Khalla…written by birra Qasim (Article).

خلا۔۔۔

ازقلم برا قاسم۔۔۔

“زہریلی شادی کے مسائل”

شادی ایک ایسا رشتہ ہے جو دو انسانوں کو محبت، اعتماد اور عزت کے بندھن میں باندھتا ہے۔

اسلا م نے اس رشتے کو سکون اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا ہے مگر جب یہی رشتہ ظلم، تلخی اور بے احترامی میں بدل جائے تو وہ زہریال بن جاتا ہے۔

زہریلی شادی صرف دو لوگوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات خاندان اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

:قرآن پاک میں ہلہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

“وَمِنْآ يَاتِهَِأ نْخَلَقَلَكُم مِّنَْأنفُسِكُمَْ أزْوَاجًا لِّتَسْكُنُواِ إلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”

سورہ الروم: 21

اللہ نے تمہارے لیے جوڑے بنائے تاکہ تم سکون پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اوررحمت قائم ہو۔

مگر بعض گھرانوں میں یہ سکون ختم ہو چکا ہے اور محبت کی جگہ خوف، الزام اور روزمرہ کے جھگڑے لے چکے ہیں۔

زہریلی شادی میں شریک حیات اکثر ایک دوسرے کو لفظوں یا رویوں سے تکلیف دیتےہیں۔ شوہر اپنی بیوی پر سختی اور کنٹرول جتاتا ہے اور بیوی خوف یا دباؤ میں رہتی ہےاور اسی طرح کبھی بیوی بھی طنز یا الزام تراشی سے ماحول کو زہریال بنا دیتی ہے۔

اس طرح رشتہ صرف خوف اور ذہنی دباؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق:”ایسے لوگوں میں ڈپریشن، بے خوابی اور اضطراب کی شرح عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے اور کئ تو خود پر اعتماد ہی کھو دیتے ہیں

معاشرتی دباؤ بھی اس صورتِحال کو بڑھاتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں لوگ اکثر ایسےرشتوں کو صرف نبھانے کی ہدایت دیتے ہیں۔ عورتیں یا مرد صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے یا خاندان پر کیا اثر پڑے گا۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اندر سے ٹوٹ جاتے اور باہر سے خوش نظر آتے ہیں۔زہریلی شادی بچوں کی تربیت پر بھی منفی اثرات ڈالتی ہے۔ روز کے جھگڑوں اور چیخو پکار میں بچے خوفزدہ اور الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وہ بڑے ہو کر یا تو سخت مزاج یا بالکل خاموش اور محتاط بن جاتے ہیں اور یوں یہ زہریال ماحول نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔

زہریلی شادی انسان کی خود اعتمادی اور سکون کو چھین لیتی ہے۔ لوگ خوف، اضطراب اور جذباتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اس سے جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے اور بچے جذباتی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں رہنا انسانیت اور ایمان دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

اسلامی تعلیمات اور قرآن کی روشنی میں ہر انسان کو چاہیے کہ وہ رشتوں میں حسن سلوک، عزت اور رحم کو بحال کرے اور جہاں یہ ممکن نہ ہو وہاں علیحدگی اختیار کرلیں تاکہ زندگی میں سکون اور خوشحالی واپس آسکے۔۔۔

ختم شدہ۔۔۔

1 Comment

  1. Ye topic bohaat hi sensitive HOTA or bohaat kam log BAAT kartha han . Birra ap ne bohaat acha issue pe BAAT ki han . Bohaat hi khubsurt likha han . Allah apko kamayabi dein ameen

Leave a Reply to Rameen Ahmed Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *