taqdeer e azal

Taqdeer e Azal Episode 16 written by siddiqui

 

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۶

بڑے وثوق سے دیتے گئے فریب وہ ہمیں
اور کس اہتمام سے ہم بھی ناداں بنے رہے
ہمیں نہ مل سکی خیالوں میں بھی جگہ
اور ہمارے دل میں اُن کے مکاں بنے رہے۔۔۔

اسوان آفیس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بالوں میں کنگھی کرتا اس کا ہاتھ ٹھٹک کر رہ گیا جب پریشے خاموشی سے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ الماری کی طرف گئی، اور ایک ایک کر کے اپنا سامان نکالنے لگی— کُچھ کپڑے، چند چوڑیاں، دوپٹے… اور چیزیں نکلتے وہ بولی۔۔۔

میں سوچ رہی تھی… وہ دھیرے سے بولی، جب مجھے پری کے کمرے میں ہی رہنا ہے… تو یہ باقی چیزیں بھی وہیں رکھ دوں۔

اسوان نے کنگھی میز پر رکھتے ہوئے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کسی انجانے خدشے کا سایہ لرز رہا تھا۔
میں نے کہا تھا، تم اس کے کمرے میں نہیں رہو گی۔

پریشے پلٹی، اس کی پیشانی پر شکن ابھری۔
کیوں؟ اس کے ساتھ رہوں گی تبھی تو اس کا دل نرم پڑے گا… تبھی تو وہ مجھے قبول کرے گی، ہے نا؟

دل جیتنے کے لیے تمہیں اُس کے روم میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ اسوان کی آواز میں ضبط کی تہیں تھیں۔

لیکن مجھے لگتا ہے کہ ضرورت ہے۔ اس نے نرمی مگر اڑیل پن سے جواب دیا،

تم میری بات نہیں سمجھ رہیں، پریشے۔ میں منع کر رہا ہوں۔ اسوان نے سختی سے کہا

اور میں نہیں مان رہی۔ اس نے آنکھیں اٹھا کر سیدھا اسوان کی طرف دیکھا، آپ ہی نے کہا تھا کہ میں پری کا خیال رکھوں… تو پھر مجھے اپنے طریقے سے اُس کا خیال رکھنے دیں۔۔۔

اسوان کا قدم بے اختیار اس کی طرف بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں، خوف زیادہ تھا۔۔۔
تم نہیں جانتی، میں جانتا ہوں اپنی بیٹی کو…

تو میں بھی جان لوں گی۔ اس کی آواز مدھم تھی مگر ارادے پختہ۔

وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔

پریشے نے حیرانی سے پلکیں جھپکیں۔ پانچ سال کی بچی؟

اسوان کے صبر کی آخری ڈور ٹوٹ گئی تھی۔

پریشے… اس کی آواز بھاری ہو گئی، وہ ابھی تمہیں قبول نہیں کرے گی۔ جتنا تم سمجھ رہی ہو سب اتنا آسان نہیں ہے۔ وہ نارمل بچوں جیسی بچی نہیں ہے۔۔۔۔

ہاں مجھے پتہ ہے وہ تھوڑی ضدی ہے۔۔۔اسی لیے تو میں کوشش کر رہی ہوں۔
پریشے اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔

میں نے کہہ دیا، تم اس کے کمرے میں نہیں جاؤ گی۔ باقی پری سے میں خود بات کروں گا۔

اور میں نے کہا مجھے حکم چلانا بند کریں۔ ذمہ داری دی ہے تو مجھے نبھانے دیں۔

یہ سن کر اسوان ایک ہی جھٹکے میں اس کے قریب آیا، دونوں بازوؤں سے اسے تھام لیا۔ اس کی گرفت سخت تھی مگر بے ضرر—صرف یہ احساس دلانے کے لیے کہ بات اہم ہے۔
تم سمجھ نہیں رہیں… وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا، پری کا غصہ بہت تیز ہے۔ وہ لا شعوری میں… بے دھیانی میں… تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کیونکہ وہ… تم سے  نفرت کرتی ہے۔

اسوان نے اتنا کہا تھا کہ دروازہ اچانک زور سے کھلا، پری اندر آئی۔۔۔۔

اسوان نے اسے دیکھتے ہی فوراً پریشے کا بازو چھوڑ دیا۔

پریشے نے ہلکی سی سسکی لی اور اپنا بازو سہلاتے ہوئے پری کی طرف رخ کیا۔
کیا ہوا، پری…؟

پری نے سر اوپر اٹھا کر اسے دیکھا، اس کی آواز میں عجیب سی سنجیدگی تھی،
میں آپ کا انتظار کر رہی تھی… چلیں۔

اسوان کے دل پر جیسے کسی نے مٹھیاں بھینچ لی ہوں۔ پری کی آواز میں وہی زبردستی جمی ہوئی جلدبازی تھی، جو وہ اس کے مزاج سے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔

پریشے نے فوراً مسکراتے ہوئے کہا، اچھا، میں اپنا سامان اٹھا لوں۔

وہ جلدی سے الماری کے پاس گئی، چند کپڑے نکالے، دوپٹہ تہہ کیا اور الماری بند کر دی۔
ابھی وہ کچھ سمجھ ہی رہی تھی کہ پری اچانک آگے بڑھی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔
ایک مضبوط مگر ننھی سی گرفت،
اور پریشے کو لگا وہ کامیاب ہو رہی ہے۔۔۔وہ پری کا دل جیتنے میں کامیاب ہورہی ہے۔۔۔۔وہ مسکرائی۔۔۔
اور اس کے ساتھ چلنے لگی۔

اسوان بس کھڑا ان دونوں کو جاتا دیکھ رہا تھا۔
دروازے تک پہنچ کر پری رکی۔
اس نے لمحہ بھر کے لیے مڑ کر اسوان کو دیکھا…
اور پھر—
ایک بڑی سی، کھلتی ہوئی، حد سے زیادہ معصوم مسکراہٹ دی۔

اسوان کے اندر کچھ ہلا…
پری اور پریشے کمرے سے باہر نکل گئیں۔

دروازہ آہستہ سے بند ہوا…
اور اسوان جیسے اپنی ٹانگوں کا بوجھ نہ سنبھال پایا۔
وہ بستر پر بیٹھ گیا،
دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام کر۔۔۔
وہی سر جس میں پری کے ہر خوف، ہر ضد اور ہر یاد کی گونج تھی۔

اس نے آہستہ سے دروازے کے رخ دیکھا جہاں سے پری ابھی کچھ دیر پہلے گزری تھی۔
پھر نظر نیچے جھکا کر بولا—آواز میں شکست بھی تھی اور ڈر بھی
پریشے… تم نہیں سمجھ رہیں وہ… وہ کیسی ہے…

اسوان نے گہرا سانس لیا،
پری اپنے باپ پر گئی ہے۔
لفظ جیسے اس کے سینے سے نکلتے ہوئے چبھ گئے ہوں۔

وہ بالکل اپنے باپ جیسی ہے…
نفرت میں انتہا…
اور محبت میں بھی انتہا۔

تم نہیں جانتیں، پری جب کسی چیز کو اپنے دل میں جگہ دیتی ہے نا… تو پھر اسے پوری دنیا سے چھپا کر رکھتی ہے۔
اور جب کسی کو دل سے نکال دے…
تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔

وہ کھڑکی کی طرف گیا، جیسے سانس لینے کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہو۔
وہ تمہیں ابھی اپنے دل میں آنے نہیں دے گی۔
وہ ڈرے گی، لڑے گی، دھکے دے گی…
کیونکہ وہ مجھے… کھونا نہیں چاہتی۔

ایک ہلکی سی تلخ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی۔
بالکل میری طرح۔
میں بھی وہی کرتا تھا… جب مجھے لگتا تھا کوئی میرے حصے کی محبت چھیننے والا ہے۔

اسوان نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لیں۔
پری کے بچپن کی کچھ یادیں جیسے دھوئیں کی طرح اس کے آس پاس پھیل گئیں۔
مجھے بس… یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ تمہیں چوٹ نہ پہنچا دے۔

+++++++++++++

زارا کی نیند ابھی کچھ دیر پہلے ہی کھلی تھی۔ پورے گھر میں صبح سے ہلچل مچی ہوئی تھی، مگر وہ اپنی نیند کی گہرائی میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ کسی آواز نے اسے چھوا تک نہیں تھا۔
سفر نے اسے تھکا ضرور دیا تھا… لیکن ناشتے کے بعد اسے ایک ہی خیال تھا—زرتاشا سے ملنے کا۔

وہ زرتاشا کے کمرے کی طرف جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
سیڑھیوں کی آخری چند سیڑھیاں باقی تھیں جب اوپر سے ایک نازک سی، دھیمی چاپ اس کی سماعت میں پڑی۔
زارا نے سر اٹھایا—
اور وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔

ایک خوبصورت، آہستہ قدم رکھتی لڑکی… پریشے… سامنے سے اتر رہی تھی۔

زارا نے آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہی حیرت سے رک کر پوچھا،
تم… کون ہو؟

پریشے نے نرمی سے جواب دیا،
میں پریشے۔

کس کی کزن ہو؟ زارا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
اس گھر میں تو پہلے کبھی نہیں دیکھا تمہیں…

پریشے نے نرمی سے کہا
وہ… تم نے میری شادی اٹینڈ نہیں کی نا، اسی لیے۔

شادی…؟ کس کی شادی؟

میری۔
وہ سادگی سے بولی، جیسے کوئی عام سا جملہ ہو۔
میری اسوان سے شادی ہوئی ہے۔ میں اسوان کی بیوی ہوں۔

جیسے کسی نے زارا کے قدموں کے نیچے زمین کھینچ لی ہو۔
کیا—؟؟ اس کا چہرہ کسی نامعلوم خوف سے سفید پڑ گیا۔
تم مذاق کر رہی ہو مجھ سے؟

پریشے نے بے ساختہ کہا
تمہیں میں جانتی بھی نہیں اچھی طرح… تم سے مذاق کیوں کروں گی؟ تمہیں تمہاری ماما نے بتایا نہیں؟

زارا کچھ پل اس کا چہرہ گھورتی رہی…
پھر اچانک
ماما… ماما۔۔۔
وہ بدحواسی میں سیڑھیوں کی طرف پلٹی اور تیزی سے نیچے اترنے لگی۔

پریشے نے حیرت سے اسے جاتا دیکھا۔
اسے کیا ہوا؟ ایسے بھاگ رہی ہے جیسے میری شادی نہیں… اس کے گھر سے کچھ چوری ہو گئی ہو…
وہ مدھم سا بڑبڑائی۔ اور اپنے راستے بڑھ گئی۔۔۔۔

+++++++++++++

شام کے دھیمے، زرد رنگ روشندان سے اندر آرہے تھے۔ کچن میں فرائی ہوتی نگٹس کی خوشبو تیرتی ہوئی سارا ماحول اپنے حصار میں لے چکی تھی۔ کائنات چولہے کے سامنے جھکی ہوئی تھی، اس کے چہرے پر تھکن کی باریک لکیریں تھیں، لیکن آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون…

اسی لمحے زینب بیگم۔ کچن میں داخل ہوئی۔۔۔
انہوں نے کائنات کو تنقیدی نظروں سے سر سے پاؤں تک دیکھا۔اور پھر اُسے کوكينگ کرتے دیکھا۔۔۔۔
اچھا… اب تو تم ٹھیک کچن میں آگئیں؟ اُن دنوں جب میں نے کہا تھا کہ مجھے پاستا بنا دو، تب تو تمہیں موت آنے لگی تھی۔۔۔۔

کائنات کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے، پھر وہ بےتاثر سی بولی،
ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے، مامی… آپ نے غلط وقت پر غلط بات کہی تھی۔

زینب بیگم کی آنکھیں تنگ ہوئیں،
جو بھی ہے… ابھی یہ جو کچھ بنا رہی ہو، مجھے دے دو۔

کائنات نے ہلکا سا سر اٹھا کر دیکھا۔
یہ میں اپنے لیے بنا رہی ہوں۔

اپنے لیے دوبارہ بنا لینا۔ ابھی یہ مجھے دو۔

نہیں۔

زینب بیگم کے لب کانپے۔
تم… مجھے انکار کر رہی ہو؟

کائنات کے اندر کوئی سالوں کا دبا ہوا خوف ہلکا سا لرزا مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔
ہاں۔ میں انکار کر رہی ہوں۔

یہ سنتے ہی زینب بیگم کا ہاتھ بے قابو ہو کر اٹھا اور ایک بھرپور، تیز تھپڑ کائنات کے رخسار پر جا پڑا۔

دنیا ایک پل کو دھندلا گئی۔
کائنات لڑکھڑائی، مگر گرتے گرتے رک گئی۔۔۔

زینب بیگم نے غصے میں پاس رکھے چمٹے کو اٹھا لیا، وہی گرم چمٹا جسے کبھی نام نہاد تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

زیادہ زبان نہ چلانا میرے سامنے۔۔۔۔ وہ تیز لہجے میں بڑبڑائیں،
ورنہ… یہ دیکھ رہی ہو؟
انہوں نے گرم چمٹا کائنات کی آنکھوں کے سامنے لہرا دیا،
اسی سے تمہارا منہ جلا دوں گی… جیسے بچپن میں جلاتی تھی… بھول گئی ہو کیا؟ یاد کراؤں؟
اُن دِن تو معاف کردیا تھا تمہیں۔۔۔ بار بار نہیں کرو گی۔۔۔۔

کائنات کا دل دھڑکا… اس کے اندر کوئی پرانی چیخ جیسے پھر سے جاگنے لگی ہو۔ لیکن اس بار۔۔۔ اس نے نظریں نہیں جھکائیں۔

کائنات کا دل یکدم جیسے سسک اٹھا۔
مار لیں۔۔۔۔اور مار لیں۔۔۔۔۔ وہ چیخی۔ جلا دیں۔۔۔۔ صرف منہ کیوں؟ میرا پورا جسم جلا دیں… ایک ساتھ ہی سب کچھ جلا دیں۔۔۔ ایک ساتھ یہ قصہ ہی ختم کر دیں۔۔۔۔

وہ کچن سے بھاگتی ہوئی باہر نکلی۔ اس کی آواز میں برسوں کی چپ، ایک لمحے میں ٹوٹ کر باہر آئی تھی۔

اُس کے باہر نکلتے ہی ملازمہ نے اُسے بتائے۔۔۔
بی بی… وہ زرتاشا بی بی اور اُن کے شوہر آئے ہیں۔ میں نے اُنہیں اندر بیٹھا دیا ہے۔۔۔۔

کائنات ٹھٹھک گئی… اور زنیب بیگم بھی اس کے پیچھے آ کھڑی ہوئیں۔ زنیب بیگم نے بھی ملازمہ کی بات سن لی تھی۔۔۔۔

ڈائننگ روم میں قدم رکھا تو سامنے منظر نے کائنات کے اندر کی آخری حد تک جھنجھوڑ دیا۔
زرتاشا اور حادی صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔
ایک ساتھ
ایک دوسرے کے بہت قریب
بلکل ویسے… جیسے کسی نے ان دونوں کو ایک تصویر کے دو حصوں کی طرح اکٹھا رکھ دیا ہو۔

کائنات کے دل میں جو آگ تھوڑی دیر پہلے لگی تھی، اب پوری طرح بھڑک کر جلنے لگی۔
اس کا سینہ جیسے اندر سے دُھواں چھوڑ رہا تھا۔
اور اس لمحے، اسے یوں لگا جیسے اس کی پوری دنیا ایک بار پھر اس کے سامنے ٹوٹ کر بکھر گئی ہو۔۔۔

زرتاشا اسے دیکھتے صوفے سے جھٹکے سے اٹھی، قدموں میں خوشی کی ہلکی سی روانی تھی۔ وہ سیدھی کائنات کی طرف بڑھ آئی۔
کائنات! کیسی ہو تم؟

کائنات نے کچھ نہیں کہا۔
بس اسے دیکھتی رہی۔
خاموش… ٹوٹتی ہوئی… اندر سے پوری طرح بکھری ہوئی۔

کتنی خوش نصیب تھی وہ لڑکی۔
وہی زرتاشا…
جسے مانگے بغیر وہ سب مل گیا تھا،
جس کے لیے کائنات نے… نجانے کتنی راتیں رب کے آگے ہاتھ اٹھا کر گزار دی تھیں۔

اور پھر بھی…
وہ ہر دعا کے بعد خالی ہاتھ لوٹ آئی تھی۔

ہاں… وہ خوش نصیب تھی….
جسے نصیب نے چن کر وہ شخص دے دیا…
وہ شخص…
جس کے لیے کائنات کی آنکھیں جانے کتنے برسوں سے نم رہتی تھیں۔۔۔۔

زنیب بیگم ہادی سے رسمی سی گفتگو کر رہی تھیں،

زرتاشا نے جب کائنات کو یوں چپ چاپ، بے حرکت کھڑا دیکھا….
تو اس کی پیشانی پر ہلکی سی پریشانی ابھری۔

وہ آہستہ سے زنیب بیگم کی طرف دیکھنے لگی…
جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھ رہی ہو
کیا ہوا ہے اسے؟

زنیب بیگم نے بھی پلکیں جھپک کر
آنکھوں کی زبان میں جواب دے دیا…
چھوڑ دو اسے… جانے دو…

لیکن اسی لمحے ان کی بات درمیان میں ٹوٹ گئی۔
کیونکہ ہادی کی نظریں اتفاقاً کائنات تک جا پہنچی تھیں۔
پھر وہ آہستہ سے بولا
السلام علیکم کائنات… کیسی ہو؟

ہادی کے دھیمے آواز پر کائنات نے ہادی کی طرف دیکھا….
ہادی بالکل ویسا ہی تھا…
مگر وہ خود؟
وہ تو اب پہلے والی کائنات رہ ہی نہیں گئی تھی۔

اس نے لب ہلانے چاہے مگر آواز جیسے گلے میں ہی اٹک گئی۔
ایک خاموش، ٹوٹے ہوئے لہجے نے اندر ہی اندر کہا:
کیا پوچھتے ہو کیسی ہوں؟
تم تو وہ ہو…
جس کی ایک مسکراہٹ سے میں کبھی خوش رہنے کی وجہ ڈھونڈ لیتی تھی…
اور آج…
اسی کی موجودگی میں سانس لینا تک مشکل لگ رہا ہے…
لیکن زبان…
وہ اب بھی خاموش تھی۔۔۔

زنیب بیگم نے کائنات کو یوں کہا خاموش کھڑے دیکھا تو ایک لمحے کو ان کے چہرے پر ناگواری سی لہر اُبھری۔ پھر فوراً، مصنوعی نرمی اوڑھ کر بولیں
جاؤ کائنات… دیکھو، کچھ کھانے کا لے کر آؤ ہادی کے لیے۔

کائنات نے پلکیں جھپکیں۔
قدم جیسے زمین سے چپک گئے تھے۔

لیکن اسی لمحے ہادی نے جلدی سے کہا۔۔
نہیں، نہیں آنٹی… اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ زحمت نہ کریں۔

زنیب بیگم نے ہلکی سی اخلاقی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
ارے بیٹا، تم شادی کے بعد پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے ہو… ایسے کیسے جانے دیں گے؟
کچھ نہ کچھ تو لانا ہی پڑے گا نا۔

کائنات خاموشی سے پلٹ گئی۔۔۔۔

زرتاشا نے ایک نظر ہادی اور پھر دروازے کی طرف دیکھا۔
میں زارا سے مل کر آتی ہوں…
وہ نرمی سے کہتی ہوئی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔

+++++++++++++

کائنات کمرے میں داخل ہوئی
دروازہ زور سے بند کیا….
اتنا زور سے کہ آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس اس کے سینے میں اتر گئی۔

وہ آہستہ آہستہ نیچے پھسلی… ٹھنڈی فرش پر گھٹنوں میں سر چھپا کر بیٹھ گئی۔۔۔
اور وہ بے آواز ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔۔۔

کمرے کے بیڈ پر زیدان اوندھا لیٹا سو رہا تھا۔۔۔۔
یہ وقت سونے کا نہیں تھا، لیکن وہ زیدان تھا،
اُس کے لیے کونسا وقت کیسا وقت۔۔۔

زیدان نے کروٹ لی…آوازوں کے درمیان اس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔
اور اس کی سیدھی نظر کائنات پر پڑی۔۔۔
جو دروازے کے پاس ہی بیٹھی اپنا سر گھٹنوں میں
دیے۔۔۔ رو رہی تھی۔۔۔۔
اُسے تھوڑی دیر تک دیکھتا وہ خود سے بُڑبڑایا
لو۔۔۔ مہارانی کا رونا دھونا پھر شروع ہوگیا۔۔

لیکن جیسے ہی اس نے کائنات کے رونے کی ضبط شدہ آواز سنی،
وہ فوراً بیڈ سے اٹھ کر نیچے آیا،

وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔
بالکل اس کے برابر میں…
پھر وہ بولا
آج ہماری مہارانی کی شان میں کس نے گستاخی کر دی ہے،
جو ہماری مہارانی اپنے اتنے قیمتی آنسو بہا رہی ہیں…؟

کائنات نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
نم آنکھیں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ ہر بار اپنے غم میں زیدان کو کیوں بھول جاتی ہے۔۔۔ کیوں وہ ہر بار جب روتی ہے۔۔۔ تو زیدان اس وقت اس کے پاس ہوتا ہے۔۔۔

آنسو دوبارہ بہہ نکلے۔
مجھے… مجھے اس گھر میں نہیں رہنا…
اس کی آواز ٹوٹ کر گرنے والی عمارت کی طرح بکھر گئی۔

زیدان نے لمبی سانس لی۔
چہرے پر وہی طنزیہ، لاپرواہ لیکن عجیب سی ہم دردانہ مسکراہٹ۔
رہنا تو مجھے بھی نہیں…
بہت ہی منحوس گھر ہے یہ۔ ہے نا؟

کائنات نے نہایت سچائی اور دکھ سے سر ہلایا۔
ہاں… بہت منحوس…

زیدان نے آہستگی سے اس کے چہرے کو دیکھا،
پھر دھیمی مگر سختی لگی ہوئی سنجیدگی سے بولا
اچھا، اب بتاؤ… ہوا کیا ہے؟

کائنات نے نظریں چُرا لیں۔
پلکیں بھیگ چکی تھیں، آواز کہیں گلے میں پھنس گئی۔
کچھ نہیں…

زیدان نے اپنی بھنویں چڑھائیں،
ہلکی سی طنزیہ حیرت کے ساتھ بولا
اچھا؟
تو پھر یہ آنسو… خود ہی باہر نکلنے لگے؟

کائنات نے لب بھینچ لیے۔ وہ جواب نہیں دے سکی….

زیدان ایک لمحہ اسے دیکھتا رہا۔
پھر اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔

اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔
کھلا ہوا، مضبوط، جیسے سہارا دینے کے لیے نہیں،
کھڑا کرنے کے لیے بڑھایا ہو۔
اور بے حد نرم لہجے میں بولا
اٹھو…

کائنات نے آنکھوں میں حیرت لیے اس کی طرف دیکھا۔

زیدان جھک کر بولا
فرش ٹھنڈا ہے…
باقی کے آنسو بیڈ پر بیٹھ کر گرا لینا۔

کائنات چند لمحے حیرت سے اسے دیکھتی رہی۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے بغیر خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
پلٹی… اور دروازے دروازہ کھولنے لگی…
زیدان نے فوراََ اپنا مضبوط ہاتھ دروازے پر رکھ دیا۔۔۔۔
اس کے ہاتھ کے دباؤ نے کائنات کی پوری کوشش ایک لمحے میں روک دی۔
دروازہ جو کھلنے والا تھا… وہیں رک کر دوبارہ بند سا ہو گیا۔
زیدان کی آواز دھیمی مگر سختی لیے ہوئے تھی
بیڈ اندر ہے… باہر نہیں۔۔۔۔

کائنات نے فوراً جواب دیا، بڑی نم آنکھوں کے ساتھ
لیکن مجھے باہر جانا ہے…

زیدان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
اور میں اجازت نہیں دے رہا۔

کائنات کی آنکھیں کھل گئیں…
صدمہ، حیرت، غصہ— سب ایک ساتھ۔
کیا مطلب… اجازت نہیں دے رہے؟

زیدان ٹک کر کھڑا رہا۔
باہر جا کر رونے کی ضرورت نہیں ہے۔
جتنا رونا ہے… یہی رو لو۔

کائنات نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
دل میں ایک جھٹکا سا لگا۔
اسے کیسے پتا چلا؟
وہ واقعی باہر جا کر رونے والی تھی…

میں باہر جا کر کیوں روؤں گی؟
وہ جھوٹ چھپاتے ہوئے بولی۔

زیدان نے لاپروائی سے کہا
تم رو یا نہ رو… جو بھی کرو۔
ابھی تم باہر نہیں جا سکتیں۔

کائنات کی آواز تیز ہو گئی
کیا بدتمیزی ہے یہ؟

زیدان نے کندھے ہلائے
یہ بدتمیزی نہیں… داداگیری ہے۔

کائنات نے آنکھیں تنگ کیں۔
ہاں، وہی۔۔۔۔

زیدان نے جیسے فیصلہ سنا دیا ہو
اب چپ چاپ اندر رہو۔

کائنات نے غصے سے جواب دیا
لیکن مجھے باہر جانا ہے۔۔۔۔

زیدان بات کاٹتے ہوئے بولا
میں نہیں جانے دوں گا۔

کائنات نے چیلنج بھری نظروں سے پوچھا
کیا کر لے گئے آپ؟

زیدان نے آہستہ سا سر جھکایا،
ماتھے پر خفیف سی مسکراہٹ ابھری
مجھے دھمکا رہی ہو تم…؟

کائنات سیدھے اسے دیکھتی ہوئی بولی
ہاں… دھمکا رہی ہوں۔

زیدان نے ایک قدم قریب آ کر کہا
میں… بہت بُرا کر جاؤں گا۔

کائنات نے پلکیں جھپک کر دھیرے سے کہا
دیکھتے ہیں…

+++++++++++++

زرتاشا جیسے ہی زارا کے کمرے میں داخل ہوئی،
اس نے دیکھا…..
زارا بیڈ پر لیٹی ہوئی خاموشی سے رو رہی تھی۔
اس کے کندھے ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔

زرتاشا فوراً اس کے پاس آئی،
بیڈ پر بیٹھ کر نرمی سے بولی
کیا ہوا؟ ایسے کیوں رو رہی ہو زارا؟

زارا نے آنسو پونچھنے کی ناکام کوشش کی،
آواز ٹوٹی ہوئی تھی
تمہیں پتہ ہے… تمہارے جانے کے بعد کیا ہوا؟
میں نے… ایک دفعہ پھر سے اسے کھو دیا۔
یا اللہ… میں کیا کروں؟ مجھے صبر نہیں آ رہا…

زرتاشا نے اس کا ہاتھ تھاما۔
اَسوان تمہارے لیے ٹھیک نہیں تھا، زارا۔
تم اس سے بہتر لڑکے کی حق دار ہو۔

زارا نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
آنکھوں میں دکھ اور ضد دونوں تھے۔
ہر کوئی یہی کہتا ہے…
لیکن کسی کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ آتی؟
جسے دل چاہ لے۔۔۔۔۔
وہ کیسا بھی ہو،
دل اُسے چھوڑ نہیں سکتا…

زرتاشا نے گہری سانس لی۔
وہ تم سے شادی کرتا ہی نہیں، زارا…

زارا نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا
چھوڑ یار… جاؤ یہاں سے…
مجھے اکیلا رہنے دو…

زرتاشا نے اس کے پروں سے بھی ہلکے دل کو تھامتے ہوئے کہا
تمہارے جانے کے بعد یہاں بہت کچھ ہوا ہے…
صرف تمہاری محبت نہیں چھنی…
میری بھی…

زارا نے روتے روتے چونک کر سر اٹھایا۔
کیا…؟

ہاں…
زرتاشا نے آہستہ آہستہ
ایک ایک منظر،
ایک ایک بات،
وہ سب کچھ سنا دیا
جو زارا کے جانے کے بعد اس گھر میں ہوا تھا۔

اور زارا کی آنکھیں حیرت سے پوری کھل گئیں۔
اتنا بڑا ظلم کر دیا تم لوگوں نے کائنات کے ساتھ…؟

زرتاشا نے فوراً جواب دیا
ظلم میں نے نہیں کیا…
وہ تو اُس کے اَسوان بھائی نے اس پر کیا…

زارا نے تلخی سے کہا
پھر بھی…
اگر تم الزام نہ لگاتیں تو کائنات کو اتنی بڑی سزا تو نہ ملتی۔
سوچو… زیدان سے شادی ہو گئی اس کی!
ہمیں کائنات سے جتنی بھی شکایتیں تھیں،
لیکن کائنات…
وہ ہرگز زیدان کی حق دار نہیں تھی…

زرتاشا نے گہرا سانس چھوڑا۔
ہاں… یہی بات ہے۔
آج میں اس سے ملی…
اس کا چہرہ دیکھا…
پِلا ہوا، تھکا ہوا، بجھا ہوا…
میں نے پوچھا کیسی ہو۔۔۔۔
اس نے کوئی جواب ہی نہیں دیا…

زارا نے آنکھیں نم کرتے ہوئے کہا
وہ کیسے رہتی ہو گی اس شخص کے ساتھ…؟

زرتاشا نے کندھے اچکائے
پتہ نہیں…اور چھوڑو…
خود اس کی بھی غلطی ہے…
سارا دن ‘اسوان بھائی… اسوان بھائی’ کرتی رہتی تھی… مل گئی سزا۔۔۔۔

زارا نے ناک سونگی۔
اور وہ لڑکا…
اس نے جھوٹ کیوں بولا؟
وہ تو تمہارا بوائے فرینڈ تھا ہی نہیں۔۔۔۔

زرتاشا نے نیچے دیکھا۔
پتہ نہیں… شاید اسوان بھائی کے کہنے پر۔
انہوں نے اسے پکڑ لیا تھا…
اور اسی لیے اسوان نے مجھے پھنسا دیا…

زارا نے پھر پوچھا
اور ہادی؟
وہ تمہیں پسند کرتا ہے نا؟

زرتاشا ہلکی سی ہنسی کے ساتھ بولی
نہیں…
بس ترس کھا لیا تھا اس نے مجھ پر…

اب؟زارا نے پوچھا۔

اب کچھ نہیں۔
گزارا کر رہی ہوں اس کے ساتھ۔
اور میرے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں…

زارا آگے کو جھکی۔
اور جب اسے سچائی کا پتا چلے گا…؟

زرتاشا کچھ پل خاموش رہی،
پھر آہستہ سے بولی
تو شاید وہ مجھے چھوڑ دے…

اور تب تک؟

زرتاشا نے نظریں جھکا لیں۔
تب تک… میں دیکھوں گی۔
کچھ کر لوں گی۔
فی الحال تو میں کوئی رسک نہیں لے سکتی۔
پاپا مجھ سے سخت ناراض ہیں…
ایک بار وہ مان گئے…
پھر چاہے ہادی مجھے گھر سے نکال بھی دے—
مجھے فرق نہیں پڑے گا…

++++++++++++++

زیدان نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا،
اچھا آؤ، بیٹھو۔
دکھاتا ہوں تمہیں کیا کروں گا۔

کائنات نے بے زاری سے کہا،
اچھا…
اور جا کر بیڈ پر ایک طرف بیٹھ گئی۔۔۔۔

زیدان دوسری طرف آ لیٹا۔
کائنات جھنجھلا کر اُسے دیکھتے کہا
کیا کر رہے ہیں آپ؟
آپ تو سو رہے ہیں۔۔۔۔

ہاتھ دکھاؤ اپنا۔
زیدان نے سیدھے سادے انداز میں کہا۔

کائنات نے حیرت سے انکھیں پھیلائیں،
ہاتھ؟ کیوں؟
کوئی گفٹ دے رہے ہیں مجھے؟
وہ معصومیت سے ہاتھ کی ہتھیلی آگے کر کے بولی،
لیجیے، دیں گفٹ۔۔۔۔۔

زیدان نے فوراََ اس کے ہاتھ کی کلائی مضبوطی سے پکر لی۔۔۔۔۔
پھر وہ آہستہ سے جھکا اور بولا
اب… جا کر دکھاؤ…
اب تو تُم دروازہ تک بھی نہیں کا سکتی ہو۔۔۔۔

کائنات کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
یہ وہ ردِعمل نہیں تھا جس کی وہ توقع کر رہی تھی۔
اسے یقین تھا کہ زیدان ابھی چیخے گا، بھڑکے گا،
یا کم از کم اسے خوب سنائے گا…

لیکن…
یہ؟
اس کی کلائی پر اس کی مضبوط گرفت؟
یہ تو بلکل اُس کی توقع سے الٹا تھا۔

یہ کیا…؟
وہ حیرانی سے بولی،
ہاتھ چھوڑیں میرا….

زیدان نے آنکھیں آدھی بند کرتے ہوئے بے نیازی سے کہا
میں سو رہا ہوں…
ڈسٹرب مت کرو۔

کائنات نے اس کی طرف جھک کر غصے سے کہا،
مجھے پکڑے پکڑے…؟ ایسے کون سوتا ہے۔۔۔؟

ہاں…
زیدان نے مزے سے آنکھیں موندتے ہوئے جواب دیا،
میں ہی سوتا ہوں۔
مسئلہ؟

کائنات کے منہ سے بےساختہ نکلا،
یا اللہ…
میرا ہاتھ چھوڑیں….

اس کی آواز میں غصہ کم،
اور ہلکی سی بےبسی زیادہ تھی۔

زیدان نے بالکل سکون سے،
کلائی مضبوطی سے پکڑے ہوئے کہا
نہیں چھوڑ رہا۔…. سو رہا ہوں نا…؟

کائنات کی آنکھیں مزید کھل گئیں۔
کلائی چھڑوانے کی کوشش میں وہ ہلکی سی اس کی طرف جھکی۔۔۔
اور زیدان نے آنکھیں کھول کر اسے ایسے دیکھا
جیسے کہہ رہا ہو
اور زیادہ کوشش کی… تو اور مضبوط پکڑ لوں گا۔

کائنات ہکلاتی ہوئی بولی،
آپ—آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟

زیدان نے ہلکی سی ناک چڑھائی،
کیونکہ تم باہر جا کر رونے والی تھیں…

وہ جھنجھلا کر بولی،
چھوڑیں! مجھے سانس نہیں آ رہا۔۔۔۔

میں سانس چھین تو نہیں رہا۔۔۔۔
بس تمہیں باہر جانے سے روک رہا ہوں۔
رونا ہے تو یہیں رو لو…
میں تو سو رہا ہوں۔۔۔۔

کائنات کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
یہ شخص اسے پاگل بنا دے گا۔۔۔۔ سچ میں۔۔۔

+++++++++++++++

زرتاشا اور زارا کی بات ختم ہوئی تو زرتاشا نے بے چینی سے سانس لیا۔
چلو… دیکھ کر آتے ہیں کائنات کو۔

ہاں ٹھیک ہے، چلو۔ زارا فوراً راضی ہو گئی۔

دونوں کمرے سے نکلیں۔
راستے میں ملازمہ نظر آئی تو زرتاشا نے پوچھا
کائنات کہاں ہے؟

ملازمہ نے آہستہ سے جواب دیا،
بی بی، وہ اپنے کمرے میں ہیں۔

یہ سنتے ہی زارا نے فوراََ کہا ۔۔۔۔
اچھااا… دیکھ لینا۔ زیدان بھی ہو گا اس کے ساتھ۔

زرتاشا نے کندھے اچکائے،
ہاں تو؟ میں ڈرتی تھوڑی ہوں؟ چلو دیکھتے ہیں۔۔۔۔ اُسے روم سے باہر بُلا لے گے۔۔۔۔

دونوں زیدان کے دروازے کے سامنے پہنچیں۔
زارا نے آخری کوشش کرتے ہوئے کہا
یار… بعد میں مل لینا اس سے۔
ابھی جانے دو۔۔۔۔۔

چپ رہو۔۔۔۔۔
زرتاشا نے اسے گھورا۔

وہ ابھی دستک دینے ہی والی تھی کہ اندر سے کائنات کی آواز آئی۔۔۔۔
میرا ہاتھ چھوڑ دیں!!

دونوں چونک کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔

زرتاشا نے آنکھیں پھیلائیں،
یہ کائنات کی آواز تھی نا؟

ہاں۔۔۔۔
زارا فوراً دروازے کے قریب ہو گئی،
اپنا کان  دروازے کے قریب لگایا۔۔۔۔

اندر سے پھر کائنات کی آواز آئی۔۔۔۔
مجھے باہر جانے دیں۔۔۔۔

زارا نے سرگوشی میں زرتاشا کو بتایا۔۔۔۔
وہ باہر جانے کا کہہ رہی ہے…

پھر اگلے ہی لمحے۔۔۔۔
میں آپ کو جان سے مار دوں گی!!
میرا ہاتھ چھوڑیں…!!

زارا کے منہ سے بےساختہ نکلا
اوہ خدا… اب اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہی ہے۔۔۔۔۔

زرتاشا کی ہنسی چھوٹ گئی۔
سیریسلی؟؟ ہاہاہاہا—

یار حد ہے۔۔۔۔ تم ہنس کیوں رہی ہو؟
زارا غصے سے بولی۔
زیدان کہیں اس پر ظلم تو نہیں کر رہا۔۔۔۔؟؟؟

اتنے میں اندر سے زیدان کی آواز سنائی دی۔۔۔
میں سو رہا ہوں نا…

زارا نے فوراََ زرتاشہ کو بتایا۔۔۔
زیدان… کہہ رہا ہے ‘میں سو رہا ہوں نا…’ ؟

زرتاشا نے ہونٹ کاٹ کر غصے سے کہا
چھوڑو! دروازہ نوک کرو۔۔۔۔

نہیں یار، رہنے دو۔۔۔۔
زارا فوراً اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی،
بعد میں مل لینا اس سے… ابھی نہیں۔۔۔۔

کیوں؟ ابھی کیا مسئلہ ہے۔۔۔ زرتاشا نے بھنویں چڑھائیں۔

زارا نے گہری سانس لی اور آہستہ آواز میں سمجھانے لگی،
ویسے بھی ابھی زیدان کی آواز آئی نا؟
کہہ رہا تھا ‘میں سو رہا ہوں نا…’

زرتاشا نے ناک سونٹی۔
تو؟

تو یہ کہ… زارا نے آنکھیں پھیلا کر فضا سنگین بنائی۔
زیدان جب نیند میں ہو۔۔۔ تو اُسے کوئی ڈسٹرب نہ کرے تو اُسے۔۔۔ بہت غصہ آتا ہے۔۔۔۔

اس نے لفظ بہت پر خاص زور دیا، جیسے ابھی دروازہ کھولو تو زیدان باہر آ کر اٹھا کر دیوار پر دے مارے گا۔

زرتاشا نے ہاتھ کمر پر رکھ کر کمرے کے دروازے کو دیکھا،
پھر زارا کو۔۔۔۔۔
پھر دوبارہ دروازے کو۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

3 Comments

  1. Please episodes jaldi diya Karen hum intazar krte reh te hn please Kal Bhi episode dy na weekly 4 episodes to dy diya Karen please please please please please please please please please please please please please please please please please please please 🥺🙏 I request you mujh sy to sabar Bhi nhii hota

  2. Please episodes jaldi diya Karen hum intazar krte reh te hn please Kal Bhi episode dy na weekly 4 episodes to dy diya Karen please please please please please please please please please please please please please please please please please please please 🥺🙏 I request you mujh sy to sabar Bhi nhii hota I am waiting for you

    1. Zaidan cuteeeee haaaa kon kehta ha wo khtrnak haaaa 🙂🤌🏻 yar Zaidan bht cuteeeee haaa

Leave a Reply to Eman Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *