Girdaab Episode 9 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

باب پنجم: پہلی لہر

قسط نمبر ۹

امن ابھی بھی سنان کے سامنے بیٹھا تھا۔
وہ بار بار ایک ہی سوال سوچ رہا تھا۔
کیا واقعی سنان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟
یا وہ بھی اُسے کسی جال کی طرف دھکیل رہا ہے؟
سنان سامنے بیٹھا کافی کا مگ گھماتے ہوئے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اتنا مت سوچو، سر میں درد ہو جائے گا۔
مگر امن نے کوئی جواب نہیں دیا۔
تبھی میز پر رکھا اُس کا فون بج اٹھا۔
اسکرین پر ایک نامعلوم نمبر چمک رہا تھا۔
امن نے ایک نظر نمبر پر ڈالی اور فون کو نظر انداز کرنے لگا۔
شاید کوئی رپورٹر ہو۔ یا پھر کسی سیاسی مخالف کا فون۔ مگر نہ جانے کیوں…
اُس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی جاگی۔
جیسے اندر کوئی مسلسل کہہ رہا ہو۔
اُٹھاؤ۔
امن نے بغیر مزید سوچے کال رسیو کر لی۔
ہیلو؟
اگلے ہی لمحے اُس کا پورا وجود ساکت ہو گیا۔
بھائی۔۔۔
روتی ہوئی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی۔
امن کے چہرے کا رنگ یکدم بدل گیا۔
امل؟
اُس کی کرسی پیچھے سرک گئی۔
امل! تم کہاں ہو؟
دوسری طرف ہچکیوں میں ڈوبی آواز آئی۔
بھائی… آپ جلدی آ جائیں…
امن کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔
ہاں، میں آ رہا ہوں۔ بس مجھے بتاؤ تم کہاں ہو؟
امل رو رہی تھی۔
اس قدر کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔
بھائی… مجھے نہیں معلوم… میں نے… میں نے فون کی لوکیشن آن کر دی ہے… اُس نے جلدی جلدی کہا۔
کال بھی آن ہے… آپ بس جلدی آ جائیں…
امن کرسی سے اٹھ چکا تھا۔
ہاں، میں آ رہا ہوں۔
بس ہمت رکھو، امل۔
امن تقریباً دوڑتا ہوا کیفے سے باہر نکل گیا۔
سنان نے حیرت سے اُسے دیکھا۔ اوئے!
وہ بھی فوراً اپنی کرسی سے اٹھا۔
کہاں جا رہے ہو؟
مگر امن نے سنا ہی نہیں۔
وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
سنان چند لمحے اُسے گھورتا رہا۔
پھر جلدی سے بل کی طرف دیکھا۔
پھر جاتے ہوئے امن کی طرف۔
اور پھر زور سے بولا۔ اووووئے۔۔۔۔
امن پھر بھی نہیں رکا۔
بل کون دے گا؟!
سنان کی آواز پورے کیفے میں گونج گئی۔
مگر جواب میں صرف دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔
لا حول ولا قوۃ… وہ بڑبڑایا۔ میں تو نہیں دینے والا بل۔۔۔۔
اور پھر خود بھی اُس کے پیچھے دوڑ پڑا۔
کیفے کے باہر ائرا اور ارحم پہلے ہی موجود تھے۔
امن تیز قدموں سے اُن کی طرف بڑھا۔
اُس کی آنکھوں میں کئی گھنٹوں بعد پہلی بار امید نظر آ رہی تھی۔
جلدی چلو۔
دونوں چونک گئے۔
کیا ہوا؟
امل مل گئی ہے۔
ائرا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
کیا؟!
پولیس کو کال کرو۔
امن نے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
اور گارڈز کو بھی اطلاع دو۔
وہ بات کرتے کرتے گاڑی تک پہنچ چکا تھا۔
سنان بھی ہانپتا ہوا پیچھے پہنچا۔
مجھے بھی ساتھ لے چلو۔
آئرا نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
تم وہاں جا کر کیا کرو گے؟
سنان نے سنجیدہ چہرہ بنایا۔
گھاس کھاؤں گا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ائرہ نے اُسے گھورا۔
یہ مذاق کا وقت ہے؟
نہیں، سنان کہتا امن کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔
امن پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔
آج وہ کسی کو گاڑی چلانے نہیں دینا چاہتا تھا۔
ارحم فوراً آگے بڑھا۔
سر، میں ڈرائیو کر دیتا ہوں۔
امن نے انجن اسٹارٹ کرتے ہوئے سر ہلایا۔
نہیں۔
لیکن سر۔۔۔
میں کر لوں گا۔
اُس کی آواز میں ایسی سختی تھی کہ ارحم خاموش ہو گیا۔
امن نے ریئر ویو مرر میں سب کو دیکھا۔
ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔
اُس کے الفاظ دھیمے تھے مگر ہر حرف میں بے چینی چھپی ہوئی تھی۔
اگر میرے ساتھ آنا ہے تو ابھی گاڑی میں بیٹھو۔
ورنہ یہیں رہ کر گارڈز کا انتظار کرو۔
کسی نے مزید بحث نہیں کی۔
مائرہ فوراً پچھلی سیٹ پر بیٹھی۔
ارحم بھی ساتھ بیٹھ گیا۔
سنان تو بنا کِسی کی اجازت کے پہلے ہی بیٹھ چکا تھا۔۔
اگلے ہی لمحے گاڑی ٹائروں کی چیخ کے ساتھ سڑک پر دوڑ پڑی۔
اور امن کی نظریں صرف ایک چیز پر جمی تھیں۔
فون کی اس لوکیشن پر… جہاں اُس کی بہن اُس کا انتظار کر رہی تھی۔

+++++++++++++

ریپر غصے سے پاگل ہوتا واش روم کے دروازے کی طرف بڑھا۔
دروازہ کھولو، امل….
اُس کی بھاری آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
امل… دروازہ کھولو۔
اندر امل دیوار کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر اُس نے دروازے کی کنڈی پر گرفت مزید مضبوط کر لی۔
مجھے غصہ مت دلاؤ، امل… دروازہ کھولو…
اگلے ہی لمحے ریپر کی لات دروازے پر پڑی۔
پورا دروازہ لرز گیا۔
امل خوف سے سکڑ گئی، مگر خاموش رہی۔
وہ جانتی تھی…
جو کچھ کہنا تھا، وہ امن تک پہنچا چکی تھی۔
اب صرف وقت خریدنا تھا۔
تبھی کیٹی میڈیکل باکس اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔
سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی۔
باس… کیا ہوا؟
ریپر نے کوئی جواب نہیں دیا۔.
ایک اور لات۔
تیسری لات کے ساتھ دروازہ چرچراتا ہوا اندر کی طرف ٹوٹ کر کھل گیا۔
ریپر بجلی کی سی تیزی سے اندر گھسا۔
امل دیوار کے ساتھ بیٹھی تھی۔
اُس کے زخمی پاؤں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا، جس نے سفید فرش کو سرخ کر دیا تھا۔
ریپر نے جھک کر فوراً اُس کی کلائی پکڑی اور اُسے اپنی طرف کھینچا۔
پھر اُس کی نظریں بے اختیار اُس کے ہاتھ پر گئیں۔
وہ خالی تھا۔ اُس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
فون کہاں ہے، امل؟
امل نے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا۔
فون کہاں ہے؟
نہیں بتاؤں گی۔
امل…. وہ دھاڑا۔ فون کہاں ہے؟
امل کے وجود میں خوف کی لہر دوڑ گئی، مگر اُس نے ہونٹ بھینچ لیے۔
بھائی… اب تک راستے میں ہوں گے۔
اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اب کیا کریں گے آپ؟
ریپر کی آنکھوں میں غصہ دہک اٹھا۔
تمہیں تو میں…
باس۔۔۔ کیٹی فوراً بولی۔ پہلے فون ڈھونڈتے ہیں۔
ریپر نے جھنجھلا کر امل کو تقریباً دھکا دیتے ہوئے کیٹی کی طرف بڑھا دیا۔
اسے سنبھالو۔۔۔
اور خود دوبارہ واش روم میں جا کر ہر کونا الٹنے پلٹنے لگا۔
اسی دوران شور سن کر ٹویٹی بھی اوپر آ گئی۔
کیٹی نے جلدی سے کہا،
اس کے پاؤں پر پٹی کرو۔
ٹھیک ہے۔
ٹویٹی نے امل کو سہارا دے کر بیڈ پر بٹھایا۔
وہ زخمی پاؤں صاف کرنے لگی۔
امل درد سے دانت بھینچ رہی تھی، مگر ایک آواز تک نہ نکالی۔
ٹویٹی نے آہستہ سے کہا،
بتا دو فون کہاں چھپایا ہے… ورنہ ریپر تمہیں مار ڈالے گا۔
امل نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
مجھے اپنی جان کی پروا نہیں۔
اُسی لمحے واش روم سے غصے میں بھری کیٹی باہر نکلی۔
اچھا؟ پھر ایک زوردار تھپڑ امل کے گال پر پڑا۔
اُس کا سر جھٹکے سے دوسری طرف مڑا اور وہ بیڈ سے نیچے جا گری۔
امل نے آہستہ سے اپنا چہرہ اٹھایا۔
پہلے کیٹی کو دیکھا۔ پھر ٹویٹی کو۔ اور پھر… وہ مسکرا دی۔
ایسی مسکراہٹ جس میں درد بھی تھا اور فخر بھی۔
دیکھ رہی ہو؟ اُس نے آہستہ سے کہا۔ خون کے رشتوں میں کتنی وفاداری ہوتی ہے۔
پھر اُس نے پوری طاقت سے آواز بلند کی، تاکہ واش روم میں موجود ریپر بھی سن سکے۔
مر جاؤں گی… مگر اپنے بھائی کے ساتھ ہی کھڑی رہوں گی۔۔۔
ٹویٹی کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔
خون کے رشتوں میں… وفاداری؟
یہ الفاظ اُس کے دل میں کسی تیر کی طرح اتر گئے۔
اُسے اپنا باپ یاد آیا… جائیداد کے لیے اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں لٹا ہوا۔ اپنے سگے بھائی یاد آئے… جنہوں نے اُسے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا۔
اُس نے تلخی سے کہا،
خون کے رشتوں میں وفاداری نہیں ہوتی…
اُس کی آواز بھرّا گئی۔ …صرف زہر ہوتا ہے… زہر۔
اسی لمحے ریپر واش روم سے باہر آیا۔
اُس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ فون اُسے نہیں ملا۔
کیٹی نے فوراً کہا،
باس، اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں؟ جب تک وہ یہاں پہنچے، ہم اسے کسی اور جگہ شفٹ کر دیتے ہیں۔
امل پھر چیخی پڑی۔ ہاں… بھاگ جاؤ۔ تم لوگوں کے پاس اس کے علاوہ اور راستہ بھی کیا ہے؟
وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔
اگر ہمت ہے تو سامنے کھڑے ہو کر مقابل کرو۔
اُس کی نظریں ریپر پر جم گئیں۔
بزدلوں کی طرح بھاگ کیوں رہے ہو؟
کیٹی نے غصے سے اُس کا چہرہ زور سے پکڑ لیا۔
بہت زبان چلنے لگی ہے تیری۔۔۔
امل نے اُس کی گرفت میں رہتے ہوئے بھی مسکرا کر کہا،
ہاں، ڈرا لو… ابھی میرے بھائی یہاں ہوتے نا
اُس کی آواز میں ایسا یقین تھا کہ چند لمحوں کے لیے سب خاموش ہو گئے۔
..تو تم میں سے کسی کی ہمت نہ ہوتی مجھے ہاتھ لگانے کی۔
ریپر کی مٹھیاں آہستہ آہستہ بھنچ گئیں۔
بھائی…
پھر بھائی…
ہر بات میں صرف بھائی۔
یہ لفظ اب اُس کے لیے کسی گولی سے کم نہیں تھا۔
اُس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
سیاہ آنکھیں سیدھی امل پر جم گئیں۔
تمہیں اپنے بھائی پر بہت غرور ہے…
اُس کی آواز غیرمعمولی طور پر پُرسکون تھی۔
اور یہی خاموشی اُس کے غصے کی سب سے خطرناک علامت تھی۔
ٹھیک ہے…
وہ ایک ایک قدم امل کی طرف بڑھا۔
آج تمہارا یہی غرور…
اُس کے ہونٹوں پر سرد مسکراہٹ ابھری۔
..تمہارے بھائی کی سب سے بڑی کمزوری بنے گا۔

+++++++++++++++

کچھ ہی دیر بعد امن کی گاڑی تنگ گلی سے آہستہ آہستہ گزرتی ہوئی ایک وسیع و عریض عمارت کے سامنے آ کر رک گئی۔
گھر نہیں… محل۔
ایسا محل جو پہلی ہی نظر میں دیکھنے والے کو چند لمحوں کے لیے خاموش کر دے۔
سفید دودھیا رنگ میں نہایا ہوا وہ تین منزلہ عالیشان مکان شام کی سنہری روشنی میں کسی خواب کی تعبیر معلوم ہو رہا تھ بلند و بالا دیواروں کے درمیان نصب جدید سیاہ گیٹ کسی شاہی حویلی کے دروازے کا گمان دے رہا تھا۔
گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی چمکتے ہوئے سرمئی ماربل کا وسیع صحن دور تک پھیلا ہوا تھا، جس پر ڈھلتے سورج کی کرنیں ایسے بکھر رہی تھیں جیسے کسی نے چاندی کا فرش بچھا دیا ہو۔ صحن کے دونوں اطراف بڑے بڑے سفید گملوں میں لگے کھجور اور آرائشی پودے ماحول کو ایک عجیب سی تازگی بخش رہے تھے۔
سامنے بلند و بالا عمارت کے برآمدوں میں محرابی ڈیزائن اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔ پہلی اور دوسری منزل کی کشادہ بالکونیاں نفیس جالی دار ریلنگ سے مزین تھیں، جبکہ چھت پر سجے سبز پودے اس شاہانہ عمارت میں زندگی کی خوشبو گھول رہے تھے۔
بڑے بڑے لکڑی کے دروازے، گہرے رنگ کی کھڑکیاں، دیواروں پر نصب نفیس لائٹس اور ہر کونے میں موجود نفاست چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ یہ کسی عام انسان کا گھر نہیں، بلکہ کسی ایسے شخص کی رہائش گاہ ہے جس کے ذوق، حیثیت اور وقار کا اندازہ صرف اس کی دہلیز دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا تھا۔
امن نے گاڑی بند کی اور ایک لمحے کے لیے خاموشی سے اس محل نما گھر کی طرف دیکھا۔ پہلی نظر میں یہی احساس ہوتا تھا کہ یہاں صرف لوگ نہیں رہتے… یہاں شان و شوکت بسی ہوئی ہے۔
سر… آئرہ نے بے یقینی سے اُس عمارت کو دیکھتے ہوئے کہا،امل میڈم… یہاں ہیں؟
امن کی نظریں ابھی تک گھر پر جمی تھیں۔
ہاں… لوکیشن تو یہی بتا رہی ہے۔
ارحم نے فوراً موبائل پر دوبارہ لوکیشن چیک کی۔
سر، ایک بار پھر کنفرم کر لیتے ہیں۔ کہیں یہ ریپر کا کوئی جال نہ ہو۔
اس سے پہلے کہ امن کچھ کہتا، سنان نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے ناک چڑھائی۔
اوئے ڈرپوک لوگ!
وہ باہر اترتے ہوئے بولا۔
جال ہوگا تو کیا ہم چوہے بن جائیں گے؟
ارحم نے الجھن سے اُسے دیکھا۔
چوہے کیوں؟
سنان نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا،
جال کاٹنے کے لیے۔۔۔
ائراہ جھنجھلائی سر اسے کیوں ساتھ لے آئے۔۔۔
سر ساتھ نہیں لائے میں خود ساتھ آیا ہوں۔۔۔
سنان نے کندھے اچکائے اور سیدھا گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
امن بھی بغیر وقت ضائع کیے گاڑی سے اتر آیا۔
اُس نے ایک نظر پوری عمارت کا جائزہ لیا۔
کھڑکیاں… بالکونیاں… چھت… ہر جگہ غیر معمولی خاموشی تھی۔ اتنی خاموشی… کہ وہ خود مشکوک لگ رہی تھی۔
سنان نے اردگرد کھڑے گارڈز کی طرف دیکھا اور فوراً حکم دیا،
آدھے لوگ میرے ساتھ۔
پھر اُس نے عمارت کے پچھلے حصے کی طرف اشارہ کیا۔
باقی آدھے پیچھے سے راستہ تلاش کرو۔ اگر ممکن ہو تو دیوار یا اوپر سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنا۔
وہ چند قدم آگے بڑھا۔
ہم ایک ہی راستے سے اندر نہیں جائیں گے۔
اُس کی آواز اب مکمل سنجیدہ تھی۔
تاکہ اندر پہنچ کر ہم چاروں طرف سے گھر کو گھیر سکے۔۔۔
تمام گارڈز نے بے اختیار امن کی طرف دیکھا۔ کہ اس نئے لڑکے کی بات سنی ہے یا نہیں۔۔۔
امن نے نظریں عمارت سے ہٹائے بغیر مختصر سا کہا،
جیسا سنان کہہ رہا ہے… ویسا ہی کرو۔
یس سر!
اگلے ہی لمحے گارڈز دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔
کچھ مرکزی گیٹ کی طرف بڑھ گئے۔
جبکہ باقی خاموشی سے عمارت کے پچھلے حصے کی طرف نکل گئے۔
گارڈز خاموشی سے اپنی اپنی سمت بڑھ گئے۔
سنان نے گھڑی پر نظر ڈالی اور وائرلیس کان کے قریب کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا،
کوئی فائر نہیں کرے گا۔ جب تک مجبوری نہ ہو، ہر آدمی کو خاموشی سے قابو کرنا ہے۔
یس سر۔
چند لمحوں بعد پچھلے حصے سے مدھم سی آواز سنائی دی۔
ایک گارڈ نے دیوار کے ساتھ کھڑے مسلح پہرے دار کا منہ دبا کر اُسے پیچھے کھینچا، جبکہ دوسرے نے بجلی کی سی پھرتی سے اُس کے ہاتھ سے ہتھیار چھین لیا۔
صرف چند سیکنڈ… اور وہ بےہوش ہو کر زمین پر پڑا تھا۔
دوسری طرف مرکزی گیٹ کے قریب موجود دو محافظ ابھی اردگرد کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ دو سائے اُن کے پیچھے نمودار ہوئے۔
ایک کے گلے پر بازو لپٹا، دوسرے کے سر پر بندوق کی بٹ پڑی۔
دونوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔
چند ہی لمحوں میں اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جھاڑیوں کے پیچھے منتقل کر دیے گئے۔
اُدھر عمارت کی چھت پر موجود اسنائپر نے جیسے ہی حرکت محسوس کی، اُس نے رائفل سنبھالنے کی کوشش کی۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ نشانہ لیتا، سنان کے بھیجے ہوئے دو آدمی خاموشی سے اُس کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔
ایک نے اُس کی کلائی موڑ دی، دوسرے نے رائفل دور پھینک دی۔
چند لمحوں کی مختصر کشمکش کے بعد چھت بھی اُن کے قبضے میں تھی۔
وائرلیس پر دھیمی آواز گونجی۔
بیک سائیڈ کلیئر۔
رووف کلیئر۔
مین گیٹ کلیئر۔
سنان نے اطمینان سے سر ہلایا۔
دو گارڈز نے آخری لمحے مزاحمت کی کوشش کی۔ ایک نے وائرلیس پر پیغام بھیجنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر سنان کے آدمی نے فوراً اُس کا ہاتھ جھٹک کر وائرلیس زمین پر گرا دیا۔ دوسرے نے فائر کرنے کی کوشش کی، لیکن سائلنسر لگی پستول سے چلائی گئی ایک گولی اُس کے ہتھیار پر لگی اور بندوق اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔ چند لمحوں کی مختصر ہاتھا پائی کے بعد دونوں بھی قابو میں تھے۔ پورا بیرونی حصار خاموشی سے امن کے آدمیوں کے قبضے میں آ چکا تھا، اور محل کے اندر موجود کسی شخص کو ذرا بھی آہٹ نہ ہوئی۔۔۔۔۔
اب کوئی بھی باہر نہیں نکل سکے گا…
اُس نے عمارت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اور نہ ہی باہر سے کوئی اندر آ سکے گا۔
امن نے اپنی جیکٹ کے اندر سے پستول نکال کر چیک کیا۔ میگزین اپنی جگہ موجود تھی۔ اُس نے سیفٹی ہٹائی۔ اور گہرا سانس لیا۔۔۔۔ لب آہستہ سے ہلے۔
بِسْمِ اللّٰهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔
( میں اللہ کا نام لے کر نکلتا ہوں، اپنا ہر معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ اس کی مدد کے بغیر نہ کوئی طاقت ہے اور نہ کوئی قوت۔ )
پھر اُس نے پستول مضبوطی سے تھامی، ایک نظر محل پر ڈالی اور مضبوط قدموں سے اندر کی طرف بڑھ گیا۔
امن نے جیسے ہی مرکزی دروازہ عبور کیا، اُس کی نگاہ سامنے پڑی…
اور اگلے ہی لمحے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے بغیر ایک لفظ کہے اُس کے پورے وجود کو چیر کر رکھ دیا ہو۔
اُس کے قدم وہیں جم گئے۔ سانس سینے میں اٹک گئی۔
وسیع و عریض لانچ میں عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
سامنے، ایک نفیس صوفے پر… ریپر بیٹھا تھا۔ پوری شان سے، ٹانگ پر ٹانگ رکھے۔
اُس کے بالکل ساتھ، دوسرے صوفے پر… امل بیٹھی تھی۔ سر پر سرخ دوپٹہ، آنکھیں سوجی ہوئیں۔ ریپر کے ہاتھ میں پستول تھی، اور اُس کی نال سیدھی امل کی کنپٹی پر ٹکی ہوئی تھی۔
ریپر کے دائیں جانب، ایک کرسی پر مولانا صاحب بیٹھے تھے۔ اُن کے سر پر ایک اور مسلح شخص نے پستول تان رکھی تھی۔
کیٹی اور ٹویٹی ریپر کے پیچھے کھڑی تھیں۔ دونوں کے ہاتھ میں اسلحہ تھا۔
ریپر نے جیسے ہی امن کو دیکھا، اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
خوش آمدید…
اُس کی بھاری آواز خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔
میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا، سید امن حنان افتخارِ
ریپر نے ہتھیار کی نال امل کی کنپٹی سے ذرا اور لگا دی۔
تمہیں دیکھ کر تو اندازہ ہو ہی گیا ہوگا، امن…
اُس کی آواز غیر معمولی طور پر پُرسکون تھی، مگر وہی سکون سب سے زیادہ خوفناک تھا۔
میں تو پہلے ہی دستخط کر چکا ہوں…
اُس نے سامنے رکھے نکاح نامے کی طرف اشارہ کیا۔
بس اب اِس کے دستخط باقی ہیں…
اُس کی سیاہ آنکھیں سیدھا امن کی آنکھوں میں پیوست ہو گئیں۔
اور پھر… تمہاری بہن کی زندگی تمہاری آنکھوں کے سامنے برباد ہوجائے گی۔۔۔
امل کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا، مگر اُس کی گردن اب بھی جھکی نہیں تھی۔
امن نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
میری بہن کو چھوڑ دو، ریپر…
تُم چھوڑنے ہی تو نہیں دے رہے ہو۔۔ پھر اُس نے سرد لہجے میں کہا، دیکھو، تمہاری ضد… تمہارے فیصلے… اور تمہاری سیاست نے بات کہاں سے کہاں پہنچا دی۔
میں نے صرف ایک چیز مانگی تھی…
تم نے انکار کیا۔
ریپر نے نکاح نامہ اٹھا کر ہوا میں لہراتے ہوئے کہا،
آج یا تو تم اپنا تخت بچا لو…
یا اپنی بہن کی زندگی۔
اس سے پہلے کہ امن کچھ کہتا، امل ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئی۔
بھائی…
اُس کی آواز پورے ہال میں گونج گئی۔
نہیں بھائی… ہرگز نہیں! آپ سیاست نہیں چھوڑیں گے… کبھی بھی نہیں…
ریپر کی آنکھوں میں غصہ چمکا۔
اُس نے فوراً امل کی کلائی پکڑی اور زور سے اپنی طرف کھینچ کر دوبارہ صوفے پر بٹھا دیا۔ جہاں وہ پہلے بیٹھی تھی۔ گن اب بھی اُس کے سر کے قریب تھی۔
بہت زبان چل رہی ہے نا تمہاری…
اُس کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔
پھر اُس نے مولانا کی طرف دیکھے بغیر سرد لہجے میں کہا،
جلدی… تین دفعہ ‘قبول ہے’ کہو۔
امل نے نفرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا۔
ریپر کی آواز برف کی طرح ٹھنڈی ہو گئی۔
نکاح کرو گی… یا یہیں گولی چلا دوں..
امل کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مگر نگاہوں میں جھکاؤ نہ آیا۔
آپ کو میری بددعا لگے گی…
مجھ سے نکاح کرنے کے بعد آپ بہت پچھتائیں گے۔
ریپر کے ہونٹوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آگئی۔
تم بولنے سے پہلے پچھتاتی ہو…
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
جو میں نکاح کے بعد پچھتاؤں گا؟
امل نے نفرت سے اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی، مگر ریپر کی انگلیاں لوہے کی گرفت بن چکی تھیں۔
ہاتھ چھوڑیے میرا…
ریپر نے کوئی جواب نہ دیا۔
صرف اتنا کیا کہ پستول کی نال ایک بار پھر اُس کے سر سے لگا دی۔
امن کی مٹھی بھنچ گئی۔
تمہاری دشمنی مجھ سے ہے نا؟ اُس کی آواز ضبط کیے ہوئے غصے سے بھری تھی۔ تو آؤ، مجھ پر وار کرو۔ مجھے نقصان پہنچاؤ۔ میری بہن کو درمیان میں کیوں لا رہے ہو؟
کیونکہ یہ بزدل مرد ہے، بھائی… امل پھر چیخی
اُس کی آواز میں نفرت ٹپک رہی تھی۔
بزدل مرد ہمیشہ دوسروں کے پیچھے چھپ کر وار کرتے ہیں۔
اُس نے سیدھا ریپر کی آنکھوں میں دیکھا۔
یہ آپ سے سامنے آ کر نہیں لڑ سکتا… کیونکہ اسے معلوم ہے، اگر مردوں کی طرح سامنے آیا… تو ہار جائے گا۔
ریپر کی سیاہ آنکھوں میں خطرناک چمک اُبھری۔
اُس کی گرفت امل کی کلائی پر مزید سخت ہو گئی۔
ریپر نے آہستہ سے اپنا ماسک درست کیا، پھر ہلکا سا سر جھکایا۔
تمہیں لگتا ہے… میں ہارنے سے ڈرتا ہوں؟
اُس کی آواز پہلے سے بھی زیادہ دھیمی تھی، اور یہی دھیمے لہجے سب سے زیادہ خطرناک تھے۔
امل نے بےخوف نظروں سے اُسے دیکھا۔
ڈرنے والے لوگ ہی دوسروں کی بہنوں کو ڈھال بناتے ہیں۔
یہ جملہ ختم ہوتے ہی ریپر نے ایک جھٹکے سے اُسے اپنی طرف کھینچا۔
امل لڑکھڑا کر اُس کے قریب جا گری۔
امل۔۔۔۔ امن کی گرج دار آواز پورے ہال میں گونجی۔
وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ ریپر نے پستول کا رخ امل سے ہٹا کر سیدھا امن کے سینے کی طرف کر دیا۔
وہیں رُک جاؤ۔۔۔۔
قدم وہیں جم گئے۔
ریپر نے دوسرے ہاتھ سے امل کو دھکیل کر دوبارہ صوفے پر بٹھا دیا، مگر گن ابھی بھی امن کی سمت تنی ہوئی تھی۔
ایک قدم بھی اور آگے بڑھایا… تو آج کسی نہ کسی کی لاش ضرور گرے گی۔
ہال میں موجود ہر شخص کی سانس رک گئی۔
مولانا صاحب نے گھبرا کر دونوں کو دیکھا، مگر پستول کی نال اُن کے سر پر ہونے کی وجہ سے خاموش رہے۔
امل نے دھیرے سے سر اٹھایا۔
بھائی… میری وجہ سے مت رکنا۔
اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر آواز حیران کن حد تک مضبوط تھی۔
اگر آج آپ جھک گئے… تو حق ہار جائے گا، اور باطل جیت جائے گا۔
امن کی مٹھیاں خون کی گردش روک دینے والی شدت سے بھنچ گئیں۔
اُس کی نظریں صرف ریپر پر جمی تھیں۔
اور ریپر…
ریپر نے چند لمحے خاموشی سے امن کو دیکھا، پھر نہایت سنجیدہ لہجے میں بولا،
دیکھو، امن… میں آخری بار کہہ رہا ہوں۔
اُس نے پستول کی نال ذرا سی اوپر کی۔
سیاست چھوڑ دو… میں تمہاری بہن کو اسی وقت آزاد کر دوں گا۔
ریپر کی نظریں ایک پل کے لیے بھی امن کے چہرے سے نہ ہٹیں۔
میری دشمنی تم سے ہے… تمہارے عہدے سے ہے… تمہاری طاقت سے ہے۔
وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بولا۔
جس دن تم اس تخت سے نیچے اتر گئے… اُسی دن میری تم سے دشمنی بھی ختم۔
وہ رکا، پھر ٹھنڈی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
میں خود پیچھے ہٹ جاؤں گا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس کی آواز میں برف جیسی سختی اتر آئی۔
لیکن اگر تم نے انکار کیا…
اُس نے امل کی طرف ایک سرسری نظر ڈالی۔
تو پھر تُمہارا وہ نقصان ہوگا…
اُس کی نظریں دوبارہ امن کی آنکھوں میں پیوست ہو گئیں۔
جو آج تک کسی کا نہیں ہوا۔
ہال میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ سب کی سانسوں کی آوازیں تک سنائی دینے لگیں۔
پھر اچانک…
باہر سے ٹائروں کی چرچراہٹ گونجی۔
اگلے ہی لمحے پورا محل بھاری قدموں کی آوازوں سے لرز اٹھا۔
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
ریپر کی آنکھیں ایک لمحے کو دروازے کی طرف اٹھیں۔
اور پھر…
اپنے ہتھیار نیچے کر دو۔۔۔۔
ایک بلند آواز پورے گھر میں گونج اٹھی۔
اسی لمحے مرکزی دروازہ زور سے کھلا۔
درجنوں مسلح گارڈز بجلی کی سی رفتار سے اندر داخل ہوئے۔
چند ہی سیکنڈوں میں لانچ کا نقشہ بدل چکا تھا۔
چار گارڈز سامنے سے… چھ دونوں اطراف سے…
اور باقی پچھلے داخلی راستوں سے اندر آ چکے تھے۔
ہر طرف صرف بندوقوں کی نالیں تھیں…
اور اُن سب کا رخ صرف ایک شخص کی طرف تھا۔
ریپر۔
کیٹی اور ٹویٹی ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئیں۔
مولانا صاحب نے بےاختیار الحمدللہ پڑھا۔
امل نے پہلی بار سکھ کا سانس لیا۔
امن کی نظریں صرف اپنی بہن پر تھیں۔
سنان اندر آتے ہی سیٹی بجاتے ہوئے بولا،
گھر تو اندر سے بھی کافی سُندر ہے۔۔
ارحم نے فوراً گارڈز کو حکم دیا،
کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلے! پورا گھر ہمارے گھیرے میں ہے۔
ریپر نے آہستہ آہستہ گردن گھمائی۔ چاروں طرف بندوقیں… ہر دروازہ بند… ہر راستہ مسدود…
چند لمحوں کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے شکاری خود شکار بن چکا ہو۔
مگر…
ریپر کے ہونٹوں پر اچانک ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری۔
بس…؟
اُس کی سیاہ آنکھیں ایک ایک چہرے پر گھومیں۔
اتنا ہی تھا؟
پھر ریپر کی سیاہ آنکھیں سیدھا امن پر جم گئیں۔
یہاں اگر میری انگلی ذرا سی بھی ٹرگر پر دبی…
اُس نے نہایت پُرسکون لہجے میں کہا،
تو سب سے پہلے تمہاری بہن کی سانس روکے گی۔۔۔
امن کی مٹھیاں بھنچ گئیں، مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
ریپر کے ہونٹوں پر سرد مسکراہٹ ابھری۔
اس کے بعد یہ لوگ مجھ پر جتنی چاہیں گولیاں برسا دیں…
اُس نے بےنیازی سے چاروں طرف کھڑے گارڈز کی طرف دیکھا۔
کیا فرق پڑے گا؟
اُس کی آواز میں عجیب سی سفاکیت تھی۔
میرا مقصد تو اُس ایک لمحے میں پورا ہو چکا ہوگا۔
پورا ہال خاموش تھا۔
کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ پلک بھی جھپک سکے۔ اور امن… اُس کی نظریں صرف اپنی بہن پر جمی تھیں۔
امل، جو ابھی تک صوفے پر بیٹھی تھی، نے ایک گہرا سانس لیا۔
اُس کی آنکھوں میں خوف ضرور تھا… مگر ہمت اُس خوف سے کہیں زیادہ بڑی تھی۔

اُس نے آہستہ آہستہ ریپر کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کی۔
چھوڑیں مجھے…
ریپر کی انگلیاں مزید سخت ہو گئیں۔
سیدھی بیٹھی رہو۔
لیکن امل دوبارہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اُس کی نظریں ریپر پر تھیں، جس کی گن اب بھی امن کی طرف تنی ہوئی تھی۔
پھر اچانک پوری قوت سے اپنا ہاتھ جھٹکا اور ایک قدم آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
بھائی… نہیں۔۔۔
وہ پوری طاقت سے چیخی۔
بھائی، یہ مجھ پر گولی نہیں چلا سکتے۔۔۔ یہ بس آپ کو ڈرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔۔۔
اسی لمحے اُس نے جان بوجھ کر اپنا توازن بگاڑنے کی کوشش کی تاکہ ریپر کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے۔
مگر…
ریپر جیسے پہلے ہی اُس کی ہر حرکت بھانپ چکا تھا۔
امل ابھی پوری طرح اُس کی گرفت سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ ریپر نے بجلی کی سی تیزی سے اُس کی کلائی دوبارہ دبوچ لی۔
آہ…
درد سے امل کی چیخ نکل گئی۔
اگلے ہی لمحے ریپر نے اُسے پوری طاقت سے صوفے کی طرف کھینچا۔
امل کا زخمی پاؤں قالین پر بری طرح گھسیٹا، شیشے سے لگے زخم دوبارہ کھل گئے اور تازہ خون سفید قالین پر ٹپکنے لگا۔
ریپر نے ایک ہاتھ سے اُس کا بازو جکڑ رکھا تھا، جبکہ دوسرے ہاتھ میں موجود پستول کی نال اب اُس کی کنپٹی سے ہٹ کر سیدھی اُس کی پیشانی پر آ لگی۔
امن کا دل جیسے مٹھی میں آ گیا۔
امل۔۔۔۔
وہ بے اختیار ایک قدم آگے بڑھا۔
ریپر کی انگلی ٹریگر پر جم گئی۔
ہال میں موجود ہر شخص کا خون جیسے جم گیا۔
ایک قدم اور…
اُس نے دھیمے مگر لرزا دینے والے لہجے میں کہا۔
اور پھر کسی سودے بازی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
امن کی آنکھوں میں بے بسی اتر آئی۔
اُس نے اپنی بہن کو دیکھا۔
امل کے چہرے پر تکلیف صاف دکھائی دے رہی تھی، مگر اُس نے ہلکے سے سر ہلا کر جیسے بھائی کو انکار کا اشارہ دیا۔
نہیں بھائی… اُس کے لب ہلے، مگر آواز بہت مدھم تھی۔
امن نے آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لیا۔
چند لمحوں بعد اُس نے آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ نیچے کر دیے۔
اُس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
ٹھیک ہے…
پورا ہال ساکت ہو گیا۔
ٹھیک ہے، ریپر…
اُس نے بڑی مشکل سے الفاظ ادا کیے۔
یہ سنتے ہی امل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
بھائی… نہیں….
مگر امن کی نظریں اب بھی ریپر پر جمی تھیں۔
میں… سیاست سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہوں۔
یہ الفاظ سنتے ہی پورے ہال پر ایسی خاموشی طاری ہو گئی،
امل کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں۔
نہیں…
اُس کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
بھائی، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
امن نے ایک نظر اپنی بہن کو دیکھا۔
اُس نظر میں بےبسی بھی تھی، محبت بھی… اور ایک بھائی کا ٹوٹتا ہوا دل بھی۔
امل… اُس کی آواز دھیمی تھی۔
مجھے معاف کر دینا۔
نہیں۔۔۔۔
امل پوری طاقت سے چلائی۔
آپ میرے لیے اپنے مقصد کو قربان نہیں کریں گے۔ ہرگز نہیں۔۔۔۔۔
ریپر کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
آخرکار… وہ آہستہ سے بولا۔
ایک بھائی نے، ایک بھائی ہونے کا حق ادا کر ہی دیا۔
یہ الفاظ جیسے ہی ٹویٹی کے کانوں میں پڑے، اُس کی پلکیں بے اختیار جھپک گئیں۔
ایک بھائی ہونے کا حق…
یہ جملہ اُس کے دل میں کسی خنجر کی طرح اترا۔
ایک لمحے میں حال کا منظر دھندلا گیا…
اور ماضی اُس کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو اٹھا۔
وہ بارش بھری رات… دروازے کے باہر کھڑی وہ…
اور اندر اُس کے دونوں سگے بھائی۔
یہ گھر اب ہمارا ہے، تمہارا نہیں۔
جو حصہ چاہیے تھا، مل گیا نا؟ اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔
اُس نے روتے ہوئے اُن کے قدم پکڑے تھے۔
بھائی… میں کہاں جاؤں گی؟
مگر جواب میں صرف ایک زور کا دھکا ملا تھا۔
وہ سیڑھیوں سے لڑھکتی ہوئی نیچے گری، جبکہ دروازہ اُس کے منہ پر بند کر دیا گیا۔
نہ کسی بھائی نے اُس کا ہاتھ تھاما…
نہ پلٹ کر ایک بار دیکھا۔۔۔
ٹویٹی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اُس نے بے اختیار سامنے کھڑے امن کو دیکھا…
جو اپنی بہن کی جان بچانے کے لیے اپنی پوری سیاسی زندگی قربان کرنے پر آمادہ کھڑا تھا۔
اُس کے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ آئی۔
کاش… اُس نے دل ہی دل میں سوچا۔
میرے بھائی بھی… بھائی ہونے کا حق ادا کر دیتے…
یہ کیسا قرض تھا رشتوں کا، سب ادا کرتے رہے،
کوئی جان دے گیا… کوئی ساتھ بھی نہ دے سکا۔
ریپر نے آہستہ آہستہ پستول کی نال امل کی پیشانی سے ہٹائی، مگر اُس کا بازو بدستور مضبوطی سے پکڑے رکھا۔
تو پھر… اُس نے امن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اپنے تمام گارڈز کو حکم دو کہ اپنے ہتھیار نیچے رکھ دیں۔
ہال میں کھڑے تمام گارڈز چونک اٹھے۔
ارحم فوراً بولا،
سر! ایسا مت کیجیے۔
سنان نے بھی سخت لہجے میں کہا،
مجھے یہ آدمی اپنے وعدے پر قائم رہنے والوں میں سے نہیں لگتا۔
بڑی اچھی پہچان ہے تمہاری۔
پھر اُس نے دوبارہ پستول کی نال امل کی کنپٹی سے لگا دی۔
لیکن افسوس…
فیصلہ تم نہیں کرو گے۔
اُس کی نظریں دوبارہ امن پر جم گئیں۔
ابھی… اسی وقت اپنا فون تکالو۔
امن خاموش کھڑا رہا۔
فون نکالو، امن۔۔۔۔ ریپر کی آواز گونجی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد امن نے آہستہ سے اپنی جیب سے موبائل نکال لیا۔
ریپر نے اطمینان سے سر ہلایا۔
بہت خوب۔
اب اپنی پارٹی کے مرکزی ترجمان کو کال لگاؤ…
اور لائیو پریس کانفرنس بلوا کر پوری قوم کے سامنے اعلان کرو…
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا۔
کہ آج سے…
سید امن حنان افتخار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ رہا ہے۔
ہال میں کھڑے ہر شخص کا چہرہ سخت ہو گیا۔
امل نے بےیقینی سے اپنے بھائی کو دیکھا۔
بھائی… نہیں۔
پِھر امن نے جیب سے فون نکلا اور نہات کو کال ملا دی
ہال میں صرف فون کی گونج سنائی دے رہی تھی۔
امن نے دانت بھینچ رکھے تھے۔
دوسری طرف نہات مسلسل کال بجنے کے باوجود فون نہیں اٹھا رہا تھا۔
ریپر کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
اسپیکر آن کرو۔
امن نے خاموشی سے اسپیکر آن کر دیا۔
مگر چند لمحوں بعد کال خود بخود کٹ گئی۔
دوبارہ ملاؤ۔ ریپر نے حکم دیا۔
امن نے جیسے ہی دوبارہ نمبر ملانے کے لیے اسکرین کی طرف دیکھا…
اُسی لمحے…
امل یکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔
امل۔۔۔ امن بےاختیار چیخا۔
مگر وہ کسی کی پروا کیے بغیر میز کی طرف لپکی، جہاں نکاح نامہ رکھا تھا۔
ریپر ایک لمحے کے لیے چونکا۔
رکو۔۔۔۔
مگر اُس ایک لمحے کی مہلت ہی امل کے لیے کافی تھی۔
اُس نے کانپتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا…
اور بغیر ایک لمحہ ضائع کیے نکاح نامے پر اپنے دستخط کر دیے۔
قلم کاغذ سے الگ ہوا تو پورا ہال جیسے پتھر کا ہو گیا۔
امن کی آنکھیں بےاختیار پھیل گئیں۔
امل…
امل نے آہستہ سے قلم میز پر رکھ دیا۔
پھر اپنے آنسو صاف کیے…
اور اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
میں آپ کی ایک بہن ہوں، بھائی…
اور آپ…
آپ پوری قوم کی امید ہیں۔
میں اپنی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی امید نہیں چھین سکتی۔
پھر اُس نے ریپر کی طرف نفرت بھری نگاہ سے دیکھا۔
اور پھر امل نے نکاح نامہ دونوں ہاتھوں سے اٹھایا، اور نفرت سے وہ کاغذ سیدھا ریپر کے چہرے پر دے مارا۔
کاغذ ہوا میں لہراتا ہوا اُس کے ماسک سے ٹکرا کر نیچے گر گیا۔
امل کی آواز پورے ہال میں گونج اٹھی۔
لو… اب کر لیا میں نے دستخط۔ اب کس بات کی دھمکی دیں گے میرے بھائی کو؟
اب کس چیز کے سہارے اُنہیں جھکائیں گے؟
چند لمحوں کے لیے پورا ہال ساکت رہ گیا۔
ریپر جیسے اپنی جگہ منجمد ہو گیا۔
اُس کی سیاہ آنکھیں صرف امل کے چہرے پر جمی تھیں۔
شاید اُسے خود بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس لڑکی کو وہ ڈرا کر اپنی مرضی منوانا چاہتا تھا… وہ خود اپنی مرضی سے اُس کا سب سے بڑا ہتھیار چھین لے گی۔
کیٹی نے بے یقینی سے ریپر کی طرف دیکھا۔
باس…
مگر ریپر نے کوئی جواب نہ دیا۔
بس خاموشی سے امل کو دیکھتا رہا۔
اور یہی ایک لمحہ… سنان کو چاہیے تھا۔
اُس کی انگلی پہلے ہی ٹریگر پر تھی۔
دھائیں!!!
گولی کی گرج نے پورا ہال ہلا کر رکھ دیا۔
ریپر نے آخری لمحے خطرہ بھانپ لیا۔
باس۔۔۔۔
کیٹی بجلی کی سی رفتار سے ریپر کے سامنے کود گئی اور پوری طاقت سے اُسے پیچھے دھکیل دیا۔
گولی سیدھا ریپر کے سینے کی طرف جا رہی تھی…
مگر اُس کے پیچھے ہٹتے ہی نشانہ بدل گیا۔
گولی اُس کے دل سے چند انچ کے فاصلے سے گزرتی ہوئی بائیں بازو میں پیوست ہو گئی۔
خون کا فوارہ پھوٹ نکلا۔
ریپر کا جسم لڑکھڑایا، مگر وہ گرا نہیں۔
اُس نے زخمی بازو پکڑ لیا۔
ہال میں ایک لمحے کے لیے مکمل افراتفری پھیل گئی۔
فائر!!!
کسی نے زور سے چیخ کر حکم دیا۔
اور اگلے ہی لمحے ہر طرف گولیوں کی آوازیں گونج اٹھیں۔
دھائیں… دھائیں… دھائیں…
مگر اس سے پہلے کہ امن کے آدمی مکمل طور پر سنبھل پاتے…
اچانک محل کے مختلف حصوں سے خفیہ دروازے کھلنے لگے۔.دائیں دیوار کے اندر سے….اوپر والی بالکونی کے پیچھے سے….سیڑھیوں کے نیچے بنے پوشیدہ راستے سے….اور عقبی راہداری کے اندر سے…
ایک کے بعد ایک درجنوں مسلح افراد باہر نکل آئے۔
وہ پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔
حملہ کرو۔۔۔۔
کیٹی کی گرج دار آواز پورے ہال میں گونج اٹھی۔
اگلے ہی لمحے اُن سب نے عقب سے امن کے گارڈز پر دھاوا بول دیا۔
سر! پیچھے
ارحم چیخا، مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔
ایک حملہ آور نے بندوق کی بٹ ایک گارڈ کے سر پر دے ماری، دوسرا اُس پر جھپٹ پڑا۔
ہال چند ہی لمحوں میں میدانِ جنگ بن گیا۔
ہر طرف چیخیں، گولیاں اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔
سنان نے فوراً رخ موڑا۔
بیک اپ! پیچھے والے راستے بند کرو۔۔
مگر دشمن کی تعداد توقع سے کہیں زیادہ تھی۔
اسی افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیٹی نے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے ایک چھوٹا سا دھاتی سلنڈر نکالا۔
اُس نے حفاظتی پن کھینچی…
اور پوری قوت سے اُسے ہال کے عین درمیان اچھال دیا۔
سب نیچے۔۔
دھماک!!!
یہ بارودی دھماکہ نہیں تھا…۔بلکہ شدید دھوئیں کا بم تھا۔
چند ہی لمحوں میں گاڑھا سفید دھواں پورے ہال میں پھیل گیا۔
نہ ایک قدم آگے دکھائی دیتا تھا…
نہ ایک چہرہ پہچانا جا سکتا تھا۔
ہر طرف صرف کھانسیوں، چیخوں اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
امل۔۔
امن پوری طاقت سے چیخا۔
اُسے اپنی بہن کی سمت کا اندازہ تھا۔
وہ آنکھیں نیم بند کیے، دھوئیں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔
بھائی…
دھوئیں کے اندر سے امل کی کمزور آواز سنائی دی۔
امن نے آواز کی سمت لپک کر ہاتھ بڑھایا۔
اگلے ہی لمحے اُس کی انگلیاں امل کی کلائی سے ٹکرائیں۔
اُس نے فوراً اُسے اپنی طرف کھینچ کر سینے سے لگا لیا۔
امل نے بھی بےاختیار اپنے بھائی کی قمیص مضبوطی سے پکڑ لی۔
کچھ دیر بعد
دھواں آہستہ آہستہ چھٹنے لگا۔
پہلے چھت نظر آئی… پھر دیواریں… پھر ٹوٹی ہوئی میزیں اور فرش پر بکھرے شیشے۔
کھانسیوں کی آوازیں اب بھی پورے ہال میں گونج رہی تھیں۔
امن نے فوراً امل کو اپنے پیچھے کر لیا اور پستول چاروں طرف گھما کر دیکھا۔
سب لوگ اپنی اپنی پوزیشن چیک کرو۔۔ ارحم بلند آواز میں بولا۔
گارڈز نے تیزی سے پورے ہال کا جائزہ لینا شروع کیا۔
چند ہی لمحوں بعد سنان نے دھوئیں کے آخری بادل کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے حیرت سے اردگرد دیکھا۔
اوئے…
اُس کی آواز میں پہلی بار سنجیدگی تھی۔
وہ کہاں گئے؟
امن کی نظریں پورے لانچ میں دوڑ گئیں۔
جہاں چند لمحے پہلے ریپر بیٹھا تھا…
وہ صوفہ خالی تھا۔
کیٹی… ٹویٹی… اور ریپر… کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔ جیسے اُن سب کو زمین نگل گئی ہو۔ نہ ہی ریپر کا کو آدمی یہاں موجود تھا سب اچانک سے ایک دھواں میں غائب ہوگئے تھے۔۔۔۔
ارحم فوراً دوڑ کر اُس جگہ پہنچا جہاں ریپر زخمی کھڑا تھا۔
خون کے چند تازہ قطرے قالین پر بکھرے ہوئے تھے… وہی خون جو ریپر کے زخمی بازو سے بہا تھا۔
مگر اُن لوگوں کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔
سر۔۔۔ ارحم نے جھک کر خون کو دیکھا۔
یہ زخمی حالت میں بھی نکل گئے۔
ارحم نے فوراً چند گارڈز کو اشارہ کیا۔
پورا گھر چھان مارو۔۔۔۔
ہر کمرہ، ہر منزل، ہر اسٹور، ہر تہہ خانہ۔۔۔
ایک ایک اینٹ چیک کرو۔۔۔۔
یس سر۔۔
گارڈز مختلف سمتوں میں دوڑ پڑے۔
چند منٹ بعد وائرلیس پر ایک کے بعد ایک آوازیں آنے لگیں۔
فرسٹ فلور کلیئر!۔سیکنڈ فلور کلیئر!
بیسمنٹ کلیئر، چھت کلیئر، پچھلا حصہ کلیئر۔۔
کسی کی آواز میں بےیقینی تھی۔
سر… یہاں کوئی نہیں ہے۔
ہال پر ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
ائرہ نے بھنویں سکیڑ لیں۔
ناممکن…
اُس نے دیواروں کی طرف غور سے دیکھا۔
اتنے سارے لوگ… ہوا میں تو غائب نہیں ہو سکتے۔
امن کی نظریں فرش پر پھیلے خون کے قطروں پر جم گئیں۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
یہ گھر….جتنا باہر سے محل لگتا ہے…
اُس نے دیوار کی طرف قدم بڑھائے۔
..اندر سے اتنا سادہ نہیں۔
سنان نے اثبات میں سر ہلایا۔
بالکل۔ یہاں ضرور کوئی خفیہ راستہ ہے… اور ریپر نے دھوئیں کو صرف وقت خریدنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

چھپا ہے دھوئیں میں، مگر کب تلک چھپ سکے گا وہ،
لہو کے ہر اک قطرے سے آخر پکڑا جائے گا وہ۔

سمجھا تھا ڈرا کر جھکا دے گا ہر مضبوط ارادہ،
یہی اُس کی بھول تھی، خود اپنے جال میں آئے گا وہ۔

جو رشتوں کی حرمت کو ہتھیار بنا کر چلتا ہے،
وقت کے کٹہرے میں ایک دن سر جھکائے گا وہ۔

وفاؤں کی قیمت نہ جانی، ظلم کو طاقت سمجھا،
عدل کے سورج کے نکلتے ہی مٹ جائے گا وہ۔

یہ انجامِ ظلم ہے، آغازِ حساب ابھی باقی،
قدم قدم پر اپنے ہر جرم کا پھل پائے گا وہ۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *