ناول کا نام ۔حرفِ حیا
قلم از ۔۔لائبہ مقبول احمد ۔
نمبر ۔سات
(07قسط)
اب ہم پارلر کے لیے نکلتی ہیں۔امامہ نے ارم اور زویا سے کہا۔
شام کو امامہ اور زویا کو گھر آنے میں دیر ہو گئی۔ اسکی وجہ پارلر میں موجود رش تھا۔
اللہ اِتنا رَش لگتا ہے سب کو آج ہی یاد آیا تھا کہ پار لر جانا ہے۔
وہ دونوں فشیل وغیرہ ہی کروا کر پارلر سے باہر آ گئیں تھیں۔
رات کے آٹھ بج چکے تھے ۔ ارم انہیں کب سے چھوڑواپس گھر جا چکی تھی ۔
اب اُنہیں ٹیکسی کے ذریعے گھر واپس جانا تھا۔
اضلان کو فون کر لو۔ کیا پتہ وہ لینے آجائے ۔
امامہ نے زویا سے کہا جو پہلے ہو اسے ٹیکسٹ کر رہی تھی۔ مجھے ٹیکسی ویکسی میں نہیں جانا ۔ اتنی دیر لگا دیتے ہیں وہ گھر پہنچانے میں ۔
امامہ کو ٹیکسی میں جانے سے کوفت تھی اسلئے وہ زویا سے اضلان یا ایان کو کال کرنے کا کہہ رہی تھی۔
باجی اے باجی اللہ دے نام تے کش دے دے۔
ابھی زویا نے کال کرنے کے لئے موبائل بیگ سے نکالا ہی تھا کہ ایک بھکاری امامہ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔
وہ دِکھنے میں اچھا خاصا نوجوان تھا ۔
اچھے خاصے تو ہو تو پھربھیک مانگنے کیوں مانگ رہے ہو ۔ جا کر کوئی کام کر لو۔
باجی میں تیرے کولوں پیسے منگے آ کوئی مشورہ نئیں ۔
دینے آتے دے نیئں تے رہن دے-
الله کتنا آٹی ٹیوڈ ہے اس بھکاری میں۔
او میڈم تینوں سمجھ چے نہیں آیا ۔ جو میں کیا۔
جاؤ میں نے نہیں دینا کچھ بھی۔
ہمم – اونج مینوں کیندی سی – آلے میرے کولوں لے لے۔
واٹ ریبش۔ یو اڈیٹ۔
امامہ نے غصے میں پاؤں پٹخے۔
لیکن تب تک وہ بھکاری وہاں سے جا چکا تھا ۔
اوہ ہو۔ آرام سے ۔
چلو میرے ساتھ ۔ وہ امامہ کو کھنچتے ہو اپنے ساتھ لے گئی ۔ کہاں لے کر جا رہی ہو مجھے۔ تمہارےپسندیدہ ریستوران –
کیا ؟
ہمم – –
مجھے تو بھوک لگی ہے تم نے کچھ آرڈر کرنا ہے تو بتا دو ۔
ہمم نہیں ۔ میرا مطلب ہاں ۔
کیا؟کچھ بھی آرڈر کر لو ۔
امامہ ۔
زویا نے آرڈر دینے کے بعد امامہ کو بلایا جو کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
کیا ہوا؟
زویا نے امامہ سے پوچھا۔ زوئی مجھے لگتا ہے کہ میں نے اس بھکاری کو کہیں دیکھا ہے ۔
ہممم ۔ ہاں تو ایسے بھکاری ہزاروں جگہوں پر ہوتے ہیں
ہو سکتا ہے کہ یہ تمھیں پہلے بھی ملا ہو۔
ہمم۔ہو سکتا ہے ۔امامہ نے اپنی کرسی سیدھی کی ۔
ویسے آج ایان کو تنگ کرنے میں صیح مزا آئے گا۔
ہمم صیح کہا ۔
امامہ نے بھی ہاں میں سر ہلایا ۔
تب تک انکا آرڈر آچکا تھا ۔ میم یہ لیں آپکا آرڈر ۔
میم یہ آپ کل یہی پر ہی بھول گئیں تھیں۔
ویٹر نے امامہ کی طرف ایک لفافہ بڑھایا۔
میں۔۔
نہیں یہ میرا نہیں ہے۔
امامہ نے لفافے کی طرف دیکھ کر کہا۔
نہیں میم کل جب آپ اس ٹبیل سے اُٹھ کر گئیں تو یہ یہیں پر پڑا ہوا تھا ۔
لیکن یہ میر انہیں ہے ۔
میم میں یہ مان لیتا ۔لیکن اس پر صاف اور بڑے الفاظ میں آپ کا نام لکھا ہوا ہے ۔
ہمم – – دِکھاؤ –
زویا نے لفافہ پکڑا ۔ امامہ واقع میں اس پر تمھارا نام لکھا ہوا ہے۔
زویا نے لفافہ امامہ کی طرف کیا۔
دکھاؤ۔ ہمم۔
اچھاشکریہ۔ آپ جائیں میں دیکھ لوں گی ۔
ہوسکتاہے – –
لیکن میں کل ارم کے ساتھ یہاں خالی ہاتھ آئی تھی ۔
ہو سکتا ہے کہ یہ ارم ہی تمھارے لئے رکھ کر گئی ہو ۔
ہاں۔ یہ ہو سکتا ہے۔
چلو جلدی جلدی سے کھانا کھانا شروع کر ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔ تم نے اضلان کو کال کی ہے ہاں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں آدھے گھنٹے تک پِک کرلے گا۔ اسی لئے میں تمھیں لے کر یہاں آ گئی۔
ہمم اچھا کیا۔
اُن کے کھانا کھانے کے دوران ہی اضلان انہیں لینے کے لئے آ گیا ۔
ہمم – زویا نے بِل پے کیا اور امامہ نے وہ پارسل یعنی لفافہ اپنے بیگ میں ڈال لیا۔ چلو ۔وہ دونوں اضلان کے ساتھ ہی ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئیں۔
راستے میں ہم آئسکریم کھائیں گے ۔
نہیں ۔ ہمیں سیدھا گھر جانا ہوگا۔ پھوپھو کی کال آئی تھی ۔انھوں نے ہی مجھے کہا ہے کہ میں تم لوگوں کو لے کر سیدھا گھر ہی آؤں ۔
ایک تو تائی امی بھی اں۔امامہ نے کار کا دروازہ کھینچ کر بند کیا ۔
ہمم۔اضلان بھی امامہ کی بات سن کر مسکرانے لگا ور کار اسٹارٹ کی ۔
وہ تینوں باتیں کرتے گھر پہنچ گئے ۔اضلان انہیں گھر چھوڑ کر واپس جا چکا تھا ۔
رات کے دس بج چکے تھے وہ دونوں بھی بہت تھک چکی تھیں ۔اسلئے وہ سیدھا اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں سب پتہ تھا نا ؟ تم نے جان بوجھ کر ہم سے سب کچھ چھپایا !
شاہ زیب نے غصے سے بپھرتے ہوئے عون کو گریبان سے پکڑا اور پیچھے سیڑھیوں کی طرف دھکیل دیا۔
عون بالکل ششدر رہ گیا اسے اب تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ شاہ زیب کس بات کا بتنگڑ بنا رہا ہے۔
آخر کس بارے میں بات کر رہے ہو تم شاہ زیب ؟ چھوڑو اسے ۔
نیل نے آگے بڑھ کر عون کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کی۔
“ارسا کے بارے میں “۔
شاہ زیب کے منہ سے یہ نام سنتے ہی عون کے جسم میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا۔ وہ وہیں ساکت ہو گیا۔
تمہیں کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سمجھے ؟
عون نے تپ کر شاہ زیب کو پیچھے دھکیلا اور اب کی بار خود اس کا گریبان دبوچ لیا۔
اور تمہیں یہ سب کس نے بتایا ؟
ارے یار ! تم دونوں ایک دوسرے کو چھوڑو آؤ بیٹھ کر سکون سے بات کرتے ہیں۔
صبیح نے بیچ بچاؤ کرانا چاہا لیکن شاہ زیب نے اسے جھٹک دیا۔
رہنے دو صبیح ۔۔۔۔۔
آخر ہوا کیا ہے ؟ کچھ ہمیں بھی تو بتاؤ ۔
نیل نے الجھن اور تشویش سے اپنی نیلی آنکھیں شاہ زیب اور عون کی طرف گھمائیں۔
یہی… کہ یہ اور ارسا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ریلیشن شپ میں ہیں !
“کیا ؟”عون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔
یہ سنتے ہی اس نے ایک زوردار تھپڑ شاہ زیب کے گال پر رسید کیا۔
“تم ہوش میں تو ہو نا ؟”عون نے دوبارہ شاہ زیب کا کالر پکڑا اور اسے بے رحمی سے جھٹکے دینے لگا۔
ہاں ہاں ! جب خود کی چوری پکڑی گئی تو…
مارو مجھے اور مارو !”صبیح نے شاہ زیب کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔
لیکن وہ اب بھی اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا۔
ارے مجھے تو افسوس ہو رہا ہے کہ میں ایسی لڑکی سے محبت کرتا تھا…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
