Bashar Episode 2 written by siddiqui


بشر  ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲

جے کیونگ اور تائیجون جیسے ہی شاپنگ مال پہنچے، رن یون نے غصے سے انہیں گھورتے ہوئے کہا،
کہاں تھے تم دونوں؟ یہاں ہم سب تم لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پریشان ہو گئے!

جے کیونگ نے فوراً ایک جھوٹ گھڑ لیا، بھائی، یہیں تھے، سامان لے رہے تھے۔ شاید آپ لوگوں کو نظر نہیں آئے ہوں گے۔

سوہان نے شک بھری نظروں سے اسے دیکھا، ہاں، جھوٹ! تم لوگ یہاں تھے ہی نہیں، گارڈ نے تم دونوں کو اچھی طرح ڈھونڈا تھا، لیکن تم کہیں بھی نہیں تھے۔

تائیجون نے کندھے اچکائے اور بے پروا انداز میں کہا، کہیں گئے بھی تو تھے، تو کیا اب واپس آگئے ہیں نہ اور صحیح سلامت بھی ہیں، تو مسئلہ کیا ہے؟

رن یون نے گہری سانس لی، اس کے چہرے پر ابھی بھی ناراضی کے آثار تھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ تم دونوں بنا بتائے غائب ہو گئے تھے! اگر کچھ ہو جاتا تو؟

جے کیونگ نظریں چرا کر بولا، ہمیں بس تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چاہیے تھی، اسی لیے باہر نکل گئے تھے۔

سوہان نے غور سے جے کیونگ کا چہرہ دیکھا، جیسے وہ سچ جاننے کی کوشش کر رہا ہو۔
کہاں گئے تھے؟

تائیجون نے جلدی سے بات بدلی، چلو نا، اب زیادہ لیکچر مت دو، ہمیں بھوک لگی ہے۔ کچھ کھانے چلیں؟

رن یون نے انہیں شک بھری نظروں سے دیکھا، لیکن مزید کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا۔ مگر سوہان کا انداز بتا رہا تھا کہ یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا تھا…

—————-

ریسٹورانٹ کی نرم روشنیوں میں کھانے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میز پر رکھی ڈشز سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی، مگر ہیوک کے چہرے پر خفگی کے آثار نمایاں تھے۔ اس نے کہنی میز پر ٹکاتے ہوئے برا سا منہ بنایا اور بولا،
یار، تم لوگ تو بہت بُرے ہو۔۔۔۔

جے کیونگ نے ایک نوالہ چبایا اور بے پروا انداز میں کندھے اچکائے،
ہاں، پتہ ہے۔

تائیجون نے چونک کر اسے دیکھا،
میں نے کیا کیا؟

ہیوک نے تیزی سے جواب دیا،
تم دونوں ہمیں بھائی مانتے ہی نہیں ہو! اگر مانتے تو کم از کم بتا کر جاتے۔

جے کیونگ نے مصنوعی آہ بھری۔۔۔
اب یہ ہمیں ایموشنل ڈیمیج کرے گا۔

سیونگ، جو اب تک خاموش بیٹھا تھا، پانی کا گھونٹ لینے کے بعد سنجیدگی سے بولا، ایموشنل ڈیمیج نہیں، سچ میں صحیح کہہ رہا ہے ہیوک۔ تم دونوں بنا بتائے نکل گئے، ہم سب پریشان ہو گئے تھے۔۔۔۔

سوہان نے ہاتھ باندھ کر ان پر گہری نظر ڈالی،
اور ہمیں پورا یقین ہے کہ تم لوگ کہیں نہ کہیں گئے ضرور تھے۔ جھوٹ مت بولو۔۔۔۔

تائیجون نے بے پروائی سے کندھے اچکائے، ہاں ہمارے اندر سکون تھوڑی ہے، ایک جگہ ٹیک لگا کر نہیں بیٹھ سکتے تھے، اس لیے نکل گئے۔۔۔۔

ہیوک نے تائیجون کو گھورا،
تو کم از کم بتایا تو ہوتا۔۔۔۔

جے کیونگ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
اگر بتا دیتے تو ڈرامہ زیادہ ہوتا، جیسے اب ہو رہا ہے۔

سیونگ نے سر جھٹک کر کہا،
تم دونوں واقعی ناقابلِ اعتبار ہو۔۔۔۔

تائیجون نے مسکراتے ہوئے کہا،
جانتے ہیں، پھر بھی تم لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

سب نے ایک لمحے کے لیے انہیں گھورا، جیسے ابھی بھی ان پر یقین نہیں آرہا تھا۔ پھر ہیوک نے زبردستی اپنی ہنسی دبائی اور سر ہلا دیا، سالے…

اور بس، اس کے بعد ماحول پھر سے نارمل ہوگیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

سوہان نے ناراضی سے ہاتھ باندھ لیے اور سب کی طرف گھور کر دیکھا،
بھائی یہ غلط ہے، تم کچھ بول کیوں نہیں رہے ان دونوں کو؟ میرے وقت تو تمہیں بہت غصہ آتا ہے، اور یہ دونوں جو بنا بتائے نکل گئے۔۔۔۔ سوہان نے رن یون کو اتنے آرام سے بیٹھا دیکھ کہا۔

تائیجون نے مسکراتے ہوئے سوہان کی طرف دیکھا، ارے سوہان، تُو تو ایسے غصہ کر رہا ہے جیسے ہم کوئی بہت بڑی غلطی کر کے آئے ہیں۔ بس تھوڑی سی ہوا کھانے نکلے تھے، کوئی جرم تو نہیں کیا۔۔۔۔

سوہان نے ناگواری سے رخ موڑ لیا،
ہاں ہاں، میرے وقت پر تو تم سب کو بہت اصول یاد آتے ہیں۔ اور اب؟ کوئی کچھ نہیں بولے گا؟ اس نے سب کی طرف دیکھا، خاص طور پر رن یون کی طرف، جو بالکل پرسکون بیٹھا تھا۔

رن یون نے ایک نظر سوہان پر ڈالی اور پھر چپ چاپ کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا، جیسے کہ یہ معاملہ اس کے لیے کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا ہو۔

سوہان، چپ کر کے کھانا کھا۔ ہیوک نے سنجیدگی سے کہا۔

کیا؟ سوہان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، تم بھی؟!

ہاں، کیونکہ تُو فضول میں اوور ری ایکٹ کر رہا ہے۔ ہیوک نے کندھے اچکائے، چلو اب، زیادہ ڈرامہ مت کر اور کھانے پر دھیان دے۔

سوہان نے غصے میں چمچ پلیٹ میں رکھ دیا اور سب کو گھورتے ہوئے کہا،
تم سب ایک جیسے ہو! میں نہیں کھا رہا کھانا۔

سوہان، کھانا کھاؤ چپ کر کے۔ رن یون، جو اب تک خاموش تھا، پہلی بار بولا۔ اس کی آواز میں کوئی سختی نہیں تھی، مگر ایک ایسا دبدبہ تھا، جو سوہان کو ہر دفعہ کی طرح خاموش کروا دیتا تھا۔

کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی پھر رن یون نے دوبارہ بولنا شروع کیا، اس بار اس کی نظریں سیدھی سوہان پر تھیں۔

دنیا چاہے ادھر کی ادھر ہو جائے، تم اگر مجھے بنا بتائے کہیں جاؤ گے، سوہان، تو ہم سب تم پر غصہ بھی کریں گے، اور میں ہر بار کی طرح تمہیں ماروں گا بھی۔
یہ جملہ سنتے ہی باقی سب ہلکی سی مسکراہٹ دبانے لگے، مگر سوہان کا منہ حیرت سے کھل گیا۔

کیا؟ اس نے بے یقینی سے رن یون کو دیکھا، تم تو ایسے بول رہے ہو جیسے میں کوئی چھوٹا بچہ ہوں۔۔۔۔

تم ہو۔ سو مین نے سنجیدگی سے کہا اور اپنی پلیٹ سے ایک نوالہ اٹھا لیا۔

باقی سب کے چہروں پر ہنسی چھپانے والے تاثرات تھے، مگر کسی نے کچھ نہ کہا۔ سوہان جسے اب غصے سے زیادہ شرمندگی محسوس ہو رہی تھی اپنی پلیٹ کی طرف دیکھنے لگا۔

اب آرام سے کھاؤ۔ ہیوک نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا،

سوہان نے سب کو گھورتے ہوئے چمچ اٹھا لیا، تم سب واقعی ایک جیسے ہو۔۔۔۔

بھائی، تم ہم دونوں سے ناراض تو نہیں ہو نا؟ تائیجون کو رن یون کے تاثرات دیکھ کر کچھ گھبراہٹ محسوس ہوئی۔ رن یون کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح کوئی خاص تاثر نہیں تھا، مگر اس کی خاموشی کافی تھی کہ تائیجون اور جے کیونگ دونوں تھوڑے محتاط ہو جائیں۔

رن یون نے ان دونوں کی طرف دیکھا، پھر ایک ہلکی سانس لیتے ہوئے بے پروائی سے بولا، بھلا میری مجال جو آپ دونوں شہزادوں سے ناراض ہوں۔۔۔

تائیجون نے کچھ حیرت سے رن یون کو دیکھا، جب کہ جے کیونگ نے منہ بنا لیا، جیسے کوئی بچہ غلطی کے بعد اپنی ماں کے سامنے معصومیت سے معافی مانگنے کی کوشش کر رہا ہو۔

بھائی۔۔۔ اس نے لمبا سانس لے کر کہا،
ہم اب کوئی چھوٹے بچے تو نہیں ہیں نا اور سوہان کی طرح بھی بالکل نہیں ہیں، تمہیں ہمارے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاں، جانتا ہوں کہ تم دونوں بچے نہیں ہو۔ جانتا ہوں کہ جے کیونگ اسٹیج پر تو خوش مزاج اور زندہ دل نظر آتا ہے، لیکن اصل میں اس کے چہرے پر ہر وقت بارہ بجے رہتے ہیں، اور بات بات پر تو اسے غصہ آجاتا ہے۔ اور تم، تائیجون، تمہاری وہی ضد، وہی لاپرواہی انداز! اور تم ایسے کہہ رہے ہو جیسے میں تم دونوں کی فضول اور بے تُکی حرکتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا! ہاں، مجھے سب پتہ ہے۔ تم دونوں کو مینیجر اور گارڈز پسند نہیں، لیکن اس میں میں کیا کر سکتا ہوں؟ ہم نے کنٹریکٹ پر سائن کیا ہوا ہے، اور اب یہ سب برداشت کرنا پڑے گا۔

اس نے گہرا سانس لیا، جیسے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہ رہا ہو، مگر اس کی آواز میں اب بھی خفگی جھلک رہی تھی۔

اسی لیے میں مینیجر کو تم دونوں سے دور رکھتا ہوں، زیادہ تر تم لوگوں کے معاملات خود ہینڈل کرتا ہوں۔ اور تم دونوں بس اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہو! مجھے بتا کر جاتے تو کیا میں منع کرتا؟ کیا میں تمہاری بات نہ مانتا؟

رن یون کی آواز میں سختی تھی، لیکن اس کے الفاظ میں ایک غیر مرئی درد چھپا تھا، جو تائیجون اور جے کیونگ کے دل پر سیدھا وار کر گیا۔
اگر تم دونوں کو مجھ سے بھی مسئلہ ہے، تو صاف صاف بول دو۔

جے کیونگ اور تائیجون کے دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گئے۔ ان کے سر بے اختیار جھکے رہے، مگر جیسے ہی انہوں نے نظریں اٹھائیں، رن یون کی آنکھوں میں وہی شناسا پرچھائیاں نظر آئیں—مایوسی، ناراضگی، اور شاید… تھوڑی سی تکلیف۔
تائیجون نے بے ساختہ لب بھینچے، جبکہ جے کیونگ نے بے چینی سے اپنی انگلیاں مروڑیں۔ وہ کچھ کہہ نہیں سکے، کوئی وضاحت، کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔

سوری بھائی۔۔۔
یہ الفاظ بے اختیار ان کے لبوں سے نکلے، اور وہ بھی ایک ساتھ۔ جیسے ان کے دلوں نے تسلیم کر لیا ہو کہ غلطی انہی کی تھی۔

رن یون نے ان دونوں کو دیکھا، گہری سانس لی اور نظریں پھیر لیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ معذرت خالی الفاظ نہیں تھی، بلکہ ایک غیر لفظی وعدہ تھا کہ وہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔

تائیجون اور جے کیونگ شاید سب کے سامنے ضدی، من مانی کرنے والے اور لاپرواہ تھے، لیکن جب بات رن یون کی آتی تھی، تو ان کی ایک بھی نہیں چلتی تھی۔ وہ اس کے سامنے ہمیشہ سے بے بس تھے، اور ہمیشہ رہیں گے۔

رن یون نے گہری سانس لی اور سخت لہجے میں کہا، تم دونوں اگر ہم میں سے کسی ایک کو بھی بتا کر جاتے تو، کم از کم ہم پریشان تو نہ ہوتے! اور جب تک تم دونوں واپس نہ آجاتے، تب تک ہم منیجر اور گارڈ کو کسی نہ کسی طرح بہلا سکتے تھے۔۔۔۔

تائیجون نے فوراً سر جھکا لیا، جے کیونگ نے بھی ندامت سے نظریں چرائیں۔ رن یون کی ناراضگی ہمیشہ ان کے دل پر بوجھ ڈال دیتی تھی، اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس بار وہ واقعی غصے میں تھا۔

تائیجون نے فوراً معصومیت سے ہاتھ جوڑ دیے۔ سوری نا بھائی، اب ہم بتا کر جائیں گے، بس اس بار معاف کر دو۔۔۔۔

اس کی معصوم آواز پر رن یون نے ایک نظر اسے گھورا، لیکن وہ زیادہ دیر تک اس کی شکل دیکھ کر ناراض نہیں رہ سکا۔ وہ جانتا تھا کہ تائیجون ضدی تھا، اس سب سے بڑھ کر وہ تائیجون سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا۔۔۔

اسی لمحے، جو اب تک خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا، مین سو اچانک بول پڑا، بھائی، میں کچھ بولوں؟

اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتا، رن یون نے فوراً دوٹوک لہجے میں کہا، نہیں۔
اور یہ سنتے ہی سب کی ہنسی نکل گئی۔۔۔

یہ بات تو سب جانتے تھے کہ جب بھی مین سو بولتا، کچھ نہ کچھ الٹا ہی بولتا۔ تائیجون اور جے کیونگ، جو ابھی چند لمحے پہلے سخت ماحول میں تھے، اب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔

رن یون نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا دیا۔ یہ سب کبھی نہیں سدھریں گے…

رن یون ان سب سے عمر میں زیادہ بڑا تو نہیں تھا، لیکن وہ ان سب سے محبت کسی بڑے بھائی کی طرح کرتا تھا۔ وہ ان کا خیال ماں کی طرح رکھتا، غصہ باپ کی طرح کرتا، اور مشکل وقت میں ایک حقیقی بڑے بھائی کی طرح ان کے ساتھ کھڑا رہتا۔

رن یون کی پوری دنیا یہی سات بھائی تھے۔ اس کی اصل فیملی یہی تھی۔ وہ ان سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتا تھا، اور ان کے ہر درد کو خود محسوس کرتا تھا۔ وہ خود سے زیادہ انہیں جانتا تھا، ان کی عادتیں، ان کے خوف، ان کی پسند، ان کے خواب… سب کچھ۔

یہ ساتوں بھائی بھی شاید خود کو اتنا نہیں جانتے تھے جتنا رن یون انہیں جانتا تھا۔ ان کے درمیان کوئی خون کا رشتہ نہیں تھا، لیکن ان کا پیار کسی بھی خونی رشتے سے بڑھ کر تھا۔

یہ سب تب سے ایک ساتھ تھے جب وہ صرف اٹھارہ سال کے تھے۔ وہ سب ایک خواب لیے اس انڈسٹری میں آئے تھے، ایک ایسے سفر پر نکلے تھے جس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ تب سے لے کر اب تک، ان کی زندگی کا زیادہ تر وقت اسی گروپ کے ساتھ گزرا تھا۔

رن یون کی ناراضی ہمیشہ ان کی دنیا ہلا کر رکھ دیتی تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ناراض نہیں ہوتا تھا، بلکہ پریشان ہوتا تھا… ان کے لیے۔ وہ بس چاہتا تھا کہ سب خوش رہیں، محفوظ رہیں، اور ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں۔

یہ رشتہ شاید خون سے نہیں جُڑا تھا، لیکن محبت سے بُنا گیا تھا، اور محبت کے رشتے سب سے مضبوط ہوتے ہیں۔

