DHOKA BY HAMMAD ALI.

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

 

 

دھوکہ

 

از قلم محمد حماد علی

 

 

شام ہونے کے قریب تھی ، چڑیاں گھونسلوں میں جا رہی تھی ، دیہات علاقوں کو جانے والی سڑکیں اس وقت تک ویران ہو گئیں تھیں ، سورج ڈھل چکا تھا مگر کچھ کرنیں باقی تھیں ، لوگ کاموں سے واپس جا رہے تھے ، اور گھر کے چھت پر ٹہلتی دیانہ جو کہ دور سے گزرتی ہوئی ریل گاڑی کو دیکھ رہی تھی وہ اپنے خیالی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔ وہ اپنا دل ایک غریب مگر خوش شکل انسان پر وار بیٹھی ۔ شرجیل کی محبت نے دیانہ کے دل کو اس طرح گرفتار کیا کہ رہائی کی ہر راہ مسدود ہو گئی۔ دیانہ خود بھی یہ نہ پہچان سکی کہ وہ شرجیل کو کتنا چاہنے لگی ہے۔ اس نے دو تین مرتبہ اپنی ماں سے شرجیل کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس ہر مرتبہ اس کی ہمت جواب دے دیتی۔
“امی۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی۔۔ بات سنیں نا ۔۔ وہ آپ سے ایک بات کرنی تھی۔”
“ارے مارا جلدی بولو سن رہی ہوں۔۔ ادھر روٹی جل جائے گی اور تم کو اپنی بات کا پڑا ہے۔”
دھوئیں اور آگ کی تپش میں کھڑی دیانہ کی ماں، مٹی کے چولہے پر روٹیاں پکاتے ہوئے، سخت ناراضگی سے گویا ہوئی۔
“کچھ نہیں۔۔ رہنے دیں۔۔ “
دیانہ مایوسی سے وہاں سے اُٹھ آئی۔ ایک بار پھر وہ اپنی ماں سے اپنی محبت کا ذکر نہ کر سکی۔
نہ جانے ہماری مائیں ہمیں کیوں نہیں سمجھ پاتیں۔ کبھی ہم اُن سے اپنے دل کی بات کہنا چاہتے ہیں، مگر ہمارے لفظ اُن تک پہنچ نہیں پاتے۔ اس کے دل میں ہر وقت خوف کی ایک لہر دوڑتی رہتی تھی کہ کہیں اس کے گھر والے اس کی شادی کسی اور سے نہ کر دیں۔ اس کے خاندان میں اٹھارہ برس کی لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی تھی، اور کچھ کی تو اس سے بھی پہلے۔ دیانہ اب بیس برس کی ہونے والی تھی، اور پورا خاندان اسی بات پر اس کے والدین سے خفا تھا کہ بیٹی کی شادی اب تک کیوں نہیں کی گئی۔ ادھر اس کے گھر والے بھی اس کے لیے رشتہ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ یہی فکر اس کی مسکراہٹوں سے روشنی چرا لیتی۔
✧✧✧✧⁠✧
چاندنی میں نہایا صحن اور سناٹے میں صرف جھینگر کی باریک سی آواز گونج رہی تھی، جیسے رات اپنی تنہائی کا نوحہ خود سن رہی تھی۔ دیانہ سجدے میں سر گرائی اللّٰہ سے شرجیل کو مانگ رہی تھی۔
“یااللہ ! شرجیل کو میرا بنا دے۔ اسے میرے حق میں لکھ دے۔”
دیانہ کی سسکیاں خاموشی کو چیرتی جا رہی تھیں۔ اس نے نمازِ تہجد ادا کی اور فجر تک جائے نماز پر بیٹھی روتی رہی صرف اپنے عشق اور عاشق کے لئے، ویسے انسان کی فطرت بھی کیسی ہے نا کہ اپنے فائدے کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے ہے اور جب وہ چیز مل جاتی ہے، جس کی اسے طلب ہوتی ہے تو پھر دین سے دور جاتے ہیں۔
دیانہ ایک پٹھان گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس کے گھر والے بہت شریف اور مہذب تھے۔ ہمیشہ ہی اسے اپنے گھر کے اسلامی ماحول سے اُکتاہٹ سی ہوتی تھی، مگر آج وہ کسی نامحرم کے لئے سجدے میں سر گرائے ہوئے تھی۔
صبح کے ٹھیک سات بجے تھے۔ افق پر سورج نے سنہری کرنوں کی چادر پھیلانی شروع کر دی تھی، جیسے رات کی سیاہی کو آہستہ آہستہ اپنے نور سے مٹا رہا ہو۔ ہوا میں ہلکی سی خاموشی تھی، اور فضا ایک عجیب سی تازگی سے بھری ہوئی تھی۔ پرندے اپنی نیند سے جاگ کر دن کا استقبال کر رہے تھے۔ “خان ہاؤس” میں گہما گہمی کا عالم تھا ، دیانہ کے چھوٹے بہن بھائی جو کہ سکول کے لئے تیار ہوتے ہوئے بے حد شور کر رہے تھے۔
“دیانہ! پاڅه. ته هم اوس ډوډۍ وخوره، زه بیا بیا اور بلولای نه شم.”
(دیانہ! اٹھ جاؤ۔ تم بھی ابھی روٹی کھا لو، میں بار بار چولہا نہیں جلا سکتی۔)
دیانہ کی ماں زور سے دیانہ کو آواز لگاتے ہوئے بولی۔
“دیانہ !! دیانہ !! “
اس سے پہلے کہ اس ماں مزید آوازیں لگاتی ، دیانہ جو کہ پہلے سے ہی جاگ رہی تھی، آنکھیں مسلتی ہوئی کمرے سے باہر آئی کہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ وہ رات بھر جاگتی رہی مگر اس کی آنکھوں کی سوجن وہ چھپا نہیں پا رہی تھی۔
“دیانه، ته تیره شپه ویده نه وې؟
ستا سترګې پړسیدلې ښکاري۔”
(دیانہ تم رات کو سوئی نہیں ہو ؟
تمہاری آنکھیں سوجی ہوئی لگ رہی ہیں۔)
دیانہ کی ماں روٹی بیلتے ہوئے اسے ترچھی نظروں سے دیکھ کر بولی۔
“نه! مور مې ویده وه، شاید تاسو ته داسې ښکاري۔”
(نہیں ! اماں سوئی تھی ، شاید آپ کو ایسے لگ رہا ہے۔)
دیانہ نے نظر انداز کرتے ہوئے جواب دے کر غسل خانے کا رخ کیا۔
دیانہ دستر خوان پر بیٹھے ناشتہ کر رہی تھی، اُسے اِرد ِگرد کی کوئی خبر نہ تھی ، وہ ایک ہی نوالہ دو دو منٹ تک چباتی رہی اسے پتا ہی نہیں چلا کہ جب اس کے بہن بھائی دستر خوان سے اُٹھ کر سکول کے لئے روانہ ہو گئے اور کب اس کے ابا دفتر کے لیے نکل گئے۔
“ای دیانه، په کومو خیالونو کې ورکه یې؟ نیم ساعت تېر شو او ته تر اوسه نیمه ډوډۍ هم نه شې خوړلی۔”
(ارے دیانہ، کن خیالوں میں گم ہو؟ آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے اور تم سے آدھی روٹی بھی نہیں کھائی جا رہی۔)
دیانہ کی ماں دسترخوان سے باقی کے برتن اٹھاتے ہوئے بولی۔
“ہاں اماں! ارے کچھ نہیں۔ “
کچھ پل کی خاموشی کے بعد دیانہ پھر بولی۔
“یہ سب کدھر چلے گئے ابھی تو سب یہیں تھے۔”
دیانہ نے اردو گرد نظر دوڑائی اور بہن بھائی نہ نظر آنے پر ماں سے پوچھنے لگی۔
تم اپنے خیالی پلاؤ پکانا ختم کرو گی تو تمہیں ہوش ہو گی نا۔ سب سکول اور دفتر چلے گئے ہیں۔
دیانہ کی ماں سخت غصے اور ناراضگی بھرے لہجے میں بولی۔
“ارے اماں۔ وہ سب چھوڑو، اِدھر آؤ میرے پاس۔ میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے۔” دیانہ سہمتے ہوئے اپنی ماں سے بولی۔
“ارے بولو بھئی۔ ادھر ہی ہوں۔” اس کی ماں مزید قریب ہوتے ہوئے سرد لہجے میں بولی۔
“اماں وہ ۔۔۔ وہ میں نا ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں۔”
“واللہ! دا څنګه زمانه راغلې ده چې نجونې پخپله د خپل عاشق نوم اخلي؟
کیا تا ته د خپل پلار د عزت هېڅ خیال نشته؟
ایا شرم او حیا دې خرڅ کړي دي؟”
( واللہ! یہ کیسا زمانہ آ گیا ہے کہ لڑکیاں خود اپنے عاشق کا نام لے رہی ہیں؟ کیا تمہیں اپنے باپ کی عزت کا کوئی خیال نہیں؟ کیا تم نے شرم اور حیا بیچ دی ہے؟)
اس کی ماں اسے تھپڑ مارتے ہوئے چلانے لگی، دیانہ کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ گیا۔
“مورې، په دې کې بد څه دي؟ حضرت خدیجه (رضی الله عنها) هم خو رسول الله صلی الله علیه وسلم ته د نکاح پیغام لېږلی و، او زه هم غواړم له هغه سره واده وکړم۔”
(اماں اس میں برائی کیا ہے؟ حضرت خدیجہ نے بھی تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھجوایا تھا اور میں بھی اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔)
دیانہ نے اپنی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر معصومیت سے سوال کیا۔
“های الله! په دې نجلۍ څه شوي دي؟ خبردار! خبردار! که تا دا خبره بیا له خولې وباسله نو بالکل چپ شه، بیا دا خبره مه کوه. که دا خبره پلار او ورور واورېده نو ډېر سخت غبرګون به وشي۔”
(ہائے اللہ! اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے؟ خبردار! خبردار! اگر تم نے یہ بات دوبارہ اپنے منہ سے نکالی تو۔ بالکل چپ رہنا، آئندہ یہ بات نہ کرنا۔ اگر یہ بات باپ اور بھائی نے سن لی تو ان کا بہت سخت ردِعمل ہوگا۔)
دیانہ کی ماں اسے پیٹتے ہوئے بولیط، دیانہ کے خواب ٹوٹ چکے تھے، اسے جس چیز کا ڈر تھا وہی ہوا، اس کی ماں نے اسے ہمیشہ کے لئے یہ راز اپنے سینے میں دبائے رکھنے کو کہ دیا۔ دیانہ کے آنسو خشک ہو گئے تھی، وہ رونا چاہتی تھی مگر وہ نہیں پا رہی تھی۔ اس کی ماں اسے چپ رہنے کی تاکید کر کے وہاں سے اٹھ گئی مگر دیانہ تقریباً دو گھنٹے تک وہیں پتھر کا مجسمہ بنے بیٹھی رہی۔
✧✧✧✧⁠✧
رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ آسمان گہرے نیلے رنگ سے سیاہی کی طرف مائل تھا، اور کہیں کہیں ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ گلیاں دن بھر کے شور سے آزاد ہو کر ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوب چکی تھیں۔ شرجیل کام سے واپس آیا، آکر اپنا موبائل چارج پر لگایا اور سیدھا بیڈ پر آگِرا۔ اس کے موبائل میں بیٹری نہیں تھی اس لئے فون بند ہو گیا تھا ، کچھ دیر بعد اس نے جیسے ہی موبائل آن کیا تو میسجز کی برسات شروع ہو گئی۔ موبائل بجنے لگا ، شرجیل نے پریشانی میں فوراً دیکھا کہ اتنے میسج کس کے ہو سکتے ہیں!! اس نے موبائل اٹھایا اور دیکھا کہ دیانہ کے ڈھیروں میسج اور سینکڑوں کالز تھیں۔ اس نے ایک ایک کر کے دیانہ کے میسج پڑھنے شروع کیے۔
“شرجیل میں نے امی سے تمہاری بات کی تھی۔”
“شرجیل وہ نہیں مانیں۔”
“اب ہم کیا کریں گے۔”
“میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔”
“تم ایسے کرو کہ اپنے گھر والوں کو میرے گھر رشتے کے لئے بھیج دو۔”
“شرجیل اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔”
“تم انہیں فوراً ہمارے رشتے کی بات کرنے کے لئے بھیجنا۔”
اور بھی مزید میسجز۔۔۔۔۔۔۔
شرجیل وہ پڑھتا گیا ، شرجیل کسی رئیس باپ کا بیٹا نہیں تھا ، بلکہ وہ بھی ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ جس کے چھ بھائی اور دو بہنیں تھیں اور سارے ہی بھائی اپنے گھروں سے دور دور علاقوں میں جا کر نوکریاں کر رہے تھے۔ شرجیل کا ویسے تو منشہرہ سے تعلق تھا لیکن کام کے سلسلے میں وہ مردان آیا تھا اور مردان میں وہ ایک چھوٹے سے مارٹ پر سیلز مین کی نوکری کرتا تھا۔ جہاں اس کی دیانہ سے پہلے ملاقات ہوئی اور انہیں ایک دوسرے سے محبت ہوئی اور روابط قائم ہوئے۔ اور اس کے دو بھائی کام کے سلسلے میں کوہاٹ ہوتے تھے، اور دو پشاور اور ایک بھائی والدین کے پاس منشہرہ ہی۔ شرجیل سب سے چھوٹا تھا۔
✧✧✧✧⁠✧
“لورې، دروازه خلاصه کړه۔”
(لڑکی دروازہ کھول) دیانہ کی ماں نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اسے آواز لگائی۔
دیانہ نے دروازہ کھولا اور چارپائی پر آکر بیٹھ گئی۔۔ اس کی ماں اس کے پاس جا کر بیٹھی اور کہنے لگی۔
“ستا ترور د خپل زوی لپاره ستا رشتہ رالیږلی دی، او هغوی پسونو د منګني رسم لپاره راځي۔”
(تیری پھوپھی نے اپنے بیٹے کا رشتہ بھیجا ہے تیرے لئے اور وہ پرسوں منگنی کی رسم کرنے آرہے ہیں۔)
اس کی ماں اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
“اماں!” دیانہ حیرانی سے بولی۔
“اې چپ شه! ما خو سهار ویلي وو چې د دې خبرې په اړه هېر کړه او بیا یې یاد مه کړه۔”
(ارے چپ کرو! میں نے صبح کہا تھا نا کہ اس کے بارے میں بھول جاؤ اور دوبارہ ذکر مت کرنا۔) دیانہ کی ماں سختی سے گویا ہوئی۔ کہ اتنے میں ہی دیانہ کا موبائل بجنے لگا۔ اس کی ماں نے فوراً اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور نمبر دیکھا۔
“واه! نو د ستا د عاشق نوم شرجیل دی؟ تا ته لږ هم حیا نشته! زه به ستا ترور ته ووایم چې سبا سهار راشي ستا د رسم لپاره۔”
(واہ! تو شرجیل ہے تمہارے عاشق کا نام۔ تمہیں تو ذرا حیا نہیں آتی۔ پرسوں نہیں تمہاری پھوپھی کو بولتی ہوں صبح ہی آئے تمہاری رسم کے لیے۔) اس کی ماں نے کال کاٹی اور غصے سے پاؤں زمین پر پٹختی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔ دیانہ نے شرجیل کو دوبارہ کال کی اور اسے ساری بات سنانے لگی۔
“دیانہ میرے گھر والے تو منشہرہ میں ہوتے ہیں اور میں نے تمہیں بتایا بھی تھا کہ میں یہاں اکیلا ہوتا ہوں۔” شرجیل پریشانی میں بولا۔
“شرجیل تو پھر میں کیا کروں گی۔ صبح میری پھوپھی رسم کرنے آرہی ہے۔” دیانہ نے روتے ہوئے جواب دیا۔
“دیانہ میرے پاس ایک حل ہے۔ تم پریشان نہ ہو۔”
“کیا حال؟ جلدی بتاؤ۔”
“دیانہ! تم گھر سے بھاگ چلو۔ ہم دونوں نکاح کر لیں گے۔”
ابھی شرجیل کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ دیانہ اس کی بات کاٹتے کوئی بولی۔
“کیا!! نہیں شرجیل میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔”
“دیانہ! ابھی ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں ہے۔ ہمارے پاس یہی واحد راستہ ہے۔”
“شرجیل! ہرگز نہیں۔۔”
“اچھا اگر نہیں ماننی میری بات تو پھر کر لو اپنی پھوپھی کے بیٹے سے شادی۔۔” شرجیل سخت طنزیہ انداز میں بولا۔
دیانہ نے خود پر قابو پاتے ہوئے اس سے ہامی بھری۔ “ٹھیک ہے شرجیل۔ میں تیار ہوں۔ مگر ہم پہلے نکاح کریں گے۔” دیانہ نے گھبراتے ہوئے کہا۔
“شاباش! تم اپنا سامان وغیرہ تیار کرو۔ میں رات ٹھیک گیارہ بجے تمہارے گھر کے باہر آ کر تمہیں میسج کروں گا اور کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔”
دیانہ نے یہ سن کر ہاں میں ہامی بھری اور کال کاٹ دی۔ وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لینے جا رہی تھی۔
اس نے اپنی محبت کی خاطر اپنے والدین کو دھوکہ دینا چاہا ، کیونکہ وہ اپنی محبت کو دھوکہ نہیں دینا چاہتی تھی۔ لڑکیاں یہ پتا نہیں کیوں نہیں سوچتی کہ ان کے کسی غلط فیصلے کی وجہ سے ان کے ماں باپ کو کس ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نا ہی بیشتر والدین یہ سوچتے ہیں کہ ان کے کسی فیصلے ، یا بلاوہ کی سختی ، یا غیر ضروری ضد اور رسم و رواج کی وجہ سے اولاد کو پوری زندگی کیسے مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دیانہ یہ تو جانتی تھی کہ اس کے بھاگ جانے سے اس کے ماں باپ کو لوگ معاشرے میں جینے نہیں دیں گے مگر اس نے اپنی محبت کو قائم رکھنے کا فیصلہ کیا۔
✧✧✧✧⁠✧
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے، اس کے گھر میں سب سو گئے تھے ، ہر طرف سناٹا تھا دور دور تک اندھیرا تھا ، اس خاموشی میں صرف پھاٹک سے گزرتی ہوئی ریل گاڑی اور گلی میں بھونکتے ہوئے کتوں کی آواز آ رہی تھی اور اچانک دیانہ کا موبائل وائبریٹ ہوا “میں آگیا ہوں باہر آ جاؤ” اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور شرجیل کی طرف سے کیا گیا میسج پڑھا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے مگر وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے ابھی یہ نہ کیا تو اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر کروا دی جائے گی اس نے اپنا بیگ پکڑا جس میں اس نے پہلے سے ہی اپنا کچھ سامان ڈال رکھا تھا اور دبے دبے قدموں سے دروازے کی طرف بڑھنے لگی اس نے دروازے کے پاس پہنچ کر ایک دفعہ پیچھے مڑ کر اپنے گھر کو دیکھا اس گھر میں دیانہ کے بچپن سے لے کر ابھی تک کا گزارا ہوا ایک ایک لمحہ اسے یاد آیا وہ سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا، کہ اتنے میں پھر سے اس کا موبائل وائبرئیٹ ہوا دیکھا تو شرجیل کا ایک اور میسج ، اس نے دروازہ کھولا اور سامنے شرجیل سائیکل پر اس کا انتظار کر رہا تھا۔
شرجیل نے ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لے رکھا تھا جس میں صرف ایک کمرہ ، کچن اور ایک غسل خانہ تھا، صحن اتنا تھا کہ ایک چارپائی بھی نہیں بچھائی جا سکتی تھی۔
شرجیل خان دیانہ کو اس مکان میں لے آیا مگر پھر بھی دیانہ کو کوئی اعتراض نہ تھا۔
“آجاؤ! دیانہ!” شرجیل اسے پیار سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“شرجیل میرا کمرہ کہاں ہے؟” دیانہ کمرے میں داخل ہوئی اور حیرانی سے بولی کیونکہ اسے چھوٹے گھر سے کوئی مسلہ نہیں تھا مگر اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہاں ایک ہی کمرہ ہے۔
“یہ ہمارا ہی کمرہ ہے۔” شرجیل نے جواب دیا۔
“مگر شرجیل ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا ، ہم ایک کمرے میں کیسے رہ سکتے ہیں؟”
“ارے کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی تو ہم نے صبح نکاح کر لینا ہے تو ایک رات سے کچھ نہیں ہوتا”
نہیں شرجیل! ہم ابھی نکاح کریں گے چلو تم۔”
“کہاں چلوں؟ گھڑی دیکھو پونے بارہ بج رہے ہیں ابھی چپ کر کے لیٹ جاؤ”
“شرجیل میں یہاں نہیں رہ سکتی تم مجھے واپس چھوڑ کر آؤ ہم پہلے نکاح کریں گے۔”
“کہاں چھوڑ کر آؤں جہاں سے بھاگ کر آئی ہو!!” شرجیل طنزیہ انداز میں بولا۔
دیانہ کے پاس بھی کوئی حل نہ تھا وہ بھی جانتی تھی کہ اس کے گھر والوں کو ابھی تک پتا چل گیا ہو گا تو وہ چپ کر کے پلنگ پر لیٹ گئی اس نے کروٹ لیا دیوار کی طرف منہ کر کے اس گھر میں گزارا ہوا وقت یاد کرنے لگی کہ اسے پلنگ پر کسی اور چیز کا وزن بھی محسوس ہوا اس نے دھیان نہ دیا مگر اس کے جسم پر آہستہ آہستہ انگلیاں گردش کرنے لگیں ، تو وہ ایک دم اٹھی دیکھا تو شرجیل اس کے بالکل قریب لیٹا تھا۔
“کیا ہوا اُٹھ کیوں گئی؟” شرجیل شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
“شرجیل ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا تو تم پلیز مجھے سے دور رہو۔” دیانہ گھبراتے ہوئے بولی۔
شرجیل اٹھ کر بیٹھا اور دیانہ کے قریب ہوتا گیا کہ دیانہ پلنگ سے اٹھ بھی نہ سکے کہ اچانک دیانہ کی نظر شرجیل کی چھاتی پر پڑی ، شرجیل بغیر قمیص کے تھا۔ دیانہ نے فوراً اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے اور چلانے لگی۔
“شرجیل دور رہو مجھے سے تمہیں خدا کا واسطہ۔”
“اگر تم سے دور ہی رہنا ہوتا تو تمہیں یہاں کیوں لاتا۔” شرجیل اس کے اور قریب ہوتے ہوئے بولا۔
دیانہ چلاتی رہی مگر وہ وہاں سے بھاگ نہیں پا رہی تھی، کیونکہ پیچھے دیوار ایک طرف پلنگ کی ٹیک اور باقی اطراف سے شرجیل نے اسے گھیرا ہوا تھا۔
