نے اس کی آنکھوں میں اپنی غصے سے بھاری بھوری آنکھیں گارے کہا۔۔۔۔

ہاں ہاں جلدی پوچھے۔۔ مینی کی آواز اب بھی کپکپا رہی تھی۔۔۔

حارث کی نظروں نے اُس کے چہرے کو چھانا۔ پھر اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے، جیسے کسی فیصلے پر مہر ثبت کرنے والا ہو، وہ بولا:
یہ ماہی ولید سے شادی کیوں کر رہی ہے؟

مینی نے ایک لمحے کو سانس روکی، آنکھیں موند لیں، اور پھر جیسے کوئی لاوا اچانک پھٹ پڑا ہو، وہ بولی:
کیوں کہ اُسے سمجھ آگیا ہے۔۔۔
کہ آپ ایک نمبر کے بدتمیز، بے لحاظ، خود غرض، ضدی، خبطی،
خر دماغ، ہیبت ناک انسان ہیں۔۔۔
جو ہر بات میں اپنی مرضی تھوپتے ہیں،
اور۔۔۔ جو کبھی کسی کی محبت کی قدر کرنا سیکھ ہی نہیں سکتے۔۔۔

حارث کے لبوں پر ایک طنزیہ سا خم ابھرا، آنکھوں میں وہی چنگاریاں، مگر لہجہ نیچے دھمک سا گیا-
کیا جتنی اُردو آتی تھی… سب بول ڈالی؟

مینی کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، سانسوں کی رفتار تیز ہو گئی، اور وہ ایک لمحے کو جیسے الفاظ جوڑنے لگی۔ پھر وہ سینہ تان کر بولی۔۔۔
نہیں۔اصل ذخیرہ تو ابھی باقی ہے،
بس تم جیسے ناسمجھ لوگوں پر ضائع کرنا گناہ لگتا ہے۔۔۔

حارث نے بھنویں سکیڑتے ہوئے، ایک قدم آگے بڑھ کر اُس کی آنکھوں میں جھانکا۔
لہجہ اب سرد سا تھا، مگر چُبھتا ہوا
کبھی تُم… اور کبھی آپ۔۔۔۔
مینی کے چہرے پر ایک پل کو حیرت کے سائے لہرا گئے۔ کیا اس نے یہ نوٹس کرلیا سٹیلا اور کرن تو نہیں کرتی تھی۔۔۔
اس نے بمشکل لبوں پر قابو پاتے ہوئے نظریں چرائیں اور قدرے خجل سی آواز میں بولی
ہاں… وہ، عادت ہے۔
فلو فلو میں کبھی ‘آپ’، کبھی ‘تُم’ نکل جاتا ہے۔۔۔

اچھا تو تُم مُجھے آپ کہہ کر بلاتی ہو اور فلو فلو میں تُم نکل جاتا ہے۔۔۔ ؟ یا اس کا الٹا۔۔۔
مینی نے حارث کا چہرہ دیکھا اور دل ہی دل میں غصے سے بڑبڑائی۔۔ ہنہ آپ کہنا تو مجبوری ہے۔۔۔ ورنہ تو میں تمہیں درندا کہوں۔۔

ہاں ہاں آپ کہتی تُم نکل جاتا۔۔۔  آنکھیں چپکاتے معصومیت سے جھوٹ بولا۔۔۔۔
اب جانے دیں مُجھے۔۔۔ اس نے اتنا کہا اور حارث نے اس کا راستہ کھول دیا اور وہ تیزی سے یہاں سے نکل گئی۔۔۔

کُچھ دیر بعد دولہا اور دلہن آمنے سامنے بیٹھے تھے اور ان کے بیچ پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں، جو رنگوں کی خوبصورتی اور خوشبو سے ماحول کو مزید دلکش بنا رہی تھیں۔
ماہی سفید جوڑے میں سرخ دوپٹہ اورے دلہن کی طرح نزاکت سے بیٹھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
اور اس کے اندر ایک ہالچل مچ رہی تھی دل تیز تیز دھڑکا رہا تھا۔۔۔ عجیب عجیب سا محسوس ہورہا تھا
شادی کا فیصلہ اس کیا خود کا تھا پھر پھر دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔
اور یہاں ولید کی حالت بھی ماہی کے مختلف نہ تھی۔۔۔ وہ سفید شلوار قمیض میں سب کی نظروں کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔۔ اور اُسے سب کو دیکھ دیکھ ایک عجیب سی بےچینی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔
گھونگھٹ کی وجے سے ماہی سب کی تکتی نظروں سے محفوظ تھی۔۔۔ کِسی کو بھی اُس کا گھونگھٹ کے نیچے چھپا ہے چینی والا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔
کُچھ دیر بعد سب جمع ہوگئ اور قاضی صاحب نے نکاح پروانا شروع کیا۔۔۔۔
قاضی صاحب نے اپنے سامنے رکھے نکاح نامے پر نظر دوڑائی، عینک کو ناک پر درست کیا، اور محفل میں ایک گہری سنجیدگی چھا گئی۔ سب کی نظریں ولید پر جمی تھیں، اور دلہن کی جانب پردہ دار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
قاضی صاحب نے آہستہ سے کلام شروع کیا
الحمدللہ… نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ… اما بعد۔۔۔
ولید زویان احمد ولد محمد احمد… کیا آپ ماہی الیاس بنت الیاس کا نکاح، حق مہر مبلغ ایک لاکھ روپے نقد کے ساتھ، اپنے نکاح میں قبول کرتے ہیں؟

ولید نے ایک لمحے کو گہری سانس لی، نظریں جھکائیں، اور پورے یقین کے ساتھ کہا
جی ہاں، میں ماہی الیاس بنت الیاس کو اپنے نکاح میں قبول کرتا ہوں۔

قاضی صاحب نے سوال دوبارہ دہرایا
کیا آپ ماہی الیاس بنت الیاس کو اپنے نکاح میں قبول کرتے ہیں؟

ولید نے پہلے سے زیادہ واضح لہجے میں کہا
جی ہاں، میں قبول کرتا ہوں۔

تیسری مرتبہ قاضی صاحب نے رسمی سوال دہرایا، اور اس بار ولید کے لہجے میں ایک عجیب سا سکون اور خوشی کا رنگ تھا
جی ہاں، میں دل سے قبول کرتا ہوں۔

پھر قاضی صاحب کی نظر ماہی کے محرم خواتین پر پڑی، جو گواہ کے طور پر ساتھ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے ماہی کے قریب ہو کر وہی سوال دہرایا
ماہی الیاس بنت الیاس… کیا آپ ولید زویان احمد ولد محمد احمد کے ساتھ، ایک لاکھ روپے حق مہر کے عوض، نکاح قبول کرتی ہیں؟
ماہی کا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں تھا، مگر اس کے ہونٹوں کی جنبش نے سب کو وہ لمحہ محسوس کرا دیا۔ نرم سی آواز میں، تھوڑا جھجھکتے ہوئے، اُس نے کہا
جی… قبول ہے۔

قاضی صاحب نے سوال کو دوبارہ دہرایا، اور ہر بار ماہی کے جواب میں ایک نئی مضبوطی تھی
قبول ہے۔

قبول ہے۔
پھر قاضی صاحب نے نکاح مکمل ہونے کا اعلان کیا:
مبارک ہو، نکاح مکمل ہو چکا ہے۔ دونوں کے گواہوں کی موجودگی میں، شرعی طور پر یہ رشتہ بندھ چکا ہے۔ اللہ پاک اس رشتے کو برکت عطا فرمائے۔
محفل میں موجود چہروں پر خوشی کی چمک پھیل گئی۔ دل کی دھڑکنیں جو لمحہ بھر پہلے بےترتیب تھیں، اب ایک سکون بھری روانی میں ڈھل چکی تھیں۔ درود و سلام کی صدائیں بلند ہوئیں،

ماہی کے دل میں جیسے کسی نے اچانک خاموشی انڈیل دی ہو… وہ دھڑکن جو نکاح سے پہلے تیز تیز چل رہی تھی، اب جیسے لمحہ بھر کو رک گئی تھی۔ لمحہ، ایک ایسا لمحہ… جو ایک نئے سفر کی ابتدا تھا، لیکن اس کی روح کسی اور ہی خیال میں الجھی ہوئی تھی۔
جس رشتے کو وہ ہمیشہ ناپسند کرتی آئی تھی، جس نام سے وہ الجھن محسوس کرتی تھی، وہی نام اب اس کے نکاح نامے میں اس کا ہمسفر بن چکا تھا۔ حیرت، سکوت، بےیقینی – سب جذبات اس کے اندر ٹکرا رہے تھے۔
خدا کے فیصلے واقعی عجیب ہوتے ہیں۔ ماہی نے اپنے دل میں بہت کچھ سوچا تھا – لیکن تقدیر نے اُسے وہ دیا جس کی خواہش اس نے کبھی دل میں کی ہی نہ تھی۔
زندگی کا وہ باب، جو محبت، چاہت یا رضا سے کھلنا تھا، اب مصلحت اور نصیب کے قلم سے رقم ہو چکا تھا۔ اور ماہی… اُس نے سر جھکا کر، خاموشی سے، وہ سب قبول کر لیا جسے وہ کبھی قبول نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ایک پل کو اُس نے آنکھیں بند کیں، دل ہی دل میں کچھ پڑھا… شاید صبر کی کوئی دُعا، یا شکر کا کوئی خاموش کلمہ۔
پھر اچانک خوشیوں کا سیلاب امڈ آیا – ساری لڑکیاں شوخی سے ہنستے ہوئے بول اٹھیں:
چلو چلو، دلہن کا گھونگھٹ اٹھنے کا وقت ہُوا جاتا ہے….
لڑکوں کی طرف سے بھی آواز آئی، اب تو دکھا دو وہ چہرہ جس کے لیے بھائی نے ہاں کی…
قہقہوں اور شرارتی آوازوں کے درمیان، ماہی کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکنے لگا۔ ابھی ابھی جو دل خاموشی کی چادر اوڑھ چکا تھا، اب پھر بےچینی سے لبریز ہو گیا۔ سب نظریں اس پر تھیں – دلہن، جو پردے میں بیٹھی تھی، اب سب کی توجہ کا مرکز بننے والی تھی۔
دوسری طرف ولید کا چہرہ ایک نئے اضطراب میں ڈھل چکا تھا۔۔۔ پتہ نہیں ماہی کی آنکھوں میں کیا ہوگا۔۔۔ خوشی، غم، بےچینی، پچھتاؤ یا شکوہ یا مجبوری۔۔۔
پھر مہر نے دھیرے سے کہا
بسم اللہ پڑھ کے اٹھائیے گا جیجو… تاکہ نظر نہ لگے ہماری بھابھی کو۔۔۔
اور ساتھ مینی اور نور بھی مسکرانے لگی۔۔ ولید کے ساتھ ساتھ سب بے تاب تھی ماہی کا چہرہ دیکھنے کے لیے۔۔۔ کیا وہ مُسکرا رہی ہوگی یا رو رہی ہوگی۔۔۔
ولید نے آہستگی سے ہاتھ بڑھایا، جیسے کسی مقدس چیز کو چھونے جا رہا ہو۔ دھیرے سے ماہی کا گھونگھٹ سرکایا، اور وقت جیسے ایک لمحے کے لیے تھم سا گیا۔
گھونگھٹ کے نیچے وہ چہرہ تھا جو ہلکی روشنی میں بھی چمک رہا تھا، مگر حیرت اس بات کی تھی کہ وہاں نہ کوئی آنسو تھا، نہ کوئی گہری اداسی۔ چہرے پر بس ایک ہلکی سی، مگر پُراسرار سی مسکراہٹ تھی… جیسے سب کچھ جان کر بھی خاموش ہو، قبول کر کے بھی انکار کے کنارے پر کھڑی ہو۔

قریب کھڑی مینی نے فوراً بھنویں چڑھائیں اور منہ بنا کر کہا
کیا ماہی، تم روئی نہیں؟
نور نے بھی حیرت سے کہا، ہم تو سمجھے تھے گھونگھٹ کے نیچے ماہی زار و قطار رو رہی ہوگی…
ماہی نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں، ہنوز ہنستی ہوئی، اور نرمی سے، مگر بڑی گہری بات کہہ گئی
میں کیوں رونے لگی؟ رونا تو اُسے چاہیے زندگی تو اس کی برباد ہوگئی۔۔۔جیسے ایسی بیوی مل گئی ہے۔۔۔ ماہی مسکراتی ان سب کو دیکھتی اور پھر ولید کو دیکھی
ماحول قہقہوں سے گونج رہا تھا، ماہی کی باتوں میں شوخی تھ سب لڑکیاں ہنس رہی تھیں، نور نے چٹکی لی، مینی نے آنکھیں مٹکائیں۔
اچانک… ایک آواز آئی، جو قدرے طنز میں لپٹی ہوئی تھی، اور جس کی کسی نے توقع نہ کی تھی
اوہ بھلا یہ کیوں رونے لگا؟ اُسے تو اس بربادی سے ہی عشق ہے…
یہ جملہ حارث کا تھا۔
ایک لمحے کو سب ساکت ہو گئے۔ قہقہے اچانک جیسے جم گئے۔ بات ہلکی بلکی تھی لیکن حارث نے جس طنز سے کہا تھا سب ساکت ہوگئے تھے۔۔۔
ماہی نے پلکیں اٹھائیں اور حارث کو دیکھا۔ چہرے پر وہی شوخی تھی، ۔ایک پل کی خاموشی کو چیرتی ہوئی ماہی کی آواز ابھری
ہاں تو… بس اب تم جیلس نہ ہونا مجھ سے…
لبوں پر مسکراہٹ تھی،

ہنہ۔۔ وہ اکڑتا یہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔۔۔
یہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا۔۔۔ سونیہ پھوپو نے حارث کو جاتے دیکھتے کہا۔۔۔
صحیح ہوجائے گا۔۔۔ تھوڑا وقت لگے گا۔۔ جب یہ ولید اور ماہی کو خوش دیکھے گا نہ تو ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ احمد صاحب نے حالات کو سملتے کہا پھر سب دوبارہ دولہا دلہن کی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔۔۔

صبح عصر کے وقت نکاح کی سادگی، خاموشی اور محدود مہمانوں کی موجودگی کے بعد، رات جیسے ایک مکمل رنگین خواب بن کر اتری تھی۔
بارات کے لیے خاص انتظامات کیے گئے تھے۔ جہاں نکاح میں صرف قریبی عزیز و اقارب شریک تھے، وہیں بارات ایک بھرپور، روایتی اور جگمگاتی تقریب میں بدل چکی تھی۔
بڑے سے لان میں روشنیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ہر درخت پر، ہر گوشے میں رنگ برنگی لائٹس جھلملا رہی تھیں۔ خوشبو دار پھولوں کے گجرے، سجے ہوئے اسٹیج، اور گلابی و سنہری رنگوں میں ڈوبی ہوئی سجاوٹ – سب کچھ ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی شہزادی کی شادی ہو۔
ڈھول کی تھاپ اور بینڈ کی دھن نے ماحول میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ باراتی خوشی سے ناچ رہے تھے، کوئی سیلفیاں لے رہا تھا، کوئی پھول برسا رہا تھا۔
ماہی اپنے کمرے میں تیار بیٹھی تھی – سرخ لہنگا، گہرے زیورات، اور آنکھوں میں وہی ادھوری خاموشی۔ سب کہہ رہے تھے کہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے، جیسے کسی پرانی کہانی کی دلہن۔
ولید بھی سفید شیروانی میں تیار تھا، مگر اُس کے چہرے پر نکاح والی الجھن اب بھی قائم تھی۔ حارث کی باتیں، ماہی کی نظریں، اور وہ جملہ – سب جیسے اُس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
یہ رات خوشیوں کی تھی، مگر دلوں میں چھپے راز اور چہروں پر لگی مسکراہٹوں کے پیچھے ایک خاموش جنگ جاری تھی۔
بارات کا ہنگامہ، روشنیوں کی چمک، قہقہوں کی گونج – سب کچھ اب پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
رخصتی ہو چکی تھی،
رُخصتی کے بعد ماہی اپنے گھر پر ہی موجود تھی بس کمرہ بدل چُکا تھا ابھی وہ ولید کے کمرے میں موجود تھی۔۔۔
کمرہ روشنیوں میں نہایا ہوا تھا، نرم بستر، تازہ پھولوں کی مہک، اور ہر چیز میں ایک نئی ترتیب تھی – جیسے اس لمحے کو خاص بنانے کی پوری کوشش کی گئی ہو۔ مگر ماہی بس ایک کونے میں بیٹھی، نظریں جھکائے، ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے ہوئے خاموشی سے بیٹھی تھی۔
تھوڑی دیر پہلے مینی اور نور اُسے ہنستی، چھیڑتی وہاں چھوڑ گئی تھیں۔
اب بس دل تھام کے بیٹھ جاؤ، دولہا صاحب آنے والے ہیں۔۔۔۔
اور ہاں، پہلی رات کی روایتی شرم تو دکھا دینا، ماہی۔۔۔
وہ سب ہنستے ہوئے جا چکی تھیں، اور اب پورے کمرے میں صرف سناٹا تھا۔
ماہی کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی تھی – نہ ڈر، نہ خوشی، بس ایک الجھن… جیسے زندگی ایک ایسے موڑ پر آ گئی ہو جہاں فیصلہ خود کا نہیں، وقت کا ہوتا ہے۔
دروازے کی طرف نظر بار بار اٹھتی، اور پھر جھک جاتی۔
پھر وہ ایک دم بیٹھے بیٹھے اٹھ کھڑی ہوئی۔ پہلے کچھ دیر گہری سانسیں لیتی رہی، پھر آہستہ آہستہ کمرے میں چکر لگانے لگی۔ کمرہ، جو چند لمحے پہلے تک صرف خاموش تھا، اب اُس کے قدموں کی ہلکی چاپ سے گونجنے لگا تھا۔
دل بار بار جیسے سینے سے باہر آنے کو بےتاب تھا۔ ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے تھے، اور پیشانی پر ہلکی سی نمی اترنے لگی تھی۔
سب کچھ عجیب تھا، اور سب کچھ سمجھ سے باہر۔ مگر دل دھڑک رہا تھا، اور گھبراہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔
ولید…
وہی شخص، جس سے وہ کئی بار مل چکی تھی،
جس کی آواز، جس کا لہجہ، حتیٰ کہ نظریں تک اجنبی نہ تھیں،
لیکن آج وہی شخص…
ایک نئے رشتے کی صورت میں سامنے آنے والا تھا۔
وہی شخص، اب اُس کا شوہر تھا۔۔۔
پھر وہ اپنی دھڑکنوں کو قابو میں لانے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے آہستہ سے بیڈ کے کنارے آ کر بیٹھ گئی۔
اسی لمحے… دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
ماہی کی سانس رک گئی۔ پلکیں تھم گئیں۔

پھر وہ اندر آیا – سفید کُرتے کے اوپر گہرا نیلا واسکٹ، بال تھوڑے بکھرے ہوئے، اور چہرے پر وہی پرانی سی سنجیدگی… لیکن آج ایک الگ سی خاموشی کے ساتھ۔
اُس کی نظر سیدھی ماہی پر پڑی – جو دلہن بنے بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی،
چند لمحے بس یوں ہی گزرتے گئے۔
پھر وہ آہستہ سے بولا،
تم نے چینج نہیں کیا…؟
آواز میں حیرت تھی

ماہی نے پلکیں اٹھائیں، اور پہلی بار اُس رات نگاہیں ولید سے ٹکرائیں۔
نہیں… ابھی نہیں…
اُس نے بس اتنا کہا، جیسے اس سے زیادہ بولنے کی ہمت نہ ہو۔

مجھے لگا تم اب تک چینج کر چکی ہو گی…
ولید نے آہستگی سے کہا، جیسے رسمی گفتگو کا آغاز کر رہا ہو۔ وہ بولتے ہوئے اپنی واسکٹ اُتارنے لگا اور ہینگر کی طرف بڑھا۔

ماہی کچھ دیر چپ رہی، پھر دھیرے سے بولی،
کیوں؟ تم مجھے منہ دکھائی نہیں دو گے…؟

ہمم… منہ دکھائی…
وہ سر ہلاتا ہوا دراز کی طرف مڑا، جیسے کچھ پہلے سے طے شدہ ہو۔
دراز کھولتے وقت اُس کے چہرے پر ایک ہلکا سا تذبذب تھا، جیسے دل میں کوئی ڈر بیٹھا ہو – کیا ایسی یہ پسند آئے گا
یہ لو…
وہ باکس لیے اُس کے پاس آیا، اور نرمی سے اُس کی طرف بڑھایا۔
اگر پسند نہ آئے تو واپس کر دینا، میں تمہاری پسند کا کچھ اور دلا دوں گا۔ فِلال میرے پاس یہی ہے…
دل میں ایک چھپا ہوا سا ڈر تھا –
کہیں وہ باکس کھول کر یہ نہ کہہ دے یہ کیا؟ کتے کا پٹہ ہے؟
ماہی نے باکس کھولا…
اندر ایک نفیس، سونے کی باریک چین تھی –
جس میں چھوٹے چھوٹے حروف میں جُڑا ایک نام چمک رہا تھا
ماہی ولید۔۔۔۔
ماہی نے اسے چند لمحوں تک بس خاموشی سے دیکھا۔۔۔۔
پھر ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا،
اچھا ہے…
باکس اب خالی تھا – چین اُس کے ہاتھوں میں
آچکی تھی۔ وہ نازک سی چین کو اُنگلیوں میں گھماتی رہی، پھر ایک نظر ولید کی طرف دیکھ کر بولی
پہنا دو…
ولید کے لبوں پر ایک نرم، حیران سی مسکراہٹ ابھری۔
کھولنے نہیں آیا نا…
وہ آہستگی سے اُس کے ہاتھ سے چین لے چکا تھا، اُس کے لہجے میں شرارت تھی۔۔۔۔
ماہی نے گردن تھوڑی سی موڑی، بال پیچھے کیے، اور ہنوز سنجیدگی سے بولی
ہاں تو… تمہیں تو پتا ہے، ماہی ایسی چیزیں کہاں پہنتی ہے۔۔۔ اور ہاں، یہ صرف تمہاری خوشی کے لیے پہن رہی ہوں۔ اس کے علاوہ نئی نویلی دلہن کی طرح ایک بھی جیولری نہیں پہنوں گی میں۔۔۔
ولید نے چین کو آہستگی سے اُس کے گلے میں پہنا دیا۔ انگلیوں کی خفیف سی جنبش سے وہ چین اُس کے نازک وجود کا حصہ بن گئی –
تُم خوش ہو۔۔۔۔ ولید اب اُس کے برابر میں بیٹھ چُکا تھا۔۔۔ ان جانا سا خوب تھا جو کسی طور ختم ہو کے نہیں دے رہا تھا۔۔۔
ہاں کیوں۔۔م اُس نے بے نیازی سے کہا، جیسے اس سوال کی توقع نہ تھی… یا شاید اس کے پیچھے چھپے جذبے کو نظرانداز کرنا چاہتی ہو۔
تم مجھے نہ پسند کرتی ہو…
ولید نے دھیمے لہجے میں کہا
ماہی نے اُس کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے بولی
کرتی تھی۔۔۔
اتنا نہیں سوچو ولید ۔۔۔۔۔ سب کچھ بھول کر ہمارے اس رشتے کو ایک موقع تو دو ۔۔۔۔ ماہی نے دھیمے لہجے میں کہا جیسے ولید کا سارا ڈر ایک دم سے ختم کر دینا چاہتی ہو ۔۔۔

+++++++++++++

ولیمہ کے بعد خاندان والوں کی چہل پہل کے درمیان ایک لمحہ ایسا آیا جب ماہی سے سنجیدگی سے پوچھا گیا
تو ماہی، اب کیا ارادہ ہے؟ لندن واپس جانا ہے یا یہیں رہو گی؟
سب کی نظریں اُس پر ٹک گئیں — کچھ حیرت لیے، کچھ تجسس۔

ماہی نے ایک پل کو سب کو دیکھا، پھر شوخ انداز میں بالوں کی لٹ پیچھے کی اور مسکراتے ہوئے کہا
اب میری تو شادی ہو گئی ہے… میں کیا کروں گی جاب کر کے؟

ایک لمحے کو سب خاموش ہو گئے — جیسے اُس کے فیصلے کا انتظار تھا۔

پھر وہ شرارت سے بولی
اب میں اپنے شوہر کے پیسوں پر عیش کروں گی۔۔۔ آرام، دعوتیں، نیند، کپڑے، سیر۔۔۔ جاب کی کیا ضرورت ہے؟

کمرے میں قہقہے گونج اٹھے۔

ارشد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
شُکر ہے میرا گھر اور آفس قبضہ ہونے سے بچ گیا۔۔۔

ماہی نے ولید کی طرف دیکھا، جو ایک طرف کھڑا مسکرا رہا تھا —

+++++++++++++++

فجر کا وقت تھا۔ آسمان کی سیاہی آہستہ آہستہ ہلکے نیلے رنگ میں گھلنے لگی تھی۔ کمرے میں دھندلکی روشنی چھائی ہوئی تھی، اور سناٹے میں صرف گھڑی کی سوئیوں کی مدھم سی آواز سنائی دے رہی تھی۔
ماہی کی آنکھ ایک دم کھل گئی۔ سانس کچھ بھاری بھاری سا محسوس ہوا — جیسے کوئی خواب اُدھورا رہ گیا ہو۔
آنکھ کھلتے ہی اُس نے گردن موڑ کر دیکھا — بیڈ کا دوسرا کنارہ خالی تھا۔
پہلے پہل اُسے حیرت ہوئی، پھر بےچینی سی ہوئی۔
کمرے میں نظریں دوڑائیں تو سامنے واشروم کا دروازہ کھلا اور ولید باہر آتا دکھائی دیا۔
وہ ہلکی نیلی شلوار قمیض میں ملبوس تھا، آستینیں کہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں، چہرہ دھلا دھلا سا، نرمی سے چمک رہا تھا۔ ہاتھ میں جائے نماز تھا، جسے وہ قالین پر بچھا رہا تھا۔
پھر اُس کی نظریں ماہی سے ٹکرائیں، جو نیم دراز، الجھے بالوں کے ساتھ بس اُسے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں نیند ابھی باقی تھی، مگر ولید کی موجودگی نے اُسے مکمل بیدار کر دیا تھا۔
آؤ… نماز پڑھ لو،
ولید کی آواز دھیمی تھی، مگر اُس میں نرمی بھی تھی اور اپنائیت بھی۔
ماہی نے چند لمحے اُس کی طرف دیکھا، جیسے دل کسی بحث میں الجھا ہو۔ پھر اُس نے آہستہ سے نہ میں سر ہلا دیا۔
ولید کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا، پھر مسکرا کر بولا،
سوچ لو… بُلاوا آیا ہے۔۔۔

ماہی کے ماتھے پر ہلکی سی تیوری چڑھی،
کس کا بُلاوا؟
ولید نے جائے نماز کی سمت دیکھا،
پھر پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا اور نرمی سے کہا
اُس رب کا… جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔۔۔
آج تک کسی نے ماہی سے نماز کا کبھی تذکرہ تک نہ کیا تھا۔ پھوپھو نماز پڑھتی تھیں، خالہ بھی، یہاں تک کہ مینی بھی کبھی کبھار پڑھ لیتی تھی۔ خود ماہی نے بھی زندگی میں کبھی کبھی نماز پڑھی تھی… ہاں، چھوڑ چھوڑ کر، بے ربط سی۔ مگر کسی نے کبھی یہ نہیں کہا  ماہی، نماز پڑھو…
آج پہلی بار کسی نے اُسے ایسا کہا تھا — نرمی سے، لیکن گہرائی سے۔
وہ کسی انجانے جذبے سے بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
تم شروع کرو، میں وضو کر کے آتی ہوں۔
الماری سے اُس نے ایک ڈھیلا ڈھالا، صاف ستھرا شلوار قمیض نکالا۔ اُس وقت وہ ٹراوزر اور شرٹ میں تھی، اور اِس حلیے میں نماز پڑھنے کا خیال اُسے بے چین کر رہا تھا۔
کچھ دیر بعد، وہ بھی جائے نماز پر ولید کے دو قدم پیچھے کھڑی تھی۔ دل میں ہلکی سی لرزش تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجب سکون۔
نماز ختم ہوئی، تو اُس نے دھیرے سے کہا:
تمہیں پتہ ہے ولید… میں نے مدرسہ ختم ہونے کے بعد آج پہلی بار نماز پڑھ رہی ہوں۔ چھوٹی تھی، مدرسہ جاتی تھی تو باجی بہت سختی کرتی تھیں۔ جب مدرسہ چھوڑا، تو نماز بھی چھوٹ گئی…
ولید نے فوراً اُس کی بات کاٹی، مگر آواز میں نرمی تھی
شش…! اپنی کوتاہیوں میں دوسروں کو شریک نہ کرو ماہی۔ مجھے یہ مت بتاؤ تم نے کتنی نمازیں پڑھی ہیں اور کتنی چھوڑی ہیں۔ یہ تمہارا اور تمہارے رب کا معاملہ ہے — صرف اُسی کا۔۔۔
ماہی نے ہلکے سے ہاں میں سر ہلایا، جیسے ولید کی بات اس کے دل تک اُتر گئی ہو۔ پھر ایک پل رک کر پوچھا۔۔۔۔
میں نے تمہیں ہمیشہ شلوار قمیض میں نماز پڑھتے دیکھا ہے… پینٹ شرٹ میں بھی تو نماز ہو جاتی ہے نا؟
ولید مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں سوال چھپا تھا۔
پھر تم نے کپڑے کیوں بدلے؟ اگر چاہتی تو بڑی سی چادر لے لیتی، تمہاری بھی نماز ہو جاتی۔
ماہی نے نظریں جھکا لیں، پھر آہستہ سے کہا
ہو جاتی… پر ویسے اچھا نہیں لگتا۔

ویسے ہی مجھے بھی اچھا نہیں لگتا۔ مجھے شلوار قمیض بالکل پسند نہیں، مگر یہ میں صرف اپنے رب کے لیے پہنتا ہوں۔ صِرف نماز پڑھنے کے لیے۔۔۔
ایک پل کو خاموشی چھا گئی۔
اب جب اتنی محنت سے اُس کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوں، تو پینٹ شرٹ میں نماز پڑھ کر کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا…

+++++++++++++

اُس نے خواب میں دیکھا…
حامد اُس کے سامنے کھڑا ہے — آنکھوں میں آنسو، چہرے پر خوف اور بے بسی۔ وہ ہاتھ جوڑے منتیں کر رہا ہے
میں نے نہیں کیا کچھ باس۔۔ معاف کردو جانے دو پلز۔۔۔۔
اور پھر اس نے دیکھا  ماہی بھی اُس کے ساتھ کھڑی ہے —
اور پھر ولید کی آوازِ سنائی دے رہی ہے ۔۔۔
حارث نہیں کرو پلز گن نیچے کرو۔۔۔
اور اُس کے ہاتھ میں بندوق ہے… گن مینی کی طرف تنی ہوئی ہے۔ اور  اس کی آنکھوں میں الجھن ہے، پر ہاتھ مضبوطی سے بندوق تھامے ہوئے ہیں۔
پھر
ٹھاہ…!
گولی چلی۔۔۔۔۔اور
حارث ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ پسینہ ماتھے سے بہہ رہا تھا، سانس جیسے کسی نے زور سے روک دی ہو، اور دل کی دھڑکنیں اس کے سینے سے باہر نکلنے کو بیتاب تھیں۔
اس نے ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں — اندھیرا، خاموشی، اور دل میں ایک گونجتی ہوئی گولی کی آواز۔
وہ بیڈ سے اُٹھا، پانی کا گلاس ہاتھ میں لیا، لیکن ہاتھ اتنا کانپ رہا تھا کہ آدھا پانی زمین پر چھلک گیا۔ دل میں بےچینی، دماغ میں شور، اور جسم میں ایک ایسی تھکن جس کا کوئی ظاہری سبب نہ تھا۔
کچھ پل لگے اُسے سنبھلنے میں۔ سانسیں اب بھی بے ترتیب تھیں، دل کا بوجھ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اُس نے لرزتے ہاتھوں سے فون اُٹھایا — اسکرین پر روشنی جگمگائی۔
ولید کا میسیج آیا ہوا تھا۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تم جاگ رہے ہو اس وقت… اٹھو، نماز پڑھ لو۔
جیسے اُس کی اندرونی حالت کسی نے بھانپ لی ہو۔ جیسے کوئی آئینہ سامنے رکھ دیا ہو۔
مگر حارث نے فون  ہیڈ پر اچھال دیا — اور پھر خود بھی بوجھل قدموں، بھاری دل اور تھکی ہوئی روح کے ساتھ بیڈ پر گر گیا۔
وہ ہمیشہ انہی عجیب خوابوں سے بیدار ہوتا تھا…
اور ہر خواب کا انجام ایک گولی پر ہوتا — کسی نہ کسی پر چلائی گئی گولی،
اور وہ ہانپتے ہوئے، خوفزدہ آنکھیں کھول دیتا۔

++++++++++++

تُم نے بتایا نہیں تُم دونوں نے مافیا کا کام کیوں شروع کیا تمہیں پتہ ہے نہ یہ غلط ہے۔۔۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ دونوں بیڈ پر بیٹھے تھے کہ اچانک ماہی کو ایم ڈی کا خیال آیا۔۔۔
ہم بچپن سے آرمی میں جانا چاہتے تھے۔ ایک جنون تھا — لوگوں کی حفاظت کرنا، کسی مقصد کے لیے جینا۔
ہم نے لندن میں آرمڈ فورسز میں اپلائی کیا تھا… کلیئر بھی ہو گئے تھے، لیکن پھر صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ ہم مسلمان تھے — اور ہمارے والد پاکستانی تھے۔
حارث نے اُس وقت خوب شور مچایا، لڑا بھی، جذباتی بھی ہوا۔
پھر ہم نے سوچا، ٹھیک ہے… اگر لندن نے قبول نہیں کیا تو پاکستان ہی سہی۔ تبھی تو ہم پاکستان  آئے تھے۔ لیکن یہاں بھی قسمت نے دروازہ نہیں کھولا۔ ہماری سلیکشن ہی نہیں ہوئی۔
تب ہم نے کہا… اگر سیدھے رستے سے ممکن نہیں، تو کسی اور طریقے سے ہی سہی۔ مقصد تو ایک ہی ہے نا — لوگوں کو بچانا۔
میں نے تو دل سے مان لیا کہ شاید یہ رب کی رضا ہے۔ اتنی دعاؤں کے بعد بھی اگر راستہ بند ہوا ہے، تو ضرور کچھ بہتر ہوگا۔
لیکن حارث… وہ کبھی مان ہی نہیں سکا۔ اُس کے اندر جو آگ تھی، وہ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ پھر اُس نے یہ فیصلہ کر لیا…
میں اس کے ساتھ کام نہیں کرتا ہوں ۔۔۔ میں تب سے صرف ایک کام کر رہا ہوں — اُس پر نظر رکھنا۔ بس اتنا کہ وہ کسی غلط راستے پر نہ چلا جائے۔
ویسے تم فکر نہ کرو… وہ مافیا بن گیا ہے، مگر صرف مافیا کو ہی پکڑتا ہے۔

لیکن غلط طریقے سے صحیح کام… صحیح نہیں ہوتا۔
ماہی کی آواز دھیمی تھی،
ولید نے پل بھر کو آنکھیں بند کر لیں، پھر بولا۔۔۔
جانتا ہوں، ماہی… لیکن اس کے علاوہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔
میں نے تو مان لیا تھا، صبر بھی کر لیا تھا… کہ شاید رب کی رضا یہی ہے۔ لیکن حارث…
وہ لمحہ بھر کو رکا، جیسے کسی پرانی تکلیف کا دروازہ کھل گیا ہو۔
حارث نے جیسے ضد باندھ لی تھی۔ اُس کا جنون اُسے کھا رہا تھا، اور میں روز اُسے اس دلدل میں ڈوبتے دیکھ رہا تھا۔ اگر میں اُسے اجازت نہ دیتا، تو وہ خود ہی کسی اور راستے پر نکل جاتا — شاید مکمل طور پر اندھیرے میں۔

ماہی نے اُسے خاموشی سے دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں ملامت نہیں تھی — صرف ایک سوال تھا، بہت نرم مگر بہت واضح۔
تو تم نے سوچا کہ آدھا اندھیرا اُس کے لیے بہتر ہوگا؟
ولید کا دل جیسے ایک لمحے کو لرز گیا۔
میں نے سوچا، اگر میں ساتھ رہوں گا تو کم از کم اُسے گرنے سے بچا لوں گا… اگر وہ کہیں غلط قدم بڑھائے، تو روک سکوں گا۔

لیکن ولید، ماہی کی آواز اب اور بھی نرم ہو گئی،
کبھی کبھی ہم کسی کو بچانے کے چکر میں خود بھی اندھیرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور پھر نہ ہم بچتے ہیں، نہ وہ۔

ولید نے نظریں جھکا لیں۔ لمحے بھر کو خاموشی طاری رہی۔ جیسے وہ اپنے اندر کچھ تول رہا ہو، کچھ سنبھال رہا ہو۔ پھر دھیرے سے بولا
تم فکر مت کرو، ماہی۔۔۔ نہ میں اندھیرے میں گر رہا ہوں، نہ حارث گرے گا۔۔۔۔
اُس کے لہجے میں تھکن تھی، لیکن اُس تھکن کے پیچھے ایک خاموش عزم بھی تھا — جیسے وہ خود کو یقین دلانا چاہتا ہو، اور ماہی کو بھی۔
ماہی نے ایک لمحے کو اُس کے چہرے کو دیکھا، جیسے کچھ پرکھنا چاہ رہی ہو۔
ولید… اُس نے نرمی سے کہا،
کبھی کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سنبھلے ہوئے ہیں، لیکن حقیقت میں بس چل رہے ہوتے ہیں، اور ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔
ولید نے ہلکا سا سر ہلایا، جیسے وہ یہ سب پہلے بھی کئی بار سوچ چکا ہو۔
بس اتنا یاد رکھنا، ماہی نے آہستہ سے کہا،
اگر کبھی لگا کہ راستہ واقعی اندھیرے میں جا رہا ہے… تو واپس مڑ جانا۔ دیر کبھی نہیں ہوتی — اگر نیت صاف ہو۔
ولید کی آنکھوں میں ایک لمحے کو نمی سی جھلکی، لیکن اُس نے فوراً پلکیں جھپکا لیں۔
میں وعدہ کرتا ہوں… وہ بولا، اگر کبھی لگا کہ میں کھو رہا ہوں — تو ختم کردونگا یہ سب۔۔۔

ماہی نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ دی، اور اُس لمحے میں، دونوں کے بیچ ایک خاموش عہد بندھ چکا تھا۔

++++++++++++

ختم شدد۔۔۔۔۔

کہانی ختم ہو چکی تھی، مگر بہت سے سوال اب بھی اپنی جگہ قائم تھے۔
ولید، حارث، ایم ڈی… کون سچا تھا، کس نے کیا کیا، اور کیوں؟
کچھ باتیں واضح ہوئیں، کچھ گتھیاں سلجھ گئیں،
مگر کئی سوال پھر بھی ادھورے رہ گئے—
بالکل ویسے ہی جیسے ہماری زندگی میں ہوتا ہے۔

ہماری زندگی میں بھی کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب کبھی نہیں ملتے۔
وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، کہانیاں مکمل ہو جاتی ہیں،
مگر چند سوال…
وہ ہمیشہ دل کے کسی گوشے میں ادھورے رہ جاتے ہیں۔
زندگی تو ختم ہو جاتی ہے،
پر کچھ سوال اپنی خاموشی سمیت ہمارے اندر زندہ رہتے ہیں…

اور انہی ادھورے سوالوں کے ساتھ ہمارا ناول دل یا دھڑکن بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

اور اب…
جو آنکھیں اس وقت یہ آخری سطور پڑھ رہی ہیں،
اُن کے لیے دل سے شکریہ۔
دل اور دھڑکن کے اس سفر میں
آخر لمحے تک میرا ساتھ دینے کے لیے—
Thank You So Much.
writer siddiqui ☘️


2 Comments

  1. Wow such a amazing novel 😍 parh ke bhut Maza aye bhut achey achey twice bhi the apke phely novel ke hisab se mind blowing novel tha…

  2. Bheeeeyyyy ye kay 😭🤌🏻mje season 2 chiye haaaaaaaaaa mahi or wali or haris sb adhura ha ese lgta ha season 2 ana hi chiye or usme haris 🙂 ko insan bnao bheey or mini se shadi krwao uski hehehe khuab me dekh rha ha usko heehhe

Leave a Reply to Farah Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *