پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٥
ازقلم الم
وہ سب لوگ سوائے کبیر شاہ کے واپسی پر یوشع کے فلیٹ آئے تھے۔ یوشع مریم کی گود میں سر رکھ لیٹا ان کے ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگا رہا تھا، جبکہ اشعث ثمینہ بیگم کو بھی لے آیا تھا جو کہ کچن میں مہمانوں کے لیے کھانا وغیرہ بنا رہی تھیں اور باقی تمام لڑکیاں بھی ان کی مدد کے لیے وہیں موجود تھیں۔
“نور بیٹا! بھائی کہاں ہے؟” یوشع کے بال سہلاتے مریم نے افق کو موجود نہ پاکر نور سے پوچھا۔
“امی! میں نے کال کی تھی پر انہوں نے ‘بزی ہوں’ کہہ کر کاٹ دی،” نور نے فوراً بتایا۔
“فون ملا کر مجھے دو،” مریم نور کو دیکھ کر کہا جبکہ یوشع خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
“یار نور بچہ! بزی ہوں، فری ہو کر آتا ہوں،” سامنے سے بیزار سی آواز ابھری۔
“بزی کے بچے! پندرہ منٹ میں میرے سامنے موجود ہونے چاہیے ہو تم!” مریم کے سخت انداز سے کہنے پر نور نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ جانتی تھی اب کیا ہونے والا تھا۔
“آ رہا ہوں!” ناراض سے لہجے میں کہا گیا اور واقعی ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ خفا چہرہ لیے ماں کے سامنے بیٹھا تھا اور یوشع مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ادھر آؤ!” مریم نے اپنا دوسرا بازو اس کی طرف پھیلایا تو منہ بناتے ہوئے ان کے برابر میں بیٹھ گیا۔ مریم نے اسے فوراً اپنی آغوش میں سمیٹا۔ ان کے دونوں مضبوط سہارے ان کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔
“منہ کیوں بنا ہوا ہے؟” مریم نے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا تو اس نے بچوں کی طرح چہرہ ان کے کندھے میں گھسا لیا۔ اور عنایہ کے لیے اس کا روپ انوکھا اور کیوٹ تھا۔
“دیکھو! ماضی کی باتیں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ماضی کا دور بہت دردناک تھا، سب نے بہت غم جھیلے پر وہ وقت گزر گیا، ہمارا آج ہمارے ہاتھ میں ہے جسے ہم حسین بنا سکتے ہیں۔ تمہارے بابا کو انصاف مل گیا، سب کا مجرم اپنے انجام کو پہنچا۔ اس لیے بیتی باتیں دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یوشع تمہارا بھائی ہے اور مجھے یہ اتنا ہی عزیز ہے جتنے کہ تم، کیونکہ تم دونوں میری اولاد ہو۔ اس لیے اب تم مجھے منہ بناتے نظر نہ آؤ اور بڑے بھائی سے تمیز سے ملا کرو،” مریم تحمل سے سمجھاتے سمجھاتے آخر میں ان کے لہجے میں اصلی سختی آئی۔
“ویسے مما! میں اوفق کو بہت پہلے سے جانتا ہوں، ان فیکٹ ہم دونوں دوست ہیں،” یوشع نے مریم کو بتایا۔ وہ مسکرا دیں اور یوشع کی بات پر اوفق بھی مسکرایا اور اٹھ کر افق یوشع کے گلے لگا۔ یوشع نے بھی خوش دلی سے اس کے گرد بازو باندھے۔ وہ اس کا بھائی تھا اور بھائی تو پیارے ہوتے ہی ہیں۔
پھر مریم کے برابر بیٹھتے ہوئے اوفق نے اپنا بازو پھیلا کر نور کو پاس بلایا تو وہ مسکراتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی۔ یوشع نے بھی اداس آنکھوں سے مسکراتی عنایہ کو پاس بلایا اور اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور سب ان کو دیکھ کر مسکرا دیے جبکہ کوئی تھا جس نے چپکے سے اس کی اداس آنکھوں والی کی نظر اتاری تھی۔
“یار! اگر افق اور یوشع بھائی بھائی ہیں تو نور بھابھی اور یوشع بہن بھائی نہ ہوئے؟” احد نے الجھن بھرے لہجے میں کہا تو اشعث نے اسے جن نظروں سے دیکھا تھا نا کہ بس ہاتھ اٹھا کر لعنت دینے کی کسر باقی تھی پر فیلنگ احد کو پوری آئی تھی۔
“کیا غلط پوچھ لیا کیا؟” سب کو گھورتا پا کر احد نے معصومیت سے پوچھا تو مریم نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں بچے! نور اور یوشع بہن بھائی نہیں بنتے،” انہوں نے کہتے ہوئے اپنی مسکراہٹ دبائی جبکہ احد کی اس پھلجھڑی پر یوشع شرمندگی سے سرخ پڑ رہا تھا۔
“دیکھو! دونوں بہن بھائی تب بنتے اگر ان کا والد یا والدہ ایک ہوتے پر ایسا نہیں ہے۔ اوفق میری اور اشفاق جی کی اولاد ہے جبکہ نور نادیہ اور اشفاق جی کی! اس لیے دونوں کے ماں باپ الگ الگ ہیں اور کیوں میرے بیچارے بچے کا رشتہ خراب کرنے پر تلے ہو؟” مریم نے مسکراتے لہجے میں احد کو سمجھایا جبکہ یوشع مسلسل اس بے غیرت کو گھور رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ خبیث انسان اتنا بھولا بالکل نہیں ہے بس جان بوجھ کر مزے لے رہا ہے۔
“کھانا لگ گیا ہے، کھا لیں سب!” ثمینہ بیگم نے اعلانیہ کہا تو وہ سب کھانے کی ٹیبل کی طرف بڑھ گئے اور خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔
نادیہ بیگم زبردستی افق پلیٹ میں کھانا ڈال رہی تھیں۔ مریم نور کو ڈانٹ کر کھانا کھلا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ یوشع اور عنایہ کی پلیٹ بھی فُل کر رہی تھیں، جبکہ ثمینہ کا سارا دھیان مشکوٰۃ کے کھانے پر تھا کیونکہ اس معاملے میں وہ بہت چور تھی۔
سب بڑی خواتین کھانے کے بعد لاؤنج میں بیٹھ گئی تھیں اور لڑکیاں مِل کر کچن سمیٹ رہی تھیں اور شوہر حضرات اوپن کچن سے اپنی اپنی بیویوں کو تاڑ رہے تھے۔
“آل سیٹ بلیک ہارٹ؟” آواز پر وہ پُراسرار سا مسکرائی۔
“یس پارٹنر شاہ!” اس کے جواب پر ضرار بھی مسکرا دیا۔ عنایہ جو ابھی نور کے پیچھے باہر لان میں آئی تھی۔
“کیسے ہیں آفیسر؟” نور، ضرار کو ساتھ دیکھ کر وہیں آ گئی۔
“آل گڈ ہیکر صاحبہ!”
“ہنہ! کاہے کی ہیکر! میری مدد کے بغیر یہ پانی کم چائے تھی۔” اشعث کے سڑے جواب پر عنایہ نے آنکھیں گھمائیں۔
“آپ سے کسی کا واٹس ایپ ہیک نہ ہو، جناب کی خوش فہمیاں تو دیکھو،” عنایہ نے بھی کرارہ جواب دیا تو اشعث نے اسے گھوری سے نوازا۔
“یار! میرا ہاضمہ خراب ہو رہا ہے، تم لوگ یہ سسپن ریویل نہیں کرو گے کہ تم لوگ ملے کیسے؟” احد کے بے تابی سے پوچھنے پر سب نے ایک آواز میں ‘نہیں’ کہا تو احد نے منہ بسورا پر پھر بھی زبان بند نہ کی۔
“یار شاہ! تو اور بھائی تو کُتوں… ا میرا مطلب ہے بُری طرح لڑتے تھے، پھر یہ بھائی چارہ کیسے؟” احد کی ٹریک سے اُترتی ٹرین فوراً ضرار کے گھورنے پر پٹڑی پر آئی۔
“تجھے کس نے کہا اب ہم میں بھائی چارہ ہے؟” اشعث نے ضرار کو گھورتے ہوئے کہا تو جواباً ضرار نے مُکہ اس کے ناک پر رسید کیا۔
“عمر کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ ہاتھ میں نے بھی چورن چاٹنے کے لیے نہیں رکھے!” ناک سہلاتے ہوئے اشعث نے دھمکی آمیز انداز میں کہا تو ضرار نے “چل اوئے” کا اشارہ کیا۔
ابھی مزید کسی کی زبان کھلتی کہ گیٹ میں سے گاڑی اندر داخل ہوئی، “لگتا ہے مفراہ آ گئی،” ضرار کہتے ہوئے دروازہ کھولنے آگے بڑھا کیونکہ وہ سیدھا اپنے آفس سے یہیں آیا تھا اور مفراہ کو ڈرائیور لے کر آ رہا تھا۔
“دیکھا! دیکھا! جب بڑے زن مرید ہیں تو ہم بھی تو اسی نقشِ قدم پر چلیں گے!” احد نے اشعث کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دکھ بانٹنے کے انداز میں کہا۔
“بیٹا! پہلے ‘زن’ تو لے آ پھر مرید بھی بن جائیں” اشعث نے اس کا بازو کندھے سے جھٹک کر دکھتی رگ دبائی۔ جبکہ عنایہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا اور نور نے بھی مسکراہٹ دبائی۔ احد گردن نیچے کر شرمندہ سا مسکرا دیا۔
مفراہ اور ضرار جب لاؤنج میں داخل ہوئے تو ریان فوراً مفراہ سے انگلی چھڑوا کر “دادی امی! دادی امی!” کرتا ثمینہ سے لپٹ گیا۔
“دادی کے جگر کا ٹکڑا!” انہوں نے بھی فوراً اسے گود میں اٹھا کر اس کا منہ چٹا چٹ چُوما۔
“بڑی امی!” ضرار نے محبت سے انہیں پکارا۔ ثمینہ کی آنکھیں بے ساختہ نم ہوئیں۔ پھر انہوں نے ریان کو گود سے اتارا اور رُخ ضرار کی طرف موڑا اور کھینچ کر زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر جڑ دیا۔ چٹاخ کی آواز پورے لاؤنج میں گونجی تھی۔
“او تیری!!” اپنے گال پر ہاتھ رکھ احد نے ضرار کی تکلیف کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔ جبکہ اشعث کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔ ضرار اور یوشع نے ان دونوں کمینوں کو گھورا جبکہ مشکوٰۃ نے تاسف سے اپنے سر پھرے شوہر کو دیکھا جواباً اس کے آنکھ وِنگ کرنے پر سٹپٹاتے ہوئے نظروں کا رُخ پھیرا۔ اس کی ادا پر اشعث پلے فل انداز میں مسکرایا۔
“کیا لینے آئے ہو ہاں؟ اب جاؤ، اپنے بدلے پورے کرو! تمہیں کیا فکر کہ ماں کیسے تڑپی ہے؟ جب تم پیدا ہوئے تھے تمہاری ماں سے بھی پہلے میں نے تمہیں اپنی گود میں لیا تھا اور تم پر جوانی کیا آئی پلٹ کر ماں کی خبر بھی نہ لی گئی تم سے! نہ بہن کا خیال آیا کہ بھائی کے بغیر کیسے تڑپتی ہے وہ! ہم اسے جتنی مرضی محبت دے دیتے پر تمہاری محبت کے برابر نہ دے پاتے۔ پر تمہیں تو اپنے بدلے عزیز تھے،” بڑی امی روتے ہوئے صوفے پر گِرنے کے انداز میں بیٹھیں تو ضرار فوراً ان کے قدموں میں بیٹھا اور ان کے ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے لگائے۔
“امی! میں کبھی آپ لوگوں سے بے خبر نہیں رہا۔ ہاں مجھے مصلحت کے تحت کچھ دوریاں بنانی پڑیں لیکن میرا خدا گواہ ہے کہ میری محبت میں رتی بھر فرق نہیں آیا اور میں آپ لوگوں کے پل پل سے بے خبر نہیں تھا۔ قصر شاہ میں کام کر تمام ملازمین میرے وفادار ہیں، آپ لوگوں کے ہر لمحے کی خبر مجھے موصول ہوتی تھی،” ضرار نے مسکراتے ہوئے کہا تو انہوں نے اسے زبردست گھوری سے نوازا۔
پر بالاآخر ماں تھیں کب تک ناراض رہتیں۔ ضرار کے مسلسل اصرار اور معافی پر انہیں ماننا پڑا۔
“فاطمہ! قسم سے اگر آپ خاموش نہ ہوئی تو میں سب کے سامنے آپ کو سینے سے لگا کر آپ کے آنسو صاف کروں گا جس میں کم از کم مجھے کوئی مسئلہ نہیں!” اس نے دھیرے سے روتی ہوئی مشکوٰۃ کے کان میں سرگوشی کی۔ جس پر اس نے گھبراتے ہوئے فوراً آنسو صاف کیے کیونکہ اس بے شرم انسان کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔
جبکہ اس کی سعادت مندی پر اشعث نے نامحسوس انداز میں اس کے سر پر ہاتھ رکھے تو اس نے سٹپٹا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ پھر یہ دیکھ کر سکون کا سانس بھرا کہ کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا اور گھور کر اپنے شوہر نامدار کو دیکھا تو جواباً وہ کندھے اچکا کر مسکرا دیا۔
ثمینہ کو منانے کے بعد ضرار اب مشکوٰۃ کے پاس آیا۔ “اب کیا بھائیوں کو بھی بہنوں سے معافی مانگنی پڑے گی؟” ضرار کی ایموشنل بلیک میلنگ پر احد نے داد دیتی نظروں سے اسے دیکھا۔ اور مشکوٰۃ بھی فوراً نفی میں سر ہلا کر روتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی۔ جس پر اشعث نے اپنی معصوم اور حساس سی بیوی کو افسوس بھری نگاہوں سے دیکھا۔ وہ ضرار سے ترلے منتیں کروانا چاہتا تھا، پھر اس کی سنہری گڑیا نے اسے مایوس کر دیا تھا۔ جبکہ اشعث کے مایوس چہرے کو دیکھ کر ضرار نے آنکھ وِنگ کر اسے چڑھا دیا۔
“کمینہ سالہ!” اشعث کڑھ کر رہ گیا۔
پھر اچھا خاصا وقت ایک دوسرے کے ساتھ بتا کر سب واپس لوٹ گئے، جبکہ اوفق، نور، مریم اور نادیہ یوشع کے فلیٹ پر ہی رُکنے والے تھے۔
“بھائی چائے!” نور نے بستر پر نیم دراز اوفق کو چائے دی افق اور یوشع روم شیئر کرنے والے تھے پر شاید یوشع ابھی روم میں نہیں آیا تھا۔
“آپ یوشع سے جیلس تھے؟” چائے دینے کے بعد نور اس کے ساتھ ہی ٹک گئی تھی۔ اس کے سوال پر اوفق نے چونک کر اسے دیکھا، پھر گہرا سانس بھرا۔
“ہاں! شاید تھوڑا بہت،”
“مت ہوا کریں۔ آپ نہیں جانتے انہوں نے کتنے صدمے جھیلے ہیں۔ آپ کے پاس غم سے بوجھل ہو کر چُھپنے کے لیے دو ماؤں کی گود تھی پر ان کے سر پر جھلستا آسمان اور پاؤں تلے تپتی ہوئی زمین تھی۔ اس لیے اپنے رویے سے انہیں اپنے پن کا احساس دلائیں۔ وہ رشتوں کیلئے ترسے ہوئے ہیں،” نور کے لہجے میں یہ سب کہتے وقت اتنی ہی تکلیف تھی جتنی کہ یوشع نے محسوس کی ہو گی۔
“جانتا ہوں! اور میں پوری کوشش کروں گا انہیں میری وجہ سے کوئی تکلیف نہ ہو۔ اور بڑے بھائی بڑے عظیم ساتھی ہوتے ہیں اور وہ تو ویسے بھی میرے دوست تھے، بھائی بن کر تو مزید پیارے ہو گئے ہیں۔ باقی جو اچانک سے انکشافات ہوئے، ان سب کو پروسیس کرنا میرے لیے مشکل تھا،” اوفق نے اپنی پریشانی بہن کو بتائی۔
“بھائی! یہ سب کے لیے ہی اچانک تھا لیکن یہ قسمت تھی اور ہم قسمت کے فیصلے بدل نہیں سکتے، بس ان سے سمجھوتا کر سکتے ہیں اور ماشاء اللہ سے میرے بھیا بہت سمجھدار ہیں، وہ یقیناً جلدی سمجھ جائیں گے،” نور نے مسکراتے ہوئے کہا۔
افق نے عقیدت سے اس کے بالوں پر لب رکھے۔
“تم کیا شوہر کی وکیل بن کر آئی تھی؟” افق کے شرارتی انداز میں کہنے پر وہ چھینپ گئی تو افق اس کے اس انوکھے روپ پر مسکرا دیا۔ اس کی شیرنی بہن کا یہ شرمیلا انداز انوکھا اور بہت پیارا تھا۔
وہ جب افق کے کمرے سے نکل ہی رہی تھی تو اس کی سکرین پر یوشع کا میسج چمکا: “چھت پر آؤ!”
وہ جب چھت پر آئی تو یوشع شال اوڑھے کافی پیتے ہوئے چاند کو دیکھ رہا تھا۔
“اِدھر آئیں!” کہتے ہوئے اس نے شال کا ایک پَلّو اس کے لیے پھیلایا تو وہ شرمیلے انداز میں مسکراتے ہوئے اس کے پہلو میں سما گئی۔
یوشع نے اس کے سرد ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر انہیں گرمائش پہنچائی۔
“رو لیں۔” یوشع کے کہنے پر نور نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“رو لیں۔ قَلب!” وہ نور کی نم آنکھیں نیچے دیکھ چکا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اسے رونے کے لیے بس ایک سہارے کی ضرورت تھی اور وہ اس کا سہارا بننا چاہتا تھا۔
یوشع کے اتنے پیارے انداز اور اپنائیت بھرے لہجے میں کہنے پر نور کے آنسو بے اختیار ہوئے، پھر اس کی ہچکیاں سرد، اداس شام کو مزید اداس بنا گئیں۔
“یوشع! بابا نے میرے سامنے دم توڑا تھا، وہ میرے سامنے خون میں لت پت پڑے تھے، میں کچھ نہیں کر سکی، میں۔۔۔ میں کچھ بھی نہیں کر سکی۔ ان ہاتھوں پر دیکھیں نا ان ہاتھوں پر ان کا خون لگا تھا،” یوشع نے اس کے ہاتھ پکڑ کر چومے “ان کی موت کے بعد ہماری اصل آزمائش شروع ہوئی تھی۔ افق بھیا تب یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے اور ہمارے واحد کفیل بابا ہی تھے اور ان کی موت کے بعد تمام رشتہ داروں نے رُخ موڑ لیا، جن کو ساری عمر کھلایا وہ بیگانے ہو گئے، بہت مشکل دن تھے وہ، پھر کسی نے ویسے لاڈ نہیں اٹھائے جیسے بابا اٹھاتے تھے، پھر میری شوخیاں مر گئیں، پھر میں اور بھیا بڑے ہو گئے، ہم پر ذمہ داریاں آن پڑیں،” سالوں کا غبار آج مَحرم کے سینے پر سر رکھ کر باہر آیا تھا۔ بے شک پاکیزہ رشتے زخموں کی دوا ہوا کرتے ہیں۔
یوشع کو اس کی سکون جاں کے دکھ بے سکون کر رہے تھے۔ “قَلب شاہ! سب پر آزمائش آتی ہیں، پر مجھے فخر ہے کہ میری قَلب نے اس کا صبر و بہادری سے مقابلہ کیا۔ بس اسے برا خواب سمجھ کر بھول جائیں،” اس کے رونے کی وجہ سے سُرخ آنکھوں کا محبت سے بوسہ لے کر مداوا کیا گیا اور چاند بھی ان دو اداس دلوں کو ایک دوسرے کے سنگ مسکراتے دیکھ مسکرا دیا۔
✩━━━━━━✩
“فاطمہ! ایک کب چائے تو کمرے میں دے جائیں،” حالانکہ یہ مِیسنا آدمی چائے پی کر آیا تھا پر جانتا تھا وہ ویسے کمرے میں نہیں آئے گی۔
مشکوٰۃ جب چائے لے کر کمرے میں گئی تو لاڈ صاحب بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے۔ اشعث نے کپ تھام کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھایا، پھر سر اس کے گود میں رکھ دیا۔
“آپ آج خوش ہیں؟” اس کا ایک ہاتھ تھام کر عقیدت سے آنکھوں کو لگایا۔ اس کے ہاتھوں کے لمس نے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی تھی۔ وہ ایسے ہی اسے اپنی روح کا سکون نہیں کہتا تھا۔ وہ اس کے لیے سراپا سکون تھی۔ اس کی قربت میں اس پر سکون وارد ہوتا تھا۔
“ہاں ناں شاہ جی! بہت!” اس کی خوشی کا اندازہ اس کی چہکتی آواز سے ہو رہا تھا۔ برسوں بعد اشعث نے اس کی کھنکتی آواز کو محسوس کیا تھا اور اس سے زیادہ خوشی اشعث نے محسوس کی تھی۔
“پر یار تھوڑی تو منتیں کرواتی! اتنی جلدی مان گئیں آپ تو،” اشعث نے منہ بَسُور دیا۔
“جو لوٹ کر آتے ہیں وہ پچھتاؤں میں گھر کر ہی آتے ہیں، انہیں مزید شرمندہ نہیں کروانا چاہیے اور اپنوں سے کون معافیاں منگواتا ہے؟” مشکوٰۃ کے سمجھداری سے جواب دینے پر اشعث نے محبت بھری نگاہوں سے اسے فدا فدا انداز میں دیکھا۔
“آپ بارش کے قطرے سے بنے شفاف موتی جیسی پاکیزہ ہیں،” دوپٹے سے نکلی اس کی سنہری لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے محبت سے کہا تو مشکات کے گال بے ساختہ گلابی ہوئے۔
“شاہ جی! آپ تھک گئے ہیں؟؟” اس کی تھکن سے سرخ آنکھوں کو دیکھ کر مشکوٰۃ نے فکر سے پوچھا۔
“جی شاہ جی کی جان! بہت،” اشعث نے تھکے سے انداز میں جواب دیا۔ وہ واقعی بہت تھک گیا تھا۔
پھر مشکوٰۃ نے دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانا شروع کیں تو اشعث نے سکون سے آنکھیں موند لیں۔
کچھ دیر بعد اس کی گہری ہوتی سانسوں سے اس کے سونے کا یقین کر مشکوٰۃ نے دھیرے سے اس کا سر اپنی گود سے اٹھا کر تکیے پر منتقل کیا۔ ماتھے پر بکھرے بال اپنے ہاتھوں سے سمیٹے۔ اس پر کمبل اوڑھایا، لائٹ آف کی اور ایک محبت بھری نگاہ اس پر ڈال کر دھیرے سے دروازہ بند کر کمرے سے نکل گئی۔
پیچھے اشعث آنکھوں سے مسکرا دیا۔
✩━━━━━━✩
“بھائی! گاڑی کی چابی چاہیے،” ضرار نے عنایہ کو پلٹ کر دیکھا۔ وہ ابھی یوشع کے ہاں سے واپس آئے تھے۔
“خیریت؟” چابی اسے تھماتے ہوئے پوچھا تو عنایہ نے نظریں چُرائیں۔
ضرار نے سمجھتے ہوئے گہرا سانس بھرا۔ “گارڈز لے کر جانا،” اسے ہدایت کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔
پھر عنایہ بِنا گارڈز لیے ہی گاڑی لے کر نکل گئی تھی پر ضرار نے گارڈز اس کے پیچھے بھیج دیے تھے۔
عنایہ کی گاڑی ایک بڑی عمارت کے سامنے رُکی جس کے داخلی دروازے پر جلی حروف میں “سینٹرل جَیل لاہور” لکھا چاند کی روشنی میں نظر آ رہا تھا۔ وہ پنجاب کی نامور کوٹ لکھپت جیل کے سامنے کھڑی تھی۔
کچھ دیر بعد قیدیوں کے لباس میں، سیاہ، کندھوں تک کٹے بالوں والی لڑکی اس کے سامنے بیٹھی تھی۔
“کیسی ہیں؟” عنایہ کے سوال پر وہ زخمی سا مسکرائی۔
“بےسکون!” کس قدر سکون سے اس نے یہ جواب دیا تھا۔
“ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا،” عنایہ کی پلکیں نم تھیں۔
“جس دن عاشقوں نے انجام کی پرواہ کرنا شروع کر دی، اس دن زمین سے عشق اٹھا لیا جائے گا،” آئرہ نے جتاتے ہوئے کہا۔
عنایہ کچھ دیر خالی آنکھوں سے اسے دیکھنے کے بعد اٹھ گئی۔
“وہ ٹھیک ہے؟” جاتی ہوئی عنایہ اس سوال پر ٹھہر گئی۔
“آپ کو کیا لگتا ہے؟” اس نے جواباً سوال کیا۔
“وہ بہت خوش ہے، کیونکہ اس کی تکلیف کے مجھے اِلہام ہوتے ہیں۔ جب وہ خوش ہوتا ہے تو میرے دل پرَ سکون نازل ہوتا ہے اور اس کی تکلیف کی چبھن میرے دل کو چھلنی کر دیتی ہے،” آئرہ کی حالت پر عنایہ نے ترحم آمیز نگاہوں سے اسے دیکھا، پھر کچھ بھی کہے بِنا وہاں سے نکل گئی۔
“میں خوار ہوئی ہوں، میں خاک ہوئی ہوں، پر اپنا خاک ہونا اور خوار ہونا مجھے دل کی عطا گہرائیوں سے قبول ہے کیونکہ یہ میرے عشق میں ملا صِلہ ہے اور عشق کے صلے معشوق جتنے ہی عزیز ہوتے ہیں،” آئرہ ہولے سے بڑبڑائی۔
✩━━━━━━✩
عنایہ نے جب شاہ وِلّا میں قدم رکھا تو زقیہ بیگم کی آواز نے اسے متوجہ کیا۔
“عنایہ! اِدھر آؤ!”
“جی!” اس نے ادب سے جواب دیا۔
“مجھے دادی کیوں نہیں بولتی! مجھے دادی بولا کرو نا!” بھیگے لہجے میں نہ جانے فرمائش کی گئی تھی یا التجا، عنایہ سمجھ نہ پائی۔
“بالکل! اگر میری دادی حیات ہوتیں تو تقریباً آپ ہی کی عمر کی ہوتیں۔ مجھے آپ کو دادی کہنے میں کوئی اعتراض نہیں، پر آپ جس انداز میں یہ فرمائش کر رہی ہیں وہ ناممکن ہے کیونکہ میں عنایہ حیدر ہوں، حیدر علی کی اولاد۔ باقی میں اگر شاہ وِلّا میں رہ رہی ہوں تو ضرار بھائی کے کہنے پر، ان کے مجھ پر احسانات ہیں، ان کی مجھ سے یہ گزارش تھی کہ میں چند دن آپ کی فرمائش پر آپ کے ساتھ گزاروں اور وہ چند دن پورے ہونے والے ہیں اور میں بہت جلد ہاسٹل شفٹ ہو جاؤں گی۔
اور سو جائیں دادی! رات بہت ہو گئی ہے،” عنایہ انہیں لاجواب کر پلٹ گئی تھی۔
پر زقیہ بیگم بے ساختہ رو دی تھیں۔ ان کی ضد اور انا نے خاندان بکھیر دیے تھے۔ کاش اگر وہ سلطان کے بڑھتے مظالم روک دیتی۔
✩━━━━━━✩
افق ناشتے کے بعد سے عجلت میں کسی فون کال کے بعد نکل گیا تھا اور اب لوٹا تھا تو اس کی سُرخ آنکھیں اور بکھرا حلیہ سب کو پریشان کر رہا تھا۔
“کیا ہوا ہے؟” نادیہ نے پریشانی سے پوچھا۔
“مما! مما اس کا رشتہ کہیں اور طے کر رہے ہیں اور وہ اپنے والدین کے خلاف نہیں جا سکتی! میرا کیا مما؟؟ مجھے اگر پتہ نہ چلتا تو وہ ایسے ہی خاموشی سے کسی اور کے ساتھ رخصت ہو جاتی،” وہ اس وقت ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا اور سب بے یقینی اور حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
“کیا کہہ رہے ہو یہ؟” مریم کا سکتہ ٹوٹا۔
“امی! میں اس سے محبت کرتا ہوں! میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر! میں آپ لوگوں کو بتانے والا تھا کہ پہلے نور کا اغوا اور پھر یہ سارے معاملات ہو گئے، موقع ہی نہیں ملا، امی! پلیز کچھ کریں نا!” اوفق بھی محبت میں مبتلا تھا۔حیران کُن!
“لڑکی کا نام کیا ہے؟” یہ پوچھنے والا یوشع تھا۔
“ضمائمہ!” افق نے دھیرے سے بتایا۔
“ضمائمہ حمید؟” یوشع نے تصدیق کی تو افق نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
“مما! اس کی کلاس فیلو اور میری جونئیر تھی، اچھی اور شریف لڑکی ہے، مجھے تو بات کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی،” یوشع نے بھائی کی سائیڈ لی تو افق نے تشکر آمیز نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“اچھا دیکھ لیتے ہیں، پر اس میسنے کو تو دیکھو! لڑکی سے بات ہوتی ہے تمہاری؟” مریم نے افق کے کان کو پکڑ کر مروڑا۔
“نہیں! میری کبھی اس سے بات نہیں ہوئی، وہ ایسی لڑکی نہیں ہے، پر اس کا کزن میرا اچھا دوست ہے تو اس سے ساری معلومات مل جاتی ہیں،” اس کے تڑپ کر صفائی دینے پر سب مسکرا دیے پر نور کا دل عنایہ کا سوچ کر اداس ہوا تھا۔
“چلو چلتے ہیں پھر بہو دیکھنے کسی دن!” نادیہ کے کہنے پر افق کھل اٹھا تھا اور باقی سب مسکرا دیے پر کسی کی بھی نظر دروازے پر کھڑے وجود پر نہیں پڑی تھی۔
عنایہ تو سب سے ملنے آئی تھی پر افق کے انکشافات نے اس کا دل کرچیوں میں بکھیر دیا تھا۔ پھر وہ بھاگتے ہوئے وہاں سے نکلی۔ اس نے بمشکل سانس لینے کی کوشش کی پر اسے سانس نہیں آ رہی تھی۔ وہ تو جیسے اوفق کے اظہار پر ہی تھم چکی تھیں۔
پھر اس نے نم پلکیں اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
” ثابت ہوا سلطان شاہ کے خون کے مقدر میں محبت کا حصول نہیں لکھا گیا۔ سلطان کی محبت کی بے قدری نے ان کی نسل سے محبتیں چھین لیں۔” عنایہ نے بمشکل اپنے جذبات سنبھالے تھے کیونکہ وہ شکوہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی۔
اوفق نے کبھی اس سے عہد و پیماں نہیں کیے یہ وہ خود تھی جس نے یک طرفہ روگ پالے۔ افق نے کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی پر عنایہ نے بڑھتے قدم نہیں روکے۔
اسے احساس ہو رہا تھا یک طرفہ محبت عذاب ہوتی ہے کیونکہ عذاب تنہا جھیلنے ہوتے ہیں۔
احد نِک سِک سا تیار گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا کہ اچانک اسے سڑک پر عنایہ کا گمان ہوا، اس نے فوراً گاڑی کو بریک لگائی اور گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اس کے قدم اس سیاہ عبایہ میں لپٹی، سوگوار اور زمانے سے رُوُٹھی لڑکی کے قریب جا کر رُکے۔ وہ خفا سی لڑکی جس کی چال میں شکستگی تھی پر قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہ تھی۔
“عنایہ!” احد نے آواز دے کر اس کے بڑھتے قدم روکے۔
نام کی پکار پر وہ جادوئی آنکھوں والی لڑکی احد کی طرف مُڑی۔ ہاں! اس کی آنکھیں جادوئی ہی تو تھیں جو دھوپ میں، آنسوؤں میں، خوشی میں رنگ تبدیل کر لیتی تھیں، پر اس وقت اس کی آنکھیں گہری بُھوری لگ رہی تھیں جیسے وہ کئی غم اپنی گہرائی میں دفن کر آنسوؤں پر بند باندھ چکی ہو۔
“چلو۔” احد نے مزید کوئی بات، مزید کوئی سوال کیے بنا، مختصر سی التجا مبہم سی امید کے ساتھ کہا۔
عنایہ چند لمحے اسے تکتی رہی، پھر تھکی ہوئی سانس خارج کر بِنا کچھ بولے اس کے پاس سے گزر کر گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
احد نے بھی قدم اس کے قدموں کے نشان پر رکھے، عنایہ خاموشی سے فرنٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی اور تھک کر سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موندھ لیں۔ وہ صرف فرار چاہتی تھی، سوچوں اور یادوں سے۔
احد نے خاموش نظر اس پر ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ وہ جان گیا تھا کہ وہ اداس ہے۔ بِنا اس کے بولے، بِنا اس کے جتائے۔
‘اب اگر محبوب بھی حال جتا کر بیان کرے پھر لعنت ہے احد صدیقی کی محبت پر۔’
احد صدیقی کا ہر لمحہ قیمتی ہوتا تھا مگر آج وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو پسِ پشت ڈال کر محبوب کے پہلو میں بیٹھا تھا۔
عنایہ حیدر اور احد صدیقی کا پہلا تنہا اور خاموش سفر۔
گاڑی کو رُکتے محسوس کر عنایہ نے دھیرے سے آنکھیں وا کیں اور سامنے آٹھ کونوں والی اینٹوں اور پلستر کی بنی ایک بڑے سے گنبد والی سفید عمارت پر نظریں اٹک گئیں۔ شاید سانس بھی سینے میں اٹکی تھی۔
“کیا تم جانتی ہو ہم کہاں ہیں؟” اس کو حیرت سے عمارت کو دیکھتا دیکھ احد نے سوال کیا تو عنایہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ ایک ایسی لڑکی سے اس عمارت کے متعلق سوال کر رہا تھا جس کے لیل و نہار عشق اور محبت کی داستانیں پڑھ کر گزرتے تھے، جس کا تعلق عشق کے شہر سے تھا۔
” وہ اسے مقبرہ انارکلی پر لایا تھا۔”
“جی! یہ ادھوری محبت کی قبر ہے،” عنایہ نے سنجیدگی سے جواب دیا تو احد بھی مدھم مسکرایا۔ وہ گاڑی سے نکل کر ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ پہلی بار وہ اور احد ہم قدم ہوئے تھے۔
“اُنہوں! ادھورے عشق کی۔۔۔ محبتیں تو مکمل ہوتی ہیں، ادھورا تو عشق رہتا ہے،” احد نے دھیرے سے اس کی تصحیح کی۔
“عشق مطلب عبادت؟” سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“عشق مطلب جنون،” احد نے ان سوالیہ نظروں کا جواب دیا۔
“جنون؟” شاید جواب سے اس کی تشفی نہیں ہوئی تھی
“ہاں جنون! یہ جنون ہی تو تھا جو انارکلی سلیم کے عشق میں دیوار کے پیچھے چنِی گئی”
کیونکہ انارکلی چاہتی تھی،” عنایہ نے وثوق سے کہا۔
“انارکلی موت چاہتی تھی! اگر وہ زندگی چاہتی ہوتی تو وہ سلیم کے والد کی بات مان لیتی لیکن اس نے عشق سے بے وفائی پر موت کو فوقیت دی۔ اسے پتہ تھا شہنشاہِ وقت کی بات سے انحراف مطلب موت ہے۔” عنایہ کی بات سمجھ کر احد نے سر ہلایا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سلسلہ کلام پھر سے جوڑا: “مجھے لگتا ہے لاہور کو شہرِ محبت اسی مقبرے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔”
“لاہور شہرِ محبت نہیں، شہرِ جفا ہے،” عنایہ نے عجیب سے لہجے میں کہا۔
“سیریسلی؟” احد کے لہجے میں بے پناہ احتجاج در آیا تھا اپنے لاہور کے خلاف بات سن کر۔
“جس کو آپ محبت کی علامت کہہ رہے ہیں، یہی تو چیخ چیخ کر بے وفائی کا اعلان کر رہی ہے۔ جس شہر میں جہانگیر نے انارکلی کا مقبرہ بنوایا، اسی شہر میں اس نے اپنی بیوی نور جہاں کے لیے باغات بنوائے اور اسی شہر میں انارکلی سے تین سے چار میل کے فاصلے پر جہانگیر اپنی بیوی کے پاس ایک عالی شان مقبرے میں مدفن ہے۔ انارکلی کی قبر محبت کی قبر ہے ایسی محبت کی جو مکمل نہ ہو سکی کیونکہ ہر محبت مکمل نہیں ہوتی۔ اگر شہرِ محبت کہلانے کا حق کسی کو ہے تو وہ جھنگ ہے، ہیر کا جھنگ یعنی عشق کا جھنگ۔ لاہور میں تو داستانیں پوری ہو کر بھی ادھوری رہ جاتی ہیں جبکہ جھنگ میں داستانیں ادھوری رہ کر بھی امر ہو جاتی ہیں!” احد ٹرانس کی کیفیت میں اسے سنتا جا رہا تھا۔
سامنے اس شام کی ہلکی سی دھند گنبد کے گرد ٹھہری ہوئی تھی۔ وہ اینٹوں کی دیواریں بھی جیسے اس ماضی کے عظیم ظلم پر چپ سادھے بیٹھی تھی۔ سردیوں کی اداس شام میں اس اداس عمارت کی بوجھل فضائیں ان کے کان میں چپکے سے سرگوشی کر گئیں
“یہاں محبت کی نہیں گئی، یہاں محبت سہی گئی ہے!”
مقبرہ انارکلی بھی ایک مغل بادشاہ جہانگیر یعنی انارکلی کے سلیم نے تیار کروایا تھا مگر یہ دوسری مغل تعمیرات سے مختلف لگتا ہے۔ اس میں ہر طرف سفید رنگ بکھرا نظر آتا ہے جو اس کو بیک وقت پاکیزہ اور حُزن کی علامت بناتا ہے۔
عشق کا رنگ لال ہے مگر یہ عمارت سفیدی کی چادر اوڑھے کھڑی ہے۔ یہ عمارت اول روز سے ہی سفید نہیں تھی، بلکہ برِ صغیر پر جب انگریز قابض ہوئے تو انہوں نے اسے چونے سے ڈھک کر اسے چرچ کا درجہ دے دیا اور انگریزوں کے تسلط کے بعد یہ عمارت دفتری امور کے لیے استعمال ہونے لگی۔ اب اس میں سے دفتر تو ہٹا لیا گیا ہے مگر یہ ابھی بھی محکمہ سیول سیکرٹریٹ کے زیر تسلط ہے۔
وہ عمارت کے اندرونی حصے میں آگئے تھے۔ اندر وسط میں کئی کرسیاں اور میز رکھی گئی ہیں اور دیواریں مختلف آرٹ پیسز خصوصاً پینٹنگز سے آراستہ ہیں۔ اور دوسری منزل پر بڑی بڑی الماریاں رکھی گئی ہیں۔ عمارت کا اندرونی حصہ کنول کے پھول جیسا معلوم ہوتا ہے۔ عمارت کے آٹھوں جانب بڑے بڑے محراب موجود ہیں اور روشنی کے لیے کئی کھڑکیاں ہیں۔
حالانکہ سیاحوں کا داخلہ صرف مخصوص اوقات میں جائز ہے اور صدیقی صاحب کی اکلوتی اولاد کا بھی شہر میں کوئی نام ہے۔
احد نے اپنے پہلے سفر کی منزل وہ عمارت چنی تھی جسے محبت کی علامت کہا جاتا ہے
اب واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا۔ یہ سفر بھی اس قدر ہی خاموش تھا جتنا کہ روانگی کا۔
“کہاں ڈراپ کروں؟” احد کے سوال پر عنایہ سوچ میں پڑ گئی۔ ‘گھر؟….’ گھر تو وہ ہوتا ہے جہاں باپ ہوتا ہے، ماں ہوتی ہے، بھائی بہن ہوتے ہیں۔ گھر صرف چھت اور چار دیواری کا نام تھوڑی ہے؟ گھر تو احساس ہے، سکون کا، تحفظ کا۔ مگر خیر! زمین پر چند اینٹوں کا مکان نہ سہی، زمین کے اندر تو ڈیڑھ گَز جگہ مل ہی جائے گی۔
ہوسٹل!” تمام سوچوں کو جھٹک کر مختصر انداز میں جواب دیا۔
کمبخت! یہ سردی کی شامیں اتنی اداس کیوں ہوتی ہیں؟ یوں لگتا ہے دل کی اداسی موسم میں سمٹ آئی ہو۔
احد نے خاموشی سے اُکتا کر سلسلہ کلام جوڑنا چاہا۔ “آج کا دن کیسا رہا؟”
“بوجھل۔” وہ صرف یک لفظی جواب کیوں دے رہی تھی؟ احد جھنجھلایا۔
“طبیعت ٹھیک ہے؟” احد نے پھر اسے کریدنا چاہا۔
امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے
بے ساختہ فیض احمد فیض صاحب کے قلم سے تراشے گئے چند الفاظ اس کی زبان سے پِھسلے۔ پھر اپنی بے اختیاری کا احساس ہوتے ہی جی بھر کر خود پر لعنت بھیجی۔ کیا ضرورت تھی حالتِ حال بیان کرنے کی؟ اس کے برعکس احد کے دل کی کیفیات عجیب سی تھیں۔ وہ اپنا آپ اس کے سامنے بیان کر رہی تھی، اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا ردِ عمل دے پر اس کی شرمندگی بھانپتے ہوئے وہ خاموش رہا تاکہ وہ آوکورڈ فیل نہ کرے۔
ہوسٹل آنے پر وہ دھیرے سے “فی امان اللہ” کہہ کر اتر گئی اور اس کے باحفاظت گیٹ سے اندر داخل ہونے کے بعد احد نے بھی گاڑی آگے بڑھا دی۔
آج کا سفر عجیب تھا مگر خوبصورت تھا شراکتوں سے پاک۔
روم میں انٹر ہوتے ہی عنایہ فریش ہوئی، کپڑے تبدیل کیے، نماز ادا کی اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔ جلد ہی نیند نے اسے اپنی آغوش میں لپیٹ لیا۔
وہ آج واقعی تھک گئی تھی۔ احد نے مقبرے کے بعد مزید ایک دو جگہ گھمایا، پھر ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں دونوں نے کھانا کھایا اور آف کورس عنایہ نے بل خود پے کیا تھا۔
احد نے اسے اتنا مصروف رکھا تھا کہ اسے فضول سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا، اور اب بھی وہ آتے ساتھ ہی سو گئی۔
✩━━━━━━✩
نئی صبح کا نیا سورج کئی نئی امیدیں سنگ لایا تھا۔
“یار! امی جلدی کر لیں، کتنا وقت ہو گیا ہے!” پورے لاؤنج میں افق کی جھنجھلائی آواز گونج رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی بادامی رنگ کی شلوار قمیض پر گہرا بھورا کوٹ پہنے، بال سلیقے سے جمائے بیٹھا یوشع اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“کیا ہو گیا ہے؟ بارات نہیں جانی تمہاری، صرف رشتہ دیکھنے جا رہے ہیں۔” کندھے پر شال درست کرتی نادیہ نے اسے گھرکا۔
“ہاں! تو ابھی سے آپ لوگوں کو ‘پالش’ کرنا پڑے گا نا تاکہ آپ لوگ بارات لے کر وقت پر نکلیں،” رف سے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس افق کافی اتاولا لگ رہا تھا۔
“بیٹا! ہاں تو ہو جائے، پھر بارات بھی نکال لیں گے،” یوشع نے اسے سُلگایا۔
ایک تو وہ تپا بیٹھا تھا کہ اسے ساتھ نہیں لے کر جا رہے، اوپر سے یہ انسان اسے مزید تپا رہا تھا۔
ایک تو پاکستانی قوانین بھی عجیب ہیں، سارا ٹبر جا رہا ہوتا ہے، بیچارے دولہے کو گھر چھوڑ کر،
نور جو ابھی باہر آئی تھی، سامنے بیٹھے یوشع کو دیکھ کر مسمرائز ہوئی۔ وہ اسے پہلے دفعہ مشرقی لباس میں دیکھ رہی تھی اور اس پہلے دیدار نے اس کی دھڑکنیں سر پر دوڑا دی تھیں۔ وہ بے حد حسین لگ رہا تھا۔
مغربی لباس میں مرد ہینڈسم لگتے ہیں جبکہ مشرق کے لباس میں حُسن کی تصویر۔
اسی طرح افق کو چھیڑتے ہوئے سب افق کا رشتہ مانگنے روانہ ہو گئے، نوراور افق گھر رُکنے والے تھے اور ضرار اور مفراہ نے انہیں راستے سے جوائن کرنا تھا۔
ضمائمہ کے والدین نے ان کا خوش دلی سے استقبال کیا۔ افق کا جو دوست ضمائمہ کا کزن تھا اس نے رشتے کی پیشکش حمید صاحب کے سامنے رکھی تھی۔ مثبت اشارہ ملنے پر ہی مریم لوگوں کو بلوایا گیا تھا۔ مریم اور نادیہ اور، مفراہ کو ضمائمہ پسند آئی تھی، مچیور اور سادہ سی سُلجھی ہوئی، افق کے مزاج کے مطابق۔
پھر وہ لوگ کچھ دیر وہیں ٹھہرنے کے بعد واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ حمید صاحب نے ضمائمہ سے اجازت لینے اور سوچنے کے لیے وقت مانگا تھا۔ وہ لوگ بھی ان کی طرف چکر لگانے کا ارادہ رکھتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں بھائی! تیار ہے محاصرہ کرنے کے لیے؟” یوشع نے ضرار کو چھیڑا تو اس نے آنکھیں دکھائیں۔
“میں نہیں ڈرتا کسی سے،” ضرار نے فخریہ کالر اُچکائے۔
“ہاں سوائے باپ کے بھائی کے،” مفراہ نے لقمہ دیا تو ضرار نے گردن موڑ کر اسے گھورا۔
وہ دونوں دیور بھابھی مِل کر اسے ٹھیک تپا رہے تھے۔
“قطعاً نہیں! جب بیٹا اتنے سال بعد گھر جاتا ہے نا تو مشرقی گھرانے خلوص و محبت سے اس کا استقبال کرتے ہیں،” ضرار نے بڑے بوڑھوں کی طرح سمجھایا۔
“ہاں جیسے ثمینہ آنی نے کیا تھا،” اب تِلی لگانے والا یوشع تھا۔ اس کا اشارہ ضرار کو پڑنے والے تھپڑ کی طرف تھا۔ یوشع کے چٹکلے پر محفل زعفران بنی۔
ان چُلبُلے کرداروں کو آنکھیں گھما کر نظر انداز کرو کیونکہ قصر شاہ میں اس سے بھی زیادہ مزیدار مناظر آپ کو دیکھنے کو ملیں گے جہاں صوفے پر ابراہیم شاہ اور ان کے سپوت مہاراجوں کی طرح پھیل کر لیٹے ہوئے ہیں۔ دونوں کے ہاتھ میں چائے تھا کا کپ جس سے وقفے وقفے سے چُسکیاں لی جا رہی تھیں اور نظر پینڈولم کی طرح ادھر ادھر بھاگتی اپنی بیویوں پر گھوم رہی تھی۔
“مشکوٰۃ! وہ کھیر گارنش کر کے فرج میں رکھ دی تھی؟”
“جی امی! رکھ دی تھی۔”
“آسیہ! کمرے صاف کروا دیے تھے؟”
“جی بی بی جی!”
ثمینہ بیگم کی آوازیں ہی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں جنہوں نے تمام ملازمین کو صبح سے گھن چکر بنا کر رکھا تھا۔ ابھی وہ مزید سب کی پریڈ کرواتی کہ باہر گاڑی رُکنے کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔
“ماں صدقے! آ گیا میرا بچہ!” وہ تو نہال ہوئی جا رہی تھی۔
“آسیہ! پھول پکڑا کے کھڑا کر سب کو اور تیل لے کر آ جلدی!” ثمینہ بیگم کا بس چلتا تو زمین سمیٹ کر بیٹے کے قدموں میں دھرتی۔
“اووووو! خدا کا واسطہ ہے امی! اتنا مہنگا پینٹ کروایا ہے میں نے، خدارا اپنے اس تیل والے شگن کے چکروں میں خراب نہ کر دینا! بھائی دیواروں پر کون سے پکوڑے تلنے ہوتے ہیں؟ عجیب!”
خاموش تماشائی محترم اشعث صاحب صدمے سے چیخ اٹھے کیونکہ پینٹ کا پیسہ باپ کی جیب سے نہیں اس کی جیب سے گیا تھا۔
“بکواس نہ کیا کرو! شگن ہوتا ہے یہ! اور آپ ابراہیم سائیں! یہیں بیٹھے رہیں گے؟ اتنے سالوں بعد بچہ گھر آیا ہے، اس کا استقبال نہیں کریں گے؟” اشعث کو جھاڑ پلانے کے بعد ان کا رُخ شوہر کی طرف تھا۔
“بچہ نہیں ہے، گدھے جتنا قد ہے اور ایک بچے کا باپ ہے! جن قدموں پر سالوں پہلے ہمارے سر چڑھ کر گیا تھا، انہیں قدموں سے واپس بھی آ سکتا ہے۔ ان چونچلوں کی ضرورت نہیں ہے بیگم،” ابراہیم صاحب نے سکون سے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر جواب دیا۔
“صحیح کہا بابا نے، That’s the spirit”اشعث نے مزید جوش دلایا تو جواباً اس کی سنہری گڑیا نے اپنی بڑی بڑی سنہری آنکھوں کو مزید بڑا کر اسے گھورا۔ اس کی گھوری پر اشعث واقعتاً چند پل کے لیے گڑبڑایا تھا۔ بھئی بیوی جتنی بھی معصوم ہو، ہوتی بیوی ہی ہے۔
“بھائی ملنے کے بعد زیادہ پر پُرزے نہیں نکل آئے آپ کے؟” اشعث نے ٹیکسٹ کیا کیونکہ باپ کے سامنے ان کی لاڈلی کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔
میسج کی ٹون پر مشکوٰۃ نے موبائل نکالا اور پھر میسج پڑھ کر اشعث کو دیکھ کر ناک سکیڑی جبکہ وہ تو اس کی ایٹیٹیوڈ پر داد دیتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا، اسے اس کا یہ روپ سیدھا دل میں اترتا محسوس ہو رہا تھا۔
“بیٹھے رہیے یہیں پر آپ! چلو مشکوٰۃ بچے، بھائی کو خوش آمدید بولیں،” ان کو ٹس سے مَس نہ ہوتے دیکھ کر ثمینہ بیگم انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر چلی گئیں۔
“سکینہ بیٹا! فوراً بھاگ کر دیواروں پر ایلیمنیشن پیپر چڑھاؤ، تیل کے داغ نہ لگ جائیں،” آخر شاہ جی کے پیسے لگے تھے،
ضرار ایک بازو میں سوئے ہوئے ریان کو اٹھائے اور دوسرے بازو کے حلقے میں مفراہ کو تھامے جب قصر شاہ میں داخل ہوا تو اس پر پھولوں کی بارش کی گئی، چھوٹے چھوٹے بچے جو کہ شاید ملازمین کے تھے وہ پھولوں کی تھالیاں اٹھائے کھڑے تھے۔ ضرار کی آنکھیں نم تھیں، اتنے سالوں بعد وہ اپنے گھر لوٹا تھا۔ وہ گھر جہاں اس کا بچپن گزرا تھا، جہاں اس کے والدین کی خوشبو تھی۔
ضرار نے آگے بڑھ کر بڑی امی کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر باری باری چوما، پھر اپنی چھوٹی بہن کو سینے سے لگایا، دونوں کے دل میں ٹھنڈک اتری تھی۔ ضرار نے عقیدت سے ہونٹ اس کے ڈھکے سر پر رکھے۔ ابراہیم صاحب کو وہاں نہ دیکھ کر اسے حیرت نہیں ہوئی تھی، وہ جانتا تھا وہ خفا ہوں گے اور رہا اشعث، وہ تو تھا ہی کمینہ۔
ضرار سے مِلنے کے بعد ثمینہ نے اپنے پوتے اور بہو پر محبت لُٹائی، پھر نادیہ اور مریم سے مِلنے کے لیے آگے بڑھیں۔ یوشع اور عنایہ (جسے یوشع ابھی تھوڑی دیر پہلے یونیورسٹی سے لایا تھا) دونوں کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔
پھر بڑی امی نے اشعث کے پیسے سے ہوئے پینٹ کا بیڑا غرق کرتے ہوئے تیل کی کٹوری بھر کر مہمانوں کے گھر میں داخل ہونے پر دہلیز پر انہیں دی۔ ہاں! اب ہوا نا صحیح سے استقبال۔۔۔۔
کئی جذبات خود میں اتار کر ضرار نے قدم اندر بڑھائے۔ کئی مناظر نگاہوں کے سامنے فلم کی طرح گھومے: ضرار کے پیچھے دودھ کا گلاس تھامے بھاگتی ہوئی زلیخہ، ہارون کے دونوں بازوؤں سے لٹک کر جھولتے ہوئے ضرار اور اشعث، ماں باپ کی سفید کفن میں لپٹے چہرے، ان کی صحن میں پڑی لاشیں… کیا کچھ نہیں تھا جو یاد آیا تھا اس کو۔
اسے لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھ ابراہیم صاحب خفگی کے اظہار کے طور پر وہاں سے جانے لگے جب ضرار دوڑ کر آ کر ان کے گلے میں بازو حمائل کر گیا۔ اس کے گرم آنسوؤں کا لمس ابراہیم صاحب کو اپنے کندھے پر محسوس ہوا، انہوں نے نہ اس کے گرد حصار قائم کیا نہ ہی اسے جھٹکا۔
“بڑے بابا! معاف نہیں کریں گے؟” ضرار نے گُلو گیر آواز میں انتہائی جذباتی انداز میں پوچھا۔
“تم نے معافی مانگی؟” ایک ابرو کو اٹھا کر انہوں نے جتاتے ہوئے لفظ ادا کیے۔ آخر وہ اس کے باپ کے بھی بڑے بھائی تھے۔
ان کے جواب پر سب نے حیرت سے انہیں دیکھا، جبکہ احد کا دل کیا سیٹیاں تالیاں بجا کر باپ کو داد پیش کرے۔ جو اس مکار کی اداکاری میں نہیں آئے تھے اور جھٹکا تو ضرار کو بھی لگا تھا۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ ایموشنل کارڈ کھیل کر بچ جائے گا پر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو گیا۔
“بڑے بابا! میں مانتا ہوں میرا فیصلہ بے وقوفی بھرا تھا پر میں کم عمر تھا، میری سمجھ میں جو آیا میں نے وہی ٹھیک سمجھا اور اس پر ہی عمل کیا۔ میں جانتا ہوں میرے اس فیصلے نے میرے سب اپنوں کو بہت تکلیف دی ہے پر سکون میں تو میں بھی نہیں تھا۔ میں کتنے سال بابا کی اس خوشبو سے محروم رہا جو آپ سے آتی ہے، میں مما کے عکس، اپنی فاطمہ سے دور رہا۔ خود کو اور اپنے اپنوں کو ہجر کی تکلیف دینے پر میں آپ سے معافی مانگتا ہوں،” جھکی گردن کے ساتھ ضرار نے اعتراف کیا، معذرت کی۔
ضرار کے الفاظ نے سب کے زخم ادھیڑے تھے۔ ابراہیم شاہ کا مصنوعی، تعمیر کردہ خول چٹخا، انہوں نے آگے بڑھ کر خود سے اونچے، جوان سالہ بیٹے کو گلے لگایا جس کو کبھی باہوں میں کھلایا تھا۔
یوسف لوٹ آیا تھا یعقوب کی بینائی بن کر۔
ضرار جب سے آیا تھا مشکوٰۃ اس کے کندھے سے لگ کر بیٹھی تھی اور اس کے شاہ جی جل بھن کر کوئلہ ہو رہے تھے۔ نور اور افق نے بھی انہیں جوائن کر لیا تھا۔
افق کے چہرے پر الگ ہی چمک تھی محبت کو پانے کی اور عنایہ کا چہرہ مُرجھایا ہوا تھا، بالکل اس پھول کی طرح جس کی تمام پتیاں بکھر جاتی ہیں۔ وہ بھی تو ایک بکھرا ہوا پھول تھی۔
نور عنایہ کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔ اس نے عنایہ کو افق کے رشتے اور محبت کا بتا دیا تھا، جس پر جواباً وہ صرف زخمی سا مسکرائی تھی۔ اس نے محبت پر ماتم کی مدت مکمل کر لی تھی، اور نور بِنا کچھ بولے صرف اس کے پاس بیٹھی تھی۔ ان کا رشتہ بہت انوکھا تھا، وہ لمبے مکالمے ایک دوسرے کے حق میں نہیں کہتی تھیں، بہت گہری الفاظی تسلیاں نہیں دیتی تھیں، صرف ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر بیٹھ کر اپنے لَمس کی تاثیر سے ساتھ کا یقین دلاتی تھیں۔
سب چھوٹی موٹی باتوں میں مصروف تھے جب مفراہ کے سینے سے لگ کر سوئے ہوئے ریان نے آنکھیں کھول کر وہاں بیٹھے افراد کے چہرے غور سے دیکھے۔ پھر اپنا پسندیدہ چہرہ نہ پا کر زور و شور سے رونا شروع کر دیا۔ اس کو روتے دیکھ کر مفراہ اور ضرار نے بے بسی بھرا گہرا سانس بھرا۔ وہ صبح سے ہی ایک ہی ضد لگائے بیٹھا تھا، اب تو اس کو بخار بھی ہو رہا تھا۔
“کیا ہوا بوا کے شہزادے کو؟ اِدھر میرے پاس آؤ،” مشکوٰۃ نے لاڈ سے اسے پچکارا۔ پر آج حیرت انگیز طور پر وہ اس کی بات بھی نہیں سن رہا تھا۔
“مجھے آئرن سے ملنا ہے، مجھے آئرن کے پاس لے کر چلو بابا! آئرن چاہیے آئرن!!!!!!!” وہ بچہ اس قدر تکلیف سے چیخ چیخ کر رو رہا تھا کہ سب کا دل مٹھی میں آیا۔سب اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھے تھے سوائے یوشع کے۔ وہ جانتا تھا آئرن سے اس کی مراد کون سی شخصیت ہے اور اس کو سوچ کر اس نے کرب سے آنکھیں میچیں۔
آئرہ سلطان شاہ! اس کا عظیم پچھتاوا تھی۔ حالانکہ وہ دیوانی تو اس کی محبت بَننے کی خواہشمند تھی، پر خواہشیں پوری تھوڑی نہ ہوتی ہیں۔ بعض حسرتیں بن جاتی ہیں اور بعض… بعض مرض۔
“آپ ملوا دیں نا ریان کو اس سے، بہت اٹیچ تھا اس کے ساتھ،” یوشع نے تکلیف دہ انداز میں کہا۔
کیا تھی وہ لڑکی جس کے اعمال قابل نفرت تھے، پر اس سے نفرت نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک معصوم اور ننھا سا وجود اس کی چند دنوں کی جدائی پر تڑپ اٹھا تھا۔ اور یوشع کے چہرے پر پھیلے کرب اور اس کی بات سن کر نور کو سمجھ آ گئی تھی کہ کس کا ذکر ہو رہا ہے۔
“کیا جیل کا ماحول ایسا ہے کہ اپنے بچے کو وہاں لے کر جاؤں اور اسے سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر جو ہے مجھ سے سوال کرے گا، اس کے کیا جواب دوں گا؟ بچہ ہے، کچھ دن ضد کرے گا پھر ٹھیک ہو جائے گا،” ضرار نے بے بسی سے کہا۔ حالانکہ بیٹے کی حالت دیکھ اور آئرہ کا ذکر سن دل تکلیف سے پھٹ رہا تھا۔ وہ مشکوٰۃ سے بھی زیادہ اس کے قریب تھا کیونکہ آئرہ نے سارا بچپن اس کے سامنے گزارا تھا۔ اس کی بہن تھی جو کہ آج ایک مجرم تھی، جسے ہتھکڑی لگانے والے ہاتھ اس کے اپنے تھے۔
عنایہ خاموشی سے ریان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور پیار سے اس کے گالوں پر ہاتھ رکھ کر اس کے آنسو صاف کیے۔
“یہ پیارا سا پرنس کیوں رو رہا ہے؟”
“آئر۔۔۔ آئرن کے پاس۔۔۔ جانا،” ہونٹ مروڑ کر معصومیت سے جواب دیا۔ رو رو کر اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
“اوہ پر آئرہ تو سیکرٹ مشن پر ہے اور پتہ ہے؟ وہ کہہ رہی تھی کہ ریان بےبی بہت بریو ہے۔ دیکھنا وہ جب مجھے مِس کرے گا نا تو وہ بالکل نہیں روئے گا بلکہ میرے لیے دعا کرے گا،” عنایہ نے انتہائی شفقت سے اسے بہلایا اور واقعی ریان کا رونا بھی تھم چکا تھا۔
“پر میں آئرن کا بی بی نہیں ہوں، ‘ٹڈا’ ہوں،” اسے اعتراض ہوا تھا اس طرز تخاطب پر کیونکہ آئرن اسے ‘ٹڈا’ ہی تو بولتی تھی۔ اس کی بات پر بجائے مسکرانے کے، عنایہ نے نم آنکھوں سے اسے گلے لگا لیا۔ ان آنسوؤں کو ان بھوری آنکھوں سے باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔
“آئرہ جلد ہی آپ سے ملے گی،” اس نے پیار سے ریان کے بال سہلائے۔
“کب ملے گی؟” معصومیت بھرا سوال۔
“جب ریان کو سب سے زیادہ آئرہ کی ضرورت ہو گی،”
“سچی ؟؟؟”
“مُچی” اس نے اس ننھے سے دل کی امید کو ٹوٹنے نہیں دیا تھا۔
“میں اب روؤں گا نہیں دعا کرو گا”
بالکل میری جان اللہ جی سے دعا کرنی ہے ” عنایہ نے اس کے بال سہلائے۔
اب ریان بھی پرسکون انداز میں اس کے کندھے پر سر رکھ کر اس کے گلے میں بازو حمائل کر گیا۔ شاید اسے عنایہ سے آئرہ کی خوشبو آ رہی تھی۔ وہ عنایہ میں آئرہ کو تلاش کر رہا تھا۔ مفراہ اور مشکوٰۃ نے دو تین دفعہ اسے تھامنے کی کوشش کی پر وہ ضدی انداز میں مزید عنایہ سے چپک جاتا جس پر عنایہ نے پلکیں جھپکا کر سب کو تسلی دی اور اسے تھام کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے کندھے سے لگا لگا ہی سو گیا تھا۔ عنایہ نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔ یہ بچہ اسے اپنی شفا لگا تھا۔
✩━━━━━━✩
سب نے ساتھ کھانا کھایا اور اب ساری ینگ پارٹی چھت پر آگ جلائے شالیں اوڑھے سردی انجُوائے کر رہے تھے جبکہ بڑے سب نیچے تھے۔ احد صاحب بھی بن بلائے مہمان بن کر وہیں تشریف فرما تھے۔
“کیا منہ بنا کر بیٹھنے آئے ہو سب کچھ کر لو!” احد نے منہ بنا کر کہا۔
“چل ناچ کر دکھا! میری بسنتی” اشعث نے باقاعدہ دونوں ہاتھ اس کے چہرے پر پھیر کر اسے اپنے محبوبہ کی طرح پچکارا۔ جس پر احد نے تپ کر اس کے کندھے پر مُکہ جڑا۔
عنایہ بھی دھیما سا ہنسی تھی جس کی آواز احد کے کانوں میں سکون بن کر اتری۔
“مما! نیندو!” محفل شروع ہونے سے پہلے ہی ضرار کے شہزادے کو نیند آ گئی تھی۔ بیچارے ماں باپ بچوں کے بعد کوئی محفل ٹھیک سے انجُوائے ہی نہیں کر سکتے۔
“ریان تو افیم کھاتا ہے کیا؟ سارا دن سوتا رہا ہے، اب پھر سونا ہے؟” یوشع نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا حالانکہ وہ جانتا تھا اس کی طبیعت خراب ہے۔
اور چونکہ ہمارا ننھا سا شہزادہ ذرا بخار کی وجہ سے سست تھا ورنہ ٹھیک طریقے سے کرارا جواب دیتا۔
“جی! مما کا بیٹا! چلو،” مفراہ نے پیار سے اس کا گال چوما اور لے کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“بابا! اٹھاؤ!” اس نے بازو ضرار کی طرف پھیلائے۔ مطلب ماں اور باپ سوتے وقت ساتھ چاہیے تھے۔
“ہاں میرا بچہ! لے جا اسے پُر روتی کو ساتھ،” اشعث جو احد پر آدھا گرا ہوا تھا، ریان کو فلائنگ کِس پاس کرتے ہوئے بولا۔ جس پر ضرار نے اسے اگنور کرنا ضروری سمجھا۔
مفراہ اور ضرار ریان کو سلانے کے لیے نیچے لے گئے۔
“اب اگر آگ ہی سینکنی ہے تو وہ کچن میں جا کر سینک لو، چھت پر بیٹھے ہو تو کوئی انجُوائے منٹ ہی کر لو!” احد نے پھر توجہ ایک اہم مسئلے کی جانب مبذول کروائی۔
“کیا کریں؟ تو ہی بتا دے،” یوشع نے یہ اہم ذمہ داری وکیل صاحب کو سونپی۔
“شاعری!” چند لمحے سوچنے کے بعد احد جوش سے بولا۔ “مطلب یوں کہ سب کوئی نہ کوئی شعر سناؤ۔ سردی کی شام، چھت کا منظر، جلتی شمع، چائے کا کپ، (محبوب کا ساتھ) ماحول تو خود ہی شاعرانہ ہے،” آخری جملہ دھیرے سے خود سے کہا ورنہ دونوں سالوں سے مار کھانی تھی۔
“ہاں! یہ ٹھیک ہے،” نور کا ووٹ احد کے حق میں آیا اور جہاں نور، وہاں یوشع۔
“چلیں شاعرانہ وکیل صاحب، شروع بھی آپ کریں،” اشعث نے کہا۔
۔
اشعث نے اپنی شال اتار کر مشکوٰۃ کو اوڑھا دی کیونکہ خنک ہوا چلنے لگی تھی۔ وہ تو اچھی خاصی موٹی جیکٹ پہنے بیٹھا تھا، پر مشکوٰۃ ہلکے سے سویٹر میں ملبوس تھی، اس کی سب کے سامنے اس حرکت پر وہ شرمندہ ہو گئی تھی۔ گال بے حد سرخ ہو گئے تھے۔
یوشع سالے صاحب کے سامنے یہ حرکت تو نہیں کر سکتا تھا، پر چپکے سے نور کا ایک ہاتھ تھام کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال کر اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھا دیں۔ نور نے حیرت سے اس کی حرکت کو دیکھا، پھر دھیرے سے مسکرا دی۔
“ضرور! ضرور! تو عرض کیا ہے!” احد تو گویا تیار بیٹھا تھا
“ارشاد! ارشاد!” سب ایک ساتھ بولے۔
لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز کے ساتھ خاموش، سرد رات کی فضا میں احد کی آواز کا سحر بکھرا۔
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مُچ کے مے خانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو
دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے ‘ہو’
بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے ‘ہو’
جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی
گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچا ‘ہو’
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا ‘ہو’
اس کی آواز کا سحر اور الفاظ کی تاثیر سیدھا دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی، پر عنایہ کا دل تو کانوں میں دھڑک رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ الفاظ بیان ہی اس کے لیے کیے جا رہے ہوں۔ اس پہ تضاد احد کی نظریں جو لمحہ بھر کے لیے بھی اس پر سے نہیں ہٹی تھیں، وہ حالت مزید غیر کر رہی تھی۔
“کمال!” یوشع کے تعریف کرنے پر احد نے سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا جھکتے ہوئے داد وصول کی۔
“تیری باری اشعث!” احد نے یوشع کو میدان میں اتارا تو وہ مسکرا دیا اور نظریں اپنے پہلو میں بسی اپنے شریکِ حیات، اپنی محبت کے چہرے پر ٹکائیں۔ وہ گردن موڑے فقط ان سرمئی آنکھوں کو نظروں میں بسا رہا تھا۔
نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں
اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں
چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو
اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں
اس کو پہلو میں بٹھا کر اسے تکنے کا نشہ
کس قدر ہو گئیں چہرے پہ ضروری آنکھیں
اس نے تحسین کے لیے وہ سرمئی آنکھیں چُنیں جنہوں نے اسے محبت کی ڈور میں باندھا تھا۔ اس کی تعریف پر نور کے چہرے پر چاہے جانے اور سراہے جانے کی لالی دوڑ گئی۔
یوشع کے شعر پر سب نے معنی خیزی سا “اوہو” کہا تو وہ گردن جھکا کر دِلکشی سے ہنس دیا۔ نور کے ہاتھ پر گرفت مضبوط ہوئی۔
اب کے سب کا رُخ اشعث کی جانب تھا، اس کی نظریں بے ساختہ مشکوٰۃ کے چہرے پر پھسل گئیں، اس نے حجاب اوڑھ رکھا تھا، تو ایک پہرہ دار چُھپا ہوا تھا۔ پر اشعث کو تو اس کے چہرے کا ایک ایک نقش حِفظ تھا۔ وہ گھنٹوں اسے تکا کرتا تھا۔ اس کو سب سے دلکش وہ چھوٹا سا تِل لگتا تھا جو مشکوٰۃ کے بائیں رُخسار پر، آنکھ سے ذرا نیچے تھا۔ کچھ سالوں پہلے سُنے چند الفاظ کانوں میں گونجے
اب میں سمجھا تیرے رُخسار پر تِل کا مطلب
دولتِ حُسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے
“مجھے کہاں شعر و شاعری آتی ہے یار! بندہ وندہ پیٹنا ہے تو بتاؤ،” اشعث نے سہولت سے انکار کیا۔ اسے گوارا نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی کے حسن کو یوں سرِعام بیان کرے۔
“دفعہ ہو ایڈا توں جون سینا،” احد نے کرارہ سا جواب دیا۔ اس کے انکار پر دوبارہ کسی نے اسے زیادہ فورس نہیں کیا تھا۔
اب کے نور کی باری تھی۔
خواہش تو یہی ہے کہ محبت نہ کریں
پھر سوچتے ہیں کہ یہ نشہ بھی چکھا جائے
موضوع گفتگو اگر حُسن ہو تو پھر لازم ہے کہ
سر فہرست ہی اس کو رکھا جائے
اب تو آنکھوں میں تیرا عکس پہچاننے لگے ہیں لوگ
ضروری ہے کہ نینوں کو جھکا کے رکھا جائے
مجھ سے میرے اپنے بچھڑ گئے ہیں سبھی ‘اَلم’
کوشش ہے کہ تجھ کو بچا کے رکھا جائے
“واہ بھئی!” عنایہ نے معنی خیزی سے اسے ٹہوکا مارا
“ہن تاڈی واری،” احد نے عنایہ سے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
مرتا ہوں خاموشی پر
یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے
ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں
عُزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے
کانٹا نکل گیا ہو
لذتِ سرود کی ہو
چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کے شور شوں میں
باجا سا بج رہا ہو
گل کی کلی چٹک کر
پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا
مجھ کو جہاں نما ہو
ہو ہاتھ کا سرہانہ
سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت
خلوت میں وہ ادا ہو
عنایہ کے بیان کی گئی غزل پر سب نے اسے سراہا، پر کسی نے یہ الفاظ دل پر نقش کر لیے تھے۔
اب کے باری تھی شاہ جی کی فاطمہ کی ۔
اس پہ اترتے ہیں صحیفے عشق و محبت کے
وہ پیکر حُسن و جمال بھی ہے
وہ دھوپ بھی ہے وہ چھاؤں بھی ہے
وہ دشت میں موسمِ برسات بھی ہے
ٹھیک ہے ہوگا وہ شہزادہ سلطنتِ حُسن کا
ہماری سادگی کے چرچے زبان زدِ عام بھی ہی
(۔۔۔۔۔۔۔اَلم۔۔۔۔۔۔۔)
مشکوٰۃ نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے نظریں جھکا کر دھیرے سے شعر کہا جس پر عنایہ اور احد نے ہُوٹنگ کی جبکہ باقی سب نے تالیاں بجائیں اور شاہ جی تو اپنی فاطمہ پہ سو سو جان قربان جا رہے تھے۔
دعا ہے کہ ایک دعا مقبول ہو جائے
مجھ سا عاشق تیرے عشق میں مقتول ہو جائے
مانا کہ اس نوازش کے قابل نہیں ہوں میں
کیا کمال ہو جو تیرا حصول ہو جائے
نگاہوں سے اظہار و اقرار بہت ہوا اب
کیوں نہ زبان سے بھی قبول ہو جائے
(اَلم)
اوفق کے شعر پر عنایہ سمیت سب نے اس کی آرزو کی تکمیل کی دعا کی تھی۔ اسی طرح فضا ان کی کِھلکھلاہٹوں کی گواہ بنی۔
✩━━━━━━✩
“اب کیا کرنا ہے آگے؟” محسن نے اپنی سرپھری بی بی جی سے دریافت کیا۔
“محسن! چڑیا گھر گئے ہو کبھی؟ وہاں شیر پنجرے میں قید ہوتا ہے مگر پھر بھی اس کے پنجرے کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہوتی کسی کو، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ شیر شکار کرنے میں ماہر ہے۔ وہ شکار دبوچ لیتا ہے چاہے اسے کتنی ہی سلاخوں میں قید کیوں نہ کر لو۔ اور جانوروں کی خصلتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ جب بڑے ہو جائیں نا تو سب سے پہلے اپنے آشیانے سے اپنے باپ کو باہر پھینک دیتے ہیں، اور میں بھی ایک جانور ہوں اور جانور خصلتیں تبدیل نہیں کرتے،” اس کا چہرہ اس وقت دُھتکارے ہوئے شیطان جیسا لگ رہا تھا۔
اور محسن کا کام مشورہ دینا نہیں تھا، صرف جی حضوری کرنا تھا۔
“اس سے کہنا ایک بار آ کر مجھ سے مل جائے، بس ایک آخری بار،” اس دیوانی کے لہجے کی تڑپ پر محسن نے ترحم سے اس مریضِ عشق کو دیکھا۔
“آپ نے خود کو ضائع کر لیا،” محسن نے دھیرے سے افسوس سے کہا۔
“مجھے میرا یہ نقصان دنیا کی فتح سے بھی زیادہ عزیز ہے،”
وہ سچ میں دیوانی تھی، ہے نا
✩━━━━━━✩
عنایہ نور کے گھر کی چھت پر کھڑی ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھ رہی تھی، تھوڑی دیر پہلے ہی افق کے سسرال والے آئے تھے اور رشتے کے لیے ہاں کر گئے تھے ۔یقیناً جلد ہی نکاح اور شادی کی تاریخ طے ہو جاتی۔ اپنے ساتھ کسی کی موجودگی محسوس کر دھیرے سے گردن موڑی تو افق کو برابر میں کھڑا پایا۔
“کیا مجھے معذرت کرنی چاہیے؟ ایک معصوم دل توڑنے پر؟” اس نے اپنے ایک ہی جملے سے آشکار کر دیا تھا کہ وہ اس کے جذبوں سے بے خبر نہیں ہے۔
اس کی بات پر عنایہ ہنسی۔
“آپ قصوروار ہی نہیں ہیں، یہ سب یک طرفہ تھا اور پتہ نہیں محبت تھی بھی یا نہیں، میں نے آپ میں بابا جان کا عکس دیکھا تھا، جیسے آپ میری فیملی کا خیال رکھتے تھے نا بِنا جتائے، ویسے ہی حیدر بابا جان امی لوگوں کا رکھتے تھے۔ مجھے لگا اگر بابا کی پرچھائی مجھے مل جاتی تو میں شاید امی کی طرح رسوا نہ ہوتی۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ میں آپ کا نصیب نہیں ہوں، آپ کا اور میرا مزاج مختلف تھا، آپ میں ضد ہے اور مجھ میں انا اور
انا پرست عورتیں ضدی مردوں کے گھر نہیں بستیں،
پھر میں نے اپنے فیصلے سے دستبرداری دے دی۔ اس سارے قصے میں صرف میں تھی، آپ نہیں تھے۔ اس لیے آپ کا معذرت کرنا نہیں بنتا اور شاید صبر کرنا بہت پہلے سیکھ لیا تھا تو اب تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ اس لیے چل کر آپ کھانا کھائیں،” عنایہ نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
اور واقعی اس کا دل بوجھل نہیں تھا، اس کی نگاہیں ٹھنڈی تھیں۔ وہ دل سے افق اور اس کی محبت کے لیے دعا گو تھی۔ افق کو بھی اس کی بات پر دل سے بوجھ اُترتا محسوس ہوا۔
اور یوشع میاں جو سب کے ساتھ ہی جھنگ آئے تھے، اب افق کی شادی کے ساتھ ہی اپنی رخصتی کا سُن کر، اس کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ وہ سرشاری کے انتہا درجے پر تھا۔ جلد ہی اس کی محبت مکمل طور پر اس کی دسترس میں ہو گی۔ مسکراہٹ اس کے چہرے سے جدا نہیں ہو رہی تھی اور مریم بیٹے کی مسکراہٹ کے صدقے واری جا رہی تھی۔
شادی ایک ماہ بعد رکھی گئی تھی اور تیاریاں آج سے ہی شروع تھیں۔
فون کی آواز پر یوشع اس طرف متوجہ ہوا۔
“ہیلو!” محسن کی آواز بِیکر سے ابھری۔
“ہمممم،” یوشع نے گہرا سانس بھرا۔
“بی بی جی آپ سے ملنا چاہ رہی ہیں،” اس نے مختصر انداز میں مدعا بیان کیا۔
“ٹھیک ہے،” کہتے ہی یوشع نے فون کاٹ دیا۔
“السلام علیکم بابا!” یوشع کی آواز نے کبیر ارشاد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔
“وعلیکم السلام میری جان! مبارک ہو ہونے والے دولہے میاں۔” کبیر نے اسے خفیف سا چھیڑا تو وہ خوش دلی سے دل کھول کر مسکرا دیا۔
شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے چھوٹی سی تقریب رکھی گئی تھی جس میں احد نے کبیر شاہ کو ویڈیو کال کے ذریعے کنیکٹ کر رکھا تھا اور وہ بیٹے کے چہرے کی سچی مسکراہٹ دیکھ کر اسے ابدی رہنے کی دعا دے گئے تھے۔ (ہاں جی! ایسا ہو سکتا تھا کہ شاہ برادرز کی تقریب ہو اور وکیل صاحب شریک نہ ہوں؟) پوری شاہ فیملی ابراہیم صاحب، ثمینہ بیگم، مشکوٰۃ، اشعث، ضرار، مفراہ اور ریان جھنگ میں موجود تھے۔
“خیر مبارک بابا!” وہ واقعی خوش تھا، بے حد خوش۔ طویل انتظار کے بعد تو خزاں زدہ زندگی کو بہار نصیب ہوئی تھی۔
پھر مزید ایک دو باتیں کر کے اس نے فون رکھا اور جیسے ہی مڑا، نظریں بے اختیار چھت پر کھڑی خود کو تکتی نور پر جا ٹکیں۔ وہ کافی دیر سے اس پر نظریں جمائے ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی ان دونوں کی رسم ہوئی تھی اور اب سب نے افق کے سسرال دن طے کرنے جانا تھا۔
ا
اس نے آج پھر سرمئی شلوار قمیض پر سیاہ اجرک اوڑھ رکھی تھی۔ کمبخت دل ہتھیلی پر دھڑک رہا تھا۔ شاید وہ کسی خاص تقریب پر ایسا حسین اہتمام کیا کرتا تھا۔
نور نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کا ہالہ بنا کر ہوا میں لہرایا اور نظروں سے پیغام دیا کہ “میرے ذاتی حسین” لگ رہے ہیں۔
اس تعریف پر یوشع نے بازو کو رول کر کے سینے پر رکھا اور اس کے سامنے جھکتے ہوئے جیسے تعریف وصول کی تھی یا اسے واقعی اس کا “ذاتی حسین” ہونے کا اشارہ دیا تھا اس کے انداز پر وہ کھل کھلا کر ہنسی تو اس کی یہ شفاف ہنسی اپنے دل میں بساتے ہوئے، وہ گردن جھکا کر دلکش سانس دیا۔ زندگی خوبصورت ہو گئی تھی۔
✩━━━━━━✩
“آنی! اچھا میں گھر کا چکر لگا آؤں.۔۔” سب کے درمیان بیٹھی عنایہ اچانک سے کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔ اس نے یہ بات نارمل انداز میں کی تھی پر پھر بھی سب افسردہ ہو گئے تھے۔
“چلو، میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔” نور نے اس کے ساتھ چلنا چاہا تو عنایہ نے منع کر دیا۔
“نہیں یار! تم بیٹھو، میں تھوڑی دیر میں آ جاتی ہوں۔” اس نے نور کو زبردستی بٹھا دیا۔ وہ بیٹھنے کو تیار تو نہ تھی پر عنایہ بنا اسے بولنے کا دوسرا موقع دیے وہاں سے چلی گئی۔
وہ اکیلے رہنا چاہ رہی تھی۔ احد کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا۔
وہ اس دہلیز پر کھڑی تھی جہاں وہ پیدا ہوئی تھی، جہاں اس کا بچپن گزرا تھا، جن در و دیوار نے اس کے بچپن سے لڑکپن تک کا سفر دیکھا تھا۔ وہ گھر جو اس کی شوخی اور تہمینہ کی ڈانٹ کی آواز سے گونجتا تھا، آج کتنے ماہ سے وہ مکان خاموش بند پڑا تھا۔ اس نے ہمت جمع کر کے دروازہ کھولا اور قدم اندر رکھا۔ کتنا کچھ نظروں کے سامنے سے گزرا تھا۔
“عنایہ! رکھ دو اس مصیبت کو، کر لو کچھ اٹھ کر۔” تہمینہ چارپائی پر لیٹی موبائل چلاتی عنایہ پر چلا رہی تھی۔
“اچھا نا امی!!!!!” اس نے لاپرواہی سے جواب دیا مگر ماں کو اٹھ کر اپنی طرف آتا دیکھ فوراً بھاگ کر جھاڑو اٹھا کر فرش صاف کرنے لگی۔
“امی۔۔۔۔!” اس نے دھیمے سے آواز دی۔ اسے امید تھی کہ ابھی تہمینہ کسی کمرے سے نکل کر اسے ڈانٹیں گی کہ “کتنے دنوں بعد گھر کا چکر لگا رہی ہو” پر ایسا تو ہوا ہی نہیں، مکمل خاموشی چھائی رہی
۔ بعض دفعہ ہم حقیقت جان کر بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہمیں بند آنکھوں کے پیچھے چھپا اندھیرا اس سیاہ حقیقت سے بھلا لگتا ہے۔
بڑا چِر ہویا تینوں اللہ کولے رہندے آں
ہُن میری زندگی چ موڑنا اے میں
بڑا چِر ہویا تینوں اللہ کولے رہندے آں
ہُن میری زندگی چ موڑنا اے میں
سامنے ایک شیلف دیوار پر نصب تھی جس پر تیل، کنگھا اور دیگر اشیاء رکھی ہوئی تھیں۔ اسے پھر انہیں چیزوں کو دیکھ کر کچھ یاد آیا تھا۔
او امّی میری، وے امّی میری…
تُو دس کیہڑا تارا تینوں توڑنا اے میں
او امّی میری…
تُو دس کیہڑا تینوں تارا توڑنا اے میں
بڑا چِر ہویا تینوں اللہ کولے رہندے آں
ہُن میری زندگی چ موڑنا اے میں او…
“حشر دیکھو اس لڑکی نے کیا کر رکھا ہے، بالوں کا ذرا خیال نہیں ہے اسے۔” وہ اس کے بالوں میں تیل لگاتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی پر عنایہ کا دھیان کہیں اور تھا۔
“امی! کیا سچ میں جو اللّٰہ کے پاس چلے جاتے ہیں وہ تارے بنتے ہیں؟” چھوٹی سی عنایہ نے آج ایک ڈرامے میں سنا تھا کہ مرنے والے تارہ بن جاتے ہیں وہ تب سے الجھی ہوئی تھی اگر ایسا تھا تو وہ اپنے بابا کو ان میں تلاشتی۔
جو وقت توں پہلاں مار آں
میں سُنیا بندے تارے آں
میں کِتھوں لبھاں تینوں نی
ایہ تارے کِنّے سارے آں
“نہیں میری جان! ایسا تھوڑی ہوتا ہے، بلکہ جو چلے جاتے ہیں وہ جا کر بھی ہمارے ساتھ رہتے ہیں ہر حال میں۔ جبکہ تارے تو چاند کے نکلتے ہی چھپ جاتے ہیں۔” انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں الجھائیں۔
“جیسے بابا جان ہمارے پاس ہیں؟” عنایہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
“ہاں بالکل! بابا جان ہمارے پاس ہیں۔ انہیں سب پتا لگتا ہے ہم کیا کر رہے ہیں، کیسے رہ رہے ہیں، اس لیے ان کے لیے دعا کیا کرو۔” اس کو سینے سے لگاتے ہوئے پیار سے سمجھایا۔
عنایہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ ماؤں کو نہیں جانا چاہیے، ماؤں کے بعد اولادیں رل جاتی ہیں۔ دنیا اصل رنگ میں دکھتی ہے جو ماں کے آنچل کے پیچھے حسین لگتی ہے، اس آنچل کے ہٹتے ہی سیاہ اور بھیانک ہو جاتی ہے۔
اب اس کی نظریں کچن پر تھیں، اسے وہاں کھانا پکا کر خود کو بلاتی ماں نظر آ رہی تھی۔ اسے ماں کے ہاتھ کا کھانا کھائے بھی کتنے ماہ ہو چکے تھے پر اس کا ذائقہ آج بھی اس کی زبان پر زندہ تھا۔۔
تیریاں ہتھاں دی چُوڑی کھان نُوں ترس دے آں
شال تیرا میرے اُتّے اوڑھنا اے میں
او امّی میری، ہاں امّی میری…
تُو دس کیہڑا تارا تینوں توڑنا اے میں
او امّی میری…
تُو دس کیہڑا تینوں تارا توڑنا اے میں
ہاں…
مائیں ہی تو ہوتی ہیں جو خیال رکھتی ہیں ناں؟ اب کسی کو ویسے اس کے کھانے پینے کی، طبیعت کی فکر نہیں ہوتی تھی۔ کوئی دن میں چھ چھ بار فون کر کے اس کی خیریت دریافت نہیں کرتا تھا۔ اب کسی کو اس سے غرض نہیں تھا کیونکہ کوئی اس کی ماں نہیں تھا۔
اس کو کھونٹی پر ٹنگی ان کی شال نظر آئی جو وہ اکثر قد باہر جاتے ہوئے اوڑھتی تھیں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ اتار کر خود کے گرد اوڑھ لی۔ اسے یکدم اپنی ماں کی خوشبو اور ان کا لمس محسوس ہوا تھا۔ خود پر کیا گیا ضبط ٹوٹا۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر چیخ چیخ کر رونا شروع ہو گئی تھی۔ وہ بلک رہی تھی درد سے، تکلیف سے۔
“امی….! امی!!!!!!! امی!!!!!!!!!! بس ایک بار آ جائیں ناں، ابھی مجھے آپ یاد آ رہی ہیں۔ امی۔۔۔۔۔! آپ کو ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا؟ میں کیسے رہوں گی؟ ہاں۔۔۔۔۔ مجھے سب کیوں تنہا کر جاتے ہیں؟ میں سب کے لیے ہوں، میرے لیے کوئی کیوں نہیں؟ امی۔۔۔۔۔! آپ بہت زیادہ یاد آ رہی ہیں۔ میں نہیں رہ پا رہی آپ کے بغیر۔۔۔ اللہ جی!!!!! مجھ پر اب رحم کر دینا، میں تھک رہی ہوں، میرا ضبط ٹوٹ رہا ہے، میں بکھر رہی ہوں۔ اللّٰہ جی! آپ تو امی سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں ناں؟ مجھ پر رحم کر دیں ناں۔”
اسے لگ رہا تھا آج اس کا دل پھٹ جائے گا، اس کا دم گھٹ رہا تھا، سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔
پھر چند لمحوں بعد وہ خالی آنکھیں لیے خاموشی سے بیٹھی تھی۔ اس کے آنسو تھم گئے تھے۔ صبر آتے آتے آ ہی جاتا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی راستہ بھی تو نہیں ہوتا۔
اکیلے پن کی اچھی بات پتا ہے کیا ہے؟ آپ منتظر نہیں ہوتے کسی سہارے کے، کسی دلاسے کے، کسی ایسے ہاتھ کے جو بڑھ کر آپ کے آنسو پونچھے، آپ گر کر اٹھنا جانتے ہیں، لڑکھڑا کر سنبھلنا جانتے ہیں اور رونے کے بعد خاموش ہونا آپ آزاد ہوتے ہیں انتظار سے اور انتظار اپنے آپ میں ایک موت ہے، ایسی موت جس سے جان قطرہ قطرہ نکلتی ہے۔
پھر وہ خود ہی ہتھیلیاں زمین پر جما کر اٹھی، چہرہ دھویا، کپڑے جھاڑے پھر آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ اس کے چہرے سے بالکل بھی پتا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس قدر رو کر آئی ہے۔ اس کو اپنی آنکھیں صرف اس لیے پسند تھیں کیونکہ وہ اس کے راز سنبھال لیتی تھیں۔ اس نے بوجھل دل مگر بے تاثر چہرے کے ساتھ دروازہ واپس لاک کیا اور واپس پلٹ گئی۔ پیچھے وہ مکان افسردگی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
“او چھوکری دیکھنے میں اچھے گھر کی لاگ رہی ہے، ایسا کون سا کارا کر دیا جو یہاں بیٹھی ہے؟” سامنے والے سیل میں بیٹھی فرہبہ اور بھدی سی شکل کی عورت نے پان تھوکتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“اپنے باپ کا قتل کیا ہے۔” اس کا لہجہ کسی بھی قسم کے احساس سے عاری تھا جبکہ اس کے جواب پر اس عورت کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“توبہ توبہ! ہاتھ نہ کانپے تھارے باپ کو مارتے ہوئے؟ کیسی اولاد ہے تو؟ بھلا باپ کو بھی کوئی مارے ہے؟” وہ عورت حیرت سے سوال کر رہی تھی یا شاید ملامت کر رہی تھی۔
“اسے مارتے ہوئے میرے سامنے میرا باپ نہیں، ایک ایسا انسان تھا جو مجھ سے میرا عشق چھین رہا تھا۔” اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا لہرایا۔
“پھر باپ کو مارنے کے بعد عشق مل گیا؟” اس عورت نے چبھتے لہجے میں سوال پوچھا۔
“عشق کو منظور نہیں تھا کہ وہ آئرہ سلطان شاہ کا مقدر ٹھہرتا۔”
“اچھا! تو چھوکری نے عشق کرا ہے؟ پھر تو بڑا سنگین جرم ہے۔ باولی! تو نے اپنے ہاتھوں سے جیتے جی موت چنی ہے۔” وہ عورت قہقہہ لگا کر ہنسی۔
“تنے پتا ہے میں نے اپنے دیور کا گلا کاٹ دیا تھا؟ حرامزادہ ماری بیٹی پر غلط نیت رکھے تھا۔ اپنیڑی سگی بھتیجی پر! خود تو جیل میں ہوں پر ماری منی وکیل بن رہی سے، مارا کیس لڑے گی پھر میں یہاں سے رہا ہو جاؤں گی۔” وہ عورت فخر سے بولی۔ وہ اس سے مزید بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر آئرہ نے دوبارہ زبان سے ایک لفظ نہیں نکالا۔ وہ سارا دن یونہی خاموش اندھیرے میں بیٹھ کر دیوار پر لکیریں مارتی رہتی تھی۔ جو بال کندھوں سے اوپر تک کٹے ہوتے تھے، اب وہ کمر سے نیچے تک جھول رہے تھے۔
“اے باولی! کچھ تو بول لیا کر۔” وہ عورت چیخ رہی تھی پر آئرہ ایسے تھی جیسے اسے یہ آوازیں سن ہی نہ رہی ہوں۔
✩━━━━━━✩
وہ آج پھر وہی خواب دیکھ رہا تھا پر آج خواب کی نوعیت الگ تھی۔ آج وہ ڈرا ہوا نہیں تھا، وہ الجھا ہوا تھا۔ وہی جنگل تھا، وہی اندھیری رات تھی پر وہ بھاگ نہیں رہا تھا، نہ ہی آج اس کے پیچھے بھیڑیوں کا جھنڈ تھا۔ اچانک رونے کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اس نے سامنے دیکھا۔ ایک لڑکی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔ وہ بہت تکلیف میں لگ رہی تھی۔ اس کے وہی سیاہ لمبے بال اس کے ارد گرد بکھرے ہوئے تھے۔ وہ اس کے قریب گیا، گھٹنوں میں سر دیے ہی اسے اس کی آواز سنائی دی۔
“محبت رسوا کرتی تو میں سہ جاتی، پر مجھے تو محبت خوار کر گئی۔” وہ کرب زدہ سا ہنسی۔
“رو مت، میں ہوں ناں۔” وہ اب اس کے برابر بیٹھ گیا تھا۔
“یہی تو دکھ ہے کہ تم نہیں ہوتے ہو۔ تم ہوتے تو غم ہی کیا تھا۔” کہتے ہی اس نے چہرہ اٹھایا تبھی فوراً اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسے صرف اس کی بھیگی پلکیں ہی دکھائی دیں تھی۔ اس مسیحا آج تکلیف میں کیوں تھی؟ وہ سوچ میں پڑ گیا کیونکہ اب چاہ کر بھی اسے نیند نہیں آنی تھی۔
✩━━━━━━✩
رات کے کسی پہر وہ پانی پینے کے لیے جاگا تو چھت پر اسے کسی کا گمان ہوا۔ اس نے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھائے۔ سامنے ہی عنایہ کانوں میں ایئربڈز لگائے آدھی رات اور ٹھٹھرتی سردی میں گانے سننے میں مصروف تھی۔
“اس لڑکی کو دیکھ کر اسے یقین ہو گیا تھا واقعی عورت ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے۔” احد نے کلس کر سوچا اور اخلاقیات کے تقاضے بھاڑ میں جھونکتے ہوئے اس کے ایک کان میں سے ایئربڈ نکال کر اپنے کان میں لگا دیا۔
عنایہ نے ناگواری سے اسے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔ احد جو کسی جذباتی سے افسردہ گانے کی توقع کر رہا تھا، گانا سن کر حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر عنایہ کو دیکھنے لگا کیونکہ اس کے کانوں میں گپی گریوال کا گانا فل والیوم میں بج رہا تھا:
تیرے والا نچنا کہندی سوٹ عنابی پا کے میں
دیسی گانا لا دے کہندی میں بھنگڑا پانا
“کیا؟؟؟؟ آپ کو لگا تھا میں سیڈ سونگ سنوں گی؟ بھئی ایسے چونچلے وہ کرتے ہیں جن کے پاس اداس ہونے کے بعد خوش رہنے کی وجہ ہوتی ہے۔ میرے جیسے ڈھیٹ دکھی نہیں ہو سکتے، چاہ کر بھی نہیں!” ہائے ہائے عنایہ تیرے بھرم۔۔
“تم واقعی ایک کریک پیس ہو۔” احد نے ہنستے ہوئے نفی میں گردن ہلائی۔
“اچھا ویسے تم ان نمونوں، میرا مطلب ہے لالا اور شاہ سے کیسے ملیں؟” یہ سوال تو کئی ماہ سے اس کے پیٹ میں مروڑ کیے ہوئے تھا۔ “پلیز یار بتا دو، سہیلی نہیں ہو میری؟”
عنایہ جو اسے کھری کھری سنانا چاہ رہی تھی، پر اس نے اتنی معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر”سہیلی” کا لفظ ادا کیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اپنی ہنسی نہیں روک پائی۔
“واٹ؟؟؟۔۔۔۔سہیلی۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔سیریسلی.. سہیلی!!!!!۔۔۔۔ وکیل صاحب یوآرامپوسیبل؟” ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا جبکہ احد ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسے اپنی باتوں پر ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ہائے اللہ! وہ اس کی باتوں پر ہنس رہی تھی، وکیل صاحب خوشی سے وفات نہ پا جائیں۔ اب اس کا واقعتاً دل کر رہا تھا کہ ‘دیسی گانے پر بھنگڑے ڈالے’۔
“اگر تم یونہی ہنستی رہو تو میں جوکر بننے کو بھی تیار ہوں۔” وہ بے خودی سے فدا فدا انداز میں بولا مگر جلدی اپنے الفاظ کا احساس ہوتے ہی بوکھلا گیا۔ اس نے خود کو سیاہ کوٹ زیب تن کیے، چہرے پر جوکر والا میک اپ اور سر پر رینبو وگ کے ساتھ جج صاحب کے سامنے مقدمہ لڑتے ہوئے امیجن کیا تھا۔ “لا حول ولا قوۃ الا باللہ!” اپنی سوچ پر اس نے خود ہی استغفار پڑھی جبکہ اس کی بوکھلائی حالت دیکھ وہ مزید ہنستی جا رہی تھی۔
“اچھا ٹاپک مت چینج کرو، بتاؤ بھی۔” وہ جھنجھلایا تو عنایہ نے گہرا سانس بھرا۔
“آپ کو پتا ہے، سب کو تہمینہ بیگم بیوقوف لگتی تھی کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے سب سے سیاہ باب کا خلاصہ اپنی بیٹی کے سامنے کیا تھا۔” وہ بولنا شروع ہوئی۔
وقت کی رفتار کو پلٹتے ہوئے ماضی کے جھرونکوں سے جھانکو تو تب عنایہ ایک ناپختہ عمر کی 14-15 سالہ الہڑ سی لا ابالی لڑکی تھی۔ وہ جھنجھلائے تاثرات چہرے پر سجائے سکول سے واپس گھر آ رہی تھی۔
اسے سکول جانا کبھی پسند نہیں رہا تھا، وہ باؤنڈ ہونا پسند نہیں کرتی تھی، اسے آزاد فضائیں بھاتی تھیں۔ اس کے قدم ٹھٹک کر رکے، ٹھٹکنے کی وجہ اندر سے آتی آوازیں تھیں۔
“میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی بھائی صاحب! وہ میرے باپ کی زمینیں ہیں جس پر جتنا باجی یعنی آپ کی بیوی کا حق ہے، اتنا میرا بھی ہے۔” تہمینہ کی مضبوط گرجدار آواز گونجی۔ تہمینہ کی بہن کا شوہر منور بٹ آج اچانک زبردستی اسے اپنے حصے سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنے آیا تھا۔ تہمینہ ایسا نہیں چاہتی تھی، اس جائیداد پر اس کا حق تھا، وہ کیسے اسے کسی کو بھی سونپ سکتی تھی؟ یہ جائیداد ان کی بیٹی کے اچھے مستقبل کی ضمانت بن سکتی تھی پر ان کی بات اور لہجہ شاید سامنے بیٹھے اس بیمار ذہن مرد کو پسند نہیں آیا تھا۔
“حرام کے پلے پالنے والیاں کبھی اتنی اکڑ نہیں دکھایا کرتیں! اپنی کرتوتوں پر غور کرو، پھر جائیداد میں حصہ دار بننے کی باتیں کرو۔ تم نے کون سا ماں باپ کو جنت کی سیریں کروائی ہیں جو ان کی جائیداد پر حق مانگ رہی ہو؟ ارے مرا ہوا باپ بھی قبر میں تمہیں کوستا ہو گا کہ کیسی گھٹیا اولاد پیدا کر دی میں نے! اور ماں کو تو تم جیتے جی مار گئی تھی، مرتے ہوئے انہوں نے تمہارا نام بھی نہیں لیا تھا اور تم چلی ہو ان کی جائیداد میں حصہ مانگنے؟ اوقات میں رہو اپنی!”
اس کی باتیں سن کر تہمینہ کا رنگ پھیکا پڑا۔ عورت کے کردار کو اس لیے صاف نہیں ہونا چاہیے کہ باپ کی پگڑی پر داغ نہ آئے، بلکہ اس لیے صاف ہونا چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر آواز بلند کر سکے۔ جو عورتیں جان بوجھ کر غلط راہ کی مسافر بنتی ہیں، وہ کبھی معاشرے میں اپنی آواز بلند نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ غلط فیصلے طمانچے کے طور پر ان کے منہ پر برسائے جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ عورت کی چھوٹی سی غلطی بھی یاد رکھتا ہے جبکہ مرد کے گناہ بھی بھلا دیے جاتے ہیں۔
دھبوں کے باوجود بڑھے پگڑیوں کے دام
آنچل کا دام گر گیا بس ایک داغ سے
“تم جیسی عورتیں ہی ہوتی ہیں جو حیدر جیسے بھولے مردوں کو بہلا کر اپنا حرام ان کے سر تھوپ دیتی ہیں۔ چپ چاپ اپنے دعوے سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ یہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ اس محلے میں ایک عزت دار بیوہ کی زندگی جی رہی ہو تو جیتی رہو، ورنہ بڑے پرانے قصے کھولتے مجھے چند لمحے لگیں گے۔”
وہ مسلسل مغلظیات بک رہا تھا جبکہ اس کی باتیں سن کر عنایہ کو لگا تھا کہ ساتوں آسمان دھڑا دھڑ اس کے سر پر گر رہے ہوں۔ یہ آدمی کیا بکواس کر رہا تھا؟ اس کی ماں اٹھ کر اس کا منہ کیوں نہیں توڑ رہی تھی؟ وہ کیسے اس کی باتیں برداشت کر رہی تھی؟ کیا وہ سچ کہہ رہا تھا؟ اگر کہہ بھی رہا تھا تو اس کا انداز غلط تھا۔ عنایہ کے اندر لاوا بھڑکا، وہ تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھی اور زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر جڑ دیا۔
“بکواس بند کرو! تم ہوتے کون ہو کسی کے کردار کی صفائی دینے والے؟ ہاں؟ تمہاری جرات کیسی ہوئی میری ماں کے بارے میں ایسے بات کرنے کی؟ اپنی اوقات اپنا کردار دیکھا ہے؟ عورت سے پیش آنے کی تمیز تک نہیں ہے تمہیں، نامرد کہیں کے! اور اصل گندا خون جو ہوتا ہے ناں، وہ تم جیسا ہوتا ہے۔ اپنے والدین کو بولنا تھا باندھ کے رکھتے، پاگل کتے ہر آتے جاتے کو کاٹتے رہتے ہیں۔”
چودہ سالہ اس بچی کے ہاتھوں تھپڑ کھانے کے بعد منور بٹ کے خون میں ابال اٹھ رہا تھے۔
“حرامزادی! اوقات کیا ہے تیری؟ پہلے اپنی ماں سے اپنے باپ کا پوچھ لے پھر زبان چلائیو۔ اس سے پوچھ، جانتی بھی ہے تیرا باپ کون ہے؟ یا اتنے ساروں کو بھگتا چکی ہے کہ گنتی بھی یاد نہیں رہی۔ اور تم دونوں عورتوں کے لیے منور بٹ سے جھگڑا مول لینا اچھا نہیں ہو گا۔” کہتے ہی اس نے ہاتھ بلند کیا پر اس سے پہلے کہ وہ تھپڑ عنایہ کے گال کی زینت بنتا، کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کمر پر مروڑ دیا۔
“جس مرد کو عورت سے مخاطب ہونے کی تمیز نہیں، وہ دھرتی پہ بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اور چاہے کوٹھے پر بیٹھی طوائف ہو یا سڑک پر بھیک مانگتی ہوئی کوئی بھکارن، اس کی عزت کرنا ہر مومن مرد پہ لازم کیا گیا ہے۔”
ضرار شاہ لہو رنگ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا، پھر ایک جھٹکے میں اسے زمین پر پھینکا۔ تبھی پیچھے کھڑے اشعث نے اسے گردن سے پکڑا اور باہر لے گیا۔ وہ پولیس کو پہلے ہی فون کر چکا تھا۔ یہاں کے تھانے کا انچارج ضرار کا جاننے والا ہی تھا۔ وہ دونوں چاہتے تو یہیں اس کی اچھے سے خاطر داری کر سکتے تھے لیکن وہ محلے میں کوئی تماشہ نہیں چاہ رہے تھے۔ اب منور بٹ کی اکڑ کو لاٹھیوں سے پٹوانے کا ارادہ تھا ان کا۔
“السلام علیکم ماں جی! میں ایس پی سید ضرار ہارون شاہ ہوں اور حیدر انکل کی شہادت کے بارے میں آپ سے گفتگو کرنے آیا ہوں۔” ضرار نے احترام سے اپنا تعارف کروایا تو تہمینہ کو ہوش آئی۔ تھوڑی دیر بعد ضرار، اشعث اور تہمینہ لاؤنج میں بیٹھے تھے اور عنایہ کچن میں تھی۔
“ہمیں معلومات ملی ہیں کہ اشفاق سیال کا بھی گھر یہی ہے، کیا آپ ان کی فیملی سے بھی ہمارا رابطہ کروا سکتی ہیں؟” ضرار نے پوچھا۔
“جی بیٹا! یہ سامنے والا گھر ہی تو ان کا ہے، بلکہ میں انہیں یہیں بلوا دیتی ہوں۔” تہمینہ نے دھیرے سے کہا۔
“جی بہتر۔” ضرار کو یہ بات مناسب لگی تھی۔
“عنایہ بیٹا! جاؤ مریم اور نادیہ آنی کو بلا کر لاؤ۔” تہمینہ نے عنایہ سے کہا تو وہ چپ چاپ انہیں بلانے چلی گئی۔ وہ ابھی تک بےیقین اور الجھی ہوئی تھی۔
“آنی! امی آپ دونوں کو بلا رہی ہیں، کوئی دو لڑکے آئے ہیں جو بابا اور اشفاق انکل کا ذکر کر رہے ہیں۔” عنایہ نے صحن میں بیٹھی نادیہ اور مریم سے کہا تو دونوں نے الجھی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا مگر پھر سر ہلا کر تہمینہ بیگم کے گھر کی طرف چلی گئیں۔ نور اور عنایہ بھی ان کے ساتھ ہی آئی تھیں اور افق اپنی جاب پر تھا۔
دروازے کی طرف اشعث کی غیر ارادی نظر پڑی تو وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے آنے والی ہستی کو دیکھنے لگا۔
“بتول مامی؟؟” اس نے حیرت سے سرگوشی کی تو ضرار نے فوراً گردن موڑ کر دیکھا، اس کی بھی حالت اشعث سے مختلف نہ تھی جبکہ مریم تو یوں تھیں گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ ماضی ایک دم سامنے آ کھڑا ہوا تھا، وہ انہیں پہچان گئی تھی۔ وہ دو جوان مرد جو سامنے بیٹھے تھے، وہ فوراً انہیں پہچان گئی تھی۔ انہیں دیکھ کر سب سے پہلا خیال اپنے دل کے ٹکڑے کا آیا تھا، کیا وہ بھی اتنا ہی بڑا ہو گیا ہو گا؟
جبکہ نادیہ کے علاوہ سب الجھی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
پھر مریم نے گہرا سانس بھر کر ماضی دہرایا، حقیقتیں آشکار ہوئیں۔ نور اور عنایہ حیران و پریشان کھڑی تھیں اور تہمینہ کی بھی حالت غیر تھی۔
“تم سلطان کے بھانجے ہو؟” انہوں نے ضرار سے غیر یقینی سے دریافت کیا جبکہ ان کے سوال پر مریم نے بھی حیرت سے انہیں دیکھا، وہ اس ظالم کو کیسے جانتی تھی؟
“آپ مامو کو جانتی ہیں؟”یہ بات ضرار کیلئے غیر متوقع تھی۔
اس کے سوال پر وہ کرب زدہ سا مسکرائیں “کاش کہ نہ جانتی ہوتی تو یہ سزا نہ کاٹ رہی ہوتی۔ مجھے سلطان۔۔۔۔۔سلطان سے محبت ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے “ہے” کہا تھا۔ “حیدر کے ساتھ نکاح کے روز۔۔۔۔۔۔میں سلطان کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔تین ماہ اس کے ساتھ رہی پھر اس نے دھتکار دیا تب حیدر نے مجھے سہارا اور نام دیا۔ اس نے حرام رشتے میں بندھی لڑکی کو اپنایا اور اس کی۔۔۔۔۔” ان کے گلے میں کچھ اٹکا تھا، آنکھوں سے پھسلتے آنسوؤں میں روانی آئی۔
اپنے ماضی میں کیے گئے گناہوں کا اعتراف جوان اولاد کے سامنے کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے، کوئی اس وقت تہمینہ سے پوچھتا۔
“۔۔۔اور اس کی ناجائز اولاد کو اپنا نام دیا۔” تہمینہ کے انکشاف پر عنایہ نے لڑکھڑاتے قدموں کو سنبھالا، نور نے بروقت اسے تھاما پر تہمینہ خاموش نہیں ہوئی۔ “عنایہ حیدر کی نہیں، سلطان شاہ کی اولاد ہے۔”
یہ انکشاف بہت بڑا تھا اور تہمینہ کا دل کیا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ وہ بیٹی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔
عنایہ کو لگ رہا تھا وہ مر کیوں نہیں گئی؟ کیا وہ ایک غلاظت تھی؟ وہ باپ اس کا تھا ہی نہیں جس سے وہ ساری زندگی محبت کرتی رہی، جس کی جدائی میں تڑپتی رہی، تکلیف میں جس کو پکارا؟ اور جو حقیقی باپ تھا وہ ایک ظالم تھا، وہ ایک قاتل کا خون تھی؟ یا خدا یہ کیسی حقیقت تھی!
کبھی کبھی لاعلمی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔
اشعث اور ضرار گنگ بیٹھے تھے۔ وہ صرف اپنے باپ اور چچا کے مرحوم دوستوں کی فیملیز سے ملنے اور انہیں حقیقت بتانے آئے تھے پر یہ کون سی حقیقتیں تھیں جو ان پر آشکار ہو رہی تھیں؟ نور کی زبانی ہی انہیں یہ پتا چلا تھا کہ اشفاق کا قتل کس نے کیا اور ضرار آئرہ کی ذات کا یہ پہلو دیکھ کر کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔ سلطان کتنی زندگیاں برباد کر گیا تھا جس میں سر فہرست اس کی اپنی اولاد تھی!
“شاہ جان کیسا ہے ؟” مریم ماں تھی اور وہ تڑپ رہی تھی اپنے بیٹے کے لیے۔ اتنے سال کا ہجر آسان نہیں ہوتا۔
“وہ بہت شریف اور معصوم ہے مامی! آپ کے جانے کے بعد اس نے بہت کچھ جھیلا ہے۔ وہ روز آپ کو یاد کرتا ہے، وہ ہنسنا بھول گیا ہے، صرف ایک کھوکھلی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر جھلکتی ہے۔ اسے شکوے کرنے نہیں آتے، اس نے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے۔” اشعث نے تکلیف سے کہا تو اس کا ہر لفظ مریم کو اپنا دل چیرتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ مچل گئی تھی اس کی تکلیف کا سن کر۔
اشعث نے انہیں یوشع کی تصویر دکھائی تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا دیں۔ وہ ارحم کا عکس تھا، ظاہری طور پر بھی اور اندر سے بھی وہ ہوبہو ارحم کی کاپی تھا، صبر والا اور خاموش۔ وہ کتنی دیر اس کی تصویر کو چومتی رہی تھی۔ انہوں نے اس سے ملنے کی خواہش کی تو ضرار نے منع کر دیا۔
“مامی! اتنے سال صبر کیا ہے، چند دن مزید کر لیں۔ ابھی آپ کا منظر عام پر آنا ٹھیک نہیں، سلطان پہلے ہی یوشع کے خلاف ہے۔” ضرار کی بات درست تھی۔
“اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ سب پر ہوئے مظالم کا بدلہ لوں گا اور آپ کو انصاف دلاؤں گا، بس آپ صبر اور اللہ پر توکل رکھیں۔”
“ویسے کیا تم واپس چلے گئے ہو؟ مطلب تم تو اپنے گھر سے ناراض۔۔۔” مریم بات مکمل کرتے ہوئے جھجک رہی تھی۔ انہیں اشعث اور ضرار کا ساتھ ہونا جہاں اچھا لگا تھا، وہیں یہ بات انہیں الجھا بھی رہی تھی پر ضرار ادھوری بات پوری سمجھ گیا تھا۔
“مامی! یہ بچپن میں مجھ سے کچھ نہیں چھپا سکتا تھا تو اب کیسے چھپا لے گا؟ اور اس کو عقل نہیں آنی، میرا مطلب ہے کہ یہ واپس نہیں آیا۔” اشعث نے مبہم انداز میں مسکراتے ہوئے بتایا تو ضرار نے اسے گھورا۔
ایک دفعہ سڑک پر ایک دوسرے کی گاڑی ٹھوکنے کے بعد دونوں کتوں کی طرح لڑ رہے تھے۔ وہ ایسے ہی اکثر باہر ایک دوسرے کے ساتھ الجھتے ہوئے پائے جاتے تھے۔ لڑائی ہاتھا پائی کے دوران ضرار کا کارڈ اشعث کے ہاتھ لگ گیا تھا اور بال کی کھال نکالتے ہوئے چند ماہ بعد وہ ضرار کے آفس میں اس کے سامنے موجود تھا پھر ایس پی صاحب کو مجبوراً اپنے ڈرامے کا خلاصہ کرنا پڑا۔ اور تب سے وہ زبردستی ضرار کا پارٹنر تھا۔ ان کی حرکتوں پر مریم ہنسی، وہ نہیں بدلے تھے۔
“مجھے آنی یا چچی بولا کرو، باقی رشتے ختم ہو چکے ہیں۔” مریم نے انہیں ٹوکنا ضروری سمجھا، وہ خود کو اشفاق کے توسط سے چچی کہلوا رہی تھی۔ انہوں نے بھی سمجھ کر سر ہلایا اور مزید کوئی بات نہیں کی۔
“ہمیں نہیں پتا تھا کہ ہماری فیملی میں ایک تیسری ڈول بھی ہے ورنہ ہم تینوں بچپن میں یوں ایک دوسرے سے نہ لڑتے۔” ضرار نے عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو عنایہ نے سخت نظروں سے اسے دیکھا اور اس کا بازو اپنے سر سے ہٹایا۔
“میرا نام عنایہ حیدر ہے۔” اس نے اپنے نام پر زور دے کر بہت کچھ باور کروایا تھا۔ ضرار اور اشعث اس کے انداز سے متاثر ہوئے تھے۔
وہ عام لڑکیوں کی طرح اتنی بڑی حقیقت جان کر واویلا نہیں مچا رہی تھی، اپنی ماں سے نہیں الجھی تھی بلکہ وہ لڑکھڑا کر سنبھل گئی تھی۔ وہ کھڑی تھی مضبوطی سے، اس نے حقیقت قبول کر لی تھی۔ اس نے نہ ماں کو طعنے دیے تھے نہ کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔ اس نے خاموشی چن لی تھی کیونکہ عنایہ کا ماننا تھا کہ ماں کا ماضی جو بھی رہا ہو، وہ اس کا اور اس کے اللہ کا معاملہ ہے پر اس کا حال شفاف تھا جو کہ عنایہ کی نظروں کے سامنے تھا۔
سب سے وداع لے کر وہ دونوں رخصت ہو گئے۔ اپنی اپنی ماؤں کو باتوں میں مصروف دیکھ کر نور نے عنایہ کا بازو پکڑ کر کھینچا اور اسے لے کر باہر کو دوڑی۔
“ایس پی صاحب!” نور کی آواز پر ضرار فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اشعث نے بھی گردن گھما کر انہیں دیکھا۔ نور عنایہ کو لیے ان سے چند قدم کے فاصلے پر رک گئی۔
“ہمیں بھی آپ کی ٹیم میں شامل ہونا ہے۔” وہ چھوٹی سی لڑکی گردن اکڑا کر بھرپور سنجیدگی سے بولی تھی مگر ضرار اس کی بات پر ایسے مسکرایا جیسے کسی بچے نے کوئی انوکھی بات کر دی ہو۔
“بچے! گھر جاؤ۔” اس نے پیار سے کہا اور گاڑی میں بیٹھنے لگا جبکہ اشعث ان دونوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ عام نہیں تھیں، ان کی آنکھوں میں ایک جنون تھا، کچھ کر لینے کا عزم۔
“بچے نہیں ہیں ہم، یتیم ہیں! اور یتیم اس دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اِس نے ساری عمر کسی بھی مرد کے سہارے کے بنا گزاری ہے عنایہ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ “اور میں نے اپنا باپ آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھا ہے۔ اب آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم بچے ہیں؟ ہمارا بچپن ہمارے باپ کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو گیا تھا۔”
نور کے مضبوط لہجے نے ضرار کو حیران کیا تھا۔ کیا چیزیں تھیں یہ دونوں!
“ٹھیک ہے، تم دونوں میری ٹیم میں ہو۔” اشعث کے کہنے پر ضرار نے اسے گھورا۔
“بکواس نہیں کرو”
“بکواس نہیں کر رہا سالے۔۔۔” اشعث کے گالی دینے پر ضرار نے آنکھیں دکھا کر نور اور عنایہ کی موجودگی کا احساس دلایا تو اس نے فوراً اپنے الفاظ میں ترمیم کی۔ “میرا مطلب سالے صاحب! تو یہ کیس آفیشلی حل کرے گا اور میں اور میری ٹیم (ان دونوں کی طرف اشارہ کیا) ان آفیشلی۔” اشعث نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
پھر طویل بحث کے بعد آخر کار ضرار کو ماننا ہی پڑا: “میں قانون کا رکھوالا ہوں اور ایسے غیر قانونی کام کرنا مجھے۔۔۔” ابھی ضرار مزید کچھ بولتا کہ اشعث نے اسے ٹوکا۔ ” ابے جعلی سپاہی! چپ کر ۔” جواباً ضرار دوبارہ منہ کھولتا کہ عنایہ نے ٹوکا۔
“آپ لوگ ڈبلیو ڈبلیو ای بعد میں شوق سے کھیل لیجیے گا، پر ہفتے بعد ایک آفیشل گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ لیٹر ہمارے گھر پہنچ جانا چاہیے، جس میں نور قلب اشفاق اور عنایہ حیدر کو سکالرشپ کے ذریعے تین ماہ کے لیے لاہور کمپیوٹر کورس کے لیے بلایا گیا ہو۔”
“وہ کس لیے؟” ضرار فوراً بولا۔
“کیوں؟ آپ فورس میں بنا ٹریننگ بھرتی ہو گئے تھے؟” عنایہ نے طنز کیا تو بچی کے ہاتھوں ضرار کی بے عزتی پر اشعث نے قہقہہ لگایا۔
“ہمیں ٹریننگ کی ضرورت ہے جو کہ آپ دونوں دیں گے۔” عنایہ نے انگلی کھڑی کر کے دونوں کی طرف اشارہ کیا اور پھر وہ دونوں آفتیں ناک چڑھا کر چلی گئیں، پر نکڑ پر کھڑے آوارہ لڑکے کو باری باری تھپڑ مارنا نہیں بھولی تھیں جو ہر آتی جاتی لڑکی کو پریشان کر رہا تھا۔ ضرار کو یہ مخلوق عجیب اور دلچسپ لگی تھی۔
پھر “جعلی سپاہی” کے توسط سے ایک من گھڑت لیٹر ان کے گھر پہنچ گیا تھا جس کو بنانے والا ایک دو نمبر وکیل تھا اور خوب منتوں، بحث اور ضد کے بعد بالاخر وہ لاہور جا رہی تھیں۔ نور اور عنایہ کا حامی افق تھا تو ان کا کیس مضبوط ہو گیا تھا۔ پر بیچارے کو کیا پتا اس کا مس یوز ہو رہا ہے!
تین ماہ دونوں نے اشعث اور ضرار سے ٹریننگ لی تھی۔ اس دوران انہوں نے سیلف ڈیفنس، فائٹنگ اور ہیکنگ سیکھی تھی۔ فائٹنگ ٹرینر ان کا اشعث تھا کیونکہ مار دھاڑ اس کا پسندیدہ کام تھا اور کمپیوٹر ٹرینر ان کا ضرار تھا کیونکہ کمپیوٹر میں اس کا دماغ خاصا تیز چلتا تھا۔ نور تو تھوڑی خاموش طبیعت تھی پر عنایہ اور اشعث اکثر الجھتے پائے جاتے تھے۔ پھر ان سب نے مل کر جو کارنامے سرانجام دیے ہیں، اس سے تو آپ سبھی آشنا ہیں
اور احد بیچارہ یعنی ہمارا دو نمبر وکیل، ان کے لیے یورپ میں بیٹھ کر نقلی ڈاکومنٹس تیار کیا کرتا تھا۔ خیر بیچارہ تو نہیں تھا وہ، پاکستان آنے کی وجہ بھی ان کا کیس ہینڈل کرنا ہی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امید ہے آپ کا ہاضمہ درست رہے گا۔”
احد جو اسے غور سے سن رہا تھا، اس کی بات سن کر ڈھٹائی سے مسکرا دیا۔ اس نے بہت سی باتوں کو اپنے ذہن میں نقش کیا تھا جن کا بدلہ اتارنے کا ارادہ رکھتا تھا وہ کیونکہ وکیل صاحب شریف صرف پسندیدہ عورت کے سامنے تھے۔
“اچھا عنایہ! تمہیں کیا چیز بہت بری لگتی ہے؟” وہ شاید باتوں کا سلسلہ توڑنا نہیں چاہتا تھا۔ کبھی کبھی تو یہ مغرور چڑیل اتنے اچھے سے بات کرتی تھی، وہ چاہتا تھا وہ گھنٹوں بیٹھ کر اسے سنتا رہے۔
“کمزور عورت! مجھے کمزور عورتیں سخت زہر لگتی ہیں جو پٹنے کے بعد بھی مرد کی جوتی بنی رہتی ہیں، جو اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتیں، جو معاشرے سے ڈر جاتی ہیں، جو بد زبان کا ٹیگ لگنے کے ڈر سے اپنی رائے نہیں دیتیں، جو ہمیشہ ایک مرد کے سہارے جینا چاہتی ہیں، جو اڑان سے خوفزدہ رہتی ہیں۔ عورت مضبوط بنائی گئی ہے اور وہ مضبوط ہی اچھی لگتی ہے۔ مرد اگر عورت سے زیادہ مضبوط ہوتا تو بچہ پیدا کرنے کا حق اسے دیا جاتا، مگر عورت مضبوط ہے اس لیے کیونکہ وہ نو ماہ اولاد کو پیٹ میں رکھتی ہے، پھر موت کے خوف سے آزاد ہو کر اسے اس دنیا میں لاتی ہے، پھر نیند اور خواہشات قربان کر کے اسے پالتی ہے۔ اسی لیے مجھے وہ عورتیں زہر لگتی ہیں جو معصوم اور بیچاری بن کر رہتی ہیں اور اپنی اصل پہچان کو اپنی اس ڈرپوک شخصیت کے پیچھے چھپا دیتی ہیں۔”
وہ واقعی خوبصورت بولتی تھی۔ احد کو اس پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ایسی عورت تھی جو اپنے دلائل اور الفاظ سے مردوں کے مجمعے کو خاموش کروانے کا حوصلہ رکھتی تھی۔
“آپ کو کیا اچھا لگتا ہے؟” عنایہ نے سرسری سے انداز میں
” پوچھا اور اس کے پوچھنے پر بے ساختہ اس کے منہ سے “تم” نکلا تھا۔
“ہیں؟؟؟” عنایہ نہ سمجھی سے چیخی۔
“میرا مطلب۔۔۔ مضبوط عورتیں۔” اس کے تصحیح کرنے پر اس نے مشکوک نظروں سے اسے گھورا تو وہ نظریں چرا گیا۔
“چلیں، رات بہت ہو گئی ہے، سو جائیں۔” عنایہ مسکرا کر کہتی چلی گئی اور آج وہ احد کو شاک پر شاک دے رہی تھی۔ وہ حیران تھا کہ یہ تیکھی مرچی آج میٹھا گنا کیوں بنی ہوئی ہے؟
“ابے!! آم کھاؤ، گٹھلیاں کیوں گننا ہے؟” دل نے دماغ کو ڈپٹا۔ آج کی رات حسین ہو گئی تھی احد صدیقی کیلیے
‘دیسی گانا لادے کیندی میں پنگڑا پانا’ وہ گنگناتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگا
✩━━━━━━✩
“قیدی نمبر 442! تمہاری ملاقات آئی ہے، چلو!” جیلر کے اعلان پر وہ سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئی، پھر اس کے ساتھ مطلوبہ کمرے میں پہنچی۔ سامنے جالیوں کے اس پار کرسی پر بیٹھی ہستی کو دیکھ کر اس کی دھڑکنیں بے ساختہ تھم گئی تھیں۔ کیا وہ سچ میں اس کے بلانے پر آ گیا تھا؟ وہ نظریں اس کے چہرے پر گاڑھے اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔ یوشع کا چہرہ سنجیدہ تھا۔
“کچھ دیدار شفا ہوا کرتے ہیں۔” آئرہ نے بے خودی سے کہا۔
“کیوں بلایا تھا؟” یوشع نے ڈائریکٹ سوال کیا۔
“دیکھنے کے لیے۔”
“دیکھ لیا، تو جاؤں اب؟”
“نہیں! نگاہیں تشنہ ہیں، ابھی مزید رک جاؤ۔”
“فارغ نہیں ہوں میں۔”
“میرے لیے تو کبھی تمہارے پاس وقت رہا ہی نہیں ہے”
” جب تھا تب تم نے قدر نہیں کی۔”
“تمہاری بے قدری میں کیسے کر سکتی ہوں؟ تم تو میرے طبیب ہو، تمہارا دیدار میری شفا، تمہاری آواز میرا مرہم ہے۔”
“تم نے ٹھیک نہیں کیا آئرہ۔” یوشع نے بے بسی سے کہا۔
” تصیح کرو میرے ساتھ ٹھیک نہیں ہوا یوشع! اس انسان کا حال جان سکتے ہو جو ساری عمر ایک خزانے پر پہرہ دے، اس کی حفاظت کرے، اسے سنبھالے اور آخر میں کوئی دوسرا آئے اور وہ خزانہ لوٹ کر چلا جائے؟ تم اس انسان کا دکھ نہیں سمجھ سکتے جس کی ریاضت لٹ گئی ہو۔ میرے حصے میں ہمیشہ خسارے کیوں آتے ہیں؟”
“تم نے خسارے سمیٹے ہیں آئرہ۔” یوشع کے الفاظ نے آئرہ کا دل کچل دیا تھا۔ کم از کم اسے تو آئرہ کو سمجھنا چاہیے تھا ناں؟
“تم سراب کے پیچھے بھاگیں۔ تم مجھے کبھی موت سے نہیں بچا سکتیں، یہ اختیار اللہ کا ہے۔ تم نے اللہ سے ضد لگائی تو اللہ نے تمہیں ایسی راہ کا مسافر بنا دیا جس پر تم چلنا چاہتی تھی۔ تم نے بغاوت چنی تو تمہیں باغی بنا دیا گیا اور اسی بغاوت کو تم نے محبت کی چادر میں چھپا دیا۔ تمہارے ساتھ صحیح نہیں ہوا کیونکہ تم نے صحیح راستہ نہیں چنا۔ مجھے قلب سے محبت ہے لیکن اس کی محبت میں اندھا ہو کر میں کبھی صحیح غلط کا فرق نہیں بھلاؤں گا، میں رشتوں کا تقدس نہیں بھولوں گا۔ میں نے اسے پانے کے لیے کبھی غلط راستہ نہیں چنا کیونکہ مجھے اپنے نصیب سے زیادہ اس کے لکھنے والے پر بھروسہ تھا۔ اپنی حالت کی ذمہ دار ہم خود ہوتے ہیں آئرہ! کیونکہ ہم اگر چاہیں تو خود کو سنبھال سکتے ہیں۔”
آئرہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ مطلب اسے سمجھنے کے لیے کوئی نہیں تھا؟ وہ غلط تھی اور رہے گی۔
خیر، کچھ مقدروں میں نہیں صلے ہوا کرتے۔
“شادی کر رہے ہو؟” آئرہ نے کرب سے پوچھا۔
“ہاں!”
“مبارک ہو!” سو سو بار دل ٹوٹ کر بکھرا تھا۔ اس بار یوشع نے محض سر ہلا دیا۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“شادی کا تحفہ تو لیتے جاؤ میری طرف سے۔” آئرہ کی بات پر اس نے مڑ کر اسے دیکھا مگر جو کچھ آئرہ نے اسے بتایا، وہ یوشع کو آنکھیں پھیلانے پر مجبور کر گیا تھا۔ وہ حیرت سے اسے سن رہا تھا۔
✩━━━━━━✩
یوشع سے ملاقات کے بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ پہلی دفعہ سب قیدیوں نے اسے مسکراتے دیکھا تھا۔
“او باولی! کس سے مل کر اتنا کھل رہی ہے؟” سامنے بیٹھی عورت بولی۔
“محبوب سے!” آئرہ کا جواب سن کر اس عورت نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔
“وہی جس کے نام پر برباد ہوئی ہے؟” اس عورت نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
“جس کے نام پر قربان ہوئی ہوں۔ محبوب کے نام پر قربان ہوا جاتا ہے برباد نہیں۔” آئرہ اسے جواب دے کر خاموشی سے واپس اندھیرے میں گم ہو گئی۔
✩━━━━━━✩
جاری ہے۔۔۔
جاری ہے
