🌷عزت کا محافظ🌷
ازقلم: ماہم شبیر✍️
شام کے آخری سائے جب بستی کے کچے مکانوں کی دیواروں کو چھوتے ہوئے زمین پر پھیلتے، تو ایسا لگتا جیسے کائنات نے کسی بوڑھی، دکھی ماں کی میلی اور پیوند لگی چادر اوڑھ لی ہو۔ فضا میں مٹی کی سوندھی خوشبو، تندور سے اٹھتا ہوا دھواں اور غربت کی بے رحم تلخیاں اس طرح ایک دوسرے میں پیوست تھیں کہ ہر سانس میں ایک خاموش نوحہ محسوس ہوتا تھا۔ اس کچے اور ویران دالان کے ایک گوشے میں، جہاں وقت کی رفتار بھی سست پڑ چکی تھی، بلقیس بیگم بسترِ علالت پر نیم دراز تھیں۔ ان کا چہرہ زندگی کے سرد و گرم، ظلم و ستم اور تپتی دھوپ کا وہ مینو اسکرپٹ تھا جس کی گہری جھریوں میں ایک ایک صدمہ، ایک ایک آنسو اور ایک ایک ان کہی داستانِ غم لکھی تھی۔ ان کے نحیف، بوڑھے ہاتھ شدتِ نقاہت سے کانپ رہے تھے اور ان کی دھندلی، بے نور آنکھوں میں اپنے اکلوتے بیٹے، واصف کے مستقبل کا خوف کسی بھیانک خواب کی طرح رقصاں تھا۔ وہ اپنے بیٹے کو دیکھتی تو ان کا دل سینے میں جیسے ڈوبنے لگتا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اس بستی کی مٹی نے ہمیشہ غیرت مندوں کا خون پیا ہے۔
واصف، جس کی عمر ابھی چھبیسویں بہار کو چھو رہی تھی، دالان کے دوسرے کونے میں لکڑی کے ایک پرانے، ٹوٹے ہوئے اسٹول پر بیٹھا تھا جس کی چولیں ہل رہی تھیں۔ اس کی انگلیوں میں قلم دبا ہوا تھا اور سامنے سفید کاغذ بکھرے تھے، لیکن اس کی سوچیں کاغذ کی سفیدی پر اترنے کے بجائے کسی گہرے، تاریک اور بکھرے ہوئے سمندر کی تہوں میں اترتی جا رہی تھیں۔ وہ صرف ایک گوشت پوست کا عام نوجوان نہیں تھا، وہ اس بستی کے چٹے ان پڑھ، سہمے ہوئے کسانوں اور مظلوموں کی خاموش سسکیاں، ان کے حلق میں دبے ہوئے آنسو اور ان کی مرتی ہوئی غیرت کا وہ آخری جلتا ہوا چراغ تھا جو طوفانِ بادِ صرصر کے تھپیڑوں میں بھی اپنی لو کو بچانے کی آخری جنگ لڑ رہا تھا۔ اس کی چوڑی پیشانی پر ابھری ہوئی رگیں اور اس کی آنکھوں کا گہرا سکوت اس بات کا گواہ تھا کہ اس کے اندر ایک آتش فشاں پک رہا ہے۔ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ غریب کے گھر میں پیدا ہونا کوئی گناہ نہیں، کوئی جرم نہیں، لیکن غریب رہ کر حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دینا، اپنی روح اور ضمیر کا سودا کر لینا اور اپنی نظروں میں گر جانا سب سے بڑی موت ہے۔
دالان میں پھیلی اس گہری، بھاری خاموشی کو بلقیس بیگم کی نقاہت بھری اور کانپتی آواز نے توڑا، جس میں ممتا کی لازوال مٹھاس بھی تھی اور ایک ماں کا اپنے جگر گوشے کے لیے گہرا، اندھا خوف بھی۔ انہوں نے نحیف آواز میں کہا:”کہ واصف بیٹا! جب زمین ہی تھرک رہی ہو اور مٹی کمزور ہو، تو اس پر کبھی محل نہیں بنائے جاتے۔ ہم جیسے غریبوں کی عزت، آبرو اور مان شیشے کے اس نازک برتن کی طرح ہوتی ہے جو طاقتور کے ذرا سے تلخ لمس یا اکڑی ہوئی انگلی کے اشارے سے پاش پاش ہو جاتی ہے۔ اس بستی میں چوہدری حشمت کے محل کی جو اونچی اور پختہ دیواریں تمہیں نظر آتی ہیں، وہ صرف اینٹ گارے سے نہیں بنی ہیں، بلکہ وہ ہمارے جیسے سینکڑوں بے بس، لاچار اور کچلے ہوئے انسانوں کے خون، پسینے اور ہڈیوں کے سرمے سے چنی گئی ہیں۔ ان سنگدل دیواروں سے ٹکرانے کا انجام صرف اور صرف فنا ہے، مٹ جانا ہے، راکھ ہو جانا ہے۔ سائے کی طرح زمین پر رینگتے ہوئے جینا سیکھو میرے بچے، تاکہ کم از کم سانس تو چلتی رہے، کیونکہ سر اٹھا کر چلنے والے اس مٹی پر اکثر اپنے سروں سے محروم کر دیے جاتے ہیں“۔
واصف نے ماں کی بات سنی، تو اس کی روح کے اندر جیسے ہزاروں بجلیاں تڑپ اٹھیں۔ وہ اپنے اسٹول سے اٹھا اور انتہائی آہستہ، باوقار قدم اٹھاتا ہوا اپنی بوڑھی ماں کے بستر کے پاس آ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے ماں کے کھردرے، بیمار، تپتے ہوئے اور عمر بھر دوسروں کے گھروں کی لکڑیاں کاٹ کاٹ کر سخت ہو جانے والے ہاتھوں کو اٹھایا، اپنی آنکھوں سے لگایا اور پھر اپنے ماتھے پر سجا لیا۔ اس کے دل کے نہاں خانے میں جذبات کا ایک ایسا طوفان، ایسا کھولتا ہوا لاوا پکا جس کی سرخ تپش اس کی بڑی بڑی کالی آنکھوں میں صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس نے اپنی آواز کو قابو میں رکھتے ہوئے انتہائی دھیمے، مدہم لیکن لوہے کی طرح ٹھوس اور فولادی لہجے میں کہا کہ:” اماں! اگر اس دنیا میں جینے کا مطلب صرف پھیپھڑوں میں ہوا بھرنا اور نکالنا ہے، صرف پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے صبح سے شام تک جانوروں کی طرح پسنا ہے اور ہر روز، ہر لمحہ اپنی روح کا، اپنی غیرت کا سرِعام قتل ہوتے دیکھنا ہے، تو ایسی بے غیرت اور ذلیل زندگی پر موت کو ہزار بار فوقیت حاصل ہے۔ عزت کوئی ایسی خلعت یا ریشمی قبا نہیں ہے جو چوہدریوں اور خانوں کے دربار سے غریبوں کو خیرات یا زکوٰۃ میں ملے گی، اور نہ ہی کوئی ایسی مادی شے ہے جسے ہم روپے پیسوں یا ریشم کے تھانوں سے ناپیں گے۔ یہ تو کائنات کے سب سے بڑے مالک کا وہ لافانی، پاکیزہ نور ہے جو اس نے ہر انسان کے خمیر اور مٹی میں بالکل برابر رکھا ہے۔ اگر میں نے آج بستی میں ہوتے ہوئے ظلم کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، تو کل جب میں صبح اٹھ کر آئینے میں اپنا چہرہ دیکھوں گا، تو وہاں مجھے کسی انسان کا عکس نہیں، بلکہ ایک چلتی پھرتی، سڑتی ہوئی لاش نظر آئے گی جس سے مجھے خود گھن آنے لگے گی۔ میں اس عظیم کسان کا بیٹا ہوں، جس نے چوہدری کے سامنے سر جھکانے پر اپنے جسم سے سر کٹانے کو ترجیح دی تھی۔ میں ان کی اس پاکیزہ، غیرت مند وراثت کو کبھی اس مٹی میں رولنے نہیں دوں گا، چاہے اس کے لیے میری رگوں کا سارا خون ہی کیوں نہ بہہ جائے“۔
بلقیس بیگم کی دھندلی آنکھوں کے گوشے سے ایک بڑا، چمکتا ہوا آنسو ٹپک کر واصف کے مضبوط ہاتھ کی پشت پر گرا۔ وہ آنسو غیر معمولی طور پر گرم تھا، جیسے اس میں ماضی کا وہ سارا زہر، وہ سارا درد اور وہ ساری تڑپ گھلی ہوئی تھی جب واصف کے والد کو چوہدری حشمت کے مسلح کارندوں نے صرف اس لیے بستی کے چوک میں سرِعام کوڑے مارے تھے کہ انہوں نے اپنی ننھی سی، دو مرلے کی زمین کے ٹکڑے کو چوہدری کے گھوڑوں کی چراگاہ بننے سے روکنے کی جرات کی تھی۔ وہ غیرت مند، خوددار کسان اس سرِعام ہونے والی ذلت، تذلیل اور تماشے کے بوجھ کو اپنے سینے پر برداشت نہ کر سکا اور تین دن کے اندر اندر خون کی الٹیاں کرتے کرتے، تڑپ تڑپ کر جان دے گیا تھا۔ وہ ہولناک منظر، وہ کوڑوں کی سنسناہٹ اور باپ کی آخری سسکیاں واصف کے لاشعور میں ایک گہرا، رسنے والا ناسور بن چکی تھیں-ایک ایسی چھپی ہوئی آگ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مدہم ہونے کے بجائے اور زیادہ بھڑک رہی تھی، اور اب وہ کسی بھی وقت پورے نظام کو جلانے کے لیے تیار تھی۔
بستی کا پورا سماجی اور معاشی نظام ایک ایسے بدبودار، گہرے دلدل کی مانند تھاـ جہاں غریب انسان جتنا زیادہ اپنے پاؤں نکالنے کی کوشش کرتا، اتنا ہی وہ اس کے اندر دھنستا چلا جاتا تھا۔ چوہدری کا اکلوتا بیٹا، ساجد، حیوانی خصلتوں کا مجسمہ تھا، جس کی رگوں میں خاندانی غرور، دولت کی ہوس اور شراب کا نشہ دوڑتا تھا۔ وہ اس پوری بستی کو اپنی ذاتی جاگیر، کسانوں کو اپنا زر خرید غلام اور وہاں کی پاکیزہ، معصوم بیٹیوں کو اپنی ہوس کا ایندھن سمجھتا تھا۔ اسے نہ تو زمین پر کسی انسان کا خوف تھا اور نہ ہی آسمان پر کسی عدالت کا ڈر، کیونکہ اس بستی کی پولیس، وہاں کا قانون اور وہاں کے چوہدری سب اس کے باپ کی لوہے کی تجوری میں بند پڑے تھے۔
ایک مہیب اور اداس شام، جب شفق کی سرخی آسمان کے افق پر گہرے خون کی طرح پھیل رہی تھی اور پرندے خوفزدہ ہو کر اپنے گھونسلوں کی طرف تیزی سے لوٹ رہے تھے، بستی کی ایک یتیم، معصوم لڑکی، زینب، کنویں سے پانی کا بھاری مٹی کا گھڑا اپنے سر پر رکھے اپنے گھر کی طرف لوٹ رہی تھی۔ اس کا پرانا، سوتی آنچل اس کے سر اور چہرے پر اتنی مضبوطی اور حیا سے بندھا تھا، جو اس کی غریبانہ زندگی کے واحد وقار اور پاکیزگی کا سب سے بڑا ضامن تھا۔ ساجد نے اپنے چند شرابی، اوباش دوستوں کے ساتھ بیچ راستے میں اس کا راستہ روک لیا۔ اس نے نہ صرف زینب کا وہ مقدس آنچل اپنے ناپاک ہاتھوں سے کھینچ کر زمین پر گرایا بلکہ اس کی عفت، اس کی پاکیزگی پر وہ غلیظ، زہریلے جملے کسے جن کی تاب نہ لا کر آسمان کے ستارے بھی کانپ اٹھتے۔ زینب روتی، چلاتی، بال بکھیرے، اپنے ہاتھوں سے اپنی ٹوٹی ہوئی عزت کے ٹکڑے سمیٹتی ہوئی اپنے اندھیرے، کچے گھر کی چاردیواری میں جا چھپی۔ اس کا بوڑھا چچا، جس کی کمر زندگی کے مصائب اور حالات کے بوجھ سے پہلے ہی جھکی ہوئی تھی، اپنے گھر کی کچی دیوار سے سر لگا کر خاموشی سے رونے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔ اس غریب بوڑھے کے پاس نہ تو چوہدری کی حویلی تک جانے کے لیے پیروں میں جوتے تھے اور نہ ہی انصاف مانگنے کے لیے زبان میں الفاظ تھے۔ وہ بس اپنی یتیم بھتیجی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اندر ہی اندر گھٹ رہا تھا، جیسے ان کا اپنا سانس رک رہا ہو۔
جب یہ دل دوز، روح فرسا خبر واصف کے کانوں تک پہنچی، تو اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے تپتے ہوئے لوہے کا خنجر اس کے اپنے سینے میں گھونپ کر اسے دائیں بائیں گھما دیا ہو۔ اس کے جسم کا ایک ایک پور، ایک ایک ریشہ اس نا انصافی کے درد سے چلانے لگا۔ وہ اسی وقت ننگے پاؤں زینب کے گھر گیا اور اس مفلوک الحال، لاچار بوڑھے کے سامنے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ زینب کے وہ خاموش، بے آواز آنسو جو اس کی کچی آستین پر گر رہے تھے، وہ واصف کو بستی کے ہر اس انسان کے منہ پر ایک زوردار، گونجتا ہوا طمانچہ لگ رہے تھے جو خود کو مرد کہتا تھا۔ واصف نے اسی لمحے اپنے دل کی گہرائیوں میں ایک عزمِ صمیم کیا، ایک ایسا عہد کیا جو پتھر پر لکیر تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ آنسو مٹی میں نہیں گرے، بلکہ یہ میری غیرت کے کفن پر گرے ہیں، اور اب اس اجتماعی بے بسی کو ایک ناقابلِ تسخیر طاقت میں بدلنا ہوگا، جب تک میرے اس جوان جسم میں خون کا ایک بھی آخری قطرہ باقی ہے، میں اس مجرم کو اس کے انجام تک پہنچا کر دم لوں گا۔
واصف نے اسی وقت بستی کے مرکزی چوک میں جا کر کھڑے ہو کر بلند اور گرجدار آواز میں ہنگامی طور پر لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ اس کی آواز میں وہ سوز تھا، وہ تڑپ تھی اور وہ تیکھا پن تھا کہ راستے سے گزرتے ہوئے پتھر دل انسان بھی رکنے پر مجبور ہو گئے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں لہرا کر پکار کر کہا:”اے غفلت، بزدلی اور مصلحت کی گہری نیند سونے والو! اٹھو اور دیکھو کہ آج زینب کا وہ آنچل بستی کی گندی گلیوں میں رول دیا گیا ہے جس کی پاکیزگی کی قسم کھائی جا سکتی تھی، اور تم سب اپنے اپنے گھروں کے لکڑی کے دروازے بند کر کے، عورتوں کی طرح چادریں اوڑھ کر بیٹھے ہو؟ کیا تمہاری رگوں میں بہنے والا خون اب خون نہیں رہا، بلکہ پانی بن کر بہہ چکا ہے؟ یاد رکھو، میری بات کان کھول کر سن لو، جب کسی ایک غریب کے گھر کی عزت کی دیوار گرتی ہے نا، تو پورے محلے کی چھتیں کمزور اور کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اگر آج ہم اس ظلم پر خاموش رہے، اگر آج ہم نے ساجد کا ہاتھ نہ روکا، تو کل صبح ہماری اپنی ماؤں، ہماری اپنی بہنوں اور ہماری بیٹیوں کی آبرو کا سرِعام سودا ہوگا اور ہم صرف تماشائی بنے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ یاد رکھو، دولت چلی جائے تو انسان دوبارہ کما لیتا ہے، گھر ٹوٹ جائے تو دوبارہ بن جاتا ہے، لیکن اگر عزت ایک بار چلی جائے تو انسان صرف چلتا پھرتا گوشت کا لوتھڑا رہ جاتا ہے جس کو مٹی بھی قبول نہیں کرتی“- چوہدری حشمت کو جب اپنے مخبروں کے ذریعے حویلی میں یہ پتا چلا کہ ایک معمولی، مٹی میں پلسنے والے کسان کا بیٹا اس کے صدیوں پرانے اقتدار، اس کے رعب اور اس کے لوہے کے محل کو ہلا رہا ہے اور سہمے ہوئے لوگوں کے مردہ ضمیروں کو بیدار کر رہا ہے، تو اس کا فرعونی تکبر جوش مارنے لگا۔ اس کے لیے یہ بات کسی لامتناہی توہین سے کم نہ تھی کہ کوئی ادنیٰ انسان اس کی لکھی ہوئی تقدیر اور اس کے حکم کو چیلنج کرنے کی جرات کرے۔ اس نے اپنے سب سے بے رحم، خونی اور وحشی کارندے، کالو کو اپنے دو مسلح ساتھیوں کے ساتھ واصف کے گھر بھیجا تاکہ اس کے اس باغیانہ جذبے کو ہمیشہ کے لیے کچل دیا جائے، اس کا گلا گھونٹ دیا جائے اور پوری بستی کو ایک ایسا عبرت کا سبق ملے کہ آئندہ کوئی سر اٹھانے کا سوچ بھی نہ سکے۔
رات کے آخری پچھلے پہر، جب کالا سیاہ اندھیرا اپنی پوری ہولناکی اور وحشت کے ساتھ بستی کے کچے مکانوں پر مسلط تھا اور سب لوگ خوف کے مارے اپنے بستروں میں سہمے ہوئے سو رہے تھے، واصف کے گھر کا کمزور، پرانا لکڑی کا دروازہ کالو کی ایک زوردار اور بے رحم لات سے ٹوٹ کر صحن کی مٹی میں جا گرا۔ وہ تینوں مسلح غنڈے، جن کے چہروں پر درندگی ناچ رہی تھی، دالان کے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے بستر پر لیٹی، بخار سے تپتی ہوئی بیمار بلقیس بیگم کو ان کے سفید بالوں سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے دالان کے پختہ فرش سے مٹی پر پٹک دیا۔ بلقیس بیگم نے اس وحشت کے عالم میں بھی اپنے کانپتے ہوئے، نحیف ہاتھوں سے اپنی سفید چادر کو اپنے سر پر سنبھالنے کی آخری کوشش کی، لیکن ان ظالموں نے سادگی اور حیا کی اس علامت، اس چادر کو اپنے گندے بوٹوں تلے بے دردی سے روند دیا۔ وہ بوڑھی ماں درد اور توہین کی شدت سے کراہ رہی تھی، لیکن اس حالت میں بھی اس کے لبوں پر اپنے بیٹے کی زندگی اور اس کی حفاظت کے لیے خاموش دعائیں جاری تھیں۔ کالو نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے خنجر کی نوک بلقیس بیگم کے چہرے کے پاس لائی اور غراتے ہوئے کہا کہ: ”اپنے اس سرکش، باغی لونڈے سے کہہ دینا کہ اگر کل صبح کی پہلی کرن نکلنے تک اس نے چوہدری صاحب کے پیروں میں گر کر، ناک رگڑ کر معافی نہ مانگی، تو اس کچے گھر کو تم دونوں ماں بیٹے کی عبرتناک قبر بنا دیا جائے گا“- یہ کہہ کر اس سنگدل نے بلقیس بیگم کے چہرے پر تھوکا اور قہقہے لگاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
جب واصف اپنے کام سے فارغ ہو کر رات کے آخری حصے میں گھر پہنچا، تو وہاں کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کا دماغ جیسے ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو گیا۔ اس کی بوڑھی، بیمار ماں صحن کی مٹی پر نیم بے ہوش پڑی تھی، ان کا سر کسی بھاری چیز کے لگنے سے پھٹا ہوا تھا اور وہاں سے نکلنے والا سرخ، گرم خون مٹی میں مل کر ایک ہولناک، خونی داستان سنا رہا تھا، اور وہ پاکیزہ، سفید چادر جس کا واصف اپنی جان سے زیادہ احترام کرتا تھا، تار تار ہو کر، مٹی اور خون میں لت پت زمین پر بکھری پڑی تھی۔
واصف کے حلق سے ایک ایسی دلدوز، مہیب چیخ ماری جو کالی رات کا سینہ چیرتی ہوئی، آسمان کے تاروں کو لرزاتی ہوئی نکل گئی۔ اس نے تڑپ کر اپنی ماں کو گود میں اٹھایا، اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے اس لمحے آنسو نہیں، بلکہ غصے اور غیرت کے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اس نے روتے ہوئے، سسکتے ہوئے اپنی ماں کے چہرے اور سر سے بہتے ہوئے خون کو اپنی قمیص کے کونے سے صاف کیا، ان کے بالوں سے مٹی جھاڑی۔ اس ایک لمحے کے اندر، اس کچے دالان کی مٹی پر، واصف کے اندر کا عام سا انسان ہمیشہ کے لیے مر چکا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسے خوفناک، مقدس اور لافانی محافظ نے جنم لے لیا تھا- جسے اب نہ تو اپنی موت کا کوئی ڈر تھا، نہ کسی بندوق کا خوف تھا اور نہ ہی چوہدری کے اقتدار کا کوئی لحاظ تھا۔ اس نے رات کے اس گہرے اندھیرے میں آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور انتہائی رقت آمیز، کانپتی مگر فولاد کی طرح گرجدار آواز میں کہا:” یا رب! تو گواہ رہنا، عرش پر بیٹھے میرے خدا تو گواہ رہنا۔ اب یہ جنگ صرف زینب کے آنچل کی نہیں ہے، اب یہ جنگ میری اپنی ماں کی آبرو کی ہے، میرے مظلوم، مرحوم باپ کے نام کی ہے اور اس مٹی کی مرتی ہوئی غیرت کی ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی کسی انسان کا برا نہیں چاہا، کبھی کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا، لیکن اب اگر میں ایک انچ بھی پیچھے ہٹا، تو میں اس پوری کائنات کا سب سے بڑا منافق، بزدل اور گناہ گار کہلاؤں گا۔ اب یا تو اس بستی میں میرا یہ سر رہے گا یا پھر ظلم کا یہ سیاہ، فرعونی نظام ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا“-اگلے دن، جب سورج آسمان پر اپنی پوری آب و تاب، پوری تپش کے ساتھ چمک رہا تھا- لیکن بستی کی فضا میں ایک عجیب سا قہر، ایک سنگین خاموشی اور سنسنی خیز تناؤ پھیلا ہوا تھا۔ چوہدری کی حویلی کے وسیع و عریض سامنے کے میدان میں بہت بڑی پنچایت لگی ہوئی تھی۔ چوہدری حشمت اپنے قیمتی ریشمی لباس میں ملبوس، ہاتھی کے دانتوں کے بنے ہوئے غرور کے اس اونچے تخت پر براجمان تھا- جو صدیوں کے خوف، جبر اور استحصال کی بنیادوں پر کھڑا تھا۔ اس کے اردگرد دو درجن کے قریب مسلح، سنگدل محافظ کھڑے تھے جن کی کالی بندوقوں کے دہانے غریبوں کے سینوں کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔ ساجد اپنے باپ کے پہلو میں ایک چھوٹی کرسی پر بیٹھ کر طنزیہ مسکرا رہا تھا، اس کی آنکھوں میں عیاشی اور تکبر کا نشہ تھا، جیسے وہ اپنی فتح کا جشن پنچایت شروع ہونے سے پہلے ہی منا چکا ہو۔
واصف کو دو محافظوں کے درمیان پنچایت کے مجموعے میں لایا گیا۔ اس کے تن پر موجود قمیص پر اس کی ماں کے خون کے خشک، کالے داغ اب بھی صاف نظر آ رہے تھے- اس کا چہرہ رات بھر جاگنے اور صدمے سے اترا ہوا تھا، لیکن اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں وہ جلال تھا، وہ چمک تھی کہ چوہدری کے مسلح محافظوں نے اسے دیکھتے ہی لاشعوری طور پر اپنی بندوقوں پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر لیا۔ وہ کسی قیدی یا مجرم کی طرح سر جھکائے نہیں آ رہا تھا، بلکہ وہ ایک ایسے جج کی طرح پورے وقار سے چلتا ہوا آ رہا تھا جو کسی مجرم کو اس کی سزا سنانے آیا ہو۔
چوہدری حشمت نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا سونے کا ڈنڈا زمین پر مارا اور گرجدار، رعب دار آواز میں کہا:” واصف! تم نے ہماری اس حویلی کی شان اور مرتبے میں شدید گستاخی کی ہے۔ تم نے میرے معصوم بیٹے پر سراسر جھوٹا، گھٹیا بہتان لگایا اور بستی کے سالوں پرانے امن و امان کو غارت کرنے کی کوشش کی۔ یاد رکھو، یہاں کا قانون، یہاں کی پولیس اور بستی کے لوگوں کی زندگی ہماری مٹھی میں ہے اور یہ سب ہمارے ایک اشارے پر چلتے ہیں۔ اگر تم اپنی اور اپنی اس بیمار، بوڑھی ماں کی خیر چاہتے ہو، اگر تم زنده رہنا چاہتے ہو، تو اسی وقت، اسی لمحے اس پوری پنچایت کے سامنے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھو، اپنے تمام گناہوں اور سرکشی کا اعتراف کرو اور ساجد کے بوٹوں کو اپنے لبوں سے چوم کر معافی مانگو۔ اگر تم نے ایسا کر لیا، تو ہم بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمہیں اور تمہاری ماں کو اس بستی سے صحیح سلامت نکل جانے کی بھیک دے دیں گے۔
پوری پنچایت پر، وہاں جمع سینکڑوں غریب کسانوں پر ایک ایسا سکته، ایک ایسی موت کی خاموشی طاری ہو گئی کہ کسی کے سانس لینے کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ غریب محنت کشوں نے خوف کے مارے اپنے سر جھکا لیے تھے، وہ اندر ہی اندر کانپ رہے تھے اور جانتے تھے کہ اب واصف کا خاتمہ، اس کی موت بالکل یقینی ہے۔ مائوں نے حویلی کے صحن میں کھڑے اپنے جوان بچوں کو اپنے سینوں سے بھینچ لیا تھا تاکہ ان کے منہ سے کوئی لفظ نہ نکل جائے۔
لیکن اس بھیانک خاموشی کے بیچ، واصف نے اچانک ایک ایسا زوردار، بے باک قہقہہ لگایا جس کی گونج حویلی کے در و دیوار سے ٹکرا کر پورے میدان میں پھیل گئی۔ اس قہقہے میں وہ گہرا درد تھا، وہ صدیوں کی مظلومیت کی گہرائی تھی اور وہ چوہدری کے نظام پر ایسا کاری طنز تھا جس نے چوہدری حشمت کے تکبر کے محل کی بنیادوں کو لاشعوری طور پر ہلا کر رکھ دیا۔ وہ دو قدم چوہدری کے تخت کی طرف اور آگے بڑھا، اس کی آواز بجلی کی کڑک کی طرح حویلی کے در و دیوار سے ٹکرا کر گونجنے لگی اور کہنے لگا کہ:”چوہدری حشمت! تم جس قانون کی اور جس انصاف کی بات تم کرتے ہو نا، وہ قانون تمہاری اس عالی شان حویلی کی باندی ہو سکتا ہے، تمہاری تجوری کا غلام ہو سکتا ہے، لیکن کائنات کے مالک کا سچا انصاف کسی چوہدری کا محتاج نہیں ہوتا۔ تم نے کل رات اپنے غنڈے بھیج کر میری بیمار ماں کے سر کے بال کھینچے، ان کی پاکیزہ چادر کو اپنے ناپاک پیروں تلے روندا، تم نے اس سے پہلے یتیم، بے بس زینب کی حیا کا بازار میں سودا کرنا چاہا۔ کان کھول کر سن لو چوہدری! عزت اور آبرو بازار میں بکنے والا کوئی ایسا مال یا ترکاری نہیں ہے جسے تمہاری یہ حرام کی دولت خرید سکے، اور نہ ہی یہ کوئی ایسی کمزوری ہے جسے تم اپنے گھوڑوں کے ٹاپوں تلے کچل سکو۔ یہ غریب انسان کا وہ آخری، لافانی سرمایہ ہے جسے وہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر بھی بچاتا ہے۔ تمہارا یہ بیٹا ساجد، جو تمہارے پہلو میں بیٹھا ہے، وہ ایک نمبر کا مجرم ہے، زانی ہے، بدمعاش ہے اور اس پوری بستی کے چہرے پر، انسانیت کے نام پر ایک کالا، بدبودار کلنک کا ٹیکا ہے۔ میں اس جیسے غلیظ انسان کے سامنے، اس پنچایت کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکوں؟ جو سر پیدا ہونے کے بعد سے آج تک صرف اور صرف میرے خدا کے سامنے جھکا ہے، وہ سر ایک گندے، زانی اور ظالم انسان کے سامنے کیسے جھک سکتا ہے؟ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے یہ بات لکھ دی جائے گی کہ ایک ننگے پاؤں غریب کسان کے بیٹے نے تمہارے اس جھوٹے، عارضی اور مٹی کے تخت کو تمہارے منہ پر مار کر ٹھکرا دیا تھا“-ساجد واصف کے منہ سے اپنے لیے یہ الفاظ سن کر غصے اور ذلت سے پاگل ہو گیا۔ اس کا چہرہ گہرے خون کی طرح سرخ ہو گیا، اس کے ہونٹ کانپنے لگے اور اس نے تڑپ کر اپنی کمر سے لوڈڈ پستول نکالی اور واصف کی پیشانی پر تانتے ہوئے چیخ کر کہا:” او نیچ ذات کے کتے! میں ابھی، اسی سیکنڈ میں گولی مار کر تمہاری اس زبان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا“-جیسے ہی ساجد نے گولی چلانے کے لیے اپنے ہاتھ کی انگلی پستول کے ٹریگر پر رکھی، پورے میدان میں فضا جم سی گئی۔ لیکن اس سے پہلے کہ پستول سے گولی نکلتی، پنچایت کے اس ہجوم میں ایک ایسا معجزہ ہوا، ایک ایسا انقلاب آیا جس کی امید چوہدری حشمت نے اپنے وہم و گمان میں بھی کبھی نہیں کی تھی۔ وہ بوڑھا چچا، جس کی آنکھوں کے آنسو سوکھ چکے تھے، جس کی کمر جھک چکی تھی اور جو اپنی پوری زندگی چوہدریوں کے سامنے سر جھکائے، ہاتھ باندھے جیتا رہا تھا، وہ اچانک ہجوم کو چیرتا ہوا، اپنی پرانی، کھردرے بانس کی لاٹھی ہاتھ میں لیے ساجد کی پستول اور واصف کے سینے کے درمیان آ کر لوہے کی دیوار کی طرح کھڑا ہو گیا۔ اس کی بوڑھی، لرزتی ہوئی آواز میں اس وقت ایک ایسی لافانی، خدائی طاقت تھی جس نے سب کو ششدر کر دیا، اس نے چیخ کر کہا کہ:” ساجد! اگر آج اس معصوم، غیرت مند بچے پر گولی چلی، اگر اس کا ایک بھی قطرہ خون اس مٹی پر گرا، تو چوہدری حشمت! خدا کی قسم تمہاری اس حویلی کی ایک ایک اینٹ کو ہم اپنے ہاتھوں سے اکھاڑ دیں گے، تمہارا نام و نشان مٹا دیں گے۔ ہم بہت جی لیے چوہدری، ہم نسلوں سے تمہارے پیروں کی مٹی بن کر، جانوروں کی طرح جی لیے، اب ہمیں مزید جانور بن کر نہیں جینا، اب ہمیں انسان بن کر مرنا سیکھنا ہے“ـ اس ایک بوڑھے انسان کی یہ لافانی ہمت اور جرات دیکھ کر، پنچایت کے مجمعے میں موجود سینکڑوں نوجوانوں، کسانوں اور محنت کشوں کے اندر کا سالوں سے سویا ہوا انسان، ان کی مر چکی غیرت یکلخت ایک دھماکے کے ساتھ جاگ اٹھی۔ ان کی رگوں میں بہنے والے سرد خون نے ایسا شدید جوش مارا کہ خوف، بزدلی اور مصلحت کے تمام پرانے بندھن ایک سیکنڈ میں ٹوٹ کر بکھر گئے۔ ایک، دو، دس، پچاس، سو… دیکھتے ہی دیکھتے پنچایت میں موجود پوری بستی کے غریب کسان، بوڑھے، محنت کش اور جوان اپنے ہاتھوں میں زمین کھودنے والے بیلچے، کلہاڑیاں، درانتیاں، لاٹھیاں اور بڑے بڑے پتھر لیے حویلی کے مسلح محافظوں کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور انہوں نے واصف کے گرد ایک ایسی ناقابلِ تسخیر، مضبوط انسانی دیوار بنا دی جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی تھی۔ ان سب کے چہروں پر اب موت کا، گولی کا کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ان کی آنکھوں میں اپنی ماؤں بہنوں کی آبرو کو، اپنی مٹی کی غیرت کو بچانے کا ایک ایسا جنون، ایسا دیوانہ پن دہک رہا تھا جو سب کچھ جلا سکتا تھا تماشائی اب ایک بپھرا ہوا سمندر بن چکے تھے۔
ساجد کے ہاتھ یہ ہولناک منظر دیکھ کر بری طرح کانپنے لگے، اس کے چہرے سے ہوائیاں اڑنے لگیں اور پستول اس کی کانپتی انگلیوں کی گرفت سے چھوٹ کر مٹی میں جا گری۔ چوہدری حشمت نے گھبرا کر، بدحواسی میں اپنے مسلح محافظوں کو ہجوم پر گولی چلانے کا آخری حکم دیا، لیکن ان محافظوں نے جب اپنے سامنے دیکھا کہ وہاں اب چند کمزور غریب افراد نہیں کھڑے، بلکہ ایک پورا غضبناک، بپھرا ہوا انسانی سمندر ہے جو اپنی عزت کی خاطر مرنے اور مارنے پر تلا ہوا ہے، تو ان کے ہاتھوں سے بھی بندوقیں خود بخود زمین کی طرف جھک گئیں۔ وہ محافظ بھی اسی مٹی کے بیٹے تھے اور وہ جان گئے تھے کہ گولیوں سے انسانوں کے جسم تو مارے جا سکتے ہیں، لیکن جب کسی قوم کی روحیں اور ان کی غیرت جاگ جائے، تو انہیں کبھی گولیوں سے قید نہیں کیا جا سکتا۔
چوہدری حشمت نے اپنے ستر سالہ اقتدار میں پہلی بار ان غریبوں، ان مزدوروں کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی کی جگہ وہ دہکتی ہوئی، سرخ آگ دیکھی جو اس کے پورے خاندان کو، اس کی حویلی کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا سکتی تھی۔ اس کا فرعونی تکبر، اس کا صدیوں پرانا رعب اور اس کا جابرانہ غرور سائے کی طرح فضا میں غائب ہو گیا۔ اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی ذلت محسوس کرتے ہوئے، اپنے بیٹے ساجد کا ہاتھ پکڑا اور انتہائی بزدلی کے ساتھ، سر جھکائے خاموشی سے اپنی حویلی کے اندر کی طرف بھاگ گیا، اور حویلی کے بھاری، لوہے کے بڑے دروازے اندر سے زنجیریں لگا کر بند کر دیے گئے۔ یہ ان چوہدریوں کی، ان کے نظام کی اخلاقی، سماجی اور نفسیاتی موت تھی، جبکہ بستی کے مظلوم غریبوں کی یہ تاریخی فتح بغیر ایک بھی قطرہ خون بہائے، صرف غیرت کے جاگنے سے مکمل ہو چکی تھی۔
شام ایک بار پھر بستی پر آہستہ آہستہ اتر رہی تھی، لیکن آج کی اس شام میں بستی کی فضا بالکل بدلی ہوئی تھی، بالکل پاکیزہ تھی۔ ہواؤں میں اب غلامی، گھٹن اور خوف کی بدبو نہیں تھی، بلکہ ان میں آزادی، سچائی، سر اٹھا کر جینے اور عزت کی ایک لافانی، خوشگوار خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ بستی کے مرد، عورتیں اور بچے ایک دوسرے کے چہروں کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے انہوں نے صدیوں کی قید کے بعد آج پہلی بار روشنی دیکھی ہو، جیسے انہوں نے آج ہی ایک نئی دنیا میں جنم لیا ہو۔
واصف جب پنچایت سے فارغ ہو کر اپنے کچے، ٹوٹے ہوئے گھر کی طرف لوٹا، تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں، بلقیس بیگم کو اب مکمل ہوش آ چکا تھا اور وہ دالان کے پرانے، اکھڑے ہوئے دروازے کا سہارا لیے ننگے پاؤں زمین پر کھڑی اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھیں۔ ان کے چہرے کے زخم سے اب بھی خون کا ایک باریک، سرخ قطرہ ہلکا ہلکا رس رہا تھا، لیکن ان کی ممتا سے بھری آنکھوں میں اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے جو پیار تھا، جو تڑپ تھی اور جو لازوال فخر کی چمک تھی، وہ اس کائنات کے تمام خزانوں، تمام بادشاہتوں اور تمام تاج و تخت سے کہیں زیادہ قیمتی اور معتبر تھی۔
واصف دوڑتا ہوا گیا اور اپنی ماں کے سینے سے لگ گیا، اس نے اپنے بازو ان کے نحیف وجود کے گرد حائل کر لیے اور اپنے دل کا سالوں پرانا سارا بوجھ، اپنے سارے چھپے ہوئے آنسو ان کے دامن میں بہا دیے۔ بلقیس بیگم نے اپنے کانپتے ہوئے، لہولہان اور کمزور ہاتھوں سے اپنے بیٹے کا سر چوما، اس کی پیشانی کو چوما، اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو سنوارا اور رقت آمیز، سسکتے ہوئے مگر انتہائی باوقار لہجے میں بولیں کہ:”میرے پیارے بیٹے! میرے جگر گوشے! آج اگر تیرے غیرت مند باپ کی روح نے تجھے عرشِ بریں سے، جنت کی کھڑکی سے دیکھا ہوگا نا، تو وہ خوشی سے مسکرا اٹھے ہوگے، ان کا سر فخر سے اونچا ہو گیا ہوگا۔ تو نے آج صرف میری یا اس یتیم زینب کی عزت کو پامال ہونے سے نہیں بچایا، بلکہ تو نے اس پوری مٹی کے، اس پوری بستی کے مر چکے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔ تو نے دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ غریب کی آبرو کوئی ایسا کھلونا نہیں ہے جسے کوئی بھی دولت مند جب چاہے توڑ دے۔ تو واقعی اس بستی کا، اس مٹی کا، ہم سب کا سچا، حقیقی اور ابدی عزت کا محافظ ہے“ـ کچے دالان میں اب رات کا کوئی اندھیرا نہیں تھا، کیونکہ بستی کے غریب لوگوں نے واصف کے گھر کے صحن میں محبت، احترام، عقیدت اور شکرانے کے اتنے زیادہ دیے جلا دیے تھے کہ رات کی کالی سیاہی بھی اس لازوال نور کے سامنے شرما کر بہت پیچھے ہٹ گئی تھی۔ واصف نے دالان سے اوپر نیلے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ستارے اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہے تھے، اور اسے گہرائی سے یہ احساس ہوا کہ عزت اور سچائی کی یہ جنگ دنیا میں کبھی ختم نہیں ہوتی، لیکن جب تک اس زمین پر کوئی ایک بھی واصف جیسا محافظ زندہ ہے، ظلم اور تکبر کا نظام کبھی جیت نہیں سکتا، سچائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
🌷 ختم شد 🌷
