Qasas by Rida Fatima episode 12…

قصاص قسط نمبر:12

ردا فاطمہ۔۔۔

دعوت رات دیر تک چلی تقریباً 12 بجے کا وقت ہو رہا تھا جب سب نے سوچا کہ اب گھر جانا چاہیے ۔۔۔ سب اپس میں الودائی کلمات پڑھ رہے تھے جب ہیر کو محسوس ہوا کہ رخسار کہیں نظر نہیں ارہی۔۔۔ اس نے یہاں وہاں نظر گھمائی لیکن وہ باہر لاؤنج میں نظر نہیں آئی ہیر نے اپنی اماں کو مخاطب کیا ۔۔۔ اماں رخسار نظر
نہیں ارہی میں ذرا جا کر اس کو لے کے آتی ہوں ۔۔ ٹھیک ہے جاؤ جلدی انا میں تمہارے بابا کو بتا دیتی ہوں ۔۔۔
ہیر نے قدم کچن کی طرف بڑھا دیے کہ شاید رخسار کچن میں ہوگی ہیر کچن کے اندر آئی خان صاما سے پوچھا لیکن رخسار وہاں پر نہیں
تھی ہیر نے اپنے قدم کچن سے باہر کی طرف گھما دیے سوچا شاید رخسار اوپر والے پورشن میں ہو۔۔۔
رخسار۔۔۔۔ کہاں ہو تم ۔۔۔
ہیر اپنا گاؤن سنبھالتی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے رخسار کو بھی اواز دے رہی تھی ۔۔۔ رخسار ہم جانے والے ہے آجاؤ ۔۔۔۔۔
ہیر نے اوپر والے پورشن میں ڈھونڈا بیڈ رومز میں بالکنی میں لیکن رخسار کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔ ایک اور خیال ہیر کے دماغ میں ایا کہ ہو سکتا ہے شاید رخسار اوپر ٹیرس پر ہو ہیر نے اپنے قدم
ٹیرس کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا دیے اپنا گاؤن سنبھالتی وہ سیڑھیاں چڑھتی رخسار کو بار بار اواز دے رہی تھی کہ شاید رخسار ساتھ میں
جواب دے دے لیکن کوئی اواز نہیں آئی ۔۔۔۔ ہیر ٹیرس کی آخری سیڑھی پر تھی جب اس کو ایک دم سے باہر سے شور کی اواز
سنائی دینے لگی ۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہیر اپنے قدم نیچے کو گھماتی ۔۔۔
اس نے ریحان کو اوپر ٹیرس کی طرف بھاگ کے اتے دیکھے تھا ۔۔۔۔
ریحان کیا ہوا ہے باہر شور کیوں مچا ہوا ہے ہیر نے پوچھا ریحان بنا کوئی جواب دیے ٹیرس کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔ ہیر بھی اس کے پیچھے
ہی آئی تھی ۔اس کو کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی یہ کیا ہو رہا تھا ریحان ٹیرس پر ایا اور فورا گرل کے پاس ا کر کھڑا ہوا ۔۔۔ اور جب ہیر اس
کے پیچھے ا کر کھڑی ہوئی تو اس کو ریحان کے اس طرح بھاگنے کی وجہ سمجھ آگئی تھی۔۔۔
رخسار ۔۔۔۔ ہیر کی بے ساختہ چیخ نکلی تھی ۔۔۔ رخسار ٹریس کی گرل کے ساتھ پتہ نہیں کیسے لٹک رہی تھی ۔۔ اور نہ جانے کب سے اوپر انے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ انکھیں خوف اور انسوؤں سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔ رخسار کا ہاتھ اب گرل سے چھوٹ رہا تھا ۔۔
اگروہ نیچے گر جاتی تو یقیناً مر جاتی ۔۔۔ لیکن ہیر یہ ریحان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کے رخسار یہاں کیسے ائی تھی ۔۔۔ وہ تو نیچے تھی سب کے ساتھ ۔۔ پھر یہاں پر ۔۔۔؟ رخسار ۔۔ ہاتھ پکروایں ۔۔۔
رِ ۔۔ ریحان م۔۔ میں ۔گ۔۔گر جاؤں گی ۔۔ ریحان مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ میں نہیں گرنے دیتا رخسار اپنا ہاتھ پکڑوائیں ۔۔
ریحان مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ رخسار اب رونے لگ گئی تھی ۔۔ ہاتھ پھسل رہا تھا ۔۔۔
رخسار میرے پر یقین رکھیں میں اپ کو نہیں گرنے دوں گا ہاتھ پکڑوائیں مجھے اپنا ریحان نے اپنا ہاتھ گرل سے نیچے لٹکاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
رخسار نے فورا اپنا ہاتھ ریحان کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔
ریحان نے مضبوطی سے ہاتھ پکڑا اور پیچھے سے ہیر کو دیکھا ۔۔
ہیر کھینچو رخسار کو ۔۔۔ ریحان نے کہا تو ہیر بھی رخسار کو پکڑ کے کھینچنے لگی ۔۔ تقریباً 15 منٹ کی جدوجہد کے بعد انہوں نے رخسار کو گرل سے اوپر کھینچ لیا ۔۔۔ رخسار اب ٹیرس کے زمین
پر خاموش بیٹھی تھی ۔۔ بنا کچھ بولے ۔۔ جیسے بڑا صدمہ پہنچا ہو ۔۔۔
کہا تھا نا نہیں گرنے دوں گا ۔۔ ریحان نے کہتے ہوئے اس کا کندھا تھپکا ۔۔۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی اپ یہاں پر کیسے ائیں ۔۔۔ اپ ایسے گر کیسے گئی یہاں سے ۔۔ ؟ ریحان کے
پوچھنے پر رخسار کا رنگ پیلا پڑنے لگا ۔۔۔
وہ ۔۔۔ و۔۔ وہ مجھے دلاو۔۔۔ ابھی وہ بولنے ہی لگی تھی جب پیچھے سے انہوں نے دلاور خان کو سیڑھیوں سے اتے دیکھا ۔۔
تم ٹھیک ہو رخسار ۔۔۔؟ وہ فکر مند تھا ۔۔۔ ڈرا ہوا تھا ۔۔۔
رخسار کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے میں کتنا ڈر گیا تھا تم یہاں پر کیسے اگئی رخسار ۔۔
تمھیں کیسی نے دھکا دیا کیا ۔۔۔ اور تم اوپر کیا کرنے آئی تھی ۔۔؟
دلاور خان سوال پر سوال پوچھ رہا تھا اور رخسار کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب تھا ہی نہیں وہ بس حیرانی سے دلاور کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ن ۔۔ نہیں م میں ٹھیک ہوں ۔۔ م۔مجھے کچھ نہیں ہوا ۔۔
رخسار نے بہ مشکل کہا ۔۔اور ہیر کے سہارے سے اُٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔ پھر وہ ہیر کے ساتھ ہی نیچے آئی تھی ۔۔ سب اب اس کا حل پوچھ رہے تھے ۔۔ شاہان اس کو پانی پلا رہا تھا جس
کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں ۔۔ جیسے وہ ابھی رونے والا تھا ۔۔۔۔
تم اوپر کیسے گئی تھی رخسار ۔۔۔ شاہان نے پوچھا اس سے پہلے رخسار کچھ کہتی دلاور فورا سے بول پڑا۔۔۔ شاہان وہ ابھی صدمے میں ہے اس کو تھوڑا ارام کرنے دو ۔۔۔
اور پھر شاہان خاموش ہو گیا۔۔۔ ریحان جو خاموشی سے رخسار کو دیکھ رہا تھا اس کو ابھی تک سمجھ نہیں ارہی تھی کہ رخسار آخر ٹیرس سے گری کیسے ۔۔۔ ٹریس کی گرل بہت اونچی تھی
جس کو حفاظت کے لیے لگایا گیا تھا غلطی سے گرنے کا تو جواز ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
جب تک پیچھے سے کوئی دھکا نہ دے دے ۔۔””” تو کیا ۔۔۔؟رخسار کو کسی نے دھکا دیا ۔۔۔؟
ریحان کے دماغ میں بس یہی سوال گونجے جا رہے تھے اور اس کو کچھ بھی کر کے ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا تھا جو شاید صرف رخسار سے ہی مل سکتا تھا ۔۔۔۔ سب گاڑیوں پر بیٹھ کر نکل
گئے تھے۔ ۔ ریحان اور ہیر ایک گاڑی میں رخسار اور شاہان کے ساتھ تھے ۔۔ وہ ان دونوں کو ان کے گھر ہی چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے ریحان نے گاڑی میں بیٹھے ہوئے ایک بار پھر پوچھا آپ گرل سے کیسے گری رخسار کیا اپ کو کسی نے دھکا دیا تھا ۔۔۔
ریحان کے اس طرح کہنے پر رخسار کی انکھوں میں انسوں آئے۔۔۔۔ رخسار کا دل چاہا کہ وہ بتا دے لیکن وہ ابھی بتا نہیں سکتی تھی ۔۔ شاہان گاڑی میں تھا ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے میں نے تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈا لیکن تم مجھے کہیں نہیں ملی پھر میں نے سوچا ٹیرس پر ڈھونڈتی ہوں میں ٹیرس پر ا ہی رہی تھی اور نیچے شور مچ گیا ہیر بتا رہی تھی۔۔۔
میں نے نیچے سے تمہیں دیکھا تھا رخسار اب کی بار شاہان بولا ۔۔۔
تمہیں پتہ ہے ہم سب ہی کتنا ڈر گئے تھے رخسار۔۔تم اگر نیچے گر جاتی تو تمہارا کچھ بھی نہیں بچنا تھا پھر میں لڑتا کس سے پورا دن شاہان بول رہا تھا اس کی بات پر رخسار نے اس کو دیکھا اور نہ
چاہتے ہوئے بھی ہلکا سا مسکرا دی ۔۔۔
دیکھو کچھ بھی نہیں ہوا نا مجھے ۔۔۔ ؟ بالکل ٹھیک ہوں میں ۔۔
ہاں وہ بھی اس لیے کیونکہ ریحان اگیا تھا ۔۔۔
تمھیں بچانے اگر تمھیں بچانے ریحان نہیں آتا تو تمھیں اندازہ ہے تم مر سکتی تھی ۔۔۔ شاہان نے کہا تو ریحان جلدی سے بولا ۔۔۔
میں ہمیشہ ان کو بچانے اجایا کروں گا ۔۔۔ تم فکر نہ کرو شاہان ۔۔
ریحان کے اس طرح کہنے پر رخسار نے اس کو دیکھا ہر دفعہ آپ مجھے بچانے نہیں آ سکتے ۔۔۔ رخسار نے کہا تو ریحان کچھ نہیں بولا ۔۔
اُس نے جیسے سنا ہی نہیں تھا۔ بس خاموش رہا
اور کچھ دیر بعد ان کی گاڑی شاہان کے گھر کے سامنے روکی ۔۔۔
وہ اندر ائے ۔۔۔ شاہان کے امی ابو باہر لاؤنج میں ہی بیٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ ہیر اور ریحان کو دیکھ کر ایک پل کو حیران ہوئے اور پھر ان کو پرجوش انداز میں خوش امدید کہا ۔۔
بابا یہ ہیر اپی ہیں ۔۔۔ اور ریحان سے تو اپ مل ہی چکے ہیں شاہان نے کہا ۔۔۔
ہاں اؤ بیٹا بیٹھو ۔۔۔ رخسار رکی امی نے کہا اور اٹھ کر کچن میں چلی گئی کچھ دیر بعد ایک ملازم کے ساتھ باہر ائی جس کے ہاتھ میں جوس کی ٹرے تھی ۔۔۔ ٹرے ٹیبل پہ رکھی ہی تھی
جب شاہان فورا سے بول پڑا اپ کو پتہ ہے اج اپ کی بیٹی مرنے والی تھی ماما ۔۔۔
ماں پریشان سی ہو گئی ۔۔ کیا ۔۔۔؟ کیسے ۔۔۔ کیا ہوا ہے ۔۔
ان کے بابا بھی پریشان ہو گئے ۔۔۔
یہ فارم ہاؤس کی ٹیرس پر لٹک گئی تھی ۔۔ پتہ نہیں کیسے ۔۔
اگر ریحان نہیں ہوتا تو اج یہ مر چکی ہوتی ماما ۔۔۔ کیسے ہوا یہ ۔۔ رخسار کے بابا نے پوچھا ۔۔
ک۔۔ کچھ ۔۔ ن۔۔۔ نہیں بابا بس وہ ۔۔ ہاتھ ۔۔ پھسل گیا تھا ۔۔۔۔
تو تمھیں ذرا بھی خیال نہیں رہا رخسار ۔۔
بابا اب پریشان ہو رہے تھے ۔۔ تمھیں کچھ ہو جاتا تو ہم کیا کرتے ۔۔ تم کیوں اپنا خیال نہیں رکھتی ۔۔
انکل میں معافی چاہتی ہوں ہیر شرمندہ ہوئی ۔۔ اُس کے فارم ہاؤس میں یہ واقعی ہونے کی وجہ سے ۔۔۔
بیٹا کیوں ہمیں شرمندہ کر رہی ہو ۔۔ معافی مانگ کر ۔۔۔
انکل ہمیں خیال رکھنا چاہیے تھا ۔۔ بس غلطی ہو گئی ۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا ۔۔ بس اپ دونوں کا شکریہ ۔۔ کے اپ نے وقت رہتے بچا لیا ۔۔ نہیں تو نہ جانے کیا جو جاتا ۔۔
کچھ دیر باتوں کے بعد ۔۔ رخسار ہیر کو کے کر اپنے کمرے میں اگئی تو ریحان بھی ساتھ ہی ان کے کمرے میں اگیا ۔۔۔
شاہان اپنے کمرے میں چلا گیا تھا کپڑے بدلنے کے لیے ۔۔
اور رخسار کی امی کچن میں چلی گئی تھی ان کے لیے چائے وغیرہ بنوانے ۔۔
چلیں اب بتائیں کیا ہوا تھا ۔۔ آپ کیسے گری تھی ۔۔ ریحان ابھی تک بات نہیں بھولا تھا ۔۔رخسار نے کچھ پل اس کو دیکھا
بس بتایا تو ہے غلطی سے گر گئی تھی ۔۔۔ رخسار کی انکھوں میں انسو انے لگے ۔۔۔ آپ غلطی سے نہیں گری رخسار ۔۔آپ کچھ تو چھپا رہی ہیں ۔۔۔ دیکھیں پلیز بتا دیں نہیں تو میں بے چین رہوں گا ۔۔ آپ کیسے گری تھی ۔۔۔
بتا دیں رخسار ۔۔۔ ریحان کے بار بار پوچھنے پر رخسار نے اپنا سر پکڑ لیا تھا ۔۔۔ اور پھر وہ بے ساختہ پھٹ پڑی ۔۔
مجھے مار دے گا ۔۔ وہ ۔۔ میری جان لے لے گا ۔۔ اپ چلے جائیں یہاں سے ۔۔ م۔مجھے نہیں مرنا ۔۔ وہ اب سسکیاں لے کر رونے لگی تھی ۔۔۔ وہ ۔۔ مجھے مار دے گا ۔۔ میں
مرنا نہیں چاہتی ۔۔۔ م۔۔ میں اپنے امی ابو کی ایک ہی بیٹی ہوں ۔۔
میں اُن سے دور نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔
ریحان رخسار کو اس طرح دیکھ کے پریشان ہو گیا تھا ۔۔
وہ اپنا سر پکڑے پاگلوں کی طرح رو رہی تھی ۔۔ کوئی خوف تھا جو اب باہر ا رہا تھا ۔۔۔ کون مارنا چاہتا ہے آپ کو بتائیں ۔۔۔ کس نے مرنے کی کوشش کی ہے آپ کو ۔۔ رخسار بتائیں۔ ۔۔
مجھے۔۔ نہیں مرنا ۔۔ وہ ۔۔وہ مار دے گا مجھے ۔۔۔کون مارے گا رخسار بتاؤ اب کی بار ہیر اس کو جھنجوڑتے ہوئے بولی ۔۔
دلاور خان۔۔ رخسار کے موں سے بے ساختہ نکلا ۔۔ ہیر اور ریحان شل رہ گئے ۔۔ پتھر کی طرح ۔۔۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی ۔۔۔ ب۔۔ دلاور بھائی ن۔۔ نے ٹریس سے دھکا
دیا تھا ۔۔۔ ریحان کے پوچھنے پر رخسار نے اسبات میں سر ہلایا ریحان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔
انہوں نے اپ کو دھکا کیوں دیا تھا نیچے بتائیں ۔۔۔
ریحان پوچھ رہا تھا رخسار پل بھر کو خاموش رہی۔ ۔
رخسار دیکھو بتا دو اگر تم نے نہیں بتایا تو شاید تمہاری جان دوبارہ مشکل میں پڑ جائے ۔۔ ہیر کے کہنے پر رخسار نے کہنا شروع کیا
ریحان ۔۔ جب۔۔ جب آپ نے کچن میں مجھے ۔۔ کہا کہ میں اپ کو۔۔کو اچھی لگتی ہوں ۔۔
ت۔۔ تو کہیں ۔اپ کے بھائی اس وقت ۔۔ باہر گارڈن میں
کچن کی کھڑکی کے پاس کھڑے سن رہے تھے ۔۔ جب ۔۔ ہ ۔
ہم کچن س۔۔ سے باہر نکل گئے تو ۔۔۔

وہ کچن سے باہر نکلی اور کیسی سے ٹکرائی ۔۔۔ پھر ایک دم پیچھے ہوئی ۔۔۔ اور فورا سے پاس سے گزر کر جانے لگی جب پیچھے سے دلاور نے اس کو اواز دی تھی۔۔۔ رخسار۔۔۔
ج۔۔ جی ” رخسار نے پلٹ کر کہا ۔۔۔
آپ کو ہیر اوپر ٹیرس پر بلا رہی ہے ۔۔۔
لیکن ہیر تو نیچے تھی نا ۔۔۔؟ رخسار نے پوچھا تو وہ فورا سے بولا۔۔
نہیں وہ ابھی نیچے نہیں ہے اوپر ٹیرس پر ہے اس نے کہا ہے اس نے اپ سے کوئی بات کرنی ہے آپ جا کر سن لیں
اچھا ٹھیک ہے ۔۔
رخسار نے اپنے قدم ٹیرس کی طرف گھما دیے ۔۔
وہ اوپر ٹیرس پر ائی تو ہیر اوپر نہیں تھی۔۔۔پیچھے اس نے دلاور کو اتے دیکھا تو ایک پل کے لیے رک گئی۔۔۔
ہیر تو ہے ہی نہیں ۔۔
تو مجھے آپ نے یہاں کیوں انے کو کہا ۔۔۔ ؟ رخسار نے پوچھا وہ گرل کے پاس کھڑی تھی ۔۔
میرے بات خاموشی سے سنو دلاور نے پاس اتے ہوئے کہا ۔۔
ت ۔۔ ریحان تمھیں پسند کرتا ہے۔۔ تو کیا تم بھی اسے پسند کرتی ہو۔۔۔؟
اپ مجھ سے یہ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔
جتنا پوچھا ہے اس کا جواب زیادہ بولو نہیں۔۔ دلاور کے ایک بار پھر پوچھنے پر رخسار خاموش رہی اور دلاور کو اس کی خاموشی کی
وجہ سمجھ اگئی ۔۔۔مطلب کہ تم ریحان کو پسند کرتی ہو۔۔
ہاں میں پسند کرتی ہوں لیکن اپ یہ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں میں پسند کروں نہ کروں میری مرضی۔۔ دلاور نے رخسار کے بال پیچھے سے پکڑے۔۔۔ بے ساختہ رخسار کو سر میں درد اٹھی تھی ۔۔
میں کیوں پسند نہیں ایا تمہیں ۔۔۔؟ میں ریحان سے زیادہ اچھا ہوں ۔۔۔ پھر وہ کیوں پسند ایا تمھیں ۔۔ میں کیوں نہیں ایا ؟
م ۔۔ مجھے جانے دیں ۔۔ چھوڑیں مجھے ۔۔ رخسار کے سر میں اب درد ہو رہی تھی اور دلاور اس کے بال چھوڑ ہی نہیں رہا تھا
نہیں چھوڑوں گا کیا کر لو گی ۔۔۔؟ تمھیں میں مار دوں گا ۔۔
میں تمھیں پسند کرتا ہوں ۔۔ اور تم اس ۔۔ ریحان کو پسند کرتی ہو یہ تو غلط ہے نا۔۔۔ میں تمہیں مار دوں گا ۔۔۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔ رخسار کی انکھوں میں اب انسو انے لگے تھے ۔۔
تم زندہ ہی نہیں رہوں گی تو ریحان پسند کیسے کرے گا ۔۔۔۔ اور مجھے جو چیز اچھی لگ جائے ۔۔ پھر وہ میں اپنے بہن بھائی کو بھی نہیں دیتا
دلاور۔ نے کہتے ہوئے دھکا دے دیا ۔۔ رخسار بےساختہ نیچے گرل سے لٹکی تھی ۔۔۔
تم یہاں سے بچ گئی تو زندگی مبارک ۔۔۔۔ لیکن ریحان کو بتانے کی بھی کوشش نہیں کرنا ۔۔۔
وہ اپ کا بھائی ہے۔۔ ا۔۔ اپ ایسے کیسے کر سکتے ہیں۔ ۔۔
تمہیں ایک بات بتاؤں ریحان مجھے بالکل بھی نہیں پسند ۔۔ پتہ نہیں کیوں اس کو میرے ہر
معاملے میں ٹانگ اڑانے کی بہت جلدی ہوتی ہے ۔۔۔ میں ہیر سے بات کر رہا ہوں یا پھر تم سے ۔۔ اب دیکھو نا تم مجھے پسند ائی اور تم اس کو بھی پسند اگئی ۔۔ یہ تو غلط بات ہے نہ ۔۔ اس
لیے جب تم ہی نہیں رہو گی تو بات ہی ختم ۔۔۔!!!
دلاور نے کہتے ہوئے قدم ٹیرس سے نیچے گھما دیے ۔۔ اور کیسی کو محسوس بھی نہیں ہوا کے وہ کیا کارنامہ سرانجام دے کر ایا ہے

رخسار نے ریحان کو ساری بات بتائی اور ریحان کا چہرہ سرخ ہوتا گیا ۔۔
مجھے کھین آتی ہے ہیر کہ دلاور ہمارا بھائی ہے ۔۔ وہ اس حد تک گر جائے گا میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔ پہلے تو وہ گھر میں صرف تمہارے ساتھ زبانی کلامی باتوں پر لڑائی جھگڑا کرتا
تھا لیکن اب تو اس نے رخسار کو مارنے کی کوشش کی ہے ۔۔ میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
ریحان نے کہتے ہوئے قدم باہر کی طرف گھمائے تو رخسار نے فورا اسے اواز دے دی۔۔۔
ایسا کچھ نہیں کریے گا ریحان
وہ مجھے جان سے مار دیں گے اگر انہیں پتہ چل گیا کہ اپ سب جانتے ہیں تو۔۔۔رخسار کی انکھوں میں انسو تھے ریحان نے ایک پل کے لیے اسے دیکھا۔۔۔۔وعدہ کرتا ہوں میں اپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔
بس اپ انہیں پتہ نہیں چلنے دینا کہ میں نے اپ کو سب بتا دیا ہے۔۔۔
ریحان کچھ پل کے لیے
خاموش رہا پھر اسبات میں گردن ہلا دی اور باہر کی طرف چلا گیا
ہیر بھی اس کے پیچھے ہی باہر کی طرف گئی تھی جب وہ لاونچ میں ائے تو اس کے امی ابو باہر انہی کا انتظار کر رہے تھے ٹیبل پر چائے کے کپ پڑے تھے۔۔اؤ نا بیٹا چائے پیو تم لوگوں کے لیے
بنوائی ہے۔۔۔
نہیں انکل اپ کا بہت شکریہ پھر کبھی ائیں گے
تو انشاءاللہ ضرور پییں گے لیکن فی الحال مجھے ذرا کام ہے بابا نے گھر بلایا ہے اس لیے مجھے جانا ہوگا۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے دوبارہ ضرور انا۔۔
جی اب تو انا جانا لگا رہے گا میں ضرور اؤں گا۔۔۔ ریحان اور ہیر نے گھر سے باہر قدم نکال لیے۔۔۔۔
اور فورا گاڑی میں ا کر بیٹھے تھے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے ریحان گاڑی پوری رفتار سے سڑک پر نکال لے گیا۔۔۔
مجھے یقین نہیں اتا دلاور بھائی اس حد تک گر سکتے ہیں یار ۔۔۔
اخر ان کو ہم سے اتنی چڑ کیوں ہے۔۔
مجھے کیا پتہ ریحان۔۔۔
اب میں انہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ہیر نہیں تو نہ جانے وہ رخسار کے ساتھ کیا کریں گے۔۔۔۔
تمہیں ایک ائیڈیا دوں۔۔میں جانتی ہوں ائیڈیا سننے کے بعد تم یہی سوچو گے کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے یا میں بہت فضول بات کر رہی ہوں۔۔۔لیکن اس سے بہترین اور کوئی ائیڈیا ہو ہی نہیں سکتا دلاور بھائی کو رخسار سے بچانے کا۔۔۔
ہاں کہو میں سن رہا ہوں ریحان نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ فضول میں ہی سڑکوں پر گاڑی دوڑا رہے تھے۔۔۔۔ تم بابا سے کہو کہ تمہیں رخسار سے شادی کرنی ہے۔۔۔۔۔وہ تمہارا رشتہ
لے کر جائیں رخسار کے گھر۔۔۔ریحان نے بے ساختہ گاڑی کو بریک لگائی تھی۔۔۔
تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔؟
مجھے پتہ تھا تم یہی کہو گے کہ میرا دماغ خراب ہو گیا ہے یا میں کیا کہہ رہی ہوں لیکن اس سے بہترین حل اور کوئی نہیں ہے۔۔۔ ایک بار رخسار کی تمہارے ساتھ اگر شادی ہو گئی تو دلاور بھائی کچھ بھی نہیں کر سکیں گے اور ویسے بھی تم رخسار کو پسند کرتے ہو۔۔۔
ریحان اب خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا بنا کچھ بولے۔۔۔
ہیر نے اپنی بات کی اور گاڑی میں خاموشی چھا گئی طویل خاموشی پھر اس خاموشی کو توڑتے ہوئے ریحان نے کہا اگر میں بابا کو کہہ بھی دوں کہ میں اسے پسند کرتا ہوں اور مجھے اس سے شادی کرنی ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے بابا مان جائیں گے۔۔۔
ہاں بابا 100 فیصد مان جائیں گے بابا نے رخسار کو دیکھا ہوا ہے۔۔
وہ اچھی لڑکی ہے بابا بھی جانتے ہیں اور جب بابا ان کے گھر والوں سے ایک بار ملیں گے تو ضرور مان جائیں گے۔۔۔
کہیں یہ نہ ہو بابا رکھ کر تھپڑ میرے منہ پر مار دے۔۔۔۔
اب تم رخسار کے لیے ایک تھپڑ نہیں کھا سکتے لوگ اپنی جان دینے کو تیار ہو جاتے ہیں
ایسی بات نہیں ہے میں تھپڑ کھا سکتا ہوں رخسار کے لیے لیکن بابا بھی مان جائیں نا
تم گھر جا کر ایک بار کوشش تو کرو لیکن ابھی فورا سے نہ کہنا دلاور بھائی کو یقینا شک ہو جائے گا۔۔۔
ارام سے کچھ دنوں بعد کہنا۔۔
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔ریحان اب
سوچ رہا تھا کہ اسے اپنے بابا سے بات کیا کرنی تھی۔۔۔۔
رات ویسے ہی بہت ہو گئی تھی ریحان نے گاڑی گھر کی طرف گھما دی۔۔۔وہ جب گھر میں داخل ہوئے تو کامران خان صوفے پر بیٹھے خاموشی سے جیسے انہی کا انتظار کر رہے تھے پورا گھر
سو چکا تھا۔۔۔ ان کو لاؤنج کے اندر اتا دیکھ کر وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔۔ ان کی انکھیں نیند سے سرخ ہو رہی تھی انہیں اتنی دیر تک جاگنے کی
عادت نہیں تھی لیکن اپنے دونوں بچوں کے انتظار میں وہ رات کے ایک بجے تک جاگ رہے تھے ۔۔۔
کہاں رہ گئے تھے تم دونوں ہم کب سے انتظار کر رہے تھے تمہارا کامران خان نے کہا تو ہیر اور ریحان ان کے پاس ا کر بیٹھ گئے ۔۔ ایسے ہی بابا رخسار کے گھر گئے تھے ۔۔۔
مجھے تو بہت ہی برا لگا بچی کے لیے کتنے برے طریقے سے وہ نیچے گری تھی خدانخواستہ اگر اس کے ساتھ کچھ ہو جاتا تو۔۔۔
میں بھی یہی سوچ رہا ہوں بابا۔۔۔ بیچاررا دلاور بھی اتنا پریشان ہو رہا تھا کامران خان کے کہنے پر ریحان اور ہیر نے دوسرے کو دیکھا۔۔۔
بابا ایک بات اپ سے پوچھوں۔۔۔۔ ؟ کیا
اپ کو دلاور بھائی سیدھے سادھے انسان لگتے ہیں جیسے نظر اتے ہیں اپ کو وہ ویسے ہی لگتے ہیں۔۔۔؟
تمہیں کیسا لگتا ہے دلاور ریحان ؟ کامران خان نے الٹا ریحان سے سوال ہی کر دیا تھا۔۔
۔مجھے وہ بالکل بھی سیدھے نہیں لگتے بابا وہ جیسے نظر اتے ہیں وہ ویسے ہیں نہیں وہ سب کے سامنے اچھے بنتے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں بابا ۔۔۔ وہ اپنے مطلب کے لیے کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا پھر ان کے سامنے کوئی ان کا اپنا ہی رشتہ کیوں نہ کھڑا ہو۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے ریحان کیا مجھے یہ بات نہیں پتا
میں دلاور کا باپ ہوں اور میں اس کو اچھے طریقے سے جانتا ہوں ۔۔۔ دلاور خان اپنی انا کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔
یہ بات اچھے طریقے سے جانتا ہوں ریحان۔۔۔
ریحان ایک پل کو خاموش ہوا۔۔۔
کامران خان نے ریحان کے بال سہلاتے ہوئے کہا چلو جاؤ اب جا کر کمرے میں سو جاؤ
رات ہو رہی ہے بہت زیادہ صبح ہمیں اٹھنا ہے جلدی زمینوں پر جانا ہے۔۔۔۔ بابا مجھے اپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔
ہیر خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ ہاں کہو نا سن رہا ہوں میں۔۔
۔مجھے شادی کرنی ہے ۔۔۔ ریحان کے کہنے پر کامران خان کو تو جیسے جھٹکا لگا تھا وہ پل بھر کو خاموش ہوئے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو چہرے کو دیکھا۔۔۔ دوسری طرف ہیر خود حیران رہ گئی تھی اس نے ریحان کو گاڑی میں منع بھی کیا تھا کہ ابھی کچھ نہ کہے لیکن وہ بھی ریحان خان تھا اس نے کرنی تو اپنی مرضی ہی تھی۔۔۔
کیا تم سچ کہہ رہے ہو تمہیں شادی کرنی ہے ۔۔۔ ہاں بابا مجھے شادی کرنی ہے ۔۔۔
اچھا تو ہماری نظر میں دو لڑکیوں کے رشتے ہیں ریحان۔۔۔
بولا تو ان میں سے کسی کے گھر رشتہ لے کر جائیں تمہارا۔۔۔
ب۔۔بابا مجھے۔۔مجھے رخسار سے شادی کرنی ہے ۔۔۔
ریحان نظریں جھکائے کہہ رہا تھا دل میں ایک انجانہ سا ڈر تھا۔۔۔
کامران خان کچھ پل کو خاموش رہے۔۔۔اور اگر رخسار کے گھر والے نہ مانے تو۔۔کامران خان بولے تو انہوں نے ریحان تو کو حیران کر دیا۔۔۔ بتاؤ ریحان اگر رخسار کے گھر والے نام انے
تو تم کیا کرو گے بابا وہ مان جائیں گے بس اپ ان کے گھر ہمارا رشتہ لے کر چلے جائیں۔۔۔
چلو ٹھیک ہے جہاں ہمارے بیٹے کی مرضی ہو گئی
ہم وہاں ہی تمہاری شادی کریں۔۔۔بابا ایک چھوٹی سی گزارش ہے اپ سے۔۔۔
ہاں کہو میں سن رہا ہوں۔۔۔
بابا اپ ابھی رشتہ لے کر نہیں جائیے گا کچھ دنوں میں لے کر جائیں اور ہمارے گھر والوں کو پلیز یہی لگنا چاہیے کہ اپ کو رخسار پسند ہے میرے لیے ۔۔۔ مطلب امی یا دلاور بھائی یا کسی کو بھی یہ
نہ پتہ چلے کہ میں نے اپ کو کہا ہے ان کے گھر رشتہ لے کر جانے کو۔۔۔
اور تم ایسا کیوں چاہتے ہو ۔۔۔
بس ایسے ہی بابا پلیز۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ریحان کسی کو بھی نہیں پتہ چلے گا کہ تم چاہتے ہو کہ رخسار کے لیے ہم رشتہ لے کر جائیں۔۔۔ اور اگلے ہفتے ہم فارغ ہیں تو ہم چلیں گے۔۔۔ریحان کے چہرے پر ایک دم
سے کھل کھلاہٹ سی اگئی وہ یک دم ہی خوش ہو گیا تھا پریشانی چہرے سے غائب ہو گئی تھی۔۔۔
ہیر ۔۔ کامران خان نے اپنی بیٹی کو دیکھا ۔۔
جی بابا۔۔۔
کیا تمہیں نہیں سونا اگر تمہیں یاد ہو تو تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔۔۔
جی میں جانتی ہوں بس سونے ہی جا رہی تھی۔۔۔۔
ہاں تو جاؤ میرا بچہ ۔۔۔۔
ہیر اٹھنے لگی تو ایک دم سے بول پڑی بابا اپ سے کچھ پوچھنا تھا۔۔
پوچھو۔۔۔
بابا میری یونیورسٹی کی ٹرپ جا رہی ہے دو دن کے لیے۔۔
۔ ل ۔۔ لاہور ۔۔ اور ۔۔ لاہور وہ ٹیسٹ کا حصہ ہو گا ۔۔ ت۔۔ تو کیا بابا ۔ ۔۔میں بھی چلی جاوں ۔۔۔؟
اگر پڑھائی کا حصہ ہے تو ہاں چلی جانا لیکن دھیان رکھنا وہاں پر اپنا ۔۔
ہیر کے چہرے پر مسکراہٹ اگئی جی بابا میں اپنا پورا خیال رکھوں گی۔۔۔
اچھا چلو جاؤ اب سو جاؤ صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے تمہیں۔۔ کامران خان نے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ اٹھ کر کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔ وہ کمرے میں ائی۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر چاکلیٹ پڑی تھی ۔۔۔
ساتھ میں کوئی کارڈ بھی پڑا تھا ہیر پل بھر کو حیران ہوئی اس نے کارڈ اٹھایا کھولا اور پڑھا۔۔۔ میں جانتا ہوں تم اس وقت شدید پریشان ہو اپنی دوست کی وجہ سے اخر وہ مرتے مرتے بچی ہے
لیکن فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم سے جڑی ہر چیز کا خیال رکھوں گا میں ۔۔۔اخر بہت پرانا ساتھ جو ہے ہمارا اور اج کی دعوت میں تم بہت خوبصورت لگ رہی تھی میری تو نظر ہی تم سے نہیں ہٹ رہی تھی ۔۔۔ ہیر کو یک دم کرنٹ لگا اخر یہ کون تھا جو اس پر ہر پل ہر جگہ نظر رکھ رہا تھا۔۔۔
اور ہاں اپنے پروفیسر سے ذرا دور ہی رہو ۔۔۔ اور وہ جو لڑکا ہے زر مان راجپوت ۔۔۔ اُس سے بھی ذرا دور رہو میری نظر تم پر ہی ہے
ہیر خان۔۔۔
ہیرنے کارڈ پھاڑ کر ڈ یسٹ بین میں پھینک دیا ۔۔۔۔

یہ افق کے کمرے کا منظر تھا وہ اس وقت اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو ہیئر ڈرائی سے سکھا رہا تھا ۔۔۔ اج اس نے جیل وغیرہ نہیں لگائی تھی ۔۔۔ وہ پہلے ہی لیٹ تھا
اس کو کہیں پر جانا تھا ۔۔۔ اج اس نے کوئی پینٹ کوٹ نہیں پہن رکھا تھا بلکہ اج وہ ٹراؤزر شرٹ میں تھا ۔۔۔ سفید ٹراؤزر شرٹ پہنیں ہاتھوں میں سیاہ گھڑی پہنے ۔۔۔ سفید جوگرز پہنے ۔۔ افق کے پاس سے پرفیوم کی مہک ا رہی تھی ۔۔۔ وہ شرٹ کے بازوؤں کہنیوں تک کرتا اپنے کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔ ممی میں ذرا باہر جا رہا ہوں تھوڑا وقت لگ جائے گا انے میں ۔۔
کہاں پر جا رہے ہیں یہ تو بتا دیں افق ۔۔۔ ایک انٹرویو ہے بس وہیں پر جا رہا ہوں ۔۔
اوہ چلیں ۔۔ ٹھیک ہے جائیں ۔۔۔
ماں نے کہا تو وہ خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا
وہ گاڑی میں ا کے بیٹھا اور گاڑی کو رفتار نے اگے لے گیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ سیٹ پر موجود تھا ۔۔۔

انٹرویو تھوڑی دیر میں شروع ہونے والا تھا افق صوفے پر جا کے بیٹھا گیا ۔۔۔
تیز روشنیوں میں افق مصطفی کا چہرہ دمک رہا تھا ۔۔۔ اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ صوفے پر گھٹنے پر گھٹنا چڑھائے بیٹھا تھا ۔۔۔
ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑ رکھا تھا ۔۔۔
ہوسٹ کوئی لڑکی تھی جو اب انٹرویو شروع کر رہی تھی ۔۔۔
اج ہمارے ساتھ ہیں بہت ہی خوبصورت اور دلکش مصنف۔۔ افق اس کی بات پر مسکرایا ۔۔۔
اور یقینا افق کی ایک مسکراہٹ نے لاکھوں دلوں پر ور کیا تھا جو اس کا انٹرویو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ تو افق مصطفی کیسے ہیں آپ ؟
میں اللہ کا کرم ہے جیسا نظر آ رہا ہوں ویسا ہی ہوں ۔۔۔ ۔۔وہ اس کی بات پر مسکرائی ۔۔۔ تو افق اج کل آپ کیا کر رہے ہیں۔ ؟
میں آج کل کچھ خاص نہیں بس فارغ ہوں۔ ۔۔
لیکن سننے میں تو یہ ایا ہے کہ اج کل اپ کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ۔۔۔
بالکل صحیح سننے میں ایا ہے میں ایک یونیورسٹی
میں پروفیسر ہوں ۔۔۔ توا فق اپ کو پروفیسر بننے کا خیال کہاں سے اگیا جبکہ مجھے جہاں تک پتہ ہے اپ کو اس طرح جاب کرنے کی تو کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
میں جانتا ہوں بس ایسے ہی شوقیہ یونیورسٹی جوائن کی ہے کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
اچھا تو افق مصطفی اپ اپنی کسی نئی ناول کے بارے میں بتانا پسند کریں گے ۔۔۔
زیادہ نہیں لیکن تھوڑا بہت میں نے ایک نئی ناول لکھنی شروع کی ہے ۔۔۔ جو میری اپنی زندگی پر ہوگی میری اپنی نجی زندگی پر جس سے شاید اپ لوگ واقف نہیں ہیں۔۔۔۔ اس ناول میں
اور بھی بہت سے کردار ہوں گے نام میں نہیں بتاؤں گا ۔۔۔
لیکن کہانی سب کو ہی پسند ائے گی ۔۔۔
اپ کی اس کہانی کا نام کیا ہونے والا ہے۔۔۔ ہوسٹ وہ سوال پوچھا تھا جو سکرین کے اس پار بیٹھے لوگ پوچھنا چاہتے تھے ۔۔۔
نام میں فی الحال نہیں بتاؤں گا کیونکہ
جس کے نام پر اپنی کہانی کا نام رکھا ہے ۔۔ اگر وہ یہ انٹرویو دیکھ رہی ہوئی تو وہ مجھے گنجا کر دے گی ۔
۔۔۔ اوہ ۔۔۔ تو مطلب کوئی محبت بھی ہے اپ کی ۔۔۔؟ ہوسٹ نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں آپ کہہ سکتی ہیں ۔۔۔
تو کیاا فق یہ کہانی ان سے جڑی ہوگی ۔۔؟
جی یہ کہانی ان سے جڑی ہے ۔۔۔ اور یہ میری زندگی کی اخری کہانی ہوگی ۔۔۔ اس کے بعد میں کوئی کہانی نہیں لکھوں گا ۔۔۔
یہ کہہ کر تو اپ اپنے ریڈرز کا دل توڑ رہے ہیں وہ سالوں سال اپ کی کہانی انے کا انتظار کرتے ہیں میں جانتا ہوں ۔۔ افق نے بس اتنا ہی کہا
اچھا تو افق مصطفی اپ لوگوں کو کچھ کہنا چاہتے ہیں زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔ بس ااتنا ہی کے ایک دن ہر چیز کا اختتام ہونا ہے ۔۔۔ افق مصطفی کی کہانیوں کا بھی اور افق مصطفی کا بھی ۔۔۔ میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا ایک اہم بات کے میں
اس ناول کے بعد کبھی منظر عام پر شاید نظر بھی نہیں اؤں گا ۔۔
افق اپ ایسی باتیں کر کے اپنے فینز کے دلوں پر چھریاں کیوں چلا رہے ہیں۔۔۔ ہوسٹ کے کہنے پر اب کی بار افق بے ساختہ مسکرایا۔۔۔۔۔ دیکھیں ہر انسان کی اپنی زندگی ہوتی ہے ۔۔۔
میں اپنی ادھی زندگی اپ سب کے نام کر چکا ہوں ۔۔۔ اب باقی زندگی میرے اپنے نام ۔۔ یہ شاید کسی ایسی کے نام جو مجھے بہت پیاری ہے ۔۔ اس لیے افق مصطفی ہمیشہ اپنی کتابوں میں
زندہ رہے گا ۔۔۔۔ جب میری یاد کیسی کو ائے تو میری ناول پڑھیں ۔۔۔
اچھا تو افق کیا وہ لڑکی جانتی ہے کے آپ اُس سے محبت کرتے ہیں۔ ۔۔۔
نہیں ۔۔وہ نہیں جانتی ۔۔۔ یہاں تک کہ وہ میرے سے ایسے بھاگتی ہے جیسے میں کوئی مگر مچھ ہوں ۔۔۔ افق کہتے ہوئے خود ہی ہنسنے لگا ۔۔۔ اچھا تو افق اپ اپنی محبت کا اقرار کب کریں
گے اس لڑکی سے ۔۔۔
میں نہیں جانتا ۔۔۔ شاید میں کبھی نہ کہ سکوں ۔۔ یہ شاید بہت جلد ۔۔۔
اگر میں اس سے اپنی محبت کا اقرار نہیں کر سکا تو میں اس کو اپنی کتاب دے دوں گا یقینا اس کو پڑھنے کے بعد وہ ضرور سمجھ جائے گی
کہ وہ کہانی میں نے اس کے لیے لکھی ہے ۔۔۔
اگر میں نے اقرار کر دیا تو اس کا جواب میں نہیں جانتا کیا ہو گا ۔۔۔
لیکن میں چاہتا ہوں انکار نا ہو ۔۔۔ انکار سننا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔
اچھا تو افق اپ کو انتظار تھا کے اپ کو بھی کہانیوں جیسی محبت ہو گی ۔۔۔
میں نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں کرداروں سے کھیلتا ہوں ۔۔۔ میں کہانی دماغ سے لکھتا ہوں دل کا استعمال افق مصطفی نہیں کرتا ۔۔ لیکن اب مجھے کہتے ہوئے شرمندگی ہو
رہی ہے ۔۔ کے میرا بیکار دل میرے ساتھ کھیل گیا اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔ اس نے کسی سے محبت کر لی مجھے بتائے بغیر اور جب تک مجھے خبر ہوئی تب تک بات بہت اگے نکل گئی
تھی ۔۔ افق نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اچھا تو افق مصطفی ہم باتوں یہاں پر ہی ختم کرتے ہیں کیونکہ باتیں کرنے کو تو بہت ہیں پوری زندگی یہیں پر گزر جائے گی ۔۔۔
اور ہمارا افق بزرگ ہو جائے گا ۔۔ فینز کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ۔۔۔ ۔افق ہوسٹ کی بات پر مسکرایا ۔۔ اچھا تو
انٹرویو ختم کرنے سے پہلے کوئی ایسی بات جو اپ کہنا چاہتے ہوں ہوسٹ نے پوچھا تو افق پل بھر کو خاموش ہوا””””
یہاں کی کافی بہت میٹھی ہے ۔۔۔ میری ممی جو کافی بناتی وہ بہت اچھی ہوتی ۔۔۔ افق نے کہا تو ہوسٹ نے اس کو دیکھا ۔۔
لازمی سی بات ہے ماں کے ہاتھ کی چیز کا سواد ہی اور ہوتا ہے ۔۔
۔ جی بلکل صحیح کہہ ۔۔۔۔
تو چلیں افق اب پھر کبھی ملاقات ہو گی ۔۔۔
انٹرویو ختم ہوا تو افق سیٹ سے باہر اگیا ۔۔۔ آسمان بارش برسانے کو تھا۔۔۔ افق جلدی سے گاڑی میں ا کر بیٹھا اس سے پہلے بارش برسنے لگتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوسف اس وقت کمرے میں بیٹھا یاسر کے کندھے کی پٹی بدل رہا تھا ۔۔۔۔
اور یاسر یوسف کے سامنے بیٹھا انکھیں بند کیے بس ایک ہی بات بار بار بول رہا تھا بھائی ارام سے ۔۔۔ بھائی درد ہو رہا ہے مجھے ۔۔۔
ارام سے کریں جان لیں گے کیا بچے کی ۔۔۔ ابے او بچے ۔۔۔ چُپ کر کے بیٹھ جا ۔۔۔ پٹی کرنے کے باد یوسف اس کے لیے ہلدی والا دودھ لے ایا تھا موسم ویسے ہی بارش کا تھا بادل گرج رہے تھے ۔۔۔ اور شام چھا رہی تھی ۔۔۔ یاسر خاموشی سے اب لاؤنج میں بیٹھا ہلدی والا دودھ پی رہا تھا۔۔۔گلاس سے گھونٹ
بھرتے ہوئے یاسر نے یوسف کو دیکھا ۔۔۔ بھائی ع۔۔ ایک بات پوچھوں ۔۔۔ ؟
ہاں پوچھو ۔۔۔ وہ صبح اپ کو فون ایا تھا نہ اپ کے تایا کا وہ اپ سے کیا کہہ رہے تھے۔۔
کچھ بھی نہیں یاسر وہ بس بول رہے تھے
کہ یسرا یونیورسٹی کی پڑھائی کے لیے جنگ انا چاہ رہی ہے ۔۔۔۔
اچھا کب ا رہی ہیں وہ ۔۔۔ ؟
بس کچھ ہی دنوں میں ارہی ہے ۔۔۔
اچھا یاسر کا چہرہ کھل اٹھا ۔۔۔ وہ کون سی یونیورسٹی میں داخلہ لیں گی ۔۔۔ میں تو سوچ رہا ہوں کہ اس کو کہوں ہیر کی یونیورسٹی
میں ہی داخلہ لے لے ۔۔۔۔
ہاں ویسے بات تو صحیح ہے اپ کی ۔۔۔
چلیں اب جب بات ہو تو اُن کو کہہ دیجئے گا ۔۔ ہاں ابھی جب دوبارہ فون ایا تو میں بتا دوں گا کیونکہ ہیر کی یونیورسٹی اچھی ہے۔۔۔
اچھا یوسف بھائی ایک بات ہے ۔۔
ہاں کہہ ۔۔۔ “‘ اپ مجھے یسرا جی کا نمبر دے دیں گے ۔۔۔
یاسر تھپڑ مروں گا میں تجھے ۔۔
کیا ہو گیا ہے نمبر ہی تو مانگا ہے ۔۔
یاسر ۔۔۔ یہ غلط بات ہے جب وہ ائے گی تو بات کر لی ۔۔۔
یاسر پل کو خاموش رہا پھر اسبات میں گردن ہلا دی ۔۔۔
اچھا ویسے بھابھی سے بات ہوئی ہے اپ کی۔ ۔۔؟
کون سی بھابی ۔۔۔؟
اللہ اللہ اتنی جلدی بھول جاتے ہیں
حیات بھابھی کو ۔۔۔ ابھی کل اپ نے ان کو پروپوز کیا ہے اور اج بھو ل بھی گئے ۔۔۔
بس بس زیادہ نہ بول۔۔ مجھے لگا پتہ نہیں کس کی بات کر رہا ہے ۔۔۔
یوسف نے کہتے ہوئے قدم کمرے کی طرف گھمائے تو یاسر پیچھے سے بولا۔۔ ہاں ہاں جائیں اب کمرے میں جا کر فون کریں بھابھی
کو ۔۔۔۔ کریں۔ محبت بھری باتیں ۔۔۔ مجھے میری محبت کا نمبر دے نہیں رہے اور خد باتیں کرنے جا رہے ہیں کمرے میں ۔۔
یوسف بنا کچھ بولے کمرے کی طرف جانے لگا تو یاسر نے فورا سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔ اپ ایسے مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتے یہ غلط بات ہے ۔۔۔ اپ کو میری اور اپ کی
محبت کی قسم ہے بھائی آپ ایسے نہیں جا سکتے ۔۔
کمینے کمرے میں جانے دے مجھے چھوڑ ہاتھ میرا۔۔۔۔۔۔ یوسف نے ہاتھ چھڑوایا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگا یاسر بھی اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگا یوسف نے فورا دروازہ بند کر دیا یاسر دروازے کے باہر کھڑا اونچا اونچا بولنے لگا ۔۔۔۔
اپ بے وفا ہیں ۔۔۔ اپ ایسے کیسے بھابھی سے بات کر سکتے ۔۔۔
میری بات سن رہے ہیں ہے یوسف بھائی ۔۔ میرا خیال ہی نہیں ہے ۔۔ یاسر نہ جانے کتنی ہی دیر دروازے کے باہر کھڑا اوور ایکٹنگ
کرتا رہا ۔۔۔۔
یوسف جو اندر کمرے میں حیات سے فون پر بات کر رہا تھا حیات نے پیچھے شور کی اواز سنی تو پوچھ ہی لیا کہ یہ پیچھے اواز کس کی ا رہی
ہے تو یوسف نے اپنا سر پکڑتے ہوئے کہا یاسر پیچھے شور مچا رہا ہے۔۔
اور حیات ہنسنے لگی مطلب وہ اپ کو پورا دن تنگ کرتے ہیں ۔۔۔
اس کو اور کوئی کام ہی نہیں ہے وہ پورا دن مجھے ہی تنگ کرتا ہے ۔۔۔
چلیں کوئی بات نہیں بھائی ہیں ان کا تو فرض ہے اپ کو تنگ کرنا ۔۔
حیات نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
اچھا اپ بتائیں کیا کر رہے ہیں اپ ۔۔۔ کچھ نہیں نہیں اپ کے خیالوں میں گم ہوں ۔۔۔ اچھا جی ۔۔۔
ہاں جی ۔۔ یوسف اس۔ کے انداز میں جواب دے رہا تھا ۔۔۔ اچھا حیات میں اپ سے
بعد میں بات کرتا ہوں یاسر پتہ نہیں اب کیا کر رہا ہو گا ۔۔ یوسف نے کہتے ہوئے فون بند کیا اور کمرے سے باہر اگیا ۔۔۔
لاؤنج میں یاسر نہیں تھا یوسف نے کچن کی طرف دیکھا کچن سے اوازیں ا رہی برتن بجنے کی۔۔۔ یوسف کچن کے اندر ایا شلف پر یاسر کو بیٹھے دیکھا۔۔۔
کیا کر رہا ہے تو بھائی۔۔ یوسف نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا تو یاسر نے فورا سے اسے دیکھا ۔۔۔
میں نوڈلز بنا رہا ہوں ۔۔۔ یوسف نے فرائنگ پین کو دیکھا ۔۔۔
جس میں نوڈلس بھون رہے تھے ۔۔۔ یوسف نے اپنا سر پکڑ لیا یا ۔۔تجھے اتنا چھوٹا سا کام بھی نہیں اتا بھائی نوڈلز کے اندر پانی بھی ڈالنا
ہوتا ہے ۔۔۔تو کیا تندوری نوڈلز بنا رہا ہے بھائی ۔۔
سوری مجھے پتہ نہیں تھا کہ ان میں پانی بھی جائے گا ویسے کیا تندوری نوڈلز بنا پانی کے بنتے ہیں ۔۔یاسر اب الٹا یوسف سے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔
چپل کہاں ہے میری تجھے ابھی صحیح کرتا ہوں۔۔۔
یوسف نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو یاسر فورا کچن سے باہر نکلا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا ۔۔۔ اب تو دوبارہ مجھے کچن
میں نظر ا تجھے چولہے پہ رکھ کے پکا دوں گا میں۔۔۔

ہیر اج یونیرسٹی نہیں گئی تھی ۔۔۔ انکھ ہی نہیں کھلی تھی ۔۔
رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے ۔۔۔ اور پورا دن فضول گزرا تھا رخسار بھی یونیرسٹی نہیں گئی تھی جب کے حیات گئی تھی اور
پتہ چلا کہ زر مان بھی نہیں ایا تھا اج ۔۔۔
ان سب کا دن ہی بورنگ گزرا تھا ۔۔۔ زر مان کال سینٹر میں تھا ۔ ہیر اپنے گھر پر ۔۔۔ ہیر کو جب سے پتہ چلا تھا کے دلاور نے رخسار
کے ساتھ کیا کیا ہے ہیرکو دلاور سے خوف
انے لگا تھا ۔۔ اگر وہ رخسار کو مارنے کی کوشش کر سکتا تھا تو ہیر پر تو اس کو ویسے ہی غصّہ تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔ اس لیے ہیر کمرے سے کم ہی باہر نکلی تھی ۔۔۔ ویسے بھی اس کا بھائی پاگل ہو چکا تھا

رات اندھیری چھا رہی تھی بادل گرج رہے تھے اور بارش تڑر تڑ برس رہی تھی ۔۔۔۔ موسم ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔۔۔
اندھیری رات میں بارش میں ہیوی بائک سڑک پر دوڑاتا ایک وجود نظر آ رہا تھا جانا پہچانا سا ۔۔۔ چہرہ ہیلمٹ سے ڈھک رکھا تھا ہاتھوں میں دستانے تھے ۔۔ سیاہ پینٹ شرٹ پہنے ۔۔
سیاہ جوگرز پہنے ۔۔۔ بارش کی بوندوں سے بھیگا ہوا وجود ۔۔۔
قاسم خان ۔۔۔۔۔۔ اُس نے اپنی بائک کیسی سنسان علاقے میں روک دی اور خود بائیک سے اتر گیا ۔۔۔ ہیلمٹ اتارا کر بائیک پر رکھا ۔۔۔ قاسم نے ہیلمٹ کے اندر بھی ماسک پہن رکھا تھا
جس کی وجہ سے صرف قاسم کی انکھیں ہی نظر اتی تھی ۔۔۔
ہاتھ میں اس نے گن پکڑ رکھی تھی ۔۔۔ جس پر سلانسر لگا تھا تا کے گولی چلنے کی اواز نہ ائے ۔۔۔ اندھیری رات میں وہ پھر کسی کو موت کے گھاٹ اتارنے ایا تھا ۔۔۔۔ وہ کیسی لڑکے کے سامنے
آ کر روکا۔ ۔۔۔
وہ لڑکا شاید اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔اس کو اتا دیکھ کر وہ اس کی طرف بڑھا ۔۔۔
خبیث انسان ۔۔ تو نے مجھے دھوکہ دیا
تو نے کہا تو میرے ساتھ ہے جب کے تو دشمنوں کے ساتھ تھا خبیث کے بچے ۔۔۔۔ لڑکا اس کو مارنے کے لیے بڑھا ۔۔تُجھے اتنے پیسے دیے ۔۔۔ اور تو نے کیا کیا ۔۔ گھٹیا ۔۔ بے غیرت
اُس لڑکے نے قاسم کو مارنا چاہا ۔۔ اور قاسم بہت آسانی سے بچ گیا ۔۔۔
خبیث تُجھے میں چھوڑوں گا نہیں اس لڑکے نے
ایک بار پھر قاسم کو مارنا چاہا اب کی بار قاسم نے اپنی گن کی گولی اس کے دماغ میں اتر دی ۔۔ وہ لڑکا ایک جھٹکے سے زمین پر گر پڑا ۔۔۔
ارے یار کب سے دیکھ رہا ہوں گالی دے رہا ہے ۔۔
تو ہوتا کون ہے مجھے گالی دینے والا ۔۔ قاسم اب اس کو ٹھڈے مار رہا تھا ۔۔۔۔ اٹھ نہ اب ۔۔ دے گالی ۔۔۔ اب دے ۔۔پتہ ہے کیوں میں نے تُجھے مارا ۔۔ کیوں کے تُجھے مرنے کے پیسے
ملے ہے مجھے ۔۔۔ پتہ ہے کتنے پیسے لیے ہیں میں نے ۔۔ تیری موت کے ۔۔۔ 1 کروڑ ۔۔۔ اور قاسم خان کی نظر جس پر پڑ جائے ۔۔ وہ بچ نہیں سکتا میرے سے ۔۔۔
اور صرف تجھے ہی نہیں مارا ۔۔ فکر نہ کر ۔۔ اُس وکیل کو بھی اوپر بھیجوں گا جس نے تجھے مارنے کے لیے کہا ہے اب یہ تو نا انصافی
ہوگی نا کہ تو بے قصور مارا گیا اور جس کا قصور تھا اسے میں چھوڑ دوں ۔۔ بس پیسے مل جائیں ایک بار ۔۔ پھر اس کا کام بھی تمام کر کے اوپر بھیج دوں گا پھر اوپر جتنا مرضی تم دونوں اپس میں لڑ لینا ۔۔
قاسم ابھی پلٹا بائک تھوڑا دور کھڑی تھی ۔۔۔ بارش اب تھم چکی تھی خاموش سڑک پر قاسم ہو کسی کی اواز سنائی دی ۔۔
دور سے ۔۔۔ کیسی بچے کی ؟ نہ جانے کس کی ۔۔ قاسم نے گن تانتے ہوئے قدم اواز کی طرف بڑھا دیے ۔۔۔
قاسم اواز کے قریب آ رہا تھا ۔۔ شاید کوئی بچہ رو رہا تھا ۔۔
قاسم جب اواز کے قریب آگیا تو اندھیرے میں قاسم کو کوئی چیز زمین پر حرکت کرتی محسوس ہوئی ۔۔
قاسم نے غور سے دیکھا ۔۔۔ کوئی بچہ زمین پر چادر میں پڑا تھا ۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے 2 یہ 3 دن کا بچہ تھا ۔۔ یہ بچی ۔قاسم کو اندازہ نہیں ہوا وہ بچہ روئے جا رہا تھا بارش میں بھیگا پڑا تھا ۔۔ قاسم نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا وہ بخار سے تپ رہا تھا ۔۔ قاسم نے ادھر ادھر دیکھا کہ شاید کوئی اس بچے کو لینے ا جائے لیکن اس پاس کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔ قاسم نے کچھ دیر سوچا ۔۔ پھر اس کو
گود میں اٹھا لیا ۔۔ وہ اس کی گود میں ا کے خاموش سا ہو گیا ۔۔۔۔
قاسم کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ آئی ۔۔۔
اس نے بچے کو پکڑا ۔۔۔ اور بائیک پر ا کے بیٹھا ۔۔۔
بائک کو سٹارٹ کیا بکل ہلکی رفتار میں بائک چلاتا قاسم پہلے تو ڈاکٹر کے پاس پہنچا بچے کو بخار تھا ڈاکٹر کو چیک کروانا تھا ۔۔
قاسم نے ڈاکٹر کو چیک کروایا ۔۔ ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا کچھ دوائیاں لکھ کے دی ۔۔ دیکھیں بچی کی طبیعت خراب ہے ہو سکے تو اس کا خیال رکھیں ۔۔۔ بہت چھوٹی ہے ابھی ۔۔۔
اور قاسم کو اندازہ ہوا وہ بچہ نہیں بچی ہے ۔۔۔
قاسم نے اس کو گود میں اٹھایا اور ہاسپٹل سے باہر اگیا ۔۔ بارش اب رک گئی تھی ۔۔۔ موسم ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد قاسم جب گھر پہنچا تو اس کے امی ابو اس کے ہاتھ میں کسی بچے کو دیکھ کر حیران رہ گئے ۔۔۔ قاسم یہ کس کا بچہ ہے ادم خان نے پوچھا ۔۔ بابا میں نہیں جانتا میں سڑک سے گزر رہا
تھا تو مجھے یہ وہاں پر ملی یہ بیمار تھی بابا اس کو بخار ہو رہا تھا میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا اور پھر میں اسے گھر لے ایا میں نہیں جانتا بابا اسے وہاں پر کون چھوڑ گیا تھا ۔۔ ادم خان نے بچی کا چہرہ دیکھا ۔۔۔ قاسم اب تم اس کا کیا کرو گے ۔۔۔ م ۔۔۔
پہلی بار قاسم کو احساس ہوا ۔۔ کے یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں ۔۔۔ م۔۔ ب۔۔ بابا م۔۔ میں نہیں جانتا ۔۔ قاسم اس بچی کو کوئی چھوڑ کے گیا ہے مطلب کوئی اس کو رکھنا ہی نہیں چاہتا
تھا اس کو مرنے کے لیے وہاں چھوڑ گیا ۔۔۔
بابا کوئی اپنے بچے کو مرنے کے لیے کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔
قاسم میرے بچے ۔۔ یہ خیال تم چھوڑو ۔۔ اپنی ماں کو دو بچی وہ اس کو فیڈر میں دودھ پلا دے وہ بھوکی ہو گی ۔۔ ایک بار اس کی طبیعت
صحیح ہو جائے پھر سوچتے ہیں کیا کرنا ہے ۔۔۔ قاسم نے بچی اپنی ماں کو تھما دی ۔۔۔ ماں اس کو اپنے کمرے میں لے کے اگئی
تھی قاسم بھی پیچھے پیچھے اگیا ۔۔
قاسم کی امی نے بچی کو بیڈ پر لیٹایا تو قاسم بیڈ پر ایک کونے میں ہو کر بیٹھ گیا اور اسے دیکھنے لگا قاسم کی امی اب کچن میں اگئی تھی
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں فیڈر پکڑے کمرے میں واپس ائی تو انہوں نے قاسم کو دیکھا جو بہت غور سے بچی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
جو اب رو تو نہیں رہی تھی لیکن چادر سے باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی تھی ۔۔۔
امی یہ کتنی چھوٹی اور پیاری ہے ۔۔۔ اس کی ماں مسکرائی ۔۔
تم بھی اتنا ہی چھوٹے تھے جب تمھیں میں نے
اپنی گود میں اٹھایا تھا پہلی بار ۔۔۔
امی اگر اس کے ماں باپ نہ ملے تو ہم اس کا کیا کریں گے ۔۔۔
چائلڈ ہوم میں دے سکتے ہیں قاسم ہم اس کو وہاں اس کا اچھا خیال رکھا جائے گا ۔۔۔ لیکن امی ۔۔ وہاں پر اس کے ماں باپ نہیں
ہوں گے ۔۔۔ قاسم کو خود سمجھ نہیں ارہی تھی وہ یہ بے تکے اور بے فضول سوالات کیوں پوچھ رہا تھا ۔۔۔ ماں باپ تو یہاں پر بھی نہیں ہیں قاسم اس کے ۔۔ قاسم پل بھر کو خاموش
ہوا جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہو ۔۔۔۔ امی ۔۔۔
ہاں کہو ۔۔۔۔ماں اب بچی کو دودھ پلا رہی تھی ۔۔۔۔
اگر میں اس کو گود لے لوں تو ۔۔۔؟ قاسم کی بات پر اس کی امی حیران ہوئی ۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔
کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔ یہ بہت پیاری ہے اور دکھیں اس کے ماں باپ بھی نہیں ہیں ۔۔ اس کا خیال کوئی نہیں رکھے گا ہمارے علاوہ ۔۔ امی ابو کو منا لوں گا میں ۔۔۔ دیکھو قاسم ہیر سے تمھارے رشتے کی بات چل رہی ہے ۔۔ کامران بھائی منع کر دیں گے اگر انہیں پتہ لگا کہ تم نے کسی بچی کو گود لے لیا ہے ۔۔۔
کامران انکل
ایسے نہیں ہیں امی وہ منع نہیں کریں گے ہیر اور میری رشتے کے لیے ۔۔۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہیر کی شادی میرے سے ہی کریں گے ۔۔۔ قاسم اور اگر انہوں نے اس بچی کو دیکھ کر
وعدہ توڑ دیا تو ۔۔۔
امی مجھے فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔ اس کو اللہ
نے مجھے دیا ہے ۔۔ اگر یہ میری قسمت میں نہ ہوتی تو میں اس کو لے کر ہی کیوں اتا ۔۔۔ اللہ چاہتا ہے کے میں اس کو گود لوں تب
ہی تو یہ مجھے ملی ہے ۔۔۔
قاسم لیکن ہیر ۔۔
امی فی الحال وہ بات چھوڑیں ۔۔۔ فی الحال اس کو دیکھیں ۔۔۔
بچی اب گہری نیند میں سو چکی تھی ۔۔۔ بخر اب پہلے سے ہلکا تھا ۔۔
ٹھیک ہے قاسم اپنے بابا کو منا لو ۔۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔
میں منا لوں گا بابا کو آپ فکر ہی نہ کریں ۔۔۔ قاسم نے کہتے ہوئے بچی کو دیکھا ۔۔۔ اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔
قسمت نے کیا کرنا تھا کوئی بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Qasas by Rida Fatima episode 12…

قصاص قسط نمبر:12 ردا فاطمہ۔۔۔ دعوت رات دیر تک چلی تقریباً 12 بجے کا وقت ہو رہا تھا جب سب نے سوچا کہ اب گھر

Read More »

Mohabbat ibadat by Rida Fatima episode 6…

محبت عبادت قسط نمبر:6 ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔ لاہور میں نانی کے گھر آئے علی کو دو ہفتے گزر چکے تھے۔۔۔۔شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں،علی

Read More »
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *