Qurbani ke rang by Maham Shabbir

🌷 قربانی کے رنگ🌷
ازقلم: ماہم شبیر✍️

گاؤں کے کنارے بہنے والی چھوٹی سی نہر کے پاس ایک بوسیدہ سا گھر تھا۔ اس گھر کی دیواروں پر وقت کی دھول جمی ہوئی تھی، مگر اس کے اندر رہنے والوں کے دل آج بھی محبت، صبر اور امید سے روشن تھے۔ اس گھر میں ستر سالہ رحمت بی بی اپنے دو پوتوں اور ایک بیوہ بہو کے ساتھ رہتی تھی۔ رحمت بی بی کی آنکھیں کمزور ہو چکی تھیں، مگر دل اب بھی جوان تھا۔ وہ ہر صبح فجر کی اذان کے ساتھ اٹھتی، وضو کرتی اور پھر لمبی دعاؤں میں کھو جاتی۔

گاؤں کے لوگ اکثر کہتے تھے کہ رحمت بی بی کے چہرے پر عجیب سا سکون ہے۔ جیسے زندگی نے اس سے سب کچھ چھین لیا ہو مگر اس نے شکوہ کرنا نہ سیکھا ہو۔

رحمت بی بی کا ایک ہی بیٹا تھا، سلیم۔ وہ محنت مزدوری کرتا تھا۔ کبھی کھیتوں میں کام، کبھی اینٹوں کے بھٹے پر مزدوری۔ اس کے ہاتھوں کی سختی اس کی محنت کی گواہی دیتی تھی۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا:

“اماں، غریب آدمی کے پاس دولت نہیں ہوتی، مگر عزت اور محبت ہو تو زندگی پھر بھی اچھی لگتی ہے۔”

پھر ایک دن ایسا آیا جب گاؤں کی سڑک پر ہونے والے حادثے نے سب کچھ بدل دیا۔ سلیم دنیا چھوڑ گیا۔

وہ دن رحمت بی بی کی زندگی کا سب سے سیاہ دن تھا۔ گھر کے صحن میں رکھی سلیم کی میت کو دیکھ کر وہ پتھر ہو گئی تھی۔ اس کی بہو زینب دیوار سے لگی روتی رہی اور دو چھوٹے بچے حیرت سے کبھی لوگوں کو دیکھتے، کبھی اپنے باپ کے خاموش چہرے کو۔

اس دن کے بعد اس گھر کی خوشیوں نے جیسے راستہ بھول لیا۔

زینب نے سلائی شروع کر دی۔ دن بھر مشین چلاتی رہتی۔ رات کو جب سب سو جاتے تو وہ اکثر خاموشی سے بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کی انگلیاں دیکھتی جن پر سوئی کے نشان تھے۔ کبھی کبھی اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر کپڑوں پر گر جاتے۔

رحمت بی بی اسے دلاسا دیتی:

“بیٹی، اللہ آزماتا انہی کو ہے جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔”

زینب ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر لا کر کہتی:

“اماں، میں بس بچوں کو پڑھانا چاہتی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ بھی اپنے باپ کی طرح ساری عمر مزدوری کریں۔”

وقت گزرتا رہا۔

گاؤں میں عید الاضحی قریب آ رہی تھی۔ ہر طرف رونقیں بڑھ رہی تھیں۔ کہیں بکرے بندھے تھے، کہیں گائیں سجائی جا رہی تھیں۔ بچے خوشی سے جانوروں کے گلے میں رنگ برنگی رسیاں ڈال کر گھومتے تھے۔

مگر رحمت بی بی کے گھر میں خاموشی تھی۔

چھوٹا پوتا احمد ایک دن باہر سے واپس آیا اور بولا:

“دادی اماں، اس بار ہم قربانی نہیں کریں گے؟”

رحمت بی بی چند لمحے خاموش رہی۔ اس کے پاس جواب نہیں تھا۔ گھر کے اخراجات ہی مشکل سے پورے ہوتے تھے۔ قربانی کا جانور خریدنا ان کے لیے خواب جیسا تھا۔

احمد نے پھر پوچھا:

“کیا اللہ ہم سے ناراض ہو جائے گا؟”

رحمت بی بی کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے احمد کو سینے سے لگا لیا۔

“نہیں میرے بچے، اللہ دل دیکھتا ہے۔”

لیکن اس رات رحمت بی بی سو نہ سکی۔ وہ دیر تک چھت کو دیکھتی رہی۔ اس کے دل میں عجیب سی بے بسی تھی۔ اسے لگ رہا تھا جیسے غربت صرف انسان کی جیب نہیں، اس کی خواہشیں بھی خالی کر دیتی ہے۔

ادھر زینب نے خاموشی سے ایک فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی شادی کے وقت کی واحد سونے کی چوڑی نکالی، جسے اس نے برسوں سنبھال کر رکھا تھا۔ وہ چوڑی اس کی ماں کی آخری نشانی تھی۔

اگلی صبح وہ شہر گئی اور چوڑی بیچ دی۔

واپسی پر اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بکرا تھا۔

جب بچے خوشی سے اچھلنے لگے تو رحمت بی بی حیرت سے زینب کو دیکھتی رہ گئی۔

“بیٹی… یہ تم کہاں سے لائی؟”

زینب نے مسکرا کر کہا:

“اماں، قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی انسان کو اپنی سب سے پیاری چیز بھی قربان کرنا پڑتی ہے۔”

رحمت بی بی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس رات گھر میں برسوں بعد خوشی لوٹی تھی۔ احمد اور اس کا بھائی حسن بکرے کے ساتھ کھیلتے رہے۔ انہوں نے اس کا نام “چاندو” رکھ دیا کیونکہ اس کی پیشانی پر سفید داغ تھا۔

مگر قربانی کے دن جوں جوں قریب آتے گئے، بچوں کی محبت اس بکرے سے بڑھتی گئی۔

احمد ہر صبح اسے نہلاتا۔ حسن اس کے لیے سبز گھاس لاتا۔ رات کو دونوں اس کے پاس بیٹھ جاتے۔

ایک دن حسن نے معصومیت سے پوچھا:

“امی، ہم چاندو کو کیوں ذبح کریں گے؟ وہ تو ہمارا دوست ہے۔”

زینب خاموش ہو گئی۔ اس نے بچوں کو اپنے قریب بٹھایا اور نرمی سے بولی:

“بیٹا، قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ چیز بھی قربان کرنی پڑے تو انسان پیچھے نہ ہٹے۔”

احمد نے آہستہ سے کہا:

“کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کیا تھا؟”

“ہاں بیٹا۔ انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے سب سے پیارے بیٹے کی قربانی دینے کا ارادہ کیا تھا۔”

بچے خاموش ہو گئے۔ شاید پہلی بار وہ قربانی کے اصل مطلب کو محسوس کر رہے تھے۔

عید کی صبح سورج بہت روشن تھا۔ گاؤں کی گلیاں تکبیر کی آوازوں سے گونج رہی تھیں۔ لوگ نئے کپڑے پہنے ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔

رحمت بی بی کے گھر میں بھی سادگی مگر سکون تھا۔

نماز کے بعد جب قربانی کا وقت آیا تو احمد کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ چاندو کے گلے سے لپٹ گیا۔

“امی، کیا اسے درد ہوگا؟”

زینب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

“اللہ ہر قربانی کو آسان کر دیتا ہے۔”

قربانی ہو گئی۔

بچے دیر تک خاموش رہے۔ مگر جب گوشت کے حصے بنائے جانے لگے تو رحمت بی بی نے کہا:

“پہلے وہ حصہ نکالو جو یتیم خالہ سکینہ کے گھر جائے گا۔”

پھر اس نے دوسرا حصہ اس بوڑھے بابا کے لیے رکھا جو مسجد کے باہر بیٹھتے تھے۔

زینب نے حیرت سے کہا:

“اماں، ہمارے اپنے گھر میں بھی تو ضرورت ہے۔”

رحمت بی بی مسکرائی:

“بیٹی، قربانی کا رنگ تبھی مکمل ہوتا ہے جب اس میں دوسروں کا حصہ بھی شامل ہو۔”

اس دن پہلی بار بچوں نے دیکھا کہ گوشت بانٹتے ہوئے رحمت بی بی کے چہرے پر عجیب سی روشنی تھی۔ جیسے دینے والا کبھی غریب نہیں ہوتا۔

دوپہر کے وقت بارش شروع ہو گئی۔ ہلکی ہلکی بوندیں مٹی سے خوشبو اٹھا رہی تھیں۔

اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔

زینب نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی عورت کھڑی تھی۔ اس کے ساتھ دو بچے تھے۔ عورت کے کپڑے بھیگ چکے تھے اور چہرے پر تھکن تھی۔

“بی بی، ہم مسافر ہیں۔ صبح سے کچھ کھایا نہیں۔”

زینب نے فوراً انہیں اندر بلا لیا۔ رحمت بی بی نے اپنے حصے کا کھانا بھی ان کے سامنے رکھ دیا۔

عورت کھاتے کھاتے رونے لگی۔

“آج ہر دروازے سے ہمیں دھتکارا گیا، مگر آپ لوگوں نے اجنبی سمجھ کر بھی عزت دی۔”

رحمت بی بی نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا:

“اللہ کبھی کبھی اپنے بندوں کو دوسروں کے امتحان کے لیے بھیجتا ہے۔”

وہ عورت شام تک چلی گئی، مگر جاتے جاتے رحمت بی بی کے ہاتھ چوم کر بولی:

“آپ نے آج مجھے انسانیت پر یقین دلا دیا۔”

رات کو جب سب سو گئے تو زینب صحن میں بیٹھی بارش دیکھ رہی تھی۔ رحمت بی بی آہستہ سے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔

“کیا سوچ رہی ہو بیٹی؟”

زینب نے نم آنکھوں سے کہا:

“اماں، کبھی کبھی لگتا ہے کہ زندگی نے ہم سے سب کچھ لے لیا۔”

رحمت بی بی نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں بادلوں کے درمیان چاند جھانک رہا تھا۔

“نہیں بیٹی۔ زندگی نے ہم سے کچھ لیا ضرور ہے، مگر بدلے میں بہت کچھ دیا بھی ہے۔ صبر دیا، احساس دیا، دوسروں کا درد سمجھنے والا دل دیا۔”

چند مہینے گزر گئے۔

ایک دن احمد اسکول سے بھاگتا ہوا آیا۔

“امی! مجھے اسکالرشپ مل گئی!”

زینب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“سچ؟”

“جی! ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا ہے کہ میں پورے ضلع میں پہلے نمبر پر آیا ہوں۔”

رحمت بی بی نے سجدہ شکر ادا کیا۔

اس دن گھر میں خوشی تھی، مگر اس خوشی میں غرور نہیں تھا۔ صرف شکر تھا۔

وقت ایک دریا کی طرح بہتا رہا۔

احمد بڑا ہو گیا۔ اس نے تعلیم مکمل کی اور شہر میں ڈاکٹر بن گیا۔ حسن نے انجینئرنگ پڑھی۔

مگر دونوں بھائیوں نے کبھی اپنے پرانے گھر اور اپنی غربت کو نہیں بھلایا۔

ایک عید الاضحی پر احمد نے بڑے جانور کی قربانی کی۔ پورا گاؤں حیران تھا۔ مگر سب سے حیران وہ وقت تھا جب احمد نے گوشت کے بڑے بڑے حصے غریب گھروں میں بھجوانے شروع کیے۔

رحمت بی بی اب بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔ اس کے ہاتھ کانپتے تھے، مگر آنکھوں میں اب بھی سکون تھا۔

احمد اس کے پاس بیٹھ کر بولا:

“دادی اماں، آپ نے ہمیں قربانی کا اصل مطلب سکھایا۔”

رحمت بی بی ہلکے سے مسکرائی۔

“میں نے کچھ نہیں سکھایا بیٹا۔ دکھ انسان کو وہ سبق دے دیتا ہے جو کتابیں نہیں دے سکتیں۔”

پھر اس نے احمد کا ہاتھ پکڑا:

“یاد رکھنا، قربانی صرف عید کے دن جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ قربانی یہ ہے کہ انسان اپنے آرام سے پہلے دوسروں کی ضرورت دیکھے۔ اپنی خواہش سے پہلے کسی اور کے آنسو پونچھے۔”

احمد خاموشی سے سنتا رہا۔

اسی رات رحمت بی بی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ گاؤں کے سب لوگ اس کے گھر جمع تھے۔

وہ بار بار ایک ہی بات کہہ رہی تھی:

“کسی بھوکے کو خالی ہاتھ مت لوٹانا… کسی یتیم کو تنہا مت چھوڑنا…”

فجر سے کچھ پہلے اس نے کلمہ پڑھا اور خاموش ہو گئی۔

گھر میں کہرام مچ گیا۔

احمد نے پہلی بار خود کو اتنا بے بس محسوس کیا۔ وہ ڈاکٹر تھا، مگر اپنی دادی کو نہ بچا سکا۔

جنازے کے دن پورا گاؤں موجود تھا۔ ہر شخص کی زبان پر ایک ہی بات تھی:

“رحمت بی بی غریب ضرور تھی، مگر دل کی بہت امیر تھی۔”