—————

رن یون نے آنکھیں بند کیں، مگر نیند اُس سے دور ہی رہی۔ ہر طرف اندھیرا تھا، لیکن اُس کے دماغ میں روشنی سی تھی۔ وہ لڑکی، اُس کا چہرہ، اُس کی آنکھیں، اور اُس کا رونا ، جو رن یون کے دل میں عجیب سی ہلچل پیدا کر رہی تھی۔ اُسے اُس کی آنکھوں کی گہرائی میں ایسا کچھ نظر آیا تھا، جو اُس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ لڑکی، جو نہایت سادہ تھی، نہایت معصوم تھی

رن یون کا دل ہر پل اُس کی پریشانیوں میں ڈوبتا جا رہا تھا، اور اُسے کوئی سکون نہیں مل رہا تھا۔ اُس کے ذہن میں ایک سوال تھا جو اُسے بے چین کر رہا تھا۔
وہ کیوں رو رہی تھی؟ ایک گہری سوچ میں غرق، رن یون  نے خود سے سوال کیا، اگر وہ اتنی خوبصورت ہے، اتنی پیاری ہے، تو پھر وہ کیوں پردہ کرتی ہے؟ کیوں لڑکوں سے بات نہیں کرتی؟

رن یون کے دل میں اُسے لے کر بے شمار سوالات تھے، مگر سب سے اہم سوال یہی تھا کہ وہ کیوں رو رہی تھی؟ وہ کس بات کے لیے اپنے رب  معافی مانگ رہی تھی؟

—————–

تائيجون اور جے کیونگ اپنے کمرے میں ہی تھے جب اچانک ہان وو دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔

کہاں گئے تھے تم دونوں؟ اُس نے سیدھے لہجے میں پوچھا۔

تائيجون نے عام سے انداز میں کہا،
کہیں نہیں، بس وہی، شاپنگ مال کے باہر ہی گھوم رہے تھے۔

ہان وو نے تیز نظروں سے گھورا،
جھوٹ۔۔۔۔

جے کیونگ نے فوراً بات سنبھالی،
ہم تم سے جھوٹ کیوں بولیں گے، ہان وو؟

بات کو گھماؤ مت، جے کیونگ۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ تم دونوں کہاں گئے تھے؟ وہ اب بھی سنجیدہ تھا

تائيجون جھنجھلایا،
ابھی کھانے کی میز پر سب بات صاف ہوگئی تھی نا؟ پھر دوبارہ کیوں آئے ہو یہی پوچھنے؟ وہیں پوچھ لیتے۔

ہان وو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ جے کیونگ بول پڑا
ہم مسجد گئے تھے۔

کونسے مسجد؟ اُس کا چہرا اور لہجہ اب بھی سنجیدہ تھا

جامعہ مسجد، جے کیونگ نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔

تائيجون نے جے کیونگ کو گھورتے ہوئے کہا
مجھے کہا کہ کسی کو مت بتانا اور اب خود ہی بتا دیا

چپ۔۔۔ جے کیونگ نے تائيجون کو فوراََ چُپ کروا دیا۔

مسجد کیوں گئے تھے تم دونوں؟
ہان وو نے پھر سوال کیا

جے کیونگ نے کندھے اچکائے،
ویسے ہی، بس دیکھنے۔ تم بھی چلو گے؟

نہیں۔۔۔۔ہان وو کہتا پلٹ کر باہر نکل گیا۔

دروازہ بند ہوا تو تائيجون جھنجھلا کر بولا،
تم نے اسے کیوں بتایا؟

جے کیونگ نے پُرسکون انداز میں کہا،
کیونکہ وہ پوچھ رہا تھا۔

تائيجون کے ماتھے پر بل تھے،
اب یہ ہمیں پھنسائے گا۔ جا کے بھائی کو بتا دے گا کہ ہم شاپنگ مال سے اتنا دور مسجد گئے تھے۔

جے کیونگ نے اعتماد سے کہا،
نہیں، یہ ہمیں نہیں پھنسائے گا۔

اور اگر پھنسادیا تو؟ تائيجون کے لہجے میں اضطراب تھا۔

جے کیونگ مسکرا دیا،
وہ سوہان یا سو مین نہیں ہے جو ہمیں پھنسا دے گا  وہ ہان وو ہے، وہ خود پھنس سکتا ہے ، مگر ہمیں نہیں پھنسا سکتا۔۔۔

تائيجوننے جھنجھلا کر اس کی طرف دیکھا،
پھر پوچھنے کیوں آیا تھا وہ؟!

جے کیونگ نے لمحہ بھر سوچ کر کہا،
اس کا تو مجھے بھی نہیں پتا۔

تو پھر تم نے پوچھا کیوں نہیں؟

چھوڑ دو۔ ہمیں کیا کرنا ہے؟
وہ لاپروائی سے بولتا بیڈ پر لیٹ گیا۔۔

++++++++++++++

کمرے کے اندر ہان وو ، جے کیونگ اور تائیجون کی باتیں چل رہی تھیں۔ دروازے کے اُس پار، راہداری کی مدھم روشنی میں کھڑے  سوہان نے سب سن لیا تھا۔
جیسے ہی ہان وو باہر آیا وہ فوراً اپنے سامنے روم میں گھس گیا

تائيجون اور جے کیونگ، مسجد گئے تھے۔۔۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی ہیوک سے کہا

ہیوک کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، کیا؟؟

سوہان نے سر ہلایا،
ہاں، میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔ وہ دونوں ابھی ہان وو کو بتا رہے تھے۔
وہ لمحہ بھر رکا، پھر ایک فیصلہ کن لہجے میں بولا،
اب ہم بھی جائیں گے۔۔۔۔

ہیوک نے چونک کر پوچھا، کیوں؟

سوہان کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
وہ دونوں گئے تھے، اور ہم نہ جائیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

ہیوک نے نا سمجھی سے گردن ہلائی،
ہم وہاں جا کے کریں گے کیا؟

سوہان کی نظریں چمک اٹھیں،
وہی، جو وہ دونوں کر کے آئے ہیں۔

ہیوک نے گہری سانس لی، ہیں؟؟

سوہان آگے بڑھا، اس کے لہجے میں ضد اتر آئی،
تو بس میرے ساتھ چل۔

ہیوک نے ہاتھ ماتھے پر مارا،
ابے ہم وہاں جا کے کیا کریں گے؟ تُو پاگل تو نہیں ہو گیا؟

سوہان نے کندھے اچکائے،
تو نہ چل، میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا۔

ہیوک نے بے بسی سے سر جھٹکا، پھر دھیرے سے بولا،
اچھا، اچھا، چل، میں بھی چلوں گا۔

++++++++++++

اگلی صبح سات بجے کا وقت تھا، سوہان نے ہیوک کو اُٹھانے کے لیے اُس کے منہ سے کمبل ہٹایا

ہیوک، اُٹھ جا! ہمیں مسجد جانا ہے۔۔۔۔ مگر ہیوک کی آنکھوں میں شدید نیند کا غلبہ تھا۔ وہ اپنا بستر چھوڑنے کو بالکل تیار نہیں تھا۔

بھائی، ابھی بہت نیند آ رہی ہے، تُو جا، میں ابھی سو رہا ہوں۔ ہیوک نے آہستہ سے کہا، پھر تکیے کو سر پر ڈالتے ہوئے دوبارہ نیند کی گہری دُھند میں غرق ہو گیا۔

سوہان نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر اپنی نظریں چمکاتے ہوئے کہا،
ٹھیک ہے، میں اکیلا ہی جا رہا ہوں۔

سوہان نے آہستہ سے کمرہ چھوڑا اور دروازہ بند کیا۔

سوہان جب چپ چاپ ہوٹل کے نیچے اترا، اُس کے قدموں کی آواز کے سوا ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ شہر ابھی بھی نیند میں ڈوبا ہوا تھا، 

اور جب اُس نے نیچے  مین سو کو دیکھا، تو وہ لمحہ بھر کے لیے ٹھٹھک گیا۔
مین سو کا ورزش کے لباس میں کھڑا ہونا، ایک اچھی خاصی صبح کے جوش کا اظہار تھا،۔

سوہان نے اُس کے قریب پہنچتے ہی سوال کیا،
تو کیا کر رہا ہے، اتنی صبح صبح یہاں؟ اُس کی آواز میں حیرانی تھی، کیونکہ وہ تو اس وقت مسجد جانے کی تیاری کر رہا تھا، اور  سو مین کا اس وقت یہاں کھڑا ہونا کچھ غیر معمولی لگا۔

سو مین نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، میں جوگنگ کرنے جا رہا تھا۔

سو مین نے گہری نظر سے سوہان کو دیکھا، پھر بولا، مگر تو، تُو اتنی صبح کہاں  سے نکل آیا؟ اُس کے لہجے میں حیرانی اور تجسس تھا۔ سوہان جو صبح کبھی جلدی نہیں اُٹھتا تھا آج کیسے سورج نکل آیا۔

اب سوہان کیا کرے ؟ وہ بہت بڑی طرح بھس چکا تھا اب اُسے نہ چاہتے ہوئے بھی اس فسادی کو بتانا ہی پڑے گا نہیں،تو وہ جو فساد کرے گا، اور ایسی کسی بہانے پہ وہ ٹلنے والا بھی نہیں،

سوہان نے دل میں تھوڑی سی اُلجھن محسوس کی، مگر پھر ایک گہری سانس لیتے ہوئے، اُس نے کہا،
وہ میں مسجد جا رہا ہوں۔

ہیں مسجد؟ کونسے مسجد، وہ فیصل مسجد؟ تُجھے اتنا پسند آیا، سو مین نے حیرانی سے سوال کیا۔

نہیں، اُس کے آس پاس اور بھی مساجد ہیں، میں وہاں جارہا ہوں۔۔۔

سو مین نے اُسے کچھ دیر خاموشی سے دیکھا، اور پھر ایک اور سوال اُٹھا دیا، کیوں؟

سوہان کی نظریں نیچے جھک گئیں، جیسے وہ جواب دینے سے پہلے سوچ رہا ہو کہ  سومین  کو کیسے بتائے وہ فوراً جواب نہ دے سکا،
مگر پھر اُس نے سر اُٹھا کر کہا،
وہ کل نہ تائیجون  اور جے کیونگ مسجد گئے تھے میں بھی وہیں جارہا ہوں۔۔۔

اور تو بنا بتاۓ جا رہا تھا؟ بھائی کو بتاؤ ابھی؟؟ ہاں ؟ سو مین نے سوہان کو غصّہ میں گھورتے کہا  بھائی مانا کرتے ہیں نہ تُجھے کہیں اکیلے جانے ؟؟ ہاں۔۔۔؟؟ بتاؤ بھائی کو۔۔۔۔

اچھا تو پھر تو چل میرے ساتھ۔۔۔۔
سوہان نے معصومیت سے کہا

اوکے۔۔۔۔
سو مین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ساتھ چلنا شروع کیا اور پوچھا، ویسے، کونسی مسجد گئے تھے یہ دونوں، اور کیوں گئے تھے؟

سوہان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
جامعہ مسجد گئے تھے، اور کیوں گئے یہ نہیں معلوم، بس یہاں پتہ کرنے جا رہا ہوں۔

++++++++++++++++

صبح کی روشنی آہستہ آہستہ ہر چیز کو اپنے دائرے میں لے رہی تھی۔ سورج کے نرم سنہری کرنیں مسجد کے سفید میناروں پر پڑ رہی تھیں، اور ہلکی ہوا درختوں کے پتوں میں سرسراہٹ پیدا کر رہی تھی۔ فضا میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور دور کسی چائے کے ہوٹل سے اٹھتی ہوئی ہلکی سی بھاپ نظر آ رہی تھی۔

سومین اور سوہان تیز قدموں سے مسجد کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے ایک مدھم سی آواز آئی
سنے…؟

سومین رکا اور فوراً سوہان کی طرف دیکھا۔
کوئی آواز دے رہا ہے کیا.؟ مین سو نے دھیمے  لہجے  پوچھا۔

سوہان نے سر ہلایا،
ہاں… آواز تو آئی ہے، لیکن کیا کہا، وہ سمجھ نہیں آیا۔

ابھی وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں ملا ہی رہے تھے کہ وہی آواز دوبارہ آئی، اس بار زیادہ واضح اور قریب سے سنائی دی
سننے…؟

دونوں کے قدم بے اختیار رک گئے۔، انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر دیکھا۔

سامنے، روشنی اور سائے کے بیچ ایک لڑکی کھڑی تھی۔ اُس کا چہرہ ایک سیاہ نقاب میں ڈھکا ہوا تھا، جس سے صرف اُس کی گہری، پُراسرار آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ اُس نے پنک رنگ کا عبایا پہن رکھا تھا، جو ہوا میں ہلکے ہلکے ہل رہا تھا۔

آپ نے ہمیں بُلایا۔۔۔۔
سوہان نے انگریزی میں اُس لڑکی کو دیکھ کر کہا۔

لڑکی خاموش رہی، اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی الجھن ابھری، جیسے وہ  سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ سوہان نے سومین کی طرف دیکھا، جو بھی اُسی کی طرح حیران تھا۔

مُجھے لگتا ہے اسے انگلش نہیں آتی۔۔۔۔
سومین نے آہستہ سے کہا۔

سوہان نے گہری سانس لی۔ اُسے صرف اتنا سمجھ آیا تھا کہ لڑکی نے آواز دی تھی، لیکن وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی، یہ اُس کی سمجھ سے باہر تھا۔

تو اب کیا کریں؟ سوہان نے دھیرے سے پوچھا۔

وہ لڑکی  حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ ایک نظر میں ہی یہ بات صاف تھی کہ یہ دونوں پاکستانی نہیں ہیں۔ گوری رنگت، اور ان کے انداز میں ایک الگ سا بیرونی حسن تھا
سوہان کا قد درمیانہ تھا، اور اس کے ہلکے سنہرے بالوں کی روشنی صبح کے سورج میں چمک رہی تھی۔ اور وہ پیاری سی اپنی سبز آنکھیوں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا کچھ الجھن سے۔۔

سومین اس کے برعکس زیادہ سنجیدہ لگ رہا تھا۔ اس کا رنگ تو سوہان سے بھی زیادہ سفید تھا، بالکل دودھ کی تازہ مالائی کی طرح۔ اور اس کی بھوری
آنکھیں، اور ان ہی آنکھوں کے رنگ جیسے بھورے بال، اور قد میں بھی وہ سوہان سے ذرا سا اونچا تھا۔

آپ نے ہمیں بُلایا ؟
سوہان نے دوبارہ انگریزی میں کہا۔

ابے جب اسے انگریزی نہیں آتی تو بار بار انگریزی میں کیوں پوچھ رہا ہے اس سے؟ مین سو نے انگریزی میں ہی سوہان سے کہا

اوہ ہیلو ؟؟ مُجھے آتی ہے انگریزی۔۔۔۔
لڑکی نے ناگواری سے کہا

لو آتی ہے اسے انگریزی۔۔۔
سوہان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا

کیا آپ دونوں کو اردو نہیں آتی؟
لڑکی نے سوال کیا

نہیں۔۔۔۔ سوہان نے جواب دیا۔

اچھا خیر میرا ایک کام ہے کیا آپ دونوں وہ کردو گے؟ اب کے لڑکی نے انہیں انگریزی میں کہا

نہیں۔۔۔ سومین نے فوراََ انکار کردیا

ابے لڑکی کو ایسے مانا نہیں کرتے۔۔۔۔
سوہان نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر ہلکی ناراضگی سے کورین میں سو مین سے  کہا،

پھر لڑکی سے دوبارہ مخاطب ہوا
ہاں کرے گے کرے گے آپ بولے کیا کام ہے۔۔۔

نہیں رہنے دے۔۔
لڑکی ناگواری سے سومین کو گھورتے مڑ گئی

ناراض کردیا نہ ؟؟ سوہان نے تھوڑے غصے سے مین سو سے کہا۔
مانا اب اسے۔۔۔۔

سومین نے سر ہلایا اور کہا
ابے، میں کیوں مانوں؟

ابے روک اُس کو مانا نہیں تو چلی جائے گی وہ۔۔
سوہان نے جھنجھلا کر کہا،

سومین نے ایک لمحے کے لیے لڑکی کی طرف دیکھا، جو اب ان کے پاس سے ہاٹ کر مسجد سے  تھوڑی سی دور پر کھڑی تھی۔
سوہان نے اپنی سبز آنکھوں سے مین سو کو گھورتے ہوئے کہا،
ناراض کردیا اُسے۔۔۔ بتاؤں گا میں سب کو جا کر کہ پڑھ لکھ کر یہ سکھا ہے لڑکیوں کی عزت نہیں کرنا آتا پھر سب بھائی تیرا مذاق اڑائیں گے نہ پھر تُجھے پتہ چلے گا۔۔۔۔

سومین نے ہلکی جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا
ابے۔۔

سوہان نے فوراً تیز لہجے میں کہا
کیا ابے؟؟
پھر انگلی دکھا کر بولا
مدد تو مان رہی تھی وہ لڑکی، کون سا تیرے فین کی طرح تجھے پروپوز کر رہی تھی کہ مین سو ویل یوں مری مے؟ یا مین سو آئی لوو یو ؟ دیکھ بچاری کو کتنی پریشان لگ رہی ہے کسی کو ڈھونڈ رہی شاید؟ کتنے پیار سے مدد مان رہی تھی اور تو۔۔۔۔
سوہان کی بولتی بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

سومین نے بیچ میں ٹوکا،
اوئے بس بھی کر۔۔۔ کہاں سے بچاری لگ رہی ہے وہ تُجھے ؟؟

سوہان نے پھر بھی ہار نہ مانی، سبز آنکھیں چمکاتے ہوئے بولا
ہر اینگل سے۔۔ نہیں تو خود دیکھ کتنی معصوم ہے۔۔۔

شکل تو نظر آ نہیں رہی اُس کی۔۔؟؟ معصوم کہاں سے لگ گئی۔۔۔؟؟ سومین نے جھنجھلا کر کہا

ابے وہ لڑکی ہے نہ اور لڑکیاں معصوم ہی ہوتی ہیں۔۔۔۔ سوہان نے سنجیدگی سے کہا
اب جا کر مانا اُسے۔۔۔۔

تُو چپ نہیں ہوگا نا؟

نہیں۔۔۔ جب تک تو اُسے مانا نہیں لیتا میں بولتا رہوں گا۔۔۔ سوہان نے کسی ضدی بچے کی طرح کہا

سومین جھنجھلا کر اُس لڑکی کی طرف بڑھا، اُس کو معلوم تھا سوہان کتنا ضدی ہے بولتا ہی رہے گا۔۔۔اور اُس کی بتاؤں سے جان چھڑوانے کا ایک ہی حال ہے وہ لڑکی کی مدد کر دے ۔۔۔
کيسی مدد چاہیے تمہیں ؟؟

لڑکی چونکی پھر بولی
پہلے یہ بتائیں آپ مسجد جا رہے ہیں؟؟

ہاں۔۔۔ سوہان فوراََ آگے آکر بولا

ٹھیک ہے آپ دونوں مسجد جا رہے ہیں نہ تو اندر میرے بھائی ہیں باسط بھائی آپ اُن کو بلا دیں پلز۔۔۔۔

کیوں ہم کیوں بُلا کر لائے، نوکر ہیں آپ کے، آپ خود اندر جائے اور بُلا کر لے آئے۔۔۔ سومین نے بھنویں چڑھا کر کہا

لڑکی کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری،
آپ ہوش میں تو ہیں؟ میں اندر جاؤں؟ اُس نے تیز آواز میں کہا، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ کسی نے واقعی یہ بات کہہ دی ہے۔

اُس کی پیشانی پر تیور چڑھ گئے، اور وہ دونوں کو گھورنے لگی، جیسے وہ ان کی ہمت پر حیران ہو۔۔

میں نے ایسی بھی کون سی غلط بات کہہ دی ہے؟ سومین نے ناگواری سے کہا۔

آپ کو نہیں پتہ کہ ہم لڑکیاں مسجد کے اندر نہیں جا سکتیں؟ لڑکی نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

سومین نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیوں؟ لڑکیاں مسجد کے اندر کیوں نہیں جا سکتیں؟

لڑکی نے ذرا سا رک کر گہری سانس لی، پھر نرمی سے بولی،
ویسے تو جا سکتی ہیں، قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ نہیں جا سکتیں، لیکن ہمیں پردے کا حکم ہے، اسی لیے لڑکیوں کا مسجد جانا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

پردہ؟ سومین نے  ابرو چڑھا کر کہا، جیسے اسے یہ بات نئی لگ رہی ہو۔

لڑکی نے اُسے غور سے دیکھا اور ماتھے پر تیوری ڈال کر بولی،
کیا آپ مسلمان نہیں ہیں؟ یا ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں؟ آپ کو اسلام کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ؟ آپ مسلمان نہیں تو پھر مسجد کیوں جا رہے ہیں؟

سوہان دل ہی دل میں کڑھنے لگا۔ یہ بندہ نہ مجھے مروا دے گا! جو بات سننی چاہیے بس چپ چاپ سن لے، نہیں! اب سب کو بتائے گا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں، پھر بھی مسجد جا رہے ہیں۔۔۔۔۔

سوہان نے جلدی سے بات سنبھالتے ہوئے کہا،
اچھا، ہم بلا دیں گے آپ کے بھائی کو۔۔۔۔

یہ کہتے ہی اُس نے سومین کا بازو پکڑا اور اُسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے مسجد کے اندر لے گیا۔

آبے! کیا ہے؟ سومین غصے سے چلایا،

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، ایک گہرا سکون دونوں کو اپنے حصار میں لینے لگا۔

چند قدم کے فاصلے پر، ایک ستون کے قریب، ایک شخص سکون سے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کھلا ہوا قرآن تھا، جس کے سنہری کنارے روشنی میں مدھم چمک رہے تھے۔ وہ شخص نہایت خاموشی سے اپنی تلاوت میں مگن تھا، مگر سوہان اور  مین سو کی آمد نے اس کی توجہ کھینچ لی۔

اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ سوہان کس طرح سومین کو تقریباً گھسیٹتا ہوا اندر لا رہا تھا، یہ منظر دیکھ اُس نے ان دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
ارے ارے! آرام سے!،ایسے کسی کو زبردستی مسجد کے اندر نہیں لے کر آتے۔۔۔۔

معذرت۔۔ اپنے کیا کہا؟ سومین اور سوہان  کو پھر سے یہ زبان سمجھ نہیں آئی تھی۔وہ اس سے بھی انگریزی میں مخاطب ہوئے

اُس شخص نے ناگواری سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔۔

وہ ہمیں اردو نہیں آتی۔۔۔
سوہان نے فوراً سمجھتے کہا۔

میں نے کہا ارے ارے! آرام سے!، ایسے کسی کو زبردستی مسجد کے اندر نہیں لے کر آتے۔۔۔۔ اس شخص نے سمجھتے ہوئے اپنی وہیں بات اُن سے انگریزی میں کہا

اوکے ۔ اوکے۔
اب دونوں کو بات سمجھ آگئی تھی ، اور وہ دونوں وہیں اُس کے پاس بیٹھ گئے۔۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد۔سوہان نے خاموشی توڑی

مجھے کچھ یاد آیا۔۔ اُس کی آواز میں ہلکی سنجیدگی تھی۔

کیا؟ مین سو نے فوراً پوچھا۔

سوہان نے آہستہ سے کہا، یہ مسجد ہے۔۔۔

ہاں تو؟ مین سو نے بھنویں چڑھائیں۔

سوہان نے وضاحت دی، یہ مسلمانوں کی عبادت کی جگہ ہے۔ یہاں آ کر وہ عبادت کرتے ہیں۔ اور کوریا میں بھی کچھ مساجد ہیں۔ تبھی منیجر نے کہا تھا کہ ہم اندر نہیں جا سکتے، کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہ اُن کے عبادت کرنے کی جگہ ہے۔۔۔۔

سومین نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، ہاں تو پھر ہم یہاں کیا کر رہے ہیں؟

سوہان نے کندھے اچکائے، پتہ نہیں۔۔۔۔

ابے منحوس ! تجھے پہلے بتانا چاہیے تھا نا ہم مسلمان نہیں ہیں تو پھر ہم مسلمانوں کی عبادت گاہ میں کیا کر رہے ہیں؟ مین سو نے دانت پیستے ہوئے کہا،

سوہان نے حیرت سے اسے گھورا،
تجھے یہ بات نہیں پتا تھی؟

اگر پتا ہوتا، تو کیا میں یہاں بیٹھا ہوتا تیرے ساتھ؟ مین سو نے جھنجھلا کر کہا

ابے کچھ معلومات رکھنی چاہیئے۔ جب منیجر نے بتایا تھا، تب کانوں میں روئی دے رکھی تھی کیا؟

سومین نے بیزاری سے کہا،
وہ لیکچر دیتا ہے، اور میں اُس کا لیکچر نہیں سن سکتا۔

ہاں تو پھر اب بیٹھ جا آرام سے، اِدھر۔۔۔۔

سو مین نے ناک سکیڑ کر کہا، ابے اب تو پتہ چل گیا نہ، چل نکلتے ہیں گھر۔

سوہان نے چونک کر اسے دیکھا،
کیا پتہ چل گیا ہے؟

یہی کہ یہ مسلمانوں کو عبادت کرنے کی جگہ ہے یہاں سب عبادت کرنے آتے ہیں۔۔۔۔

اوہ! یہ تو مجھے پہلے ہی پتا تھا۔

سو مین نے جھنجھلا کر کہا،
تو پھر آیا کیوں یہاں؟

سوہان نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا، تائیجون اور جے کیونگ کیوں آئے تھے ادھر؟

سو مین نے کندھے اچکائے، مجھے کیا پتا۔۔۔

سوہان مسکرایا،
بس یہی پتہ کرنے آیا ہوں میں۔

سومین نے ہاتھ سر پر مارا،
ابے سالا پاگل! چل میں جا رہا ہوں گھر۔

لیکن وہ جملہ ابھی پورا بھی نہ کر پایا تھا کہ قریب بیٹھا وہی شخص مڑ کر بولا،
کیا تم دونوں ذرا خاموشی سے نہیں بیٹھ سکتے؟ میں پڑھ رہا ہوں۔۔۔۔۔

سو مین اور سوہان ایک دم چونکے۔ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ یہ لڑکا کس بات پر اتنا سخت لہجہ اختیار کر گیا، کیونکہ وہ دونوں تو کوریائی زبان میں بات کر رہے تھے۔ لیکن ایک بات طے تھی کہ ان کی آواز سے وہ واقعی ڈسٹرب ہو رہا تھا۔

سومین نے بے ساختہ پوچھ لیا،
کیا پڑھ رہے ہو؟

وہ شخص دھیرے سے مسکرایا اور بولا،
میں قرآنِ شریف پڑھ رہا ہوں۔

سومین نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں،
یہ کون سی کتاب ہے؟ اور تم کیوں پڑھ رہے ہو یہ؟

وہ شخص پرسکون لہجے میں بولا،
بتایا نا، یہ قرآن شریف ہے۔ اسے میں اپنے دل کے سکون کے لیے پڑھ رہا ہوں۔

سوہان نے تعجب سے پوچھا،
کیا واقعی اسے پڑھنے سے سکون مل جاتا ہے؟

وہ لڑکا نرمی سے مسکرا دیا،
ہاں، بالکل۔ تبھی تو پڑھ رہا ہوں۔

سومین نے جھجکتے ہوئے کہا،
یہ کیسی کتاب ہے؟ اس میں آخر لکھا کیا ہے؟

تم خود پڑھ کر دیکھ لو۔

سوہان نے فوراً سوال داغ دیا،
کیا ہم بھی پڑھ سکتے ہیں یہ کتاب؟

بالکل، پڑھ سکتے ہو! وہ پرجوش لہجے میں بولا، لیکن پہلے وضو کرنا ہوگا۔ وضو کا مطلب ہے پاک ہونا۔ بغیر پاک ہوئے قرآن کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔

سوہان نے دلچسپی سے پوچھا،
لیکن اس کتاب کے اندر آخر لکھا کیا ہے؟

وہ نوجوان سنجیدہ ہوا اور بولا،
یہ بہت مقدس کتاب ہے۔ اس کے اندر انسان کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے، ہر بیماری کا علاج ہے، ہر سوال کا جواب ہے، یہاں تک کہ ہماری زندگی کا مقصد بھی اسی میں لکھا ہے۔

سوہان نے بے یقینی سے سر جھٹکا،
ہیں، اتنا سب کچھ ایک ہی کتاب میں؟ لیکن یہ ہمارے سوالوں کے جواب کیسے دے سکتی ہے؟

اس شخص نے پرعزم انداز میں کہا،
پڑھ کے دیکھ لو۔۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اٹھا، قرآن کو اپنی جگہ پر رکھ دیا۔ پھر واپس ان دونوں کے قریب آ کر بولا،
اب میں اجازت چاہتا ہوں۔ اگر تم واقعی اس کتاب کو پڑھنا چاہتے ہو تو کل اسی وقت مسجد آ جانا۔ میں تمہیں وضو کا طریقہ بھی سکھا دوں گا اور قرآن پڑھنا بھی۔۔۔

سوہان نے ہلکا سا سر ہلایا،
ٹھیک ہے، ہم آ جائیں گے۔

وہ نوجوان مسکراتے ہوئے بولا،
میں انتظار کروں گا۔ فی امان اللہ۔

یہ کہہ کر وہ دونوں سے مصافحہ کرتا مسجد سے نکل گیا۔

سومین نے حیران ہو کر کہا،
یہ “فی امان اللہ” کا کیا مطلب ہے؟

سوہان نے کندھے اچکا دیے،
پتہ نہیں، کون سی زبان بول کے چلا گیا۔ بتایا بھی تو تھا کہ ہمیں اردو نہیں آتی۔

سومین نے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا،
یہ اردو تو نہیں تھی۔

سوہان پراعتماد لہجے میں بولا،
اردو ہی تھی۔

سومین نے لمحہ بھر سوچا اور ہلکی سی آہ بھری،
اچھا، کل پوچھ لیں گے اس سے، اس کا مطلب، ابھی تو چلا گیا ہے۔

سوہان نے اٹھتے ہوئے کہا،
ہاں، چل۔

+++++++++++++++

رین یون کی آنکھیں دھیرے دھیرے کھلیں۔ کھڑکی سے آتی ہلکی سی روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی۔ وہ کچھ لمحے یونہی چھت کو دیکھتا رہا، پھر اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں ابھرا،  وہ لڑکی۔۔۔

رات تک اس کے چہرے کے نقش کتنے واضح تھے۔ بڑی آنکھیں، بھوری پلکیں، پیارا سا چہرہ  سب کچھ جیسے بالکل سامنے ہو۔ لیکن صبح ہوتے ہی معاملہ عجیب ہوگیا تھا۔

اب جب وہ یاد کرنے بیٹھا تو کچھ بھی ذہن میں نہ آیا۔ چہرہ، جیسے دھند میں لپٹا ہو۔
آنکھیں؟ نہ جانے کیسی تھیں۔

رین یون نے بےچینی سے کروٹ بدلی۔ دل میں ایک انجانی سی خلش جاگی۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟
رات تک تو سب اتنا صاف تھا، اور اب؟ جیسے میں نے اسے کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔

اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں، ذہن پر زور ڈالا، مگر ہر کوشش بے سود رہی۔
چہرہ جیسے مکمل طور پر اس کی یادداشت سے مٹ چکا تھا۔

رین یون کی یادداشت ہمیشہ کمال کی رہی تھی۔ چھوٹی سے چھوٹی بات، مہینوں پہلے کا منظر، کسی کی آواز یا جملہ، وہ سب کچھ لمحے بھر میں یاد کر لیتا تھا۔

لیکن آج، آج وہی یادداشت جیسے اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی۔

رات بھر وہ لڑکی کا چہرہ ذہن کے پردے پر روشن رہا، ایک ایک نقش جیسے نگاہوں میں محفوظ ہو گیا ہو۔ مگر صبح کی روشنی نے جیسے سب کچھ دھو ڈالا۔
اب نہ آنکھیں یاد آ رہی تھیں، نہ آواز، نہ ہی وہ مخصوص اندازِ نظر، کچھ بھی نہیں۔

رین یون نے آہستہ سے سر تھاما۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔وہ لڑکی مُجھے یاد کیوں نہیں آرہی۔۔۔

اُس کی یاداشت اتنی کمزور تو نہ تھی کہ وہ ایک
رات میں  اُس کا چہرا بھول جائے ۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ان دیکھے پردے نے اس کی یادوں پر پردہ ڈال دیا ہو۔

++++++++++++++

سومین اور سوہان جیسے ہی مسجد سے واپس آئے، ہوٹل کے اندر داخل ہوتے ہی ان کی ملاقات ہان وو سے ہو گئی۔ وہ سامنے سے چلا آرہا تھا اور یہ اندر کی طرف جا رہے تھے

ہان وو نے انہیں روکتے پوچھا،
کہاں گئے تھے تم دونوں؟

سوہان نے فوراََ کہا،
واک پر…

ہان وو نے آنکھیں تیز کر کے کہا،
آٹھ بجے رہے ہیں…

سومین نے سنجیدگی سے کہا،
تو…

ہان وو نے پھر پوچھا،
تو بتاؤ، کہاں گئے تھے تُم دونوں ؟ جھوٹ مت بولو۔۔۔

سومین نے جواب دیا،
میرے کپڑے دیکھ ۔۔ جاگنگ سوٹ پہنا ہوا ہے…

ہان وو نے نظریں اٹھا کر کہا،
مین سو، تم میرے کمرے میں ہی رہتے ہو …

سومین نے ہلکا سا سر ہلایا،
ہاں تو…

ہان وو نے آگے بڑھ کر پوچھا،
تم جب کمرے سے نکلے تھے تو میں اٹھا ہوا نہیں تھا، کیا؟

سومین نے مسکراتے ہوئے کہا،
اوہ ہاں، میں تو تمہیں بتا کے نِکلا تھا…

ہان وو نے آنکھیں اچکائی،
وہی تو…

تو اب کیوں پوچھ ربا ہے جب میں تُجھے بتا کر نِکلا تھا تو ؟؟ سومین نے بیزاری سے کہا

ہان وو نے پھر سوال کیا،
چھ بجے کے نکلے، اور آٹھ بجے آئے… ہوٹل سے زیادہ دور تو نہیں تھا پارک؟

سوہان نے جلدی سے کہا،
یار، ہم مسجد گئے تھے…
ایک تو اُس سے کچھ بھی چھپایا بھی نہیں جاتا تھا برداشت ہی نہیں ہوتا تھا پیٹ میں فوراََ درد شروع ہوجاتا تھا اوپر سے اگر کوئی پوچھے لے تو بس پھر نہیں چاہتے ہوئے بھی سب اگل دیتا تھا

سومین نے آنکھیں گھما کر اسے گھورا، جیسے کہہ رہا ہو
کم از کم اس بار تو زبان قابو میں رکھ لیتا۔۔۔

ہان وو نے بس ایک سادہ سا سوال کیا، نہ غصہ نہ حیرت، کیوں؟

سوہان نے ناگواری سے کہا
وہ دونوں بھی تو گئے تھے، میں کیسے نہ جاتا…

ہان وو نے نظر مین سو کی طرف کر کے پوچھا،
اور تم؟

سومین نے سنجیدگی سے کہا
اب یہ اکیلے جا رہا تھا، گم ہو جاتا تو… اسی لیے میں اس کے ساتھ چلا گیا…

ہان وو نے مسکراتے ہوئے کہا،
ہاں، یہ اچھا کیا تم نے۔۔۔۔
پھر دونوں کے سائڈ سے نکلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔اپنی منزل کے طرف جہاں وہ جارہا تھا

سوہان نے غصے سے دونوں کی طرف دیکھا
کیا مطلب ہے ؟ میں کوئی چھوٹا بچہ تو نہیں ہوں…

سومین نے ہنسی کے ساتھ جواب دیا،
حرکات تو تیری چھوٹے بچوں والی ہی ہیں…

پھر اچانک سومین نے پیچھے مڑ کر  ہان وو کو جاتا دیکھ بولا،
تم کہاں جا رہے ہو؟

ہان وو نے بغیر پیچھے مڑے کہا،
پاس والے مارکٹ جا رہا ہوں، کچھ ضروری سامان لینے…

سوہان نے غصے میں کہا،
میں تجھے تھپڑ مار دوں گا۔۔۔

سومین نے اسے روک کر کہا،
ہائیٹ دیکھ اپنی، پہلے میرے برابر تو آ جا، پھر بات کرنا مارنے کی۔۔۔۔

یہ کہہ کر سومین تیزی سے اندر کی طرف بھاگا اور سوہان اس کے پیچھے دوڑا۔

+++++++++++++

گاڑی میں بیٹھے وہ آٹھوں دوست، اپنے نئے سفر کی طرف رواں دواں تھے۔ اسلام آباد کی سڑکیں، نیلا آسمان، ہلکی ہوا، سب کچھ ان کے لیے بہت خوبصورت تھا ابھی وہ ایک دوسرے کی باتوں اور قہقہوں میں گم تھے کہ اچانک…

سامنے سڑک پر دو بائیکیں آپس میں ٹکرائیں۔ بہت بری طرح سے ایک زور دار دھماکے کے ساتھ ہر طرف شور پھیل گیا۔ چیختے ٹائروں کی آواز، بریکوں کی رگڑ، اور پھر… سکوت۔

سڑک پر چلنے والی سب گاڑیاں یکدم رک گئیں۔ رین یون نے گھبراہٹ میں چیخ کر کہا
گاڑی روکو۔۔۔۔۔

ان کی گاڑی بھی جھٹکے سے رک گئی۔ سب دوست جلدی سے اترے اور بھاگتے ہوئے حادثے کی جگہ پہنچے۔

منظر ناقابلِ بیان تھا۔ دونوں موٹر سائیکل سوار زمین پر گرے تھے۔ ایک کا سر بری طرح زخمی تھا، پیچھے دماغ کے حصے سے خون بہہ رہا تھا۔ سر پھٹا ہوا، جسم لہولہان۔ اتنی شدید چوٹ کہ انہیں ہاتھ لگانے کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ کوئی کہہ رہا تھا انہیں ہلاؤ مت۔۔۔۔ کوئی بولا ہسپتال لے چلو۔۔۔ مگر سب جانتے تھے… وہ زندہ سلامت وہاں سے نہیں جا سکتے تھے۔

ایمبولینس کو فون کیا جا چکا تھا۔ لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ شور، ہجوم، بے بسی—ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔

اور تب، جے کیونگ کی نظر پڑی۔
زمین پر پڑا وہ زخمی نوجوان ہلکے ہلکے لب ہلا رہا تھا۔ آواز نہیں تھی، بس لبوں کی حرکت تھی۔ جیسے کچھ پڑھ رہا ہو۔ جیسے اپنی آخری سانسوں میں کسی کو پکار رہا ہو۔

وہ سننے لگا۔ لیکن الفاظ اتنے دھیمے تھے کہ اُس کی سمجھ میں نہ آئے۔ اور اگر سن بھی لیتا تب بھی اُسے سمجھ نہیں آنی تھی
لمحہ لمحہ، وہ لب ساکت ہوگئے۔ آنکھیں بجھ گئیں۔ اور زندگی کی ڈور ٹوٹ گئی۔

جے کیونگ نے گھبرا کر سانس اندر کھینچا۔ اُسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اُس لمحے اُس پر ایک ایسی عجیب کیفیت طاری ہوگئی تھی جسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا تھا، اور جسے وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

اُسی لمحے ایمبولینس کی تیز سائرن بجاتی ہوئی وہاں آ پہنچی۔ لوگوں نے جلدی سے دونوں زخمیوں کو احتیاط سے اٹھایا اور ایمبولینس کے اندر منتقل کر دیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ سب دوبارہ اپنی گاڑی میں آبیٹھے، مگر حادثے کا منظر اُن کی آنکھوں کے سامنے جیسے جم سا گیا تھا۔ کسی کے لب پر ہنسی نہ تھی، کسی کے پاس بات کرنے کے لیے الفاظ نہ تھے۔ سب کا مان، سب کا جوش، سب کا سفر کا ذوق… اس ایک منظر نے بُری طرح گہنا دیا تھا۔

جے کیونگ نے اچانک خاموشی توڑی۔ اُس کے لہجے میں بےچینی تھی۔
اچھا سنو… مجھے یاد آیا، بھائی کو اردو آتی ہے نا… بھائی، تم نے سنا تھا؟ وہ زخمی آدمی… وہ کیا بول رہا تھا؟

رین یون نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔ کون آدمی؟

وہی… جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ آخری لمحات میں اُس کے لب ہل رہے تھے۔ مجھے لگا وہ ہم سے مدد مانگ رہا تھا۔ جے کیونگ کی آواز فکرِ تھی ۔

ہان وو نے دھیرے سے کہا
نہیں… وہ مدد نہیں مانگ رہا تھا۔ وہ دعا کر رہا تھا۔

جے کیونگ نے فوراً پلٹ کر پوچھا
تجھے کیسے پتا؟

ہان وو نے گہری سانس لی۔
کیونکہ اگر میں اُس کی جگہ ہوتا… تو میں بھی یہی کرتا۔

ہین؟ کیوں؟
جے کیونگ کی آنکھوں میں حیرت تھی۔

کیونکہ… اُن کا مذہب ایسا ہے۔ وہ ایک خُدا کو مانتے ہیں۔ مرنے کے لمحوں میں وہ اُسی سے فریاد کرتے ہیں، اُسی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہان وو کی آواز عجیب سی سنجیدگی لیے ہوئے تھی۔

رین یون نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، بالکل۔ یہ سب لوگ مسلمان ہیں نا… تو وہ اپنے خدا سے مدد مان رہا ہوگا

جے کیونگ بے چین سا ہو گیا۔ لیکن وہ بول کیا رہا تھا؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ بتاؤ نا، وہ کیسے دعا مانگ رہا تھا؟

سوہان نے بھی تجسس سے پوچھا
ہاں بھائی، ہمیں بھی بتاؤ۔ دعا کیسے مانگتے ہیں؟ میں نے تو آج تک کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ دعا مانگو۔

ہان وو نے کچھ لمحے خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سا بولا
ہم تو چرچ جاتے ہیں… اور جیزس سے دعا مانگتے ہیں۔ مگر وہ… وہ اپنے خدا سے مانگ رہا ہوگا۔ ایک الگ یقین کے ساتھ، ایک الگ زبان میں۔

ہاں ہاں میری بہن بھی چرچ جاتی ہے۔۔۔ اچانک ہیوک کو یاد آیا کہ جب وہ گھر جاتا تھا تو اُس کی بہن چرچ جاتی تھی لیکن ہیوک کو اس سب کا وقت کبھی نہیں ملا پھر وہ دوبارہ بولا جب میں بینڈ سے ڈسبنڈ ہوجاؤں گا پھر اپنی بہن کے ساتھ جاؤں گا ابھی میرے پاس اس سب کے لیے وقت نہیں ہے۔۔۔۔

ہان وو نے سنجیدگی سے کہا
تمہارے پاس اپنے خدا کے لیے وقت نہیں ہے ؟؟

ہان وو کی بات سن کر گاڑی کے اندر لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی۔ سب دوستوں کی نظریں ہیوک کی طرف اُٹھ گئیں۔

ہیوک نے گردن جھکا لی اور مدھم آواز میں کہا
میں نے ایسا نہیں کہا… بس ابھی زندگی میں بہت کچھ چل رہا ہے۔ کانسرٹس، پریکٹس، فینز… وقت ہی نہیں ملتا۔

ہان وو نے اُس کی بات کاٹ دی، اُس کی آواز میں ایک عجیب سا کرب تھا
وقت نہیں ملتا؟ یا تم نے وقت نکالنا ہی نہیں چاہا؟

ہیوک چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگا۔

ہان وو کے چہرے پر سختی اور درد دونوں جھلک رہے تھے۔ ہم سب اپنی مرضی کے کاموں کے لیے وقت نکال لیتے ہیں۔ گھنٹوں ریہرسل کر سکتے ہیں، پوری رات جاگ کر گانے لکھ سکتے ہیں… لیکن خدا کے لیے پانچ منٹ نہیں نکال سکتے؟

جے کیونگ نے بے ساختہ کہا
لیکن کیا خدا اتنا ناراض ہو جاتا ہے اگر ہم اُس کے لیے وقت نہ نکالیں؟

ہان وو نے آہستہ سا سانس لیا اور باہر دیکھنے لگا۔ میں نہیں جانتا تمہارے خدا کا کیا اصول ہے…

رین یون نے اچانک جھنجلا کر کہا
لتم سب یہ کیسی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو؟
Just forget it۔۔۔۔

جے کیونگ نے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں سوال بھرے ہوئے
لیکن… ہان وو کس خدا کی بات کر رہا ہے؟ اور وہ شخص… جس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا، وہ کس خدا کو پکار رہا تھا؟ کیا دونوں کا خدا ایک ہی ہے؟

میں ان سب چیزوں پر یقین نہیں رکھتا۔ رین یون نے نرمی سے کہا

ہان وو نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا، جیسے یقین ہی نہ آیا ہو۔

رین یون نے کندھے اچکائے۔ میری فیملی شروع سے ہی ایسی ہے۔ ایک مُلحد خاندان… کسی خدا پر یقین نہیں رکھتا۔ نہ چرچ، نہ دعا، نہ کوئی عبادت۔ یہ سب میرے لیے بیکار باتیں ہیں۔

گاڑی میں خاموشی چھا گئی۔ ہان وو کے چہرے پر دکھ اور سنجیدگی کی ملی جلی لکیریں ابھر آئیں۔ اُس نے گہرا سانس لیا اور دھیمے لہجے میں کہا
میں تو خدا کو مانتا ہوں۔ میری فیملی بھی… ہم سب کے لیے وہ سب کچھ ہے۔۔۔

سیونگ کافی دیر سے ان کے باتیں سن اب تنگ اکر بولا
کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو؟ یہ کیسی باتیں کرنے لگے ہو؟ پہلے تو کبھی تم میں سے کسی نے اس طرح کی بات شروع نہیں کی۔ چھوڑ دو بس، جانے دو — اس سب کے بارے میں بحث مت کرو۔ ہمارا مذہب الگ ہے، سب کا ایمان الگ ہے۔ اگر ہم اس پر بحث کریں گے تو ہماری بحث ختم ہی نہیں ہوگی۔

جے کیونگ نے آہستگی سے سر ہلایا، جیسے ردعمل میں کوئی طاقت نہیں بچی ہو۔ ٹھیک ہے… چھوڑ دیتے ہیں، اُس نے کہا، لیکن اندر ہی اندر وہ سب کچھ جاننا چاہتا تھا

ہان وو خاموش رہا۔ اُس کی آنکھوں میں وہ منظر پل رہا تھا — زخمی کا ہلتا ہوا لب، سائرن کی روشنی، اور وہ مختصر دعا جو شاید کسی مانگ نے جنم دی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ بحث فضا بدل دے گی، مگر وہ جانتا تھا یہ لمحے دل کے اندر دیر تک رہ جائیں گے۔ اُس نے صرف ایک جملہ کہا، نرم مگر واضح  ہم سب ایک ہی سڑک پر نہیں چل رہے۔ بس اتنا ہی کافی ہے۔

گاڑی  چل رہی تھی ۔ باہر کی سڑک پر روشنی ایک دوسرے میں گھل رہی تھی، شہر کی ٹھنڈی ہوا اندر آ کر سب کے چہروں پر گزر گئی۔ ہر کوئی اپنے اندر کہی ہوئی باتوں کو چبا رہا تھا —

گاڑی کی گھمبیر خاموشی کو اچانک منیجر کی آواز نے توڑا۔ وہ آگے والی سیٹ سے پیچھے مُڑ کر بولا
کہاں جانا ہے اب؟

اس سوال نے جیسے دوبارہ بحث کو جنم دے دیا۔ سب کے اندر دبے ہوئے خیالات یکدم باہر آنے لگے۔ کوئی کہہ رہا تھا، چلو ہوتل چلتے ہیں… کوئی بولا، نہیں، سیدھا اسلام آباد  کے پہاڑ پر نکلتے ہیں… کوئی کسی اور جگہ کا نام لے رہا تھا۔

ان سب کی سوچوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ایک ہی گاڑی میں بیٹھے آٹھ دوست، مگر اُن کی شخصیات ایک دوسرے سے اتنی مختلف کہ خود وہ حیران رہ جاتے تھے کہ آخر اتنے فرق کے باوجود وہ سب ساتھ کیسے رہتے تھے

بحث بڑھ رہی تھی۔ آوازیں اونچی ہو رہی تھیں۔ ہر کوئی اپنی ضد پر قائم تھا۔

پھر رین یون نے یکدم بلند آواز میں کہا
بس۔۔۔

سب چونک کر خاموش ہو گئے۔ گاڑی کے اندر دوبارہ سنّاٹا اتر آیا۔ رین یون نے سکون سے سانس بھرا اور دھیمے لہجے میں کہا
ایسا کرتے ہیں… ہم دو دو کر کے الگ نکل جاتے ہیں۔ جس کا جہاں دل چاہ رہا ہے، وہ وہیں چلا جائے۔ زبردستی ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔

رین یون کی بات پر سب ہی چپ ہو گئے۔ کچھ لمحوں بعد ایک ایک کر کے سب نے سر ہلایا، جیسے اس فیصلے پر رضا مندی ظاہر کر رہے ہوں۔

ٹھیک ہے، جے کیونگ نے آہستہ کہا، پہلے ایک کی جگہ چلتے ہیں، پھر اگلے کی۔

یوں ایک نیا اصول طے ہوگیا۔ اب سب اپنی اپنی مرضی کی جگہ بتانے لگے۔ کوئی کہہ رہا تھا، میں تو کافی شاپ چلنا چاہتا ہوں۔۔۔
دوسرے نے کہا، نہیں، پہلے دریا کے کنارے چلتے ہیں۔
کسی کا دل پارک میں جانے کو چاہ رہا تھا، کسی کا کسی مشہور ریسٹورنٹ میں۔

+++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *