Bashar Episode 8 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۸ 

پارک میں پہنچتے ہی سب کے موڈ کافی اچھے ہوگئے تھے۔
کچھ دیر سب پارک میں اِدھر اُدھر گھومتے رہے… کوئی تصویریں لے رہا تھا… کوئی درختوں کے پاس کھڑا باتیں کر رہا تھا…
پھر نہ جانے کس نے اچانک فٹ بال نکال لی… اور اگلے ہی لمحے سب میدان کے بیچوں بیچ کھڑے تھے۔
اوئے پاس دے…!
ادھر… ادھر…!
چیٹنگ نہ کر…!
پارک میں اُن کی آوازیں گونجنے لگیں۔
سوہان ہنستے ہوئے ایک طرف کھڑا تھا جبکہ سومین بینچ کے پاس کھڑے ہو کر سب کو دیکھ رہا تھا۔
ہیوک کبھی کھیلتا… کبھی ہنس کر ایک طرف ہٹ جاتا۔
اور دوسری طرف…
بال مجھے دو… تم لوگوں سے کچھ نہیں ہوتا…
جے کیونگ اکڑ کر بولا۔
ہاں ہاں جیسے میسی تمہارے چچا ہیں…
تائیجون نے طنزیہ انداز میں کہا تو سب ہنس پڑے۔
جلتے ہو مجھ سے…
جے کیونگ نے بال پاؤں میں گھماتے ہوئے کہا… پھر اگلے ہی لمحے پوری طاقت سے کِک مار دی۔
بال ہوا میں بہت دور جا گری۔
چند سیکنڈ کے لیے سب خاموش ہوگئے۔
پھر تائیجون نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے۔
اب جا لے کر آ… یہ تیرا اسٹیڈیم نہیں ہے جو اتنی زور کی شاٹ مار رہا ہے…
جے کیونگ فوراً بولا۔ میں نہیں جا رہا۔
سوہان نے بےرحمی سے کہا۔
جس نے کِک ماری ہے وہی جائے گا۔ ہم اتنی دور نہیں جا رہے۔
جے کیونگ نے منہ بنایا… پھر پاس کھڑے گارڈ کی طرف اشارہ کیا۔
اِن سے کہو نا… اوئے… جا بال لے کر آ…
رین یون نے فوراً اُسے گھورا۔
یہ اِن کا کام نہیں ہے۔
پِھر سیونگ بولا۔۔ بدتمیزی کی بھی حد ہوتی ہے… میں لے آتا ہوں…
وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ سومین نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
امی جی… اتنا پریشان نہیں ہوتے… بچے کو کبھی خود بھی کچھ کرنے دیا کریں…
سیونگ نے فوراً گھور کر دیکھا۔
ایک لگاؤں گا ابھی…
سب زور سے ہنس پڑے۔
جے کیونگ نے چڑ کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
دفع ہو بدتمیز سب… میں ہی جا رہا ہوں…
وہ بڑبڑاتا ہوا بال لینے چل پڑا۔
چند قدم بعد بھی اُس کی آوازیں آرہی تھیں۔
پاگل لوگ… اتنی دور کیوں ماری میں نے…؟
سوہان نے فوراً آواز لگائی۔
کیونکہ عقل نہیں ہے تم میں۔۔۔
چپ رہ۔۔۔
جے کیونگ نے پیچھے مڑے بغیر ہاتھ ہلا کر کہا۔
سب دوبارہ ہنسنے لگے۔
چلتے چلتے جب وہ اُس جگہ پہنچا جہاں بال گری تھی…
تو اُس کے قدم اچانک آہستہ پڑ گئے۔
بال کے قریب ہی ایک لڑکی بیٹھی تھی۔
وہ ایک بڑی سی چادر پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی…
نیلے رنگ کا فراک تھا یا عبایا وہ اُسے سمجھا نہیں آیا۔۔ اُس کا چہرا بھی نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔۔ ہاتھ میں موٹی سی کتاب پکڑی ہوئی تھی… اور وہ اُسے پڑھنے میں اِتنی مگن تھی… کہ شاید اُسے احساس تک نہیں ہوا تھا کہ بال اُس کے قدموں کے پاس آ کر رکی ہے۔۔۔

جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا…
پھر آواز دی۔
Excuse me… hi?
کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔
وہ اب بھی کتاب میں گم تھی۔
آپ کیا پڑھ رہی ہیں…؟ اُس نے انگریزی میں، بال مانگنے کی جگہ یہ پوچھا۔۔ کیوں کہ اُسے بال سے زیادہ ہے جاننے می انٹریسٹ تھا کہ وہ کونسی کتاب پڑھ رہی ہے۔۔۔ نام بھی اُس کا اردو میں لکھا تھا، انگلش میں لکھا ہوتا تو شاید وہ پڑھ پاتا۔۔۔ شاید وہ پہلی لڑکی تھی، جس سے جے کیونگ کا دل کو رہا تھا بات کرنے کا۔۔۔
پھر بھی خاموشی۔
جے کیونگ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
ارے اتنا بھی کیا اٹیٹیوڈ… بندہ سوال کا جواب ہی دے دیتا ہے…
اب بھی اُس لڑکی نے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
جے کیونگ کو ایک دم غصّہ آیا۔۔۔ اُس نے جھنجھلا کر خود ہی آگے بڑھا اور بال اٹھانے لگا…
تبھی اچانک لڑکی نے غصے سے اُسے گھورا…
اور ہاتھ میں پکڑی کتاب سیدھی اُس کے ہاتھ پر مار دی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟

لڑکی نے ابھی غور سے اُس لڑکے کو دیکھا، وہ لڑکا قدرے لمبا قد رکھتا تھا۔ اُس نے سیاہ رنگ کی کیپ نیچی کر رکھی تھی جس کی وجہ سے اُس کے بال مکمل طور پر نظر نہیں آ رہے تھے۔ چہرے پر سیاہ ماسک تھا، جس نے اُس کی شناخت کو تقریباً چھپا دیا تھا۔ اُس نے گرے رنگ کی ہُڈی کے اوپر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی اور ساتھ گہرے رنگ کی جینز اور اسنیکرز تھے۔ مگر اُس کی سب سے نمایاں چیز اُس کی آنکھیں تھیں۔ماسک اور کیپ کے باوجود اُس کی ہلکی سرمئی آنکھیں فوراً توجہ کھینچ لیتی تھیں۔ شام کی روشنی اُن میں پڑتی تو وہ کبھی دھندلے بادلوں جیسی لگتیں اور کبھی چاندنی میں چمکتے شیشے کی طرح۔ اُن آنکھوں میں ابھی بیزاری سی بیزاری تھی۔۔۔

جے کیونگ چونک گیا۔ بدتمیزی؟؟
ہاں بدتمیزی۔۔۔
میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی… ہاں آپ کر رہی ہیں… جے کیونگ نے غصے سے کہا 
اوہ ہیلو مسٹر… پیچھے مُڑو اور چلتے بنو…

Excuse me??

Excuse rejected. Now turn around and disappear.

جے کیونگ نے بےاختیار دانت بھینچے۔
مجھ سے زیادہ بدتمیزی نہ کریں… مجھے میری بال دیں… پھر جو مرضی کریں…
پہلے تمیز سے بات کرنا سیکھیں… لڑکی نے ٹھنڈے لہجے میں بال اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔
جے کیونگ نے گہری سانس لی۔ جبڑا سختی سے بھینچ گیا۔
دیکھیں… میرا already mood خراب ہے… اس لیے میری بال دیں اور مجھے مزید irritate مت کریں…
لڑکی نے فوراً جواب دیا۔
آپ کی بال؟؟ یہ میری بال ہے…
جے کیونگ نے اُس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب کی طرف دیکھا… پھر اُسے گھورا۔
کتاب پڑھنا اچھی بات ہے… لیکن اتنا بھی نہیں کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے اُس کا ہوش ہی نہ رہے… یہ میری بال ہے… میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا… ایک کِک کی وجہ سے یہ یہاں آگئی… اگر آپ کو ہوش ہوتا تو پتا ہوتا…
میں کیسے مان لوں؟ وہ فوراً بولی۔
دیکھیں مجھے غصہ مت دلائیں… جے کیونگ نے اب واضح جھنجھلاہٹ سے کہا۔ میں نے کہا نا یہ میری بال ہے… مجھے دیں… کُچھ دیر پہلے وہ اس لڑکی کو دیکھتے ہی attracted ہوا، اب جب اس سے بات کر رہا تھا تو اُسے مزید غصّہ آرہا تھا۔۔۔
اُس نے فوراً پیچھے اشارہ کیا…
جہاں اُس کے دوست اب بھی اُن دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہاں اُن کے ساتھ کھیل رہا تھا میں… وہیں سے بال یہاں آئی ہے…
تبھی دور سے تائیجون کی آواز آئی۔
اوئے! لے کر بھی آ اب بال۔۔۔
لڑکی نے ایک لمحے کے لیے اُن سب کی طرف دیکھا…
پھر دوبارہ جے کیونگ کو گھورا۔
فرینڈز ہونے سے پروف نہیں مل جاتا…
جے کیونگ کا صبر اب تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ لڑکی نے اچانک بال اٹھا کر اُس کی طرف بڑھا دی۔
مجھے آپ سے مزید argue نہیں کرنا… آپ کا ہو یا نہ ہو… لے جائیں…
جے کیونگ نے اُسے عجیب نظروں سے دیکھا۔
عجیب لڑکی ہیں آپ…
اور آپ بدتمیز…
دوبارہ بدتمیز
وہ پریشان ہو کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔ آپ کو اور کوئی word نہیں آتا؟
آپ کو تمیز نہیں آتی…
چند لمحوں تک دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
ہوا سے اُس لڑکی کی کتاب کے صفحات ہلکے ہلکے ہل رہے تھے…
پھر جے کیونگ نے اچانک اُس کے ہاتھ سے بال زور سے کھینچی۔
تھینک. کہے واپس مُڑ گیا…
لیکن جاتے ہوئے بھی…
اُسے عجیب طرح سے محسوس ہو رہا تھا…
وہ لڑکی واقعی عجیب تھی… بہت عجیب ۔۔۔۔
جیسے ہی جے کیونگ واپس پلٹا… اُس کے قدموں میں عجیب سی جھنجھلاہٹ تھی…
اور چہرے پر صاف لکھا تھا کہ اُس کا موڈ بری طرح خراب ہو چکا ہے…
دور کھڑے باقی سب اُسے ہی دیکھ رہے تھے…
تائیجون نے جیسے ہی اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھے…  بال لینے گیا تھا یا لڑکی سے بکواس کرنے گیا تھا۔۔۔
سوہان نے فوراً دلچسپی سے پوچھا۔
کیا ہوا؟؟ اتنی دیر کیوں لگا دی؟
جے کیونگ نے قریب آتے ہی بال زور سے سوہان کی طرف اچھالی۔ ابے وہ بدتمیز لڑکی تھی… ہنہ… بال ہی نہیں دے رہی تھی…
ہان وو نے حیرت سے پوچھا، کیوں؟
کہتی ہے میری بال ہے… جے کیونگ نے منہ بنایا۔
سومین ہلکا سا ہنسا۔ لو… اُس نے دیکھا نہیں تھا کیا؟
نہیں… جے کیونگ جھنجھلا کر بولا۔ میڈم پوری کتاب کے اندر ڈوبی ہوئی تھی… آس پاس کیا ہو رہا ہے… کوئی ہوش ہی نہیں…
سیونگ نے سر ہلاتے ہوئے بات ختم کی۔
چلو چھوڑو بھی… بال مل گئی نا؟ اب کھیلنا شروع کرو…
ہاں بس…
رین یون نے بال اٹھاتے ہوئے کہا۔
ورنہ آج پورا دن جے کیونگ اُس لڑکی کے بدلے ہمیں ہی سنتے رہیں گے…
دفع ہو… جے کیونگ نے فوراً اُسے گھورا۔
سب دوبارہ ہنس پڑے…
چند ہی لمحوں بعد کھیل دوبارہ شروع ہوگیا…
پارک میں شور… قہقہے… اور فٹ بال کی آوازیں دوبارہ گونجنے لگیں…
لیکن کھیلتے کھیلتے بھی…
جے کیونگ کی نظریں کبھی کبھار بےاختیار اُس طرف اٹھ جاتی تھیں… وہ بہت دور تھی لیکن پھر بھی اُسے یہاں سے صاف نظر آرہی تھی۔۔۔
اور ہر بار… وہی منظر نظر آتا…
وہ لڑکی اب بھی خاموشی سے چادر پر بیٹھی تھی…
ہوا اُس کے نقاب کے کنارے کو ہلکا سا ہلا رہی تھی…
اور اُس کی ساری توجہ اب بھی کتاب پر تھی…
جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کسی سے بحث ہوئی ہی نہ ہو…
جے کیونگ نے بےاختیار بھنویں سکیڑیں۔
عجیب لڑکی ہے…
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا…
آخر اُسے بار بار اُس طرف دیکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی تھی…؟
پھر جانے کیوں… اُس کے ذہن میں دوبارہ وہی منظر آگیا…
فرینڈز ہونے سے پروف نہیں مل جاتا۔۔۔
جے کیونگ نے بےاختیار زبان سے ٹاسک کی آواز نکالی… جیسے خود ہی خود کو اریتیڈ کر رہا ہو۔
اب کیا ہوا؟ تائیجون نے فوراً پوچھا۔
کچھ نہیں… وہ جھٹ سے بولا اور دوبارہ فٹ بال کھیلنے لگا…
کچھ دیر بعد مینیجر تیز قدموں سے اُن کی طرف آیا۔
سر… گاڑی ٹھیک ہوگئی ہے…
سب کی توجہ فوراً اُس کی طرف ہوگئی۔
تائیجون نے فٹ بال اٹھائی جبکہ سوہان نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا،
فینالی… یہاں کی گرمی نے تو جان لے لی تھی…
رین یون ہلکا سا ہنسا۔
گرمی نہیں… تم لوگ خود تھک گئے ہو…
سب آہستہ آہستہ پارک کے باہر کی طرف بڑھنے لگے…
جے کیونگ بھی اُن کے ساتھ چل رہا تھا… مگر اُس کے قدم باقی سب سے ذرا سست تھے…
ایک لمحے کے لیے اُس نے بےاختیار پیچھے مڑ کر دیکھا…
وہی لڑکی اب بھی چادر پر بیٹھی تھی…
کتاب اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھی… اور وہ پوری دنیا سے بےنیاز خاموشی سے پڑھ رہی تھی…
جے کیونگ کی نظریں چند سیکنڈ اُس پر ٹکی رہیں۔
یار چل بھی…
تائیجون کی آواز پر وہ چونکا۔
ہاں آرہا ہوں…
وہ دوبارہ چلنے لگا… مگر چند قدم بعد اُس نے اچانک بھنویں سکیڑیں۔
اِس لڑکی کا مسئلہ کیا تھا…؟
سوہان نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
کون لڑکی…؟
وہی… عجیب سی… کتاب لے کر بیٹھی تھی…
تائیجون فوراً ہنس پڑا۔
اوہ ہو… ابھی تک اُسی کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
میں کیوں سوچوں گا اُس کے بارے میں؟
جے کیونگ نے فوراً خفگی سے کہا۔
تو پھر خود ہی اُس کا ذکر کیوں چھیڑا؟
سوہان نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
جے کیونگ نے فوراً نظریں چرا لیں۔
بس ایسے ہی… اتنا attitude تھا جیسے پارک اُس کے باپ کا ہو…
تائیجون قہقہہ مار کر ہنسا۔ اور تُو کون سا کم تھا؟ ہم تُجھے بھی اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔
اُس نے پہلے بدتمیزی کی تھی…
سوہان اور تائیجون ایک ساتھ بولے، ہمیں یقین نہیں ہے۔۔۔
دفع ہو…
دونوں ہنسنے لگے جبکہ جے کیونگ چِڑ کر آگے بڑھ گیا۔

+++++++++++++++

گھوم پھر کر جب وہ لوگ رات میں ہوٹل پہنچے…
تو سب کی حالت بری ہو چکی تھی…
پورا دن سفر… گھومنا… شور شرابا…
اب ہر کوئی صرف بستر پر گرنا چاہتا تھا…
سب ایک دوسرے کو جلدی جلدی good night کہتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے…
جے کیونگ بھی تھکا ہوا سیدھا بیڈ پر آ کر گرا…
مگر جیسے ہی اُس نے جیب میں ہاتھ ڈالا… اُس کی بھنویں فوراً سکڑ گئیں۔
میرا فون کہاں ہے…؟
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا… پھر بیڈ، تکیے اور کمبل کے آس پاس دیکھنے لگا۔
ہان وو… میرا فون دیکھا کیا تُو نے…؟
ہان وو جو پہلے ہی آدھا لیٹا ہوا تھا، بغیر اُس کی طرف دیکھے بولا، نہیں…
مل نہیں رہا…
ہان وو نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ سب سے جا کر پوچھ کے آ… کسی کے پاس رکھوایا ہوگا…
جے کیونگ نے جھنجھلا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
ہاں… دیکھتا ہوں…
وہ فوراً کمرے سے باہر نکل گیا۔
سب سے پہلے وہ رین یون کے کمرے میں گیا۔
دروازہ کھولتے ہی بولا،
میرا فون کہاں ہے…؟
رین یون نے سکون سے جواب دیا،
اوہ… وہ؟ میں نے مینیجر کو دے دیا تھا…
جے کیونگ فوراً رک گیا۔
مینیجر کو کیوں دیا…؟ وہ ہمارا سگا تھوڑی ہے…
رین یون کچھ کہتا اُس سے پہلے ہی جے کیونگ مڑ کر تیز قدموں سے مینیجر کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جیسے ہی اُس نے دروازہ نوک کیا…
تو دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا…
اندر مینیجر فون پر بات کرنے میں مصروف تھا…
جے کیونگ پہلے تو اندر جانے ہی والا تھا…
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے قدم رک گئے…
کیونکہ مینیجر کی آواز صاف اُس کے کانوں میں پڑی۔
جی سر… یہاں سب اوکے ہے… میں نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے… کچھ بھی گڑبڑ نہیں ہے… ابھی لاہور میں ہیں ہم… اِس کے بعد کراچی کا ٹرپ ہے…
جے کیونگ کی آنکھیں فوراً سکڑ گئیں۔
وہ خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا سننے لگا۔
جی… جی… میں ساری اپڈیٹ دیتا رہوں گا…
کال ختم ہوتے ہی جے کیونگ کے ذہن میں جیسے سب کچھ ایک ساتھ کنیکٹ ہوگیا…
اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
یہ… کسی کو ہماری انفارمیشن دے رہا ہے…
اگلے ہی لمحے وہ غصے میں سیدھا اندر گھسا اور مینیجر کا کالر پکڑ لیا۔
جھوٹ بولتے ہو ہم سے…؟!
مینیجر بری طرح گھبرا گیا۔
سر کیا ہوا ہے؟!
تم تو ٹرپ کے منیجر تھے نا؟!
جے کیونگ غصے سے اُس پر چلایا۔
تو پھر یہ کس کو انفارمیشن دے رہے تھے؟!
اُس کی گرفت کالر پر اور سخت ہوگئی۔
بول۔۔۔۔
مینیجر کے چہرے پر واضح خوف آ گیا۔
سر آپ غلط سمجھ رہے ہیں،
Then explain۔۔
جے کیونگ تقریباً چیخا۔
اور اگلے لمحے ہان وو، رین یون اور باقی سب تیزی سے اندر آئے…
اؤئے! جے-کے چھوڑ اُسے۔۔۔
ہان وو فوراً آگے بڑھا۔
مگر جے کیونگ کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا تھا…
یہ ہم پر نظر رکھ رہا ہے… کیوں؟! مینیجر کا تو ہم نے منع کر دیا تھا نا…
اُس کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔
مینیجر واضح طور پر بری طرح گھبرا چکا تھا۔
سر پلیز میری بات سنیں۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جے کیونگ غصے سے چلایا۔ مُجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے تم نے؟!
وہ غصے میں جیسے ہی ہاتھ اٹھانے لگا…
جے کیونگ۔۔۔
ہان وو فوراً آگے بڑھا اور اُس کا بازو پکڑ لیا۔
اسی وقت رین یون اور تائیجون نے بھی اُسے پیچھے کھینچا۔
چھوڑو مجھے۔۔۔ جے کیونگ بری طرح جھٹکنے لگا۔
جب ہم نے مینیجر کے لیے مانا کردیا تھا تو یہ پھر۔۔۔۔ہمارے ساتھ کیسے آیا۔۔۔۔اوپر سے جھوٹ بولا ۔۔۔
پاگل ہو گیا ہے کیا؟! رین یون نے سختی سے کہا۔
ہوٹل میں scene create مت کرو۔۔۔
اسے سے پوچھو ہم سے جھوٹ کیوں بولا اس نے۔۔۔۔۔ جے کیونگ پھر غصے سے مینیجر کی طرف بڑھنے لگا مگر اِس بار تینوں نے مل کر اُسے مضبوطی سے روک لیا۔
تائیجون نے بمشکل اُسے پیچھے کھینچا۔
یار پہلے سکون سے بات تو سن لے۔۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔
ہان وو نے جھنجھلا کر اُس کے کندھے کو زور سے پکڑا۔
بس کر اب۔۔۔
چند لمحوں تک کمرے میں صرف جے کیونگ کی بھاری سانسوں کی آواز گونجتی رہی…
مینیجر دیوار کے ساتھ کھڑا واضح طور پر خوفزدہ لگ رہا تھا۔
رین یون نے ایک گہری سانس لی پھر جے کیونگ کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے دروازے کی طرف لے جانے لگا۔
چل باہر…
میں نہیں جا رہا۔۔۔
تو کیا واقعی مارے گا اُسے؟!
ہان وو نے سخت لہجے میں کہا۔
جے کیونگ خاموش ہوگیا… مگر اُس کی آنکھوں میں غصہ اب بھی بھڑک رہا تھا۔
آخرکار تینوں اُسے زبردستی کمرے سے باہر لے آئے…
رین یون کے کمرے میں آتے ہی جے کیونگ نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا۔
Don’t touch me…
وہ غصے سے دیوار پر مکا مار کر کھڑا ہوگیا۔
مجھے پہلے ہی شک تھا…
سب چند لمحے خاموش رہے،
جے کیونگ غصے سے اِدھر اُدھر چل رہا تھا…
اُس کے چہرے پر واضح frustration تھی…
تم نے خود کہا تھا نا…
کوئی مینیجر ہمارے ساتھ نہیں جائے گا…
وہ غصے سے رین یون کی طرف مُڑا۔
اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ ٹرپ والوں کا مینیجر ہے…
تو پھر یہ کمپنی کے سی ای او کو ہماری انفارمیشن کیوں دے رہا تھا؟!
اگلے ہی لمحے اُس نے زور سے اپنا ہاتھ سامنے رکھی میز پر مارا۔
کیا کوئی قیدی ہوں میں…؟! اُس کی آواز بھاری ہوگئی تھی۔ یا کسی کا غلام ہوں میں…؟
یہ لوگ اتنی نظر کیوں رکھتے ہیں ہم پر؟!
سب خاموشی سے اُسے دیکھ رہے تھے…
کیونکہ وہ جانتے تھے… یہ غصہ صرف آج کا نہیں تھا…
یہ برسوں کی گھٹن تھی…
کیوں ہر چیز میں ہماری نہیں… اُن کی چوائس چلتی ہے؟! کپڑے کیا پہننے ہیں… کہاں جانا ہے… کیا کھانا ہے… کس انٹرویو میں کیا بولنا ہے…
اُس نے جھنجھلا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
يہاں تک کہ اپنی فیملی سے کب ملنا ہے یہ بھی وہ decide کرتے ہیں…
جے کیونگ کی آواز اب مزید کڑوی ہوتی جا رہی تھی۔
ریلیشن شپ میں کب جانا ہے… جانا بھی ہے یا نہیں…
اپنے دوستوں سے ملنا ہے یہ نہیں۔۔۔ انسٹاگرام پر کیا پوسٹ کرنا ہے کیا نہیں۔۔۔
اُس نے غصے سے دیوار کی طرف دیکھا۔
ہم کسی انجان بندے سے زیادہ بات نہیں کر سکتے…
اکیلے کہیں نہیں جا سکتے… کِسی سے مل نہیں سکتے کِسی سے کھول کر بات نہیں کرسکتے۔۔
تائیجون نے آہستہ سے کہا،
جے کیونگ…
مگر وہ رکا نہیں۔
فون تک چیک ہوتے ہیں ہمارے…
social media controlled…
۔live میں کیا بولنا ہے وہ scripted…
وزن بڑھ جائے تو punishment…
۔dating کرو تو apology…
وہ چند لمحے خاموش ہوا… پھر آہستہ مگر بھرائی ہوئی آواز میں بولا،
یہ کیسی زندگی ہے…؟
کسی کے پاس اُس سوال کا جواب نہیں تھا… کیوں کہ صرف جے کیونگ نہیں سب ہی اس کیفیت سے گزر رہے تھے۔۔۔
جے کیونگ نے غصے سے ایک اور لمبی سانس لی… پھر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
اور اب جب چند دن کی چھٹی ملتی ہے…
وہ تلخ لہجے میں بولا،
اُس میں بھی یہ لوگ گھس آتے ہیں… تنگ آ گیا ہوں میں اِن سب سے…
ہان وو خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا…
صبح سے رات تک schedule…
practice…
diet…
camera…
smile…
اور پھر لوگ کہتے ہیں idols کی life perfect ہوتی ہے…
لعنت ہی اسی زندگی پر۔۔۔ ایسے fame پر۔۔۔ جہاں انسان کا اپنا کُچھ نہیں رہے، سب دکھاؤ سب fake۔۔
رین یون نے دھیرے سے کہا،
ہر چیز کے ساتھ کچھ price بھی آتی ہے…
Price…?
جے کیونگ فوراً اُس کی طرف مُڑا۔
یہ price نہیں ہے… یہ suffocation ہے…
اُس کی آواز میں اب غصے سے زیادہ تھکن تھی۔
کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میری اپنی کوئی زندگی ہی نہیں… جیسے میں تو کچھ ہوں ہی نہیں۔۔۔ میری تو کوئی مرضی ہی نہیں ہے۔۔ جیسے میں کوئی روبوٹ ہوں۔۔ ایسے میرا دم گھستا ہے۔۔ سانس نہیں آتی مُجھے۔۔۔
رین یون نے آخرکار جھنجھلا کر کہا،
اتنا کیوں چیخ رہے ہو…؟ اِن سب rules کے باوجود بھی تو تم rules توڑ ہی دیتے ہو…
جے کیونگ نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
ہاں۔۔۔ کیونکہ مجھے اپنی زندگی میں کسی اور کا control پسند نہیں۔۔۔
اُس کی آواز اب بھی غصے سے بھری ہوئی تھی۔
اور اب جب اِن لوگوں نے جھوٹ بولا ہے… تو سزا بھی اِنہیں ہی ملے گی…
یہ کہتے ہوئے اُس نے فوراً اپنی جیب سے فون نکالا۔
ہان وو کی آنکھیں فوراً پھیل گئیں۔
کیا کر رہا ہے تُو؟
مگر جے کیونگ تیزی سے اسکرین کھول چکا تھا۔
ابھی social media پر سب ڈال دیتا ہوں…
پاگل ہو گیا ہے؟!
تائیجون فوراً اُس کی طرف لپکا۔
جے کیونگ پہلے ہی اپنی تصویر upload کرنے لگا تھا…
Let them handle the mess۔۔
جے-کے stop۔۔۔
اگلے ہی لمحے سب جلدی جلدی اُس سے فون چھیننے کی کوشش کرنے لگے۔
کمرے میں ایک عجیب افراتفری مچ گئی۔
فون نیچے رکھ۔۔
ڈیلیٹ کر۔۔
اُسی دھکم پیل میں فون جے کیونگ کے ہاتھ سے پھسل کر دوسری طرف جا گرا۔
رین یون فوراً فون اٹھایا۔
اسکرین کھلی ہوئی تھی…
اور post upload ہو چکی تھی…
اوہ نہیں…
رین یون گھبراہٹ میں جلدی جلدی options دبانے لگا۔
ڈیلیٹ… ڈیلیٹ کہاں ہے۔۔۔
مگر اگلے ہی سیکنڈ اُس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
سب فوراً اُس کی طرف دیکھنے لگے۔
کیا ہوا؟
ہان وو نے بےچینی سے پوچھا۔
رین یون نے آہستہ سے اسکرین اُن کی طرف کی۔
…میں نے غلطی سے پورا account delete کر دیا…
چند سیکنڈ کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔
WHAT?!
تائیجون تقریباً چیخا۔
جے کیونگ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
رین یون نے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔
میں panic میں تھا okay?!
تم پاگل ہو؟!
پاگل تو تم ہو۔۔۔
رین یون بھی آخرکار پھٹ پڑا۔
تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا؟!
وہ غصے سے جے کیونگ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
تمہاری اِنہی حرکتوں کی وجہ سے… میں نے ہی تُم سے بھی اور تُم سب سے بھی جھوٹ بولا تھا۔۔۔
یہ سنتے ہی سب اچانک خاموش ہوگئے۔
جے کیونگ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
…کیا؟
رین یون نے ایک گہری سانس لی…
پھر آہستہ سے بولا،
مینیجر نے کوئی جھوٹ نہیں بولا…
اُس کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ تھی۔
جھوٹ میں نے بولا تھا…
سب کی نظریں فوراً اُس پر جم گئیں۔
میں نے تم لوگوں سے کہا تھا نا…
کہ کمپنی مان گئی ہے اور کوئی مینیجر ساتھ نہیں آئے گا…
لیکن سچ یہ ہے… اُس نے دھیرے سے نظریں جھکا لیں۔
وہ کبھی مانے ہی نہیں تھے… میں نے تم سب سے جھوٹ بولا… رین یون نے آہستہ سے کہا۔ کہ یہ ٹرپ والے مینیجر ہیں… کمپنی کے نہیں… حالانکہ یہ مینیجر… اور سکیورٹی… سب کمپنی کی طرف سے ہی ہیں…
یہ سنتے ہی جیسے سب کے چہروں کے رنگ بدل گئے۔
سی ای او نے صاف کہا تھا… ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا…
ہان وو نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آخر پوچھ ہی لیا،
لیکن… ہم سے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔
رین یون نے تھکے ہوئے انداز میں اپنی گردن دیوار سے ٹکا دی۔
کیونکہ اگر میں تم سب سے جھوٹ نہ بولتا…
وہ آہستہ سے بولا،
تو کیا تم لوگ اتنی خوشی خوشی یہاں تک آتے…؟
کسی نے جواب نہیں دیا۔
رین یون کی نظریں سیدھی جے کیونگ پر گئیں۔
جےکیونگ نے تو پہلے ہی منع کر دیا تھا…
جے کیونگ خاموش بیٹھا رہا۔
اور تم سب…
رین یون دھیرے سے بولا،
ہر بار کی طرح یہ والی چھٹیاں بھی dorm یا گھر میں بیٹھ کر گزار دیتے…
اب سب خاموش بیٹھے ایک دوسرے کے چہرے دیکھ رہے تھے…
کچھ لمحے پہلے تک جے کیونگ غصے سے بھرا ہوا تھا…
مگر اب… وہ خاموش بیٹھا تھا۔
سر جھکا ہوا… اور نظریں کہیں زمین پر جمی ہوئی تھیں۔
چند لمحوں بعد تائیجون نے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
ویسے… وہ آہستہ سے بولا،
۔account delete ہونے پر کمپنی پہلے ہمیں مارے گی یا جے کیونگ کو…؟
چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد…
سوہان ہلکا سا ہنس دیا۔
سوہان نے فوراً اُس کے بازو پر مارا۔
یہ ہنسنے والی بات ہے؟
نہیں… مگر اب روئیں کیا؟
سومین نے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔
صبح ہونے دو… پھر پتا چلے گا کمپنی ہمیں زندہ چھوڑتی بھی ہے یا نہیں…
اس بات پر بھی کوئی سیدھی طرح نہیں ہنسا…
بس سب کے چہروں پر ہلکی سی بےبسی آ گئی…
اور جے کیونگ… وہ اب بھی خاموش بیٹھا تھا…
جیسے اُس کے اندر بہت شور ہو… مگر باہر نکلنے کی ہمت نہ بچی ہو…

++++++++++++++

سب رین یون کے روم میں ہی موجود تھے…
کمرے میں عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی…
کوئی صوفے پر بیٹھا تھا… کوئی نیچے قالین پر ٹیک لگائے خاموش تھا… اور کوئی تھکن سے بےحال بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا…
جے کیونگ دروازے کے پاس کھڑا تھا…
بازو سینے پر بندھے ہوئے… جبڑا سختی سے بھنچا ہوا…
اور نظریں کہیں خالی سی جمی ہوئی تھیں…
کچھ دیر تک صرف اے سی کی ہلکی آواز سنائی دیتی رہی…
پھر اچانک جے کیونگ نے خاموشی سے دروازہ کھولا۔
سومین فوراً چونکا۔
کہاں جا رہا ہے…؟
مگر جے کیونگ نے جواب نہیں دیا…
بس خاموشی سے باہر نکل گیا۔
اوئے۔۔۔ تائیجون فوراً اٹھا اور اُس کے پیچھے بھاگا۔
رین یون نے سنجیدگی سے اُسے روکا۔
کچھ کہنا نہیں اُسے…
تائیجون رکا اور اُس کی طرف دیکھا۔
رین یون نے دھیمی آواز میں کہا،
بس اُس کے پیچھے پیچھے رہنا… دھیان رکھنا اُس کا…
تائیجون نے خاموشی سے سر ہلایا… اور پھر جلدی سے روم سے باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
رین یون نے گہری سانس لی اور باقی سب کی طرف دیکھا۔
اور کسی کو جانے کی ضرورت نہیں ہے… سب اپنے اپنے روم میں جاؤ…اور سوجاؤ۔۔۔
ہیوک تھکے ہوئے انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر بولا،
اب لگتا ہے نیند آئے گی…
ہان وو بولا۔۔ یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے… ہم سب جانتے ہیں جے-کے کو تھوڑا سا سر پھرا ہے… صبح تک ٹھیک ہوجائے گا۔۔
سیونگ نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں… جب تک ہم ساتھ ہیں… محفوظ ہیں…
یہ سن کر سب کے چہروں پر ہلکی سی خاموش مسکراہٹ آگئی…
جیسے تھکن کے درمیان کسی نے تھوڑا سا سکون رکھ دیا ہو…
پھر آہستہ آہستہ سب اٹھنے لگے…
کوئی جمائی لیتا ہوا… کوئی فون اٹھاتا ہوا… کوئی خاموشی سے اپنے خیالات میں گم…
اور پھر ایک ایک کر کے سب اپنے اپنے کمروں کی طرف چلے گئے…

+++++++++++++++

ہوٹل کی لمبی راہداری اس وقت تقریباً سنسان تھی…
صرف ہلکی پیلی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔
جے کیونگ تیز قدموں سے چلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا…
چہرہ اب بھی سخت تھا… مگر آنکھوں میں وہی دبی ہوئی بےچینی موجود تھی…
تائیجون کچھ فاصلے سے اُس کے پیچھے چل رہا تھا…
بالکل ویسے ہی جیسے رین یون نے کہا تھا…
بغیر کچھ بولے… بس نظر رکھتے ہوئے…
چند لمحوں بعد جے کیونگ ہوٹل کے پچھلے حصے میں نکل آیا…
وہاں ہوٹل کے پچھلے حصے میں ایک کھلا سا آؤٹ ڈور ٹیرس تھا…
فرش پر گہرے رنگ کی ٹائلیں لگی ہوئی تھیں…
ایک طرف شیشے اور لوہے کی لمبی ریلنگ تھی… جس کے اُس پار پورا شہر روشنیوں میں ڈوبا نظر آ رہا تھا…
کونے میں چند گملے رکھے تھے… جن میں رات کی ہوا سے پودے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے…
کچھ فاصلے پر دو تین خالی کرسیاں اور ایک چھوٹی سی گول میز رکھی تھی…
اوپر مدھم زرد لائٹس جل رہی تھیں…
اور رات کی ٹھنڈی ہوا اُس خاموش جگہ کو مزید سنسان بنا رہی تھی…
جے کیونگ آ کر ریلنگ کے پاس کھڑا ہوگیا… دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے… سر ہلکا سا جھکائے…
کافی دیر تک وہ بس خاموش کھڑا رہا…
تائیجون بھی چند قدم دور رُک گیا…
کچھ دیر بعد اُس نے آہستہ سے کہا۔
ابھی بھی غصہ کم نہیں ہوا…؟
مجھے خود نہیں پتا… میں ہر وقت اتنا irritated کیوں رہتا ہوں…
تائیجون خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
کبھی کبھی… جے کیونگ دھیرے سے بولا،
دل کرتا ہے بس کہیں بھاگ جاؤں…
ہوا کا ایک جھونکا آیا…
اُس کے بال ہلکے سے بکھر گئے…
ایسی جگہ… جہاں کوئی مجھے جانتا نہ ہو…
کوئی camera نہ ہو… کوئی schedule نہ ہو…
کوئی یہ نہ بتائے کہ مجھے کیسے جینا ہے…
تائیجون نے آہستہ سے ریلنگ پر کہنی ٹکائی۔
پھر؟
جے کیونگ چند لمحے خاموش رہا…
پھر بہت آہستہ سے بولا،
پھر شاید… میں پہلی بار سکون سے سانس لے پاؤں…
یہ سنتے ہی تائیجون کے چہرے کی ہلکی مسکراہٹ آہستہ سے غائب ہوگئی…
کیونکہ وہ جانتا تھا… یہ بات مذاق نہیں تھی…
یہ واقعی جے کیونگ کے اندر کی تھکن تھی…
کافی دیر دونوں خاموش کھڑے رہے…
پھر اچانک تائیجون نے ماحول بدلنے کے لیے کہا،
ویسے ایک بات بولوں…؟
کیا…
وہ پارک والی لڑکی… واقعی pretty تھی…
جے کیونگ فوراً سیدھا ہو کر اُس کی طرف مُڑا۔
میں نے اُس کا چہرے تک نہیں دیکھا…
تائیجون نے ہنسی روکنے کی کوشش کی۔
لیکن تم اُسے بار بار دیکھ رہے تھے…
میں نہیں دیکھ رہا تھا…
اوہ اچھا… تو پھر فٹ بال کھیلتے ہوئے ہر دو منٹ بعد پیچھے کون مڑ رہا تھا؟ میں؟
جے کیونگ نے فوراً اُسے گھورا۔
چپ کر…
تائیجون اب ہنس پڑا۔
ویسے نام کیا تھا اُس کا…؟
یہ سنتے ہی جے کیونگ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا…
اور نہ جانے کیوں… اُس کے ذہن میں پھر وہی آواز گونجی…
“Excuse rejected. Now turn around and disappear.”
جے کیونگ نے بےاختیار ہلکی سی ٹسک کی آواز نکالی۔
عجیب لڑکی تھی…
تائیجون نے فوراً شرارتی انداز میں کہا،
ہاں… اور تُو پھر بھی اُس کے بارے میں سوچ رہا ہے…
میں نہیں سوچ رہا…
اچھا؟
جے کیونگ نے جھنجھلا کر نظریں دوسری طرف کرلیں۔
بس irritate کر رہی تھی…
ہاں ہاں… ظاہر ہے…
تائیجون اب باقاعدہ مزے لے رہا تھا۔
پہلی لڑکی ہوگی جس نے تمہیں importance نہیں دی…
جے کیونگ فوراً بولا،
مجھے کسی کی attention نہیں چاہیے…
لیکن تمہیں اُس کی چاہیے تھی…
نہیں چاہیے تھی…
تھی…
نہیں تھی…
تھی…
تائیجون قسم سے ایک لات ماروں گا…
اس بار دونوں واقعی ہنس پڑے…
اور شاید کئی گھنٹوں بعد…
یہ پہلی بار تھا جب جے کیونگ کے چہرے پر ہلکی سی سچی مسکراہٹ آئی تھی…
ہوا اب بھی خاموشی سے چل رہی تھی…
مگر اُس کے اندر کا شور… شاید تھوڑا سا کم ہوگیا تھا…

+++++++++++++

گاڑی کافی دیر سڑکوں پر چلتی رہی…
لاہور اب رات کی روشنیوں میں پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا…
ہر طرف جگمگاتی لائٹس تھی مصروف سڑکیں… اور لوگوں کا شور… ہر طرف پھیلا ہُوا تھا۔۔۔
کافی دیر گھومنے پھرنے کے بعد آخرکار گاڑی ایک بڑی سی روشن عمارت کے سامنے آ کر رکی…
Packages Mall…

سوہان نے باہر دیکھتے ہی فوراً جوش میں آکر کہا۔
آخرکار کوئی civilized جگہ آئی ہے…
ایسے بول رہا ہے جیسے ابھی تک جنگل میں گھوم رہے تھے… تائیجون نے فوراً ٹوکا۔
سب ہلکا سا ہنس دیے…
منیجر نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا، آپ لوگ آرام سے گھوم لیں… لیکن بہت زیادہ الگ الگ مت ہوئیے گا…
جے کیونگ نے فوراً طنزیہ انداز میں بڑبڑایا، ہاں کیونکہ ہم preschool کے بچے ہیں…
سیونگ نے فوراً اُسے کہنی ماری۔ شروع مت ہو…
سب گاڑی سے اتر کر مال کی طرف بڑھنے لگے…
سامنے شیشوں سے جگمگاتا ہوا بڑا سا مال تھا…
ہیوک نے گردن گھما کر اردگرد دیکھا۔ یہ جگہ تو واقعی اچھی ہے…
اور یہاں کھانا بھی اچھا ہوگا…۔سوہان نے فوراً اہم بات کی۔
تمہیں ہر جگہ صرف کھانا کیوں یاد آتا ہے؟ سومین ہنستے ہوئے بولا۔
کیونکہ یہی زندگی کا اصل مقصد ہے…
سب ہنستے باتیں کرتے اندر داخل ہوگئے…
مال کے اندر کافی رش تھا…
کسی طرف بچے بھاگ رہے تھے…
کہیں لوگ شوپنگ بیگز اٹھائے گھوم رہے تھے…
اور کہیں دوستوں کے گروپ کیفے کے باہر بیٹھے ہنس رہے تھے…
مال کے اندر داخل ہوتے ہی سب جیسے اپنے اپنے موڈ میں کھو گئے تھے…
کوئی برانڈڈ دکانوں میں گھس رہا تھا…
کوئی عجیب عجیب چیزیں اٹھا کر دوسروں کو دکھا رہا تھا…
اور کوئی بس اِدھر اُدھر گھومنے میں مصروف تھا…
کافی دیر تک وہ پورے مال میں گھومتے رہے…
کبھی کسی دکان میں چلے جاتے…
کبھی کسی چیز پر بحث شروع ہوجاتی…
کبھی تصویریں لینے لگتے…
ایک جگہ تائیجون نے مزاق میں ایک عجیب سی ٹوپی جے کیونگ کے سر پر رکھ دی تھی…
اور پھر سب پانچ منٹ تک ہنستے رہے کیونکہ جے کیونگ اُسے اتارنے کے بجائے آئینے میں خود کو دیکھ رہا تھا…
تم لوگوں کو بس مجھ سے جلنے کی بیماری ہے…
جے کیونگ نے پورے اعتماد سے کہا۔
ہاں… بہت زیادہ… ہیوک نے سنجیدہ چہرہ بنا کر جواب دیا۔
کافی دیر گھومنے پھرنے کے بعد آخرکار سب واقعی تھک گئے تھے…
سوہان نے چلتے چلتے ڈرامائی انداز میں کہا، میں اب مزید ایک قدم نہیں چل سکتا…
سومین ہنس پڑا۔ لو ہوگیا ان کا ڈراما شروع۔۔۔
آخرکار سب نے کیفے جانے کا فیصلہ کیا…
وہ لوگ مال کے ایک نسبتاً پرسکون حصے میں موجود ایک خوبصورت کیفے میں داخل ہوئے۔۔۔
کیفے میں داخل ہوتے ہی جے کیونگ کی نظریں بےاختیار کھڑکی کے قریب موجود ایک بینچ پر جا کر رُک گئی۔
وہی لڑکی… پارک والی… وہ اپنی ایک دوست کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی… آج بھی سیاہ عبایا اور نقاب میں…
ہاتھ میں کافی کا کپ تھا جبکہ سامنے اُس کی دوست بیٹھی کچھ بول رہی تھی…
جے کیونگ اُسے دیکھتے ہی فوراً پہچان گیا۔
کیا ہوا؟
تائیجون نے اُس کے اچانک رُکنے پر پوچھا۔
کچھ نہیں…
جے کیونگ نے فوراً نظریں ہٹائیں… پھر جان بوجھ کر اُس بینچ کے بالکل پیچھے والی نشست کی طرف بڑھ گیا۔
یہاں بیٹھتے ہیں…
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا… مگر پھر کندھے اُچکا کر بیٹھ گیا۔
ہر ٹیبل پر چار سیٹ تھیں… اس لیے وہ لوگ الگ الگ بیٹھ گئے…
ایک ٹیبل پر جے کیونگ، تائیجون، سومین اور سوہان بیٹھ گئے…
جبکہ دوسری طرف رین یون، سیونگ، ہان وو اور ہیوک بیٹھ گئے…
ادھر باقی سب اپنے آرڈرز اور باتوں میں مصروف تھے…
مگر جے کیونگ کی پوری توجہ پیچھے بیٹھی اُس لڑکی کی آواز پر تھی…
وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں…
اور تمہاری جاب کا کیا ہوا فاطمہ؟ کیسی چل رہی ہے؟ پروموشن ہوئی۔۔۔؟؟
یہ سنتے ہی جے کیونگ کے کان جیسے اور زیادہ کھڑے ہوگئے۔
اوہ… تو اِس کا نام فاطمہ ہے…
اُس نے دل ہی دل میں سوچا۔
فاطمہ… اور جاب بھی کرتی ہے…؟
اُدھر فاطمہ نے لمبی سانس لی۔
جاب… چھوڑو یار…۔اُس کی آواز میں واضح بےزاری تھی۔ اب کہہ رہے ہیں اگر یہاں کام کرنا ہے تو باقی اسٹاف کی طرح رہنا پڑے گا…
اُس کی دوست فوراً الجھی۔ کیا مطلب؟ تم کام ٹھیک نہیں کرتی کیا؟
نہیں… فاطمہ نے فوراً سر ہلایا۔ وہ کہہ رہے ہیں مجھے اپنا یہ نقاب ہٹانا پڑے گا… ایسے کام نہیں کر سکتی میں…
چند لمحے وہ خاموش رہی… پھر آہستہ سے بولی،
حجاب میں رہوں… ٹھیک ہے… مگر کہتے ہیں چہرہ سب کو دکھانا پڑے گا…۔اُس کی آواز میں واضح تکلیف تھی۔۔ایسی جاب سے اچھا…میں بھوکی ہی نہ مر جاؤں…
اُس کی دوست فوراً بولی، یار مگر وہ لوگ اچانک ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تمہیں تو وہاں کام کرتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہوچکا ہے… تو ابھی پھر ایسا کیوں۔۔؟؟
پتہ نہیں… فاطمہ نے کافی کا کپ ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔ اچانک کہنے لگے کہ یہ کمپنی کی پالیسی ہے…
جے کیونگ خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہا تھا…
پہلی بار… اُسے اُس لڑکی کی آواز میں غصے کے بجائے اداسی محسوس ہوئی تھی…
اُس کی دوست نے ہمدردی سے کہا، خیر ہے… کوئی بات نہیں… کسی دوسری کمپنی میں apply کرلو…
فاطمہ نے ہلکا سا سر ہلایا۔
ہاں… دیکھتی ہوں…
مگر اُس کی آواز سے صاف لگ رہا تھا… وہ واقعی پریشان تھی۔
اُس نے کافی کا کپ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا…
بس عجیب لگتا ہے یار… وہ آہستہ سے بولی۔ ایک سال تک کبھی مسئلہ نہیں ہوا… اب اچانک سب کو میرا نقاب problem لگنے لگا…
اُس کی دوست نے فوراً کہا، تم نے manager سے properly بات کی؟
کی تھی…
وہ کہتے ہیں customers uncomfortable feel کرتے ہیں…
یہ سن کر جے کیونگ کی بھنویں بےاختیار سکڑ گئیں۔
Uncomfortable…
وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا۔
فاطمہ کی دوست نے فوراً ناراضی سے کہا، اِن لوگوں کو ہر چیز سے مسئلہ ہوتا ہے…
چھوڑو…
فاطمہ نے بات ختم کرنے کے انداز میں کہا۔
رزق اللہ دیتا ہے… کہیں اور مل جائے گی جاب…
اُس کی آواز میں عجیب سا سکون تھا… حالانکہ پریشانی واضح محسوس ہو رہی تھی۔
اِدھر باقی سب اپنے اپنے آرڈر دینے میں مصروف تھے…
کوئی کافی آرڈر کر رہا تھا… کوئی dessert… اور سوہان تو مینو دیکھتے ہی کھانے کی پوری لسٹ بنانے لگا تھا۔
یہ بھی try کرتے ہیں… اور یہ بھی…
ابے بھوکا تو؟ سب کھاجا تو۔۔۔ سومین نے فوراً ٹوکا تو سب ہنس پڑے۔
مگر جے کیونگ… وہ اب بھی آدھا دھیان پیچھے بیٹھی فاطمہ کی باتوں پر لگائے بیٹھا تھا۔
رزق اللہ دیتا ہے… کہیں اور مل جائے گی…
اُس کے ذہن میں بار بار یہی جملہ گونج رہا تھا۔
اوئے جے-کے…
سومین کی آواز پر بھی وہ چونکا نہیں۔
تائیجون نے سامنے ہاتھ ہلایا۔ اوئے… آرڈر دے نا…
سوہان نے سیدھا اُس کے کندھے کو ہلایا۔ اووو بھائی… کیا پیئے گا؟
ہاں؟ ہاں… کیا ہوا؟
جے کیونگ جیسے اچانک حقیقت میں واپس آیا۔
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔ کہاں کھویا ہوا ہے؟ آرڈر کر…
جے کیونگ نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ تم سب نے آرڈر کر دیا؟
سومین فوراً بولا۔۔ ابے… تُو کون سی دنیا میں بیٹھا ہے؟
جے کیونگ نے جھنجھلا کر مینو اٹھایا۔ کچھ بھی لے دو…
کچھ بھی؟ سوہان نے فوراً آنکھیں تنگ کیں۔ بھائی لیکن یہاں مینو میں کُچھ بھی۔۔ کہیں نہیں لکھا۔۔۔؟؟؟
جے کیونگ نے فوراً مینو اُن کی طرف پھینکا۔ ایک تھپڑ لگاؤں گا۔۔۔
سب ہنسنے لگے…
کچھ دیر بعد اُن سب کا آرڈر بھی آ گیا…۔ٹیبل پر کافی mugs، fries، burgers اور desserts رکھے جانے لگے…
سوہان تو کھانا آتے ہی باقی سب کو بھول گیا تھا۔
یہ فرائیز میری ہیں… ہاتھ مت لگانا کوئی…
ابے جا۔۔۔ سومین نے فوراً اُس کی پلیٹ سے ایک فرائیز اٹھالی۔
اوئے واپس رکھ…
اُدھر جے کیونگ بھی خاموشی سے کافی پی رہا تھا۔۔۔مگر اُس کی توجہ اب بھی بار بار پیچھے چلی جاتی۔
کبھی فاطمہ کی آواز… کبھی اُس کی ہلکی سی ہنسی…
کافی دیر وہاں رین یون آیا۔۔۔ کھا لیا ہے تو چلو؟
ہاں۔۔۔ ہاں چلو۔۔۔ تائیجون اُٹھ کھڑا ہُوا باقی سب بھی اٹھنے لگے۔۔۔
سب آہستہ آہستہ کیفے سے باہر نکلنے لگے…
جے کیونگ نے جاتے ہوئے ایک آخری نظر پیچھے ڈالی۔
فاطمہ اب بھی اپنی دوست کے ساتھ بیٹھی تھی…
وہ کچھ کہہ رہی تھی… اور اُس کی آنکھیں ہنستے ہوئے ہلکی سی سکڑ گئی تھیں…
جے کیونگ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا…
پھر فوراً نظریں ہٹا کر باقی سب کے ساتھ باہر نکل گیا۔
دِل نے کہا جائے بات کرے۔۔۔ لیکن دماغ نے کہا چلو۔۔۔
کیفے سے باہر آتے ہی شام کافی گہری ہو چکی تھی…
اب کہاں جانا ہے؟ سوہان نے پوچھا۔
پہلے ہوٹل… رین یون نے صاف صاف کہا۔ ورنہ کل کوئی اٹھے گا نہیں…
سب آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے…مگر چند قدم چلنے کے بعد… جے کیونگ اچانک رک گیا۔
تم لوگ جاؤ… میں ابھی آیا…
تائیجون فوراً مُڑا۔ کہاں جا رہا ہے؟
بس آرہا ہوں… میرا فون شاید اندر کیفے میں رہ گیا ہے۔۔۔
اوئے اکیلا۔۔۔۔ میں اؤں۔۔۔
نہیں۔۔۔ بس میں دو منٹ میں آیا…
اور جواب کا انتظار کیے بغیر جے کیونگ واپس مُڑ گیا۔
وہ تیز قدموں سے دوبارہ کیفے کی طرف چلنے لگا…
دل عجیب طرح سے بےچین ہو رہا تھا…
حالانکہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا…
وہ واپس کیوں جا رہا ہے…؟

++++++++++++

اُدھر سب لوگ کیفے سے باہر نکل چکے تھے…
مگر ہیوک کے قدم اچانک سست پڑ گئے۔
کیفے کے دوسرے کونے میں اُس کی نظر ایک جانی پہچانی شخصیت پر جا کر ٹھہر گئی…
ماہم…
وہ اپنی کسی دوست کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی…
سامنے کافی کے خالی مگ رکھے تھے… اور دونوں شاید جانے کی تیاری کر رہی تھیں…
ہیوک چند لمحے وہیں کھڑا اُسے دیکھتا رہا…
پھر نہ جانے کیوں… اُس کے قدم خودبخود اُس ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔
السلام علیکم…
اچانک آواز سن کر ماہم چونک گئی۔
اُس نے فوراً سر اٹھایا… اور ہیوک کو سامنے کھڑا دیکھتے ہی جلدی سے اپنی نشست سے کھڑی ہوگئی۔
اوہ… اوہ… وعلیکم السلام… آپ یہاں…؟
اُس کی آواز میں واضح گھبراہٹ تھی… جیسے اُس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
آپ کو بتایا تو تھا… میں tourist ہوں… پھر اُس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا، بس… یہاں بھی گھومنے آئے تھے…
اوہ… اچھا… ماہم نے ہلکے سے سر ہلایا… مگر وہ اب بھی عجیب سی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔
اُس کی دوست نے فوراً ہیوک کو دیکھا۔
یہ کون ہے ماہم…؟
وہ بھی اب نشست سے کھڑی ہو چکی تھی۔
ماہم ایک لمحے کو اٹکی… پھر جلدی سے بولی،
یہ… مجھے ہماری گلی میں ملے تھے…
ہمم…؟
اُس کی دوست نے مشکوک نظروں سے دونوں کو دیکھا…
آپ دونوں کھڑی کیوں ہوگئیں؟ اُس نے نرمی سے کہا۔ بیٹھ جائیں…
نہیں نہیں… ماہم نے فوراً ہاتھ ہلایا۔ بس ہمارا ہوگیا تھا… ہم بل دے کر نکلنے ہی لگے تھے…
لائیے… میں دے دیتا ہوں…
ماہم فوراً گھبرا گئی۔ نہیں! شکریہ…
لائیے نا… ہیوک نے دوبارہ کہا۔
ماہم نے چند لمحے اُسے دیکھا… پھر شاید بحث نہ کرنے کے لیے آہستہ سے بل اور پیسے اُس کی طرف بڑھا دیے۔
اچھا… ہیوک نے بل ہاتھ میں لیا…
پھر وہ تینوں بل کاؤنٹر کی طرف آگئے…
ہیوک بل ادا کروانے میں مصروف تھا… جبکہ ماہم کی دوست اب بھی اُسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ آہستہ سے ماہم کے قریب ہوئی اور اُس کے کان میں بولی،
تُو نے مجھے ابھی تک ٹھیک سے بتایا ہی نہیں یہ ہے کون…
ماہم کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ہیوک نے اُن کی بات سن لی۔
وہ فوراً اُن کی طرف مُڑا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
السلام علیکم… میرا نام جنگ ہی-ہیوک ہے… میں کوریا سے ہوں… tourist ہوں… اور یہاں گھومنے آیا ہوں…
یہ کہتے ہوئے اُس نے عادتاً ہاتھ آگے بڑھایا۔
مگر اگلے ہی لمحے ماہم نے فوراً اُس کا ہاتھ نیچے کر دیا۔
نائس ٹو میٹ یو… وہ جلدی سے بولی۔
ہیوک حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔
ارے… آپ تو جانتی ہیں… میں اِنہیں بتا رہا تھا…
اِنہیں میں بتا دوں گی نا… ماہم نے جلدی سے کہا۔ آپ نے بل ادا کر دیا…؟
ہاں… تقریباً…
ہیوک نے ادائیگی کرتے ہوئے کہا… پھر اچانک اُس کی طرف دیکھ کر بولا،
اور…؟
ماہم الجھ گئی۔
اور…؟
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
یعنی… اور کوئی خدمت میرے لائق…؟
نہیں نہیں…
ماہم فوراً گھبرا کر بولی۔
اُس کی دوست نے بھی جلدی سے بات ختم کی۔
اچھا… اب ہم چلتے ہیں…
پھر دونوں مُڑ کر جانے لگیں…
مگر ابھی اُنہوں نے دو قدم ہی لیے تھے کہ پیچھے سے ہیوک کی آواز آئی…
مجھے اُس دن کے بعد لگا تھا… شاید ہماری دوبارہ کبھی ملاقات نہیں ہوگی… تو پھر میں نے خدا سے دعا کی…
یہ سُن دونوں کے قدم ایک ساتھ رُک گئے۔
ہیوک دھیرے سے بولا۔ کہ میں آپ کو دوبارہ دیکھ سکوں… اور دیکھیے… آج میں نے آپ کو دوبارہ دیکھ لیا…
ماہم اور اُس کی دوست آہستہ سے مُڑیں…
اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔۔
پھر ماہم نے دھیرے سے ہیوک کی طرف… اور حیرانی سے پوچھا، آپ نے کیا کہا…؟ آپ نے دعا کی…؟
ہاں…
کس سے…؟
خدا سے…
ماہم نے فوراً کہا، اللہ سے…؟
ہیوک چند لمحے خاموش رہا… پھر آہستہ سے بولا،
میں نہیں جانتا… میں نے بس اپنے خدا سے دعا کی…
اور کون ہے آپ کا خدا…؟
ہیوک کی نظریں چند لمحوں کے لیے نیچے جھک گئیں۔
پھر وہ دھیرے سے بولا،
وہ… جس نے مجھے پیدا کیا…جس نے میری ماں کی مشکل وقت میں مدد کی…جس نے میرے مشکل وقت میں میری دعا سنی…
ماہم خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی…
تبھی اُس کی دوست نے پوچھا،
آپ عیسائی ہیں…؟ رائٹ۔۔۔
نو… نو… کبھی نہیں… ہیوک نے فوراً سر ہلایا۔
میں نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی… اپنے بھائیوں کو بھی نہیں…
پھر اُس نے سیدھا ماہم کی طرف دیکھا۔
صرف آپ کو بتانا چاہتا ہوں…
لیکن… ماہم بےاختیار بولی۔
لیکن…؟
ہیوک نے ہلکی سی سانس لی۔
یہاں کیسے بتاؤں…؟ میرے بھائی باہر میرا انتظار کر رہے ہیں… اور آپ کے بھی جانے کا وقت ہو رہا ہے…
پھر…؟
ہیوک چند لمحے اُسے دیکھتا رہا… پھر آہستہ سے بولا،
پھر… کل… یہیں… اسی کیفے میں ملتے ہیں…
ماہم کی دوست فوراً بول پڑی،
کیوں…؟ جو بات کرنی ہے ابھی کر لیں…
بات لمبی ہے…
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
ابھی مجھے جانا ہوگا…
پھر اُس نے ایک لمحے کے لیے ماہم کو دیکھا۔
کل میں آپ کا انتظار کروں گا… ماہم…
یہ کہہ کر وہ مُڑا… اور تیزی سے کیفے سے باہر نکل گیا۔
بات تو سنیے…
ماہم بےاختیار اُس کے پیچھے بولی…
مگر تب تک ہیوک جا چکا تھا…
ہیوک کے جاتے ہی ماہم چند لمحے وہیں خاموش کھڑی رہی…
جیسے ابھی تک اُس کی آخری باتیں اُس کے ذہن میں گونج رہی ہوں…
کل میں آپ کا انتظار کروں گا… ماہم…
ماہم۔۔۔
اُس کی دوست کی آواز پر وہ چونکی۔
کون تھا یہ…؟
ماہم نے جلدی سے نظریں ہٹائیں۔
بتایا تو تھا… گلی میں ملا تھا…
اُس کی دوست نے فوراً بازو باندھے۔
جو بھی تھا… کل تُم یہاں نہیں آئے گی…
لیکن کیوں…؟ ماہم فوراً بولی۔
کیونکہ وہ لڑکا ہے…
“تو تم بھی ساتھ آ جانا…
ماہم…؟ وہ اُسے گھورنے لگی۔
مگر ماہم فوراً بولی،
یار کیوں ٹینشن لے رہی ہے…؟ وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے…
ہے تو لڑکا ہی…
ہاں مگر یہاں کا تھوڑی ہے…
“یہاں کا ہو یا وہاں کا… ہے تو لڑکا ہی…
ہاں مگر… tourist ہے…
لڑکا ہے…
کوریا سے آیا ہے…
لڑکا ہے…
کچھ کہنا چاہتا ہے…
لڑکا ہے…
“کچھ بتانا چاہتا ہے…
لڑکا ہے…
شریف ہے…
لڑکا ہے…
ماہم نے ہلکی جھنجھلاہٹ سے اُسے دیکھا۔
کیا پتا مسلمان ہو…
اُس کی دوست نے فوراً جواب دیا،
تو ہے تو لڑکا ہی…
چند سیکنڈ کے لیے خاموشی چھا گئی…
جو بھی ہے… بات تو سننی پڑے گی نا…
کیوں…؟ اُس کی دوست فوراً بولی۔ ہمارا کیا لگتا ہے وہ…؟ ویسے بھی…
ماہم نے بےچینی سے اپنی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
مجھے نہیں پتا… وہ دھیرے سے بولی۔ لیکن میں ایسی curiosity میں نہیں جی سکتی… مجھے اُس کی بات سننی ہی پڑے گی…
اُس کی دوست نے فوراً ماتھے پر ہاتھ مارا۔
ہاں ہاں… کرلو بات… کما لو گناہ… ہر گناہ کی شروعات یہی سے ہوتی ہے…
یار… ماہم نے فوراً اُسے گھورا۔ تو اتنی گہرائی میں کیوں جا رہی ہے…؟
کیا پتہ۔۔ وہ اسلام کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہو تو…؟
اور جب تم نے پوچھا وہ عیسائی ہے… تو اُس نے فوراً منع کر دیا…
اور پھر وہ کہتا ہے… وہ خدا سے دعا کرتا ہے… اس کا مطلب ؟؟
اُس کی دوست نے اب سنجیدگی سے کہا،
اِس کا مطلب وہ خدا کے ہونے پر یقین رکھتا ہے…
ماہم کی آنکھوں میں فوراً چمک سی آئی۔
ہاں… وہی تو… وہ جلدی سے بولی۔ یعنی وہ یقین تو رکھتا ہے… بس صحیح راستے پر نہیں ہے…
پھر وہ جیسے خود ہی اپنے خیال میں کھو گئی۔
ہم اُسے راستہ دکھا دیں گے…بتائیں گے کہ اسلام سیدھا راستہ ہے…
اُس کی دوست نے اُسے ایسے دیکھا جیسے اُس کی بات پر یقین نہ آرہا ہو۔
واہ واہ… وہ طنزیہ انداز میں بولی۔ ہاں بالکل… وہ کل آئے گا… اور تم کہہ دو گی اسلام سچا راستہ ہے… اور وہ فوراً مان بھی جائے گا…
ماہم نے فوراً سنجیدگی سے کہا،
ارے کیوں نہیں مانے گا…؟ ہم اُسے قائل کر لیں گے…
اُس کی دوست نے فوراً بھنویں اُٹھائیں۔
ہاں… اور جیسے کہ ہم نے اُسے قائل کر لیا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ دوبارہ چلنے لگی۔
ماہم چند لمحے وہیں کھڑی رہی… پھر آہستہ آہستہ اُس کے ساتھ چل دی۔
مذاق اُڑا لو تم… وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔ لیکن مجھے واقعی لگتا ہے… وہ مختلف ہے…
ہر دوسری کہانی یہی سے شروع ہوتی ہے… اُس کی دوست نے فوراً کہا۔ وہ مختلف ہے‘…وہ الگ ہے، سب سے۔۔۔
ماہم نے فوراً اُسے گھورا۔
یار تُو ہر بات کو غلط رخ کیوں دے دیتی ہے…؟
کیونکہ میں دنیا دیکھتی ہوں… اُس کی دوست نے سیدھا جواب دیا۔ اور تُم صرف لوگوں کی اچھی باتیں دیکھتی ہے…
ماہم خاموش ہوگئی۔۔۔۔

+++++++++++

جے کیونگ تیز قدموں سے واپس کیفے کے اندر آیا…
کئی ٹیبلز خالی ہو چکی تھیں… ہلکی موسیقی اب بھی آہستہ آہستہ فضا میں پھیلی ہوئی تھی…
وہ سیدھا اُسی طرف بڑھا جہاں کچھ دیر پہلے فاطمہ بیٹھی تھی…
مگر وہاں پہنچتے ہی اُس کے قدم رُک گئے۔
وہ جا چکی تھی۔ ٹیبل خالی تھی…
جے کیونگ نے بےاختیار اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں…
شاید وہ ابھی قریب ہو… شاید واشروم گئی ہو… شاید کاؤنٹر پر ہو…
مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی۔
وہ آہستہ سے اُس ٹیبل کے قریب آیا… تبھی اُس کی نظر ٹیبل پر پڑی ایک فون پر جا کر رُک گئی۔
شاید… اُس کا یا اُس کی دوست کا فون وہیں رہ گیا تھا۔۔۔ شاید… وہ جلدی میں اپنا فون یہیں بھول گئی تھی۔
جے کیونگ نے فون اٹھایا…
فون لاک تھا… اس نے لاک اسکرین روشن کی۔۔
اُس کی نظریں فوراً اُس پر لکھی ایک لائن پر جا کر ٹھہر گئیں…
اوپر اردو میں کچھ لکھا تھا… اور نیچے چھوٹے حروف میں انگلش translation…
اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
اُسے اردو کی سمجھ نہیں آئی لیکن انگلش وہ بخوبی سمجھ گیا۔۔۔
جے کیونگ کی بھنویں ہلکے سے سکڑ گئیں۔
دھوکا…؟
وہ بےاختیار دھیرے سے بڑبڑایا۔
یہ دنیا…؟ اور دھوکا…؟
اُس نے دوبارہ وہ جملہ پڑھا…
دنیا کی زندگی… دھوکے کا سامان…
چند لمحوں کے لیے وہ وہیں کھڑا رہ گیا…
کیسے عجیب الفاظ تھے…
لوگ تو دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں… پیسہ… مشہوری… خوبصورتی… کامیابی…
پھر یہ لڑکی کیوں کہہ رہی تھی… یہ سب دھوکا ہے…؟
یہ دنیا کو دھوکا کیوں سمجھتی ہے۔۔۔؟؟
اُس کی نظریں ابھی تک فون کی اسکرین پر جمی ہوئی تھیں… کہ اچانک سامنے سے ایک آواز آئی۔
میرا فون…
جے کیونگ چونک کر حقیقت میں واپس آیا۔
فاطمہ اُس کے سامنے کھڑی تھی…
فاطمہ نے خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔
جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا… پھر فون اُس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
فاطمہ نے فون پکڑا… اور بغیر کچھ کہے مُڑ گئی۔
فاطمہ ابھی مُڑی ہی تھی کہ اُس نے بےاختیار پکارا،
تمہیں… اِس دنیا سے نفرت ہے…؟
فاطمہ کے قدم رُک گئے۔
وہ آہستہ سے مُڑی… نقاب کے پیچھے سے اُس کی نظریں سیدھی جے کیونگ پر اٹھیں۔
Excuse me…?
جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا… پھر دھیرے سے بولا،
تمہیں اِس دنیا سے نفرت ہے…؟
کچھ لمحے خاموشی رہی…
پھر فاطمہ نے بہت ہلکے سے کہا، ہمم…
جے کیونگ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
کیوں…؟
فاطمہ چند سیکنڈ خاموش رہی… جیسے الفاظ سوچ رہی ہو… پھر آہستہ آہستہ بولی،
کیونکہ یہاں سب فانی ہے…
دھوکہ ہے۔ خوشی، تھوڑی دیر کی۔ باقی سب… غم۔ تکلیفیں۔
جے کیونگ خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
یہ جگہ اچھی نہیں ہے… یہ دنیا اچھی نہیں ہے…
یہ کہتے ہوئے اُس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی… جیسے وہ عمر بھر کی کوئی حقیقت بیان کر رہی ہو۔
جے کیونگ نے آہستہ سے پوچھا،
اگر یہ دنیا اتنی ہی بری ہے… تو لوگ پھر جینا کیوں چاہتے ہیں…؟
وقتی خوشی کے لیے۔۔۔ اُس نے دھیرے سے جواب دیا۔
لوگوں کو لگتا ہے… ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا…
انہیں لگتا ہے… پیسہ… محبت… کامیابی… یہ سب انہیں سکون دے دے گا…
وہ آہستہ سے جے کیونگ کی طرف دیکھنے لگی۔
مگر وہی وقتی خوشیاں… انسان کو بہکا دیتی ہیں…
اور انسان ساری زندگی… بس اُنہی کے پیچھے بھاگتا رہ جاتا ہے…
جے کیونگ چند لمحے خاموش کھڑا اُسے دیکھتا رہا…
جے کیونگ کی پوری توجہ صرف اُس لڑکی کی باتوں پر تھی۔
اور اگر… اُس نے آہستہ سے پوچھا، کسی کو وہ خوشی واقعی مل جائے تو…؟
فاطمہ نے اُسے دیکھا… نہیں ملتی…
وہ بہت سکون سے بولی۔
انسان ایک خوشی کے بعد دوسری مانگتا ہے… پھر تیسری… پھر چوتھی…
دل کبھی نہیں بھرتا…
جے کیونگ ہلکا سا الجھا۔
تو پھر… تمہارے خیال میں انسان کو کیا چاہیے…؟
فاطمہ چند لمحے خاموش رہی…
پھر اُس نے اپنے فون کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور دھیرے سے بولی،
سکون…
اور سکون… دنیا نہیں دیتی…
جے کیونگ کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
پھر کون دیتا ہے…؟
فاطمہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔
وہ چند لمحے خاموش رہی… پھر بہت آہستہ سے بولی،
اللہ…
یہ لفظ عجیب نرمی سے اُس کے لبوں سے نکلا تھا…
ایسے… جیسے وہ صرف ایک لفظ نہیں… بلکہ یقین ہو۔
جے کیونگ پہلی بار بالکل خاموش ہوگیا۔
کیونکہ عجیب بات یہ تھی… فاطمہ جو کچھ کہہ رہی تھی… وہ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا…
وہ جواب دینا چاہتا تھا… مگر نہ جانے کیوں… الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
شاید کیونکہ… وہ پہلی بار کسی کو اتنے یقین سے بات کرتے دیکھ رہا تھا۔
تم… ہمیشہ ایسی باتیں کرتی ہو…؟ اُس نے آخرکار پوچھ ہی لیا۔
فاطمہ ہلکا سا چونکی… پھر اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی حیران مسکراہٹ آئی۔
ایسی باتیں…؟
یعنی… جے کیونگ نے نظریں ہٹائیں۔ اداس قسم کی…
فاطمہ چند لمحے اُسے دیکھتی رہی… پھر آہستہ سے بولی،
یہ اداسی نہیں ہے…
پھر…؟
حقیقت ہے…
جے کیونگ نے ذرا جھجکتے ہوئے کہا
میں چاہتا ہوں تم دوسری خوشی مانگو۔
فاطمہ نے ابرو اٹھائے…
مطلب؟
مطلب… وہ ایک لمحہ رکا، تم مجھے اپنی کمپنی کا نام بتاؤ۔ میں بات کروں گا، تمہاری نوکری کا مسئلہ… میں حل کر سکتا ہوں۔۔۔
فاطمہ نے اسے غور سے دیکھا۔
اتنی مہربانی میرے اوپر کیوں؟
جے کیونگ نے کندھے اچکائے، جیسے بات بہت سادہ ہو —
تاکہ تمہاری یہ اداسی تھوڑی کم ہو سکے۔
میں اداس نہیں ہوں۔ جواب فوری آیا۔ سپاٹ۔ بے لچک۔
جے کیونگ نے ہلکے سے کہا۔۔
تو نوکری کے وجہ سے پریشان نہیں ہو؟
ہاں پریشان ہوں… فاطمہ نے کہا، لیکن اداس نہیں ہوں۔
پھر وہ اچانک رکی۔ ۔ایک منٹ۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ میری نوکری کے بارے میں؟
جے کیونگ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئیں۔
وہ… میں نے غلطی سے آپ دونوں کی گفتگو سن لی۔
فاطمہ کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
یہ اچھی بھلی تمیز ہے، کسی کی باتیں نہیں سنتے۔
اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، وہ غصے سے مڑ گئی۔۔
فاطمہ کے لہجے میں واضح خفگی تھی…
اور جے کیونگ فوراً سمجھ گیا تھا… اُس سے غلطی ہوگئی ہے۔ وہ تیزی سے بولا،
نہیں… میرا مطلب… میں جان بوجھ کر نہیں سن رہا تھا…
فاطمہ نے فوراً پلٹ کر اُسے دیکھا۔
لیکن سُن تو رہے تھے نا…؟
جے کیونگ ایک لمحے کو خاموش ہوگیا۔ واقعی… وہ سُن رہا تھا۔
اور اب پہلی بار اُسے اپنی حرکت تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔
فاطمہ نے ہلکے غصے سے کہا،
یہ اچھی بات نہیں ہوتی… کسی کی پرائیویٹ باتیں سُننا…
جے کیونگ نے فوراً کہا یہ کوئی پرائیویٹ باتیں نہیں تھیں۔
فاطمہ نے فوراً گھور کر اُس کی طرف دیکھا۔
ایک تو چوری… اوپر سے سینہ زوری۔
پھر آہستہ سے بولی مجھے لگا ہی تھا۔
جے کیونگ نے ابرو اٹھائے
کیا لگا تھا؟
کہ آپ بدتمیز ہو۔
جے کیونگ نے فوراً پلٹ کر کہا۔۔۔
آپ کونسا بہت زیادہ تمیز والی ہیں۔
بہت تمیز ہے میرے اندر… آپ سے تو زیادہ ہی ہے۔
دِکھ تو نہیں رہا مجھے؟
اندھے ہیں آپ اسی لیے۔
جے کیونگ نے ہلکی سی ہنسی دبائی۔۔۔
دیکھو تو بول کون رہا ہے… جسے کتابوں کے آگے کچھ اور نظر نہیں آتا… ہمیں اندھا کہہ رہی ہیں۔
فاطمہ نے فوراً ایک قدم اُس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
میرے کتابوں کو کچھ کہا نا… تو اچھا نہیں ہوگا۔
جے کیونگ اُس کے اچانک سنجیدہ لہجے پر چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا… پھر بےاختیار اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
اوہ… تو کمزوری یہ ہے تمہاری؟
فاطمہ نے فوراً بھنویں سکیڑیں۔
کمزوری نہیں… محبت ہے۔
جے کیونگ چند لمحے خاموش ہوگیا۔
محبت…؟ کتابوں سے…؟
فاطمہ نے ایسے اُسے دیکھا جیسے اُس نے دنیا کی سب سے عجیب بات کہہ دی ہو۔
جی ہاں۔ کیوں کہ کتابیں دھوکا نہیں دیتیں۔
جے کیونگ چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا…
پھر ہلکے سے مسکرایا۔ پھر اُداس ہوگئی…
فاطمہ نے فوراً اُسے گھورا۔
اُداس نہیں ہوں میں… حقیقت کہہ رہی ہوں…
جے کیونگ نے کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی… حالانکہ نقاب کے پیچھے اُسے صرف اُس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں… مگر عجیب بات تھی… وہ آنکھیں بھی بہت کچھ کہہ دیتی تھیں۔
پھر اچانک فاطمہ نے جیسے بات ختم کرنے کے انداز میں سختی سے کہا،
اور مجھے اب جانا ہے…
یہ کہہ کر وہ غصے سے مُڑی اور تیز قدموں سے چلنے لگی۔
اوئے… سنو تو…
جے کیونگ بےاختیار اُس کے پیچھے ایک قدم بڑھا۔
کمپنی کا نام تو بتاتی جاؤ…
مگر فاطمہ نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔
بس اپنا فون مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑے سیدھی آگے بڑھتی گئی…
کچھ ہی لمحوں بعد وہ کیفے کے شیشے والے دروازے سے باہر نکل گئی۔
اور جے کیونگ وہیں کھڑا رہ گیا۔
چند سیکنڈ تک وہ واقعی دروازے کی طرف دیکھتا رہا… جیسے اُسے امید ہو کہ شاید وہ واپس مُڑ کر کچھ کہے گی۔
مگر وہ نہیں مُڑی۔
جے کیونگ نے آہستہ سے سانس خارج کی… پھر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
کتنی عجیب لڑکی ہے یار…
مگر عجیب بات یہ تھی…
وہ جتنا اُسے عجیب لگ رہی تھی…
اُتنا ہی اُس کا ذہن اُس کے پیچھے جا رہا تھا۔
کتابیں دھوکا نہیں دیتیں…
سکون اللہ دیتا ہے…
یہ دنیا اچھی نہیں ہے…
اُس کے ایک ایک جملے عجیب طرح سے ابھی تک اُس کے دماغ میں گونج رہے تھے۔
یار جے کیونگ۔۔۔
اچانک پیچھے سے تائیجون کی آواز آئی۔
فون ڈھونڈنے آیا تھا یا بنانے۔۔۔
جے کیونگ نے فوراً چہرہ سیدھا کیا۔ بکواس بند کر…

+++++++++++++

جاری ہے…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *