بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سَلَاسِل
از قلم محمد حماد علی
انتساب:
یہ تحریر “سَلَاسِل” میرے اپنے نام۔۔۔
“محمد حماد علی گورسی” کے نام۔۔۔
صبح ہو گئی تھی مگر” اس” کے اندر ابھی بھی رات کا اندھیرا تھا۔ باہر سے چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں آ رہی تھیں مگر اس کے کانوں میں وہ آوازیں دھندلی پڑ چکی تھیں۔
وہ اپنے گھر کے کچن میں کھڑا اپنے لیے ناشتہ بنا رہا تھا۔ وہ اس گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا۔ اس کے ماں باپ بہن بھائی اور بیوی سب مر گئے تھے۔ اس کے دل میں ہر وقت الجھن اور بے چینی رہتی۔ کسی رات بھی اسے سکون سے نیند نہ آتی۔
باہر دروازے کی گھنٹی بجی، وہ کھانا چھوڑ کر دروازے کی جانب بڑھا۔ کمرے میں جلتا زرد بلب دیواروں پر مدھم سائے بکھیر رہا تھا جب کہ باہر عجیب سی خاموشی چھائی تھی۔ اس نے دروازہ کھولا تو باہر کوئی موجود نہیں تھا۔ گلی بلکل سنسان پڑی تھی یوں لگا کہ جیسے ابھی کوئی زندگی گزر کر کہیں چھپ گئی ہو۔
اچانک ٹھندی ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔ چند لمحوں میں مٹی کے باریک ذرات فضا میں اڑنے لگے۔ ہوا کی سرسراہٹ اب ایک خوفناک شور میں بدل گئی اور خشک پتوں کی چرچراہٹ اور بند کھڑکیوں کی کپکپاہٹ اس ماحول کو مزید پر اسرار بنا رہی تھی۔ اور اس کی آنکھوں کو کچھ پل کے لئے دیکھنے سے مٹی کے اُڑنے کی اتنی شدت تھی کہ اس کی آنکھیں جلنے لگیں اور اس نے اپنی پلکیں زور سے بند کر لیں۔ مگر اب بھی ریت کے ذرے اس کے منہ سے ٹکرا رہے تھے۔ آسمان پر ہر طرف کالے بادل چھا گئے اور ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اسی لمحے آسمان کو چیرتی ہوئی بجلی چمکی اور چند لمحوں کے لئے پورا منظر سفید روشنی میں ڈوب گیا۔ اسی روشنی میں اسے گلی کے کونے ، درختوں اور ہوا میں عجیب و غریب سائے حرکت کرتے نظر آئے۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی چیز کو ٹھیک طرح محسوس کر پاتا۔ ہوا اب چیخنے لگی اور بجلی کی گرج اتنی تیز ہو گئی کہ زمین ہلتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ وہ اس قدر خوفزدہ ہو گیا کہ اپنی آنکھیں بھی مکمل طور پرنہیں کھول پا رہا تھا۔ اس کا دل بے قابو دھڑکنے لگا۔ وہ اندر کی طرف بھاگا اور اس نے دروازہ زور سے پٹخ کر بند کر دیا مگر یوں محسوس ہوا کہ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے سائے بھی پھسل کر اندر کو آگئے ہوں۔
“یہ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ سب کیا تھا۔۔۔۔”
وہ ہڑبڑی میں خود سے باتیں کرنے لگا، اچانک پردے ہلنے لگے، فضا میں عجیب سی خاموشی چھا گئی، باہر سے آنے والا شور ختم ہوا اور بلب کی روشنی کم ہو گئی اور پھر غیب سے آواز آئی۔
“یہ کچھ نہیں تھا۔”
“یہ آواز کس کی تھی۔۔؟ کون ہے ؟ کون ہے وہاں۔۔۔؟”
وہ الٹی جانب پیچھے دیوار کی سمت چلتے ہوئے بولا، وہ دیوار کے ساتھ لگنے والا تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے اسے آگے کی طرف دھکا دے کر نیچے گرایا وہ جیسے ہی اٹھنے لگا پھر سے اسے کسی قوت نے زور سے پیچھے دیوار کی طرف پٹخا۔ اس کا سر دیوار میں لگا اور خون بہنے لگا۔ وہ وہیں بے ہوش ہو گیا اور فضا بلکل سرد ہو گئی۔ ماحول بلکل پہلے کی طرح ہو گیا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ سائے غائب ہو گئے ، باہر سے شور آنا بند ہو گیا ، کالے بادل ہٹ گئے ، آسمان کی گرج رک گئی اور پھر سے سورج ابھرنے لگا۔
✯✯✯✯✯
دوپہر اپنے پورے بوجھ کے ساتھ شہر پر جھکی ہوئی تھی۔ سورج کی تیز روشنی کھڑکی کے شیشوں سے ٹکرا کر کمرے میں پھیل رہی تھی، مگر اُس روشنی میں بھی عجیب سی گھٹن تھی۔ باہر سڑک تقریباً سنسان تھی، جیسے شہر تھک کر کہیں چھپ گیا ہو۔ پنکھا مسلسل چل رہا تھا جس سے “ٹک ۔۔۔۔ ٹک” کی آواز گونج رہی تھی۔ مگر اُس پنکھے کی آواز اس خاموشی کو مزید گہرا کر رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہا تھا، اس نے اپنی آنکھیں مسلی اور آٹھ کر جڑا ہوا اس کے سر سر بہتا ہوا خون دیوار پر اپنا رنگ چھوڑ گیا تھا اس نے اپنی حالت درست کی اور آکر کرسی پر بیٹھا۔ اس کے لئے صبح والے منظر کو قبول کرنا نا قابلِ یقین تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا۔
“مجھے واپس پرانے گھر جانا چاہیے۔۔۔ ہاں مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے۔۔ یہاں پر رہنا میرے لئے مشکل ہے اور خاص طور پر صبح والے واقعے کے بعد۔۔”
وہ ہمت کر کے اٹھا اپنے سر پر لگے زخم اور بہتا ہوا خون جو کہ اب تھم چکا تھا اسے صاف کرنے لگا۔ وہ کمرے میں اپنا سامان بیگ میں ڈال رہا تھا کہ اسے برآمدے میں کسی کی آہٹ سنائی دی اس نے دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر جھانکنے کی کوشش کی تو باہر کچھ سائے ٹیک رہے تھے۔ سائے خوفناک ، عجیب ، وجود مکمل ظاہر نہیں تھا ، چہرے سیاہ اور دھندلے اور ہوا میں اڑتے ہوئے۔ وہ آہٹ رکنے تک اندر ہی ٹھہرا اور کچھ لمحے بعد جب اس نے باہر کی فضا کو خاموش پایا اور قدموں کی چاپ بند ہوگئی تو وہ دھیرے سے باہر نکلا اور اب باہر کوئی سایہ تو نہ تھا لیکن اسے اپنے ارد گرد کسی کا وجود محسوس ہوتا رہا۔ اس نے فوراً سے اپنا سارا سامان لیا ، گھر سمیٹا ، بڑا لوہے کا تالا باہر والے دروازے کو لگایا اور نکل گیا ، نئے سفر کے لئے، نئی منزل کی تلاش کے لیے۔۔
✯✯✯✯✯
وہ بنچ پر بیٹھا ریل گاڑی کا انتظار کرتے ہوئے اپنے خیالوں میں گمُ تھا۔ ارد گرد کے شور سے اسے کوئی واسطہ نہیں تھا کہ اتنے میں پٹری پر آواز آنے لگی اور ایک زور دار ہارن بجا۔ ریل گاڑی آگئی تھی۔ سب ریل گاڑی کی جانب لپکنے لگے اور اپنی اپنی نشست تلاش کرنے لگے جب سارا ماحول سرد ہوگیا اور سب لوگ بیٹھ گئے تو وہ تنہا اٹھا اور ریل گاڑی پر چڑھا۔ اس کے دماغ میں شور مچا ہوا تھا۔ اسے بے چینی اور خوف کھائے جا رہا تھا۔ اسے معلوم بھی نہ ہوا اور کب وہ اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ اس نے یہ سفر اکیلے اپنے دماغ کے شور کے ساتھ کرتے ہوئے کاٹ لیا۔ وہ ریل گاڑی سے نکلتے ہی ٹیکسی میں بیٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کا دماغ خیالوں کی زنجیروں سے بندھ چکا تھا۔ ایسی زنجیریں جنہوں نے اس کا ساتھ نہ چھوڑا اور زندگی کے ہر پل اس کے ساتھ بندھی رہیں۔
یہ وہی گھر تھا جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا، جہاں اس نے اپنی جوانی کے خواب دیکھے تھے، جہاں اس نے اپنے ماں باپ کھوئے تھے جہاں کسی دن اس کی بیوی کی ڈولی آئی تھا اور وہاں سے ہی کسی دن اس کی بیوی کا جنازہ اٹھا تھا۔ جہاں اس نے اپنے بہن بھائیوں کو کھویا تھا۔
مغرب کی اذانیں ہو چکی تھیں۔ ہر طرف سناٹا چھایا تھا اور خوف کے بادل منڈلا رہے تھے۔ آسمان اپنا رنگ بدل رہا تھا اور سیاہی کی طرف مائل تھا۔ آسمان پر تارے ٹمٹما رہے تھے اور جگنو بھی اس اندھیرے میں اپنی روشنی کی شمع جلا رہی تھی۔ وہ ٹیکسی سے اترا اور حیدرآباد کے اس چھوٹے سے محلے میں اپنا قدم رکھا۔ وہ جیسے ہی اپنی گلی میں داخل ہوا ، مسجد سے نکلتے ہوئے ایک بزرگ نے اسے پہچانتے ہوئے دیکھا اور کہا۔
“تم آگئے !! تمہیں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”
“سلام چچا! مگر آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟”
اس نے آگے بڑھتے ہوئے پریشانی میں کہا، اتنے میں وہ بزرگ وہاں سے غائب ہو گیا اور وہ گلی جس میں ابھی چند سیکنڈز پہلے بچے کھیل اور دور رہے تھے اب ان میں سے وہاں کوئی نہ تھا اور گلی بلکل سنسان ہو گئی۔
وہ آگے بڑھا اور اپنے گھر کے دروازے کے سامنے جا کر کچھ لمحوں کے لئے ٹھہر گیا ، پھر اس نے جیب سے چابی نکالی اور تالا کھولا۔ وہ تالا جو وہ آج سے پانچ سال پہلے یہاں لگا کر گیا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا اور دروازے کی چرچراہٹ اس خاموشی کو چیرتے ہوئے نکلی۔ دروازہ کھلتے ہی اندر سے بےشمار چمکادڑ اور ریون اڑتے ہوئے باہر کو نکلے ان کا شور پوری فضا میں پھیل گیا۔ وہ یکدم نیچے ہو گیا اور اس کے سر کے اوپر سے ہوتے ہوئے سارے چمکادڑ باہر کو نکل گئے۔ وہ چند قدم آگے بڑھا اور آ کر صحن میں پڑے جھولے کو دیکھنے لگا وہ اسے چھو کر دیکھنے لگا اور اس جھولے سے جڑی اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے لگا۔ یہ جھولا اس نے اپنے بچپن میں ضد کر کے اپنے بابا سے منگوایا تھا۔۔ وہ جیسے ہی اس جھولے کو دیکھ کر چند قدم اگے بڑھا تو پیچھے سے ایک عجیب سی آواز آئی۔
“چڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑڑ۔۔۔۔۔”
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو جھولا خود بخود ہل رہا تھا اور اس کے ہلنے سے ایک عجیب سی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ وہ یہ دیکھ کر فوراً اس سے پیچھے ہوا۔ یوں لگا کہ جیسے کئی سالوں سے اس جھولے کو بھی کسی نے زنجیروں سے باندھ رکھا تھا اور آج اس کے جھولے کی سلاسل ٹوٹ گئی ہوں۔
اس نے اسے نظر انداز کیا اور آگے بڑھ کر برآمدے کا تالا کھولنے لگا ، وہ الگ الگ چابیاں لگاتا رہا کہ اس تالے کی کونسی چابی ہے۔ چابیاں لگاتے ہوئے ہی اسے ایک چرچراہٹ کی آواز آنے لگی ، باہر والا دروازہ خود بخود ہلنے لگا اس نے جیسے ہی مُڑ کر پیچھے دیکھا تو وہ دروازہ زور سے ہوا جو چیرتے ہوئے بند ہو گیا۔۔ وہ برآمدے کے دروازے کو ٹیک لگا کر یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ پیچھے سے برآمدے کا دروازہ کھلا اور وہ پیچھے کو جا گرا۔ برآمدے کا تالا ابھی بند تھا ، چابیاں اس کے ہاتھ میں تھیں اور دروازے پر کنڈی لگی تھی اور ایسے دروازہ خودبخود کھلنا اور اس کا ایسے پیچھے گر جانا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت گھبرا کراٹھا اور اپنے کپڑے جھاڑ کر فوراً سارے گھر کے بلب جلانے لگا۔ اس نے اپنا سامان کمرے میں رکھا وہ اس سب کے بارے میں سوچ رہا تھا جو آج صبح سے لے کر اب تک اس کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے دماغ کو زنجیروں نے جکڑ لیا تھا۔ وہ تھوڑی دیر بعد اٹھا اور باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا آج بھی وہاں سب کچھ ایسے ہی صاف تھا جیسے ابھی بھی وہاں کوئی رہتا ہو۔ باورچی خانے کا چوکا صاف ستھرا چمک رہا تھا۔ وہ دکان سے کچھ ضروری سامان لینے کے لئے گھر سے نکلا اور دروازہ بند کر کے دکان کی طرف بڑھنے لگا۔ گلی اس وقت بہت سنسان تھی ، بلکل گھپ اندھیرا اور وہاں اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ چلتے ہوئے اچانک کسی اور سمت سے اس کے آگے پتھر آکر گرا اور وہ اس سے ٹکرا کر گرتے گرتے بچا۔ اتنے میں اسے سامنے سے ایک بوڑھا شخص نظر آیا جو اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“تم آگئے!؟”
وہ بوڑھا اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔
“سلام چچا! جی۔۔ مگر کیا ہوا؟ “
اس نے حیرانی سے کہا۔
“کچھ نہیں۔۔”
بوڑھا نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور زور سے قہقہے لگاتا ہوا یہ کہ کر آگے بڑھ گیا۔
اس نے بوڑھے کے جاتے پیچھے منہ کر کے دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا مگر اب تک قہقہوں کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ حیران تھا لیکن کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
✯✯✯✯✯
سامان لے کر واپس آتے ہوئے راستے میں اسے اس کا بچپن کا دوست ملا ، اس نے اسے زور سے گلے لگایا اور کہنے لگا۔
“آؤ یار! میرے گھر! بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں کچھ دیر۔ میں ابھی چائے کا سامان لے کر ہی گھر جا رہا تھا۔ “
اس نے اپنے دوست کو گھر آنے کی دعوت دی، اور جواباً اس کا دوست کہنے لگا۔
“ہاں ہاں چلو۔۔ اتنے عرصے بعد ملے ہیں اب پتا نہیں کب ملیں۔۔”
“تم ایسے کیوں کہہ رہے ہو؟ اب تو میں یہاں کی آگیا ہوں اب تو ملتے رہے گے۔”
اس نے فکر مندی سے اپنے دوست کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں تو مذاق کر رہا تھا۔”
اس کا دوست بہت عجیب اور خطرناک سی مسکان کے ساتھ بولا۔ وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ وہ گھر پہنچے اوور دروازے کو کھلا پایا۔
“یہ کیا؟ میں تو دروازہ بند کر کے گیا تھا۔۔”
وہ اپنے دوست کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
“ارے! کیا پتا ہوا کے ساتھ کھل گیا ہو! “
اس کا دوست فوراً اسے مطمئن کرتے ہوئے بولا۔
“لیکن میں تو کنڈی ۔۔۔ میں تو کنڈی لگا کر گیا تھا۔۔۔۔ اور تالا بھی۔۔۔۔”
وہ رک کر حیرانی سے اپنے دوست کو بتا رہا تھا۔
“ارے بس یہ تمہارا وہم ہو گا، اب آؤ اندر چلیں۔”
اسکا دوست ہنستے ہوئے بولا۔
وہ دونوں اندر کی جانب آئے اور صوفے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے کہ کچھ دیر بعد اسے خیال آیا۔
“اوہ! یار میں تو بھول ہی گیا چائے کا۔ تم بیٹھو میں چائے بنا لوں۔” یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھا اور باورچی خانے کی جانب بڑھا۔
وہ پتیلی میں پانی اور پتی ڈال کر اسے ابال دینے لگا اور پھر دودھ ڈالا۔ اسی دوران اسے پیچھے سے قدموں کی چاپ سنائی دی مگر اس نے غور نہیں کیا اور پھر اچانک کسی چیز نے اسے پیچھے سے آکر پکڑ لیا۔
“بھاؤؤؤووؤ”
اس نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے اس کا دوست کھڑا تھا جو کہ اسے ڈرانے کے لئے اس کے پیچھے آگیا تھا۔
“اوہو یار !! تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ پہلے ہی میں صبح سے بہت پریشان ہوں۔ اچھا اب آگئے ہو تو چائے کے پاس کھڑے ہو ایک منٹ۔ میں باہر سے بسکٹ اور نمکین والا شاپر لے آؤں۔”
وہ باہر سے شاپر لے کر آیا اور دیکھا کہ اس کا دوست باورچی خانے میں نہیں تھا وہ حیران ہو کر باہر برآمدے کی طرف دیکھنے لگا تو اس کا دوست وہاں بیٹھا موبائل چلا رہا تھا۔
“ابھی تو یہ باورچی خانے میں آیا تھا۔ میں اسے یہاں چھوڑ کر باہر گیا تھا اور تب یہ باہر بھی نہیں تھا لیکن جب میں واپس آیا تو یہ باورچی خانے سے غائب تھا اور ابھی یہ باہر بیٹھا دکھ رہا ہے۔”
وہ اپنے دماغ میں سارا منظر دوڑاتے ہوئے خود سے باتیں کر رہا تھا۔ پھر اس نے اس سارے واقعے کو اپنا وہم سمجھ کر بھلا دیا۔ اتنے میں ہی پتیلی سے آواز آنے لگی اور اس نے دیکھا تو چائے ابل کر گر رہی تھی وہ فوراً آگے بڑھا اور چولہا بند کیا۔ نمکین اور چائے ٹرے میں رکھے وہ باہر آ گیا اور اپنے دوست کے سامنے ٹرے رکھی اور اس سے باتیں کرنے لگا۔
“یار تم اس چچا کو جانتے ہو جن کا مسجد کے ساتھ گھر ہے اور وہ بزرگ جو یہ پچھلی گلی کے نکڑ میں گھر میں رہتے تھے۔”
“ہاں !ہاں! جانتا ہوں دونوں اپنے محلے کے ہی تھے۔”
اس کے دوست نے ان بزرگوں کا نام لیتے ہوئے اسے جواب دیا۔
“ہاں وہی۔۔۔ وہ دنوں آج شام کو مجھے ملے تھے اور بہت عجیب سی باتیں کر رہے تھے۔” وہ پریشانی میں اپنے دوست سے مخاطب ہوا۔
“ارے وہ دونوں!! وہ تمہیں کہاں سے نظر آگئے۔۔ مسجد کے ساتھ والے چچا تو تقریباً تین سال پہلے مر گئے تھے اور جو پچھلی گلی کی نکڑ میں رہتے تھے ان کو بھی مرے ہوئے اٹھ سے نو ماہ ہو گئے ہیں۔”
اس کے دوست نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“کیااااااااااااا !!” یہ سنتے ہی اس نے تعجب سے کہا ، پھر تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد وہ پھر بولا۔
“تم سچ کہہ رہے ہوں نا؟”
“ہاں میں سچ ہی کہہ رہا ہوں ، بےشک تم ان کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے جاناہو تو تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گا۔” اس کا دوست اسے یقین دہانی کرواتے ہوئے بولا۔
یہ سن کر تو جیسے اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ہو اس نے بات پلٹنے کی کوشش کی مگر اس کا دھیان کہیں اور نہ لگا وہ بس ان بوڑھوں کا ملنا اور اپنے دوست کی بات سوچتا رہا کہ ایسے ہی اس کی نظر اپنے دوست کے ہاتھ پر پڑی۔ اس کے ہاتھ میں وہی تالا تھا جو وہ ابھی کچھ دیر پہلے باہر کے دروازے کو لگا کر گیا تھا اور واپسی پر دروازہ کھلا تھا۔
“یہ۔۔۔۔ یہ تالا۔۔۔۔ تمہارے پاس !!”
وہ گھبراتے ہوئے بولا اس پر اس کا دوست ہنستے ہوئے بولا۔
“ہاں یہ تو وہاں باہر پڑا تھا تو میں اٹھا کر اندرے آیا تھا ہاہاہا۔۔۔۔”
اس کے دوست کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، ایسی وحشت ناک کے کوئی بھی چند لمحوں سے زیادہ وہ نہ دیکھ پاتا۔ دوست کے واپس جاتے ہی اس نے گھر کے سارے دروازے اور کھڑکیاں بند کیں اور پلنگ پر آکے لیٹ گیا اور صبح سے ابھی تک کہ واقعات ذہن میں دہرانے لگا اور ہر بات کو غور سے سوچنے لگا۔۔۔ ناجانے کب ان خیالوں کی گہما گہمی میں اسے نیند آگئی وہ بھی نہیں جانتا تھا۔ کچھ چیزوں کو زنجیروں نے خود سے آزاد کر دیا تھا اور بہت سی چیزوں کو زنجیروں نے جکڑ لیا تھا۔ لیکن یہ دونوں حالتیں ہی ٹھیک نہ تھیں کسی چیز کو زنجیروں سے آزاد کرنا اور کسی کو جکڑنا ، دونوں ہی خطرناک تھیں۔
✯✯✯✯✯
صبح کے آٹھ بج رہے تھے، چڑیاں اپنے کھانے کی تلاش کے لئے گھونسلوں سے نکل چکی تھیں ، سورج کی کرنیں پوری فضا میں پھیل چکی تھیں۔ محلے کی گلیوں میں چھوٹے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں ، دور سے فقیر کی صدائیں اور سبزی والے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اس کے موبائل کا الارم بجا اور وہ فوراً ہی اٹھ گیا۔ وہ اٹھ کر اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ ہاتھ منہ دھونے کے بعد وہ اپنے صحن میں چارپائی بچھا کر بیٹھ گیا۔ مسجد میں اعلان ہونے لگا وہ پوری توجہ سے اعلان سننے لگا اور اعلان اس کے دوست کے چہلم کا تھا۔ وہی دوست جو رات کو اس کے گھر آیا تھا ، ابھی مسجد میں اس کے چہلم کا اعلان ہو رہا تھا یعنی کہ وہ آج سے کچھ ہفتے پہلے مر چکا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں گیا ، اور پلنگ پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے!! یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ!؟”
وہ بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہہ رہا تھا کہ اسی دوران اس کی نظر سامنے دیوار پر لگی فریم پر پڑی، اس فریم میں اس کی بیوی کی تصویر تھی جو چھ سال پہلے مر چکی تھی اس تصویر سے کچھ انچ دوری پر دیوار پر خون کے قطرے لگے تھے اور وہاں سے اب بھی خون کے قطرے نکل کر زمین پر گرنے لگے تھے۔ وہ تعجب سے اس خون کو دیکھ رہا تھا۔ وہ فوراً وہاں سے نکلنے کے لئے بھاگا لیکن جیسے ہی وہ دروازے کی طرف پلٹا ، دروازہ باہر سے بند ہوگیا۔ تصویر میں اس کی بیوی کی شکل بدلنے لگی ، اس کے نقوش تبدیل ہونے لگے ، وہ مسلسل دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا رہا دروازہ مکمل بند تھا وہ ہمت ہار کر دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ کمرے میں موجود زرد رنگ کا بلب عجیب انداز میں جھلملانے لگا ۔ کبھی روشنی پورے کمرے کو نگل لیتی ، اور کبھی اچانک اندھیرا ہر چیز کو اپنے اندر سمو لیتا۔
اسے اپنے دائیں کندھے پر وزن محسوس ہوا ، اس نے اپنا چہرہ دائیں طرف موڑا تو ادھر اس کی بیوی کھڑی تھی۔ وہی جو چھ سال پہلے مر چکی تھی۔ کمرے کی فضا یکدم تبدیل ہوئی ، ہر چیز سرد ہو گئی ، اسے دیکھتے ہی وہ سر کے مارے زمین پر گر گیا، اس کا دل بے قابو دھڑکنے لگا۔ اس کی بیوی اس کے چہرے کے پاس آ کر بیٹھ گئی، اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا اس کے دانت نوکیلے اور ناخن لمبے ہوگئے، کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد وہ اس کے گلے کو اپنے بڑے ناخنوں سے دبوچتی ہوئی چیخ کر بولی۔
“تو نے میرا قتل کیا تھا نا اب میں تجھے بھی سکون سے نہیں جینے دوں گی۔”
وہ درد نا سہہ سکا اور وہیں بے قابو ہو کر بے ہوش ہو گیا۔ کمرے کی فضا پھر سے پہلے جیسی ہو گئی دروازہ کھل گیا اور وہ بدروح دروازہ کھلتے ہی غائب ہوگئی
✯✯✯✯✯
شام کا دھندلا پن پورے کمرے میں پھیل چکا تھا۔ کھڑکی سے آنے والی نارنجی روشنی دیوار پر ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی نے خون آلود ہاتھ پھیر دیے ہوں۔ باہر درخت خاموش کھڑے تھے ، لیکن ان کے سائے زمین پر رینگتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ گلی میں بچوں کے کھیلنے کا شور گونج رہا تھا اور وہ اندر ابھی بھی زمین پر بے ہوش پڑا تھا اور اب آہستہ آہستہ ہوش میں آرہا تھا ، اس کی آنکھیں کھل رہی تھیں ، اسے کچھ بھی ٹھیک سے دکھائی نہ دے رہا تھا اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا اور دھندلا پن چھایا ہوا تھا۔ وہ ہمت کر کے اٹھا اور اٹھ کر پلنگ کی طرف بڑھا کہ پھر سے اس کی نظر دیوار پر لگے خون کی طرف گئی اور اسے وہ سارا منظر پھر سے یاد آگیا۔ وہ شیشے کی طرف بڑھا ، اس کے گلے پر ابھی بھی ناخنوں کے نشانات موجود تھے جو کہ اب گہرا نیلا رنگ اختیار کر چکے تھے۔ اپنا حلیہ درست کر کے گھر کو تالا لگاتے ہوئے باہر نکلا اور سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گیا۔ اسے دیکھتے ہی محلے کے سارے بچے اپنے اپنے گھروں کو بھاگ گئے جو کہ ابھی چند لمحے پہلے یہاں کھیل رہے تھے۔ وہ گلی میں بیٹھا پاگلوں کی طرح ہنستا رہا۔ وہ ماضی کی ہر چیز بھول بیٹھا تھا ، وہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے ماضی میں کیا کیا ، وہ بلکل پر شے بھول بیٹھا تھا۔ وہ اٹھ کر قریبی ڈھابے کی طرف چلنے لگتا ہے۔ آسمان مزید تاریکیوں میں ڈولنے لگا۔ مسجدوں میں مغرب کی اذانیں گونجنے لگیں۔ وہ ڈھابے پر پہنچا۔
“جی بھائی کیا چاہیے۔”
ویٹر آگے بڑھ کر پوچھنے لگا۔
وہ اپنا آرڈر دینے کے بعد وہاں خاموشی سے بیٹھ گیا۔ اس کے کانوں میں ایک عجیب قسم کا شور گونجنے لگا۔ شاید کسی کی چیخیں ، شاید کسی کے کراہنے کی آواز ، شاید کسی کے رونے کی ، شاید کسی کی سسکیوں کی۔ مگر اب وہ ان آوازوں کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ شاید اس کا دل مردہ ہو چکا تھا۔ انسان اگر ایک قتل کر دے تو اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے ، وہ دوسرا قتل کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے نہیں سوچتا۔
اچانک ہوا کی ایک تیز لہر چلی ، ہوا میں ایک عجیب سا کھوکھلا پن تھا ایک عجیب سی خاموشی۔ سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے منہ سے آ ٹکرایا۔ تیز آندھی نے اس کی طرف اپنا رخ کیا ، شاید یہ کسی نئی آفت کا اشارہ تھا۔ کچھ لمحے یہی منظر رہا ، ہوائیں چلتی رہی اور آندی بھی، یکدم یہ سب کچھ رک گیا۔ فضا میں پھر سے خاموشی چھائی اور اسے اپنے پاس کسی کا وجود محسوس ہوا۔ اس نے اپنا سر تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور اپنے پاس کسی آدمی کو کھڑے دیکھا ، مگر اس نے اس آدمی کے چہرے کو نہیں دیکھا ، کیونکہ اس نے اپنا سر نیچے گرایا ہوا تھا۔ صرف اپنے پاس کسی کو موجود پایا۔
“اوہوں!!”
اس کے منہ سے نکلا ، جیسے وہ اس آدمی سے اس کے پاس آنے کی وجہ دریافت کرنا چاہتا ہو۔
“مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ تمہارے ساتھ بیٹھ کر کچھ کھا سکتا ہوں۔”
بوڑھے نے بہت نرمی سے کہا۔
“ہوں۔”
اس نے سر اٹھائے بغیر ہامی بھری اور بوڑھے سے وہاں بیٹھ جانے کو کہا۔ بوڑھا اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کھانے کا انتظار کرنے کرنے لگا۔
کچھ دیر کے انتظار کے بعد ویٹر کھانا لے کر آیا اور اس کے منہ کے سامنے رکھ دیا۔
“اور کوئی چیز چاہیے!!”
ویٹر اس کی طرف دیکھنے ہوئے بولا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا اور کھانے کی ٹرے بوڑھے کے آگے کر دی۔
“اب میں یہ نہیں کھا سکتا۔ جب میں نے مانگا تھا تب تو تم نے ان دو نوالوں کے لئے مجھے قتل کر دیا تھا۔ جب کہا تھا نوکری کر کے کماؤ اور لا کر ہمیں کھلاؤ تو تب تم نے مجھے آگ سے جلا کر مار ڈالا تھا۔”
بوڑھا اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ اس نے اچانک چونک کر سر اٹھایا اور بوڑھے کی طرف دیکھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ گھبرا کر اپنی نشست سے تھوڑا پچھے ہٹا۔ اس کی آنکھوں میں خود کی لہر دوڑی۔ اس کا دل بے قابو دھڑکنے لگا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی آگ لگ اٹھی وہ سینے پر ہاتھ رکھ تڑپنے لگا۔ وہ بوڑھا کوئی اور نہیں تھا ، وہ اس کا باپ تھا ، وہ باپ جس نے اپنے شادی شدہ بیٹے کو جو کہ اب خود باپ بننے جا رہا تھا اسے نوکری کرنے کا کہا اور اپنے خاندان کی زمیداری اٹھانے کا کہا اور نتیجے میں اس بیٹے نے اپنے زندہ باپ کو آگ کے حوالے کر دیا اور آگ میں جلا کر مار ڈالا۔
“کیا ہوا ! اب تمہارے پاس کوئی جواب نہیں !!”
بوڑھا اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔ وہ ڈھابے کی اسی میز پر خوف سے لیٹ گیا ، اس کا باپ اس کی آنکھوں کے پاس ، اس کے چہرے سے چہرہ ملا کر زور سے کہنے لگا۔
“تو نے ایک باپ کا قتل کیا ، جو تجھے اس دنیا میں لانے کا سبب تھا ، تجھے اللّٰہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔ اور اب ہم تجھے سکون سے جینے نہیں دیں گے۔”
اس کے باپ نے یہ کہہ کر ایک زور دار چیخ ماری اور ہوا میں مل گیا اس کا وجود دھوئیں کی طرح اڑنے لگا، اور وہ چیخ اتنی خوفناک تھی ، اس آواز میں اتنی وحشت تھی کہ یوں لگا کہ جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ وجود کے غائب ہوتے ہی وہ زور زور سے چیخیں مارنے لگا ، ارد گرد کے لوگ اکٹھے ہوئے۔
“کیا ہوا ہے بھئی !! کیوں چیخیں مار رہے ہو؟”
لوگ اس سے پوچھنے لگے۔
“وہ —– وہ – تم لوگوں نے — تم لوگوں نے ابھی یہاں کسی شخص کو دیکھا میرے علاوہ !!”
وہ بے چینی سے گھبراتے ہوئے پاس کھڑے لوگوں سے مخاطب ہوا۔
“نہیں!”
جو لوگ پہلے سے وہاں کھڑے تھے انہوں نے فوراً نہ کا جواب دیا۔
” و – و — ویٹر کو بلاؤ۔”
اس کی زبان سے الفاظ بمشکل نکل رہے تھے، جیسے کوئی اسے بولنے سے روک رہا ہو۔ ویٹر جو کہ پہلے ہی یہ ہنگامہ دیکھ کر وہاں آ گیا تھا ، مزید آگے ہوتے ہوئے بولا۔
“ہاں بھئی!! کیا کہنا ہے۔۔۔”
“جب تم کھانا دینے آئے تھے تو تم نے یہاں میرے پاس کسی شخص کو دیکھا تھا !؟ میرے سامنے !!”
“نہیں۔۔۔ تم اکیلے ہی تھے۔” ویٹر نے جواب دیا۔
“ایسا نہیں ہو سکتا ، ایسا نہیں ہو سکتا۔۔”
اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا ، اس کے چہرے کا رنگ زرد۔ ہو گیا ، آنکھیں ایسے سرخ ہونے لگی جیسے خون کی ندیاں بہا دیں گئی ہوں۔ اتنے میں ہجوم میں کھڑے ایک آدمی نے کہا۔
“ارے یہ کس شخص کی بات کر رہا ہے؟ ایسا کرو کہ CCTV فوٹیج دیکھ لو۔۔ ڈھابے پر کیمرے تو لگے کی ہوں گے نا۔”
“ہاں ہاں ، فوٹیج دکھاؤ۔”
ویٹر اسے اپنے ساتھ لے گیا اور جب کیمرے دکھائے تو وہاں بھی اس کے سوا کوئی اور موجود نظر نہیں آ رہا تھا ، صرف وہ عجیب و غریب حرکات کرتے ہوئے ، نیز پر لیٹتے ہوئے اور چیخیں مارتے دکھائی دے رہا تھا۔ کیمرے میں کوئی چیز رکارڈ نہ ہوئی تھی۔ پھر اچانک ویٹر کی آواز گونجی۔
“ارے یہ تو پاگل ہے۔۔ یہ عجیب عجیب حرکتیں اور باتیں کر رہا ہے۔ اسے پکڑو اور پولیس کو فون کرو کہ وہ اسے پاگل خانے داخل کروائے۔ اسے پکڑو۔”
ویٹر کی یہ صدا لگنی تھی کہ سارے اس کی طرف لپکے۔ اس نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ، لوگوں نے اسے رسی سے باندھ کر بیٹھا دیا۔ کچھ لمحے گزرے تو تھوڑی دور سے پولیس کی گاڑی کا سائرن بجنے کی آواز آنے لگی ، وہ رسی سے بندھا ہوا تھا اس نے پھر ہلنے کی کوشش کی۔ سائرن کی آواز اس کے کانوں میں ایسے اتر رہی تھی جیسے اس کے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی۔ چند لمحوں کے بعد وہاں پولیس بھی پہنچ گئی۔
“سر ! یہ ہے وہ پاگل۔۔ ”
ادھر کھڑا ایک شخص بولا۔
“اچھا! چوں پر کس CCTVکی بات کر رہے تھے۔”
پولیس والا آگے بڑھتے ہوئے بولا۔
“آئیں سر! میں دکھاتا ہوں۔”
ویٹر پولیس والے کو کہتے ہوئے اندر کی جانب بڑھا ، جہاں LCD میں کیمروں کی فوٹیج چل رہی تھی۔
“آہاں ! اس کی مشقوق حرکتوں سے تو یہ پاگل ہی لگ رہا ہے یا نفسیاتی مریض۔”
پولیس افسر فوٹیج دیکھتے ہوئے بولا۔ کچھ دیر کی خاموشی پھر ہوا کو چیرتی ہوئی ایک آواز گونجی۔
“اسے گاڑی میں ڈالو۔۔ اور گاڑی پاگل خانے کی طرف لے چلو۔”
✯✯✯✯✯
اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
چھت سفید تھی… مگر عجیب حد تک سفید۔ جیسے کسی نے دیواروں سے سارے رنگ نچوڑ کر یہاں دفن کر دیے ہوں۔ اس کی پلکیں بھاری تھیں، سانس بے ترتیب، اور دماغ میں ایک دھیمی سی سیٹی مسلسل بج رہی تھی۔
کچھ لمحوں تک وہ ساکت لیٹا رہا۔
پھر اچانک اسے احساس ہوا… اس کے ہاتھ بیڈ کے ساتھ لگی زنجیروں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
کمرے میں تیز دواؤں کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ دیوار کے کونے میں زنگ آلود پنکھا چرچراہٹ کے ساتھ گھوم رہا تھا…
پھر سے خاموشی نے اسے نگل لیا۔
اس کا سانس تیز ہونے لگا۔ دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔ اس کی آواز خشک ہوگئی۔
“میں… کہاں ہوں؟”
اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ موٹی لوہے کی سلاخیں۔ چھوٹا سا شیشہ۔ اور اس شیشے کے پیچھے کسی سایے کی حرکت۔
اچانک اس کے ذہن میں ٹوٹے پھوٹے پرانے منظر چمکے۔
خون آلود ہاتھ…
دیوار پر خون کے قطرے…
بیوی کے ناخن…
باپ کا شکوہ…
سیاہ سائے…
وہ چیختے ہوئے بولا۔
“نہیں… نہیں… وہ میں نے نہیں کیا…”
اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔
کمرے میں لگا زرد بلب جھلملانے لگا اور آخری بار جب روشنی واپس آئی… تو یوں لگا جیسے کمرے کے دوسرے کونے میں کوئی کھڑا ہے۔
لمبا سیاہ سایہ۔
بے حرکت۔
وہ خوف زدہ نظروں سے اسے گھورتا رہا۔ اس کی سانسیں اب دیوانہ وار چل رہی تھیں۔ ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔
“تم… پھر آ گئے…؟”
سایہ خاموش رہا۔ صرف پنکھے کی چرچراہٹ… دور سے آتی پاگل قہقہوں کی آواز… اور اس کے دل کی بے قابو دھڑکن پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔
✯✯✯✯✯
رات عجیب حد تک خاموش تھی۔ آسمان پر چاند موجود تھا مگر اس کی روشنی دھند میں گھل کر مدھم پڑ چکی تھی۔ وہ سنسان سڑک پر اکیلا کھڑا تھا۔ سرد ہوا آہستہ آہستہ اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی، جیسے کوئی بہت دھیمی آواز سے اس کا نام پکار رہا ہو۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
اچانک اسے دور سے کچھ سائے آتے ہوئے نظر آئے۔
سائے آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگے۔
اس کے قدم جیسے زمین میں ہی کم گئے۔
سانس بھاری ہونے لگی۔ نوں جوں سائے قریب آتے جا رہے تھے۔۔۔ سڑک کی جگہ پانی پھیل گیا۔ بلڈنگوں کی دیواریں ٹیڑھی ہونے لگ گئی۔ آسمان کا رنگ سیاہ سے سرخ ہو گیا۔
بلکل خون کی طرح سرخ۔۔۔
وہ خون جو اس نے اپنے گھر والوں کا کیا تھا۔۔۔
جو اس نے اپنے نوزائیدہ بچے اور بیوی کا کیا تھا۔۔۔
جو اس نے اپنے باپ کا کیا تھا۔۔۔
جو اس نے اپنی بہن کا کیا تھا۔۔۔
جو اس نے اپنے بھائی کا کیا تھا۔۔۔
اور آخر پر اپنی ماں کا خون۔۔۔
پھر اچانک وہ سائے اس کے سامنے آ کر رک گئے ، ایک ایک کر کے وہ سائے اس کے ان رشتوں میں بدلتے گئے جن کا اس نے خون کیا تھا۔
سب سے پہلے اس کی بیوی جس نے اپنے ہاتھ میں چھٹا بچہ پکڑ رہا تھا۔
“تم نے مجھے اور میرے بچے کو مار ڈالا۔۔۔ کیوں؟”
اس کے ہاتھ میں موجود بچی زار و قطار رونے لگا۔ جیسے وہ بھی اپنے باپ سے گلہ کر رہا ہو کہ مجھے دنیا میں آنے سے پہلے کیوں قتل کر دیا۔ اس کی بیوی پھر بولی۔
“یہیں کہا تھا نا کہ ہونے والے بچے کے لئے کچھ سوچو اوور تم نے مجھے دھکا دے کا گرا دیا۔ جس سے میں بھی جان سے گئی اور میرا بچہ بھی۔”
اس کی بیوی سسکیاں بھرنے ہوئے اس کے گریباں کو پکڑے کہنے لگی۔
“تم نے معصوم جان کا قتل کیا ہے۔۔۔ اللّٰہ تمہیں معاف نہیں کرے گا۔”
اچانک سے وہ سایہ ہوا میں مل گیا اور دوسرا سایہ اس کے باپ کی شکل اختیار کر کے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“تم نے اپنے باپ کو ہی مار دیا۔۔۔ کیوں ؟ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔”
اس کا باپ روتے ہوئے اس کے مزید قریب ہوا۔
“تمہیں معلوم ہے۔۔ جب تم نے پیدا ہونا تھا تو میں ڈبل ڈیوٹی کرتا تھا۔۔ کہ میرا بچہ جب دنیا میں آئے تو اسے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسے بڑے ہو کر لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں۔ اور جب بڑھاپے میں تن سے کہا کہ نوکری کر لو تو تم نے مجھے ہی مار دیا۔”
اچانک وہ سایہ بھی ہوا میں غائب ہو گیا اور تیسرا سایہ اس کی بہن کہ شکل اختیار کر کے سامنے آیا۔
“بھائی تو بہنوں پر جان وار دیتے ہیں۔۔۔ اور تم نے غیرت کے نام پر مجھے ہی مار دیا۔۔۔ ایسا کیوں کیا تم نے۔۔۔۔ کیوں؟”
اس کی بہن مزید قریب ہوئی اسے گریباں سے کھینچتے ہوئے بولی۔
“کیا قصور تھا میرا ؟! صرف پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس میں کیا برائی تھی۔۔۔ تم نے بھی تو پسند کی شادی کی کی تھا نا۔۔۔ پھر میری دفعہ ایسا کیوں؟ لڑکے پسند کی شادی کر لیں تو سب ٹھیک اور اگر لڑکی صرف بات بھی کرے تو انہی بھائیوں کی غیرت جاگ جاتی ہے۔۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔”
وہ سایہ بھی ہوا کے ساتھ اُڑ گیا اور چوتھا سایہ اس کے بھائی کی شکل اختیار کر کے نمودار ہوا۔۔۔
“بھائی تو بھائیوں کی جان ہوتے ہیں۔۔۔ بھائی تو بھائیوں کے دکھ ، درد کے ساتھ ہوتے ہیں۔۔۔ اور تم نے اسی بھائی کو مار دیا۔۔۔ کیوں مارا ؟ کیوں مارا تھا تم نے مجھے ؟ صرف ایک پانچ مرلے کے پلاٹ کے لئے میرا قتل کر دیا ، وہ پلاٹ جو تھا کی میرا ، جو تمھارا کبھی تھا ہی نہیں ، تم نے وہ حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی کو مار دیا۔۔۔ چند لاکھ کا پلاٹ اس بھائی سے عزیز تھا کیا ؟ اب چپ کیوں کھڑے ہو۔۔۔ بتاؤ کیا غلطی تھی میرا۔۔۔”
اس کا بھئی سسکیاں بھرتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا وہ خاموش رہا اور پھر اچانک وہ سایہ بھی ہوا میں گھل مل گیا اور پیچھے صرف آخری سایہ رہ گیا۔ اس کی ماں کا۔۔۔ ہاں اس نے اپنی ماں کو بھی مات دیا تھا۔۔۔ وہ سایہ بھی آہستہ آہستہ اس کی ماں کا روپ دھارنے لگا۔۔
“میں تیری ماں تھی۔۔ نکمے۔۔ تیری ماں۔۔”
اس کی ماں یہ کہتے ہی تو پڑی۔ وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اسے دیکھتے ہوئے وہ بھی ماں کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“میں نے ہمیشہ تم میں اور اپنی باقی اولادوں میں فرق کیا۔ میں نے ہمیشہ تجھے سب سے زیادہ ترجیح دی۔ میں نے ہمیشہ تمہاری بات مانی۔۔۔ تو نے اپنی بیوی اور بچے کو مار دیا۔۔۔ میں خاموش رہی صرف یہ سوچ کر کہ پرائے گھر کی لڑکی تھی۔۔۔ لیکن یہیں میری غلطی تھی۔۔۔ اگر میں اس وقت تمہیں روک دیتی اور پولیس کے حوالے کر دیتی تو باقی سب اپنی جان نا گنواتے۔۔۔ پھر تو نے میرے شوہر ، اپنے ہی باپ کو جلا کے راکھ کر دیا۔۔۔ میں خاموش رہی کیونکہ بوڑھوں نے کبھی تو جانا ہی تھا۔۔۔ پھر تو نے اپنی بہن کو مار دیا۔۔۔ میری سگی بیٹی کو مار دیا۔۔۔ میں خاموش رہی کہ عزت کا معاملہ تھا۔۔۔ پھر تو۔ نے میرے بیٹے کو مار دیا ، اپنے سگے بھائی کا مار دیا، تو نے میرے سے میرا ہر رشتہ چھین لیا۔۔۔ مگر میں نے صبر کیا کہ میرا ایک بچہ ابھی میرے پاس ہے۔۔۔”
اس کی ماں روتے ہوئے آگے بڑھی اور اس کے سینے پر اپنا سر مارتے ہوئے بولی۔
“آخر پر تو نے مجھے بھی مار دیا۔۔۔ تو نے میرا قتل بھی کر دیا۔۔۔ کیوں مارا تھا مجھے ؟ کیوں ؟ ۔۔۔۔۔ کیوں قتل کیا تھا ہمیں ؟ کیوں مار دیا تھا ہم سب کو؟۔۔۔”
اس کی ماں روتے ہوئے اس سے شکوہ کر رہی تھی اچانک وہ بھی سایہ بن کر ہوا میں مل گئی۔ اس کی آنکھیں کھلی اور وہ خواب سے بیدار ہوا۔ وہ چیختے اور چلاتے ہوئے کہنے لگا۔
“میں نے نہیں کسی کو مارا۔۔۔۔۔۔ میں قاتل نہیں ہوں۔۔۔۔۔”
اسے وہ ایک ایک لمحہ یاد آنے لگا۔ آنکھوں کے سامنے وہ ہر پل دکھائی دینے لگا جب وہ اپنے ہر رشتے کو موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔ جب وہ تکلیف سے تڑپتے تھے۔ اس کے ہاتھ بیڈ کی زنجیروں نے ساتھ بندھے تھے۔ اس کے کانوں میں چیخیں مسلسل گونج رہی تھیں، جیسے کوئی انجانی طاقت اُس کے ذہن کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہو۔ خواب میں اُس کے گھر والوں کی آوازیں اُبھرتیں تو ہر لفظ پگھلے ہوئے شیشے کی مانند اُس کے کانوں میں اُترتا محسوس ہوتا۔
“ہم نے تمہارا کیا بگاڑا تھا…؟”
“تم نے ہمیں کیوں مارا…؟”
وہ آوازیں صرف سنائی نہیں دیتی تھیں، بلکہ اُس کے وجود میں پیوست ہوتی جا رہی تھیں۔ ہر شکوہ اُس کے ذہن کو نوچتا، ہر چیخ اُس کے اندر کسی ٹوٹتی ہوئی چیز کی گواہی دیتی۔ وہ ہر شے سے اُکتا چکا تھا۔ سکون جیسے اُس کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے چھین لیا گیا تھا۔ دیواروں پر رینگتے سائے، کانوں میں گونجتی چیخیں، اور خون میں بھیگی یادیں… سب اُس کے تعاقب میں تھیں۔ ایک قاتل ہونے کی قیمت اُس نے اپنی عقل، اپنی نیند، اور اپنے سکون سے ادا کی تھی۔
اچانک اُس نے دونوں ہاتھ سر پر رکھے اور ایک ہولناک چیخ فضا میں بکھیر دی۔ وہ اِتنی شدت سے چیخا کہ یوں محسوس ہوا جیسے اُس کے دماغ کی نسیں ایک ایک کر کے پھٹ رہی ہوں۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام مناظر گردش کرنے لگے؛ خون سے رنگا فرش، لرزتی سانسیں، بےجان جسم، اور وہ ہاتھ… جنہوں نے سب کچھ ختم کر دیا تھا۔
اُسے مرتے ہوئے ہر وہ لمحہ یاد آنے لگا جب اُس نے اپنے ہی گھر والوں کو موت کے حوالے کیا تھا۔ ہر چیخ، ہر نظر، ہر آخری سانس اُس کے وجود پر نقش ہوتی چلی گئی۔
اور پھر…
اچانک سب خاموش ہو گیا۔
کمرے میں پھیلا اندھیرا ساکت ہو چکا تھا۔ دیواروں سے ٹکراتی آوازیں دم توڑ گئیں۔ زنجیروں سے بندھا ، بیڈ پر پڑا اُس کا بےجان جسم اب بالکل پُرسکون تھا… شاید پہلی بار۔
اس کے جسم کی ہر زنجیر ٹوٹ گئی۔ ہر بےجان اور جاندار کی زنجیر ٹوٹ گئی اور ہر چیز آزاد ہو گئی۔
✯✯✯✯✯
…ختم شد
