سکوت قسط نمبر:۱۱
ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔
فرینکفرٹ
اسے یہاں آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا ۔ مگر ناراضگی اب بھی برقرار تھی ۔بس کھانا کھاتی اور پھر اپنے کمرے میں بند ہو جاتی ۔ڈاکٹر طاہر کا مزاج اس کے ساتھ ہلکا پھلکا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو ۔ جتنی ضد پر وہ اڑی ہوئی تھی وہ اتنا ہی ریلیکس رہ رہے تھے ۔
“اندر آ جاؤ ؟” انہوں نے اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کی ۔
اس نے کوئی جواب نا دیا بس چپ چاپ بیڈ پر بیٹھی اپنی ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھتی رہی ۔
ڈاکٹر طاہر نے دوبارہ نہیں پوچھا بلکہ خود ہی اندر آ گئے ۔ اور قدم قدم چلتے اس کے سامنے جا بیٹھے ۔
کتنا خوبصورت موسم ہو رہا ہے چلو گھومنے چلتے ہیں ۔ انہوں نے گلاس ڈور ونڈو سے باہر خوبصورت ہوتے موسم کو دیکھ خوشدلی سے کہا ۔
اس نے آہستہ سے سر اوپر اٹھایا اور شکوہ کناں نظروں سے انہیں دیکھا ۔
“یہ سب کتنے دنوں تک چلے گا ڈاکٹر طاہر ؟ “
اس کے لہجہ میں ایک آنچ تھی ۔ “آپ مجھے یہاں سے کیوں نہیں نکال رہے ۔ میری بے بسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ؟”
ڈاکٹر طاہر اس کے سوالات پر سیدھے ہوئے ۔ اس کے سرد ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔
“تم خود یہاں سے جانا نہیں چاہتی ۔”
وہ ان کے جواب پر حیرت زدہ ہوئی ۔ “میں اتنے دنوں سے آپ کو کہہ رہی ہوں مجھے یہاں سے جانا ہے ۔ وہ سب کیا مزاق ہے ۔”
“تم نہیں جانا چاہتی پلویشا ۔”
“میں جانا چاہتی ہوں ۔ آپ کو یقین کیوں نہیں آ رہا ؟”
وہ ایک دو پل اسے دیکھتے رہے ۔ “تم یہاں سے جانا نہیں بھاگنا چاہتی ہو پلویشا ۔”
پلویشا تھم گئی ۔ انہوں نے بات جاری رکھی ۔
“تمہاری بری یادیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں ۔ پاگل پاگل کی گونج اب بھی تمہارے کانوں میں پڑتی ہے ۔ تم یہاں سے بھاگ جانا چاہتی ہو کیونکہ تم اپنی تکلیفوں کو سامانا نہیں کرنا چاہتی ۔”
وہ کچھ نا بولی ۔ آہستگی سے چہرہ کھڑکی کی طرف موڑ دیا ۔
وہ نہایت نرمی سے کہتے ہوئے اس کے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرنے لگے ۔
“پلویشا ، میری جان تم یہاں سے ایک پنجرہ میں قید پرندہ بن کر جانا چاہتی ہو ۔ جبکہ میں تمہیں آزاد کرنا چاہتا ہوں ۔ تمہارے کندھوں کو میں غموں کے بوجھ سے چھٹکارا دینا چاہتا ہوں ۔”
ان کی بات ختم کوئی تو ہر طرف خاموشی پھیل گئی ۔
اور کئی لمحے اسی خاموشی میں سرکتے رہے ۔
پلویشا کی طرف سے کوئی جواب نا آیا تو وہ دھیرے سے اٹھے ، اور ردوازے کی جانب بڑھ گئے ۔
اس نے چہرہ موڑ کر ان کی جاتی پشت دیکھی ۔
“گاڑی نکالیں ۔”
وہ رک گئے ۔ پھر پورا اس کی جانب مڑے ۔ وہ مدھم مسکراہٹ سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی ۔
“گاڑی نکالنے ہی جا رہا تھا ۔” انہوں نے گہرہ مسکرا کر کہا تو اس کی مسکراہٹ تھمی۔ اور اگلے ہی پل وہ دل کھول کر ہنس پڑی ۔
ڈاکٹر طاہر اسے کئی پل ہنستا ہوا دیکھتے رہے ۔
انہوں نے پلویشا کو زندہ کرنا تھا ۔ اس کے اندر پھیلے سکوت کو توڑنا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
اپنے آفس کی گلاس وال کے سامنے کھڑا، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، وہ اسلام آباد کے خوبصورت پہاڑوں کو دیکھتا مسکرا رہا تھا۔ صبح کا منظر اب تک اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔
صاحبہ کا مرزا کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا…
آہ، کیا منظر تھا۔
ابھی وہ انہی خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا۔
“سر، یہ دیکھیں!”
بوکھلایا ہوا عزیز تیزی سے میز تک آیا۔ مرزا ناگواری سے پلٹا۔
“عزیز، تم کیا ساری تمیز بھول گئے ہو؟ جب چاہے منہ اٹھا کر گھس آتے ہو۔”
اس کی تلخ آواز کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے عزیز آگے بڑھا۔
“آپ تمیز کو آگ لگائیں، پہلے یہ دیکھیں۔”
اس نے اپنے ٹیب کی اسکرین اس کے سامنے کر دی۔
مرزا کا دل چاہا کہ عزیز کا سر پھاڑ دے، مگر اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے اس نے اسکرین پر نظریں مرکوز کر دیں۔
وہاں ایک ویڈیو چل رہی تھی—میڈیا کے سامنے بولتا فاہد قریشی۔
وہ صاف مگر ڈھکے چھپے الفاظ میں مرزا حاکم کو قصوروار ٹھہرا رہا تھا۔
مرزا نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں سفاکی ابھری، مگر اس نے پلکیں جھپک کر اسے چھپا لیا۔
“تم کبھی کوئی ڈھنگ کی خبر بھی لاؤ گے؟” اپنی کرسی کی جانب جاتے ہوئے اس نے کلس کر پوچھا۔
“میں کیا مخبری لگتا ہوں انہیں؟” عزیز کے تن بدن میں آگ لگی تھی۔
“میں تو آپ کو یہ بھی بتانا بھول گیا سر کہ کل میرے پڑوس میں آنٹی شازیہ کی بیٹی کی شادی تھی۔ واللہ، بہت دھوم دھام سے رخصت کیا انہوں نے بیٹی کو۔”
اس کے طنزیہ لہجے پر کرسی پر براجمان مرزا حاکم نے کراہ کر آنکھیں میچ لیں۔
“آہ عزیز… آہ…”
دل میں نہ جانے کتنی بار اس پر لعنت بھیجتے ہوئے اس نے آنکھیں کھولیں، خاموشی سے گلاس میں پانی انڈیلا اور ایک ہی سانس میں پی گیا۔
عزیز نے خفگی سے اسے دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ مرزا ایک ہی بار پانی تب پیتا ہے جب ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہا ہو۔
“مجھے دوبارہ دکھاؤ یہ۔”
اب کی بار اس کی آواز سنجیدہ تھی۔
عزیز نے ٹیب اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
اس سے پہلے کہ وہ اسکرین پر نظریں جماتا، دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے فوراً عزیز کو دیکھا، جیسے بتانا چاہا ہو کہ “دستک اسے کہتے ہیں”۔
“Yes, come in.”
اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوئی۔
بلاک ہیلز کی مدھم آواز جیسے ہی اس کی سماعتوں سے ٹکرائی، ساری کوفت یکدم دور ہو گئی۔
“یہ فائل—”
وہ کہتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی کہ عزیز کی پریشان شکل پر اس کی نظر پڑی۔ پھر اس نے مرزا کو دیکھا، جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
جبکہ اس کی آنکھوں میں چھپی چمک…
کتابیں خاموشی سے دیکھتی رہ گئیں، جیسے دل تھام لیا ہو۔
“کچھ ہوا ہے کیا؟” اس نے چونک کر پوچھا۔
“بالکل۔” جواب عزیز کی طرف سے آیا۔
وہ اس کی جانب مڑی۔
“فاہد قریشی میڈیا والوں کے سامنے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مرزا حاکم کی نااہلی کے باعث حادثہ پیش آیا ہے۔”
عزیز نے مرزا کے ہاتھ میں پکڑے ٹیب کی طرف اشارہ کیا۔
“اور یہ بات عوام میں آگ کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔”
وہ چلتی ہوئی مرزا کی کرسی سے دو قدم کے فاصلے پر جا رکی۔ مرزا نے ویڈیو اس کے سامنے کر دی۔
وہ کرسی پر بیٹھا تھا، ٹیب اس کے سامنے کیے ہوئے…
اور وہ فاصلے پر کھڑی، یک ٹک اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔
“مرزا حاکم کی نااہلی آپ کے لیے کتنا نقصان کا باعث بنی ہے؟”
رپورٹر کے سوال پر فاہد قریشی ایک لمحے کو خاموش ہوا۔
اسکرین پر مرکوز صاحبہ کی نظریں اچانک بھٹکیں۔
کسی احساس کے تحت اس کی نظر مرزا کے دائیں ہاتھ کی جانب گئی۔
اس نے مٹھی اتنی سختی سے بھینچ رکھی تھی کہ رگیں واضح ہو رہی تھیں۔
اس شدت کو دیکھ کر اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
مرزا نے بھی اسے دیکھا۔ ایک دو پل اسے دیکھتی رہی ، پھر جب بولی تو انداز بدلا بدلا سا تھا ۔
“بقا… یا فنا؟”
اس کی بھوری آنکھوں میں جو تاثر تھا، وہ کسی کو نیست و نابود کر دینے والا تھا۔
“بقا۔”
اس کا جواب آتے ہی وہ فوراً عزیز کی جانب مڑی۔
” فاہد کے ساتھ ہوئے تمام کانٹریکٹ پیپرز، ڈاکومنٹس، پرمٹس، رولز اور عمارت سے متعلق تمام فائلز لے کر میرے پیچھے آؤ۔”
وہ یہ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی، اور عزیز فوراً اس کے پیچھے ہو لیا۔
“گاڑی نکالو—فوراً۔”
کان میں لگے ایئر پوڈ میں کہتے ہوئے وہ آفس سے باہر نکل گئی۔ عزیز بھی اس کے پیچھے ہی گیا۔
ان کے جاتے ہی آفس میں مکمل خاموشی پھیل گئی۔
وہ بند دروازے کو کئی لمحے تک دیکھتا رہا…
پھر یکایک اس کا تنا ہوا وجود ڈھیلا پڑ گیا، اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
کتابیں سرشاری کے عالم میں اس خوبصورت شخص کو دیکھ رہی تھیں۔
اب اس کی مسکراہٹ ان کا دل نہیں جلاتی تھی…
کیونکہ اب وہ دل سے مسکراتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاہد قریشی کے دفتر کا ماحول غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ باہر شہر میں شور برپا تھا، مگر اس کمرے کے اندر ایک عجیب سا تناؤ پھیل چکا تھا۔
فاہد اپنی کرسی پر نیم دراز انداز میں بیٹھا تھا، جیسے اسے کسی بات کی کوئی فکر ہی نہ ہو۔
“مس صاحبہ،” اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“اگر آپ اس لیے آئی ہیں کہ میں اپنا بیان واپس لے لوں تو معذرت۔ میڈیا کے سامنے کہی ہوئی باتیں اتنی آسانی سے نہیں بدلی جاتیں۔”
صاحبہ نے سکون سے اس کی بات سنی۔ اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا نہ گھبراہٹ، جبکہ اس کے پیچھے کھڑا عزیز پوری کوشش کے باوجود اپنی پریشانی چھپا نہیں پا رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں چند فائلز تھیں جنہیں وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔
صاحبہ نے آہستہ سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
“میں آپ سے بیان بدلنے کا نہیں کہہ رہی، مسٹر فاہد۔”
فہد کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
“تو پھر؟”
اس نے عزیز کو ایک نظر دیکھا، اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھما گیا۔ صاحبہ نے فائل میز پر رکھی اور اسے کھول دیا۔
“میں صرف چاہتی ہوں کہ آپ ایک بات یاد رکھیں… کہ حقیقت کیا ہے۔”
اس نے فائل سے ایک تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔ وہ سائٹ کی تصویر تھی جہاں پارکنگ فلور کے ستون واضح نظر آ رہے تھے۔
“یہ وہی ستون ہے جسے آپ نے آخری لمحے میں تبدیل کروایا تھا۔”
فاہد کے چہرے کی مسکراہٹ پل میں غائب ہو گئی۔ وہ ساکت سا تصویر کو دیکھتا رہ گیا۔
صاحبہ نے بات جاری رکھی۔
“مرزا حاکم کے اصل ڈیزائن میں اس جگہ ہائی گریڈ اسٹیل کے دو سپورٹ بیم لگنے تھے، اور ستون کی موٹائی زیادہ رکھی گئی تھی تاکہ اوپر کے فلور کا وزن آسانی سے سنبھالا جا سکے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکی۔
“مگر آپ نے اخراجات کم کرنے کے لیے کم درجے کا اسٹیل استعمال کروایا، اور ساتھ ہی ستون کو پتلا کروا دیا… تاکہ پارکنگ میں دو اضافی شاپس بنائی جا سکیں۔”
کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ عزیز دھک دھک کرتے دل سے اس کی من گھڑت کہانی سن رہا تھا جبکہ فاہد نے حیرت سے اسے دیکھا، جیسے الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے ہوں۔
“یہ تصویریں جعلی ہیں۔”
“مگر حقیقت یہی ہے۔”
صاحبہ نے بدستور سکون سے ٹیک لگائے رکھی۔
“یہ سب جھوٹ ہے!” وہ دبی آواز میں غرایا۔
“تو سچ کیا ہے؟” اس نے براہِ راست پوچھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟ تم یہ ستونوں والی جھوٹی کہانی گھڑ لو گی تو سب یقین کر لیں گے؟” اس نے غصے سے لال ہوتے طنزیہ انداز میں کہا۔
“بہت آسانی سے کر لیں گے… کیونکہ اس پر آپ کے سائن ہوں گے۔”
فاہد نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
“دیکھو لڑکی—”
“میں دیکھنے نہیں آئی… آپ کو آئینہ دکھانے آئی ہوں۔”
وہ ذرا سا آگے ہوئی۔
“کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ، یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ اس لیے آپ بھی جان لیں۔ اگر آپ کے الفاظوں نے مرزا حاکم کا امیج خراب کیا… تو میرے الفاظ آپ کی امیج کو تباہ کر دیں گے۔”
فہد ایک لمحے کو سکتے میں آ گیا… پھر وہ ہنس پڑا۔ اس کے بے سرے قہقہوں پر عزیز نے دل میں سو بار لعنت بھیجی۔
“اچھا؟ کیا کرو گی تم؟” اس کے انداز میں واضح چیلنج تھا۔
صاحبہ نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی۔ اس کی بھوری آنکھوں میں خطرناک سی چمک بھر آئی۔
“صرف ایک کلک کروں گی… اور اگلے چند لمحوں میں ہر طرف یہ خبر گردش کرے گی کہ مشہور بزنس مین فاہد قریشی اسمگلنگ کے ذریعے لایا گیا مال عوام کو دھوکے سے فراہم کر رہا ہے۔”
عزیز نے فوراً صاحبہ کو دیکھا۔ یہ بات پلان کا حصہ نہیں تھی… وہ کیا کرنے جا رہی تھی؟
فاہد کا چہرہ یکدم سفید پڑ گیا۔
“عمارت کا گرا ہوا حصہ سب بھول جائیں گے، کیونکہ کسی کی جان نہیں گئی… مگر اس کے برعکس، عوام اپنے ساتھ ہوئے دھوکے پر خاموش نہیں رہے گی۔”
وہ کہہ کر خاموش ہو گئی۔ فاہد کو یوں لگا جیسے اس پر تیزاب انڈیل دیا گیا ہو۔
“اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے…” کچھ دیر بعد وہ بولا، مگر اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
“آپ کو لگتا ہے میں بغیر ثبوت کے آپ کے سامنے یہ بات کروں گی؟”
اس نے مصنوعی حیرت سے پوچھا، اور عزیز کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔ وہ مسکرا بھی نہ سکا۔
فاہد کا دل چاہا اس کا سر پھاڑ دے… مگر وہ خاموش ہو گیا۔
عزیز کشمکش میں تھا، جبکہ صاحبہ مکمل سکون کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیا چاہتی ہو؟” اس نے جیسے ہتھیار ڈال دیے۔
کچھ ماہ پہلے درانی کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا، فاہد اپنے ساتھ نہیں دہرانا چاہتا تھا۔
صاحبہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔ عزیز کو بے حد حیرت ہوئی۔
“میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ اصل حقیقت کو تحریری طور پر تسلیم کر لیں۔”
اس بار اس کی آواز نرم مگر گہری تھی۔
اس نے ایک کاغذ اس کے سامنے سرکا دیا۔
فاہد نے کاغذ پڑھا۔ اس میں صاف لکھا تھا کہ کنسٹرکشن کے دوران ہونے والی اچانک تبدیلیاں حادثے کی اصل وجہ تھیں۔
صاحبہ نے فائل بند کرتے ہوئے کہا:
“یہ کاغذ ابھی کہیں نہیں جائے گا… جب تک آپ دوبارہ مرزا حاکم پر الزام نہیں لگاتے۔”
فاہد چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔ اگر وہ دستخط کرتا، تب بھی قصور اس کا نکلتا… اور اگر نہ کرتا، تب بھی نقصان اسی کا ہوتا۔
آہ… وہ اپنی زندگی میں پہلی بار اتنا بے بس ہوا تھا۔
آخرکار اس نے گہرا سانس لیا، قلم اٹھایا… اور کاغذ پر دستخط کر دیے۔
صاحبہ نے سکون سے ساتھ کھڑے عزیز کو دیکھا۔ وہ مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پھر اس نے کاغذ اٹھایا اور کھڑی ہو گئی۔
“شکریہ، مسٹر فاہد۔”
فاہد اس کے مہذب انداز پر کلس کر رہ گیا۔
وہ اور عزیز جانے کے لیے مڑے ہی تھے کہ فاہد نے اسے پکارا۔
“تمہیں اسمگلنگ کی خبر کہاں سے ملی؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
صاحبہ رکی… پھر مڑے بغیر بولی:
“آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا میں آپ کو بتا دوں گی؟”
فاہد قریشی کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ جیسے پورا آفس اس کے غصے سے بھر گیا ہو۔
صاحبہ نے آخری نظر اس پر ڈالی…
اور پھر وہ اور عزیز جس طرح آئے تھے، اسی طرح واپس لوٹ گئے۔
پیچھے وہ اس آفت کو کوستا رہ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرینکفرٹ
“اس کا فلیور اچھا ہے نا؟”
“جی… بٹ اتنا بھی اچھا نہیں ہے۔”
آسمان پر بادلوں کا راج تھا۔ ان دونوں کے علاوہ بھی کچھ لوگ پارک میں موجود تھے۔
وہ دونوں پارک کے ایک خوبصورت سے بینچ پر بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھ میں آئس کریم تھی، اور دونوں ہی مزے سے کھا رہے تھے۔
“تم تو رہنے ہی دو… کوئی چیز بھی تمہیں پسند نہیں آتی۔”
ڈاکٹر طاہر نے کلس کر کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، اس کی نظر سامنے بیٹھی دو لڑکیوں پر پڑی… اور ٹھہر سی گئی۔
وہ لڑکیاں پلویشا سے بڑی عمر کی لگ رہی تھیں، مگر اسے اپنا اور ایس کا اسی طرح ساتھ بیٹھنا یاد آ گیا۔
ڈاکٹر طاہر نے اسے مکمل خاموش پایا تو اسے دیکھا۔ اس کی نگاہوں کے تعاقب میں جب انہوں نے دیکھا تو بے اختیار پلویشا پر پیار آیا۔
“میری جان… سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
وہ ایک ہاتھ میں آئس کریم کا کپ پکڑے، دوسرے ہاتھ سے اس کے کندھے کو تھپتھپانے لگے۔
اس نے ایک نظر ان کی جانب دیکھا… ان کی آنکھوں میں اپنے لیے بے انتہا محبت دیکھ کر اس کے گلے میں گلٹی ابھری… اور معدوم ہو گئی۔
آخری بار اس نے اتنی محبت کب دیکھی تھی…؟
یہ سوچتے ہی اس کا ضبط جواب دے گیا۔
اس نے اپنا کپ سائیڈ پر رکھا… اور اگلے ہی لمحے وہ ان سے لپٹ گئی۔
ڈاکٹر طاہر اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ ان سے ایسے لپٹی تھی جیسے کوئی بچہ ماں سے لپٹ جاتا ہے۔
انہوں نے گہرا سانس لیا… اور اس کے گرد مضبوط حصار باندھ لیا۔
بادلوں کی مدھم گرج، پھولوں کی خوشبو اور نرم سبزہ زار… جیسے محبت بھری نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
پلویشا کا سر ان کے کندھے پر تھا… جبکہ وہ اس کے گرد حصار باندھے اس کا کندھا تھپک رہے تھے۔
“آپ کو پتہ ہے، ڈاکٹر طاہر… میں پلویشا دائم شاہ تھی۔”
کچھ دیر بعد وہ بولی تو ڈاکٹر طاہر کا رواں رواں سماعت بن گیا۔
“لڑکیاں زیادہ عرصے میرے ساتھ نہیں ٹھہرتی تھیں۔ کیوں؟ کبھی سوچنے کا وقت نہیں ملا… البتہ سکول میں میری ایک امیج تھی۔ میں بہت ذہین اور خوبصورت لڑکی مشہور تھی۔”
وہ اس کی بات پر ہلکا سا مسکرائے۔
“ٹیچرز مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ ڈیڈ… پوری دنیا میں صرف مجھ سے محبت کرتے تھے۔ آہ… اس پلویشا دائم سے سب سے زیادہ محبت خود پلویشا دائم کرتی تھی۔”
ہوا کے سرد جھونکے انہیں چھو کر گزر رہے تھے۔
“جب ڈیڈ، مام اور ایس کو لے کر آئے… میں بہت خوش ہوئی تھی۔ مجھے بہن مل گئی… مام مل گئی… اب میں اکیلی نہیں رہوں گی۔ سکول میں میرے پاس بھی ایک کرائم پارٹنر فرینڈ ہو گی… مجھے سب کچھ اکیلے نہیں کرنا پڑے گا… میرے پاس ایک سپورٹ ہو گی…”
اس کے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
“لیکن… سب کچھ الٹا ہو گیا۔ زندگی میں ایسا طوفان آیا… جو میرا سب کچھ بہا کر لے گیا… اور میں خالی ہاتھ رہ گئی۔”
“ایس بہت اچھی تھی… وہ میری ہم عمر تھی… میرے جیسی تھی ۔ لیکن… ڈیڈ اس سے زیادہ پیار کرنے لگے تھے… اور یہ چیز مجھے اندر سے توڑ رہی تھی۔ میں نے اتنے سال ان کی محبت پر اکیلے راج کیا تھا… کسی شریک کو کیسے برداشت کرتی؟”
ڈاکٹر طاہر نے آنکھیں موند لیں۔ اس کا لہجہ بے تاثر تھا… مگر درد گہرا تھا۔
“جب مجھے احساس ہوا کہ میں ایس سے جیلس ہونے لگی ہوں… تو میں ڈر گئی۔ میں جانتی تھی جیلس لوگ اچھے نہیں ہوتے… اس لیے میں خود سے نفرت کرنے لگی تھی، ڈاکٹر طاہر…”
“لیکن میں کیا کرتی؟ کلاس میں سب اس کی فرینڈز تھیں… ڈیڈ ہر وقت مجھے اس کے جیسا بننے کا مشورہ دیتے… وہ سب کی فیورٹ بنتی جا رہی تھی… اور میں… میں کہیں پیچھے… بہت پیچھے رہ گئی تھی۔اور یہ پیچھے رہ جانا مجھے زخمی کر گیا تھا ۔ “
وہ آنکھیں کھولے ساکت پلکوں سے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔
اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا بول رہی ہے… بس جو اندر سے نکل رہا تھا، وہی بہتا جا رہا تھا۔
“مجھے وہ اچھا لگتا تھا… میں بھی اس سے دوستی کرنا چاہتی تھی… مگر… وہ ایس کو پسند کرتا تھا۔”
“میں جب کوریڈور سے گزرتی تو وہ اکثر اس سے ہنس کر بات کرتا… اور میرے اندر کچھ ٹوٹ جاتا… آخر محبت، دوستی، اسٹیٹس… سب اسے اتنی آسانی سے کیسے مل رہا تھا؟”
“وقت کے ساتھ میرے اندر کا شر بھی بڑھتا گیا… میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں کسی سے جیلس ہوں گی… مجھے اِن سیکیورٹی فیل ہو گی…”
وہ تلخی سے ہنس دی… پھر خاموش ہو گئی۔
“میں سن رہا ہوں…”
کچھ پل بعد ڈاکٹر طاہر نے دھیرے سے کہا۔
وہ کرب سے مسکرائی۔
“یہ سننا کہ کوئی آپ کو سن رہا ہے… کتنا انمول احساس ہوتا ہے… ہے نا؟”
آسمان پر بادل گہرے ہوتے جا رہے تھے۔
“مجھے آوازیں سنائی دیتی تھیں… وہ کہتا تھا: ‘سب تباہ کر دو، پلویشا’… اور میں منت کرتی تھی کہ چلے جاؤ…”
“اس کی آواز… بہت اذیت ناک تھی… میں نے بہت کوشش کی اسے اپنے اندر دبائے رکھنے کی… مگر کب تک؟ میں انسان تھی… اپنے شر کو کب تک چھپاتی؟”
“آخرکار… وہ مجھ سے جیت گیا… اور میں ہار گئی…”
اس کی آنکھوں میں نمی چمکی… اور لہجہ مزید بھیگ گیا۔
“مجھے بدتمیز، ذہنی مریض، حاسد کہنے کے لیے سب موجود تھے… مگر میری ٹوٹی ہوئی حالت دیکھنے کے لیے کوئی نہیں تھا…”
“سب مجھے سمجھاتے تھے… مگر سمجھنے والا کوئی نہیں تھا… میں بہت بے بس تھی، ڈاکٹر طاہر…”
پھوار کی مانند بارش کے قطرے زمین پر گرنے لگے۔ سرد ہوائیں تیز ہو رہی تھیں۔
اس کی آنکھوں سے اب قطار در قطار آنسو بہہ رہے تھے۔ لفظ ٹوٹ رہے تھے۔
ڈاکٹر طاہر نے نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے۔
“مجھے یہ شکایت نہیں تھی کہ اسے محبت کیوں ملی…”
“سوال یہ تھا کہ… میں کیوں نہیں؟”
ڈاکٹر طاہر کا دل جیسے تڑپ گیا۔
“میں بھی تو خوبصورت تھی… ذہین تھی… وفادار تھی… پھر… میرے مقدر میں نظرانداز ہونا کیوں لکھا گیا؟ سب آگے بڑھنے لگے اور میں پیچھے کیوں رہ گئی؟ کیا میرا بچپن یہ ڈیزرو کرتا تھا؟”
اس کے ہونٹ بچوں کی طرح کانپ رہے تھے۔
اچانک بادل زور سے گرجے… اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔
پورے پارک میں… تیز بارش کے بیچ وہ دونوں ہر شے سے بے نیاز بیٹھے رہے۔
“وہاں سب پاگل تھے… ڈیڈ… وہ مجھے گلے بھی لگا سکتے تھے نا…؟ وہ پیار بھی تو کر سکتے تھے… مگر انہوں نے نہیں کیا… انہوں نے مجھے وہاں چھوڑ دیا…”
“کیا مجھے یوں چھوڑ دینا اتنا آسان تھا؟”
وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔
ڈاکٹر طاہر کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی۔
“ٹھیک ہے… میں مان لیتی ہوں کہ ڈیڈ نے میرا بھلا سوچا… مگر ان کے بھلے نے میرے اندر یہ گھٹن زدہ، ویران خاموشی کیوں بھر دی؟”
اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
وہ دونوں مکمل بھیگ چکے تھے… مگر جیسے انہیں پروا ہی نہ تھی۔
بارش کے پانی میں اس کے گلابی آنسو گھل رہے تھے۔
“ڈاکٹر طاہر… میں خود سے جنگ لڑ رہی تھی… اور میرا ساتھ دینے کے لیے کوئی نہیں تھا… میں بہت اکیلی تھی…”
ڈاکٹر طاہر کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ گیا۔
“میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں… یا بھاگنا… مجھے نہیں معلوم… میں بس ان سب سے نکلنا چاہتی ہوں… میں سٹک نہیں ہونا چاہتی… میں موو آن کرنا چاہتی ہوں…”
وہ رو رہی تھی… اور بارش میں اس کی سسکیاں جیسے دم توڑ رہی تھیں۔
“میری جان… تم تنہا نہیں تھی۔”
انہوں نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
“میں تنہا تھی…” اس نے ہچکی لی۔
“تم اکیلی نہیں تھی۔”
انہوں نے اس کے چہرے سے چپکی گیلی لٹیں پیچھے کیں۔
وہ ایک لمحے کو چونک کر انہیں دیکھنے لگی… جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“م… میں سچ میں تنہا تھی…”
اس کی آواز جیسے کسی گہری کھائی سے آ رہی تھی۔
“تم تنہا نہیں تھی… وہ ہر پل، ہر گھڑی، ہر لمحہ تمہارے ساتھ تھا۔”
بادل زور سے گرجے… اور بارش مزید تیز ہو گئی۔
“وہ تمہیں… اور تمہارے اندر کی آوازوں کو… بہت باریکی سے سنتا تھا۔”
وہ ان کی آنکھوں میں یک ٹک دیکھتی رہ گئی۔ ہچکیاں اس کے وجود کو ہلا رہی تھیں… اور الفاظ جیسے ختم ہو گئے تھے۔
“جانتی ہو وہ کون تھا؟”
انہوں نے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا۔
اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔
” بریکم۔”(وہ تمہیں پیدا کرنے والا تھا۔)
وہ ساکت ہو گئی۔
وقت رک گیا…
ہر شے تھم گئی…
صرف دل کی بے ترتیب دھڑکنیں تھیں…
جو بارش کے شور میں دبتی چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہر پل اذیت سے روئی تھی… کبھی کوئی گلہ کرتی، کبھی کوئی شکوہ۔
وہ چپ چاپ اسے سنتے رہے۔
وہ اندر سے بہت بھری ہوئی تھی… جو اب ایک ہی بار میں باہر نکل رہا تھا۔
اسے ہر بات کی چھوٹی چھوٹی تفصیل بھی رُلا دیتی تھی۔
کبھی کبھی… انسان کو صرف ایک سننے والے کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ چپ چاپ ان کے سامنے بیٹھی تھی، اور وہ ایک اسٹولر اس کے چہرے کے گرد لپیٹ رہے تھے۔
“ہممم… اب جاؤ، آئینے میں دیکھو۔”
اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔
معصوم چہرے پر لپٹا حجاب… آہ، وہ بے حد خوبصورت نظر آ رہی تھی۔
“کیا اب میں ساری زندگی یہ پہنوں گی؟”
“نہیں، یہ تمہاری اپنی مرضی ہے… لیکن نماز اور قرآن پاک پڑھتے وقت سر ڈھانپنا ضروری ہے۔”
انہوں نے اس کے لہجے میں فکر مندی دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔
وہ مسکراتی ہوئی ان کے پاس آئی اور نیچے کارپٹ پر بیٹھ گئی۔
وہاں ڈاکٹر طاہر پہلے سے پنسل اور نوٹ بک لیے بیٹھے تھے۔
“کیا تمہیں کلمہ طیبہ آتا ہے؟”
“جی، آتا ہے مجھے۔”
وہ مسکرا کر بولی۔ یہ تو اسے بچپن سے یاد تھا۔
“لا الہٰ الا اللہ، محمد رسول اللہ۔”
“بہت خوب… اب اس کو ترجمہ کرو۔”
“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں… اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔”
“بالکل ٹھیک۔ اب سب سے پہلے تمہیں یہ جاننا ہو گا کہ اللہ کون ہے۔”
انہوں نے بات شروع کی… اور وہ پوری توجہ سے سننے لگی۔
“اللہ وہ ہے جس نے کائنات بنائی… اور کائنات میں موجود ہر شے کو پیدا کیا۔ یوں سمجھ لو… وہ اس پوری کائنات کا مالک ہے۔”
وہ نوٹ بک پر لکھتے ہوئے اسے سمجھاتے گئے۔
“اونر کسے کہتے ہیں؟”
انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“اونر… یعنی جو ہر چیز کو own کرتا ہے۔”
اس نے جواب دیا تو وہ اندر سے خوش ہوئے۔
“بالکل ٹھیک۔”
وہ مسکرائے۔
“وہ ہر چیز کا مالک ہے… چاند، سورج، تارے، انسان، حیوان، نباتات، حشرات، پرندے، جنات… غرض ہر شے اس کے حکم کے تابع ہے۔ اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا۔”
“کیا؟ ایک درخت میں تو اتنے سارے پتے ہوتے ہیں… پھر؟”
پلویشا کو حیرت ہوئی۔
“بالکل… یہی تو معجزہ ہے۔ ایک ہی وقت میں نہ جانے کتنے پتے ہلتے ہیں… مگر صرف اسی کے حکم سے۔ ہمارا ہر ایک عمل بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔”
وہ ساکت ہو گئی۔
انہوں نے بات جاری رکھی۔
“وہ واحد ہے… یعنی تنہا۔ وہ یکتائی کا مالک ہے… اور ہر شے کو بہت خوبصورتی سے سنبھالتا ہے۔”
پلویشا کا دل عجیب سی کیفیات سے دوچار ہو رہا تھا۔
“وہ دو جہانوں کا رب ہے… بہت بڑا۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمینوں کو گھیر رکھا ہے۔ اس کا ایک اشارہ ہو… اور نظام درہم برہم ہو جائے۔”
پلویشا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
“آسمان اس کی وسعت کے لیے بہت چھوٹا ہے… بہت چھوٹا۔ اور وہ لا محدود طاقتوں کا مالک ہے… لیکن ایک دلچسپ بات بتاؤں؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ایک مقام ہے… بہت چھوٹا…”
انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
“وہ اس میں رہتا ہے… ہر وقت… ہر پل… بس محسوس کرنے والوں کو محسوس ہوتا ہے۔”
“کون سا مقام؟”
وہ متجسس ہوئی۔
“دل۔”
پلویشا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“وہ دل میں کیسے رہ سکتا ہے، ڈاکٹر طاہر؟”
“وہ دل میں رہتا ہے… کیا تم اسے محسوس کرنا چاہو گی؟”
“جی… ہاں۔”
وہ بے اختیار بولی۔
“اپنے دل پر ہاتھ رکھو۔”
اس نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا۔
“اب آنکھیں بند کرو۔”
اس نے آنکھیں بند کیں۔
“چند گہرے سانس لو…”
اس نے سانس لی۔
“اور اب اس کا نام لو۔”
وہ زیرِ لب بڑبڑائی…
“اللہ…”
اتنا کہنا تھا کہ جیسے ہر شے رک گئی ہو…
ہوا ٹھہر سی گئی۔
“اللہ…”
اس نے دوبارہ کہا۔
دل عجیب کیفیات کا شکار ہوا… گلے میں کچھ پھنستا محسوس ہوا۔
“اللہ…”
تیسری بار کہتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے… دل زور سے دھڑکا… اور وہ فوراً آنکھیں کھول بیٹھی۔
ڈاکٹر طاہر اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“وہ… وہ واقعی موجود ہے…”
اس نے سرسراتی آواز میں کہا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“میں اسے محسوس کر سکتی ہوں…”
وہ مسکرائے۔
“بالکل… وہ موجود ہے۔”
وہ بے اختیار اپنے گیلے چہرے پر ہاتھ رکھ گئی۔
“پر میں رو کیوں رہی ہوں؟”
وہ حیران تھی۔
“کیونکہ تم اسے محسوس کر سکتی ہو۔”
“لیکن مجھے کچھ ہو رہا ہے… میرا دل زور سے دھڑک رہا ہے… اور… اور رونا آ رہا ہے…”
اس نے بے بسی سے کہا۔
“رونا تو آئے گا… ایک عرصے کی جدائی کے بعد جو اس کا ذکر کر رہی ہو۔”
“کیا مطلب؟”
وہ الجھی۔
“ایک عرصے بعد اس کا نام لے رہی ہو… اس ذات کا نام جس کے ہاتھ میں پوری کائنات کا نظام ہے… اس کا ذکر آسان نہیں ہوتا۔”
وہ مسکرائے۔
“لیکن مجھے اچھا نہیں لگ رہا…”
وہ رو دی۔
“شروع میں کسی کو اچھا نہیں لگتا… پھر آہستہ آہستہ صرف یہی اچھا لگنے لگتا ہے۔”
ڈاکٹر طاہر آگے بڑھے اور اسے تھام لیا۔
اس کے رونے میں کمی آنے لگی۔
اب وہ دن میں کئی بار… جانے انجانے میں… دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے رب کو پکارتی رہتی۔
اور اس عمل سے اسے عجیب سا سکون ملنے لگا تھا۔
“یہ لفظ ہے ‘سبحانک’… سبحان کا مطلب ہے پاک… اور ‘ک’ کا مطلب ہے تو۔ یعنی اے اللہ، تو پاک ہے۔”
وہ دونوں اسٹڈی ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
وہ نوٹ بک پر لکھ لکھ کر اسے سمجھا رہے تھے… اور وہ پوری دلجمعی سے سن رہی تھی۔
“ایاک نعبد و ایاک نستعین…”
انہوں نے آہستہ سے پڑھا۔
“‘ایاک’ یعنی ہم تیری ہی… ‘نعبد’ یعنی عبادت کرتے ہیں… ‘و ایاک’ یعنی اور تجھ ہی سے… ‘نستعین’ یعنی مدد مانگتے ہیں۔”
“ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں… اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔”
وہ غور سے سن رہی تھی۔
“ہمیں کس چیز کی مدد درکار ہوتی ہے؟”
اس نے چونک کر پوچھا۔
وہ مسکرائے۔
“سانس لینے میں مدد… کیا کبھی تمہارا سانس رکا ہے، پلویشا؟”
وہ دنگ رہ گئی۔
اسے اپنی وہی اذیت یاد آ گئی… جب سانس لینا مشکل ہو جاتا تھا۔
وہ خاموش ہو گئی۔
“بے بسی سے لڑنے میں مدد… اچھے گریڈز لانے میں مدد… اپنے نفس سے لڑنے میں مدد… ہمیں ہر چیز میں اس کی مدد چاہیے ہوتی ہے۔”
“اس کی مدد کے بغیر ہم اس قابل بھی نہیں کہ اس آیت کی تلاوت کر سکیں۔”
وہ بس انہیں دیکھتی رہ گئی۔
“لیکن ڈاکٹر طاہر… وہ اکیلا سب کی مدد کیسے کرے گا؟”
انہوں نے فوراً کہا:
“تم نے کسی اور کو دیکھنا ہی کیوں ہے؟”
وہ چونکی۔
“مطلب؟”
“مطلب یہ کہ تم صرف یہ دیکھو کہ تمہارا رب تمہاری مدد کیسے کر رہا ہے۔”
“ہر انسان کو اللہ سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنا چاہیے… دوسروں کے لیے سوچنے والا رب موجود ہے۔”
“جو ہمارے لیے راستے نکال سکتا ہے… وہ ان کے لیے بھی نکال لے گا۔ہم صرف دعا کر سکتے ہیں ۔ “
“تم بس اپنے رب کو own کرنا سیکھو… سیکھو گی نا؟”
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی… اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
ڈاکٹر طاہر اسے دین کے بارے میں وہی بتاتے تھے… جس کی اسے اس وقت ضرورت تھی۔
وہ محبت کی پیاسی تھی…
اور وہ اسے اللہ کی محبت، اس کی رحمت اور اس کی قربت سکھا رہے تھے۔
وقت قطرہ قطرہ بہتا گیا۔
پلویشا باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگی۔
ایک لمبے عرصے بعد اسے سکون محسوس ہونے لگا۔
کبھی کبھار وہ پھر بھی ٹوٹ جاتی… ماضی میں جا گرتی… مگر اب اس کے پاس رب تھا، نماز تھی، دعا تھی۔
وہ روزانہ قرآن پڑھتی… اور ڈاکٹر طاہر اسے تفسیر کے ساتھ سمجھاتے۔
“اِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ بَصِيرٌ۔”
انہوں نے پڑھا۔
“بے شک اللہ خوب جاننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔”
وہ غور سے سن رہی تھی۔
“اللہ ہمارے دل کے ہر راز کو جانتا ہے…”
وہ ساکت ہو گئی۔
“وہ جانتا ہے… ہمارے دل میں کتنا درد ہے…”
اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“وہ جانتا ہے… جب ہم کسی اور کو خوش دیکھتے ہیں اور خود کو بکھرا ہوا محسوس کرتے ہیں…”
اس کے سامنے اپنی ہی تصویر آ کھڑی ہوئی۔
“وہ جانتا ہے… جب ہمارا دل سب کچھ تباہ کر دینے کو چاہتا ہے…”
آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر بہہ گیا۔
“وہ جانتا ہے… جب ہم اپنے نفس سے لڑتے ہیں… اور خود کو جلانے جیسی تکلیف برداشت کرتے ہیں… مگر غلط راستے پر نہیں جاتے…”
پلویشا باقاعدہ رونے لگی۔
“بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے… اور خوب دیکھنے والا ہے۔”
انہوں نے رجسٹر بند کرتے ہوئے کہا۔
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے روتی رہی۔
یہ آنسو انمول تھے…
ان میں صرف غم نہیں تھا… بلکہ رب کے لیے بڑھتی محبت بھی شامل تھی۔
“اگر اللہ قرآن میں یہ نہ بتاتا کہ وہ جاننے والا ہے… تو ہم ساری زندگی اسی غم میں رہتے کہ وہ بے خبر ہے…”
انہوں نے نرمی سے کہا۔
“یہی اللہ کی محبت کی سب سے بڑی نشانی ہے… کہ ہمارا رب ہم سے بے خبر نہیں ہے…”
“اور جب وہ بے خبر نہیں ہے… تو پھر کسی چیز کی فکر نہیں رہتی۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
لاہور کی اس مصروف سڑک پر تیزی سے گزرتی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی ان کی بھی تھی۔
وہ چپ چاپ، سیٹ کی پشت سے سر لگائے، بڑھتے ہوئے مناظر کو تک رہی تھی۔
ڈاکٹر طاہر خاموشی سے گاڑی چلا رہے تھے، اور گاہے بگاہے ایک نظر اس پر بھی ڈال لیتے تھے۔
گاڑی میں پھیلی خاموشی اور لاہور کی فضا میں ایک خاموش سوچ ہر طرف گونج رہی تھی۔
“میں پلویشا دائم ہوں، جسے وقت نے سکھایا کہ انسان کتنا کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ سولہ سال کی عمر میں میں نے جانا کہ چاہے آپ کتنے ہی خوبصورت ہوں، کتنے ہی ذہین، آپ بھی نظر انداز ہو سکتے ہیں۔”
ڈاکٹر طاہر نے کچھ کہا تو وہ چپ چاپ مسکرا دی۔
“میں نے یہ سیکھا کہ اگر آپ کو رونا آ رہا ہے تو آپ کمزور نہیں ہیں۔ آپ مضبوط ہیں، کیونکہ آپ غم کو اپنے اندر سے نکال کر آگے بڑھتے ہیں، نہ کہ اسے اندر رکھ کر ناسور بننے دیتے ہیں۔”
اب وہ بے اختیار ہنس پڑی۔
“میں نے یہ بھی سیکھا کہ جب آپ اندھیروں میں ڈوبنے لگتے ہیں تو آپ کا رب آپ کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ کچھ لوگ ایسے آتے ہیں جو روشنی بن کر آپ کے لیے موجود ہوتے ہیں، ایسے لوگ جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔”
وہ سیٹ کی پشت سے سر لگائے، اب مسکرا کر انہیں دیکھ رہی تھی، جبکہ ڈاکٹر طاہر ایبرو اٹھائے کچھ بول رہے تھے۔
“میں نہیں جانتی کہ اللّٰہ نے میرے لیے ڈاکٹر طاہر کو ہدایت کا ذریعہ کیوں بنایا، لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اللّٰہ کبھی غلط فیصلے نہیں کرتا۔ ڈاکٹر طاہر کی بے لوث محبت جو وہ مجھ سے کرتے ہیں، ایک وقت تھا جب یہ محبت میرے لیے بس ایک ‘کاش’ تھی، اور آج وہی ‘کاش’ حقیقت کا روپ دھارے میرے سامنے ہے۔ اور میں اس حقیقت سے، اس محبت سے بے انتہا محبت کرتی ہوں۔”
اس نے آہستگی سے چہرہ دوبارہ شیشے کی جانب موڑ لیا۔
“ایک وقت تھا جب میں ختم ہو جانا چاہتی تھی ۔ پر اب…. اب میں جینا چاہتی ہوں ۔ اب میں زندگی کو دوبارہ سے محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خوابوں ، نئی سانسوں اور نئی زندگی کے آغاز کو خوش آمدید کہتی ہوں ۔ “
گاڑی میں اب بھی ڈاکٹر طاہر کی آواز گونج رہی تھی، خاموشی اور احساس کے درمیان۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
پورا شہر رات ہوتے ہی روشنیوں میں نہا گیا تھا۔ ہر طرف جگ مگ کرتی عمارتیں کسی اور ہی دنیا کا تاثر دیتی تھیں۔
ایک ہاتھ میں سگار لیے، دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے وہ یک ٹک گلاس وال کے سامنے کھڑا بلند و بالا پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ یہ اس کا پسندیدہ منظر تھا۔ اس کے ذہن میں کچھ وقت پہلے کے مناظر کسی بھنور کی طرح گردش کر رہے تھے۔
فاہد قریشی کے تحریر کردہ نوٹس کے بعد مرزا نے پریس کانفرنس میں اس معاملے کو ٹیکل کیا تھا۔ اس نے ان کے سامنے عمارت کے گرے ہوئے حصّے کو دوبارہ سے ٹھیک کرنے کا حل رکھا تھا۔
بقول صاحبہ، “لوگوں کو الزام نہیں، حل چاہیے ہوتا ہے۔ اگر ہم انہیں حل دے دیں… تو الزام خود بخود کمزور ہو جائے گا۔”
پورا دن اسی مصروفیت میں گزرا تھا۔ سارا وقت صاحبہ اس کے ساتھ کھڑی رہی تھی، اور یہ سوچتے ہوئے نا جانے کیوں مرزا حاکم کو عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔
دروازے پر ہونے والی دستک کی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا۔
“کم ان۔” گھمبیر آواز میں کہا، وہ سگار کو لبوں سے لگا گیا۔
وہ دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئی۔ (اس کے جوتے کی آواز سنتے مرزا نے نا محسوس انداز میں سگار کو ڈسٹ بین میں پھینکا تھا۔)
“یہ کل کے انٹرویو کا شیڈول ہے اور پورا پیٹرن نوٹڈ ہے۔ آپ دیکھ لیجیے گا۔” وہ اس کی پشت کو ایک نظر دیکھتے ایک فائل میز پر رکھ گئی۔
وہ گہرا سانس لیتے پلٹا۔ سفید سویٹر کے ساتھ بھوری سکرٹ پہنے، بالوں کا میسی سا جھوڑا بنائے، وہ میک اپ سے عاری چہرہ لیے اس کے سامنے کھڑی تھی۔
وہ چند پل اسے دیکھتے رہا، ماضی کے کتنے ہی مناظر اس کے سامنے گھوم گئے۔ مرزا حاکم کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ ابھری۔
“تھینک یو۔”
کتابیں حیرت سے منہ کھول گئی۔ پہلی بار اس کے منہ سے شکریہ سن کر حیران ہونا تو بنتا تھا۔
“کس لیے؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“آج کے کیے۔”
“یہ میرا کام تھا۔ اسی چیز کی سیلری ملتی ہے۔” وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ کہتی ہے۔
اس کی بات پر وہ ہنس دیا۔
“واقعی۔ یہ تمہارا کام تھا۔ تم نے ہی سر انجام دینا تھا۔” وہ بے ساختگی میں اسے “تم” کہہ رہا تھا۔
“خیر، مجھے یہ بتاؤ، فہاد کو تحریر پر سائن کرنے کے لیے تم نے راضی کیسے کیا؟” اس نے دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے تجسس سے پوچھا۔
اس کے سوال پر وہ مسکرائی۔
“اپنی سیاہ کاریوں کو چھاپنے کے لیے انسان کسی بھی چیز کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔”
“اور کیا میں یہ جان سکتا ہوں کہ تمہیں اس کی سیاہ کاریوں کا علم کیسے ہوا؟”
“اس نے خود اس بات کا اعتراف کیا۔”
مرزا کی مسکراہٹ سمٹی۔
“کیا مطلب؟”
صاحبہ کی آنکھوں میں وہی ازلی شیطانیت ابھری۔ “مطلب یہ کہ میں نے تو صرف اندازہ لگایا تھا۔ انسان کے پہلا ردعمل ہمہشہ سچ اور جھوٹ کو واضح کر دیتا ہے ۔ اور اس کے ری ایکشن نے صرف بتایا نہیں بلکہ صاف صاف بتا دیا کہ وہ اسمگلر ہے ۔ وہ ہنسی تھی۔”
مرزا ہنس بھی نہ سکا۔
“مطلب… مطلب کہ تمہیں نہیں پتہ تھا کہ وہ کن کن کاموں میں ملوث ہے؟” اس کی آواز حیرت زدہ تھی۔
“بالکل نہیں، پتہ تھا۔”
“اگر وہ انکار کر دیتا تو؟؟؟”
“تو میں کوئی دوسرا داؤ کھیلتی، کیونکہ میں ہمیشہ آلٹرنیٹوز رکھتی ہوں۔ بٹ تھینکس ٹو ہم، اس نے مجھ سے زیادہ محنت نہیں کروائی۔”
وہ منہ کھولے اسے دیکھے گیا۔ “اف خدایا، یہ جنریشن کتنی خطرناک اور چالاک ہے۔” اس نے تپتے ہوئے دماغ سے سوچا اور پھر بے بسی سے ہنس دیا۔
“ویل، تم بہت احتیاط پسند ہو۔” مرزا نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھتے کہا۔
“کیونکہ میں جانتی ہوں زندگی میں کسی بھی وقت، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔” اس نے دل میں سوچا مگر کہا صرف اتنا۔
“ہونا بھی چاہیے۔” سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ جانے کے لیے مڑ گئی۔
وہ چلی گئی۔ مرزا حاکم ہمیشہ کی طرح اس کے جانے کے بعد بند دروازہ کو کئی پل دیکھتا رہا۔ پھر گہرا سانس بھر کر وہ ڈرار میں رکھے سگار کے پیکٹ سے ایک سگار نکال گیا۔ اس کی موجودگی میں وہ اسے استعمال نہیں کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
سورج کی سنہری کرنیں کھڑکی سے چھن کر آتی، اس کے زرد چہرے پر اور زیادہ شدت سے پڑ رہی تھیں۔ وہ اول جول حلیے میں بیڈ پر کروٹ کے بل لیٹی، دنیا و جہاں سے بیگانہ تھی۔
دور کہیں سے چڑیوں کی بلند چہچہانے کی آوازیں زور و شور سے آ رہی تھیں، جو اس کی گہری نیند میں پڑنے والے خلل کا سبب بنی۔
اس کے وجود میں ہلکی سی جنبش ہوئی اور وہ بھاری سر کے ساتھ اٹھی۔ کل رات اس نے سلیپنگ پلز لی تھی، جس کی وجہ سے وہ اتنی گہری نیند میں گئی کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ رات بھر کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا نے اس کے وجود کو بے حد سرد کر دیا تھا۔
پلویشا نے نم آنکھوں سے اپنا سر تھام کر قدم ٹھنڈے فرش پر رکھا اور اٹھی۔ بخار کی وجہ سے جسم درد کر رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ واشروم کی طرف بڑھ گئی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
خاموشی ہر طرف چھائی ہوئی تھی، جیسے وقت بھی تھم گیا ہو۔
کچھ دیر بعد جب وہ واشروم سے باہر نکلی تو کالے ڈھیلے ٹراؤزر کے ساتھ ہم رنگ شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔ چہرہ پانی سے بھیگ چکا تھا، جسے وہ تولیے سے پونچھتے شیشے کے سامنے جا ٹہری۔
بکھرے بال، سیاہ ہلکے، زرد رنگت، اور متورم آنکھیں—آہ، ہر غم کے ساتھ وہ بدلتی جا رہی تھی۔
وہ گہرے سانس بھرتی تیار ہونے لگی۔ اسے جاب پر جانا تھا۔ ڈاکٹر طاہر کی کل رات کی باتیں اس کے اندر نئے جزبے کو جنم دے رہی تھیں۔ پلویشا کی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ڈاکٹر طاہر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اسے تھامے رکھا۔ پلویشا اور ڈاکٹر طاہر کا رشتہ ایک انجان لمحے میں اتنا انمول بن گیا کہ اب اس کی زندگی میں، اللہ کے بعد، اگر کوئی اہم ہے تو وہ ڈاکٹر طاہر ہیں۔
انہوں نے پلویشا کو مضبوط نہیں بنایا بلکہ مضبوطی کو قائم رکھتے ہوئے جینا سیکھایا۔ انہوں نے اسے رونے سے کبھی منع نہیں کیا بلکہ ہمیشہ سکھایا کہ رونے کے بعد اٹھنا کیسے ہے۔ اگر اللہ نے پلویشا کو یہ موقع نہیں دیا تھا کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ جی سکے، تو اس کی زندگی میں ڈاکٹر طاہر کو شامل کیا۔ بے شک، اللہ کے فیصلے کبھی غلط ثابت نہیں ہوتے۔
پلویشا نے آخری نظر اپنے چہرے پر ڈالی۔ اب وہ قدرے بہتر نظر آ رہی تھی۔
جب وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول باہر آئی تو اسے کچھ عجیب سا احساس ہوا۔ مکمل خاموشی میں ڈوبا شاہ ہاؤس ایک پل کے لیے اسے اندر سے ہلا گیا۔
“سب کہاں گئے؟” وہ بے حد تعجب سے سوچتی آگے بڑھ رہی تھی کہ بے اس کا پاؤں مڑا اور وہ ڈھڑام سے منہ کے بل فرش پر گر گئی۔
ایک تیز لہر اس کے پورے وجود میں دوڑتی ہوئی دل کے مقام تک پہنچی—یہ لہر درد کی تھی۔
وہ ہتھیلیوں کے بل اوپر ہوئی۔ کچھ پل وہی بیٹھی، اپنے پاؤں سہلاتی رہی، پھر ہمت کر کے اٹھتی اور عجیب سی کیفیات سے دوچار ہو کر آگے بڑھی۔
لاونج سے باہر نکلتے ہوئے اسے فضا میں کافور کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ گلے پر ہاتھ پھیرتے ابھی پارکنگ ایریا کی طرف گئی ہی تھی کہ چونک گئی—سامنے کوئی گاڑی نہیں تھی۔
ابھی وہ حیرت سے پلٹی کہ زاہب اس کی جانب بڑھا۔
“سب لوگ کہیں گئے ہیں کیا؟” اس نے فوراً سوال داغا۔
ستے ہوئے چہرے کے ساتھ زاہب نے اس کی طرف دیکھا۔
“بی بی وہ۔۔۔”
“کیا وہ زاہب بابا؟ سب کہاں گئے ہیں؟”
“شاہ جی کے ہسپتال گئے ہیں۔” اس نے نم آنکھوں سے جواب دیا۔
“سب ہسپتال کیوں گئے ہیں؟” پلویشا کا ماتھا ٹھنکا۔
“کیوں گئے ہیں؟”
“وہ بی بی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کو دل کا دورہ پڑا ہے۔”
اسے یوں لگا جیسے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو۔
“کو۔۔۔ کون سے ڈاکٹر صاحب؟” اس کی آواز کھائی سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔
“طاہر بابا کو۔”
پلویشا پھٹی آنکھوں اور سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ دنگ رہ گئی۔
“وہ جی، سب لوگ انہیں صبح سے ہی لے گئے ہیں۔ اب تک واپس نہیں آئے۔”
زاہب کیا بول رہا تھا اس نے نہیں سنا۔ بس اپنے قدموں کو دروازے کی جانب بڑھتے دیکھا۔
“طاہر بابا کو دل کا دورہ پڑا ہے۔۔۔”
پلویشا کو یوں لگا جیسے دل کو خنجر سے چیر دیا گیا ہو۔
وہ ساکت پلکیں لیے زمین کو دیکھتی، ایک ایک قدم دروازے کی جانب بڑھتی، اور اگلے ہی پل پوری شدت سے بھاگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
اسلام آباد کی پُرسکون فضا میں واقع وہ بنگلہ نما گھر اپنی خاموش شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔ باہر لان میں ہلکی ہوا درختوں کے پتوں کو آہستہ آہستہ ہلا رہی تھی، جبکہ اندر لاونج نرم روشنی میں نہایا ہوا تھا اور وہ دونوں درمیان میں رکھے صوفوں پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
سائفر خاموشی سے اپنے سامنے بیٹھے دلاور کو سن رہا تھا جو اسے اسمگلنگ کی ساری کاروائی سے آگاہ کر رہا تھا۔ جبکہ دوسری طرف دلاور بولتے ہوئے نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کیے ہوئے تھا، وہ ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، دائیں ہاتھ میں مشروب تھامے، گھونٹ گھونٹ ٹھنڈا مائع گلے میں اتار رہا تھا۔ چہرہ سنجیدہ تھا، البتہ آج ایک الوہی چمک چھائی تھی جو دلاور کے دل میں کھٹکا پیدا کر رہی تھی۔
اسفند نے ابھی اپنے ذمہ کام کو پورا کر دیا۔ اس نے بات ختم کی تو لاونج میں مکمل سناٹا چھا گیا۔
سائفر، تم سن رہے ہو نا میں نے کیا کہا؟
“بلکل، میں سن رہا ہوں۔” اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور تحمل سے جواب دیا۔
مگر سمجھ نہیں رہے ہو۔
دلاور نے بغور اسے دیکھتے کہا۔
“مجھے سمجھنا ہے بھی نہیں، مجھے بس پیسوں سے غرض ہے۔” اس نے سر جھٹکتے کہا۔
“اتنے پیسے کا کیا کرو گے تم؟” دلاور نے تھک کر پوچھا۔ (سائفر کے پاس بہت پیسہ تھا، جائز نا جائز، مگر تھا بہت سارا، اتنا کہ اس کی سات نسلیں بیٹھ کر کھا سکتی تھی۔ وہ اتنے سالوں سے دن رات گدھوں کی طرح محنت کرتا، کماتا تھا، بڑی مشکلوں سے اسمگلنگ کرواتا تھا اور وجہ تھی صرف پیسہ۔ کیا لالچ انسان کو واقعی اتنا ہی مجبور کر دیتی ہے کہ پھر اسے کسی شے کا ہوش نہیں رہتا؟)
دلاور کے سوال پر وہ چپ رہا۔ چند پل مکمل خاموشی چھائی رہی، پھر سائفر کی آواز گونجی۔
“پیسہ میری طاقت ہے۔ میں جو چاہے خرید سکتا ہوں۔ جو چاہے…” وہ ایک پل کو رک گیا۔ “جو چاہے پا سکتا ہوں۔” جزبات سے عاری لہجہ میں کہتے اس نے گلاس لبوں سے لگایا۔
دلاور نے گہری سانس بھری۔ وہ اس کا جواب اتنی دفعہ سن چکا تھا کہ ہر بار سننے کے بعد اپنے سوال پوچھنے پر ہی لعنت بھیج کر رہ جاتا۔
“اچھا، خیر اسماعیل اپنا مال جلد بھیج دے گا، اس کا بھی بندوبست کرنا ہے، ایسا کرت…”
“اگر میں تم سے یہ کہوں کہ میں کسی کو پسند کرتا ہوں، تو کیا تم یقین کرو گے؟” دلاور کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔ وہ منہ کھولے اسے دیکھ کر رہ گیا۔
“میں نے اتنا مشکل سوال بھی نہیں پوچھا تم سے۔” اسے مکمل سکتے میں دیکھ، اس نے کلس کر پوچھا۔
“زرا اپنی بات کو دہرانا۔” دلاور آگے کو ہوتا پوچھتا ہے جبکہ وہ بری طرح بدمزہ ہوا۔
“میں نے پوچھا ہے، اگر میں یہ کہوں کہ میں کسی کو پسند کرنے لگا ہوں، تو کیا تم یقین کرو گے؟”
دلاور اس کی سنجیدگی دیکھ کر رہ گیا۔ پھر گہرہ سانس بھرتا پیچھے کو ہوا، صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی۔
“کیا وہ ‘کسی’ کوئی لڑکی ہے؟”
واہ، کیا سوال تھا۔ سائفر کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
“تو تمہیں کیا لگتا ہے، میں کسی خواجہ سرا کی بات کر رہا ہوں؟”
“تو مطلب وہ لڑکی ہے۔” وہ ایک پل کو چپ ہوا۔ “تب مجھے تمہاری بات پر بلکل بھی یقین نہیں آئے گا، کیونکہ یہ ناممکن ہے۔” وہ اطمینان سے کہہ کر چپ ہو گیا، جبکہ سائفر کو یہ جواب اندر تک سلگا گیا۔
“اور یہ ناممکن کیوں ہے؟” اس نے دانت پیستے پوچھا۔
دلاور نے مکمل نظر اس کے تیوری چھڑائے چہرے پر ڈالی، اور مسکرایا۔ ایک گہری مسکراہٹ۔
“کیونکہ محبت کرنے والی صفت مرزا حاکم میں پائی جاتی ہے۔”
وہ ساکت ہو گیا۔ اردگرد کی ہر شے تھم گئی۔ ماتھے کے بل ایک پل میں غائب ہوئے۔ وہ حیرت سے گنگ چہرہ لیے دلاور کو دیکھے گیا جو ہنوز اسے دیکھتے کہے جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
اس نے سکتے کی حالت میں ایک قدم اٹھایا ۔ پھر دوسرا ۔ اور اگلے ہی پل وہ بھاگتے ہوئے مین ڈور کی جانب بڑھی تھی ۔
پانچ گھنٹے پہلے
وہ ابھی ابھی قرآن پاک کی تلاوت کر کے اپنی سٹڈی میں بیٹھے تھے۔ پر نور چہرے پر شفقت ہی شفقت تھی جبکہ دور اندر گہرا دکھ چھپا ہوا تھا۔ بے شک کل رات انہوں نے پلویشا کو پھر سے گرنے سے بچا لیا تھا، مگر اس کی تکلیف دہ باتیں انہیں اندر سے مسلسل گھائل کر رہی تھیں۔ اپنی پچپن سالہ زندگی میں انہوں نے پہلی بار آج کسی کو بدعا دی تھی۔ بے بسی اور اذیت سے، انہوں نے رو کر رب کو پکارتے ہوئے پلویشا کے ساتھ برا کرنے والے پر رسی سخت کرنے کی التجا کی تھی۔
وہ بھاری دل کے ساتھ واٹس ایپ پر آئے سب کے میسجز سین کر کے انہیں جواب دے رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک چیٹ پر گئی۔ اس چیٹ پر ایک انجان سا نام لکھا تھا اور اسے دیکھتے ہی ان کی آنکھیں بے اختیار نم ہو گئی۔ انہوں نے اس پر کلک کیا، سامنے ہی پلویشا کی شادی کے جوڑے میں ملبوس تصویریں موجود تھیں۔ جب وہ مکمل تیار ہو گئی تھی، تب اس نے انہیں کال کرنے سے کچھ ہی پل پہلے یہ تصویریں بھیجی تھیں اور ایک وائس نوٹ، جس میں اس نے بڑی آس سے پوچھا تھا:
“میں پیاری لگ رہی ہوں نا ڈاکٹر طاہر؟”
وائس نوٹ سے آتی خوبصورت نرم آواز پر ڈاکٹر کے آنسو بے اختیار گال پر پھسلتے چلے گئے۔ ان کا دل ڈوبنے لگا۔
دولہن بنی پلویشا۔۔۔
فون پر ان کو آنے کا کہتی پلویشا۔۔۔
ہسپتال کے اس کمرے میں اجڑی ہوئی پلویشا۔۔۔
ڈاکٹر طاہر کی سانسیں بھاری ہونے لگی۔ وہ اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتے اٹھنے کی کوشش کرنے لگے، مگر جسم سے جان ختم ہوتی محسوس ہوئی۔
صائم سے ملنے والی تکلیف میں چیختی ہوئی پلویشا۔۔۔
ہسپتال سے واپس مڑ کے بھاگتی ہوئی پلویشا۔۔۔
وہ پسینے سے شرابور ہو رہے تھے، ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ وہ سانس لینے کی کوشش کرتے مگر دل میں اٹھتا بے تحاشہ درد انہیں مفلوج کر رہا تھا۔ پلویشا کی تمام تکلیف دہ یادیں انہیں پوری شدت سے یاد آ رہی تھیں۔
کھلے لان پر بے بس سے چاند کو تکتی پلویشا۔۔۔
اور اس کا وہ جملہ۔۔۔ اس کا کہنا کہ، “وہ چار لوگ تھے اور آپ کی پلویشا اکیلی۔”
ان کے ہاتھ سے فون نیچے گر گیا، ان کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ دھڑام سے اوندھے منہ فرش پر گرے ہی تھے کہ اگلے ہی پل تائی جان نے سڈی کا دروازہ کھولا۔ وہ شاید ان سے کچھ کہنے آئی تھی، مگر سامنے ہی کرسی سے گرتے طاہر نے ان کے قدموں تلے سے زمین کھنچ لی۔
“طاہر!” وہ پوری شدت سے چلاتی، ان تک گئی۔ ایک پل انہیں شاہ ہاؤس کی چھت خود پر گرتی محسوس ہوئی تھی۔
“صائم، جلدی آؤ!” وہ پوری شدت سے دھاڑتی طاہر کو سمبھال رہی تھی۔
وہ دل کے مقام کو مضبوطی سے جکڑے، بدلتی رنگت کے ساتھ اوندھے منہ گرے، کچھ بڑبڑا رہے تھے۔
“طاہر، آنکھیں بند مت کرنا، پلیز!” تائی جان اب رونے لگیں تھی، جب انہیں محسوس ہوا وہ کچھ کہنا چاہ رہے تھے۔ وہ فوراً ان کے کان کے پاس جھکی:
“م۔۔۔میر۔۔۔میری پلو۔۔۔ویش۔۔۔ا۔۔۔اک۔۔۔اکیلی۔۔۔تھی۔۔۔اس۔۔۔را۔۔۔رات۔۔۔ا۔۔ا”
“طاہر، خدارا چپ ہو جا۔۔۔” ابھی وہ مکمل کہتی کہ صائم اور ردا فوراً وپاں پہنے۔ ان کے پیچھے ہی ابراہیم اور سمعیہ بھی داخل ہوئے۔
اگلے کئی لمحے سلو موشن میں گزرے۔
وہ روتی ہوئی طاہر کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھیں۔
ابراہیم دھک دھک کرتے دل کے ساتھ طاہر کی مدھم چلتی سانسوں کو محسوس کر رہا تھا۔
صائم اور ابراہیم پریشان چہروں کے ساتھ طاہر کو گاڑی میں لیٹا رہے تھے، جبکہ سمعیہ اور تائی جان روتے ہوئے دوسری گاڑی میں سوار ہو رہی تھیں۔ ردا بھی انہیں کے ساتھ تھی۔
اگلے ہی لمحے دونوں گاڑیاں سو کی سپیڈ سے شاہ ہاسپیٹل کی طرف روانہ ہوئی۔
کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال پہنچے۔ طاہر کو سٹریچر پر لیٹائے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ محبت کرنے والی صفت مرزا حاکم میں پائی جاتی ہے۔
مگر “سائفر۔۔۔سائفر کو کبھی محبت نہیں ہو سکتی۔”
دلاور چپ ہو گیا۔ گہری خاموشی ان کے درمیان چپکے سے آکر بیٹھ گئی۔ دلاور اطمینان سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ ساکت پلکیں لیے بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔
کچھ وقت بعد اس کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی۔ اس نے آہستگی کے ساتھ گلاس میز پر رکھا، پیچھے کو ہوا اور دونوں مٹھیاں آپس میں ملاتے تھوڑی پر ٹکائی۔
“اگر میں یہ کہوں کہ مرزا حاکم کسی کو پسند کرنے لگا ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟” اس نے پھر سے وہی سوال پوچھا مگر اب پوچھنے والی شخصیت مرزا حاکم تھی۔ لہجہ مرزا حاکم کا تھا اور احساس۔۔۔ وہ بھی مرزا حاکم کا تھا۔
دلاور کھل کر مسکرایا۔ “تو میں فوراً یقین کر لوں گا اور یہ پوچھوں گا کہ یہ پسند کہاں تک پہنچی ہے۔”
“پسند ابھی آگے نہیں بڑھی، ہو سکتا ہے بڑھ جائے۔” اس نے صاف گوئی سے جواب دیا جبکہ دلاور آگے کو ہوا۔
“مجھے پوری بات بتاؤ، تم نے اسے کہاں دیکھا، کیا محسوس کیا، وہ کس نیچر کی ہے۔”
مرزا نے گہرا سانس بھرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تائی جان کب سے شل بیٹھی تھی جبکہ سمعیہ اور ردا ان کے دائیں بائیں بیٹھی انہیں تسلی دے رہی تھی۔ صائم ایک جانب پریشان سا کھڑا خیریت کی دعائیں مانگ رہا تھا۔
اندر آپریشن تھیٹر میں پچھلے چار گھنٹوں سے طاہر کی سرجری ہو رہی تھی۔ ای سی جی اور ٹیسٹس کے بعد ابراحیم نے انہیں آکر بتایا تھا کہ طاہر کے دل کو خون پہنچانے والی شریان میں کلاٹ بن گیا تھا۔ اس لیے شریان کو دوبارہ سے کھولنے کے لیے سرجری کی ضرورت تھی۔
“بھابی آپ فکر نا کریں، اللّٰہ رحم کرے گا،” سمعیہ نے امید دلاتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے تائی جان کوئی جواب دیتی، آپریشن تھیٹر سے ابراحیم باہر نکلا، جسے دیکھ وہ تینوں اس کی طرف لپکی۔
وہ بھاگتی ہوئی ہسپتال آئی تھی۔ کب دوپٹہ اترا، جوتے اترے، اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ وہ دیوانہ وار ہسپتال میں داخل ہوتی ریسپشن تک گئی۔
ریسپشن اس کی حالت دیکھتے فوراً ہی اس کا سوال سمجھ گئی، اس لیے اگلے ہی لمحے اس اوپر والے فلور کا روم نمبر 11 بتایا۔
وہ ایک لمحہ ضائع کیا بنا، بھاگی۔
سیکنڈ فلور پر آتے ہی اسے سامنے صائم کھڑا نظر آیا۔
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا، قدم شل ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔
اسے ہسپتال کے کمرے سے ابراحیم باہر آتا دکھائی دیا۔
وہ اپنے قدموں کو روک گئی، آنکھیں آنسوں سے بھری پڑی تھیں جبکہ سماعت رواں تھی۔
ابراحیم کے چہرے پر گہرا کرب تھا۔ سمعیہ کے اندر باہر خوف چھانے لگا۔ جبکہ تائی جان نے پریشانی سے اسے دیکھا۔
پلویشا کا دل ڈوبنے لگا۔ “اللّٰہ ایسا نا کرے۔۔۔”
“Dr. Tahir is no more.”
اس کی دعا بیچ میں رہ گئی۔ آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گئیں، اور سانس سینے میں ہی دب گئی۔ وہ پتھر کا مجسمہ بن گئی۔
ابراحیم کی بات پر تائی جان لڑکھڑا کر پیچھے ہوئی، جب روتی سمعیہ نے انہیں تھام لیا۔
صائم نے آنکھیں میچ لی تھیں۔ تائی جان پھٹی پھٹی آنکھوں سے فرش کو گھورتی رہی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کی شدت سے رونے کی آواز پورے کاریڈور میں گونج اٹھی تھی۔
ایک پل میں وہاں صف ماتم بچھ چکا تھا۔
ابراحیم شکستہ قدموں سے چلتا ہوا صائم تک آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“اللّٰہ کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔”
وہ کچھ نہ بولا، خاموش رہا۔ ابراحیم ابھی کچھ اور بولتا کہ اسے صائم کے دائیں جانب وہ نظر آئی۔
ننگے پاؤں، دوپٹہ سے بے نیاز، کھلے بکھرے بالوں والی وہ پتھر کا مجسمہ بنی پلویشا دائم۔
انہیں بے اختیار افسوس ہوا۔ وہ آگے بڑھ کر اس تک گئے۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“صبر سے کام لینا،” وہ محبت اور شفقت سے کہتے، جب اس نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔
ابراحیم نے آج سے پہلے اتنی بنجر، اتنی خشک آنکھیں نہیں دیکھی تھیں۔ اس کے ویران آنکھیں دیکھ کر ان کا ضبط جواب دے گیا۔ آنسو قطار کی صورت ان کی آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔
وہ انہیں اسی طرح روتا چھوڑ کر آگے بڑھی۔ اس نے خاموش آنسو بہاتے صائم کو دیکھا۔
اس نے روتی بلکتی سمعیہ کو پھوٹ پھوٹ کر روتی تائی جان کو چپ کرواتے دیکھا۔ اس نے ایک طرف منہ پر ہاتھ رکھے گھٹی گھٹی سسکیوں سے روتی ردا کو دیکھا۔
اور پھر وہ اپنے کمرے کے سامنے جا ٹہری۔
“روم نمبر 11۔” یہ نمبر ناجانے کتنی ہی بار اس کی زندگی میں آیا تھا۔
اس نے خاموشی کے ساتھ دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔
اندر سامنے ہی سنگل بیڈ پر وہ بے سدھ لیٹے تھے۔ سفید چادر کے ساتھ پورا وجود چھپ گیا تھا۔
وہ قدم قدم لیتی ان کے سراہنے جا ٹہری۔ کئی پل وہ چپ چاپ انہیں دیکھتی رہی۔
ہسپتال کے کمرے کی مخصوص بو ہر طرف چھائی تھی۔
اس نے آہستگی سے ان کے چہرے سے سفید چادر ہٹائی۔ اس لمحے نے صدیوں کی مسافت طے کی تھی۔
وہ یک ٹک ان کے چہرے کو تکتی رہی۔ باہر کاریڈور میں رونے کی آوازیں بلند تھیں، جبکہ اندر۔۔۔ گہری خاموشی۔
اس آہستگی کے ساتھ اپنے کانپتی انگلیوں سے ان کے گال کو چھوا۔ پھر وہ اپنی انگلیوں کو ان کی آنکھوں تک لے گئی۔ ان کا وجود بے حد ٹھنڈا تھا۔
اس نے ایک آخری، ڈوبتی ہوئی آس کے تحت ان کی سانسیں محسوس کرنی چاہی، پر۔۔۔
ڈاکٹر طاہر جا چکے تھے۔
یعنی۔۔۔
سارے دکھ ختم۔۔۔
سارے ٹرائلز ختم۔۔۔
سارے آنسو ختم۔۔۔
اس کے اندر باہر سکوت چھا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارک سے واپس لوٹنے پر وہ اپنے گھر گیا تھا۔ مگر ایک عجیب سے بے چینی تھی جو ہر سو پھیلی تھی۔ ایک بے بسی سی تھی، غصہ سا تھا کہ آخر کیوں وہ خود پر کنٹرول نہیں رکھ پا رہا آجکل۔۔۔ لیکن خیر، ان سب معاملات سے وہ بعد میں نمٹتا،وہ انکل کے گھر آ گیا تھا اور ابھی وہ گرم سوپ کے ساتھ انصاف کرنے میں مصروف تھا اور انکل دوسرے صوفے پر بیٹھے بغور اسے دیکھے جا رہے تھے۔
“اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟” بالآخر انہوں نے لاونج میں پھیلی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
“بہتر فیل کر رہا ہوں۔”
“مطلب بلکل بھی اچھا محسوس نہیں کر رہے۔” انہوں نے گہرا سانس لیا۔
وہ چپ رہا۔ سینٹرل صوفے پر آرام دہ ہو کر بیٹھا، ٹانگیں سامنے میز پر رکھے، وہ اتنی نفاست سے کھا رہا تھا جیسے پاپا کی پڑی کسی لڑکے کو دیکھ سارے مینرز سیکھ جاتی ہے۔ آہ، نا جانے کیا بلا تھی وہ۔
“ازمیر، بس کرو اب،” انہوں نے اس کے ہاتھ سے باؤل لیا۔ “پچھلے دو گھنٹے سے میرے صبر کا امتحان لے رہے ہو، اب چپ چاپ بتاؤ تمہیں میری یاد کیوں آئی ہے۔”
“کیا مہمان نوازی اس عمر تک کسی نے نہیں سکھائی آپ کو؟” اس نے غصے کے عالم میں ہاتھ میں پکڑے چمچ پر گرفت سخت کرتے کہا۔ کتنے سکون سے وہ کھا رہا تھا۔ اب کیا کوئی یوں ہاتھ سے کھانا کھینچتا ہے، بھلا؟
“سکھائی ہے، مگر زبردستی اور بن بلائے مہمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا ہے۔”
“انتہائی بے مروت ہوتے جا رہے ہیں۔”
“تمہاری ماں کو تمہاری تربیت پر غور کرنا چاہیے تھا۔” انہوں نے تمیز یاد دلانی چاہی۔
“آپ کے والدین کے لیے بھی میرے پاس یہی مشورہ ہے۔” آہ، ڈھیٹائی کوئی اس سے سیکھتا۔
“ٹھیک ہے پھر۔ میرے پاس ابھی بہت سے کام ہیں، تمہاری طرح فارغ نہیں ہوں، بیٹھے رہو۔” وہ اٹھ کر جانے کے لیے مڑ گئے۔
“میں اسے بھول نہیں پا رہا۔”
ابھی وہ دو قدم ہی چلے ہوں، بے کہ عقب سے آتی ازمیر کی آواز پر رک گئے۔ حیرت سے مڑ کر اسے دیکھا، جو اب گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر انگلی پھیر رہا تھا۔ چہرہ جھکا ہوا تھا، البتہ پریشانی صاف واضح تھی۔
وہ چپ چاپ دوبارہ سے صوفے پر آ کر بیٹھے۔ اب انہیں اسے سننا تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
قبرستان میں ہر طرف خاموشی پھیلی تھی۔ سرسراتی ہوا کے جھونکے ہر طرف ایک مدھم ساز پیدا کر رہے تھے۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی کرنیں بھی مدھم پڑتی جا رہی تھی۔ ہر طرف ایک ہو کا عالم تھا۔
“ان کی تدفین ہو چکی تھی۔” اور وہ نا جانے کب سے وہاں بیٹھی تھی۔ یک ٹک، بنا پلکیں جھپکائے وہ سامنے قبر پر لگی تختی کو دیکھے جا رہی تھی۔
“اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنی قبر پر بیٹھی تھی۔” اسے نا تو کچھ نظر آ رہا تھا اور نا ہی سنائی دے رہا تھا۔ صرف خاموشی تھی جو آس پاس حصار باندھے ہوئے تھی۔
“کیا زندگی اتنی عارضی ہے؟؟؟”
“اس کا ہر موڑ پر ساتھ دینے والے، ہر مشکل میں ڈھال بننے والے، ہر خوشی میں شامل ہونے والے ڈاکٹر طاہر ایک پل میں اس سے جدا ہو گئے؟”
“وہ کتنی اوور تھنکر تھی۔ ہر بات، ہر ایکشن کو سوچنے میں کتنا وقت زائع کر دیتی تھی۔ پر۔۔۔پر کبھی یہ کیوں نا سوچ پائی کہ ڈاکٹر طاہر بھی اسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں؟”
“انہوں نے اسے ہر چیز سیکھائی۔ نماز، قرآن، زندگی گزارنے کا طریقہ، غرض ہر شے کا علم دیا، مگر۔۔۔ انہوں نے یہ کیوں نا سیکھایا کہ جب میں چلا جاؤں تو کس طرح سے ری ایکٹ کرنا ہے؟”
“وہ کہتے تھے سٹک نہیں ہونا۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے، پر یہ کیوں نا بتایا کہ جب زندگی ہی ختم ہو جائے تو پھر کیا کیا جائے؟”
“اسے لگتا تھا وہ اس سے کچھ نہیں چھپاتے۔ پر آج تو حقیقت نے ایسا تھپر مارا کہ وہ سنبھل ہی نا پائی۔ اسے تو آج معلوم ہوا کہ وہ تو اس سے بہت کچھ چھپا گئے ہیں۔”
“انہیں بتانا چاہیے تھا کہ وہ بھی چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔”
“وہ بھی الوداع کہنا بھول سکتے ہیں۔”
“وہ بنا بتائے بھری دنیا میں تنہا چھوڑ سکتے ہیں۔”
“اور میں خالی ہاتھ لیے ان کی قبر پر بھی بیٹھ سکتی ہوں۔”
اس نے دھیرے سے ان کے لحد پر ہاتھ پھیرا۔ اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا۔
“وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر آواز نے ساتھ نا دیا۔”
بظاہر نظر آنے والے سکوت کے اندر ایک شور بڑپا تھا۔ اگر تم سانس روکے کان لگاؤ تو دنگ رہ جاؤ۔ اس کے ذہن میں گونجتے لفظ۔۔۔ آہ وہ لفظ تھے۔۔۔
“اسلمت لرب العلمین۔”
“جب بھی آزمائش آتی تھی وہ کتنی خوشی سے یہ جملہ کہہ کر مطمئن ہو جاتی تھی کہ اس نے رب کو خوش کر لیا، پر آج؟؟”
“آج یہ جملہ گلے میں کانٹے کی طرح کیوں چھب رہا ہے؟”
“اس کے اندر مسلسل ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔”
“پلویشا کہو، اسلمت لرب العلمین۔”
“وہ ضبط کیے رہی۔ وہ نہیں کہے گی۔ اس بار نہیں کہے گی۔”
“پلویشا کہو، اسلمت لرب العلمین۔”
“م۔۔۔۔۔میں ن۔۔۔نہیں ک۔۔کہ۔۔کہوں گ۔۔”
اس نے خشک حلق کے ساتھ بامشکل آواز نکالتے کہا۔ چہرہ چٹان کی مانند سخت تھا۔
“پلویشا کہو، اسلمت لرب العلمین۔”
“میں نہیں کہوں گی۔” وہ پھر بولی۔
“پلویشا کہو، اسلمت لرب العلمین۔” منت بھری آواز۔
اس نے ویران آنکھیں اٹھا کر قبر کے کتبہ کو دیکھا۔ سرسراتی ہوا کا جھونکا اسے چھو کر گزرا۔وہ نظریں آسمان کی جانب اٹھا گئی۔کتنے ہی پل وہ خالی آنکھوں سے آسمان کو دیکھتی رہی ۔
“ا۔۔۔۔۔اس۔۔۔اسل۔۔۔المت ۔۔۔اسلمت۔۔لرب۔۔۔لرب۔۔العمین۔”
اس نے بامشکل توڑ توڑ کر کہا اور طھر چپ چاپ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک نظر قبر کو دیکھا۔۔۔۔۔۔اور مڑ گئی۔
نا آنسو بہائے گئے، نا ماتم کیا گیا۔ نا فاتحہ پڑھی گئی اور نا شکوہ کیا گیا۔
بس رب کو راضی کیا اور راستہ بدل لیا گیا۔
پھیلتے اندھیرے نے کرب سے، اس چٹان جیسی سخت لڑکی کو دیکھا تھا جس کے وجود پر بہت سی بھری ہوئی دراڑیں تھی، مگر ایک۔۔۔ ایک ایسی بھی دراڑ تھی جو اب تا عمر ساتھ رہنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شاہ ہاوس میں تو جیسے ہر طرف سوگ ہی پھیلا تھا ۔ تائی جان کب سے روئے جا رہی تھی جبکہ ردا اور سمعیہ انہیں چپ کروانے کی سعی کر رہی تھی ۔”
“ان کی رونے کی سسکیاں گونجتی ہی رہی یہاں تک کہ ابراحیم اور صائم بھی لاونج میں داخل ہوئے ۔”
“وہ دونوں مرد تھے ، بظاہر صبر کیے ہوئے تھے مگر اندر سے وہ بھی ٹوٹ گئے تھے ۔”
“چھت کے بنا عمارت کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔ اسی طرح طاہر شاہ کے بنا بھی یوں لگ رہا تھا سب کی زندگی بے کار ہو ۔”
“وہ دونوں دائیں جانب رکھے صوفے پر بیٹھ گئے ۔”
“مکمل خاموشی میں صرف تائی جان کی سسکیوں کی ہی آواز تھی ۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کن لفظوں میں ایک دوسرے کو حوصلہ دیں ۔”
“آئے دن وہ جنازوں کے اعلان سنا کرتے تھے ۔ رشتہ داروں کے گھر جا کر ان کے عزیزوں کی وفات پر افسوس کیا کرتے تھے ۔ لیکن آج جب اپنا عزیز رخصت ہو گیا تو حوصلے چٹخ کر رہ گئے تھے ۔”
“بھابھی انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا ۔ کیا وہ ۔۔۔کیا وہ پریشان تھے ؟ ابراحیم نے نم آواز میں پوچھا مگر سائلہ نے کوئی جواب نا دیا ۔”
“بابا نے تو ذکر بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں کوئی پریشانی ہے ۔ صائم نے افسوس سے کہا ۔”
“گہرے صدمے کے باعث بھی بعض دفعہ ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے ۔”
“لیکن چاچو اگر بابا کو کوئی پریشانی تھی تو انہوں نے ہم سے کیوں ڈسکس نہیں کی ۔”
“اس نے لاونج میں قدم رکھتے ہوئے صائم کی غمگین آواز سنی تھی ۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئی ۔”
“ابراھیم نے کوئی جواب نا دیا ۔ اس کی آنکھیں بھرا گئی تھی ۔”
“وہ سیڑھیوں کی طرف جا ہی رہی تھی کہ سب لوگ اس کی جانب متوجہ ہوئے ۔”
“ننگے میلے پاؤ ، ملگجاسا لباس ، بکھرے بکھرے بال اور بے تاثد چہرے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی وہ کہیں سے بھی پلویشا نہیں دیکھائی دے رہی تھی ۔”
“اس کے قدموں کی چاپ سن تائی جان نے فٹ سے روتا چہرہ اُٹھایا تھا ۔”
“کہاں جا رہی ہو تم ؟ وہ دبے دبے غصہ سے بولی ۔”
“سب لوگ ایک پل کو چونکے تھے ۔ قدم تو اسکے بھی رکے ۔وہ دھیرے سے پلٹی ۔”
“کہاں جا رہی ہو اب تم پلویشا ؟ ان کے لہجہ میں درد نپہاں تھا ۔”
“وہ کچھ نا بولی ۔ یک ٹک انہیں دیکھتی رہی ۔”
“بھابھی کیا بات ہے ؟ ابراحیم نے حیرت سے پوچھا ۔ اسے سائلہ کے سوال اور لہجہ کی منطق سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔”
“کیا بات ہے ؟ وہ ابراحیم کی جانب مڑی ۔ تم پوچھتے ہو کیا بات ہے ۔ ابراحیم طاہر مر گیا ۔ وہ ہمیں چھوڑ گیا ہے ۔”
“لفظ کسی کوڑے کی مانند پلویشا کے ساکت وجود کو آن لگے تھے ۔”
“تم پوچھتے ہو انہیں کیا صدما تھا ۔ وہ صدما پلویشا ہے ۔”
“ابراھیم سمیت سب ہی چونک گئے ۔”
“وہ آخری سانسوں میں غمگین تھا ۔ رو رہا تھا اس بات پر کہ یہ( انہوں نے پلویشا کی جانب اشارہ کیا ) تنہا تھی اس رات ۔”
“تمہارئی تنہائی کا غم ہمیں طاہر کا غم دے گیا ہے پلویشا ۔ وہ اب اس کی جانب مڑی روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔”
“ایک طرف وہ سب لوگ ہی اب خاموشی سے آنسو بہا رہے تھے ۔ اور دوسری طرف وہ بے حس و حرکت کسی مجرم کی طرح ٹہری تھی ۔”
“تمہارا غم ۔۔۔۔۔تمہارا غم طاہر کو کھا گیا ۔ وہ بے بسی سے بولی ۔”
“صائم کو بے اختیار پلویشا پر ترس آیا ۔ وہ جانتا تھا ڈاکٹر طاہر کی محبت پلویشا کے لیے کتنی انمول تھی مگر جو کچھ بھی ہوا اس میں اس کا قصور نہیں تھا ۔”
“ردا نے اپنے قدم پلویشا کی طرف بڑھائے ۔”
“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں تائی جان ۔ ردا رک گئی ۔ سب تھم گئے ۔”
“آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر کو میرا غم کھا گیا ہے ۔ پر دیکھے ۔۔۔۔۔ان کا غم مجھے اندر سے مار گیا ہے ۔”
“پلویشا کی بات پر سمعیہ کی ہچکی بلند ہوئی ۔ اس کے بے تاثر لہجہ میں جو کرب ، دکھ ، اور درد نپہاں تھا وہاں بیٹھے سب لوگوں کو لرزا گیا تھا ۔ تائی جان کو بے اختیار اپنی بات پر شرمنگی ہوئی ۔”
“وہ ایک پل وہاں ٹہری ان سب کو دیکھتی رہی اور پھر مڑ گئی ۔”
“اس نے دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولا ۔ سامنے ہی بیڈ پر وہ بیٹھے تھے خوبصورت لڑکی کو اپنے ساتھ لگائے سمجھا رہے تھے ۔”
“وہ دروازہ بند کر کہ اس سے پشت ٹکائے آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔ اور نظریں ان دونوں پر مرکوز کر دی ۔”
“ابھی وہ انہیں دیکھ ہی رہی تھی کہ وہ دونوں اٹھ کر صوفے پر جا بیٹھے ۔ پھر وہاں سے اٹھ کر کمرے کی کھڑکی میں جا ٹہرے ۔”
“جہاں جہاں وہ نظر آ رہے تھے وہ اپنی نظروں کو بھی ان کی سمت میں موڑتی گئی ۔”
“لوقت پھسلتا چلا گیا رات گہری سے گہری ہوتی گئی ۔ مگر وہ آنکھیں کھولے اسی پوزیشن میں بیٹھی رہی ۔
پورے کمرے میں ان دونوں کی آوازیں گونجتی رہی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
“میں نے اسے پہلی بار جب دیکھا تھا، تو وہ بڑے سکون سے مسکراتے ہوئے لوگوں کو ان کی اوقات دیکھا رہی تھی۔ وہ ایک ایک کے منہ پر انتہائی مہذب انداز میں جوتا مار رہی تھی۔ تب اسے دیکھتے میرا دل بے اختیار مسکرایا تھا۔ اس کا انداز، اس کی وہ زہین آنکھیں میرے زہن میں راسخ ہو گئی تھی۔”
“دلاور نے بے اختیار ابھر آنے والی مسکراہٹ دبائی۔ مرزا اسے نہیں دیکھ رہا تھا وہ میز پر رکھے گلاس پر نظریں جمائے کہتا گیا۔”
“جب دوسری بار دیکھا تو وہ میرے پاس انٹرویو دینے آئی تھی جبکہ اس کا انداز ایسا تھا کہ اگر وہ یہاں سے خالی ہاتھ گئی تو اسے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ مجھے خمیازہ بھگتنا پڑے گا (وہ ہنسا)۔ اس کا اعتماد، اس کی وہ شاطر مسکراہٹ اور وہ کانٹریکٹ پیپر۔۔۔ واللّٰہ وہ مجھے لاجواب کر چکی تھی۔”
“جتنا سکون مرزا حاکم کے چہرے پر تھا اتنا ہی اس وقت دلاور محسوس کر رہا تھا۔”
(“ہماری ملاقات عجیب تھی۔ مگر وہ ملاقات میرے زہن پر نقش ہو گئی۔ میں جتنی شدت سے اسے بھولنے کی کوشش کر رہا ہوں وہ اتنی ہی شدت سے مجھے حفظ ہوتی جا رہی ہے۔ ازمیر نظریں جھکائے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے اپنی کیفیات بتا رہا تھا۔انکل خاموشی سے اسے سنتا رہا “)
“وہ ہر وقت سنجیدہ رہتی ہے۔ کام کے سوا کوئی بات نہیں کرتی۔ مگر اس کی باتیں مجھے اس قدر دلچسپ لگتی ہیں کہ دل چاہتا ہے وہ بات کرتی رہے اور میں سنتا رہوں۔”
“اس کی آواز میری سماعتوں کو اس قدر عزیز ہونے لگی ہے جیسے شور بھری دنیا میں اچانک سکون مل جائے۔”
“وہ جب میرے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو مجھے لگتا ہے میرے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کھڑی ہے۔ مجھے سہارے لینے سے نفرت ہے مگر اس کا ساتھ میرا پسندیدہ سہارا ہے۔”
(“میرا دل اس کے معاملے میں بے لگام ہو گیا ہے۔ مجھے آج تک کوئی بھی میری ویلیوز سے ڈسٹرکٹ نہیں کر پایا مگر اس کی آنکھیں۔۔۔ اس کی آنکھیں مجھے سب بھلا دیتی ہیں۔ کون ازمیر اور کون سی ویلیوز۔ وہ بے بسی سے ہنسا۔”)
“تمہیں پتا ہے دلاور، اس کی آنکھیں بالکل میرے جیسی ہیں۔ اس کی عادات میرے جیسی ہیں۔ وہ میری طرح بہت مضبوط ہے اور یہ احساس مجھے اندر تک سکون دے دیتے ہے۔ اتنا کہ اگر بے چینی کی حالت میں اس کو سوچوں تو ساری کفلت دور جا سوتی ہے۔” مرزا حاکم خاموش ہو گیا ۔
(” اسے دیکھنے کے بعد مجھے اور کوئی منظر اچھا نہیں لگتا۔ مطلب۔۔۔ وہ ایک پل کو الجھا۔ وہ بغور اسے دیکھتے رہے۔”
“مطلب اب وہ میرے لیے کائنات کا سب سے حسین منظر ہے جسے دیکھنے کے بعد دل شدت سے دعا کرتا ہے اب وہ آنکھوں سے اوجھل نا ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ میرے دل کے قریب ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ۔۔۔ ابھی تو اتنا وقت بھی نہیں گزرا۔ صرف پانچ ملاقاتوں میں میری پرسنالٹی تھری سیکسٹی ڈیگری کا پلٹا کھانے لگی ہے۔ اور یہ مجھے برداشت نہیں ہے۔”
“اس نے مضبوط لہجے میں کہا اور نظریں سامنے بیٹھے مرد کے چہرے پر جمائی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ ایک پل کے لیے دونوں کے بیچ خاموشی حائل ہو گئی۔ پھر وہ گلا کھنکھارتے ہوئے تھوڑا آگے کو ہوئے۔”
“you’re started l …..”
“i know…..i know my feelings daeem Uncle..”
“ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس نے کہا۔ تو وہ رک سے گئے۔”
“اگر جانتے ہو تو پریشانی کس بات ہے؟”
“پریشانی یہ نہیں ہے کہ وہ پسند آ رہی۔ بات یہ ہے کہ میں یہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ میرے پاس ان جھمیلوں میں پڑنے کا وقت نہیں ہے۔”)
“خاموشی کے کئی پل انہیں چھو کر گزرے تھے۔”
“تم کیا چاہتے ہو اب؟” دلاور نے سوال پوچھا تو وہ چونک گیا۔ اسے سمجھ نا آئی کیا جواب دے۔
“کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ تمہیں ملے۔ تم اس کے ساتھ اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتے ہو؟”
“کیا یہ سوال ضروری ہے؟” اس نے الجھ کر پوچھا۔
“ضروری ہے۔” وہ آگے کو ہوا۔ “بے حد ضروری ہے۔ تم اسے پسند نہیں اس سے محبت کرنے لگے ہو اور اس کے لیے لازمی ہے کہ تم خود سے پوچھو کہ کیا تم اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہو؟”
“وہ گہرہ سانس بھرتے پیچھے کو ہوا۔ صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں بند کر دی۔”
(تم کیا چاہتے ہو پھر؟ انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔ اس نے ایک نظر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ کئی پل بعد دائم نے سنجیدگی سے پوچھا ۔)
میں حاکم ہوں، حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں۔۔۔ لیکن اگر وہ میری حاکم بن جائے تو میں اس کا محکوم بننے کے لیے تیار ہوں۔ ہاں، میں چاہتا ہوں کہ صاحبہ مرزا کی زندگی میں آئے۔
(“میں اسے بھولنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے لیے عام لڑکی بن جائے، کہ جس کے ہونے نا ہونے سے ازمیر علی کو کوئی فرق نہ پڑے۔
کیا یہ سب کہنا تمہارے لیے آسان ہے؟”
وہ ایک دو پل چپ رہا، پھر اس نے ٹانگیں سیدھی کیں اور مٹھیاں آپس میں ملاتے سامنے بیٹھے دائم کی آنکھوں میں دیکھا۔
“بلکل میرے لیے یہ سب کہنا آسان ہے۔ میں اسے بھول سکتا ہوں۔ اس کے پیچھے جانے سے آسانی کے ساتھ خود کو روک سکتا ہوں۔” اس نے اٹل لہجہ میں کہا، جبکہ دور اندر دل نے ناک چڑاتے ہوئے سر جھٹکا۔
دائم مسکرائے۔
“تو خود کو اور اپنے دل کو یقین دلاؤ کہ وہ صرف ایک عام لڑکی ہے اور عام لڑکیوں کو اپنا محور نہیں بنایا جاتا۔”)
صاحبہ نام پر دلاور چونکا تھا ۔
“کیا؟”۔ دلاور نے حیرت سے لبریز آواز میں پوچھا۔ مرزا چونک گیا، فوراً آنکھیں کھول کر سیدھا ہوا۔
“کیا ہوا؟”
“اس کا نام کیا ہے؟”
مرزا ایک پل کو تو الجھا رہا، پھر دھیرے سے بولا،
“صاحبہ شاہ۔ کیا مسئلہ ہے اس نام سے؟”
وہ کچھ نہ بولا، بس مرزا کے چہرے کو دیکھتا رہا۔
“کہیں اس نام کی تمہاری کوئی بچھڑی بیٹی تو نہیں ہے؟” اس نے مزاق اڑاتے لہجے میں کہا، جبکہ وہ کچھ نہ بولا۔
اس کے زہن میں عرصہ پہلے پڑھی کہانی کے کردار گھوم گئے اور اسے اندر سے پریشان کر گئے۔
میں دل سے بہت خوش ہوں تمہارے لیے کہ تم نے اپنے لیے کچھ سوچا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اللّٰہ تمہارے لیے آسانیاں پیدا کرے اور۔۔۔ اور میں دل سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہارا مقدر بنے۔
مرزا حیرت سے اسے دیکھے گیا۔ یک دم دلاور کا اتنی محبت سے دعائیں دینا اسے ہضم نہ ہوا۔
“ٹھیک ہے تمہاری نیک تمناؤں کے لیے شکریہ۔ “اس نے سر جھٹکتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“کہاں جا رہے ہو؟”
یہ تمہیں بتانے کا پابند نہیں ہوں میں۔ وہ ایک پل میں مرزا سے سائفر کے روپ میں آتا دلاور کو سلگا گیا۔
“تم مرزا ہی اچھے لگتے ہو۔” اس نے کلِس کر کہا۔
“اور تم سائفر کا رائٹ ہینڈ؟” وہ بھی دوبدو بولتا قدم آگے بڑھا گیا۔
پیچھے دلاور اس کے رائٹ ہینڈ کا مطلب سمجھ کر کرہتا رہ گیا، جبکہ دل پریشانی سے دھڑک رہا تھا۔
“کاش اس بار صاحبہ مرزا کا مقدر بنے۔”
اس نے شدت سے دل میں سوچا اور میز پر رکھے گلاس کو دیکھتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازمیر گہرہ سانس بھرتے پیچھے ہوا۔ اندر سے بہت کچھ ہلکا ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتا تھا۔ ہر پریشانی، ہر نیا فیصلہ وہ دائم سے کرتا تھا۔ ازمیر کے لیے دائم ایک بہترین سامع تھا۔ وہ اس کی ہر بات بہت غور سے سنتا، مشورہ دیتا اور پھر ہر فیصلہ میں بھرپور ساتھ دیتا تھا۔
“اور بتاؤ، بزنس کیسا جا رہا ہے؟ تم نے تو نیا پراجیکٹ شروع کیا ہے نا، وہ کیسا جا رہا ہے؟”
“اچھا جا رہا ہے، کنسٹرکشن جاری ہے۔”
“آپ مجھے یہ بتائے، آپ کی اس بیٹی کی ناراضگی دور ہوئی؟” اس نے اچانک یاد آتے پوچھا۔
دائم کے چہرے پر دنیا جہاں کی مایوسی چھا گئی۔
“نہیں۔ “یک لفظی جواب دے کر انہوں نے نم آنکھوں سے ازمیر کو دیکھا۔
“آخر وہ اتنی بے حس کیوں بن رہی؟ آپ بھی اب اس کے پیچھے مت جائیے گا۔”
اس کی بات سن دائم کے دل کو کچھ ہوا۔
“ایسا مت کہو ازمیر، وہ بے حس نہیں ہے۔ میں اس کے پیچھے جانے پر مجبور ہوں۔”
“بے حس ہی ہے، بلکہ بہت ہی بگڑ گئی ہے۔ ایک دو بار مجھے اس سے ملاوائے، پورا دماغ درست کر دوں گا۔” اس نے تلملاتے ہوئے مشورہ دیا، جبکہ دائم نے اسے یوں دیکھا جیسے، لعنت ہو تم پر ازمیر۔
ایک دو پل کی خاموشی کے بعد جب بولے تو آواز رُک گئی تھی۔
“میری ایک بیٹی مر گئی ہے، اور دوسری سنجیدہ لاش بن چکی ہے ازمیر میں۔۔۔”
“آپ نے خود اسے لاش بنایا ہے۔ اس بات کو مت بھول جایا کریں۔ “ان کی بات کو ازمیر نے درمیان میں کاٹتے ہوئے کہا۔
وہ بے بسی سے مسکرا دیے۔
“ٹھیک کہا ہے تم نے۔ میں واقعی ایک اچھا باپ نہیں بن سکا، لیکن اگر دوسرا موقع مانگ رہا ہوں تو بے بس ہوں کیوں کہ مجھے اپنی بیٹی سے بہت محبت ہے۔”
ازمیر نے جھنجھلا کر ان کی بے بس آواز سنی۔
وہ پچھلے چند سالوں سے ان کو اپنی کسی بگڑی ہوئی بیٹی کے لیے اسی طرح پریشان دیکھتا آ رہا تھا۔ اسے ہمیشہ مقابلہ کرتا دائم پسند تھا، یہ ہارا ہوا باپ اسے کسی صورت نہیں چاہیے تھا۔
“اچھا، آپ پریشان نہ ہوں۔ اللّٰہ اس کے دل میں رحم ڈالے گا۔ آپ مجھے اس وقت میرا سوپ گرم کر کے لا دیں۔”
دائم جو اس کہ دلاسہ پر مسکرا رہا تھا اس کی فرمائش پر کھول اٹھا۔
حد ہی ہو گئی تھی۔ وہ زہر خند نظروں سے اسے دیکھتے اٹھے اور فوراً اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے۔
“کیچن دائیں جانب ہے۔” اس نے ہانک لگائی۔
“اور دروازہ بائیں جانب۔ “ان کی خفا دھاڑ سنتے ازمیر نے بدمزہ ہوتے ہوئے سامنے میز پر رکھا باؤل دیکھا۔
صرف اس بگڑی ہوئی اکھڑ اور بے مروّت بیٹی کے پیچھے منتیں کروا لو ان سے، ہنہہ۔
وہ تپے ہوئے لہجہ میں کہتا پینٹ کی جیب سے موبائل نکال گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
اپنے ہاتھوں میں تھامے کاغذ پر ٹم ٹم آنسوں کے قطرے گر رہے تھے ۔
وہ اپنی کل رات والی بات پر پلویشا سے معافی مانگنے ائی تھی ۔ شدت غم میں انہوں نے بیچاری بچی کو فضول میں ہی تکلیف دہ باتیں کہہ دی تھی۔ مگر اب جب وہ یہاں آئی تو اس کی طرف سے ایک الوداعی لیٹر پا کر ان کا دل پیسیج کر رہ گیا تھا ۔
وہ چلی گئی ۔ شاہ ہاؤس کے مکینوں کے ساتھ اس کا سفر تمام ہوا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
لاہور کی مصروف سڑک سے ذرا ہٹ کر واقع وہ تین منزلہ عمارت ایک لڑکیوں کے ہاسٹل کی تھی۔ صبح کا وقت تھا اور اندر کا ماحول ہلکی سی زندگی سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں سیڑھیوں پر بیٹھی دو لڑکیاں دھیمی آواز میں ہنس رہی تھیں، کہیں کسی کمرے سے برتنوں کی کھنک سنائی دے رہی تھی، جبکہ لان میں چند لڑکیاں موبائل فون ہاتھ میں لیے ٹہل رہی تھیں۔
اسی ہلکی سی گہما گہمی کے بیچ وہ، کل کی نسبت صاف ستھرے حلیے اور چہرے پر عجیب سی بے تاثری لیے، چھوٹے چھوٹے قدم لیتی آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سوٹ کیس تھا، کندھے پر شولڈر بیگ لٹک رہا تھا۔ وہ راہداری میں داخل ہوتی، ایک پل کو رکی، اور سیدھا راہداری کے آخر میں بنے چھوٹے سے آفس کی طرف بڑھ گئی۔
وہ گھر، ڈاکٹر طاہر کی یادوں سے بھرا پڑا تھا، اس لیے وہ اس گھر کو چھوڑ آئی تھی۔ اس گھر کے مکینوں نے بھی اس کی وجہ سے بہت دکھ دیکھے تھے، اب انہیں اور اذیت سے دوچار کرنے سے بہتر تھا کہ وہ اپنی منزل بدل لے۔
پلویشا بہت ذہین تھی۔ اس نے ڈاکٹر طاہر کے کہنے پر فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کمبائن کیے تھے، پھر اس کے پانچ سالہ کورس کے دوران ڈاکٹر طاہر نے اپنی جی جان لگا کر اسے طب سے متعلق ہر شے سکھائی تھی۔ وہ اسے باقاعدگی کے ساتھ اپنے ہسپتال لے جاتے تھے اور اس کے سامنے مریضوں کو ڈیل کرتے تھے۔ تب اسے ہسپتال جانا موت لگتا تھا، اس لیے کبھی کبھار ہی جاتی، اور جب جاتی تو ڈاکٹر طاہر حیرت سے اسے دیکھتے، جیسے اس نے ان پر بہت بڑا احسان کر دیا ہو۔ آہ، وہ شخص اسے کتنا کچھ دے گیا تھا۔
پر اب جب وہ ہی نہ رہے تو اس سفید کوٹ اور اس ہسپتال کا وہ کیا ہی کرتی۔ اس نے آج ہی جا کر یونیورسٹی میں دوبارہ ایڈمیشن لیا تھا۔ اس دفعہ اس نے سبجیکٹ ماس کمیونیکیشن رکھا، اور ایڈمیشن لینے کے بعد وہ ہاسٹل آ گئی تھی۔
اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا۔ وہ چھوٹا سا تھا مگر صاف ستھرا تھا۔ اس کی روم میٹ اس وقت وہاں نہیں تھی۔ وہ گہرا سانس بھرتی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی اور سوٹ کیس نیچے رکھتی بیڈ پر ڈھے سی گئی۔
“ایک نئی زندگی پھر اس کے انتظار میں ٹھہری تھی۔”
کمرے کی ہلکی، نم ہوا نے اس نئی لڑکی کا مسکرا کر استقبال کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
ایک خوبصورت اور دلکش صبح اسلام آباد کے کونے کونے میں اتر چکی تھی۔ ہر شے کو جیسے نئی روشنی مل گئی ہو۔
اسٹوڈیو کی روشن مگر سنجیدہ فضا میں کیمروں کی سرخ بتیاں جلتے ہی پروگرام کا آغاز ہوا۔ میز کے ایک طرف اینکر بااعتماد مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھا تھا، جبکہ سامنے نرم صوفوں پر دو نمایاں شخصیات موجود تھیں۔
ازمیر اپنے مخصوص وقار اور پُرسکون انداز کے ساتھ بیٹھا تھا؛ گہری نظریں، سنجیدہ چہرہ اور گفتگو سے پہلے ہر بات کو تولنے والی شخصیت۔ اس کے برابر میں ہی مرزا بیٹھا تھا، جس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں اعتماد کی چمک تھی؛ وہ نسبتاً دوستانہ اور کھلے مزاج کا لگ رہا تھا، مگر اس کے انداز میں ایک واضح خوداعتمادی بھی جھلک رہی تھی۔
اینکر نے کیمرے کی طرف دیکھ کر گفتگو شروع کی۔
“ناظرین، آج ہمارے ساتھ موجود ہیں دو ایسی شخصیات جن کے نئے مشترکہ منصوبے نے بزنس حلقوں میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ مرزا حاکم اور ازمیر علی، آپ دونوں کا پروگرام میں خوش آمدید۔ سب سے پہلے یہی جاننا چاہوں گا کہ اس بڑے کمرشل ٹاور کا خیال آخر آپ دونوں کے ذہن میں آیا کیسے؟”
ازمیر نے ہلکا سا سر جھکایا، جیسے سوال کو پوری سنجیدگی سے قبول کر رہا ہو۔ اس کی آواز دھیمی مگر مضبوط تھی۔
“دراصل ہر بڑا منصوبہ ایک ضرورت سے پیدا ہوتا ہے۔ شہر تیزی سے بڑھ رہا ہے، مگر جدید اور منظم کمرشل اسپیس کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ایسا ٹاور بنایا جائے جو صرف عمارت نہ ہو بلکہ کاروبار کے لیے ایک مکمل ماحول فراہم کرے۔”
اس کے جواب کے بعد مرزا نے بات کو آگے بڑھایا۔ وہ قدرے آگے جھکا، جیسے سامعین سے براہِ راست بات کر رہا ہو۔
“اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اسے صرف ایک بزنس پروجیکٹ نہیں سمجھتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ جگہ نوجوان کاروباری افراد اور نئی کمپنیوں کے لیے بھی مواقع پیدا کرے۔ یہی سوچ اس منصوبے کی اصل روح ہے۔”
اینکر نے مسکراتے ہوئے اگلا سوال کیا،
“اکثر لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ دو مضبوط اور کامیاب شخصیات جب ایک ہی پروجیکٹ میں اکٹھی کام کریں تو اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ دونوں کے درمیان فیصلے کس طرح ہوتے ہیں؟”
مرزا کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی، مگر اس کی نظریں اب بھی سنجیدہ تھیں۔
“اختلاف اگر مقصد کے لیے ہو تو وہ مسئلہ نہیں بلکہ بہتری کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ فیصلہ ہمیشہ منصوبے کے فائدے کے لیے ہو، نہ کہ انا کے لیے۔”
ازمیر نے ہنستے ہوئے بات مکمل کی،
“اور اگر کبھی اختلاف زیادہ ہو جائے تو ہم دونوں کافی پی لیتے ہیں… پھر آدھا مسئلہ خود ہی حل ہو جاتا ہے۔”
اس جملے پر اسٹوڈیو میں ہلکی سی ہنسی گونج گئی، جبکہ اینکر نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے اگلا سوال تیار کر لیا۔ گفتگو ابھی شروع ہوئی تھی، مگر واضح تھا کہ یہ صرف ایک عمارت کا منصوبہ نہیں بلکہ دو مختلف مگر مضبوط شخصیات کی مشترکہ سوچ کی کہانی بھی تھی۔
کچھ وقت بعد
ازمیر عمارت سے باہر نکل کر تیز قدموں سے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے پیچھے ہی لیلہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی رفتار سے ملنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی گاڑی تک پہنچتا، اس کی نظر دور ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے مرزا اور صاحبہ پر پڑی۔
اس کے قدم تھم گئے، اس نے بے اختیار جبڑے بھینچ لیے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جس مرزا کے ساتھ وہ بڑے اخلاق کے ساتھ بیٹھا اینکر کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا، دل کیا اسی مرزا کو گاڑی سے اڑا دے۔ اسے بے اختیار نہ جانے کیوں اس سے رقابت محسوس ہوئی۔
“سر، آپ کیوں رک گئے؟” لیلہ نے اسے بت بنا دیکھ بے زاری سے پوچھا۔
“دھوپ سیکنے کے لیے۔” وہ تلملا کر کہتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا، جبکہ لیلہ کلس کر اس کے پیچھے ہو لی۔
“بلا وجہ ہی سڑتا کرہتا رہتا ہے، ہنہہ۔ “وہ سر جھٹکتے سوچ کر رہ گئی۔
اگر ان دونوں کو چھوڑ کر تم صاحبہ اور مرزا کے قریب جاؤ تو ان کے مابین جاری گفتگو صاف سنائی دے گی۔
“وہ ایک نمبر کا انا پرست انسان ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ہر شے کو own کر سکتا ہے، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔” مرزا سنجیدگی سے کہتا، بلکہ اس کی برائی کرتا صاحبہ کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
“اگر اس کو جج کرتے رہے تو پراجیکٹ کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ آپ کا مقصد وہ نہیں، کمرشل ٹاور ہے۔”
مرزا نے ایک پل کو ٹھہر کر اسے دیکھا، پھر مسکرا دیا۔ کل رات دلاور سے ہوئی ساری باتیں ذہن میں گردش کرنے لگیں۔
“اب چلنا چاہیے۔” وہ سنجیدگی سے کہتی ہوئی مڑ گئی، جبکہ وہ اطمینان سے اس کی جاتی پشت دیکھ کر اپنی کار کی طرف مڑ گیا۔
ڈرائیور نے اس کے لیے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا تو نظر اپنے سامنے سے گزرتے ازمیر کی گاڑی پر گئی، اور اسے سوچتے ہی وہ بری طرح بدمزہ ہوا۔ نہ جانے کیوں بے اختیار دل چاہا اسے دنیا سے رخصت کر دے۔ وہ تلملا کر سوچتا پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اسلام آباد کی فضا نے افسوس سے سرگوشی کی— ابھی کچھ ہی پل پہلے وہ مثالی بھائیوں کی طرح آپس میں مسکراتے، کیمروں میں اپنے بھائی چارے کا ثبوت دیتے منظر قید کروا رہے تھے، جبکہ حقیقت میں تو ان کے نزدیک، بنا کسی وجود کے، ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔
آہ، کیا ہی بنے گا اس مستقبل کے کمرشل ٹاور کا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
وہ روز صبح سویرے اٹھتی، فجر کی نماز پڑھتی، پھر قرآن پاک کی تلاوت کرتی اور صاف ستھرے حلیے کے ساتھ یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو جاتی۔ وہاں وہ ہر وقت پڑھتی ہی نظر آتی تھی۔ اگر کبھی فارغ وقت میں بیٹھی بھی ہوتی تو انگشتِ شہادت میں پہنی وہ ڈیجیٹل تسبیح پر کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی۔ نہ وہ کسی سے بلا ضرورت بات کرتی، نہ کسی پر توجہ دیتی تھی۔ ایک خاموشی تھی جسے اس نے گلے لگا رکھا تھا۔
یونیورسٹی سے واپسی پر وہ ایک شوز شاپ پر جاتی تھی، جہاں وہ پارٹ ٹائم جاب کر رہی تھی۔ شاپ سے ملنے والی کم آمدنی پر اس کا گزارا ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی اب صرف زندگی تھی جو گزارنی تھی۔ ہاسٹل واپس جانے سے پہلے وہ قبرستان جاتی اور کئی پل وہاں چپ چاپ ٹہری اس قبر کو دیکھتی رہتی، اور یوں ہی دیکھتے دیکھتے پلٹ جاتی۔ واپس اپنے کمرے میں آ کر وہ پڑھتی رہتی تھی۔
فاطمہ نامی اس کی روم میٹ کو وہ پاگل لگتی تھی۔ اسے پلویشا سے ڈر لگتا تھا۔ وہ نہ کسی سے بولتی تھی، نہ ہنستی تھی۔
ایک رات فاطمہ واشروم جانے کے لیے اٹھی تو اسے دائیں جانب بنی دیوار پر ایک ہیولا نظر آیا۔ وہ خوف سے سمٹ گئی۔ کئی پل تو اسے سمجھ نہ آیا کہ یہ ہیولا کس چیز کا ہے، پھر وہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے قریب گئی تو دنگ رہ گئی۔
سامنے ہی وہ جائے نماز پر بے حس و حرکت، سر گھٹنے پر ٹکائے، یک ٹک جائے نماز کو دیکھے جا رہی تھی۔
فاطمہ کو حیرت ہوئی۔ سونے سے پہلے وہ اسے اسی طرح دیکھ کر سوئی تھی، اور اب رات کے دو بج رہے تھے۔ یعنی وہ پچھلے تین گھنٹوں سے ایسے ہی بیٹھی تھی۔ اسے اس وقت اس سے بے حد خوف محسوس ہوا۔ واشروم جانے کی نیت پر لعنت بھیجتے وہ واپس اپنے بستر پر آئی اور سانس روکے کمبل میں دبک گئی۔
وہ اسے ایسے ہی چونکا دیا کرتی تھی۔
ایک بار پلویشا اپنے بیڈ کی چادر ٹھیک کر رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں مڑا اور وہ دھڑام سے نیچے گری۔ اتنے زور سے گرنے کی آواز پر فاطمہ، جو کتاب میں سر دیے بیٹھی تھی، ہڑبڑا کر اٹھی۔ وہ اس تک آئی، مگر اگلے ہی پل اسے شاک لگا۔ پلویشا کا سر شاید بیڈ کے کونے پر لگا تھا اور اب ماتھے سے خون نکل رہا تھا… اور وہ چپ چاپ اٹھ کر کپڑے جھاڑتی ڈریسنگ مرر کی جانب مڑ گئی۔
“کیا اسے درد نہیں ہوتا؟” فاطمہ سوچ کر رہ گئی۔
اسے ہاسٹل میں رہتے پانچ ماہ ہو گئے تھے۔ سورج ڈھل چکا تھا اور وہ قدم قدم چلتی اپنے ہاسٹل کی جانب بڑھ رہی تھی۔ آج شاپ پر بہت کام تھا، جس کی وجہ سے اسے دیر ہو گئی تھی۔
ابھی وہ گلی سے گزر ہی رہی تھی کہ اس نے محسوس کیا کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ نظر انداز کیے آگے بڑھتی رہی۔ سنسان گلی میں صرف اکا دکا ہی لوگ تھے اور ایک دو دکانیں ہی کھلی تھیں۔
“کہاں جا رہی ہو؟”
پیچھے چلتے لڑکے کی خباثت بھری آواز پر وہ ٹہر گئی۔ لڑکا بھی رک گیا۔
وہ مڑی اور ایک دو پل اسے دیکھتی رہی۔ وہ کم عمر سا لڑکا تھا۔
“میری مدد چاہیے؟”
لڑکا کمینگی سے مسکراتا آگے بڑھا ہی تھا کہ پلویشا نے شولڈر بیگ اتارتے اسے پوری شدت کے ساتھ اس کے منہ پر دے مارا۔ حملہ غیر متوقع تھا، جس کی وجہ سے وہ دوہرا ہو کر پیچھے کی جانب گرا۔
وہ اب اس سٹیج سے نکل آئی تھی جہاں یہ سوال پیدا ہو کہ “کیا ہو رہا ہے؟” اب زندگی میں کچھ بھی ہو سکتا تھا، اس لیے ہر لمحہ تیار رہنا ضروری تھا۔
پلویشا نے فوراً بیگ نیچے پھینکا اور ایک بھی پل ضائع کیے بغیر آگے بڑھی۔ اس نے اسے بالوں سے دبوچ کر اس کے منہ پر یکے بعد دیگرے تھپڑ رسید کرنے شروع کر دیے۔ لڑکا اپنے دفاع میں ناخنوں سے اس کے بازوؤں اور کبھی گردن کو زخمی کرتا رہا، مگر وہ رکنے والی نہیں تھی۔ اس وقت اس کی بنجر آنکھوں میں خون سمایا ہوا تھا۔
لڑکے نے اپنی ٹانگوں کے ذریعے اسے مارنے کی کوشش کی، مگر وہ پہلے ہی اس کے پیٹ میں گھٹنا مار چکی تھی۔
شور کی آواز سن کر کچھ آدمی اور ایک چھوٹا بچہ بھی وہاں آ گئے اور ان کے گرد جمع ہو گئے۔
“میں ہاسٹل جا رہی ہوں،” اس نے اس کا ہاتھ مروڑ ڈالا،
“اور شکریہ مدد کے لیے پوچھنے کا۔”
وہ اس کا کندھا تھپتھپاتی اٹھی، گلے میں سٹالر کو درست کیا، بیگ اٹھایا اور مڑ گئی۔
پیچھے سے لڑکا اب آدمیوں کی زد میں آ چکا تھا۔ آہ، لڑکے نے آج گھر سے نکلنے پر ضرور لعنت بھیجی ہو گی۔
ہاسٹل آنے کے بعد وہ تحمل سے آدھا گھنٹہ وارڈن کی دیر سے آنے پر صلواتیں سنتی رہی، پھر “گڈ نائٹ” کہہ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔
سامنے ہی فاطمہ لیپ ٹاپ کھولے کچھ ٹائپ کر رہی تھی کہ اس کی نظر پلویشا پر پڑی۔ اس کی ہلکے پیلے رنگ کی قمیض کی آستینوں پر خون کی چند بوندیں نمایاں ہو رہی تھیں۔
پلویشا نے اپنا سٹالر گلے سے اتارتے ایک جانب رکھا تو شفاف سی گردن پر صاف ناخنوں کے نشان تھے، جیسے کسی نے بے دردی سے ناخن گھسائے ہوں۔
فاطمہ بے اختیار آگے بڑھی۔
“پلویش، یہ کیا ہوا ہے؟”
وہ جو واشروم جا رہی تھی، اس نام پر تھم سی گئی۔ سانس جیسے سینے میں اٹک گیا تھا۔ یک دم کسی کا “پلویش” کہنا یاد آیا تھا۔
“کیا تمہاری کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟” فاطمہ اس کے سامنے آ کر ہمدردی سے پوچھنے لگی۔
وہ کچھ نہ بولی۔
“تمہیں درد ہو رہا ہو گا… آؤ، میں تمہاری بینڈیج کر دیتی ہوں۔”
“آئندہ مجھے میرے پورے نام سے پکارنا۔”
وہ شائستگی سے کہتے ہوئے اپنے بازو چھڑا گئی اور واشروم میں بند ہو گئی۔
فاطمہ نے حیرت سے بند دروازے کو دیکھا۔ اسے برا نہیں لگا… کیونکہ پلویشا کے لہجے میں صدیوں کی تھکن محسوس ہوئی تھی۔
وہ چپ چاپ واپس اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی۔
ڈاکٹر طاہر کی پہلی برسی پر وہ سارا دن، ساری رات چپ چاپ جائے نماز پر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی۔ نہ کچھ بولا، نہ کچھ سوچا۔ بس گھٹنے پر سر رکھے جائے نماز کو دیکھتی رہی۔
فاطمہ جب جب اسے یوں نماز پر ساکت بیٹھا دیکھتی تھی، اسے بے اختیار پلویشا پر ترس آتا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ایسی چپ چپ کیوں ہے، مگر اسے دیکھ کر وہ یہ ضرور اندازہ کر چکی تھی کہ پلویشا کو کوئی بہت گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
دن گزرتے گئے… وہ بھی آگے بڑھتی گئی۔
مگر نہ جانے ایسا کیا تھا کہ وہ اب بھی یہی محسوس کرتی تھی کہ وہ آج بھی ہسپتال کی اس ٹھنڈی راہداری میں پتھر کا مجسمہ بنے کھڑی ہے۔
وہ باپ بیٹی کو دیکھتی تو اسے ڈاکٹر طاہر یاد آتے۔ وہ دوستوں کو آپس میں بیٹھا دیکھتی تو اسے وہ یاد آتے۔ وہ محبت کرنے والے جوڑے کو دیکھتی تو اسے وہ یاد آتے۔ وہ کھیلتے بچوں کو دیکھتی تو وہ یاد آتے۔
وہ ہر ذرّے ذرّے میں سما چکے تھے۔
وہ ہر ذرّے میں ان کا عکس دیکھتی تھی… اور صرف دیکھتی ہی رہتی۔
لاسٹ ایئر کے پیپرز کے بعد اس نے جاب کے لیے اپلائی کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا رزلٹ بہت اچھا آیا تھا۔ اس کی کوالیفیکیشن دیکھ کر بہت سی کمپنیوں نے اس کی ای میل ایکسیپٹ کی تھی،اور ایک دوسرے شہر کی کمپنی نے اسے سیلکیٹ بھی کر لیا تھا ۔
اسے لاہور کی فضا سے دور جانا تھا۔
وہ ہر روز، ہر پل ڈاکٹر طاہر کی بخشش کے لیے کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی تھی، مگر ان کی قبر پر اس نے کبھی دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھائے۔
“کوئی اپنے مقبرے پر بھی فاتحہ پڑھتا ہے کیا؟”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
اسلام آباد
چمکتی دھوپ میں وہ سیدھی نظر جمائے آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کے بائیں جانب سڑک تھی جبکہ دائیں جانب دکانیں اور مالز تھے۔
سورج کی شعاعیں اس کے وجود پر پڑ کر اسے سنہری روشنی میں ڈھانپ رہی تھیں۔
یوں ہی چلتے ہوئے وہ زیبرا کراسنگ کے سامنے رکی، اور اسی پل اس کے بیگ میں رکھا فون بج اٹھا۔
وہ وہیں رک گئی اور بیگ سے فون نکالا۔ نام دیکھتے ہی اس نے آنکھیں گھمائیں اور کال اٹھا لی۔
“اسلام علیکم۔”
جذبات سے عاری لہجے میں اس نے فون کے دوسری جانب موجود شخص کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔”
دائم نے آہستہ آواز میں جواب دیا۔
ایک پل کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی پھیل گئی۔
“میں مصروف ہوں، پلیز۔”
کچھ لمحوں بعد اس نے کہا۔
“صرف دو منٹ بات کر لو۔”
ان کی آواز التجا لیے ہوئے تھی، جبکہ پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن صاف سنائی دے رہے تھے۔ وہ شاید ڈرائیو کر رہے تھے۔
“دو منٹ بات کرنے سے کیا ہو گا؟”
“بہت کچھ ہو گا۔”
ان کی بات پر اس نے گہرا سانس بھرا۔
“بولیں۔”
“تمہاری ماں کی برسی ہے، دو دن بعد۔”
انہوں نے جیسے یاد دلایا۔
“مجھے یاد ہے۔”
“میں نے قرآن خوانی رکھی ہے… تم آ جانا۔”
“پچھلے آٹھ سالوں سے میرے بغیر کر رہے تھے، تو اب بھی ہو جائے گی۔”
اس نے سامنے سڑک پر تیزی سے گزرتی گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے بالکل سادہ لہجے میں کہا۔ بھوری آنکھوں میں کوئی تاثر نہیں تھا۔
“تم آؤ گی تو… تو م… مجھے اچھا لگے گا۔”
ان کی آواز نہ جانے کیوں مدھم ہو گئی تھی۔
“مگر مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا۔”
وہ فون کان سے ہٹانا چاہتی تھی کہ وہ فوراً بولے—
“پلیز کال مت کاٹنا!”
وہ تھم گئی۔
اتنا منت بھرا لہجہ اسے ایک پل کو رکنے پر مجبور کر گیا تھا۔
“کیا تم میرے لیے بھ—”
ان کی بات ادھوری رہ گئی۔
صاحبہ، جو بے دلی سے ان کی بات سن رہی تھی، اچانک ایک تیز دھماکے کی آواز سن کر ساکت ہو گئی۔
کسی گاڑی کے زور سے کسی چیز سے ٹکرانے کی آواز…
فون کے اُس پار سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں…دائم کی آواز بند ہو گئی…اور وہ، فون کان سے لگائے، پتھر کا مجسمہ بنی کھڑی رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
صبح کی سفیدی میں قبرستان کی بوسیدہ فضا ایک الگ ہی خوشبو پیدا کر رہی تھی۔ دور کہیں سے پرندوں کی چہچہاہٹ صاف سنائی دیتی تھی۔
وہ جب سے یہاں آئی تھی، یوں ہی ساکت کھڑی قبر کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی زمین پر اس کا سوٹ کیس رکھا تھا۔ آج اسے دوسرے شہر کے لیے روانہ ہونا تھا۔
اس کے قریب سے ایک چڑیا اڑتے ہوئے گزری۔وہ دھیرے سے نیچے بیٹھی۔ ایک دو پل سیمنٹ کی قبر کو دیکھتی رہی، پھر چپ چاپ اپنا سر قبر کے وسط میں ٹکا کر آنکھیں موند گئیں۔
یہ اتنے عرصے میں پہلی بار تھا جب وہ بنا واپس گئے بیٹھ گئی تھی۔
قبرستان کی فضا نے رک کر، ٹھہر کر اسے فرصت سے دیکھا تھا۔
کوئی وقت تھا جب یہ سر کسی کے کندھے سے ٹکایا جاتا تھا…
خاموشی، ہوا کے سنسناتے ہوئے جھونکے، دور کہیں پرندوں کی چہچہاٹ اور پتوں کی سرسراہٹ میں ایک آواز نمایاں ہوئی—
“اللّٰہ نے مجھے بہت آزمائشوں سے گزارا ہے۔ میری عمر نہیں تھی پاگل خانے جانے کی، مگر میں گئی… باپ کے ہوتے ہوئے یتیم بنی۔ وہ محبت جس پر غرور تھا، خاک ہو گئی۔ عزت نیلام ہو گئی۔ خواب جل کر راکھ ہو گیا۔”
وہ آنکھیں موندے ہوئے تھی اور لب بھی سیے ہوئے تھے۔ یہ آواز اس کے اندر سے آ رہی تھی۔
“مگر پھر بھی… پھر بھی میں نے اپنے رب کا دامن نہیں چھوڑا۔ میں ہر بار رو کر رب کے پاس لوٹ جایا کرتی تھی۔ زخم زخم وجود لے کر بھی میں ‘اسلمت لرب العالمین’ کہنا نہیں بھولتی تھی۔”
قبرستان کی فضا سانس روکے اسے سن رہی تھی۔ اس کی آواز ہوا سے ٹکراتی دور دور تک گونج رہی تھی۔
“میں نے رب سے بہت محبت کی ہے… اب بھی کرتی ہوں۔ مگر نہ جانے کیوں میرا دماغ اب مجھے بغاوت پر اکسا رہا ہے۔ میرا دماغ میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ… پلویشا، پوچھو نا اپنے رب سے کہ جب سکون دینے کی باری آئی تو اس نے زندگی ہی چھین لی۔ کیا تم صرف آزمائشوں سے گزرنے کے لیے پیدا ہوئی ہو؟ کیا تمہارے ذمے صرف صبر کرنا لکھا ہے؟”
“میں دماغ کو جواب نہیں دیتی، ڈاکٹر طاہر… میں چپ رہتی ہوں۔ اس لیے کہ آپ کا پڑھایا گیا قرآن میرے سامنے آ جاتا ہے۔”
پتوں نے بے اختیار اپنی انگلیاں منہ میں ڈال لیں۔ وہ اس کی بات حیرت زدہ ہو کر سن رہے تھے۔
“مجھے یاد آتا ہے کہ اللّٰہ نے تو قرآن میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ ہمیں آزمائے گا… اور بعض آزمائش ہمیں ہلا کر رکھ دے گی۔”
“مجھے یاد آتا ہے کہ اللّٰہ نے کہا ہے کہ وہ کسی جان پر اس کی وسعت سے بڑھ کر آزمائش نہیں ڈالتا۔ اللّٰہ کہتا ہے وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
“یہ سب باتیں جب یاد آتی ہیں تو دماغ خاموش ہو جاتا ہے… وہ ہار جاتا ہے۔ اور آپ کو پتہ ہے؟ مجھے یہ ہار تکلیف دیتی ہے۔ میں رب سے لڑنا چاہتی ہوں… شکوہ کرنا چاہتی ہوں… اس سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ، اللّٰہ، میرے پاس تو ڈاکٹر طاہر کے سوا کوئی نہ تھا… تو نے پھر بھی انہیں اپنے پاس بلا لیا۔”
اب وہ آہستہ آہستہ قبر پر اپنی انگشتِ شہادت پھیر رہی تھی۔
“مگر کیا کروں… نہیں لڑ پاتی۔ میں اس اللّٰہ سے کیسے لڑوں جو میری رگ رگ میں سمایا ہے؟ میں کیسے اس سے منہ موڑوں جو میرے دل و جاں کا حاکم ہے؟ میں کیسے اسے چھوڑوں… اس بنیاد پر کہ اس نے آپ سے مجھے دور کر دیا… حالانکہ اس سے ملانے کا ذریعہ بھی تو آپ تھے۔”
“آپ نے ایک عمر صرف کی ہے مجھے اللّٰہ کے قریب کرنے کے لیے…میں آپ کی محنت کیسے زائع ہونے دوں ؟”
اب وہ آہستہ آہستہ اپنا دایاں ہاتھ قبر پر پھیرتی مدھم سانسیں لے رہی تھی۔
“آپ نے ایک بار کہا تھا، ‘پلویشا، جن چیزوں پر آسانی سے ہم صبر کر لیں، وہ صبر اتنا قیمتی نہیں ہوتا۔ جس شے کے جانے پر تمہارا دل چاہے اللّٰہ کو چیخ چیخ کر کہنے کا کہ اللّٰہ، تو نے اچھا نہیں کیا… مگر پھر بھی تم دل کو تھپکی دے کر سلا دو اور بولو کہ تم اپنے رب سے راضی ہو— وہ صبر قیمتی ہوتا ہے۔'”
اس نے دھیرے سے سر اٹھایا۔
“آپ کی بات سن کر میں نے خواہش کی تھی کہ میں بھی ایسا ہی صبر کا دامن تھاموں… اور فوراً اللّٰہ کے قریب بندوں میں شامل ہو جاؤں۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا سوٹ کیس ہاتھ میں لیا۔
“اور دیکھیں… اللّٰہ نے خواہش پوری کر دی۔ اور آج پہلی بار مجھے نہیں پتہ کہ خواہش کے پورا ہونے پر خوش ہوں یا ماتم کروں؟”
وہ ایک دو پل آنکھیں بند کیے وہاں ٹھہری رہی، پھر مڑ گئی۔
فضا نے ملال سے اس کی جاتی پشت دیکھی۔ وہ بنا کچھ بولے، بنا روئے وہاں موجود ہر قبر کو، ہر ذرّے کو اپنے غم میں نڈھال کر گئی تھی۔
اس کا صبر دیکھ کر پتوں نے آنسو بہانا شروع کر دیے، جبکہ سیمنٹ کی وہ قبر— جس کے کتبے پر “طاہر شاہ” لکھا تھا— ہنوز چمکتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
