PATJHAR BY ALAM EPISODE 1

پت جھڑ قسط نمبر ؛١

ازقلم الم

اگر ہم اپنی کہانی کا آغاز کریں تو نظامِ شمسی میں سورج کے گرد گردش کرتے سیاروں میں سے، اس واحد سیارے میں جھانکو جہاں اشرف المخلوقات کا بسیرہ ہے، تو جنوبی ایشیا میں واقع پاکستان کے جب اس شہر کی طرف رخ کریں جہاں محبتوں کا نزول ہوتا ہے، جو خوبصورت تو ہے مگر محبت کرنے والوں کے لیے بڑا بے رحم ثابت ہوا ہے؛ ارے وہی جہاں ماہرِ بے کا دل ٹوٹا تھا، سالار کو امامہ ملی تھی، علیزے کا عمر بچھڑا تھا اور اپنے عالیان اور زوجہِ عالیان کا نکاح بھی تو ہوا تھا۔
نہیں سمجھے؟ کاش آپ کتابیں پڑھتے ہوتے (خصوصاً ناولز)۔ چلیں خیر، وہ شہر جہاں کا کھانا بہت مشہور ہے خصوصاً ناشتہ اور نان خطائی (اگر کتابیں پڑھتے ہوتے تو یقیناً کوئی یاد آ جاتا)۔ زیادہ لمبی تمہید اور اس شہر کی عمارات کے قصوں کو بعد پر چھوڑتے ہوئے المختصر، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے “لاہور لاہور ہے”۔ مزہ نہیں آیا نا؟
“لور لور اے!”
تو وقت ہے کہ تقریباً صبح کے 3 بج کر 13 منٹ کا۔ شاہ ولا تمام تر رازوں کو اپنے اندر سموئے پوری شان و شوکت کے ساتھ اس اندھیرے میں بھی مصنوعی قمقموں کے ساتھ منور ہے۔ ایک وجود جو سیاہ لباس میں سیاہ رات کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے، دبے قدموں سے گیٹ کے قریب آیا اور بڑی مہارت سے دوسری طرف کود گیا جیسے یہ تو اس کا روز کا معمول ہو۔ دروازے کے پاس رک کر جیب سے چابی نکالی، دروازہ کھولا اور اندر چھپاک سے گھس گیا (اف خدایا! اب اس نے ڈپلیکیٹ چابیاں بھی بنوا رکھی ہیں!!) اس خوش گمانی میں کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔
ابھی دو قدم ہی آگے بڑھائے تھے کہ پورے لاؤنج کی بتیاں روشن ہو گئیں۔ “لو جی کر لو کیو نوں پانڈا” اب اس کو کس نے بتا دیا؟ اس وجود نے خاصا جھنجھلا کر سوچا۔
“ہیلو ڈیئر کزن! آپ سوئے نہیں ابھی؟ میرا انتظار نہ کیا کریں، سو جایا کریں” لہجہ خاصہ میٹھا تھا کہ اچھے بھلے بندے کو شوگر کا مریض بنا دے۔
“شاہی سواری کہاں سے آ رہی ہے؟” مقابل کا لہجہ مٹھاس کی بجائے کریلے کا سالن معلوم ہو رہا تھا وہ بھی نیم کے تڑکے کے ساتھ۔
“لے کون سی سواری؟ میں تو اپنے قدموں پر چل کر آئی ہوں کیونکہ مجھے پیدل چلنے کے فوائد کا اچھے سے علم ہے” اس کے برعکس یہ لہجہ خاصہ بے پروا تھا۔
“وہی شاہی سواری جو تم نے گھر کے پچھلے حصے میں چھپائی ہے اور اگر اتنی عقل لگا ہی لی تھی تو تھوڑی سی اور لگا لیتی اور اپنے سر سے یہ ہیلمٹ اتار آتی جو تمہارے سارے بھید کھول رہا ہے”۔
“فٹے منہ میری عقل پہ” اس نے دل میں خود پر لعنت بھیجی۔
“ہاں تو میں آپ سے ڈرتی تھوڑی ہوں! وہ تو آپ نے گیٹ لاک کر رکھا تھا اس لیے بائیک چھپانا پڑی ورنہ میں اندر ہی لے آتی اور ہٹیں راستے سے مجھے سونا ہے، فضول میں میرے باپ نہ بنا کریں”۔ ناک چڑھا کر خاصا مغرور انداز میں مقابل کو اپنے راستے سے ہٹایا اور چلی گئی۔
ابھی دو قدم ہی چلی تھی کہ مقابل کے الفاظ نے قدم زنجیر کیے۔
“جیت کر آئی ہو یا ہار کر؟” اس سوال نے مقابل صنف کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی، بڑی مغرور اور قاتل مسکراہٹ تھی۔
“آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی نے ‘آئرہ سلطان شاہ’ کو مات دی ہو؟ جیت میرا مقدر ہے، مجھے بلندیوں کے لیے بنایا گیا ہے، پستیوں کی طرف دیکھنا بھی میرے لیے گناہ ہے”۔
اس قدر غرور! کوئی اس لڑکی کو بتائے کہ جب قسمت مار دیتی ہے تو تخت چھن جاتے ہیں، عرش سے فرش پر پٹخ دیا جاتا ہے اور غرور کو خاک ہونے میں لمحہ لگتا ہے۔ لیکن مغروریت میں بدمست لوگ اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ تکبر صرف ایک ذات ہی کے لیے بنا ہے اور صرف اسی پر جچتا ہے۔ جو انسان اس کو اپنا شعار بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ قیامت تک کے لیے مردود ٹھہرتے ہیں، عزازیل کی طرح عمر بھر کی ریاضتیں خاک میں ملا کر ابلیس بن بیٹھتے ہیں۔
“آئرہ! کانفیڈنس اچھا ہے لیکن غرور ہماری زندگی کے لیے سلو پوائزن ہے” مقابل نے تنبیہ کی۔
“مسٹر یوشع کبیر شاہ! اپنی اسی چھوٹی سوچ کی وجہ سے آپ  یہاں ہیں اور میں یہاں، آئرہ سلطان شاہ آلویز آن دا ٹاپ”۔ اس نے ایک ہاتھ نیچے اور دوسرا اس سے بلند کر کے اشارتاً دونوں کے مقام کو واضح کیا۔
اس کی بات سن کر یوشع کے چہرے کا رنگ بدلا تھا جسے دیکھ کر آئرہ کے چہرے پر بڑی طنزیہ مسکراہٹ ابھری اور وہ ایک حقیر نظر اس پر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
اگر کہانی کے وقت کو تھوڑا سا ریوائنڈ کیا جائے اور اپنے کزن سے بحث کرتی ہوئی لڑکی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، چوری چھپے گھر میں گھستی لڑکی کو نظر انداز کر کے اگر گھڑی کی سوئیوں کو پیچھے کی جانب موڑا جائے تو وقت ہوگا تقریباً رات کے 12 بجے کا۔
لاہور کی مصروف ترین شاہراہ ڈیفنس روڈ پر اگر تم دیکھو تو چار پانچ موٹر سائیکل سوار اپنی ہیوی بائیکس پر سوار، بائیک کی سپیڈ خطرناک حد تک بڑھائے سڑک پر بائیک دوڑا رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ صرف عام موٹر سائیکل سوار تھے؟ نہ جی، وہ تو ریسرز تھے جو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ایسی کوشش کر رہے تھے جیسے زندگی اور موت کا سوال ہو۔ امیروں کی بگڑی اولادوں کے چونچلے!
کیا وہ پاگل تھے؟ اتنی خطرناک ریسنگ کے لیے اتنی مصروف شاہراہ! ان سواروں میں سے ایک وجود خاصہ پھرتیلا تھا، وہ بائیک کو کبھی دائیں ٹرن دے رہا تھا کبھی بائیں اور کبھی تو سامنے والا ویل اوپر اٹھا دیتا۔ سامنے سے برابر آتے دو ٹرکوں کے درمیان میں سے اس نے اس مہارت سے گاڑی نکالی کہ یہ دیکھنے میں کسی مووی کا سین معلوم ہو رہا تھا۔ باقی چاروں ریسرز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جب وہ بائیک فنشنگ لائن پر پہنچی جہاں کئی منچلوں کا ہجوم جمع تھا، تو چاروں طرف آئرہ!!!! آئرہ!!!! کی صدائیں بلند ہوئیں۔
سب سے پہلے فنشنگ لائن کراس کر کے ایک ادا سے بائیک کھڑی کر کے اس سے اتری اور ہیلمٹ اتارا کہ ہوا کے جھونکے سے اس کے سیاہ گیسو اس کے شانوں پر بکھر گئے۔ گہری سیاہ بڑی بڑی آنکھیں، گول چہرہ، تیکھی ناک اور سیاہ کندھوں سے اوپر کٹے ہوئے بال اور بھرے بھرے عنابی لب۔ وہ اس قدر تو حسین تھی ہی کہ اس کے پیچھے عمریں گنوائی جائیں، اور حسن تو اسے بے بہا دیا ہی گیا تھا مگر غرور تو بالٹیاں بھر کر انڈیلا گیا تھا اس میں۔
وہ ایک ادا سے چلتی ہوئی اپنے دوستوں کے پاس آئی اور سب اس کے گرد جمع ہو کر اسے مبارکباد دینے لگے اور یہ کوئی نئی بات بھی نہ تھی۔ دوستوں کے ساتھ موج مستی کر کے بالآخر آئرہ میڈم کو گھر جانے کا خیال آ ہی گیا تھا۔
“اچھا گائز میں چلتی ہوں، کافی ٹائم ہو گیا ہے اور وہ منحوس انسان یقیناً بیٹھا ہوگا فضول کا رعب جھاڑنے کے لیے”۔ پتہ نہیں کیوں اس لڑکی کے لہجے میں یوشع کے لیے ہمیشہ حقارت ہی ہوتی تھی۔
“اوکے بائے ڈارلنگ! اور اس سلی گائے کو منہ توڑ جواب دینا، اس کی اوقات یاد دلا دینا” کائنات اس کی دوست بولی۔
“ڈونٹ انڈراسٹیمیٹ مائی سکلز” آئرہ آنکھ ونک کرتے ہوئے بولی اور اپنی بائیک پر سوار ہو گئی۔ اور پھر بائیک چلی تھوڑی تھی، اڑی تھی! اڑی اور باقی گھر میں ہونے والی تکرار کے بارے میں تو آپ کو علم ہو ہی چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اگر ہم اپنے تصورات کے دھاگے لپیٹتے ہوئے شاہ ولا کی مغرور اور سازشوں سے بھرپور فضاؤں کو پیچھے چھوڑ قصرِ شاہ کے پاس پہنچیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ اس مصنوعی روشنیوں سے منور عمارت کو کوئی اور چیز بھی منور رکھے ہوئے ہے؛ شاید وہ نور تھا جو اس گھر پہ اترتا تھا۔ اس گھر کے گرد و نواح کی ہوا پاک تھی گناہوں سے، سازشوں سے، صرف ایک سکون تھا جو اس کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا۔ قصر شاہ کا اوپری منزل کا کمرہ جس کی کھڑکی پیچھے کے باغ میں کھلتی تھی اور اس وقت اس کے پٹ وا تھے اور چاند کی روشنی اس میں دبے پیر داخل ہو رہی تھی۔ کمرے کی فضا ساکن تھی، خاموش مگر معطر۔ کمرے کے وسط میں ایک وجود جائے نماز بچھائے تہجد کی نماز پڑھنے میں مشغول تھا۔
اس نے قیام کیا اور جیسے جیسے وہ نماز پڑھ رہی تھی ویسے ویسے اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو رہے تھے، جیسے اسے معلوم ہو کہ وہ جو پڑھ رہی ہے اس کے معنی کیا ہیں۔ وہ خدا سے ہم کلام تھی، اسے معلوم تھا کہ وہ کیا سوال کر رہی ہے، وہ کیا کلام کر رہی ہے اور یہی تو اصل لطف ہے نماز ادا کرنے کا۔ سجدے میں جاتے ہی اس کے آنسو رواں ہو گئے اور ایک دردناک ہچکی لی گئی۔ اس کی ہچکی اس قدر تکلیف دہ تھی کہ پتھر سے پتھر دل پگھل جائے، تو کیا جو رحمان و رحیم ہے اس کے عرش میں اس کی پکار نہ گونجی ہوگی؟ اس آہ کی تاثیر نہ پہنچی ہوگی؟
اس نے سلام پھیرا، تسبیحات پڑھیں اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔

جو سب سے پہلا لفظ ادا ہوا وہ تھا “اللہ جی! میرے پیارے اللہ جی!”
“اللہ! میرے کندھے ناتواں ہیں، ان میں گناہوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں، میری اتنی اوقات نہیں، یا اللہ! مجھ میں ابراہیمؑ کا سا حوصلہ نہیں ہے اس لیے مجھے میری طاقت سے زیادہ نہ آزمانا! اللہ میں خوفزدہ ہوں اس اندھیری قبر سے جہاں کوئی روشنی نہ ہوگی سوائے اپنے نیک اعمال کے۔ میں خوفزدہ ہوں اس روز سے جب کوئی کسی کا نہ ہوگا اور احتساب میں بھی صرف نیک اعمال ہی ہمارے مددگار ہوں گے۔ اللہ! مجھے ایسے عمل کرنے کی توفیق دے جو میری قبر کی روشنی، میری آخرت کی نجات اور پل صراط پر میرے لیے نور بنیں۔ اے اللہ! تو رحمان ہے، تو غفور بھی ہے، مجھے بخش دے، مجھے اپنی رضا میں راضی رکھ لے، مجھے شکر گزاروں میں لکھ دے اور شکوے کو کبھی میری زبان پہ نہ لانا”۔
اس نے دعا مکمل کی، جائے نماز طے کی اور تلاوتِ قرآن پاک میں مشغول ہو گئی۔
تہجد کا وقت وہ عظیم وقت ہے جب اللہ اپنے بندے کی پکار بڑے قریب سے سنتا ہے مگر اس کو صرف وہی پکار پاتے ہیں جو “اس” کے محبوب ہوں اور “وہ” انہیں محبوب ہو۔ اسی وقت کچھ تو رضائے الٰہی کی طلب میں مشغول ہوتے ہیں تو کچھ میٹھی نیند سو رہے ہوتے ہیں، اور سب سے بدبخت وہ ہوتے ہیں جو اس وقت کو پا کر بھی نہیں حاصل کر پاتے یعنی وہ اس وقت جاگ تو رہے ہوتے ہیں مگر صرف دنیا کی پرستش کے لیے۔ موبائل پہ ساری رات لگا دی جاتی ہے مگر 15 منٹ کی نماز ان پر بھاری ہوتی ہے۔
اس نے قرآن پاک کی تلاوت مکمل کی اور کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی آنکھیں اداسی میں لپٹی نظر آتی تھیں مگر اس کا دل پرسکون تھا کیونکہ اللہ والوں کے دل پر سکون نازل ہوتا ہے۔ اس کو سوچوں کے گرداب سے فجر کی اذان نے نکالا تھا۔
اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر!
“کس قدر خوبصورت الفاظ ہیں یہ! اللہ سب سے بڑا ہے، جو شخص، جو انسان، جو مخلوق خود کو اللہ سے بلند کرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہے تو پھر اللہ اس کو منہ کے بل گرا دیتے ہیں کیونکہ اس دنیا میں بڑائی کا معیار صرف ایک نام ہے اور وہ ہے اللہ۔ اللہ سے بلند، اللہ سے عظیم، اللہ سے بڑی ہستی اس دنیا میں کوئی نہیں”۔
اس نے فجر کی نماز ادا کی اور کمرے سے باہر آ گئی کیونکہ قصر شاہ  کے مکینوں کا معمول تھا کہ وہ فجر کے بعد سوتے نہیں تھے۔ اس نے کچن میں آ کر چائے کا پانی چڑھایا کیونکہ اس کے ابو جان کو صبح صبح اس کے ہاتھ سے ہی چائے پینے کی عادت تھی۔ اس نے چائے ابھی کپوں میں ڈالی ہی تھی کہ آغا جان کی آواز لاؤنج میں گونج اٹھی:
“السلام علیکم!”
“وعلیکم السلام! ابو جان آپ کی چائے”۔
“شکریہ بچے” انہوں نے شفیق مسکراہٹ سے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اتنی دیر میں بڑی امی بھی کمرے سے باہر آ گئیں اور ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔ آہستہ آہستہ صبح کی چہل پہل کا آغاز  ہو گیا۔ کچن سے خوشبوئیں اٹھیں اور بھوک کو اور بڑھا گئیں۔ “مشکوٰۃ بچے! آپ کھانا ٹیبل پر لگاؤ، یہ میں دیکھ لوں گی” بڑی امی نے ساتھ کام کرتی مشکوٰۃ سے کہا۔
“جی امی جان”۔
سید قیوم شاہ اور سیدہ طاہرہ شاہ کے دو بیٹے تھے۔ سید ابراہیم قیوم شاہ جن کی شادی ثمینہ شاہ سے ہوئی تھی اور ان کی ایک ہی اولاد تھی سید اشعث ابراہیم شاہ۔ ابراہیم صاحب سے چھوٹے تھے سید ہارون قیوم شاہ جن کی شادی زلیخہ سے ہوئی تھی اور کچھ سالوں پہلے ایک کار حادثے میں ان کا انتقال ہو گیا تھا، تو ان کی بیٹی سیدہ مشکوٰۃ فاطمہ شاہ کو ابراہیم صاحب نے اپنی سرپرستی میں لے لیا اور اس کا نکاح اشعث سے کروا دیا تھا۔
“بیگم! آپ کے لاڈ صاحب آج پھر غائب ہیں” ناشتے کی میز پر ابراہیم صاحب نے اپنی زوجہ کو دیکھ کر کہا۔
“جی وہ ابھی اٹھ جاتا ہے، جاؤ بچے چھوٹے شاہ کو اٹھا لو” بڑی بیگم نے پہلی بات ابراہیم صاحب سے جبکہ دوسری مشکوٰۃ سے کہی۔
مشکوٰۃ نے بڑی امی کی بات پر چھوٹے شاہ کے کمرے کا رخ کیا اور دروازے پر دستک دی۔ دو تین بار دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی سامنے والے پر کوئی اثر نہ ہوا تو اس نے ناچار دروازہ کھولا اور کمرے میں داخل ہو گئی۔ داخل ہوتے ہی اس کا استقبال سگریٹ کی بدبو نے کیا جس سے اس کے چہرے پر ناگواری پھیلی۔ اب کمرے کا منظر کچھ یوں تھا کہ ٹیبل پر سگریٹ کے ٹکڑوں کا ڈھیر پڑا تھا اور وہیں لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا، پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور روشنی کا واحد ذریعہ کمرے میں جلتی ایل۔سی۔ڈی تھی اور ایک وجود سر تا پیر کمبل اوڑھے بستر پر بے سود لیٹا خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا۔
“شاہ جی!”
میٹھی مدھر آواز میں نیندوں میں ڈوبے اس شخص کو اٹھانے کی ادنیٰ سی کوشش۔ اور ایسا کہاں ممکن ہے کہ مشکوٰۃ فاطمہ کی آواز کو سید اشعث شاہ نظر انداز کر دے! وہ اس کی بے چین روح کا قرار تھی، وہ اس کے لیے ایسے تھی جیسے نابینا کے لیے بینائی، گناہ گار کے لیے بخشش کا پروانہ اور قیدی کے لیے آزادی۔
“ہمممم!!!” نیند میں ڈوبا گھمبیر لہجہ۔
“شاہ جی اٹھ جائیں، ناشتہ لگ گیا ہے، بڑی امی جان اور بابا جان آپ کا انتظار کر رہے ہیں”۔
اشعث نے ایک نظر اس سفید دودھیائی رنگت اور سنہری آنکھوں والی مجسمہِ حسن پر ڈالی جو سفید لباس میں سفید حجاب سر پر اوڑھے اس قدر پاکیزہ لگ رہی تھی کہ حوروں کو مات دے جائے۔ وہ اس کے لیے مقدس تھی، وہ اس کے لیے قابلِ احترام تھی۔
“اچھا آپ چلیں، میں فریش ہو کر آتا ہوں”۔ اس نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
“جی ٹھیک ہے”۔
اور اس مجسمہِ پاکیزگی کے کمرے سے جانے کے بعد وہ گہری سیاہ آنکھیں اوپر اٹھی تھیں جو محبت، چاہت، شدت اور جنون سے لبریز تھیں مگر ان سب پر احترام غالب آ رہا تھا۔ “سید اشعث ابراہیم شاہ” “سیدہ مشکوٰۃ فاطمہ شاہ” کا کسی مقدس صحیفے کی طرح احترام کرتا ہے، جس کے سامنے آتے ہی اس اکھڑ بدمزاج شخص کی نظریں جھک جاتی تھیں، اس غصیل شخص کی آواز سیدہ صاحبہ کے سامنے بلند نہیں ہوتی تھی۔

۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہلِ لاہور کو پیچھے چھوڑ کر اب اس شہر کا رخ کرتے ہیں جو محبتوں کا امین ہے، جس نے محبت کی اس داستان کو خود میں سمو رکھا ہے، جس نے عشق کے معنوں کو جلا بخشی، جو دو وجود ایک قبر کے لیے مشہور ہے: “شہرِ جھنگ”۔ ہیر اور رانجھے کا پریم نگر۔
یہ سفید پوش کالونی کا محلہ ہے؛ گلی نہ ہی زیادہ تنگ ہے اور نہ ہی بہت وسیع۔ محلے میں سبزی والے اور دوسرے پھیری والوں کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ارے وہی (لوہے لیلن تو پتیسہ)! چائے کے ہوٹل پر پڑے ریڈیو سے محمد رفیع صاحب کا گانا گونج رہا ہے:
“یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں…”

کہیں حجام کی دکان پر ماہر تجزیہ کار ملکی حالات پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، تو کہیں چھتوں پر کھڑی انٹیوں کی گفتگو کا مرکز ساتھ والوں کے گھر کی بیٹی ہے جو یونیورسٹی جاتی ہے مگر ان کی نظر میں لڑکوں کے ساتھ گپیں ہانکنے۔ بچوں نے گلی کو کرکٹ سٹیڈیم بنا رکھا ہے جس میں مستقبل کا نسیم شاہ بھی کھیل رہا ہے۔
ان سارے مناظر کے علاوہ ہماری توجہ کا مرکز گلی کے آخری کونے والا گھر ہے۔ باہر سے دیکھنے میں یہ بالکل ویسا ہی گھر ہے جیسا مڈل کلاس فیملی کا ہوتا ہے۔ وہی قومی لوہے کا بڑا گیٹ؛ داخل ہوتے ہی بائیں ہاتھ بیٹھک (یعنی ڈرائنگ روم) جس کا دروازہ باہر گلی کی طرف بھی کھلتا ہے۔ بیٹھک کی بائیں طرف سے زینے اوپر چھت کی طرف جا رہے ہیں۔ پھر شروع ہوتا ہے صحن کم ڈائننگ ہال کم اوپن کچن کم لاؤنج۔ سامنے ساتھ ساتھ دو کمرے بنے ہیں جن کو ایک دروازے کے ساتھ اٹیچ کیا گیا ہے۔ چھت پر صرف ایک ہی کمرہ ہے باقی پوری چھت پہ جگہ جگہ گملوں میں پھول اور دوسری بیلیں اگا رکھی ہیں۔
اوپر والے کمرے میں ایک سنگل بیڈ، ایک ڈریسنگ ٹیبل اور ایک لکڑی کی دو پٹ والی الماری، ایک چارپائی، ایک میز اور کرسی پڑی ہے جو یقیناً ایک رائٹنگ ٹیبل کے طور پر استعمال ہوتی ہوگی۔ ایک لڑکی کرسی پر بیٹھی کتاب پڑھتی نظر آ رہی ہے، کتاب کا عنوان ہے “یوسف بن تاشفین”، نسیم حجازی کا تاریخی ناول؛ اندلس کے محسن کے نام۔
دھپ! دھپ! دھپ! کوئی آندھی بنا سیڑھیاں چڑھا، طوفان کی طرح دروازہ کھولا اور بجلی کی طرح گرجا: “نووررررر!!!”
پوز۔۔۔۔۔۔⏸️
کہانی روک کر اب نووارد کے تعارف کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ کھلے منہ، بکھرے بالوں اور مختلف مختلف شلوار اور قمیض زیبِ تن کیے پیش ہیں “عنایہ حیدر”۔ جو اس کونے والے گھر کے سامنے والے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ حیدر علی اور تہمینہ بیگم کی اکلوتی اولاد جو حیدر علی کی وفات کے تین ماہ بعد پیدا ہوئیں۔ عنایہ کے شوق ہیں: کھانا، سونا، بولنا اور ناول پڑھنا ہر طرح کے اور ۔۔۔ اس ‘اور’ کو بعد پہ رکھتے ہیں۔
پلے ۔۔۔۔۔۔▶️
“نووووورررررر!!!! تمہیں پتہ ہے میرٹ لسٹ لگ گئی ہے؟”
اس کی بات پر “نورِ قلب” نے بس ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ کتاب پر نظریں مرکوز کر لیں۔ “پتہ ہے،” اس نے جھکی نظروں سے ہی جواب دیا۔
“اور یہ بھی۔۔۔۔۔”
“ہاں پتہ ہے کہ ہمارا نام لسٹ میں موجود ہے،” نور نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ کر جواب دیا۔
“اتنا ٹھنڈا ری ایکشن! خیر مبارکاں بھئی مبارکاں! Now we are going to PU Lahore (اب ہم پنجاب یونیورسٹی لاہور روانہ ہو جائیں گے)۔ یار کتنا مزہ آئے گا نا! اماں کے تانے نہ محلے کی انٹیوں کی بک بک۔ آزادی ہی آزادی، عیش ہی عیش۔”
“عنایہ! ہم پڑھنے جا رہے ہیں،” نور نے یاد دلانا لازمی سمجھا۔
“لےےے!! تو ہم کون سا سارا دن پڑھتے ہی رہیں گے۔ ویسے بھی ناولز کے علاوہ باقی کتابیں پڑھنے میں میری جان جاتی ہے”۔
“ناولز نہیں، جیپ اور بیہودہ گندگی،” نورِ قلب نے تصحیح کی۔
“او ہیلو!!! میرے ناولز کے بارے میں ایک لفظ نہیں۔ میں نے کبھی تمہاری ان سڑی ہوئی تاریخی اور صدیوں پرانی شاعری کی کتابوں کو کچھ کہا ہے؟” عنایہ نے ریک میں سجی کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے نور کوئی جواب دیتی، دروازے پر ہوتی دستک نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی اور “افق اشفاق” اندر داخل ہوا جسے دیکھ کر عنایہ کی آنکھوں میں چمک اور گالوں پر لالی اتری۔ ہاں مگر مسکراہٹ اس نے روک لی (ہائے بھئی اگر اس نے دیکھ لی تو!)۔
“السلام علیکم! بھائی،” نور نے سلام میں پہل کی جس کے فوراً بعد عنایہ میڈم نے بھی سلامتی بھیجی: “السلام علیکم! سکائی۔”
“وعلیکم السلام!” افق نے مشترکہ جواب دیا۔ “نور! امی بلا رہی ہیں کھانا کھا لو آ کر،” افق نے نور سے کہا۔
“ویسے میرا آج روزہ نہیں ہے،” عنایہ کی زبان ہو اور رک جائے! لیکن افق نے اس کو ایسے اگنور کیا جیسے عنایہ میڈم پڑھائی کو کرتی ہیں اور کمرے سے چلا گیا ہے۔
“ہائے ظالم!!! غرور جچتا ہے آخر عنایہ کی پسند ہے،” عنایہ نے دل پر ہاتھ رکھ کر خاصہ لوفرانہ انداز میں کہا۔
“عنایہ! کبھی کبھی شرم نہ بھی آئے تو کر لینی چاہیے،” نور نے ایک تاسف بھری نظر اس پر ڈالتے ہوئے کہا۔
“جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم!،” عنایہ اور شرم کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔
“یار! بتا نہیں سکتی تھی افق آئے ہوئے ہیں، میں کوئی ڈھنگ کے حلیے میں آ جاتی،” عنایہ نے اپنے حلیے پر نظر ڈالتے ہوئے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
“بھائی نے تمہیں تب بھی دیکھ رکھا ہے جب تم گلی کے بچوں سے مار کھا کر مٹی سے لت پت حالت میں روتی ہوئی، بہتی ہوئی ناک کے ساتھ پھرتی تھی۔ پھر اب تو تم کچھ بہتر حلیے میں ہو،” نور نے بڑے ہی لاپرواہی سے کہا۔
“چھی چھی! وہ تو بچپن تھا نا، اب تو میں ایک حسین لڑکی وہ اک جوان لڑکا،” عنایہ نے دوپٹہ منہ میں ڈال کر شرماتے ہوئے کہا۔
“چلو نیچے امی انتظار کر رہی ہیں اس سے پہلے تمہارے سر پر رکھی انڈوں کی ٹوکری ٹوٹے،” نور اسے کہتی ہوئی آگے بڑھی۔
“ہیں؟ کون سی ٹوکری؟؟” عنایہ نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا۔
“وہی جو شیخ چلی کے سر پہ تھی،” نور نے باہر سے ہانک لگائی۔
“دفع دور!!!!” بات سمجھ آنے پر عنایہ نے دونوں ہاتھوں سے نور کو لعنت بھیجی اور اس کے پیچھے بڑھی۔
وہ دونوں نیچے آئیں تو نادیہ بیگم اور مریم بیگم کھانا لگا رہی تھیں۔

اشفاق علی سیال ایک سرکاری ملازم تھے وہ تین بھائیوں کے بعد چھوٹے اور دو بہنوں سے بڑے تھے۔ ان کا انتقال تین سال پہلے ہوا تھا۔ ان کی شادی پہلے نادیہ بیگم سے کی گئی لیکن اولاد نہ ہونے کے باعث دوسری شادی مریم بیگم سے ہوئی جن سے افق پیدا ہوا اور افق سے چھ سال بعد نادیہ بیگم کے ہاں نورِ قلب کی پیدائش ہوئی۔ لیکن دونوں بچوں میں نہ نادیہ بیگم نے فرق کیا تھا اور نہ ہی مریم بیگم نے۔ ان دونوں میں خود بھی سوتنوں والا حسد نہیں تھا۔
“ارے عنایہ بیٹا! آپ بھی آئی ہو؟ آؤ میں نے آپ کی پسند کا شملہ گوشت بنایا ہے،” مریم بیگم نے عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور شملہ مرچ کا نام سنتے ہی عنایہ کے منہ میں پانی آگیا۔
“ہائے!! سچی آنٹی تسی گریٹ ہو،” عنایہ نے مکھن لگانا لازمی سمجھا۔
“نور! کلاسز کب سے سٹارٹ ہیں؟؟” افق نے کھانے کے دوران پوچھا۔
“بھائی! ایک ماہ بعد۔”
“صحیح، میں تمہارے ایڈمشن اور ہاسٹل کا انتظام کروا دوں گا باقی اگر تم خود چیک کرنا چاہو تو ایک بار آ کے دیکھ لینا۔”
“نہیں بھائی، پھر آپ ہی دیکھ لیجیے گا۔”
“افق بچے! آپ عنایہ کا بھی دیکھ لیجیے گا،” نادیہ بیگم نے کہا۔
عنایہ اور نور دونوں اچھے گریڈز کی وجہ سے سکالرشپ پہ پڑھ رہی تھیں۔
“جی مما پتہ ہے (دم کے ساتھ دم چھلا تو جاتا ہے)” یہ آخری مصرع اس نے منہ میں ہی کہا تھا جبکہ عنایہ تو لاہور جانے کا سوچ سوچ کر ہی خوش ہو رہی تھی۔
“اچھا آنٹی! میں چلتی ہوں امی انتظار کر رہی ہوں گی اور ٹیوشن والے بچے بھی آتے ہی ہوں گے،” عنایہ کہتے ہوئے اٹھی۔
“رکو بیٹا! یہ امی کے لیے بھی لیتی جاؤ سالن،” مریم بیگم نے کہا۔
“جی آنٹی،” عنایہ نے سالن کی کٹوری لی اور گھر کے لیے روانہ ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ولا کے افراد اس وقت ڈائننگ ٹیبل کے گرد دوپہر کے کھانے کے لیے جمع تھے۔ سربراہی کرسی پر “سلطان حاتم شاہ” براجمان تھے، ان کے دائیں طرف بڑی بیگم براجمان تھیں اور بائیں طرف “کبیر حاتم شاہ” بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ ہی “ضرار ہارون شاہ” موجود تھا جس کی گود میں دو سال کا “ریان” بیٹھا تھا۔ جبکہ صائمہ بیگم اور مفراہ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھیں اور یوشع کا سلطان شاہ کے سامنے آنا منع تھا اور خاندان کے ساتھ اکٹھے بیٹھنا تو اس کے لیے ویسے ہی جرم تھا۔
حاتم شاہ اور زقیہ بیگم کے تین بچے تھے: سب سے بڑے سلطان شاہ جن کی شادی صائمہ بیگم سے ہوئی تھی اور شادی کے کئی سالوں بعد اللہ نے انہیں آئرہ سلطان شاہ سے نوازا تھا۔ اس کے بعد تھے کبیر حاتم شاہ اور ان کا ایک ہی بیٹا تھا یوشع کبیر شاہ۔ پھر ان کی اکلوتی بیٹی زلیخہ حاتم شاہ جنہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے کئی سال بیت چکے تھے اور ان کا بیٹا ضرار، شاہ ولا میں رہتا تھا۔ ضرار کی شادی مفراہ علی سے ہوئی تھی اور دونوں کا ایک دو سال کا بیٹا ریان تھا۔
“آئرہ کہاں ہے؟؟” سلطان شاہ نے صائمہ بیگم سے پوچھا۔
“جی وہ سو رہی ہے، رات کو شاید دیر سے آئی تھی،” صائمہ بیگم نے بتایا۔
“سلطان! جوان بچی کو اتنی آزادی دینا ٹھیک نہیں ہے،” بڑی بیگم نے سلطان شاہ سے کہا۔
“اماں! وہ میری بیٹی ہے، اس کو کتنی آزادی دینی ہے کتنی نہیں دینی یہ میں طے کروں گا۔ کسی اور کو اس معاملے میں بولنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے،” سلطان شاہ نے اپنی رعب دار آواز میں کہا۔
کتنا دوہرا معیار تھا ان کا! اپنی بیٹی کو پلکوں پر بٹھا کر رکھتے تھے مگر یہ تک خیال نہیں کہ وہ جو بھوک کے باوجود اتنے ملازمین کے ہوتے ہوئے ان کے لیے کھانا پروسنے کھڑی ہیں جنہیں ان سے پہلے کھانے کی اجازت تک نہیں چاہے بھوک کی شدت کتنی ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی کسی کی بیٹیاں ہیں۔
“ضرار! میٹنگ کیسی رہی؟” سلطان شاہ نے فارن کمپنی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے بارے میں پوچھا۔
“ماموں جان اچھی۔۔۔۔۔۔”
“بابا!! لایان تاول” (بابا ریان چاول) ضرار کے جملے مکمل کرنے سے پہلے ہی ریان نے ٹوک دیا۔
“مفراہ!!!!!” سلطان شاہ گرجے۔
“جی جی ماموں۔۔۔”
“بچوں کو کھانا کھلانا مردوں کا کام نہیں ہوتا۔ اٹھاؤ اسے اور لے کر جاؤ،” سلطان شاہ کی گرج گونجی جبکہ ان کے چیخنے پر ریان زور زور سے رونے لگا تھا۔ مفراہ نے آگے بڑھ کر ریان کو تھاما اور ایک زخمی نظر ضرار پر ڈال کر کچن میں ریان کو کھانا کھلانے لے گئی۔
کھانے کے بعد جب ضرار کمرے میں آیا تو ریان فرش پر کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا تھا جبکہ شاید مفراہ واش روم میں تھی۔
“O my baby is playing,” ضرار نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا۔
“بابا دادو اندری” (بابا دادو اینگری) ریان نے باپ کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھتے، آنکھیں بڑی کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں میرا بیٹا ایسا نہیں ہے،” ضرار نے اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے اسے بہلایا۔
“نو وہ لیان کو پیال نہیں ترتے” (نو وہ ریان کو پیار نہیں کرتے) ریان نے منہ پھیلایا۔
“نہیں میری جان! دادو بہت پیار کرتے ہیں میرے بیٹے سے،” ضرار نے اسے سمجھایا۔
“نئی دادو نہیں دادا جان لیان سے پیار ترتے ہیں” (نہیں دادو نہیں دادا جان ریان سے پیار کرتے ہیں) ریان نے آنکھیں گھما کر بڑے بوڑھوں کی طرح سمجھایا لیکن ضرار کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا۔
“یس مائی بی بی! کیونکہ آپ ان کا خون ہو،” مفراہ نے ریان کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
“مما وٹ از خون؟” ریان نے پوچھا۔
“ریان بابا! آپ کے لیے چاکلیٹ لائے ہیں،” ضرار نے ریان کو کہا تو اس کا دھیان بات سے ہٹ کر چاکلیٹ کی طرف لگ گیا۔
“بچے کو تو بہلا لیں گے لیکن اس سے حقیقت بدل نہیں جائے گی،” مفراہ نے ضرار کو کہا مگر وہ بات نظر انداز کرتے ہوئے صوفے پر ریان کے ساتھ کھیلنے لگا۔ تو مفراہ ایک تاسف بھری نظر اس پر ڈال کر باہر چلی گئی کیونکہ شاہ ولا میں دن کے وقت بہو کو زیادہ دیر کمرے میں رکنے کی اجازت نہیں تھی۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *