پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٥
ازقلم الم
عنایہ اپنی کی گئی بے وفائی کے عوض نور کے تھپڑ اور گالیاں کھانے کے بعد اب گھر آ کر صحن میں چارپائی پر لیٹی تھی، جب مخصوص بیل پر فون نکال کر پیغام پڑھا:
“Time for first blast 😈”
تو اس کے چہرے پر بھی معنی خیز مسکراہٹ آ گئی، پھر لیپ ٹاپ اٹھا کر چھت پر بھاگی۔
“امی! کام کرنے لگی ہوں، ڈسٹرب مت کرنا!”
“اللہ جانے یہ لڑکی اس ڈبے میں منہ دیے کیا کیا کرتی رہتی ہے۔” ماں کے کوسنوں کو کانوں میں گھمائے وہ چھت پر بھاگ گئی۔
ایک بار پھر اسکرین پر نمبرز کا کھیل چل رہا تھا جو بظاہر دیکھنے میں بے معنی تھی پر اصل میں تباہی کا دوسرا نام۔ اس کام میں اس کا کرائم پارٹنر بھی اس کے ساتھ کنیکٹڈ تھا کیونکہ اس کام کو وہ اکیلی ہینڈل نہیں کر سکتی تھی۔
چار پانچ گھنٹے مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے گہرا سانس بھر کر کرسی کی پشت سے کمر لگائی۔ اس کی آنکھوں میں جنون بھری جیت کی چمک تھی۔
اور اس کے ٹھیک آدھے گھنٹے بعد سلطان شاہ کو کال موصول ہوئی، جبکہ دوسری جانب سے جو پیغام دیا گیا وہ حقیقتاً ان کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لے گیا۔ وہ جو ہاسپٹل میں آئرہ کے سرہانے بیٹھے تھے، فوراً باہر دوڑے۔
ہر نیوز چینل پر ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی:
“معروف بزنس مین سلطان حاتم شاہ کی فیکٹریز سے غیر قانونی اسلحہ برآمد، پولیس ریڈ کے دوران کروڑوں کی مالیت کا اسلحہ برآمد کیا گیا جو ماضی میں ملک دشمن عناصر دہشت گردی میں بھی استعمال کر چکے ہیں۔ تاہم سلطان شاہ کی جانب سے کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔”
سلطان شاہ کہیں بھی جانے کی بجائے سیدھا سیکریٹ روم گئے تھے کیونکہ جن فیکٹریز پر ریڈ ہوئی تھی ان کا ریکارڈ کہیں بھی موجود نہیں تھا سوائے ان چار لوگوں کی ٹیم کی جمع کیے گئے ثبوتوں کے، اور اگر یہ انفارمیشن سامنے لائی گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کوئی پھر ان کے خلاف سر اٹھا چکا ہے، اور اس بار نہ جانے کیوں سلطان کو لگ رہا تھا کہ گھیرا تنگ ہونے والا ہے۔
اور سانس تو حقیقتاً ان کا تب اَٹکا جب سیکریٹ روم خالی پایا ان کے گارڈز ادھ مری حالت میں زمین پر پڑے تھے، محسن بھی زخموں سے چور لہو لہان ایک کونے میں بے ہوش پڑا تھا اور ارحم قید سے فرار تھا۔ اس کی بیڑیاں زمین پر بکھری پڑی تھیں اور پاس ہی ایک چٹ پڑی تھی۔ سلطان نے اس کو کھولا تو ڈیول کے مسکرانے کا ایموجی اس پر بنا ہوا تھا۔ سلطان شکست خوردہ سے زمین پر گر گئے۔
شاید ایک اور فرعون کو پانی اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ماضی کے کئی پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھایا جائے
آئرہ کو پورے پانچ دن بعد باقاعدہ ہوش میں لایا گیا تھا۔ اس نے جب بھاری ہوتی پلکوں کو بمشکل کھول کر ارد گرد دیکھنے کی کوشش کی تو سامنے اپنی ماں کا مہربان چہرہ نظر آیا جو فکرمندی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کے آنکھیں کھولنے پر آگے بڑھ کر اسے گلے لگا گئیں۔
“پانی،” خشک ہوتے گلے کے ساتھ بمشکل لفظ ادا کیا تو صائمہ بیگم فوراً پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔
“کیسی ہے میری بچی؟ ماں کی جان نکال دی تھی! یہ تو سوچ لیا کہ تیری ماں تجھے دیکھ دیکھ جیتی ہے،” بیٹی کے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے گلوگیر لہجے میں شکوہ کیا۔
“امی سینٹی تو نہ کریں،” اس نے بمشکل مسکرا کر ماں کا موڈ چینج کرنا چاہا، پر وہ ماں تھی، فوراً پہچان گئی کہ یہ مسکراہٹ کتنی کھوکھلی ہے۔ مگر بیٹی کا بھرم نہ توڑا جتا کر پھر دونوں ماں بیٹی ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگیں، جس میں خلل محسن نے ڈالا جو دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا تھا۔
“میم، یہ کھانا ہے آپ کیلئے اور بی بی جی کے لیے۔ انہیں کھلا دیں، پھر انہیں میڈیسن بھی دینی ہے،” محسن نے نظریں جھکائے مؤدب انداز میں کہا تو آئرہ نے بغور اس کے سر پر بندھی پٹی اور بازو پر چڑھے بینڈیج کو دیکھا۔
“اچھا ٹھیک ہے،” صائمہ بیگم کے سر کے اشارے سے اجازت دینے پر وہ باہر چلا گیا۔ جبکہ اب آئرہ ماں کی طرف متوجہ ہوئی۔
“بابا کہاں ہیں؟” اب جا کر آئرہ کو خیال آیا تھا کہ اس نے سلطان شاہ کو نہیں دیکھا۔ بلکہ کافی دنوں سے جب وہ چند لمحوں کے لیے ہوش میں آئی تھی تو ضرار اور صائمہ کے علاوہ تیسرا چہرہ صرف کبیر شاہ کا تھا۔ باپ کو تو اس نے کافی دنوں سے دیکھا ہی نہیں تھا۔
“آئرہ، کھانا کھا لو بیٹا،” آئرہ کے سوال کو یکسر نظر انداز کر انہوں نے نوالہ بنا کر اس کے ہونٹوں کے پاس کیا۔
“مما، بابا کہاں ہیں؟” ان کا بڑھایا ہوا نوالہ ہاتھ سے پرے کر اس نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
“کھانا کھاؤ، آئرہ!” صائمہ کے لہجے میں ہلکی سی سختی شامل تھی۔
“بابا کہاں ہیں؟” آئرہ کا سوال بھی جوں کا توں تھا۔
“مجھے کیا پتا! وہ کب کچھ بھی مجھے کچھ بتا کر کرتے ہیں؟ اور خدارا آئرہ، کھانا کھا لو! مزید میری مشکلیں مت بڑھاؤ،” صائمہ بیگم کے بے بسی سے کہنے پر آئرہ نے مزید کوئی سوال کیے بنا ان کے ہاتھ سے کھانا شروع کیا۔ پھر اسی خاموشی سے دوائی بھی لے لی۔
“السلام علیکم!” تبھی ضرار اندر داخل ہوا تھا۔
“کیسا ہے میرا بچہ؟” آئرہ کے بال شفقت سے سنوارتے ہوئے اس نے مہربان سے لہجے میں سوال کیا۔
“ٹھیک ہوں،” آئرہ نے بھی مدھم لہجے میں جواب دیا۔ “بھیا، بابا کہاں ہیں؟” آئرہ کے پوچھنے پر ضرار نے نظریں چرائیں۔
“ہاں، مجھے کام یاد آگیا ہے۔ میں آیا تھوڑی دیر میں۔” صاف ظاہر تھا وہ فرار کے بہانے بنا رہا وہ زچ ہو رہی تھی سب کے انداز سے تھی پر ضرار وہاں رکا نہیں تھا، فوراً وہاں سے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماموں کہاں ہیں؟” سرخ آنکھوں سے وہ محسن پر دھاڑ رہا تھا پر محسن خاموش بت پر کھڑا رہا۔
“کیا جواب دوں میں اپنے خاندان کو؟ کہاں ہے ان کا سربراہ؟ ان کی بیٹی کے سوالوں کا کیا جواب دوں کہ کہاں ہے اس کا باپ؟ بولو!” وہ بول نہیں رہا تھا چلا رہا تھا۔ پر محسن پر کسی بات کا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ صرف سلطان کی بات سنتا اور سمجھتا تھا۔
سلطان شاہ منظر عام سے غائب تھے اور وہ کہاں تھے، اس کا پتہ صرف محسن کو تھا اور محسن نے وہ راز گویا خود سے بھی چھپا رکھا تھا۔ “محسن!!!!!!!!” ابھی ضرار مزید کچھ کہتا کہ آئرہ کے کمرے سے کچھ گرنے اور پھر اس کے زور سے چلانے کی آواز آئی۔
“جی بی بی جی!” محسن اور ضرار ہڑبڑا کر فوراً اندر بڑھے تو سامنے آئرہ دوائی کی ساری شیشیاں زمین بوس کیے، سرخ آنکھوں سے گھورتی ہوئی کھڑی تھی۔
“میری بائیک کی چابی لاؤ! دس منٹ کے اندر اندر!” وہ اس وقت آئرہ سلطان شاہ بنی ہوئی تھی۔
“آئرہ، تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، آرام کرو،” ضرار نے آگے بڑھ کر اسے سمجھانے کی کوشش کی، پر وہ تو بپھری موج بنی ہوئی تھی۔ “محسن! کچھ بکا ہے میں نے؟” ضرار کی بات کو نظر انداز کر وہ محسن پر برسی۔
“آئرہ! بیہیو! ڈسچارج نہیں ملا تمہیں ابھی؟” ضرار نے سخت لہجے میں باور کروایا پر آئرہ کا میٹر شارٹ ہو چکا تھا۔
“ہاسپٹل والوں کے باپ کی نوکر نہیں ہوں میں جو ان کی اجازت سے آؤں جاؤں! میں آئرہ سلطان شاہ ہوں جو اپنی مرضی کی مالک ہے!” یہ بستر پر لاغر وجود لیے پڑی، محبت کی چوٹ کھائی آئرہ نہیں تھی، یہ تھی باس لیڈی آئرہ سلطان شاہ تھی۔
پھر اس نے ہسپتال کا گاؤن چینج کر کے گرے ہوڈی ٹراؤزر پہنا جو صائمہ ہی اس کے لیے لائی تھی۔ جب تک وہ چینج کر کے باہر آئی، محسن واقعی اس کے بائیک کی چابی لے آیا تھا۔ اور صائمہ تو تھک کر سر ہاتھوں میں گرا کر صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ آئرہ نے شروع سے کسی کی نہ سنی تھی نہ آج سننی تھی۔
آئرہ نے جھپٹنے کے انداز میں چابی محسن کے ہاتھوں سے کھینچی اور لمبے لمبے قدم لیتی باہر بڑھ گئی۔
“پیچھے جاؤ اس کے!” ضرار نے چِڑھ کر محسن کو حکم دیا۔
“کوئی میرے پیچھے آیا تو بائیک ٹرک میں ٹھوک دوں گی!” آئرہ نے ہلکی سی گردن دروازے سے باہر نکال کر دھمکی دینے والے انداز میں کہا، پھر چھپاک سے غائب ہو گئی۔ ضرار غصے سے جل کر وہیں بیٹھ گیا۔
آئرہ کی بائیک ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی۔ کہ ایک دم پھر ایک خاموش اور سنسان مقام پر آ کر رکی۔ زندگیوں کے شہر لاہور کا یہ کونا منحوسیت کی علامت معلوم ہو رہا تھا۔ عجیب سی وحشت تھی وہاں پر، پر آئرہ ہمیشہ سکون کے لیے اسی جگہ آتی تھی۔
“پتر! تو جب بھی مجھے ملی ہے، اداس ہی ملی ہے،” مہربان سی آواز پر آئرہ نے گردن اٹھائی تو اسے اسی شفیق فقیر کا چہرہ نظر آیا۔
“عرصہ ہوا بابا، خوشیوں نے کواڑ نہیں کھٹکھٹائے،” آئرہ نے زخمی مسکراہٹ سے کہا۔
“کیا پتا پتر، جب وہ دستک دینے آئی ہوں تو تو نے وہم جان کر دھیان نہ دیا ہو؟” اس بار آئرہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ کئی گھنٹوں سے یہاں بیٹھی ہوئی تھی اور انٹرنیٹ کی مدد سے اسے معلوم بھی ہو گیا تھا کہ اس کا باپ کس وجہ سے غائب ہے۔ اس کے باپ کو اپنی سیاہ کاریاں چھپانے کے لیے خود چھپنا پڑ رہا تھا۔ پر حقیقت تو نمایاں ہو جاتی ہے۔
“میں ہی کیوں بابا جی؟ ہر قربانی میں کیوں دوں؟ ہر تکلیف میں کیوں جھیلوں؟” سوال کرتے وقت آئرہ کا لہجہ سادہ تھا، بالکل سادہ!
“کیونکہ پتر! تو بھٹک گئی ہے۔ تو نے سرکشی چنی، تو نے خدا سے ضد لگا لی۔ تو اگر رب سے امید رکھتی، اس کی ہو کر رہتی نا، تو تجھے تیری آزمائش میں ضرور سکون بھی آتا اور انعام بھی ملتا۔ پر تو نے خود کو مظلومیت کی انتہا پر گرا کر خود کو اپنا ہی خدا بنا لیا،” جیسے جیسے وہ بولتا جا رہا تھا، آئرہ کو اپنا دل تنگ پڑتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اسے مظلومیت کا مکھوٹا ہٹا کر آئینہ دکھا رہا تھا، جس میں بننے والا عکس ظالم کا تھا۔
“میں۔۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔میں نے صرف محبت کی! اس کی حفاظت کی! بس۔۔۔۔۔۔اس رب نے۔۔۔۔اس اللہ نے ہمیشہ خسارا میرے مقدر میں رکھا ہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا،”وہ جیسے خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“نہیں میرا پتر! زندگی اور موت تو رب کے ہاتھ ہوتی ہے! بندے اگر موت سے بچانے لگ جائیں تو قبروں پہ پھول کس کو چڑھانے جائیں؟ بس! تو نے خود کو کُل سمجھ لیا، حالانکہ تو تو کُل کا ایک معمولی ترین جُز تھی! یہ تو نے اپنے اعمال کی وضاحت دینے کے لیے تسلیاں دے رکھی ہیں خود کو، ورنہ اندر کہیں تجھے علم ہے اپنی سیاہی کا،” فقیر حقیقت کے تھپڑ مار رہا تھا، جس کی سرسراہٹ آئرہ کو اپنی روح پر پڑتی محسوس ہو رہی تھی۔ہم اکثر اپنے غم کو بڑا مان لیتے ہیں اور اپنے کیے گئے ظلم بھول کر مظلومیت کی چادر اوڑھ کر اپنی نظروں میں سرخرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
“دیکھیں پتر! سرکشی میں جرم نہ کر بیٹھیں! عشق لال ہوندا اے، تے لال لہو توں گھٹ کچھ نئیں منگدا! محبت اندھی ہوندی اے، پر بندہ نئیں۔” اندھا دھند وہاں سے بھاگتے ہوئے وہ آخری الفاظ تھے جو آئرہ نے ان کے سنے۔ اسے خوف آ رہا تھا، شدید خوف! اس کی دھڑکنیں سست پڑ رہی تھیں۔
✩━━━━━━✩
“سر، ضرار صاحب بار بار اصرار کر رہے ہیں کہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہیں آپ کا پتہ بتا دوں؟” محسن سامنے سامنے بیٹھے سلطان کو دیکھ کر کہہ رہا تھا۔ وہ یہاں سلطان کو معمولات سے آگاہ کرنے آیا تھا کہ باہر کے حالات کیسے ہیں۔
“بتا دو،” سلطان نے گہری سوچ کر کہا۔
“سر؟؟؟” محسن کے لہجے میں یکدم شدید احتجاج ابھرا۔
“اوہو محسن! اپنا بچہ ہے۔ اسے میں نے اپنے زہریلے سائے میں پرورش دی ہے۔ بھول گئے؟ اور زہر مٹھاس سے جلدی پھیلتا ہے۔ وہ میرا وفادار ہے۔ اس کے لیے اس کے عظیم ماموں بے گناہ ہیں اور اس کی یہ سوچ غلط ثابت نہیں ہونی چاہیے۔ لے آؤ اسے، مل لیتے ہیں،” سلطان شاہ کو خود پر یقین تھا جو کہ ان کے لہجے میں بھی بول رہا تھا۔ جبکہ محسن کو ان کا اندھا یقین احمقانہ لگ رہا تھا، پر وہ اختلاف کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا
” اور ایک خاص ملاقات کا اہتمام کرنے کو کہا تھاتمہیں کیا بنا اس کا؟” سلطان شاہ نے محسن کی توجہ دوسرے مسئلے کی طرف مبذول کروائی۔ “شام تک ہو جائے گا سر،” محسن کے مطمئن کرنے پر سلطان شیطانی سا مسکرا دیا۔
✩━━━━━━✩
“اشعث! تجھے سچ میں لگتا ہے یہ کام کرے گا!” احد کوئی بیسویں بار یہ سوال پوچھ چکا تھا اور اشعث اب سخت پیراز ہو رہا تھا اس کے سوالوں سے۔
“نہیں، میں باندر ہوں جو کھوتوں کی طرح اس کام کے پیچھے خوار ہو رہا ہوں۔” اشعث نے چِڑھ کر جواب دیا
“تو کنفرم کر لے کہ تو باندر ہے یا کھوتا؟” احد نے مزید تیلی لگائی پر اشعث صبر کر گیا۔ کیونکہ کام کا وقت تھا۔
وہ دونوں اس وقت ایک روم میں موجود تھے جو کسی کرائم انویسٹیگیشن بیورو کی طرح معلوم ہو رہا تھا۔ جگہ جگہ بکھرے کاغذات اور نقشے، نوٹس بورڈز پر چپکے نوٹس، رسیوں پر لٹکتی تصویریں اور بڑی سی مین سکرین جس پر شاہ ولا کا ایک ایک کونا نظر آ رہا تھا۔ کھلے روشن سکرینز والے لیپ ٹاپ اور کافی کے خالی مگوں کا ڈھیر۔ وہ کمرہ ایک ایسٹھیٹک لک دے سکتا تھا اگر ان دونوں کے موزے اور جوتے ادھر ادھر فرش پر نہ بکھرے ہوتے اور نہ ہی وکیل صاحب کا کوٹ صوفے پر پڑا فرش کو سلامی دے رہا ہوتا۔
یقیناً کمرے کا مالک اگر وہاں موجود ہوتا تو اس قدر بے ترتیبی پر انہیں شوٹ کر ڈالتا۔ پر اگر وہ وہاں موجود ہوتا تو ان دونوں کی گند ڈالنے کی ہمت بھی نہ ہوتی۔ وہ دونوں جنگلی محبوب اپنی تو تو میں میں برقرار رکھتے ہوئے کام میں مصروف تھے۔
✩━━━━━━✩
“افیسر شاہ! وئیر اِز سلطان؟” تند و تیز لہجے پر شاہ نے اپنا ماتھا جھنجھلایا۔
“Sir I’m trying to search him” شاہ نے پر اعتماد لہجے میں یقین دلانے کی کوشش کی
“کب ڈھونڈو گے؟ پہلے یہ سارے ثبوت میڈیا کے تھرو لیک ہونے پر میس کریئیٹ ہوا ہے وہ صاف نہیں ہو رہا۔ اوپر سے ہاتھ آیا دشمن مٹھی سے ریت کی طرح پھسل گیا اور ابھی تک آپ صرف ٹرائی کر رہے ہیں؟” وہ افیسر خاصہ غصے میں معلوم ہو رہا تھا۔
“سر! آئی ول سون گو یُو آ گڈ نیوز!” اور یہ ٹھک سے فون بند۔ اور پھر فون پر ابھرتا پیغام پڑھ کر ایول سمائل نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔
کبھی ایسا بھی ہو، روبرو تم بیٹھو
وہ سرور سے گنگناتا اگلا لائحہ عمل تیار کرنے لگا۔
✩━━━━━━✩
“او ہیلو! بھتیجے! کیسے ہو؟” یوشع کے چہرے سے جب سیاہ نقاب کھینچ کر اتارا گیا تو سامنے سلطان شاہ چہرے پر مسکراہٹ لیے بیٹھے تھے۔
” تایا جان! یہ… یہ سب کیا ہے؟” کرسی سے بندھے ہاتھوں کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے یوشع نے بے یقینی سے پوچھا۔
“بس جان! عزیز بھتیجے کو ملنے کا دل کیا تو بلوا لیا! تمہیں تو پتا ہے میں نہیں آ سکتا نا، مسائل چل رہے ہیں!” سلطان کے لہجے میں ہلکی سی شوخی چمک رہی تھی۔
یوشع معمول کی طرح یونیورسٹی کے لیے تیار ہو کر نکلا تھا جب راستے میں ایک سیاہ شیشوں والی گاڑی نے اس کا راستہ روکا۔ پھر اس میں سے نکلنے والے افراد نے اس پر کچھ سپرے کیا تھا بغیر احتجاج کا موقع دیے اور اس کے بعد اس کی آنکھ اب کھل رہی تھی۔
“تایا جان! میں کب سے آپ کے لیے عزیز جان ہو گیا؟ میرے ناقص علم کے مطابق میں تو آپ کے حلق کا کانٹا ہوں جو نہ نگلا جاتا ہے نہ اگلا!” یوشع اب شاک موڈ سے نکل کر اٹیک موڈ میں آ چکا تھا۔
“ہاہاہا ہاہاہا! بالکل صحیح پہچانا! عزیز جان تو ہو کیونکہ تمہاری جان مجھے بہت عزیز ہے جو یقیناً جلد میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا!” آخر تک آتے آتے سلطان کا لہجہ اور آنکھیں دونوں زہریلی ہو گئی تھیں۔
“کاش موت دینے کا اختیار واقعی زمینی بناوٹی خداؤں کے پاس ہوتا،” یوشع کی گردن اٹھی ہوئی اور آنکھیں بے خوف تھیں۔
“ثبوت؟” یوشع کی طرف جھک کر ڈائریکٹ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ سلطان نے دیکھا تھا کہ یوشع کی آنکھوں میں واضح غیر آشنائی ابھری ہے۔
“کون سے ثبوت؟” یوشع نے حیرت اور لاعلمی سے سوال کیا۔
“تین گھنٹے بعد دوبارہ ملوں گا اور سوال یہی ہو گا۔ امید ہے تمہیں جواب یاد آ جائے گا۔ اور شکریہ کی ضرورت نہیں، خون ہو آخر میرا اتنا تو کر ہی سکتا ہوں نا،” مزید یوشع کی کوئی بات سنے بغیر سلطان وہاں سے نکل گئے، یوشع کو حیران اور فکرمند چھوڑ کر۔
تب سے بہادر بنا یوشع کا دل کپکپایا تھا۔ وہ واقعی سلطان کی آنکھوں کی وحشت سے ڈر گیا تھا۔ اپنے لیے نہیں، اپنے سے منسوب اس دلبر جان کے لیے۔
✩━━━━━━✩
“میں نے آپ سے بولا تھا! یہ سارا بکھیڑا کھڑا کرنے سے پہلے انہیں سیف کریے گا! وہ مین ٹارگٹ ہو سکتے ہیں سلطان کا! پر آپ نے میری بات نہیں سنی! آپ نے میری بات سنی ان سنی کی! اب بتائیں! اگر انہیں کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دار ہو گا؟ آپ؟؟؟” وہ مسلسل اپنے ساتھی پر چیخ رہی تھی، پر سامنے والا مطمئن ڈھیٹ تھا۔
“سنو لڑکی! کام کرنا ہے تو جذبات کی دنیا سے نکل آؤ! اور جو ٹاسک سونپا جائے وہ کرو! اور جسکی تم بات کر رہی ہو نا وہ میرا بھی بھائی ہے،” اس کے جواب پر مقابل صرف آنکھیں گھما کر رہ گئی اور روایت برقرار رکھتے ہوئے اس آدمی نے ٹھک سے فون بند کر دیا۔
✩━━━━━━✩
“نکل! کس بات کا انتظار ہے؟” احد نے سکون سے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر ششکے مارتے احد نے اشعث کو جھنجھوڑا۔
“صبر کر پاٹنر! آ رہی ہے،” اشعث نے سکون سے جواب دیا۔
“کیا مطلب؟ اب اس کے جھنگ سے آنے کے انتظار میں ہم اپنا یرغمال قیدی شہید کروا لیں؟” احد نے مصنوعی بیزاری سے کہا پر پورا جسم کان بنا اس ایک مدھر آواز کو سننے کا منتظر تھا۔
“شکل اچھی نہ ہو تو کم از کم بات اچھی کر لیتے ہیں! یا اپنی منحوسیت کی جھلک الفاظوں سے دکھانا لازمی ہوتا ہے؟” اور بیڑا غرق ہو محبت تیرا! لوگوں کی محبوبہ کی آواز کانوں میں رَس گھولتی ہے اور میری والی کی جیسے کریلے کا اچار ہے وہ بھی کوڑتمہ چھڑک کر! احد بیچارہ غریب سوچ کر رہ گیا۔
“جی! میں متفق ہوں! پھر کیا کروں؟ میری شکل اچھی ہے نا اس لیے بات اچھی نہیں کرتا،” احد بھی ڈھیٹوں کا شہنشاہ تھا۔
“ویسے کیا چھلاوا ہیں! میری آخری اطلاعات کے مطابق آپ اپنے جھنگ شریف میں تھیں! یہ منٹوں میں لاہور کیسے؟” آہہ کاش احد واقعی میں اتنا مؤدب ہوتا ہے
“نہیں جی! چھلاوا نہیں! میں عنایہ ہوں!” کانچ سی بھوری آنکھوں میں بلا کی معصومیت بھر کر، آنکھیں پٹ پٹا کر جواب دیا تو احد کو لگا کہ اب اس سے دل سنبھالنا مشکل ہو گیا۔
اس ادا پہ کوئی کیوں نہ مر جائے احد جناب
قتل بھی کرتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دل کو سہلاتے ہوئے شعر کا بیڑا غرق کر احد کو دلی تسکین ملی تھی۔ اور عنایہ بغیر اسے لفٹ کروائے اشعث کے ساتھ پلان ترتیب دینے میں مصروف ہو گئی۔
“اوئے! بات سن! یہ جھنگ کب سے شریف ہونے لگا؟ سیون شریف سنا تھا، اوچ شریف سنا تھا، تونسا شریف بھی سنا تھا یہ جھنگ شریف پہلی دفعہ سنا ہے!” اشعث نے پر تجسس انداز میں احد سے سوال کیا۔ “یار! جھنگ میں ہیر اور رانجھے کا مزار ہے نا؟ تو وہ ہم عاشقوں کے پیرو مرشد ہیں۔ بس جب سے سالا عشق کی بیماری میں پڑا ہوں نا تب سے جھنگ کے ساتھ شریف لگانا شروع کر دیا ہے۔ اس ڈر سے کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے اور سالا کم بخت عشق مرض بن جائے! سمجھا کر نا!” احد کی اس بکواس تھیوری پر اشعث کا دل کیا کہ رکھ کے چپیڑ منہ پہ مارے، پر یہاں بھی بیچارہ صبر کر گیا۔
✩━━━━━━✩
آئرہ اپنی بائیک پر گزر رہی تھی جب اس کی نظر ویران روڈ پر اکیلے کھڑی یوشع کی گاڑی پر پڑی تو اس نے فوراً بریک لگائی۔ یوشع کا فون اور والٹ وہیں گاڑی میں پڑے تھے، یہاں تک کہ چابی بھی گاڑی کے اندر موجود تھی۔ آئرہ کا ماتھا ٹھنکا۔
“بابا؟؟؟۔۔۔۔اوہ بابا! میں کیسے بھول گئی؟” پھر اس کی آنکھوں میں جنون اترا۔
“کڈنیپ کیا ہے تو کہیں تو رکھا ہو گا! فارم ہاؤس؟ نہیں! سیکرٹ روم؟ نہیں، نہیں! کہاں… کہاں؟” وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی اور ہر اس ممکن جگہ کو سوچ رہی تھی جہاں سلطان چھپ سکتا ہے۔
“انسان خوف میں پناہ اپنے کمفرٹ زون میں تلاش کرتا ہے۔ کیونکہ بابا مانیں یا نہ مانیں، میں جانتی ہوں وہ خوفزدہ تو ہیں۔ اور بابا کا کمفرٹ زون کیا ہے؟ کیا ہے؟ گھر۔۔۔۔؟؟؟ ہاں۔۔، گھر!” اچانک سے خیال ذہن میں کوند! تو آئرہ فوراً دوڑی۔
“بابا! اب نہیں! یش پر ایک انچ بھی برداشت نہیں کروں گی!” آئرہ کی سیاہ آنکھیں جنون کی تاریکی مزید تاریک لگ رہی تھی۔
یا علی، رحم والی!
یا علی، یار پہ قرباں ہیں سبھی!
یا علی، مدد عالی!
یا علی، یہ میری جاں، یہ زندگی!
عشق پہ، ہاں، مٹا دوں،
لٹا دوں، میں اپنی خودی!
یار پہ، ہاں، لٹا دوں،
مٹا دوں، میں یہ ہستی!
لوگ مڑ مڑ کر اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے جو سرمئی ٹراؤزر اور ہوڈی کے ساتھ سیاہ کھلے بال لیے، جو ہوا کی دوش پر اڑ رہے تھے، اور چہرے پر چٹانوں سی سختی لیے بائیک کو ہوا کی رفتار پر چلا رہی تھی۔
یا علی، رحم والی!
یا علی، یہ میری جاں، یہ زندگی!
عشق پہ، ہاں، مٹا دوں،
لٹا دوں، میں اپنی خودی!
ان تین لوگوں کا قافلہ بھی گاڑی پر سوار ہو کر منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ وہ تینوں مکمل سیاہ میں ملبوس تھے۔ اشعث اور احد بلیک جینز، شرٹ پر بلیک جیکٹ پہنے، چہرے پر سیاہ ماسک چڑھائے، ہاتھوں پر گلووز اور آنکھوں پر سن گلاسز لگائے تھے۔ اور بازو میں بندھے ہولسٹر میں گنز تھامے، وہ ڈیولش ہینڈسم لگ رہے تھے۔ وہیں دوسری طرف سیاہ ٹراؤزر، شرٹ پر بڑا سا سیاہ اوور کوٹ پہنے، سیاہ حجاب اور ماسک، کمر پر گن ہولڈر اور لیگ ہولسٹر میں گنز کو چھپائے، وہ واقعی قاتل حسینہ لگ رہی تھی۔ ان سے ڈارک وائبز آ رہی تھیں جو عجیب سا رعب طاری کر رہی تھی سامنے والے پر۔
“ریڈی جوانوں؟”
“یس سر!”
“نعرہ تکبیر!”
“اللہ اکبر!” وہ تمام جوان خدا کا نام لے کر، خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے تیار تھے ان کے حوصلے بلند اور ہمت جواں تھی۔
✩━━━━━━✩
“ہاں تو بھتیجے! کیا سوچا پھر؟ آ گیا یاد ثبوت کہاں ہے؟” سلطان اپنے وعدے کے مطابق یوشع کے سامنے جواب طلبی کے لیے حاضر تھا۔
“تایا جان! مجھے نہیں معلوم آپ کون سے ثبوت کی بات کر رہے ہیں؟” یوشع نے تحمل سے سمجھانے کی کوشش کی۔
“بکواس نہیں سننی! جواب سُنا ہے! وہی ثبوت جو تمہارے ماموں نے تمہارے حوالے کیے ہوئے ہیں۔ اب شرافت سے وہ میرے حوالے کر دو! کیونکہ اپنے کیے قتلوں کی تو میں گنتی بھی بھول چکا ہوں، مزید ایک اضافہ کوئی خاص فرق نہیں ڈالے گا!”
“مجھے نہیں سمجھ آ رہی آپ کی! کس ثبوت کی بات کر رہے ہیں اور ماموں کا اس سے کیا لینا دینا؟” یوشع کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیسے انہیں یقین دلائے۔
“سارا لینا دینا تمہارے اس ماموں کا ہی تو ہے! کمینہ سالوں میری قید میں رہا، ایک لفظ نہیں اُگلا! آخر کار تم بھی تو اس کے بھانجے ہو! بول دو! ورنہ بہن اور بہنوئی کو مارتے میرے ہاتھ نہیں کانپتے، تو بھتیجے کا قتل بھی مشکل کام نہیں ہو گا!” سلطان کے انکشافات سن یوشع کو اپنا دماغ سُن ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
پھپھو کا قتل ماموں کی قید یہ تایا جان کیا بول رہے تھے؟
آئرہ بائیک سے اتری تو باہر کھڑے گارڈز میں سے کسی نے نہیں روکا، کیونکہ وہ سلطان شاہ کی جان سے پیاری بیٹی تھی۔ یہ سب جانتے تھے۔ وہ سلطان کی سلطنت کی شہزادی تھی۔
مجھے کچھ پل دے قربت کے،
فقیر ہم تیری چاہت کے!
رہے بے چین دل کب تک؟
ملے کچھ پل تو راحت کے، چاہت پہ!
عشق پہ، ہاں، مٹا دوں،
لٹا دوں، میں اپنی خودی!
یار پہ، ہاں، لٹا دوں،
مٹا دوں، میں یہ ہستی!
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تایا جان؟” بمشکل یوشع کے منہ سے الفاظ ادا ہوئے تھے۔
“ٹھیک کہہ رہا ہوں! ثبوت یا گولی!” سلطان نے اب بندوق یوشع کے سر پر تان دی تھی۔
“رُکیں بابا!” آئرہ سرخ انگارہ آنکھیں، پسینے سے شرابور، تمتماتا چہرہ لیے سامنے کھڑی تھی۔
“آئرہ! جاؤ یہاں سے!” سلطان نے سخت لہجے میں اسے گھورا۔
“آپ یوشع کو جانے دیں،” آئرہ کا لہجہ مستحکم تھا۔
“ناممکن!” سلطان کا لہجہ بھی اٹل تھا۔
“یوشع کو جانے دیں بابا!” آئرہ نے بھی گن نکال کر سلطان پر تان دی، جسے دیکھ کر سلطان پہلے تو بے یقین ہوئے، پھر ان کی آنکھوں میں درد کی لکیر ابھری۔
“ثبوت دو” جلد ہی وہ جذبات پر قابو پا کر یوشع کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
“مجھے نہیں پتا ہے آپ کون سے ثبوت کی بات کر رہے ہیں،” یوشع کو صورتحال سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی۔ آئرہ کا یہاں آنا اسے اور پریشان کر گیا تھا۔ کہیں وہ بے وقوف لڑکی خود کو نقصان نہ پہنچا لے۔
“بابا! گن نیچے کریں!” آئرہ پوری قوت سے چلائی۔
“ثبوت یا گولی!” سلطان کی آواز آئرہ سے بھی بلند ہوئی۔
“بابا! پٹ دی گن ڈاؤن!”
“ثبوت یا گولی!”
“میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے! “
“ٹھیک ہے پھر! خدا حافظ!” اور پھر فضا میں گولی کی آواز گونجی تھی۔
بنا تیرے نہ اک پل ہو،
نہ بن تیرے کبھی کل ہو!
یہ دل بن جائے پتھر کا،
نہ اس میں کوئی ہل چل ہو!
صنم پہ، ہاں، عشق پہ، ہاں،
مٹا دوں، لٹا دوں، میں اپنی خودی!
قسم سے، ہاں، لٹا دوں،
مٹا دوں، میں یہ ہستی!
یا علی، رحم والی!
یا علی، یار پہ قرباں ہیں سبھی!
یا علی، مدد عالی!
یا علی، یہ میری جاں، یہ زندگی!
سلطان شاہ نے بےیقین نظروں سے سامنے کھڑی اپنی بیٹی کو دیکھا، پھر اپنے دل کے آر پار ہوئی گولی کو۔
“بابا!” آئرہ پہلے ننھے قدموں سے باپ کی طرف دوڑتی آ رہی تھی پھر انہوں نے بہت محبت اور پیار سے اُٹھا کر اسے سینے سے لگایا تھا۔
ایک اور گولی چلی۔ سلطان کے جسم کو دوسرا جھٹکا لگا۔ گولی سینے کے دائیں طرف سے آر پار ہوئی ۔آئرہ دھندلائی نظروں سے باپ کے سرخ ہوتے سینے کو دیکھ رہی تھی۔
“بابا! کہانی!” چھوٹی سی آئرہ باپ کے سینے پر سر رکھ کر کہانی سننے کی فرمائش کر رہی تھی۔ سلطان بہت پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے اسے کہانی سنا رہے تھے۔
پر وہ آئرہ کا باپ تھا اور سامنے کھڑا شخص ظلم کی دنیا کا سلطان۔ ایک انسان کے دو پہلو تھے۔ اور دو منہ والے سانپ سب سے زہریلے ہوتے ہیں۔
تیسری گولی چلی۔ سلطان کے جسم کو تیسرا جھٹکا لگا۔ وہ گولی پیٹ کے آر پار ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بے دم ہو کر گر گئے۔
کسی کی بددعا دیتی آنکھیں فوراً تصور کے پردے پر لہرائیں
“اللہ کرے آپ کی سب سے پیاری ہستی ایسے ہی قطرہ قطرہ آپ کی جان آپ کے جسم سے کھینچے جیسے آپ نے میری کھینچی،”
ان آنکھوں کی تحریر سلطان کو آج سمجھ آئی تھی اور وہ درد کی انتہا پر پہنچتے ہوئے بھی مسکرا دیے۔
“تیری ہی بددعا کھا گئی جندڑیے تیرے شاہ کو،” اور آخری ہچکی کے بعد سلطان کی سانسیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔
آئرہ بے جان ہو کر فرش پر گر گئی تھی۔ اس کا چہرہ بے جان اور آنکھیں مردہ تھیں۔ یوشع بے یقینی سے صرف سلطان کے مردہ وجود کو دیکھ رہا رہا تھا اسے ہواس شل ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔
تبھی احد، اشعث اور عنایہ اندر داخل ہوئے۔ پر سامنے کا منظر سب کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لے گیا اور عنایہ کے قدم بے ساختہ لڑکھڑائے تھے۔ اس نے دیوار کا سہارا لینا چاہا، پر وہ شکستہ قدموں سے زمین بوس ہو گئی۔
سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے سلو موشن میں ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا سلطان کا خون میں لتھڑا جسم، آئرہ کے ہاتھ میں پکڑی بندوق، آئرہ کی بے یقین، وحشت بھری نظریں۔ سب کچھ گڈمڈ ہو رہا تھا۔
پولیس کی بھاری نفری گارڈز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کر، گولیوں کی گونج میں اندر بڑھی تھی۔ پر ان کے لیڈنگ آفیسر کے قدم سامنے کے منظر نے جکڑ لیے۔ سلطان کا خون میں لتھڑا، فرش پر پڑا بے جان وجود اور بندوق ہاتھ میں لیے وحشت زدہ چہرے والی آئرہ! کاش وہ اس منظر کو خواب یا سراب کا نام دے سکتا پر یہ حقیقت تھی اور حقیقت ہمیشہ بھیانک ہی ہوتی ہے۔
“آفیسر !!ایس پی صاحب! ایس پی ضرار شاہ! کیا آپ مجھے سن رہے ہیں؟ سلطان ہر حال میں زندہ چاہیے! وہ بہت اہم گواہ بن سکتا ہے۔ آپ سن رہے ہیں؟ سلطان زندہ چاہیے!” واکی ٹاکی سے ابھرتی آواز تعفن زدہ کمرے کی فضا میں گونجی۔
ہر چیز سفید اور سیاہ تھی۔ سیاہ لباس میں ملبوس، سفید، بے رنگ چہرہ لیے افراد ۔ اگر دو رنگ منظر میں بھرے ہوئے تھے تو وہ تھا سرمئی اور سرخ۔ سرمئی لباس والی لڑکی اور سرخ رنگ میں لتھڑی سلطان کی لاش۔
“ہی از آل ریڈی ڈیڈ، سر،” ضرار نے بے جان آواز کے ساتھ دوسری طرف اطلاع دی۔
آئرہ کی خالی نگاہیں باپ کے مردہ وجود پر جمی تھیں۔ اس کی تمام حِسیں گویا سُن ہو چکی تھیں۔ آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں۔ لیڈی پولیس آفیسر اسے ہتھکڑی پہنا رہی تھی۔ ضرار پولیس یونیفارم میں موجود اسے کچھ کہہ رہا تھا، شاید تسلی دے رہا تھا یا شاید کوس رہا تھا۔ پولیس اسے گرفتار کر کے ساتھ لے گئی۔
اشعث بے یقینی سے بیٹھی عنایہ کے پاس گیا اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔
“مجھے نہیں پتہ مجھے کیا بولنا چاہیے، میں جانتا ہوں کہ تمہارا نقصان بہت بڑا ہے۔ پر مجھے یقین ہے، تم جیسی لڑکی یہ صبر سے سہہ جائے گی اور یاد رکھنا، ایک بھائی، ایک ساتھی اور ایک محافظ کے روپ میں ہمیشہ مجھے ساتھ پاؤ گی،” عنایہ نے نم پلکوں سے اسے دیکھا تواشعث نے آنکھیں جھپک کر تسلی دی۔
اسے دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ وہ بمشکل آنسو روکے ہوئے ہے۔ پر وہ اس فن میں سالوں سے ماہر تھی۔ مضبوط لوگوں کا سب سے بڑا خوف آنسو ہوتے ہیں جو ان کے بظاہر مضبوط پر، اندر سے کھوکھلے ہو چکے وجود کو، ساحل پر بنے ریت کے محل کی طرح بہا دیں گے۔ اس لیے وہ آنسو چھپا لیتے ہیں۔ اور جب دل پھٹ رہا ہو اور گلے میں آنسو اٹک چکے ہوں، ایسے میں آنکھوں کو بہنے کی اجازت نہ دینا دہکتے کوئلوں پر ننگے پاؤں چلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ عنایہ نے چہرہ جھکا کر آنسو حلق میں اتارے اور اثبات میں سر ہلایا۔
✩━━━━━━✩
ضرار، یوشع اور احد شاہ ولا آ گئے تھے کیونکہ سلطان شاہ کی ڈیڈ باڈی پولیس انویسٹیگیشن کے لیے ساتھ لے گئی تھی۔ شاہ ولا میں یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔ شوہر کی موت اور بیٹی کی گرفتاری نے صائمہ بیگم کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ زقیہ بیگم کا بھی رو رو کر برا حال تھا۔ مفرہ بمشکل سب کو سنبھالے ہوئے تھی۔ سب کو یوں روتا دیکھ ریان بھی مسلسل رو رہا تھا۔
سب کو لگتا ہے کہ بچے گھر سے اُٹھتے جنازے بھول جاتے ہیں، پر سب سے زیادہ یاد ہی بچے رکھتے ہیں۔
اشعث، عنایہ کو اپنے ساتھ گھر لایا تھا۔ اور ماموں کے انتقال کی خبر پر مشکوٰۃ بے ساختہ رو دی تھی۔ وہ جیسے بھی تھے، اس کے ماموں تھے، اس کی ماں کے بھائی، اور ماؤں سے منسلک ہر چیز عزیز ہوتی ہے۔
عنایہ روتی ہوئی مشکوٰۃ کو خود سے لگائے چپ کروا رہی تھی۔ بڑی امی پاس بیٹھی اس کے بال سہلاتے ہوئے تسلی دے رہی تھیں۔ ابراہیم صاحب اس وقت گھر نہیں تھے۔ عنایہ کو مشکوٰۃ کو چپ کرواتے دیکھ اشعث نے ترحم بھری نگاہ سے اسے دیکھا تھا، بے ساختہ اس کے دل سے دعا نکلی تھی اور کچھ دعائیں عرش تک سفارش بن کر حاضر ہوتی ہیں۔
✩━━━━━━✩
“سلطان شاہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور آئرہ… آئرہ نے انہیں گولی مار دی ہے،” نور کو یہ بتاتے وقت عنایہ کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس کی بات سن نور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ بات غیر متوقع تھی، مگر پھر وہ صرف اتنا بولی،
“إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ”۔
“نور! تم امی کو لے کر لاہور آ جاؤ اور پلیز انہیں کچھ بھی مت بتانا اور کوشش کرنا کہ باہر سے بھی پتہ نہ لگے،” عنایہ نے التجا کی ۔
“ٹھیک ہے۔ تم پلیز پریشان مت ہونا، ہم سب تمہارے ساتھ ہیں،” اس نے اسے دلاسا دیا۔ پھر مزید چند باتوں پر فون بند کر دیا۔ اس کے بعد گہرا سانس بھر کر نیچے آئی تاکہ سب کو بتا سکے۔
“امی! یوشع کے تایا کا انتقال ہو گیا ہے،” نور نے عجیب سے انداز میں آ کر اطلاع دی۔ مریم اور نادیہ دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔ “سلطان شاہ کا؟” مریم بیگم نے تصدیق چاہی تو نور نے اثبات میں سر ہلایا۔
یہ خبر سن وہ دونوں بھی افسردہ ہو گئی تھیں۔
“آنٹی کو لاہور لے کر جانا ہے،” نور نے مریم بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا تو انہوں نے گہرا سانس بھرا۔
“نور! تمہیں بھی جانا چاہیے، تایا سسر تھے تمہارے، سسرال کا معاملہ ہے۔” نادیہ کی بات سے مریم بھی متفق تھیں۔ “ٹھیک کہہ رہی ہو نادیہ! ایسا کرو تم بھی نور کے ساتھ چلی جاؤ۔ اس طرح شادی سے پہلے اکیلی بچی کو بھیجنا اچھا نہیں لگتا اس کے سسرال۔” افق کو فوراً ہی ایمرجنسی میں بلوایا گیا تاکہ وہ ان کو ساتھ لے جا سکے۔
“نور بیٹا! خیریت تو ہے؟ عنایہ ٹھیک ہے؟” تہمینہ بیگم کے پریشان سے انداز میں پوچھنے پر نور نے نظریں چرائیں۔
“جی! آنٹی ! سب ٹھیک ہے۔ وہ ہمارے ایگزامز آ رہے ہیں نا تو عنایہ کا آنا مشکل تھا، اور وہ آپ کو بہت مس کر رہی ہے، اس لیے اس نے کہا ہے کہ آتے ہوئے آپ کو ساتھ لے آؤں تاکہ وہ مل لے آپ سے،” نور نے لہجے کو ہشاش بشاش بناتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کی۔
“اچھا!” وہ ابھی تک الجھی ہوئی تھیں اور نور انہیں تسلی تو دے رہی تھی پر ان کی تشفی نہیں ہو رہی تھی۔ ان کا دل بے چین سا تھا، عجیب چبھن سی ہو رہی تھی۔
چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد گاڑی رکی۔ نور، نادیہ اور تہمینہ باہر نکلیں، پر سامنے کھڑی عالیشان عمارت کو دیکھ کر تہمینہ کے قدم لڑکھڑائے تھے۔
اسی وقت ان کے برابر دو اور گاڑیاں آ کر رکیں۔ ایک میں سے اشعث اور عنایہ باہر آئے تھے جبکہ دوسری پولیس وین تھی۔ جس میں چند لیڈی آفیسرز کے ہمراہ آئرہ باہر آئی آئرہ کے ہتھکڑی لگے ہاتھوں کو دیکھ کر انہیں کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔ آئرہ نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا تھا، وہ بس بے جان قدموں کے ساتھ پولیس آفیسر کے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔
آئرہ نے جب داخلی دروازے سے قدم اندر رکھے تو صائمہ بیگم دوڑ کر اس کے پاس آئیں،
جبکہ آئرہ کی آنکھیں تو باپ کی میت پر اٹک گئی تھیں۔ اس کو ایک عظیم خسارے کا احساس ہوا تھا۔ اس کا باپ مر گیا تھا، وہ یتیم ہو چکی تھی۔
یتیم کہنے میں ایک بہت چھوٹا، جبکہ سہنے میں ایک بہت بڑا لفظ ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے باپ کو مار دیا تھا۔ اسے اپنے ہاتھوں پر سرخ گاڑھا مائع نظر آیا۔
“کیا… کیا کیا تم نے آئرہ!” صائمہ بیگم بیٹی کے پاس آ کر غصے سے چیخیں۔ انہیں بیوگی کی چادر اڑھانے والی ان کی خود کی بیٹی تھی۔
“تم نے میرے شوہر! اپنے باپ کو مار دیا!” وہ اس کے چہرے پر تھپڑ مارنا شروع ہو گئی تھیں۔
پہلی دفعہ انہوں نے اس ناز و پالی بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ وہ مسلسل اسے مار رہی تھیں، چیخ رہی تھیں، اور آئرہ، وہ بُت بنی مار کھا رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے دل میں خیال ابھرا کہ اگر سامنے چارپائی پر جو بے روح وجود پڑا تھا، وہ زندہ ہوتا تو کیا اس کی ماں کی بھی جرات ہوتی اس پر ہاتھ اٹھانے کی؟ نہیں، کبھی نہیں! دل نے بے ساختہ گواہی دی۔
آئرہ محبت میں پاگل ہو کر یہ بات فراموش کر گئی تھی کہ باپ ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے جو اولاد کو اپنی ٹھنڈی چھاؤں میں سمیٹ کر رکھتا ہے۔ سلطان بھی آئرہ کے لیے سایہ دار درخت ہی تھا۔ بے شک وہ درخت کانٹوں بھرا کیکر کا تھا، پر اس کی چھاؤں ٹھنڈی تھی۔ اس کے کانٹوں نے ارد گرد کے لوگوں کو ضرر پہنچایا تھا، پر آئرہ کو چھپا کر رکھا تھا۔ اس کو باہر کی گرم اور تپتی لو سے بچا کر رکھا تھا۔ مگر آئرہ کو فقط وہ کانٹے نظر آئے تھے، جس وجہ سے اس نے اس درخت کی جڑیں کاٹ دیں اور اب جب تپتی دھوپ میں تنہا کھڑی تھی تو اپنے خسارے کا احساس ہو رہا تھا۔
کبھی بھی کسی غیر کی محبت میں اندھے ہو کر اپنے ماں باپ کو نقصان مت پہنچائیں، کیونکہ دنیا کا کوئی بھی انسان آپ کا باپ نہیں بن سکتا۔ اگر باقی محبتیں باپ کی محبت جتنی عظیم ہوتی تو دنیا جنت ہوتی، باپ کی شہزادیاں شوہروں کے گھر ذلیل نہ ہو رہی ہوتیں، قتل نہ ہو رہی ہوتیں، چچا اپنی بھتیجیوں کے لٹیرے نہ ہوتے، بھائی بہنوں کو در بدر نہ کر رہے ہوتے۔ دنیا کا ہر انسان آپ سے محبت تو کر سکتا ہے پر آپ کا باپ نہیں ہو سکتا۔ باپ اچھا برا نہیں ہوتا، باپ بس باپ ہوتا ہے اور باپ نعمت ہوتا ہے۔ یہ بات آئرہ کو دیر سے سمجھ آئی تھی۔
صائمہ کے ہاتھوں کی حرکت اور دل کی دھڑکن اندر داخل ہوتے وجود کو دیکھ کر تھمی تھی۔ کچھ یہی کیفیت تہمینہ بیگم کی بھی تھی جو عنایہ کا ہاتھ تھام کر اندر آ رہی تھیں۔ انہیں سامنے پڑا سفید کفن میں لپٹا وجود نظر آ رہا تھا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس طرف بڑھیں۔
انہوں نے جب چہرے سے کفن ہٹایا تو سلطان شاہ کا وجیہہ چہرہ موت کی زردی میں ڈھل چکا تھا۔ ان کی سحر انگیز آنکھیں ابدی بند ہو چکی تھیں۔ وہ چہرہ وقت کی رفتار سے گزر کر آیا ہوا لگتا تھا۔ بال سفید ہو گئے تھے پر وہ آج بھی ان کے لیے سب سے عزیز چہرہ تھا۔
اور پھر وہ اس قدر تڑپ کر روئی تھیں کہ وہاں کھڑے ہر شخص کا دل ہلا گئی تھیں۔
صائمہ بیگم اسے پہچان چکی تھیں۔ اس عورت کی تڑپ اور محبت دیکھ کر انہیں علم ہوا تھا کہ وہ کیوں سلطان شاہ کے دل اور زندگی میں وہ مقام حاصل نہ کر پائیں جو سامنے بیٹھی اس عورت کا تھا۔ وہ بیوی ہو کر وہ مقام حاصل نہ کر سکیں جو اس عورت کو حاصل تھا جسے زمانہ ‘ر کھیل’ کہہ کر پکارتا تھا۔
“امی۔۔۔۔۔۔! امی۔۔۔۔۔۔!” تہمینہ کو دل پکڑ کر گرتے دیکھ عنایہ تڑپ کر ان کی طرف بڑھی اور عنایہ کے لبوں سے نکلے لفظوں پر آئرہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ مطلب وہ تہمینہ کی بیٹی تھی؟ تہمینہ اور سلطان کی بیٹی!
سلطان شاہ کی تہمینہ بیگم سے محبت کی گواہ آئرہ تھی، اس نے اکثر رات کو اپنے باپ کو اس عورت کو یاد کر پچھتاتے ہوئے دیکھا تھا اور اس کے باپ نے آخری سانسیں بھی تو اسی گھر میں لی تھیں جہاں وہ دونوں ساتھ رہا کرتے تھے۔
صائمہ کو جو ایک مان تھا کہ وہ سلطان کی اولاد کی ماں ہے، وہ بھی ختم ہو گیا۔ سلطان کی محبوب عورت ان کی اولاد کی ماں بھی تھی۔ تہمینہ کا پلڑا پھر بھاری رہا تھا۔
ماضی:
سلطان کو یونیورسٹی کے زمانے سے اس خوبصورت لڑکی سے محبت تھی۔ وہ گریجویشن کے بعد اظہار کا ارادہ رکھتے تھے پر قسمت نے موقع نہیں دیا۔ حاتم شاہ کے مسلسل اصرار اور دباؤ پر ان کی شادی صائمہ بیگم سے کر دی گئی اور تہمینہ واپس اپنے گھر چلی گئی اور سلطان کی محبت مدفن ہی رہی۔ پھر ان کی زندگی نے نیا اور حسین موڑ لیا۔ وہ کسی کام سے جھنگ گئے تھے جب ایک مال میں انہیں تہمینہ نظر آئی۔ وہ اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ وہاں شاپنگ کے لیے آئی ہوئی تھی۔ ان کی شادی اپنے کزن کے ساتھ طے تھی جس سے وہ خوش نہیں تھی کیونکہ وہ اپنا دل بہت پہلے لاہور کے ایک مغرور شاہ زادے کے حوالے کر چکی تھی جس سے شاید وہ بے خبر تھا۔ انہیں وہاں دیکھ کر سلطان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔ پھر انہوں نے تہمینہ کو اپروچ کیا، اس کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ وہ تو پہلے ہی ان کی دیوانی تھی، جھٹ سے ان کی محبت پر ایمان لے آئی۔
تہمینہ اپنی نکاح کی رات گھر سے بھاگ کر آئی تھی۔ انہوں نے سلطان کے ساتھ تین ماہ لاہور میں ایک چھوٹے سے گھر میں گزارے تھے۔ تہمینہ کے مسلسل اصرار پر سلطان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد نکاح کر لیں گے۔
جس رات وہ نکاح کا ارادہ رکھتے تھے، اس رات انہیں آئرہ کی پیدائش کی خبر ملی تھی۔ پر جس خبر نے انہیں اپنی محبت سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا وہ تھی کہ ان کے دشمنوں کو سلطان کی کمزوری کا اندازہ ہو گیا تھا۔
وہ سلطان کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ ان کی محبت کو استعمال کر! سلطان نے اپنے تخت کو بچانے کے لیے محبت کی قربانی دی تھی۔
“سلطان! میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔ خدارا میرے ساتھ یہ ظلم مت کریں۔ آپ بے شک ساری عمر پلٹ کر نہ دیکھیے گا مگر ایک بار نکاح کر کے اپنا نام دے دیں مجھے۔ سلطان! مجھے میری محبت کی سزا نہ دیں!”
“ہم شاہ ہیں اور تم ایک تھرڈ کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی لڑکی۔ تم حسین تھی، ہمیں اس حسن نے اپنی طرف مائل کیا اور ہم نے اس حسن کو پا لیا، اور تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو کہ تم جیسی وحشیہ سے نکاح کریں گے ہم؟ تم تو نہ جانے کس کس کے ساتھ منہ کالا کرتی پھرتی ہو۔ ہماری خاندانی بیوی ہمارے گھر بیٹھی ہے جو ہماری عزت ہے۔” ان کے لہجے میں ازلی غرور بول رہا تھا۔
ان مردوں کو عورت کی ذات تب یاد نہیں آتی جب وہ اپنی ہوس پوری کرتے ہیں مگر نکاح کی بات آتے ہی انہیں اپنی اونچی اور عورت کی نیچی ذات کا خیال آ جاتا ہے۔ اور یہاں قصوروار سراسر عورت ہوتی ہے جو والدین کی برسوں کی محبت کو روند کر چند دنوں کی محبت کے پیچھے اندھی ہو کر چل پڑتی ہے اور اپنے والدین کی عزت اور محبت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ پھر جب وہی محبت جوتے مارتی ہے تب آنکھیں کھلتی ہیں مگر تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
پھر سلطان شاہ نے دیکھا تھا کہ ان کے الفاظ پر وہ لڑکی ساکت ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔ پھر اس نے اپنے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر سلطان شاہ کی آنکھوں میں گاڑ دی تھیں۔ اس کی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہوا تھا، مگر اس کی آنکھوں نے جو پیغام سلطان شاہ کو دیا تھا، اس نے سلطان شاہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلطان کے گھر سے جب وہ بے سہارا ہو کر نکلی تھی اور دربدر بھٹک رہی تھی تو انہیں سہارا دینے والا تھا انسپیکٹر حیدر علی، تہمینہ کا وہی کزن جس سے نکاح کی رات وہ بھاگ کر آئی تھی۔
حیدر کو ان سے تمام خطاؤں اور کوتاہیوں کے باوجود محبت تھی اور ان کی ماضی میں کی گئی غلطیوں کو معاف کر انہوں نے اسے اپنے نکاح میں لیا تھا۔ جب ان کے گھر والوں نے انہیں اپنانے سے انکار کر دیا تھا، تب حیدر نے انہیں سنبھالا تھا۔
پر نکاح کے ایک ہفتے بعد جو خبر انہیں ملی تھی اس نے تہمینہ بیگم کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔ وہ ماں بننے والی تھیں اور پچھلے ایک ماہ سے حاملہ تھیں۔ سلطان شاہ کے ساتھ گزرے تین ماہ کی نشانی ان کی کوکھ میں پل رہی تھی اور انہیں اصل فکر اپنے شوہر حیدر کی ہوئی کیونکہ مرد پرائی اولادیں نہیں پالتے، وہ بھی ناجائز۔
“میں۔۔۔می۔۔۔میں ابارشن کروا دوں گی حیدر،” انہوں نے بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ جو بھی تھا، وہ ان کی اولاد تھی، وہ ماں ہو کر کیسے اپنی اولاد کا قتل کر سکتی تھیں؟
اور ان کے الفاظ سُن حیدر بپھر گیا تھا۔ “کیوں! اس معصوم جان کا کیا قصور ہے؟ یہ تم لوگوں کی غلطی ہے نہ کہ اس کی جس نے ابھی دنیا میں آنکھیں بھی نہیں کھولی! یہ جیے گی! کیونکہ جینا اس کا حق ہے اور یہ حیدر علی کی اولاد ہو گی اور حیدر علی کے نام سے جانی جائے گی!” حیدر کے جواب پر وہ تشکرانہ آنسو آنکھوں میں بھرے ان کے سینے سے لگ گئیں تھیں۔
پھر حیدر نے ان کا خیال کسی رانی کی طرح رکھا تھا اور ڈاکٹر نے جو خبر انہیں دی تھی وہ سُن تو حیدر کے قدم زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ ان کے گھر ایک ننھی سی پری آنے والی تھی اور حیدر تو اس کا نام بھی سوچ چکے تھے۔
“تہمینہ! میں پری کا نیم عنایہ رکھوں گا! عنایہ حیدر علی!” ایک دفعہ انہوں نے اس کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر تہمینہ فقط مسکرا دی۔
تہمینہ بیگم ان کی سنگت میں خوش تھیں، پر یہ خوشیاں چند لمحوں کی مہمان تھیں کیونکہ چند ماہ بعد ہی حیدر علی کی شہادت کی خبر ان پر قیامت بن کر برسی تھی وہ اپنی پری کے دنیا میں آنے سے قبل ہی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔
ہارون، ارحم، حیدر اور ان کے ایک اور دوست ایک ہی ٹیم میں تھے۔ اور حیدر کی شہادت کے پیچھے بھی سلطان کا ہاتھ تھا۔ اور وہ تہمینہ اور حیدر کے نکاح سے ناواقف تھے۔ حیدر کی موت کے بعد عنایہ کی پیدائش ہوئی تھی۔ تہمینہ نے خود کو عنایہ کے لیے زندہ رکھا تھا. جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی عنایہ کو تہمینہ نے ہر حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا۔
✩━━━━━━✩
حال:
تہمینہ کا سر سلطان کی چارپائی پر دھرا تھا اور ان کا وجود ساکت تھا۔
عنایہ کا دل اندیشوں کی زد میں آیا۔ ماں کے ایک مرتبہ کہے گئے الفاظ کانوں میں گونجے
“آپ کو ان سے کتنی محبت ہے امی؟” سولہ سالہ عنایہ ماں کی گود میں سر رکھے ان سے سوال کر رہی تھی۔
“اتنی کہ جب میرے دل کو علم ہوا کہ شاہ صاحب کی دھڑکنیں تھم گئی ہیں، یہ بھی دھڑکنے سے انکار کر دے گا۔” ماں کے جواب پر اس لمحے وہ تڑپ اٹھی تھی پر ابھی ان کے جملے حقیقت ہوتے نظر آ رہے تھے۔ اس نے ماں کو ہلکا سا ہلایا تو ان کی گردن ایک جانب ڈھلک گئی۔
“امی!!!!!!” عنایہ چیخ کر ایک دم پیچھے ہوئی تھی۔ مفرہ نے میڈیسن پڑھ رکھی تھی تو وہ دوڑ کر ان کے قریب آئی پر جب چیک کیا تو روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ عنایہ کو ادراک ہوا تھا کہ سر پر آسمان گرنا کیا ہوتا ہے۔
یوشع نے فوراً آگے بڑھ کر لڑکھڑاتی عنایہ کو تھاما۔ “بس بچہ! صبر!”
“بھائی! بھائی! انہیں مجھ پر ترس نہیں آیا یہ مجھے تنہا کر گئیں!” روتی ہوئی عنایہ کو پھر کبیر نے تھام کر اپنے حصار میں لیا۔
وہ پہلے بھی انہیں اپنی لگتی تھی، اب جب علم ہوا تھا کہ وہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے تو انسیت اور بڑھ گئی تھی کیونکہ تہمینہ اور سلطان کے رشتے سے وہ شروع سے واقف تھے پر خاموش رہے تھے۔
پھر جنازہ اٹھانے کا وقت آیا اور دو جنازے اٹھے تھے۔ چیخ و پکار پکار بلند ہوئی۔ عنایہ کو بمشکل نور، مشکوٰۃ اور مفراہ نے سنبھالا تھا۔ نادیہ بیگم تو اپنی پیاری بہن جیسی سہیلی کی موت کے غم سے نہیں نکل پا رہی تھی۔
جب جنازے اٹھ گئے تو پولیس والے آگے بڑھے کہ آئرہ کو ساتھ لے جا سکیں۔ تو پتھر بنی بیٹھی آئرہ اُٹھی اور عنایہ کے قریب بیٹھی، پھر بنا ایک لفظ بولے اسے اپنے سینے سے لپٹایا۔
“آپی!!!” عنایہ نے تکلیف سے اسے پکارا۔ اسے آج احساس ہوا تھا کہ ماں باپ کے بعد سب سے مضبوط سہارا بھائی اور بہنوں کا ہوتا ہے۔ وہ جو پہلے خود کو بے آسرا تصور کر رہی تھی، بڑی بہن کو سامنے پاتے دل کو ایک ڈھارس بندھی تھی۔
“تم تنہا نہیں ہو، میں ہوں تمہارے ساتھ،” تب سے خاموش بیٹھی آئرہ نے پورے ایک دن بعد یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ پھر آئرہ نے تمام آنسو بڑی بہن کے گلے لگ کر بہائے تھے۔ پر آئرہ کی آنکھیں بنجر تھیں۔۔۔
اور رہیں۔
پولیس کے کہنے پر ضرار نے آگے بڑھ کر آئرہ اور عنایہ کو الگ کیا، پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آئرہ کے سر پر ہاتھ رکھ بھاری دل کے ساتھ اسے پولیس کے حوالے کیا۔
جنازوں کو دفنا کر آئے تو نور نے دیکھا کہ اس محبوب جان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ بہت تکلیف میں محسوس ہوا تھا اور اس کی تکلیف نور کیلئے ناقابل برداشت تھی۔ جب وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو مشکوٰۃ کو عنایہ کا دھیان رکھنے کا بول خود اس کے پیچھے بڑھی اور ہلکے سے دروازہ دھکیل کر اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور وہ سامنے بستر پر سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا۔ وہ بنا کچھ بولے آگے بڑھی اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ یوشع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر بے ساختہ گرم جوشی کے ساتھ اس کے گلے لگا۔
“قلب! اس نے ایسا کیوں کیا تھا؟ وہ تو بہت معصوم تھی، ننھی سی پری! پھر اس نے یہ جرم کہاں سے سیکھ لیے۔ مجھے نہیں پتہ وہ کب اس مرض میں مبتلا ہو گئی! وہ تو ہمیشہ مجھ سے محبت کی بجائے نفرت کا اظہار کرتی آئی تھی پر مجھے نہیں علم تھا اس نفرت کے پیچھے جنونی محبت چھپی ہے جو اس کی بربادی کا سامان لے کر آئے گی۔ وللہ اگر مجھے اس بات کا ذرا بھی علم ہوتا تو میں اس کے بڑھتے قدم روک دیتا۔
اس نے کبھی خود کو پڑھنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ اس نے میرے سامنے۔۔۔۔ قلب! میرے سامنے اپنے باپ کو میرے لیے قتل کر دیا۔۔ کوئی کسی سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے؟ کیا وہ پاگل ہے؟ دیوانی ہے یا جنونی ہے؟ اس نے خود کو برباد کر لیا اور اس کی بربادی کا ذمہ دار میں خود کو مان رہا ہوں! میرے کندھوں پر بوجھ آن گرا ہے۔ وہ اس سب کی حقدار نہیں ہے!” نور کے کندھے پر سر رکھے آنسو بہاتے ہوئے وہ اپنے سارے غم اس کے سامنے بیان کر رہا تھا۔
کون کہتا ہے کہ مرد نہیں روتے؟ روتے ہیں نہ مرد اور اپنی محبوب عورتوں کے کندھوں پر سر رکھ کر! نور کو اس کا رونا تکلیف دے رہا تھا اور وہ اپنے غم میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے سامنے ایک ایسی لڑکی کا ذکر کر رہا ہے جو اس کی محبت میں گرفتار تھی۔
نور نے بھی اسے نہیں روکا، اسے اپنا غم بہانے دیا پھر کچھ دیر بعد وہ اس سے علیحدہ ہوا تو نور نے دونوں ہتھیلیوں سے اس کے آنسو صاف کیے۔
“اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے یش! آپ بہت معصوم ہیں! یہ سب کچھ اس طرح ہی لکھا تھا، یہ تو تقدیر تھی! اب اس میں خود کو مت تھکائیں! آپ کی بہت لوگوں کو ضرورت ہے۔ آپ کے بابا کو آپ کی ضرورت ہے، آپ کے خاندان کو آپ کی ضرورت ہے، سب سے بڑھ کر مجھے آپ کی ضرورت ہے! آپ اس گلٹ سے نکل آئیں، کوئی بھی کسی دوسرے کو غلط کام کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔ اللہ نے ہر انسان کو عقل، شعور اور علم دیا ہے۔ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ جو کر رہا ہے اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آئرہ نے جو کیا، آپ اس کے ذمہ دار قطعا نہیں ہیں۔” نور کے الفاظ نے واقعی یوشع کے زخموں پر مرہم کا کام کیا تھا۔ ایک اچھی بیوی واقعی شوہر کے لیے نعمت ثابت ہوتی ہے، وہ اس کو برے سے برے وقت میں بھی سنبھالنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
✩━━━━━━✩
وقت کا کام ہوتا ہے گزرنا، اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے۔ سلطان اور تہمینہ کی موت کو دو ماہ بیت گئے تھے۔ صائمہ عدت میں تھی اور انہیں ان کے میکے والے ساتھ لے گئے تھے۔ نور ہاسٹل شفٹ ہو گئی تھی۔
عنایہ کو زقیہ بیگم نے شاہ ولا میں ہی روک لیا تھا۔ کیسے روکا؟ وہ ایک الگ کہانی ہے، پر ان کے لیے وہ ان کے بیٹے کی نشانی تھی، ان کے غرور کا قمقمہ پاش پاش ہو گیا تھا۔ اب ان کے لیے عنایہ جائز اور ناجائز نہیں تھی، بس ان کے بیٹے کی اولاد تھی۔ یوشع کے ساتھ بھی ان کا رویہ سنور گیا تھا۔
کون سمجھا ہے فقط باتوں سے
ہر شخص کو ایک حادثہ ضروری ہے
آج آئرہ کی عدالت میں آخری سماعت تھی۔ اس کی رہائی اور سزا کا فیصلہ ہونا تھا۔ اس کے کیس کو پروسیکیوٹ احد صدیقی کر رہا تھا۔
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں، تجھے یقین ہے یہ کام کرے گا؟” احد نے سنجیدگی سے اشعث سے پوچھا۔
“کرے گا! ٹھیک ہے، ہم نے اسے اس طرح پلان نہیں کیا تھا پر میں گارنٹی دیتا ہوں یہ کام کرے گا!” اشعث کا لہجہ پختگی لیے ہوئے تھا۔
عنایہ نے بھی تھوڑی دیر بعد انہیں جوائن کیا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ ان پے در پے ملنے والے صدموں سے وہ سنبھل چکی تھی۔ “سب سے اہم گواہان تیار ہے؟” اشعث نے عنایہ کو مخاطب کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلا کر تصدیق کی۔
آئرہ کا کیس کئی دنوں سے چل رہا تھا اور آج آخری سماعت تھی۔ آئرہ کا وکیل جسے محسن نے ہائر کیا تھا، اسے سیلف ڈیفنس مرڈر ڈکلئیر کرنے پر بضد تھااور احد قتل۔۔۔۔۔
جج صاحب کے آنے پر سب تعظیماً کھڑے ہوئے، پھر ان کی اجازت پر کیس شروع کیا گیا۔
“مس آئرہ! آپ نے اپنا پہلا قتل کیوں کیا؟” احد نے ڈائریکٹ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا تو آئرہ کے چہرے کی رنگت تبدیل ہوئی۔
“آبجیکشن یور آنر! میری کلائنٹ نے وہ گولی ایک معصوم جان کو بچانے کے لیے چلائی تھی،” آئرہ کا وکیل فوراً اعتراض میں کھڑا ہوا۔
” پر وکیل صاحب! میں نے مس آئرہ کے پہلے قتل کی بات کی ہے نہ کہ دوسرے،” اور احد کے الفاظ پر آئرہ کا چہرہ سفید پڑا۔ اس کے قدم لڑکھڑائے۔ ایمبولینس سائرن کی آواز، ٹائروں کے چرچرانے، چیخ و پکار کی آوازیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ سڑک پر بہتا خون، سب اس کے ذہن میں پھر سے تازہ ہوئے۔
وہیں احد کی اس بات نے کمرہ عدالت میں موجود افراد کو اُلجھن میں ڈال دیا تھا۔
“میں نے نہیں کیا،” آئرہ ہذیانی سی کیفیت میں بولی۔
“پھر کس نے کیا؟” احد اس کے مقابل آیا۔
“میں نے نہیں کیا،” اس کی آواز تھوڑی بلند ہوئی۔
“آپ نے ہی کیا ہے!” احد بھی بلند آواز میں دھاڑا۔
“کہا نہ میں نے نہیں کیا!” سرخ آنکھوں کے ساتھ احد کو دیکھتے ہوئے چیخی۔
“آپ نے ہی کیا ہے وہ قتل! ہاں یا نہ!” احد کی آواز اس سے دگنی ہوئی۔
“ہاں! ہاں! مارا اسے! بابا کے کہنے پر مارا! ورنہ وہ یش کو مار دیتے،” اور آئرہ کے الفاظ نے سب کو بے یقینی کے سمندر میں ڈبو دیا تھا۔ یہ کہانی نے کون سا رُخ پلٹا تھا۔۔۔
“یور آنر! میں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے مقتول کی بیٹی کو وٹنس باکس میں بلوانا چاہوں گا،” احد نے جج صاحب سے اجازت چاہی۔ “اجازت ہے۔” اجازت ملنے پر نور کٹہرے میں آ کر کھڑی ہوئی۔
اس سے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر سچ بولنے کی قسم دلوائی گئی پھر احد نے بات شروع کی۔
“جی مس نور! آپ کا انسپیکٹر اشفاق سیال صاحب سے کیا رشتہ تھا؟” احد کی بات پر نور نے نظریں گھما کر یوشع کو دیکھا جو ابھی تک حیران کن نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“وہ میرے بابا تھے،” نور نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
“سامنے کھڑی لڑکی کو پہچانتی ہیں؟” احد نے آئرہ کی طرف اشارہ کیا تو نور نے اثبات میں سر ہلایا۔
“کیسے؟” احد نے ایک اور سوال کیا
“میرے بابا کی قاتل ہے یہ،” نور کا لہجہ مضبوط تھا۔
“کیا قتل کے وقت آپ اپنے والد کے ساتھ تھیں؟” ایک اور سوال۔ “جی! میں اور بابا لاہور بھائی سے ملنے ان کے ہاسٹل آئے تھے۔ بابا اور میں فٹ پاتھ پر پیدل چل رہے تھے جب ایک تیز بائیک پیچھے سے آئی اور… اور اس نے بابا کو ہِٹ کیا۔ بابا جب لڑکھڑا کر نیچے گرے تو بائیک ریورس ہوئی، پھر بابا کو کچل گئی اور اس نے… اس نے یہ عمل بار بار دہرایا! میں بس وہاں کھڑی چیختی رہ گئی اور میرے بابا نے اپنی آخری سانسیں سڑک پر لیں،” یہ بتاتے وقت نور بمشکل اپنے جذبات سمیٹے کھڑی تھی۔
“آبجیکشن یور آنر! میرے معزز دوست کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ وہ بائیک سوار میری کلائنٹ تھی؟” پھر احد نے سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں پیش کی جس میں بائیک پر بیٹھی آئرہ اور بائیک نمبر واضح نظر آ رہے تھے۔
“اب میرے معزز ساتھی پوچھیں گے کہ آئرہ کے یہ قتل کرنے کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ تو میں واضح کرنا چاہوں گا جس کے لیے میں مزید ایک گواہ بلوانے کی اجازت چاہتا ہوں،” احد نے سنجیدہ سے انداز میں کہا۔
“اجازت ہے۔”
نور جب جا کر یوشع کے برابر میں بیٹھی تو یوشع نے بے ساختہ بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹتے ہوئے اسے حصار میں لیا۔ وہ جانتا تھا وہ تمام سیاہ یادیں دہرانا اس کے لیے مشکل رہا ہو گا، اس نے اسے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا بس اپنے ساتھ کا یقین دلایا تھا۔ نور نے بھی نڈھال ہوتے ہوئے سر اس کے کندھے سے ٹکایا۔
افق اس کی آنکھیں نم اور سرخ تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والد کا قتل ہوا تھا پر اسے یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ان کی ڈیوٹی کی وجہ سے کسی دشمن نے کیا تھا، یہ تمام انکشافات اس کے لیے بھی نئے اور تکلیف دہ تھے۔
ایک اور گواہ کٹہرے میں کھڑی ہوئی۔ “کیا آپ اپنا نام اور اشفاق صاحب سے اپنا رشتہ واضح کریں گی؟” احد نے مؤدب انداز میں کہا۔
آنے والی کو دیکھ کر کبیر کی دھڑکنیں بے ساختہ تھمی تھیں۔ وہ انہیں بھرے مجمعے میں بھی پہچان سکتے تھے اور اتنے سالوں بعد اس روح پرور شخصیت کو سامنے دیکھ کر کبیر کے رگوں پے میں سکون اترا۔ کچھ یہی حالت یوشع کی بھی تھی۔
“میرا نام مریم بتول ہے اور میں اشفاق سیال صاحب کی بیوہ ہوں،” دھڑا دھڑ ساتوں آسمان کبیر کے سر پر گرے۔ ان کی بتول کسی اور کی ہو چکی تھی۔ انہیں آج مزید شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ کیا کھو چکے ہیں۔
“کیا آپ عدالت کے سامنے واضح کریں گی کہ آپ کے شوہر کو کیوں قتل کیا گیا؟”
“میرے شوہر اسپیشل پولیس ٹیم کا حصہ تھے جو غیر قانونی اسلحہ فروش اور دہشت گرد سلطان شاہ کے خاتمے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ اس میں میرے بھائی ایس۔ پی ارحم، ڈی۔ ایس۔ پی سید ہارون خلیل شاہ اور انسپیکٹر حیدر علی بھی شامل تھے۔ سلطان شاہ کے خلاف وہ کافی پختہ ثبوت جمع کر چکے تھے اور جب انہوں نے وہ ثبوت عدالت میں جمع کروانے تھے تو اس کے چند دن قبل سلطان نے اپنے بہنوئی ڈی۔ ایس۔ پی ہارون اور ان کی اہلیہ کو ایکسڈینٹ کا رنگ دے کر قتل کروا دیا۔
انہیں لگا تھا کہ ان کے اس قدم سے باقی لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ جائیں گے پر ایسا نہ ہوا۔ پھر انہوں نے میرے بھائی پر وہ قتل پلانٹ کر انہیں قاتل ثابت کیا، اس کے بعد انہیں جیل سے غائب کروا دیا۔
پھر بھی جب حیدر بھائی اور اشفاق پیچھے نہیں ہٹے تو حیدر علی کو بھی شہید کر دیا گیا۔
انہوں نے اپنے بھائی یعنی میرے… (اس کے گلے میں کچھ اٹکا، شاید آنسو)… میرے سابقہ شوہر کبیر شاہ کو فورس کیا اور مجھے طلاق دلوا کر گھر سے نکلوا دیا کیونکہ میں نے انہیں ان کے والد حاتم شاہ کو قتل کرتے دیکھ لیا تھا۔ سب کو لگتا تھا وہ بیٹی کے غم سے انتقال کر گئے اور حقیقت میں سلطان نے انہیں قتل کیا تھا کیونکہ اس رات وہ ان کی سیاہ کاریوں سے واقف ہو چکے تھے، انہیں علم ہو چکا تھا کہ ان کی بیٹی اور داماد کی موت کے پیچھے سلطان کا ہاتھ تھا پر سلطان نے انہیں قتل کر کے اپنی سیاہ کاریوں کا ایک گواہ کو منوں مٹی تلے دفنا دیا! سلطان کا ارادہ گھر سے نکلوا کر مجھے قتل کروانے کا تھا اور ارحم بھائی اشفاق جی کو پہلے ہی میرے حوالے سے محتاط کر گئے تھے۔
چونکہ حاتم انکل کے قتل کا میں نے انہیں بتا دیا تھا، اشفاق مجھے اپنے ساتھ لے گئے، پھر ایک دن میں بھائی سے ملنے جیل گئی تو انہوں نے میری اور اشفاق جی کے نکاح کی بات سامنے رکھی، تب تک میری عدت بھی مکمل ہو چکی تھی، ان کے اصرار پر مجھے ان کی بات ماننا پڑی کیونکہ وہ مجھے کسی مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتے تھے۔ اس کے چند دن بعد ارحم بھائی کو غائب کر دیا گیا، یہ کہہ کے کہ وہ جیل سے بھاگ گئے ہیں۔ مصلحت اور ثبوت نہ ہونے کے پیش نظر اشفاق جی کچھ سالوں کے لیے اس کیس سے پیچھے ہٹ گئے، سلطان نے بھی ان کا تعاقب نہیں کیا، ثبوت ہارون بھائی کے پاس تھے اور ان کی موت کے بعد کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ ثبوت کہاں گئے۔ شاید وہ سلطان کے ہاتھ لگ چکے تھے، مگر پھر چند سال بعد اشفاق جی سے ملنے ہارون بھائی کا بیٹا ضرار آیا، اس نے بتایا کہ اس کے والد جاتے وقت تمام ثبوت اسے سونپ کر گئے تھے اور گزشتہ سالوں میں وہ سلطان کے درمیان رہ کر کئی ثبوت اکٹھے کر چکا تھا، حتیٰ کہ خفیہ طور پر اس نے پولیس فورس بھی جوائن کر لی تھی اور اب وہ سلطان کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتا تھا۔ انہی دنوں جب کیس دوبارہ شروع کیا گیا، ضرار پردے کے پیچھے رہا اور منظر عام پر اشفاق جی رہے۔ سلطان کو اس کی خبر پہنچی تو اس نے میرے شوہر کو قتل کروا دیا،”
مریم بیگم بول کر خاموش ہوئی ہی تھی کہ آئرہ بول اٹھی۔
“وہ قتل میں نے کیا تھا! بابا کے کہنے پر! کیونکہ انہوں نے میرے سامنے میری جان(یوشع) کی شرط رکھی تھی! میں نہیں جانتی وہ کون تھے، ان کا کیا عہدہ تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پھوپھو انکل اور دادا جان کا قتل بابا نے کیا تھا، میں نے انہیں بات کرتے سنا تھا ایک مرتبہ،” اس نے اپنے منہ سے اعتراف جرم کر لیا تھا۔
اس کی حالت پر یوشع اور ضرار دونوں تڑپ اٹھے تھے۔ یہ وہ بچی تھی جسے انہوں نے ہاتھوں میں کھلایا تھا، ان کے سامنے بڑی ہوئی تھی۔ خدا جانے کب وہ سیاہ ستوں کے مسافر بن گئ اور کبیر کو اپنے مردہ بھائی سے نفرت محسوس ہوئی تھی۔ ان کا دل کیا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں غرق ہو جائیں۔ انہوں نے اپنی بیوی، اپنی محبت کو زمانے کی ٹھوکروں پر چھوڑ دیا تھا، وہ کس منہ سے ان سے معافی مانگیں گے؟
پھر عدالت میں احد کی جانب سے ثبوت پیش کیے گئے اور ارحم کو بے گناہ قرار دے دیا گیا اور آئرہ پر دونوں قتل ثابت ہو گئے۔
“یہ عدالت مجرمہ آئرہ سلطان شاہ کو دو جانوں کے قتل کے الزام میں پانچ سال کی بامشقت قید اور سزائے موت کی سزا سناتی ہے،”
جج صاحب کی بات پر سب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔ یہاں تک کہ اشعث کی بھی۔ یہ وہ گڑیا تھی جس کو گود میں اٹھانے کے لیے وہ، یوشع اور ضرار لڑا کرتے تھے اور آج خود اسے پھانسی کے پھندے تک لے آئے تھے۔
وہیں فٹ پاتھ پر آنکھیں بند کیے بیٹھے فقیر نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔ پھر گہرا سانس بھر کر آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔واہ ربا تیرے رنگ فرعون ہتھوں موسیٰ پلوا دینا تے کِتے ابراہیم ہتھوں چھریاں چلوا دینا(واہ ربّا! تیرے بھی کیا رنگ فرعون کے ہاتھوں موسیٰ کی پرورش کروانا اور کہیں ابراہیم کے ہاتھوں اسماعیل کے ہاتھوں چھری چلوا دینا) پھر اس نے اپنا ستار اٹھایا اور جھوم کر پڑھنے لگا۔
پھلاں ورگی جندڑی عشق رلا چھڈدا
سرِ بازار جے چاہوے عشق نچا چھڈدا
ان سب کے برعکس اپنی موت کا پروانہ سُن آئرہ پرسکون انداز میں آنکھیں بند کر کے مسکرائی تھی۔ جہاں لوگ قید اور موت کی سزا سن گھبرا جاتے ہیں وہیں وہ دیوانی مسکرا رہی تھی گویا موت ہی اس کی آزادی ہو۔
اس کے عشق نے اسے رول کے رکھ دیا تھا۔ سچ کہتے ہیں، ہر چیز کی انتہا بری ہے، پھر چاہے وہ عشق ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے بھی عشق کرتے وقت حدیں بھلا دی تھیں، خسارے جھولی میں سمیٹ لیے تھے اور ان خساروں کا انہیں کوئی غم نہیں تھا بلکہ اس کے لیے تو عشق کی راہ میں ملے وہ انعام تھے۔
عاشقوں کا فلسفہ ہی عجیب ہوتا ہے، یہ نہ دل سے سوچتے ہیں نہ دماغ سے، یہ تو محبوب کی منشا کے مطابق سوچتے ہیں۔
ککھ نہ چھڈے ویکھ وفاواں عشق دیاں
اوکھے پینڈے لمیاں راہواں عشق دیاں
سجنا باہجوں ذات صفاتاں عشق دیاں
وکھری کُلی دن تے راتاں عشق دیاں
ہین چودہ طبقاں اندر تھاواں عشق دیاں
اوکھے پینڈے لمیاں راہواں عشق دیاں
جب پولیس والے اسے گھسیٹ کر لے جا رہے تھے تب وہ یوشع کے سامنے رُکی۔ پہلی دفعہ ان پتھر آنکھوں میں پانی چمکا تھا۔ اس نے بنا کچھ بولے یوشع کا ہاتھ پکڑ کر چوما، پھر اسے عقیدت سے آنکھوں سے لگایا۔ بنا ایک لفظ کہے، بنا کچھ سنے، نم آنکھوں سے وہ ہمیشہ کے لیے پلٹ گئی۔
آئرہ کو جیل تک ضرار لے کر جانے والا تھا۔
“مما۔۔۔۔۔!” جاتی ہوئی مریم بتول کے کانوں میں جب یہ الفاظ پڑے تو اس کے قدم چلنے سے انکاری ہوئے تھے۔ کانوں کو راحت پہنچی، کتنا انتظار کیا تھا ان پُرشفا لفظوں کو سننے کا، وہ بے ساختہ پلٹی تھی، سامنے ان کا بیٹا ان کا منتظر کھڑا تھا۔
مریم جوں ہی پلٹی، سامنے اپنے بیٹے کو اپنا منتظر پایا۔ یہ وہ بیٹا تھا جس کی ایک ملاقات کے لیے، جس کے دیدار کے لیے، نہ جانے انہوں نے کتنی دعائیں مانگی تھیں۔ بھیگے مصلے اور خاموش کمروں کی دیواریں ان کے آنسوؤں اور سسکیوں کی گواہ تھیں۔
“شاہ جان!” ان کے ہونٹ ہلے، پھر بے ساختہ بیٹے سے لپٹ گئیں تھیں۔
آخری ملاقات کے وقت انہوں نے اس کے ننھے سے وجود کو باہوں میں بھرا تھا اور آج وہ چھوٹا سا وجود ایک بھرپور، جوان سالہ مرد بن چکا تھا، جو ان کے بکھرتے وجود کو باہوں کے حصار میں لیے کھڑا تھا۔ سالوں پہلے بھی ایسے ہی، اسی کی ننھی، کمزور باہوں نے ان کے تڑپتے وجود کو سہارا دیا تھا اور اب وہ باہوں کا حصار مضبوط ہو گیا تھا۔ وہ قد میں ان سے لمبا ہو گیا تھا۔ جوان بیٹے ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں۔
“یش! تم سے بچھڑ کر مجھے اندازہ ہوا کہ یوسف کی جدائی بینائی سے محروم کیوں کر دیتی ہے! واللہ تمہاری ماں بہت تڑپی ہے یوشع! میرا خسارہ کوئی نہیں سمجھ سکتا! میں نے اپنے بیٹے کا بچپن سے لے کر لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کا سفر گنوا دیا! اس کہانی میں سارے خسارے بتول کی جھولی میں آئے ہیں! یش! میرا بسا بسایا گھر اجاڑا گیا! میرا بیٹا چھین لیا گیا! میرا بھائی قید کر لیا گیا! میرے شوہر کو قتل کر مجھے بیوہ اور میرے بچوں کو یتیم کر دیا گیا! یوشع! مجھ پر ظلم ہوئے! اور بے انتہا ہوئے! پر میرا منصف اللہ تھا جس نے آزمائشوں کو میری استطاعت سے نہیں بڑھایا۔ بیٹے کی جدائی ابدی نہ رکھی، تمہیں سامنے پا کر تمہاری ماں جی اٹھی ہے! بس تم ہی میری ان بوڑھی آنکھوں کا نور ہو!” وہ اس قدر تکلیف سے یہ الفاظ ادا کر رہی تھیں کہ ہر لفظ یوشع کو دل میں سوئیوں کی طرح چبھتا محسوس ہوا۔
وہ ان سالوں کا غبار آج بیٹے کے سینے پر بہا گئی تھیں۔ بیٹے مضبوط سہارے ہوتے ہیں اور وہ مضبوط سی مریم آج سہارا پاتے ہی بکھر گئی تھیں۔
“میں آپ کے بغیر تپتے صحرا میں پیاسا پھرا ہوں، پر آپ کی موجودگی میرے لیے آبِ شفا کا جام ثابت ہوئی ہے جو میرے جھلسے بدن پر ٹھنڈی پھوار بن کر برسی ہے،” یوشع نے بھی بھرائے لہجے میں تمام سالوں کی تکلیف چند جملوں میں سمیٹ دی۔
“ماں قربان جائے،” مریم نے ایڑیاں اوپر اٹھا کر اس کی آنکھیں اور ماتھا چوما۔
“مما! آپ کو پتہ ہے مجھے میری ‘سرمئی آنکھوں والی گڑیا’ مل گئی،” یوشع نے مسرور سے لہجے میں کہتے نور کو کھینچ کر برابر میں کھڑا کیا تو مریم مسکرا دیں۔
“پھر کون پریٹی ہے؟” مریم نے ابرو اٹھا کر پوچھا۔
“آف کورس ڈول مما، کیونکہ یہ میری ہے،” یوشع کی آنکھوں میں سالوں بعد شرارت ناچ رہی تھی۔
“شاہ جان!” مریم نے لاڈ بھری انداز میں تنبیہہ کی۔
“وہ پریٹی ہے کیونکہ میری مما حسین ہے،” یوشع نے مسکرا کر کہتے مریم کو حصار میں لے کر ان کے بالوں پر لب رکھے تو نور ان دونوں کو دیکھ کر آسودہ سا مسکرا دی۔ جب کہ مریم بھی نم آنکھوں سے مسکرائی تھیں۔
“بتول!” پکار پر مریم کے مسکراتے ہونٹ سمٹے، آنکھوں سے خوشی غائب ہوئی اور کدورت نے اس کی جگہ لے لی۔ بہت سے جذبات اندر اتار کر وہ پلٹی تھیں۔ سامنے کبیر نم آنکھوں سے انہیں ہی تک رہے تھے۔ مریم نے جذبات سے خالی پر نم نظروں سے انہیں دیکھا۔ لب خاموش رہے، نگاہوں نے کلام کیا۔ پھر انہوں نے زخموں سے بھری ہچکی لی۔
زندگی بھر کے شکوے گلے تھے بہت
وقت اتنا کہاں تھا کہ دہراتے ہم
ایک ہچکی میں کہہ ڈالی سب داستاں
ہم نے قصے کو یوں مختصر کر دیا
پھر بنا ایک لفظ بولے مریم نے نگاہیں پھیر لیں۔ اور ان کا یوں بے اعتنائی سے نگاہیں پھیرنا کبیر کو مار گیا تھا۔ پھر نہ مریم نے شکوے کیے نہ کبیر نے معذرت۔ وہ شکستہ قدموں اور جھکے کندھوں کے ساتھ وہاں سے پلٹ گئے تھے۔ وہ جانتے تھے، ان کے چند الفاظ ان کی بتول کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔ ‘ان کی بتول؟؟’ بتول ان کی کہاں رہی تھی وہ کسی کی مریم تھی، اس سوچ کے آتے ہی وہ خود پر استہزائیہ مسکرائے۔
“بابا!” یوشع جانتا تھا اس کا باپ اس وقت کس اذیت میں ہو گا، اس لیے وہ ان کے پیچھے آیا تھا۔ پھر ان کے سینے سے لگ گیا
“آپ ٹھیک ہیں؟” اس کے لہجے میں بے انتہا فکر تھی۔
“میں ٹھیک ہوں بابا کی جان! تم اپنی مما کے پاس جاؤ، دہائیوں بعد ملی ہیں وہ تمہیں،” انہوں نے شفقت سے اس کے بال سہلائے پر وہ بھی بنا کچھ بولے ان سے لگ کر کھڑا رہا۔
“ارے! میں ٹھیک ہوں۔ یہ تیرے باپ کے ہاتھوں کا کمایا سالوں پرانا روگ ہے اور کمائی اچھی ہو یا بری، گزارا اسی کے ساتھ کرنا پڑتا ہے اس لیے مجھے عادت ہے۔ میں ٹھیک ہوں،” لہجے میں مصنوعی بشاشت بھرے انہوں نے بیٹے کو زبردستی واپس دھکیلا۔
“بھائی! یہ وہ وکیل ہے!!” ایک مکروہ صورت انسان نے اپنے ساتھ والے دوسرے مکروہ صورت انسان کو زہر خند لہجے میں کہا تو نفرت آنکھوں میں بھرے احد کے قریب گیا۔ اس کے یوں راستہ روکنے پر احد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
۔ “ابے ایک کالا کوٹ کیا پہن لیا، زیادہ چربی چڑھ گئی؟ ہاں؟ تجھے پتہ ہے کس کے بھائی کے خلاف مقدمہ لیا ہے تو نے؟”
“پتہ ہے! اور یہ بھی پتہ ہے، بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں اور تو بھونکنے پہ یقین رکھتا ہے اور میں کاٹنے پر! تجھے کیا لگا تیری ان گیدڑ دھمکیوں سے ڈر جاؤں گا میں؟ ہاں؟ میں تجھ سے بڑا کمینہ ہوں سمجھا! اور یہ جو میرے تن پر کالا کوٹ ہے، یہ میری کمینگی میں اضافہ کرتا ہے اس لیے مجھے شریف تو سمجھنا ہی مت اور میں یہ کیس ڈنکے کی چوٹ پر لڑوں گا بھی اور جیتوں گا بھی! اگر مجھے یا میرے گھر والوں کو معمولی سی بھی خراش پہنچانے کی کوشش کی تو تیری بدبودار لاش کو کفن چھوڑ لباس کا ایک ریشہ بھی نصیب نہیں ہو گا! اور اسے دھمکی ہرگز مت سمجھنا، کیونکہ افضل بخش کا انجام تو نے آنکھوں سے دیکھا تھا،”
وہ غالباً کسی گنڈے کا نام لے رہا تھا پر اس کے انجام کا سُن اس وحشی گنڈے کی پیشانی پر پسینہ چمکا اور ایک سنسنی ریڑھ کی ہڈی سے پورے وجود میں دوڑ گئی۔ ایک مسخ شدہ، کٹے ہونٹوں والی لاش آنکھوں کے سامنے گھوم گئی تھی، احد نے غالباً اس کے خلاف مقدمہ لڑا بھی تھا اور جیتا بھی تھا۔ جس کی کدورت میں اس نے احد کی بہن پر حملہ کروایا تھا اور اس کا انجام پھر سب نے دیکھا۔
اس کو یہ سب کہتے ہوئے احد کی آنکھوں سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں، جبکہ چہرے پر وحشت ٹپک رہی تھی۔ اس وقت وہ شرارتی احد قطعاً نہیں لگ رہا تھا۔ یہ تو کوئی اور احد تھا، خوفناک سا۔
“بن لیا ہو فارس غازی تو چلیں “اس آواز کا سماعت سے ٹکرانا تھا کہ ان لپٹوں پر اوس پڑی، وحشت کی جگہ نرمی نے لے لی۔ پل میں اس کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے جس کا شاید اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔
“جی! چلیں،” اس کو آگے چلنے کا اشارہ کر خود اس کے پیچھے قدم بڑھائے پر گردن گھما کر ایک تنبیہہ کرتی نگاہ گنڈوں پر ڈالنا نہیں بھولا تھا۔ ایسے لوگوں سے واسطہ اس کا روزمرہ کا کام تھا، وہ انہیں سر پر سوار نہیں کرتا تھا۔
جہاں مرد عورت کو اپنے قدموں کی پیروی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں وہیں وہ پگلا سینہ چوڑا کیے ایک عورت کی پیروی بڑے فخر سے کر رہا تھا۔ پر کیا وہ بس ایک عام عورت تھی؟ نہیں! وہ اس کی محبوب عورت تھی۔ کون سی انا؟ کہاں کی شرمندگی؟ اسے بس اس کی راہ کا مسافر بننا تھا۔ چاہے اس کے ہم قدم یا چاہے اس سے ایک قدم پیچھے۔ کہتے ہیں نا محبت انائیں کھا جاتی ہے۔
یوشع، اشعث لوگ تو کورٹ سے پہلے نکل آئے تھے پر عنایہ کو احد کے ساتھ آنا پڑ رہا تھا۔
✩━━━━━━✩
جاری ہے
