Israeli boycott… written by Humaiza khattak (Article)

اسرائیلی بائیکاٹ۔۔۔

ازقلم حمائزہ خٹک

اسرائیلی بائیکاٹ بظاہر تو محض یہ ایک لفظ ہے جس کا معنی بھی سادہ سا نظر آتا ہے۔

مگر درحقیقت اسکا مفہوم بہت وسیع ہے۔

اسرائیلی بائیکاٹ یہ ایک لفظ خود میں فلسطین کی آزادی کا راز چھپائے پھرتا ہے۔فلسطین کیوں آزاد نہیں ہے؟

جانتے ہیں کیوں۔؟

کیونکہ اسرائیل ہماری ہی دی گئی ڈھیل کی وجہ سے فلسطین پر قابض ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگر آپ اس لفظ کے وسیع مفہوم پر غور کریں تو میں آپ کو ایک تلخ حقیقت بتاتی ہوں۔

یہاں اسرائیل کی جتنی بھی اشیاء استعمال کی جاتی ہے ان سے ملنے والی ساری رقم اسرائیل کو جاتی ہے۔اور اسرائیل اس رقم سے کیا کرتا ہے یہ تو آپ بخوبی جانتے ہونگے۔

ہماری دی ہوئی رقم سے ہی وہ ہمارے مسلمان بہن بھائیوں کا خون بہا رہا ہے۔بہت سے لوگوں کا یہ سوال ہوتا ہے کہ بائیکاٹ سے کیا ہو جائے گا۔؟

میں بتاتی ہوں کیا ہوگا۔

بائیکاٹ سے اسرائیل کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

جتنا زیادہ بائیکاٹ ہوگا اتنی زیادہ اسرائیل کی معیشت برباد۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے اس سے کیا فائدہ ہوگا۔

میرے خیال سے یہی سب سے بڑا فائدہ ہے۔

اگر اسرائیل کی معیشت تباہ ہو جائے تو اسرائیل کبھی وہ اسلحہ خرید نہیں پائے گا جس کے زور پر وہ فلسطین پر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

سب سے بڑی حقیقت یہی ہے۔

اب میرا آپ سے یہ سوال ہے کیا چیز آپ کو اپنے نفس کے خلاف جانے سے روکتی ہے؟

ایسا کیا ہے جسکی وجہ سے آپ اپنے نفس پر اتنا بھی قابو نہیں رکھ سکتے کے ان معصوم لوگوں کے لئے اسرائیلی بائیکاٹ کرلیں۔؟

کیا چیز آپ کو روکتی ہے۔؟

کیا آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا۔؟

ہر دفعہ جب آپ کوئی ایسی چیز استعمال کرتے ہیں جسکا تعلق اسرائیل سے ہے وہ ہر دفعہ کی چیز آپ کے نامہ اعمال میں اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے طور پر لکھی جا رہی ہے۔

اسرائیل کی چیزیں استعمال کرنا ایسا ہی ہے جیسے اسرائیل کا ساتھ دینا۔کیا آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے اپنی ذات کے لئے۔؟

کیا آپ اپنے نفس کو لگام نہیں دے سکتے۔؟

بہت سی ایسی اشیاء اسرائیلی اشیاء کے متبادل کے طور پر موجود ہیں جو بہت اعلی معیار کی ہیں۔

آپ ان کو استعمال کریں نا۔اگر اسرائیلی اشیاء خرید سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں خرید سکتے۔؟

کیا وہ بہت مہنگی ہے۔؟

یا پھر آپ کو فلسطینیوں کا خون ان کے مقابلے میں ارزاں لگتا ہے۔

کیوں آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے۔؟

خدارا ان معصوموں کے طلم پر گواہ مت بنیں صرف بلکہ ان کا ساتھ دیں۔

ان کے لئے آواز اٹھائیں۔

ان کے لئے دعائیں کریں جیسے آپ اپنے لیے کرتے ہیں۔

کیا آپ سے اتنا بھی نہیں ہوتا۔

کتنی طاقت لگتی ہے ان کا ساتھ دینے میں۔؟

کتنا وقت لگے گا ان کے لئے دعا کرنے میں۔؟

اپنے ضمیر کو زندہ رکھیں۔

آج فلسطین ہے کل شاید کوئی اور ملک ان کافروں کی ظلم و بربریت کا نشانہ بن جائے کسے معلوم۔اس لئے اپنی آواز بلند کریں۔

ان کے حق میں بولیں۔

“حق کا ساتھ دیں۔”حق ہمیشہ رہنے والا ہے باطل مٹ کر خاک ہو جائے گا۔

مجھے بھی اپنی قیمتی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

فلسطین ،سوڈان ،کانگو،برما،کشمیر ان جیسے تمام ممالک جو کافروں کے قبضے میں ہیں سب کو یاد رکھیں اپنی دعاؤں میں۔

جزاک اللہ خیراً کثرا۔

اپنا خیال رکھیں۔

فی امان اللہ۔

ختم شدہ۔۔۔

1 Comment

  1. Aap ne article bohot khubsurti se likha hai har lafz soch samajh kar use lagta hai. Bohot pasand aaya!
    Excellent!

Leave a Reply to Aqsa Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *