*ماہِ روح*
از مومنہ اعظم
اسکی نیلی آنکھوں سے سرخ خون سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔وہ اسے دیکھتا رہا۔ وہ لڑکی نہیں کوئی حور ہو جیسے۔اس کے ہاتھ ایسے تھے جیسے کوئی ننھی سی کلی وہ مسلسل رو رہی تھی اور اسے بلا رہی تھی۔اور وہ بس اسے دیکھ رہا تھا۔وہ اسکی مدد کرنا چاہتا تھا مگر جیسے ہی وہ اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ایک دلدل سی نمودار ہوتی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی اس دلدل کی لپیٹ میں آجاتی وہ اسے آوازیں دیتی رہتی کہ بچاؤ، بچاؤ مگر وہ بےبس ہوکر صرف اس کو دلدل میں پھنسے دیکھتا رہ جاتا۔
عرفات اس وقت ترکی کے شہر استنبول میں بستر پر لیٹا پسینے سے لت پت تھا۔آج اسے یہ خواب دیکھتے لگاتار ایک ہفتہ بیت چکا تھا۔ ہینری اسے آوازیں دے رہا تھا۔ عرفات، عرفات اٹھو ہوش میں آؤ۔ عرفات جھٹ سے اٹھ بیٹھا وہ پسینے سے لت پت تھا۔ ہینری اسکی اس حالت کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا۔ ہینری اسکا پارٹنر تھا۔ ہینری بھورے بالوں، بھوری آنکھوں اور گوری رنگت کا خوبصورت برٹش لڑکا تھا۔ یہ ان دونوں کا دوسرا مشن تھا جو اتفاق سے انہیں ایک ساتھ ملا تھا۔ عرفات ہینری کو بہت مس کرتا تھا کیونکہ ہینری ایک ہنس مکھ انسان تھا۔ وہ ہر مشن ہنستے مسکراتے پورا کر دیتا تھا۔ عرفات اس پر رشک کرتا تھا اسے ایسا لگتا جیسے اسے فاخر ایک بار پھر مل گیا ہو۔ فاخر عرفات کا چھوٹا بھائی تھا۔ دس سال پہلے اسکا ایک کار ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے عرفات بہت عرصہ صدمے کا شکار رہا تھا۔ فاخر اسکا بہترین دوست اور ہمراز تھا۔
________
استنبول شہر کی مسکراتی صبح آج بھی ماہِ روح کیلئے اداسی بھرا دن لے کر طلوع ہوئی تھی۔ وہ اٹھی اور فجر کی نماز کیلئے وضو کیا اور نماز پڑھ کر ذکرِ کلامِ الہی میں مشغول ہو گئی۔تھوڑی دیر بعد کمرے سے باہر آئی، اور ماں، بابا کے کمرے کی طرف بڑھی۔ کمرے کا لاک کھولا اور اندر داخل ہو گئی۔ کمرہ ہمیشہ کی طرح آج بھی خاموش تھا۔ ماہِ روح نے آج بھی ہمیشہ کی طرح اس کمرے کی صفائی کی۔ صفائی کرنے کے بعد وہ روزانہ کی طرح آج بھی وہی فوٹو فریم اٹھا کے بیٹھ گئی جس میں اس کے ماں باپ اور ایک چھوٹی سی نیلی آنکھوں والی خوبصورت سی بچی ماہِ روح مسکراتے دکھائی دے رہے تھے۔ اسنے آج بھی وہی ایک شکوہ ان سے کیا کہ آخر وہ کیوں اسے اس طرح اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
………………………………
*دو سال قبل*
ماں کو مرے دس سال ہو گئے تھے۔ آج ارسلان صاحب کی طبیعت کافی خراب تھی۔ ارسلان صاحب اپنے کمرے میں لیٹے پرانا فوٹو البم سامنے کیے، پرانی یادیں تازہ کر رہے تھے۔ ان کے سامنے ایک تصویر تھی جس میں چار لوگ کھڑے تھے
………………………………
*بیس سال قبل* ترکی
آج کی صبح ارسلان ملک کیلئے بہت خوشگوار تھی۔ وہ اس وقت کراچی کے ساحل پر موجود تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی بیوی سویرا ارسلان اور ایک ننھی سی بیٹی جو کہ دس ماہ کی تھی سمندر کے کنارے بیٹھے حسین منظر کا لطف اٹھا رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ تینوں واپس گھر آگئے۔
ارسلان ملک کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا۔ ان کے والدین کی وفات کے بعد سیاست ان کی وراثت میں آگئی۔ چونکہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے تو ساری خاندانی دولت انہیں ملی۔ وہ ایک ایماندار سیاسی لیڈر تھے۔
انہوں نے لندن کی ایک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں انہیں سویرا، عرفان، عبداللہ اور ثمینہ کی صورت میں چار بہترین دوست ملے جو کہ پاکستان کے با ذوق گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔
سویرا اور ارسلان نے پسند کی شادی کی تھی۔ چونکہ ارسلان ملک ایک ایماندار انسان تھے اسلئے ان کے سیاسی دشمنوں نے ان کی اس شرافت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر الزامات لگانے شروع کر دیے۔ اس مشکل وقت میں ان کے دوستوں نے ان کی ہر ممکن مدد کی۔ مگر ان کے دشمن پھر بھی باز نہ آئے، تھک ہار کر ارسلان ملک نے سیاست چھوڑ دی اور اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کرنے لگے۔ انہیں سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔
دوپہر ہونے کو تھی۔ سمندر کی سیر سے آنے کے بعد ارسلان اور سویرا دونوں ہی اپنا سامان پیک کرنے لگے۔ کیونکہ کل ان تینوں نے ترکی کی سیر کو جانا تھا۔ ابھی وہ کپڑے پیک کر رہے تھے کہ دروازہ زور سے بجنے لگا۔ وہ دونوں چونک گئے ۔ دروازہ بہت زور سے بجنے لگا۔ ارسلان ملک نے دروازہ کھولا، سامنے دیکھا تو عرفان اور عبداللہ کھڑے تھے ان کے چہرے پر خوف اور پریشانی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے ثمینہ بھی آگئی اس کے ساتھ سیاہ بالوں اور سیاہ آنکھوں والا ایک خوبصورت بچہ بھی تھا، جسکی عمر تقریباً دو سال تھی، عرفان نے راستے میں ہی ثمینہ کو وہاں پہنچنے کا میسج کر دیا تھا۔ عبداللہ نے جلدی سے کچھ رقم اور تین ٹکٹس ارسلان کو دیئے، اور عرفان نے ارسلان کے سامنے فون کیا جس پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ عدالت نے ارسلان کو اس کے کسی نا کردہ جرم کے باعث عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ یہ خبر سن کر سویرا کا سانس بند ہونے لگا۔وہ چکرا کر گرنے لگی۔
ثمینہ نے لپک کر اسے سنبھالا اور صوفے پر بٹھا دیا ۔ ادھر عرفان، ارسلان کو تسلی دے رہا تھا۔ان تینوں نے سویرا اور ارسلان کو بہت حوصلہ دیا۔ عبداللہ سامان کی پیکنگ میں لگ گیا، ثمینہ سویرا کو دلاسے دینے لگی، اور عرفان ہاتھ میں چھوٹی ماہِ روح کو اٹھائے ارسلان کو ہدایات دے رہے تھے کیونکہ ماہِ روح کافی دیر سے رو رہی تھی ۔اور کچھ دیر بعد ہی ارسلان اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ہوائی جہاز میں سوار تھے۔۔۔
جب ارسلان سویرا کے ساتھ ترکی پہنچے تو بہت سی پریشانیوں نے آ گھیرا، مگر سویرا نے انہیں پھر بھی اکیلا نہ چھوڑا۔ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔ وہ ایک ایماندار ہمسفر سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتی تھیں۔ سویرا کا سارا خاندان پاکستان میں تھا۔ مگر انہوں نے ان سب کو بھلا دیا اور اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔ان سے وفا نبھائی۔ان دونوں نے اپنی بیٹی کو بہت اچھی تربیت دی اور اس کے دل کو پاکستان کی محبت سے بھر دیا۔
حکومتِ پاکستان نے ان کے اس قدم پر ان کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا تھا، کہ اگر وہ کبھی پاکستان کی زمین پر قدم رکھیں گے تو انہیں مار دیا جائے گا۔
آہٹ پر وہ چونک گئے۔ سامنے دیکھا تو ماہِ روح کھڑی تھی۔ انہوں نے اسے اپنے پاس بلایا اور اس کو ساری داستان سنائی۔ ماہِ روح نے انہیں تسلی دی اور انہیں آرام کرنے کا کہہ کر کمرے سے باہر نکلنے لگی۔ جب ارسلان نے اس کو پکار کر کہا” بیٹا زندگی میں ہمیشہ سچ بولنا اور جو بات یا کام کرنا اسے سوچ سمجھ کر کرنا۔ اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ میں رہوں نہ رہوں میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔”
ماہِ روح کو آج پھر وہی بیتے لمحات یاد آ رہے
تھے جنہیں وہ چاہ کر بھی بھلا نہیں پائی تھی۔
دروازے کی بیل بجی وہ اُٹھی اور اپنا آنسوؤں
سے تر چہرہ صاف کیا اور دروازے کی طرف بڑھ
گئی۔ وہ جانتی تھی کہ دروازے پر کون ہے۔ اس
نے دروازہ کھولا، تو دروازے کے اس پار دو ننھی
بچیاں سر پر سکارف اوڑھے ہاتھوں میں قرآن
پاک تھامے کھڑی تھیں۔ دونوں نے با آوازِ بلند
سلام آبلہ (آپیا) کہا۔ اس نے ان کے سلام کا جواب
دیا اور انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔ اس کے بعد
ماہِ روح نے ان بچوں کو قرآن مجید پڑھایا۔
تھوڑی دیر بعد وہ بچیاں اپنے گھر روانہ ہوگئیں۔
……………………..
ناشتہ کرنے کے بعد وہ سیاہ عبایا اوڑھ کر خود کو
اچھی طرح ڈھانپ کر گھر سے باہر نکل آئی۔ آج
موسم خوش گوار تھا۔ وہ آج بھی ہر روز کی
طرح اپنے پسندیدہ مقام باسفورس برج پر گئی۔
……………………..
باسفورس برج سے واپسی ہر وہ ایک
خوبصورت پھولوں کی ٹوکری لیے گھر آگئی۔ اور پھولوں کی ہمیشہ کی طرح اماں بابا اور اپنے کمرے میں رکھے گلدانوں میں سجایا ۔۔پھر اپنی ڈائری اٹھا کر پھر سے روز کی طرح سارے دن کی روداد لکھنے لگی۔ وہ ایسی ہی تھی اس کے پاس کوئی دوست نہیں تھی وہ بس اپنی ساری باتیں اپنی ڈائری سے کیا کرتی تھی۔ جس کا نام اس نے داستانِ حیات رکھا تھا۔ ڈائری سے بات کر کے اس نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ کھانا کھانے کے بعد بچوں کو قرآن مجید پڑھایا۔ اس کے بعد باقی کام کر کے وہ سو گئی۔
رات کے ایک بجے اسکی آنکھ کھل گئی۔ وہ حیران تھی کہ اس وقت وہ کیوں اٹھ گئی۔ وہ تو نمازِ تہجد کیلئے 3 بجے اٹھا کرتی تھی۔ مگر اس نے نمازِ تہجد ادا کی اور واپس اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ مگر نیند کی دیوی اُس پر مہربان نہ ہوئی۔ اُس نے تنگ آکر اپنا عبایا پہنا اور گھر کو تالا لگا کر باہر نکل گئی۔ رات کی تاریکی میں وہ خوبصورت استنبول کی سڑکوں پر چہل قدمی کرنے لگی۔رات کے اس پہر بھی اکا دُکا سیاح استنبول کے دیدہ زیب نظاروں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔۔اسے اچانک ہی بہت زیادہ پیاس محسوس ہوئی ۔
ماہِ روح کو اچانک ہی اپنا گلا انتہائی خشک محسوس ہوا۔ اسے جلد از جلد پانی چاہیے تھا۔اس وقت وہ جس علاقہ میں تھی وہاں کسی زی روح کا نام و نشاں تک نہ تھا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اس وقت اسے کوئی ذی روح اپنے آس پاس نظر نہ آیا۔ اس وقت وہ کسی گھر میں بھی نہیں جاسکتی تھی کیونکہ رات کافی گہری تھی۔
نہ ہی وہ گھر واپس جاسکتی تھی کیونکہ گھر سے وہ کافی دور نکل آئی تھی۔ اس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو اسے ایک مسجد نظر آئی، وہ وہیں چل دی۔ وہاں پہنچی تو اسے مسجد کے دروازے کے ساتھ ہی ایک واٹر کولر دیکھائی دیا۔ اسنے جلدی سے پانی پی کر اپنی پیاس بجھائی۔ وہ واپس جانے کیلئے پلٹ رہی تھی کہ اسکی نظر مسجد کے عین وسط میں کھڑے ایک شخص پر پڑی، جو کہ دنیا سے بے نیاز ہوکر اپنے رب کے حضور روتے ہوئے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ اسے لگا وقت یہیں تھم سا گیا ہے۔ وہ سیاہ بالوں والے اس لڑکے کو دیکھے گئی جو دراز قد اور خوبُرو تھا۔ وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی جو رات کے اس پہر جب باقی استنبول خوابِ خرگوش کی نیند سو رہا ہے سڑکوں پر کسی ذی روح کا سایہ تک نہیں ہے، وہ اس وقت اپنے رب کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ ماہِ روح اسے کئی پہروں دیکھتی رہی۔
پھر جیسے ہی اس شخص نے نماز ادا کر لی اور جانے کیلئے مڑا تو ماہِ روح فوراً دیوار کے آوٹ میں چھپ گئی تاکہ وہ شخص اُسے نہ دیکھ سکے۔ جب وہ شخص جا چکا تو ماہِ روح بھی اپنے گھر کی طرف چل دی۔ وہ اس شخص کو سوچ رہی تھی۔ ابھی وہ گھر سے چند قدم دور تھی کہ اسکے کان میں اذان کی آواز گونجی۔ وہ حیران ہوتے ہوئے گھر پہنچی اور وقت دیکھا تو فجر کی نماز کا وقت تھا۔اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ حیران تھی کہ وہ اس شخص کو اتنی دیر تک دیکھتی رہی تھی۔
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اس نے اپنی ڈائری اٹھا لی اور نہ جانے کتنی دیر اپنی بہترین دوست سے اس شخص کے متعلق باتیں کیں۔ اس نے اپنی ڈائری پر ابھی قلم کو گھسیٹا ہی تھا کہ اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ اس نے اپنی آدھی ڈائری کو محبوب کی پہلی دید کی نظر کر دیا ہے۔ جب اچانک ہی اسکی نظر گھڑی پر پڑی جسپر بارہ بج رہے تھے۔ اسنے جلدی سے ڈائری رکھی اور اٹھ کر ناشتہ بنانے چل دی۔
______
یہ لاہور شہر کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ صبح کے چار بج رہے تھے۔ عرفات اٹھا فجر کی نماز ادا کی اور دعا کرنے کے بعد قرآنِ پاک کی تلاوت کی۔ وہ روزانہ ہی صبح سویرے اپنے دن کی شروعات ذکر الہی سے کرتا۔ عبادت کرنے کے بعد وہ ورزش کرنے چلا گیا۔ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ فٹ رکھتا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ یہ اس کی ڈیوٹی کے لیے ضروری تھا۔ جب وہ واپس آیا تو چھ بج چکے تھے۔ لاؤنج میں پہنچا تو ثمینہ خان تلاوتِ کلامِ پاک کر رہی تھیں۔ وہ ان کے قریب آیا تو ثمینہ خان نے اس کا ماتھا چوما اور اس کی بلائیں لیں۔ آخر کیوں نہ لیتیں وہ ان کا اتنا پیارا اور فرمانبردار بیٹا تھا۔ ابھی وہ اس کی بلائیں اتارنے میں مشغول تھیں کہ ذاکر آگیا اور یہ لمحہ دیکھ کر جل گیا۔ “ماما آپ ہر وقت صرف بھیا کو ہی پیار کرتی رہتی ہیں میرا تو آپ کو کوئی خیال ہی نہیں ہے مجھے تو لگتا ہے کہ میں آپ کا سوتیلا بیٹا ہوں۔” ذاکر معصومیت سے منہ پھلاتا اپنا دکھڑا سنا رہا تھا۔
جبکہ وہ دونوں ماں بیٹا اس کی باتیں سن کر محظوظ ہو رہے تھے۔”ارے تمہیں پتہ چل گیا۔۔؟ مما آپ نے اسے بتا دیا؟ “عرفات شرارت سے پوچھ رہا تھا۔ثمینہ نے الجھن سے اسے تکا۔” کیا بتا دیا؟ ” ذاکر تشویش سے پوچھ رہا تھا۔”یہی کہ ہم نے تمہیں کنول آنٹی کی نوکرانی فقیراں سے گود لیا تھا۔۔” اس نے جیسے کوئی گہرا راز فاش کیا تھا۔ذاکر کا سارا کا سارا منہ کھل گیا۔۔” امی۔۔”وہ احتجاجاً چلایا۔”اونہوں عرفات۔۔ذاکر کو تنگ مت کرو۔میری جان ہے یہ تو” وہ شفقت سے بولیں۔”اور میں کیا ہوں۔۔؟” عرفات پوچھ رہا تھا۔۔” تم تو میرا جہان ہو۔۔”ثمینہ خان نے اپنے دونوں بیٹوں کو سینے سے لگایا اور ان کے حق میں دعائیں کرنے لگیں۔ وہ ثمینہ خان سے دعا لے کر فریش ہونے کے لیے اپنے کمرے میں آگیا۔
اور فریش ہو کر جب وہ نیچے آیا تو فاتحہ اور صالحہ اسکا انتظار کر رہی تھیں۔ “عرفات بھائی ہم دونوں آپ کا کب سے انتظار کر رہے ہیں اور آپ ہیں کہ اتنی دیر لگا دی تیار ہوتے ہوتے۔” وہ دونوں اسے چمٹ گئیں۔”اللہ اللہ تم دونوں چڑیلیں پھر سے شروع ہو گئیں۔” اسکا رخ گارڈن کی طرف تھا۔ “بھیا ہم دونوں چڑیلیں نہیں ہیں۔ آپ ہوں گے۔ بھوت نہ ہوں تو۔” وہ دونوں منہ بناتے ہوئے بولیں۔” اچھا ٹھیک ہے میں بھوت۔۔ اب بولو بھی کیا چاہیئے؟”اس نے بھنویں اچکائیں۔”بس زیادہ نہیں تھوووڑی سی شاپنگ۔۔” چھوٹی صالحہ نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔”اچھا تو بھائی کو لوٹنے کی تیاری ہو رہی ہے۔” عرفان خان نے ان تینوں کی گفتگو سنتے ہوئے کہا۔ “جی بابا دیکھیے نا پرسوں تو انہوں نے اتنا لوٹا تھا مجھے اور آج پھر سے شروع ہو گئی ہیں۔”
“بھائی پلیز کروا دیں نہ شاپنگ ویسے بھی آپ نے کل ترکی چلے جانا ہے پلیز پلیز فاتحہ بولی۔ “اچھا اچھا ٹھیک ہے چلو بھئی لے چلتا ہوں پر پہلے میری ایک فرمائش ہے وہ پوری کرو گی تو سوچوں گا۔” “جی جی کیوں نہیں بولیں کیا چاہیے؟” صالحہ خوشی سے بولی۔ میں نوڈلز کھانا چاہتا ہوں ابھی نہیں ناشتے کے بعد۔۔فی الوقت ناشتہ لایا جائے۔”عرفات نے حکم دیا۔” کیوں نہیں بادشاہ سلامت کا حکم سر آنکھوں پر۔” وہ دونوں آگے پیچھے کچن کی طرف بھاگتے ہوئے بولیں۔ وہ لوگ جب شاپنگ سے واپس آئے تو رات ہو گئی تھی سو کھانا کھا کے وہ سب سو گئے۔
اگلے دن صبح اپنے روٹین کے کام کرنے کے بعد جب وہ نیچے آیا تو آج بھی ثمینہ خان کو ذکرِ کلام الہیٰ میں مشغول پایا۔مگر آج منظر کچھ بدلا بدلا تھا۔ذاکر اس سے پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ اور اس کو دیکھتے ہی کہنے لگا” ماما دیکھیں مسٹر لیٹ لطیف تشریف لا رہے ہیں۔” اُس کی یہ بات سن کر دونوں ماں بیٹا کھل کر ہنسنے لگے “ویسے بھائی وہاں پر ذرا احتیاط سے کام لیجیے گا۔ کیونکہ وہاں پر بہت سی حوریں رہتی ہیں۔” ذاکر نے شرارت سے آنکھ ونک کی۔ “مطلب؟” اسنے نا سمجھی سے پوچھا۔” مطلب یہ کہ کوئی آپ کو اڑا کے لے گئی تو۔۔”ذاکر نے ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔” ایسی کوئی بات نہیں ہے میرا بیٹا عورتوں کی عزت کرنا جانتا ہے مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسا ہے۔” ثمینہ خان نے فخر سے کہا۔” اور ویسے بھی مغربی عورتیں اچھی نہیں ہوتیں ہر وقت فیشن کرتی رہتی ہیں دورِجہالت کی طرح۔پاک عورتیں تو وہاں دور دور تک کہیں ملیں گی ہی نہیں۔” ثمینہ خان نے کانوں کو ہاتھ لگا کر افسوس سے کہا۔” نہیں ماں ایسا نہیں ہے۔۔یہ ایک مفروضہ ہے۔۔اچھائی برائی ہر جگہ ہوتی ہے۔۔مغرب میں بھی پاک دامن اور پردہ دار عورتیں پائی جاتیں ہیں۔لیکن آپ بے فکر رہیں میں اپنے نفس پر پہرے بٹھانا جانتا ہوں۔”اسنے فرمانبرداری سے سر جھکا کے ماں کو یقیں دلایا کہ وہ کبھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے بات انکی تربیت پر آئے۔
کچھ لمحے بعد جب وہ اپنے کمرے میں موجود کاوچ پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر اپنے نئے مشن کی معلومات پر سرسری سی نظر ڈال رہا تھا تو ثمینہ خان کمرے میں آئیں ۔ وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔”ارے ماں آپ۔۔ مجھے بلا لیا ہوتا آپ خود کیوں آگئیں؟”ثمینہ اس کے قریب ایک صوفے پر بیٹھ گئیں۔”کوئی بات نہیں بیٹا تم ذرا بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” “جی ماں کہیے۔” وہ شائستگی سے بولا۔ “بیٹا صبح تم پریشان لگ رہے تھے۔مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟” انہوں نے نرمی سے پوچھا۔” نہیں ماں وہ تو بس میں نے رات کو ایک خواب دیکھا تھا بس اس وجہ سے پریشان تھا۔” اسنے سرسری انداز میں کہا ۔” کیسا خواب؟مجھے بتاؤ عرفات۔ ” ثمینہ پریشان ہوگئیں۔
” ماں میں نے اس خواب میں دیکھا کہ ایک لڑکی جسکی آنکھیں نیلی تھیں۔۔وہ بے تحاشا رو رہی تھی اور مجھے مدد کیلئے پکار رہی تھی۔۔مگر میں اسکی مدد نہیں کرپایا۔”عرفات کے بتانے پر ثمینہ خان کی یادداشت کے پردے پر سالوں پرانی ایک تصویر ابھری۔۔مگر وہ خاموش رہیں۔۔اور عرفات کیلئے آیت کرسی پڑھی۔۔
تھوڑی دیر میں عرفات کچن میں تھا۔” قدسیہ بی مجھے نوڈلز بنا دیں پلیز۔ “اس نے نہایت احترام سے ان سے کہا۔” عرفات بابا آپ؟بیٹھیے ابھی بن جاتے ہیں۔” انہوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر شفقت سے دعا دی۔ “جی بی جان۔آپ کے ہاتھ کے بنے، دنیا کے لذیذ ترین نوڈلز، جلدی سے بنائیں میں سبزیاں کاٹتا ہوں، اور گارلک کا تڑکا لگانا مت بھولیے گا۔” وہ فریج کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا۔
*آٹھ گھنٹوں بعد*
عرفات اس وقت ترکی کے شہر استنبول کے
IGA ISTANBUL AIRPORT
پر کھڑا تھا۔ہینری پہلے سے اسکا منتظر تھا۔عرفات نے اسکو دیکھتے ہی مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔۔ہینری اسکی طرف بڑھا۔۔دونوں نے مصافحہ کیا۔اور اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئے کیونکہ ابھی عرفات نے ریسٹ کرنا تھا۔اور پھر انکا ریسٹورنٹ جانے کا پلان تھا۔
عرفات اور ہینری دونوں ایک ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک ویٹر ان کے پاس آرڈر لینے پہنچا تو عرفات نے ہینری سے کہا کہ وہ پہلے اپنا آرڈر لکھوا دے۔ ہینری نے اپنے لیے ترکش کباب کا آرڈر لکھوایا اور عرفات سے پوچھا کہ اس نے کیا کھانا ہے؟ “نوڈلز!” عرفات نے موبائل فون پر ٹائپ کرتے ہوئے جواب دیا۔” وہاٹ!!”
گورا سا ہینری چیختے ہوئے کرسی سے کھڑا ہو گیا۔ سفید چہرہ لال ہورہا تھا۔ اطراف کے لوگوں نے اسے مڑ کر دیکھا۔ اور ہینری سب کی نظروں کو خود پر محسوس کرتے ہوئے پھر سے سیٹ پر بمشکل دانت نکالتا بیٹھ گیا۔ جبکہ عرفات بہت سکون سے اپنے موبائل میں ایسے مصروف تھا کہ جیسے اسکا اس سب ڈرامے باز ہینری سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے ۔ “یار کیا مسئلہ ہے تمہیں ہر وقت نوڈلز کھا کر تمہارا دل نہیں بھرتا کیا؟” ہینری نے اسے گھورا۔” پہلی بات تو یہ کہ یہ نوڈلز میری محبوبہ ہیں اُنہیں کچھ نہ کہو! اور دوسری بات یہ کہ جب تک میں یہاں ہوں نوڈلز تو تمہیں برداشت کرنے ہی پڑیں گے۔ ویسے یہ نوڈلز تم گوروں نے ہی ایجاد کیے تھے۔۔”عرفات کا انداز خالص چڑانے والا تھا۔” مجھے پتا چل جائے کہ یہ نوڈلز کس نے ایجاد کیے ہیں۔اس شخص نے میرے ہاتھوں سے سے ضائع ہوجانا ہے۔”ہینری منہ بنا کر بیٹھ گیا ۔
تھوڑی دیر میں ویٹر کھانا لے آیا۔ دونوں نے ( ہینری نے ناک منہ چڑھا کر جبکہ عرفات نے اس کی حالت سے لطف اندوز ہو کر) کھانا کھایا ۔
اس کےبعد دونوں اپنے مشن (ایسے لوگوں کو ڈھونڈناجو کے پاکستان سے بغیر ویزہ اور پاسپورٹ کےترکی آتے ہیں اور وہاں غیر قانونی سرگرمیوں کاحصہ بن جاتے ہیں) کیلئے نکلے۔ وہ دونوں اسوقت دلاور قربان (ترکی میں پاکستانیوں کی سمگلنگ کرنے والا) کے پاس تھے۔یہ ایک تاریک جگہ تھی۔ دلاور قربان ایک سات سالہ بچی کولے کر آیا تھا اور اس وقت اس کا سودا چل رہاتھا۔عرفات اور ہینری بڑی آسانی سے وہاں موجود پہریداروں کو ٹھکانے لگانے کے بعد آگے بڑھے۔عرفات نے مخالف پارٹی کو گولی سے اڑانے کے بعد بچی کو پکڑا، جبکہ ہینری نے دلاور قربان کو قبضے میں کیا۔
دلاور کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد ہینری اور عرفات نے اس بچی کو اپنے سپائی ہیڈ کوارٹرز کے حوالے کیا۔تاکہ بچی کو حفاظت سے آبائی وطن اسکے والدین کے پاس پہنچانے کے بروقت اقدامات کیے جائیں۔
اپنے اگلے مشن کی معلومات لے کر وہ دونوں واپس اپنے اپارٹمنٹ جا رہے تھے کہ راستے میں ہینری کو اس کی کوئی پرانی پڑوسن مل گئیں ۔ انہوں نے باتوں باتوں میں ہینری کو اپنے گھر میں اکیلے رہنے کا بتا دیا۔ اور ان دونوں کو راضی کر لیا کہ وہ ان کے ساتھ رہیں۔ وہ خاتون جن کا نام تابندہ خانم تھا بہت ہی شفیق اور خوش مزاج تھیں اور یہی وجہ تھی کہ ان دونوں نے بخوشی ان کی یہ پیشکش قبول کر لی ۔ تابندہ خانم نے انہیں اگلے دن سے ہی اپنے گھر رہنے کی پیشکش بھی کر دی اور ہینری نے منہ پھاڑ کر قبول کرلیں۔مگر یہ بات واضح کی کہ وہ کرایہ بھی دیں گے۔رات کو دونوں گھر پہنچ کر سو گئے اور عرفات نے پھر سے وہی خواب دیکھا اور ڈر کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے جلدی سے کپڑے چینج کیے اور باہر نکل گیا اور مسجد کی طرف چل دیا۔
رات کے پونے ایک بج رہے تھے اور اسوقت عرفات استنبول کی سڑکوں پر اُس نیلی آنکھوں والی لڑکی کے بارے میں سوچتے گھوم رہا تھا۔وہ لڑکی جو استنبول آنے کے بعد سے اسے روز خوابوں میں نظر آنا شروع ہوگئی تھی۔جسے وہ ڈریم اینجل DREAM ANGEL کہتا تھا۔ اس لڑکی کی آنسوؤں سے بھری نیلی آنکھیں عرفات کی ساری جان سینچ لیتیں۔۔اس لڑکی کے آنسو جیسے عرفات کے دل پر گرتے تھے۔
لا تقسُ على هاتين العينين الزرقاوين… أرجوك، لا تبكِ
ان نیلی آنکھوں پر اتنا ظلم مت کرو۔۔پلیز مت رو
چلتے چلتے وہ ایک مسجد میں آن پہنچا۔عرفات کی آنکھوں سے آنسو زاروقطار بہنا شروع ہو گئے ۔اس نے وضو بنایا اور اپنے رب کے حضور سر جھکائے کھڑا ہو گیا۔اس نے نہ جانے کتنی دیر میں بکثرت روتے ہوئے صرف دو نفل ادا کیے تھے۔نفل ادا کرنے کے بعد وہ وہیں اپنے رب کے حضور دو زانو ہو کر بیٹھ گیا ۔آنسوؤں کا نہ تھمنے والا ریلا ابھی بھی اسکی آنکھوں سے جاری تھا۔اسنے روتے ہوئے اپنے رب کے حضور دستِ سوال دراز کیے۔”اے میرے پاک پروردگار میری مدد کر۔مجھے اس تکلیف سے نکال وہ لڑکی کون ہے مجھے بتا میرے رب۔میری مدد کر۔ اے میرے اللہ کیا اس بھری دنیا میں تو نے اسے میرے لیے چن لیا ہے؟ اے میرے رب وہ اتنا روتی کیوں رہتی ہے؟ اسکی آنکھوں میں وہ آنسو وہ خوف یا اللہ جب جب میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوں مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میرا دل کسی نے زور سے کچل دیا ہو۔اسکی وہ آنکھیں مجھے بہت درد دینے لگی ہیں۔یااللہ کیا وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہے؟اے میرے پاک پروردگار تو میری زندگی کی ساری خوشیاں اسے دے دے اور اسکے سارے غم میرے نام کر دے۔میں عہد کرتا ہوں کہ کبھی اپنی زبان سے کوئی شکوہ نہیں کروں گا۔میں التجا کرتا ہوں کہ اسے میرا محرم بنا۔۔میں اسکا مرہم بنونگا۔۔اے میرے رب مدد کر۔ڈریم اینجل کی پریشانیاں دور کر دے۔ اُسے ہر غم سے آزاد کر دے۔میں اسکی خوشیوں کے صدقے ساری زندگی تیرا شکر گزار رہوں گا۔”
اسنے محسوس کیا کہ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اسکے قلب کو سکون بخش رہے ہیں۔اس نے ایک آخری سجدۂ شکر ادا کیا اور اٹھ کھڑا ہوا تاکہ گھر جاسکے۔
__________
دن بھر کے سارے کاموں کو نمٹانے کے بعد شام کو ماہِ روح باسفورس برج پر پہنچی یہ پہلی بار تھا کہ آج اسے باسفورس برج کی رنگینیاں ادھوری لگیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس شخص کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی جسے اس نے کل رات مسجد میں دیکھا تھا۔ وہ انتظار میں تھی کہ کب رات ہو اور وہ اس مسجد میں دوبارہ جائے، اور اس شخص کو دیکھے جسکی وجہ سے اسکے دل کی دھڑکنیں اس سے بغاوت کر رہیں تھیں۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے سینے میں موجود دل اب اس کا نہیں رہا بلکہ اسکا دل تو کل رات اس شخص کے ساتھ ہی جا چکا تھا۔”بابا میں ادانہ کے کباب کھانا چاہتی ہوں۔” گلابی رنگ کے فراک میں سر پر دو پونیاں بنائے وہ ننھی بچی اپنے بابا سے کہہ رہی تھی۔” میری پیاری بیٹی کیلیے میں کل ہی ادانہ کے کباب لاؤنگا۔” پاس کھڑی ماہِ روح ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اس کے بابا (ارسلان ملک) یاد آئے۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں ۔وہ بے اختیار وہاں سے بھاگی۔
_________
آج کی شام بھی بہت خوبصورت تھی۔ عرفات اور ہینری ابھی اپنے نئے مشن کے متعلق تحقیقات کرنے میں مصروف تھے۔ وہ دونوں اس وقت باسفورس برج کے پاس تھے۔ہینری سامنے ایک شاپ میں کچھ خریدنے گیا تھا، اور عرفات وہیں کھڑے ہو کر اسکا انتظار کر رہا تھا۔ اچانک اسے پیچھے سے دھکا سا لگا۔ وہ مڑا اور پھر وہیں ساکت رہ گیا۔ وقت جیسے تھم سا گیا۔ وہ نیلی آنکھوں والی لڑکی اسکے سامنے تھی۔وہی جسے وہ خوابوں میں دیکھا کرتا تھا۔ ہاں وہ ڈریم اینجل تھی۔نیلی آنکھوں والی لڑکی۔
هذه العيون الزرقاء الساحرة
“یہ نیلی سحر انگیز آنکھیں ”
دل گواہی دے رہا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جسکی خوشیوں کا وہ طلبگار ہے۔ مگر آج بھی ان آنکھوں میں آنسو تھے ۔ان نیلی آنکھوں میں آج بھی زمانہ بھر کے دکھ سمٹے تھے۔
وہ کہتی ہے،
بلائیں جب بھی میرا نام لیتی ہیں
میں کہتا ہوں، تجھے میری دعائیں تھام لیتی ہیں
________
وہ دنیا سے بے خبر اس لڑکی کی ان غمزدہ
آنکھوں میں کھو سا گیا تھا۔اسے ہوش تو تب آیا
جب کسی نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔وہ مڑا تو دیکھا ہینری ہاتھ میں بہت سے
شاپرز لیے کھڑا تھا۔ عرفات نے پھر اُسی طرف
دیکھا جہاں ابھی وہ لڑکی کھڑی تھی۔مگر اب
وہ جا چکی تھی۔”یار برو پکڑ
بھی لو اب انہیں۔۔میری معصوم سی انگلیوں میں
جلن ہو رہی ہے۔” ہینری نے اسے ہلایا تو وہ چونکا۔
“ہاں بولو!” عرفات ہینری کی طرف پلٹتے ہوئے بولا۔”کیا بولوں؟” ہینری جھنجھلا کر پوچھتا ہے۔
“یار کام کیا ہے وہ بولو نا؟” عرفات نے اسے گھورا۔
“اس سامان کو پکڑو ورنہ میری انگلیاں ٹوٹ
جائیں گی۔ بہت بھاری ہے یہ۔”ہینری اسے سامان
پکڑاتے ہوئے بولا۔”اللہ اللہ پوری کی پوری عورت ہو
تم یار۔” عرفات اسے کہتے ہوئے آگے چل پڑا۔” شکریہ
میں نے کبھی غرور نہیں کیا۔” ہنری نے اہنی انگلیاں دبائیں۔گھر
پہنچ کر عرفات نے سب سے پہلے ثمینہ خان کو
کال کی اور انہیں آج کا واقعہ سنایا اس کے بعد
عرفات نے عشاء کی نماز ادا کی اور سو گیا۔
______
وہ بھاگ رہی تھی اور وہ رو رہی تھی۔اچانک وہ کسی سے ٹکرائی۔اسنے نظریں اُٹھائیں، تو جیسےپھر پلکیں جھپکنا بھول گئی۔وہ شخص اسکےسامنے تھا جسکے صرف ایک دیدار نے اسکی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کر رکھا تھا۔وہ ایک پل کیلیے اسکی ان سیاہ سحر انگیز آنکھوں میں کھو سی گئی۔
ماہِ روح چاہتی تھی کہ وہ وہاں رکے مگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی۔جیسے ہی اُس نے اُس شخص کی نظریں خود سے ہٹتی ہوئی محسوس کیں تو وہ فوراً وہاں سے بھاگی، اسنے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔وہ بس بھاگتی چلی گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے گھر میں موجود تھی۔روتے روتے ہی وہ سو گئی۔
______
اس لڑکی کی نیلی آنکھوں سے سرخ خون سے آنسو نکل پڑے۔ عرفات اسے دیکھتا رہا۔ وہ لڑکی نہیں کوئی حور ہو جیسے۔ اس کے ہاتھ ایسے تھے جیسے کوئی ننھی سی کلی۔ وہ مسلسل رو رہی تھی اور اسے بلا رہی تھی۔ عرفات اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکی مدد کرنا چاہتا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ایک دلدل سی نمودار ہوتی اور اسکے دیکھتے ہی وہ لڑکی اس دلدل کی لپیٹ میں آجاتی۔وہ بے بس سا کھڑا رہ جاتا۔۔وہ لڑکی اسے آوازیں دیتی رہتی کہ بچاؤ، بچاؤ مگر وہ بے بس ہوکر صرف اس کو دلدل میں پھنسے دیکھتا رہ جاتا۔ وہ اس وقت ترکی کے شہر استنبول میں بستر پر لیٹا پسینے سے لت پت تھا۔ آج اسے یہ خواب دیکھتے لگاتار ایک ہفتہ بیت چکا تھا ۔ ہینری اسے آوازیں دے رہا تھا۔ “عرفات ، عرفات اٹھو ہوش میں آؤ۔تم پھر خواب دیکھ رہے ہو۔” عرفات جھٹ سے اٹھ بیٹھا وہ پسینے سے لت پت تھا۔ ہینری اسکی اس حالت کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا۔ وہ اٹھا لباس تبدیل کر کے مسجد چلا گیا۔ پہلے وہ اس لڑکی کو صرف خوابوں میں ہی دیکھا کرتا تھا مگر اسنے آج پہلی بار اس لڑکی کو حقیقت میں دیکھا تھا۔ممکن تھا کہ خوابوں میں شدت آجاتی۔۔
_____
اور آج بھی اس نے اس لڑکی کو روتے ہوئے ہی دیکھا تھا۔وہ اپنی تمام تر الجھنوں اور تکلیفوں کو دامن میں بھرے آج پھر اشکبار آنکھوں سے اپنے ربِ کائنات کے حضور ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ اس نے اشک بہاتی آنکھوں کے ساتھ دو نفل تہجد کے اور دو نفل نمازِ شکرانہ کے ادا کیے۔کیونکہ آج اس نے پہلی بار اپنی ڈریم اینجل کو حقیقت میں دیکھا تھا۔
اس کے بعد وہ اپنے رب کے حضور سجدہ میں جھک گیا اور اپنی الجھنوں کو خدا کے سامنے پیش کرنے لگا۔”اے اللہ وہ آج بھی رو رہی تھی ۔اے اللہ اسے ہوا کیا ہے؟ ڈریم اینجل اتنا کیوں روتی رہتی ہے؟اے میرے رب ان آنکھوں کو سکون عطا کر جن میں، میں نے صرف غم ہی دیکھا ہے ۔اے اللہ میرے حصے کی خوشیاں اس کی جھولی میں بھر دے آمین ثم آمین یا رب العالمین”
_____
جیسا اس نے سوچا تھا ویسا ہی ہوا۔ وہ شخص آج پھر وہاں موجود تھا۔وہ آج بھی اشک بار آنکھیں لیے اپنے رب کے حضور ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
اس کے آنسو ماہِ روح کو بے چین کر رہےتھے۔اس نے بے اختیار دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے اورآنکھیں بند کر کے اپنے رب سے التجا کی کہ”اےمیرے پاک پروردگار تو رحیم ہے، تو کریم ہے تو اس شخص کی ہر تمنا پوری کر۔اسے ہر غم سےآزاد کر دے۔اے عظیم و کبیر رب تو دنیا جہاں کی خوشیاں اس کی جھولی میں بھر دے۔اےمیرے رب تجھے تیری عظمت کا واسطہ تو اس شخص کو ہر تکلیف سے آزاد کر دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین”
تھوڑی دیر بعد وہ اپنے گھر چل دی۔
______
آج بھی عرفات اور ہینری دونوں اپنے اگلے مشن پر نکلے تھے۔مشن کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد اب وہ گھر واپس جارہے تھے۔۔” یار تمہیں ایک بات بتانی تھی۔ کل رات جب تم مسجد گئے تھے تو میں بھی تمہاری حالت سے پریشان ہو کر تمہارے پیچھے ہی آیا تھا۔”ہینری نے کیریمل پاپ کارن (جو ابھی انہوں نے خریدے تھے) منہ میں ڈالتے ہوئے بتایا۔” تم وہاں کیا کرنے آئے تھے؟” عرفات نے پیچھے مڑ کر حیرانی سے اس سے پوچھا۔” یار تم اسے چھوڑو کہ میں وہاں کیا کرنے گیا تھا تم مجھ سے یہ پوچھو کہ میں نے وہاں کیا دیکھا تھا۔ “ہینری بہت سارے پاپ کارن کو عرفات کے منہ میں گھسیڑتے ہوئے بولا۔ جس پر پہلے تو عرفات نے ہونٹ بھینچ لیے مگر پھر آرام سے کھا لیے۔ “بولو کیا دیکھا ہے تم نے؟” عرفات نے پاپ کارن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس سے پوچھا۔” میں نے وہاں ایک لڑکی کو دیکھا تھا تم اندر مسجد میں تھے اور وہ لڑکی باہر کھڑی تھی اس نے کالے رنگ کا عبایا بھی اوڑھ رکھا تھا۔ وہ رو رہی تھی اور دعائیں کر رہی تھی۔ مگر جب تم نے نماز پڑھ لی تو وہ لڑکی بھاگ گئی شاید وہ چاہتی تھی کہ تم اسے نہ دیکھو۔” ہینری بولتا گیا اور دوسری طرف عرفات کا وہ ہاتھ جو پاپ کارن کے پیکٹ کی جانب بڑھ رہا تھا وہ وہیں رہ گیا اور وہ دم سادھے ہینری کی ساری باتیں سننے لگا۔” میں نہیں جانتا۔ہوسکتا ہے وہ اپنی دعا مانگنے آئی ہو۔۔رات ہو رہی ہے اب ہم گھر چلتے ہیں۔”عرفات آگے بڑھتے ہوئے بولا۔ ہینری بھی خاموشی سے ساتھ چل پڑا۔
جیسے جیسے رات ہو رہی تھی اسکی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔وہ نمازِ عشاء ادا کرچکا تھا اور اب وہ ہینری کے سونے کا انتظار کر رہا تھا۔آخر کار ہینری سو ہی گیا۔عرفات اُٹھا اور لباس تبدیل کر کے مسجد کی طرف چل دیا۔ابھی ایک بجنے میں کافی وقت تھا۔اور وہ اتنی جلدی مسجد میں پہنچ چکا تھا۔ اسنے امام مسجد سے مسجد کے چبوترے پر جانے کی اجازت لی۔اور چبوترے پر چڑھا۔مسجد کے چبوترے کی لمبائی پچاس فٹ تھی۔اس چبوترے سے باسفورس برج بھی دکھائی دیتا تھا۔ بہت انتظار کے بعد آخر کار دو بج گئے تھے۔وہ وہیں اسکے انتظار میں چبوترے کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔اور انتظار ختم ہوہی گیا وہ اسے سامنے سے آتی ہوئی نظر آہی گئی۔”مطلب یہ کہ کوئی آپ کو اڑا کے لے گئی تو۔۔؟” ذاکر نے ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔”ایسی کوئی بات نہیں ہے میرا بیٹا عورتوں کی عزت کرنا جانتا ہے مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسا ہے۔” ثمینہ خان نے فخر سے کہا۔”اور ویسے بھی مغربی عورتیں اچھی نہیں ہوتیں ہر وقت فیشن کرتی رہتی ہیں دورِجہالت کی طرح۔ پاک عورتیں تو وہاں اکا دکا ملیں گی۔” عرفات کے کانوں میں ثمینہ خان کی کہی ہوئی وہ بات گونجی۔۔
اسنے سامنے سے آتی ہوئی اس لڑکی کو دیکھا جو سیاہ عبایا اوڑھے اس مسجد کی طرف آرہی تھی۔
” پاکیزہ! “اسنے خود کو بڑبڑاتے سنا۔” ہاں پاکیزہ!وہ میری ماں کی پاکیزہ بہو ہے۔میری ڈریم اینجل۔۔پاکیزہ ہے وہ۔اے میرے رب تو نے مجھ گناہ گار کو اس پاکیزہ لڑکی کیلیے چنا۔ میں جتنا بھی تیرا شکر ادا کروں، کم ہے۔” اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔وہ اُٹھااور جلدی سے نیچے کی طرف بھاگا تاکہ وہ اسکے آنے سے پہلے وہاں موجود ہو۔وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا۔اس نے تہجد کی نماز ادا کی اور پھر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گیا۔” اے میرے رب میرا بس چلے میں ہمیشہ تیرے حضور ایسے ہی سجدے میں گرا رہوں اور کبھی نہ اُٹھوں۔اے اللہ! میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نےمجھے میری پاکیزہ کے زخموں پر مرہم رکھنےوالا بنایا۔اے اللہ میں عہد کرتا ہوں کہ کبھی اسکی زندگی میں کوئی غم نہیں آنے دوں گا۔اسکے پاس آنے والے غموں کو پہلے مجھ سے ٹکرانا ہوگا۔میرے رب میں تیرا شکر گزار ہوں۔”اسنے محسوس کیا کہ وہ جانے لگی ہے اب۔۔تو وہ اُٹھا اور اسکے پیچھے چل دیا۔وہ بنا چاپ پیدا کیے اسکے پیچھے پیچھے چلتا رہا ۔جب وہ اپنے گھر کےاندر داخل ہوگئی تو وہ بھی واپس مسجد چل دیا۔
عرفات نمازِ فجر ادا کر کے گھر لوٹ رہا تھا۔
استنبول کی سڑکوں پر اس وقت ہلکی سی
ٹریفک رواں دواں تھی ۔ اچانک ایک کار تیزی سے
اسی اور آتی ہے اور اگلا منظر بہت خوفناک تھا۔ عرفات اچھلتا ہوا دور گرتا
ہے۔ اسکے ناک، منہ سے خون بہہ رہا تھا۔جسم خون آلود۔۔ وہ کار
چلانے والا جا چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد عرفات کے
اس بے سدھ پڑے وجود کے پاس بہت سے لوگ
مجمعے کی صورت اکٹھے ہوتے گئے۔ انہوں نے
اسے ہسپتال پہنچایا اور ایک نے ہینری کو بھی
اطلاع کی۔ ہینری اپنے بستر پر سو رہا تھا کہ اسکا
فون بجا۔ اور
نیند میں ڈوبی آواز میں “ہیلو” بولا۔مگر مقابل
کی بات سن کے وہ بے اختیار بستر پر اچھلا۔
“کیااا! م، میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔” تھوڑی دیر میں وہ ہسپتال میں موجود
تھا۔ عرفات کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی
کیونکہ اسکی پسلیوں پر دباؤ پڑا تھا اور اندرونی
چوٹیں بھی پہنچیں تھی۔بلیڈنگ بہت زیادہ ہوئی تھی۔ہینری ابتر حالت (بکھرے
بال اور شکن زدہ لباس) میں ہسپتال کے اسی
کمرے کے باہر بیٹھا تھا جسکے اندر عرفات زندگی
اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد
ڈاکٹر کمرے سے باہر آیا اور اس نے عرفات کے
خطرے سے باہر ہونے کی اطلاع دی مگر ساتھ ہی یہ بھی
کہا کہ اسے پانچ دن مزید ہسپتال میں رکھا جائے
گا۔ عرفات پانچ دن ہسپتال میں ایڈمٹ رہا۔
________
ماہِ روح پانچ دن مسلسل مسجد جاتی رہی مگر وہ شخص نہ اسے دیکھنا تھا نہ دیکھا۔وہ روز وہاں سے واپس لوٹنے پر اپنی ڈائری میں” آج بھی وہ نہیں آیا” لکھتی اور رکھ دیتی کیونکہ اس سے آگے لکھنے کی ہمت وہ نہیں کر پاتی تھی۔وہ ڈرتی تھی کہ جو اس نے سوچا ہے ویسا ہو گیا تو۔وہ ڈرتی تھی کہ جسطرح اسکے ماں باپ اسے چھوڑ کر جا چکے تھے۔ویسے ہی” اگر وہ کبھی واپس نہ آیا تو۔۔۔” صحیح معنوں میں وہ خود کو منحوس کہنے سے ڈرتی تھی۔وہ ان پانچ دنوں بہت روئی تھی اپنے گھر کی چھت پر جا کر چاند کو دیکھتی اور رونے لگتی ساتھ ساتھ ڈائری کو سینے سے لگائے اس پر آنسو گراتی۔ آج اسکی آنکھیں شدتِ گریہ سے انتہائی سرخ ہو رہیں تھیں وہ آج بھی چاند کے سامنے ہاتھ میں ڈائری اور قلم لیے بیٹھی تھی۔اس نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔اسکی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کے جال بچھ چکے تھے۔ اور پھر اس نے اپنے دل کی باتوں کو زبان دے ہی ڈالی اس نے اپنی ڈائری پر اپنا حالِ دل لکھ ڈالا۔ہر لفظ لکھنے کے ساتھ ساتھ اسے اس کی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔”وہ اب کبھی نہیں آئے گا” کانپتے ہاتھوں، لرزتے ہونٹوں اور بہتی آنکھوں کے ساتھ اس نے اپنی ڈائری میں یہ آخری جملہ لکھا اور اسکے بعد اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اسکا جسم بے سدھ ہوکر زمین پر گرتا گیا۔
______
آج پانچواں دن تھا عرفات اب بہت بہتر محسوس کر رہا تھا۔ آج ہی اس نے ہاسپٹل سے ڈسچارج بھی ہونا تھا ان دنوں ہینری اسکے سر پر کسی سائے کی طرح موجود رہا۔آدھی رات کو بھی جب عرفات کی آنکھیں کھلتیں تو وہ اسے جاگتا ہوا اپنے ساتھ بیٹھا پاتا۔وہ اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رہا تھا۔وہ گھر جا چکے تھے۔ اور ہینری نے عرفات کو کھانا کھلا کے سلا دیا تھا۔رات عرفات کی آنکھ ایک بجے ہی کھلی۔وہ اٹھا اور مسجد جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اسی وقت ہینری کی بھی آنکھ کھلی۔ہینری اسے اکیلے جانے نہیں دے سکتا تھا سو وہ اور عرفات دونوں آج اکٹھے مسجد گئے تھے۔وہ دونوں وہاں پہنچے اور اس لڑکی کا انتظار کرنے لگے۔ پر وہ وہاں نہیں آئی۔ عرفات کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔وہ نماز ادا کر کے ہینری کے ساتھ ماہِ روح کے گھر کی جانب چل دیا۔ اس نے وہاں پہنچ کر دروازے پر دستک دی مگر دروازے نے نہ کھلنا تھا نہ ہی کھلا۔ چونکہ وہ دونوں ایجنٹ تھے تو انہیں ٹیکنیکس آتی تھیں۔ انہوں نے بڑی آسانی سے لاک کھول دیا اور اندر داخل ہوے انہوں نے باری باری تمام جگہ تلاش کیا مگر انہیں وہ نہ ملی۔عرفات کو سیڑھیاں دکھائی دیں۔ اسے ایک ان دیکھا احساس ہوا اور وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ اوپر جا کر اسے وہ سامنے ہی نظر آگئی تھی ۔ مگر اس کا چہرہ تاریکی میں ہونے کی وجہ سے وہ اسکا چہرہ آج بھی نہیں دیکھ سکا اور نہ ہی وہ دیکھنا چاہتا تھا وہ اسے پاکیزہ ہی رہنے دینا چاہتا تھا کہ اسپر کبھی کسی نامحرم کی نظر نہ پڑے۔ وہ جانتا تھا۔۔وہ اسکا نامحرم ہے۔۔وہ ابھی اسے دیکھنے کا حق نہیں رکھتا تھا۔
اسنے اسے آواز دی مگر وہاں کوئی ہلچل نہ پائی۔اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔اسنے ماہِ روح کی کلائی پکڑی۔ ایک سیکنڈ نہ لگا اسے سمجھنےمیں کہ ماہِ روح کی حالت نازک ہے اگر ابھی اسے ہسپتال نہ لے کر گئے تو وہ اسے کھو دے گا۔اسنےجلدی سے ماہِ روح کو اسکے اسکارف سے کوور کیا اور ہینری کو آواز دی۔ہینری اسکی آواز سن کربھاگا بھاگا اوپر آیا۔عرفات نے پاس پڑی ماہِ روح کی ڈائری اٹھائی اور ماہِ روح کو لیے کار کی طرف بڑھا (عرفات کی خرابیِ صحت کے پیش نظر وہ آج کار پر ہی مسجد گئے تھے)۔تھوڑی دیرمیں وہ ہاسپٹل میں موجود تھے ماہِ روح اندر ایک کمرے میں بہت سی مشینوں میں جکڑی تھی۔عرفات اور ہینری دونوں باہر ہی موجود تھے۔عرفات کے ہاتھوں میں ماہِ روح کی ڈائری تھی۔پہلے تو اسے حیرت ہوئی کہ وہ اس کے والدین کے دوست کی وہی بیٹی ہی جن کے بارے میں وہ اکثر اپنے والدین سے سنا کرتا تھا۔مگر اس ڈائری میں موجود باقی کی قیامتیں پڑھ کر اسے خودکا دل کٹتا محسوس ہوا تھا۔اسنے جلدی سےثمینہ خان کو کال پر سب کچھ بتایا۔انہوں نےاسے ماہِ روح کو لے کر جلد از جلد پاکستان آنے کاکہا۔ اسنے بھی انہیں یقین دلایا کہ جیسے ہی ماہِ روح صحت یاب ہوگی وہ اسے لیکر پاکستان آئےگا۔ ماہِ روح اب خطرے سے باہر تھی ۔ڈاکٹر نےاسے نیند کا انجکشن دیا تھا۔
عرفات ہینری کے ساتھ ماہِ روح کے گھر پہنچا اور اسکا سارا سامان پیک کیا۔اس نے اپنے، ہینری اور ماہِ روح کے لیے ارجنٹ فلائٹ کی ٹکٹس ارینج کیں۔ جوکہ اسکی ایجنسی والوں نے بڑی آسانی سے ارینج کروادی تھیں۔ماہِ روح کو انہوں نے بے ہوش کر رکھا تھا۔ ان دونوں کا بھی مشن مکمل ہو چکا تھا تو عرفات اور ہینری دونوں نے ہی اپنا سامان بھی ساتھ ہی پیک کیا تھا۔
*دو دن بعد*
انہیں پاکستان پہنچے نو گھنٹے ہو چکے تھے۔ ماہِ روح کو ہوش آیا تو اس نے اپنے پاس ایک عورت کو بیٹھے پایا۔اسے پہچاننے میں دیر نہیں لگی تھی کہ یہ وہی تصویر والی عورت ہیں۔”میں کہاں ہوں؟ اور آپ۔۔آپ ثمینہ آنٹی ہیں ناں۔” اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے ان سے پوچھا۔” جی میری پیاری بیٹی میں تمہاری ثمینہ آنٹی ہوں اور تم اسوقت پاکستان میں ہو۔” انہوں نے اسکا ہاتھ چومتے ہوئے کہا۔”تمہیں میرا بیٹا عرفات یہاں لے کر آیا ہے۔وہی مسجد والا لڑکا۔”ثمینہ خان کے بتانے پر وہ بے اختیار ان کے گلے لگ کر رونے لگی۔
“بیٹی تم بالکل میری پیاری دوست سویرا جیسی ہو۔”انہوں نے بھی بھرائی آواز میں اسے گلے لگاتےہوئے بولا۔اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی ۔اسنے اپنا دوپٹہ صحیح سے اوڑھا۔عرفان خان اجازت لے کر اندر داخل ہوئے۔انہوں نے ماہِ روح کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔”کیسی ہیں میری بیٹی؟ “” جی میں بالکل ٹھیک ہوں انکل۔”ماہِ روح نے آنکھ سے نکلے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئےکہا۔” انکل نہیں بابا بولو بیٹی۔آپ جانتی ہو آپ کا نام ماہِ روح میں نے رکھا تھا۔ آپ اگر مجھے اور ثمینہ کو ماما بابا بولو گی تو ہمیں بہت خوشی ہوگی۔” انہوں نے شفقت سے کہا۔” جی بابا۔” اسنے روتے ہوئے ان کے گلے لگ کر کہا۔
تھوڑی دیر بعد عرفان خان جب چلے گئے تو ثمینہ خان نے ماہِ روح کو تمام واقعہ سنایا اور اسے بتایا کہ عرفات اسے کیسے یہاں لایا تھا۔انہوں نے ماہِ روح کو مزید یہ بھی بتایا کہ عرفان خان اور وہ چاہتے ہیں کہ عرفات اور ماہِ روح کا نکاح کر دیاجائے ۔انہوں نے ماہِ روح سے اس کی مرضی پوچھی تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ثمینہ خان جاچکی تھیں۔ ماہِ روح کمرے میں اکیلی بیٹھی رو رہی تھی کیونکہ اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ اسکی زندگی کے اتنے بڑے دن پر اسکے والدین اس کے پاس نہیں ہونگے۔ دروازے پر دستک ہوئی اور فاتحہ اور صالحہ اندر آئیں۔ “السلام علیکم! ہونے والی بھابھی کیسی ہیں آپ؟ ہم دونوں آپکی نندیں ہیں میرا نام فاتحہ ہے اور یہ میری چھوٹی بہن صالحہ ہے۔” آنزہ نے ماہِ روح کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ ماہِ روح آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرا دی۔” ارے تھوڑی دیر بعد ہونے والی بھابھی آپ رو رہی ہیں؟ آپ پریشان نہ ہوں شادی کے بعد اگر بھائی نے کبھی آپ کو تنگ کیا نا تو ہم دونوں ہیں ہم انہیں ٹھیک کر کے رکھ دیں گے۔”صالحہ نے ماہِ روح کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ ماہِ روح صالحہ کی باتیں اور ان عجیب القابات کو سن کر ہنس دی۔” ارے میں تو بھول ہی گئی امی نے ہمیں آپ کو تیار کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ آپ جلدی سے یہ کپڑے لیں اور چینج کر لیں۔”فاتحہ نے سرخ رنگ کا جوڑا ماہِ روح کو تھماتے ہوئے کہا۔ وہ اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی۔
ماہِ روح سرخ جوڑے پر ہلکا سا میک اپ کیے کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اسکا نکاح ہو چکا تھا۔ثمینہ خان نے اسے بتایا تھا کہ رخصتی جب وہ چاہے تب ہوگی۔ ابھی سب باہر جا چکے تھے۔وہ کمرے میں اکیلی تھی۔ ابھی تھوڑی دیر میں عرفات نے اس سے کوئی بات کرنے کے لیے آنا تھا۔اسنے ٹائم دیکھا تو نمازِ عشاء ادا کرنے چل دی۔ وضو کر کے وہ باہر آئی اور اُسی سرخ رنگ کے دوپٹے کا حجاب اوڑھے نماز ادا کرنے لگی۔عرفات نے دروازے پر دستک دی۔ مگر اندر سے کوئی جواب نہ دیا گیا۔ اس نے پھر دستک دی مگر پھر بھی کوئی جواب نہ پاکر اس نے آرام سے دروازہ کھولا اور پھر سے اجازت لی” کیا میں آسکتا ہوں؟” مگر سامنے اُسے نماز پڑھتے دیکھ چپ چاپ آکے صوفے پر بیٹھ گیا۔ ماہِ روح نے جو ہلکا پھلکا میک اپ کر رکھا تھا وہ بھی وضو سے دھل چکا تھا۔مگر اب بھی وہ اس سرخ جوڑے میں بلا کی حسین لگ رہی تھی۔وہ اسے پہلی بار دیکھ رہا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے وہ بغیر تھکے، بغیر رکے اسے یونہی صدیوں دیکھ سکتا تھا۔وہ اسے دیکھے گیا۔
ماہِ روح نے نماز ادا کر لی تھی۔وہ اس وقت عرفات کے سامنے بیڈ پر بیٹھی تھی۔وہ دونوں ابھی خاموش تھے۔”السلام وعلیکم! کیسی ہیں آپ؟” کمرے میں موجود خاموشی کو عرفات کی آواز نے توڑا۔” وعلیکم السلام! جی میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟” ماہِ روح نے مسکرا کر جواب دیا۔”میں بھی ٹھیک ہوں میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔” عرفات بولا۔”جی بولیں میں سن رہی ہوں۔” ماہِ روح نے اپنی انگوٹھی پر انگلی ہھیرتے ہوئے کہا۔” آپ جانتی ہیں میں نے پہلی بار آپ کو اپنے خواب میں دیکھا تھا اور تب میں آپ کو جانتا تک نہیں تھا تب میں نے آپ کی ان خوبصورت نیلی آنکھوں میں خوف غم اور تکلیفیں دیکھی تھیں۔میں نے تب ہی عہد کر لیا تھا کہ جب آپ میری زندگی میں آئیں گی تو میں آپ کی جھولی میں اپنے حصے کی ساری خوشیاں ڈال دوں ۔کبھی بھی آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا۔ جب میں نے آپ کو حقیقت میں دیکھا تھا، تب بھی آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔میں جاننا چاہتا تھا کہ آپ آخر کیوں اتنا روتی ہیں؟ میں نے اپنے رب کے سامنے عہد کیا تھا کہ میں آپ کی ان بہتی آنکھوں کو سکون بخشوں گا۔میں عہد کرتا ہوں کہ کبھی اپنی زبان یا کسی عمل سے آپکو کوئی نقصان نہیں ہونے دونگا۔ آپکو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔آپ کی نیلی آنکھوں میں عرفات خان کا سارا جہاں بستا ہے۔۔یہ جب نم ہوتی ہیں تو میں ختم ہونے لگتا ہوں۔”وہ بول رہا تھا اور ماہِ روح کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ سر جھکائے اسے سن رہی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی اس کیلئے بھی ایسی باتیں کہہ سکتا ہے؟ کوئی اس سے اس قدر محبت کر سکتا ہے؟ اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔ “الحمد ﷲ رب العالمين! اے میرے رب بے شک تو عظمت والا ہے۔میں تیری شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے اتنی محبت کرنے والوں کے درمیان بھیجا۔ مجھے پھر سے ماں باپ جیسی نعمت عطا کی۔اتنی محبت کرنے والا شوہر عطا کیا۔میں تیرا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے۔” وہ دل ہی دل میں ﷲ کے حضور سجدہ ریز ہوئی۔” مجھے اجازت دیں کہ میں آپکو پاکیزہ اور میری ڈریم اینجل کہا کروں۔میں نے آپ سے زیادہ پاکیزہ لڑکی اس دنیا میں اور کہیں نہیں دیکھی۔اور نا آپ کے علاوہ کسی اور کو دیکھنے کا خواہاں ہوں۔”عرفات مزید بولا۔” کیا آپ مجھے اجازت دیں گیں؟ “اسنے سوال دہرایا ۔”ج، جی آپ کہہ سکتے ہیں۔”ماہِ روح نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔” شکریہ اب میں چلتا ہوں۔”وہ اُٹھا کھڑا ہوا۔” سنئیے!” ماہِ روح نے اسے جاتے دیکھا تو پُکارا” جی؟ “وہ پلٹ کر بولا۔” میں آپ کے ساتھ نمازِ شکرانہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔
اگر آپ میرے ساتھ دو نفل نمازِ شکرانہ کے ادا کریں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔” “جی،جی کیوں نہیں مجھے بھی بہت خوشی ہوگی۔”عرفات نے مسکرا کر جواب دیا ۔ان دونوں نے اکٹھے نمازِ شکرانہ ادا کی۔اسکے بعد عرفات چلا گیا۔ اور وہ بھی کھانا کھا کے سونے کیلئے تیاری کرنے لگی۔
*دو سال بعد*
ماہِ روح اور عرفات کو اللہ نے ایک خوبصورت بیٹی عطا کی تھی۔انہوں نے اسکا نام مرجان رکھا تھا۔مرجان کی آنکھیں بھی بالکل ماہِ روح جیسی تھیں۔وہ سب بہت خوش تھے۔ ماہِ روح کی آنکھیں اب کبھی نم نہیں ہوئیں تھیں۔دور آسمان میں ارسلان اور سویرا انہیں دیکھ کر سدا خوش رہنے کی دعائیں دے رہے تھے۔
ختم شد
