Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 9…

محبت عبادت قسط نمبر:۹ 

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

لوگوں کی نظر میں قیسن ایک بگڑا ہوا، ضدی اور لاپرواہ لڑکا تھا، مگر اس کی ایک حقیقت ایسی تھی جس سے دنیا واقف نہ تھی۔ ہر چار مہینے بعد، قیسن شہر کے ایک چھوٹے سے یتیم خانے پہنچ جاتا تھا۔
آج بھی وہ اپنی گاڑی کھلونوں، کپڑوں اور مٹھائیوں سے بھر کر وہاں پہنچا۔ جیسے ہی اس کی گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی، بچوں کا ایک ہجوم “قیسن بھائی! قیسن بھائی!” پکارتا ہوا اس کی طرف لپکا۔ وہ شوخ اور چنچل قیسن یہاں آ کر بالکل بدل جاتا تھا۔
اوئے عثمان! یہ دیکھو تمہارا بیٹ مین والا سوٹ،” اس نے ایک چھوٹے بچے کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا۔ وہ بچوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر لڈو کھیلتا، انہیں کہانیاں سناتا اور ان کے ساتھ کرکٹ کھیلتا۔ ایک چھوٹا بچہ اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھ کر بولا، “بھائی! آپ کی آنکھیں اتنی پیاری کیوں ہیں؟”
قیسن ہنسا اور اس کی ناک کھینچ کر بولا، “تاکہ میں تم جیسے شرارتی بچوں کو دور سے پہچان سکوں!” وہ ان بچوں کے درمیان اپنی ساری اداسی بھول جاتا۔ اس کا یہ رحمدل روپ اس کی روح کا وہ حصہ تھا جسے اس نے دنیا کی تلخیوں سے بچا کر رکھا ہوا تھا۔ یہاں اسے کوئی علی مصطفیٰ سے موازنہ کرنے والا نہیں تھا، یہاں وہ صرف ان بچوں کا ہیرو تھا۔

اسلام آباد میں رحال کا دن خاموشی سے گزر رہا تھا۔ اس نے صبح سے اپنی میڈیکل کی مشکل اسائنمنٹس پر کام کیا تھا، اس کے کمرے میں کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ دوپہر کے وقت جب اس کا کام ختم ہوا، تو وہ لاؤنج میں آئی۔
سلیماں بیگم کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ رحال نے چپ چاپ اپنی آستینیں چڑھائیں اور اپنی ماں کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ “امی! لائیں پیاز میں کاٹ دیتی ہوں۔”
ارے نہیں بیٹا، تم تھک گئی ہوگی پڑھ پڑھ کر، جاؤ آرام کرو،” سلیماں بیگم نے پیار سے کہا۔
نہیں امی، کام کرنے سے میرا ذہن فریش ہو جاتا ہے،” رحال نے مسکرا کر پیاز اٹھا لیے۔ اس نے کچن کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں اپنی ماں کی مدد کی، برتن سمیٹے اور پھر سب کے لیے چائے بنائی۔ رحال کی شخصیت میں وہ ٹھہراؤ تھا جو پورے گھر کو سکون دیتا تھا۔ وہ جتنی ذہین اسٹوڈنٹ تھی، اتنی ہی سلیقہ مند بیٹی بھی تھی۔ کام کے دوران اس کا ذہن کبھی کبھار علی کی طرف چلا جاتا، مگر وہ فوراً خود کو کسی نہ کسی کام میں الجھا لیتی۔

لاہور کے ایک مہنگے کاروباری علاقے میں واقع ” پرفیومز” کی فلک بوس عمارت آج کل بے حد مصروف تھی۔ علی مصطفیٰ اپنے آفس میں

بیٹھا تھا جہاں دیواریں شیشے کی تھیں اور وہاں سے پورا لاہور نظر آتا تھا۔ آفس کی فضا میں طرح طرح کی قیمتی خوشبوؤں کا ایک ہلکا سا امتزاج ہمیشہ رہتا تھا۔
ہانیہ فائلیں لے کر اندر آئی۔ “سر! لیبارٹری سے نئی خوشبو کے نمونے (Samples) آ گئے ہیں۔ وہ آپ کے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔”
علی اپنی کرسی سے اٹھا اور لیب کی طرف چل پڑا۔ وہاں سفید کوٹ پہنے ماہرین کیمیکلز اور پھولوں کے عرق کے ساتھ تجربات کر رہے تھے۔ علی نے ایک چھوٹی سی شیشی اٹھائی، اسے ایک خاص کاغذ پر چھڑکا اور چند لمحے خاموشی سے اسے سونگھا۔ اس کی گھاہری نظریں اور حساس ناک فوراً پہچان لیتی تھی کہ کون سی خوشبو مارکیٹ میں راج کرے گی۔
“اس میں صندل کی مقدار تھوڑی زیادہ کرو، یہ ابھی بہت زیادہ تیز (Sharp) ہے،” علی نے سپاٹ لہجے میں ہدایت دی۔ “ہمیں وہ خوشبو چاہیے جو دیرپا ہو مگر روح کو بوجھل نہ کرے۔”
واپس آفس آ کر اس نے مارکیٹنگ ٹیم کے ساتھ میٹنگ کی۔ اسکرین پر ‘رحال’ پرفیوم کے نئے اشتہارات چل رہے تھے۔ علی نے ایک ایک فریم کو غور سے دیکھا۔ وہ صرف ایک بزنس مین نہیں تھا، وہ ایک پرفیکشنسٹ تھا۔ ہانیہ نے نوٹ کیا کہ جب بھی اسکرین پر ‘رحال’ کا نام آتا، علی کے چہرے کی سختی تھوڑی کم ہو جاتی۔ وہ سارا دن مینوفیکچرنگ یونٹ سے لے کر پیکیجنگ ڈیپارٹمنٹ تک کے چکر لگاتا رہا، کیونکہ اس کے لیے یہ کمپنی صرف پیسہ بنانے کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ اس کے خوابوں کی تعبیر تھی۔۔۔۔۔

لاہور کی مصروف شاہراہ پر واقع ” (ALIHAL) پرفیومز کا صدر دفتر محض ایک عمارت نہیں، بلکہ علی مصطفیٰ کے خوابوں کی تعبیر تھا۔ پچیس منزلہ یہ ٹاور شیشے اور فولاد کا ایک ایسا امتزاج تھا جو جدیدیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جمعہ کا دن تھا، اور لاہور کی فضاؤں میں ایک عجیب سی خنکی اور سکون رچا بسا تھا۔ علی مصطفیٰ، جو اپنے کام کے حوالے سے بے حد حساس اور نفاست پسند مشہور تھا، آج صبح ساڑھے آٹھ بجے ہی آفس پہنچ چکا تھا۔..
اس نے سفید کلف لگی قمیض کے ساتھ گہرے نیلے رنگ کی پینٹ زیب تن کر رکھی تھی۔ اس کے جوتے اس قدر چمک رہے تھے کہ ان میں انسان اپنا عکس دیکھ لے۔ وہ اپنے وسیع و عریض کیبن میں داخل ہوا، جہاں کی دیواریں شیشے کی تھیں اور وہاں سے پورا لاہور ایک کھلونے کی مانند نظر آتا تھا۔ اس کی میز پر صندل کی لکڑی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا رکھا تھا جس کی مہک پورے کمرے کو معطر کیے ہوئے تھی۔
ہانیہ، جو اس کی پرسنل مینیجر اور دستِ راست تھی، دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں آئی پیڈ اور کچھ فائلیں تھیں۔ “گڈ مارننگ سر! آج کا شیڈول کافی مصروف ہے۔”
علی نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سر ہلایا اور پھر مڑ کر ہانیہ کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک تھی۔ “ہانیہ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کل سے پوری کمپنی میں ‘رینوویشن’ (تزئین و آرائش) کا کام شروع کر دیا جائے۔”
ہانیہ کے ہاتھ سے فائل گرتے گرتے بچی۔ “لیکن سر! ابھی پچھلے سال ہی تو ہم نے پورے آفس کا انٹیریئر ڈیزائن بدلوایا تھا اور اٹلی سے نیا فرنیچر منگوایا تھا۔ ابھی سے دوبارہ کیوں؟ اسٹاف کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔”
علی اپنی میز کے پاس آیا اور ایک نقشہ پھیلاتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے بولا: “ہانیہ، نفاست صرف ظاہری سجاوٹ کا نام نہیں ہے۔ کل رات جب میں یہاں سے جا رہا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ مین کوریڈور کی چھت سے، جہاں سے اے سی کی مرکزی لائن گزر رہی ہے، وہاں سے پانی کا رساؤ شروع ہو گیا ہے۔ ابھی تو یہ صرف چند قطرے ہیں، لیکن تم جانتی ہو کہ آگے مون سون کا سیزن آ رہا ہے اور اس کے فوراً بعد کڑی سردی شروع ہو جائے گی۔ اگر اب ہم نے یہ پائپ لائنز اور چھت درست نہ کروائی تو نمی پوری دیواروں میں سرایت کر جائے گی۔ میرا عطر دنیا کی بہترین خوشبوؤں میں شمار ہوتا ہے، میں نہیں چاہتا کہ اس عمارت میں نمی کی بو آئے۔”
ہانیہ خاموش ہو گئی، وہ جانتی تھی کہ جب علی کسی منطقی نکتے پر بات کرتا ہے تو اسے ہٹانا ناممکن ہے۔ “جی سر، آپ درست کہہ رہے ہیں۔ میں آج ہی کنٹریکٹرز کو فائنل کرتی ہوں۔”
گیارہ بجے کے قریب علی خود آفس کے ہال میں نکل آیا۔ وہاں موجود تقریباً سو کے قریب ملازمین اپنے اپنے کمپیوٹرز پر مصروف تھے۔ علی کی آمد پر ایک دم خاموشی چھا گئی۔ اس کی شخصیت کا رعب ہی ایسا تھا کہ لوگ خود بخود متوجہ ہو جاتے تھے۔
“توجہ فرمائیں!” علی کی گرجدار آواز گونجی۔ “کل صبح سے اس فلور پر تعمیراتی کام شروع ہو رہا ہے۔ چھتوں کی مرمت، پائپ لائنز کی تبدیلی اور نیا پینٹ ہونا ہے۔ ہمیں بزنس روکنا نہیں ہے، اس لیے آج چھٹی سے پہلے آپ سب کا ہدف یہ ہے کہ اپنی اپنی میزیں، کرسیاں اور تمام ضروری فائلیں ہال کے مشرقی حصے میں عارضی طور پر منتقل کر دیں۔ کمپیوٹرز کو پلاسٹک کی بڑی شیٹس سے ڈھانپ دیں تاکہ دھول مٹی سے ہارڈویئر خراب نہ ہو۔ ہانیہ آپ کو گائیڈ کریں گی کہ کس ونگ کو پہلے خالی کرنا ہے۔”
اگلے چند گھنٹوں میں “علی حال” پرفیومز کا نقشہ ہی بدل گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی بڑا میلہ لگنے والا ہو۔ ہانیہ ہر ڈیسک پر جا کر ہدایات دے رہی تھی۔ “احمد! یہ پرفیوم کے سیمپلز محفوظ الماری میں رکھیں۔ سارہ! اپنی فائلیں کارٹن میں پیک کر کے لیبل لگا دیں۔”
علی خود بھی وہاں موجود رہا۔ وہ کسی باس کی طرح صرف حکم نہیں دے رہا تھا، بلکہ خود بھی چیزوں کا معائنہ کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک جونیئر اسٹاف ممبر بھاری میز اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے تو اس نے فوراً دوسرے لڑکے کو اشارہ کیا کہ اس کی مدد کرے۔ شام تک پورا آفس ایک اسٹور روم کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں ہر چیز ترتیب سے ڈھانپ دی گئی تھی۔

ہفتے کی صبح جب سورج نکلا تو کمپنی کے باہر ٹرکوں اور مزدوروں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ کنٹریکٹرز اپنے نقشے لیے کھڑے تھے۔ علی، جو کام کا جنونی تھا، صبح سویرے ہی وہاں پہنچ گیا۔ اس کے اپنے آفس سے کام شروع کیا گیا تھا۔ چھت کے پینل اتارے جا رہے تھے اور پائپوں کی مرمت کا سامان کوریڈور میں بکھرا ہوا تھا۔
شور اور دھول سے بچنے کے لیے علی نے کمپنی کے عقب میں بنے ہوئے ایک چھوٹے سے “اسٹڈی روم”کو اپنا عارضی دفتر بنا لیا۔ یہ کمرہ قدیم لکڑی کی الماریوں اور ہزاروں کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں کی فضا میں پرانے کاغذوں اور علی کے پرسنل پرفیوم کی ملی جلی خوشبو تھی۔ علی نے وہاں اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور نئے فارمولوں پر کام شروع کر دیا۔
تھوڑی دیر بعد ہانیہ دستک دے کر اندر آئی۔ “سر! رینوویشن کا کام تیزی سے جاری ہے۔ آپ کے کمرے کی سیلنگ کا کام شام تک مکمل ہو جائے گا۔ یہ کچھ نئے خوشبوؤں کے پروٹوکولز ہیں، ان پر آپ کے دستخط چاہیے تھے۔”
علی نے فائل لی اور باریک بینی سے ایک ایک لفظ پڑھا۔ وہ ہر کام میں پرفیکشن چاہتا تھا۔ “ہانیہ، ان میں ‘مشکِ خالص’ کی مقدار تھوڑی کم کرو، یہ بہت زیادہ شارپ ہو رہا ہے۔”
بارہ بجے کے قریب ہانیہ نے اپنی ڈائری کھولی۔ “سر! آپ کو یاد ہوگا کہ آج عبدالرحمان صاحب کے ساتھ آپ کی میٹنگ ہے۔ آپ ان کی ٹیکسٹائل کمپنی میں تیس فیصد کے شیئر ہولڈر ہیں اور وہ نئے ایکسپورٹ آرڈرز کے حوالے سے آپ کی رائے لینا چاہتے ہیں۔”
علی نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ “اوہ ہانیہ! تم دیکھ رہی ہو یہاں کتنا شور ہے، مزدوروں کی ڈرلنگ کی آوازیں براہِ راست یہاں آ رہی ہیں۔ میرا دماغ بالکل سن ہو رہا ہے۔ میٹنگ کینسل کر دو۔”
ہانیہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا، “سر! عبدالرحمان صاحب پچھلے دو ہفتوں سے اس میٹنگ کا کہہ رہے ہیں۔ وہ خود یہاں آنے والے تھے، لیکن میں نے انہیں فون کر کے روکا ہے کہ یہاں کنسٹرکشن ہو رہی ہے، تو وہ برا مان گئے ہیں۔”
علی نے کچھ لمحے سوچا اور پھر سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے، بزنس میں اخلاقیات سب سے پہلے ہیں۔ انہیں کینسل مت کرو، بلکہ انہیں کہو کہ ہم آفس کے بجائے کسی پرسکون ‘کیفے’ میں مل لیتے ہیں۔ وہاں لنچ بھی ہو جائے گا اور کام کی بات بھی۔”
ہانیہ نے فوراً ‘دی بلیو کیفے’ میں ٹیبل بک کروائی۔ تھوڑی دیر بعد علی اور ہانیہ اس کی سیاہ مرسیڈیز میں سوار تھے۔ لاہور کی سڑکوں پر جمعہ کے بعد کا ٹریفک عروج پر تھی علی خود ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ ہانیہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ کر اسے میٹنگ کے اہم نکات سمجھا رہی تھی۔
“سر! عبدالرحمان صاحب نئے پلانٹ کے لیے بینک سے لون لینا چاہتے ہیں اور وہ آپ کی گارنٹی مانگیں گے۔ ہمیں ان کے پچھلے چھ ماہ کے گراف دیکھنے ہوں گے کیونکہ ان کی سیلز تھوڑی گری ہے۔”
علی نے اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے جواب دیا، “ہانیہ، عبدالرحمان ایک پرانے اسکول کا بزنس مین ہے۔ وہ محنتی ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی سے گھبراتا ہے۔ میں اسے گارنٹی تو دے دوں گا، لیکن اس شرط پر کہ وہ اپنی پروڈکشن لائن کو ڈیجیٹلائز کرے۔”
کیفے میں عبدالرحمان صاحب پہلے ہی سے موجود تھے۔ وہ ایک منجھے ہوئے تاجر تھے جن کی داڑھی سفید ہو چکی تھی مگر ان کی آنکھوں میں اب بھی وہی پرانی چمک تھی۔ علی نے نہایت احترام سے ان کا استقبال کیا۔ وہاں دو گھنٹے تک طویل بحث چلی۔ علی نے بہت مہارت سے انہیں قائل کیا کہ کس طرح وہ اپنے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔ میٹنگ کے دوران علی کی ذہانت اور دور اندیشی دیکھ کر عبدالرحمان حیران رہ گئے۔
میٹنگ ختم ہوئی تو سورج ڈھلنے لگا تھا۔ علی اور ہانیہ واپس گاڑی میں آ کر بیٹھے۔ علی نے لمبا سانس لیا اور ٹیک لگا لی۔ ہانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “سر! آپ نے کمال کر دیا۔ لیکن مجھے نہیں لگتا تھا کہ وہ اپنی پرانی مشینوں کو بدلنے پر راضی ہوں گے۔”
علی نے گاڑی اسٹارٹ کی اور دھیرے سے بولا، “لوگوں کو بدلنا مشکل نہیں ہوتا ہانیہ، بس انہیں یہ دکھانا ہوتا ہے کہ تبدیلی میں ان کا فائدہ کتنا ہے۔ چلو، اب واپس چلتے ہیں، دیکھنا ہے کہ آفس کا کیا حال کیا ہے ان لوگوں نے۔”
واپس پہنچ کر علی نے دیکھا کہ کوریڈور کی چھت کا بیشتر حصہ مرمت ہو چکا تھا اور پینٹرز نے پہلا کوٹ شروع کر دیا تھا۔ علی نے اطمینان کا اظہار کیا اور دوبارہ اپنے اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا، کیونکہ اس کے لیے کام ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا سکون تھا۔

رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک کی آوازیں اب مدھم پڑ چکی تھیں۔.گھر کے پورچ میں جب معراج کی گاڑی داخل ہوئی، تو اس کی ہیڈلائٹس کی روشنی نے برآمدے میں رکھے گملوں کو ایک لمحے کے لیے روشن کیا۔ گاڑی بند ہوئی، اور کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ معراج گاڑی کے اندر ہی بیٹھی رہی، اس کا سر اسٹیئرنگ پر تھا اور ذہن میں بیکری کی وہ تمام ہنگامہ خیزیاں، برہان کی شرارتیں اور گاہکوں کی شکایات گھوم رہی تھیں۔
وہ گاڑی سے اتری اور بوجھل قدموں سے گھر کے اندر داخل ہوئی۔ اس کی کالی ہیل کی آواز فرش پر اب تھوڑی دھیمی تھی، جیسے وہ خود بھی تھک چکی ہو۔ جیسے ہی وہ لاؤنج میں پہنچی، رحال وہاں صوفے پر بیٹھی ایک میڈیکل جرنل پڑھ رہی تھی، مگر اس کا دھیان کتاب سے زیادہ دیوار پر لگی گھڑی کی طرف تھا۔
“آ گئیں تم؟” رحال نے کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔
معراج نے اپنا بیگ صوفے پر پھینکا اور خود بھی وہیں ڈھیر ہو گئی۔ “ہاں آج تو جیسے ہڈیوں کا کچومر نکل گیا ہے۔ سچ کہوں تو دماغ سن ہو گیا ہے۔”
تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ آج کا دن کافی ‘ایکشن’ والا رہا ہے۔ چلو، ہاتھ منہ دھو لو، امی اور پاپا کھانے کی میز پر ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔”

کھانے کے کمرے میں فضا پرسکون تھی۔ فرحان صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے کوئی خبر پڑھ رہے تھے جبکہ سلیماں بیگم برتن ترتیب دے رہی تھیں۔ جیسے ہی دونوں بہنیں میز پر بیٹھیں، گھر کی رونق لوٹ آئی۔
معراج بیٹا! آج تم نے دیر کر دی؟” فرحان صاحب نے چشمے کے پیچھے سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“پاپا! وہ بیکری میں آج کچھ نئے آرڈرز تھے
تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلا،” معراج نے قورمے کی پلیٹ اپنی طرف بڑھاتے ہوئے جواب دیا۔
سلمان اور عثمان، جو پہلے ہی کھانے پر ٹوٹ پڑے تھے، ہنس کر بولے۔ ” مینیجر بننا اتنا آسان نہیں ہوتا۔
معراج نے انہیں گھور کر دیکھا،
میں سنبھال دوں گی سب کچھ آپ فکر نہ کریں دونوں ۔۔
باتیں ادھر ادھر گھومتی رہیں، یہاں تک کہ فرحان صاحب نے اچانک وہ تذکرہ کر دیا جس کا خوف رحال کو ہمیشہ رہتا تھا۔
فرحان صاحب نے لقمہ توڑتے ہوئے کہا۔ “علی مصطفیٰ سے بات ہوئی۔ سوچا اُس کا حال پوچھ لوں ۔۔وہ بتا رہا تھا کہ اس کی کمپنی ‘ میں رینوویشن کا کام شروع ہو گیا ہے۔ لڑکا بہت محنتی ہے۔
اتنے بڑے بزنس کو سنبھالنا اور ہر چیز میں خود دلچسپی لینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔”
یہ نام سنتے ہی جیسے کمرے کی فضا ایک دم ساکت ہو گئی۔ رحال کے ہاتھ میں پکڑا چمچ پلیٹ سے ٹکرایا اور ایک دھاتی آواز گونجی۔ اس نے فوراً نظریں جھکا لیں،
علی تو واقعی کمال کا ہے،” سلیماں بیگم نے تائید کی۔ “اس نے وہ نیا پرفیوم نکالا ہے نا۔۔۔ ! کیا نام تھا اس کا؟ ہاں، ‘Rihaal’ پرفیوم۔ پورے ملک میں اسی کی دھوم ہے۔ اس نے یہ نام کیوں رکھا ہوگا؟” انہوں نے معصومیت سے رحال کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ جیسے وہ اُس کو تنگ کرنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔
رحال کو لگا جیسے اس کا سانس سینے میں اٹک گیا ہو۔ اسے وہ پرفیوم کی بوتل یاد آئی جو اس کے کمرے کی دراز میں چھپی پڑی تھی۔ اسے وہ نوٹ یاد آیا جو علی نے بھیجا تھا۔ اس نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو پایا۔
مجھے کیا پتہ امی۔۔۔ شاید ان کو یہ نام اچھا لگا ہو،” رحال نے بہت دھیمے اور لرزتے لہجے میں کہا
ریحال نے فوراً اپنا گلاس اٹھایا اور پانی پینے لگی تاکہ اسے کچھ کہنا نہ پڑے۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔محبت دل پر ڈیرہ جما رہی تھی۔۔۔
کھانے کے بعد دونوں بہنیں اپنے کمرے میں آ گئیں۔

رات کی سیاہی گہری ہو چکی تھی، مگر کمرے کے اندر کا درجہ حرارت معراج کی تلخ باتوں اور حسد کی آگ سے تپ رہا تھا۔ معراج جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تھکی ہاری آئی تھی، اب علی مصطفیٰ کا نام سنتے ہی ایک دم مستعد ہو گئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ پرانی چمک لوٹ آئی تھی، مگر یہ چمک محبت کی نہیں بلکہ ایک جنونی ضد کی تھی۔
رحال جو خاموشی سے معراج کی حالت دیکھ رہی تھی، اب خود کو روک نہ سکی۔ اس نے بہت دھیمے اور سلجھے ہوئے لہجے میں پوچھا، “معراج، ایک بات تو بتاؤ۔۔۔ تم علی کو پسند کیوں کرتی ہو؟
یہ سوال سننا تھا کہ معراج کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے اپنے بال پیچھے جھٹکے اور کرسی پر تیکھے تیوروں کے ساتھ بیٹھ گئی۔
“کیوں پسند کرتی ہوں؟” معراج کی آواز میں کاٹ تھی۔ “رحال، تم یہ سوال مجھ سے پوچھ رہی ہو؟ علی مصطفیٰ وہ نام ہے جسے پانا ایک اعزاز ہے۔ وہ طاقت ہے، وہ وقار ہے، اور سب سے بڑی بات۔۔۔ وہ ‘علی مصطفیٰ’ ہے۔ میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں گی تو دنیا مجھے دیکھے گی
میں اسے کسی اور کے ساتھ بٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، خاص طور پر تمہارے ساتھ تو بالکل نہیں۔”
معراج کی آنکھوں میں جیسے انگارے دہکنے لگے۔ وہ اٹھی اور رحال کے بالکل قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کا لہجہ اب مزید زہریلا ہو گیا تھا۔
اور تم؟ تم جو اتنی معصوم بنتی ہو، تم بھی تو علی کو پسند کرتی ہو نا؟ کیوں چھپاتی ہو؟ تمہاری خاموشی، تمہارا یہ بار بار اس کا نام سن کر رنگ بدلنا، سب بتاتا ہے کہ تمہارے دل میں بھی وہی چور چھپا بیٹھا ہے۔ بتاؤ نا! کیوں نہیں مانتیں کہ تم اسے چاہتی ہو؟” معراج نے غصے سے رحال کا بازو پکڑ کر اسے جھنجھوڑا۔

رحال نے کچھ دیر ساکت ہو کر معراج کی دہکتی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کے چہرے پر کوئی غصہ نہیں تھا، بس ایک گہرا دکھ تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنا بازو چھڑایا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
“نہیں معراج۔۔۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں ان کو چاہتی ہوں۔”
اس کی آواز میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا، جیسے وہ کسی طوفان کے گزرنے کا انتظار کر رہی ہو۔
جھوٹ! سفید جھوٹ!” معراج چلائی۔ “تمہاری یہ خاموشی ہی تمہاری سب سے بڑی چال ہے۔ تم چاہتی ہو کہ تم مظلوم بن کر علی کی ہمدردیاں سمیٹو۔ لیکن یاد رکھنا رحال، علی صرف ‘میرا’ ہے۔
تم اپنی یہ میڈیکل کی کتابیں اور اپنی یہ سادگی لے کر کہیں اور جاؤ، علی مصطفیٰ کے دربار میں صرف معراج کا حکم چلے گا۔”
معراج بولتی جا رہی تھی، اس کے الفاظ زہر میں بجھے ہوئے تیروں کی طرح رحال کے وجود کو چھلنی کر رہے تھے۔ وہ علی کی دولت، اس کے رتبے اور اس کے نام کو بار بار اپنی ملکیت قرار دے رہی تھی۔ جب کے ایسا کچھ تھا ہی نہیں کوئی علی مصطفیٰ سے بھی تو پوچھو کیا کو ان دونوں میں سے کسی کو پسند کرتا ہے اور اگر کرتا تھا تو کس کو ۔۔۔؟
رحال خاموشی سے سنتی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ معراج جو کچھ کہہ رہی ہے وہ محبت نہیں، بلکہ ایک انا پرست لڑکی کی ‘ضد’ ہے۔
رحال کو پورا یقین تھا کہ سچی محبت کبھی اتنی شور مچانے والی اور اتنی تلخ نہیں ہوتی۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ! اس کی بہن کے دل سے یہ ضد ختم کر دے اور اسے سکون عطا کرے۔
“ہو گیا تمہارا؟” رحاال نے پرسکون لہجے میں پوچھا۔ “اب اگر تم تھک گئی ہو تو سو جاؤ، صبح تمہیں بیکری بھی جانا ہے۔”
معراج نے اسے ایک آخری حقارت آمیز نظر سے دیکھا، جیسے وہ اسے شکست دے چکی ہو۔ وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے بستر پر لیٹ گئی اور کمبل تان لیا۔ رحال نے بھی لائٹ بند کر دی اور بستر پر لیٹ گئی۔
کمرے میں اب بظاہر خاموشی تھی، مگر دو دل الگ الگ سمتوں میں دھڑک رہے تھے۔ معراج کی آنکھوں میں علی کو پانے کی سازشیں تھیں، اور رحال کی بند آنکھوں کے پیچھے ایک خاموش آنسو تھا جو اس نے کسی کو دکھایا نہیں تھا۔ اسے یقین تھا کہ اللہ اس کی دعائیں سن رہا ہے اور یہ کڑا وقت بھی گزر جائے گا۔
کچھ دیر بعد معراج کی سانسیں ہموار ہو گئیں، وہ سو چکی تھی، مگر رحال کافی دیر تک چھت کو گھورتی رہی، یہاں تک کہ نیند نے اس کے بوجھل پپوٹوں کو اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔۔

رات کا پچھلا پہر تھا اور بستی خاموشی کی چادر اوڑھ چکی تھی، مگر کامیار صاحب کے بنگلے کے وسیع و عریض لاؤنج میں ایک بوجھل سا انتظار رقص کر رہا تھا۔ قیسن ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا اور یہی وجہ تھی کہ کامیار صاحب اور ان کی بیگم صوفے پر بیٹھے گھڑی کی ٹک ٹک گن رہے تھے۔…
اچانک گیٹ کھلنے کی آواز آئی اور قیسن کی گاڑی پورچ میں آ رکی۔ جب وہ لاؤنج میں داخل ہوا تو اس کی حالت دیکھ کر دونوں کے دل دھک سے رہ گئے۔ قیسن، جو ہمیشہ ہنستا مسکراتا اور شرارتیں کرتا نظر آتا تھا، آج اس کی چال میں ایک عجیب سی شکست خوردگی تھی۔ اس کی نیلی آنکھیں، جو عام طور پر شوخی سے چمکتی تھیں، آج سرخ تھیں اور ان میں نمی کی ایک ایسی تہہ تھی جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ وہ ابھی ابھی رو کر آیا ہے۔
اس کی ماں نے تڑپ کر اسے دیکھا۔ “قیسن! میرے بچے، کہاں رہ گئے تھے تم؟ آؤ بیٹھو، میں کھانا لگاتی ہوں۔”
قیسن نے اپنی نظریں فرش سے نہیں اٹھائیں اور بوجھل لہجے میں کہا، “نہیں مما، بھوک نہیں ہے مجھے۔ میں سونے جا رہا ہوں۔”
“ایسے کیسے سونے جا رہے ہو؟” اس کی ماں نے مامتا بھری ضد سے کہا۔ “صبح سے کچھ نہیں کھایا تم نے۔ بس دس منٹ میں ہاتھ منہ دھو کر آ جاؤ، میں نے تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے۔” ماں کی بار بار کی ضد کے سامنے قیسن ہار گیا اور سر جھکا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔..,

تھوڑی دیر بعد قیسن فریش ہو کر ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھا۔ اس کی ماں مسلسل باتیں کر رہی تھیں، کبھی کھانے کی تعریف کرتیں تو کبھی دن بھر کے حالات بتاتیں، تاکہ ماحول کا تناؤ کم ہو سکے۔ لیکن کامیار صاحب کی نظریں اپنے بیٹے کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ ایک باپ تھے اور باپ کی نظر سے بیٹے کا کوئی دکھ چھپا نہیں رہتا۔
قیسن خاموشی سے، نظریں جھکائے جلدی جلدی کھانا ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ وہاں سے جلد از جلد اٹھ سکے۔ اس کی نیلی آنکھوں کی سرخی ابھی تک باقی تھی۔
“قیسن! تم روئے ہو بیٹا؟” کامیار صاحب کی اچانک اور براہ راست آواز نے قیسن کے ہاتھ سے نوالہ گرا دیا۔
قیسن نے فوراً نظریں اٹھائیں اور ایک مصنوعی مسکراہٹ لانے کی کوشش کی۔ “نہیں بابا! آپ کو ایسا کیوں لگا؟ وہ بس باہر دھول مٹی بہت تھی، شاید اسی لیے آنکھیں سرخ ہو گئی ہیں۔”
کامیار صاحب نے کرسی تھوڑی آگے کی اور نرمی سے بولے، “قیسن، تم مجھ سے کب سے اپنے آنسو چھپانے لگ گئے ہو؟ میں تمہارا باپ ہوں، تمہارا دوست ہوں۔ تمہارا چہرہ صاف بتا رہا ہے کہ تم نے آج رات کسی بہت گہری تکلیف میں گزاری ہے۔”
قیسن نے پھر صفائیاں دینا شروع کر دیں، “نہیں بابا، ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں کیوں روؤں گا؟ اگر رویا تو سب سے پہلے آپ کو بتاؤں گا۔ آپ بس بلاوجہ پریشان ہو رہے ہیں۔”
قیسن کی ماں نے بیچ میں مداخلت کی۔ “کامیار! آپ کا محض وہم ہے، ایسا کچھ نہیں ہے۔ قیسن کیوں رونے لگا بھلا؟ میرا بہادر بیٹا کبھی روتا نہیں ہے۔ وہ تو سب کو ہنساتا ہے۔ آپ کھانا کھائیں اور اسے بھی سکون سے کھانے دیں۔”
کامیار صاحب خاموش ہو گئے، مگر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا بیٹا آج کسی ایسے کرب میں مبتلا ہے جس کا اظہار وہ سب کے سامنے نہیں کر پا رہا۔….
کھانے کے بعد کامیار صاحب اور ان کی بیگم اپنے کمرے میں چلے گئے۔ بیگم آئینے کے سامنے کھڑی بال باندھ رہی تھیں اور کامیار صاحب بستر پر لیٹے موبائل دیکھ رہے تھے، مگر ان کا دھیان موبائل میں نہیں تھا۔ اچانک وہ بستر سے اٹھے اور جوتے پہننے لگے۔
“کہاں جا رہے ہیں آپ؟” بیگم نے حیرت سے پوچھا۔
“قیسن کے کمرے میں جا رہا ہوں، ابھی تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔” کامیار صاحب نے مختصر جواب دیا اور باہر نکل گئے۔
قیسن کے کمرے میں اندھیرا تھا، وہ بیڈ پر الٹا لیٹا ہوا تھا اور شاید پھر سے آنسو بہا رہا تھا۔ جیسے ہی کامیار صاحب نے لائٹ جلائی، قیسن ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور جلدی سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔
کامیار صاحب اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئے اور اس کے سر پر نہایت شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ “کیا ہوا ہے میرے لاڈلے بیٹے کو؟”
قیسن نے نظریں چرائیں، “کچھ نہیں ڈیڈ، بس تھک گیا تھا۔”
“قیسن۔۔۔” کامیار صاحب کا لہجہ رعب دار مگر محبت سے بھرا تھا۔ “بچپن سے تم نے اپنا ہر دکھ، ہر تکلیف، ہر چھوٹی بات مجھے بتائی ہے۔ لیکن اب تم مجھ سے کترانے لگے ہو۔ بات کچھ بڑی ہے، کچھ ایسی ہے جو تمہیں اندر سے ختم کر رہی ہے۔ تم بتاؤ گے نہیں تو مجھے تکلیف ہوگی۔ تمہاری یہ آنکھیں مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتیں۔”
قیسن نے اپنے باپ کو دیکھا۔ وہ خاموشی جو پچھلے کئی گھنٹوں سے اس کے سینے میں دبی تھی، اب لاوے کی طرح پھٹنے کو تیار تھی۔
کامیار صاحب نے اس کا ہاتھ تھاما۔ “قیسن، تمہارے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہیں۔ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو، میری کل کائنات ہو۔ تمہیں دکھ ہو تو مجھے درد ہوتا ہے۔ بتاؤ مجھے، کیا بات ہے؟”
قیسن کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا اور اس کے گال پر پھسل گیا۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا، “ڈیڈ! آپ تو کہتے ہیں کہ میں بہت خوبصورت ہوں، کہ لوگ مجھ پر فدا ہو سکتے ہیں، اپنی جان قربان کر سکتے ہیں۔ کیا میں واقعی ایسا ہوں؟”
کامیار صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔ “بلاشبہ بیٹا! تم لاکھوں میں ایک ہو۔”
“لیکن ڈیڈ۔۔۔” قیسن کی آواز لرزنے لگی۔ “میں کسی اور پر قربان ہونے کو تیار ہوں، مگر اسے میری قدر ہی نہیں ہے۔ وہ میرے خلوص، میری محبت کو دیکھتی ہی نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے شخص کے معیار اور وقار پر مرتی ہے جو اسے شاید کبھی وہ خوشی نہ دے سکے جو میں دے سکتا ہوں۔ وہ اس کے چہرے کی چمک اور اس کے نام کے سحر میں مبتلا ہے ڈیڈ۔ میں نے اس لڑکی کے معیار پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی، اپنا آپ بدل لیا، مگر وہ تو اس شخص کے گیت گاتی ہے۔ میں کیا کروں ڈیڈ؟ میرا دل مر رہا ہے۔”
قیسن نے ایک لمبی آہ بھری اور بات جاری رکھی، “ڈیڈ! میں نہیں جانتا تھا کہ جس لڑکی کو میں یونیورسٹی میں صرف تنگ کرنے کے لیے چھیڑتا تھا، جس سے میں شرارتیں کرتا تھا، میں اسی پر اپنا دل ہار بیٹھوں گا۔
قیسن نے اپنے باپ کے سینے سے سر لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ کامیار صاحب ساکت رہ گئے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا بیٹا اتنی بڑی یکطرفہ محبت کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ انہوں نے اسے مضبوطی سے تھام لیا، جیسے وہ اسے دنیا کے تمام دکھوں سے بچا لینا چاہتے ہوں۔……
میرا دل کرتا ہے اپنی جان لے لوں میں بابا ۔۔۔
کامیار صاحب کے لیے یہ دیکھنا کسی قیامت سے کم نہ تھا کہ ان کا وہ بیٹا، جو اپنی ایک مسکراہٹ سے پورے گھر کو روشن کر دیتا تھا، آج ایک لڑکی کی محبت میں اس قدر ٹوٹ چکا ہے کہ اسے اپنی زندگی بوجھ لگنے لگی ہے۔ انہوں نے قیسن کے کندھے تھامے اور اسے خود سے تھوڑا دور کر کے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے:
“قیسن! رونا بند کرو میرا بچہ۔ مرد کبھی ایسے ہمت نہیں ہارتے۔ یہ زندگی ہے، یہاں کبھی ہم جیتتے ہیں اور کبھی ہمیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ بس ایک لڑکی کی خاطر تم اس طرح خود کو ختم کر لو گے؟”
قیسن نے تڑپ کر اپنے باپ کی طرف دیکھا، اس کی نیلی آنکھیں اب آنسوؤں سے لبریز اور سرخ تھیں۔ “ڈیڈ! آپ کہہ رہے ہیں کہ رونا بند کروں؟ آپ نہیں جانتے میں کس آگ میں جل رہا ہوں۔ آپ کو لگتا ہے یہ صرف ایک لڑکی کا معاملہ ہے؟ ڈیڈ، جب سے
اُس نے مجھے میری اوقات یاد دلائی ہے ۔۔۔
میرا دل چاہتا ہے کہ میں کہیں جا کر مر جاؤں۔ میری ہستی اس کی نظر میں کچھ بھی نہیں ہے ڈیڈ!”
کامیار صاحب کا چہرہ غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثرات سے بھر گیا۔ “قیسن! یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم؟ ایک لڑکی کے لیے تم مرنے کی باتیں کر رہے ہو؟ کیا ہم نے تمہیں اسی لیے پالا تھا؟ کیا تمہاری زندگی کی قیمت صرف اتنی ہے کہ کسی نے تمہیں رد کر دیا تو تم جینا چھوڑ دو گے؟ تم کامیار کے بیٹے ہو، شیر بنو!”
قیسن نے ایک تلخ ہنسی ہنستے ہوئے سر جھٹکا۔ “شیر؟ ڈیڈ، وہ شیر بھی اس وقت ڈھیر ہو جاتا ہے جب اسے پتا چلے کہ جس کے لیے وہ دھڑک رہا ہے، وہ کسی اور کے نام کی مالا جپ رہی ہے۔ ڈیڈ! وہ صرف ایک لڑکی نہیں ہے۔ وہ میری زندگی کا وہ لازم حصہ بن گئی ہے جس کے بغیر میں ادھورا ہوں۔ آپ کو لگتا ہے یہ یونیورسٹی کی کوئی معمولی کرش ہے؟ نہیں ڈیڈ! میرا دن تب تک شروع نہیں ہوتا جب تک میں اسے دیکھ نہ لوں۔ اس کی ایک جھلک، اس کی آواز کی ایک گونج میرے پورے دن کا حاصل ہوتی ہے۔ اور جب وہی لڑکی آپ کو حقارت سے دیکھے اور کہے کہ تم علی مصطفیٰ کے پیروں کی خاک بھی نہیں ہو، تو بتائیں ڈیڈ، میں کیسے جیوں؟”
وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ “اس نے مجھ سے کہا کہ علی مصطفیٰ ایک معیار ہے، ایک وقار ہے، اور میں؟ میں صرف ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ ہوں جو وقت ضائع کرتا ہے۔
ڈیڈ، میں نے خود کو بدلنے کی کوشش کی، میں نے چاہا کہ میں بھی ویسا ہی سنجیدہ اور باوقار بن جاؤں جیسا وہ چاہتی ہے، مگر اس کی نظروں میں میری ہر کوشش ایک مذاق بن کر رہ گئی۔”
قیسن دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنا سر گھٹنوں میں دے لیا۔ “رات کو جب میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو مجھے اس کا وہ چہرہ یاد آتا ہے جب اس نے علی کا نام لیتے ہوئے فخر محسوس کیا تھا۔ وہ درد جو اس وقت میرے سینے میں اٹھتا ہے، وہ مجھے مار دیتا ہے ڈیڈ۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں کسی گہری کھائی میں گر رہا ہوں اور بچانے والا کوئی نہیں۔”
کامیار صاحب خاموشی سے اپنے بیٹے کی یہ کرب ناک داستان سنتے رہے۔ انہیں احساس ہوا کہ قیسن کی محبت اب اس کے قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ انہوں نے اسے دوبارہ اپنے سینے سے لگایا۔
“قیسن، میری بات سنو،” کامیار صاحب نے نہایت دھیمے اور سنجیدہ لہجے میں کہا۔ “اگر وہ تمہیں تمہاری اوقات یاد دلاتی ہے، تو اسے اپنی اوقات دکھاؤ۔ مرنا حل نہیں ہے، خود کو اس مقام پر لے جانا حل ہے کہ وہ دیکھنے پر مجبور ہو جائے کہ جسے اس نے ٹھکرایا تھا وہ کیا چیز ہے۔ علی مصطفیٰ اگر ایک معیار ہے، تو تم اپنا ایک الگ جہاں بناؤ۔ تم میرے بیٹے ہو، تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک انسان کو بلندی پر لے جا سکتا ہے۔ یہ آنسو پونچھو اور اس درد کو اپنی طاقت بناؤ۔”
قیسن نے سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں ابھی بھی نمی تھی ۔۔۔ بابا میں اُس کو نیچا نہیں دیکھنا چاہتا میں نہیں چاہتا کہ کو سوچے کے میں نے اُس کی محبت کو کمتر سمجھا ۔۔۔۔۔
کمیار خاموش ہو گئے ۔۔۔ کو کیا ہی کہتے اپنے بیٹے کو ۔۔۔

اسلام آباد کے ایک پرسکون اور اشرافیہ علاقے میں واقع برہان قریش کا گھر کسی شاہی محل سے کم نہ تھا۔
وسیع و عریض رقبے پر پھیلا یہ جدید طرز کا بنگلہ اپنی تعمیر اور نفاست میں برہان کی طرح منفرد تھا۔ رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے اور گھر کے کشادہ لاؤنج میں، جو اطالوی ماربل اور قیمتی فانوسوں سے سجا تھا، برہان کے والد شہروز قریش اور والدہ مہرین بیگم صوفے پر بیٹھے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کسی سنجیدہ معاملے پر گفتگو کر رہے تھے۔
اسی لمحے پورچ میں برہان کی کار کے رکنے کی آواز آئی۔ برہان، جو دن بھر کی محنت کے بعد کچھ تھکا ہوا مگر ہشاش بشاش تھا، اندر داخل ہوا۔
“السلام علیکم پاپا! السلام علیکم مما!” برہان نے ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ دونوں کو سلام کیا۔
مہرین بیگم نے پیار سے جواب دیا، “وعلیکم السلام میرے پیارے بیٹے!” مگر شہروز صاحب، جو اپنے اخبار میں مگن تھے، نے سر اٹھائے بغیر محض اپنی گردن ہلانے پر اکتفا کیا۔ ان کی خاموشی برہان کے لیے نئی نہیں تھی، مگر مہرین بیگم کو ہمیشہ یہ بات کھٹکتی تھی۔
“شہروز صاحب! سلام کا جواب تو زبان سے دے دیا کریں، میرا بیٹا تھکا ہارا کام سے آیا ہے، تھوڑی حوصلہ افزائی ہی کر دیا کریں،” مہرین بیگم نے ہلکے سے شکوے کے ساتھ اپنے شوہر کو ٹوکا۔
شہروز صاحب نے اخبار ایک طرف رکھا اور عینک ٹھیک کرتے ہوئے مسکرائے، “اچھا جی بیگم! معذرت۔” پھر انہوں نے برہان کی طرف دیکھا، “وعلیکم السلام بیٹا! کیسا رہا آج کا دن؟”
برہان ہنس پڑا، وہ جانتا تھا کہ اس کے والد اس کے شیف بننے کے فیصلے سے اب بھی پوری طرح خوش نہیں تھے، مگر اس کی کامیابی انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ “بہت اچھا رہا پاپا! میں ذرا فریش ہو کر آتا ہوں، پھر ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔”
برہان اپنے کمرے میں داخل ہوا، جو اس کی شخصیت کا آئینہ دار تھا۔ کمرے کی دیواریں گہرے سرمئی رنگ کی تھیں، ایک طرف کتابوں کی بڑی سی الماری تھی اور دوسری طرف دیوار پر اس کے بنائے ہوئے کچھ بہترین کھانوں کی فریم شدہ تصاویر لگی تھیں۔ بیڈ کے سامنے ایک بڑی کھڑکی تھی جہاں سے اسلام آباد کی روشنیاں نظر آتی تھیں۔ اس نے جلدی سے شاور لیا اور اپنے آرام دہ لباس (Tracksuit) میں باہر نکل آیا۔
کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں واپس آ گیا۔ اس نے اپنی چھوٹی سی کافی مشین سے ایک کڑک کافی بنائی، جس کی بھینی بھینی خوشبو پورے کمرے میں پھیل گئی۔ لیپ ٹاپ کھول کر وہ بیڈ پر نیم دراز ہو گیا اور کچھ بین الاقوامی ویب سائٹس پر “جدید کیک ڈیزائنز” تلاش کرنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ایک لگن تھی، وہ ہر بار کچھ نیا کرنے کا جنونی تھا۔
کافی کا سپ لیتے ہوئے اچانک اسے ایک خیال آیا۔ اس نے فون اٹھایا اور معراج کا نمبر ملایا۔
دوسری طرف معراج، جو ابھی بیڈ پر لیٹی نیند کی وادیوں میں گم ہونے ہی والی تھی، فون کی گھنٹی بجنے پر ہڑبڑا کر اٹھی۔ اسکرین پر ‘برہان’ کا نام دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
“ہیلو!” معراج نے کچھ بیزاری سے فون اٹھایا۔
“ہیلو مینیجر صاحبہ! میری بات ذرا غور سے سنیں،” برہان کا لہجہ اب شرارتی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تھا۔
“رات کو بھی سکون نہیں ہے تمہیں شیف؟ کیا مصیبت ہے؟” معراج نے تکئے کا سہارا لیتے ہوئے پوچھا۔
“دیکھیں، مذاق کا وقت نہیں ہے، کام کی بات کرنی ہے،” برہان نے سنجیدگی سے کہا۔ معراج فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، وہ جانتی تھی کہ جب برہان کام کی بات کرتا ہے تو وہ واقعی اہم ہوتی ہے۔ “ہاں بولو، سن رہی ہوں۔”
“کل صبح کالج سے آف لے کر بیکری آ جانا،” برہان نے ہدایت دی۔ “شہر کی ایک بہت امیر اور معزز ہستی آ رہی ہے، ان کی بیٹی کی تیرہویں سالگرہ ہے۔ بہت خاص کیک تیار کرنا ہے اور پوری بیکری کی ڈیکوریشن بھی کرنی ہے۔ تمہیں میری مدد کرنی پڑے گی۔ ویسے تو اسٹاف ہے، لیکن گیسٹس کو اچھا لگے گا اگر وہ براہِ راست مینیجر سے ملیں گے۔”
معراج نے کچھ سوچا اور پھر بولی، “ٹھیک ہے، سوچتی ہوں۔۔۔”
“سوچنا نہیں ہے معراج! آنا ہے،” برہان نے اس کا جملہ کاٹا۔ “کام بہت زیادہ ہے لڑکی۔ میں کچن کا ہیڈ شیف ہوں، میں صرف کوکنگ اور کیک سنبھالوں گا، باقی سب انتظام تمہیں دیکھنا ہے۔”
معراج نے ایک ٹھنڈی آہ بھری، “اچھا آ جاؤں گی، اب میرا دماغ نہ کھاؤ اور فون رکھو۔”….
اچھا سنو، ایک اور بات،” برہان نے شرارت سے کہا۔ معراج غصے میں بولی، “اب کیا ہے؟ ارشاد فرمائیں!”
برہان دبی دبی ہنسی کے ساتھ بولا، “کل ذرا خوبصورت کپڑے پہن کر آنا۔ مطلب، لگنا چاہیے کہ تم ہماری مینیجر ہو۔”
معراج چڑ کر بولی، “تو پہلے کیا میں بھکارن لگتی ہوں؟”
برہان کھل کر ہنس پڑا، “نہیں چوٹی سی مینیجر! تم ویسے تو پیاری ہو، مگر کبھی کبھی لگتا ہے جیسے اسکول سے بھاگی ہوئی کوئی بچی ہو، جس نے غلطی سے مینیجر کی کرسی سنبھال لی ہے۔”
معراج کے تن بدن میں آگ لگ گئی، “برہان! صبح آنے دو مجھے، پھر بتاتی ہوں میں تمہیں۔ صبر کرو تم بس!”
برہان نے “اچھا اللہ حافظ” کہہ کر فون رکھ دیا اور کافی کا آخری گھونٹ بھر کر دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا، جبکہ دوسری طرف معراج غصے میں پیر پٹختی رہی، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں کل کے دن کا ایک انجانا انتظار بھی جاگ اٹھا تھا۔…

سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی “دی گولڈن اوون” میں سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ بیکری کی فضا میں ونیلا، مکھن اور دار چینی کی بھینی بھینی خوشبو رچی بسی تھی۔ برہان آج وقت سے پہلے کچن میں موجود تھا، اس نے اپنے شیف والے سفید کپڑے اور کالا ایپرن پہنا ہوا تھا۔ وہ نہایت مہارت اور باریک بینی سے سالگرہ کے کیک پر آئسنگ کر رہا تھا۔ اس کی انگلیاں اس قدر روانی سے چل رہی تھیں جیسے کسی ساز پر موسیقی بکھیر رہی ہوں۔ کیک تیرہ سالہ بچی کی پسند کے مطابق تین منزلہ اور ہلکے گلابی و سفید رنگ کا تھا، جس پر باریک خوردنی موتی اور چاکلیٹ کے پھول سجائے جا رہے تھے۔

برہان ایک پیلیٹ نائف کی مدد سے کیک کے کنارے درست کر رہا تھا کہ اچانک کچن کے دروازے پر لگی گھنٹی بجی۔ اس نے سر اٹھایا اور پھر جیسے وقت تھم گیا۔
معراج کچن کے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس نے آج برہان کی بات کو جیسے چیلنج کے طور پر لیا تھا۔ وہ سر سے پاؤں تک سرخ لباس میں ملبوس تھی؛ سرخ لمبی قمیض اور ٹراؤزر، گلے میں نفاست سے ڈالا ہوا دوپٹہ اور ہونٹوں پر چمکتی ہوئی گلابی لپ اسٹک اس کے گورے رنگ کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔ اس کے بال جو آج کھلے تھے، کمر پر لہروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ پاؤں میں سرخ اونچی ہیل کی ‘ ٹک ٹک خاموش کچن میں گونجی۔۔۔۔
برہان کے ہاتھ میں پکڑا ہوا پائپنگ بیگ وہیں رک گیا۔ وہ چند لمحے ساکت رہ گیا، اسے لگا جیسے کچن کی گرمی ایک دم بڑھ گئی ہو۔ معراج نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا اور اپنے بیگ کا تسمہ کندھے پر درست کرتے ہوئے چلی آئی۔
“کیا ہوا شیف؟ کبھی کوئی لڑکی نہیں دیکھی؟ یا آج میرا کام دیکھنے کے بجائے میرا حلیہ دیکھنے کا ارادہ ہے؟” معراج نے طنزیہ مگر دھیمے لہجے میں پوچھا۔
برہان نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی پلکیں جھپکائیں، پھر ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “میں تو بس یہ دیکھ رہا تھا کہ ہماری ‘چھوٹی سی مینیجر’ آج واقعی مینیجر لگ رہی ہے یا کسی فلم کی ہیروئن۔ ویسے، سرخ رنگ تم پر جچتا ہے، غصہ تھوڑا کم لگے گا۔”
معراج نے اسے گھور کر دیکھا، مگر اس بار اس کی آنکھوں میں وہ پرانی تلخی نہیں تھی۔ “بند کرو اپنی بکواس اور کام پر دھیان دو۔ مہمان کسی بھی وقت آتے ہوں گے۔”
تھوڑی دیر بعد بیکری کے باہر ایک پرتعیش گاڑی آ کر رکی۔ معراج نے خود جا کر د مہمانوں کا استقبال کیا آج پوری بیکری صرف ان کے لیے مخصوص تھی، جسے معراج نے اپنی نگرانی میں گلابی غباروں اور روشنیوں سے نہایت خوبصورتی سے سجایا تھا۔
ایک تیرہ سالہ بچی، جس نے خوبصورت پنک فرنی فراک پہنی ہوئی تھی، اپنے والدین کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ معراج نے نہایت پیشہ ورانہ اور پروقار انداز میں انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی مخصوص میز کی طرف رہنمائی کی جو ہال کے وسط میں لگی تھی۔ بیکری کے اسپیکرز پر مدھم اور خوشگوار موسیقی گونج رہی تھی جس نے ماحول کو مزید جادوئی بنا دیا تھا۔۔۔۔
جب سب مہمان اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے، تو اچانک موسیقی کا آہنگ بدلا۔ کچن کے دروازے کھلے اور برہان قریش ایک ‘اعلیٰ شیف’ کے مخصوص وقار کے ساتھ نمودار ہوا۔ اس نے ایک ہاتھ میں وہ شاندار تین منزلہ کیک اٹھایا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے نہایت نفاست سے رکھا ہوا تھا۔ اس کے چلنے کے انداز میں وہ اعتماد تھا جو برسوں کے تجربے سے آتا ہے۔
بچی کیک دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی۔ “اوہ مائی گاڈ! پاپا دیکھیں کتنا پیارا کیک ہے!”
برہان نے جھک کر بچی کو سلام کیا اور کیک میز پر رکھا۔ اس کے والدین برہان کے اس انداز اور کیک کی نفاست کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ “مسٹر برہان! ہم نے سنا تھا کہ آپ کا کام بہترین ہے، مگر یہ تو ہماری توقعات سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت ہے،” بچی کے والد نے تعریف کرتے ہوئے کہا۔
معراج خاموشی سے ایک طرف کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ برہان کس مہارت سے لوگوں کا دل جیت رہا ہے۔ جب سب کی توجہ کیک پر تھی، معراج آگے بڑھی اور نہایت شائستگی سے بولی، “سر! امید ہے آپ کو سب پسند آیا ہوگا۔ پلیز انجوائے کریں!” یہ کہہ کر وہ تھوڑا سائیڈ پر ہو گئی۔
بچی نے کیک کاٹا، تالیاں گونجیں اور پورا ہال خوشیوں سے بھر گیا۔ برہان نے ایک لمحے کے لیے معراج کی طرف دیکھا اور آنکھ کے اشارے سے پوچھا، “کیسا رہا؟” معراج نے صرف ایک ہلکی سی جنبش دی، مگر اس کے دل نے تسلیم کر لیا تھا کہ برہان واقعی اپنے فن کا ماہر ہے۔
کیک کٹنے کے بعد، برہان کے اشارے پر اسٹاف نے وہ ہلکی پھلکی ڈشز لگانا شروع کیں جو برہان اور اس کی ٹیم نے خاص طور پر تیار کی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے سینڈوچز، چکن ٹارٹس اور مکھن میں تلی ہوئی خاص پیسٹریاں میز پر سجائی گئیں۔ ہر ڈش کا ذائقہ اور پیشکش ایسی تھی کہ مہمان انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔
مہمانوں کے جانے کے بعد، جب ہال میں دوبارہ خاموشی چھائی، تو برہان معراج کے پاس آیا۔ اس نے اپنا شیف کیپ اتارا اور ایک لمبی سانس لی۔
“تو مینیجر صاحبہ! آج میری وجہ سے آپ کی بیکری کی ریٹنگ بڑھ گئی ہوگی؟”
معراج نے اسے دیکھا، اس کی سرخ ہیل اب بھی فرش پر ہلکی ہلکی بج رہی تھی۔ “ہاں برہان، آج تم نے واقعی اچھا کام کیا۔ ماننا پڑے گا کہ تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے۔”
برہان نے مسکرا کر اسے دیکھا، “اور تمہاری مینیجمنٹ میں بھی۔ ویسے، آج تم اس لباس میں واقعی بہت ‘خاص’ لگ رہی ہو، شاید کیک سے بھی زیادہ میٹھی۔”
معراج نے ہنس کر اپنا بیگ اٹھایا۔ “اپنی تعریفیں اپنے پاس رکھو، کل ملیں گے۔” وہ باہر کی طرف بڑھ گئی، مگر برہان اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔ ۔۔۔۔

(ALIHAL) پرفیومز کے ہیڈ کوارٹر میں تعمیراتی کام کا شور اب مدھم پڑ چکا تھا، کیونکہ زیادہ تر مزدور بیرونی حصوں اور کوریڈور میں مصروف تھے۔ علی مصطفیٰ اپنی کمپنی کی اسی پرانی اور پرسکون لائبریری میں موجود تھا جسے اس نے عارضی طور پر اپنا دفتر بنا لیا تھا۔ کمرے میں لکڑی کی پرانی الماریاں، چمڑے کی جلد والی کتابیں اور عود کی بھینی بھینی خوشبو ایک ایسا ماحول پیدا کر رہی تھی جو علی کے مزاج کے عین مطابق تھا۔
علی اپنے لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا، اس کی انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پر چل رہی تھیں۔ وہ اگلے مہینے لانچ ہونے والے ایک انٹرنیشنل پراجیکٹ کے اعداد و شمار کا جائزہ لے رہا تھا۔ اسی لمحے دروازہ دھیرے سے کھلا اور ہانیہ ایک ٹرے میں کافی کے دو کپ لیے اندر داخل ہوئی۔ کافی کی خوشبو نے کمرے کی فضا کو مزید بوجھل بنا دیا۔
“سر! آپ کی کافی،” ہانیہ نے نرمی سے کہا اور ٹرے میز پر رکھ دی۔
علی نے نظریں اٹھائے بغیر محض ایک مختصر سا “شکریہ” کہا اور دوبارہ اسکرین میں مگن ہو گیا۔ ہانیہ وہاں سے گئی نہیں، بلکہ خاموشی سے علی کے سامنے پڑے ہوئے مخملی صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس نے ٹیب کی سکرین روشن کی اور کچھ پرفیوم کی بوتلوں کے نئے تھری ڈی (3D) ڈیزائنز دکھائے ۔۔۔۔
سر! یہ پیرس والی ٹیم نے کچھ نئے ڈیزائن بھیجے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پیکیجنگ میں اس بار تھوڑا سا گولڈ اور کرسٹل کا کام زیادہ ہو،” ہانیہ نے ٹیب اس کی طرف بڑھایا۔
علی نے ایک لمحے کے لیے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹائی، تیزی سے ڈیزائنز کو اسکرول کیا اور ایک ڈیزائن پر انگلی رکھ کر بولا، “یہ سلیکٹ کر لو، باقی سب بہت زیادہ شوخ (Loud) ہیں۔ مجھے ‘علیحال’ کی پہچان سادگی اور کلاس میں چاہیے، نمائش میں نہیں۔”
اس نے ٹیب واپس ہانیہ کی طرف دھکیل دیا اور دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

ہانیہ نے ڈیزائنز محفوظ کیے، مگر وہ اب بھی وہیں بیٹھی تھی۔ اس نے کافی کا سپ لیا اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ “سر! آپ کو پتہ ہے، آج کل لاہور کا موسم کتنا بدل گیا ہے۔ شام کو کافی ٹھنڈ ہو جاتی ہے۔ ویسے آپ کو نہیں لگتا کہ اس رینوویشن کے بعد ہمیں اسٹاف کے لیے ایک چھوٹا سا گیٹ ٹوگیدر (Get-together) رکھنا چاہیے؟ سب بہت تھک گئے ہیں۔”
علی نے کوئی جواب نہیں دیا، بس اسکرین دیکھتے ہوئے “ہممم” کہا۔
ہانیہ نے ہمت نہیں ہاری۔ “اور سر! وہ جو آپ نے ‘رحال’ پرفیوم کا نیا ایڈیشن بنوایا ہے، اس کی شیشی کا تراش خراش اتنا خوبصورت ہے کہ میں خود بھی اسے استعمال کرنے سے روک نہیں پاتی۔ آپ واقعی بہت باصلاحیت ہیں، ہر چیز میں اپنی روح ڈال دیتے ہیں۔”
علی نے اب بھی اسے نہیں دیکھا، بس اس کے ہاتھ لیپ ٹاپ پر چلتے رہے۔ اس کا جواب اب بھی مختصر تھا، “شکریہ ہانیہ! اگر کام سے متعلق کوئی اور بات ہے تو بتاؤ۔”
ہانیہ کا دل چاہا کہ وہ اس لیپ ٹاپ کو بند کر دے اور علی کو مجبور کرے کہ وہ کم از کم ایک بار اسے دیکھ کر بات کرے۔ اس نے کافی کا کپ میز پر رکھا اور تھوڑا سا آگے جھک کر دھیمے لہجے میں کہا، “کبھی کبھی انسان کو کام سے ہٹ کر بھی کچھ سوچنا چاہیے۔ آپ ہر وقت صرف فائلز اور خوشبوؤں میں کھوئے رہتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی زندگی میں کسی کی کمی ہے؟”
علی نے اس بار بھی اسے نظر انداز کیا اور سپاٹ لہجے میں کہا، “میرا کام ہی میری زندگی ہے ہانیہ، اور مجھے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔”۔۔

ہانیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے علی کے ساتھ تھی، اس کی ہر پسند ناپسند سے واقف تھی، مگر علی نے ہمیشہ اسے صرف ایک ملازم کی حد تک رکھا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے براہِ راست اس کا نام لیا، جو وہ عام طور پر نہیں کرتی تھی۔
“علی۔۔۔” اس کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش اور اپنائیت تھی۔
علی مصطفیٰ کے ہاتھ کی بورڈ پر ساکت ہو گئے۔ اس نے پہلی بار اپنا سر اٹھایا اور اپنی گہری، سرد آنکھوں سے ہانیہ کی طرف دیکھا۔ کمرے کی فضا میں ایک دم تناؤ آ گیا۔ علی کی نظریں اتنی سخت تھیں کہ ہانیہ کا سانس سینے میں اٹک گیا۔
“ہانیہ! میں تمہارا باس ہوں،” علی نے نہایت دھیمے مگر کھردرے لہجے میں کہا۔ اس کی آواز میں ایک وارننگ تھی۔
ہانیہ نے اپنی نظریں نہیں جھکائیں، اگرچہ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ “میں جانتی ہوں کہ آپ باس ہیں، سر! لیکن باس کے علاوہ بھی تو کچھ ہیں آپ میرے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہوں،
آپ کو لگتا ہے کہ میں صرف سیلری کے لیے یہاں رکتی ہوں؟ آپ سب جانتے ہیں علی! لیکن آپ مانتے نہیں ہیں۔ آپ کیوں خود کو اس نام نہاد وقار کے پیچھے چھپا کر رکھتے ہیں؟”
علی نے اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین آہستہ سے بند کی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ میز پر رکھے اور ہانیہ کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں اب واضح طور پر التجا اور محبت نظر آ رہی تھی۔ مگر علی کا دل پتھر کی مانند تھا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی نام تھا، اور وہ ہانیہ کا نہیں تھا۔
“ہانیہ!” علی نے سرد مہری سے کہا۔ “میرے پاس ان فضول جذباتی باتوں کے لیے نہ وقت ہے اور نہ جگہ۔ تمہارا کام میری کمپنی کو سنبھالنا ہے، میری ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا نہیں۔ تم نے ایک حد پار کی ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ ایسا ہو۔”
ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔ “آپ اتنے بے حس کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیا آپ کو واقعی کسی کے جذببات نظر نہیں آتے؟”
علی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور دوبارہ لیپ ٹاپ کھولنے لگا۔ اس کا لہجہ اب انتہائی بیزار ہو چکا تھا۔ “اگر کوئی کام کی بات ہے، کوئی فائل ہے یا کوئی رپورٹ، تو وہ پیش کرو۔ ورنہ۔۔۔” اس نے ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا، “دروازہ اس طرف ہے ہانیہ۔ مجھے آج بہت کام ہے اور میں ڈسٹرب ہونا پسند نہیں کروں گا۔”
ہانیہ کا چہرہ غصے اور دکھ سے سرخ ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنا ٹیب میز سے اٹھایا، ایک لمحے کے لیے علی کو ایسے دیکھا جیسے وہ اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو، اور پھر اپنا منہ بناتی ہوئی، پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی۔
علی نے دروازہ بند ہونے کی آواز سنی، مگر اس کے چہرے پر کوئی ملال نہیں تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا، کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور اپنی آنکھیں موند لیں۔ اس کے ذہن میں علیحال کی رینوویشن، بزنس کی میٹنگز اور ہانیہ کا اعتراف، سب ایک طرف ہو گئے اور صرف ایک دھندلا سا چہرہ ابھرا۔۔۔ رحال کا چہرہ۔ اس نے دوبارہ لیپ ٹاپ کھولا اور کام میں جت گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

اسلام آباد کی صبح آج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوئی تھی۔ یونیورسٹی کے وسیع و عریض لان میں ہر طرف رنگ برنگے پھول کھلے تھے اور ہوا میں ایک عجب سی تازگی تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور طلبہ کے شور و غل کے درمیان ایک ایسا لمحہ پروان چڑھنے والا تھا جو دو زندگیوں کے رخ بدلنے کی طاقت رکھتا تھا۔ رحال شیخ، ہمیشہ کی طرح اپنی کتابوں اور اسائنمنٹس کے بوجھ تلے دبی، تیز قدموں سے کوریڈور کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کی کلاس شروع ہونے میں اب صرف چند منٹ باقی تھے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ لیٹ ہو کر کسی کی نظروں میں آئے۔

رحال کا سارا دھیان اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل پر تھا جس کے صفحات ہوا سے اڑ رہے تھے۔ وہ اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک ایک موڑ مڑتے ہی وہ کسی ٹھوس وجود سے ٹکرا گئی۔ ٹکراؤ اتنا زوردار تھا کہ رحال کے ہاتھ سے فائل چھوٹ کر فرش پر گر گئی اور صفحات بکھر گئے۔
اوہ! آئی ایم سو سوری۔۔۔” رحال نے ہڑبڑا کر کہا اور فوراً اپنی فائل اٹھانے کے لیے جھکی۔
مگر سامنے والا وجود بالکل ساکت کھڑا تھا۔ وہ قیسن کامیار تھا، جس کی نیلی آنکھیں اس وقت ریحال کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ جب رحال نے فائل سمیٹ کر سر اٹھایا، تو دونوں کی نظریں آپس میں ملیں۔ قیسن کو لگا جیسے وقت کی رفتار تھم گئی ہو۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے دل کے کسی گہرے نہاں خانے میں کچھ ڈوب کر ابھرا ہے۔ ایک ایسی لرزش، ایک ایسی لہر جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ ایک پل کے لیے بالکل بے حس و حرکت کھڑا رہ گیا، جیسے اس کے پاؤں زمین میں گڑھ گئے ہوں۔ رحال کی معصومیت اور اس کی آنکھوں کی اداسی نے قیسن کے اندر ایک طوفان برپا کر دیا تھا۔
قیسن نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی پلکیں جھپکائیں۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں اپنا ہاتھ ہلایا اور دھیمے لہجے میں بولا، “معذرت چاہتا ہوں رحال! میری غلطی ہے، میں دیکھ نہیں سکا اور تم سے ٹکرا گیا۔”
رحال نے اپنی فائل سینے سے لگائی اور کچھ شرمندگی سے کہا، “نہیں، غلطی میری ہے۔ میرا دھیان بالکل سامنے نہیں تھا اور مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ تم آ رہے ہو۔” قیسن نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔ “تمہاری غلطی کیسے ہو سکتی ہے
محبوب کی بھی بھلا کبھی کوئی غلطی ہوتی ہے کیا؟”
رحال یہ جملہ سن کر بالکل ششدر رہ گئی۔ اس کے قدم وہیں رک گئے اور اس نے حیرت سے قیسن کی نیلی آنکھوں میں جھانکا، جہاں اب واضح طور پر ایک تڑپ اور سچائی نظر آ رہی تھی۔ رحال کا دل زور سے دھڑکا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس بے باک اعتراف کا کیا جواب دے۔ قیسن! تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو میرے ساتھ؟” رحال نے تھوڑی سختی مگر دھیمی آواز میں پوچھا۔ “تم جانتے ہو کہ تمہارے یہ الفاظ میرے لیے کتنی پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔”
قیسن نے اپنی نظریں جھکا لیں اور ایک سرد آہ بھری۔ “اگر تمہیں برا لگا تو میں معافی چاہتا ہوں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ رحال، اب میرا اپنے دل اور اپنی زبان، دونوں پر قابو نہیں رہا۔ میں ہر روز، ہر لمحہ یہ کوشش کرتا ہوں کہ تمہارے سامنے نہ آؤں، تم سے نہ ٹکراؤں۔۔میں نے تو ان راستوں سے بھی گزرنا چھوڑ دیا ہے جہاں سے تمہارا گزر ہوتا ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں، میری قسمت مجھ پر یہ کیسا ستم کر رہی ہے جو بار بار مجھے وہیں لا کر کھڑا کر دیتی ہے جہاں تم کھڑی ہوتی ہو۔”
قیسن کا لہجہ اب مزید بوجھل ہو گیا تھا۔ وہ رحال کے چہرے پر پھیلی ہوئی بے چینی کو محسوس کر سکتا تھا، مگر اس کے سینے میں دبا ہوا لاوا آج بہہ نکلنے کو تیار تھا۔
“میں تو وہ راستہ بھی بدل لینا چاہتا ہوں جس پر تم سامنے کھڑی ملو،” قیسن نے بات جاری رکھی۔
مجھے معلوم ہے تمہاری منزل علی مصطفیٰ کے ساتھ ہے۔ تم اس کے معیار، اس کے وقار اور اس کے نام کی اسیر ہو۔ میں تو صرف تمہاری اس کہانی کا ایک اضافی کردار بن کر رہ گیا ہوں۔”
رحال خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔ قیسن کے الفاظ میں ایک ایسی حقیقت تھی جس نے اسے اندر تک ہلا دیا تھا۔
“رحال! ہر محبت کی کہانی میں کسی نہ کسی کی محبت ادھوری رہ جانی ہوتی ہے اس بار وہ ادھورا کردار۔ قيسن کمیار ہی صحیح ۔۔
تمہیں پانے کی خواہش تو بہت ہے، مگر تمہیں کھونے کا خوف اس سے بھی بڑا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ تم علی کے گیت گاتی ہو، اور میں تمہارے لیے صرف ایک ایسا شخص ہوں جو تمہیں تنگ کرتا ہے۔ مگر کاش تم میرے اس دل کے اندر جھانک سکتیں جہاں صرف تمہارا نام لکھا ہے۔”
رحال کو محسوس ہوا جیسے اس کا گلا رندھ گیا ہو۔ وہ قیسن کے اس جذباتی روپ سے بالکل ناواقف تھی۔ اسے ہمیشہ لگا تھا کہ قیسن صرف ایک لاپرواہ لڑکا ہے، مگر آج اس کے سامنے ایک ٹوٹا ہوا انسان کھڑا تھا جو اپنی شکست کا اعتراف کر رہا تھا۔
“قیسن، میں نہیں جانتی تھی کہ تم۔۔۔” رحال نے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ نے ساتھ نہیں دیا۔
کچھ مت کہو رحال!” قیسن نے اسے روک دیا۔ “تمہاری خاموشی تمہارے جواب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، مگر میں اسے قبول کرتا ہوں۔ تم جاؤ، تمہاری کلاس کا وقت ہو رہا ہے۔ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ جب تم علی مصطفیٰ کے ساتھ اپنی زندگی کی خوشیاں سمیٹ رہی ہو، تو کبھی ایک لمحے کے لیے اس شخص کو بھی یاد کر لینا جس نے تمہیں اپنی اوقات سے بڑھ کر چاہا تھا، چاہے اسے بدلے میں صرف تمہاری نفرت ہی کیوں نہ ملی ہو۔” قیسن یہ کہہ کر مڑا اور تیز قدموں سے وہاں سے چلا گیا، پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ رحال وہیں کوریڈور کے بیچ و بیچ کھڑی رہ گئی۔ اس کی فائل اس کے ہاتھوں میں اب بھی دبی ہوئی تھی، مگر اس کا ذہن قیسن کے الفاظ کی گونج میں کہیں کھو گیا تھا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ محبت صرف پانے کا نام نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی خاموشی سے کسی کی راہ سے ہٹ جانا ہی سب سے بڑی محبت ہوتی ہے۔۔
آسمان پر بادل چھانے لگے تھے، جیسے موسم بھی قیسن کے دل کی کیفیت کا ماتم کر رہا ہو۔ رحال نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو زبردستی روکا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی منزل کہیں اور ہے، مگر قیسن کامیار نے آج اس کے دل پر ایک ایسا نقش چھوڑ دیا تھا جسے مٹانا اب شاید اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ کوئی اس سے اتنی محبت کیسے کر سکتا تھا وہ حیران تھی ۔۔۔

کالج کی چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی طالبات کا ایک ہجوم گیٹ کی طرف امنڈ آیا، لیکن معراج وہیں ایک سائے دار درخت کے نیچے کھڑی بے صبری سے اپنی گھڑی دیکھ رہی تھی۔ سورج کی تپش آج کچھ زیادہ ہی تھی اور اس کا سرخ لباس، جو کل کی نسبت آج ذرا سادہ مگر پروقار تھا، پسینے کی وجہ سے اسے بوجھل محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے جھنجھلا کر تیسری بار ڈرائیور کا نمبر ملایا۔……
ہیلو! انکل، کہاں رہ گئے ہیں آپ؟ آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے مجھے یہاں کھڑے ہوئے۔ آپ کو پتہ ہے نا مجھے گھر جا کر کپڑے بدلنے ہیں اور پھر بیکری بھی پہنچنا ہے، وہاں برہان نے پہلے ہی دماغ کھا رکھا ہے کہ کام زیادہ ہے!” معراج نے ایک ہی سانس میں اپنی ساری شکایتیں کہہ ڈالیں۔
دوسری طرف سے ڈرائیور کی آواز انتہائی بھرائی ہوئی اور معذرت خواہانہ آئی۔ “بیٹی! بہت معذرت۔۔۔ میری چھوٹی بیٹی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے، اسے تیز بخار ہے اور گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میں اسے لے کر ہسپتال آیا ہوں، آج میں نہیں آ سکوں گا۔”
معراج کا غصہ ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا، مگر اس کی جگہ پریشانی نے لے لی۔ “اوہ۔۔۔ ٹھیک ہے انکل، کوئی بات نہیں۔ آپ بیٹی کا خیال رکھیں، میں دیکھتی ہوں ….
اس نے فون بند کیا اور ایک لمبی آہ بھری۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ٹیکسی یا رکشہ ملنا اس وقت ناممکن تھا۔ اس نے موبائل ایپ کھولی اور کیب بک کرنے کی کوشش کی، مگر وہاں اسکرین پر لکھا آ رہا تھا: “کیب پہنچنے میں 20 منٹ لگیں گے”۔
“اف خدایا! بیس منٹ یہاں کھڑے رہنا؟” اس نے سوچا کہ اس سے بہتر ہے کالج کے مین گیٹ سے باہر سڑک پر نکل جائے، شاید کوئی رکشہ مل جائے۔
معراج ابھی کالج کے گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی اور اپنا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی کہ اچانک ایک چمکتی ہوئی کالی گاڑی اس کے بالکل قریب آ کر رکی۔ ٹائروں کے رگڑ کھانے کی ہلکی سی آواز آئی۔ معراج تھوڑا پیچھے ہٹی، اس سے پہلے کہ وہ غصے سے کچھ کہتی، گاڑی کا کالا شیشہ آہستہ سے نیچے ہوا اور اندر سے برہان قریش کا ہنستا ہوا چہرہ نمودار ہوا۔
برہان نے دھوپ کا چشمہ آنکھوں سے ہٹا کر اسے دیکھا اور شرارت سے بولا، “ارے! مینیجر صاحبہ؟ سڑک کنارے کھڑے ہو کر رکشے کا انتظار؟ یہ منظر تو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔”
معراج نے اسے گھور کر دیکھا۔ “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اور یہ کیا طریقہ ہے گاڑی روکنے کا؟”
“میں نے سوچا بیکری جانے سے پہلے ذرا دیکھ لوں کہ ہماری ‘چھوٹی سی مینیجر’ نے چھٹی کی ہے یا نہیں۔ اب جلدی سے اندر بیٹھو، دیر ہو رہی ہے۔ آج بیکری میں بہت کام ہے اور تم یہاں دھوپ میں سرخ ٹماٹر بنی کھڑی ہو،” برہان نے گاڑی کا دروازہ اندر سے کھولتے ہوئے کہا۔
معراج نے ایک لمحہ سوچا، کیب کا انتظار کرنے سے بہتر تھا کہ اسی کے ساتھ چلی جائے۔ وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی اور سیٹ بیلٹ باندھ لی۔
گاڑی ٹھنڈی تھی اور اے سی کی ہوا نے معراج کو تھوڑا پرسکون کیا۔ برہان نے گاڑی کی رفتار بڑھائی اور ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
“ویسے معراج، ماننا پڑے گا۔۔۔ رکشے کے انتظار میں بھی تم کافی رعب دار لگ رہی تھی۔
برہان! خاموشی سے گاڑی چلاؤ، میرا دماغ پہلے ہی بہت گرم ہے،” معراج نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
“اوہ، تو مینیجر صاحبہ کو غصہ آ گیا؟” برہان نے گاڑی کا میوزک آن کیا، جس پر ایک شوخ سا گانا چل رہا تھا۔ “ویسے آج تم نے سرخ رنگ نہیں پہنا، بیکری کا پورا سٹاف تو ابھی تک تمہارے اس لباس کی تعریف کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ ہماری مینیجر جتنی باوقار ہے، اتنی ہی سمجھدار بھی۔
معراج نے مڑ کر اسے دیکھا۔ “اچھا؟ اور تم نے کیا کہا؟”
برہان نے ایک لمبی سانس لی۔ “میں نے؟ میں نے کہا کہ وہ جتنی باہر سے پرسکون لگتی ہے، اندر سے اتنی ہی ‘خطرناک’ ہے، بالکل اس کیک کی طرح جو اوپر سے میٹھا ہو مگر اندر مرچیں بھری ہوں۔”
“تم باز نہیں آؤ گے نا؟” معراج کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ “تمہیں لگتا ہے کہ تم ہر وقت میرا مذاق اڑا کر بچ جاؤ گے؟”
برہان نے سنجیدگی کا ناٹک کیا۔ “مذاق؟ توبہ توبہ! میں تو سچ بول رہا ہوں۔ دیکھو، ابھی تم غصے میں ہو تو تمہاری ناک بالکل لال ہو رہی ہے، بالکل کسی کارٹون کی طرح۔”
معراج نے اسے مارنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا مگر برہان نے ہنس کر اپنا سر بچا لیا۔ “اوئے! گاڑی چلا رہا ہوں، ایکسیڈنٹ کروانا ہے کیا؟ ویسے سنو، آج ہم نے وہ نیا چاکلیٹ ٹارٹ ٹرائی کرنا ہے، میں نے کچھ نئی ترکیبیں سوچی ہیں۔ مجھے تمہاری زبان کا ٹیسٹ چاہیے، کیونکہ تمہارے علاوہ کوئی اتنی سختی سے تنقید نہیں کر سکتا۔”
معراج نے ایک فخر سے سر ہلایا۔ “وہ تو ہے، میں کسی کو اتنی آسانی سے پاس نہیں ہونے دیتی۔”
“اسی لیے تو تم مینیجر ہو،” برہان نے دھیمے لہجے میں کہا، اور اس بار اس کی آواز میں وہ چھیڑ چھاڑ نہیں بلکہ ایک اعتراف تھا۔ “کیونکہ تم ہر چیز کو پرفیکٹ دیکھنا چاہتی ہو، بالکل میری طرح۔”
گاڑی بیکری کے قریب پہنچ رہی تھی، اور ان دونوں کی یہ نوک جھونک راستے کی تھکن کو ختم کر چکی تھی۔ معراج کو احساس ہوا کہ برہان کے ساتھ گزارا ہوا یہ وقت اسے ذہنی طور پر کتنا ہلکا کر دیتا ہے، چاہے وہ اسے کتنا ہی کیوں نہ چھیڑے۔۔۔۔

بیکری کا خودکار شیشہ سرکتے ہی برہان اور معراج ایک ساتھ اندر داخل ہوئے۔ بیکری کے اندر کا درجہ حرارت باہر کی تپتی دھوپ کے برعکس انتہائی خوشگوار تھا، جہاں تازہ پکی ہوئی روٹیوں اور میٹھے کیک کی خوشبو نے ان کا استقبال کیا۔ برہان اپنی مخصوص بے فکری کے ساتھ چل رہا تھا جبکہ معراج، جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اس کی گاڑی میں نوک جھونک کر کے آئی تھی، اب دوبارہ اپنے ‘مینیجر’ والے روپ میں آنے کی کوشش کر رہی تھی۔……..
جیسے ہی وہ دونوں کچن کے قریب پہنچے، ایک جونیئر شیف، جو ہاتھ میں ٹرے لیے کہیں جا رہا تھا، انہیں دیکھ کر رک گیا۔ اس کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ ابھری۔
“سر! ایک بات کہوں؟ آپ دونوں کی جوڑی ساتھ چلتے ہوئے بہت اچھی لگتی ہے، بالکل پرفیکٹ!” اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
برہان نے ایک قہقہہ لگایا اور معراج کو ترچھی نظروں سے دیکھا، جو اس تبصرے پر بری طرح جھینپ گئی تھی۔ برہان نے اپنے بال درست کیے اور فخر سے بولا، “بس دیکھ لو میاں! میں ہوں ہی اتنا پیارا کہ میرے ساتھ کھڑی یہ ‘لال مرچی’ بھی میٹھی مٹھائی لگنے لگتی ہے۔ آخر حسن کا اثر تو ہوتا ہے نا!”…
معراج نے اسے گھور کر دیکھا، “برہان! اپنے کام سے کام رکھو اور تم۔۔۔” اس نے جونیئر شیف کی طرف اشارہ کیا، “تم جا کر وہ آرڈرز چیک کرو، یہاں کھڑے ہو کر تبصرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
جونیئر شیف ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا، مگر برہان نے اب سنجیدگی اختیار کر لی۔ اس نے اپنے بازو کی آستینیں اوپر چڑھائیں اور معراج سے پوچھا، “اچھا اب کام کی بات، شام کے آرڈرز کی کیا لسٹ ہے؟ اور وہ جو برتھ ڈے کیک ڈیلیور ہونا ہے، اس کی پیکیجنگ مکمل ہو گئی؟”
معراج نے اسے تفصیلات بتانا شروع کیں۔ برہان نے سر ہلایا اور کچن کی طرف قدم بڑھا دیے۔ معراج وہیں کھڑی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ اس کے دل کے کسی کونے میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندھا، “لگتا تو پیارا ہے یہ۔۔۔” اس نے فوراً اس خیال کو جھٹکا، مگر سچ تو یہ تھا کہ برہان کی شخصیت میں ایک ایسا کھچاؤ تھا جسے نظر انداز کرنا مشکل تھا۔
پھر اچانک اس کے ذہن میں علی مصطفیٰ کا نقش ابھرا۔ علی، جو وقار اور تمکنت کی علامت تھا۔ علی بھی حسین تھا، مگر برہان کی خوبصورتی میں ایک اپنائیت تھی۔ معراج کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان دونوں میں سے زیادہ پرکشش کون ہے۔ ایک عجیب سی الجھن نے اسے گھیر لیا، اور وہ سر جھٹک کر اپنے کیبن کی طرف چل دی۔…
ابھی معراج اپنے آفس میں فائلوں کے ڈھیر میں گم تھی کہ دروازہ کھلا اور اس کی پرانی دوست، سارہ، اندر داخل ہوئی۔ سارہ وہی تھی جس نے معراج کو اس بیکری میں مینیجر کی نوکری دلوائی تھی۔ دونوں اسکول کے زمانے کی بہترین دوستیں تھیں۔
“کیسی ہو مینیجر صاحبہ؟ سنا ہے بیکری کا کام خوب چمک رہا ہے،” سارہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
دونوں نے کافی دیر تک اسکول کی یادیں تازہ کیں۔ ہنسی مذاق اور پرانی شرارتوں کے تذکرے نے معراج کا بوجھل ذہن تھوڑا ہلکا کر دیا۔ سارہ نے کچھ دیر باتیں کیں اور پھر اسے ڈھیر ساری دعائیں دے کر رخصت ہو گئی۔ سارہ کے جانے کے بعد کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی، مگر یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
دروازہ دوبارہ کھلا اور برہان دو کافی کے مگ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔ اس نے ایک مگ معراج کے سامنے رکھا اور خود اس کے سامنے والی کرسی پر جم کر بیٹھ گیا۔
معراج نے اسے خاموشی سے دیکھا۔ برہان کا چہرہ اب پرسکون تھا، اس کی آنکھوں میں وہ شرارت نہیں بلکہ ایک گہرائی تھی۔
“برہان! ایک بات بتاؤں؟” معراج نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا۔
برہان نے ٹیک لگائی اور مسکرایا، “حکم کریں مینیجر صاحبہ، یہ بندہ حاضر ہے۔”
معراج نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر سنجیدگی سے بولی، “اگر ہم کسی ایک انسان کو پسند کرتے ہوں، اور وہ انسان کسی دوسرے کو پسند کرتا ہو۔۔۔ اور کوئی تیسرا انسان ہمیں پسند کرتا ہو، تو ہمیں کس کی طرف جانا چاہیے؟ ہمیں اپنی زندگی میں کسے جگہ دینی چاہیے؟”
برہان نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور بہت غور سے معراج کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کا لہجہ اب ایک ہمدرد دوست جیسا ہو گیا تھا۔….
دیکھو معراج! میرے حساب سے ہمیں اس انسان کو زندگی میں جگہ دینی چاہیے جو ہمیں پسند کرتا ہو۔ تم جس کو پسند کرتی ہو، اگر وہ کسی اور کے خیالوں میں بسا ہے، تو تم اسے پا کر بھی کیا کر لو گی؟ وہ تمہارے پاس ہو کر بھی تمہارا نہیں ہوگا۔ تم اپنی پسند اور اپنی محنت سے کسی کے دل سے اس کی پہلی محبت نہیں نکال سکتیں۔ اور جو عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ کسی کا پرانا عشق بھلا دیں گی، وہ صرف خود کو دھوکا دیتی ہیں۔ محبت کبھی بھلائی نہیں جا سکتی، اور جس سے دل جڑا ہو، وہ محبوب بھلا کب بھولا جاتا ہے؟”
برہان کی باتیں معراج کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں۔ اسے احساس ہوا کہ وہ علی مصطفیٰ کے پیچھے بھاگ کر شاید اپنی زندگی ضائع کر رہی ہے، کیونکہ علی کے دل میں تو اس کے لیے کبھی وہ جگہ تھی ہی نہیں جو وہ چاہتی تھی۔
معراج نے اپنی گردن اوپر اٹھائی اور براہِ راست برہان کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا، “کیا تم مجھے پسند کرتے ہو؟”
برہان کے چہرے پر ایک پل کے لیے جیسے وقت تھم گیا۔ وہ ساکت رہ گیا۔ اس نے آہستہ سے اپنی نظریں جھکا لیں اور ایک گہرا سانس لیا۔
“اگر کہہ بھی دوں کہ کرتا ہوں، تب بھی تم نے اپنی مرضی ہی کرنی ہے،” اس نے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔ “یا پھر تم یہ کہہ دو گی کہ برہان! ابھی تو ہمیں ملے ہوئے چند دن ہی ہوئے ہیں، تم اتنی جلدی یہ سب کیسے کہہ سکتے ہو؟”
معراج اس کے جواب پر مسکرا دی۔ “اتنا جان گئے ہو مجھے تم ان تھوڑے سے دنوں میں؟”
برہان ہنس پڑا، “ہاں! کیونکہ تم جیسی آفت پہلے کبھی میری زندگی میں نہیں آئی۔ تم پہلی ‘بلا’ ہو جس نے میرا سکون برباد کیا ہے۔”

معراج نے اسے گھور کر دیکھا، “نکلو میرے آفس سے ابھی کے ابھی!”
برہان نے شرارت سے ابرو اچکائے، “او میڈم! یاد رہے میں یہاں کا سب سے بڑا شیف ہوں۔”
معراج نے بھی جواب دیا، “اور مسٹر! یاد رہے میں یہاں کی مینیجر ہوں، تمہیں میرا حکم ماننا پڑے گا۔”
برہان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آئی۔ “اگر تم تیار ہو، تو میں پوری زندگی تمہارے ہر حکم پر چلنے کے لیے تیار ہوں۔ بولو، منظور ہے؟”
معراج نے اسے کچھ دیر دیکھا اور پھر مسکرا کر کہا، “چلو، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
“تو کیا میں اب تمہارے گھر رشتہ بھیج دوں؟” برہان نے ایک دم سے پینترا بدلا۔
معراج کی ہنسی نکل گئی، “خبردار! ایسی کوئی حرکت مت کرنا ورنہ نوکری سے نکال دوں گی۔”
“ہاں! نوکری سے نکال کر گھر کا نوکر بنا لینا۔ میں تو گھر داماد بننے کو بھی تیار ہوں اور ‘زن مرید’ بننے میں بھی مجھے کوئی عار نہیں،” برہان نے قہقہہ لگا کر کہا۔
معراج اس کی اس بات پر کھل کر ہنسی، اس کے قہقہے سے پورا آفس گونج اٹھا، اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ کتنی خوش ہے۔ برہان اٹھتے ہوئے بولا، “اچھا اب تھوڑی دیر میں باہر آ جانا۔ میں نے تمہارے لیے ایک خاص ‘ٹارٹ’ بنایا ہے، وہ کھا کر بتانا کہ اسے مینو میں شامل کرنا ہے یا نہیں۔”
برہان باہر نکل گیا، اور معراج اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی۔ اس کے دل میں اب الجھن نہیں تھی، بلکہ ایک سکون تھا، جیسے اسے اپنی منزل کا سراغ مل گیا ہو۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *