PATJHAR BY ALAM EPISODE :13

پت جھڑ قسط نمبر ؛١٣

ازقلم الم

“یش!” آئرہ ایک دم چلا کر اٹھی تھی۔ اس کی چیخ پر ثمینہ اور سلطان دونوں بھاگ کر اس کی طرف بڑھے تھے۔
“بابا! وہ یش! وہ ٹھیک نہیں ہے بابا! وہ تکلیف میں ہے! مجھے اس کے پاس لے جائیں نا بابا! بابا! مجھے اسے دیکھنا ہے۔ میں اسے مرنے کی دعا دے آئی ہوں! میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں؟ میری سانسیں اس پر قربان، میری زندگی اس کو لگ جائے۔ اس کی موت پر میں مر جاؤں! مجھے لے چلیں، مجھے اس کے پاس جانا ہے۔ صرف آج کے لیے اپنی نفرتیں اور عداوتیں بھول جائیں نا! صرف میرے بابا بن جائیں! بھول جائیں نا کہ آپ سلطان شاہ ہیں! بابا! مجھے یش دے دیں! آئرہ کو یوشع دے دیں!”

وہ تڑپ تڑپ کر آج پھر اپنے باپ کے پاس التجا لیے حاضر تھی۔ اس کی حالت اس مچھلی کی طرح تھی جسے پانی سے الگ کر دیا جائے۔

صائمہ کو بیٹی کی حالت پر رہ رہ کر رونا آ رہا تھا۔ کیا کیا روگ پالے بیٹھی تھی وہ۔ اور سلطان شاہ شاکی نظروں سے آئرہ کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں لگتا تھا وہ آئرہ کی محبت کا قتل کر چکے ہیں، پر وہ تو روز اول کی طرح مہک رہی تھی۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ آئرہ کو کن الفاظ کے ساتھ تسلی دیں۔
“پیشنٹ دوبارہ پینک ہو رہی ہے! ڈاکٹر!” نرس نے فوراً سے بلایا اور انجیکشن لگایا تو وہ ہوش و خرد سے بیگانہ سلطان شاہ کی بانہوں میں ہی جھول گئی۔

 ۔                       ✩━━━━━━✩
وہ لوگ فوراً نور اور یوشع کو لے کر ہسپتال پہنچے تھے۔ نور کی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی، اسے ہائی ڈوز انجیکشنز دیے گئے تھے جس کی وجہ سے اس پر بار بار غنودگی طاری ہو رہی تھی۔ اس کا بروقت ٹریٹمنٹ ضروری تھا۔
یوشع کو فوراً ایمرجنسی میں داخل کیا گیا تھا۔ اسے اشعث نے بلڈ دیا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ڈاکٹرز باہر آئے تھے اور یوشع کی حالت اسٹیبل ہونے کا بتایا، جسے سن کر سب کی سانس میں سانس آئی تھی۔
یوشع کو جب ہوش آیا تو اس کے پاس اشعث اور احد بیٹھے تھے، جبکہ افق اور عنایہ نور کے پاس تھے۔
“قلب کہاں ہے؟” جلدی سے اٹھتے ہوئے بے تابی سے سوال کیا۔
“ٹھیک ہے۔ وہ ہلکا پھلکا ٹریٹمنٹ چل رہا ہے۔” اشعث نے اسے دوبارہ لٹایا۔
“افق کو بلاؤ۔” یوشع کے کہنے پر احد نے نظریں گھمائی تھیں۔
افق کے نام پر اشعث نے بنا کچھ بولے افق کو کال کی۔ کچھ دیر بعد افق بھی وہیں موجود تھا۔
“مجھے نورِ قلب سے نکاح کرنا ہے، ابھی، اسی وقت۔” یوشع کے بنا کسی تمہید کے کہنے پر تینوں منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگے تھے۔پھر افق سمبھل کر بولا
“میں اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ مجھے امی سے بھی بات کرنی ہے اور نور سے بھی۔” افق نے گہرا سانس بھر کر اسے سمجھایا، پر شاید وہ کسی کی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔
“تو کر لو بات! میں نے کب روکا ہے؟ بات کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ پر نکاح تو آج ہی ہو گا۔” یوشع کا انداز دو ٹوک تھا۔ وہ ایسے بات کر رہا تھا جیسے نکاح کی نہیں دکان سے ٹافی لانے کی بات ہو رہی ہو۔
اشعث افق کو اشارہ کرتا باہر نکل گیا۔
“افق! مجھے لگتا ہے کہ نکاح میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ تم آنٹی اور نور سے پوچھ لو، اگر وہ راضی ہیں تو نیک کام میں دیر کیسی” احد نے سکون سے اپنی بات افق کے سامنے رکھی۔
“مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں یوشع کو اچھے سے جانتا ہوں۔ اس کی حالت دیکھ کر نور کے لیے مجھے اس کے جذبات کا بھی اندازہ ہو گیا ہے۔ پر زندگی بھر کی بات ہے، اتنی جلدی فیصلہ…” افق ایک بھائی تھا اور اس کی فکر جائز تھی۔
“میں سمجھ سکتا ہوں۔ اور میں بھی نور کے بھائی کی جگہ خود کو رکھ کر تمہیں سمجھا رہا ہوں۔ بات کر کے دیکھ لو۔” اشعث افق کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ یوشع کو دل ہی دل میں گالیاں بھی دے رہا تھا جس نے نیا ہی شوشہ چھوڑ دیا تھا۔
افق نے مریم بیگم کو کال ملائی تھی، اور مریم نہایت تحمل سے آئرہ کو پڑنے والے تھپڑ سے لے کر نور کی اماں ہونے تک کی ساری داستان سناتی چلی گئیں۔
“ہمیں نہیں پتا تھا کہ آپ بچے اتنے بڑے بڑے قدم اکیلے ہی لینے لگے ہو۔ تم جب رات کو بھاگے ہو تو ہمیں اطلاع تو دے سکتے تھے! ہم یہاں الگ پریشان کہ خدا خیر کرے کیوں راتوں رات نکلا ہے، اوپر سے دونوں بہن بھائیوں کا نمبر بند! اب یہ نیا مسئلہ لے آئے ہو! نور سے بات کی ہے اس بارے میں؟” مریم بیگم افق کو ڈانٹ رہی تھیں مگر آخر تک آتے آتے ان کا لہجہ دھیما ہو گیا۔
” نہیں! پہلے آپ دونوں سے مشورہ کرنا چاہ رہا تھا۔”
“دیکھو بیٹا، میں نور کی ماں ہوں پیدا نہیں کیا پر پالا میں نے ہی ہے۔ اگر میں سچی اور صاف بات کروں تو اس واقعے کا اثر نور کی آنے والی زندگی پر بہت گہرا پڑے گا۔ ایک تو اغوا کی بات زیادہ دیر تک نہیں چھپے گی اور نہ ہی ہم لوگوں کے منہ بند کروا سکتے ہیں۔ کہنے والے ہیں تو بہت سی باتیں کہہ جائیں گے۔ اس لیے اگر وہ لڑکا سب کچھ جاننے کے بعد بھی نکاح پر بضد ہے تو ہمیں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ باقی لڑکا بھی تمہارا دیکھا بھالا ہے اور تم نادیہ سے بھی پوچھ لو، اس کی کیا رائے ہے؟” ان کی بات پر نادیہ بیگم نے بھی اتفاق ظاہر کیا تھا۔ انہیں بھی کوئی خاصا مسئلہ نہیں تھا اس رشتے سے۔
“اب میری بچی سے بات کرواؤ۔ میرے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو صحیح سلامت واپس آ گئی۔ میں تو پہلے ہی اتنے دور اس کو پڑھنے بھیجنے کے حق میں نہیں تھی۔” مریم بیگم کے لہجے سے ممتا ٹپک رہی تھی۔
“بالکل میں بھی خیرات کرواتی ہوں کل۔” نادیہ بھی مریم کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بولی تھی۔
“بس امی! یوشع اور اشعث نے بہت بھاگ دوڑ کی ہے، اور عنایہ نے تو مجھے آج حیران پر حیران کیا ہے۔” پھر افق انہیں ساری بات بتاتا چلا گیا۔ وہ دونوں بھی حیران تھے عنایہ کی حرکتوں پر۔
اسی طرح چند باتوں کے بعد افق نے فون نور کو تھمایا اور نور پہلے تو ان کے منہ سے نکاح کی بات سن کر حیران ہوئی تھی، پھر نادیہ اور مریم کے جس طرح سے سمجھایا تھا، وہ مان گئی تھی۔

آئرہ کی آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال کے بیڈ پر تھی۔ سامنے صوفے پر سلطان شاہ اور ثمینہ بیگم بیٹھے سو رہے تھے۔ سلطان شاہ کا والِٹ، موبائل اور گاڑی کی چابی وہیں پاس ہی میز پر رکھے ہوئے تھے۔ اس نے آہستہ سے قدم بستر سے نیچے رکھے، پھر بنا آواز پیدا کیے، گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھایا اور کمرے سے نکل گئی۔ اس دوران اسے جوتا پہننے کا بھی ہوش نہیں رہا تھا۔ وہ جلدی سے پارکنگ ایریا میں کھڑی سلطان شاہ کی گاڑی میں بیٹھی، جلدی جلدی گاڑی بھگائی۔ اس دوران وہ یوشع کی لوکیشن بھی پتا لگوا چکی تھی سلطان شاہ کے موبائل سے۔ آخر تھی تو وہ سلطان شاہ کی بیٹی نا۔
اشعث نے جلدی سے مولوی صاحب کا انتظام کیا تھا۔ گھر سے مشکوٰۃ کو فون کر کے اطلاع دی جو فوراً ایک سرخ دوپٹہ لیے ہسپتال پہنچی تھی۔ ابراہیم شاہ بھی اس کے ساتھ تھے۔ اس سارے عرصے میں اس کا اشعث کے ساتھ منہ بنا ہوا تھا، جس کی وجہ اشعث کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی اور وہ گھر جا کر ہی دریافت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
کبیر شاہ کو بھی ایمرجنسی میں بلایا گیا تھا، اور وہ ابھی تک صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے
یہ کیسا نکاح تھا جس میں خوش ہونے کی بجائے دلہن سمیت سب ہی حیران تھے۔
مولوی صاحب کو روم میں لایا گیا۔ یوشع بیڈ پر دراز تھا اور اس کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ڈریپ سے اسے خون لگا ہوا تھا۔ اور نور سرخ دوپٹہ اوڑھے سامنے صوفے پر بیٹھی تھی، عنایہ اور مشکوٰۃ اس کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے۔
“نورِ قلب بنت محمد اشفاق سیال سے آپ کا نکاح، یوشع کبیر شاہ ولد کبیر حاکم شاہ کے ساتھ سکہ رائج الوقت پچیس لاکھ طے پایا ہے، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟” خاموش کمرے میں یہ الفاظ گونج رہے تھے۔
“قبول ہے۔” نور نے اپنے جملہ حقوق یوشع کو سونپ دیے تھے۔ آج کا دن اس کی زندگی کا غير یقینی دن تھا۔ اس نے کبھی اپنے نکاح کو اس طرح اس صورتحال میں تصور نہیں کیا تھا۔ مولوی صاحب نے تین مرتبہ اپنے الفاظ دہرائے اور نور نے تینوں بار مثبت میں جواب دیا۔ پھر اس کے دستخط لیے گئے۔
اب مولوی صاحب کا رخ یوشع کی جانب تھا۔ “یوشع کبیر شاہ ولد کبیر! آپ کا نکاح نورِ قلب بنت محمد اشفاق سیال کے ساتھ سکہ رائج الوقت پچیس لاکھ کے طے ہونا قرار پایا ہے، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
اور تب ہی آئرہ دروازہ کھول کر داخل ہوئی تھی، پر سامنے سے جو الفاظ اس نے سنے تھے، وہ اسے منجمد کر گئے تھے۔ سب چونکہ نکاح کی طرف متوجہ تھے تو کسی کا بھی دھیان آئرہ کی طرف نہیں گیا تھا۔
یوشع جو اپنی ماں کے بارے میں سوچ رہا تھا، مولوی صاحب کی آواز پر خیالوں سے باہر نکلا۔
“قبول ہے۔” یوشع نے گہرا سانس بھر کر نور کو اپنی زوجیت میں قبول کیا تھا۔ اس لمحے میں بھی اسے شدت سے اپنی ماں کی یاد آئی تھی، جنہیں سوچ کر اس کی آنکھوں میں نمی چمکی۔
اور یوشع کے قبول کرتے ہی آئرہ زمین پر گھٹنوں کے بل گری تھی۔ اس کی ٹانگوں سے جان مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی۔ اس نے بے ساختہ خدا سے شکوہ کیا تھا۔
“ثابت ہوا کہ آپ کی محبت بھی نیکوں کے لیے ہی ہے۔ ہم جیسے گنہگاروں کو آپ ہمیشہ اعمال کے ترازو میں تولتے ہیں اپنی مخلوق کی طرح۔ نہ مخلوق ہم جیسوں سے محبت کرتی ہے اور نہ ہی خالق۔ یا پھر شاید مجھ سے ہی محبتیں سنبھالی نہیں جاتی، نہ مخلوق کی، نہ خالق کی۔”

رَبّا مار کے ضرب وچھوڑیاں دی
میرے یار نوں دُور آباد کیتا ای
توویں عاشق سیں، کچھ تے سوچنا سی
کانو صادق دا گھر برباد کیتا

پھر وہ جیسے خاموشی سے آئی تھی، ویسے ہی خاموشی سے خالی ہاتھ لوٹ گئی۔ راستے میں گزرتے لوگوں نے اس ہسپتال گاؤن میں ملبوس، ننگے پاؤں اور ننگے سر کے ساتھ جاتی لڑکی کو کوئی پاگل ہی تصور کیا تھا۔ وہ اس مسافر کی طرح شکستہ حال چل رہی تھی جس کا قافلہ وہ خود لٹا کر آیا ہو۔
دوسری طرف یوشع کے قبول ہے کہنے پر دوپٹہ اوڑھ کر بیٹھی لڑکی کی دھڑکنیں بے ساختہ بڑھی تھیں۔ وہ ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔ اس کی زندگی نے کون سا موڑ لیا تھا؟ قسمت نے کیا کھیل کھیلا تھا؟ وہ ابھی تک نہیں سمجھ پائی تھی۔

آئرہ شکستہ قدموں سے چل رہی تھی جب یک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا۔ اس سے پہلے کہ وہ گرتی، دو مہربان بازوؤں نے اسے تھام لیا۔
“آئرہ!” ضرار نے تڑپ کر اسے پکارا۔
” بھائی!!” ضرار کی آواز قریب سے سنن کر اس نے درد کی انتہا پر اسے پکارا،
“جی بھائی کی جان کیا ہوا ہے” ضرار کو اس کی حالت تکلیف دے رہی تھی۔
“بھائی، آئرہ ہار گئی! آئرہ اپنا برسوں سے سنبھالا خزانہ ہار گئی، کیونکہ آئرہ سیاہ ہے، اور سیاہیاں سب کچھ نگل لیتی ہیں، جیسے میں اپنی ہی خوشیاں نگل گئی۔” اس کی آنکھوں میں تکلیف تھی، درد کی بکھری کرچیاں تھیں، مگر اس کی آنکھوں میں اس وقت آنسو نہیں تھے، بلکہ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ لیکن وہ مسکراہٹ آنسوؤں سے بھی زیادہ دل چیرتی محسوس ہو رہی تھی۔ اور پھر وہ ہوش و حواس کھوتی، ضرار کی باہوں میں ہی جھول گئی۔
وہ فوراً اسے ایمرجنسی میں لے کر بھاگا۔ وہ تو یوشع کے نکاح کا سُن کر آیا تھا، پر آئرہ کو یہاں موجود دیکھ وہ حیران ہوا۔ آئرہ کو ایمرجنسی میں ایڈمٹ کر لیا گیا تھا اور ضرار کی اطلاع پر سلطان، جو در در کی خاک چھانتے آئرہ کو تلاش رہے تھے، فوراً وہاں پہنچے۔
“پیشنٹ کی حالت تو آؤٹ آف ڈینجر ہے، پر ہم ابھی انہیں ہوش میں نہیں لا رہے، کیونکہ ان کا مائنڈ بہت زیادہ سٹریس میں ہے۔ اور ہوش میں آنے کے بعد وہ پھر دماغ پر زور ڈالیں گی اور کچھ گھنٹے پہلے وہ نروس بریک ڈاؤن سرواوئیو کر کے آئی ہیں، تو مزید سٹریس ان کے لیے جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ان کے دماغ کی نس تک پھٹ سکتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ چند دن دوائیوں کے زیرِ اثر غنودگی میں ہی رہیں۔” ڈاکٹر تفصیل سے بتا کر چلی گئی تھی، پر سلطان اور ضرار جامد ہو چکے تھے۔

“ماموں جان، آئرہ کی یہ کنڈیشن؟” ضرار نے سکتے سی کیفیت میں سوال کیا، کیونکہ صبح آفس آنے سے پہلے وہ آئرہ کو ہنستا مسکراتا چھوڑ کر آیا تھا اور ناشتے کی میز پر معمول کی طرح ریان اور آئرہ کی نوک جھونک اِنجوائے کی تھی۔ وہ خوش تھی پر چند گھنٹوں میں ہی وہ پت جھڑ میں مرجھائے پھول کی مانند ہو گئی تھی۔
“پتا نہیں ضرار، ہمیں تو خود سمجھ نہیں آ رہی۔ ہم تو آفس میں تھے جب صائمہ کی کال آئی۔ یوشع آیا تھا گھر، آئرہ اور اس کے درمیان کسی بات کو لے کر بحث ہوئی اور اس کے جانے کے بعد آئرہ کی یہ حالت ہوئی۔ پھر وہ ہسپتال سے غائب ہو گئی، اب تمہاری کال پر ہم یہاں آئے ہیں۔” سلطان شاہ کا لہجہ ہارا ہوا تھا۔ انہیں حقیقتاً آئرہ کی حالت اذیت دے رہی تھی اور ضرار نے کبھی انہیں اس طرح شکستہ حال نہیں دیکھا تھا۔
آئرہ کا یوشع سے بحث کرنا، پھر جہاں یوشع موجود تھا وہیں آئرہ کا موجود ہونا اور پھر آئرہ کی حالت جس طرف اشارہ کر رہی تھی وہ ضرار سوچنا بھی نہیں چاہ رہا تھا۔
“اچھا ماموں، یوشع کی کال آئی تھی۔ اس نے نکاح کیا ہے آج، اسی ہسپتال میں ہے۔ میں اس سے ذرا مِل آتا ہوں۔ اسی کے لیے یہاں آیا تھا۔” ضرار کے منہ سے یوشع کے نکاح کا سُن کر نہ جانے سلطان شاہ کا دل کیوں کپکپایا تھا اور پھر بے اختیار نظریں آئرہ کے بے سُدھ وجود کی طرف اٹھی تھیں، پر پھر ان کے اندر کا ابلیس باپ کی محبت پر غالب آ گیا۔
“اچھا ہوا یہ قصہ ہی ختم ہو گیا، کیونکہ اس بدذات خون کو تو ہم جلد ہی مار دیں گے۔ آج نہیں تو کل۔” انہوں نے تو جیسے خود کو یقین دلایا تھا۔ کچھ لوگ اپنا ضمیر اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں
                            ✩━━━━━━✩
وہیں دوسری طرف یوشع کا دل کر رہا تھا وہ شکر ادا کرنے کے لیے سر سجدے میں رکھے اور تا عمر وہ سجدے کی حالت میں رہے۔ اس کے رب نے اس کو مزید کسی آزمائش میں نہیں ڈالا تھا۔ اس سے اس کی محبت دُور نہیں کی گئی تھی۔ اسے غموں کے بعد آسودگی سے نوازا گیا تھا۔ وہ خود کو ان چند خوش قسمت لوگوں میں شمار کر رہا تھا جن کا مقدر محبت ٹھہرتی ہے۔
یوشع کو محویت سے نور کو تکتا دیکھ اشعث دھیما سا مسکرا ، پھر مشکوٰۃ کی طرف متوجہ ہوا، “فاطمہ، آئیں آپ کو ڈنر کروا دوں۔” اشعث کی بات پر اس نے خفگی بھری نظروں سے اسے دیکھا، پر بنا کچھ بولے اس کے ساتھ چل دی، کیونکہ سب کے سامنے انکار کر اس کا مان نہیں توڑنا چاہتی تھی۔
اشعث نے جاتے جاتے عنایہ کو اشارہ کیا، جسے سمجھ اس نے سر ہلایا۔ “سکائے، مجھے بھی کینٹین جانا ہے۔ آپ چلیں گے میرے ساتھ؟” عنایہ نے جب پیاری سی مسکان سجا کر کہا، تو اشعث سے زیادہ تو خود افق حیرت سے بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا۔انڈیپینڈنٹ اور سٹرانگ عنایہ اس سے مدد مانگ رہی تھی، کافی عجیب بات تھی پر پھر اسے دیکھنے کے بعد جب اس نے یوشع اور ابھی تک گھونگٹ اوڑھے سِمٹی سی بیٹھی نور کو دیکھا تو سارا معاملہ سمجھ آنے پر گہرا سانس بھر باہر کی طرف چل دیا اور عنایہ بھی اس کے پیچھے لپکی۔
“یہ کیا، اس کا کتا ہے  اس کا جو’سکائے’ ‘سکائے’ کرتی رہتی ہے؟” احد کے جل کر دھیمی سی آواز میں سرگوشی کرنے پر یوشع نے اسے گھورا۔
“نہیں، سچ میں میرے ماموں کے گھر جو کتا ہے اس کا نام ‘سکائے’ ہی ہے۔” احد نے چہرے پر ایسی معصومیت سجائے جواب دیا کہ اگر یوشع اس کو جانتا نہ ہوتا تو ضرور اس کی معصومیت پر ایمان لے آتا۔

“شرم کر لے، میرا سالا ہے۔” یوشع نے اس بے شرمی کے بادشاہ کو شرم دلانے کی کوشش کی، پر کوشش رائیگاں گئی تھی۔ جس کا یقین احد کے منہ سے نکلنے والے اگلے الفاظ نے یوشع کو دلا دیا تھا۔

“ہاں تو، سالا ہوگا تیرا۔ میرا کون سا ماما لگتا ہے؟ پر جیسے والا تیرا سالا ہے، ویسے والا نہیں۔ پر ہے تو سالا ہی۔” احد کی بات سمجھ آنے پر یوشع نے اسے دُگنی گھوری سے نوازا اور جب احد کو یقین ہو گیا کہ اب مکا پڑنے کے آثار قریب قریب ہی ہیں، تو فوراً دروازے کی جانب بھاگا،  پھر رُک کر یوشع کو شرارتی نظروں سے گھورا تو یوشع کو ارد گرد خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی۔
“اچھا، میں چلتا ہوں۔ تو ‘اِنجوائے’ کر۔” آنکھ دبا کر کہتا وہ نَو دو گیارہ ہو گیا۔
اور تب سے ان کی باتیں کان لگا کر سننے کی کوشش کرتی نور آخری بات پر سٹپٹائی اور دل میں اس بے باک انسان کو ملامت کی، جبکہ یوشع دھیما سا مسکرا دیا۔ پھر دروازہ لاک کر چلتا ہوا نور کے قریب پہنچا۔ اس کے قدموں کی چاپ قریب محسوس کر نور کی دھڑکنیں بے ساختہ بڑھیں اور دل میں عنایہ کو ڈھیروں گالیوں سے نوازا، جو کمینی اسے اکیلا چھوڑ کر خود نکل گئی تھی۔
یوشع نے دھیرے سے اس کی کلائی پکڑ کر رو بہ رُو کھڑا کیا اور اسے کھینچ کر سینے سے لگایا۔ وقت کی گردش مانو تھم گئی، فضائیں ساکت ہو گئیں۔ نور کے دل کی حالت یوں ہو گئی جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا اور یوشع،  یوشع کو یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے بے چین ماہ و سال کے غموں کا مداوا اس ایک لَمس سے کر دیا گیا ہو۔ اس نے نور کے گرد حصار مضبوط کیا، وہ جیسے اسے خود میں چھپا لینا چاہتا ہو۔
“میں ڈر گیا تھا۔قلب میں بہت ڈر گیا تھا۔ مجھے لگا تھا میں آپ کو کھو دوں گا، اپنے ہر پیارے رشتے کی طرح۔ پر آپ میرا آزمائش کے بعد دیا جانے والا انعام ہیں۔ میں یہ نکاح ایسے، اس حالت میں نہیں چاہتا تھا۔ میں بہت شان سے آپ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا، پر آج اگر میں آپ کو باہوں میں بھر کر آپ کی سانسوں کو محسوس نہ کرتا اور نہ ہی اگر آپ کے دل کو اپنے دل کے ساتھ دھڑکتے محسوس کر آپ کے صحیح سلامت ہونے اور اپنے پاس ہونے کا یقین نہ دلاتا، تو میں ساری عمر بے چین رہتا۔ پر آپ کو یوں چھو کر میں آپ کی پاکیزگی پر حرف نہیں لا سکتا تھا، اس لیے پہلے آپ کو چھونے کے لیے، محسوس کرنے کے لیے خدا سے اجازت لی۔”
یوشع نے کہتے ہی نور کو مزید خود میں بھینچا اور نور کو جہاں اس کے لمس پر خود میں سِمٹی تھی، وہیں اس کے الفاظ اسے خود پر رشک کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ وہ اسے اپنی عزیز ہستی اور انعام کہہ رہا تھا۔ وہ اسے پاکیزہ کہہ رہا تھا، حالانکہ وہ غلاظت کے ڈھیر سے ہو کر آئی تھی۔ کیا تھا وہ شخص؟ جس نے بنا کسی رشتے کے اسے چھونا بھی خود پر حرام کر رکھا تھا۔
پھر کچھ دیر بعد اسے الگ ہوا اور اس کا گھونگٹ پلٹا، جو وہ تب سے اوڑھے بیٹھی تھی۔ اور گھونگٹ کا اٹھنا تھا کہ یوشع کے لبوں سے بے ساختہ “الحمدللہ” نکلا تھا۔ اس نے اس کے چہرے کو دیکھنے کے بعد “ماشاءاللہ” کہہ کر اس کا حُسن نہیں سراہا تھا، بلکہ “الحمدللہ” کہہ کر اپنے نصیب کو سراہا تھا۔ اس نے اپنے مقدر پر اللہ کا شکریہ ادا کیا تھا، جس نے اس کی محبت کو ہی اس کا ہمسفر، اس کی مَحرم بنا دیا تھا۔ اس پاک ذات کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا۔
پھر وہ دھیرے سے نور کی طرف جھکا اور اپنے ہونٹوں کے لَمس سے اس کی پیشانی کو معطر کیا۔ اور اس کے اس مہکتے، پُر تپش لَمس پر نور کے گال تپ اُٹھے تھے۔ چند لمحے اسی حالت میں ہونٹ اس کی پیشانی سے مَس کیے کھڑا رہا، پھر علیحدہ ہوا تو نور نے تب سے جُھکی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،  یوشع نے ایک بار پھر خود کو ان سرمئی آنکھوں پر وار دیا تھا۔
“اُف! قلب شاہ! آپ کی یہ حسین آنکھیں مجھے گستاخیوں پر اکسا رہی ہیں، پر آپ کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکیں گی۔” یوشع نے جب منہ اس کے کان کے پاس لا کر شرارتی انداز میں کہا، تو نور کو چھپنے کے لیے کہیں جگہ ملنا مشکل ہو گیا۔ وہ تو اس خاموش طبع شریف یوشع کی بے شرمیاں دیکھ کر حیران تھی، کتنا مِیسنا اور بے باک تھا وہ! نور سوچ کر رہ گئی۔


“یار فاطمہ، پہلے جُرم تو سنا دیں، پھر فردِ جرم بھی عائد کر دیجیے گا۔” اشعث منہ پُھلا کر بیٹھی مشکوٰۃ کے سامنے منتی انداز میں گویا ہوا۔
“مجھ سے بات مت کریں۔ شاہ جی۔” اس نے چِڑ کر کہا، پر اشعث کو اس کی یہ معصوم سی ناراضگی پر بھی پیار آ رہا تھا، پر پبلک پلیس کا خیال کر وہ صبر کر گیا۔
“شاہ جی کی جان! میں تو یہاں بھی منانے کے لیے دل و جان سے تیار ہوں، پر آپ ہی شرمندہ ہو کر رہ جائیں گی، اس لیے یہ معاملہ گھر جا کر حل کروں گا۔” اشعث نے سینڈوچ اٹھا کر مشکوٰۃ کے ہونٹوں سے لگایا تو وہ بیچاری ٹھیک سے اسے گھور بھی نہ سکی۔
وہ مشکوٰۃ کو لے کر ایک علیحدہ کونے میں بیٹھا تھا، تاکہ وہ نقاب اتار کر سکون سے کھا سکے اور خود اس کے سامنے اس انداز میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہ اس کے پیچھے بالکل چِھپ سی گئی تھی۔
مشکوٰۃ نے خفگی برقرار رکھی، پر سینڈوچ کی بائٹ لے لی اور اشعث کی مسکراہٹ اس کی اس ادا پر گہری ہوئی، مشکوٰۃ نے آدھا سینڈوچ کھا کر بس کر دی اور وہ آدھا بچا اشعث نے اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر  اشعث نے ٹشو سے اس کا چہرہ صاف کر خود اس کا نقاب درست کیا اور اس کا بازو تھامے اٹھ کھڑا ہوا۔
“اس نئے نویلے دُلہے کو تنہا چھوڑنا بھی صحیح نہیں ہے ناں! جتنا وہ ترسا ہوا ہے ناں، کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے۔” اشعث کی بے باکیوں پر وہ بیچاری صرف شرمندہ ہی ہو سکتی تھی، کیونکہ شریف وہ صرف اس کے سامنے ہی ہوتا تھا، باقیوں کے سامنے تو اس نے بے شرمی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔
جب وہ وہاں پہنچے تو احد، افق اور عنایہ تینوں باہر ہی چیئر پر بیٹھے دیکھ اشعث نے ابرو اچکایا۔
“اِنویٹیشن دوں اندر جانے کا؟؟” اشعث کا ایٹی ٹیوڈ مہاراجوں جیسا تھا۔

“نہیں، اپنی بے شرمی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے نئے نویلے کَپل کے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے  کھول کر ان کی پرائیویسی آپ ہی ڈسٹرب کریں، کیونکہ ہم میں تو الحمدللہ، شرم و حیا اور تمیز باقی ہے اور آپ ٹھہرے ازل کے بدتمیز اور بے شرم۔” احد بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
“تم تو ایسے بات کر رہے ہو جیسے وہ اندر سیج سجائے بیٹھا ہے۔ ہسپتال کے بستر پر پڑا ہے، کیا ہی کر لے گا؟” اشعث نے زبان کھول کر اپنے بے شرم ہونے پر گویا مہر لگا دی اور وہ دونوں اپنی دُھن میں یہ بات قطعی فراموش کر چکے تھے کہ افق بیچارہ بھی وہیں موجود ہے اور جس کی سیج سجانے کی باتیں وہ کر رہے ہیں اس کی بیوی اس بیچاری کی بہن ہے۔ اس لیے ان کی بے شرمی کا تاب نہ لاتے وہ غریب سُرخ چہرہ لیے وہاں سے نکل گیا۔ اور مجال ہے جو ان دو بے شرموں نے اس بات کا ذرا بھی نوٹس لیا ہو۔ جبکہ مشکوٰۃ کو اپنے شوہر کی حرکتوں پر ہی شرمندگی ہو رہی تھی۔
وہیں عنایہ نے آگے بڑھ کر دروازہ ناک کیا، تو نور کو حصار میں لیے یوشع بدمزہ ہوا اور نور سٹپٹائی۔ اب یوشع جو بے شرم ہو کر دروازہ لاک کیے کھڑا تھا، نور سب کو اس کی کیا جسٹفیکیشن دیتی؟ یوشع نے جب نور کو آزاد کیا تو وہ بھاگ کر جا کر صوفے پر بیٹھی اور یوشع نے جا کر ان کباب کی ہڈیوں کے لیے دروازہ کھولا، تو سامنے عنایہ کا چہرہ نمودار ہوا۔

“لوکاں دے کٹے کھلدے آ تاڈے دو بولد کھلے آ بن لو جا کے(لوگوں کے کَٹے کُھلتے ہیں، آپ کے دو بَیل کُھلے ہوئے ہیں، باندھ لے جا کر)” عنایہ نے یوشع کو دیکھ کر کہا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔ جبکہ یوشع وہ دو بغیرت جانور باندھنے باہر آ گیا اور مشکوٰۃ ان کی بے باکیوں کا تاب نہ لاتے اندر ہی آ گئی۔
“پُتر! وہ بڑی چالو چیز ہے، مِیسنا۔ دیکھا نہیں، وہ شریف بچہ کیسے گارڈز کی فوج نکال لایا اور نوابزادہ نکاح شدہ بھی بن بیٹھا راتو رات اور ایک ہم ہیں ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہیں۔” احد کی دہائیوں کو بریک یوشع کی طرف سے گردن پر پڑنے والے تھپڑ نے لگوایا تھا۔
“جانی، یہ صبر صبر کی بات ہوتی ہے۔ صابرین کو پھل میٹھا ہی مِلتا ہے اور بے صبروں کو تھوہڑ۔” یوشع نے جتا کر کہا۔
“میں تھوہڑ بھی کھا لوں گا، پر مِلے تو سہی۔” وہ بھی احد تھا، ڈھیٹ اور بے شرم۔
یوشع مزید کوئی جواب دیتا کہ سامنے سیاہ فام ضرار کو دیکھ کر خاموش ہو گیا، کیونکہ اس کے ساتھ مفرہ اور ریان بھی تھے۔ مفرہ کو بھی ضرار نے آئرہ کی بابت بتایا تھا، ایک تو اس کی طبیعت صحیح نہیں تھی، اس لیے سارا دن سوئی رہی تھی اور ریان بھی اس کے ساتھ سوتا رہا۔ اب ضرار کی فون کال پر اس کی آنکھ کھلی تو فوراً ڈرائیور کے ساتھ ہی ہسپتال آ گئی۔
“السلام علیکم۔” مفرہ نے تینوں کو مشترکہ سلام کیا۔
“کیسی ہیں بھابھی؟ اور چاچو کی جان کیسی ہے؟” اشعث نے احترام سے پہلے مفرہ کو مخاطب کیا، پھر ریان کو اٹھا کر پیار کیا۔
“الحمدللہ، دیور جی۔” مفرہ ضرار کے سامنے شرارت سے اسے دیور جی کہتی تھی اور اشعث نے ہمیشہ کی طرح ضرار کو جلانے کے لیے بلند و بانگ قہقہہ لگایا۔
“چاچو جان، یہاں تو تین تین چاچو ہیں، تو آپ تینوں کو کیسے پتا چلے گا ریان کس کو بُلا رہا ہے؟” ریان نے اُلجھے انداز میں استفسار کیا۔

“میرا بچہ، اِن دونوں کا تو پتا نہیں پر مجھے ‘پھپھا جان’ کہہ لیا کرو۔” اشعث کا انداز آگ لگانے والا تھا۔ ریان کو تو خاص سمجھ نہیں آئی، پر مفرہ مسکرا دی اور احد، یوشع نے اسے گھورا اور ضرار کو تپ چڑھی۔

“نہیں، چاچو جان ہی ٹھیک ہے۔” ریان کو وہ مشکل سا لفظ ادا کرنے میں دقت پیش آ رہی تھی، اس لیے اس نے چاچو کہنے پر ہی اتفاق کیا، جس پر اشعث بدمزہ ہوا جبکہ ضرار مسکرایا۔
“یوشع! اندر چلو گے کہ نہیں؟ تمہاری بھابھی خاص اپنی نئی دیورانی کو ملنے کے لیے ہی آئی ہیں۔” ضرار نے بات بدلی، پر اشعث تو کمینگی کے موڈ میں تھا۔
“بھابھی، آپ کی نئی دیورانی کے ساتھ ساتھ پرانی دیورانی پلس نند بھی موجود ہے۔” اشعث ضرار کو تپا رہا تھا اور اس کی ٹھیک ٹھاک تپ بھی رہی تھی۔ ان دو کو وہیں چھوڑ کر باقی تینوں ریان سمیت اندر چلے گئے۔ پھر کچھ دیر ایک دوسرے کو گھورنے کے بعد وہ دونوں بھی اندر ہی بڑھ گئے۔
مفراہ نور اور عنایہ سے بھی بالکل مشکوٰۃ کے جیسے محبت سے مِلی۔

“چاچو چاچی اس ‘پریٹی’۔” یوشع کے اندر آنے پر ریان نے نعرہ لگایا، جس پر یوشع تو کِھل کر مسکرا دیا، پر نور سُرخ پڑی۔ وہ ایک کانفیڈنٹ لڑکی تھی، پر پتا نہیں آج اس کا سارا اعتماد کہاں کمبل تانے سو گیا تھا۔

ضرار نے بھی آگے بڑھ کر نور اور عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور نہ جانے کس خیال کے تحت مشکوٰۃ کو دھیرے سے خود کے ساتھ لگا کر اس کا سر تھپتھپایا اور بنا کچھ بولے علیحدہ ہو کر جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ ہسپتال کا وی۔آئی۔ پی فرنشڈ روم تھا، جس میں ہر سہولت موجود تھی۔

جبکہ مشکوٰۃ تو ساکت ہو گئی تھی اس مہربان سے لَمس پر۔ اس نے حیران نظروں سے اشعث کو دیکھا، جو اس کی کیفیت سمجھ کر اس کے قریب آیا اور دھیرے سے اپنے حصار میں لے کر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔
مفرہ اور ضرار کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے اور اشعث وقتاً فوقتاً ضرار کو تپاتا رہا اور وہ ضبط کیے بیٹھا رہا۔ ریان کو تو اپنی بُوا جانی مل گئی تھی، تو وہ مشکوٰۃ کی گود میں ہی چڑا رہا سارا وقت ۔
“اچھا، کافی وقت ہو گیا ہے، ہم نکلتے ہیں۔ ابھی آئرہ کو بھی دیکھنا ہے۔” ضرار کے الفاظ پر یوشع کا ماتھا ٹھنکا، حیران باقی سب بھی ہوئے۔

“آئرہ کو کیا ہوا ہے؟” یوشع نے دھڑکتے دل سے سوال کیا۔ “اس کا ‘نروس بریک ڈاؤن’ ہوا ہے۔ کافی کریٹیکل کنڈیشن تھی، ابھی بے ہوشی میں ہی رکھا گیا ہے۔” ضرار کی بجائے مفرہ نے جواب دیا تھا اور یوشع کا وجود زلزلوں کی زد میں آ گیا۔
“دیکھو! میں بھی تو نہیں مر رہی ناں۔” آئرہ کے الفاظ کانوں میں گونجے، وہ لڑکی تو جھوٹ بول گئی تھی۔ اس نے کہا تھا اسے موت نہیں آئی، پر وہ تو موت کے منہ سے ہو آئی تھی۔ ضرار جو یوشع کے تاثرات دیکھ رہا تھا، اس کا دل اپنا شک درست ہوتا دیکھ لرزہ۔
آئرہ کی حالت کا سُن کر دو لوگوں کے علاوہ سب کو ہی افسوس ہوا تھا۔ “اچھا، اسے کیا ہوا ہے؟” احد نے حیرت سے سوال کیا، کیونکہ اسے تو آئرہ بڑی ‘رَف ٹَف’ سی لگی تھی۔
“کچھ بھی پتا نہیں بھائی، اچانک ہی ہوا ہے۔” مفرہ نے دُکھ سے جواب دیا، اسے ابھی یوشع کے گھر آنے کا نہیں پتا تھا اور وہاں موجود کچھ نفوس جانتے تھے کہ اسے کیا ہوا۔
پھر وہاں سے وداع لے کر ضرار اور مفرہ، آئرہ کے روم میں آ گئے، جہاں سلطان اور صائمہ بھی موجود تھے۔ صائمہ آئرہ کے سرہانے بیٹھی اس پر مختلف آیات پڑھ کر پُھونک رہی تھیں اور سلطان سامنے صوفے پر تھکے ہارے سے بیٹھے تھے۔ مفرہ نے آگے بڑھ کر صائمہ بیگم کو گلے لگایا اور ریان جو پہلے شرارتیں کر رہا تھا، سلطان شاہ کو دیکھ کر سہم گیا۔ ضرار اور مفرہ بھی وہیں رُک گئے تھے تاکہ ماموں، مامی کو پریشانی نہ ہو۔

                           ✩━━━━━━✩

آئرہ کی جب صبح آنکھ کھلی تو خود کو ٹکر ٹکر گھورتے ریان کو دیکھ ایک بَھولی بَھٹکی  مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر بکھری، پر اس مسکراہٹ میں شفافیت نہیں تھی، بڑی بناوٹی سی تھی وہ مسکراہٹ۔
“سو ایمبیری سِنگ آئرن، اتنی بڑی ہو کر ہاسپٹل میں! ریان از مور سٹرانگ دین یو” ریان نے تاسف بھرے انداز میں آئرہ کے بستر پر ہونے پر افسوس کیا۔
“یس، بے بی آئرن میں سچ میں بہت کمزور ہے۔” آئرن نے شکستہ انداز میں معصوم بچے کی بات کا مثبت جواب دیا۔ تبھی ضرار دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا اور اس کے پیچھے دروازہ کُھلا ہی رہ گیا۔
اور پھر وہاں سے آئرہ نے ایک روح چیرتا منظر دیکھا تھا۔ یوشع نور کا ہاتھ تھامے جا رہا تھا۔ انہیں صبح ہی ڈسچارج مِل گیا تھا اور اب وہ لوگ واپس گھر جا رہے تھے اور آئرہ کی نظریں ان کے ہاتھوں پر اٹک گئی تھیں۔ پھر اس نے اپنی خالی ہتھیلیوں کو دیکھا اور تکلیف دہ سی مسکرا دی۔
“کیسی ہے ‘پرنسیس’؟” ضرار نے پیار سے آئرہ کے بال سہلاتے سوال کیا۔ “ٹھیک ہوں، پر آرام کرنا ہے۔” آئرہ نے تکیے پر سر  پٹکتے ہوئے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے، تم ریسٹ  کرو، ہم باہر ہی ہیں۔” ضرار ریان کو ساتھ لیے باہر نکل گیا اور صائمہ بیگم اور مفرہ کو وہ پہلے ہی ناشتے کے لیے لے گیا تھا۔ اور ریان کی ضد پر کہ آئرن کے پاس رہنا ہے، اسے وہیں چھوڑ دیا۔ ان کی جاتے ہی آئرہ نے کَرب سے آنکھیں بند کیں تو کچھ آنسو آنکھوں سے پھسل کر تکیے میں جذب ہو گئے۔
“کیوں اللہ؟؟ کیوں! ہم جیسوں کا آخرت میں تو ٹھکانہ جہنم ہے ہی، پر یہ دنیا کو کیوں ہمارے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے؟ کم از کم یہاں تو جنت جیسی زندگی کے حقدار ہیں ہم، جہاں ہماری ہر خواہش زبان سے نکلے بنا پوری کر دی جائے۔” آئرہ نے اپنے رب کے سامنے اپنا شکوہ رکھا تھا۔ پھر کَرب سے آنکھیں بند کیں، پر دوائیوں کے اثر کی وجہ سے دوبارہ غنودگی میں ہی چلی گئی۔

                             ✩━━━━━━✩
سب لوگ ہسپتال سے سیدھا یوشع کے فلیٹ آ گئے تھے اور لڑکے لاؤنج میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف تھے جبکہ لڑکیاں کچن میں ناشتے کے انتظامات دیکھ رہی تھیں۔
“شاہ بھائی، ناشتہ لگ گیا ہے۔” عنایہ نے کچن سے ہی آواز لگائی، تو اشعث کے ساتھ باقی لڑکے بھی اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل پر آ گئے۔
سب سکون سے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے، جبکہ احد کی نظریں عنایہ پر جمی تھیں، جو نور کے آملیٹ سے بھی شملہ مرچ چگ چگ کر اپنی پلیٹ میں رکھ رہی تھی، تو وہ سر جھکا کر اس کی حرکت پر مسکرا دیا۔

ڈور بیل پر سب متوجہ ہوئے تھے، جس پر احد نے اٹھ کے دروازہ کھولا تو سامنے کبیر شاہ کھڑے تھے۔
“ارے انکل، آئیں! صحیح وقت پر آئے ہیں، ناشتہ کریں۔” احد نے کبیر کو اندر آنے کا راستہ دیا تو وہ مسکرا کر اندر داخل ہوئے۔ یوشع اور افق اٹھ کر کھڑے ہوئے اور مارے مجبوری اور مروت کے اشعث صاحب کو بھی  کھڑا ہونا پڑا اور سب لڑکیاں بھی کھڑی ہو گئی ۔

کبیر صاحب مسکرا کر سب لڑکوں سے بغل گیر ہوئے اور یوشع کا تو مسکرا کر ماتھا چوما اور اس کے چہرے کی اس خوشیوں بھری چمک کے قائم اور دائم رہنے کی دعا کی۔ پھر وہ لڑکیوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ عنایہ، نور کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا، پھر مشکوٰۃ کو ہلکا سا اپنے حصار میں لیا۔
“کیسے ہو بچے؟” ان کے شفیق سے لہجے پر مشکوٰۃ نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ اپنے ننیہال والوں سے زیادہ نہیں ملی تھی، پر کبیر ماموں اور صائمہ مامی جب بھی مِلتے تھے، ایسے ہی محبت سے مِلتے تھے۔ کبیر سے تو اسے اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی۔
“ٹھیک ہوں ماموں جان۔” مشکوٰۃ کے میٹھے سے لہجے پر نہ جانے کیوں کبیر رنجیدہ ہو گئے،
“ماموں کی جان! آپ بالکل میری زلیخا جیسی ہیں۔ پر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس کا عکس نہ سنبھال پائے۔” کبیر نے بہت کوشش کی تھی کہ مشکوٰۃ ان کے ساتھ رہے، پر نہ ابراہیم اسے دینے کے لیے تیار تھے اور نہ سلطان رکھنے کے لیے۔
“فکر مت کریں فاطمہ، ابھی بھی بہت قدردان اور محبت کرنے والے ہاتھوں میں ہے۔” اشعث نے جتانا لازمی سمجھا، تو کبیر نے اتفاق کرتے ہوئے سر ہلایا۔ اس بات کے تو وہ بھی قائل تھے۔
“میں بھی کن باتوں کو لے کر بیٹھ گیا۔ نور بیٹا، آپ ناشتہ کر لو، پھر میں نے آپ کو ایک امانت سونپنی ہے۔” کبیر نے نور کو دیکھتے پیار سے کہا۔
ناشتہ مکمل کرنے کے بعد سب لاؤنج میں آ کر بیٹھے۔ کبیر نے نور کو پاس بٹھایا اور ایک باکس اس کے ہاتھ میں دیا۔
“یہ شاہ جان کی ماں کا ہے، جو کہ ہم اس کی بہو کو سونپ رہے ہیں۔ جب بتول ہمارے گھر آئی تھی، تو اسی زیور سے سجی ہوئی تھی اور اب جب آپ ہمارے بیٹے کی زندگی میں آئی ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ یہ آپ کی ملکیت بن جائے۔” بتول کا ذکر کبیر کے زخم ادھیڑ گیا تھا اور ماں کے ذکر پر یوشع کے بھی دل میں درد اٹھا۔ نور نے اس باکس کو کسی متاعِ حیات کی طرح سینے سے لگایا۔

“شکریہ انکل۔” نور اپنے پیاری سی مسکراہٹ سے جواب دیا۔

“نہیں بچے، حق لینے کے بعد شکریہ نہیں کہتے اور انکل نہیں، بابا یا ابو کہو۔” ان کے لہجے میں بس شفقت ہی شفقت تھی، جس پر نور مسکرا دی۔
“جی ابو۔” نور کے جواب پر کبیر اور کبیر صاحب کے لخت جگر دونوں مسکرائے۔
“مشکوٰۃ، عنایہ بچے، یہ لو آپ دونوں کے لیے۔” انہوں نے دو باکس ان کی طرف بڑھائے۔ مشکوٰۃ نے اجازت طلب نظروں سے اشعث کو دیکھا، پھر اس کے سر ہلانے پر وہ باکس تھام لیا، پر عنایہ ابھی تک حیرت سے کبیر شاہ کو ہی دیکھ رہی تھی۔
“لے لیں بچے، آپ بھی ہمیں بیٹیوں کی طرح ہی عزیز ہیں۔” کبیر کے کہنے پر عنایہ کی آنکھوں میں نمی اتری، جسے وہ جلد ہی سب سے چُھپا گئی۔

کبیر کو بھی اس لڑکی سے اپنائیت سی محسوس ہوتی تھی اور اس کی آنکھیں انہیں اپنے والد حاتم شاہ کی یاد دلاتی تھیں۔ ان دونوں بھائیوں کی آنکھیں بھی بھوری تھیں، پر حاتم کی آنکھیں تھوڑی مختلف تھیں اور عنایہ میں انہیں انہی کا عکس نظر آ رہا تھا۔
“ارے انکل، بیٹی نہیں، پوتی کہیں۔ یوشع اس کا روحانی والد ہے نا۔” احد نے پُھلجھڑی چھوڑی تو سب ہنس دیے اور عنایہ چِھینپ گئی۔ پھر جھجکتے ہوئے باکس تھام لیا۔ کبیر نے اس کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ “بالکل، بھائی بھی والد کی جگہ ہوتے ہیں۔” یوشع نے پُرشفیق سی مسکراہٹ سے عنایہ کو دیکھتے کہا تو اس کا دل کیا کہ وہاں سے بھاگ جائے،
“آج کافی اِمپورٹنٹ کلاس ہے، میں چلتی ہوں۔ اور نور، تمہارے لیے بھی نوٹس بنا دوں گی۔ تم ریسٹ کرو، میں چلتی ہوں۔” عنایہ بہانہ بنا کر کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی فوراً وہاں سے نکل گئی۔

                        ✩━━━━━━✩
وہ یونیورسٹی کے بجائے ہسپتال آئی تھی، جہاں آئرہ ایڈمٹ تھی۔ اور دروازے کے باہر شیشے سے بے سُدھ پڑی آئرہ کو دیکھ رہی تھی۔

“کیا کام ہے لڑکی؟” سلطان شاہ اکھڑ لہجے میں اس کے پاس آ کر بولے تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ “آئرہ سے مِلنا ہے۔ اس کی ‘فرینڈ’ ہوں۔” عنایہ نے لہجہ نارمل رکھتے ہوئے جواب دیا۔
“وہ بھی دوائیوں کے زیرِ اثر رہے گی چند دن، کچھ دن بعد آ کر مِل لیجیے گا۔” سلطان کہتے ہی خود اندر کی طرف بڑھ گئے، جبکہ عنایہ کچھ دیر وہیں رُک کر آئرہ کو دیکھنے کے بعد باہر کی طرف چلی گئی۔
وہ یونیورسٹی کی طرف جا رہی تھی، جب ماں کے فون آنے پر اس نے اٹھا کر کان سے لگایا۔
“امی، میں ان سے مِلی آج۔” عنایہ کی ادھی ادھوری بات کا مطلب اس کی ماں اچھے سے سمجھ گئی تھی اور ان کی دھڑکنیں بڑھیں، پر وہ بولنے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہی تھی۔
“امی، آپ کو کیوں ہے ان سے محبت؟ انہوں نے تو آپ کو چھوڑ دیا۔ باپ کے زندہ ہونے کے باوجود میں یتیموں جیسی زندگی جی رہی ہوں۔ انہیں میرے وجود تک کا علم نہیں ہے اور آپ کی پوری زندگی برباد ہو کر رہ گئی ہے، پھر بھی آپ محبت کرنا کیوں نہیں چھوڑتیں؟” وہ طنز نہیں تھا، وہ واقعی اس محبت پر الجھی ہوئی تھی۔

“عنایہ، محبت کرنا تو شاید اختیار میں ہوتا ہو، پر اس محبت سے دستبرداری شاید بروزِ محشر ہی ممکن ہو۔ دنیا میں تو محبت سے پیچھا چھڑوانا ممکن ہی نہیں!” ماں کے ہمیشہ والے جواب پر عنایہ نے  گہرا سانس بھرا۔

“کیسے تھے وہ؟” تہمینہ نے بے تابی سے سوال کیا۔
“بے خبر!” عنایہ نے کہتے ہی رابطہ منقطع کر دیا، جبکہ تہمینہ کا دل کٹ کر رہ گیا۔

                            ✩━━━━━━✩
مشکوٰۃ اشعث کے ساتھ واپس آئی تھی اور بڑی امی نے مسکرا کر دونوں کا استقبال کیا ۔ ناشتے کا پوچھنے پر دونوں انکار کر آرام کی غرض سے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔
اشعث نے اپنے کمرے کے سامنے سے گزرتی مشکوٰۃ کا بازو پکڑ کر اندر کھینچا تو وہ کٹی ڈال کی طرح لہرا کر اس کے سینے سے لگی۔ اسعث نے جھٹ سے دروازہ لاک کر مشکوٰۃ کو اس کے ساتھ پِن کیا اور مشکوٰۃ کا تو دماغ ہی اس افتاد پر چکرا گیا تھا۔ ہوش جب معمول پر آئے تو صورتحال کا اندازہ ہونے پر چہرہ تپ کر انگار ہوا۔
اشعث آنکھوں میں رومانیت بھرے اس کی طرف جھکا۔ “ناراض کیوں ہیں؟”
اس کے چہرے پر پُھونک مار کر مخمور لہجے میں سوال کیا، تو مشکوٰۃ کو اپنے دل کی آواز کانوں میں سنائی دینے لگی۔
“آپ نے… آپ نے یوشع بھائی کے نکاح کا نہیں بتایا۔” نظریں جھکا کر بمشکل الفاظ حلق سے نکال کر شکوہ کیا گیا۔
“غلط بیانی مت کریں ذہبیہ، آپ اس کے نکاح میں شریک تھی۔” اشعث نے جواز رَد کیا۔
“آپ کو شروع سے ان کی پسندیدگی کا علم تھا، پر آپ نے مجھے نہیں بتایا اور باقی سب کی طرح میں نے بھی عام سے طریقے سے نکاح میں شرکت کی”۔
یہ اشعث کے دیے مان کا ہی نتیجہ تھا، جو اس قدر نازک صورتحال میں بھی اس کی زبان پٹر پٹر چل رہی تھی، پر وہ معصوم نہیں جانتی اس کی یہ بہادری کیسے اس کے شاہ جی کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی۔
“اب میں آپ کو آپ کے بھائی کے معشوقہ کے قصے سناتا، اچھا لگتا؟” اشعث کے شرارت سے کہنے پر وہ لاجواب ہوئی۔ پھر گردن کڑائی۔

“بے باکی میں ویسے بھی آپ کو کوئی ثانی نہیں ہے۔ تو یہ بتانے میں کیا شرم؟” مشکوٰۃ نے ہسپتال میں ہونے والے بحث کا طعنہ دیا تو وہ کِھل کر ہنس دیا۔
“شاہ جی کے سکون! یہ الزام ہے۔ آپ کے ساتھ تو کوئی بے باکی کبھی نہیں کی؟” اشعث کے شرارتی کہنے پر اس کا چہرہ بھاپ چھوڑنے لگا۔ پھر اس کی اگلی بات نے سانسیں سینے میں اٹکا دیں۔

” پر آج نہ جانے کیوں دل بغاوت پر مائل ہو رہا ہے۔” کہتے ہی اس نے اس کا حجاب ڈھیلا کیا، پھر چہرہ اس کی اور قریب لایا۔ مشکوٰۃ آنکھیں مِیچ کر سانس تک روک گئی، پھر اشعث نے بہت محبت سے ہونٹ اس کی گردن سے مَس کیے۔ مشکوٰۃ کو اس کے لَمس سے تتلیاں اپنے پیٹ میں اڑتے ہوئے محسوس ہوئیں اور اس کا ننھا سا دل کپکپایا۔

“جلدی سے میری دسترس میں آ جائیں۔ اب دُوری برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔” اس نے گویا منت کی تھی، پر اپنی گردن پر اس کے لبوں کی حرکت محسوس کر مشکوٰۃ کو اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی۔

“شاہ جی، جانے دیں۔” مشکوٰۃ نے کپکپاتے لہجے میں التجا کی۔

“بالکل، مستقل واپس آنے کے لیے جانا تو پڑے گا۔”اس کے گال کو چوم کر اسے حصار سے آزاد کیا تو وہ بنا اشعث سے نظریں ملائے فوراً وہاں سے بھاگ کر گئی۔ پیچھے اشعث خوبصورت سا مسکرا دیا، اس کے وجود میں سرور سا اتر رہا تھا۔
اپنے کمرے میں آنے کے بعد مشکوٰۃ نے دل پر ہاتھ رکھ کر بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو لگام ڈالنے کی ناکام کوشش کی، پر بے سُود۔ پھر گزرے لمحے یاد کر چہرے پر حیا کی لالی بکھری۔ وہ چہرہ ہاتھوں میں چُھپایے خود سے ہی شرما گئی۔ اشعث نے پہلی بار ایسے کوئی گستاخی حرکت کی تھی اور مشکوٰۃ کا دل اتھل پتھل کر دیا تھا۔
مشکوٰۃ آئینے میں اپنا ہی عکس دیکھ کر حیران رہ گئی، وہ اشعث کے اتنے سے لَمس پر شبنم سے نہایا ہوا کھلا گلاب لگ رہی تھی، تازہ، مہکتی اور دِلکش۔ اشعث کا لَمس اسے تازگی بخش گیا تھا۔ یہ سوچ آتے ہی وہ شرمیلا سی مسکرائی۔
نہ جانے کیا ہوا
جو تو نے چھو لیا
کھلا گلاب کی طرح میرا بدن
نکھر نکھر گئی، سنور سنور گئی
بنا کے آئینہ تجھے اے جانِ مَن
   ✩━━━━━━✩
عنایہ نے جب یونیورسٹی سے باہر قدم نکالا تو افق اس کا انتظار کر رہا تھا۔ جسے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔
“السلام علیکم۔” اُس نے قریب آ کر سلام کیا۔
جس کا افق نے سر ہلا کر جواب دیا۔
“بیٹھو۔” اُس نے عنایہ کے لیے گاڑی کا دروازہ اوپن کیا اور خود دوسری طرف سے جا کر بیٹھا پھر عنایہ کے بیٹھنے پر گاڑی اسٹارٹ کی۔
“آج تم دونوں میرے ساتھ گھر چل رہی ہو کیونکہ مما امی اور آنٹی تم دونوں کیلئے پریشان ہیں اور ان کی لاتعداد کالز مجھے موصول ہو چکی ہیں “
افق شاید لگاتار کالز سے چڑا بیٹھا تھا
اور عنایہ اس کے چڑنے پر محظوظ ہو رہی تھی
افق نے گاڑی یوشع کی فلائٹ کے باہر روکی۔ ٹھیک اسی وقت اشعث کی گاڑی بھی رکی اور اشعث کے دور اوپن کرنے کے بعد مشکوٰۃ باہر نکلی۔

پھر چاروں اندر بڑھ گئے۔ جہاں جناب احد صدیقی صاحب پہلے ہی صوفے پر نیم دراز، موبائل چلانے میں مصروف تھے۔ نور شاید  روم میں تھی اور یوشع بھی وہیں صوفے پر بیٹھا کوئی میچ دیکھ رہا تھا۔
وہ دونوں بھی وہیں ساتھ ہی ٹک گئے جبکہ دونوں لڑکیاں اندر نور کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
عنایہ تو آتے ہی بستر پر مزدوروں کی طرح گری۔ “قسم سے! اگر ڈگری نہ چاہیے ہوتی نا، میں لعنت بھیجتی خواری بھری یونیورسٹی کی زندگی پر۔ تم شادی شدہ عورتیں مل کر گفتگو کرو، میں کنواری کنیا ذرا آرام فرما لوں۔” لیٹے لیٹے ہی عبایا اتار کر سامنے نور کی طرف اچھالا، پاؤں سے بلینکٹ کھینچ کر خود پر اڑھایا اور ان دونوں کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر مست ہو کر لیٹ گئی۔
“خیر ہے بھابھی! سو لینے دیں، کافی دنوں سے بے آرام رہی ہے۔” صدا کی رحم دل مشکوٰۃ نے یہاں بھی اپنی رحم دلی کا ثبوت دیا ورنہ نور اس کواری کنیا کو اچھے سے لوری سناتی، اور اس کے ‘بھابھی’ کہنے پر نہ جانے کیوں نور کو دل میں گدگدی سی ہوتی محسوس ہوئی۔ پھر دونوں آہستہ آواز میں ہلکی پھلکی باتوں میں مصروف ہو گئیں۔

تھوڑی دیر بعد افق کے دروازہ کھٹکھٹانے پر نور نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
“نور! ریڈی ہو جاؤ، نکلنا ہے ہمیں، عنایہ کو بھی بول دو۔” افق دروازے سے ہی کہہ کر چلا گیا۔
اور نور نے بھی عنایہ کو اٹھایا جو سوئی جاگی  کیفیت میں ہی اٹھ کر تیار ہونے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد دونوں عبایا وغیرہ پہن کر باہر آ گئیں، جبکہ عنایہ کی آنکھیں منہ دھونے کے باوجود نیند میں دھت تھیں۔
احد کو اُسے دیکھ کر ترس بھی آ رہا تھا اور ہنسی بھی، پر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اب ان لوگوں کا رکنا مناسب بھی نہیں ہے۔ رشتہ تبدیل ہو چکا تھا، افق اپنی بہن اور فیملی فرینڈ کے ساتھ مزید وہاں رکنے میں کمفرٹیبل نہیں ہوتا۔
“رات ہماری طرف رک جاؤ۔ اس کی حالت دیکھو، سفر والی ہے؟؟” اشعث نے افق کو دیکھ کر کہا اور آخری بات میں عنایہ کا مذاق اڑایا تو وہ نیند بھری آنکھوں سے خفیف سا گھوری۔
“بھائی! اس نے کون سا گاڑی چلانی ہے؟ راستے میں سو جائے گی۔” افق  ہلکا سا مسکراتے گویا ہوا ۔
“اچھا افق! میری گاڑی تو میرے پاس نہیں ہے۔ آپ لوگ جا رہے ہیں تو میرا گھر اسی طرف ہے۔ کائنڈلی آپ مجھے ڈراپ کر دیں گے؟” احد نے مسکینیت چہرے پر سجا کر کہا تو اشعث اس کمینے کی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ کیونکہ اس نے صبح خود ہی جان بوجھ کر ڈرائیور کو بلوا کر گاڑی واپس بھجوائی تھی۔
“جی ضرور! کیوں نہیں؟” افق نے خوش دلی سے اجازت دی۔
پھر سب لوگ یوشع سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔ نور بھی گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی جب عنایہ نے اُسے روکا۔
“نور یار! میں فون اندر چارجنگ پر بھول آئی ہوں۔ تم لا دو مجھے، پلیز۔” عنایہ نے اس قدر منتی اور معصوم انداز میں کہا تھا کہ نور چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائی۔ جب کہ افق نے ایک نظر عنایہ کے ہاتھ میں موجود فون کو دیکھا، پھر تفتیشی انداز میں ابرو اچکا کر اُسے گھورا، پر اُس کے تنبیہی گھورے پر فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ جب کہ افق سائیڈ میں کھڑا کسی کال پر مصروف تھا۔
نور تھوڑا گھبرائی سی جب اندر داخل ہوئی تو اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیونکہ یوشع نے اسے کلائی سے پکڑ کر اچانک کھینچا تھا۔
“قلب شاہ! کتنی ظالم ہیں آپ! انسان وِداع تو اچھے سے لیتا ہے۔ رحم کیا کریں اب! اب تو رشتہ تبدیل ہو گیا ہے، اب تو یہ بے اعتنائی چھوڑ دیں!” یوشع نے اس محبوبِ جان سے شکوہ کیا جو نکاح کے بعد سے ہی اُس سے کتراتی پھر رہی تھی۔
“سب کے سامنے آپ کو مخاطب کرتے مجھے جھجک محسوس ہوتی ہے۔” نور نے پلکوں کی جھالر جھکا کر دھیمے سے اپنی بے بسی بیان کی تو یوشع کو اس کے عذر پر بھی پیار آیا۔
“آپ اشارہ کرتیں، میں کونے میں ہو جاتا۔” اس کے کان کے پاس جھک کر شرارتی سی سرگوشی کی اور اس بیچ اس کا نقاب بھی چہرے سے ڈھلکا دیا۔
نور تو بیچاری اس بات پر حیران تھی کہ اس شریف یوشع میں نکاح کے بعد سے کون سا بے شرم بھوت گھس گیا ہے۔
“یوشع! جانے دیں، باہر سب انتظار کر رہے ہیں، کیا سوچیں گے؟” نور نے التجائیہ نظروں سے اُسے دیکھا تو اُس نے جھک کر وہ سرمئی چمکتے روشن ستارے چوم لیے۔
“پہلے ٹھیک سے خود کو محسوس تو کرنے دیں! کیونکہ چند دن تو یہ آنکھیں بھی صحرائی رہیں گی آپ کے دیدار کی پیاس سے۔” نور کی ناک سے ناک مس کرتے اُس نے بھرائی آواز میں التجا کی۔
“آپ پہلے بھی میرے بغیر ہی رہتے رہے ہیں۔” نور کے جتانے پر وہ دھیما سا مسکرایا۔
“تب تو صبر واجب تھا، آپ صرف میری محبت تھیں اور اب صبر جرم ہے کیونکہ آپ کی روح تک کا مالک میں ہوں، آپ سر سے پیر تک میرے نام ہیں اور اب آپ الحمدللہ میری شریکِ حیات ہیں۔ اور آپ نہیں جانتی، میری زندگی کا سفر اتنا اندھیروں بھرا ہے کہ اسے تنہا بسر کرنا بہت خوفناک ہے۔ اس لیے آپ جیسے معطر ساتھی کی ضرورت اب ہر دھڑکن کے ساتھ ہے۔” اس کے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکائے وہ اپنی تاریک زندگی کا ایک پہلو اس پر آشکار کر گیا۔
نور کو اس کی تکلیف اپنے سانس گھوٹتی محسوس ہوئی، یہ شخص چند دن میں اس کے لیے سانس لینے جتنا ضروری ہو گیا تھا۔ شاید نکاح کی تاثیر تھی یا مقابل کی محبت کی تپش۔
“میں جب آپ کی زندگی میں کاملیت کے ساتھ داخل ہوں گی نا، تو تمام اندھیرے اپنے دامن میں بھر کر آپ کی اندھیروں والی زندگی میں خوشیوں کا سورج طلوع کروں گی۔” کہتے ہی اس نے بہت ہمت جمع کر یوشع کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا، پھر دھیرے سے ایڑیاں اٹھا کر اس کے ماتھے کا بوسہ لیا۔
یوشع کو اس لمس پر اپنے رگ و پے میں سکون سرایت کرتا محسوس ہوا۔ لفظ عافیت کا اصل مفہوم اس نے آج جانا تھا۔ پھر بازو دھیرے سے اس کی کمر کے گرد لپیٹ کر اُسے ہلکا سا زمین سے اوپر اٹھا کر سینے سے لگایا اور اس کی مشکل آسان کی۔
“آپ کے میری زندگی میں آنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ ہر سانس کے ساتھ مجھ پر شکر واجب کر دیا گیا ہے۔” یوشع نے ان الفاظ سے ایک بار پھر اسے معتبر کیا تھا۔
پھر تھوڑی دیر بعد اُسے آغوش سے آزاد کیا جو اپنی بے خود حرکت پر  نظریں چرا رہی تھی۔
“جائیں! یار، جتنا قریب رہیں گی، اتنا آپ کو دور بھیجنا مشکل ہوتا جائے گا۔” نور نے اس کی بے تابی پر بمشکل چہرہ جھکا کر مسکراہٹ روکی
پھر کچھ یاد آنے پر بوکھلائی۔
“یوشع! میں عنایہ کا فون لینے آئی تھی، اَللہ اَللہ! سب باہر کتنی دیر سے انتظار کر رہے ہوں گے!” وہ بڑبڑاتی ابھی روم کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ یوشع نے کلائی پکڑ کر اسے روکا۔
“آپ جب میرا نام لیتی ہیں نا، تو مجھے احساس ہوتا ہے مما، بابا نے میرا نام کتنا حسین رکھا ہے۔” وہ فل فلرٹ کے موڈ میں تھا۔
“ڈائیلاگ پرانا ہو گیا ہے یہ۔” نور نے خفگی بھرے انداز میں کہا۔
“ہوا ہو گا، پر میرے لیے تو تب ہی ایجاد ہوا تھا جب میرے کانوں نے آپ کے ہونٹوں سے ادا ہوا اپنا نام سنا تھا۔” وہ بھی باز نہ آیا تو وہ خفگی بھلائے ہلکا سا مسکرا دی۔
“شرم نہیں آتی بیوی سے فلرٹ کرتے؟” نور نے ہلکا سا گھورتے ہوئے سوال کیا۔
پَر یوشع صاحب تو آج کل فل بے شرم بنے بیٹھے تھے
“نہیں! تو بیوی سے فلرٹ حلال ہوتا ہے جو میں بسم اللہ پڑھ کر کرتا ہوں کیونکہ حلال چیز اگر بسم اللہ پڑھ کر کی جائے تو ثواب ہوتا ہے۔” یوشع کے جواب پر نور کا دل کیا کہ وہ کہیں غائب ہو جائے، وہ کیوں اتنا بے باک اور بے شرم ہو چکا تھا۔
“اچھا اب جانے دیں نا!” وہ کسی بھی طرح اس بے شرم انسان سے فرار چاہتی تھی۔
“جائیے! اور ہاں! عنایہ کا فون اس کے پاس ہی ہے، یہ تو بہنا نے بھائی کی تھوڑی سی مدد کرنی تھی اس لیے بہانہ گھڑا۔” یوشع نے شرارتی مسکان کے ساتھ نور کی سماعتوں میں بم پھوڑا تو نور کا دل کیا کہ وہ بے وفا کمینی اس کے سامنے ہو اور وہ اس کی گردن دبوچ دے۔
“چلیں!” یوشع نے خود ہی اس کا نقاب درست کیا، پھر اس کی آنکھوں اور ماتھے کا بوسہ لے کر اس کا ہاتھ تھاما اور باہر لے آیا، خود ہی گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر بٹھایا۔
“اللہ حافظ، فی امان اللہ۔” نامحسوس انداز میں جھک کر اس کے کان کے پاس سرگوشی کی کہ نور کی مسکراہٹ نے آنکھوں تک رسائی حاصل کی۔

احد نے کمینی مسکراہٹ سے موبائل نکال کر میسج ٹائپ کیا اور یوشع کو سینڈ کر دیا۔
یوشع نے بیپ پر موبائل نکال کر دیکھا تو ‘New Zun mureed in the town'(نیو زن مرید ان دا ٹاؤن)کے الفاظ جگمگا رہے تھے۔
“الحمدللہ! اور بیٹا اپنی باری پہ تُو تو پیر دھو دھو کر پیے گا۔” یوشع نے پہلے اعتراف کیا، پھر حساب برابر۔
“نہ جی! ان قدموں کا لمس لینے کے لیے انہیں دھو کر پینے کی مشقت کون اٹھائے گا؟” اور آگے ایک آنکھ وِنک کرتا ایموجی۔
اس کا میسج پڑھ کر اندر نور کے سامنے بے شرم بنا یوشع اس وقت خواہ مخواہ ہی شرما دیا، جسے دیکھ احد نے جناتی قہقہہ لگایا، پر مرر سے عنایہ کو کڑے چتونوں کے ساتھ خود کو گھورتے دیکھ قہقہے کو بریک لگائی اور شریف کاکا بن کر بیٹھ گیا۔
یوشع نے بھی اس بے شرمی کے بادشاہ پر دو لفظ بھیجے۔ تبھی افق بھی کال سے فارغ ہو کر وہیں آ گیا اور یوشع سے بغل گیر ہو کر رخصت طلب کی۔ پھر ان کا قافلہ بھی روانہ ہو گیا۔
احد نے گہرا سانس بھر کر قدم دوبارہ گھر کے اندر رکھے جہاں اب اسے اس متاعِ جان کی خوشبو آنی تھی جو اس کی غیر موجودگی میں یوشع کی تنہا زندگی میں بہار لے آتی۔

“افق! یہاں گاڑی روکنا ایک منٹ۔” احد کے کہنے پر افق نے سائیڈ میں گاڑی روکی۔
احد گاڑی سے اتر گیا، پھر جب چند منٹ بعد  آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا جس میں چار کافی کے مگ تھے۔ جسے دیکھ کر عنایہ کو تو بلا ارادہ سکون سا آیا کیونکہ آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں اور دماغ سونے پر آمادہ نہ تھا۔ ایسے میں کافی کا ملنا نعمت سے کم نہیں تھا اور وہ نہیں جانتی، احد لایا بھی خاص اسی کی حالت کو دیکھ کر ہی تھا۔
نور اور افق کو کپ تھمانے کے بعد اس نے عنایہ کی طرف بڑھایا۔
“میں اس کے لیے پے کروں گی۔” اس کی ہمیشہ والی تکرار پر افق نے بیزاری اور تاسف سے سر ہلایا، جبکہ نور نفی میں سر ہلا کر صرف مسکرا دی اور احد کے ہونٹ کانوں تک پھیلے۔
“شور! وائی ناٹ؟” اس کے خوش دلی سے کہنے پر عنایہ نے پہلے اس کافی کی پرائس موبائل سے سرچ کی، پھر اتنے ہی پیسے نکال کر احد کی ہتھیلی پر رکھے اور اس کے بعد کپ پکڑا اور احد نے بھی وہ پیسے اعزاز کی طرح دل کی جانب موجود پاکٹ میں رکھے۔
پھر انہوں نے احد کو ڈراپ کیا اور اس کے گھر انوائٹ کرنے پر دھیمے سے افق نے معذرت کر لی اور وہ لوگ جھنگ کے لیے روانہ ہو گئے۔

                         ✩━━━━━━✩

چند گھنٹوں کے سفر کے بعد جب وہ لوگ گھر پہنچے تو مریم اور نادیہ بیگم کے ساتھ تہمینہ بھی وہیں موجود تھی۔
مریم نے لپک کر نور کو سینے میں بھینچا اور اس کے ٹھیک ہونے کا یقین کر اپنے دل کو قرار پہنچایا۔
“جان نکال دی تھی امی کی جان۔” وہ کہتے ہی رو دی ان کا دل تھا ہی چھوٹا سا ہر بات پر آسانی سے رو دیتی۔
“امی! رو کیوں رہی ہیں؟ میں ٹھیک تو کھڑی ہوں آپ کے پاس۔” نور نے ماں کو خود سے لگا کر چپ کروایا تو وہ آنسو صاف کرتی دور ہوئی۔ پھر وہ نادیہ بیگم کی طرف بڑھی جو اس کے گلے لگتے ہی رو پڑی تھی۔
آنکھیں تہمینہ بیگم کی بھی نم تھیں۔
“یار بس کر دیں آپ لوگ! تین تین ماؤں کی دعائیں ساتھ تھیں کیا ہی ہونا تھا مجھے؟ اور تھکے ہارے آئے ہیں، بیٹھنے تو دیں!” نور کے کہنے پر وہ تینوں مسکرا دیں۔
پھر  گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی مریم بیگم نے نور کا صدقہ اتارا، پھر اسے اندر آنے دیا جبکہ عنایہ میڈم تو کب کی جا کر صوفہ نشین ہو چکی تھی۔

“آنٹی! کیا پکایا ہے؟” ہائے رے۔ عنایہ کے کھانے کی فکریں۔
“شملہ مرچ ہی ہو گی۔” جواب نور نے دیا تو مریم نے مسکرا کر تائید کی۔
“امی! میں سونے جا رہا ہوں اور یہ شملہ وملہ نہیں کھاؤں گا، کچھ اور بنا دیجیے گا۔” افق کے کہنے پر عنایہ نے منہ بسورا کیونکہ جتنا عنایہ کو شملہ مرچ سے عشق تھا اتنی ہی افق کو نفرت۔ وہ کبھی چکھ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔
“آنٹی! ہینڈسم سرپرائزڈ داماد کی مبارک ہو!” کھانا کھاتے ہوئے عنایہ نے شوشہ چھوڑا تو سب مسکرا دیے اور مریم اور نادیہ بیگم نے یوشع کے نام پر نور کے چہرے پر آتے رنگوں کو دیکھ اس کی ہمیشہ خوش رہنے کی دعا کی تھی۔
“بیٹا! تھا تو یہ سب اچانک، پر پتہ نہیں کیوں جب اس نے تمہارے ساتھ نکاح کی درخواست کی تھی نا، تو دل کو سکون سا آیا تھا کہ جیسے تم صحیح ہاتھوں میں جا رہی ہو۔” نادیہ نے بیٹی کو دیکھ کر کہا تو وہ بس مسکرا دی۔
“ارے آنٹی! یش بھائی فل ہیرو ٹائپ ہے آپ کو پتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔” پھر سب عنایہ کی پٹر پٹر چلتی زبان سے یوشع کی تعریفوں کے قصیدے سنتے رہے تھے اور تینوں مائیں تو اس نئے نویلے داماد پر غائبانہ قربان جا رہی تھیں۔
                             ✩━━━━━━✩

“سر! وہ شخص بڑا ڈھیٹ ہے۔ اتنا سٹرانگ ڈرگ انجیکٹ کیا تھا پر اس کی وِل پاور اب بھی اتنی مضبوط ہے کہ کمینہ پوری طرح سے سچ نہیں اُگل رہا، اس کا شعور اب بھی بیدار ہے۔ نشہ پوری طرح سے اس پر اثرانداز نہیں ہو رہا۔” فون کے اُس پار محسن کی آواز سن کر سلطان شاہ کا چہرہ بے بسی کے احساس سے سرخ ہوا۔
“کتنا اور کیا کیا اُگلایا ہے اس نے؟” سلطان نے سوال کیا۔
“سر! کہہ رہا ہے کہ وہ ثبوت اس کے پاس شروع سے ہی نہیں تھے۔” محسن نے گویا سلطان کی سماعت پر دھماکہ کیا تھا۔
“واٹ!!!!! پھر کہاں ہیں؟” اتنے سالوں میں کیا وہ اصل ٹارگٹ کو چھوڑے غلط سمت کا تعاقب کرتے رہے تھے ۔
“سر! کہہ رہا ہے ان چاروں میں سے کسی ایک کی اولاد کے پاس۔”
اس کی بات سلطان شاہ کو الجھا گئی تھی۔
“ارحم کی تو کوئی اولاد ہی نہیں ہے!” وہ واقعی اُلجھے ہوئے تھے۔
“بالکل سر! میں نے بھی یہی پوچھا پر اس کا جواب انتہائی شاکنگ تھا، اس نے کہا کہ میری بائیولوجیکل اولاد نہیں ہے پر میں نے کسی کی اولاد کی طرح پرورش تو کی ہے نا، اور پالنے والا پیدا کرنے والے سے بڑا ہوتا ہے!” اور اس جواب پر سلطان کو دھڑا دھڑ آسمان سر پر گرتا محسوس ہوا اور ایک نام سرگوشی کی صورت ان کے ہونٹوں سے برآمد ہوا:
“یوشع!”
                        ✩━━━━━━✩

“تھینک یو میری دھڑکن کی حفاظت میں مدد کرنے کے لیے۔” یوشع نے کسی خاص نمبر کے نام پیغام بھیجا جس کا جوابی پیغام فوراً موصول ہوا جسے پڑھ کر وہ مسکرا دیا۔
“چھوٹے بڑوں کو ایسی باتوں پر شکریہ نہیں کہتے ویسے بھی تمہاری حفاظت مجھ پر لازم کی گئی ہے اور میں جان گیا ہوں کہ وہ لڑکی اب تمہاری سانسوں کی ضامن ہے۔” یہ جواب پڑھ کر وہ مسکرایا، پھر فون واپس رکھ کر آنکھیں موندے لیٹ گیا۔
                          ✩━━━━━━✩

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *