PATJHAR BY ALAM EPISODE : 12

   پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٢

ازقلم الم

 


سلطان شاہ اپنے سیکرٹ روم کی سیڑھیاں اتر کر ایک تاریک کمرے کے سامنے جا کررکے۔ لائٹس آن ہوئی تو تو معلوم ہوا کہ وہ کمرہ دراصل ایک قید خانہ تھا جس کے سامنے کی دیوار کی بجائے سلاخیں لگی ہوئی تھی اور اندر ایک لاغر سا وجود بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔

“چچچچ! کتنے کمزور ہو گئے ہیں ایس پی صاحب! کھانا نہیں دیتے انہیں؟” انہوں نے مصنوعی خفگی سے ساتھ کھڑے محسن سے کہا جو ہاتھ باندھے گردن اکڑائے کسی ربورٹ کی طرح کھڑا تھا۔ سلطان شاہ کی آواز سن اس کمزور وجود میں حرکت ہوئی تھی اور اس نے آنکھیں کھول کر سلطان شاہ کو تنفر سے گھورا۔ اس کی آنکھوں میں نفرت دیکھتے ہوئے سلطان شاہ مسکرائے تھے۔
“تمہیں اس قید خانے میں رزق میرے توسط سے ملتا ہے اور اپنے رازق سے نفرت نہیں کیا کرتے۔” سلطان شاہ کے لہجے سے غرور ہی غرور ٹپک رہا تھا۔
“رزق دینے والا میرا اللہ ہے، اس نے رزق اپنے ہاتھ میں رکھا ہے نہ کہ اپنی کم ظرف مخلوق کے تم مگر میرا کھانا بند بھی کر دو تو بھی جو میری قسمت میں ہے وہ رب کسی بھی وسیلے سے مجھ تک پہنچا دے گا۔” قیدی قید میں بھی رب کی بڑائی بول رہا تھا۔
دوسری طرف سلطان شاہ نے استہزائیہ انداز میں نظریں گھمائیں، “ایس پی ارحم حمید! رسی جل گئی پر بل نہیں گیا؟ ہاں؟ اپنی حالت پر غور کرو! میرے مقابل آنے کی طاقت ہے تم میں؟” سلطان کے لہجے کا ازلی غرور برقرار تھا۔
“سلطان! اگر کمزور ہوتا تو زیر زمین اس قید خانے میں بھی بیڑیوں سے جکڑ کر نہ رکھتے! تم آج بھی مجھ سے خوف زدہ ہو۔” ارحم نے قہقہہ لگا کر کہتے سلطان شاہ کو جیسے آئینہ دکھایا تھا۔ اس کے الفاظ پر سلطان شاہ مشتعل ہوئے تھے، مگر فوراً ہی مسکرا دیے۔ اس مقام پر وہ اس لیے ہی تھے کیونکہ انہیں اپنے جذبات پر قابو تھا، وہ جانتے تھے کہ اپنا غصہ کہاں، کس وقت اور کس انداز میں دکھانا ہے۔

“ایس پی صاحب! نہ اپنا وقت ضائع کریں نہ میرا! ثبوت بتا دیں کہاں چھپائے ہیں؟ کیونکہ چوتھا قتل کرنے کا موڈ نہیں ہے میرا! پہلے ہی تمہارے وہ دو انسپیکٹر دوست اور میری پیاری بہنا اور جیجا جی، ڈی ایس پی ہارون قیوم شاہ کے خون سے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔” یہ بات کرتے وقت سلطان شاہ کا چہرہ اس گِدھ سے بھی زیادہ گھناؤنا لگ رہا تھا جو مردار کھاتے ہیں۔
وہ ثبوت سلطان شاہ کے لیے بہت اہم تھے، ان کے اب تک کے تمام جرائم کا ریکارڈ ان میں موجود تھا۔ اگر وہ منظر عام پر آ جاتے تو سلطان شاہ تباہ ہو جاتے۔ اور ارحم کو ابھی تک زندہ رکھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ واحد تھا جسے معلوم تھا کہ وہ ثبوت کہاں اور کس کے پاس ہیں۔
“افسوس! سمگلنگ کی دنیا کا سلطان وہ معمولی سے ثبوت نہیں ڈھونڈ پا رہا تھو!!!!” ارحم نے تمسخرانہ انداز میں کہتے سلطان کی طرف دیکھ کر تھوکا تھا۔
سلطان نے کھڑے ہوتے ہوئے محسن کو اشارہ کیا جسے سمجھ کر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہاں سے جاتے ہوئے سلطان شاہ نے کئی آوازیں سنی تھی، محسن مسلسل ارحم کو جانوروں کی طرح پیٹ رہا تھا اور ارحم چلانے کی بجائے بلند قہقہے لگا رہا تھا۔ وہ ان گزشتہ سالوں میں اس تشدد کا عادی ہو چکا تھا، مار اس پر اثر نہیں کرتی تھی۔
                               ✩━━━━━━✩
“ہیلو برو! کیسی ہے؟” آئرہ کو فون کے اس پار سے کائنات کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔
“میں ٹھیک ہوں،تو سنا! آنٹی کا کیا حال ہے؟” آئرہ نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔
“ٹھیک۔” کائنات نے مختصر سے انداز میں جواب دیا۔
“اور محل کی سجاوٹ تو ماند  نہیں پڑ گئی؟” آئرہ کے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے سوال کرنے پر کائنات کا بلند قہقہہ گونجا تھا۔
“ممی کہہ تو رہی ہیں کہ پرانے ڈیکوریشن پیسز کی اب چمک ماند پڑ گئی ہے اس لیے نئے خریدیں گے!” کائنات کا لہجہ عجیب مسخرہ سا تھا۔
“بس! ٹینشن نہ لو، آنٹی سے کہو ایک ڈیکوریشن پیس میری طرف سے گفٹ سمجھیں۔” آئرہ کے شوخی سے کہنے پر کائنات ٹھٹکی۔
“کیا کرنے والی ہو؟” کائنات اب سنجیدہ تھی۔
“کچھ پرانے حساب چکانے ہیں کیونکہ معاملات اب سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں، and you know, everything is fair in love and war۔” آئرہ نے تاریک سے لہجے میں کہہ کر فون بند کر دیا۔
                       عنایہ کو آئرہ انڈسٹریز میں کام کرتے ہوئے ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا۔ اسے آفس کے ریکارڈز کمپیوٹر میں انٹر کرنے کی  جاب ملی تھی، وہ اب تک تو مطمئن تھی کہ آئرہ کی جانب سے کوئی گڑبڑ محسوس نہیں ہوئی۔ یہاں وہ پارٹ ٹائم جاب کر رہی تھی۔
“ہیلو! میم”
“السلام علیکم میم!”
“ہیو اے گڈ ڈے میم؟” آئرہ جہاں سے گزر رہی تھی، ایسی کئی آوازیں اسے سنائی دے رہی تھیں مگر اس نے پلٹ کر ایک کا بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اس کے قدم آ کر عنایہ کے ٹیبل کے پاس رکے۔

“السلام علیکم، میم۔” عنایہ اسے دیکھ کر فوراً کھڑی ہوئی۔
“میرے ساتھ چلو، ضروری بات کرنی ہے۔” آئرہ نے کہتے ہوئے اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور سامنے بنے روم کی طرف بڑھ گئی۔ عنایہ کو اس کے انداز سے کچھ کھٹکا تھا مگر اس کی بات بھی سننی لازمی تھی۔
اس نے جب اندر قدم رکھا تو سامنے ایک بڑی سی میز تھی جس کے چاروں طرف کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ آئرہ سربراہی کرسی پر بیٹھی تھی۔ وہ شاید میٹنگ روم تھا۔
“بیٹھو۔” آئرہ کے اشارہ کرنے پر وہ اس کے ساتھ دائیں جانب  کرسی  بیٹھی۔ “نوکری کیسی لگی؟” دونوں ہاتھ باہم ملا کر تھوڑی تلے رکھتے ہوئے آئرہ نے سوال کیا۔
“بہت اچھی لگی، میم۔ میں آپ کی احسان مند ہوں کہ آپ نے مجھے یہ نوکری دی۔” عنایہ تھوڑا کنفیوز ہو رہی تھی اس کی نظروں کی تپش سے۔

آئرہ آنکھوں میں بے نام سی تپش لیے چہرہ عنایہ کے کان کے پاس لائی، “احسان تو چکانے کے لیے ہوتے ہیں نا؟” اس کے الفاظ سے عنایہ کو مکاری اور سفاکی کی بو آئی تھی اور اس کا چہرہ ہند جیسا لگا جو کلیجے چباتی ہے۔
“مطلب؟” عنایہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مقصد سے پہلے نتائج سن لو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہاری پیاری سہیلی کو جا کر بتا دوں گی کہ تم اس کی پیٹھ پیچھے میرے ساتھ ہاتھ ملا چکی ہو۔ ہماری ملاقاتوں کی ریکارڈنگز میرے پاس سیو ہیں۔ اس سے تمہاری دوست کا دل ٹوٹ جائے گا، وہ تمہیں چھوڑ دے گی اور اس کا اعتبار تم سے اٹھ جائے گا۔ دوسرا، یہ کام تو میں کسی سے بھی کروا لوں گی پر تم کہیں کی نہیں رہو گی۔ ہاں، اگر تم میرا وہ کام کر دیتی ہو تو تم ہر طرف سے محفوظ رہو گی۔ یہ میری گارنٹی ہے۔” جیسے جیسے آئرہ بول رہی تھی ویسے ویسے عنایہ کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو رہے تھے، جنہیں دیکھ کر آئرہ ہلکا سا مسکرائی۔
پھر کچھ دیر بعد عنایہ کی آواز پر وہ مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔ “مجھے کیا کرنا ہو گا؟” عنایہ کو اپنے ہی الفاظ دل چیرتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔ وہ اپنے مقصد پر سب کچھ قربان کر چکی تھی، واحد ایک دوستی بچی تھی اور آج اس نے وہ بھی قربان کر دی۔
                            ✩━━━━━━✩

عنایہ تھکی سی روم میں داخل ہوئی تھی۔ آج جسم سے زیادہ دل تھکا ہوا لگا تھا جیسے منوں بوجھ تلے دبا ہوا ہو اور اس کے قدم ایسے اٹھ رہے تھے جیسے لوہے کی بیڑیوں سے جکڑ کر اسے زبردستی چلنے پر مجبور کیا جا رہا ہو۔
کمرے میں عائشہ سٹڈی ٹیبل پر کتابیں کھولے بیٹھی تھی جبکہ نور غائب تھی۔ “نور کہاں ہے؟” عنایہ کی آواز پر عائشہ نے کتابوں سے گردن اٹھا کر اسے دیکھا۔
اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ نہ گلاب جیسی سرخ تھیں، نہ لہو جیسی۔ طوفان سے پہلے جیسے آسمان سرخ ہوتا ہے، وہ آنکھیں ویسی سرخ تھیں۔ جیسے ڈوبتا ہوا سورج سرخ ہوتا ہے، ویسی سرخ۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟” عائشہ اسے دیکھ کر فکرمند ہوئی۔
“تھکن ہو گئی ہے، بہت تھک گئی ہوں، سکون چاہتی ہوں۔ تم بتاؤ نور کہاں ہے؟” اس کی تھکن اس کے لہجے سے چھلک رہی تھی مگر وہ تھکن جسمانی نہیں، ذہنی اور جذباتی تھی۔
“تم آرام کر لو، آ جائے گی نور۔” عائشہ کو اس کی حالت دیکھ کر تشویش  ہو رہی تھی۔ اس نے پہلے اس بکھری حالت میں اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ہمیشہ اسے ہنستے ہوئے اور مضبوطی سے کھڑے دیکھا تھا۔
“تم نور بتاؤ، کہاں ہے؟” عنایہ کی سوئی نور پر ہی اٹکی تھی۔
“ٹیرس پر ہے۔” عائشہ نے گہرا سانس بھرتے ہوئے بتایا۔ وہ سمجھ گئی تھی عنایہ نہیں ٹلنے والی۔
عنایہ الٹے قدموں سے ٹیرس کی طرف بڑھی۔ وہ جب ٹیرس پر پہنچی تو سامنے ہی نور نظریں آسمان پر ٹکائے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی۔

“کیا سوچ رہی ہو؟” عنایہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے سوال کیا۔ “دنیا کو۔” نور نے کھوئے ہوئے سے لہجے میں جواب دیا۔
“دنیا کو؟” اس کے جواب کی عنایہ کو سمجھ نہیں آئی تھی۔
“میری دنیا، میرے بابا۔ مجھے آج ان کی یاد آ رہی ہے، عنایہ۔ وہ ہوتے تو زندگی مختلف ہوتی نا؟ میرے وہ تمام رشتے جن میں میں نے اپنا بچپن گزارا، جن کے ساتھ ہر دکھ سانجھا تھا، جو میرے اپنے تھے۔” کہتے کہتے وہ استہزائیہ انداز سے ہنسی۔ “ان کے چھپے چہرے اور ان کے اندر کا زہر کبھی میرے سامنے نہ آتا اگر بابا ہوتے۔ اگر بابا ہوتے تو میں ایک مختلف انسان ہوتی۔” اس نے زخمی سی نظروں سے عنایہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تو عنایہ کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے بنا کچھ کہے نور کو گلے لگا لیا تو نور نے بھی سکون سے آنکھیں بند کر لیں۔
خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں غم میں رونے کے لیے دوست کا کندھا نصیب ہوتا ہے اور نور خود کو خوش قسمت سمجھتی تھی۔
“باہر چلیں؟” تھوڑی دیر بعد عنایہ نے نور سے سوال کیا تو نور نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ باہر جا کر اپنا مائنڈ چینج کرنا چاہ رہی تھی۔ اس کا دل عجیب سا ہو رہا تھا تو اس نے سوچا کھلی فضا میں سانس لے گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔
نور بیگ لے کر عبایہ وغیرہ پہن کر آئی تو وہ دونوں باہر کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان کا ہاسٹل یونیورسٹی کے انڈر نہیں تھا بلکہ پرائیویٹ ہاسٹل تھا جس کا گیٹ دیر تک کھلا رہتا تھا۔
“آج موسم اچھا ہے نا؟” نور نے آسمان پر چھائے سیاہ بادلوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔” عنایہ نے دھیمے سے لہجے میں یک لفظی  جواب دیا۔
اس باتوں کی مشین کے اتنی مختصر بات کرنے پر نور نے حیرت سے اسے دیکھا نور کو آج وہ  بجھی سی معلوم ہوئی تھی۔ ابھی وہ وجہ پوچھتی ہے کہ ایک سیاہ شیشوں والی گاڑی ان کے قریب آ کر رکی۔ اس سے پہلے کہ نور کچھ سمجھ پاتی، گیٹ کھلا اور کسی نے پوری طاقت سے نور کو گاڑی کے اندر کھینچا تھا۔ اس کے چہرے پر کچھ سپرے کیا اور پھر نور کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ اسے ساری دنیا تاریک ہوتی محسوس ہوئی۔
پیچھے عنایہ پورے قد سے زمین بوس ہوئی تھی۔ “آہہہہہ!” وہ حلق کے بل چیخ رہی تھی۔ مٹھیاں بھر بھر کر مٹی فضا میں اچھال رہی تھی۔
“آہہہ!” وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی پر وہ رو نہیں رہی تھی۔ اس کی آنکھیں خشک تھیں، بالکل خشک۔
آئرہ نے اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نور کو ہاسٹل سے باہر لائے اور عنایہ اتنی بچی نہیں تھی کہ وہ اس مطالبے کا مطلب نہ سمجھ پاتی۔
اس مطالبے میں ہر طرف سے آئرہ کا ہی فائدہ تھا۔ اگر عنایہ مان جاتی تو بھی اس کا فائدہ تھا اور اگر نہ مانتی تو  عنایہ کی حقیقت سامنے آ جاتی کہ وہ واقعی نور سے مخلص نہیں ہے یا ڈراما کر رہی ہے۔ اور نہ ہی عنایہ اتنی بچی تھی کہ اس کی سوچ نہ پرکھ سکتی۔
عنایہ نے فون نکال کر کان سے لگایا۔ “اسکائے!!!۔” اس کے لہجے میں تڑپ تھی یوں جیسے وہ بلک رہی ہو۔ ا
نسان مشکل میں اس شخص کو سب سے پہلے یاد کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہو اور عنایہ حیدر کو افق اشفاق سے محبت تھی۔ کب سے تھی؟ وہ نہیں جانتی، بس تھی۔
“عنایہ کیا ہوا ہے؟” دوسری طرف افق کو بھی اس کی آواز سن کر تشویش ہوئی تھی۔
“اسکائی وہ۔۔۔۔، وہ لے گئے اسے، ۔۔۔۔اسکائی!”
“کون؟ کسے لے گیا عنایہ؟” اب افق کی تشویش پریشانی میں تبدیل ہوئی تھی اس کا دیوانہ سا لہجہ سن کر۔
“وہ نور کو لے گئے افق! میری آنکھوں کے سامنے لے گئے!” اس وقت وہ کسی نفسیاتی شخص کی طرح بات کر رہی تھی جیسے وہ اپنے حواسوں میں ہی نہ ہو۔
“کیا؟۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو؟ نور کہاں ہے عنایہ؟ نور سے بات کرواؤ میری!” بہن کے بارے میں ایسی بات سن کر وہ تڑپ ہی تو گیا تھا جبکہ دوسری طرف سے لائن کٹ گئی تھی۔ افق نے دوبارہ فون ملایا مگر فون بند آ رہا تھا۔ اس نے نور کا نمبر ٹرائی کیا تھا تو وہ ان ریچ ایبل تھا۔
                         ✩━━━━━━✩

اس نے جلدی سے بنا سوچے سمجھے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر کی طرف دوڑا۔ اسے اپنے حلیے کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ وہ ٹراؤزر اور ویسٹ میں ملبوس تھا۔ گاڑی نکالتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ یوشع کا نمبر بھی ملا رہا تھا۔ اسے جھنگ سے لاہور پہنچنے میں چند گھنٹے لگنے تھے اس لیے وہ یوشع کو آگاہ کرنا چاہ رہا تھا تاکہ وہ اس کے پہنچنے تک معاملات دیکھ لے۔ یوشع نے فون تیسری بیل پر ریسیو کیا۔
“السلام علیکم، سیال صاحب! کہاں مصروف ہوتے ہیں؟” یوشع نے فون اٹھاتے ہی شوخی بھرے انداز میں کہا۔
“یوشع، آپ پلیز جلدی سے نور کے ہاسٹل پہنچو۔ وہ مل نہیں رہی۔ عنایہ کہہ رہی ہے کہ اسے کسی نے اغوا کر لیا ہے۔” افق کے الفاظ یوشع کو کسی بھاری پتھر کی طرح لگے تھے جو اس کا دل کچل گئے تھے۔ وہ کچھ بول ہی نہیں پا رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا اس کا جسم مفلوج ہو گیا ہے۔اس کی سماعتوں میں تمام آوازیں گڈمڈ ہو رہی تھیں
“نور مل نہیں رہی “
“آپ پھپھو سے جنت میں ملو گے”
“ارحم صاحب آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے”
“نور اغوا ہو گئی ہے”
“میں کبیر حاتم شاہ اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”
“مما لوز شاہ جان”
“کبیر اس بدذات عورت کو نکالو یہاں سے”
“مما سے بدگمان مت ہونا یش “
کیا سب کی طرح اس کی سرمئی گڑیا بھی اس سے چھن رہی تھی.
اس نے بے ساختہ ایک خاموش التجا کی تھی، “یا اللہ! اس بار نہیں، اس بار کسی کو کھونے کا  حوصلہ نہیں ہے۔” خاموشی پر افق نے فون کان سے ہٹا کر دیکھا، شاید کال کٹ گئی ہو۔ اشعث جو کہ یوشع کے ساتھ ہی تھا، اس کا چہرہ دیکھ کر ٹھٹکا۔ پھر اس نے جلدی سے فون اس کے ہاتھ سے لے کر اپنے کان سے لگایا۔ پر دوسری طرف سے دی جانے والی خبر سن کر اس کے چہرے کے تاثرات بھی تبدیل ہوتے جا رہے تھے۔ “میں دیکھتا ہوں۔
اٹھو۔” اشعث نے یوشع کو ساتھ کھینچا تو وہ کسی بے جان وجود کی طرح اس کے ساتھ کھینچتا چلا گیا۔ اشعث نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی ہاسٹل کے راستے پر موڑ دی۔
ہاسٹل سے تھوڑی دور ہی اسے عنایہ فٹ پاتھ کے پاس بیٹھی نظر آئی۔ اس کے ہاتھ اس کے پہلو میں بے جان ہو کر گرے ہوئے تھے اور آنکھیں ایک ہی نقطے پر ساکت تھیں۔ سیاہ برقعہ دھول سے اٹا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر ایک زندہ لاش کا گماں ہوتا تھا۔
اشعث جلدی سے اس کے پاس پہنچا اور اسے بازوؤں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
“نور کہاں ہے؟” اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پرتپش لہجے میں سوال کیا۔
“لے گئے۔” عنایہ نے عجیب سے لہجے میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔
اشعث نے جبڑے بھینچے اور اسے لا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پٹخا ۔

کچھ دیر بعد اس نے گاڑی یوشع کے فلیٹ کے باہر روکی اور یوشع کی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکالا اور وہاں کھڑے احد کو اشارہ کیا تو اس نے آگے بڑھ کر یوشع کو تھاما۔ پھر اشعث نے عنایہ کو باہر نکالا اور اسے لے جا کر لاؤنج کے صوفے پر پھینکا۔ ایک صوفے پر یوشع ساکت سا بیٹھا تھا اور دوسرے پر عنایہ اوندھے منہ گری ہوئی تھی۔
“ایسے ملے گی نور؟ ہاں؟ میں ان دو زندہ لاشوں کو اٹھا اٹھا کر پھروں یا اس کو ڈھونڈوں؟ ایسے بت بن کر بیٹھنے سے وہ مل جائے گی؟ ہاں؟” اشعث بولا نہیں تھا، دھاڑا تھا۔
پھر یوشع بنا کچھ بولے اندھی طوفان بنا باہر نکل گیا۔ اشعث اور احد نے اس کی گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنی تھی۔
“آہہہہہہ” عنایہ جنونی انداز میں اٹھی۔ “مجھے نور واپس لا دو۔ مجھے نور ڈھونڈ کر دو۔ مجھے نور چاہیے۔” وہ لاؤنج میں پڑی چیزیں اٹھا اٹھا کر زمین بوس کر رہی تھی۔
“تمہارے باپ کے نوکر ہیں ہم؟ ہاں؟ ہاتھ ہلاؤ اور ڈھونڈنے میں مدد کرو، ڈرامے نہ کرو۔” اشعث کا پارہ اس کی ہر حرکت پر مسلسل ہائی ہو رہا تھا۔ جو عقل سے کام لینے کی بجائے الٹا ہوش کھو بیٹھی تھی۔
“یہ تو شیرنی ہے، بھائی! دھاڑتی ہے۔” احد نے ہونٹ گول کر سرگوشی کے انداز میں خودکلامی کی۔ مگر پھر اشعث کے گھورنے پر فوراً سیدھا ہوا۔ “تمہیں جو کہا تھا وہ کیا؟” اب اس کا رخ احد کی جانب تھا۔ “ہاں۔” احد نے اثبات میں سر ہلایا۔
“چلو! اور تم بھی آؤ اور کوئی میلو ڈراما نہیں چاہیے مجھے۔” اس نے پہلی بات احد جبکہ دوسری انگلی کھڑی کر کے وارننگ دینے والے انداز میں عنایہ سے کہی۔

                           ✩━━━━━━✩
یوشع نے گاڑی شاہ ولا کے سامنے روکی تھی۔
اسے پورا یقین تھا کہ اس کام کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ پھر وہ ویسے ہی اندھی طوفان کی طرح اندر بڑھا۔ ثمینہ بیگم نے حیرت سے اس کا انداز دیکھ رہی تھیں جو بنا انہیں سلام کیے آئرہ کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ جبکہ مفراہ ریان کو لیے اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی۔
یوشع نے دھاڑ سے آئرہ کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ “ارے! ڈیئر کزن! آپ کیسے تشریف لائے؟” آئرہ جو بیڈ پر لیٹی موبائل میں مصروف تھی وہ حیرت سے کھڑی ہوئی۔
جبکہ یوشع بنا اس کی بات کا جواب دیے بپھرا ہوا اس تک پہنچا اور اسے گردن سے پکڑ کر دیوار سے لگایا۔ آئرہ کے پاؤں زمین سے اوپر اٹھ گئے تھے۔ وہ مسلسل ہاتھ پاؤں مار کر خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر یوشع کی پکڑ مضبوط تھی۔
“قلب کہاں ہے؟ ہاں؟ کہاں ہے میری ‘قلب’؟” آئرہ کو اس کی پکڑ کی بجائے اس کے الفاظ سے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ وہ کیسے کسی کو خود سے منسوب کر سکتا تھا؟ وہ کیسے اسے اپنی کہہ سکتا تھا؟
“وہ تمہاری نہیں ہے!” آئرہ حلق کے بل چیخی۔
“وہ میری ہے۔ میرا دل ہے وہ۔ میری ‘قلب’ ہے۔” یوشع اس سے دگنی طاقت سے دھاڑا۔
وہ آج سرعام اپنے جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔ “میں نے اسے پہلی دفعہ ‘قلب’ کہہ کر پکارا تھا کیونکہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ وہ میرا دل ہے اور دل کے بنا بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے؟ اسے دیکھ کر مجھے زندگی حسین لگتی ہے۔ وہ میری پہلی نظر کی آخری محبت ہے۔ تم کیسے اسے مجھ سے چھیننے کی کوشش کر سکتی ہو؟ آئرہ! میں مر جاؤں گا اس کے بنا۔ میری سانسیں تھم جائیں گی۔ مجھ میں اس کو کھونے کا حوصلہ نہیں ہے۔” اس نے کہتے ہی فوراً آئرہ کی گردن پر گرفت ڈھیلی کی  جس سے وہ سیدھا زمین پر گری، بے حال ہو کر کھانسنے لگی تھی۔
“نہیں مرو گے۔ دیکھو، میں بھی تو نہیں مری تمہارے منہ سے تمہاری محبت کی انتہا سن کر؟ نہیں مری نا؟ میرا دل بھی دھڑک رہا ہے، میری سانسیں بھی چل رہی ہیں۔” آئرہ کے انکشاف پر یوشع نے ششدر ہو کر اسے دیکھا۔
“آئرہ سلطان شاہ کو یوشع کبیر شاہ سے محبت ہے۔ اتنی کہ وہ اپنی جان دے بھی سکتی ہے اور وہ اس کے لیے کسی کی جان لے بھی سکتی ہے۔ میں نے تم سے محبت کی ہے۔ میں نے تمہاری موت کو شکست دی ہے۔ تمہیں تو پتہ بھی نہیں ہے کہ میں نے کب کب تمہاری حفاظت کی ہے۔ تم میرا قیمتی خزانہ ہو، یوشع، جس کی حفاظت کے لیے میں نے اپنی سانسیں گروی رکھی تھیں۔ تم کیسے اتنی آسانی سے میرا خزانہ کسی اور کی جھولی میں ڈال سکتے ہو؟ ہاں؟ تم سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ محبت نہیں کر سکتا، تمہارا وہ رب بھی نہیں۔ اس نے تو تم لوگوں کے لیے موت رکھی ہے جو تمہیں اپنوں سے جدا کر دیتی ہے جبکہ میں نے تمہاری موت کو بھی ہرایا ہے۔ میں تمہارے لیے خدا سے بھی لڑ سکتی ہوں۔” آئرہ بکھرے اور جنونی سے انداز میں سامنے کھڑے شخص کو اپنی محبت کا یقین دلا رہی تھی۔
عجیب تھا نا؟ دونوں آج پہلی بار ایک دوسرے کے سامنے اپنی اپنی محبت کا اعتراف کر رہے تھے پر ایک کا محبوب سامنے کھڑا تھا اور دوسرے کا محبوب اس کے ہی محب کے انتقام کی بھینٹ چڑھ رہا تھا۔

یوشع کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ آئرہ اس پر کون سا انکشاف کر رہی تھی؟ “اگر تم واقعی مجھ سے محبت کرتی ہو تو ‘قلب’ کا پتہ بتا دو۔” یوشع نے گویا منت کی تھی۔ وہ اس کو اپنی محبت کے لیے اس کی محبت کا واسطہ دے رہا تھا جو وہ اس سے کرتی تھی۔
“میری محبت بہت خود غرض ہے۔ مجھے محبوب کی محبت نہیں چاہیے بلکہ محبوب کا ساتھ چاہیے۔” آئرہ نے گردن اٹھا کر یوشع کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جنونی انداز میں کہا۔
“میں مر جاؤں گا آئرہ! یارر واقعی مر جاؤں گا۔” یوشع سچ کہہ رہا تھا۔ نور سے دور جانے کا سوچ کر ہی اس کی سانسیں رک رہی تھیں تو جدائی تو واقعی موت لاتی۔
“تو مر جاؤ۔” آئرہ نے سفاکیت سے کہا۔
“ہاں، مر جاؤ۔ ویسے تمہارا دل تو اس کے لیے نہیں دھڑکے گا، نہ تمہاری زبان پر اس کے لیے اعتراف آئے گا، نہ تمہاری آنکھوں میں اس کا عکس چمکے گا۔ اس لیے مر جاؤ کیونکہ اس کا تو تمہیں میں ہونے نہیں دوں گی۔” آئرہ سفاکیت کی انتہا پر تھی، وہ بیک وقت ظالم بھی تھی اور عاشق بھی۔
“اللّٰه کے سوا اسے میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، تم تو بالکل بھی نہیں۔” یوشع نے جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے عزم سے کہا۔ پھر قدم وہاں سے واپس موڑ لیے۔ اس نے دروازے کے باہر ساکت کھڑی ثمینہ بیگم کو دیکھا مگر پھر نظریں چرا کر نکل گیا۔
ثمینہ جو شور سن کر وہاں آئی تھیں وہ ڈر گئی تھیں کہ کہیں معاملہ زیادہ سنگین نہ ہو کیونکہ گھر میں کوئی بھی مرد موجود نہیں تھا۔ پر جو انکشافات ان پر ہوئے تھے وہ انہیں پتھر کا کر گئے تھے۔ انہوں نے قدم آئرہ کے کمرے کے اندر رکھے تو سامنے ہی وہ بیڈ کے پاس دیوار سے ٹیک لگائے چہرہ گھٹنوں پر گرائے بیٹھی تھی۔
اس کی آنکھیں سرخ تھیں، آگ جیسی سرخ، ان میں سے گویا لپٹیں نکل رہی ہوں۔ ثمینہ کو اس کی آنکھیں دیکھ کر جھرجھری آئی تھی۔
“کیا کر رہی ہو آئرہ؟” ثمینہ بیگم نے اس کے سامنے بیٹھ کر روتے ہوئے بے بسی سے سوال کیا۔
“محبت۔” اس نے اپنی سرخ نظریں اٹھا کر ماں کو دیکھا اور جنونی سے انداز میں یک لفظی جواب دیا تو ثمینہ کو اس کے لہجے اور انداز سے خوف آیا تھا اور ساتھ ہی اس کی حالت دیکھ کر ترس بھی۔ وہ ان چند لمحوں میں صدیوں کی تھکن زدہ لگنے لگی تھی۔
“کس راستے پر چل پڑی ہو، میری جان؟” انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگاتے ہوئے دکھ سے کہا تھا۔
“اس راستے پر مما، جہاں کانٹے ہی کانٹے ہوتے ہیں، جہاں سے گزرتے ہوئے پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں، جہاں خون ہوتا ہے ہر طرف۔ سرخ خون۔ گہرا سرخ۔” وہ تھوڑی ماں کے کندھے پر رکھے کھوئے انداز میں کہہ رہی تھی۔ ثمینہ کو وہ کوئی نفسیاتی مریضہ ہی لگی تھی۔ وہ اپنے حواسوں میں قطعی نہیں تھی اس وقت۔ ان کا دل کر رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے نصیب پر ماتم کریں جس میں یوشع کا ساتھ تھا نہ اس کی محبت۔ کون سا روگ لگا بیٹھی تھی ان کی بیٹی؟ وہ اس کو کچھ کہہ بھی نہیں پا رہی تھیں کیونکہ اسے تو خود کا ہوش نہیں تھا۔
پھر انہیں محسوس ہوا کہ آئرہ کا وجود ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اسے سنبھالا پھر جیسے تیسے کر کر بستر پر لٹایا۔ آئرہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔ ثمینہ بیگم کا کلیجہ منہ کو آیا تھا، اکلوتی جوان اولاد کی حالت دیکھ کر۔ وہ مسلسل اس کے ہاتھ پاؤں مسل رہی تھیں تو کبھی اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار رہی تھیں مگر آئرہ کے وجود میں ہلکی سی بھی جنبش نہیں ہوئی۔
انہوں نے جلدی سے سلطان شاہ کو کال ملائی۔ سلطان اس وقت میٹنگ میں تھے جب ثمینہ بیگم کی کال آئی۔ کال آتے دیکھ کر ان کے ماتھے پر بل پڑے تھے مگر آئرہ کی طبیعت کا سن کر وہ فوراً میٹنگ کینسل کر وہاں پہنچے۔ “آئرہ، میری جان! مائی پرنسس! کیا ہوا ہے؟” سلطان بے تابی سے آئرہ کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولے تھے پر اس کے ہونٹوں سے ایک حرف تک ادا نہیں ہوا تھا۔ اس کے ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے اور وجود ٹھنڈا برف کی طرح۔
زندگی میں پہلی بار اس ظالم سلطان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ جان جسم کا ساتھ چھوڑ رہی ہے پر جلد ہی انہوں نے خود کی کیفیت پر قابو پایا اور فوراً آئرہ کو اٹھا کر باہر کی جانب دوڑے۔ وہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہسپتال پہنچے تھے۔ ثمینہ بیگم بھی ان کے ساتھ ہی تھیں۔ آئرہ کی حالت دیکھ کر اسے فوراً ایمرجنسی میں داخل کیا گیا تھا۔
“کیا ہوا تھا میری بیٹی کے ساتھ؟” سلطان سرخ آنکھوں کے ساتھ ثمینہ بیگم کو دیکھ کر دہاڑے تھے۔
“وہ، وہ یوشع آیا تھا، آئرہ اور اس کے درمیان کسی بات کو لے کر بحث ہو رہی تھی، جب یوشع کے جانے کے بعد میں آئرہ کے کمرے میں گئی تو اس کی حالت بگڑ رہی تھی۔” وہ جانتی تھیں سلطان کو یوشع کے گھر میں آنے کا علم لازمی ہو جائے گا مگر وہ کمرے میں ہوئی باتوں کو حذف کر گئی تھیں۔ وہ جانتی تھی اگر وہ بات سلطان شاہ کو پتہ چل جاتی تو وہ قہر برپا کر دیتے۔یوشع کا نام سن کر سلطان شاہ کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاری اتری تھی ۔
لاکھوں جانوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے والا آج اپنی اولاد کے لیے ہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھا تڑپ رہا تھا۔ انہیں آج اولاد کا دکھ سمجھ میں آ رہا تھا۔
                          ✩━━━━━━✩
نور کی آنکھ کھلی تو چند لمحے اسے اپنے حواس بحال کرنے میں لگے۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھنے کی کوشش کی مگر اندھیرے کی وجہ سے ناکام رہی۔ قدموں کی چھاپ پاس آتی محسوس ہوئی تھی۔ پھر کوئی اندر آیا اور بنا روشنی جلائے اس کے ہاتھ پاؤں کھول کر اسے بالوں سے گھسیٹ کر مختلف راہداریوں سے ہوتا ہوا ایک کمرے میں لایا اور اسے لا کر زمین پر پھینکا۔
وہ کمرہ روشنی سے نہایا ہوا تھا مگر وہاں پھر بھی تاریکی تھی، گناہوں کی تاریکی۔
نور نے جب نظریں اوپر اٹھائیں تو ایک عورت ساڑی میں ملبوس صوفے پر شاہانہ انداز میں لیٹی ہوئی تھی اور دو لڑکیاں اس کے آس پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے لباس کافی قابل اعتراض تھے جو جسم چھپانے میں ناکام ہو رہے تھے۔ پھر وہ عورت اٹھ کر آگے آئی اور نور کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔ اس کا نقاب ان لوگوں نے پہلے ہی اتار دیا تھا۔ وہ عورت دیکھنے میں بڑی سوبر سی معلوم ہو رہی تھی مگر اس کے چہرے سے اس کی مکاری اور اس کی سیاہ کاریاں جھلک رہی تھیں۔ اور چہروں سے گنہگار پہچاننا اہل نظر لوگوں کا کام ہوتا ہے۔
“آئرہ بیٹی نے شو پیس تو بڑا نایاب بھیجا ہے۔ اس کی قیمت تو کروڑوں میں ہے، کروڑوں میں۔” عورت کے ستائشی انداز میں کہنے پر دوسری دونوں لڑکیوں نے قہقہے لگائے۔
“ممی! اس ملوانی سے بڑے حساب نکلتے ہیں میرے۔ آئرہ کو بھی تھپڑ مارا تھا اس نے صرف اس کے نقاب کو چھونے کی کوشش کرنے کی وجہ سے مگر آج دیکھو یہ ہمارے سامنے کھڑی ہے اور اس کے وجود پر دوپٹہ تک نہیں ہے۔” کائنات نے نور کے وجود کو دیکھ کر استہزائیہ انداز میں کہا۔
نور کا دوپٹہ اور نقاب اس کے جسم سے غائب تھا۔ اس کے جسم پر اب صرف عبایہ موجود تھا اور اس کے بال بکھرے ہوئے تھے جو اتنے گھنے تھے کہ اس کا جسم ڈھانپ رہے تھے۔
نور کو بے ساختہ اپنی امی کی کہی بات یاد آئی تھی، “لمبے بال نیک عورتوں کی نشانی ہوتے ہیں بیٹا، یہ قیامت کے دن جب کسی کے تن پر کوئی لباس نہیں ہو گا تو یہی عورت کا پردہ رکھیں گے۔”
نور کا جسم تو چھپا ہوا تھا مگر اسے تکلیف ہو رہی تھی کہ اس کے بال غیر مردوں کی نظروں میں آ رہے تھے، جنہیں اس نے ہمیشہ ڈھانپ کر رکھا تھا۔
“میں نے تو اس دن مذاق میں تمہیں کوٹھے والی کہہ دیا تھا، تم تو سچ میں نکلی یار! سچ کہتے ہیں، انسان کے شوق اس کی شخصیت واضح کرتے ہیں۔” پاس کھڑی کائنات کو دیکھ کر نور نے حقارت بھرے انداز میں کہا تو وہ بپھر کر آگے بڑھی اور اس کے گال پر ایک تھپڑ جڑ دیا۔
ابھی وہ مزید اس پر ہاتھ اٹھاتی کہ نور نے جلدی سے زمین پر لیٹتے ہوئے اپنی ٹانگیں کائنات کی گردن کے گرد لپیٹ کر اس انداز میں گھمائیں کہ وہ فوراً زمین پر گری۔ یہ سب اس نے پلک جھپکنے کی رفتار سے کیا تھا۔ جب تک کسی کو سمجھ آتی، کائنات زمین پر پڑی کراہ رہی تھی۔ اس کی گردن میں بری طرح موچ آئی تھی، وہ اپنی گردن موو بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ “تیری تو!” دوسری لڑکی نور پر حملہ کرنے کے لیے آگے آئی تو نور جلدی سے جمپ کر کے کھڑی ہوئی اور اس کے بال اپنے ہاتھوں کے گرد لپیٹ کر اس کا سر دیوار میں دے مارا۔ لڑکی کے ماتھے سے خون کا فوارا ابل پڑا تھا۔
“آہہہہہ!” دونوں گارڈز نے نور کو قابو کرنے کے لیے دوڑے تو نور نے جھک کر ان کا وار ضائع کیا، پھر سامنے کھڑے گارڈ کے گھٹنے پر ٹانگ ماری اور اس کی ٹانگ پر کھڑے ہوتے ہوئے اچھل کر پیچھے سے آتے گارڈ کے چہرے پر مکا مارا۔ اسے اپنا جبڑا ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ اس سے پہلے وہ گارڈز اس حملے سے سنبھل پاتے، اس نے پھرتی سے ایک کے پیٹ میں ٹانگ سے اور دوسرے کے چہرے پر کہنی سے وار کیا۔ پھر ان دونوں کے سر پکڑ کر آپس میں ٹکرائے۔ وہ دونوں جو پے در پے ہونے والے وار پر بالکل نڈھال ہو گئے تھے اب بے ہوش ہو کر پورے قد سے زمین پر گرے تھے۔
کسی کو اندازہ نہیں تھا یہ معمولی سی لڑکی ان منٹوں میں دھول چٹا دے گی۔ وہ تو اسے کمزور سی لڑکی سمجھ رہے تھے مگر وہ کسی ماہر فائٹر کی طرح لڑ رہی تھی اور وہ کسی نازک لڑکی کی طرح وار نہیں کر رہی تھی بلکہ اس کا ایک مکا کھاتے ہی انسان کو دن میں تارے ناچتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔
ابھی نور پلٹتی کہ اسے اپنی گردن میں کوئی چیز چھبتی ہوئی محسوس ہوئی۔ پھر اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ یاسمین (کائنات کی ماں) نے زمین پر چاروں بےسدھ پڑے وجودوں کو حقارت سے دیکھا،”یوزلیس!!” پھر نور کے بے حال وجود کو لا کر صوفے پر لٹایا۔
                         ✩━━━━━━✩

افق فلیٹ پر پہنچا تو عنایہ صوفے پر اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے بیٹھی تھی اور احد، اشعث کمپیوٹر پر جانے کیا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ قدموں کی آواز پر عنایہ نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے افق کو دیکھا تو دوڑ کر اس کے پاس پہنچی۔
“اسکائی! وہ نور کو میرے سامنے گاڑی میں بٹھا کر لے گئے، کچھ بھی نہیں کر پائی وہ! وہ میرا نور لے گئے، میری آنکھوں کا نور!” عنایہ کا حلیہ بکھرا ہوا تھا اور اس کے لہجے میں تڑپ تھی۔ وہ دیوانی سی لگ رہی تھی ۔افق کو اس کی حالت دیکھ کر ترس آیا تھا۔
وہ نور اور عنایہ کے رشتے اور ان کی محبت سے بھی واقف تھا۔ عنایہ کے قدم لڑکھڑائے تھے، اس سے پہلے کہ وہ گرتی، افق نے اسے بازو سے تھام کر صوفے پر بٹھایا۔ پھر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے سمجھانے لگا،
“ایسی درگروں حالت بنانے سے کیا ہوگا؟ نور مل جائے گی؟ ہاں؟ ایسا  کرنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا! حالت سدھارو اپنی! خود کو سنبھالو اور نور کو ڈھونڈنے کی کوشش کرو، اسے جلدی ڈھونڈو عنایہ! اس سے پہلے کہ دیر ہو۔ اور مجھے بھروسہ ہے تم پر کہ تم اپنی نور کو ڈھونڈ لو گی، ڈھونڈ لو گی نا؟” اس کے دونوں ہاتھ تھامے بہت پیار سے اسے سمجھا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ اس سے فاصلے پر ہی رہا تھا مگر آج اس کی حالت دیکھ کر وہ خود کو روک نہیں پایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے چاہتی ہے اور اس کے الفاظ ہی اسے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ اس لیے وہ اس کا مرہم بنا تھا۔ اس کے پوچھنے پر عنایہ نے سعادت مندی سے اثبات میں سر ہلایا۔ افق اور اس کے الفاظوں نے واقعی اس کے لیے انرجی بوسٹ کا کام کیا تھا اور یہ منظر دیکھتے احد کے دل میں نہ جانے کیوں پھانپڑ مچ رہے تھے۔

وہ کینہ توڑ نظروں سے افق کے ہاتھ میں موجود عنایہ کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ تو تصور میں افق کے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اس کی ہڈیاں تک توڑ چکا تھا۔ عنایہ نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو ریلیکس کیا پھر افق کے بڑھائے گلاس کو تھام کر پانی کے چند گھونٹ بھرے اور پھر سنجیدہ چہرے کے ساتھ کمپیوٹر ٹیبل کی چیئر گھسیٹ کر بیٹھی۔ احد جو تصور میں افق کی ہڈیاں توڑ رہا تھا، وہ اس کے پاس آ کر بیٹھنے پر بوکھلایا مگر عنایہ نے اسے نظر انداز کیا اور کی بورڈ پر انگلیاں چلاتی رہی۔
“کیا کر رہی ہو؟” اشعث نے اپنی اس سائیکو ساتھی کو دیکھتے ہوئے پوچھا جس کی اسے آج تک سمجھ نہیں آئی تھی۔
“نور ہمیشہ اوٹ پٹانگ چیزیں جمع کرتی رہتی ہے۔جو ہمیشہ اس کے بیگ میں موجود ہوتی تھی اس میں ایک ٹریکنگ چپ بھی تھی۔ اسے ہی ٹریک کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔” عنایہ نے نظریں اسکرین سے ہٹائے بغیر جواب دیا۔ افق جو کہ اسکرین کو غور سے دیکھنے کے لیے ایک ہاتھ سامنے ٹیبل پر رکھے ہلکا سا عنایہ کی طرف جھکا ہوا تھا، اس وقت احد کو زہر لگ رہا تھا۔
“ننگا اٹھ کر آ گیا ہے، کپڑے نہیں پہن کر آ سکتا تھا؟” احد نے جل کر دھیمے لہجے میں کہا پر اس کی آواز  اتنی ضرور تھی جو ساتھ کھڑے اشعث کے کانوں میں باآسانی پہنچ گئی۔
“بہن اغوا ہوئی ہے اس کی، نہ کہ بہن کی ولیمے پر آیا ہے جو فور پیس پہن کر آتا اور ویسٹ پہن رکھی ہے، ننگا کہاں ہے؟” اشعث کا انداز محلے کی پھپھاکٹنی آنٹیوں جیسا تھا
“احسان کیا ہے”احد جل کر کہتے ہوئے یوشع کے کمرے میں گیا جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک جیکٹ تھی جو اس نے لا کر افق کو تھمائی۔
“پہن لو۔” اس نے اس انداز میں کہا تھا جیسے کہ بڑا احسان کر رہا ہو۔ “تھینک یو۔” افق نے جیکٹ پکڑ لی۔ اسے خود بھی اپنا حلیہ انکمفرٹیبل لگ رہا تھا۔
اس وقت تو پریشانی میں اسے علم نہیں ہو سکا تھا مگر اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ مناسب حلیے میں نہیں تھا۔ افق جب جیکٹ پہن رہا تھا تو اس کے بازوؤں کے مسل پھول کر مزید واضح ہو رہے تھے۔ اس کی باڈی اچھی تھی۔ وہ شاید جم کرتا تھا۔
” اس کے مسلز کیا مجھ سے زیادہ بڑے ہیں؟” احد اب اپنے بائیسیپ کا افق کے بائیسیپ سے کمپیریزن کر رہا تھا۔
“سگنل ڈیٹیکٹ نہیں ہو رہے۔ وہاں شاید وہاں جیمر لگایا گیا ہے جہاں نور ہے اسی لیے ہم نور کا فون ٹریک نہیں کر پا رہے تھے۔” عنایہ کی آواز پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
“میڈم! جنہوں نے کڈنیپ کیا ہے وہ نور کا بیگ اس کے سرہانے نہیں رکھیں گے۔ یقیناً اس کا فون اور وہ سو کالڈ چپ ڈسٹرائے کر چکے ہوں گے۔ یہ مووی نہیں ہے جہاں ہیروئن کا فون پاس ہی گرا ہوا مل جائے گا پھر وہ جلدی سے فون کرے گی اور پھر وہ بچ جائے گی! تھوڑا تو پریکٹیکل سوچو یار۔” احد کی ساری تقریر کے دوران عنایہ اسے “ہو گیا؟؟” نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
آپ “وکالت کریں، زیادہ کرائم انویسٹیگیٹر نہ بنیں۔” عنایہ نے نظریں گھما کر اسے ذلیل کیا تھا۔
“وکیل انویسٹیگیشن کرتا ہے پھر ہی کیس سالو کرتا ہے۔” احد نے بھی فوراً سے جتایا تھا۔
“جس دن وکیل انویسٹیگیشن کر کے کیس سالو کرنے لگے اسی دن انصاف ملنا شروع ہو جائے گا۔” عنایہ ہاتھ سینے پر باندھے استہزائیہ انداز میں گویا ہوئی۔
بہت وقت ہے نا افق آؤ بیٹھ کر ہم یہ زبانی ڈبلیو ڈبلیو ای دیکھ لیتے ہیں۔ نور تو ملتی رہے گی۔” اشعث نے ان دونوں کو لڑتے دیکھ کر طنزیہ انداز میں افق سے کہا تو دونوں نے زبانیں بند کیں۔
تبھی وہاں یوشع پہنچا، “جلدی آئرہ کی کال ڈیٹیلز نکالو۔” یوشع کے الفاظ پر عنایہ، اشعث دونوں کے دماغ میں جھماکا ہوا تھا۔ انہوں نے اس نہج پر پہلے کیوں نہیں سوچا؟
“آئرہ سلطان شاہ؟” افق نے تصدیق کرنے پر عنایہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اس کا تم لوگوں سے کیا لینا دینا؟” اس سوال پر عنایہ نظریں چرا گئیں۔ “وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔شاہ بھائی بتاتے ہیں۔” پھر سارا ملبہ اشعث پر ڈال دیا۔ اشعث نے گہرا سانس بھر کر یوشع کو یونیورسٹی کا سارا واقعہ سنایا تو افق کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔
“اتنا سب ہو گیا تم لوگوں نے مجھے کانوں کان خبر نہیں لگنے دی۔ کرتی کیا پھر رہی ہو تم؟ میری سمجھ سے تو باہر کی چیزیں ہو دونوں۔” افق کی پھٹکار کو اگنور کر عنایہ فوراً سے دوبارہ کمپیوٹر سنبھالا۔
اس کی انگلیاں کھٹا کھٹ کی بورڈ پر چل رہی تھیں اور باز جیسی نظریں اسکرین پر جمی تھیں۔ اس کے لیے یہ کام آسان تھا تھوڑی دیر بعد جا کر تمام کال ہسٹری اس کے سامنے تھی۔
“ضرار ، ثمینہ اور سلطان کے علاوہ آخری کال کائنات کو کی گئی تھی۔ کائنات کے نام پر اشعث اور عنایہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ “ریکارڈنگ نکالو اشعث۔” یوشع نے جلدی سے حکم دینے والے انداز میں کہا تو عنایہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
تقریباً 20 سے 25 منٹ بعد وہ پانچوں افراد تمام تر حسیں لیپ ٹاپ سے گونجتی آواز پر مرکوز کیے ہوئے تھے جہاں کائنات اور آئرہ کے درمیان ہوئی گفتگو چل رہی تھی اور ان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ سب کے چہرے کے تاثرات سخت ہوتے جا رہے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اتنا ناسمجھ نہیں تھا کہ ان الفاظ میں چھپا مطلب نہ سمجھ پاتا۔
“یاسمین کا ایڈریس دے” اشعث کے براہ راست احد کو دیکھ کر کہنے پر وہ گڑبڑا گیا۔
“میرے پاس کہاں سے آیا؟” اس کی آواز پھنس پھنس کر نکلی تھی۔ جواباً اشعث نے اسے معنی خیز مسکراہٹ سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو، “میرے سامنے مت بن۔” تو احد نے گردن نیچے کی اور دھیمے سے ایڈریس لکھوایا۔ اشعث کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“قسم سے! ایسی جگہوں پر نہیں جاتا، یہ تو یہاں کی ایک لڑکی میری کلائنٹ تھی جس کا ایک کیس سالو کیا تھا، اسی لیے پتہ ہے۔” احد نے ان تینوں کو دیکھ کر صفائی دی جو عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“سچی!” اب اس نے براہ راست عنایہ کی آنکھوں میں دیکھ کر جتایا جو اسے نظر انداز کر آگے بڑھ گئی تھی جبکہ یوشع پہلے ہی وہاں سے جا چکا تھا۔
“تو ہم نے کون سا کہا کہ تم وہاں کے کلائنٹ تھے؟” افق نے احد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا جبکہ  احد کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔ اس کی بات کا مطلب جان کر جبکہ اشعث اپنا قہقہہ نہیں روک پایا تھا۔
“کمینہ سالا! اکیلے میں نہیں پوچھ سکتا تھا۔” احد اشعث کے منہ پر مکا جڑ کر جوابی حملے سے پہلے ہی بھاگ گیا۔
“تو میری بیوی نہیں ہے سالے جو تجھے کونوں میں بلاتا پھروں۔” اشعث نے بھی پیچھے سے زوردار آواز لگائی۔
“گارڈز چاہیے، ایڈریس بھیج رہا ہوں، وہاں پہنچا دینا۔” یوشع کسی کو ہدایت دے رہا تھا۔ پھر دوسری طرف کی بات سن کر کال کاٹ دی۔
“یہ سب کب  سیکھا تم نے؟” افق کا اشارہ عنایہ کی ہیکنگ سکلز کی طرف تھا۔
“فکر نہ کریں، لاہور آ کر نہیں سیکھا، جھنگ سے سیکھ کر آئی تھی۔” وہ کہتے رکی ہی نہیں تھی جبکہ پیچھے کھڑے افق نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ دونوں لڑکیاں ہی اس کی سمجھ سے باہر تھیں، ہمیشہ سے۔


سلطان شاہ آئی۔سی۔ یو کے باہر کھڑے تھے، اندر آئرہ کا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا۔ چہرے پر آکسیجن ماسک، مشینوں میں جکڑی آئرہ کو دیکھ کر ان کو اپنا دل لہو لہو ہوتا محسوس ہوا تھا۔ یہ وہ بیٹی تھی جسے انہوں نے ایک سوئی کے چبھنے جتنی تکلیف نہیں دی تھی۔ وہ جو ظالم مشہور تھے، اپنی بیٹی کو انہوں نے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا تھا۔ ان کی زندگی میں اگر کوئی عزیز ہستی تھی تو وہ صرف آئرہ تھی، اور آج اس کو اس حالت میں دیکھنا کس قدر تکلیف دہ تھا، یہ بس وہی جانتے تھے۔ اولاد کے غم بڑے ظالم ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر کے باہر آنے پر سلطان شاہ جلدی سے ان کی طرف بڑھے  “ڈاکٹر، میری بیٹی کیسی ہے؟” ان کے لہجے کا ازلی غرور، رعب و دبدبہ کہیں نہیں تھا، وہاں بس عاجزی تھی اور بے تابی۔
“شاہ صاحب، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے اور ایسا لگ رہا ہے وہ خود بھی ہوش میں نہیں آنا چاہ رہی ہیں۔ وہ کسی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کر رہی ہیں  اس طرح بے ہوش رہ کر… آپ بس دعا کریں۔”
ڈاکٹر کے الفاظ سن کر سلطان کے قدم زندگی میں پہلی بار لڑکھڑائے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ یہ ہاتھ تو مانگنے کے عادی ہی نہیں تھے۔ انہوں نے اس خدا کے سامنے سر تو بہت بار جھکایا تھا، پر سجدہ کبھی نہیں کیا تھا، کیونکہ سجدہ کرنے اور سر جھکانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔
“میں سلطان شاہ!!! مانگوں؟؟؟” انہوں نے نظریں اپنے ہاتھوں پر جمائے استہزائیہ انداز میں کہا۔ “یہ ہاتھ چھین لینا جانتے ہیں، مانگنا نہیں۔” ان کا لہجہ تاریک ہو رہا تھا۔ وہ ایک باپ سے پھر سلطان بن رہے تھے۔
سلطان کبھی بے بس نہیں ہوتا۔ وہ بھی اب ابلیس کی طرح سرکشی پر اتر آئے تھے۔
“میں تم سے کیوں مانگوں؟ ہاں، مجھے مانگنا شیوہ نہیں دیتا۔” اور آسمان کو دیکھتے ہوئے وہ کرّ و فر سے جا کر چیئر پر بیٹھ گئے۔ ہر آسمان کو دیکھنے والا بے بس، غمگین اور مظلوم نہیں ہوتا، کچھ مہوتے ہیں۔

دوسری طرف آئرہ جو مصنوعی سانس لے رہی تھی، اس کے ذہن میں مختلف سینز ابھر رہے تھے جو اس کی زندگی کی حسین یادوں میں سے تھے۔ تین سالہ آئرہ اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے یوشع کی طرف بھاگ رہی تھی۔
“یش!”
“یس گڑیا!”
یوشع جو تھکا سا اسکول سے واپس آیا تھا، آئرہ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“پک می!” آئرہ نے ننھے بازو اس کی طرف بڑھائے تو یوشع نے مسکراتے ہوئے اسے گود میں اٹھا لیا، پھر اس کے ماتھے کا بوسہ لیا۔
“آئی مس یو، یش!” وہ بازو اس کے گلے میں ڈالے، معصوم سے لہجے میں کہتی یوشع کو بہت پیاری لگی تھی۔ شاہ ولا میں اس کی ماں کے بعد وہ واحد تھی جو اتنی شدت سے اس کا انتظار کرتی تھی۔
“او! یش آلسو مسڈ دس کیوٹ ڈال!” یوشع نے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔
“پھر مجے شکول ساتھ لے دایا ترو(پھر مجھے سکول ساتھ لے جایا کرو۔)” آئرہ نے اپنی سیاہ آنکھیں پٹپٹاتے کہا تھا۔ یوشع بے ساختہ ہنس دیا۔
“آئی ایم نات جوتنگ۔ آئی آلویز وانت ٹو سٹے ود یو I’m not joking I always want to stay with you!” اسے لگا وہ اس کا مذاق اڑا رہا ہے، اس لیے فوراً صفائی میں بولی۔
“بالکل گڑیا! میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گا، ہمیشہ۔” یوشع کے کہنے پر آئرہ کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
“سچی؟” اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
“مچی” کہتے ہی اس نے آئرہ کے پیٹ پر گدگدی کی تو آئرہ کی شفاف ہنسی ماحول میں گونج اٹھی۔


پھر منظر تبدیل ہوئے۔
آٹھ سالہ آئرہ، اپنے سیاہ لمبے بالوں میں الجھی سی، ہاتھ میں ہیئر برش پکڑے جھنجھلائی سی یوشع کے کمرے میں داخل ہوئی۔ یوشع پہلے سے کچھ بڑا ہو گیا تھا اور چہرے پر ہلکی ہلکی مونچھیں بھی پھوٹ رہی تھیں۔
“یش! سلجھاؤ انہیں، مجھ سے نہیں ہو رہے!” اس نے چیختے ہوئے برش یوشع کے سامنے پھینکا تو وہ ہڑبڑایا۔
“ادھر آؤ۔” اور پھر لے جا کر آئرہ کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا اور برش اس کے ہاتھ سے لے کر اس کے بال بنانے لگا۔ پھر اس کے بالوں کی چٹیاں گوندھ کر نیچے ربر بینڈ لگا کر سیکیور کیا۔ یوشع بچپن سے اس کے بال بنا بنا کر اس کام میں ماہر ہو چکا تھا۔ وہ ثمینہ کو آئرہ کے بال نہیں کٹوانے دیتا تھا، اسی وجہ سے آئرہ کے بال کمر سے نیچے آتے تھے۔
منظر پھر تبدیل ہوئے تھے۔
اب آئرہ بھی لڑکپن میں قدم رکھ چکی تھی اور یوشع کی محبت کی پہلی کونپل بھی تب ہی اس کے دل میں پھوٹی تھی، پر یہ کلی کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی تھی۔
“بابا اس وقت باہر کیا کر رہے ہیں؟” آئرہ جو دیر رات تک ایگزامز کی تیاری کر رہی تھی، سلطان شاہ کو اس وقت  باہر کی طرف جاتا دیکھ اشتیاق کے مارے وہاں ان کے پیچھے گئی ۔
سلطان شاہ سرونٹ کوارٹر میں داخل ہوئے  جہاں محسن رہ رہا تھا۔ وہاں ٹیبل پر بہت سے کاغذات بکھرے ہوئے تھے اور محسن اور سلطان ان پر سر جھکائے کھڑے تھے۔ مگر سلطان شاہ کے الفاظ نے آئرہ کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔
“اگر ویسے منہ نہیں کھول رہا تو اس کے بھانجے یوشع کو مار دو یا پھر موت کے منہ میں دھکیل دو کہ اس پر اس کی ہر سانس تنگ ہو جائے۔ جب بھانجا تڑپے گا تو ماموں بھی تڑپے گا۔” سلطان شاہ سفاکی سے کہتے جا رہے تھے اور ہر لفظ پر آئرہ کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
“نہیں بابا جان! ایسا مت کریں۔ خدا کے لیے بابا! آپ کو میری قسم ہے بابا! یش کو کچھ مت کیجیے گا بابا! یوشع کو کچھ ہوا تو آئرہ مر جائے گی!” وہ تڑپ کر باپ کے پاس پہنچی تھی اور اب ان کے دونوں ہاتھ تھامے التجا کر رہی تھی۔
سلطان شاہ نے حیرت سے بیٹی کو دیکھا تھا، مگر جو محبت انہیں آئرہ کی نظروں میں یوشع کے لیے نظر آئی تھی، اس محبت نے انہیں گنگ کر دیا تھا۔
“آئرہ! واپس جاؤ۔” انہوں نے سخت انداز میں کہا، پر اس دیوانی پر کیا ہی اثر ہونا تھا۔
“نہیں! آپ وعدہ کریں، آپ یش کو کچھ نہیں کہیں گے۔ آپ دیکھیں نا، اس کے بارے میں یہ سب سن کر ہی میری سانسیں رک رہی ہیں، میرا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے۔ آپ کی بیٹی مر جائے گی بابا! آئرہ یوشع کے بغیر واقعی مر جائے گی !” وہ تڑپ رہی تھی۔ وہ اپنے باپ کو یقین دہانی کروا رہی تھی کہ وہ یوشع کے بغیر مر جائے گی اور سلطان شاہ کو واقعی اس کے ہاتھوں کا لمس سرد محسوس ہو رہا تھا۔

“ٹھیک ہے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ابھی ہم یوشع کو کچھ نہیں کہیں گے۔” سلطان نے بیٹی کو سینے سے لگاتے ہوئے وعدہ کیا تھا، پر وہ یہاں بھی لفظوں سے کھیل گئے تھے۔
مگر اس وقت آئرہ معصوم تھی جو سمجھ نہیں پائی تھی۔ پر اس سفاک دنیا نے اس سے اس کی معصومیت چھین لی تھی۔
وہ معصوم آئرہ باپ کے سینے پر سر رکھے، ان کے وعدے پر ایمان لے آئی تھی۔
دھواں سا پھر ابھرا اور منظر اس میں تحلیل ہوتے گئے۔
یوشع تب یونیورسٹی میں تھا اور آئرہ ابھی تک معصوم۔ سلطان شاہ نے یوشع پر حملہ کروایا تھا جس میں یوشع شدید زخمی ہوا تھا، پر اس حملے کو ایکسِیڈنٹ کا رنگ دیا گیا تھا۔
یوشع کے دماغ پر شدید چوٹ آئی تھی اور اس وقت آئرہ درگروں حالت میں آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں پر یوشع کا خون لگا تھا۔
اس کے باپ نے اس سے کیا وعدہ توڑ دیا تھا؟ کیا سچ میں اس کا باپ اتنا ہی سفاک تھا کہ اپنی اولاد کی محبت کا بھی خیال نہیں آیا؟ وہ کیوں تھی ظالم کی بیٹی؟ اس کی محبت اپنے خود کے ہی باپ کے ظلم کی بھینٹ چڑھ رہی تھی۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، اس کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ اس نے اشعث اور ضرار کو ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔ پھر ڈاکٹر نے ان سے کچھ کہا تھا کہ ان کے چہرے پر سکون اترا۔ شاید آپریشن کامیاب رہا تھا اور یوشع سٹیبل تھا۔
دونوں سکون سے مسکرا دیے پر عنایہ نہیں مسکرا سکی۔ وہ جانتی تھی، اگر یوشع آج بچ گیا ہے تو  اس کا باپ پھر اسے مروانے کی کوشش کرے گا۔  اس نے خود کو باہر کی طرف قدم بڑھاتے دیکھا تھا۔

کچھ دیر بعد، خون سے رنگے ہاتھوں، آنسوؤں سے تر چہرے اور دیوانوں کی سی حالت میں وہ اپنے باپ کے سامنے کھڑی تھی۔
“کیوں کیا؟” اس نے صرف اتنا ہی پوچھا تھا۔ نہ وہ چیخی تھی، نہ چلائی تھی۔
“جذبات سے نکل کر سوچو آئرہ ۔تم میری صرف ایک ہی بیٹی ہو، جبکہ کبیر کا بیٹا… تمہارے مقابلے میں یوشع کا پلڑا بھاری ہے۔ میں یہ سب تمہارے بہتر مستقبل کے لیے ہی کر رہا ہوں۔” سلطان نے اسے تحمل سے سمجھانے کی کوشش کی۔
“میری سانسیں روک کر کون سا مستقبل بنا رہے ہیں؟ ہاں! اور جو آپ نے وعدہ کیا تھا، اس کا کیا؟” یہ آئرہ آج کی آئرہ سے بالکل مختلف تھی۔ یہ آئرہ ناسمجھ تھی، یہ آئرہ حساس تھی، اس آئرہ کا دل نرم تھا۔
“میں نے تم سے صرف یہ وعدہ کیا تھا کہ میں ابھی، یعنی اس وقت اسے کچھ نہیں کروں گا، یہ نہیں کہا تھا کہ دوبارہ کچھ نہیں کروں گا۔” سلطان شاہ نے چیئر پر جھولتے ہوئے سکون سے جواب دیا، اور آئرہ آنکھیں پھاڑے سامنے بیٹھے اس شخص کو دیکھ کر رہ گئی جو اس کا باپ تھا۔ پھر اس نے گہرا سانس بھرا۔
“میری محبت کی جان بخشنے کا کیا لیں گے آپ؟” آج ناسمجھ آئرہ کو سمجھ آ گیا تھا کہ اس دنیا میں اگر جینا ہے تو سمجھوتہ کرنا سیکھنا ہو گا۔
“تمہاری محبت۔” سلطان نے بیٹی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، بنا کسی لڑکھڑاہٹ کے الفاظ ادا کیے۔
“مطلب ؟؟؟”
“مطلب یہ کہ تم یوشع سے محبت کرنا چھوڑ دو، میں اسے بخش دوں گا۔” سلطان آج اپنی بیٹی سے اس کی محبت کا سودا کر رہا تھا۔
“منظور ہے۔” آئرہ نے فوراً جواب دیا۔ اس نے محبت کے حصول پر محبت کی حفاظت چنی تھی۔
اس کے جواب پر سلطان شاہ مسکرا دیے۔ مگر پھر آئرہ وہاں رکی نہیں تھی، فوراً وہاں سے نکل آئی تھی۔ وہ بلاوجہ سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی تھی۔ پھر ایک جگہ فٹ پاتھ پر جا کر بیٹھ گئی۔

“کیا ہوا ہے پتر؟ لگتا ہے بڑی مسافت طے کر کے آئی ہو۔” آواز پر آئرہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک فقیر کھڑا تھا۔
“لاعلمی سے آگاہی تک کا سفر طے کر آئی ہوں بابا۔” آئرہ کے تھکے سے انداز میں جواب دینے پر وہ فقیر مسکرا دیا۔
“بڑا اوکھا راستہ پار کیا ہے تو نے تیرا تھکنا بنتا ہے۔” اب وہ فقیر آئرہ کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔
“محبت کر آئی ہے یا محبت گنوا آئی ہے؟” وہ شاید آئرہ کے چہرے پر کچھ کھوج رہا تھا۔
“محبت دفنا آئی ہوں۔” آئرہ نے مردہ سے لہجے میں جواب دیا۔
“چل کملی! محبت کہاں مٹی تلے جاتی ہے یہ تو امر ہوتی ہے۔ بندہ مر جاتا ہے، محبت رہ جاتی ہے۔ یہ تو دکھ جاتی ہے، آنکھوں سے، لفظوں سے، عمل سے۔ محبت مُکایاں مَک جاتی نا تو دنیا کے غم نہ مُک جاتے۔ آدھی دنیا کا تو مسئلہ ہی محبت ہے۔” فقیر کا انداز جتانے والا تھا۔

“اگر ایسا ہے تو میری آنکھیں آج سے بے نور، الفاظ زہر اور اعمال، اعمال بد۔۔۔۔ محبت کا متضاد نفرت ہے نا، تو آج سے میری محبت پر نفرت کا پردہ چڑھ جائے گا۔ محبت تو رہے گی، پر نفرت اسے چھپا لے گی۔” آئرہ جیسے خود سے ہی وعدہ کر رہی تھی۔
“کیا کر آئی ہے پتر؟” فقیر بھی ایک لمحے کے لیے اس کے لفظوں پر دہل گیا تھا۔
“خود کو گروی رکھ کر  محبوب بچا لائی ہوں۔ اس کی محبت میری زندگی تھی اور آج اس کی زندگی کے بدلے اپنی زندگی کا سودا کر آئی ہوں۔ آپ کے رب نے خودکشی حرام کر رکھی ہے، اس لیے میں اپنی سانسیں بچا لائی ہوں جو اس کے سانسوں کی روانی کے ساتھ چلتی ہے۔”
“پتر! نعمت ملی ہے محبت کی صورت، اس کی قدر کرنا۔” فقیر نہ جانے اسے کیا جتانا چاہ رہا تھا۔
“میں اس کی حفاظت کروں گی۔” آئرہ نے اپنا عہد پھر دہرایا۔
“اور اگر ناقدری پر نعمت چھن گئی؟” اب کی فقیر نے گویا تاک کر نشانہ لگایا تھا۔ اور آئرہ لاجواب ہوئی تھی۔ پھر بنا کوئی جواب دیے وہاں سے اٹھ گئی، اس کے پاس واقعی جواب نہیں تھا۔


آئرہ قینچی ہاتھ میں پکڑ ڈریسنگ مرر کے سامنے بیٹھی، اپنے عکس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔ اس نے اپنے بال پکڑے اور کینچی سے انہیں کاٹ دیا۔
“آنی! گڑیا کے بال نہ کٹوایا کریں، اس کے بال بڑے خوبصورت ہیں، مجھے اس کے بالوں کے ساتھ کھیلنا پسند ہے۔” کسی کی معصوم آواز اس کے ارد گرد گونجی تھی، اور اسی کے ساتھ ہی ایک آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر آئرہ کے رخسار پر گرا تھا۔
“آئرہ! بال باندھ دوں لاؤ تمہارے ایسے خراب ہو کر ٹوٹ جائیں گے۔” مٹی میں کھیلتی ہوئی آئرہ کا بازو پکڑ کر اسے کوئی ساتھ لے جا رہا تھا

اور بالوں کی لٹ کٹ کٹ کر زمین پر گر رہی تھی۔ آئرہ نے سرخ آنکھیں آئینے کی طرف اٹھائیں۔ اس کے بال جو کمر سے نیچے جاتے تھے، اب کانوں تک آ رہے تھے۔
آج آئرہ معصوم نہیں رہی تھی۔ وہ دنیا دار ہو گئی تھی۔ وہ اپنے باپ کی سفاکیت سیکھ گئی تھی۔ آج آئرہ، آئرہ سلطان شاہ بن گئی تھی جو سفاک، بے رحم اور ظالم تھی۔
کچھ دنوں بعد یوشع ڈِسچارج ہو کر گھر آیا۔ آئرہ کو دیکھ کر پہلے وہ حیران ہوا، پھر غصے کی لہر اس میں دوڑی تھی۔ جب تک وہ ہسپتال رہا تھا، آئرہ ایک بار بھی اسے دیکھنے نہیں آئی تھی، جو ایک حیران کن بات تھی۔ اور اب آئرہ کا حلیہ دیکھ کر اسے واقعی طیش آیا تھا۔
“گڑیا! یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے؟” وہ آئرہ کے سر پر کھڑا اس سے سوال کر رہا تھا، اور آئرہ نے بے تاثر نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“تم سے مطلب؟” آئرہ نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
“اس بات کا مطلب؟” یوشع کو اس کا یہ انداز عجیب لگا۔ یہ آئرہ کے بات کرنے کا انداز تو نہ تھا۔
“مطلب یہ کہ میں آئرہ سلطان شاہ ہوں، اور یوشع کبیر شاہ! تمہاری اتنی حیثیت نہیں ہے کہ تم مجھ سے سوال جواب کرو۔” وہ ہر لفظ چبا کر ادا کر رہی تھی، اور یوشع ہر لفظ پر گنگ ہو رہا تھا۔ پھر وہ زخمی سا مسکرا دیا۔
“صحیح کہا تم نے آئرہ سلطان شاہ۔” یوشع نے درد بھری مسکراہٹ سے جتاتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ آج یوشع سے ایک اور رشتہ چھین لیا گیا تھا۔ آج سے اس کی گڑیا آئرہ سلطان شاہ ہو گئی تھی۔وہ سمجھ گیا تھا سلطان اس سے ایک اور مخلص رشتہ چھین چکا ہے ۔

پیچھے آئرہ نے بمشکل اپنے بکھرتے جذبات سنبھالے تھے۔ اس نے واقعی محبت کو نفرت کی مار مارا تھا۔ اس دن کے بعد یوشع نے کبھی اسے گڑیا کہہ کر نہیں پکارا۔
“یوشع چلا گیا؟” ضرار جو یوشع کے لیے پانی لایا تھا، اسے وہاں نہ پا کر آئرہ سے گویا ہوا۔
“ہاں چلا گیا۔” جس طرف یوشع گیا تھا، وہاں نظریں جما کر تکلیف سے جواب دیا، نہ جانے وہ اس کی زندگی سے جانے کی بات کر رہی تھی یا لاؤنج سے۔ اس کے انداز پر ضرار ٹھٹکا تھا، پھر کندھے اچکا کر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

منظر پھر تبدیل ہوئے۔ ۔
اب یوشع اس کے سامنے ویسے ہی کھڑا تھا جیسے کبھی آئرہ سلطان شاہ کے سامنے۔ اس دن سلطان شاہ کو آئرہ پر ترس آیا تھا، اور نہ آج آئرہ کو یوشع پر۔
“میں مر جاؤں گا “
“تو مر جاؤ۔” اپنے ہی کہے ادا کی الفاظ جب کانوں میں گونجے تو ایک دم اس کی حالت خراب ہوئی تھی۔ اس کی دھڑکنیں خطرناک حد تک بڑھ رہی تھیں اور اس کو سانس لینے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی۔ وہ حد سے زیادہ پینک ہو رہی تھی۔

“ڈاکٹر! پیشنٹ پینک ہو رہی ہے!” نرس نے چلا کر کہا تو باقی تمام ڈاکٹرز بھاگ کر آئرہ کے قریب آئے، اس کا بی پی خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔ ڈاکٹرز بھی اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے تھے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔ شاید وہ بے ہوشی کی حالت میں بھی تکلیف محسوس کر رہی تھی۔
“نرس! انجیکشن!” ڈاکٹر کے کہنے پر نرس نے جلدی سے انجیکشن ان کی طرف بڑھایا تو فوری طور پر ڈاکٹر نے آئرہ کی جلد میں پیوست کیا۔ کچھ لمحات بعد آئرہ کی حالت کچھ بہتر ہوئی، اس کی سانسیں تسلسل پر آئیں اور ہارٹ بیٹ بھی کچھ نارمل ہوئی۔ سب ڈاکٹرز نے چیک اَپ کے بعد سکون کا سانس خارج کیا۔
ڈاکٹر جب آئی سی یو سے باہر آئے تو سلطان شاہ دوڑ کر ان کی طرف بڑھے۔
“شی از آؤٹ آف ڈینجر ناؤ۔ پر ان کی حالت کافی خراب تھی۔ وہ شدید سٹریس کا شکار ہیں، پر اب وہ بہتر ہیں۔ اور انشاءاللہ کچھ دیر تک انہیں ہوش آ جائے گا۔” ڈاکٹر کے الفاظ نے سلطان شاہ کو زندگی کی ڈور تھمائی تھی۔ انہیں ہاتھ نہیں پھیلانے پڑے اور ان کی بیٹی صحیح سلامت تھی۔ وہ سکون سے لا کر کرسی پر بیٹھ گئے، جبکہ صائمہ اٹھ کر شکرانے کے نوافل ادا کرنے چلی گئیں۔

 ۔                      ✩━━━━━━✩

گاڑیوں کا ایک قافلہ اس گناہوں کے محل کے سامنے آ کر رکا تھا۔ سب سے پہلے یوشع باہر نکلا اور دیوانوں کی طرح اندر کی طرف بھاگا۔ اس کے پیچھے ہی افق، اشعث، احد اور عنایہ بڑھے تھے۔ راستے میں گارڈز نے ان کا راستہ روکا تو یوشع نے ان کو دھنک کر رکھ دیا تھا۔
یہ وہ معصوم یوشع تو نہ تھا۔ وہ تو سرخ آنکھوں اور بکھرے حلیے میں کوئی جنونی ہی لگ رہا تھا، گویا کوئی اس کے راستے میں آیا تو وہ چیر پھاڑ دے گا۔
شور کی آواز پر سب عورتیں کمروں سے باہر آنے لگی تھیں، اور صحن میں رقص کی محفل ہو رہی تھی، وہاں بھی یکدم خاموشی چھا گئی۔ گھنگرو اور موسیقی کی تال تھم گئی تھی۔
شریف اور عزت دار مرد وہاں بدنام زمانہ طوائفوں پر نوٹوں کی بارش کر رہے تھے۔ اور حیرت کی بات پتا ہے کیا ہے؟ ہمارے معاشرے کے اصولوں کے مطابق کوئی مرد اگر سینکڑوں راتیں بھی اس جگہ پر گزار دے تو بھی وہ پاک دامن رہتا ہے، چونکہ وہ مرد ہے۔ وہیں اگر عورت اس گلی سے گزر بھی جائے تو وہ طوائف کہلاتی ہے جس کی کوئی عزت نہیں ہوتی جس کی قیمت چند نوٹ ہوتے ہیں جو آتے بھی ان عزت دار مردوں کی جیب سے ہیں۔
اس صورتحال پر تخت پر سکون سے لیٹی پان چباتی یاسمین بھی بوکھلائی تھی۔ یوشع سیدھا یاسمین کے پاس پہنچا تھا اور جا کر اس کی گردن دبوچی۔
“قلب کہاں ہے؟” یوشع کا لہجہ اس قدر سخت تھا کہ یاسمین کو بے ساختہ جھجھری سی آئی۔
“قلب تو سینے میں ہوتا ہے بابو۔” وہ ایک مکار عورت تھی، اتنی جلدی قابو میں نہیں آنے والی تھی۔
“ہوتا ہو گا پر میرا نہیں ہے، میرا دل کسی اور دھڑکن کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ بتاؤ، نورِ قلب کہاں ہے؟ ورنہ مجھے خود بھی نہیں پتا میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا۔” یوشع گردن پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے تنبیہ کر رہا تھا۔
“بابو، یہاں سینکڑوں لڑکیاں ہیں جو کسی کا دل، کسی کی خوشی، کسی کی سانسوں کی وجہ، کسی کی محبوبہ، کسی کی بیوی اور کسی کی بیٹی تھی۔ اور آخر میں وہی کمینے انہیں یہاں بیچ کر چلے گئے تھے۔ اب ان میں سے تمہاری دھڑکن کون سی ہے، مجھے کیا پتا؟” مکار عورت تھی، مگر بات کھری کر گئی تھی۔
“گارڈز!” یوشع کو سمجھ آ گئی تھی کہ یہ ٹیڑھی عورت ہے اور سیدھی بات اس کی سمجھ میں نہیں آنے والی۔ اور یوشع کے پکارنے پر گارڈز کی ایک فوج اندر داخل ہوئی تھی۔ پورا محل صرف گارڈز کے ساتھ ہی بھر گیا تھا اور وہاں موجود ہر شخص پر بندوقیں تان چکے تھے۔ یاسمین بیگم صورتحال پر حد سے زیادہ بکھلائی تھیں۔ انہیں اپنے آپ ہوا میں تحلیل ہوتا محسوس ہو رہا تھا اور ان کی کنپٹیوں سے پسینہ ٹپک پڑا تھا۔ وہ واقعی یوشع سے اس قدر زیادہ ہمت کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
“قلب؟؟”یک لفظی سوال پر یاسمین نے فوراً اسے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا تو عنایہ فوراً ہی اس کی طرف لپکی تھی۔ یاسمین کو سمجھ آ گیا تھا کہ اگر وہ جواب نہیں دے گی تو بھی انہیں نور کو ڈھونڈنا مشکل نہیں ہو گا۔ اس لیے اس نے بتا کر اپنی جان چھڑوائی تھی۔
عنایہ جب کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ہی کرسی پر نور بندھی ہوئی تھی اور اس کی گردن نیچے کی جانب گری ہوئی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر عنایہ کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔ وہ دوڑ کر نور تک پہنچی۔
“نور! نور! نور!” وہ اس کے گال تھپتھپا ا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی، پھر جلدی سے اسے رسیوں سے آزاد کیا۔
عنایہ کی نظر ایک طرف رکھے پانی پر پڑی تو اس نے فوراً نور کے چہرے پر چھڑکا۔
پانی چہرے پر گرنے کی وجہ سے نور نے مدھم سی آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھنے کی کوشش کی، پر سامنے عنایہ کو دیکھ کر وہ فوراً اس کے گلے لگ گئی تھی۔ وہ جتنی مرضی بہادر بن جاتی، تھی تو ایک لڑکی ہی نا، اور اس کے لیے عزت کا خوف موت کے خوف سے زیادہ بڑا تھا اور اس وقت عنایہ کو اپنے سامنے دیکھنا اسے کسی نعمت سے کم نہیں لگا تھا۔
عنایہ نے اس کی کمر سہلاتے ہوئے اسے تسلی دی، پھر اسے سہارا دے کر اٹھایا اور بیڈ سے چادر کھینچ کر اس کے سر پر اوڑھائی، جسے نور نے اپنا چہرہ بھی کور کر لیا۔
نور کو صحیح سلامت سیڑھیاں اترتے دیکھ کر یوشع کو اپنی رگوں میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا۔
یاسمین نے جب یوشع کی توجہ نور کی طرف مرکوز پائی تو فوراً ساتھ پڑے میز سے چھری اٹھا کر اس کی کلائی پر وار کیا جسے وہ اس کی گردن تھامے ہوئے تھا۔ یوشع کی کلائی سے خون ابل پڑا تھا۔ شاید کوئی نس وغیرہ کٹ گئی تھی۔
اس سے پہلے کہ یاسمین دوبارہ وار کرتی، گولی فضا کو چیرتی آئی اور یاسمین کے بازو کے آر پار ہو گئی۔ وہ بلبلا کر نیچے گری تھی۔
یوشع، افق اور احد نے حیرت بھری نظروں سے سیڑھیوں پر کھڑی عنایہ کو دیکھا جو ہاتھ میں پسٹل تھامے کھڑی تھی۔ اس لڑکی کے ایک جیتی جاگتی انسان پر گولی چلاتے ہوئے نہ ہاتھ کانپے تھے اور نہ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ کھڑی تھی۔ پھر اس نے بندوق کی نوک پر پھونک ماری اور اسے دوبارہ اپنی پاکٹ میں ڈالا۔ نور نے بھی قدرے مڑ کر ایک نظر ساتھ کھڑی عنایہ کو دیکھا، مگر کہا کچھ نہیں۔ اور اشعث کے لیے یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں تھی۔

گارڈز فوراً حرکت میں آئے تھے اور ساتھ ہی پولیس وین کے سائرن کی آواز سنائی دی تھی۔ یوشع کے کہنے پر وہ لوگ نور کو لے کر جلدی سے وہاں سے نکل آئے تھے۔ کمپلین احد نے کی تھی کیونکہ وہ ایک وکیل تھا تو اس سے زیادہ سوال و جواب نہ ہوتے اور نور کو بھی یوشع پولیس انکوائری میں شامل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔
یوشع کا خون مسلسل بہہ رہا تھا۔ اشعث اس کی کلائی پر رومال رکھے اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے یوشع پر غنودگی طاری ہو رہی تھی۔ زخم کافی گہرا تھا۔

                              ✩━━━━━━✩

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *