بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
انتساب!
“میری پہلی تحریر میرے اللہ کے نام جس نے مجھے خواب دیکھنے اور اسے لفظوں میں ڈھالنے کا حوصلہ دیا”
پیش لفظ:
بھیریے صرف ایک کہانی نہیں بلکہ انسانی جبلت کے ان اندھیرے گوشوں کی عکاسی کرتا ہیں جنہیں ہم اکثر خود سے بھی چھپائے رکھتے ہیں۔ہم سب کے اندر ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے ایک اچھائی کی اور ایک ہمارے اندر کہ برے” بھیڑیے “کی جو موقع ملتے ہیں باہر آنے کو تڑپتا ہے۔اس کہانی کے کردار کوئ فرشتے نہیں بلکہ گوشت پوست کے وہ انسان ہیں جو حالات کے تھپیڑوں میں کبھی خود کو بچاتے ہیں تو کبھی خود ہی شکاری بن جاتے ہیں۔یہ ایک ایسی داستان ہے جہاں محبت اور نفرت کی سرحدیں آپس میں مل جاتی ہیں اور انسان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ شکاری تھا یا شکار…
بھریے کے کردار کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود کے لیے ہی ظالم ہیں، وہ اپنے پی آنا کے قیدی ہیں، اپنے ہی فیصلوں کے مقتول اوراپنے ہی ضمیر کی عدالت میں مجرم ہیں۔میں نے آپ سے کچھ بھی چھپایا نہیں ہے چہروں کو پہچانیے کیونکہ یہ وہ سچائیاں ہیں جو ہمارے آس پاس ہی سانس لے رہیں ہیں۔
یہ کہانی تفریح بھی ہے اور تلخ حقیقت بھی ،امید کرتی ہوں یہ سفر آپ کو پسند آئے گا ،لفظوں کا یہ واضح سفر آپ کے ذوق کے نام ۔
مصنفہ,دعا شاہد
کیون بھئ ،چلو کوئ بات نہیں ہم نے تمہارے لیے پہلے ہی لے رکھ ہوئے تھے ،سمرین بیگم نے گہری سانس لیتے کہا
مجھے وہ ڈریسز نہیں چاہیے آنٹی میرے پاس ہیں، سمرین بیگم سمیت آرزو اور راحا نے اسے حیرانی سے دیکھا
میرا مطلب ہے کہ میرے پاس پہلے ہی ہیں، لیکن اگر آپ لوگوں نے اتنے پیار سے لیے ہیں تو میں پہن لو گی ،
ناز کی نظر جب ان خفا ہوتی آنکھوں پر پڑی تو جلد ہی بات سنبھال کر بولی ۔
تھوڑی دیر بعد ہلیل آتا ہوا دکھائی دیا، کیونکہ زہران کا گھر میں داخلہ بند تھا جب تک شادی نہیں ہوجاتی تھی ،اس،لیے وہ اکیلا پی بھٹکتا رہتا تھا۔
نازیفہ کچن سے پانی لے کر ائ تو ہلیل جو صوفے کے پاس کھڑا سمرین بیگم کی کوئی بات سن رہا تھا ،ہلیل کی اس پر نظر پر گئ اور ایک دم آنکھوں میں شیطانی مسکراہٹ در آئی اور اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا۔ناز ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ،
لیڈیز آپ نے آج کچھ نوٹ کیا کیا ؟؟،اچانک کوئ زمین کے کافی قریب ہوگیا ہے ،ہلیل کی نظر ناز کے قدموں پر ہی جمی ہوے تھی ،ناز نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو بات سمجھ آنے پر چہرے پر غصہ چھاگیا،اس،کی بات سمجھ کر سب نے اپنی مسکراہٹ چھپائی
جتنے کی میری ہیلز آتی ہیں نہ اتنے میں تمہاری پوری پرسنیلٹی چینج ہو سکتی ہے ،اس،نے غصے سے کہا
ارے ناز یار غصہ نہیں کرو ،غصے میں تمہاری ٹانگیں زیادہ چھوٹی لگ رہی ہیں ،ہلیل اسے چرانے سے باز نہی ارہا تھا
ویسے چھوٹا ہونے کا ایک فائدہ ضرور ہے نازیفہ، جب بارش پرتی ہے تو سب سے آخر میں تم تک پہنچتی ہوگی ،اس طرح تمہارے بھیگنے کے چانسز کم ہوتے ہیں، اس دفعہ اس کی برداشت ختم ہوگئ تھی ،اب اگے وہ تھا اور پیچھے ناز اس کو مارنے کو دور رہی تھی ،کبھی وہ کسی کے پیچھے چھپ رہا تو کبھی کسی کے پیچھے ۔گھر میں ایک دم رونق در ائ تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆
نازیفہ مہندی کی رات روحی کو پالر میں چھوڑ کر واپس گھر اگئ تھی،وہ تین دنوں سے اپنے گھر پہ ہی رہ رہی تھی، جس سے سب بہت خوش تھے ،اسنے اپنا،سارا کام رابعہ کے ذمے کیا ہوا تھا،کبھی کبھار وہ تھوڑی دیر کے لیے پروجیکٹ سمجھانے کے لیے چلی جاتی تھی ،اب بھی وہ واپس ائ تو گھر کو نئی نکلی دلہن کی طرح سجا دیا گیا، ہر طرف گیندے کی لریا لٹک رہی تھی ،آور جگمگاتی ہوئ روشنیاں آنکھوں کو بھلی لگتی رہی تھیں، سارا انتظام نازیفہ نے خود لان میں کیا تھا ،جہاں پر رنگ برنگے چادریں بچھی ہوئ تھی اور درمیان میں ڈھولک لگائ گئ تھی ،وہ سارے گھر کا جائزہ لے رہی تھی کہ آرزو بیگم نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
ناز تم بھی تیار ہوجائے وقت ہی کتنا رہ گیا ہے ،آرزو بیگم نے فکرمندی سے
سے اسے دیکھتے کہا ،جو خود کو بھول ہی گئ تھی
جی بس میں تیار ہونے ہی والی تھی مگر مجھے اپنے بال کٹوانے ہیں پہلے ،ناز نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے کہا
آرزو بیگم نے اس کے لمبے بالوں کو دیکھا جو کمر سے نیچے تک جارہی تھے ،
کیون کٹوا رہی ہو اتنے پیارے تو ہیں، انہوں نے محبت سے اس کے بالوں کو چھوتے کہا
جی ،ناز نے صرف ایک نظر انہیں دیکھا اور اندر بڑھ گئ
☆☆☆☆
زہران جو پورے گھر کو اپنی نظر میں
رکھتے ہوئے سجا رہا تھا کال انے پر جیب سے موبائل نکال کر کانوں سے لگاگیا
ہیلو مسٹر whatever ، کان سے لگاتے ہی کوئ اجنبی لیکن پراسرار آواز کانوں سے ٹکرا ئے
پہچان تو گئے ہوئے، اور یقینا نمبر ہیک کروانے والی غلطی نہیں کروگے ،کرسی گھماتے ہوئے اس نے سکرین کو دیکھتے کہا
۔ہاں کیوں کہ میں تمہیں اچھے سے جانتا ہوں، زہران نے موبائل کو دوسرے کان پر لگایا
تم ایک دن میرے ہاتھوں سے پکڑیں جاو گے اور اس
دن میرے قہر سے ڈرنا تم مسٹر criminal، ،زہران نے دانت پیس کر کہا
اپنے آپ کو مت تھکاوآفیسر، فینٹم نے اپنا سر کرسی پر جھکا لیا
میں لڑکیوں کو نقصان پہنچاتا ہوں یہ میں ماننے سے انکار نہیں کرتا لیکن ایک طرف میں ان کی مدد بھی کرتا ہوں، وہ مسکرایا اس کی مسکراہٹ عجیب سی تھی ،زہران بغیر کچھ بولے صرف اسے سن رہا تھا
میں ان لڑکیوں کو اپنے گرد موجود لوگوں کے بلکہ ان کے خود کے گھر والوں کے اصلی چہرے دکھاتا ہوں جو ذرا سی غلطی پر انہیں بلیم کرنے لگ جاتے ہیں, how Cheap,اس کے چہرے پر سرد مسکراہٹ در ائ
تمہیں علاج کی ضرورت ہے ،تم پاگل ہو ,اس کی بات سن کر زہران کے جبڑے بیچ گئے تھے
اور آپ بورنگ ہو سر ، اس نے کافی کا سپ لیتے کہا
ایک دن تم اپنی ہی چالوں سے پھنسو گے ،زہران نے غراتے ہوئے کہا۔
میرے جیسے لوگ پھنسنے کے لیے نہیں وجود میں آتے سر ،وہ کرسی پر پھیل کر بیٹھ چکا تھا
آپ کے مکے زبردست ہوتے ہیں سر،میرے لوگوں کو مار کر اپنے ہاتھ مت گندے کریں ،وہ ہلکا سا مسکرایا آنکھوں میں شرارت در ائ
تمہیں مکے نہیں مروں گا ،تھوڑا وقفہ لیا
سیدھا دفن کر دونگا ،زہران نے سرد لہجے میں کہا تو فینٹم قہقہ لگا،کر ہنس دیا،
اگر آس پاس گندگی پھیلی ہو تو اسے صاف کرنے کے لیے ہاتھ بھی گندے کرنے پڑتے ہیں، زہران نے سپاٹ انداز میں کہا
میں مجرم نہیں ہوں سر!!میں تواسی بوسیدہ نظام کی کمزوریاں دکھانے والا ایک آئینہ ہوں ۔۔اس نے یہ کہتے کال کاٹ دی تھی ،
وہ جرم کی وجہ نہیں تھا ،جرم اسی کے ساتھ جنم لیتے تھے۔
☆☆☆☆☆
راحا کی کار آچکی تھی ،اسے جھولے پر لاکر بیٹھا دیا تھا ،تھوڑی دیر میں زہران بھی اچکا تھا ،مایوں کی ہلکی زرد روشنی میں بیٹھی وہ لڑکی خوبصورت لگ رہی تھی، اس نے پیلے رنگ کا لہنگا پہن رکھا تھا ،گیندے کا بنے جھمکے اور بندی لگا رکھی تھی ،اس کے بالوں میں تازہ گجروں کی خوشبو بسی ہوئی تھی ،ہتھیلیوں پر مہندی سے باریک بیلیں بنا رکھی تھی ،دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں پہنی ہوئے ،جس کی مدھم جھنکار ایک مدھر سا گیت سنا رہی تھی ،۔پاس بیٹھا نوجوان سفید رنگ کی شلوار قمیض کے اوپر گرم شال اوڑھے ہوئے تھا ،نظریں چرا کر دیکھتی وہ لڑکی اسے بہت پیاری لگی تھی ،
نازیفہ بار بار زہران اور روحی کو تنگ کر رہی تھی ،وہ خود بھی سبز رنگ کے ہلکے سے جوڑے میں ملبوس تھی ،جس پر زیادہ کام نہیں ہوا تھا ،سارے مہمان اچکے تھے، ہلیل اور نازیفہ نے مہندی کو کافی پر رونق بنا دیا گیا۔
دورکھرے علوی صاحب اور حمدانی صاحب راحا اور زہران اوران کے پاس ان کے قدموں میں بیٹھی نازیفہ جو ان کی تصویریں بنا رہی تھی انہیں دیکھ رہے تھے
کتنے خوش نظر ارہے ہیں نہ بچے، علوی صاحب نے حمدانی صاحب کو دیکھتے پوچھا
میں چاہتا ہوں کہ اب راحا کی شادی کے بعد نازیفہ کی بھی شادی کردو،انہوں نے دور بیٹھی ناز کو دیکھتے کہا
تمہیں کیا لگتا پے وہ تمہاری بات مانے گی ،
ایمو شنل بلیک میل کروگا پھر تو مانے گی ،ھمدانی صاحب نے انہیں دیکھتے مسکرا کر کہا،علوی صاحب نے سر جھٹکا
کچھ دیر بعد ھمدانی صاحب نے ناز کو ہاتھوں کے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور ایک عورت سے ملوایا۔
یہ آپ کی بڑی بیٹی ہے ،اس عورت نے ناز کے بالوں اور کندھے پر ہاتھ پھیرتے کہا،جو کہ ناز کو انتہائی برا لگا
جی ،آرزو بیگم نے مسکرا کر کہا
ماشا اللہ بہت پیاری ہے ،میرا بیٹا بھی ماشاءاللہ بڑا ہوگیا ہے اور پیارا بھی ۔اس عورت نے اپنے پاس کھڑے بیٹے کو بازو سے پکڑتے آگے کیا تھا ،جس میں ذرا سی بھی کشش اس میں نظر نہیں ارہی تھی ،وہ بات کو سمجھ چکی تھی ،اس لیے اس لڑکے کو اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگی جس کا قد اتنا تھا کہ بغیر ہیلز پہنے نازیفہ کے برابر اتا اور کلین شیو کر کے اور زیادہ چھلا ہوا آلو لگ رہا تھا ،وہ دل ہی دل میں اس لڑکے کئ القابات سے نواز رہی تھی لیکن بولی کچھ نہیں، پتہ نہیں اسے شروع سے ہی کلین شیو والے لڑکے عجیب عورتیں لگتے تھے ،
ماشا اللہ، حمدانی صاحب نے اس عورت کے کہنے پر لڑکے کے ساتھ مصاہفہ کیا
جاو بیٹا تم دونوں کہیں جاکر بات کرلو۔،عورت نے ناز اور اس لڑکے کا بازو پکڑتے کر آگے کر دیا ،ناز نے عجیب الجھن بھری نظروں سے حمدانی صاحب کو دیکھا جو اسے آنکھوں کی پتلیوں سے چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے۔پھر کچھ کہے بنا وہ اس کے ساتھ بڑھ گئ
جی تو بتائیے، ناز جان بوجھ کر اسے گھر کے پچھلے حصے کی طرف لے آئ تھی ،جہاں پہ کوئی اس سے ایسے اس طرح بات کرتے نہ دیکھے
کیا بتائیں محترمہ، اس لڑکے نے عجیب انداز میں کہا،اسے اس لڑکے کی نظروں سے الجھن ہوئ تھی جو اس،کا سکین کرنے پر تولیں تھی،مگر وہ پھر بھی ابھی تک خاموش رہی
ہمیں آپ پسند آئ، وہ مسکرا کر بولا
ہمیں سیریلی؟؟؟ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا جسے وہ پسند اگئ تھی ،عجیب امیروں کے چونچلے، ہم ،ہمیں، ہممم،وہ سینے پر یاتھ باندھے بہت بڑے طریقے سے اس،لڑکے کو جج کر رہی تھی
کیا ہم لونگ ڈرائیو پہ چلیں، ویسے بھی فنکشن ختم ہوگیا ہے ،اس لڑکے نے ناز کو اوپر سے نیچے تک ایسا دیکھا جیسا زندہ منہ میں ڈال لے گا
کچھ مرد اگر اپنی نظریں کو قابو کرنے جان لیں تو اگر وہ خوبصورت نہ بھی ہوں پھر بھی وہ دنیا کہ پرکشش مرد لگتے ہیں، لیکن اگر وہی خوبصورت مرد اپنی نظریں نہ قابو کر سکے تو وہ دنیا بھر کا بد صورت مرد لگتا ہے ،
آپ، نازیفہ کو خاموش دیکھ کر اس لڑکے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ،لیکن اس سے پہلے ہی نازیفہ نے اس،کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا تھا ،وہ لڑکا چہرے پر ہاتھ رکھ کر حیرانی سے اسے تک رہا تھا،
اگر تم کبھی بھی کسی لڑکی کو ہاتھ لگانے کی کوشش کروگے تو تمہیں یہ تھپڑ یاد آئے گا وہ انگلی اٹھتی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی ،اور پھر واپس چلی گئ
تھوڑی دیر بعد جب وہ گھر کے اندر کچن میں کسی کام سے آئ تو وہ عورت بھی وہی موجود تھی ،جو پانی کا گلاس تھامے کھڑی تھی ،وہ یقینا آرزو بیگم کی جاننے والی تھی تبھی یوں کچن میں موجود تھی ،وہ ان پر بغیر دھیان دیے اپنا کام کرنے لگی ،وہ راحا کے لیے فروٹس کاٹ کر وہاں لے جارہی تھی ،
کیا ہے تم میں ایسا جو تم نے میرے شیر جیسے بیٹے کو تھپڑ مارد یا، عورت نے سنک پہ گلاس رکھتے ہوئے کہا
وہ مسکرادی ،لیکن کچھ بولی نہ کچن میں اس کے چلتی چھری کے اور کوئ اواز نہ تھی ۔
تم کرتی کیا ہو جو اتنا نخرہ ہے ،عورت نے عجیب سے انداز میں ہنستے کہا
میں؟؟ اس نے چھری کو اپنی کرتے کہا جیسے پوچھ رہی ہو میرے بارے میں پوچھا
ہاں تم ،عورت نے غصے میں کہا
میں لوگوں کو مارنے کی سپاری دیتی ہوں اور پھر آخر میں انہیں خود تڑپا تڑپا کر مار دیتی ہوں، ناز نے ان کی طرف دیکھ کر بظاہر مسکرا کر لیکن برف سے ٹھنڈے لہجے میں کہا،چھری ابھی بھی اندھا دھند فروٹس پر چل رہی تھی
کیا ؟؟ مزاق،کر رہی ہو ،عورت نے اپنے چہرے کو ممکن طور پر نارمل رکھتے کہا
میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گی آنٹی، اس نے مسکرا کر کہا لیکن آنکھوں میں خطرناک حد تک سرخ ہوگئ تھی، عورت کے چہرے کی ہوائیاں آر گئ تھی
شکل سے تو نہیں لگتی ،
شکل کی کیا بات کر رہی ہیں آپ آنٹی،بھیڑیا بھی تو بھیڑ کی کھال پہن کر شکار کرتا ہے ،اچانک اس کی چلتی ہوئ چھری اس کے انگلی پر چل گئ تھی ،اس نے انگلی کو دیکھتے ہوئے عورت کے سامنے کی اور دیکھتے ہی دیکھتے انگلی پر لگا خون منہ میں لے کر انگلی دبا گئ ،جس انداز سے اس نے عورت کے سامنے انگلی منہ میں لی تھی ،عورت نے بے اختیار جھڑ جھڑی لی۔
اسکے بعد پورے فنکشن میں اسے وہ عورت اور اس کا بیٹا نظر نہیں آیا تھا ،
☆☆☆☆
اندھیرے کمرے میں ایک طرف ایک بڑی سی سکرین موجود تھی جس پر بہت سے سی سی ٹی وی کیمراز اور کوڈر نظر ارہے تھے ،ایک طرف کمپیوٹر موجود تھا جس کے سامنے وہ چئیر پر بیٹھا تیزی سے کی بورڈ پر انگلیاں گھما رہا تھا اس کے ہڈی پہنے چہرے پر سکرین کر روشنی پر رہی تھی ،سامنے ایک لڑکی کا اکاؤنٹ نظر ارہا تھا ،جس کی پروفائل پکچر پر وہ مسکراتی ہوئ نظر ارہی تھی۔
کئ دن ہوگئے تم بہت خوش ہوں پریٹی گرل لیکن اب وقت ختم ہوگیا،ہے ،
صرف ایک میسیج نے اس دن تمہاری جان نکالی تھی تو اب جو تمہیں ملے گا اسے دیکھ کر تم کیا کروگی وہ امیجن کرنے میں بڑا مزاہ ارہا ہر ،اس،کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیلی گئ ،اور پھر اس نے اپنا کام کرنا شروع کر دیا
فنکشن کے بعد سب گھر والے مل کر گھر کے لان میں بیٹھے تھے ،اور آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے ،راحا کافی تھک چکی تھی اس لیے اپنے روم میں فریش ہونے چل گئ تھی ،شاور لینے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئ تھی۔لیکن اچانک اسے ایک اکاؤنٹ سے کئ زیادہ مسیجز آنے شروع ہوگئے تھے ،اس میسج کے بعد کوئ اور میسج اسے موصول نہیں ہوا تھا ،اور اس نے وہ اکاونٹ بھی بلاک کردیا تھا اور خو بھی پرائیویٹ ہو گئ تھی ،لیکن اب پھر سے اچانک بہت سے میسیجز آنے لگ گئے تھے ۔اس نے موبائل ہاتھ میں لیا اور چیک کرنے لگی ،کئ میسیجز اور ویڈیوز موجود تھی ،ہر میسیج دیکھنے کے بعد اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے کچھ دیر پہلے جن آنکھوں میں خواب تھے ان میں خوف اور ڈر نے جگہ لے لی تھی۔
ایک میسیج i am obsessed کا آیا تھا اس،کے بعد کئ ساری ویڈیو تھی ،جن میں اس کا چہرہ لگا کر فیک نازیبہ ویڈیو بنائی گئی تھی ،لیکن وہ اس قدر مہارت سے بنائ ہوتئ تھی کہ نیچرل لگ رہی تھی ،راحا کا چہرے پر ایک کے بعد ایک سائے گزرے ،اس اکاؤنٹ پر کوئی میسج بھی نہیں جارہا تھا ،اسے محسوس ہوا کہ اب وہ بھی ان چیزوں کا شکار ہو چکی ہے جن کی وہ محض باتیں سنا کرتی تھی ،راحا کے چہرے پر پسینہ چمکنے لگا اور گھبراہٹ کے مارے اس نے موبائل دیوار سے دے مارا ،سب لوگ باہر لان میں تھے تو کسی کو کوئی آواز نہ آئ ۔
کام ہو جانے کے بعد اس کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ در آئی ،جیسے اب وہ اپنے ایک بڑے کام سے آزار ہو چکا تھا ،اور سکرین کو دیکھتے ہوئے کرسی جھولنے لگا
لڑکی کے ہی کردار میں کوئ جھول ہوگا ،جو اس کے ساتھ ایسا ہوا
آج کل کی لڑکیاں پہلے سوشل میڈیا کا اکاؤنٹ ہی کیوں بناتی ہیں،
یہ لڑکوں کو خود ہی پہلے اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں،
ان جیسیون کے ساتھ ایسا پی ہونا چاہیے ۔
،اسے اپنے کانوں میں لوگوں کی آوازیں گونجتی محسوس ہو رہی تھی،اس کا سانس پھول چکا تھا ،اسے لوگ اس کے ابا پر طنز کرتے نظر ارہے تھے ،وہ کانپتی ٹانگوں سے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کی طرف گئ اور اس میں سے نیند کی گوکیان نکال کے پانی کے بغیر ہلق سے گزار لیں ،اس نے اپنی ٹانگوں کر سینے سے لگا کر ان میں چہرہ دے لیا تھا چند پلوں میں وہ دنیا سے بیگانہ ہو کر سو چکی تھی
نازیفہ روم میں آئی تو اسے ایسے لیتا دیکھ کر آرام سے کھینچ کر بیڈ کے اپر لیٹا دیا ،اس پر کمبل اورتی وہ خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گئ تھی۔
کل اس کی بہن کی شادی تھی ،وہ ہمیشہ کے لیے کسی اور کی ہوجائے گی ،یہ سوچ سوچ کر ہی اس کی آنکھوں میں پانی آنے لگ گیا تھا
☆☆☆☆☆
صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے آتی ہوئی پورے کمرے میں روشنی بکھیر رہی تھی ,ناز نے آنکھیں چندھیا کر پورے کمرے کو دیکھا اور پھر راحا جگانے لگی ،
روحی روحی، اس نے راحا کو ہلاتے ہوئے کہا،لیکن اس،ہرکوئ اثر نہ ہوا
روحی، ناز نے کچھ غلط محسوس ہونے پر اس کا کندھا جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا ،گھبراہٹ کے مارے ناز کے چہرے ہر بوکھلاہٹ واضح تھی
ناز کے اس طرح جھنجھوڑنے سے راحا نے تھوری سی آنکھیں کھول تھی ،ناز نے اس کی کھلتی آنکھیں دیکھ کر سکوں کا سانس لیا
ایسے کیوں سو رہی تھی ،جان نکالنے دی میری ،ناز نے محبت سے کہا
آپی رات مجھے نیند نہیں ارہی تھی تو میں نے نیند کی گولیاں کھا لی ،راحا نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا
کیا ،،،ناز نے حیرانی سی کہا
تم پاگل ہو روحی کیوں کھائی تم نے ،اس نے غصے سے پوچھا لیکن راحا کا دماغ ابھی کام نہیں کر رہا تھا
وہ میں، میں نے ،وہ ابھی کچھ کہتی کہ روحی پانی کا جگ لے کر نیچے چلی گئ تھی
نازیفہ نے کچن سے آئس کیوب نکال کر پانی کے جگ میں ڈالی اور پھر واپسی اوپر روم کی طرف بڑھ گئ ،اسے اتنی فکر نہ ہوتی اگر یہ رات کا فنکشن ہوتا لیکن مسلہ یہ تھا کہ نکاح دوپہر کو ہی ہو جانا تھا ،جب وہ اوپر گئ تو راحا پھر سے سوری تھی ،وہ روحی کو بمشکل اٹھاتی واشروم میں لے گئ تھی اس کے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے ،جس سے راحا کو کچھ حوش آیا تھا ،
آپی، روحی نے پوری آنکھیں کھول کر نازیفہ کو دیکھا جو اس کے پیرون پر پانی ڈال رہی تھی
جی آپی کی جان ،اس کے پیار سے کہنے پر راحا کی آنکھوں میں پانی بھر آیا رات ایک دفعہ پھر آنکھوں میں گھوم گی ،اسے روتا دیکھ کر ناز چونکی
مجھے لگا کہ وہ ایک بڑا خواب تھا لیکن کیا وہ حقیقت ہے ؟؟ راھا بڑبڑائی(وہ خواب اور حقیقت میں فرق نہیں کر پا رہی تھی)۔
کیا ہوا روحی کہیں درد ہو رہا ہے کیا ،اس نے پریشان ہوکر پوچھا
آپی مجھے ڈر لگ رہا ہے ،میں ،میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں میں سب سے بہت پیار کرتی ہوں، وہ روتے ہوئے نازیفہ سے لپٹ گئ
ارے کیا ہوگیا میری روحی کو تم تو بہت بہادر ہو ،چلو اٹھو شاباش تمہیں تیار بھی تو ہونا ہے ،ناز نے پیار سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے کہا
چلو تم نہالو، میں نیچے جاکر کچھ کام دیکھ لو ،پھر میک اپ آرٹسٹ اکے تمہیں تیار کردے گی ،ناز یہ کہتے واشروم سے نکل چکی تھی اسے بظاہر یہ لگا کہ راحا گھر کو چھوڑنے سے دکھی ہے
نازیفہ نے آرزو بیگم کے ساتھ گھر کے سارے کاموں میں ہاتھ بٹایا تھا ،مہمان آنا شروع ہوچکے تھے ،بیوٹیشن بھی اچکی تھی اور راحا کو تیار کر رہی تھی ،لمبے بالوں کا جوڑا کیے وہ پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھی ،اس کے بعد وہ خود تیار ہونے چلی گئ ،پیروں تک آتی سفید رنگ کی میکسی پہنے ،کھلے بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے ،وہ باقار سی چلتی ہوئ راحا کے روم میں گئ ،
جہاں وہ مکمل طور پر دلہن کا روپ دھارے تھی، لال رنگ کے لہنگے میں ہلکے سے میک اپ کے ساتھ ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں اور جیولری پہنے وہ ایک اپسرا کے جیسی لگ رہی تھی ،اسے دیکھتے ہی ناز کے منہ سے بے ساختہ ماشا للہ نکلا تھا ۔
ارے آپ کون ہوں ہو میری روحی کدھر ہے ،اسکی آج شادی ہے ،ناز نے جان بوجھ کر ادھر اُدھر دیکھنے کی اداکاری کی ،جس پر روحی ہلکا سا مسکرادی
آپی میں ہی ہوں، وہ معصومیت سے بولی ،آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمک رہی تھی۔اچھا آتنی پیاری روحی کہاں سے اگئ ،آج تو زہران کی خیر نہیں، ناز نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کہا
چلوں روحی پہلے ہی بہت دیر ہوگئی پے مولوی صاحب بھی آتے ہونگے اور سب مہمان بھی پوچھ رہے تھے کہ دلہن کدھر ہے ،ناز نے اس کا لہنگا پکڑ نے کی کوشش کی لیکن راحا نے روک دیا
آپی میں تھوڑی دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں، کچھ دیر میں اجاوگی ،راحا نے ناز کو دیکھتے کہا
اچھا ٹھیک ہے ،تمہیں جتنا ٹائم چاہے لے لو ،اپنا خیال رکھنا میں تھوڑا دیر میں اوگی بابا کو بھی ساتھ لے کر ،ناز نے اس کے سر کو لبوں سے چھوتے کہا
نہیں بابا کو رہنے دیجیے گا ،میں نیچے جا کر مل لوں گی ان سے ،کچھ تو عجیب تھا روھی کے لہجے میں جو اسے کھٹکا
اچھا ٹھیک ہے ،میں چلتی ہون اب ،ناز روم کا دروازہ بند کرتی چلی گی تھی
روحی نے ناز کے جانے کے بعد اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا ،ا ،لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے ،اگر انہوں نے وہ ویڈیوز دیکھ لی ،اسکو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی تھی ،بابا کی عزت خاک میں مل جائے گی ،میں سب کی ناکامی کا باعث بنوگی۔
میں کیا کروں، وہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے سوال کرنے لگی،اس کے ہاتھ پیر کانپ رہےتھے ،سب لوگ مجھے بلیم کریگے ،یاخدا میں کیا کرو ،میں نے تو کسئ کا برا نہیں سوچا تھا یہ کیا ہوگیا ،وہ اپنے ناخنوں کو چبا رہی تھی ،اس کی نظر اپنے ٹوٹے ہوئے موبائل پر پڑی، روحی نے موبائل کو ہاتھ میں لیا اور اسے دیکھنے لگی لیکن اب وہ اس قابل نہیں رہا تھا کہ چل سکتا لیکن ویڈیو تو اس کے پاس بھی ہوگی نہ ،کیا میں زیران کو بتادو ،نہیں، نہیں، وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا ،اس کا دماغ مکمل طور پر الوزن کا شکار ہو چکا تھا ،وہ سب کچھ امیجن کر کے خود اذیت دے رہی تھی ۔
اچانک وہ کھڑی ہوئی موبائل ہاتھ میں لیے ،گھر کی اوپری منزل کی طرف بھاگی ،اس کا دماغ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا ،
لوگ کیا کہیں گے ،اب وہ زیر لب یہ الفاظ دہرا رہی تھی
میں بدکردار نہیں ہوں، آنسو آنکھوں سے ہوتے ہوئے گالوں پر لڑھکتے جارہا تھے
چھت پر پہنچ کر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی ،آج شاید آسمان بھی اس سے باتیں کرنے پر راضی نہ تھا ۔
نازیفہ اس کے روم میں آئی تو راحا روم میں نہیں تھی ،نکاح شروع ہونے والا تھا ،اس نے واشروم میں چیک کیا لیکن وہ وہاں پہ بھی نہیں تھی ،گھر کے اوپر والے فلور پر صرف روحی کا کمرہ تھا اور اسکے ساتھ ہی اوپر کی طرف لمبی سیڑھیوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوتا تھا اسے لگا کہ شاید وہ ٹھنڈی سانس لینے چھت پر نہ چلی گئ ہوں، کبھی ذہن کہتا کہ اوپر وہ کیا لینے جائے گی ،لیکن پھر بھی وہ چھت کی طرف چلی گئ،اوپر چھت ہر پہنچ کر اس،کے قدموں کے نیچے سے زمین چلی گئ تھی ،راحا آسمان کہ طرف دیکھتی قدم قدم اٹھاتی چھت کے کنارے تک پہنچ رہی تھی ،
راحا، بے اختیار نازیفہ کی چیخ بلند ہوئی تھی ،راحا نے گردن مور کر نازیفہ کی طرف دیکھا ،چہرے ہر اذیت ہی اذیت نظر ارہی تھی
بچے کیا کر رہی ہو ،واپس او ،ناز نے آگے بڑھتے کہا
آپی آگے مت آنا، روحی نے انتہائی مدھم اواز میں کہا ہاتھ میں پکڑا موبائل ہر گرفت کمزور ہونے پر وہ گر گیا
روھی،روحی کا ایک اور قدم آگے بڑھانے پر ناز نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ بلند کی ،چیخوں کی آوازیں اتے ہی سب نے چھت کی طرف نظر درائی جہاں پر لال جوڑا پہنے راحا صرف چھت سے گرنے کہ ایک قدم پہ تھی ۔
زہران نے سب کی نظروں کے تعاقب میں چھت کی طرف دیکھا یہ دیکھتے وہ ایک لمحے کی دیر کیے بنا اوپر کی طرف بھاگا ،تھا لیکن ابھی وہ چھت پہ پہنچا ہی تھا کہ کے گرنے کی آواز بلند ہوئ، اور پھر ناز بھگتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف ائ
ایک لمحے میں سب کچھ بکھر کر تباہ ہوگیا تھا ،زہران اس کو آتا دیکھا تو ،خود بھی نیچے کی طرف بڑھا تھا وہ دروازے سے باہر نکل چکا تھا جبکہ ناز ابھی بھی سیڑھیوں کے درمیان میں تھی ،جلدی اترنے کی چکروں ،کچھ ہیل اور کچھ لمبی میکسی میں پھنس کر وہ گھٹنوں کے بل سیڑھیوں سے نیچے گڑی، لیکن اگلے ہی پل وہ ہیلز اتارتی باہر کی طرف ننگے قدموں سے بھاگی تھی ،جہاں سفید شلوار قمیض کے اوپر گولڈن رنگ کی واسکٹ پینے دلہا بنا زہران برف ہوچکا تھا ،نازیفہ نے اہنے قدم اگے بڑھائے تو اس کے بابا روتے ہوئے اگے بڑھ رہے تھے ،آرزو بیگم زمین پر چپ چاپ بیٹھی ہوئ تھی ،آگے پہنچ کر اس کی نظر ایک ایسے چہرے سے ٹکرائے جسے اس نے کبھی ایسا دیکھنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ،روحی چھت سے منہ کے بل زمین پر گری تھی ،خون سر کے پچھلے حصے سے بہتا ایک نہر کی طرح بہ رہا تھا جو کہ کے لال جوڑے میں جذب ہوتا جارہا تھا ،راحا کو ایسے دیکھتے ہی اس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہ آیا، ایسے جیسے وہ کسی برے خواب میں ہوں، جس سے جب وہ جاگے گی تو حقیقت بہت مختلف ہوگی ،اسی لمحے اسے اپنے بابا کی رونے کی آوازیں آئ جو روحی کو سر آپی گود میں رکھے رو رہے تھے ،۔
بابا بابا ،وہ بوکھلا کر آگے بڑھی
میری میری بات سنے روحی کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے وہ بلکل ٹھیک ہے ،وہ اپنے بابا کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر انہیں سمجھانے لگی ،لیکن وہ ناں میں سر ہلا کر اسے کچھ بول رہے تھے ،لیک اسے کوی آواز سنائ نہیں دے رہی تھی ،اس نےاپنے اس پاس دیکھا تو سب مہمان انہیں ہی دیکھ رہے تھی ،
کچھ دیر پہلے جن مہمانوں کو ایک نئی نویلی سجی سنوری دلہن کا چہرہ دیکھنا تھا وہ اب ایک زندہ مردہ لاش کو تک رہے تھے ،بے اختیار اسے ڈھیر سارا رونا آیا لیکن وہ رو نہیں سکتی تھی اسے اپنی بہن کو ہاسپٹل لے کر جانا تھا
وہ ننگے پیر زہران کی طرف بھاگی جو بت بنے کھڑا تھا ،
زیران ،زہران۔ وہ اس کا منہ تھپتھپاتی اسے ہوش میں لارہی تھی
سنو ،ہم روحی کو ہوسپیٹل لے کر جائے گے ،وہ بلکل ٹھیک ہوجائے گی ،وہ تمہاری ہی دلہن بنے گی ،اسے کچھ نہیں ہوگا ،وہ زیران سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی
چلو راحا کو اٹھاؤں، وہ اسے دیکھتے بول جو خشک خالی نظروں سے اب اسے تک رہا تھا ،ناز نے اس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا،زہران ہوش میں آو ،ہمیں روحی کو ہوسپیٹل لے کر جانل ہے،وہ اس کا گریبان پکرتے ہوئے چلائی تھی
زہران آگے بڑھا اور راحا کو اپنے بازوں میں اٹھا لیا لیکن وہ محسوس کر چکا تھا جو ناز نہیں کر رہی تھی ،کسرتی بازوؤں والے زہران علوی کے بازو جواب دے گئے تھے ،وہ آدھے راہ ہی راحا کو گود میں لیے وہی بیٹھ گیا تھا ،اس کے کپڑے خون سے لت پت ہوچکے تھے
ہلیل جو گھر کو باہر موجود تھا اندر آتے ہی یہ منظر دیکھ کر اس کی روح کانپ گئ تھی ،چند لمحوں کا کھیل تھا کہ ہنستا بستا گھر میت میں بدل گیا ،ناز کی نظر ہلیل پر پری تو اس کا ہاتھ پکر کے روحی کے قریب لائ
،اسے اٹھاون ہلیل ،ہمیں ہاسپٹل جانا ہے ،اب وہ ہیلیل کئ منت کر رہی تھی ،ہلیل نے پہلے خالی آنکھوں والے زیران کو دیکھا ،جس کی آنکھوں سے کچھ لمحے پہلے مسکراہٹ جدا نہ ہو پارہی تھی پھر اس کی گود میں رکھے بےجان وجود کو،وہ قدم قدم چلتی ان کئ قریب آیا، اور پھر زہران کی گود میں رکھے وجود کی نبض پکر کر چیک کی ،ہلیل نے کرب سے آنکھیں بند کر کے کھولیں،
ناز میری بات سنو ،ہلیل نے اسے سمجھانے کہ کوشش کی
نہیں تم میری بات سنو ،وہ ٹھیک ہے اسے صرف چوٹ ائ ہے ،اور کچھ نہیں ،وہ بوکھلائے ہوئے اپنی بات منوا رہی تھی
ناز ہوش میں آو و مر چکی ہے راحا ، ہلیل نے اسے کندھوں سے پکر کر جھنجھوڑا اس کے چند الفاظ ہی کافی تھے ،اسے عرش سے فرش پر لانے کے لیے اج نازیفہ ھمدانی کا غصہ، پیشہ اور عقلمندی سب خاک ہوگئے تھے ۔۔۔
لان کو خالی کرکے درمیان میں روحی کی میت رکھ دی گئ تھی ،سفید کفن میں لپٹا وہ چہرہ سب کے لیے اذیت تھا ،ساری عورتیں وہاں پہ بیٹھی ہوئ تھی ،آرزو حمدانی کی آنکھیں اپنی بیٹی کی میت کو دیکھ کر خشک ہو چکی تھی انہوں نے کبھی اپنی اکلوتی اولاد کے ایسے چھوڑ جانے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ،س کے بابا مردوں کی طرف اپنی کفن میں لپٹی جان سے پیاری بیٹی کی طرف دیکھتے آنسو صاف کر رہے تھے۔
زہران اور ہلیل نظر نہیں ارہے تھے، نازیفہ ایک طرف دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی ،آج بھی وہ اکیلی تھی ،آج بھی کوئ اپنا اسے چھوڑ گیا ،آنکھیں پتھر بن گئ تھی لیکن ایک آنسو نہیں ٹپکا تھا عورتیں اسے رونے کا بول بول کر تھک گئ تھی ،وہ بس چپ چاپ بیٹھی تھی ،
کچھ وقت بعد عورتیں جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ،اور جنازہ اٹھانے کی کوئ بات ہورہی تھی ،وہ یہ سب ہوتا صاف دیکھ سکتی تھی ،لیکن جیسے ہی اس کے بابا اور زہران نے جنازے کو اٹھایا، وہ ایک دم بھاگی ہوئ ان کی طرف گئ تھی ،بابا بابا ،میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آج کے بعد آپ کو کبھی تنگ نہیں کروگی ،آپ روحی کو مجھ سے الگ مت کریں ،وہ کسی چھوٹے سے بچے کری طرح کہ رہی تھی ،اس کی بات سن کر ھمدانی صاحب کی آنکھوں میں آنسو کی بار آئ تھی ،
زہران تم میرے دوست ہونا اسے مت لے کر جاو وہ بہن ہے یار ،وہ زہران نے سامنے ہاتھ جوڑے بولی،زہران نے اپنے ہونٹ بھیچ لیے تھے
آپ لوگ میری بات کیوں نہیں سنتے ،وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی ،میری بہن کو مت دور کرو مجھ سے ،اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد وہ اس کے سامنے سے جنازہ لے کر نکل چکے تھے، آنکھوں میں رو رو کر جلن شروع ہوگئ تھی۔
،”وہ اس قدر روئ کہ آنسو تھم ہوگئے ،آنکھیں تھک گئ ،لیکن درد داستان بن گیا”
جنازہ دفنانے کے بعد زہران زہران نہیں رہا ،مٹی راحا کے وجود ہر ڈالی جارہی تھی اور اس وقت زہران ایک لامتناہی کرب میں مبتلا ہوتا جارہا تھا ،
زہران علوی کی زندگی کا یہ پہلا خسارہ تھا جسے وہ چاہ کر بھی کبھی نہ بھلا پائے گا ،وہ ایک مٹی کے ڈھیر کے نیچے اپنی خوبصورت یادیں دفن کر رہا تھا ۔
Some stories never End.
They just Transition Into beautiful memories that we carry forever .
☆☆☆☆☆☆
چند لمحے پہلے اسے ایک نئی پروفائل ملی تھیں، وہ کرسی سے ٹیک لگائے اندھیرے کمرے میں موجود کمپیوٹر پر چسپ تصویر کو تک رہا تھا ۔
عام سی پروفائل….
عام سی لڑکی…..
لیکن اس،کے لیے وہ عام نہ تھی ،شاید وہ زندگی برباد کرنے سے پہلے کسی کو خاص یا عام نہیں سمجھتا تھا (خاصی دریادلی تھی)
اس نے چند فائلیں کھولیں اور نظر ایک تصویر پر جم گئی،ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ گئی
Not bad.
اس کے ہاتھ تیزی سے کی بورڈ پر چل رہیں تھے ،اور آنکھیں آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی یا پھر شاید خباثت۔ پیغام بیجھ دیا گیا تھا ،اس نے سکون سے سر کرسی کی پشت سے ٹکالیا ۔
کون تھا وہ؟؟؟
اور کوئی اس قدر سفاک کیسے ہوسکتا ہے اور کیوں؟؟؟
☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے۔