رات کے دو بج چکے تھے دیانہ بستر پر برہنہ حالت میں لیٹی ہوئی تھی، اور شرجیل پاس کھڑا درندوں کی طرح ہنس رہا تھا۔ دیانہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے وہ اپنے گھر والوں کی عزت کو خاک میں ملا کر آئی تھی ابھی اس کی عزت پر دھبہ لگ چکا تھا۔
شرجیل نے پھر سے دیانہ کی طرف قدم بڑھایا اور دیانہ کے گلے کی نزدیک آ کر بیٹھ گیا دیانہ چیخیں مارتی رہی مگر سانس کی دشواری کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی، شرجیل نے پھر سے اس کے ساتھ زیادتی کی، ساری رات دیانہ تکلیف سے بے ہوش رہی اور شرجیل بھی اس پر اپنی حوس نکالتا رہا ، کہ کچھ دیر بعد دور کی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز گونجی ، شرجیل فوراً دیانہ سے دور ہو گیا اور غسل کے لئے چلا گیا اور پھر مسجد کے لئے روانہ ہو گیا ، شرجیل بظاہر تو بہت شریف ، نیک اور اچھی شکل کا مالک تھا مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اُس کی اِس اچھی شکل کے پیچھے ایک درندہ چھپا ہے۔
شرجیل مسجد سے واپس آیا تو دیانہ کو ابھی بے ہوش پاتا ہے۔ اس کا درندگی والا روپ پھر سے ظاہر ہوا اور دیانہ کو ہوش میں لانے کے لئے اس کے چہرے پر اس نے پانی چھڑکا ، جس سے دیانہ کی آنکھیں جھپکی، اس نے آہستہ آہستہ کر کے اپنی آنکھیں کھولی اور جیسے ہی ہوش میں آئی تو شرجیل کو اپنے سامنے دیکھ کر زور سے چیخنے لگی، مگر کوئی اس کی پکار سننے والا نہ تھا، پھر اس کی نظر اپنے بدن پر پڑی تو اس پر کچھ نہ تھا وہ جلدی سے بیڈ شیٹ اپنے اوپر اوڑھ کر رونے لگی۔
“جاؤ دیانہ ذرا ناشتہ تو بنا دو” شرجیل شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ دیانہ کو تنگ کرتے ہوئے بولا۔
“دفعہ ہو جاؤ تم ، دور ہو جاؤ مجھ سے” دیانہ آنکھوں میں آنسو لیے چلاتی ہوئی بولی۔
“مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔” شرجیل چلا کر مزید دیانہ کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔
“چلاؤں گی۔ ہزار مرتبہ چلاؤں گی۔” دیانہ پھر سے چیختے ہوئے بولی۔
“لگتا ہے رات کو جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا ہے وہ بھول گئی ہو، پھر سے کچھ یاد دلاؤں۔”
“نہیں، نہیں، پلیز شرجیل نہیں۔ شرجیل یہ گناہ ہے۔” دیانہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی۔”
“گناہ مجھے ہی ملے گا نا !!”
شرجیل بہت ڈھٹائی سے مسکراتے کر بولا۔
“اور ویسے بھی اللّٰہ بہت رحیم ہے معافی ہو جائے گی۔” شرجیل ہنستے ہوئے کہا۔
“نہیں شرجیل ، معافی نہیں ہو گی بےشک وہ رحیم ہے لیکن یہ گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا ضرور ملے گی۔ کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان جتنی مرضی ایڑیاں رگڑے لیکن ان گناہوں کی معافی نہیں ملتی۔ تم زنا کر رہے ہو یہ گناہ کبیرہ انہی گناہوں میں سے ہے۔”
شرجیل نے دیانہ کی ایک نہ سنی کیونکہ اسے اب کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اس نے پھر سے دیانہ پر درندہ وار حملہ کیا۔ دیانہ ابھی صرف بیس سال کی تھی زیادہ ظلم سہنے کی وجہ سے وہ پھر سے بے ہوش ہوگئی، اور اب کی بار وہ مسلسل دو دن تک نیم بیہوشی کی حالت میں رہی۔ وہ محسوس کر پاتی کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے مگر نہ اس میں بولنے کی ہمت تھی نہ بات کرنے کی نہ ہونے کی۔ وہ ایک زندہ لاش کی مانند دو دن اس درندے کا شکار بنی رہی۔ شرجیل کو اس کی کوئی پروا تھی وہ اپنے نفس کی سن رہا تھا اور اس پر عمل کر رہا تھا۔ ہمیں ہمیشہ اپنے نفس کی بات نہیں سننی چاہیے خواہ ہمارے پاس کتنے ہی مواقع کیوں نہ آئے لیکن ہر جگہ نفس کو اول درجے پر رکھنا قطعاً جائز نہیں۔ کئی بار ہمارا نفس ہمیں بہت گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مومن وہی ہے جو گمراہ نہ ہو ، مگر شرجیل نفس کے ہاتھوں گمراہ ہو گیا تھا اور اس نے دو دن بے ہوش دیانہ کے ساتھ جی بھر کے زیادتی کی اسے خوب زیادتی اور درندگی کا نشانہ بنایا اصل مرد تو وہ ہوتا ہے جو عورت کی عزت کرنا جانتا ہو۔ جو اس کی عزت کی حفاظت کرنا جانتا ہو۔ نا کہ وہ جو خود ہی اس کی عزت نوچ لینے والا ہو اور نا ہی وہ جو اپنے نفس پر قابو نہ پا سکے ۔ جو کسی کی عزت نہیں کرنا جانتا اسے درندے کا نام دیں تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔
✧✧✧✧⁠✧
صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ سورج پوری طرح سے اپنی روشنی پھیلا چکا تھا اور آہستہ آہستہ اپنی تپش مزید بڑھا رہا تھا۔ لوگ اپنے اپنے کاموں کے لئے نکل گئے تھے، اور بچے بھی اس وقت تک سکول جا چکے تھے۔ محلے کی گلیوں میں تھوڑی خاموشی تھی مگر ہر طرف دیانہ کے متعلق سرگوشیوں کی آوازیں گونج رہی تھی۔
زیبا پام کوه، زه کثافات غورځولو ته روانه یم۔”
(زیبا دھیان رکھنا، میں کوڑا پھینکنے جا رہی ہوں۔)
خالدہ ، دیانہ کی پڑوسن تھی ، وہ اپنی بیٹی زیبا کو گھر کا بتا کر گھر سے کوڑا پھینکنے نکلی۔ جیسے ہی وہ نالے کا پاس پہنچ کر اپنا کوڑے دان خالی کر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر ایک لال رنگ کے بیگ پر پڑی۔
(یہ اتنا پیارا بیگ کون یہاں چھوڑ گیا ہے؟ دیکھتی ہوں کہ ٹھیک ہے تو کے جاتی ہوں۔) خالدہ خود سے باتیں کرنے لگی۔ جیسے ہی وہ بیگ کے قریب پہنچی اور بیگ کھولو تو اچانک اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑی۔ (ہائے یہ تو بہت اچھے کپڑے ہیں، پتا نہیں کون اسے یہاں چھوڑ گیا!! یہ تو میری زیبا کو بلکل ٹھیک آئیں گے۔) خالدہ بیگ اٹھانے کا سوچ کی رہی تھی کہ ساتھ ہی اس کی نظر بوری پر پڑی۔ (اس بوڑی میں کیا ہو سکتا ہے؟ خیر دیکھ لیتی ہوں کیا پتا کوئی کام کی چیز ہو۔) یہ سوچ کر اس نے بوری کے گرد لپٹی پٹی کو اتارا اور بوری کو کھول کر دیکھا۔
“آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
✧✧✧✧⁠✧
دوسری طرف دیانہ کے گھر والے تین دن سے دیانہ سے کے لئے پریشان تھے۔ اس کی ماں کو کچھ اندازہ تھا کہ دیانہ ضرور اسی لڑکے کے ساتھ ہو گی مگر اس نے ڈر کے مارے اپنا منہ نہ کھولا کہ سب اسے قصوروار کہیں گے۔ وہ خاموش رہی اور اس کی خاموشی ہی سب سے بڑی غلطی تھی۔
ایک دن پہلے کا منظر:
شرجیل ، دیانہ کے لئے بہت پریشان تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب اگر اس نے اس سے نکاح کا کہا تو وہ ہرگز انکار کر کے مجھ سے سوال کرے گی۔ تقریباً عصر کا وقت ہو گیا، سورج بس ڈھلنے کو ہی تھا ، چند نایاب کرنیں ابھی فضا میں باقی تھیں۔ شرجیل نے نیم بیہوشی میں ہی دیانہ کو چھ نیند کی گولیاں کھلا دی اور اسے بوری میں ڈال دیا۔ جیسی ہی رات ہوئی شرجیل نے فوراً دیانہ کو اٹھایا اور اس کے سامان والے بیگ کو بھی ساتھ لیا اور چل پڑا۔ رات کے اس پہر گلیوں میں بلکل سناٹا تھا کوئی بندے کی ذات وہاں نہ تھی۔ وہ اس بوری اور بیگ کو دیانہ کے محلے کے قریب والے نالے کے پاس پھینکا آیا۔ شرجیل نے اسی رات اس مکان کو خالی کیا اور منشہرہ کے لئے بس پر بیٹ گیا۔ راستے میں جاتے یوئے ہی اس نے اپنے موبائل سے سیم نکالی اور اسے توڑا بس کی کھڑکی سے باہر پھینک دی۔ شرجیل یہ سب کچھ کر کے بہت گھبرا گیا تھا اس لیے اس نے اسی وقت شہر چھوڑنے کے فیصلے کو ہی چنا اور وہاں سے نکل گیا۔ ویسے کتنا آسان ہے نا لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا۔ ان کے جذبات کو توڑنا ، ان کے جسم کی تذلیل کرنا اور پھر وہاں سے بھاگ نکلنا ، کسی انسان کو دھوکہ دینا اور پیار کے جھوٹ وعدے کر کے جسم نوچنا۔
اور دوسری جانب، دیانہ، وہ اپنے گھر والوں کو دھوکہ دے کر گھر سے بھاگی تھی مگر پھر اس کے ساتھ اس کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ ہوا۔ اس کے ساتھ اس کی زندگی میں ہی مکافات ہو گیا۔ ہم کسی کے ساتھ بھی ظلم کریں کسی کو بھی تکلیف دیں تو مکافاتِ عمل ضرور ہوتا ہے۔ چاہے وہ جلد ہو یا بدیر۔
✧✧✧✧✧
“زرمینه! زرمینه! های، غټ مصیبت وشوه!”
(زرمینه! زرمینه! ہائے غضب ہو گیا۔)
“های، د زرمینې لور! هغه درندې وخوړه.”
(ہائے زرمینه کی بیٹی! اسے درندہ کھا گیا۔)
خالدہ پورے محلے میں یہی آوازیں لگاتی ہوئی زرمینه کے گھر کی طرف بھاگ رہی تھی۔
“ارې خالده! د زرمینې لور ته څه شوي دي؟ موږ ته هم څه ووایه.”
(ارے خالدہ ! کیا ہوا ہے زرمینہ کی بیٹی کو ؟ ہمیں بھی کچھ بتاؤ۔)
راستے میں دو عورتیں خالدہ کو روکتے ہوئے بولی۔
“ارې لاړ شئ او د نالې ترڅنګ وګورئ. دیانه هلته په بوجۍ کې پرته ده.”
(ارے جا کر نالے کے پاس دیکھو۔ دیانہ وہاں بوری میں پڑی ہوئی ہے۔)
خالدہ یہ کہتی ہوئی پھر سے آگے بڑھی۔ اور تمام عورتیں نالے کی طرف دیانہ کو دیکھنے کے لئے بھاگی۔
“زرمینې زرمینې، دروازه خلاصه کړه! ستا له لور سره ظلم شوی دی.”
(زرمینه زرمینه دروازہ کھولو! تمہاری بیٹی کے ساتھ ظلم ہو گیا۔)
خالدہ زور زور سے زرمینه کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتی کوئی بولی۔ زرمینه جو کہ پہلے ہی اپنی بیٹی کے لئے پریشان بیٹھی تھی دروازے کی طرف بھاگی۔
“څه شوي دي، خالده؟”
(کیا ہوا خالدہ؟)
زرمینه گھبراتے ہوئے بولی۔ اس پر خالدہ نے مزید اونچی آواز میں جواب دیا۔
“زرمینې ستا له لور سره ظلم شوی دی.”
(زرمینه تمہاری بیٹی کے ساتھ ظلم ہو گیا۔)
یہ سنتے ہے زرمینه کی تو جیسے دنیا ہی اجڑ گئی، اور روتے ہوئے بولی۔
‘ته دا څه وایې خالدہ ؟ ته دا څه وایې؟”
(یہ تم کیا کہہ رہی ہو خالدہ؟ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟)
“څه چې ته اورې، هماغه دي. ستا لور د نالې ترڅنګ پرته ده. چا پرې ظلم کړی او هلته یې غورځولې ده. هغه حتمي له کوره تښتېدلې وه او دا یې انجام شو. ته زما سره راځه.”
(جو تو سن رہی ہے۔ تیری بیٹی نالے کے پاس پڑی ہے۔ کوئی اس پر ظلم کر کے اسے وہاں پھینک گیا ہے۔ وہ پکا گھر سے بھاگی تھی اور یہ انجام ہوا۔ تو میرے ساتھ چل۔)
خالدہ کا جواب سنتے ہی زرمینه کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ وہ بغیر جوتی اور دوپٹا پہنے گھر سے ننگے پاؤں اور ننگے سے نالے کی طرف بھاگی۔ جہاں پہلے ہی آدھا محلہ کھڑا ہو کر دیانہ اور زرمینه کو کوس رہا تھا۔ اور زرمینه کو دیکھ کر محلے والے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔
“راغلې یې، بې‌حیاه ښځه!”
(آگئی ہے، بےحیا عورت)
“ته یو ماشومه هم ونه شوای ساتلای.”
(تم سے ایک بچی نہ سنبھالی گئی۔)
“موږ ته خو له مخکې نه معلوم و چې دا به حتمي له کوره تښتېدلې وي.”
(ہمیں تو پہلے ہی پتا تھا کہ یہ ضرور گھر سے بھاگ گئی ہے۔)
“های، ظالم څه حال کړی دی!”
(ہائے، ظالم نے کیا حال کیا ہے!)
لوگوں کی باتیں ، سرگوشیاں اور دیانہ کو سب محلے والوں کے سامنے برہنہ حالت میں چوری میں پڑے دیکھ کر زرمینه خود کو سنبھال نہ سکی اور بے قابو ہو کر بے ہوش ہو کر وہیں گِر پڑی۔
✧✧✧✧⁠✧
ٹھیک بارہ بج رہے تھے ، سورج زور و شور سے اپنی تپش چھوڑ رہا تھا، ہر طرف سناٹا اور خوف کے بادل چھائے چھائے ہوئے تھے۔ ہسپتال میں گہما گہمی کا عالم تھا ، سب لوگ دیانہ کی قسمت کا افسوس کر رہے تھے، دیانہ کو ایمرجنسی وارڈ ۔یں منتقل کیا گیا اور اس کی ماں جو کے صدمے کی وجہ سے اب تک بے ہوش تھی۔ وہ ہسپتال کے ایک کمرے میں لیٹی تھی۔ دیانہ کا باپ لوگوں سے نظریں چراتا پھر رہا تھا۔ اسکی بیٹی نے اسے زمانے کے سامنے رسوا کر دیا تھا۔
“شیر خان کون ہے؟”
پولیس والا ہسپتال میں داخل ہوتے ہوئے اونچی آواز میں بولا۔ سب لوگوں کی نظریں شیر خان پر پڑی جو کہ اپنی پگڑی سے اپنا منہ چھپا رہا تھا اور اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تم ہو شیر خان!! تو تمہیں کس پر شک ہے کہ کون تمہاری بیٹی کا ظالم ہے۔۔ رپورٹ لکھنے کے لئے تمہارا بیان ضروری ہے۔
سر مجھے کسی پر کوئی شک نہیں اور نہ ہی میں کسی کے خلاف رپورٹ درج کروانا چاہتا ہوں۔ شیر خان نے شرم کے مارے رپورٹ درج کروانے سے منع کر دیا۔
“کیسے باپ ہو تم !!”
ابھی پولیس افسر کی بات مکمل نہ ہے ہوئی تھی کہ ڈاکڑ وہاں ڈاکڑ آگئی۔
“کیا ہوا ! پولیس آگئی۔۔ شیر خان تم نے بیان لکھوایا ؟”
ڈاکٹر نہایت عاجزی سے بولی۔
“ارے ڈاکٹر صاحب یہ تو کہہ رہا ہے کہ اسے بیان ہی نہیں دینا اور نہ ہی رپورٹ لکھوانی ہے۔’
پولیس افسر سرد اور خشک لہجے میں ڈاکٹر سے گویا ہوا۔
“مگر کیوں شیر خان؟ اس درندے نے تمہاری بیٹی کا اتنا برا حال کر دیا ہے اور تم اس کے خلاف کاروائی نہیں کرو گے۔”
ڈاکٹر بہت حیرانی سے شیر خان سے مخاطب ہوئی۔
“ڈاکٹر صاحبہ! میں مزید لوگوں کے طعنے نہیں سن سکتا۔”
یہ کہتے ہی شیر خان خود پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پولیس افسر ، ڈاکٹر کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا اور ڈاکٹر کے اشارے پر پولیس وہاں سے چلی گئی۔ شیر خان ایک بیٹی کا باپ تھا اور اس پر کیا گزر رہی تھی وہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
پولیس کے جانے کے بعد ، ڈاکٹر ، شیر خان سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی۔
“جی میں آپ کو یہ بتانے آئی تھی کہ آپ کی بیگم کو ہوش آگیا ہے انہیں مگر ابھی انہیں ڈرپ لگی ہے۔ آپ ان سے جا کر مل سکتے ہیں اور آپ کی بیٹی ابھی زیرِ علاج ہیں ہیں۔ اس درندے نے اس کے جسم کو جگہ جگہ سے نوچا ہے آپ بس دعا کریں کہ وہ بس بچ جائے۔
اوپر دیانہ کا باپ روتے ہوئے بولا۔
“اب اس کے زندہ رہنے سے ہمیں کیا فائدہ !! ہماری عزت تو خاک میں ملا کر چلی گئی تھی نا ہم پر تو کیچڑ اچھال کر چلی گئی تھی نا۔”
“آپ ایسی باتیں نہ کریں۔ حوصلہ نہ ہاریں اور اپنی بیگم کو جس کر تسلی دیں۔” ڈاکٹر ، شیر خان کو حوصلہ دیتے ہوئے بولی۔
“پولیس راغلې وه، شیر خان؟”
(پولیس آئی تھی شیر خان؟)
شیر خان جیسے ہی ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا، زرمینه فوراً اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
“هو، راغلې وه او ما بېرته ولېږله. ما نه راپور وليکه او نه مې بيان ورکړ.”
(ہاں آئی تھی اور میں نے واپس بھیج دیا۔ میں نے رپورٹ نہیں لکھوائی اور نہ ہی بیان دیا۔)
“تا ولې بيان ور نه کړ؟ ته ولې هغوی پرېښودل چې ولاړ شي؟ هغوی ودروله. زه غواړم چې زما د لور مجرم ته سزا ورکړل شي.”
(تم نے کیوں نہیں بیان دیا؟ تم نے انہیں کیوں جانے دیا؟ انہیں روکو۔ مجھے اپنی بیٹی کے گناہ گار کو سزا دلوانی ہے۔)
زرمینه اپنے شوہر کا گریبان پکڑ کر روتے ہوئے چلا کر بولی۔
“ارې، ستا عقل خو نه دی خراب شوی؟ خلک به څه وايي؟ ته خبر يې چې خلک څه څه خبرې کوي؟ لا مخکې هم خلکو په پوښتنو پوښتنو موږ وشرمول چې ستا لور له چا سره تښتېدلې وه، ولې تښتېدلې وه او له هغې سره څه شوي وو؟ اوس ولې ته ټینګه”
(ارے تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا؟ لوگ کیا کہیں گے؟ تمہیں اندازہ ہے کہ لوگ کس کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ پہلے ہی لوگوں نے سوال کر کر کے ذلیل کر دیا ہے کہ تمہاری بیٹی کس کے ساتھ بھاگی تھی کیوں بھاگی تھی اس کے ساتھ کیا ہوا؟ اب کیوں معاشرے میں مزید ہماری بدنامی کروانے پر تُلی ہوئی ہو۔)
شیر خان روتے ہوئے بیوی سے سخت لہجے میں مخاطب ہو کر بولا اور پھر وہیں نیچے بیڈ کے ساتھ ڈھیر ہو کر گرِ گیا۔
✧✧✧✧⁠✧
کیس ختم کروا دیا گیا اور دیانہ کا علاج شروع کیا گیا، دیانہ دو مہینے تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہی۔ وہ بولنا بھول چکی تھی جو کوئی اس سے کوئی بات کرتا وہ جواب نہ دے پاتی اسے یاد نہ تھا کہ اس کہ ساتھ کیا ہوا۔ دو مہینے بعد دیانہ نے آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا اس کا علاج مکمل ہوا اور گھر لے جایا گیا۔
دو مہینے میں اس کے رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور محلے والوں نے اس پر کتنی انگلیاں اٹھائی کتنا کیچڑ پھینکا اس کا اندازہ دیانہ کو نہ تھا۔
اس نے گھر آ کر انصاف کے لئے آواز اٹھانے کی کوشش کی مگر سے خاموش کروا دیا گیا ، اسے خاموش کروا دیا گیا یہ کہ کر کہ لوگ کیا کہیں گے ، اسے خاموش کروا دیا گیا یہ کہ کر کہ ہماری بچی کُچی عزت خاک میں مل جائے گی ، اسے خاموش کروا دیا گیا یہ کہ کر کہ تمہارا رشتہ نہیں ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ گھر میں بیٹھی بہنیں بھی کنواری رہ جائیں گی ، اس خاموش کروا دیا گیا یہ کہ کر کہ غلطی تمہاری تھی۔ نجانے روز کتنی ہی ایسی آوازوں کو خاموش کروایا جاتا ہو گا۔ نجانے کتنی ہی بچیاں ہوں گی جنہیں انصاف کے حق سے محروم رکھا جاتا ہو گا صرف یہ کہ کر کہ لوگ کیا کہیں گے، اور نجانے اس خاموشی سے شرجیل جیسے کتنے ہی درندوں کو آزادی ملتی ہو گی ، انہیں اس سے کتنی شے ملتی ہو گی جو ایک بار یہ کر چکا ہے وہ اب بار بار لوگوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلے گا اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور اب وہ کتنے گھر خراب کرے گا ، صرف اور صرف ایک جملے کی وجہ سے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اگر کسی ایک کو عبرت کو نشان بنا دیا جائے تو آئندہ کوئی یہ قدم نہیں اٹھائے گا۔ یہ ذلت اٹھانے کی بجائے اگر بچوں کی پسند سے دیکھ بھال کر عزت سے ان کی شادی کر دی جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔ پاکستان میں ہزاروں ریپ کیسز ہوتے ہیں مگر انصاف کے لئے آواز صرف کچھ گنے چنے لوگ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم سب مل کر اس جنگ کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو جیت ہماری ہی ہو گی جیت ان بچیوں کی ہو گی جنہوں نے ظلم سہا ہوگا۔ ہمیں اپنے نفس کی ہر بات کو رد کر کے پیغام الہی پر عمل کرنا چاہیے اور ہمارے معاشرے میں کوئی بھی ایسا واقعہ ہو تو ہمیں ان کے ساتھ مل کر آواز اٹھانی چاہیے نا کہ ہم بھی لوگوں کی طرح باتیں بنائیں اور پھر کسی اور کو بھی یہ کہ کر خاموش کروا دیا جائے کہ لوگ کیا کہیں گے، ہمیں ان لوگوں میں سے نہیں بننا ہمیں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اور پھر کیا ہوا؟ اور پھر دیانہ کو خاموش کروا دیا گیا، اس کی آواز کو دبا دیا گیا۔

ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *