تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۴
شاہ حویلی کے بھاری لوہے کے دروازے سکوتِ شب میں جیسے چیخ کر کھلے تھے۔
سیاہ گاڑی اندر داخل ہوئی تو پہیوں نے صحن کے نیلے پتھر پر نمی میں بھیگی ایک لکیر سی کھینچ دی۔
پری تیزی سے گاڑی سے اتری تھی… سانس پھولی ہوئی، دل بےقابو۔ اس کے پیچھے زارا بھی اُتری،
گھر میں داخل ہوتے ہی گھڑی نے 10:30 بجائے۔ وسیع و عریض ہال میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔۔شاہ حویلی کے سارے مکین اپنے اپنے کمروں میں بند تھے…
پری نے بےچینی سے اردگرد دیکھا۔
میں سب سے پہلے اپنے بابا سے ملوں گی…
کہہ کر وہ سیدھی سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔
زینب بیگم نے چونک کر پککارا،
ارے بیٹا! یہی رُک جاؤ۔ ہم اسوان کو یہیں بُلا لیتے ہیں…
پری نے پلٹ کر تیزی سے نفی میں سر ہلایا، آنکھوں میں وہی ضد جو ہمیشہ اس کی پہچان رہی تھی۔
نہیں… میں خود جاؤں گی۔ اچانک سے اپنی پری کو اپنے سامنے دیکھ کر بابا کا کیا ریکشن ہوتا ہے وہ مُجھے دیکھنا ہے۔۔۔
اور وہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
عدنان صاحب نے جلدی سے کہا
روکو اسے، زینب! اوپر پریشے بھی ہے… اسوان کے ساتھ۔ وہ ابھی اسے لے کر آیا ہے… اور اب پری اسے ابھی کچھ پتہ نہیں ہے۔۔۔۔
زینب بیگم نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا،
رہنے دیں… اسوان نے کہا ہے نہ وہ سنبھال لے گا۔ اور پھر اب تو پری آ گئی ہے۔ اسے تو بہرحال سب کچھ اب پتہ چلنا ہی ہے۔۔۔
زارا نے حیران ہوئی پھر بولی۔۔۔
کیا پتہ چلنا ہے؟ اور یہ پریشے کون ہے؟
زینب بیگم نے نرمی سے کہا
بیٹا… تم ابھی آرام کرو۔ صبح بات کرتے ہیں اس بارے میں۔۔۔
مگر زارا کی آنکھیں بےچین تھیں۔
لیکن ماما… زرتاشہ کہاں ہے؟ وہ مجھے لینے کیوں نہیں آئی؟ پری نے تو مجھے سرپرائز دینا تھا، لیکن میں نے تو کچھ نہیں کہا تھا نا… پھر وہ ایئرپورٹ کیوں نہیں آئی؟
اس سے پہلے کہ زینب کچھ کہتیں، عدنان صاحب کا غصے سے بھرا لہجہ کمرے میں گونجا—
اس کا نام بھی مت لو میرے سامنے۔۔۔
اور وہ پل بھر میں اپنے کمرے میں چلے گئے، دروازہ تیزی سے بند کرتے ہوئے۔
زارا ساکت رہ گئی۔
بابا کو کیا ہوا…؟ ماما…؟
زینب بیگم نے آہ بھری اور اسے نرمی سے بازو سے پکڑا۔
کچھ نہیں ہوا… میں نے کہا ہے نہ، صبح بات کرتے ہیں، ابھی جا کر تُم آرام کرو۔۔۔۔
زارا نے تھکے قدموں سے سر ہلایا۔
اچھا… ٹھیک ہے۔ میں بھی بہت تھک گئی ہوں۔
++++++++++++
پری نے کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر ایک اجنبی سی خاموشی اس کا استقبال کر رہی تھی۔
کمرہ آدھی روشنی میں ڈوبا ہوا تھا… اور وسط میں کھڑی وہ لڑکی…
لمبے سیدھے بال اُس کے شانوں پر بکھرے تھے،
گوری رنگت،
اور گہری بھوری آنکھیں پری کو دیکھ کر جیسے ٹھہر سی گئیں۔
اور وہ غیر مانوس، نرمی سے بھری ہوئی تھی،
پھر پریشے نے پری کو دیکھا۔
دروازے میں کھڑی چھوٹی سی پانچ سال کی بچی
گھنگھریالے بھورے بال،
دو پوونیوں میں بندھے،
گول سا پُھولا پُھولا چہرہ،
گلابی ہونٹ، معصوم سا چہرہ،
اور نیچے تک لہرایا ہوا رنگ برنگا فراک…
پریشے نے پری کی طرف دیکھتے پیار سے کہا۔
آپ… کون ہیں؟
پری نے پريشے کو دیکھتے ہی جواب دیا۔۔۔
میں پری واش ہوں… اور آپ…؟
میں پریشے ہوں۔
پریشے نے نرمی سے جواب دیا
پری نے مُسکراتے ہوئے کہا
اوہ… سیم سیم؟
پریشے کی آنکھوں میں ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
اتفاق… شاید۔
پری نے پھر پوچھا،
لیکن آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟
پریشے نے بھی پلٹ کر نرمی سے کہا،
پہلے آپ بتائیں… آپ کون ہیں؟
میں پری واش ہوں… پری نے دوبارہ کہا۔
اور میں پریشے…
پری نے جھنجھلا کر کہا،
اُف… لیکن آپ میرے بابا کے روم میں کیا کر رہی ہیں؟
پریشے ٹھہر کر بولی،
تُمہارے بابا کے…؟ میں تو اپنے شوہر کے کمرے میں ہوں۔۔ اور شاید… اب یہ میرا بھی روم ہے…
پری کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں،
آپ کے شوہر؟
پریشے نے سکون سے کہا
اسوان دیار شاہ… اور آپ کے بابا؟
پری کی دنیا ایک لمحے کو ٹھہر گئی، پھر وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔
اسوان دیار شاہ۔۔۔۔
اس بار حیران ہونے کی باری پریشے کی تھی۔
پری کی آواز کپکپائی،
آپ… واقعی ان کی بیوی ہیں؟
پریشے نے ایک لمبی خاموشی کے بعد سر ہلایا،
ہاں۔
پری کے ہونٹوں پر ہچکچاہٹ کے ساتھ خوشی اور دکھ دونوں جھلک اٹھے،
ماما…
آنکھیں بھیگ گئیں،
آپ واپس آ گئی؟
وہ تیزی سے بھاگی اور پریشے سے لپٹ گئی۔۔۔
مگر پریشے نے چونک کر اسے خود سے الگ کیا، ااور اُس کے سامنے گھونٹنے کے بل نیچے بیٹھ گئی،
میں… تمہاری ماما نہیں ہوں۔
پری کی آنکھوں میں بچپن کی ساری ٹوٹی پڑتی محرومیاں اتر آئیں۔
آپ مجھے بھول گئیں؟ میں پری ہوں… وہی پری… جسے آپ نے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد چھوڑ دیا تھا…
اس کی آواز ٹوٹ گئی،
آپ بہت بری ہو! I hate you۔۔۔۔
جملہ بس نکلا نہیں تھا، برسوں کی آگ میں سے پھوٹا تھا۔
وہ روتی، چِلّاتی اور اپنے چھوٹے ہاتھوں سے پریشے کو تھپڑ مارتی رہی،
ایک چھوٹی سی بچی کو کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہیں آپ…؟
وہ چیخ رہی تھی،
رو رہی تھی،
اپنی پوری تکلیف اس ایک عورت پر انڈیل رہی تھی
جو شاید اس تکلیف کی مالک ہی نہیں تھی۔
پریشے خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی،
پری نے اپنی چھوٹی سی دنیا کی تمام یادیں بیان کیں،
میں نے آپ کو بہت یاد کیا… جب بھی مجھے بخار ہوتا تھا، دل میں بس ‘ماما! ماما!’ پکارتی… آواز نکالتیں تو بابا کو خبر ہو جاتی۔۔۔ پھر اُنہیں تکلیف ہوتی، اسی لیے میں کبھی آپ کا ذکر نہیں کرتی تھی اُن سے لیکن سچ تو یہ تھا۔۔۔کہ میں آپکو بہت یاد کرتی تھی ماما۔۔۔
وہ ہچکیوں میں ٹوٹ گئی۔
پریشے نے آہستہ سے کہا،
بیٹا… میں تمہاری ماما نہیں ہوں…
پری کے سوالات رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے،
آپ نے مجھے تو بالکل یاد بھی نہیں کیا ہوگا نا…؟
پریشے نے تکلیف سے آنکھیں بند کیں،
پھر نرمی سے اسے اٹھا کر اپنی گود میں لیا،
بستر پر لا کر بیٹھ گئی۔
اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے
مدھم آواز میں بولی۔۔۔
بیٹا… تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔
میں تمہاری ماما نہیں ہوں۔
میری تو ابھی—بالکل ابھی—شادی ہوئی ہے۔
اب تم مجھے بتاؤ… تم کون ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟
پری نے آنسو پونچھے،
آپ… بابا کی بیوی نہیں ہو؟
پریشے نے پوچھا،
تمہارے بابا کون ہیں؟
میرے بابا… اسوان۔
پریشے کا دل میں شک ہُوا۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے اسوان کی تصویر اٹھائی
اور پری کے سامنے کی۔
یہ… تمہارے بابا ہیں؟
پریشے نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
اور پریشے کی دنیا ہل گئی۔۔۔۔
بیٹا صحیح سے دیکھو کیا یہیں ہیں تمہارے بابا۔۔۔۔
پری نے روتے روتے سر ہلایا—
ہاں… یہی ہیں… بابا کہاں ہیں؟ بابا… بابا…
وہ اب اسوان کو آوازِ دینے لگی۔۔۔۔
پریشے کی دنیا ایک جھٹکے میں ہل گئی۔
بھروسہ، یقین، محبت—
سب ایک لمحے میں زمین بوس ہو چُکا تھا۔۔۔
پری نے لرزتے لہجے میں پوچھا،
اگر آپ میری ماما نہیں… تو پھر کون ہیں آپ…؟
پریشے کے گلے میں الفاظ اٹک گئے۔
آخر کار دھیرے سے بولی،
میں… تمہارے بابا کی… وائف ہوں۔۔۔۔
اتنے میں دروازے کے باہر اسوان کی آواز آئی۔۔۔
گہری، بھاری، اور بےخبر۔
پری چونک کر کھڑی ہوئی۔
اس کی آنکھوں میں خوف، امید، اور ٹوٹ پھوٹ سب اکٹھا تھا۔
بابا…؟
اور وہ بجلی کی طرح دروازے کی طرف بھاگ گئی۔
++++++++++++
اسوان زیدان کے کمرے کے باہر کھڑا تھا،
زیدان کو سہارا دیتے ہوئے کہہ رہا تھا،
اس کو سنبھالو…
کائنات فوراً کنارے ہٹی،
اور اسوان نے زیدان کو بستر پر لٹا دیا۔
اسوان نے گہری نظر سے دیکھا،
دیکھ کر سمجھ تو گئی ہوگی… اس نے بہت زیادہ پی لی ہے۔
کائنات نے صرف سر ہلایا، خاموشی سے۔
اسوان نے دھیرے سے کہا،
ایک کام کرو گی… میرا…
کائنات نے سوالی نگاہ سے پوچھا،
کیا؟
کوششں کرنا کہ زیدان باہر جائے تو ایک گھنٹے سے زیادہ باہر نہ رہے… ورنہ اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے۔۔۔۔
کائنات حیرت سے بولی،
یہ کون سا مجھے بتا کر جاتے ہیں؟
اسوان نے تھوڑی سختی سے کہا،
تبھی کہہ رہا ہوں… کوششں کرنا۔ ابھی تو میں اسے صبح دیکھوں گا۔
اتنے میں ہی پری کی آواز کمرے کے دروازے سے سنائی دی،
بابا…بابا
وہ روتی ہوئی دوڑتی ہوئی اسوان کے پاس آئی۔
کائنات نے حیرت سے دیکھا،
پری… کیا ہوا؟ اور تم کب آئی؟
اسوان فوراً اس کی طرف بڑھا، اور اسے اپنی گود میں اٹھالیا۔۔۔۔
کیا ہوا میری جان؟ کیوں رو رہی ہو؟ کس نے تمہیں رُلایا؟ اور واپس کب آئی؟
پری نے روتے ہوئے کہا،
آپ کہاں تھے، بابا؟
اسوان نے اس کے آنسو صاف کرتا بولا۔۔۔
زیدان کو لینے گیا تھا… اب رونا بند کرو۔
کائنات نے پوچھا،
اور پری… تم کب آئی؟
پری نے کہا،
ابھی ابھی آئی ہوں…
اسوان نے چونک کر پوچھا،
بغیر بتائے؟ کیا زارا نے کچھ کیا؟ اُس نے تمہیں رُلایا؟
کائنات نے ہلکی سی ناراضگی سے کہا،
بغیر بتائے آئی؟ بتا کر آنا تھا نا…
پری نے جھنجھلا کر کہا،
نہیں، میں سب کو سرپرائز دینا چاہتی تھی… لیکن بابا… آپ کے روم میں کون ہے؟
اسوان کی آنکھیں جمی ہوئی تھیں۔
کون… پری؟
پاری نے آہستہ سے پوچھا،
آپ کی بیوی؟ آپ نے دوسری شادی تو نہیں کی، نا۔۔۔، بابا؟
اسوان کی دنیا ایک لمحے کے لیے جم سی گئی…
پری اس سے ملنے سے پہلے ہی پریشے سے مل چکی تھی…
اور پریشے نے سارا سچ اسے بتا دیا تھا۔
اس کا سب پلان خاک میں مل گیا تھا۔
پری نے دھیرے سے کہا،
بابا… آپ بولیں…
کائنات نے آہستہ سے کہا،
پری، آؤ میرے پاس… میں تمہیں بتاتی ہوں…
پری نے جھنجھلا کر کہا،
نہیں… مجھے بابا سے جواب چاہیے… میں نے تو مانا کیا تھا نا، بابا؟ آپ نے پھر بھی شادی کر لی… آپ کے لیے میری بات کی کوئی value نہیں ہے؟ بابا۔۔۔؟؟ آپ کی زندگی میں میری کوئی value نہیں ہے۔۔۔بابا۔۔۔؟!
اسوان نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا،
پری… چپ… کیا بول رہی ہو؟
بابا کی زندگی میں اگر کسی کی اہمیت ہے تو وہ صرف اور صرف تم ہو۔
پری نے آنکھیں نم کرتے ہوئے پوچھا،
تو پھر آپ نے دوسری شادی کیوں کی؟
اسوان نے نرم لہجے میں کہا،
تاکہ تمہیں تمہاری ماما مل جائے…
پری کے آنسو اور بڑھ گئے،
ماما ایک ہی ہوتی ہیں، بابا… وہ جو پیدا کرتی ہیں… وہ کبھی میری ماما نہیں ہو سکتی… وہ صرف آپ کی بیوی ہو سکتی ہیں۔۔۔
اسوان نے آہستہ سے کہا،
پہلے رونا بند کرو…
پاری نے چیختے ہوئے کہا،
میں نے آپ کو منع کیا تھا… میں اپنے بابا کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی… اور آپ جانتے ہیں انہوں نے مجھے کیا کہا…؟
کہا… میں اسوان دیار شاہ کی بیوی ہوں… بابا… مجھے اور رونا آ رہا ہے…
اسوان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا،
پری… دوسری شادی میں نے تمہارے لیے کی ہے… صرف تمہارے لیے… تاکہ تمہیں ایک ماما مل جائے…
پھر وہ اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔۔۔۔
کائنات نے جاتے ہوئے اسوان اور پھر زیدان کو دیکھا،
دونوں بھائیوں کا الگ سے حساب ہوگا۔۔۔۔
وہ اپنے دل میں خاموشی سے سوچ رہی تھی،
پھر وہ زیدان کے جوتے اتارنے کے لیے آہستہ قدم بڑھا رہی تھی، جیسے ہر لمحہ محتاط ہو۔
لیکن جیسے ہی اس کے ہاتھ زیدان کے پاؤں سے لگے، زیدان اچانک اُٹھ بیٹھتا۔۔۔۔
کائنات کا دل دھک سے رہ گیا، اور وہ پیچھے ہٹ گئی، خوف اور حیرت کے درمیان۔
زیدان نے سخت لہجے میں کہا،
کیا کر رہی ہو؟
کائنات نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
جوتے اتار رہی ہوں…
زیدان نے تیزی سے کہا،
ہاتھ نہ لگاؤ… ہٹو! پیچھے ہٹو۔۔۔۔
اور پھر خود اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنارے کر دیا اور جوتے اتارنے لگا۔
کائنات نے سانس بھرتے ہوئے پوچھا،
آپ… آپ ٹھیک ہو؟
زیدان نے مسکرا کر کہا،
ہاں… بس بدقسمتی سے زنده بچ گیا…
کائنات نے حیرت سے کہا،
ابھی تو آپ بے ہوش تھے…؟
زیدان نے سر ہلایا،
بے ہوش نہیں تھا… صرف ایکٹنگ کر رہا تھا…
کائنات نے چونک کر پوچھا،
کیوں؟
اگر ایکٹنگ نہ کرتا تو بھائی مُجھے پر رحم نہیں کھاتے… اور میرے دوستوں کے سامنے مجھے پیٹ دیتے…
کائنات نے مُسکراتے ہوئے کہا،
بہت اچھے۔۔۔۔
زیدان نے آنکھیں ملا کر کہا،
تھنک یو سو مچ۔۔۔۔
کائنات نے پھر پوچھا،
تو آپ باہر جا کر کیا کر رہے تھے؟
زیدان نے سنجیدگی سے جواب دیا،
پی رہا تھا…
کائنات نے چونک کر پوچھا،
صبح سے؟
زیدان نے سنجیدگی سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔
ہاں… کیوں؟
کائنات نے تھوڑی تشویش کے ساتھ کہا،
یہ زیادہ نہیں ہوگیا…؟
زیدان نے جھٹ سے جواب دیا،
نہیں تو… ابھی تو میں ساری رات بھی پی سکتا ہوں…
کائنات نے ناگواری سے کہا،
ہر چیز ایک limit میں اچھی لگتی ہے…
زیدان نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔
اور زیدان limit سے باہر اچھا لگتا ہے۔۔۔۔
کائنات نے ناگواری سے رخ مڑتے ہوئے کہا۔۔۔
جائے کپڑے چینج کرے۔۔۔۔
+++++++++++++
اسوان نے پری کو گود میں لیے کائنات کے روم سے نکلتے پری کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
کمرے کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے آسوان نے نرم لہجے میں کہا،
بابا نے دوسری شادی صرف تُمہارے لیے کی ہے پری، اور پری کے بابا پر صِرف پری کا حق ہے۔۔۔۔
پری نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں، زرا سی ضد، زرا سا انکار،
نہیں… نہیں… آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔ مُجھے نہیں چاہیے ماما۔۔۔اور وہ تو بلکل بھی نہیں۔۔۔۔
اس کی آواز میں روٹھن اور خوف دونوں جھلک رہے تھے۔
لیکن اسوان نے اپنے کندھے پر اسے سہارا دیا،
اس کی باتیں سناتے ہوئے، محبت اور تحمل کے ساتھ اسے سمجھاتا رہا
پری تھکن، جذبات اور اس کی آواز کی تسلی میں آہستہ آہستہ نرم پڑنے لگی۔
کچھ دیر کے لیے وہ اسی طرح خاموش رہی، کندھے پر سر رکھے،
جذبات کی شدت کے باعث، اس کے کندھے پر ہی سر رکھ کر سو گئی۔
اسوان نے اسے دیکھا، اس کی چھوٹی چھوٹی سانسیں اور بے ساختہ اعتماد اسے ایک لمحے کے لیے سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیا۔
وہ خاموش کھڑا رہا، اسے اپنے سینے سے لگائے،
پھر اچانک اُسے پریشے کا خیال آیا۔۔۔۔ پھر اُس نے پری کو احتیاط سے بیڈ پر لٹا دیا،
اور روم بند کرتا۔۔۔۔ اپنے روم کی طرف آیا۔۔۔۔
+++++++++++++
کمرے کا دروازہ ہلکے سے چرچراتا ہوا کھلا تو اندر بکھرا ہوا منظر کسی جنگ کے بعد کا نقشہ لگ رہا تھا۔ بیڈ پر کھلے ہوئے بیگز… آدھے تہہ کیے ہوئے کپڑے… کچھ بےترتیب انداز میں، جیسے جلدی میں سمیٹے گئے ہوں… اور ان سب کے بیچ، پریشے،
مہندی کا رنگ ابھی پوری طرح ابھرا بھی نہیں تھا… اور وہ یہ گھر… یہ رشتہ… یہ سب کچھ چھوڑ کر جا رہی تھی۔
اسوان کے قدم جیسے اپنی ہی رفتار سے بےقابو تھے۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا، اور جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
کیا کر رہی ہو؟
اس کی آواز میں غصہ تھا صِرف غصّہ۔۔ مگر پریشے نے بس سرد نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ نظر… جس میں اسوان کے لیے اب وہ خالی پن تھا، جو کبھی محبت ہوا کرتا تھا۔
تم یہ گھر چھوڑ کر نہیں جا سکتیں، پریشے…
اسوان نے جیسے حکم دیا ہو۔
ایک تو تُم نے پری کو سب کچھ بتا دیا، اوپر سے اب یہ ڈرامے؟ رکھو یہ سب…
پریشے کے ہونٹ طنزیہ مسکراہٹ میں مڑے۔
اور کیوں نہیں جا سکتی؟
اسوان کا ضبط جیسے آخری کنارے پر کھڑا تھا۔
مزید غصہ مت دلاؤ… ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔
پریشے نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
اور کیا کریں گے آپ؟
یہ سوال نہیں تھا… للکار تھی۔
اسوان کے لب بھینچ گئے۔
تمہیں پتہ ہے تم نے کیا کیا… تمہاری وجہ سے پری کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
میری وجہ سے؟ نہیں اسوان… آپ کی وجہ سے۔
اس کی آواز میں عجیب سا ٹوٹا ہوا وقار تھا…
اسوان نے بیگ کی زِپ پکڑی اور اسے جھٹکے سے بند کر دیا۔
یہ سامان واپس رکھ دو… اور میری بات غور سے سنو۔
پریشے نے ایک جھٹکے سے اسوان کا ہاتھ ہٹایا۔
مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی… کوئی وضاحت نہیں، کچھ نہیں۔
اسوان نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔
تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی، پریشے…
پریشے نے اس بات کو سنی اَن سنی کرتے ہوئے بیگ اٹھایا اور اسوان کے پاس سے گزرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی۔
چند ہی قدم اٹھائے تھے کہ پیچھے سے آنے والی ایک جملے نے اس کے قدموں میں کیلیں گاڑ دیں۔
اگر تم نے… اس گھر سے ایک بھی قدم باہر نکالا نا… تو بھول مت جانا، جیسے تمہارے پاپا کو میں نے بچایا تھا… ویسے ہی انہیں واپس پھنسا بھی سکتا ہوں۔
جوں ہی اس آواز نے اس کے کانوں کو چھوا، اس کے پیروں تلے جیسے پوری زمین کھسک گئی۔
وہ رک گئی… ساکت… بےحس۔
ک… کیا؟
وہ دھیمی آواز جو اس کے لبوں سے نکلی، دراصل ایک چیخ تھی جو اس نے اندر ہی اندر دبا رکھی تھی۔
اسوان چند قدم آگے بڑھا، اس کی پشت پر نظریں گاڑے۔
اس کی آواز پہلے سے بھی دھیمی، مگر اب کہیں زیادہ خطرناک تھی۔
ہاں، پریشے۔
میں نے تمہارے باپ کو بچایا تھا… تم اچھے سے جانتی ہو کس الزام سے۔
اور میں چاہوں…
صرف چاہوں…
تو وہی الزام ان کے سر پھر سے رکھ دیا جائے۔
پریشے کا دل سینے میں دھڑکنے کے بجائے جیسے بند ہونے لگا۔ ہاتھ کی گرفت کمزور پڑ گئی، بیگ تقریباً گرنے کو تھا۔
اسوان… آپ یہ… یہ دھمکی دے رہے ہیں مجھے؟
اس کی آواز پھٹ چکی تھی۔
اسوان نے آہستہ سے سر جھکایا… پھر دوبارہ اوپر اٹھایا۔ چہرے پر سکون… خطرناک حد تک۔
ڈھمکی نہیں، حقیقت یاد دلا رہا ہوں۔
تم اس گھر سے نہیں جا سکتیں۔
ابھی نہیں… کبھی بھی نہیں۔
پریشے نے آہستہ سے پلٹ کر اسوان کی طرف دیکھا۔
آنکھوں میں نمی نہیں… بلکہ ایک عجیب سی ٹھہری ہوئی ٹوٹ پھوٹ تھی۔
اسوان… آپ مجھے روکنے کے لیے دھمکی دے رہے ہیں؟
اپنی غلطی ماننے کے بجائے… آپ مجھ پر چیخ رہے ہیں؟
اسوان کا جبڑا مزید سخت ہو گیا، ماتھے کی رگ ابھری ہوئی تھی۔
کون سی غلطی؟ کیسی غلطی؟
ایک ایک لفظ وہ دانت پیس کر بول رہا تھا۔
اگر آپ کی بیٹی تھی… تو آپ مجھے بتاتے۔
آپ شادی شدہ تھے… تو بھی بتاتے۔
آپ میرے ساتھ ایماندار رہتے، تو شاید کچھ بچ جاتا۔
لیکن آپ نے… جھوٹ بولا، اسوان۔
ہر قدم پر… ہر بات میں… جھوٹ۔
میں نے جھوٹ نہیں بولا….
تو کیا سچ بولا تھا؟ پریشے نے تیزی سے اس کی بات کاٹ دی۔
آپ نے مجھے اندھیرے میں رکھا۔
آپ نے مجھے ایسے رشتے میں دھکیلا جو پہلے سے ہی بُنا ہوا تھا… کسی اور کے ساتھ۔
اور آج… آپ مجھے میرے باپ کے نام پر بلیک میل کر رہے ہیں؟
یہ ہیں آپ؟ ایسا تو میں نے آپ کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔۔۔۔
اگر میں بتا دیتا کہ میری بیوی مجھے چھوڑ کر جا چکی ہے… اور میری ایک بیٹی ہے… تو کیا تم مجھ سے شادی کرتیں؟
پریشے کچھ لمحوں کے لیے ساکت رہی۔
پھر آہستہ سے بولی، وہی زخمی مگر سچ بولتی آواز میں
شاید…
آپ کی محبت… آپ کا خلوص… آپ کی ایمانداری دیکھ کر مان جاتی۔ ہاں، شاید مان جاتی۔
وہ رکی…
لیکن آپ ایماندار نہیں تھے میرے ساتھ، اسوان.
آپ نے مجھے سچ نہیں بتایا…
اسوان نے اچانک پریشے کا ہاتھ پکڑا—
اتنی سختی سے کہ جیسے وہ کہیں بھاگ نہ جائے۔
پریشے چونکی، مگر اسوان نے اسے بغیر کسی نرمی کے جھٹکے سے واپس بیڈ کی طرف کھینچا اور زبردستی بٹھا دیا۔
یہ رونا دھونا بعد میں…
پہلے میری بات دھیان سے سنو۔
اس کی آواز حکم بھی تھی، دھمکی بھی۔
پریشے نے اسوان کو دیکھا…
دھندلائی ہوئی حیرت اور بےیقینی سے۔
وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ یہ وہی شخص ہے…جس کی محبت کبھی اسے قید لگتی ہی نہیں تھی۔
اسوان کی نظریں سخت تھیں۔
پری… مجھے بہت عزیز ہے۔
میں اس سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتا ہوں…
اس کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں دیکھ سکتا۔
آج جو ہوا… آئندہ نہیں ہونا چاہیے۔
ورنہ… اچھا نہیں ہوگا۔
پریشے کے اندر جیسے کسی نے سناٹا بھر دیا ہو۔
وہ آہستہ سے، ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی
اور میں اسوان؟ میرا کیا۔۔۔؟؟؟
اسوان نے گہری سانس لی، پھر ایسے بولا جیسے کوئی منطق سمجھا رہا ہو۔
اگر تم پری کا خیال رکھو گی… تو میں تمہارا خیال رکھوں گا۔
پریشے نے یوں اس کی طرف دیکھا جیسے اسوان نے کوئی ناقابلِ یقین بات کہہ دی ہو۔
اسوان؟ کیا مطلب ہے اس بات کا؟
اسوان نے نظریں سخت کیں، آواز میں دھمکی کی ٹھنڈک پھیل گئی۔
اگر تم نے پری کو hurt کیا…
تو میں تمہیں hurt کروں گا۔
پریشے کا دل جیسے ایک دھڑکن کے لیے رک گیا۔
اسوان… پری آپ کی بیٹی ہے، آپ کی ذمہ داری ہے۔ میری نہیں۔ میں اس کی ماں نہیں ہوں۔
اسوان آگے جھکا، بہت قریب…
اتنا کہ اس کی آواز سیدھی پریشے کے دل میں اتری۔
لیکن اب ہو…
اب وہ تمہاری بھی ذمہ داری ہے۔
پریشے نے لرزتی ہوئی سانس لی۔
اس کی آواز میں زخم تھے، آنکھوں میں ٹوٹتا ہوا یقین۔
آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی، اسوان…
کیا پری کے لیے مجھ سے شادی کی تھی آپ نے؟ وہ غصے میں بولی۔۔۔۔
اسوان کی ہلکی سی خاموشی…
پریشے کے سینے میں گھٹتا ہوا سانس…
اور پھر—اسوان کا جواب
ہاں…
وہ ایک لفظ نہیں تھا۔
ایک خنجر تھا۔
پریشے نے اسوان کو ایسے دیکھا—
جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔
جیسے اس شخص کو کبھی جانا ہی نہ ہو۔
اس کی آواز کمزور نہیں…
بلکہ مر چکی تھی۔
صرف… پری کے لیے؟
اسوان نے آنکھیں نہیں چرائیں۔
اس کے چہرے پر وہی سرد اعتماد تھا۔
وہ اعتماد، جو کبھی محبت لگا کرتا تھا…
آج مطلب پرستی لگ رہا تھا۔
ہاں۔ مجھے اس کے لیے ایک گھر چاہیے تھا… ایک عورت چاہیے تھی جو اس کا خیال رکھ سکے۔
یہ کہتے ہوئے اسوان کو جیسے کوئی شرم نہ تھی۔
پریشے نے ہاتھوں کو مٹھیاں بنا لیا۔
اسوان کا ہر لفظ، ہر وضاحت…
اس کی روح میں کیل کی طرح پیوست ہو رہی تھی۔
وہ آہستہ سے بولی—
آواز میں لرزش، مگر سوال کچا نہیں تھا…
سچ مانگ رہا تھا۔
آخری سچ۔
اور وہ محبت…؟
وہ محبت جس کا دعویٰ آپ کرتے تھے…
کیا وہ بھی جھوٹ تھا؟
کیا آپ… مجھ سے محبت نہیں کرتے، اسوان؟
کمرے میں ایک لمحے کو کوئی سانس نہیں لے رہا تھا۔
اسوان کے چہرے پر کوئی تذبذب، کوئی بےچینی، کوئی جھجھک نہیں تھی۔
وہ سیدھا، صاف، بےدرمی سے بولا
نہیں…
بس ایک لفظ—
لیکن وہ لفظ کسی انسان کو اندر تک توڑ دینے کے لیے کافی تھا۔
اسوان نے بےرحمی سے، بغیر ایک لمحہ رکے کہا
وہ سب جھوٹ تھا… ڈرامہ تھا۔
اگر میں وہ سب نہ کرتا تو تم آج میرے سامنے یوں نہیں بیٹھی ہوتیں۔
پریشے نے اس کی طرف دیکھا،
اس طرح جیسے ایک لمحے میں پوری دنیا بدل گئی ہو۔
اسوان کے چہرے سے شرمندگی کا ایک سایہ تک نہیں گزرا۔
اس کی آواز میں بس وہی برتری، وہی قابو…
جس میں محبت نام کی کوئی چیز کبھی تھی ہی نہیں۔
پریشے بیڈ سے جھٹکے سے کھڑی ہوئی، غصے اور زخم کی شدت سے کانپتی ہوئی آواز میں بولی
ہاں تو… جیسے ابھی دھمکیاں دے رہے ہیں،
ویسے ہی دھمکیاں دے کر شادی کروا لیتے نا؟
جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی، اسوان؟
جھوٹ کو محبت کا لبادہ کیوں پہنایا؟
اسوان نے اس کی بات پوری ہونے نہیں دی۔
وہ تیزی سے اٹھا…
اور اس نے پھر وہی کیا۔۔۔
پریشے کا ہاتھ سختی سے پکڑا اور زبردستی اسے دوبارہ بیڈ پر بٹھا دیا۔
اس کے انداز میں کوئی نرمی، کوئی احترام نہیں تھا…صرف قبضہ تھا۔
پریشے کی سانس اٹک گئی۔
وہ اسوان کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی رہی، مگر اسوان کی انگلیاں اس کے ہاتھ پر جکڑ بن چکی تھیں۔
بیٹھ جاؤ، پریشے۔
اسوان کی آواز نیچی، خطرناک، کنٹرولڈ تھی۔۔
وہ آواز جو کسی بھی احتجاج کو خاموش کر دیتی ہے۔
پریشے نے اس کا ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کی، مگر اسوان کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔
چھوڑیں میرا ہاتھ، اسوان…
یہ طریقہ ہے آپ کا؟
یہی تھا آپ کے ‘خلوص’ کا اصل چہرہ؟
اسوان نے ایک لمحے کو بھی اپنے لہجے نرم نہیں کیے۔
وہ پریشے کے بالکل سامنے کھڑا تھا…
جیسے اس کے وجود کا ہر زاویہ صرف ایک چیز دکھا رہا تھا طاقت۔ سے
وہ آہستہ سے جھکا، پریشے کے قریب…
اتنا کہ اس کی سانس کی تپش تک محسوس ہونے لگی۔
ہاں…
یہی ہے میرا اصل چہرہ۔
پریشے کی آنکھیں ایک لمحے کو پھیل گئیں۔
یہ اعتراف…
یہ بےشرمی…
یہ طاقت کا اظہار…
وہ سب کچھ تھا جس نے اس کے اندر کی آخری امید بھی تہس نہس کر دی۔
اسوان کی آواز سرد، بےحس اور خطرناک حد تک پرسکون تھی
اور اب اگر تم نے مزید کوئی ڈرامہ کیا نا…
تو میں بتا رہا ہوں،
یہ نہ تمہارے لیے ٹھیک ہوگا…
نہ تمہاری فیملی کے لیے۔
پریشے کو لگا کوئی پتھر اندر جا لگا ہے۔
اسوان کی دھمکی میں بپھرے ہوئے آدمی کا غصہ نہیں تھا،
سوچا سمجھا، منصوبہ بند ظلم تھا۔
اس نے نظریں اٹھا کر اسوان کو دیکھا۔
اس کی آواز ٹوٹی ہوئی نہیں تھی…
بلکہ عجیب سی خاموش مضبوطی رکھنے والی۔
آپ… میری فیملی کو بیچ میں لا رہے ہیں، اسوان؟
وہ فیملی… جس نے آپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا؟
آپ ان کے ساتھ بھی یہ کریں گے؟
اسوان نے کندھے ہلکے سے جھٹکے،
بالکل بےحسی سے۔
میں وہی کروں گا جو میرے فائدے میں ہو گا۔
تمہارے احساسات، تمہاری فیملی…
میرے لیے اہم نہیں۔
وہ سیدھی اسوان کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی، سخت اور لرزتی ہوئی آواز میں بولی
پھر میرے لیے بھی…
آپ کی بیٹی…
آپ کے احساسات… کوئی معنی نہیں رکھتے، اسوان۔
جیسے یہ جملہ کمرے کی فضا کو کاٹ کر رکھ گیا ہو۔ اسوان نے پلکیں جھپکیں۔
یہ وہ جملہ تھا جس کی اسے توقع نہیں تھی۔
پریشے کی آواز میں پہلی بار…
کمزوری نہیں تھی—
خودداری تھی۔
اسوان کا چہرہ سخت پڑ گیا۔
جیسے کوئی نازک رگ چھو گئی ہو۔
پریشے… زبان سنبھال کر بات کرو۔
اس کی آواز اتنی نیچی تھی کہ خطرہ بن گئی۔
میں ابھی تک تمہیں سمجھ رہا ہوں اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو نہ مانو شوق سے اپنی مرضی کرو لیکن پھر جو ہوگا۔۔۔ وہ بھی خود دیکھنا اپنی آنکھوں سے۔۔۔
اُس نے پھر پری کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔
تمہیں اچھا سے پتہ ہے میں کیا کیا کر سکتا ہوں۔۔۔
یہ جملہ دھمکی نہیں تھا—
یاد دہانی تھی۔
پریشے نے اسوان کی آنکھوں میں دیکھا—
اور پہلی بار…
وہ وہاں کوئی محبت، کوئی رشتہ، کوئی نرمی نہیں دیکھ سکی۔
صرف طاقت۔
صرف کنٹرول۔
صرف وہ انسان…
جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد پچھتاوے کی قابلیت بھی نہیں رکھتا۔
++++++++++++++
کمرا ہلکی ہلکی روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔
زیدان واشروم سے کپڑے بدلتا نِکلا اور پھر صوفے پر آ کر بیٹھا… پھر تھک کر لیٹ گیا۔
کائنات بیڈ پر بیٹھی بظاہر فون میں مصروف، تھی
مگر اُس کی پوری توجہ زیدان کی طرف۔ تھی۔۔۔
زیدان نے جیسے ہی آنکھیں بند کیں، دو ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ اچانک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
ایک منٹ…؟
کائنات نے گھبرا کر فون نیچے رکھا۔
کیا ہوا…؟
زیدان نے ایسے دیکھا جیسے خود پر ہی حیران ہو۔
میں صوفے پر کیوں سو رہا ہوں؟
کائنات نے آرام سے کہا
کیونکہ آپ صوفے پر ہی سوتے ہیں ہمیشہ…
زیدان نے حیرت، ناراضی اور خود پر افسوس کا مجموعہ چہرے پر سجایا۔
دماغ خراب تھا میرا… جو میں اتنے دنوں سے صوفے پر سو رہا تھا۔
جب کمرہ میرا… بیڈ میرا… تم میری… تو میں یہاں کیوں سو رہا ہوں؟
وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
کائنات چونک گئی۔
اس کے چہرے پر حیرت سے زیادہ کسی اور چیز کی لالی پھیل گئی۔
آپ نے ابھی کیا کہا…؟
زیدان رکتے رکتے بولا، جیسے کوئی معصوم سی بات ہو۔
کیا کہا؟
کائنات نے آہستہ سے نظریں جھکا کر کہا
میں… میں آپ کی ہوں؟
زیدان نے کندھے چکائے۔۔
ہاں تو… تم میری بیوی نہیں ہو؟
کائنات کو اپنی ہی باتوں پر شرمندگی ہونے لگی۔
بیوی تو وہ اُس کو واقعی تھی۔۔۔
اوہ، آپ کا مطلب یہ تھا۔
اور کیا مطلب ہوتا میرا؟ زیدان نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔
کائنات نے فوراً بات بدلی۔
کچھ نہیں… آپ بیڈ پر سو جائیں، میں صوفے پر سو جاؤں گی۔
زیدان نے بھنویں اٹھا دیں۔
کیوں؟ بیڈ پر نیند نہیں آتی تمہیں؟
نہیں…
وہ جلدی سے بیڈ سے اتر گئی۔
زیان شانوں کو ہلکا سا جھٹکا دے کر بیڈ پر لیٹ گیا۔
کائنات صوفے تک جا پہنچی،
اور زیدان نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔
کچھ لمحے گزرے—
زیدان نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں،
سیدھا ہُوا کائنات کی طرف مڑا اور بولا۔۔۔
تم صوفے پر سو نہیں پاؤ گی…
بس اتنا کہہ کر وہ بیڈ کے ایک طرف کھسک گیا اور دوبارہ آنکھیں موند لیں۔
کائنات نے ناک چڑھا کر، خود سے کہا
ہنہ… مجھے نیند آئے یا نہ آئے…
لیکن میں اِن کے ساتھ بیڈ پر تو ہرگز نہیں سوؤں گی۔
یہ کہتے ہوئے وہ صوفے پر کروٹ لے کر لیٹ گئی،
جیسے اس نے کوئی بہت بڑا اعلان کر دیا ہو۔
مگر دل کی دھڑکن اُس اعلان کے بالکل الٹ چل رہی تھی۔
خاموشی چھا گئی۔
دو منٹ…
تین منٹ…
کائنات نے کروٹ بدلی،
صوفہ واقعی سخت تھا۔ اور چھوٹا تھا۔۔۔
اس کی کمر میں ہلکا سا درد اٹھا۔
زیان نے پھر آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
کمرے کی مدھم روشنی میں اس کے لبوں کے کنارے ذرا سے اٹھے۔
بہت آہستہ، بالکل غیر محسوس لہجے میں بولا
نیند نہیں آرہی۔۔ تو بیڈ پر آجاؤ۔۔۔۔۔
بیڈ بڑا ہے۔
میں اپنی طرف ہوں… تم اپنی طرف آ جاؤ۔
کائنات نے منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو سنبھالا
کیونکہ دل نے لمحہ بھر کو واقعی بیڈ کی طرف دیکھ لیا تھا۔
میں نے کہا نہ… میں نہیں آ رہی۔۔۔
زیدان نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
جیسے تمہاری مرضی…
کائنات نے آنکھیں چڑھاتے ہوئے دوبارہ صوفے پر سیدھا ہونے کی کوشش کی۔
لیکن صوفہ… واقعی چھوٹا تھا۔
اتنا چھوٹا کہ اگر وہ سیدھی لیٹتی تو پاؤں نیچے لٹک جاتے،
اور اگر کروٹ لیتی تو کہنی صوفے کے کنارے سے ٹکرا جاتی۔
وہ خود کو سنبھالتی، ادھر ادھر ہوتی…
اور ہر حرکت چڑچڑا پن بڑھا رہی تھی۔
زیدان نے آخرکار آہستہ سے آنکھ کھول کر صوفے کی طرف دیکھا۔
کائنات کی حالت دیکھ کر اس نے بےحد مدھم مسکراہٹ دبائی۔
بہت آرام دہ ہے…؟
وہ طنزیہ سکون سے بولا۔
کائنات نے غصے سے کہا
جی بہت…
آپ فکر نہ کریں—میں سو جاؤں گی یہاں۔
جیسے ہی اس نے کروٹ بدلنے کی کوشش کی، اس کا پاؤں صوفے کے کنارے سے باہر لٹک گیا۔
اس نے فوراً دوبارہ اندر سمیٹا—
اور اس حرکت پر زیدان کے ہونٹوں پر واضح مسکراہٹ آ گئی۔
وہ سیدھا ہو کر نیم لیٹے انداز میں بولا
تم جھوٹ بولنے میں بہت کمزور ہو۔
اور صوفے سے لڑنے میں بھی۔
کائنات نے جھنجھلا کر اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا
میں کیوں جھوٹ بولوں گی؟
مجھے بالکل آرام ہے۔۔۔۔
اس نے یہ کہتے ہوئے پھر سیدھا ہونے کی کوشش کی—
اور اس بار اس کی کہنی زور سے صوفے کی لکڑی سے ٹکرائی۔
آہ۔۔۔۔
وہ درد سے بولی۔
زیان فوراً چونکا
لگ گئی کیا؟
کائنات نے ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا
نہیں! کچھ نہیں ہوا۔۔۔
زیدان نے اگلے ہی لمحے فیصلہ کن انداز میں کہا
اُٹھو.
کائنات چونکی۔
کیوں؟
زیدان نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا
کیوں کہ یہ صوفہ چھوٹا ہے۔۔۔۔
اُٹھو، اور آ جاؤ بیڈ پر.
میں اپنی طرف ہوں، تم اپنی طرف.
کسی نے تمہیں کچھ نہیں کہنا.
کائنات کچھ لمحے تک ہلتی بھی نہیں۔
پھر دھیرے سے بولی
اگر میں آ گئی…
تو آپ دور ہی رہیں گے نا؟
زیدان نے ناگواری سے کہا
آجاؤ۔۔۔ میں سوتے ہوئے، لٹ پاؤں نہیں ماڑتا۔۔۔
اور پلٹ کر سوگیا۔۔۔۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔

1 Comment
🙂💔aswan ka gala daba du dil kr Raha ha kitna toxic behave kiya usneeee 🔪💔🙂 usse tu zaidan acha haa