اس کے بعد ہر عید الاضحی پر احمد اور حسن ایک روایت نبھانے لگے۔ وہ قربانی کے گوشت کے ساتھ کپڑے، دوائیاں اور راشن بھی غریبوں میں بانٹتے۔

احمد اکثر بچوں کو اپنے پاس بٹھا کر کہتا:

“میرے پاس آج جو کچھ ہے، وہ میری دادی کی قربانیوں کی وجہ سے ہے۔”

ایک دن ایک چھوٹا بچہ اس سے پوچھ بیٹھا:

“ڈاکٹر صاحب، قربانی کا سب سے خوبصورت رنگ کون سا ہوتا ہے؟”

احمد کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔

“قربانی کا سب سے خوبصورت رنگ وہ ہے جو انسان کے دل میں محبت پیدا کر دے۔ جب تم کسی دوسرے کے لیے اپنے حصے کی خوشی چھوڑ دو، جب کسی کے آنسو تمہیں اپنے لگنے لگیں، تب سمجھو قربانی قبول ہو گئی۔”

بچہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

اسی وقت مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ ہوا میں عجیب سا سکون گھل گیا۔

احمد کو یوں لگا جیسے رحمت بی بی کی آواز اب بھی فضا میں موجود ہو:

“دینے والے ہاتھ ہمیشہ خالی نہیں رہتے۔”

بارش کی چند بوندیں زمین پر گریں۔ مٹی سے وہی پرانی خوشبو اٹھی جو برسوں پہلے قربانی والے دن اٹھی تھی۔

زندگی آگے بڑھ چکی تھی، لوگ بدل چکے تھے، وقت بدل چکا تھا… مگر قربانی کے رنگ اب بھی ویسے ہی تھے۔

وہ رنگ جو خون سے نہیں، محبت سے بنتے ہیں۔

وہ رنگ جو انسان کو انسان سے جوڑتے ہیں۔

وہ رنگ جو غربت میں بھی دل کو امیر بنا دیتے ہیں۔

اور شاید یہی قربانی کا اصل حسن ہے… کہ انسان اپنے حصے کا درد بانٹ کر کسی اور کے دل میں امید جگا دے۔

مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔

رحمت بی بی کے انتقال کے کئی سال بعد بھی اس گھر کی مٹی میں اس کی محبت کی خوشبو باقی تھی۔ پرانا گھر اب پکا بن چکا تھا، صحن میں نیم کا نیا درخت لگ گیا تھا، اور دیواروں پر وقت کی دراڑوں کی جگہ سفید رنگ چمکنے لگا تھا۔ لیکن ایک چیز نہ بدلی تھی: اس گھر کا دروازہ آج بھی کسی ضرورت مند کے لیے بند نہیں ہوتا تھا۔

ایک سرد رات حسن گھر واپس آ رہا تھا۔ شہر میں اس کی اچھی نوکری تھی، مگر اس نے گاؤں چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا:

“جس مٹی نے مجھے پہچان دی، میں اسے کیسے چھوڑ دوں؟”

راستے میں اسے ایک بوڑھا شخص دکھائی دیا جو سردی سے کانپ رہا تھا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور ہاتھ میں ایک پرانا سا تھیلا تھا۔

حسن نے گاڑی روکی۔

“بابا، آپ کہاں جائیں گے؟”

بوڑھے نے کمزور آواز میں کہا:

“بیٹا، کوئی ٹھکانہ نہیں۔ بس رات گزارنے کی جگہ مل جائے تو کافی ہے۔”

حسن کو فوراً اپنی دادی یاد آ گئی۔ وہی لہجہ، وہی درد، وہی انسانیت۔

وہ بوڑھے کو گھر لے آیا۔ زینب اب عمر رسیدہ ہو چکی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی ممتا زندہ تھی۔ اس نے فوراً چولہا جلایا، گرم روٹیاں بنائیں اور بوڑھے کے سامنے رکھ دیں۔

بوڑھا کھاتے ہوئے بار بار آنسو صاف کرتا رہا۔

“آج کل لوگ اپنے رشتے داروں کو گھر میں جگہ نہیں دیتے، آپ لوگوں نے ایک اجنبی کو اپنا لیا۔”

زینب دھیرے سے بولی:

“ہم نے یہ سب اپنی ماں سے سیکھا ہے۔”

اس رات حسن دیر تک جاگتا رہا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ قربانی صرف ایک عبادت نہیں، ایک سلسلہ ہے جو ایک دل سے دوسرے دل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔

چند دن بعد گاؤں میں خبر پھیلی کہ ایک غریب مزدور کی بیٹی کی شادی رک گئی ہے کیونکہ جہیز کے لیے کچھ بھی موجود نہیں۔ لوگ افسوس تو کر رہے تھے مگر مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔

احمد نے جب یہ سنا تو خاموشی سے اپنے کلینک کی ایک مہنگی مشین بیچ دی۔ حسن نے اپنی جمع پونجی نکالی۔ دونوں بھائی رات کے اندھیرے میں اس غریب کے گھر سامان رکھ آئے تاکہ کسی کی عزت مجروح نہ ہو۔

اگلی صبح وہ مزدور حیرت اور خوشی سے روتا رہا۔ اسے آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی مدد کس نے کی تھی۔

مگر احمد جانتا تھا کہ اگر رحمت بی بی زندہ ہوتیں تو یہی کرتیں۔

ایک سال عید الاضحی سے کچھ دن پہلے سخت بارشیں شروع ہو گئیں۔ گاؤں کے کئی کچے گھر گر گئے۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا۔

اس بار احمد نے قربانی کے لیے خریدا گیا مہنگا جانور فروخت کر دیا۔ حسن نے پوچھا:

“بھائی، قربانی نہیں کریں گے؟”

احمد نے آہستہ سے کہا:

“اس وقت ان لوگوں کو چھت کی ضرورت ہے۔ اللہ نیت دیکھتا ہے۔”

اس رقم سے انہوں نے کئی خاندانوں کے لیے راشن اور کمبل خریدے۔ کچھ لوگوں نے تنقید بھی کی۔

“اتنے امیر ہو کر قربانی نہیں کی؟”

احمد صرف مسکرا دیتا۔

اس رات وہ دادی کی قبر پر گیا۔ ہوا خاموش تھی، آسمان پر بادل تیر رہے تھے۔

احمد نے قبر کے پاس بیٹھ کر دھیرے سے کہا:

“دادی اماں، میں نے آج آپ کا سبق یاد رکھا۔”

اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے رہے۔

اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے دل کے اندر کوئی بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ جیسے قربانی کا اصل مطلب اسے آج پوری طرح سمجھ آیا ہو۔

انسان جب اپنی خواہش سے بڑھ کر کسی دوسرے کی ضرورت کو اہمیت دے، تب اس کے اندر کا غرور ٹوٹتا ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔

سال گزرتے رہے۔

گاؤں کے بچے اب احمد کو صرف ڈاکٹر نہیں بلکہ “رحمت بی بی کا پوتا” کہہ کر پکارتے تھے۔ کیونکہ اس کی اصل پہچان اس کی ڈگری نہیں، اس کی انسانیت تھی۔

ایک دن ایک نوجوان اس کے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی تھی۔

“ڈاکٹر صاحب، میرے پاس کچھ نہیں۔ نہ نوکری، نہ پیسے۔ زندگی بے معنی لگتی ہے۔”

احمد نے اسے اپنے ساتھ صحن میں بٹھایا جہاں نیم کے درخت کے نیچے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

“کیا تم جانتے ہو، میری دادی کے پاس بھی کچھ نہیں تھا۔ مگر ان کے پاس ایک چیز تھی جو دنیا کی ہر دولت سے قیمتی ہے۔”

“کیا؟”

“دوسروں کے لیے جینے کا جذبہ۔”

نوجوان خاموش ہو گیا۔

احمد نے کہا:

“انسان جب صرف اپنے لیے جیتا ہے تو اندر سے خالی رہ جاتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی دوسرے کے دکھ کو کم کرتا ہے، تب اسے زندگی کا مطلب ملتا ہے۔”

وہ نوجوان کافی دیر تک سوچتا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں میں پہلی بار امید کی ہلکی سی روشنی ابھری۔

شام ڈھل رہی تھی۔ آسمان پر سورج نارنجی رنگ بکھیر رہا تھا۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔

احمد نے دور افق کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ قربانی کے رنگ صرف عید تک محدود نہیں ہوتے۔

یہ رنگ ماں کی بے نیند راتوں میں بھی ہوتے ہیں۔

باپ کے پسینے میں بھی۔

ایک بہن کی دعاؤں میں بھی۔

ایک استاد کی محنت میں بھی۔

اور اس ہاتھ میں بھی جو خود خالی ہو مگر پھر بھی کسی دوسرے کو سہارا دے۔

زندگی دراصل انہی رنگوں کا نام ہے۔

اور جب تک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کے لیے جینا جانتے ہیں، تب تک انسانیت زندہ رہے گی۔

🌷 ختم شد 🌷

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *