ناول کا نام: میرا مقدر میرا اثاثہ
قلم از : ملائکہ مقبول احمد
ہمم۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔ نہیں نہیں میں نے آپ سے کہا تھا ناں کہ جواب میں دو دن تک ہی دوں گا اور ابھی تو صرف ایک دن ہی گزرا ہے۔
ارز ہہن جس نے کانوں میں بلوٹوتھ لگا رکھے تھے اوپر ڈرائنگ روم میں موجودصوفے پر بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر اپنے لیپ ٹاپ پر کسی سے باتیں کرنے میں مگن تھا ۔
چلوزے چلیں بارات جانے میں دو گھنٹے ہی بچے ہیں اور ہمیں ابھی گھر جا کر تیا ر بھی ہونا ہے۔
عکاشہ نے زے اور انوشے سے کہا جو کہ صبح ناشتہ کرنے کے بعد واپس گھر نہیں جا سکیں تھیں ۔
اب گھڑی پر ٹائم دیکھ کر کہہ رہی تھی جہاں سہپر کے ساڑھے چار ہو رہے تھے اور بارات سات بجے گھر سے نکلنی تھی۔
ہاں چلو – زے نے جب گھڑی دیکھی تب اُسے احساس ہوا کہ وہ کاموں میں اتنی زیادہ اُلجھ گئی تھیں کہ انھیں وقت کا حساب ہی نہیں رہا۔
یار آج تو ظہر اور عصر کی نماز بھی رہ گئی ۔ اور ہو سکتا ہے کہ مغرب اور عشاء کی بھی رہ جائے ۔
زے نے انتہائی پریشان لہجے میں کہا تو عکاشہ نے بھی اسکا ساتھ دیا ۔
یہ بات وہ تب کہہ رہیں تھیں جب وہ تینوں ولیم کے گھر سے نکل کر اپنے گھر جا رہیں تھیں۔
گھر میں کوئی آیا ہے کیا ؟ زے جو کہ باقی دونوں سے آگے تھی گیٹ کا دروازہ کھلا دیکھ رکی اور پھر پیچھے مڑ کر ان دونوں کو دیکھا ۔
پتہ نہیں — عکاشہ نے آگے بڑھ کر کہا –
زائشان آیا ہوگا ویسے ہی عقل پوری پوری ہے ہمارے پاس ۔
زے نے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
اور انوشے اس کی اس بات پر ذرا مسکرائی –
کیا ہوا ؟ عکاشہ نے اُسے مسکراتے ہوئے دیکھ کر پوچھا ۔
کچھ نہیں ۔ انوشے نے بھی اندر داخل ہو کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
اچھا میں بھی اب اوپر جا رہی ہوں تھوڑی دیر آرام کروں گی اور پھر تیار ہونے کا سوچوں گی۔
زے نے انوشے اور عکاشہ سے کہا جو کہ اپنے کمرے میں جا رہیں تھیں۔
اگر تم چاہو تو کچھ دیر ہمارے پاس رک سکتی ہو –
عکاشہ نے اپنے کمرے کے سامنے موجود پلر کو پکڑ کر کہا ۔
اممم نہیں ۔ اب میں تھوڑی دیر جا کر لیٹوں گی اور پھر –۔۔
زے ، عکاشہ جلدی سے رشید چچا کے گھر چلو –
زائشان جو کہ جلدی جلدی میں اُنھیں آپی کہنا بھول گیا تھا اُس نے گھبراہٹ میں اُن سے کہا۔
کیوں کیا ہوا ؟ اُن دونوں نے بیک وقت اُسے دیکھ کر پوچھا ۔
اُن کے اِس طرح پوچھنے پر انوشے جو کہ ابھی اندر جا کر بیڈ پر بیٹھی ہی تھی وہ بھی باہر نکل آئی ۔
وہ رشید چچا ۔۔۔۔میرا مطلب کے آپی ہالہ رو رہی ہے ۔
زائشان نے انوشے کو باہر نکلتے دیکھ کہا۔
کیا پر کیوں ؟ اور کیا ہوا ؟
زے نے زائشان کی طرف بڑھ کر پوچھا جو کہ تقریباً اوپر کی طرف جانے والی سیڑھیاں چڑھنے ہی والی تھی ۔
وہ آپی پتہ نہیں مجھے تو رحیم نے آکر بتایا اور میں آپ کو بتانے کے لئے آگیا ۔
رحیم اُن کی بڑی پھوپھو ثریا کا بیٹا تھا جو کہ زائشان کا ہی ہم عمر تھا ۔
ہمیں چلنا چاہیے کیا ؟ زے نے اپنا ایک ہاتھ اپنی کمر پر اور دوسرے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کیا اور عکاشہ سے پوچھا ۔
چاہیے کیا چلو – انوشے جو کہ اُن دونوں کے پیچھے کھڑی تھی اب اُن دونوں سے آگے ہو کر ز ائشان کی طرف بڑھی۔
ہممم — چلو – زے اور عکاشہ نے دوبارہ سے اپنے چہروں پر نقاب کر کے کہا ۔ –
یہ ضروری ہے کیا یہاں سے وہاں ہی تو جانا ہے انوشے نے اُن دونوں سے کہا جو کہ دروازے سے باہر ہی نکلنے والی تھی ۔
ابھی بحث کا وقت نہیں ہے چلیں ۔۔
زے نے اس کی بات کو نظر انداز کر کے گلی کی دوسری طرف موجود گھر کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
جہاں بارات کے جانے کا انتظار کرتے ہوئے کچھ بزرگ بیٹھے تھے ۔
ارے میں تو ان لوگوں سے تنگ آگیا ہوں۔ میرا بس چلے تو میں انھیں چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں ۔
جب وہ تینوں گھر میں داخل ہو ئیں تو اُن کے چچا کی آواز اُن کے کانوں میں پڑی اور زے اور عکاشہ وہیں رک گئیں ۔
کیا ہوا ؟ اور رک کیوں گئی؟چلو بھی اب اور یہ کون ہے؟جو اتنی بلند آواز میں ایسی بات کر رہا ہے ۔
انوشے نے عکاشہ اور زے کور کے دیکھا تو اُن کے درمیان میں ہو کر دونوں کے بازوں میں اپنا بازو ڈال کر آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
انو شے تم پلیز واپس گھر جاؤ ۔ عکاشہ نے دوبارہ رک کر کہا۔
کیوں ؟ کچھ نہیں ہوگا چلو تم — انوشے نے اُن دونوں کو کھینچ کر آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
کیونکہ مہمان کافی زیادہ تھے اور وہ اُن دو گھروں میں ہی وہ رہے تھے اس لیے وہ دونوں اور بھی زیادہ پریشان تھیں ۔
لیکن خوش قسمتی سے اس وقت گھر میں کوئی مہمان موجود نہیں تھا ۔
زے اور عکاشہ انوشے کے ساتھ وہاں پہنچیں جہاں اُس کے ابو اور امی اور سفیان موجود تھے ۔
ماما بابا ۔۔۔عکاشہ نے اپنے والدین کو آواز دی۔
تم لوگ یہاں کیوں آئی ہو؟ عظیم نے اُن تینوں کو وہاں دیکھ کر پوچھا۔
وہ ہمیں زائشان نے بتایا تھا کہ ہالہ — اس سے پہلے کہ انوشے اپنی بات پوری کرتی زے اور عکاشہ نے
بیک وقت اُس کے ہاتھ دبا دیا ۔
آہہہ– انوشے درد سے کرائی ۔
کیا ہوا ؟
سفیان نے فوراً اس سے پوچھا ۔
کک۔۔۔۔کک۔۔ کچھ نہیں ماموں ہالہ کہاں ہے دکھائی نہیں دے رہی؟
زے نے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا ۔
وہ اپنے کمرے میں ہے باقیوں کے ساتھ انیسہ نے زے کو بتایا اور پھر اُسے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔
وہاں اُس وقت اس کے ماموں ، ماما، والد ، رشید سعیدہ، ابلاج ، صریم یعنی اُس کے دوسرے چچا، رخسار اُس کی بیوی اور اُس کی دونوں پھو پھو یعنی ثریا اور سدرہ موجود تھیں ۔
اُنہیں دیکھ زے اور عکاشہ کو کچھ کھٹکا اور اُن دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر نہیں میں سر ہلایا۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔
انہیں ایسے کہتے سن کر انوشے نے اُن دونوں کی طرف دیکھا۔
کیا نہیں ہو سکتا ؟ انوشے نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اُن دونوں سے پوچھا ۔
اممم۔۔۔۔کچھ نہیں زے نے نفی میں سر ہلا کر کہا اور پھر کمرے میں داخل ہوئی ۔
ہا لہ ۔۔۔۔اسے کیا ہوا؟ یہ رو کیوں رہی ہے ؟ اور تم سب یہاں کیا کر رہے ہو ؟
عکاشہ نے آگے بڑھ کر ہالہ کو گلے لگایا اور زے نے وہاں موجود اپنے باقی کزنز اور زائشان کو دیکھ کر پوچھا ۔
پتہ نہیں ہم سب تو چچا سے ملنے کے لئے آئے تھے اور پھر سب بڑوں نے ہمیں اندر بھیج دیا اور تم دونوں ہی باقی بچی تھی اب تم بھی آ گئی ہو تو خود ہی پوچھ لو۔؟
کیونکہ ہمیں تو یہ کچھ بتا نہیں رہی ۔ مہک جو کہ عمل کی بہن تھی اب کے سے کہہ رہی تھی ۔
تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔۔
ابیہا تم تو کچھ بتاؤں ۔ ابیہا جو کہ بیڈ کے ایک کونے پر بیٹھی تھی زنے کے ہلانے پر ہڑ بڑائی –
میں ۔۔۔ میں کیا بتاؤں ۔
اسے ہی تو ہالہ نے بتایا ہے اور تب سے یہ دونوں ایسے بیٹھی ہیں ۔
اب کی بار اقراء جو کہ ابیہا کی چھوٹی بہن تھی اُس نے کہا ۔
ہالہ کچھ بتاؤں ۔۔۔ ہوا کیا ہے جو تم رو رہی ہو ؟ زے نے بھی اب اُس کے برابر بیٹھ کر پو چھا کہ اتنی دیر میں انیسہ کمرے میں آگئی –
بچوں آپ سب کو باہر بلا رہے ہیں ۔ اُس نے باقی سب کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
چلو ہالہ ز ے نے اُسےاُٹھاتے ہوئے کہا ۔ تم لوگوں کو نہیں ۔
زائشاان تم ایسا کرو کے انوشے اور آکف کو گھر چھوڑ کر آجاؤ پھر بات کریں گئے ۔
باقی سب جب کمر ے سے جار ہے تھے تو انیسہ نے وہاں کھڑے آکف کو دیکھ کر کہا ۔
نہیں پھو پھو میں یہی ٹھیک ہوں اور آپ سب کے ساتھ ہی گھر جانا چاہتی ہوں ۔
پر اگر آپ نہیں چاہتی تو میں چلی جاتی ہوں۔
انوشے کا جوشیلہ انداز سفیان کو اندر آتے دیکھ دھیما پڑ گیا۔
نہیں کوئی بات نہیں تو تم پھر ایسا کرو کہ آکف کو لے کر گھر چلے جاؤ۔
انیسہ نے آکف اور زائشان سے کہا۔
جی ماما – زائشاان نے آکف کو ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور پھر آگے بڑھ گیا۔
وہاں موجود باقی تمام لوگ سوائے عظیم ، رشید ، سعید، سفیان ، مریم اور ابلاج کے وہاں سے جاچکے تھے ۔
پیلو برو — یہ یہاں کیا ہو رہا تھا آلف نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
ارے یار ہمارے ہاں جب کوئی خاندانی کا نفرس ہونی ہو ناں ۔۔۔تو تب ایسے ہی ہوتا ہے۔
زائشان نے گھر میں داخل ہوتے ہوۓ اسے بتایا ۔
کیا مطلب؟ آکف نے ناسمجھ آنے والے انداز میں زائشان سے پوچھا ۔
کچھ نہیں چلو ہم لوگ شام کے لیے تیار ہو جائیں۔
پانچ بج چکے ہیں اور بارات سات بجے تک نکلے گی ۔ زائشان نے آکف کو اپنے ساتھ اوپر لے جاتےہوئے کہا ۔
اوہاں چلو ان سب باتوں میں تو میں شام کے فنکشن کو تو بھول ہی گیا تھا۔
ماما یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ عکاشہ نے اُن دونوں کے وہاں سے جانے کے فوراً بعد پوچھا ۔
باقی آئندہ شمارے میں ۔انشاءاللہ
