PATJHAR BY ALAM EPISODE :16

پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٦

ازقلم الم

کبیر شاہ، یوشع، اشعث، ضرار، ابراہیم شاہ، ثمینہ بیگم، زقیہ بیگم، مفراہ، ریان، مشکوٰۃ سب جھنگ پہنچ گئے تھے یوشع کی شادی کے لیے۔ کبیر شاہ نے خصوصاً جھنگ میں فارم ہاؤس خریدا تھا تاکہ سب تقریبات ایک ساتھ اور اچھے سے ہو سکیں۔ انہیں اپنے بیٹے کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ان سب کو نور کی فیملی نے اپنے ہاں رکنے کی دعوت دی تھی مگر ابراہیم صاحب اور کبیر نے سہولت سے منع کر دیا۔
نادیہ اور افق کچھ دیر پہلے ہی ان سے مل کر اور ان کا سامان وغیرہ سیٹ کروا کر گئے تھے ساتھ میں ان کے کچھ کزنز بھی تھے جو کہ کام میں مدد کے لیے افق ساتھ لے کر آیا تھا بھئی اپ کو پتہ تو ہے پاکستان میں لڑکے والوں کو کتنا پروٹوکول ملتا ہے۔

اب ہر کوئی ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔ اشعث اور ضرار شادی کے انتظامات دیکھ رہے تھے جبکہ لڑکیوں کو اپنی تیاری کی فکر تھی۔سب شادی کیلئے ایکسائئٹڈ تھے۔
اشعث نے یوشع کی غیر معمولی خاموشی کو محسوس کیا تھا مگر کوئی سوال نہیں کیا وہ جب سے لاہور سے ہو کر آیا تھا گم سم اور الجھا ہوا لگ رہا تھا۔
                                                    
                            ✩━━━━━━✩
“بی بی جی! کیا آپ واقعی شیور (Sure) ہیں کہ آپ کو یہ کرنا ہے؟” محسن نے سامنے بیٹھی اس لڑکی سے سوال کیا جس کا چہرہ ہر قسم کے تاثرات سے پاک تھا۔
“سو فیصد محسن! اب آر یا پار۔” نہ جانے اب وہ کیا سوچے بیٹھی تھی۔
وہ تو غلام تھا اس ملعون شہزادی کے حکم کا، جی بہتر کہہ کر لوٹ گیا
جبکہ پیچھے اس زہریلی مسکراہٹ والی شہزادی کے چہرے پر عجیب زہر خند درد بھرا  تبسم بکھرا۔ پچھتاوے کا اپنوں کو

                          ✩━━━━━━✩

آج نور لوگوں کے گھر میں ‘پرات’ (پنجابی فیملیز میں شادی سے چند دن پہلے ایک مخصوص قسم کا تھال بجا کر ٹپے یعنی ثقافتی گانے گائے جاتے ہیں، یہ ڈھولکی سے ملتا جلتا ہی ایک فنکشن ہوتا ہے) کا پروگرام رکھا گیا تھا، جو کہ خالصتاً زنانہ فنکشن تھا۔

آس پڑوس سے بھی محلے والوں کو دعوت دی گئی تھی اور اب پورا صحن عورتوں سے بھرا پڑا تھا۔ درمیان میں پرات (وہ تھال جو عموماً آٹا گوندھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے) اوندھی پڑی تھی اور ایک تجربہ کار خاتون بڑی مہارت سے اسے بجا رہی تھی اور باقی سب خواتین تالیاں بجاتے ہوئے ٹپے گا رہی تھیں۔

ہماری دلہن یعنی نور، سادہ سے جوڑے میں ملبوس، دوپٹے سے چہرہ ڈھانپے وہیں موجود تھی، کیونکہ ان کے خاندان میں رواج تھا کہ دلہن بارات تک چہرہ ڈھانپ کے رکھتی ہے تاکہ شادی والے روز روپ نکھر کر آئے۔ کچھ فیملیز میں یہ رسم پرانی ہو گئی ہے اور کچھ ابھی بھی اس کو لے کر چل رہے ہیں۔ پرات کی تھاپ، تالیوں کی گونج اور عورتوں کے قہقہے مسلسل فضا میں بکھر رہے تھے۔

چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی
ایک عورت نے ٹپے کا لقمہ دیا تو سب قہقہہ لگا کر ہنسیں اور اس کے ساتھ مل کر گانے لگیں:

چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی
اودھروں آئی سس
لیا نی نوہیں لسی
نالے ساری پی گئی
نالے کیندی کھٹی
چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی
اودھروں آیا سورا
لیا نی نوہیں لسی
نالے ساری پی گیا
نالے کیندا کٹھی
چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی
اودھروں آئی ننان
لیا نی ںبھابھو لسی
نالے ساری پی گئی
نالے کیندی کھٹی
چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی
اودھروں آیا دیور
لیا نی بھابھو لسی
نالے ساری پی گیا
نالے کیندا کٹھی
چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی
اودھروں آیا سوہنا
لیا نی سوہنیے لسی
نالے سوہنا پی گیا
نالے کیندا مٹھی
چیل دا میرا ویلنڑا
میں ویل ویل تھکی

آخری جملے پر سب کھلکھلا کر ہنسیں۔

“او منڈے آلیو! تسی وی کجھ بولو۔” (لڑکے والو! آپ لوگ بھی کچھ بولو)۔ نور کے کزن کی بیوی، جو تھوڑی خوش مزاج اور چلبلی سی تھی، شاہوں کی عورتوں کو دیکھ کر بولی، کیونکہ شاہوں کی عورتیں صرف تالیاں بجا رہی تھیں اور کسی چیز میں حصہ نہیں لے رہی تھیں۔

“کڑی آلیو! آجو فیر میدان وچ۔” (لڑکی والو! آ جاؤ پھر میدان میں) جواباً مفراہ بھی چیلنجنگ انداز میں بولی۔
“اوئے ہوئے! بھابھیاں آ گیاں میدان وچ۔” (اوئے ہوئے! بھابھیاں آگئیں میدان میں)۔ عنایہ نے نعرہ لگایا۔

مفراہ اپنے میکے کی سب سے چلبلی لڑکی تھی اور آج بھی وہاں اس طرح کی محفلوں کی وہ جان تھی، پر سسرال میں اس نے کبھی کوئی خاص فنکشن اٹینڈ کیا نہیں تھا۔ زیادہ تر جو اٹینڈ کیے بھی تھے تو سنجیدگی سے، کیونکہ سلطان کی سخت طبیعت کی وجہ سے وہ زیادہ محتاط ہی رہتی تھی۔ اب اسے بھی بڑی بھابھی بن کر کوئی فنکشن انجوائے کرنے کا موقع مل رہا تھا جس سے وہ خوب فائدہ اٹھا رہی تھی۔

اب کے پرات مفراہ کے ہاتھ میں تھی اور ملائکہ (نور کی بھابھی) اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ دونوں چیلنجنگ انداز میں آمنے سامنے بیٹھی مقابلہ باز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔ باقی سب دلچسپی سے ہونے والی کارروائی کا ملاحظہ کر رہے تھے۔

ٹپیاں دی اے واری، ٹپیاں دی اے واری
میں کڑی لاہور شہر دی ٹپیاں توں نہ ہاری

مفراہ نے اترا کر کہا تو مشکوٰۃ نے تالیاں بجا کر اپنی بھابھی کو داد دی۔

کنڈا لکھ سوا لکھ دا اے
دھیان والیاں دیا
رب عزتاں رکھ دا اے

ملائکہ نے کہتے ہی ساتھ بیٹھی نور کو اپنے حصار میں لیا۔

گڈی چلدی اے رمے رمے
اگے ماہیا روز ملدا
ہن ملدا اے
جمعے جمعے

مفراہ کے منہ بنا کر کہنے پر سب نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا۔ “میں ضرار بھائی کو کہتی ہوں کہ بھابھی جان سے روز ملاقات کیا کریں!” مشکوٰۃ نے بھی بھابھی کو چھیڑنا اپنا فرض سمجھا تو اس نے ڈراماٹک انداز میں شرماتے ہوئے دوپٹہ دانتوں تلے دبایا۔

آسمانی ست تارے،
آسمانی ست تارے
اساں منڈا او لینا
جیڑا سہرے وچوں اکھ مارے

عنایہ کے شرارت سے گانے پر لڑکی والوں نے لڑکے والوں کو چھیڑا۔

آسمانی ست تارے
آسمانی ست تارے
اساں کڑی او لینی
جیڑی لینگے وچوں لت مارے

مفراہ نے ٹپے سے ہی حساب برابر کیا تو سب نے نور کو چھیڑا۔ “بھابھی! ٹانگ کی بات نہ کریں، بلیک بیلٹ ہے ہماری دلہن۔” عنایہ کا شرارت سے کہنا تھا کہ سب حیرت بھری نظروں سے نور کو دیکھنے لگیں،  یہ معلومات سب کے لیے نئی تھی۔ جبکہ نور نے جھنجھلا کر عنایہ کو زوردار چٹکی کاٹی تو وہ ‘سی’ کر کے رہ گئی۔

ساری کھیڈ لکیراں دی
گڈی آئی ٹیشن تے
اکھ پیج گئی ویراں دی

نادیہ نے نم آنکھیں پونچھی بیٹی کی رخصتی کا سوچ سوچ کر ہی ان کا دل بیٹھ رہا تھا۔

پیپلی دیاں چھاواں نی
آپے ہتھی ڈولی ٹور کے
ماں پے کرن دعاواں نی

مریم نے نور کو سینے سے لگایا پتہ نہیں وہ کب اتنی بڑی ہو گئی تھی کہ اس کو وداع کرنا پڑ رہا تھا نور نے بھی بھیگی آنکھیں چھپانے کیلئے ماں کے کندھے میں چہرہ چھپایا۔

کُنڈا لگ گیا تھالی نوں
ہتھاں اُتھے مہندی لگ گئی
اک قسمت والی نوں


پرات ابھی تک مفراہ ہی بجا رہی تھی، اب اس نے پرات بجانے کا انداز بدلا اور پھر گانا شروع کیا:

او کالا ڈوریا کُنڈے نال اڑیا ای اوے
کہ چھوٹا دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے

چھوٹے دیور کے نام پر سب لڑکیوں نے شوخی سے مشکوٰۃ کو ٹہوکا مارا تو وہ بیچاری خواہ مخواہ ہی شرمندہ ہو گئی جیسے خدانخواستہ سچ میں اس کے شاہ جی نے مفراہ کے ساتھ لڑائی کر لی ہو۔

چھوٹے دیورا، تیری دور بھلائی اوے
کہ نہ لڑ سوہنیا، تیری اک بھرجائی اوے
او کالا ڈوریا کُنڈے نال اُڑیا ای اوے
کہ چھوٹے دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے

مفراہ اور ملائکہ دونوں باری باری گا رہی تھیں باقی خواتین بھی پرجوش انداز میں ان کا ساتھ دے رہی تھیں۔

ککڑی اوہ لینی جیہڑی کُڑ کُڑ کردی اے
کہ سورے نئیں جانا، سس بُڑ بُڑ کردی اے

مفراہ نے ثمینہ کو دیکھ کر شرارت سے کہا تو انہوں نے مصنوعی انداز میں اسے آنکھیں دکھائیں۔

ککڑی اوہ لینی جیہڑی آنڈے دیندی اے
کہ سسرے دیاں جھڑکاں میری جُتی سہندی اے
او کالا ڈوریا کُنڈے نال اڑیا ای اوے
کہ چھوٹا دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے

ملائکہ نے آنکھیں گھما کر جتاتے ہوئے گایا۔ پنجابی بہوؤں کو ایک فائدہ ہے، ٹپوں کی آڑ میں ساسوں کو طعنے دے دیتی ہیں، پر یہ چھوٹی موٹی نوک جھوک ہی ہوتی ہے جو ہر تہوار اور فنکشن کی جان ہوتی ہے۔

“نور! یہ ملائکہ بھابھی چچی کو مذاق مذاق میں سنا نہیں رہی؟ شکل دیکھو چچی کی کیسی لال بھبوکا ہو رہی ہے۔” عنایہ نے مزے لیتے ہوئے کہا، کیونکہ نور کی چچی کی بلاوجہ عنایہ سے لگتی تھی اور عنایہ کو بھی وہ ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اور واقعی نور کی چچی کا چہرہ غضب سے بھرا پڑا تھا۔

او سُتھناں چِنت دیاں مُلتانوں آیاں نے
کہ ماواں اپنیاں جناں ریجھاں لائیاں نے
او قمیضاں سلک دیاں  دِلی توں آیاں نے
سساں بیگانیاں  جناں گلوں لَہائیاں نے
او کالا ڈوریا کُنڈے نال اڑیا ای اوے
کہ چھوٹا دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے

مفراہ نے خوبصورتی سے جذبات لہجے میں سموئے گایا۔

او سُن لئی گل کِتّے اہ بھابھو میری نے
کہ جا کے پُتّر دے کن بھرے ہنیری نے
سُن کے وٹ بڑا دُہلے نوں چڑھیا ای اوے
لائی لَگ ماہیّا ساڈے نال لڑیا ای اوے
او کالا ڈوریا کُنڈے نال اُڑیا ای اوے
کہ چھوٹے دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے
آکھے اماں دے، اُس پھڑھ لئی سوٹی اے
کہ مُڑ جا سوہنیا، میں تیری چن جیہی ووہٹی اوے
ننداں وڈیاں دی نہ کدے سہارا نی
تُرجا پیکے تُوں، میں رواں کنوارا اوے
او کالا ڈوریا کُنڈے نال اڑیا ای اوے
کہ چھوٹا دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے

ملائکہ منہ بسور کر گا رہی تھی۔

ماواں لاڈ لڈا تیاں نوں وگاڑن نی
کہ سساں دے دے متاں عمر سنوارن نی
ماہیّا بھُل گئی سَوںہ اج توں کھاون نی
کہ اگوں وڈیاں دے نت سیس نواون نی
او کالا ڈوریا کُنڈے نال اُڑیا ای اوے
کہ چھوٹے دیورا بھابی نال لڑیا ای اوے

مفراہ نے یہ گا کر ثمینہ کے کندھے پر لاڈ سے سر رکھا تو ثمینہ نے بھی محبت سے اپنی بہو کا ماتھا چوما۔
“ویسے چاچی کو ملائکہ بھابھی جیسی بہو ہی سوٹ کرتی ہے، جیسے کو تیسا والی۔”عنایہ کو چچی کا چہرہ دیکھ دیکھ کر گدگدی ہو رہی تھی۔

“تم لوگوں کے مزے کے چکر میں میری ساس نہ ناراض ہو جائیں۔ امی! مذاق کر رہے تھے۔” ملائکہ نے الگ بیٹھی اپنی ساس کو دیکھ کر ہانک لگائی، جو منہ سے کچھ بولنے کی بجائے مصنوعی سا مسکرا دیں۔

“مما! ماموں لوگ آ گئے ہیں۔” افق نے دھیرے سے گلا کھنکھار کر قدم اندر رکھا تو بہت سی لڑکیوں نے فوراً الرٹ ہو کر سروں پر دوپٹے لے لیے، جبکہ افق دروازے سے ہی یہ پیغام دے کر لوٹ چکا تھا۔

“اچھا انہیں دروازے پر ہی روکو، ہم آ رہے ہیں۔” مریم نے پیچھے سے آواز لگائی۔
نادیہ بیگم کے میکے والے آئے تھے اور ‘نانکا میل’ آیا تھا، پروٹوکول کے ساتھ لانا تھا نا۔
“عنایہ بیٹا! جاؤ مٹھائی اور تیل لے کر آؤ، اور ملائکہ بچوں کو پھول پکڑا کر کھڑا کرو۔” نادیہ اور مریم دروازے کی طرف بڑھیں اور ساتھ ساتھ لڑکیوں کو بھی ہدایات دیں۔
پیچھے کسی لڑکی نے شاید سپیکر چلا دیا تھا

آگیا جی پنڈ میل نانکا
ہو جو جی ہوشیار
تسی رہنا خبردار
او آگیا جی اج میل نانکا

نادیہ کی امی، تینوں بھائی اور بھابھیاں اور بھانجے، بھتیجے اور ان کی بیویاں خوش دلی سے ان سے مل رہے تھے۔

آگئے نانکے چڑھ کے
ہتھ وچ سوٹ کیس جئے پھڑ کے
موڈے تے کھونڈے سر تے ستارا
رونق لاتی وے سردارا
آگیا جی پنڈ میل نانکا

مریم نے دہلیز پر تیل گرایا، نادیہ نے ان کا منہ میٹھا کروایا، پھر ان پر پھولوں کی پتیاں پھینکی گئیں۔ افق نے شاید ڈھول والے بھی بلوا رکھے تھے۔ ڈھول کی تھاپ اور آتش بازی کے ساتھ ننھیال والوں کا ویلکم کیا گیا۔ نور آ کر باری باری سب سے ملی تھی۔ کافی دیر تک ملنے ملانے کا سیشن چلا۔ عنایہ کے زور دینے پر ہی مردوں کا انتظام ان کے گھر پر کیا گیا تھا جبکہ عورتیں افق لوگوں کے گھر پر رکی تھیں۔ چائے اور دیگر لوازمات وغیرہ سرو کیے گئے، پھر مرد حضرات دوسری طرف چلے گئے اور عورتیں اس کمرے کی طرف جہاں محفل لگی ہوئی تھی۔

اب عورتیں پھر منچلی بنی ہوئی تھیں۔ یہ پنجابی مائیں عام دنوں میں ان کے گٹے گوڈے دکھتے رہتے ہیں پر شادی میں ساری تھکاوٹ جیسے ویکیشن پر چلی جاتی ہے۔ اب نور کی نانی سمیت ساری ممانیاں بھی سفر کی تھکاوٹ بھلائے رونق لگائے بیٹھی تھیں۔

چھج اگے چھاننی
پراتی اگے ڈوئی وے
نور تیرے نانکے آئے
چج دی نا کوئی وے

مہوش (نور کی پھپھو کی بیٹی) نے معنی خیزی سے پرات بجاتے ہوئے کہا تو سارے دادکے میل کی عورتیں قہقہہ لگا کر ہنس دیں۔

دادکے اوس پنڈوں آئے
جتھے سکی ٹالی
نی ویکھو ہتھ لمکا دے اگے
سبدیاں جیباں خالی

نور کی مامی تو باقاعدہ اٹھ کر گدا (پنجابی ڈانس) ڈالنا شروع ہو گئی تھیں۔ اب میدان میں نور کی پھپھو اتریں

نانکے اوس پنڈوں آئے
جتھے سکی ٹالی
کوئی اٹا اناں نوں پا دو
انہاں دے پانڈے خالی

پھپھو بیچاری گدا ڈال ہی رہی تھیں کہ تھوڑا سا لڑکھڑا گئیں۔ اب جوابی کارروائی کے لیے نور کی تینوں مامیاں اٹھ کر اس کی پھپھو کے ارد گرد کھڑی ہو گئیں

مامی نے تاں میوے کھادے
مامی نے تاں میوے کھادے
پوآ نے کھادے ڈوڈے
نی اینے کی نچناں
کھڑ کھڑ کردے
نی کردی بیجا بیجا
نی کردی کھیجا کھیجا
چک لووووووو
کھڑ کھڑ کردے گوڈے
نی اینے کی نچناں

تینوں ممانیاں سلمہ (نور کی پھپھو) کے ارد گرد گدا ڈالتے ہوئے چکر کاٹ رہی تھیں۔ ” جا نی پوآ کھے وچ پوا تی کیتی کرائی (جاؤ پھوپھو! مٹی میں ملوا دی ساری عزت۔)” انابیہ (نور کے تایا کی بیٹی) نے مصنوعی افسوس سے کہا۔

مامی نچے پوآ نچے
دونے لان دڑنگے
لوکاں دا
نی لوکاں دا
لوکاں دا کالجا کمبے نی
آج لوکاں دا

مفراہ نے منچلے انداز میں گدھا ڈالتے ہوئے بولی ڈال کر معاملہ برابر کیا تو سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ مشکوٰۃ، مسکان (احد کی بہن) کو کمپنی دے رہی تھی جسے شام کو ہی احد ان کے پاس چھوڑ کر گیا تھا۔

“یار مشی آپی! اچھا ہو گیا میں بھیا سے ضد کر کے آگئی یہاں، کتنا مزہ آ رہا ہے۔” وہ واقعی خالص پنجابی شادی انجوائے کر رہی تھی۔ تھے وہ بھی پنجابی پر ان کا تعلق ایلیٹ فیملی سے تھا اس لیے ان کے ہاں ایسے فنکشنز کم ہی ہوتے تھے۔ اب یوشع کی شادی کا سن کر اس نے ضد کر لی کہ وہ بھی جائے گی، تو مجبورا احد کو بھی اپنی لاڈلی کی بات ماننی پڑی۔ صدیقیز اور دونوں شاہ فیملیز کے آپس میں اچھے ٹرمز تھے اور وہ کبیر شاہ کی طرف سے بھی انوائٹڈ تھے۔

دادکیاں نے لڈو کھالے
دادکیاں نے لڈو کھالے
نالے پھرن لکوئی
نی ایناں دادکیاں نوں
تایوں شوگر ہوئی

نور کے بڑے ماموں کی بہو ثانیہ میدان میں آئی۔ اس کے ٹپے پر محفل میں پھر قہقہوں کا شور گونجا۔

بولی پاواں
تے بولی پاواں للکار کے
نانکیاں دی شیخی کڈاں
میں اڈی مار کے

نور کی منجھلی تائی نے مامیوں کو دیکھ کر کہا تو ددیال والوں نے زوردار ہوٹنگ کی۔

نانکیاں دیاں کڑیاں اچیاں تے لمبیاں
دادکیاں دیاں کڑیاں تے چھوٹیاں نی
مونہوں مٹھیاں دلاں دیاں کھوٹیاں نی

جب نور کی نانی نے میدان میں آ کر باری دی تو سب نے حیرت سے ہوٹنگ کی۔
“حیران نا ہوو اسی بی بی دے نوے گوڈے پوائے آ(حیران مت ہوں! ہم نے دادی کے نئے گھٹنے لگوائے ہیں۔)” نور کی کزن نے اپنی دادی کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا تو سب کا قہقہہ پھر گونجا۔ یہ ہلکی پھلکی نوک جھوک دیر تک چلی۔
یہ تو ساری رات لگی رہتی اگر نادیہ اور مریم انہیں منع نہ کرتی۔ بڑی عورتیں چارپائیوں پر جبکہ لڑکیاں ساری نیچے زمین پر گدے ڈال کر سوئی ہوئی تھیں۔ چونکہ شاہوں کا فارم ہاؤس شہر سے فاصلے پر تھا اور راستہ سنسان تھا، اس لیے افق نے ان کے اصرار کے باوجود بھی عورتوں کے ساتھ دیر رات ان کو سفر نہیں کرنے دیا تھا۔ ابراہیم، زقیہ بیگم اور کبیر ان لوگوں کے ساتھ نہیں آئے تھے
                          ✩━━━━━━✩
عورتوں کی محفل تو ختم ہو گئی تھی اور مرد بھی سارے سو رہے تھے۔ پر افق کے سارے کزنز، شاہ برادرز اور ہمارے وکیل صاحب ابھی بھی محفل لگائے بیٹھے تھے۔
“تاتو چھوڑو مجھے مما پاس جانا ہے، وہ لوگ اتنا سارا والا مذاق کر رہے ہیں۔” ریان نے جھنجھلاتے ہوئے خود کو احد کی گود سے آزاد کروانا چاہا۔

“چاچو کا بچہ! مما لوگ سو گئے ہوں گے۔ آپ آج چاچو کے پاس سو جاؤ۔” اشعث نے پیار سے اس کے بال سنوارے، پر ریان صاحب شاید پیار جتانے کے موڈ میں نہیں تھے۔

“آپ شب لوگ تو بورنگ ہو ۔ پتہ ہے؟ آپھو لوگ سب کتنا مزہ کر رہی تھیں۔” ماتھے پر ہاتھ مار کر وہ ان سب لڑکوں پر افسوس کرتا ہوا بولا ۔


“ابے یہ چوچنا پرسنالٹی اٹیک پر آگیا ہے ابھی زمین سے نکلا نہیں اور ہمیں بورنگ بول رہا ہے۔ بتا شاہ اس کو، یونیورسٹی میں ہم کتنے پاپولر تھے اور ہر فنکشن ہماری موجودگی کے بغیر ادھورا تھا۔ یہ یوشع تو اللہ میاں کی گائے تھا، کتابیں چاٹتا رہتا تھا بس، ہم بھرپور انجوائے کرتے تھے۔” احد کو اپنی کول پرسنالٹی پر اتنا بڑا الزام دھبہ ہی لگا تھا اس لیے فوراً بول اٹھا۔
“آئی ایگری! احد اور اشعث واقعی ہماری یونیورسٹی کے پاپولر فگرز تھے۔” افق نے تائید کی تو احد نے مصنوعی کالر اچکایا۔
“میری جان! تصحیح کرو اس کو، پاپولر ہونا نہیں بغیرت ہونا کہتے ہیں۔ جب ہر کتے کام میں یہ دونوں ملوث رہتے تھے تو ایسی محفلوں میں تو یہ مطلوب رہتے ہی نا۔” یوشع کو ان کی اتنی تعریف ہضم نہیں ہوئی تھی شاید اس لیے فوراً حقیقت بیان کرنا اپنا فرض سمجھا۔
“شاہ یہ تیری نبی کو زیادہ زبان نہیں لگ گئی۔” احد نے آنکھیں چندھیا کر یوشع کو گھورا۔

“یار یہ تو اپنے جگر کا ٹوٹا ہے، اس کی چھوٹی موٹی بدتمیزیاں معاف ہیں۔” اشعث نے کہتے ہوئے بازو یوشع کی گردن کے گرد حائل کیا تو وہ مسکرا دیا، جبکہ وکیل صاحب نے منہ بسورا۔ وہ جب بھی یوشع کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کرتا تھا، یہ مجنوں کی اولاد ہمیشہ اس کی سائیڈ ہو جاتا تھا۔

“ویسے بھائی! یونیورسٹی میں کون سی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے تھے آپ لوگ؟” افق کے کزن نے تجسس سے سوال کیا تو افق اور یوشع کے چہرے پر کمینی سی مسکراہٹ پھیل گئی، جبکہ احد اور اشعث گڑبڑائے اور خواہ مخواہ پہلے سے درست کالر اور گلا کھنگار کر درست کیا۔

“ناچتے تھے یہ دونوں نمونے۔” ضرار نے سر جھٹک کر نحوست سے کہا تو یوشع اور افق نے اپنا روکا ہوا قہقہہ بحال کیا، جبکہ افق کے سب کزنز آنکھیں پھاڑے ان دونوں کو دیکھنے لگے جو دکھنے میں اچھی خاصی سنجیدہ شخصیت معلوم ہوتے تھے۔
“بھائی آپ مذاق کر رہے ہو نا؟” معصوم سامعین کو اتنی بڑی حقیقت ہضم کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ضرار مزید کوئی راز فاش کرتا کہ اس سے پہلے ہی اشعث بول پڑا: “بالکل یار! مذاق کر رہے ہیں۔ تمہیں ہم لوگ ایسے لگتے ہیں؟” اشعث کا انداز ڈرامائی تھا۔
(اب یہ تو میں اور آپ ہی جانتے ہیں نا کہ یہ دونوں کمینے پن کے آخری لیول کو چھوتے ہیں۔ اب باقی معصوموں کو کیا پتہ؟)

“ہاں نا وہی تو میں سوچوں۔” ساغر (افق کا کزن) نے تشکر بھری سانس خارج کی۔ وہ ان کی پرسنالٹی سے خاصا امپریس نظر آ رہا تھا۔ اب اگر ان کی کمینگی کا راز فاش ہو جاتا تو اس بیچارے کا تو بنا بنایا بت پاش پاش ہو جاتا۔

جبکہ اشعث مسلسل ضرار کو گھور رہا تھا جو بغیرتی کی انتہا کرتے ہوئے اس کی یونیورسٹی کے پھڈوں کی شکایت (جس میں احد اس کا بھرپور طریقے سے ساتھ دیتا تھا) خفیہ طریقے سے ابراہیم اور صدیقی صاحب تک پہنچاتا اور پھر جب ان مظلوموں(استغفر اللہ)کی پاکٹ منی بند کر دی جاتی، کارڈز بلاک کر دیے جاتے تو وہ چھوٹے موٹے یونیورسٹی کے فنکشنز میں پرفارمنس دے کر پیسے اکٹھے کرتے رہتے تھے تاکہ گزر بسر ہو سکے، کیونکہ اس معاملے میں ان کی بھولی گائے یعنی یوشع بھی ان کی مدد نہیں کرتا تھا۔ وہ بھی ان کے روز کے جھگڑوں سے تنگ تھا پر وہ ایک ڈیسنٹ سا پیارا سا ڈانس کرتے تھے تاکہ محفل میں چار چاند لگ جائیں۔ یہ کمینہ تو ایسے بول رہا تھا جیسے وہ وہاں پہ مجرا کرتے تھے۔

“اچھا! کل ہمارے فارم ہاؤس پر قوالی نائٹ کا انعقاد کیا جانا ہے اور جس کے انویٹیشنز آل ریڈی آپ لوگوں کو مل گئے ہیں پر پھر بھی میں پرسنلی ریکویسٹ کرتا ہوں کہ آپ سب نے لازماً شرکت کرنی ہے۔” یوشع نے سب کو خوش دلی سے دعوت دی تو سب نے مسکرا کر آنے کی حامی بھری۔ حالانکہ افق کی طرف سے بھی وہ لوگ مدعو تھے اور یوشع نے بھی کارڈز بھیج رکھے تھے پر اس نے انہیں پرسنلی انوائٹ کرنا ضروری سمجھا۔
“ریان بابا کی جان! ادھر آؤ میں اپنے بچے کو سلاؤں۔” یوشع کی گود میں بیٹھے، اس کے سینے سے لگے نیند میں جھولتے ہوئے ریان کو دیکھ کر ضرار نے اسے اپنے پاس بلایا تو نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ باپ کے پاس جا کر لیٹ گیا۔ ضرار نے فوراً اس پر کمبل درست کیا اور اس کو دھیرے دھیرے تھپکنے لگا۔

“اور تم سب لوگ بھی سو جاؤ، اب رات کافی ہو گئی ہے۔” شعیب (افق کے بڑے تایا کے بیٹے جو کزنز میں سب سے بڑے تھے) نے سب کو ہوش دلائی تو سب سر ہلا کر اپنے اپنے بستر کی طرف بڑھ گئے۔

صبح شاہ فیملی والے سارے ناشتے کے بعد واپس چلے گئے تھے پر جاتے جاتے ثمینہ بیگم نے بھی سب خواتین کو آج رات قوالی پر مدعو کر لیا تھا۔

                         ✩━━━━━━✩

“کیا کر رہی ہیں فاطمہ؟” اشعث جب مشکوٰۃ کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ پورا وارڈروب بکھیرے پریشان حال بیٹھی ہوئی تھی۔
“شاہ جی دیکھیں نا! میں نے سارے حجاب خود پیک کیے تھے پر آج فنکشن میں پہننے کے لیے میچنگ حجاب ہی نہیں مل رہا۔” وہ بس رو دینے کو تھی۔ اف! یہ حجابیز اور اس کے دکھ۔
شاہ جی کا سکون اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟” اشعث نے انتہائی عقیدت سے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھے تو وہ فوراً سرخ پڑی۔
“شاہ جی! پریشانی کی تو بات ہے، میں رات کو کیا پہنوں گی؟” وہ کیسے سمجھاتی اس کو اپنا مسئلہ کہ میچنگ حجاب، میچنگ جیولری اور شوز سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
اشعث کا فون رنگ ہوا تو اس نے دھیرے سے اسے اپنے حصار میں لیا اور اس کے گال چومتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔ وہ لوگ جب سے آئے تھے تیاریوں میں گھن چکر بنے ہوئے تھے۔ اسے ابھی دو پل فرصت کے ملے تو وہ اپنی فاطمہ سے ملنے آگیا جب پھر ضروری فون کال آگئی۔ پیچھے وہ پھر پریشان ہو گئی تھی۔
مفراہ سے بھی نہیں پوچھ سکتی تھی کیونکہ وہ دوپٹہ اوڑھتی تھی حجاب نہیں۔ وہ یہی سوچوں میں گم تھی کہ تقریباً آدھے گھنٹے بعد دروازہ ناک ہوا تو ملازمہ ایک بڑا سا پیکٹ تھامے اندر داخل ہوئی۔

“بی بی جی! یہ چھوٹے شاہ صاحب نے آپ کے لیے بھجوایا ہے۔” ملازمہ پیکٹ اس کو تھما کے چلی گئی۔ جب مشکوٰۃ نے وہ پیکٹ اوپن کیا تو اس میں سے ڈھیر سارے حجاب اور میچنگ انڈر کیپس اور نقاب موجود تھے۔ ہر رنگ کے مختلف شیڈز موجود تھے۔ اتنے سارے حجاب دیکھ کر مشکوٰۃ کا دل جھوم اٹھا تھا، جبکہ اپنے شاہ جی پر بے ساختہ پیار آیا جو اتنی مصروفیت کے باوجود بھی اس کی چھوٹی سے چھوٹی پریشانی کا بھی نوٹس لے رہا تھا۔

فون رنگ ہوا تو اسکرین پر شاہ جی کا نام جگمگا رہا تھا۔ ” ذہبیۃ! مل گیا سامان؟ دراصل میں مارکیٹ گیا تو کون سا کلر لینا ہے سمجھ نہیں آ رہا تھا تو سارے کلرز ہی پیک کروا لیے۔ اگر آن لائن آرڈر کرتا تو ڈیلیوری میں ٹائم لگتا۔” اشعث نے سادگی سے وضاحت کی۔

“نہیں نہیں شاہ جی! سارے بہت بہت زیادہ پیارے ہیں، اور آپ بھی کتنے پیارے ہیں نا۔” اس نے بھی تعریف کرنے میں کنجوسی نہ کی۔ وہ جب بھی اس کے لیے کوئی چیز لاتا، وہ شکریہ ادا نہیں کرتی تھی کیونکہ وہ ان چیزوں کو اپنا حق سمجھ کر رکھتی تھی اور اشعث اس کی اسی بات پر فدا تھا۔
” میں پیارا ہوں کیونکہ میں فاطمہ کا شاہ جی ہوں۔” اس نے خوبصورتی سے اعتراف کیا کہ وہ اس کے ساتھ منسوب ہے۔ اس کی بات پر وہ حسین انداز میں پرتبسم ہوئی۔ پھر فون بند کر دیا۔
اس کو لگتا تھا کہ اس کی نادانی اور معصومیت اس لیے برقرار تھی کیونکہ وہ اشعث کی چھاؤں میں تھی۔ جب عورت کا مرد اس کے لاڈ اٹھاتا رہتا ہے تو وہ برے سے برے دور کو بھی فیس کرنے کے بعد معصوم ہی رہتی ہے جیسے مشکوٰۃ تھی۔

                        ✩━━━━━━✩

قوالی نائٹ کے ایونٹ کی ڈیکوریشن خوبصورتی سے کی گئی تھی۔ تھیم وہی روایتی تھا ‘بلیک’۔ چونکہ کبیر شاہ ایک ویل نون بزنس مین تھے تو ان کے بیٹے کی شادی پر کافی بڑی بڑی ہستیاں شرکت کر رہی تھیں۔ قوالی کے لیے فارم ہاؤس کے بڑے سے لان کو ہی سجایا گیا تھا۔
قوالوں کے لیے سٹیج سجا کر اس کے سامنے نیچے سیاہ گدے بچھا کر گاؤ تکیے رکھے گئے تھے اور پانی کی بوتلیں، پاندان اور دیگر لوازمات جگہ جگہ رکھے ہوئے تھے۔ انٹرنس پر کبیر شاہ اور ابراہیم شاہ تمام مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔ خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ انتظامات کیے گئے تھے جبکہ احد، یوشع، کبیر، اشعث ایک سائیڈ پر کھڑے ساؤنڈ سسٹم  پر سر کھپا رہے تھے۔ ابھی باہر سے کوئی بھی مہمان نہیں آیا تھا صرف فیملی ہی تھی۔ افق سے ان کی بات ہو گئی تھی وہ لوگ راستے میں تھے بس پہنچنے والے تھے۔

“ابے یار! یہ کنیکٹ کیوں نہیں ہو رہا؟” اشعث کافی دیر سے ساؤنڈ سسٹم سے بلوٹوتھ کنیکٹ کر رہا تھا مگر وہ ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ تبھی باہر گاڑیاں رکنے کی آواز آئی۔ شاید افق لوگ پہنچ گئے تھے۔ شور کی آواز پر احد اور یوشع نے گردنیں گھما کر دیکھا تو وہیں ساکت ہو گئے۔ تبھی شاید اشعث کا بلوٹوتھ سپیکر کے ساتھ کنیکٹ ہو گیا تھا اور یکدم فضا میں خوبصورت سا ساز گونجا۔

یوشع اور احد کی نظریں اسی منظر پر جمی تھیں۔ سامنے ہی عنایہ اور نور، کبیر اور ابراہیم سے مل رہی تھیں۔ نور تو پوری طرح چادر میں چھپی ہوئی تھی کیونکہ وہ دلہن تھی اس لیے تھوڑے سے ہیوی لباس میں بھی ملبوس تھی۔ بلیک ٹراؤزر اور شارٹ کرتی پر بلیک ایمبرائیڈڈ گولڈن نگینوں کے کام سے لیس ہیوی سا شرگ پہنا ہوا تھا جو کہ شاہی وائبز دے رہا تھا، جس پر گولڈن کڑھائی والی ویلوٹ کی سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی۔ گولڈن اور بلیک کمبینیشن کی ہیلز اور ہلکی پھلکی گولڈن جیولری اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔ جبکہ عنایہ نے فلیرڈ سیاہ پلازو (جو کہ سلور ستاری اور بلیک ایمبرائیڈری سے لیس تھا) اس پر بلیک کرتی زیب تن کر رکھی تھی جس کے دامن اور بازوؤں پر لائٹ سا بلیک بیڈز کا کام تھا۔ سر پر حجاب اوڑھ رکھا تھا۔ حجاب کچھ اس سٹائل سے تھا کہ اس کے کانوں میں پہنے جنک سلور جھمکے صرف نمایاں ہو رہے تھے اور اس سے میچنگ ہی دو کڑے اس نے کلائیوں میں پہن رکھے تھے۔ ڈریس کا دوپٹہ اس کے بازوؤں میں جھول رہا تھا۔ وہ کلاسی اور خوبصورت لگ رہی تھی۔

احد اس کو پہلی مرتبہ اتنا تیار دیکھ رہا تھا ورنہ وہ ہمیشہ لاپرواہ سے حلیہ میں ہی نظر آتی تھی اور اس کا روپ دیکھ کر اسے اپنا دل سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔

ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو
چاند شرمائے گا چاندنی رات میں یوں نہ زلفوں کو اپنی سنوارا کرو

وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے کسی نابینا کو برسوں بعد بینائی عطا کی گئی ہو۔ اسے اس کا دل کانوں میں بجتا سنائی دے رہا تھا۔ وہ  کسی بات پر مسکرائی تو دل سنبھالنا دنیا کا مشکل ترین کام لگا تھا۔ وہ عدالتوں میں دلیل پیش کرنے والا آج اس کے سنورے ہوئے حسن کے سامنے تمام دلیلیں بھول بیٹھا تھا۔

یہ تبسم یہ عارض یہ روشن جبیں یہ ادا یہ نگاہیں یہ زلفیں حسیں
آئنے کی نظر لگ نہ جائے کہیں جانِ جاں اپنا صدقہ اتارا کرو

حالات یوشع کے بھی مختلف نہیں تھے۔ وہ اپنی قلب کا چہرہ تو نہیں دیکھ پا رہا تھا مگر اس کی سرمئی کاجل سے لبریز آنکھیں نظر آرہی تھیں جو یوشع شاہ کا پسندیدہ نظارہ تھی۔ اس نے قدم اپنی
دلہن کے سامنے روکے اور جیب سے ہزاروں روپے نکال کر اس کے سر سے وار دیے۔ ینگ پارٹی نے اس کی حرکت پر زوردار ہوٹنگ کی تھی تو کوئی ویڈیوز بنانے میں مصروف رہا۔ نور نے قاتل نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور دھیرے سے ہنسی۔ یوشع اس کی ادا پر نثار ہوا تھا۔

دل تو کیا چیز ہے جان سے جائیں گے
موت آنے سے پہلے ہی مر جائیں گے
یہ ادا دیکھنے والے لٹ جائیں گے
یوں نہ ہنس ہنس کے دلبر اشارہ کرو

یوشع تو مسکرا کر بیوی کے حسن کو سرا رہا تھا مگر وکیل صاحب ابھی بھی آنکھیں پھاڑے منہ کھولے اسے دیکھنے میں مصروف تھے۔ چونکہ ضرار اور اشعث کی بیویاں اندر موجود تھیں اس لیے انہیں اس منظر سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ سٹیج کی ڈیکوریشن میں ہی مصروف کھڑے تھے۔

ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو
چاند شرمائے گا چاندنی رات میں یوں نہ زلفوں کو اپنی سنوارا کرو

سیاہ جوڑے اور سکن چادر کندھوں پر اوڑھے مریم بتول کو سامنے دیکھ کر کبیر شاہ کے بائیں پہلو میں درد اٹھا تھا۔ آنکھیں بے ساختہ بھیگ گئیں۔ وہ ان سے چند قدموں کے فاصلے پر موجود ہونے کے باوجود بھی میلوں کی مسافت پر معلوم ہو رہی تھی۔ وہ ان کا عظیم خسارہ تھی جس کا مداوا ممکن نہیں تھا۔
پھر شاہ خاندان کے بڑے سپوت یعنی ضرار ہارون شاہ آگے بڑھے اور سب مہمان خواتین کو لے کر اندر کی جانب روانہ ہوئے جبکہ لڑکے وہیں ٹھہر گئے تھے۔
“کیا ہی ہو جائے بہنا اگر روز ایسے منہ سنوار کر پھرتی رہو نہ کہ ہر وقت سر جھاڑ منہ پھاڑ حلیے میں نظر آؤ۔” ضرار نے انوکھے انداز میں اس کی تعریف کی تو اس نے آنکھیں رول کیں، جبکہ نور نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔
نور کی قسمت کو دیکھ کر کچھ رشک کر رہے تھے، کچھ حسد، تو کچھ اسے خوش رہنے کی دعائیں بھی دے رہے تھے۔
افق نے بھی ماضی کی رنجشیں بھلا کر سب کو خوش دلی سے مدعو کیا تھا۔ ماضی کے افعال ان کا ظرف تھے اور افق کے اخلاق اس کی تربیت۔

ضرار سب کو دروازے سے ہی چھوڑ کر واپس جانے والا تھا کہ مفراہ کی آواز پر مڑ کر اسے دیکھا۔ وہ سیاہ نفیس سی ساڑی میں ملبوس تھی، بالوں کا سلیک سا بن بنا کر اس میں موتیے اور گلاب کا گجرہ پہن رکھا تھا جس کی خوشبو ایس پی صاحب کے حواسوں پر چھا رہی تھی۔ ہونٹوں پر سرخ لپسٹک اور پیروں میں سیاہ بلاک ہیلز، وہ انتہائی پر وقار انداز سے دلکش لگ رہی تھی۔ اب ایس پی صاحب کے بھی ہوش پوش اڑے تھے۔

“ضرار! ریان کو بھی اپنے پاس لے جائیں، وہاں یہ زیادہ اچھے سے انجوائے کر لے گا۔” مفراہ ریان کی انگلی تھامے ضرار کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“بیگم جان! اتنا بریتھ ٹیکنگ ہونے کے جرم میں آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔” ضرار کے ڈرامائی انداز سے کہنے پر مفراہ اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر ہنسی، جبکہ ضرار نے جھک کر ریان کو گود میں اٹھایا جو باپ جیسی ہی ڈریسنگ میں موجود تھا۔ سیاہ کرتا شلوار پر سیاہ چھوٹی سی شال اوڑھے، پیروں میں پشاوری چپل پہنے ہوئے انتہائی کیوٹ لگ رہا تھا۔

“میرے دل کی ملکہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔” ضرار نے کہتے ہوئے جھک کر اس کے دائیں گال پر بوسہ دیا تو اس کے گال ہلکے گلابی ہوئے۔
“میری متلہ(ملکہ) بہت پھوکصورت (خوبصورت) لگ رہی ہے۔” ریان نے بھی باپ کی نقل کرتے ہوئے ماں کے بائیں گال پر بوسہ دیا تو دونوں اس کی کیوٹ سی حرکت پر ہنس دیے، وہ ابھی مشکل الفاظ ادا کرتے ہوئے اٹک جاتا تھا۔ مفراہ کو بیٹے کی حرکت پر بے تحاشہ پیار آیا اس لیے اس کے دونوں گال چٹا چٹ چوم ڈالے۔

“میرا ریٹرن گفٹ؟” ضرار نے شرارت سے کہتے ہوئے اپنا گال آگے کیا تو مفراہ نے اسے گھورا۔ “گود میں تو اٹھا رکھا ہے۔” اس نے ریان کی طرف اشارہ کیا۔
“اچھا! مجھے لگتا ہے مجھے ایک اور ایسا ریٹرن گفٹ بھی لے ہی لینا چاہیے۔” ضرار کے چھیڑنے پر وہ خود میں سمٹی۔ “شرم کریں!” اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ضرار نے قہقہہ لگایا۔

“بھائی! بھابھی! ٹھیک سے کھڑے ہوں میں آپ کی پکچر کلک کرتی ہوں۔” مشکوٰۃ اشتیاق سے ان کے پاس آئی وہ سیاہ اور ڈل گولڈ کمبینیشن کے لانگ فراک اور غرارے میں ملبوس تھی سر بھی حجاب تھا اور ڈوپٹہ کندھے پر۔ اس کی بات پر ضرار اور مفراہ نے ریان کے ساتھ مسکرا کر چند پکچرز کلک کروائیں۔ پھر ضرار نے فون پکڑ کر سیلفی کیمرے کے فریم میں مشکوٰۃ کو بھی ساتھ لیا۔
“جاؤ اپھو کو بلا کر لاؤ۔” ضرار نے ریان کو نیچے اتارتے ہوئے کہا تو وہ فوراً عنایہ کو بلا لایا۔
“جی لالا!” صرف مشکوٰۃ ہی اسے بھائی بولتی تھی باقی سب اسے لالا ہی بولتے تھے۔
“میں نے سوچا آج شکل سے اچھی لگ رہی ہو تو اپنے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف دے ہی دوں تمہیں۔” ضرار نے کمالِ شانِ بے نیازی سے کہا تو عنایہ جل بھن کر رہ گئی۔
“بھابھی! اپنے شوہر کو سمجھا دیں، مجھ سے عزت سے بات کیا کریں۔” اس نے مفراہ کو شکایت لگائی۔ پھر اسی طرح کی نوک جھوک میں ضرار چند تصویریں بنوانے کے بعد چلا گیا کیونکہ اسے مزید خواتین میں رکنا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔

مشکوٰۃ نے اپنی کچھ تصویریں اشعث کو سینڈ کیں تو اس کا ہمیشہ کی طرح “میری روح کا سکون لگ رہی ہیں، میرے دل کی دھڑکن” ریپلائی پڑھ کر بچوں کی طرح خوش ہو گئی۔ اس کو بچپن سے ہی اس سے تعریفیں بٹورنے کی عادت تھی۔

                          ✩━━━━━━✩
قوالی کا فنکشن سٹارٹ ہو گیا تھا۔ عورتیں بھی اپنے حصے میں آ گئی تھیں، ان کی پرائیویسی کا خاص انتظام رکھا گیا تھا۔ تمام مرد حضرات جھوم جھوم کر قوالی انجوائے کر رہے تھے۔ سب لڑکے ایک جیسے لباس میں ملبوس تھے صرف دونوں دولہوں کی شال مختلف تھی، ان کی شال پر سنہری بارڈر تھا اور اس پر خوبصورتی سے سنہری رنگ میں ان کا نام کڑھائی کیا گیا تھا۔

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر
جب نظر سے ملائی مزا آگیا
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی
آگ ایسی لگائی مزا آگیا

قوال کے جملے گنگنانے پر منچلے لڑکوں نے زوردار ووٹنگ کی تھی۔ پورا ماحول سجا ہوا تھا۔ دوسری طرف لڑکیاں بھی خوب انجوائے کر رہی تھیں۔

جام میں گھول کر حسن کی مستیاں
چاندنی مسکرائی مزا آگیا
چاند کے سائے میں اے مرے ساقیا
تو نے ایسی پلائی مزا آگیا


نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا
بزم رنداں میں ساغر کھنکنے لگا
میکدے پہ برسنے لگیں مستیاں
جب گھٹا گھر کے آئی مزا آگیا

بے حجابانہ وہ سامنے آگئے
اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
آنکھ ان کی لڑی یوں مری آنکھ سے
دیکھ کر یہ لڑائی مزا آگیا

یوشع کو بے ساختہ اپنے نکاح کا دن یاد آیا۔ یہ قوالی اس کے اس دن کے حالات کی ترجمانی کرتی معلوم ہو رہی تھی۔ سب بے تحاشہ نوٹوں کی بارش کر رہے تھے۔

آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر
سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر
اس نے شرما کے میرے سوالات پہ
ایسے گردن جھکائی مزا آگیا

اشعث کو اپنی سنہری گڑیا کا چھوٹی سے چھوٹی بات پر سرخ گلاب بننا یاد آیا۔

شیخ صاحب کا ایمان بک ہی گیا
دیکھ کر حسن ساقی پگھل ہی گیا
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے
لٹ گئی پارسائی مزا آگیا
احد کو وہ دن یاد آیا تھا جب اس مغرور وکیل نے کسی کی تیز زبان پر اپنا مقدمہ ہارا تھا۔

اے فناؔ شکر ہے آج بعد فنا
اس نے رکھ لی مرے پیار کی آبرو
اپنے ہاتھوں سے اس نے مری قبر پہ
چادر گل چڑھائی مزا آگیا

قوال کے قوالی ختم کرنے پر سب نے اٹھ کر اسے داد پیش کی۔

“کالی کالی زلفوں!” ہجوم میں سے کسی نے زوردار آواز میں نعرہ لگا کر فرمائش کی تو سب نے اسی قوالی کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ قوال نے جوں ہی سٹارٹ لیا تو سب نے پھر سے ہوٹنگ شروع کر دی۔

کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو
ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو
آپ اس طرح تو ہوش اڑایا نہ کیجیے
یوں بن سنور کے سامنے آیا نہ کیجیے

اف! آج شاید قوال نے بھی تہیہ کر رکھا تھا وکیل صاحب کے دل کے تار ہلانے کا۔ اس کی نظروں سے وہ منظر ہٹ ہی نہیں رہا تھا جب اس نے عنایہ کو خوبصورت انداز میں سجا ہوا دیکھا تھا۔

نہ چھیڑو ہمیں ہم ستائے ہوئے ہیں
بہت زخم سینے پہ کھائے ہوئے ہیں
ستم گر ہو تم خوب پہچانتے ہیں
تمہاری اداؤں کو ہم جانتے ہیں
دغا باز ہو تم ستم ڈھانے والے
فریب محبت میں الجھانے والے
یہ رنگین کہانی تمھی کو مبارک
تمہاری جوانی تمھی کو مبارک
ہماری طرف سے نگاہیں ہٹا لو
ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو

“ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو” یہ لائن سب مل کر کورس میں جھومتے ہوئے گا رہے تھے۔

جب بات چلتی ہے
مہکشی کروٹیں بدلتی ہے
بن سنور کر وہ جب نکلتے ہیں
دلکشی ساتھ ساتھ چلتی ہے
ہار جاتے ہیں جیتنے والے
وہ نظر کیسی چال چلتی ہے
جب ہٹاتے ہیں رخ سے زلفوں کو
چاند ہنستا ہے رات ڈھلتی ہے
بادَ کش جام توڑ دیتے ہیں
جب نظر سے شراب بدلتی ہے
کیا قیامت ہے ان کی انگڑائی
کھینچ کے گویا کمان چلتی ہے
یوں حسینوں کی زلف لہرائے
جیسے ناگن کوئی مچلتی ہے

اس قوالی نے سب کو سر دھننے پر مجبور کیا تھا۔

سنبھالو ذرا اپنا آنچل گلابی
دکھاؤ نہ ہنس ہنس کے آنکھیں شرابی
سلوک ان کا دنیا میں اچھا نہیں ہے
حسینوں پہ ہم کو بھروسہ نہیں ہے
اٹھاتے ہیں نظریں تو گرتی ہے بجلی
ادا جو بھی نکلی قیامت ہی نکلی
جہاں تم نے چہرے سے آنچل ہٹایا
وہی اہل دل کو تماشہ بنایا
خدا کے لیے ہم پر ڈورے نہ ڈالو
ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو
صدا وار کرتے ہو تیغِ جفا کا
بہاتے ہو تم خون اہل وفا کا
یہ ناگن سی زلفیں یہ زہریلی نظریں
وہ پانی نہ مانگے یہ جس کو بھی ڈس لیں
وہ لٹ جائے جو تم سے دل کو لگا لے
پھرے حسرتوں کا جنازہ اٹھائے
ہے معلوم ہم کو تمہاری حقیقت
محبت کے پردے میں کرتے ہو نفرت
کہیں اور جا کے ادائیں اچھالو
ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو

اس قوالی نے تو پورا ماحول بدل لیا تھ۔ کسی کو محبوب کا حسن یاد آیا تھا تو کسی کو محبوب کے ستم۔

یوشع نے احد کو پاس بلا کر اس کے کان میں کچھ کہا تو اس نے سر ہلا کر اس کی فرمائش قوال کو بتائی۔ “دولہے میاں کی فرمائش پر پیش خدمت ہے: آفریں آفریں!” دولہے کی فرمائش کا سن کر ایک طوفان بدتمیزی مچ گیا تھا۔ سب لڑکے معنی خیز جملے کستے ہوئے یوشع کو چھیڑ رہے تھے تو لڑکیاں نور کو، جس کا چہرہ ابھی تک ڈھکا ہوا تھا۔ کبیر نے دولہوں کے سر سے پیسے وار کر صدقہ دیا تھا۔

آفریں آفریں!
آفریں آفریں!
حسنِ جاناں کی تعریف ممکن نہیں
آفریں آفریں!
تو بھی دیکھے اگر، تو کہے ہمنشیں
آفریں آفریں!
ایسا دیکھا نہیں، خوبصورت کوئی
جسم جیسے اجنتا کی مورت کوئی
جسم جیسے نگاہوں پہ جادو کوئی
جسم نغمہ کوئی، جسم خوشبو کوئی
جسم جیسے مچلتی ہوئی راگنی
جسم جیسے مہکتی ہوئی چاندنی
جسم جیسے کہ کھلتا ہوا اک چمن
جسم جیسے کہ سورج کی پہلی کرن
جسم ترشا ہوا دلکش و دلنشیں
صندلیں صندلیں، مرمریں مرمریں
آفریں آفریں!
ہر ہر بول پر یوشع کے تصور کے پردوں پر اپنی بیوی کا عکس ابھر رہا تھا۔
چہرہ اک پھول کی طرح شاداب ہے
چہرہ اس کا ہے یا کوئی ماہتاب ہے
چہرہ جیسے غزل، چہرہ جانِ غزل
چہرہ جیسے کلی، چہرہ جیسے کنول
چہرہ جیسے تصور بھی، تصویر بھی
چہرہ اک خواب بھی، چہرہ تعبیر بھی
چہرہ کوئی الف لیلوی داستاں
چہرہ اک پل یقیں، چہرہ اک پل گماں
چہرہ جیسا کہ چہرہ کہیں بھی نہیں
ماہ رو ماہ رو، مہ جبیں، مہ جبیں
آفریں آفریں!
اشعث چوری چھپے فون نکال کر مشکوٰۃ کی تازہ بھیجی گئی تصویر نہار رہا تھا۔

آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا
جام دو اور دونوں ہی دو آتشہ
آنکھیں یا میکدے کے یہ دو باب ہیں
آنکھیں ان کو کہوں یا کہوں خواب ہیں
آنکھیں نیچی ہوئیں تو حیا بن گئیں
آنکھیں اونچی ہوئیں تو دعا بن گئیں
آنکھیں اٹھ کر جھکیں تو ادا بن گئیں
آنکھیں جھک کر اٹھیں تو قضا بن گئیں
آنکھیں جن میں چھپے آسمان و زمیں
نرگسیں نرگسیں، سرمگیں سرمگیں
آفریں آفریں!
احد کو بے ساختہ حزن میں لپٹی بھوری نگاہیں یاد آئیں اور اشعث کا قرار وہ سنہری آنکھیں لوٹ گئی تھیں۔افق کو بھی بے ساختہ اپنی منگیتر کا تصور پر جھلکتا اٹھتی جھکتی پلکوں کا رقص بے چین کر گیا تھا

زلفِ جاناں کی بھی لمبی ہے داستاں
زلف کی میرے دل پر ہیں پرچھائیاں
زلف جیسے کہ امڈی ہوئی ہو گھٹا
زلف جیسے کہ ہو کوئی کالی بلا
زلف الجھے تو دنیا پریشان ہو
زلف سلجھے تو یہ زیست آسان ہو
زلف بکھرے سیاہ رات چھانے لگے
زلف لہرائے تو رات جانے لگے
زلف زنجیر ہے، پھر بھی کتنی حسیں
ریشمیں ریشمیں، عنبریں عنبریں
آفریں آفریں!


سب لڑکے منچلے موڈ میں آ چکے تھے جبکہ کچھ تو ساتھ ساتھ پیسے اڑا رہے تھے اور ساتھ جھوم رہے تھے۔
قوال نے نئی قوالی شروع کی تو ایک شور کا ایک طوفان برپا ہو گیا


عشق وہ بلا ہے، عشق وہ بلا ہے
جس کو چھوا اِس نے، وہ جلا ہے
دل سے ہوتا ہے شروع، دل سے ہوتا ہے شروع
پر کمبخت سر پہ چڑھا ہے

کبھی خود سے، کبھی خدا سے
کبھی زمانے سے لڑا ہے
اتنا ہوا بدنام، پھر بھی…
ہر زباں پہ اَڑا ہے

عشق کی سازشیں،عشق کی بازیاں
ہارا میں کھیل کے دو دلوں کا جوا

کیوں تُو نے میری فرصت کی؟
کیوں دل میں اتنی حرکت کی؟
عشق میں اتنی برکت کی
یہ تُو نے کیا کیا؟
پھروں اب مارا مارا میں
چاند سے بچھڑا تارا میں
دل سے اتنا کیوں ہارا میں؟
یہ تُو نے کیا کیا؟
ساری دنیا سے جیت کے میں آیا ہوں ادھر
تیرے آگے ہی میں ہارا، کیا تُو نے کیا اثر؟
میں دل کا راز کہتا ہوں
کہ جب جب سانسیں لیتا ہوں
تیرا ہی نام لیتا ہوں
یہ تُو نے کیا کیا؟
میری بانہوں کو تیری سانسوں کی جو عادتیں لگی ہیں ایسی
جی لیتا ہوں اب میں تھوڑا اور
میرے دل کی ریت پہ آنکھوں کی جو پڑے پرچھائیں تیری
پی لیتا ہوں تب میں تھوڑا اور
جانے کون ہے تُو میری، میں نہ جانوں یہ، مگر
جہاں جاؤں میں، کروں میں وہاں تیرا ہی ذکر
مجھے تُو راضی لگتی ہے
جیتی ہوئی بازی لگتی ہے
طبیعت تازہ لگتی ہے
یہ تُو نے کیا کیا؟
میں دل کا راز کہتا ہوں
کہ جب جب سانسیں لیتا ہوں
تیرا ہی نام لیتا ہوں
یہ تُو نے کیا کیا؟
دل کرتا ہے تیری باتیں سنوں
سودے میں ادھورے چنوں
مفت کا ہوا یہ فایدہ
کیوں خود کو میں برباد کروں؟
فنا ہو کے تجھ سے ملوں
عشق کا عجب ہے قاعدہ
تیری راہوں سے جو گزری ہے میری ڈگر
میں بھی آگے بڑھ گیا ہوں ہو کے تھوڑا بے فکر
کہو تو کس سے مرضی لوں؟
کہو تو کس کو عرضی دوں؟
ہنستا اب تھوڑا فرضی ہوں
یہ تُو نے کیا کیا؟
میں دل کا راز کہتا ہوں
کہ جب جب سانسیں لیتا ہوں (عشق کی)
تیرا ہی نام لیتا ہوں
یہ تُو نے کیا کیا؟
کیوں تُو نے میری فرصت کی؟ (سازشیں)
کیوں دل میں اتنی حرکت کی؟
عشق میں اتنی برکت کی (عشق کی)
یہ تُو نے کیا کیا؟
پھروں اب مارا مارا میں (بازیاں)
چاند سے بچھڑا تارا میں
دل سے اتنا کیوں ہارا میں؟
(ہارا میں کھیل کے دو دلوں کا جوا)

اس قوالی پر تو سب لڑکے خوب مستی کر رہے تھے چھوٹا سا ریان بھی ان میں شامل تھا۔ یہ مستی اور لطف بھری محفل دیر تک چلی تھی۔ کچھ مہمان لوٹ گئے تھے تو کچھ فارم ہاؤس میں ہی قیام پذیر تھے۔ شاہ خاندان والوں کے گھر میں برسوں بعد کوئی خوشی آئی تھی جس میں سب ساتھ تھے اور سب دل کھول کر اسے انجوائے بھی کر رہے تھے۔


                            ✩━━━━━━✩

آج مہندی کا فنکشن تھا۔ نور، یوشع اور افق کی مہندی مشترکہ ہی ہونی تھی۔ مہندی کا اہتمام کھلے ہال میں کیا گیا تھا۔ یہاں پر بھی خواتین اور مردوں کا علیحدہ علیحدہ انتظام تھا۔ نور برائیڈل روم میں موجود تھی، عنایہ بھی اس کے ساتھ ہی تھی جبکہ مفراہ گیٹ پر مہمانوں کو ویلکم کر رہی تھی۔

مردوں والی سائیڈ پر فارملی رسم کرنے کے بعد کھانا وغیرہ لگا دیا گیا تھا۔ باہر کے مہمان کھانا کھا کر رخصت ہو گئے تھے، جبکہ افق، احد، اشعث اور ضرار کو زبردستی دوسری طرف لے جانے پر آمادہ تھا۔

“یار! وہاں عورتوں میں ہم کیا انجوائے کریں گے؟” احد کے دہائی دینے پر سب نے اس کی تائید کی۔
“یار، کزنز کی ڈیڑھ سو کالز آ گئی ہیں کہ ‘جیجا جی کو لے کر آؤ’۔” افق کی مجبوری بھی ویلڈ تھی لڑکیوں نے اس کا سر کھایا ہوا تھا۔
“ٹھیک ہے، پر روکھی سوکھی انٹری نہیں ہوگی تو بس 15 منٹ ویٹ کرو”

ابےےے!!! بغیرت… اس سے واحیات آئیڈیا نہیں آیا تھا۔” یوشع نے دانت پیستے ہوئے احد کو کوسا۔
“چلو یار دیر ہو رہی ہے اب جو ہے سو ہے۔” اشعث کے بیزاری سے کہنے پر چاروں کو چار و ناچار چلنا پڑا۔
عورتوں والی سائیڈ کی لائٹس یکدم بند ہوئیں اور چلتے ہوئے میوزک کا شور تھما اسپاٹ لائٹ آن ہوئی جس میں چھوٹا سا ریان بھاگتا ہوا آیا۔
“منڈے آگئے کڑیو!”
اس کے چلا کر کہنے پر سب لڑکیاں اس کی ٹوٹی پھوٹی پنجابی پر ہنس دیں۔ پھر ڈھول کی تھاپ فضا میں گونجی اور میوزک آن ہوا

کب سے آئے ہیں تیرے دلہا راجا
اب دیر نہ کر، جلدی آجا
کب سے آئے ہیں تیرے دلہا راجا
اب دیر نہ کر، جلدی آجا

پھر ایک عظیم شاہی سواری برآمد ہوئی۔ CD 70 موٹر سائیکل کے ساتھ لکڑی کی ریڑھی جوڑ کر اس کو پھولوں سے سجایا گیا تھا، جس پر دونوں دولہے منہ بسورے زبردستی بٹھائے گئے تھے اور وکیل صاحب شاہی سواری ڈرائیو کر رہے تھے۔ اشعث اور ضرار نے فائر اسپارک گنز تھام رکھی تھیں۔ افق کے کزن ڈھول پر رقص کر رہے تھے۔ لڑکیاں ان کی انوکھی انٹری پر ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تھیں۔

تیرے گھر آیا، میں آیا تجھ کو لینے
دل کے بدلے میں دل کا نذرانہ دینے
تیرے گھر آیا، میں آیا تجھ کو لینے
دل کے بدلے میں دل کا نذرانہ دینے
میری ہر دھڑکن
کیا بولے ہے، سن سن سن سن
ساجن جی گھر آئے، ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے؟ ساجن جی گھر آئے

پھر ان پر چھت سے پھولوں کی بارش ہوئی۔ لڑکے بھنگڑا ڈالتے ہوئے دولہوں کو اسٹیج پر چھوڑ کر آئے تھے۔

اے دل، چلے گا اب نہ کوئی بہانہ
گوری کو ہوگا اب ساجن کے گھر جانا
ماتھے کی بندیا
کیا بولے ہے، سن سن سن سن
ساجن جی گھر آئے، ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے؟ ساجن جی گھر آئے
دیوانے کی چال میں، پھنس گئی میں اس جال میں
اے سہیلیو، کیسے؟ بولو (بولو)

ابھی سب سنبھلے ہی تھے کہ فضا میں پھر سے ہیوی بائیکس کی آواز گونجی۔ ایک بائیک پر عنایہ سوار تھی جبکہ دوسری پر تانیہ (نور کی کزن)۔ انہوں نے دونوں نے ایک ایک ہاتھ میں بڑی سی چادر تھام رکھی تھی جس کے پیچھے کا سارا منظر چھپا ہوا تھا نور کی کزنز فائر سپارکنک گنز تھامے کھڑی تھی تو کوئی کلر سموک بمب پکڑے ہوئے تھیں لڑکیوں کی اینٹری دھماکے دار تھی۔


ہاں، مجھ پہ تو اے دلربا
تیری سکھیاں بھی فدا
یہ بولیں گی کیا؟ پوچھو (پوچھو)
جا رے، جا جھوٹے، تعریفیں کیوں لوٹے؟
(جا رے، جا جھوٹے، تعریفیں کیوں لوٹے؟ ہائے)
تیرا مستانہ
کیا بولے ہے، سن سن سن سن
ساجن جی گھر آئے، ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے؟ ساجن جی گھر آئے


عنایہ نے پردہ گرایا تو لڑکیوں کا ایک ایک جوڑا قطار کی صورت میں خوبصورت ریشمی ڈوپٹے تھامے کھڑا تھا۔

نہ سمجھے نادان ہے، یہ میرا احسان ہے
چاہا جو، اس کو کہہ دو (کہہ دو)

پھر وہ سب باری باری ڈوپٹہ گراتی جاتیں اور ہٹتی جاتیں۔

چھیڑے مجھ کو جان کے، بدلے میں احسان کے
دے دیا دل، اس کو کہہ دو (کہہ دو)
تو یہ نہ جانے، دل ٹوٹے بھی دیوانے
(تو یہ نہ جانے، دل ٹوٹے بھی دیوانے، ہائے)

جب آخری جوڑی ہٹی تو اولیو گرین غرارے اور شارٹ فراک میں ملبوس گھونگھٹ اوڑھے یوشع کی دلہن بنی نور کھڑی تھی۔

تیرا دیوانہ
کیا بولے ہے، سن سن سن سن
ساجن جی گھر آئے، ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے؟ ساجن جی گھر آئے

یوشع کا دل اس کو دیکھ کر نئی لہر پہ دھڑکا۔

مہندی لگا کے، گہنے پا کے
مہندی لگا کے، گہنے پا کے
ہائے، رو کے، تو سب کو رلا کے
سویرے چلی جائے گی، تو بڑا یاد آئے گی
تو جائے گی، تو بڑا یاد آئے گی
(تو بڑا یاد آئے گی، یاد آئے گی)
مہندی لگا کے، گہنے پا کے
مہندی لگا کے، گہنے پا کے
ہائے، رو کے، تو سب کو رلا کے
سویرے چلی جائے گی، تو بڑا یاد آئے گی
تو جائے گی، تو بڑا یاد آئے گی
(تو بڑا یاد آئے گی، یاد آئے گی)

بیٹی کو اس روپ میں دیکھ کر مریم اور نادیہ کی آنکھیں نم ہوئیں۔ پھر وہ نم آنکھوں سے آگے بڑھیں اور اس کو باری باری سینے سے لگایا۔ نور کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ اس کو اس موقع پر سب سے زیادہ یاد اپنے باپ کی آئی تھی۔ اگر اس کے بابا زندہ ہوتے… اس سے آگے کا سوچتے ہوئے دل عجیب سا ہوتا تھا۔ کیا اس کے بابا ماضی ہو گئے تھے؟ ماحول کو یکدم سنجیدہ ہوتے دیکھ کر یوشع اسٹیج سے نیچے آیا۔

تیرے گھر آیا، میں آیا تجھ کو لینے
دل کے بدلے میں دل کا نذرانہ دینے
میری ہر دھڑکن
کیا بولے ہے، سن سن سن سن
ساجن جی گھر آئے، ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے؟ ساجن جی گھر آئے
ساجن جی گھر آئے، ساجن جی گھر آئے
دلہن کیوں شرمائے؟ ساجن جی گھر آئے

مریم کو نور سے علیحدہ کر کے اس نے اپنے سینے سے لگا کر ان کے ماتھے کا بوسہ لیا۔
“یار! آپ دونوں رو کیوں رہی ہیں؟ میری بیوی کو بھی رلا رہی ہیں۔” یوشع کے شرارت سے کہنے پر وہ دونوں روتے روتے ہنس دیں۔ پھر یوشع نے عقیدت سے نور کا ہاتھ تھاما اور اسے اسٹیج پر ساتھ لے جا کر بٹھا لیا۔ سب باری باری ان کی رسم کرنے لگے۔

“دیکھو جاہلو لڑکیوں نے کتنی اوسم انٹری کی ہے اور یہ کھوتا ریڑھی اٹھا لایا۔۔۔ آیا بڑا روکھی سوکھی انٹری نہیں ہو گی” ضرار نے احد کی نقل اتار کر جلتے کڑھتے کہا۔
“لالا اچھی خاصی موٹر سائیکل کو کھوتا تو نہ بولیں” احد کو یہ بات قابل اعتراض لگی تھی۔
“انہوں نے موٹر سائیکل کو کھوتا نہیں بولا اس کو جو کھوتا چلا رہا تھا اس کو کھوتا بولا ہے” اشعث نے بھی تپے ہوئے انداز میں وکیل صاحب کی بےعزتی کے کار خیر میں حصہ ڈالا۔
“وہی تو سارے اورا کی ماں بہن کر دی اس بغیرت نے” یوشع نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے تو بمشکل خود پر ضبط کر احد صبر کر گیا۔
پھر ان تینوں نے مل کر یوشع کی رسم کے بہانے اس کا سر تیل سے اور چہرہ ہلدی سے رنگا تھا اور بیچارہ یوشع پاس بیٹھی نور کا خیال کرتے ہوئے انہیں کھل کر گالیاں بھی نہیں دے پا رہا تھا اور نور گھونگھٹ میں گردن جھکا کر اس کی حالت انجوائے کرتے ہوئے دبا دیا سا ہنس رہی تھی۔

” اللّٰہ ان لبوں کو ہنسی کو سلامت رکھے کیونکہ یہ صرف ہنسی نہیں میرے دل کا قرار ہے۔” یوشع نے دھمیے سے اس کے کان میں سرگوشی کی نور کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ یوشع دھیرے سے اس کی چھوٹی انگلی اپنی انگلی میں الجھائی وہ مسلسل اس کے ہاتھوں سے کھیل رہا تھا اور اس کی ایسی حرکتوں پر نور کی مسکراہٹ ہونٹوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی۔

“تم تو ہو ہی مکار… تم مجھ سے پیار ہی نہیں کرتے۔” عنایہ جو دلچسپی سے سامنے نور کے نیولی انگیجڈ کزنز کی لڑائی انجوائے کر رہی تھی، (وہ صرف ان دونوں کو دیکھ پا رہی تھی، اس تک ان کی آواز نہیں پہنچ رہی تھی) آواز پر گردن موڑ کر دیکھا تو احد بھی شرارتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی شرارت سمجھ کر عنایہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

“جان! سمجھنے کی کوشش کرو، میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں۔” وہ لڑکا شاید اس لڑکی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ عنایہ اور احد کو آواز تو نہیں آ رہی تھی مگر وہ پھر بھی خود ہی فن کے لیے ان کی نقل اتار رہے تھے۔
“نہیں کرتے تم پیار! اگر پیار کرتے ہوتے تو مجھے حکیم لقمان کا چورن لا کر دیتے۔” احد کے باریک سی آواز میں نقل اتارنے پر عنایہ زور سے ہنسی۔
“ڈارلنگ! ابھی بجٹ تھوڑا ٹائٹ چل رہا ہے نا، سمجھا کرو۔” عنایہ نے مصنوعی بیچارگی سے کہا۔
ابھی دونوں میں سے کوئی کچھ اور بولتا کہ نور کی ایک کزن ان کے درمیان آ کر بیٹھ گئی۔
“کیا ہو رہا ہے؟” اس نے زبردستی ان کی کنورسیشن میں گھسنے کی کوشش کی تو احد بنا کچھ بولے وہاں سے اٹھ گیا۔
“ارے، انہیں کیا ہوا؟” لڑکی کو شاید احد کے اٹھ کر جانے پر حیرت ہوئی تھی۔
“ہمارے لڑکے پرائی لڑکیوں سے شرما جاتے ہیں۔” عنایہ بھی مسکراہٹ دبا کر کہتے ہوئے اٹھ کر اسٹیج کی طرف بڑھ گئی۔

 

“کچھ چاہیے فخر بھائی؟” عنایہ اسٹیج پر جا ہی رہی تھی کہ ایک سائیڈ پر ارحم کو مسکان کو گھیرے کھڑا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں شعلے لپکے، پر وہ طیش پر ضبط کر گئی۔
“نہیں، تم سے مطلب؟” وہ اس کی آمد سے گبھرا گیا تھا پر خود کو کمپوز کر گیا۔
“مسکان بچے! آ جاؤ نور کے پاس چلتے ہیں۔” عنایہ نے اسے پیار سے پکارا۔ مسکان ابھی صرف میٹرک میں ہی تھی اس لیے سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے سب اسے اسی طرح ہی ٹریٹ کر رہے تھے۔

“نہیں، میں بھیو کے پاس جا رہی ہوں۔” وہ صورتحال سے ڈر گئی تھی اس لیے فوراً ضرار اور اشعث کے ساتھ بیٹھے احد کی طرف بڑھ گئی اور جا کر اس کے بازو سے لگ کر بیٹھ گئی۔

“کیا ہوا ہے؟” اس کی پریشان صورت دیکھ کر احد نے اس کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا۔ وہ اس سے کافی سال چھوٹی تھی اور گھر بھر کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے جتنی مغرور تھی اتنی ہی حساس بھی۔ وہ کچھ کہنے کی بجائے اس کے کندھے میں منہ چھپا کر رونے لگی تو ضرار اور اشعث بھی بوکھلا گئے۔
“ارے بچے کیا ہوا ہے؟” وہ سبھی پریشان ہو گئے تھے۔
“بھیو! وہ گھٹیا لڑکا مجھے ہریس کر رہا تھا، عنایہ آپی نے مجھے اس سے دور کیا۔” وہ اپنی ہر بات بلا جھجک احد کو بتانے کی عادی تھی۔ احد نے اس کے ساتھ بہت اچھا بانڈ بنا رکھا تھا۔ اس کی بات سن کر سب نے سرخ نظروں سے اس کے اشارے کے تعاقب میں دیکھا۔
فخر کی اگلی حرکت پر احد کا چہرہ تانبے کی مانند سرخ ہوا تھا۔ وہ اسٹیج پر چڑھ کر عنایہ کو نازیبا انداز میں چھونے کی کوشش کر رہا تھا۔ احد اس کو دھنکنے جا ہی رہا تھا کہ اشعث نے بازو تھام کر روک دیا۔
“غلط بندی سے پنگا لے رہا ہے وہ، خود ہی دیکھ لے گی۔” اشعث نے اسے بٹھایا۔
اور ایسا ہی ہوا تھا۔ اس سے پہلے کہ فخر عنایہ کو چھوتا، عنایہ نے بنا مڑے اس کا بڑھا ہوا بازو تھام کر مروڑا اور اسے اس کی کمر سے لگا دیا۔ ہڈی ٹوٹنے کی آواز میوزک کی تیز آواز میں ہی دب گئی تھی۔ پھر اس کے گھٹنے پر ٹانگ مار کر اسے گرایا اور بالوں سے پکڑ کر اسے اسٹیج سے نیچے دھکا دے دیا۔ یہ سب اس نے اتنی پھرتی سے کیا تھا کہ سب کو یہی لگا کہ فخر خود اسٹیج سے نیچے گرا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
عنایہ کی برداشت کی حد یہیں تک تھی۔ ضرار اور اشعث نے مغرور انداز میں چیئر سے ٹیک لگا کر کالر اچکایا اور اپنی اسٹوڈنٹ کو داد دی۔ احد کو کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی، وہ عنایہ سے کچھ ایسی ہی توقع کر رہا تھا، پھر بھی اس کا طیش ابھی کم نہیں ہو رہا تھا۔ اور مسکان حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس شیرنی کو دیکھ رہی تھی۔

تقریب میں بدمزگی پھیل گئی تھی، سب لوگ فخر کو لے کر ہسپتال دوڑے تھے۔ افق کے ددھیال والے تقریباً سبھی رخصت ہو گئے تھے۔ افق نے کہہ دیا تھا کہ تقریب ختم نہیں ہوگی۔
اس نے اپنے چچا کو بھی کہا تھا کہ یہ شاہ خاندان کی بھی تقریب ہے، اس طرح وہ درمیان میں نہیں رکوا سکتا۔ پر صورتحال دیکھ کر افق کے کچھ رشتہ دار آہستہ آہستہ رخصت ہو گئے تھے۔ مریم، ثمینہ اور نادیہ بھی ساتھ ہی چلی گئی تھیں مگر افق وہیں رک گیا تھا کیونکہ اسے فخر کے ساتھ کوئی ہمدردی محسوس نہیں ہو رہی تھی، وہ اسے عنایہ کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ چکا تھا، مگر اس کے کچھ کرنے سے پہلے ہی عنایہ نے اسے سبق سکھا دیا تھا۔ پیچھے افق، نور اور ساری شاہ فیملی کے ینگ ممبرز رہ گئے تھے۔ابراہیم اور کبیر بھی باقی سب کے ساتھ ہی رخصت ہو گئے تھے کیونکہ زقیہ بیگم اتنی دیر تک جاگ نہیں سکتی تھی۔

“چلو، یہ تو اچھا ہوا رش ہٹ گیا۔ اب انجوائے کرتے ہیں سکون سے۔” اشعث نے سکون سے کہا تو مشکوٰۃ نے افسوس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ صدا کی رحم دل مشکوٰۃ کو لگ رہا تھا کہ پتہ نہیں وہ بیچارہ نور کا کزن کتنا زخمی ہو گیا تھا۔ وہ دل ہی دل میں اس کے لیے دعائیں کر رہی تھی۔ یوشع اسٹیج سے اتر کر ان کے پاس آ گیا تھا نور بھی ساتھ تھی۔
“آجا میری لیلٰی رونق لگا۔” یوشع نے احد کو دیکھتے ہوئے چھیڑنے والے انداز میں کہا۔
“ہٹ! میں شریف وکیل ہوں، ایسے کام نہیں کرتا۔” احد نے مصنوعی  کالر اچکاتے ہوئے کہا۔
“یہ بات شرافت کو پتہ ہے کہ آپ شریف ہیں؟” عنایہ کے ٹکا کر احد کو ذلیل کرنے پر سب کا مشترکہ قہقہہ گونجا۔
“آپ دونوں فضول میں ایٹیٹیوڈ دکھا رہے ہیں، ہماری شادی کون سا روز روز آنی ہے۔” افق نے بیچارگی سے کہا، ایکٹنگ کرنے میں تو وہ بھی کم نہیں تھا۔
“اشعث! کتنی منتیں کروانی ہیں؟ اٹھ جاؤ اب۔” مفراہ نے بھی باقی سب کا ساتھ دیا۔
“بھابھی! ایسے کام یہ دو نمبر وکیل کرتا ہے۔” اشعث نے اپنا پلہ جھاڑا۔
“چپیڑ مارنی ہے میں نے! تو بھی ساتھ ہی ہوتا تھا۔” احد کو تو پتنگے ہی لگ گئے تھے اس کے الزام پر۔
“اچھا تو شروع کر، میں جوائن کرتا ہوں۔” اشعث نے نیم رضامندی دی کیونکہ اس کی سنہری گڑیا اشتیاق اور التجا بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ احد نے ڈی جے کی چھٹی کروائی اور خود ہی سونگ پلے کرنے لگا۔
اوہ دے نال ملدا سُبھاؤ جٹ دا
ملدی پھِرے اوہ جیہڑی راہ جٹ دا
نا ہی براؤن نہ سانولی جی لگے
نخرو بادامی جیہا رنگ مار دی
اسی دل نوں کسے دا کدے ہون نئیں دِتّا
اوہ دے بھولے جیہے مکھڑے دی سنگ مار گئی
تیرے پچھے بیئراں دے ڈٹ پھِرے کھولدا
نی جِنے کدے ہتھ ریڈ بُل نوں نہ لایا
ماپیاں دا سیدھا سادھا پُتّ پٹ سُٹّ تا
نی کیوٹ جاہیے مینوں کیڑے چکّراں چ پایا
سوہن لگے اِک منٹ اکھ وی نئیں لگی
تِن ہفتے توں پہلاں والے بُدھوار دی
اسی دل نوں کسے دا کدے ہون نئیں دِتّا
اوہ دے بھولے جیہے مکھڑے دی سنگ مار گئی

وہ بہت دلکش انداز میں بھنگڑے کے اسٹیپس لے رہا تھا جبکہ نظریں اس بادامی حسینہ پر مرکوز تھیں جو آج خشک مہندی کے رنگ کا سادہ سا جوڑا جس کے ساتھ بھاری کامدار ملٹی شیڈ دوپٹہ تھا اور اس پر سنہری حجاب اوڑھے ہوئے تھی۔ مشکوٰۃ اور مسکان کا ڈریس بھی اس سے ملتا جلتا تھا بس رنگ کا فرق تھا۔ مشکوٰۃ کا آتشی گلابی تھا جبکہ مسکان کا مسٹرڈ۔ مفراہ کا باٹل گرین کلر کا تھا فرق بس اتنا تھا کہ اس کے بازؤوں پر بھی کام تھا۔

تیرے پچھے بیئراں دے ڈٹ پھِرے کھولدا
نی جِنے کدے ہتھ ریڈ بُل نوں نہ لایا
ماپیاں دا سیدھا سادھا پُتّ پٹ سُٹّ تا
نی کیوٹ جاہیے مینوں کیڑے چکّراں چ پایا
سوہن لگے اِک منٹ اکھ وی نئیں لگی
تِن ہفتے توں پہلاں والے بُدھوار دی
اسی دل نوں کسے دا کدے ہون نئیں دِتّا
اوہ دے بھولے جیہے مکھڑے دی سنگ مار گئی
اُنجھ ویکھن نوں کُڑیاں جئی کُڑی آ
لگدا نئیں پتا کیڑی گل خاص آ
اوہ دے اُتّے شوقی جیہے جٹ نے
لا دِتّی ساری دی ساری ہی آس آ


وہ وکیل جس کو ساری دنیا جھک کر سلام کرتی تھی، وہ اس لڑکی کے پیچھے کیسی کیسی حرکتیں کر جایا کرتا تھا۔ سب اس کے ڈانس پر ہوٹنگ کر رہے تھے۔ اس کی بھنگڑے پر اچھی خاصی پریکٹس لگ رہی تھی اور جس طرح ساتھ ساتھ وہ فیشل ایکسپریشن مینج کر رہا تھا، اس کے ڈانس میں ڈیسنسی برقراری تھی۔

اوہڑوں وی یاراں نوں رپورٹاں آندیاں
جی کہندے جسی جسی کہندی دا نہ منہ تھکدا
اوہ دے نال کلاس وچ بیٹھن دا مارا
منڈا مس نہ جی کرے ٹائم سوا آٹھ دا
چھٹیاں چ کہندی پنڈ چِتّ کیدن لگّو
میں کہیا وجّھیا کروگی گھیڑی زمیندار دی
اسی دل نوں کسے دا کدے ہون نئیں دِتّا
اوہ دے بھولے جیہے مکھڑے دی سنگ مار گئی

ڈانس کے اختتام پر سب نے زوردار تالیاں بجا کر اس کو داد دی.

“واہ واہ! کمال کر دیا میری دھنو۔” اشعث نے اسے فلائنگ کس پاس کی تو وہ بیچارہ خواہ مخواہ شرما گیا جیسے اشعث نہ ہو گیا اس کی کوئی محبوبہ ہو گیا۔
اب اشعث کی باری تھی۔ اسٹوڈنٹ لائف میں ایسے بہت سے کارنامے سر انجام دیے تھے دونوں نے مل کر پر اب تھوڑی سی جھجھک آڑے آ رہی تھی ۔مگر وہ اکیلا کیوں پھنستا؟ اس نے اسٹیج پر ابٹن سے بھرا چہرہ لیے بیٹھے یوشع کو بھی ساتھ کھینچ لیا۔

تیرا مکھڑا چن دا ٹکڑا
نی تیرے عینک، تیرے شو
کیا بات ہے، کیا بات ہے
نی تیرا کاجل کردا اے پاگل
ہپنوٹائز کرے جٹ نوں
کیا بات ہے!
کیا بات ہے!

وہ اس طرح سے اسٹیپس لے رہا تھا جیسے یوشع اس کی معشوقہ ہو۔

تیرے لَک توں لگدا کراچی دی
فین مرجانیئے بگاٹی دی
دل کرے تیرے نال بھنّیا رواں
تیرے جسم چ خوشبو الائچی دی
تیری اکھ تے تکھا ناک
تے اتّوں ماشاءاللہ منہ
کیا بات ہے!
کیا بات ہے!
نی تیرا کاجل کردا اے پاگل
ہپنوٹائز کرے جٹ نوں
کیا بات ہے! کیا بات ہے!
تیرا کنگنا کنگنا کنگنا
کیا بات ہے!

اس نے یوشع کو “لک تو تو لگدا کراچی دی” پر باقاعدہ کمر سے تھام کر گھمایا تھا۔

لگّ نی پئی پئی ہاٹ بڈی مرجانیئے
تینوں تک کے
مینوں آندے گندے گندے تھاٹ مرجانیئے
لگّ نی پئی پئی ہاٹ بڈی مرجانیئے
تینوں تک کے
مینوں آندے گندے گندے تھاٹ مرجانیئے

اس نے یوشع کو آنکھ بلنک کی اور اسے بازو سے پکڑ کر گھماتے ہوئے اپنے بازوؤں میں بھینچا، پھر اسے حصار میں لیے چند اسٹیپس لیے اور اس کے چہرے پر لوفرانہ انداز میں ہاتھ پھیرا۔ یوشع گڑبڑاتا ہوا اسے زیرِ لب گالیوں سے نواز رہا تھا۔

گلاں نے گلابی، وچ ٹوئے نکھرو
کر دے نے منڈے ہوئے ہوئے نکھرو
جہڑا تینوں تک لاوے اک وار نی
تین چار مہینے تاں نہ سوئے نکھرو
تیری چَل تے گلاں لال
تے ساری دی ساری ہی توں
کیا بات ہے! کیا بات ہے
نی تیرا کاجل کردا اے پاگل
ہپنوٹائز کرے جٹ نوں
کیا بات ہے! کیا بات ہے

احد بھی اشعث کا ساتھ دینے کے لیے اسٹیج پر کود گیا تھا۔ وہ دونوں کمینے مل کر یوشع کو خوب تنگ کر رہے تھے اور یوشع کا حال یوں تھا کہ “رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی”۔

جانی جانی جانی جانی جانی
جانی نوں توں آ گئی اے پسند بلیئے
ٹپنے نوں پھرے تیری کند بلیئے
مینوں سینے نال لا لے
میں کہہ نو نو نو
تیرے بنا مینوں مار دُو آئے ٹھنڈ بلیئے
بُل گلابی، کرن شرابی
جُتّی کر دی اے چو چو
تیرا کنگنا کنگنا کنگنا

جیسے تیسے کر کے گانا ختم ہوا پر ان دونوں کمینوں کا کمینہ موڈ آن ہو چکا تھا اور اب ان کے شر سے کون بچتا بھلا؟ انہوں نے ایک دوسرے کو معنی خیز اشارہ کیا پھر ضرار اور افق کو بھی ساتھ ہی کھینچ لیا۔

بےایمان دل بڑا بےایمان
ہوتا نہیں آسان اسے ہے سمجھانا
بےایمان دل بڑا بےایمان
تیرے لیے شیطان میری ایک مانا
دل جیتے یا میں جیتوں، دیکھوں گی دیکھے گا تو
لو دل سے شرط لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی، لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی، لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری


اب دونوں مل کر ان کا بھی یوشع کی طرح ریگڑا لگا رہے تھے اور وہ جھنجھلانے کی بجائے ان کا ساتھ دے رہے تھے۔

آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آہ آہ آ آ لت لگ گئی
مجھے تو تیری
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آہ آہ آ آ لت لگ گئی
مجھے تو تیری
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
روکوں جتنا اتنی بغاوت ہو
لگتا ہے حالِ دل کی تم ضرورت ہو
روکوں جتنا اتنی بغاوت ہو
لگتا ہے ایسا حالِ دل کی تم ضرورت ہو
مجھ کو بھی تو ضروری، ڈوبی نشے میں پوری
تو کیسے یہ طلب لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی، لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی، لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آہ آہ آ آ لت لگ گئی
مجھے تو تیری
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آہ آہ آ آ لت لگ گئی، مجھے تو تیری
ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں ہوں
ایک تو ایک میں، ایک بات ہوئی اپنی
حیران ہیں کیوں سارا جہاں جو رات ہوئی اپنی
ایک تو ایک میں، ایک بات ہوئی اپنی
حیران ہیں کیوں سارا جہاں جو رات ہوئی اپنی
مجھ سے تو آ کے ملا تو یہ ہوا ہے صلہ
کہ سو تہمت لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی، لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری لت لگ گئی، لگ گئی
زمانہ کہے لت یہ غلط لگ گئی
مجھے تو تیری
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آہ آہ آ آ لت لگ گئی
مجھے تو تیری
آ آ آ آہ یہ آ آ آ آہ یہ
آہ آہ آ آ لت لگ گئی، مجھے تو تیری

باقی سب ہنس ہنس کر ان کی حرکتوں پر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ مسکان بھی اب رونا بھول کر اپنے بھائی کی حرکتیں انجوائے کر رہی تھی۔
کل صبح یوشع اور نور کی رخصتی تھی، پھر رات کو افق کی بارات، اس کے بعد دونوں کا مشترکہ ولیمہ تھا۔ کل کا دن انتہائی خاص ہونے والا تھا ہر لحاظ سے۔ اب دیکھنا تھا کہ شاہ خاندان کو خوشیاں راس آتی ہیں یا ماضی پھر خود کو دہرائے گا۔

                            ✩━━━━━━✩

لاہور سینٹرل جیل پر عجیب سی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ سب خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے، مگر قیدی نمبر 442 کے سیل میں جھانکو تو آج اس کے ہاتھ میں قینچی تھی۔ نہ جانے وہ اس تک کیسے پہنچی۔ پھر اس نے اپنے لمبے سیاہ بال تھامے اور ان پر بےدردی سے قینچی چلا دی۔
پورا فرش اس کے بالوں سے بھر گیا تھا۔ اب اس کے بال کانوں کو چھو رہے تھے۔
اور تم جانتے ہو نا کہ جب وہ بال کاٹتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ نفرت اور انتقام کی جنگ کا آغاز۔
نہ جانے صبح کا سورج کیا پیغام لانے والا تھا۔ چاروں اور نفرت کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ پتہ ہے نفرت کی بو کیسی ہوتی ہے؟ کافور جیسی۔

اندھیری رات میں بہتی ہوئی ہوا نے، پراسرار سی سرگوشی کی “نفرت کی بو موت جیسی ہوتی ہے۔”

رات میں ہی جاگتے ہیں
یہ گناہوں کے گھر
ان کی راہیں کھولے بانہیں
جو بھی آئے اِدھر
آ ہاں ہاں ہاں ہاں ہاں ہاں
یہ ہے گمراہوں کا راستہ
مسکانیں جھوٹی ہیں، پہچانیں جھوٹی ہیں
رنگینی ہے چھائی، پھر بھی ہے تنہائی

وہ سیٹی کی دھن پر گنگنا رہی تھی اندھیری رات، تاریک قید خانے میں ابھرنے والا اس کا شیطانی قہقہہ ماحول کو مزید خوفناک بنا رہا تھا۔ اس کے سیل میں پڑے مٹی کے گھڑے میں سے ایک پیکٹ نکالا، اس میں سے ریوالور نکال کر لوڈ کیا۔

اب سلاخوں میں سے ہاتھ باہر نکال کر چابی کی مدد سے تالا کھول رہی تھی۔ اس نے مڑ کر استہزائیہ نظروں سے اس قید خانے کو دیکھا تھا۔

کیا انہیں واقعی لگا تھا کہ وہ آئرہ سلطان شاہ کو قید رکھ سکتے ہیں؟ وہ اپنی منشا سے قید تھی اور اپنی ہی منشا سے آزاد ہو چکی تھی۔
محسن اس کو دیکھ کر یکدم سیدھا ہوا، جبکہ پاس کھڑے جیلر نے جھک کر اسے سلام کیا، جس کا اس آسیب زدہ شہزادی نے سر کے اشارے سے جواب دیا تھا۔
اس نے اپنی مخصوص سیاہ لیدر جیکٹ پہنی، ٹیبل پر پڑا ہیلمٹ اٹھایا۔ محسن نے اسے چابیاں تھمائیں پھر اس نے قدم جیل سے باہر رکھے اور کھلی فضا میں سانس بھرا۔ سامنے ہی اس کے جنون کو کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے کپڑا کھینچ کر اتارا تو سیاہ رنگ کی Ducati Panigale V4R اس اندھیری رات میں بھی چمک رہی تھی۔ بائیک دیکھ کر آئرہ کی آنکھوں میں چمک اتری۔ اس نے دھیرے سے اس پر ہاتھ پھیرا اور ہونٹوں سے سرگوشی ادا ہوئی “پرفیکٹ”۔
وہ اک ادا سے بائیک پر سوار ہوئی، جیکٹ کی زپ بند کی، سر پر ہیلمٹ پہنا جس میں سے صرف اس کی جنون سے بھری آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔

پھر بائیک کی زوردار آواز  سازشوں کا پیغام لیے فضا میں گونجی اور پلک جھپکنے کی رفتار میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
پیچھے جیل کے قید خانے افسوسناک انداز میں اسے دیکھ رہے تھے۔ کیا وہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ اس آسیب زدہ شہزادی کو قید کر لیں گے؟ چچ چچ!

لاہور کی سڑکیں جانی مانی آہٹ سن کر چوکنا ہوئیں۔ آئرہ سلطان شاہ کی بائیک پھر برق رفتاری سے انہیں سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔ لاہور کی ہوائیں جھوم جھوم کر اس کی آزادی کی خوشیاں منا رہی تھیں۔
تبھی سحر نے آنکھیں کھولیں۔ صبح ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوئی تھی، ماحول میں ابھی بھی ہلکا ہلکا اندھیرا تھا۔ آئرہ کی بائیک ایک عالیشان عمارت کے سامنے رکی۔ پھر دبے قدموں سے گیٹ پھلانگا اور گھر میں داخل ہوئی۔
اس کا رخ ایک مخصوص کمرے کی جانب تھا۔ سامنے بیڈ پر ایک وجود چادر میں لپٹا پڑا تھا۔وہ ان کے قدموں میں بیٹھی اور ہونٹ ان کے پاؤں پر رکھے۔ آنسو کا ایک قطرہ ان کے پاؤں پر گرا تھا۔ نمی محسوس ہونے پر صائمہ کی آنکھ کھلی تو پاؤں میں بیٹھی آئرہ کو دیکھ کر وہ ساکت ہوئیں۔
“آئرہ!” انہوں نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا۔ عرصہ بعد یہ پرسکون آغوش آئرہ کو نصیب ہوئی تھی۔
“مما۔۔۔۔ مما آپ تو معاف کر دیں… پوری دنیا نے مجھے ڈس اون کر دیا ہے، پر آپ کی تو اولاد ہوں نا؟ آپ تو ایسا نہ کریں۔” وہ بہت ٹوٹی بکھری ہوئی لگ رہی تھی۔
صائمہ روز اسے یاد کر کے روتی تھیں۔ ان کی بینائی بھی بہت حد تک متاثر ہوئی تھی۔ اس روز جذبات میں آکر اسے مار تو دیا تھا مگر تکلیف آج تک خود کو محسوس ہو رہی تھی۔ پہلے چند ماہ وہ عدت کے باعث گھر سے نہیں نکل پائی تھیں، مگر بعد میں وہ آئرہ سے اکثر ملنے جاتی تھیں پر وہ سامنے آنے سے انکار کر دیتی تھی۔ کافی دیر تک ماں بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگے روتی رہیں، اپنا غم ہلکا کرتی رہیں۔
“سو جاؤ آئرہ، تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔” اپنی گود میں آئرہ کے بال سہلاتے ہوئے صائمہ نے محبت سے کہا۔
“واقعی بہت تھک گئی ہوں، مگر نیند اور سکون مجھ سے روٹھ گیا ہے۔ آپ دعا کریں کہ مجھے لمبی سکون بھری نیند نصیب ہو۔” ماں کا کلیجہ اس کی حالت دیکھ کر پھٹ رہا تھا تو دل سے اس کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی لوٹ گئی۔ صائمہ کی منتوں کا بھی اس پر اثر نہیں ہوا تھا۔


                            ✩━━━━━━✩

آنے والے طوفان سے بے خبر شاہ خاندان خوشیاں منانے میں مصروف تھا۔ آج یوشع نے بارات لے کر اپنی دلہن کی دہلیز پر جانا تھا۔ وہ دنیا جہان کی سرشاری چہرے پر سجائے آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ اس وقت سفید کرتا شلوار میں ملبوس تھا جبکہ سفید شیروانی بیڈ پر پڑی تھی۔ دروازہ کھٹکھٹا کر عنایہ اندر داخل ہوئی۔ اسے دیکھ کر یوشع کے چہرے پر تبسم کھلا۔
“آؤ بچے۔” رات مہندی سے واپسی پر وہ اصرار کر کے عنایہ کو ساتھ لے کر آیا تھا کیونکہ وہ اس کی بہن تھی اور وہ چاہتا تھا کہ وہ اس کی رسموں میں شرکت کرے۔
عنایہ نے مسکرا کر اس کی شیروانی اٹھا کر اسے پہنائی اور اس پر پرفیوم چھڑکا۔
“بہت پیارے لگ رہے ہیں، اللہ ہر برے سائے سے آپ کو محفوظ رکھے۔” اس نے سچے دل سے دعا دی تھی۔ تبھی مشکوٰۃ بھی وہیں آئی، اس کے ہاتھ میں ‘ماشاللہ’ کا بازو بند تھا۔ اس نے محبت سے آ کر وہ یوشع کے بازو میں باندھا۔
وہ چہرہ جھکا کر آنسو پینے کی کوشش کر رہی تھی۔ چاہے ہم دنیا کی رونقوں میں جتنا بھی گم ہو جائیں، ہم کبھی بھی انہیں نہیں بھلا سکتے جو لوگ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں۔ ہر مسکراہٹ کے ساتھ، ہر آنسو کے ساتھ وہ ہمیں یاد آتے ہیں۔ مشکوٰۃ جب سے شادی شروع ہوئی تھی تب سے ہی ہر لمحے اپنے ماں باپ کو یاد کر رہی تھی مگر ظاہر نہ ہونے دیا۔ پر آج خود پر کیا گیا ضبط ٹوٹتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک حسرت سر اٹھا رہی تھی کہ اگر آج باپ ہوتا تو کیسے اس کی تیاری سراہتا، ماں ہوتی تو کیسے اس کی نظر اتارتی۔ سب تھا اس کے پاس، پھر بھی ایک ادھورا پن تھا جو کبھی پورا نہیں ہونا تھا۔
“نہ نہ آج نہیں رونا ۔۔۔ اور تمہیں کتنی دفعہ بولا ہے کہ تمہارے رونے سے وہ دونوں بھی تکلیف میں آتے ہوں گے” اس کی اداسی بھانپ کر یوشع نے اسے مصنوعی آنکھیں دکھائیں مشکوٰۃ نے بھی آنسو ضبط کر چہرے پر مسکراہٹ سجائی عنایہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کا یقین دلایا۔

وہ اس کے احساسات سمجھ سکتی تھی شادی کی ہر تقریب پر تیار ہوتے وقت اسے اپنی ماں یاد آئی تھی وہ جب بھی کبھی کبھار عید پر تیار ہوتی تھی تو اس کی ماں ٹکٹکی باندھے محبت سے اسے ہی دیکھتی رہتی تھی وہ کوئی بہت حسین نہیں تھی مگر ماں کی آنکھوں کی رونق تھی۔

عنایہ نے سفید اور گولڈن امتزاج کا قلہ اٹھایا تو یوشع نے سر اس کے سامنے جھکا دیا تاکہ اسے پہنانے میں آسانی ہو۔ یوشع دراز قد تھا، اس کی بہنوں نے مل کر اس کی تیاری مکمل کروا دی تھی۔ یوشع نے دو ویلوٹ کے باکس جیب میں سے نکال کر ان دونوں کی طرف بڑھائے۔ انہوں نے آنکھوں میں ناسمجھی لیے اسے کھولا تو اس میں سے خوبصورت اور نازک سے ہیرے کے بریسلیٹ تھے۔ مشکوٰۃ نے مسکرا کر یوشع کا شکریہ ادا کیا جبکہ عنایہ نے مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے وہ باکس واپس یوشع کی طرف بڑھا دیا۔
“بھائی! میرے لیے آپ کا خلوص اور محبت ہی کافی ہے، اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
“عنایہ! تمہیں شاید اندازہ نہیں ہے کہ تم مجھے کتنی عزیز ہو۔ پہلے دن سے ہی تم مجھے دل کے قریب محسوس ہوئی تھی۔ ہاں، بدتمیز لگی تھی پر اپنی بھی لگی تھی۔” آخر میں اس نے شرارت سے کہا تو عنایہ شرمندہ ہو گئی اور اشعث کو سوچ کر دانت پیسے جس نے شرط ہارنے پر جان بوجھ کر اس سے یہ سب کروایا تھا خیر ان کا چلتا رہتا تھا۔
“اس لیے مجھے بہت خوشی ہوگی اگر تم میرا تحفہ قبول کرو گی۔ اگر تمہیں میری خوشی عزیز ہے تو اسے رکھ لو۔ دیکھو مشکوٰۃ نے بھی تو رکھ لیا نا، کیونکہ اسے پتہ ہے کہ بھائیوں کو ‘نا’ نہیں کہتے۔” عنایہ یوشع کو جواب نہ دے سکی کہ مشکوٰۃ کو تو بچپن سے بہت تحفے دینے والے میسر تھے، مگر عنایہ کا سارا بچپن یہ سیکھنے میں گزرا تھا کہ کسی سے کوئی احسان نہیں لیتے۔ اس میں وہ یہ سیکھنا بھول گئی تھی کہ تحفے کیسے قبول کرتے ہیں مگر اس نے مزید کچھ بولے بنا خاموشی سے وہ تحفہ قبول کر لیا تھا۔

تبھی کبیر بھی وہاں آئے اور بیٹے کو دولہے کے روپ میں سجا کھڑا دیکھ کر ان کی آنکھیں نم ہوئیں۔ یوشع آگے بڑھ کر ان کے گلے لگا۔

“ماشاللہ! میرا بیٹا بہت پیارا لگ رہا ہے۔ تم کب اتنے بڑے ہو گئے شاہ جان، چھوٹے سے تھے جب میں نے تمہیں اپنی گود میں تھاما تھا اور آج دیکھو میرے قد کے برابر آ گئے ہو۔”
“بابا! اب کیا چاہتے ہیں کہ میں ہمیشہ بچہ ہی رہتا؟” یوشع نے شرارت سے کہا تو کبیر ہنس دیے۔
پھر مشکوٰۃ اور عنایہ دونوں سرخ دوپٹے کی چھاؤں میں اسے لاؤنج میں لائیں جہاں مفراہ نے سرمہ ڈالنے کی رسم کی۔ مزید ایسی چھوٹی موٹی رسمیں ہوئیں، قہقہوں اور خوشیوں کا ساتھ تھا پر پھر بھی سب اندر ہی اندر بچھڑے ہوؤں کو یاد کر کے افسردہ تھے۔
“ادھر آؤ گڑیا” ضرار نے مشکوٰۃ کو پاس بلایا۔
جی بھائی
ضرار نے چند نوٹ نکال کر اس کے سر سے وارے “مما کے جیسے حسین لگ رہی ہو” اس نے دھیرے سے اس کے سر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا مشکوٰۃ کی آنکھیں ماں کے ذکر پر نم ہوئیں سب کہتے تھے کہ وہ اپنی ماں کی پرچھائی تھی اور یہی بات اسے بہت پسند تھی۔
ضرار نے آنسو ضبط کیے اور فوراً وہاں سے نکل گیا مگر جاتے ہوئے عنایہ کے سر بھی شفقت سے ہاتھ رکھا۔
وہ آج بھی ماں باپ کی کمی اول روز کی طرح محسوس کرتا تھا مگر کہتا نہیں تھا۔ ثمینہ اور ابراہیم نے بھی مشکوٰۃ کو پیار کیا تھا۔

“عنایہ! ادھر آئیں گی پلیز دو منٹ؟” احد کے بلانے پر عنایہ اس کی طرف بڑھی جو ایک نفیس سی خاتون کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اسے احد کی والدہ لگی تھیں، ان کے اور مسکان کے نقوش ایک دوسرے سے کافی حد تک مماثلت رکھتے تھے۔
“مما! یہ عنایہ حیدر ہیں، نور بھابھی کی بہن جیسی دوست اور یوشع کی کزن۔ اور عنایہ، یہ میری مما ہیں، مسز ڈاکٹر مسرت صدیقی۔” احد نے خوش دلی سے دونوں کا تعارف کروایا۔
“اسلام علیکم آنٹی۔” عنایہ بھی خوش اخلاقی سے ان سے ملی۔ وہ ڈسٹ پنک لانگ شرٹ اور پیسٹل گرین کیپری میں ملبوس تھی۔ سر پر میچنگ حجاب اور کندھوں پر دوپٹہ اٹکائے منیمل سی جیولری میں وہ پیاری لگ رہی تھی۔
“وعلیکم السلام بیٹا! کیسی ہو؟” مسز صدیقی اپنے لہجے اور انداز سے انتہائی سلجھی اور شائستہ خاتون معلوم ہوتی تھیں۔
“جی الحمدللہ۔” عنایہ کو مزید سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا بات کرے۔
“آنٹی! لگتا ہے بھابھی بلا رہی ہیں، اس لیے…” فوراً بہانہ بنا کر وہاں سے جانا چاہ رہی تھی۔
“جی بیٹا جاؤ!” جب انہوں نے پیار سے اجازت دی تو عنایہ چلی گئی، انہیں احساس ہو چکا تھا کہ یہ لڑکی بہت خاص ہے، ورنہ آج تک ان کے بیٹے نے کب کسی لڑکی کو اس طرح ان سے متعارف کروایا تھا؟

“یہ کون تھی؟” اب ان کا رخ بیٹے کی جانب تھا۔
“وہی جس کو روبرو بٹھا کر آپ کا بیٹا تین مرتبہ ‘قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے’ کہے گا۔” یہ بات کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں چمک اتری تھی۔ اس نے نہیں چھپایا تھا کہ وہ کون تھی۔
وہ اس کی ریاستِ دل کی اکلوتی رانی تھی اور رانی تو دربار میں تخت پر بٹھانے کے لیے ہوتی ہے نا۔
“اللہ تمہیں خوش رکھے۔” بیٹے کی آنکھوں کی چمک ان کی آنکھوں سے مخفی نہیں رہی تھی۔
مشکوٰۃ براؤن اور سیگ کلر کے شرارے ملبوس تھی۔ اشعث نے بھی سفید شلوار قمیض پر اس کے لباس سے کنٹراسٹ میں براؤن ویسٹ کوٹ پہن رکھی تھی۔ مفراہ نے اورنج اور سرخ امتزاج کا بھاری کامدار جوڑا پہنا ہوا تھا اور اس سے میچنگ کرتے ہوئے ریان اور ضرار دونوں نے سفید شلوار قمیض پر اورنج ویسٹ کوٹ پہن رکھی تھی۔ مسکان پیچ کلر کی خوبصورت سی فراک میں ملبوس تھی اور احد نے سفید شلوار قمیض پر سفید ہی ویسٹ کوٹ پہنی ہوئی تھی جو اس پر خوب جچ رہی تھی۔

مشکوٰۃ اور عنایہ نے یوشع کی باگ پکڑائی کی رسم کی تھی۔ گاڑیوں کا ایک قافلہ بارات کے ساتھ روانہ ہوا۔ اشعث، احد اور ضرار نے بارات کی روانگی کے لیے بھی خوب انتظامات کر رکھے تھے۔
تمام کپلز علیحدہ علیحدہ گاڑیوں میں تھے جبکہ یوشع کی گاڑی کبیر شاہ ڈرائیو کر رہے تھے جس میں زقیہ بیگم اور عنایہ بھی موجود تھیں۔

“باخدا پھول پر ٹھہری شبنم کی طرح مہک رہی ہیں” بغل میں بیٹھی مشکوٰۃ کا ہاتھ تھام اشعث نے فدا فدا انداز میں کہا تو وہ شرمیلا سا مسکرا دی۔
“ادھر آئیں” ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ تھامتے ہوئے دوسرا بازو اس کیلئے وا کیا تو وہ جھجک کر اس کے سینے سے لگی۔
“آپ کو کتنی دفعہ منع کیا ہے اداس مت ہویا کریں آپ کی اداسی سے مجھے پوری دنیا ویران ہوتی محسوس ہوتی ہے اور یہ سنہری آنکھیں جگمگاتے ہوئے حسین لگتی ہیں جبکہ اداسی سے بجھی ہوئی آنکھیں دل کی تکلیف، مت ظلم کیا کریں مجھ پر” اس نے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھتے ہوئے محبت سے کہا پھر ہونٹ ماتھے ے سرکتے ہوئے نقاب میں چھپے گالوں پر ٹھہرے۔ مشکوٰۃ نے چھینپ کر چہرہ اس کی گردن میں چھپایا۔ کیا وہ نجومی تھا جو اس کی تکلیف بنا کہے سمجھ جاتا تھا اور پھر اس کی مرہم بھی بنتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افق کی طرف سے بھی بارات کا بھرپور طریقے سے استقبال کیا گیا تھا۔ حالانکہ وہ خود دولہا تھا مگر باپ کے حصے کی ساری ذمہ داریاں اسے ہی سر انجام دینا تھیں اور وہ دے رہا تھا۔ ہال کے دروازے پر افق، اس کے چچا، تایا اور ماموں پھولوں کے ہار تھامے کھڑے تھے۔
یوشع شاہانہ چال چلتا ہوا آگے آیا۔
“ملنی تو ماموں کی طرف سے کی جاتی ہے۔” یوشع کی بات پر افق نے الجھے ہوئے انداز میں اسے دیکھا۔
“مگر بھائی… ماموں؟” افق نے فقرہ ادھورا چھوڑا۔
“مما کو بلا کر لاؤ۔” یوشع کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا مگر پھر اس کے دوبارہ کہنے پر افق مریم کو بلا لایا تھا۔ وہ خود الجھی ہوئی تھیں۔
“جی شاہ جان؟” وہ بیٹے کے سامنے رکیں مگر اسے دولہے کے روپ میں دیکھ کر بے ساختہ دل سے ‘ماشاللہ’ نکلا۔
“مما! آپ سے کوئی ملنے آیا ہے۔” یوشع کی بات نے سب کو کشمکش بھرے تجسس میں مبتلا کر دیا۔
“کون آیا ہے یوشع؟” مریم نے الجھے انداز میں استفسار کیا۔
“آ جائیے!” یوشع نے ایک سائیڈ پر سیاہ شیشوں والی گاڑی کی طرف دیکھ کر بلند آواز میں کہا تو گاڑی کا دروازہ کھلا۔ سب نے بے ساختہ گردنیں اسی رخ موڑیں مگر گاڑی سے نکلنے والی ہستی کو دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں، جبکہ مریم تو سانس روکے بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ پھر انہوں نے خود کو اس ہستی کی طرف بڑھتے پایا۔
مریم دوڑ کر ان کے سینے سے لگیں تو ارحم نے بھی انہیں اپنے سینے میں بھینچ لیا۔ بس ان کی دل سوز ہچکیاں فضا میں بکھررہی تھیں۔
“بھائی! آپ کہاں تھے؟ آپ کی گڑیا کو توڑ دیا سب نے… بھائی میں دربدر ہو گئی۔ آپ کا سایہ سر سے اٹھایا گیا تو نہ سر پر آسمان رہا نہ قدموں تلے زمین۔ میں سہاروں کے باوجود بے سہارا رہی۔” مریم کی باتیں سب کا دل زخمی کر رہی تھیں۔ کبیر کو بے ساختہ سانس لینے میں دقت ہوئی۔
“بس بھائی کی جان، بس! الحمدللہ۔” ارحم نے پیار سے ان کے بال سہلائے۔ وہ آج بھی ان کے لیے چھوٹی سی گڑیا ہی تھی جسے انہوں نے محبت سے پالا تھا۔ جبکہ ضرار تو ارحم کو حیرت سے دیکھ رہا تھا، باقی سب کا بھی حال مختلف نہ تھا۔ مریم کو چپ نہ ہوتے دیکھ کر یوشع آگے بڑھا اور انہیں ارحم سے الگ کیا۔
“امی یار! آپ کے ایموشنل سینز کے چکر میں میری شادی کا پروگرام بیچ میں رہ جائے گا۔” یوشع نے ہلکے پھلکے انداز میں ماحول کے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی تو مریم بھی دھیما سا ہنس دیں۔
انہیں اپنا دل پرسکون ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ شادی کے شروع میں نادیہ کے میکے والوں کو دیکھ کر دل میں جو احساسِ کمتری کی ایک کسک اٹھی تھی وہ بھی ختم ہوتی محسوس ہوئی۔
“چلیں ماموں! اب اپنے ماموں ہونے کا فرض پورا کریں۔” یوشع نے ارحم کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے نور کے ماموں سے گلے مل کر ملنی کی رسم ادا کی۔ تحائف کا تبادلہ ہوا، سب نے باری باری یوشع اور باراتیوں کو ہار پہنائے، ان کا استقبال پھول نچھاور کر کے کیا گیا اور پھر سب ہال میں داخل ہو گئے۔
یوشع نے ارحم کو اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔

“افق ادھر آؤ!” الجھے سے ایک سائیڈ پہ کھڑے افق کو دیکھ کر یوشع نے اپنے پاس بلایا۔
“جی بھائی۔” وہ کبھی کبھار بھائی کہنے کا تکلف کر لیا کرتا تھا۔
“ماموں سے نہیں ملو گے؟” یوشع نے ارحم کی طرف اشارہ کیا تو وہ جھجک کر آگے بڑھا۔ ارحم نے اس کی جھجک کو محسوس کرتے ہوئے خود ہی اٹھ کر اسے سینے سے لگایا۔
“نم بالکل اشفاق جیسے ہو افق۔” انہوں نے مدھم و نم آواز میں سرگوشی کی تو افق کی آنکھوں میں بھی کرب جھلکا۔ آج کے دن ہی تو باپ سب سے زیادہ یاد آ رہا تھا۔
“سب یہی کہتے ہیں ما۔۔ماموں” افق ابھی بھی ان سے جھجک رہا تھا۔ اس نے ان کی تصاویر دیکھ رکھی تھیں، مریم بھی اسے ان کے متعلق بتاتی رہی تھی اور غائبانہ وہ افق کو بہت عزیز بھی تھے مگر اچانک سے سامنا ہونے پر وہ تھوڑا پزل ہو رہا تھا۔
“ماموں کا بیٹا!” ارحم نے محبت سے اس کا ماتھا چوما، انہیں اپنی بہن کے دونوں بیٹے بہت عزیز تھے پر یوشع میں تو ان کی جان بستی تھی۔
پھر اشعث اور ضرار بھی اسٹیج پر چڑھے۔
“السلام علیکم چاچو!” انہوں نے ہم آواز سلام کیا۔ وہ بچپن سے اسے چاچو ہی کہتے تھے کیونکہ وہ ہارون کا دوست تھا۔ ارحم ان سے ملا، وہ سبھی اسٹیج پر موجود تھے۔
“یوشع تمہیں چاچو کیسے… میرا مطلب کہاں ملے؟” ضرار نے گلا کھنکھار کر سوال کیا تو معصوم سے یوشع کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا۔
“یہ بات مجھے آپ سے پوچھنی چاہیے کہ وہ کون سے سیف ہاؤس میں آپ کے آفیسرز کی زیرِ نگرانی تھے؟” یوشع کا لہجہ صاف صاف طنزیہ تھا۔

“ہاں۔۔۔۔، آئی جی صاحب نے ایسا ہی کہا تھا۔” ضرار نے مصنوعی پر یقین لہجے میں جواب دیا۔
“آئی جی صاحب نے کہا اور آپ نے مان لیا! مجھے یہ کسی سیف ہاؤس نہیں بلکہ خود ان کے گھر سے ملے۔” یوشع نے دبی آواز میں چلا کر کہا تو اشعث اور ضرار کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔
انہوں نے بذاتِ خود سلطان کے سیکرٹ روم میں گھس کر ارحم کو بازیاب کروایا تھا اور ضرار کی ٹیم کے حوالے کیا تھا کیونکہ انہیں ابھی اس کیس کے سلسلے میں مزید ایک دو کام کرنے تھے۔ حالانکہ شروع شروع میں ایک دو دفعہ ضرار ان سے ملاقات بھی کر کے آیا تھا۔
“پر کیسے؟ تمہیں ان کا پتہ کس نے بتایا؟” اشعث نے مدے کی بات کی تھی۔
“آئرہ نے!” یہ وہ آخری نام ہوگا جو دونوں نے توقع کی ہوگی۔
“آئرہ نے؟” دونوں ایک ساتھ حیرت سے چیخے۔
“کب بتایا؟” ضرار نے بے تابی سے پوچھا۔
“جب میں اسے ملنے گیا تھا۔” یوشع نے جواب دیا۔
“کب ملنے گیا تھا” اشعث نے سوال داغا
“شادی شروع ہونے سے پہلے”

( “تمہیں معلوم ہے آئرہ نے یوشع کو شادی کا کیا تحفہ دیا تھا؟”)
“شادی کا تحفہ تو لیتے جاؤ مجھ سے۔” قیدی لڑکی نے اس بیزار سے لڑکے کو دیکھ کر کہا تھا۔
“کیسا تحفہ؟”
“ارحم حمید… یعنی تمہارے ماموں، وہ کہاں ہیں؟” آئرہ کا سوال غیر متوقع تھا۔
“وہ پولیس سیف ہاؤس میں۔” یوشع کے جواب پر وہ استہزائیہ مسکرائی۔
“سیف ہاؤس؟ یش تم واقعی بہت معصوم ہو! تمہیں پتہ ہے سلطان شاہ کا کھیل تم لوگ نہیں سمجھ پائے۔ تم لوگ ہیرو بن کر سوچتے ہو مگر ایک ولن کی سائیکی ایک ولن ہی سمجھ سکتا ہے۔ پولیس کو وہ جیب میں لیے پھرتے تھے ورنہ اب تک تو وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ اتنے عرصے میں کوئی ان کے گریبان تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ ان کے خلاف پختہ ثبوت حاصل کرنے میں صرف پھپا جان اور ان کی ٹیم کامیاب ہوئی تھی مگر بابا نے انہیں مروا دیا۔ ضرار بھائی  ثبوتوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر وہ بچے رہے کیونکہ سلطان کی نظروں سے مخفی رہے۔ سلطان نے تمہیں گن پوائنٹ پر رکھ کر سب کی توجہ اس طرف کروائی جبکہ محسن نے تمہارے اس سو کالڈ سیف ہاؤس میں سے ارحم حمید کو اغوا کر لیا  تا کہ بعد میں تم لوگوں کو بلیک میل کرنے میں آسانی ہو۔ وہ تمہیں مار۔۔۔۔” یہاں آ کر اس کی زبان لڑکھڑا جاتی تھی اس کا سب سے بڑا ڈر یوشع کی قضا تھی “تمہیں مار دیتے ارحم کو اغوا کر لیتے تو تم لوگ کمزور ہو جاتے اس دوران وہ آسانی سے فرار ہو جاتے۔کسی نے سوچا کہ سلطان کا پالتو کتا محسن کیسے اس ٹائم مالک کو تنہا کر گیا تھا کیوں کہ وہ ان کے حکم کی تکمیل میں مصروف تھا؟”
آئرہ کے انکشافات پر یوشع کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے محسوس ہوئے۔
“مگر تمہاری شادی کا تحفہ یہ ہے کہ آئرہ سلطان شاہ تمہیں تمہاری خوشی یعنی ارحم حمید دیتی ہے۔ وہ ان کے اپنے آبائی گھر میں موجود ہوں گے۔ تم وہاں ان سے مل لینا۔” کیسا جال بچھایا گیا تھا، ارحم کے گھر میں ہی ارحم کو قید کیا گیا تھا تاکہ کوئی چاہ کر بھی اس طرف شک نہ کر پائے۔

یوشع مزید کوئی لفظ بولے بنا الٹے قدموں مڑ گیا۔
کچھ دیر بعد وہ ارحم کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ اسے کوئی سیکیورٹی نہیں ملی تھی، شاید آئرہ پہلے ہی وہ ہٹوا چکی تھی۔ اس نے لرزتے قدم گھر کے اندر رکھے۔ اس کا رخ ارحم کے کمرے کی جانب تھا۔ بچپن کے مناظر ذہن میں تازہ ہو رہے تھے۔ وہ ارحم کی گرفتاری کے بعد کبھی اس گھر میں نہیں آیا تھا، یہ اس کے لیے نائٹ میئر جیسا تھا۔ بیڈ پر پڑے کمزور سے وجود کو دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔
“ماموں!” اس نے دھیرے سے پکارا تو انہوں نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“شاہ جان!” انہوں نے اس کے چہرے کے نقوش پر ہاتھ پھیرا۔ وہ بے اختیار ان کے ہاتھوں کو تھام کر چومنے لگا اور پھر ان سے لپٹ گیا۔ وہ انہیں بتا رہا تھا کہ اس نے انہیں کتنا مس کیا تھا۔ پھر یوشع انہیں اپنے ساتھ لے آیا تھا۔
بے شک آئرہ شاہ نے اسے سب سے بہترین تحفہ دیا تھا۔

“دیکھ لیا دو نمبر سپاہی! میں نہ کہتا تھا کہ تمہارا قانون چربی کی وجہ سے ہلنے سے قاصر ہو چکا ہے ہمیں ہاتھ پیر مارنے دے، مگر نہیں، اس نے ہر چیز میں قانون گھسانا ہوتا تھا۔” اشعث نے ضرار پر چڑھائی کی تو وہ کھسیانہ سا ہو گیا کیونکہ واقعی اشعث نے اسے کہا تھا کہ وہ ارحم کو اپنے پاس رکھتے ہیں مگر ضرار کو ہی اسے پولیس کے حوالے کرنے کا شوق چڑھا تھا۔
“ریان رو رہا ہوگا، میں اسے دیکھ لوں۔” ایس پی صاحب فوراً موقع سے فرار ہو گئے تو اشعث اور یوشع نے اسے ملامتی نظروں سے گھورا۔
کبیر نے ارحم سے احوال دریافت کیا تھا جس کا ارحم نے ضبط اور سنجیدگی سے جواب دیا۔ اس سے زیادہ ان میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔

سب بڑے سٹیج پر باری باری یوشع کو مل رہے تھے۔
” اس نافرمان اولاد کو بھی میں نے کہا تھا کہ یوشع کے ساتھ ہی رخصتی کر لے مگر کبھی جو یہ باپ کی بات مان لے” ابراہیم نے خفا سے لہجے میں کہا تو سب مسکرا دیے۔
“بابا اس کی بیوی جذباتی طور پر اور ذہنی طور پر ایک مضبوط لڑکی ہے وہ اس رشتے کو سمجھتی ہے اور یہ ذمہداری سنبھال سکتی ہے جب کہ میری بیوی بہت معصوم وہ ابھی اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں ہے جب ہوگی میں اپ سے بنا پوچھے ہی اسے رخصت کروا لوں گا” اشعث نے شرارت کہا تو ابراہیم آنکھیں گھما کر رہ گئے جب کہ ضرار مطمئن انداز میں مسکرا دیا وہ دونوں جتنا مرضی لڑتے تھے پر ضرار جانتا تھا کہ اس کی بہن کا خیال اس انسان سے بڑھ کر کوئی نہیں رکھ پائے گا۔
“ویسے بھی میں گھوڑی اپنے وکیل صاحب کے ساتھ چھڑوں گا”اشعث نے کہتے احد کی گردن کو جکڑا تو وہ چڑ گیا پر اپنی شادی کے نام پر دل باغ باغ ہوا تھا۔
“ارے انکل اپ کا بیٹا کیسا ہے اب” افق کے چچا کو سٹیج پر کھڑا دیکھ کر ضرار نے مارے مروت کے دریافت کیا
“ارے بیٹا خدا جانے رات کو ہاسپٹل میں کچھ لوگ گھس آئے تھے انہوں نے اس کی ماں کو ڈرایا اور فخر کو اچھا خاصا مار کر گئے ہیں پہلے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ نئے لگ گئے” وہ پریشان لگ رہے تھے۔
اشعث یوشع اور ضرار نے افسوس سے وکیل صاحب کو گھورا مگر وہ کمال بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادھر ادھر نظریں گھمانے لگا۔

اب آپ لوگوں کو ہمارے وکیل صاحب ایسے لگتے ہیں کیا؟؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔
عنایہ برائیڈل روم میں نور کے ساتھ موجود تھی وہ گاڑی سے اتر کر فوراً اس کے پاس پہنچی تھی۔
“ادھر آؤ” نور نے بازو اس کی طرف پھیلائے وہ کبھی اتنی ایکسپریسو نہیں رہی تھی مگر آج رخصتی کا سوچ سوچ کر اس کا دل بوجھل ہو رہا تھا عنایہ مسکرا کر اس کے گلے لگ گئی۔
“اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے نور” عنایہ نے سچے دل سے اسے دعا دی۔
“آمین تمہیں بھی ہمیشہ خوش رکھے” نور کی دعا پر وہ پھیکا سا مسکرائی
تم نا لاہور میں میرے پاس شفٹ ہو جاؤ تمہارے بغیر کیسے رہوں گی اس کی بات پر عنایہ مسکرائی  مگر بات کا رخ موڑ دیا جو نور نے شدت سے محسوس کیا تھا اب کی گہری نگاہیں اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ جانچ رہی تھیں۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر اس کا حال جان لیتی تھی۔

                        ✩━━━━━━✩

لاہور کی فضا میں عجیب سی سوگواری اور سرد پن تھا۔ ایک چنگاڑتی ہوئی آواز کے ساتھ ہوا کو چیرتی ایک بائیک برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ یہ ویران اور کشادہ سا میدان تھا جس پر حدِ نگاہ صرف خالی جھاڑیوں سے بھرا میدان نظر آتا تھا۔
اس کی بائیک دھول اڑاتی ہوئی بڑھ رہی تھی۔ اس نے آج ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا، اس کے سیاہ چھوٹے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ تبھی اس بائیک کے ہم قدم کئی سیاہ گاڑیاں اس کے تعاقب میں آگے آئیں۔ وہ مسلسل اس کے پیچھے تھیں مگر وہ کمال مہارت سے انہیں ڈوج دے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوشع مسکراتا ہوا خواتین والے حصے میں داخل ہو رہا تھا۔ عنایہ اور نور کی کزنز اس کا دروازہ روک کر کھڑی ہو گئی تھیں۔ پھر ہلکی پھلکی نوک جھوک کے بعد اسے اسٹیج پر بٹھایا گیا۔

تھوڑی دیر بعد اسپاٹ لائٹ آن ہوئی تو یوشع کی نظریں بے ساختہ اس کی طرف اٹھیں۔ برائڈل لہنگے میں، افق کے بازو میں ہاتھ ڈالے، ایک ہاتھ میں اپنے والد کی تصویر تھامے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی۔ یوشع کو دنیا کے تمام رنگ اپنی دلہن کے سامنے پھیکے پڑتے معلوم ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس گاڑی میں سے سر نکال کر ایک منحوس صورت انسان نے ایک فائر آئرہ کی بائیک کے پچھلے ٹائر پر کیا تو بائیک کا بیلنس بگڑا اور آئرہ منہ کے بل نیچے گری۔ اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا اور چہرہ مٹی سے اٹ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عنایہ کی مسکراہٹ سمٹی، اسے عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔

اس نے ایک نظر افق کو دیکھا تکلیف بڑھی، کچی عمر کی محبت تھا وہ بھولتے بھولتے ایک عمر گزر جاتی۔

یوشع نے ہاتھ آگے بڑھا کر نور کو اسٹیج پر چڑھنے میں مدد دی۔ عنایہ نے تصویر نور سے تھام کر اسٹیج پر پڑی ایک چھوٹی سی میز پر رکھ دی۔ نور نے خوبصورت سا مہرون لہنگہ پہن رکھا تھا جس کی ٹیل دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ لہنگے پر سلور ہیوی اسٹون ورک تھا۔ اس نے حجاب کی بجائے دوپٹہ اس انداز میں سیٹ کر رکھا تھا کہ سارے بال کور ہو رہے تھے اور کرتی کا گلا گردن تک بند تھا۔ اس کے کندھے پر سلور خوبصورت سی شال جھول رہی تھی اور سر پر مہرون دوپٹے سے گھونگھٹ کیا گیا تھا۔

یوشع نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کا گھونگھٹ پلٹا۔

“اللہم بارک!” اس کے ہونٹوں نے جنبش کی، پھر وہ گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔ سب مبہوت ہوئے انہیں دیکھ رہے تھے۔
“میں آج مکمل ہو گیا… میری قلب… میرے قلب کا نور بن کر میری زندگی میں شامل ہوئی ہے۔” اس کے قدموں میں بیٹھا، گردن جھکائے، دلکشی سے اس پر سحر پھونک رہا تھا۔ کیا مرد یوں بھی انائیں وار دیتے ہیں ؟ وہ سب کے سامنے گردن جھکا کر نور کا رتبہ سب کی نظروں میں بلند کر گیا تھا۔ وہ ثابت کر گیا تھا کہ نورِ قلب اس کے قلب کا نور ہے۔
نور نے عنایہ کو اشارہ کیا تو وہ فوراً اس کے قریب آ کر اسے بیٹھنے میں مدد دینے لگی۔ اب وہ بھی یوشع کے روبرو بیٹھی تھی۔

“سر کے تاج سروں پر سجے اچھے لگتے ہیں، نہ کہ قدموں میں جھکے۔” نور نے کہتے ہی یوشع کو کھڑا ہونے کا اشارہ کیا تو یوشع نے عقیدت سے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا۔
کیمرا مین نے یہ خوبصورت منظر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا جس میں دولہا دلہن زمانے سے بے پرواہ ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے افسانوی دنیا میں سے کوئی شہزادہ اور شہزادی راہ بھٹک کر حقیقی دنیا میں آ گئے ہوں۔ وہ ساتھ میں مکمل لگ رہے تھے…
مگر جو نامکمل رہ گئے، ان کا کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *