BHERYE BY DUA SHAHID EPISODE :1

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


انتساب!
“میری پہلی تحریر میرے اللہ کے نام جس نے مجھے خواب دیکھنے اور اسے لفظوں میں ڈھالنے کا حوصلہ دیا”

پیش لفظ:
بھیریے صرف ایک کہانی نہیں بلکہ انسانی جبلت کے ان اندھیرے گوشوں کی عکاسی کرتا ہیں جنہیں ہم اکثر خود سے بھی چھپائے رکھتے ہیں۔ہم سب کے اندر ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے ایک اچھائی کی اور ایک ہمارے اندر کہ برے” بھیڑیے “کی جو موقع ملتے ہیں باہر آنے کو تڑپتا ہے۔اس کہانی کے کردار کوئ فرشتے نہیں بلکہ گوشت پوست کے وہ انسان ہیں جو حالات کے تھپیڑوں میں کبھی خود کو بچاتے ہیں تو کبھی خود ہی شکاری بن جاتے ہیں۔یہ ایک ایسی داستان ہے جہاں محبت اور نفرت کی سرحدیں آپس میں مل جاتی ہیں اور انسان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ شکاری تھا یا شکار…
بھریے کے کردار کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود کے لیے ہی ظالم ہیں، وہ اپنے پی آنا کے قیدی ہیں، اپنے ہی فیصلوں کے مقتول اوراپنے ہی ضمیر کی عدالت میں مجرم ہیں۔میں نے آپ سے کچھ بھی چھپایا نہیں ہے چہروں کو پہچانیے کیونکہ یہ وہ سچائیاں ہیں جو ہمارے آس پاس ہی سانس لے رہیں ہیں۔
یہ کہانی تفریح بھی ہے اور تلخ حقیقت بھی ،امید کرتی ہوں یہ سفر آپ کو پسند آئے گا ،لفظوں کا یہ واضح سفر آپ کے ذوق کے نام ۔

مصنفہ,دعا شاہد


باب اول:

 

They see the crown ,
But never the weight of it.

شہر اسلام آباد:

رات کے سیاہ لبادے میں لپٹی وہ سڑک کسی نوحے کی طرح خاموش تھی،آسمان سے برستی بارش نے زمین کو دلدل بنا دیا تھا ،ہر طرف کیچڑ اور تعفن تھا ،لیکن اس تعفن بھرے کیچڑ میں بھی ایک ذی روح ایسے چلتا آرہا تھا ،جیسے اس کے لیے یہ سب بے معنی ہو،اس کے قدموں کی چاپ کیچڑ میں دب کر رہ گئی تھی،اس وجود نے اپنے سرخ ریشمی لباس کو کیچڑ سے بچانے کی ذرہ کوشش نہیں کی تھی ،جو جگہ جگہ سے گیلا ہوکر اس کے وجود سے چمٹ گیا تھا ،اس کی اونچی ہیلیز کیچڑ میں دھنس کر مدھم ہو رہی تھی،مگر جو چیز روح کو کپکپا دینے والی تھی ،وہ اس کے دونوں ہاتھوں پر لگا تازہ انسانی خون تھا ،جو بارش کے پانی سے دھل تو رہا تھا لیکن اس کی سرخی ابھی بھی باقی تھی۔ اس کے چلنے کا انداز اب بھی کسی ملکہ جیسا تھا ،وہ ہر قدم بغیر لڑکھڑائے اور متانت سے اٹھا رہی تھی ،جیسے یہ غلاظت بھرا راستہ اس کے لیے کوئی شاہی قالین ہو ، اس نے ایک پل کو رک کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا ،اس کے سرخ لباس کی چمک اور ہاتھوں پر لگا تازہ خون ایک ہی رنگ کے دو مختلف روپ لگ رہے تھے ،ایک سرد مسکراہٹ اس کے لبوں پر رینگ گئی، اس نے مڑ کر اس گھر اور گلی کی طرف نہیں دیکھا تھا ،جہاں سے وہ آئی تھی ،وہ گلی جہاں اب موت سا سکوت تھا ، اس کے چہرے پر نہ کوئی پچھتاوا تھا اور نہ کوئی ڈر۔
وہ کون تھی؟؟؟ ایک مظلوم جو ظالم بن گئ، یا کوئی ایسی تلخ حقیقت جس کا سامنا کرنے کی کسی میں سکت نہیں تھی،سرخ لباس میں ملبوس نازک سا وجود کیا اتنا سفاک ہو سکتا تھا ؟؟؟۔

☆☆☆☆☆☆☆
شہر کراچی:

صبح فجر کے وقت راحا کی آنکھ دور سے مسجد سے آتی ازان کی آواز پر کھلی تھی ،وہ ہربڑا کر اٹھی، عام طور پر وہ تہجد کے ٹائم پر آٹھ جایا کرتی تھی لیکن رات کو نیند نہ آنے کی وجہ سے آنکھ نہیں کھل سکی تھی ،وہ جلدی سے وضو کرنے کے بعد اپنی بالکونی کے گلاس ڈور کو کھول کر وہاں جائے نماز بچھا گئی ،جس سے آتی تازہ ٹھنڈی ہوا نے اسے اور راحت بخشی تھی، چہرے کے گرد دوپٹہ حجاب کی صورت میں لیے وہ پرسکون سی نماز ادا کرنے لگی،اس کی نماز میں ایک ٹھہراؤ تھا ،اور چہرے پر سکون ہی سکون ،اس کی نماز وقت لیتی تھی ،سلام پھیر کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے تھے ،اسے لگتا تھا کہ اس کے پاس مانگنے کے لیے بہت کچھ ہے اور اللہ کے پاس دینے کے لئے بے حد ہے ،اس لیے وہ دعا کافئ دیر تک مانگتی رہتی،نماز سے فارغ ہوکر وہ جائے نماز کو اس کی جگہ پہ رکھتی لان میں ننگے پاوں چلی آئی تھی ،ہاتھ میں تسبیح لیے وہ ہولے سے منہ میں کچھ پڑھ رہی تھی ،آہستہ آہستہ سورج نمودار ہونے لگ گیا تھا، اس کی نظر آسمان کی طرف تھی، تیز ہوا سے اس کا حجاب کھل چکا تھا لیکن دوپٹہ ابھی بھی سر پہ ٹکا تھا ،ریشم جیسے بالوں کی چند لٹیں پھسل کر چہرے پر گر آئی ،سنہری آنکھوں والی دوشیزہ میں ایسا کمال تھا کہ وہ اپنی پر سکون آنکھوں سے سامنے والے کو بھی پر سکون کر دیتی تھی۔
” تمہیں اتنی دفعہ کہا ہے روحی بغیر چپل کے مت چلا کرو ” آرزو حمدانی نے اپنی بیٹی کے ننگے پاوں دیکھ کر مصنوعی غصے سے کہا
” ارے امی کچھ نہیں ہوتا اور یہ گھاس ہی تو ہے” اس کی آواز میں عجیب سی نرمی تھی۔
” سردی لگ گئ تو ” ،انہوں نے فکرمندی سے کہا
” نہیں لگتی امی ،وہ پھر سے آسمان کی طرف متوجہ ہوگئ تھی ،اس کا اور آسمان کا ہمیشہ سے ہی ایک گہرہ تعلق رہا تھا ،آرزو بیگم اس کے قریب چلی آئیں انہوں نے پہلے اس کی نظروں کے تعاقب میں آسمان کو دیکھا اور پھر راحا حمدانی کو جو نیلے آسمان میں کھو سی گئ تھی
تمہیں آسمان بہت پسند ہے نہ روحی، انہوں نے محبت سے کہا
جی امی، کھوئ کھوئ سی آواز ابھری
پوچھ سکتی ہوں اسکی وجہ کیا ہے؟؟،وہ ایک جدید زمانے کی ماں تھیں اگر ان کی بیٹی کو کوئی چیز پسند آتی تو وجہ نہیں پوچھتی تھی،لیکن آج وہ خود کو روک نہ پائی
کیونکہ میرا نصیب آسمان پر لکھا گیا ہے،اللہ نے میری قسمت آسمان کے ستاروں میں رکھی ہیں زمین کی دھول میں نہیں،اس نے اپنا چہرہ آرزو حمدانی کی طرف کیا اور نرمی سے مسکرادی ،مسکرانے پر اس کی سنہری آنکھیں چمک اٹھی
آرزو حمدانی کے چہرے پر الجھن واضح تھی۔

“راحا حمدانی ایک ایسی معصوم ہرن تھی جس کے آس پاس صرف بھیریے ہی بھیڑیے تھے”

☆☆☆☆☆☆☆


Shah villa…

اسلام آباد کے علاقے میں موجود ایک سرمئی رنگ کی عالیشان عمارت پوری آب و تاب سے کھڑی تھی ،اس کے بھاری دروازے کھلتے ہی سامنے وسیع لاؤنج پھیل جاتا ،لاؤنج کے سامنے شیشے کی دیواریں تھیں جس سے سامنے کا منظر دیکھا جا سکتا تھا ،شفاف گلاس کے اس پار باہر ایک وسیع سبزہ زار لان پھیلا پوا تھا ،نرم گھاس کے کناروں پر خوبصورت قدآور درخت خاموشی سے کھڑے تھے،لان کے ایک طرف سفید اور کالے رنگ کے گھوڑے ایک بڑے سے باڑے میں موجود تھے ، دھیمی سی روشنی جب ان کے جسموں پر پرتی تو وہ اور بھی دلکش لگتے ، گھر کے باہر ایک بڑے سے نقش و نگار والے گیٹ پر بڑے بڑے کتے موجود تھے ، لاونج کے درمیان میں لٹکا گولڈن کرسٹل فانوس اپنی روشنی پورے ہال میں بکھیر رہا تھا ،چمکتے ماربل پر اس کی روشنی پڑتے ایسے گمان ہوتا جیسے فرش پر پانی تیر ریا ہو ،درمیان میں نرم مخملی صوفے ترتیب سے رکھے ہوئے تھے ،جن کے درمیان شیشے کی میز جگمگا رہی تھی،دیواروں پر کئ طرح کی پینٹنگز لگائ گئ تھی ،کچھ آگے بڑھنے پر بل دار سیڑھیاں اوپر کی منزل کی طرف بڑھتی تھی ،سیاہ نقوش والی ریلنگ اور سیڑھیوں کے کنارون پر لگی روشنیاں پورے گھر کو اور بھی نفیس بنارہی تھی ،سیڑھیوں پر قدم آگے بڑھاتے ایک ہی وجود کی تصویریں نظر آتی تھی ،جن میں وہ نیلی انکھون والا وجود کبھی اکیلا نظر ارہا ہوتا تو کبھی اپنی نیلی آنکھوں والی بلی یا گھوڑے کے ساتھ اس کی تصویروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اس گھر کے مالک کو جانوروں سے خاصا پیار تھا ۔گھر کی اوپری منزل کی طرف کافی کمرے موجود تھے ،جن میں سے ایک کمرے میں مدھم زرد روشنی جل رہی تھی کھڑکی کے آدھے کھلے پردوں سے ہوا کمرے میں آرہی تھی ،جو سفید پردوں کو آہستہ آہستہ ہلا رہی تھی ،سرمئی کمرے کی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر ہیڈ فونز اور لیپ ٹاپ بکھرے پڑے تھے، بیڈ پر وہ لڑکا بغیر شرٹ کے منہ کے بل بے فکری سے سو رہا تھا ،ایک بازو سر کے نیچے دبا ہوا تھا ،آدھا کمفرت اس کی اوپر اور آدھا بیڈ سے نیچے سرک رہا تھا ،اسکی پرسکون سی سانس لینے کی آواز کمرے کی خاموشی میں گونج پیدا کر رہی تھی ،اس کے بلکل قریب اس کی سفید بلی گول ہو کر بیٹھی تھی ،کبھی وہ اپنی نیلی آنکھیں کھول کر اسے دیکھتی تو کبھی اس کے بازو پر سمٹ جاتی ،اس کی بار بار یہ حرکت دہرانے سے اس وجود نے تنگ آکر آنکھیں کھول کر اپنی نیلی آنکھوں والی بلی کو دیکھا تھا ،
نیلوفر سکون سے سونے نہیں دوگی کیا ،بھاری آواز کمرے میں گونج اٹھی، اس نے نیلوفر کو اٹھا کر اپنے اوپر بٹھا لیا تھا
اب یہ یقینی تھا کہ وہ سو نہیں سکتا کیونکہ نیلوفر (بلی)کی نیند پوری ہوچکی تھی
تھوڑی دیر تک اس کے ساتھ باتیں کرنے کے بعد وہ بلیک ٹراوزر کے اوپر ہالف سلیو ہوڈی پہنے سیڑھیاں پھلانگنے کے انداز میں نیچے آیا تھا ہاتھ میں ابھی بھی نیلوفر تھی ،سیڑھیاں اترنے کے بعد اس نے نیلوفر کو فرش پر چھوڑ دیا تھا اب وہ اس کے قدموں کے پیچھے چلتی ہوئی آرہی تھی،

صبح ہوگئ تمہاری برخوردار، ایک رعب دار آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اس کے قدموں کو بریک لگی،اس نے چہرہ پھیرے تایا جان کو دیکھا جو ہمیشہ کی طرح گہرے کالے تھری پیش سوٹ میں ٹائ لگائے ونگ چئیر پر براجمان تھے سفید لمبے بالوں کو پیچھے سمیٹ کر نفاست سے پونی کی ہوئی تھی ،ان کی تیر جیسی آنکھیں اس کا سکین کر رہی تھیں
صبح بخیر، تایا جان ،اس نے پاس آکر ان کے ہاتھ چومے تھے
ابلاج یہ کوئی وقت ہے اٹھنے کا ،انہوں نے نے غصے سے کہا
آئندہ نہیں ہوگا ،تایا جان ،کافی پیے گے ؟؟ اس نے آفر کرتے پوچھا
نہیں، ایک لفظی جواب آیا
ابلاج نے کندھے اچکائے اور کچن کی طرف بڑھ گیا۔
کافی مشین آن کرتے اس کی نظر ایک دفعہ پھر انکی طرف اٹھی جو چیس بورڈ سامنے رکھے مہروں کو غور سے دیکھ رہیں تھے ،کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ دونوں طرف کی چال چل دیتے ،وہ کافی کا کپ تھامے ان کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا
تایا جان شطرنج کھیلنے کا مزہ تبہی آتا ہے جب سامنے والا حد سے زیادہ سمارٹ ہو ،ابلاج کی نظریں چیس بورڈ کا طواف کر رہی تھیں
یعنی تم اپنی بات کر رہے ہوں، انہوں نے اس کے چہرے کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا
افکورس ،وہ فخریہ انداز میں مسکرایا
تم نے نماز پڑھی تھی صبح، انہوں نے مہروں کو ترتیب دیتے کہا
نہیں، گہرا سانس لیا
سید ہوکر نماز نہیں پڑھتے شرم نہیں آتی، کھیل شروع ہوچکا تھا۔
“نسبتیں نصیب سے ملتی ہیں اور ہدایت توفیق سے ،گناہگار ضرورہو لیکن ،نماز نہ پڑھنا میری بد نصیبی ہے ،جس نے رتبہ دیا ہے وہ توفیق بھی دے دے گا ،آپ شرم دلانے کی بجائے دعا بھی تو کر سکتے ہیں ” ابلاج کی بات سن کر وہ ایک لمحے کو ساکت ہوئے کبھی کبھی وہ اسی باتیں کر کے انہیں ساکت کر دیتا تھا
عباس شاہ نے اسے گہری نظروں سے دیکھا ، نیلی آنکھوں والا سید ابلاج شاہ جس کی آنکھوں کا رنگ سمندر جیسا گہرہ نہیں تھا بلکہ اس مائع نور جیسا تھا جو اندھری رات میں اس چراغ مانند تھیں جو راستہ دکھاتی ہیں، ایک ایسی گہرائی جس میں اترنا آسان تھا لیکن لوٹنا ناممکن، ابلاج شاہ اپنی عمر کی مناسبت سے خوبرونوجوان لگتا ،گوری رنگت اور داڑھی سے پاک کلین شیو چہرہ اسے اور بھی وجیہہ بناتا ،وہ ایسا مرد تھا کہ اگر کوئی اسے دیکھتا تو مرعوب ہوئے بنا نہ رہتا ، بلاشبہ وہ سید خاندان کا سب سے حسین مرد تھا۔وہ ایک ایسا شاہانہ مرد تھا کہ سیدوں کی گدی اس کے نام کردی جاتی ۔
ابلاج نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھی بڑھاتے ہوئے کہا ،تایا جان میری خوبصورتی سے نکلے اور کھیل پر دھیان دیں کیا لگتا ہے چیک میٹ کب دیں گے ،اور بادشاہ کب کھیل ختم کریں گا …
تھورا ممکن لگ رہا ہے ,تمہارے بادشاہ کو مارنا ،،انہوں نے سنجیدگی سے بورڈ کو دیکھتے کہا
وہ گہرا مسکرایا اور اگلے ہی لمحے وہ اپنے ماہر تایا جان کر چیک میٹ دے گیا تھا
وہ تھوڑا آگے کو جھکا …شطرنج کا اصول ہو یا زندگی کا بادشاہ کبھی نہیں مرتا ،وہ بچتے بچتے پیادوں، گھوڑوں اور ہاتھی کو قربان کر دیتا ہے کیونکہ ان کا کام ہی بادشاہ کی راہ میں قربان ہونا ہوتا ہے ،جبکہ بادشاہ کا ایک رتبہ ہے ایک نشانی ہے ،جب تک وہ قائم ہے ،سلطنت بھی قائم ہے،لیکن جب بادشاہ کی ہار طے ہوجاتی ہے تو کھیل وہی ختم ہو جاتا ہے ،اسے جھکایا جا سکتا ہے ،گھیرے میں لیا جاسکتا ہے ،لیکن مٹایا نہیں جاسکتا ،اسے مٹا دینا بازی اور قانون کے خلاف ہے ….اس کی نیلی آنکھوں میں کچھ عجیب سا تھا شاید لہو رنگ …
اور اگر آپ کا کردار زندگی میں بادشاہ کی طرح ہے تو دشمن اپکو ہرانے کی کوشش تو کریں گا لیکن مٹا نہیں پائے گا ،،،سید عباس شاہ کے چہرے پر الجھن در آئی
جتنا دماغ ان باتوں پر لگاتے ہو اتنا کبھی کام پر بھی لگا لیا کرو ،انہوں نے طنز کیا تھا
کی ہے بات زہران سے میں نے جلدی جوائن کرونگا ایجنسی، اس نے ہنستے کہا (یعنی وہ انہیں اپنی باتوں سے زیر کر چکا تھا)
جلدی ؟؟؟ جلدی کیا ؟؟، ابھی کرو جوائن ،،،انہوں نے اپنے بھائی کی اکلوتی عجیب اولاد کو غصے سے گھورتے کہا
ابھی کچھ کام ہے مجھے ،اس نے نظریں چراتے کہا
کام مائے فٹ، ،انہوں نے ضبط سے مٹھیاں بیچے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے
سدھر جاو ورنہ تمہارا باپ تمہیں عاق کر دیگا یا تمہاری شادی کر دیگا،انہوں نے کوٹ کے بٹن بند کرتے کہا
تایا جان ،اگر انہوں نے عاق کر نا ہوتا تو کب کا کر دیتے ،اور رہی بات شادی کی تو آزما کر دیکھ لیں میں تو کب کا تیار بیٹھا ہوں کسئ حسین مصیبت کے لیے،
استغفراللہ، ابلاج کے دانت پھاڑ کے کہنے پر انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا اور پھر باہر نکل گئے ۔۔۔
سید عباس کے جانے کے بعد اس نے نیلوفر کو فرش پر چھوڑ دیا اور خود ٹانگیں لمبی کیے دوسری کرسی پر رکھ کر جیب میں رکھی سیگریٹ نکال کر منہ میں رکھ لی ،اب وہ کچھ سوچتے ہوئے گہرے کش لگا رہا تھا ،اور فضا میں سیگریٹ کا دھواں پھیلتا جارہا تھا ۔

☆☆☆☆☆☆☆

امی نازیہ کیوں نہیں آرہی اب کام پہ؟؟ ،کچن میں پانی پیتی راحا نے آرزو بیگم سے پوچھا
پتہ نہیں ان کے گھر کچھ مسئلے چل رہیں ہیں شاید، آرزو بیگم نے نظریں ٹی وی کی طرف مرکوز کرتے کہا
کیسے مسئلے، راحا اب ان کے ساتھ صوفے ہر براجمان ہو چکی تھی
کچھ لڑکے کا مسئلہ ہے لوگ کہ رہیں ہیں ،کل بشرہ بی بتا رہیں تھی کہ ان کے محلے میں نازیہ کو لے کر کافی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں۔
افواہیں لیکن کیوں؟ کیسی افواہیں وہ تو بہت اچھی لڑکی ہے ،راھا کے چہرے پر الجھن تھی
اچھی لڑکی تھی، آرزو بیگم نے اس کے طرف چہرہ کیے کہا اور” تھی” پر زور دیا
یہ آپ بول رہیں ہیں امی ،راھا نے حیرانی سے پوچھا
یہ میں نہیں بول رہی روحی، یہ لوگ بول رہے ہیں، نازیہ کا رشتہ پکا ہو چکا تھا اور پھر جب کسی غیر لڑکے کے ساتھ اس کی تصویریں اور ویڈیوز ملتی ہیں تو لوگ تو باتیں بنائے گے نہ ،انہوں نے نرم لہجے میں کہا گویا اپنی بیٹی کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں
لیکن امی وہ ویدیوز فیک بھی تو ہو سکتی ہیں نہ ،وہ اب بھی ڈٹی تھی
بیٹا ویڈیوز فیک ہو یا رئیل عزت تو واپس نہیں آسکتی نہ ،اور کافی عورتیں باتیں بنا رہیں تھی کہ اس کا کردار ٹھیک نہیں تھا اس لیے یہ سب کچھ ہوا ،آرزو بیگم یہ کہ کر کچن کی طرف چل پڑی
لیکن امی پہلے تو کوئ نہیں کہتا تھا کہ نازیہ کا کردار نہیں ٹھیک اور اب ویڈیوز وائرل ہونے پر سب یہ کہ کر رہے ہیں،

بیٹا لڑکیوں کی عزت ایک کانچ کے کھلونے جیسی ہوتی ہے اور زرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جاتی ہے ،اسے یہ الفاظ کوڑے کی مانند لگے
لیکن امی ،وہ کچھ بولنے لگی تو آرزو بیگم نے اسے ٹوکا
تم ابھی بہت چھوٹی ہو ان باتوں کے لیے جو ہونا تھا وہ ہوگیا جاو جا کر اپنا کام کرو ،آرزو بیگم نے اسے آنکھیں دکھائی،جس پر راحا پیر پٹکتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ

☆☆☆☆☆☆


صبح 10 بجے اس کی آنکھ اپنے موبائل پر آنے والی کال سے کھلی تھی ، اس نے کمفرٹ میں سے چہرہ نکال کے دیکھا تو وہ بےساختہ مسکرادی ،اور کال اٹینڈ کر کے موبائل کانوں سے لگا لیا ،
گڈ مارننگ روحی، نازیفہ نے موبائل کان سے لگاتے کہا
مارننگ آپی؟، یہ اب مارننگ نہیں رہی 11 بج رہے ہیں، فون پر موجود نفوس نے قدرے غصے سے کہا
میرے لیے تو مارننگ ہی ہے ،نازیفہ یہ کہتی کمفرت اپنے اوپر سے اتار چکی تھی
آپ بہت بے پرواہ ہو اپی ،وہ کال پر بات کرتے ہوئے بالکونی پر جاکر کھڑی ہوگئی تھی ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے اس کی روح کو سکون دیا تھا
اچھا ؟؟؟ ،نازیفہ نے راحا کی بات سن کر قہقہ لگایا جیسی خود پر ہنسی ہو
آپ نماز پڑھا کرو آپی اللہ آپ کو سکون دے گا ۔ فون پر راحا کی نرم آواز گونجی
میں نماز کے بغیر بھی سکون میں ہی ہوں، نازیفہ کی ہلکی سئ آواز گونجی
یہ سکون نہیں ہے آپی یہ بے چینی ہے ،راحا کی بات سن کر وہ جھنجھلائ
مجھے اوفس کے لیے نکلنا ہے آکر بات کرے گے، اس نے یہ کہ کر راحا کی بات سنے بغیر کال کاٹ دی تھی ،وہ ہمیشہ یہ کرتی تھی ،جب بھی کوئی سیدھا راستہ دکھاتا وہ منہ پھیر لیتی۔
☆☆☆☆☆☆

پروفیشنل ڈریس میں ملبوس ،وہ بالوں کا کلچر سے جوڑا بنائے ہوئے تھی ،جس کی کچھ لٹیں چہرے کا طواف کر رہی تھی ، اس کی بھوری آنکھوں میں ازلی سنجیدگی موجود تھی ،جو کہ اس کی پرسنیلٹی کا ایک حصہ تھی،اس کا سانولا رنگ ہمیشہ کی طرح کھلا ہوا تھا ،وہ ایک آخری دفعہ اپنے سراپے کو آئینے میں دیکھنے کے بعد اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے اپارٹمنٹ سے باہر آچکی تھی ، تقریبا آدھا گھنٹہ ڈرائیو کرنے کے بعد وہ ایک بلند و بالا بلڈنگ کے باہر رکی تھی ، عمارت کو دیکھتے ہی اس نے ایک گہری سانس خارج کی تھی ، وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے پوری شان سے بلڈنگ کو دیکھ رہی تھی ،جیسے کوئی ملکہ اپنی سلطنت کو دیکھتی ہے، بلڈنگ کے اندر کی طرف جاتے ہوئے وہ ہر طرف نظر دورا رہی تھی ،ہر کوئی اسے دیکھتے سلام کرتے سائیڈ پہ ہوتا جا رہا تھا،وہ سر کے خم سے ان کے سلام کا جوب دیتی آگے بڑھتی جاتی ، ہر طرف خاموشی تھی سوائے اس کی سیاہ ہیل کی آواز کے ،اپنے آفس کا دروازہ کھلتے ہی سامنے بیٹھے آدمی کو دیکھ کر اس کے انگ انگ میں غصے کی لہر دوڑ گئی تھی ،
سیاہ آنکھوں والے مرد نے مسکرا کر اسے دیکھا مسکرانے پر اس کا گالوں پر پڑتا ڈمپل واضح ہوا ،چہرے پر ہلکی داڑھی کا خط بنا رکھا تھا، نیلے رنگ کا ڈریس شرٹ پہنے وہ لاجواب لگ رہا تھا ،لیکن اس وقت وہ نازیفہ کو زہر لگا تھا

مس رابعہ، اس نے اپنی پرائیویٹ سیکرٹری کو اونچی اواز میں پکارا تھا
زہران مسکراتا ہوا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھا اور اس کے مقابل جا کھڑا ہوا ،
یس میم ،زہران کو دیکھ کر رابعہ کا رنگ فق ہوا تھا
یہ مسٹر یہاں کیا کر رہیں ہیں، نازیفہ نے رابعہ کو گھورتے ہوئے پوچھا جو زہران کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی جن بھوت دیکھ لیا ہو
میم قسم لیں لیں آپ کے آنے سے پہلے آپ کے آفس میں کوئی بھی نہیں تھا اور آفس کا ڈور میں نے خود لاک کیا تھا ،سر پتا نہیں کہا سے اگئے
نازیفہ نے پہلے رابعہ کو دیکھا اور پھر ملامتی نظروں سے زہران کو دیکھا جس کے اطمینان میں رتی بھر فرق نہیں پڑا تھا ،زہران کو دیکھ کر اسے یقین ہوگیا تھا کہ رابعہ جھوٹ نہیں بول رہی
ٹھیک ہے تم جاؤ،رابعہ کے جانے کے بعد وہ اپنی مخصوص چئیر پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ کھول چکی تھی
زہران سر پر ہاتھ پھیرتے اس کے سامنے والی کرسی پر ٹک گیا
لنچ کرنے چلے کہیں، بھاری آواز کمرے میں گونجی

تم یہاں مجھے لنچ کے لیے پوچھنے آئے ہوں، یہ کہتے ہوئے اس نے پھر سے لیپ ٹاپ پر سر جھکا لیا تھا
نہیں مجھے پتہ تھا نہ کہ تم آفس آکر لنچ کرتی ہو اس لیے پوچھا ،زہران کے کہنے پر نازیفہ نے سر کرسی کی پشت سے ٹکا لیا اور اسے دیکھنے لگی
زہران الوی آئندہ اگر تم میرے آفس میں ایسے بنا پوچھ کر گھسے نہ تو علوی انکل تمہاری لاش ہی میرے آفس سے برآمد کرے گے ، اس نے سرد سے لہجے میں کہا
اس کی بات سن کر زہران کا چھت پھاڑ قہقہ آفس میں گونجا تھا ،یہ تو طے تھا کہ وہ نازیفہ کو سکون کا سانس نہیں لینے دینے والا تھا
کیا ،نازیفہ نے سوالیہ نظروں سے پوچھا
اوکے ناز ڈئیر مدعے پر آتا ہوں، آج رات کو سب گھر والوں نے کچھ ضروری بات کرنی ہے تو وہاں تمہارا ہونا بھی ضروری ہے ،زہران نے سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے کہا
(گھر والوں میں میں کہا سے اگئ)وہ پوچھنا چاہتی تھی لیکن لب بھیچ گئ
میں نہیں آسکتی بہت کام ہے ،اس نے لیپ ٹاپ پھر سے اپنی طرف کسکا لیا تھا
وجہ ؟؟ زہران اب سنجیدگی سے آبرو اچکا کر پوچھا
مسٹر علوی تمہیں کب سے لگنے لگ کہ نازیفہ حمدانی تمہیں جواب دہ ہے ،نازیفہ نے زہران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آگ لگانے والے لہجے میں کہا
ٹھیک ہے میرے کہنے پر نہ آنا لیکن جب روحی کہے گی تب تو آہی جاوگی ،وہ کچھ نرم پڑا تھا یہ لڑکی ہمیشہ اسے بولنے لائق نہیں چھوڑتی تھی ۔
وہ خاموش رہی کچھ بولی نہیں،۔
وہ کچھ دیر اسے گہری نظروں سے دیکھتا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا ،اور اونچی اواز میں کہا۔
میں جارہا ہوں۔
ہمم اوکے ،نازیفہ نے سر ہلایا
میں ناراض ہوں، ایک اور کوشش
تو سوری بولوں؟؟، نازیفہ نے اب کی بار اسے نظریں اٹھا کر دیکھا تھا
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ،” تم سے سوری بولوا کر میں خود کو معاف نہیں کر پائوگا” ،اس نے اس لہجے میں کہا کہ ناز خود کو مسکرانے پر روک نہ سکی
ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پر تبسّم بکھر گیا ،وہ سر جھٹک کر دوبارہ کام میں مصروف ہوگئ تھی
جب وہ آفس سے نکلنے لگی تو راحا کے لاتعداد میسیجز آئے ہوئے تھے جن میں زیادہ تر تو دھمکیاں تھی کہ اگر وہ نہ ائ تو کیا کیا ہوگا، اس نے میسیجز دیکھ کر موبائل آف کیا اب یہ تو طے تھا کہ اسے گھر جانا ہی پڑے گا

☆☆☆☆☆

کیا لگتا ہے زہران وہ آئے گی کیا ، حمدانی صاحب نے زہران سے پوچھا
لگتا تو ہے کیونکہ وہ میری بات تو ٹال سکتی ہے لیکن روحی کی نہیں،
حمدانی صاحب نے سنجیدگی سے سر جھٹکا۔
تھوڑی دیر گزری کہ نازیفہ گھر کے اندر آتی دکھائی دی تھی ، گلابی رنگ کی قمیض شلوار میں ملبوس دوپٹے کو ایک طرف کر کے کندھے پر ڈالا ہوا تھا ،لمبے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے ،زہران اسے دیکھتے ہلکا سا مسکرادیا تھا
حمدانی صاحب چونکہ الوی صاحب کے بہت اچھے دوست تھے ،ان کے گھر بھی ایک دوسرے کے نزدیک ہی تھے ایک عرصے سے ساتھ رہتے ہوئے ان کے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات بن گئے تھے ،،دونوں گھر اچھے تعلقات کا منہ بوکتا ثبوت تھے،اس وقت سب لوگ علوی صاحب کے گھر پہ موجود تھے ، اسے گھر کی ملازمہ سے پتہ چلنے پر وہ زہران کے گھر پی اگئ تھی ،
وہ لمبی ہیل سے چلتی ہوئ زہران کے پاس آکر رکی ، آج یہاں کیوں جمع ہوئے ہیں سب لوگ ،اس نے حیرانی سے زہران سے پوچھا تھا
ابھی وہ کچھ بولتا کہ دور سے ہلیل آتا ہوا نظر آیا ،جو ہاتھ ہلاتا پاس آرہا تھا
یہ نمونہ کیوں یہاں پہ آیا ہے ،ناز نے منہ بسور کر کہا ،زہران اس کا چہرہ دیکھ کر ہنس دیا

اندر چلو پتہ چل جائے گا ،زہران اس کا دوپٹہ ہلکا سا پکڑتا اسے لے کر اندر کی طرف بڑھ گیا تھا

لاونج میں سب لوگ براجمان تھے ،وہ سب کو سلام کہتی راحا کے ساتھ ایک جگہ ٹک گئ تھی ، نازیفہ ایک نظر بھی سب کو نہیں دیکھا تھا
کیسی ہو ناز بیٹا، علوی صاحب نے پیار سے پوچھا
جی ٹھیک، وہ جواب دے کر پھر خاموش ہوگئ

ناز اپی آپ اس ڈریس میں اتنی پیاری لگ رہی ہیں، راحا نے اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا

تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو، اور خوش بھی خیریت تو ہے ،کیا بات تھی جو اچانک ایسے بلا لیا ، نازیفہ سب کو دیکھتے ہوئے پوچھا
جہاں راحا اچانک اٹھ کر چلی گئی تھی وہاں زہران نے بھی سر موبائل پہ جھکا لیا تھا اور ہلیل اسے معنی خیز اشارے کیے جارہا تھا،نازیفہ سب کو حیرانی سے تک رہی تھی

ہم نے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی ،حمدانی صاحب کی سنجیدگی سے بھر پور آواز گونجی

ہم نے زہران اور روحی کا رشتہ طے کر دیا ہے ،اور دو ہفتے بعد ہم ان کی شادی کر رہے ہیں،سب بغور نازیفہ کے چہرے کا جائزہ لے رہے تھے
یہ حیرانی کی انتہا تھی، وہ ایک دم کھڑی ہو گئ تھی ۔
بیٹے ہم تمہیں بتانے ہی والے تھے ،علوی صاحب نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی
کب بتانے والے تھے شادی کے بعد، اس نے ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے غصے سے کہا
تم ذرا بھی نہیں بدلی نازیفہ، حمدانی صاحب نے کھڑے ہوتے زہر خند لہجے میں کہا
ناز نے چونک کر ان کی طرف اور پھر زخمی سا مسکرا دی
“اپنا غصہ پینا سیکھو لڑکی”
اپنی امی کی طرح جیسے وہ پیتی تھی ؟ نازیفہ نے ان کے قریب ہوتے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا بھوری آنکھیں سرخ ہونے لگی
وہ خارجی دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ زہران نے آگے آکر اس کا راستہ روک لیا تھا ،وہ وہی کی وہی کھڑی رہ گئی تھی
پلیز، سیاہ آنکھوں نے بھوری آنکھوں کی منت کی
وہ خاموشی سے صوفے پر دوبارہ بیٹھ گئ , تم ہماری بڑی بیٹی ہو نازیفہ،ہم ہر وقت تمہارے بارے میں فکرمند رہتے ہیں بیٹا، اسی لیے تمہارے بابا چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی روحی سے پہلے ہو جائے،علوی صاحب نے بات سنبھالتے نرمی سے کہا
میری شادی کا روحی سے کیا تعلق، وہ بدک کر بولی
بیٹے تم جذباتی ہو ،زندگی اکیلے تو نہیں گزاری جاتی نہ ،علوی صاحب نے محبت سے کہا
میں آپ لوگوں کی بات سمجھ رہیں ہوں لیکن میرا ابھی فل حال شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے،اس نے سب کو دیکھتے کر ہتمی فیصلہ سنایا تھا
اچھا چلوں اب سب کھانا کھا لیں بہت باتیں ہوگئی، سمرین علوی نے ماحول کی گرمائش ختم کرنے کی کوشش کی
کھانا کھانے کے بعد وہ جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ،کہ آرزو حمدانی نے آکر اسکا ہاتھ تھام لیا تھا،وہ ایک دم چونک گئ تھی
اپنی امی نہیں مانتی چلو کوئی بات نہیں لیکن آج رات اپنے گھر میں تو رہ سکتی ہوں نہ ،انہوں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
آپ کے ہسبینڈ برا مان جائے گے چھوڑے،نازیفہ نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی
وہ میرے شوہر ہونے سے پہلے تمہارے ابو ہیں اور انہیں اپنی بڑی بیٹی کے گھر میں رہنے سے کوئی اعتراض کیوں ہوگا بھلا چلو میرے ساتھ ،آرزو بیگم اس کا ہاتھ تھامے اسے ساتھ والے گھر میں لے گئ ۔
☆☆☆☆☆

روحی تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے ،رات کے 2 بج رہے تھے لیکن ان دونوں بہنوں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ،وہ بیڈ پر ٹانگیں لمبی کیے بیٹھی تھیں
میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں زہران کے ساتھ کسی پیارے سے چھوٹے سے گھر میں پرسکون زندگی گزارو ،جس میں صرف ہم دونوں ہوں، مجھے لگتا ہے میں اور زہران ایک دوسرے کے ساتھ ایک خوبصورت زندگی گزاریں گے،میں ہمیشہ زہران کا ساتھ دونگی ،وہ پرجوش سی ہو کر بول رہی تھی لیکن جب ناز کو اپنی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا تو زبان دانتوں تلے دبائے گئی
اس لنگور سے تمہیں کیسے محبت ہوگئی،
محبت، وہ اٹکی
محبت نہیں ہے ہمیں ایک دوسرے سے ،ہاں رشتہ ہماری مرضی سے طے ہوا ہے کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، اس کے چہرے پر پہلے الجھن آئ اور پھر اطمینان ۔
نازیفہ بس اسے عجیب نظروں سے دیکھی جارہی تھی ،وہ اپنی باتیں منہ سے کم اور آنکھوں سے زیادہ کرنے کی عادی تھی اور راحا اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز برت رہی تھی ۔
اور آپ اب سے ان سے بلکل بھی جھگڑا نہیں کریگی پرامس؟؟ راحا نے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا
خیر اب یہ تو اس پر ہے کہ وہ پہلے کوئی بات شروع کرتا ہے کہ نہیں کیوں کہ نازیفہ حمدانی خودپر انگلی اٹھانے والوں کا ہاتھ تورنا بخوبی جانتی ہو پھر چاہے وہ مذاق میں ہی کیوں نہ ہو ،وہ یہ کہتی راحا کو تڑپتا چھوڑا کر منہ تک کمفرت اوڑھ چکی تھی ،
لیکن اپیا، روحی نے اس پر سے کمفرت اتارنے کی کوشش کی
سو جاو روحی ورنہ ماروگی ،ناز نے کمفرٹ کے اندر سے تنبیہ کی
اوکے ،اثر ہوچکا تھا وہ چند منٹ تک اسے دیکھنے کے بعد سو گئ تھی،
☆☆☆☆

رات کے تقریباً 3 بج رہےتھے اور دو گاڑیاں اندھا دھند ایک گاڑی کا پیچھا کر رہی تھی ،سڑک پر کہیں ٹریفک بلکل نہیں تھا اور کہیں بہت زیادہ تھا،دونوں گاڑیاں سامنے سے جاتی ایک لال گاڑی کا پیچھا کر رہیں تھیں،ہلیل اس ریڈ کار کے ایک طرف سے آرہا تھا اور زہران اسے پیچھے کی طرف سے گھیرا دینے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ ٹریفک میں کہیں گم ہوتی جارہی تھی ،
ہلیل گاڑی کی رفتار بڑھاو، وہ آگے نکل رہا ہے ،زہران نے ہلیل کو کان میں ائیر پورڈ کے ذریعے حکم دیا
اگلے ہی لمحے ہلیل کی گاڑی نے اس لال بے تکی گاڑی کو کور کرنے کی بڑی پھر تیلی کوشش کی ،لیکن لال گاری پھر سے ہاتھون سے پھسل گئی،تینوں گاڑیاں برج کے اوپر سے گزر رہی تھی ،زہران نے گاڑی کے ایکسلیریٹر پر پاوں رکھ کر دبایا تو گاڑی ہوا کی رفتار سے ریڈ کار کے آگے جاکر رکی ، لال گاڑی نے اچانک بریک لگائی ، جس پر زہران نے بڑی پھرتی سے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور سامنے والی گاڑی کے بونٹ پر اپنی ٹانگوں سے چھلانگ لگائی، چھلانگ اس قدر زور دار تھی کہ گاڑی کا کانچ چکنا چوڑ ہوچکا تھا ،زہران نے اندر بیٹھے آدمی کے منہ پر مکے مارے اور اسے باہر لایا تھا ،
آرام سے زہران کہیں یہ ابھی نہ مرجائے، ہلیل نے فکر مندی سے کہا
بھاگنے کا شوق پورا ہوگیا یا ابھی بھی باقی ہے ،زہران اس آدمی کے چہرے کو قریب لاتے غرایا
بتا تیرا فینٹم کدھر ہے ،زہران نے اس آدمی کے چہرے پر ایک گھونسا دیا
مجھے نہیں پتا مجھے جانے دو ،اس آدمی کی اس بات نے زہران کو اور پاگل کیا
زہران اسے پکڑتا برج کے قریب لایا اور اسے گردن سے دبوچ کر تھوڑا نیچے جھکایا ،ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں اور ہلچل سے گزرتے پانی نے اسے خوف سے ہی آدھ موا کر دیا تھا وہ تڑپ کر اوپر آنے کی کوشش کر رہا تھا
مجھے جانے دو میں بتا دونگا سب ،سب بتادونگا ،وہ آدمی خوف سے ہلکلاتا بولا،اسی پل زہران نے اسے اوپر کھینچ لیا،اور اس کا چہرا قریب کرتے ٹھنڈے انداز میں بولا
مجھے بلکل سچ چاہیے بلکل سچ ،ہم تمہیں جہاں لے جانے والے ہیں وہا جا کر تم نے اگر جھوٹ بولنے کی ذرا بھی کوشش کی تو پھر تم اب تک تم میرے قہر سے واقف نہیں ہوئے، کیونکہ مجھے سچ ثابت کرنا بھی آتا ہے اور جھوٹ دفن کرنا بھی ،یہ کہتے ہی اس نے آدمی کو ہلیل کی طرف پھینکا تھا

☆☆☆☆☆☆

FIA Investigation Room

کمرہ انتہائی چھوٹا اور سپاٹ تھا،چاروں طرف سفید دیواروں کا گھیرا تھا،جو اس کمرے میں بیٹھے وجود پر ایک خوف طاری کیے ہوئے تھا،کمرے کے درمیان میں ایک لوہے کا ٹیبل اور اس کی دونوں طرف دو کرسیاں موجود تھیں، جن میں سے ایک پر ایک آدمی کو بٹھایا ہوا تھا اس کے ہاتھ ٹیبل پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے ،وہ کافی دیر سے گردن جھکائے بیٹھا تھا،جیسے وہ کسی گہری سوچ میں موجود ہو ،کمرے میں موجود بلب ہلکی سی آواز کے ساتھ ٹمٹما رہا تھا ،دیوار کے ایک طرف ایک بڑا گلاس موجود تھا ،جس سے کمرے سے باہر موجود لوگ اندر بیٹھے شخص کو دیکھ اور سن سکتے تھے لیکن اندر بیٹھا شخص نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
زہران یہ بندہ بہت چلاک ہے ،کافی دیر سے گردن جھکائے بیٹھا ہے لیکن سچ نہیں اگل رہا ،اس کے چہرے پر تو کوئی خوف بھی موجود نہیں ہے ،آفیسر فکرمندی سے زہران سے بولا جو کافی دیر سے اندر بیٹھے شخص پر گہری اور سفاک نظر رکھے ہوئے تھا
خوف خود نہیں آتا پیدا کیا جاتا ہے آفیسر، اس کی چلاکی صرف تب تک ہے جب تک اس کے گناہ اس کے سامنے نہیں آتے، زہران گلاس کو گھورتے ہوئے بولا
اسے تھوڑا وقت دو کیا پتا سچ بول ہی دے نہ بولا تو پھر میں اپنا طریقہ اپناو گا، وہ بے نیازی سے بولتا باہر نکل جاتا ہے ،پیچھے سے آفیسر ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہیں انہیں پتا تھا کہ اگر زہران الوی نے بولا ہے کہ وہ کر دے
گا تو وہ کسی بھی حال میں وہ کر کے ہی رہتا ہے۔

☆☆ ☆☆☆

میٹنگ روم کے اندر خاموشی چھائی ہوتی، ناز سب کے سامنے کھڑی انہیں نئے پروجیکٹ کے بارے میں سمجھا اور ان کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی ، وہ ان لوگوں کو بڑی قابلیت کے ساتھ اسکرین کے سامنے کھڑی پنا آئیڈیا پیش کر رہی تھی ،جن میں کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں تو کچھ درمیانی عمر کے لوگوں موجود تھے،
That’s all guys ….
اس نے پراجیکٹ سمجھانے کے بعد سکرین بجھائی دی تھی ،وہاں پر بیٹھے سب نفوس نے اس کا آئیڈیا پسند کرتے ہوئے تالیاں بجھائے تھی ،لیکن یہ دیکھ کر بھی اس کے چہرہ بلکل سپاٹ تھا
مجھے آپ سب سے ایک اور ضروری بات بھی کرنی ہے ،نازیفہ نے سب کے چہروں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا
آپ سب کا دھیان مجھے کام پر نہیں لگ رہا ، اس کا لہجہ مضبوط تھا
لیکن ہم سے تو کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئ میم ،ہم اپنا کام پوری ایمانداری سے کر رہے ہیں،وہ یہ بات سنتے ہوئے ہلکا سا مسکرائ
آپ سب کو اپنی غلطیاں اس،وجہ سے نظر نہیں آتی، کیونکہ یہ کمپنی آپ کی نہیں ہے، سو اگر اس میں سے کوئی لوس بھی ہوگیا تو وہ میرا ہوگا آپ کا نہیں جواب دہ میں ہوگی ،آپ نہیں، محنت میری ضایع ہوگی آپ میں سے کسی کی نہیں، وہ سب کو طنزیہ لہجے میں کہتی ہوئی مخاطب تھی
اس کی آواز میں اس کے قدر رعب تھا کہ کسی کی کچھ بولنے کی ہمت ہی نہ ہوئی
کنسٹرکشن سائیڈ پر ورک رکا ہے ،اسے سہی کروائے ،ایک ورکر ICU میں ہے اسے پیسے بھجوانے ہیں، اور گھپلا بازی بھی کمپنی میں بہت زیادہ ہورہی ہیں ،مجھے یہ سب ایک ہفتے کہ اندر اندر اپنی پوزیشن پر آتا دیکھائ دینا چاہیے، وہ اب کچھ دھیمے لہجے میں کہ رہی تھی
اس کی بات سنتے ہی سب نفوس نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
ہم کوشش کریگے کہ ہم اپنی تمام غلطیوں کو سدھارے،
میں لفظوں پر نہیں عمل پر یقین رکھتی ہوں سر ،ناز نے بے تاثر لہجے میں کہا اور دروازے کی طرف اشارہ کر دیا جو کہ روم سے نکل جانے کا اشارہ تھا
سب باہر کی طرف بڑھ چکے تھے سوائے ایک شخص کے عمران بیگ جو کہ نازیفہ کا بزنس پارٹنر بھی تھا ۔
سر سب چلے گئے ،رابعہ جو نازیفہ کے ساتھ کچھ ڈسکس کررہی تھی اسے وہاں بیٹھے دیکھ کر کہا
میں جانتا ہوں میں میڈم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، عمران بیگ نے عجیب مسکراہٹ سجاتے کر کہا
جی بولیے ،ناز بھی اب کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ چکی تھی
میں جانتا ہوں مس نازیفہ آپ مجھ پر نظر رکھ رہی ہو ،اس لیے میں اب کچھ چیزیں واضح انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔

جب اپ اپنی اصلیت سے واقف ہو ہی چکے ہیں تو سنیے آپ پر نظر رکھنا بنتی بھی ہے مسٹر عمران بیگ آپ جیسے انسان اپنی فطرت نہیں بھولتے آپ کی ہمت بھی کیسے ہو میری کمپنی میں گھپلا کرنے کی ،ناز نے زوردار لہجے میں کہ کر اسے خاموش کروا چکی تھی
تمہاری اتنی اوقات ہی نہیں تھی کہ میں تمہیں اپنا بزنس پارٹنر بناتی تھی ،اس نے تضحیک آمیز لہجے میں کہ کر بھرپور مسکرائ اور آنکھوں سے رابعہ کو اشارہ کیا
اشارہ سمجھتے ہی رابعہ نے موبائل کا کیمرہ اون کر کر چھپا لیا تھا ،اب آئے گا مزاہ، ،
اوقات کی بات مت کرو لڑکی، بھولو مت تم جیسی لڑکیاں ایسی باتیں کرکے اپنی عزت سے ہاتھ بھی دھو بیٹھیتی ہیں، تم جیسی عورتیں صرف نسلیں پیدا کرنے اور پالنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ نہایت ہی بد تر لہجے میں بولتا جارہا تھا،”xمرد کو اکثر وہ عورت بری لگتی ہے جو سمجھدار اور خودمختار ہو “
میں تمہیں دیکھ لونگا لڑکی،وہ آخر می یہ کہتا میٹنگ روم سے باہر چلا گیا
رابعہ ٹائمنگ معلوم کر کے بعد مجھے انفارم کر دینا ،اس کے جانے کے بعد نازیفہ نے رابعہ سے کہا
جو سر ہلاتی باہر کو ہولی ۔
وہ آب چئیر پر گرنے کے آنداز میں بیٹھی اور سر کو ٹیبل پر رکھ دیا تھا ، اب بس وہ کام ختم کر کے گھر جانا چاہتی تھی ۔
پورے 7 بجے وہ بلڈنگ سے باہر اچکی تھی ،سیاہ گلاسس سے آنکھوں کو چھپا رکھا تھا جن سے تھکاوٹ
جھلک رہی تھی
☆☆☆☆

Before fate changed everything.

،وہ پارکنگ میں آئ ہی تھی کہ راحا کو دیکھا جو اس کی کار کے بونٹ پر بڑے مزے سے بیٹھی ہوئی تھی اور ایک طرف زہران کھڑا تھا اور دوسری طرف ہلیل ،ان کو دیکھ کر ناز نے آنکھوں پر سے گلاسس اتارے ،
کیا بات ہے آج تو دونون ڈکٹیٹوز ساتھ میں موجود ہے لگتا ہے کوئ بڑا شکاری ہاتھ ائے گا ،شیطانوں کا ٹولا یہاں کیا کرنے ایا ہے ، اس نے راحا کو بونٹ سے اتار کر اپنے ساتھ لگایا تھا ،۔
اپنی لیڈر کو لینے آئے ہیں، ہلیل نے مخصوص انداز میں کہا
ویری فنی ،ناز نے منہ بنایا جس پر زہران اور راحا ہنسس پڑے تھے البتہ ہلیل کچھ نیا سوچنے میں مصروف تھا اسے تنگ کرنے کے لیے۔
لینے کیوں آئے تھے مجھے ،ناز نے تھکی ہوئ آواز میں پوچھا
تمہاری یاد آرہی تھی اس لیے،ہلیل اس دفعہ بھی باز نہیں رہا تھا
اجائو کہیں کھانا کھا کر آتے ہیں کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں کافئ دن ہوگئےساتھ میں کہی گئےنہیں، زہران نے ناز کے کچھ بھی بولنے سے پہلے کہا
اچھا چلتے ہیں، نازیفہ نے بغیر سوچے کہا اور ان کی گاڑی میں بیٹھنے لگی ،راحا پیچھے بیٹھنے لگی تو ناز نے اسے پکڑ کر آگے بٹھایا اسی دوران ہلیل جو زہران کے ساتھ بیٹھنے لگا تھا نازیفہ کی اس حرکت پر منہ بنا گیا ۔
کیا عورتوں کی طرح منہ بناتے ہوں، اس کی آنکھوں میں شرارت رقص کرنے لگی
کیا میں عورتوں کی طرح منہ بناتا ہوں؟ اور تم جو ہر وقت مرد بنی پھرتی ہو اس کا کیا ،وہ تڑپ ہی تو اٹھا تھا خود کے لیے عورت کا نام سن کر.
تم پیچھے بیٹھو گے ،ناز نے اس کی حالت پر اپنی ہنسی پر قابو پاتے کہا

سارے رستے وہ لوگ مختلف گانے لگا کر ہلا گلا کرتے رہے تھے ،نازیفہ کی ساری تھکن جیسے غائب ہوگئ تھی ،پسندیدہ لوگ اگر ساتھ ہو تو کچھ بدل نہیں جاتا بس فرق اتنا پڑتا ہے کہ ہم اپنی پریشانیوں اور مسائل کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جاتے ہیں۔۔
ریسٹورنٹ پہنچ کر سب نے اپنی پسند کا کھانا آرڈر کیا تھا ،اسی دوران زہران کال اٹینڈ کرنے کے لیے باہر گیا
اہمم کتنا بد مزہ پاستہ ہے اس سے اچھا تو میں گھر پہ بنا لیتا ہوں، ہلیل نے منہ کے زاویے بگھارتے ہوئے کہا
تو گھر پہ بنا لینا تھا نہ ہلیل بھائی آپ نے ،راحا نے پیزے کی سلائس مزے سے منہ میں رکھتے کہا
روحی اب کیا کرو میں، اب میں تمہارے ہونے والے شوہر جتنا تیز نہیں ہو، کہ مجھے پاستہ گھر پہ بنانا آتا ہو،ہلیل نے بتیسی نکال کر کہا اس کی بات سن کر راحا جھنپ گئی اور سرخ ہوتی گالوں سے اس نے نازیفہ کی طرف دیکھا تھا جو بڑے مزے سے پیزے کے ساتھ انصاف کر رہی تھی ،
آپی آپ کچھ بول کیوں نہیں رہی ہلیل بھائ میرے ساتھ بدتمیزی کر رہیں ہیں، راحا نے کچھ روہانسی ہوکر ناز سے کہا اس پر نازیفہ نے کندھے اچکا دیے تھے ،
دیکھوں کیسے کھا رہی ہے جیسے کئی دنوں سے اس نے کھانا ہی نہ کھا یا ہو، ہلیل کی آنکھوں میں شرارتی چمک تھی
ایکسیوز می ،میں ڈائٹنگ پہ تھی اتنے دنوں سے آج ہی کھا رہی ہوں، نازیفہ نے آنکھیں نکال کر ہلیل کو گھورا
اور کھاتے وقت مجھ سے بات مت کیا کرو ،یہ کہتے وہ دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگئ تھی ،اتنی ہی دیر میں زہران بھی اچکا تھا ۔
کیسا لگا کھانا ،اس نے پاستہ کی پلیٹ اپنی طرف کسکا کر پوچھا
تمہارے اڈاپٹڈ چائلڈ کو ہی نہیں پسند آیا باقی ہمیں تو اچھا لگا ،نازیفہ کی بات سن کر زہران اور راحا کے ساتھ خود ہلیل کا بھی قہقہ گونجا تھا
ابے تیری بےعزتی کی ہے اس نے تو کیوں بے شرموں کی طرح ہنس رہا ہے ،زہران نے اب کی بار سنجیدگی سے پوچھا وہ واقعی میں جاننا چاہتا تھا
انہوں نے سچ ہی تو بوکا میں تیرا بچہ ہی تو ہوں، ہلیل نے اپنا بازو زہران کی گردن کی طرف پھیلانے کی کوشش کی جس پر زہران چڑ کر پیچھے ہوا
میں نے زندگی میں بہت سے گناہ کیے ہیں لیکن اتنے بھی نہیں کہ تیری جیسی اولاد ملے مجھے،زہران کی بات سن کر سب سے پہلے قہقہ لگانے والی نازیفہ تھی ،ایسا ہوسکتا ہے کہ جہاں ہلیل کی بےعزتی ہو اور نازیفہ ہنسے نہ؟

آپی میں ذرا واشروم سے ہوکر آتی ہوں، کچھ دیر بعد راحا نے کھڑے ہوتے ناز سے کہا جو دور جاتے زہران اور ہلیل کو دیکھ رہی تھی جو بل پے کرنے گئے تھے۔
ٹھیک ہے خیال سے جانا ،نازیفہ کے کہنے پر اس نے سر اثبات میں ہلایا
وہ واشروم جاتے وقت اپنے آس پاس غور سے دیکھ رہی تھی ،وہ جب سے گھر سے نکلی تھی اسے اس طرح لگ رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا لیکن کئ دفعہ دیکھنے ہر بھی کچھ نہیں تھا ،اور یہ آج سے نہیں کئ دنوں سے ہورہا تھا۔
راحا نے اپنے دماغ میں چلتے تمام خیالات کو وہم کا نام دیا تھا۔
وہ واشروم کے آئینے کے سامنے کھڑی اپنے ہونٹوں پر ہلکی گلابی رنگ کی لپ سٹک لگا رہی تھی ،اسی لمحے اس کے موبائل پر نوٹیفکیشن کی بیپ ائ ،اس نے موبائل کو اوپن کر کے نوٹیفکیشن دیکھا ۔
Pink lipstick suits on you!!

چند لفظوں میں کیا گیا یہ میسج اس کی جان نکالنے کو کافی تھا ,روحی نے جلدی سے اپنے آس پاس دیکھ تھا ,ایک انجانے سے خوف نے اسے جکڑا ،راحا نے جلدی سے موبائل اٹھایا اور واشروم سے باہر نکل آئی ،واشروم سے باہر آکر اس نے لمبے لمبے سانس لے کر خود کو پرسکون کیال تھا ،اس نے اس سب کو دوبارہ سے وہم کا نام دے کر دماغ سے جھٹکا،اور موبائل کو آف کر دیا ،اس نے گھر جا کر اس اکاؤنٹ کو بلا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
جب وہ اپنی جگہ پر ائ تو نازیفہ کسی کے ساتھ موبائل پر میسیجز کر رہی تھی ،اور زہران اور ہلیل آپس میں کوئی سنجیدہ بات کر رہے تھے۔وہ چپ چاپ وہی کھڑی رہی ۔
روحی بیٹھ جاو ،آئس کریم آرڈر کی ہے ،پھر چلتے ہیں، زہران نے اسے کھڑے دیکھ کر کہا اور مسکرایا
جوابا وہ بھی بمشکل مسکرائ اور بیٹھ گئ۔نازیفہ نے ایک نظر راحا کو دیکھا تھا ،اس کے دودھیا چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا ،
کیا ہوا ہے روحی، ناز نے موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا سب کی نظریں راحا پر ٹکی تھی ،
کچھ نہیں آپی وہ ،،وہ میں نے واشروم میں نے چھپکلی دیکھ لی تھی اس لیے ڈر گئ، روحی نے اپنے چہرے سے پسینہ صاف کرتے بات بنائ
ایک چھپکلی تو ہر وقت تمہارے پاس ہوتی ہے اس سے تو کبھی ڈری نہیں تم ،ہلیل نے ہنستے ہوئے کہا جبکہ ناز کی ایک گھوری سے وہ ایک دم چپ ہوگیاتھا
پکا کوئی اور بات تو نہیں، ناز نے راحا چہرے کو چھو کر پوچھا
ارے نہیں آپی، روحی نے مسکرا کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ،کچھ دیر بعد وہ سب ریسٹورنٹ سے فری ہوکر نکل چکے تھے ،سب سے آگے ہلیل آور راحا تھے جو آگے بیٹھنے پر کوئ بحث کر رہے تھے ،روحی میں ابھی تھوڑا بچپنا تو موجود ہی تھا لیکن ہلیل بھی اس کے ساتھ بچہ بن جاتا تھا ،پیچھے نازیفہ اور زہران ان کی باتوں کے مزے لیتے ارہے آہستہ آہستہ ارہے تھے۔
تم روحی کی کچھ زیادہ ہی فکر نہیں کرتی ،زہران نے چلتے چلتے اسے دیکھ کر پوچھا
نازیفہ زہران کے منہ سے یہ بات سن کر چونک گئ تھی۔
وہ میری بہن ہے اس کے لیے میرا فکرمند ہونا بنتا بھی ہے ،اس نے بغیر زہران کو دیکھ کر کہا
وہ میں جانتا ہو نازیفہ لیکن تم اس کے لیے ہر چھوٹی بات پر فکرمند نہیں ہوسکتی، وہ 22 سال کی ہے اسے اپنے اچھے برے کا معلوم ہے ،اگر تم اس کے کیے ایسے ہی فکرمند رہوں گی تو نہ خود پرسکون رہ سکوں گی اور نہ ہی روحی میں کنفیڈنس پیدا ہوگا ،زیران رکتے ہوئے کہا
نازیفہ نے اس کی ساری بات غور سے سنی تھی اور اس کا پورا نام بھی وہ عام طور پر اسے ناز ہی کہتا تھا ،یہ نام بھی زہران نے ہی اس کا رکھا تھا لیکن اگر اسے نازیفہ سے کوئی زور دے کر پوچھنی یا بتانی ہوتی تو وہ اس کا پورا نام لیتا تھا۔

تمہیں میرا اس کے فکرمند ہونا برا لگ رہا ہے ،نازیفہ نے اس کے قریب جا کر سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا جس کے قد میں وہ اس سے ہیلیز پہننے کے باوجود تھوڑا فرق لگ رہا تھا ،

نہیں مجھے تمہارا اس کے لئے بلا وجہ فکرمند ہونا برا لگ رہا ہے ،زہران نے اسے ٹوک کر جواب دیا تھا وہ اس سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتا تھا بس اسے اپنی بات سمجھا رہا تھا ،ہلیل اور راحا گاڑی کے پاس کھڑے ہوکر انہیں دیکھ رہے تھے۔
ٹھیک ہے پھر میں تو ایسی ہو اور کوئی مجھے بدل نہیں سکتا اور میں کسی کے لئے خود کو بدلوں گی بھی نہیں، اگر تمہیں کوئ مسلہ ہے تو مجھے ساتھ مت لایا کرو ،وہ سختی سے کہتی آگے بڑھ گئ تھی ،اس کی بات سنتے زہران نے اپنا سر دائیں بائیں گھمایا تھا ،اس کے کہنے کا وہ مقصد نہیں تھا لیکن وہ پھر بھی ناراض ہو چکی تھی ،
کیا ہوا آپی، راحا نے اس کا بازو پکڑتے پوچھا جو ہینڈ بیگ سے فون نکال رہی تھی
تم جاؤ ڈرائیور ارہا ہے مجھے لینے ،زہران اس کے قریب پہنچ چکا تھا اور وہ نازیفہ کی آواز بھی سن چکا تھا
کوئی ضرورت نہیں کار میں بیٹھو ،اس نے نازیفہ کی بات نظرانداز کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا
کیا ضروری ہے کہ تم میری ہر بات میں ٹانگ اڑاو اور مجھے حکم دو ،تم مجھ پر ایسے حکم اور دھونس نہیں جما سکتے ،نازیفہ نے غصے سے سلگتے کہا
میں کوئی حکم نہیں دے رہا میں بس تمہیں گھر ڈراپ کرنے کا کہ رہا ہوں، زہران کو اس وقت نازیفہ سے زیادہ خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیا ضرورت تھی ناز سے یہ بات کرنے کی اسے پتہ بھی تھا کہ ناز کتنے غصے والی ہے۔ اس وقت تو بات تھی بھی غصہ کرنے والی ورنہ کبھی کبھی تو وہ بغیر بات کے ہی غصہ اور ناراض ہوئی رہتی تھی۔
راحا آنکھوں کے اشارے سے اسے پوچھ رہی تھی کہ کیا بات ہوئی ہے۔ اس نے ہاں میں سر ہلا کر ناز کی طرف دیکھا جو منہ موڑنے کھڑی تھی، سرد ہوا پورے جوش سے چل رہی تھی اور جسم کو کانپنے پر مجبور کر رہی تھی۔
وہ وہی کھڑا رہا یہاں تک کہ ہلیل نے دونوں کو بیزاریت سے دیکھ کر سر گھمایا تھا، یہ تو طے تھا کہ اب دونوں میں سے کوئی بھی کسی کو نہیں منائے گا اب کی بار بھی ہمیشہ کی طرح یہ کام ہلیل مرزا کو ہی کرنا تھا۔ وہ نازیفہ کی طرف بڑھا تو راحا بھی اس کے پیچھے بولی، وہ بہت کم ہی غصے کے وقت ناز کے پاس جاتی تھی،
“ناز پلیز غصہ چھوڑو۔” جو بھی بات اس پاگل نے تم سے کہیں ہے اس کی طرف سے میں تم سے سوری بولتا ہوں، مجھے پتہ ہے ہمیشہ کی طرح آج بھی تمہاری بالکل بھی کوئی غلطی نہیں ہے۔ بلیل نے اپنی طرف سے بات سلجھائی تھی، لیکن نازیفہ کے خونخوار نظروں سے دیکھنے پر اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔
“آپی دیکھو بہت دیر ہوگئی ہے گھر چلتے ہیں اب۔” راحا نے اس کا بازوں پکرتے کہا
راحا کی بات سن کر وہ بنا کچھ کہے کار میں جا کر بیٹھ گئی، جس پر ہلیل اور راحا نے شکر کی سانس لی تھی ورنہ انہیں لگ رہا تھا کہ رات یہ گزارنی پڑے گی کیونکہ زبران اسے یہاں اکیلے چھوڑ کر نہیں جانے والا تھا اور وہ جانے کو رضامند نہیں تھی۔
گاڑی میں آتے وقت بالکل خاموشی تھی،
“مجھے گھر نہیں اپنے اپارٹمنٹ میں جانا ہے۔” ناز نے کار کو گھر کے رستے پر جاتے دیکھتے بلیل سے کہا، جو کہ دراصل زہران سے کہا گیا تھا۔
اس کی بات سن کر زہران نے گاڑی ریورس کر لی وہ اب اور زیادہ اس سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتا تھا،
کار بلڈنگ کے سامنے رکتے ہی وہ بغیر کچھ کہے کار سے اتری اور زور سے دروازہ بند کیا ،
سب خاموشی سے اسے جاتے دیکھ رہے تھے، پھر زہران نے سر جھٹک کر کار دوبارہ کار سٹارٹ کر دی تھی۔

☆☆☆☆
نازیفہ اس وقت اپنے اپارٹمنٹ میں موجود تھی ،اپارٹمنٹ میں پھیلی زرد روشنی ماحول کو خوابناک بنائے ہوئے تھی ،باہر چلتی سرد ہوا بالکونی سے آتے ہوئے پردوں کو ہلا رہی تھی ،اپارٹمنٹ بلکل خاموش تھا صرف کسی زی روح کی سانس لینے کی اور گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز ارہی تھی ،اپارٹمنٹ میں ہلکی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئے تھی ،اپارٹمنٹ بظاہر پرسکون تھا لیکن ماحول میں عجیب سا تناو تھا۔
وہ اپنے اپارٹمنٹ میں آنے کے بعد صوفے پر سر رکھے چھت کو تک رہی تھی ،اسی صرف اب میسیج کا انتظار تھا ،پورے بارہ بجے میسیج کی ٹون بجی تھی جو اسے رابعہ کی طرف سے موصول ہوئے تھے ۔وہ جلدی سے میسج دیکھ کر اٹھی تھی اس کی آنکھوں میں قہر جھلک رہا تھا ،اس کی کار اوفس سے ڈرائیور لے آیا تھا ،وہ اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی تھی ،وہ ننگے پاوں اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی ،کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے ،وہ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھی، وہ ہر دراز،کھولتے ہوئے کچھ ڈھونڈ رہی تھی ،اس کی نظریں بےچینی سے ہر ڈرا پر گھوم رہی تھیں، اسکی آنکھوں میں دیکھتے دیکھتے جھنجھلاہٹ اور بے صبری در ائ تھی ،لیکن پھر ایک لمحے کو اپنی مطلوبہ چیز ملنے پر اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اور ہونٹوں پر خطرناک مسکراہٹ ابھری ،اس نے اس چیز کو دیکھتے ہوئے گہرے سانس لیتے آنکھیں بند کر کے کھولی تھی ،نازیفہ کے ہاتھوں میں ایک تیز دھاڑ والا چاکو تھا ،جس کے ہینڈل پر بڑے عمدہ طریقے سے بلڈی لیڈی لکھا تھا ،نازیفہ نے الماری سے بلیک ہڈی نکال کر پہنی اور اس چاکو کو اس میں چھپا لیا تھا ،اب اس کے قدم نیچے پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف تھے ،
رات کا اندھیرا ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ،تعمیر ہوتی ہوئی عمارت میں صرف لوہے اور سیمنٹ کی خوشبو گھلی ہوئ تھی ،نہ کوئی روشنی نہ کوئی آواز بس ہوا کی سرسراہٹ ۔۔۔۔
عمارت کا اوپری حصہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا ،ادھوری دیواریں، بغیر سہارے کے سیڑھیاں اور سیمنٹ کا بکھرا ہوا سامان ،ادھوری عمارت کا ہر کونا خوف کی زبان بول رہا تھا ،نیچے سے کسی کی آمد کی مدھم آواز اتے ہی تھی ،آس پاس کھڑے لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا لیکن کچھ بولے نہیں، شاید انہیں پتہ تھا یہ قدم کس کے ہیں، یہ وہ قدم تھے جو رکتے نہیں، جو کسی کی اجازت کے محتاج نہیں تھے ،وہ سیڑھیوں پر اپنی ہیلیز کی ایک مدھم بیٹ بجا رہی تھی ,پھر ایک لمحہ آیا کہ کالی سیاہ ہیلیز پہننے، سیاہ ہی ہوڈی میں ملبوس،اس کا چہرہ حد سے زیادہ پر سکون تھا ،لیکن آنکھیں، بھوری آنکھوں میں اگ جھلک رہی تھی ،وہ قدم قدم چلتی ہوئ، زمین پر بیٹھے آدھ موا شخص کی طرف بڑھی اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھی اتنا کہ وہ شخص اسکی آواز بخوبی سن سکتا تھا۔
خوش آمدید میری دنیا میں مسٹر عمران بیگ، نازیفه نے سرد مسکراہٹ سمائے کہا اس آدمی نے جھکی ہوئی گردن اٹھا کر اس قہر کو دیکھا تھا عمران کے چہرے پر جگہ جگہ نیلے نشان تھے جو اسے مارنے کا پتہ دے رہے تھے
تمہیں یہاں لانے کی ضرورت اس لیے پڑی کیوں کہ تم نے جو غلطی کی تھی وہاں سے واپس مرنے کا راستہ نہی تھا ،عمران نے سہم کر نازیفہ کی طرف دیکھا تھا جس کا چہرہ اب بلکل سپاٹ تھا وہ لڑکی اپنی ہر بات بات پر چہرے کے تاثرات تبدیل کر رہی تھی۔
تم سمجھ رہے ہو کہ میں تمہیں ڈرا رہی ہوں، ؟؟ اس نے سر جھٹک کر کہا اور اگلے لمحے اس کی آنکھوں میں برف سی سختی اگئ،
نہیں میں تمہیں سمجھا رہی ہوں، وہ اب کھڑی ہوگئ تھی اور آگے پیچھے چل کر بات کرنے لگی اس کی ہیلز کی ٹک ٹک پھر سے ہر قدم کے ساتھ گونجنے لگی۔
پروبلم یہ نہیں کہ تم نے میری تذلیل کی ،نازیفہ نے عمران کی طرف دیکھا ،پروبلم یہ ہے کہ تم نے ایک عورت کی تذلیل کی ،
تم نے عورت کو بہت کمزور سمجھ لیا ،نازیفہ کی گرفت ہوڈی میں چھپے چاکو پر مضبوط ہوئی ،اور آنکھوں آگ دہکنے لگی
وہ اس کے قریب آئی، عورت کو کمزور سمجھنا یہ تمہاری نظر کی غلطی ہے ،حقیقت نہیں، نازیفہ نے ہولے سے سر جھٹکا جیسے اس کی سوچ پر افسوس کیا ہو ،
تم جس عورت کی توہین کرتے ہو وہ عورت تم جیسے لوگوں کی نسلیں بھی پیدا کرتی ہی اور پھر ان کی مختلف اور گٹھیا سوچوں کا سامنا بھی کرتی پے، کچھ گڑ جاتی ہیں اور کچھ میری طرح انتقام لینا جانتی ہیں، عمران بیگ کی آنکھوں میں ایک ساتھ کئی جذبات آئے
لیکن ڈرو نہیں تمہیں ماروگی نہیں، ہلکا سا مسکرائ جسے دیکھتے کر عمران بیگ تھوڑا پرسکون ہوا
لیکن اگلے ہی لمحے ایک تیز نوک والا خنجر اس کی ٹانگ میں خبتا ہوا محسوس ہوا ،وہ درد سے بلبلا اٹھا، وہاں پر کھڑے تمام آدمی یہ سب دیکھ رہے تھے اور پھر رابعہ کے اشارے پر وہ چلے گئے، جو کہ پلر کے پیچھے چھپی کھڑی تھی اور سب دیکھ رہی تھی یہ دیکھتے پی اس کے ہاتھوں میں موجود آئس کریم خوف سے نیچے گر گئی
بلکہ تڑپا تڑپا کر صرف زخمی کروں گی، اس کے کی آنکھوں میں بے رحمی اتری تھی
عمران سکتے میں جیسے چلا گیا تھا ،چاکو اس کی ٹانگ کے گوشت میں پیوست ہوا تھا،اس کے چہرے پر درد اور حیرانی ایک ساتھ ابھری
فکر مت کرو مروگے نہیں اور اب میری بات غور سے سنو چاقو اب بھی اس کی ٹانگ میں پیوست تھا۔
تم مرد عورت کو اپنے ہاتھ کا پیاده کیوں سمجھتے ہو ،کہ جب چاہا جس طرف مرضی گھما دیا ،ناز نے اس آدمی کی ٹانگ میں لگے چاقو پر گرفت مضبوط کی اور تھور زور ڈالا جس سے عمران بیگ درد سے تڑپا تھا
نازیفہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ائ
تم جن عورتوں کو کمزور کہتے ہو نہ ،وہ دراصل مجبور ہوتی ہیں تم جیسے مردوں کے ہاتھوں، نازیفہ نے ہر لفظ چبا چبا کر بولے
لیکن میں ان عورتوں میں سے نہیں ہو جو تم جیسے آدمی کی ازلی مردانگی سے ڈر جائے ،اور تم ،تم مجھے میری عزت کی دھمکی دے رہیں تھے دیکھو اب خود کو دیکھو کیسے پھٹے کپڑوں میں مار کھا کر بے بس بیٹھے اپنی مردانگی کا جنازہ نکال رہے ہو ،ناز نے ایک دم چاقو اس کی ٹانگ سے نکال لیا تھا ،وہ درد نہ برداشت کرتے بیہوش ہو گئا
نازیفہ نے عمران بیگ کو دیکھتے افسوس سے سر جھٹکا، بس اتنی سی تھی تمہاری مردانگی؟؟
اس کو ہاسپٹل لے جانا،رابعہ، اور اس کے بلز بھی پے کر دینا ،ناز نے ٹشو سے چاقو صاف کرتے رابعہ کو کہا جو اسے ہی خوف سے دیکھ رہی تھی
لیکن میڈم اسنے کسی کو بتا دیا کہ آپ نے ،،،
تمہیں کیا لگتا ہے اب یہ میرے بارے میں کچھ کہنے کی ہمت رکھتا ہوگا جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے ،نازیفہ نے مسکراتے ہوئے رابعہ کو دیکھا
نازیفه کی بات پر رابعه نے ہولے سے سر ہلایا تھا ،ناز نے چاقو کو ہوڈی میں واپس چھپایا اور سر پر ہوڈی لیتی دوبارہ اسی راستے سے چلی گئ تھی جہاں سے آئ تھی۔

☆☆☆☆

18 مارچ …..

دو دن سے وہ انتہائی سنجیدگی سے اپنے کام میں مصروف تھا ،وہ ہر قیمت پر اس ہیکر کو پکڑنا چاہتا تھا ،زہران کو جب یقین ہوگئا کہ اس فینٹم نامی انسان کا کوئی سوراخ تک وہ پہنچ نہیں پارہ تو اس نے FIA کی طرف رخ کیا جہاں پر بےجان چیزیں بھی راز اگلنے کے لیے راضی ہو جاتی ہیں ،


Fuderal Investigation Agency ….

رات کی سرد ہوا میں FIA کی عمارت کراچی شہر سے تھوڑا الگ خاموشی سے سنجیدگی اوڑھے کھڑی تھی ،
شیشوں سے ڈھکی اونچی دیواریں، داخلی دروازے پر سخت چہرے والے اہلکار ،اور کونے میں نصب کیمرے ،سیاہ وردی میں کھڑے اہلکاروں کی نظریں ہر آنے جانے والے پر جمی تھی ، اگر لوگ FIA سے پناہ مانگتے ہیں تو ٹھیک مانگتے ہیں، داخلی دروازے پر نصب سفید لائٹس رات کی تاریکی کو چیر رہی تھی ،
وہ کار سے بھاگنے کے انداز میں باہر نکلا ،بار کھڑے حولدارو نے اسے دیکھ کر سلام کیا، زہران بھاری قدم اٹھاتا اندر کی جانب بڑھ رہا تھا ،اندر قدم رکھتے ہی ہوا کے ساتھ عجیب سا دباؤ محسوس ہوتا ،لمبی راہداری کے دونوں جانب دفاتر قطار در قطار موجود تھے ۔لمبی راہداریوں میں گونجتے جوتوں کی آوازیں، ہر دیوار پر نصب چلتی ہوئی سکرینے، بند کمروں کے پیچھے پیچیدہ لہجوں میں ہونے والی گفتگو، FIA میں کام کرنے والے عام انسان نہیں تھے وہ خاموشی میں چھپے خوف کو پہچانتے اور جھوٹی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے سچ بھی جانتے تھے،
زہران کے قدم cyber crime department کے سامنے رکے ،وہاں پر موجود افسروں نے سر کے خم سے اسے سلام کیا تھا ،لیکن اسکی نظریں اپنے قدموں کے نیچے لکھے الفاظون پر ٹکی تھیں، جہاں پر مرمریں فرش پر بنا وہ بڑا سا گول نشان جس پر بڑے بڑے الفاظ میں cyber crime intelligence agency لکھا ہوا تھا پوری ایجنسی کی ہیبت کو اور گہرا کیے ہوئے تھا ،ان الفاظ کو دیکھتے زہران نے گہرا سانس لیا اور اندر کی طرف بڑھا،
Cyber Crime Department.

کا فلور سب سے الگ لگتا جو نیلی روشنیوں سے نہایا ہوا تھا ، دیواروں پر لگی بڑی بڑی سکرینوں پر مختلف کوڈز چل رہے تھے ،ہر طرف ہلچل ہی ہلچل تھی ، سکرینوں کے سامنے بیٹھے لوگوں کے چہرے بلکل بے تاثر تھے ان کی انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پر چل رہی تھی ،زہران ہر طرف نظر گھماتا جیبوں میں ہاتھ ڈالے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا ،
سر۔۔ سر زہران ،کسی کی جانی پہچانی آواز کانوں میں پڑنے ہر وہ وہی رکا اور پیچھے مڑ کر دیکا وہ اسی کے انڈر کام کرنے والا تھا
ہاں بولوں رحمت ،زہران نے رحمت کو دیکھتے بولا جس کے چہرے پر واضح خوف تھا
آپ چیف کے روم میں جارہے ہو،
ہاں کیوں، ،سنجیدگی سے پوچھا
چیف اس وقت بہت غصے میں ہے اوپر سے آپ بہت دنوں بعد ارہے ہیں، رحمت نے نہ جانے کا مشورہ دیا
اچھا غصے میں ہیں، زہران بھرپور مسکرایا، شیطانی مسکراہٹ آنکھوں تک آئی
انٹرسٹنگ،یہ کہتے وہ آگے کی طرف بڑھ گیا ،رحمت حیرانی سے اسے جاتا دیکھتا رہا پھر خود پر افسوس کرتے ہوئے سر جھٹکا کہ وہ یہ کیسے بھول سکتا ہے کہ زہران علوی پورے ڈیپارٹمنٹ کا سب سے زیادہ عجیب اور سر پھرا بندہ ہے ،،

جب وہ چیف۔ کے روم کے باہر رکا تو ابھی بھی اندر سے باتوں کی آواز ارہی تھی ،وہ ہلکا سا کھٹکھٹا کر اندر بڑھ گیا چہرے پر مصنوعی معصومیت پھیلائ
وہ چیف کو دیکھتے مسکرایا جو باتیں کرتے کرتے رک گئے اور اسے اوپر سے نیچے تک دیکھ کر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
آئیے برخوردار تمہاری ہی ٹیم کو گائیڈ کر رہا تھا میں کیو کہ تم تو بے حد مصروف ہونا ؟،چیف کے چہرے پر اب غصہ صاف جھلک رہا تھا
اپنی ٹیم کو وہاں دیکھ کر وہ اپنی مسکراہٹ کو اب بلکل نہ چھپا سکا تھا ۔جس کو دیکھ کر چیف کو اور زیادہ غصہ چڑھا

،آئیے تشریف رکھیے ،کرسی پیش کرتے ہیں ہم اپکو ،چیف نے اسے گھورتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کیا یہ غالبا ایک طنز تھا لیکن وہ پھر بھی بیٹھ چکا تھا
تم سب جاو ،چیف نے وہاں پر موجود ٹیم کو جانے کا اشارہ کیا جو کہ چیف کی حالت کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ چھپاہ رہی تھی
کبھی کبھی اوفس بھی آجانا صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے
آفیسر، چیف نے کرسی سنبھالتے ہوئے کہا
آپ مس کر رہے تھے کیا مجھے ؟؟،اس آدمی کو شاید سیدھا جواب دینا ہی نہیں آتا تھا
میرے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں موت کو مس کرو ،انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگاتے کہا
ریلکیس سر موت بھی میری دی ہوئی ٹائمنگ کے بنا نہیں آتی، زہران نے کرسی کے پیچھے ٹیک لگاتے کہا
تم سیریس کب ہوتے پو ،آخر انہوں نے تنگ آکر پوچھا
جب سامنے والا کریمینل ہوتا ہے سر ،وہ ڈھٹائی سے ہنسا اور کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا
سوری چیف آب تین دن تک غائب نہیں ہوگا ،زہران نے کھڑے ہوکر تابعداری سے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے چیف سے کہا جو اسے گھور رہے تھے
مطلب چھوتے دن پھر ہوا ہو جاوگے ،انہوں نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا
ان کی بات کو سن کر وہ ڈھٹائی سے ہنس دیا اور سر کو خم دیا
Who knows chief …
یہ کہتا وہ روم سے باہر نکل گیا
چیف سر جھٹک کر مسکرائے اب انہیں کوئ مسلہ نہیں تھا کیونکہ زہران علوی کے ہوتے ہوئے مسائل تو آتے ہی تھے ساتھ لیکن وہ انہیں حل کرنا بھی بخوبی جانا تھا ،
روم سے نکلنے کے بعد وہ اپنی ٹیم سے investigation فائل لیتا investigation روم کی طرف بڑھا تھا ،جہاں پر پہلے ہی ہلیل اس آدمی کے ساتھ سر کھپا رہا تھا ،
تم یہاں کیسے ،کب آئے، چیف سے ملے ،اسے دیکھتے ہلیل نے سوالوں کی بوچھاڑ شروع کی تھی
بتایا اس نے کچھ ،زہران نے اس کے سوالوں کو نظرانداز کرتے آدمی کی طرف اشارہ کیا
نہیں یہ تو منہ پر تالا لگا کر بیٹھا ہے کچھ نہیں بتایا اس نے اتنے دنوں سے،ہلیل نے افسوس سے کہا
ہمم تم جاو اب میں دیکھتا ہوں،زہران نے اس کی بات سن کر فائل میز پر پٹکی
تم جانتے ہو نہ اس پر ہاتھ نہیں اٹھانا، ہلیل نے اسے ہمیشہ کہیں جانے والی بات یاد کروائی
جانتا ہو جاتے ہوئے کیمرے آف کر دینا ،زہران نے اسے جاتے دیکھتے کہا ،ہلیل نے کمرے سے نکل کر سارے کیمرے آف کر دیے تھے سوائے ایک کے جس سے وہ دیکھنے والا تھا
روم کا دروازہ بند ہوتے اس نے ہی اپنا کوٹ چئیر پر ڈال کر کرسی سنبھالی
وہ بلکل خاموش اور پرسکون تھا ،اس نے اس آدمی کو ایک نظر دیکھا اور فائل اٹھا کر دیکھنے لگا
وہ آدمی جو سوچ کر بیٹھا تھا کہ اب اس پہ تشدد کیا جائے گا لیکن وہ منہ نہیں کھولے گا وہ اپنے اپ کو زہنی طور پر تیار ر کیے بیٹھا تھا،اس قدر پر سکونی پر چونکا ،
ہلیل اسے کیمرے کی نظر سے دیکھتے ہوئے حیران ہوا پھر ایک دم دماغ میں کچھ آیا
اصول نمبر 1 …”جب مجرم تشدد کی امید کر رہا ہو اور اسے بلکل نظر انداز کر دیا جائے تو اس کا اعتماد کھونے لگتا ہے”

تم جانتے ہو مجھے خاموش لوگ اتنے اچھے کیوں لگتے ہے؟؟ زہران نے میز پر انگلیوں کی ہلکی آواز پیدا کرتے اسے اپنی طرف متوجہ کیا
کیونکہ خاموش انسان اپنی خاموشی سے سچ اگل دیتا ہے ،زہران نے سامنے بیٹھے شخص کو سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ،اس کی بات سن کر سامنے کرسی پہ بیٹھا شخص بے چینی سے ہلا ،اسے دیکھ کر زہران ہلکا سا مسکرایا
چلو ایک گیم کھلتے ہیں، جس میں میں سوال پوچھوں گا اور تم چاہوں تو جواب دینا نہیں تو خاموش رہنا، آدمی نے اس کی بات سن کر بےزاری سے چہرہ دائیں بائیں گھمایا
اصول نمبر 2 … دشمن کے دماغ کے ساتھ کھیلو اور دیکھو کہ اسکا انداز کیا کہتا ہے ۔۔

تم مجھ سے جو چھپارہے ہو کیا لگتا ہے وہ واقعی مجھے نہ پتا ہوگا ،سیاہ آنکھوں میں واضح مایوسی تھی
وہ آدمی(عالم) اب تذبذب سے اسے دیکھ رہا تھا

اصول نمبر 3…. اصلی رگ پر ہاتھ رکھ دو ۔

فینٹم!؟ اس نے آبرو اچکا کر نام لیا

فینتم وہ ،،وہ ایک دم چونک گیا اور حیرانی سے سامنے بیٹھے زہران کو دیکھا
ہلیل ہلکا سا مسکرایا

وہ آدمی بلکل چپ ہوگیا ،لیکن زہران نے بخوبی نوٹ کیا کہ اس کی دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہوچکی تھی ،چہرے پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہوئے ، وہ جان چکا تھا کہ سامنے بیٹھا شخص کوئ عام آدمی نہیں تھا جس سے وہ کھیل جاتا ،زہران نے اسکی آنکھوں کی حرکت اور سانسوں کی رفتار کو محسوس کیا
اصول نمبر 4 …اصلی روپ دکھا دو ،کیونکہ کچھ لوگ انسان کی طرح بات کرنے کو اچھا نہیں جانتے اس لیے ان کے ساتھ جانور بن کر بات کرو…

فینٹم کا نام سن کر دھڑکن کیوں تیز ہوگئ ،ڈر لگتا ہے اس سے یا اسے بچانا چاہتے ہو،اس دفعہ مکمل خاموشی وصول ہوئے
تمہاری خاموشی تمہیں بچائے گی نہیں بلکہ تمہارے خلاف سخت قدم لینے کے لیے مجھے اکسائے گی ،زہران نے سنجیدگی سے کہا اب وہ آس شخص کے آگے پیچھے ٹہل رہا تھا
میں، ،میں فینٹم کو نہیں جانتا ،سامنے بیٹھے شخص نے نظریں ملانے سے گریز کرتے کہا،اس کی نظریں دروازے کی طرف تھیں
دیکھا ؟؟ تم جھوٹ بولنے سے پہلے ہی نظریں چرالیتے ہو عادت ہے نہ ؟؟
اچھا ٹھیک ہے تم فینٹم کو نہیں جانتے ،پھر جب میں نے اس کا نام لیا تو تمہارے دل کی دھڑکن کیوں تیز ہوئی؟؟ ،چہرے پر پسینہ کیوں نمودار ہوا ،؟؟آنکھیں کیوں دروازے کی طرف بااختیار اٹھی جیسے کوئی تمہیں بچانے آئے گا ،؟؟؟
سامنے بیٹھے آدمی نے ہونٹ بھیچ لیے
میں لوگوں سے سچ نہیں اگلواتا میں ان کے دماغ کو اس قدر تھکا دیتا ہوں کے جھوٹ خودکشی کر لیتا ہے ،زہران نے اس کے کان کے پاس آکر سرگوشی کی
ہلیل کی نظر اب بھی زہران کی طرف تھی ،جو اب سخت نظروں سے آدمی کو گھور رہا تھا
بتائو فینٹم کون ہے ،اب کی بار لہجے میں سختی در آئی
وہ ایک سایہ ہے ،عالم نے زہران کی آنکھوں میں دیکھتے کہا اور گردن جھکالی
زہران نے کھینچ کر ایک تھپڑ اس کی جھکی ہوئی گردن میں دے مارا تھپڑ اس قدر زوردار تھا کہ اس آدمی کا۔ چہرہ میز پر جھک گیا
بتا کون ہے وہ ،زہران نے اس کا چہرہ اوپر کر کے پوچھا لہجہ اب بھی سرد تھا
“وہ چلاتا بہت کم تھا لیکن اس کا کاٹ دار لہجہ ہی سامنے والے کو آدھ موا کر دیتا تھا”
اب کی بار منہ پر ایک مکہ جڑ دیا تھا ،ہلیل یہ دیکھ کر دروازہ کھولتے روم میں گیا تھا
چھوڑو اسے زہران مر جائے گا وہ ،ہلیل کے آتے ہی وہ کمرے سے نکل گیا ہلیل اس آدمی پر آخری نظر ڈالتے اس کے پیچھے ہو لیا
یہ تم کیا کر رہے تھے روم میں اگر چیف کو پتہ لگ گیا پھر ،ہلیل نے اس کے لیے فکرمند ہوتے کہا
چیف بڈھا ہوچکا ہے اسے نہیں پتہ چلے گا ،ہلیل نے اس کی بات پر ماتم کیا تھا
اور اندر والے کا کیا اب ،ہلیل نے اندر میں بیٹھے آدمی کی طرف اشارہ کیا جو اب اپنی حالت سدھار رہا تھا
کچھ دنوں تک ایسے ہی رہے گا، تو اس کا ذہن پختہ ہوجائے گا کہ اب کوئی اسے بچانے نہیں آئے گا، جس پر سوکالڈ وفاداری چکناچور ہوگئ ،اور جب وفاداری ٹوٹتی ہے تو سچ خودبخود زبان پر آجانا ہے,وہ کہتا ہے کہ فینٹم ایک سایہ ہے لیکن سائے ہمیشہ کسی نہ کسی انسان کے قدموں سے جڑے ہوتے ہیں،زہران نے اس آدمی کو دیکھتے سپاٹ لہجے میں کہا ہلیل کا منہ اسکی بات پر کھلا رہ گیا تھا ،زہران علوی جیسا ذہین دماغ والا شخص دنیا میں کچھ بھی کر سکتا تھا۔
جانتا ہوں میں بہت ذہین ہو لیکن منہ بند کروں مکھی چلی جائیگی، زہران نے اس کا کھلا منہ بند کرتے ہوئے کہا
میری کل کی اسلام آباد کی فلائٹ کی ٹکٹ بک کروا دینا،
اب کہاں جانا ہے ،ہلیل نے حیرانی سی پوچھا
ابلاج سے ملنے جانا ہے کل ہی واپس اجاوگا،وہ یہ کہتے باہر کی طرف بڑھ گیا
☆☆☆☆

،ایک نوجوان ٹریکنگ سوٹ میں ملبوس سڑک پر دور رہا تھا ،جسم پسینے سے تر ہوچکا تھا اس کا جسم اس کی عمر کی نسبت سے بہتر تھا ،اس کا جسم ایک بھریے کی طرح ہلکا اور لچکدار تھا ،اس کر دوڑنے کا انداز کسی اناڑی کی طرح نہیں بلکہ وہ ایک ایتھلیٹ کی طرح دور رہا تھا ،دوڑنے کی وجہ سے اس کا سانس پھولا ہوا تھا،لیکن اسکی آنکھوں میں تھکن کا کوئ نام و نشان بھی نہیں تھا ،اسھا چہرہ چھپا رکھا تھا ،سرد ہوا کے تھپیڑوں میں سمندر کے کنارے وہ بغیر رکے دوڑتا جارہا تھا ،
اسنے کچھ بتایا کیا ،اس قدر تیز دوڑنے کے باوجود اس کی آواز دھیمی اور ہموار تھی ،
نہیں اس نے کچھ نہیں بتایا ،ائرپورڈ سے آتی کسی لڑکی کی آواز پر وہ مسکرا دیا
گڈ، یہ کہتے اس نے کال ان لائن کاٹ دی اور پھر سے دوڑنے لگا
☆☆☆☆

اسلام آباد کی صبح میں خنکی شامل تھیں، فضا میں موجود مٹی کی سوندھی سئ خوشبو رچی ہوئی تھی ،دامن کوہ میں پہاڑوں کے دامن میں پھلیے کچے وسیع اور سرسبز رستے پر دو نوجوان اپنے چست اور توانائی سے بھر پور گھوڑوں پر سوار تھے ،ایک کالی سیاہ آنکھوں والا زہران علوی اور دوسرا نیلی آنکھوں والا سید ابلاج شاہ ۔
کیا میری یاد ارہی تھی جو ملنے آئے، دونوں کے گھوڑے ایک ساتھ بھاگ رہے تھے
ہاں بس تمہاری ہی یاد رہ گئ ہے نہ زندگی میں ،زہران کی بات پر ابلاج نے منہ بنایا
تو پھر ،
میں شادی کر رہا ہوں، زہران بے تاثر لہجے میں کہا اور گھوڑے کی لگامیں کسیں
اچھا تو ،،
ایک منٹ کیا تم شادی کر رہے ہو؟،ابلاج کے چہرے پر حیرانی اور دکھ ایک ساتھ امڈ آئے
کیوں تمہیں یقین کیوں نہیں ہورہا اب کیا میں ساری زندگی تیری طرح سنگل ہی مروگا کیا ،زہران نے گھوڑے سے اترتے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے کہا
نہیں کیا واقعی، ابلاج کو ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا وہ گھوڑے پہ ہی سوار تھا
ہاں، تو اب کیا میں ساری زندگی تیرا بوجھ ہی اٹھاتا رہونگا کیا ،زہران کے اس طرح کہنے پر وہ گھوڑے سے اترنے لگا کہ زہران کے اچانک گھوڑے کی لگام کھینچنے پر گھوڑا اوپر کی طرف اٹھا اور ابلاج نیچے گر پڑا
خبیث کہی کہ ہنس لے ہنس یہ ہسی شادی کے بعد پھر کہا نصیب ہوگی تجھے ،ابلاج اس پر احسان کرنے کے انداز میں بولا
اچھا چل چھوڑ نہ ،زہران نے اسے اٹھانے کے کہے اپنا ہاتھ دیا جو ابلاج نے تھام لیا اور کھڑا ہوگیا اب وہ دونوں پیدل گھوڑوں کو لیے چل رہیں تھے
میں تمہیں ایجنسی میں جوائن ہونے کا بھی کہنے آیا ہوں، زہران نے اسے دیکھتے کہا
کر لوں گا جوائن یار ،ابلاج نے بیزاریت سے کہا
ویسے اسلام آباد میں بھی تو ایجنسی ہے نہ تو یہی جوائن کرلو گا اس میں کیا مسئلہ ہے ،اس کے چہرے ہر الجھن کے آثار نمایاں تھے
مسئلہ یہاں کی یا وہاں کی ایجنسی کا نہیں ہے مسئلہ تمہارا ہے ،زہران نے سنجیدگی سے کہا
ایک منٹ میرا کیا مسلہ ہے ،ابلاج نے معصومیت سے اسے دیکھتے پوچھ
Don’t be innocent man
تم سموکنگ کرنے لگے ہو مجھے پتہ لگ چکا ہے ،زہران نے سختی سے اسے گرکا، وہ گھر پہچ چکے تھے اور گھوڑے باڑے میں چھوڑ دیے تھے ،اب وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے
تو کیا ہوا مرد ہو سموکنگ تو کر رہی سکتا ہوں،
اچھا مرد ہو تو کچھ بھی کروگے ۔
نہیں کچھ نہیں کروگا صرف سموکنگ ،اس کی بات ادھوری رہ گئ
شٹ آپ جسٹ شٹ آپ، زہران غصے سے بولا اب وہ اسکی اور بکواس نہیں سن سکتا تھا ،ابلاج کی چلتی زبان کو بریک لگی ،
میں شام کی فلائٹ سے واپس کراچی جارہا ہوں، لمبی خاموشی کے بعد زہران بولا
تو یہاں کیا حاضری لگوانے آیا تھے ۔ابلاج تلخی سے بولا
گھر واپس کیوں نہیں چلے جاتے ،زہران نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی ،ابلاج نے زہران کا ہاتھ کندھے سے ہٹایا اور سنجیدگی سے بولا
اوکےوکے چل پکہ بتا کہ کب آئے گا کراچی ،زہران نے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالے کہا
اگلے مہینے اجاوگا، اس کا لہجہ بھی اب بھی ناراض ناراض سا تھا
اچھا اب ناراضگی چھوڑدے ،بہت کیوٹ لگ رہا ہے دل آجائے گا تجھ پہ، زہران نے اس کا گال کھینچتے کہا
ابے چل ،ابلاج ہستے ہوئے اس سے دور ہوا
شادی پہ نہیں اوگے؟
نہیں تمہیں پتہ تو ہے مجھے ایونٹس نہیں پسند ،ابلاج نے اپنے ہاتھوں سے گلوز اتارتے کہا ، غیر معمولی طور پر اس کے گلے میں گلتی ابھر کر معدوم ہوئی
لیکن میری شادی ہے یار تم میرے لیے بھی نہیں آو گے، زہرن نے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی
سیریسلی تم مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہو ،جو اپنے ہی گھر والوں کو ایموشنل بلیک میل کرتے یہاں پہچا ہے ،ابلاج نے ہاتھ پھیلاتے فاتحانہ انداز میں کہا جیسے اپنا کوئ بہت بڑا کارنامہ بتا رہا ہو ،اس کی بات سن کر زہران نے آخر میں افسوس سے سر جھٹکا


☆☆☆☆☆☆

صبح نازیفہ کی آنکھ 6 بجے ہی کھل گئ تھی ،اتوار کا دن تھا ،یہ وہ دن ہوتا تھا جس میں وہ اپنے گھر کا سارا کام کرتی تھی ،وی جلدی سی اٹھی اور فریش ہوکر گھر کے کام کرنے لگی ،وہ چاہے جتنی ہی مصروف کیوں نہ ہوتی وہ آپنے اپارٹمنٹ کے کام کو کبھی پس پشت نہیں ڈالتی تھی ،اس نے گھر کی ساری اچھے سے صفائی کی اور برتن دھونے کے بعد وہ اپنے کپڑوں کو لانڈری میں دے آئی ،اسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا پر کام کر سکتی ہے لیکن کپڑے نہیں دھو سکتی ،جلد ہی کام ختم کر نے کے بعد وہ نہا دھو کر چائے کا کپ تھامے بالکونی پر چلی آئی ،اسے چائے زیادہ پسند نہیں تھی لیکن کام کے تھکن کو دور کرنے کے لیے اسے چآئے کی شدت سے طلب ہوتی تھی۔ ،ساری رات ہلکی ہلکی بونداباری ہونے کی وجہ سے کراچی کا موسم کافی خوشگوار ہوچکا تھا ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں، منڈیر پر چائے کا کپ رکھ کر اس نے نیچے جھانکا تو بہت سے بچے کھیل رہے تھے ،وہ منڈیر پر ہاتھ رکھے انہیں دیکھنے لگی ،بچے کھیلتے کھیلتے کبھی لڑ پرتے تو کبھی کھلکھلاپرتے ،وہ کافی خوش لگ رہے تھے ۔ ،اس نے اپنے ہی خیال پر سر جھٹکا شاید یہ عمر ہی خوش رہنےوالی ہوتی ہے ، یہ بچے کچھ بھی نہیں جانتے کہ انکی زندگی میں کیا ہونے والا ہے انہیں کیا ملے گا کیا نہیں، کون ان کے ساتھ مخلص ہون گا اور کون غدار، کچھ بھی نہ جاننے میں کتنا سکون ہوتا ہے ، ،دل میں عجیب گھبراہٹ ہونے لگی اس نے دل کو ٹھیک کرنے کے لیے چائے کا گھونٹ پڑا تو دل اور بدمزہ ہوگیا ،چائے ٹھنڈی ہوچکی تھی

وہ چائے کا کپ تھامے ابھی وہی آسمان کی طرف چہرہ کیے کھڑی تھی کہ اپارٹمنٹ کی بیل بجی تھی ،وہ چونک گئ تھی ،اس کے دروازے پر اس وقت کون ہوسکتا ہے ،وہ چہرہ دروازے کی طرف کرکے گھوڑا


، اس کے دروازے پر صرف اور صرف ڈلیوری بوائے ہی آتا تھا ،لیکن اب تو اس نے کچھ آرڈر بھی نہیں کیا تھا ،سارا دن اوفس میں رہنے کی وجہ سے اسکی اپنے ہمسائیوں سے بھی کچھ اچھے تعلقات نہیں تھے ،وہ کپ کو کچن میں رکھتی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
کیسی ہو آپی، دروازہ کھولتے ہی راحا اس سے لپٹی تھی ،وہ ایک دم ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
آپ ڈر گئ نہ ،اگر ڈر لگتا ہے تو اکیلے کیوں رہتے ہو ،راحا نے اس سے ایسے ہی لگ کر کہا ،وہ اس کی بات سن کر مسکرائ اور دروازہ بند کرنے کے بعد اپنے ہاتھ اس کے گرد پھیلا دیے
میں ڈری نہیں تھی ،بس حیران تھی ،ناز نے اس کا سر چوما تھا
میں نے اپ کو اتنے مسیجز اور کال کیں لیکن آپ نے کوئی پک نہیں کیا، وہ اب شکایت کر رہی تھی
بیٹا میں مصروف تھی، نازیفہ نے اسے علیحدہ کرتے پیار سے کہا
نہیں اپ مصروف نہیں تھی آپ اس دن والی بات سے غصہ تھی ،راحا نے اس کے پیچھے کچن کی طرف جاتے کہا
میں تمہیں کوئی ٹین ایج بچی لگتی ہوں، جو غصہ ہوکر تمہاری کال نہ پک کرونگی ،اور اس بات کو تو میں کب کی بھول گئ ،نازیفہ نے اس کی طرف چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے کہا جسے روحی نے تھام لیا تھا
کیا آپ مجھے بتائیں گئ کہ زہران اور آپ کے درمیان کیا بات ہوئ تھی، جس پر آپ دونوں اتنے غصے میں تھے ،راحا نے نازیفہ کا ہاتھ تھامتے کہا
بات اتنی امپورٹنت نہیں تھی روحی، اور وہ بات تو میں کب کی بھول گئ ،اسنے مسکرا کر کہا
ڈرائیور کے ساتھ آئ ہو ،ناز نے بات بدلنے کی کوشش کی
نہیں بابا چھوڑ کے گئے ہیں، راحا نےاس بار سنجیدگی سے کہا جس پر نازیفہ کے ہاتھوں تھمے
اندر نہیں آئے، اس نے انتہائی دھیمی آواز میں کہا
انہیں ڈر تھا کہ کہیں آپ انہیں نکال نہ دو گھر سے ،راحا نے اپارٹمنٹ کو چاروں طرف سے دیکھتے ہوئے کہا ،راحا کی بات سن کر وہ اذیت سے مسکرادی لیکن بولی کچھ نہیں
آپ نے کونسی میڈ رکھی ہے جو گھر کو یوں چمکا دیا اس نے ،
میڈ ؟؟؟
ہاں میڈ، راحا ناز کو دیکھتے کہا
یہ سب میں نے خود صاف کیا ہے ،ناز کے کہنے پر راحا حیران ہوئی
رئیلی آپی، روحی نے حیرانی سے پوچھا تو نازیفہ نے سر ہلایا
ویسے آپ نے پوچھا نہیں میں کیوں آئی ہوں،
کیوں آئی ہوں،
ہم باہر گھومنے چلتے ہیں، اور شاپنگ کرتے ہیں، آپ کی وجہ سے میں نے ابھی شادی کا جوڑا بھی نہیں لیا ۔راحا نے سر اٹھا کر معصومیت سے کہا
میری وجہ سے لیکن کیوں، مہندی میں بیٹھنے کے اب بس تین دن رہ گئے ہیں لڑکی، ناز نے حیرانی سے کہا
آپ کے ساتھ جانا تھا نہ میں نے ،آپ نے کال پک نہیں کی تو میں باقی سارے فنکشنز کے لے آئ آپ کے بھی اور میرے بھی ،لیکن شادی کا جورا رہتا ہے ابھی ،روحی نے انگلیاں مرورتے کہا، ناز اس کی بات سن کر نرم پڑ گئ
تم تھوڑا دیر دو مجھے میں ڈریس چینج کر کے آئ ،ناز اپنے روم کی طرف بڑھ گئ تھی
وہ تھوڑی دیر بعد باہر ائ تو ایک سفید رنگ کی ڈھیلی ڈھائی شرٹ میں ملبوس تھی ،اس نے لمبے بالوں کی پونی ٹیل بنائے ہوے تھی اور،آنکھوں پر کال چشمہ لگایا ۔
وہ دونوں مال میں پہنچنے کے بعد سب سے پہلے برائیڈل ڈریس کی طرف بڑھی تھی ،لیکن روحی کو کوئ پسند ہی نہیں ارہا تھا ،تقریبا آدھا گھنٹہ کے بعد ناز نے زہران اور ہلیل کو ان کی طرف آتے دیکھا ،اس نے ان کو دیکھتے نظریں پھیر لی تھی ،
تم نے ،،تم نے بلایا ہے انہیں، اس نے روحی کا بازو پکڑتے کہا اور ان دونوں کی طرف اشارہ کیا
ہاں برائیڈل ڈریس میں زہران کی مرضی سے لونگی نہ ،راحا نے تھوڑا شرما کر کہا ،اس وقت وہ نازیفہ کو زہر لگی تھی
تب تک وہ ان دونوں تک پہنچ چکے تھے ،
ہیلو گرلز اینڈ بوائز،ہلیل نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا
بوائے کون ہے یہاں پر ہم دونوں ہی ہیں، راحا نے ادھر ادھر دیکھتے کہا
یہ بوائے ہی نہ تمہارے ساتھ کھڑا، ہلیل نے نازیفہ کی طرف اشارہ جو اس کی بات سن کی بھی پرسکون کھڑی تھی ،اور پھر خود ہی اپنی بات پر قہقہ لگا گیا

جاو تم دونوں اب اپنی شادی کا جوڑا سلیکٹ کر لو ،ناز نے زہران اور راحا کی طرف اشارہ کیا
آپ نہیں چلوں گی ،
نہیں روحی تم جاو میں نے اپنے لیے یہاں سے لے لوںگی،ناز نے کپڑوں کو دیکھتے کہا
ہاں اور میں ہونا اس کے پاس تم لوگ جاو ،ہلیل نے اب سنجیدگی سے کہا
ان دونوں کے جانے کے بعد وہ اپنا ڈریس لینے کے لیے گھومتی رہی اور ہلیل اس کے پیچھے پیچھے آتا رہا ،اگر اسے کوئی ڈریس پسند آتا بھی تو وہ اس قدر نقص نکالتا کہ اس ڈریس سے اسکا دل ہی بد زن ہو جاتا ،کئ کوششوں کے بعد ایک ڈریس ناز کو بہت پسند آیا اور اس نے پتہ نہیں کیوں ہلیل سے دوبارہ اس کی رائے لے لی۔
ڈریس اچھا ہے لیکن تم پہ اچھا نہیں لگ رہا ،ہلیل نے سنجیدگی سے کیا
مر جاو تم مجھے لینا ہی نہیں ہے ،ناز نے ڈریس وہی پھینکا اور دوسری طرف چل پڑی
یار مذاق کر رہا تھا اچھا لگ رہا ہے یہ تم پر ،ہلیل نے مسکراتے ہوئے ڈریس وہاں سے لیا اور کاوئنٹر کی طرف چل پڑا
نازیفہ کے قدم اس بوتیک کے طرف تھے جہاں سے راحا اور زہران راحا کا برائیڈل ڈریس لے رہے تھے، لیکن کچھ ہی قدموں کے بعد وہ اسے اپنی طرف آتا دیکھتی ہے ،وائٹ شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ پہنے اور بلیک ہی پینٹ پہنے سیاہ آنکھوں والا پرکشش نوجوان سنہری آنکھوں والی معصومیت سے بھرپور لڑکی کے کان می کچھ کہ رہا تھا جو آرشی گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھی اور ہاتھوں میں بھر بھر کر ہم رنگ چوریاں پہنے ہوئے،وہ اس کی بات سن کر منہ پر ہاتھ رکھ کر کھلکھلارہی تھی ،بھوری آنکھوں والی لڑکی کتنی ہی دیر انہیں دیکھتی رہی ،وہ دونوں ایک دوسرے کے سالتھ بے حد خوبصورت لگ رہے تھے ،جیسے ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہو، وہ ایک مکمل جوڑی تھی ،ناز دل ہی دل میں ان کی تعریف کرتی اور انہی تکتی رہی ،یہاں تک کے ان کی ناز سے آنکھ جا ملی ،وہ انہیں دیکھ کر بمشکل مسکرائ
کچھ ہی دیر بعد وہ گھر کے لیے نکل چکے تھے ،
جوڑا خوبصورت ہے نہ آپی، راحا نے اپنا کئی دفعہ پوچھا جانے والا سوال دہرایا جو وہ گاڑی میں بیٹھ کر پوچھ چکی تھی
جوڑا خوبصورت ہے یا نہیں یہ پہننے والے کو معلوم ہونا چاہے روحی، اگر پہننے والے کو وہ چیز پسند ہوگی تو پھر اس کے لیے دنیا کے کسی بھی شخص کی رائے ضروری نہیں ہوتی ،نازیفہ ونڈو کی طرف سے باہر دیکھتی بولی

اسکی بات سن کر راحا مسکرادی اور پرسکون سانس لیا ،بڑی بہنیں چھوٹی بہنوں کے لیے کسی ہیرو سے کم نہیں ہوتی ،وہ ان کی سپورٹر ہوتی ہیں، ماں کے بعد بڑی بہنیں ہی ہوتی ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر وہ اپنی کوئی بھی بات سےشئیر کر سکتے ہیں جو اپ اپنی مان سے بھی نہیں کر سکتے ،ان کے پاس مسلئے سے پہلے اس کا حل ہوتا ہے ۔

تم یہ فلسفانہ باتیں کہاں سے ڈھونڈ کر لاتی ہو،زہران نے مرر میں دیکھتے ہوئے پیچھے اکیلے بیٹھی نازیفہ سے پوچھا ،ہلیل کو ضروری کال انے پر جانا پر گیا تھا
میں بس ان چیزوں کو لفظ دیتی ہوں جو لوگ محسوس تو کرتے ہیں لیکن سمجھ نہیں پاتے ،ناز نے مرر میں دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
ویسے آپ دونوں کی اس دن لڑای کیوں ہوئی تھی ،راحا نے ایک لمبی خاموشی کے بعد پوچھا
ہماری ؟؟ کیا ہمارا کوئ جھگڑا بھی ہوا تھا ؟؟ زہران نے مرر میں دیکھ کر مسکرا کر نازیفہ سے پوچھا
نہیں تو ؟؟ ناز نے کندھے اچکا دیے
آپ دونوں بہت عجیب ہوں، راحا نے منہ بسور کر ونڈو سے باہر دیکھا
ہماری دوستی ہمارے جھگڑا کے نزدیک بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے روحی، زہران نے مرر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو نازیفہ مسکرادی اور ہاں میں سر ہلایا

جب وہ لوگ گھر پہنچے تو حمدانی صاحب دروازے پہ ہی موجود تھے ،اپنی دونوں بیٹیوں کو ساتھ دیکھ کر وہ بےساختہ مسکرادیے ،راحا ان کے ساتھ لگ کر انہیں شادی کے جوڑے کے بارے میں بتا نے لگی ،ناز نے انہیں ایک نظر دیکھا اور اندر کی طرف بڑھنے لگی ،اسی لمحے حمدانی صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا ،راحا اور زہران انہیں چھوڑ کر اندر کی طرف چل پڑے تھے ،
میری ناز ابھی بھی مجھ سے ناراض ہے ،انہوں نے ناز کو اپنے آگے کرتے کہا لیکن اس کا سر جھکا ہوا تھا
سر کیوں جھکا ہے سر تو وہ جھکاتے ہیں جو غلطی کرتے ہیں اور میرے بیٹے نے تو کوئی غلطی نہیں کی ،انہوں نے محبت سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں سے اوپر کیا
نازیفہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا لین انہیں گرنے کی اجازت نہ تھی ،بعض دفعہ آنسو بہانے سے بھی غم کم نہیں ہوتا ،اور یہ بات ناز نے اپنے بچپن میں ہی جان لی تھی
تم نے مجھے کئ دنوں سے بابا نہیں بلایا ،حمدانی صاحب کی آنکھیں سرخ ہوئ باپ چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہو اولاد کے لیے تو دل نرم پڑ ہی جاتا ہے
آپ بابا کہلوانے لائق ہی نہیں ہیں، and j hate you، اس نے تلخی سے کہا
ناز تم پتھر کئون بن گرئ ہو تم تو موم تھی ،ان کے چہرے پر حیرانی کے جذبات آمد آئے
موم پگھل کر مر جاتا ہے لیکن پتھر صدا زندہ رہتا ہے ،ناز نے سرد لہجے میں کہاں۔
میں تم سے معافی مانگتا ہوں ناز ،مجھے معاف کردو ،
وہ چپ رہی کچھ بولی نہیں، اپنوں کے لیے درد دے کر معافی منگنا کتنا آسان ہوتا ہے نہ ۔….؟؟
مجھے کام ہے جانے دیجئے ،وہ ان کی طرف دیکھے بغیر اندر کی طرف بڑھ گئ ،حمدانی صاحب وہاں اکیلے کھڑے رہ گئے

جب وہ گھر میں پہنچی تو راحا اپنے کپڑے دکھا رہی تھی ،وہاں پر زہران کی امی سمرین بیگم اور آرزو بیگم بھی موجود تھی ،
تم نے کونسے ڈریسز لیے ہیں ناز،سمرین بیگم نے ناز کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا۔انہیں ہمیشہ سے ناز بہت عزیز تھی۔
آپی نے ایک ہی ڈریس لیا ہے آنٹی، روحی نے کپڑوں کو سمیٹتے کہا۔
کیون بھئ ،چلو کوئ بات نہیں ہ

کیون بھئ ،چلو کوئ بات نہیں ہم نے تمہارے لیے پہلے ہی لے رکھ ہوئے تھے ،سمرین بیگم نے گہری سانس لیتے کہا
مجھے وہ ڈریسز نہیں چاہیے آنٹی میرے پاس ہیں، سمرین بیگم سمیت آرزو اور راحا نے اسے حیرانی سے دیکھا
میرا مطلب ہے کہ میرے پاس پہلے ہی ہیں، لیکن اگر آپ لوگوں نے اتنے پیار سے لیے ہیں تو میں پہن لو گی ،
ناز کی نظر جب ان خفا ہوتی آنکھوں پر پڑی تو جلد ہی بات سنبھال کر بولی ۔
تھوڑی دیر بعد ہلیل آتا ہوا دکھائی دیا، کیونکہ زہران کا گھر میں داخلہ بند تھا جب تک شادی نہیں ہوجاتی تھی ،اس،لیے وہ اکیلا پی بھٹکتا رہتا تھا۔
نازیفہ کچن سے پانی لے کر ائ تو ہلیل جو صوفے کے پاس کھڑا سمرین بیگم کی کوئی بات سن رہا تھا ،ہلیل کی اس پر نظر پر گئ اور ایک دم آنکھوں میں شیطانی مسکراہٹ در آئی اور اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا۔ناز ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ،
لیڈیز آپ نے آج کچھ نوٹ کیا کیا ؟؟،اچانک کوئ زمین کے کافی قریب ہوگیا ہے ،ہلیل کی نظر ناز کے قدموں پر ہی جمی ہوے تھی ،ناز نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو بات سمجھ آنے پر چہرے پر غصہ چھاگیا،اس،کی بات سمجھ کر سب نے اپنی مسکراہٹ چھپائی
جتنے کی میری ہیلز آتی ہیں نہ اتنے میں تمہاری پوری پرسنیلٹی چینج ہو سکتی ہے ،اس،نے غصے سے کہا
ارے ناز یار غصہ نہیں کرو ،غصے میں تمہاری ٹانگیں زیادہ چھوٹی لگ رہی ہیں ،ہلیل اسے چرانے سے باز نہی ارہا تھا
ویسے چھوٹا ہونے کا ایک فائدہ ضرور ہے نازیفہ، جب بارش پرتی ہے تو سب سے آخر میں تم تک پہنچتی ہوگی ،اس طرح تمہارے بھیگنے کے چانسز کم ہوتے ہیں، اس دفعہ اس کی برداشت ختم ہوگئ تھی ،اب اگے وہ تھا اور پیچھے ناز اس کو مارنے کو دور رہی تھی ،کبھی وہ کسی کے پیچھے چھپ رہا تو کبھی کسی کے پیچھے ۔گھر میں ایک دم رونق در ائ تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆

نازیفہ مہندی کی رات روحی کو پالر میں چھوڑ کر واپس گھر اگئ تھی،وہ تین دنوں سے اپنے گھر پہ ہی رہ رہی تھی، جس سے سب بہت خوش تھے ،اسنے اپنا،سارا کام رابعہ کے ذمے کیا ہوا تھا،کبھی کبھار وہ تھوڑی دیر کے لیے پروجیکٹ سمجھانے کے لیے چلی جاتی تھی ،اب بھی وہ واپس ائ تو گھر کو نئی نکلی دلہن کی طرح سجا دیا گیا، ہر طرف گیندے کی لریا لٹک رہی تھی ،آور جگمگاتی ہوئ روشنیاں آنکھوں کو بھلی لگتی رہی تھیں، سارا انتظام نازیفہ نے خود لان میں کیا تھا ،جہاں پر رنگ برنگے چادریں بچھی ہوئ تھی اور درمیان میں ڈھولک لگائ گئ تھی ،وہ سارے گھر کا جائزہ لے رہی تھی کہ آرزو بیگم نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
ناز تم بھی تیار ہوجائے وقت ہی کتنا رہ گیا ہے ،آرزو بیگم نے فکرمندی سے
سے اسے دیکھتے کہا ،جو خود کو بھول ہی گئ تھی
جی بس میں تیار ہونے ہی والی تھی مگر مجھے اپنے بال کٹوانے ہیں پہلے ،ناز نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے کہا
آرزو بیگم نے اس کے لمبے بالوں کو دیکھا جو کمر سے نیچے تک جارہی تھے ،
کیون کٹوا رہی ہو اتنے پیارے تو ہیں، انہوں نے محبت سے اس کے بالوں کو چھوتے کہا
جی ،ناز نے صرف ایک نظر انہیں دیکھا اور اندر بڑھ گئ

☆☆☆☆

زہران جو پورے گھر کو اپنی نظر میں
رکھتے ہوئے سجا رہا تھا کال انے پر جیب سے موبائل نکال کر کانوں سے لگاگیا
ہیلو مسٹر whatever ، کان سے لگاتے ہی کوئ اجنبی لیکن پراسرار آواز کانوں سے ٹکرا ئے
پہچان تو گئے ہوئے، اور یقینا نمبر ہیک کروانے والی غلطی نہیں کروگے ،کرسی گھماتے ہوئے اس نے سکرین کو دیکھتے کہا
۔ہاں کیوں کہ میں تمہیں اچھے سے جانتا ہوں، زہران نے موبائل کو دوسرے کان پر لگایا
تم ایک دن میرے ہاتھوں سے پکڑیں جاو گے اور اس
دن میرے قہر سے ڈرنا تم مسٹر criminal، ،زہران نے دانت پیس کر کہا
اپنے آپ کو مت تھکاوآفیسر، فینٹم نے اپنا سر کرسی پر جھکا لیا
میں لڑکیوں کو نقصان پہنچاتا ہوں یہ میں ماننے سے انکار نہیں کرتا لیکن ایک طرف میں ان کی مدد بھی کرتا ہوں، وہ مسکرایا اس کی مسکراہٹ عجیب سی تھی ،زہران بغیر کچھ بولے صرف اسے سن رہا تھا
میں ان لڑکیوں کو اپنے گرد موجود لوگوں کے بلکہ ان کے خود کے گھر والوں کے اصلی چہرے دکھاتا ہوں جو ذرا سی غلطی پر انہیں بلیم کرنے لگ جاتے ہیں, how Cheap,اس کے چہرے پر سرد مسکراہٹ در ائ
تمہیں علاج کی ضرورت ہے ،تم پاگل ہو ,اس کی بات سن کر زہران کے جبڑے بیچ گئے تھے
اور آپ بورنگ ہو سر ، اس نے کافی کا سپ لیتے کہا
ایک دن تم اپنی ہی چالوں سے پھنسو گے ،زہران نے غراتے ہوئے کہا۔
میرے جیسے لوگ پھنسنے کے لیے نہیں وجود میں آتے سر ،وہ کرسی پر پھیل کر بیٹھ چکا تھا
آپ کے مکے زبردست ہوتے ہیں سر،میرے لوگوں کو مار کر اپنے ہاتھ مت گندے کریں ،وہ ہلکا سا مسکرایا آنکھوں میں شرارت در ائ
تمہیں مکے نہیں مروں گا ،تھوڑا وقفہ لیا
سیدھا دفن کر دونگا ،زہران نے سرد لہجے میں کہا تو فینٹم قہقہ لگا،کر ہنس دیا،
اگر آس پاس گندگی پھیلی ہو تو اسے صاف کرنے کے لیے ہاتھ بھی گندے کرنے پڑتے ہیں، زہران نے سپاٹ انداز میں کہا
میں مجرم نہیں ہوں سر!!میں تواسی بوسیدہ نظام کی کمزوریاں دکھانے والا ایک آئینہ ہوں ۔۔اس نے یہ کہتے کال کاٹ دی تھی ،
وہ جرم کی وجہ نہیں تھا ،جرم اسی کے ساتھ جنم لیتے تھے۔
☆☆☆☆☆
راحا کی کار آچکی تھی ،اسے جھولے پر لاکر بیٹھا دیا تھا ،تھوڑی دیر میں زہران بھی اچکا تھا ،مایوں کی ہلکی زرد روشنی میں بیٹھی وہ لڑکی خوبصورت لگ رہی تھی، اس نے پیلے رنگ کا لہنگا پہن رکھا تھا ،گیندے کا بنے جھمکے اور بندی لگا رکھی تھی ،اس کے بالوں میں تازہ گجروں کی خوشبو بسی ہوئی تھی ،ہتھیلیوں پر مہندی سے باریک بیلیں بنا رکھی تھی ،دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں پہنی ہوئے ،جس کی مدھم جھنکار ایک مدھر سا گیت سنا رہی تھی ،۔پاس بیٹھا نوجوان سفید رنگ کی شلوار قمیض کے اوپر گرم شال اوڑھے ہوئے تھا ،نظریں چرا کر دیکھتی وہ لڑکی اسے بہت پیاری لگی تھی ،
نازیفہ بار بار زہران اور روحی کو تنگ کر رہی تھی ،وہ خود بھی سبز رنگ کے ہلکے سے جوڑے میں ملبوس تھی ،جس پر زیادہ کام نہیں ہوا تھا ،سارے مہمان اچکے تھے، ہلیل اور نازیفہ نے مہندی کو کافی پر رونق بنا دیا گیا۔
دورکھرے علوی صاحب اور حمدانی صاحب راحا اور زہران اوران کے پاس ان کے قدموں میں بیٹھی نازیفہ جو ان کی تصویریں بنا رہی تھی انہیں دیکھ رہے تھے
کتنے خوش نظر ارہے ہیں نہ بچے، علوی صاحب نے حمدانی صاحب کو دیکھتے پوچھا
میں چاہتا ہوں کہ اب راحا کی شادی کے بعد نازیفہ کی بھی شادی کردو،انہوں نے دور بیٹھی ناز کو دیکھتے کہا
تمہیں کیا لگتا پے وہ تمہاری بات مانے گی ،
ایمو شنل بلیک میل کروگا پھر تو مانے گی ،ھمدانی صاحب نے انہیں دیکھتے مسکرا کر کہا،علوی صاحب نے سر جھٹکا
کچھ دیر بعد ھمدانی صاحب نے ناز کو ہاتھوں کے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور ایک عورت سے ملوایا۔
یہ آپ کی بڑی بیٹی ہے ،اس عورت نے ناز کے بالوں اور کندھے پر ہاتھ پھیرتے کہا،جو کہ ناز کو انتہائی برا لگا
جی ،آرزو بیگم نے مسکرا کر کہا
ماشا اللہ بہت پیاری ہے ،میرا بیٹا بھی ماشاءاللہ بڑا ہوگیا ہے اور پیارا بھی ۔اس عورت نے اپنے پاس کھڑے بیٹے کو بازو سے پکڑتے آگے کیا تھا ،جس میں ذرا سی بھی کشش اس میں نظر نہیں ارہی تھی ،وہ بات کو سمجھ چکی تھی ،اس لیے اس لڑکے کو اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگی جس کا قد اتنا تھا کہ بغیر ہیلز پہنے نازیفہ کے برابر اتا اور کلین شیو کر کے اور زیادہ چھلا ہوا آلو لگ رہا تھا ،وہ دل ہی دل میں اس لڑکے کئ القابات سے نواز رہی تھی لیکن بولی کچھ نہیں، پتہ نہیں اسے شروع سے ہی کلین شیو والے لڑکے عجیب عورتیں لگتے تھے ،
ماشا اللہ، حمدانی صاحب نے اس عورت کے کہنے پر لڑکے کے ساتھ مصاہفہ کیا
جاو بیٹا تم دونوں کہیں جاکر بات کرلو۔،عورت نے ناز اور اس لڑکے کا بازو پکڑتے کر آگے کر دیا ،ناز نے عجیب الجھن بھری نظروں سے حمدانی صاحب کو دیکھا جو اسے آنکھوں کی پتلیوں سے چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے۔پھر کچھ کہے بنا وہ اس کے ساتھ بڑھ گئ
جی تو بتائیے، ناز جان بوجھ کر اسے گھر کے پچھلے حصے کی طرف لے آئ تھی ،جہاں پہ کوئی اس سے ایسے اس طرح بات کرتے نہ دیکھے
کیا بتائیں محترمہ، اس لڑکے نے عجیب انداز میں کہا،اسے اس لڑکے کی نظروں سے الجھن ہوئ تھی جو اس،کا سکین کرنے پر تولیں تھی،مگر وہ پھر بھی ابھی تک خاموش رہی
ہمیں آپ پسند آئ، وہ مسکرا کر بولا
ہمیں سیریلی؟؟؟ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا جسے وہ پسند اگئ تھی ،عجیب امیروں کے چونچلے، ہم ،ہمیں، ہممم،وہ سینے پر یاتھ باندھے بہت بڑے طریقے سے اس،لڑکے کو جج کر رہی تھی

کیا ہم لونگ ڈرائیو پہ چلیں، ویسے بھی فنکشن ختم ہوگیا ہے ،اس لڑکے نے ناز کو اوپر سے نیچے تک ایسا دیکھا جیسا زندہ منہ میں ڈال لے گا
کچھ مرد اگر اپنی نظریں کو قابو کرنے جان لیں تو اگر وہ خوبصورت نہ بھی ہوں پھر بھی وہ دنیا کہ پرکشش مرد لگتے ہیں، لیکن اگر وہی خوبصورت مرد اپنی نظریں نہ قابو کر سکے تو وہ دنیا بھر کا بد صورت مرد لگتا ہے ،

آپ، نازیفہ کو خاموش دیکھ کر اس لڑکے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ،لیکن اس سے پہلے ہی نازیفہ نے اس،کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا تھا ،وہ لڑکا چہرے پر ہاتھ رکھ کر حیرانی سے اسے تک رہا تھا،
اگر تم کبھی بھی کسی لڑکی کو ہاتھ لگانے کی کوشش کروگے تو تمہیں یہ تھپڑ یاد آئے گا وہ انگلی اٹھتی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی ،اور پھر واپس چلی گئ


تھوڑی دیر بعد جب وہ گھر کے اندر کچن میں کسی کام سے آئ تو وہ عورت بھی وہی موجود تھی ،جو پانی کا گلاس تھامے کھڑی تھی ،وہ یقینا آرزو بیگم کی جاننے والی تھی تبھی یوں کچن میں موجود تھی ،وہ ان پر بغیر دھیان دیے اپنا کام کرنے لگی ،وہ راحا کے لیے فروٹس کاٹ کر وہاں لے جارہی تھی ،
کیا ہے تم میں ایسا جو تم نے میرے شیر جیسے بیٹے کو تھپڑ مارد یا، عورت نے سنک پہ گلاس رکھتے ہوئے کہا
وہ مسکرادی ،لیکن کچھ بولی نہ کچن میں اس کے چلتی چھری کے اور کوئ اواز نہ تھی ۔
تم کرتی کیا ہو جو اتنا نخرہ ہے ،عورت نے عجیب سے انداز میں ہنستے کہا
میں؟؟ اس نے چھری کو اپنی کرتے کہا جیسے پوچھ رہی ہو میرے بارے میں پوچھا
ہاں تم ،عورت نے غصے میں کہا
میں لوگوں کو مارنے کی سپاری دیتی ہوں اور پھر آخر میں انہیں خود تڑپا تڑپا کر مار دیتی ہوں، ناز نے ان کی طرف دیکھ کر بظاہر مسکرا کر لیکن برف سے ٹھنڈے لہجے میں کہا،چھری ابھی بھی اندھا دھند فروٹس پر چل رہی تھی
کیا ؟؟ مزاق،کر رہی ہو ،عورت نے اپنے چہرے کو ممکن طور پر نارمل رکھتے کہا
میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گی آنٹی، اس نے مسکرا کر کہا لیکن آنکھوں میں خطرناک حد تک سرخ ہوگئ تھی، عورت کے چہرے کی ہوائیاں آر گئ تھی
شکل سے تو نہیں لگتی ،
شکل کی کیا بات کر رہی ہیں آپ آنٹی،بھیڑیا بھی تو بھیڑ کی کھال پہن کر شکار کرتا ہے ،اچانک اس کی چلتی ہوئ چھری اس کے انگلی پر چل گئ تھی ،اس نے انگلی کو دیکھتے ہوئے عورت کے سامنے کی اور دیکھتے ہی دیکھتے انگلی پر لگا خون منہ میں لے کر انگلی دبا گئ ،جس انداز سے اس نے عورت کے سامنے انگلی منہ میں لی تھی ،عورت نے بے اختیار جھڑ جھڑی لی۔
اسکے بعد پورے فنکشن میں اسے وہ عورت اور اس کا بیٹا نظر نہیں آیا تھا ،
☆☆☆☆

اندھیرے کمرے میں ایک طرف ایک بڑی سی سکرین موجود تھی جس پر بہت سے سی سی ٹی وی کیمراز اور کوڈر نظر ارہے تھے ،ایک طرف کمپیوٹر موجود تھا جس کے سامنے وہ چئیر پر بیٹھا تیزی سے کی بورڈ پر انگلیاں گھما رہا تھا اس کے ہڈی پہنے چہرے پر سکرین کر روشنی پر رہی تھی ،سامنے ایک لڑکی کا اکاؤنٹ نظر ارہا تھا ،جس کی پروفائل پکچر پر وہ مسکراتی ہوئ نظر ارہی تھی۔
کئ دن ہوگئے تم بہت خوش ہوں پریٹی گرل لیکن اب وقت ختم ہوگیا،ہے ،
صرف ایک میسیج نے اس دن تمہاری جان نکالی تھی تو اب جو تمہیں ملے گا اسے دیکھ کر تم کیا کروگی وہ امیجن کرنے میں بڑا مزاہ ارہا ہر ،اس،کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیلی گئ ،اور پھر اس نے اپنا کام کرنا شروع کر دیا

فنکشن کے بعد سب گھر والے مل کر گھر کے لان میں بیٹھے تھے ،اور آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے ،راحا کافی تھک چکی تھی اس لیے اپنے روم میں فریش ہونے چل گئ تھی ،شاور لینے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئ تھی۔لیکن اچانک اسے ایک اکاؤنٹ سے کئ زیادہ مسیجز آنے شروع ہوگئے تھے ،اس میسج کے بعد کوئ اور میسج اسے موصول نہیں ہوا تھا ،اور اس نے وہ اکاونٹ بھی بلاک کردیا تھا اور خو بھی پرائیویٹ ہو گئ تھی ،لیکن اب پھر سے اچانک بہت سے میسیجز آنے لگ گئے تھے ۔اس نے موبائل ہاتھ میں لیا اور چیک کرنے لگی ،کئ میسیجز اور ویڈیوز موجود تھی ،ہر میسیج دیکھنے کے بعد اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے کچھ دیر پہلے جن آنکھوں میں خواب تھے ان میں خوف اور ڈر نے جگہ لے لی تھی۔

ایک میسیج i am obsessed کا آیا تھا اس،کے بعد کئ ساری ویڈیو تھی ،جن میں اس کا چہرہ لگا کر فیک نازیبہ ویڈیو بنائی گئی تھی ،لیکن وہ اس قدر مہارت سے بنائ ہوتئ تھی کہ نیچرل لگ رہی تھی ،راحا کا چہرے پر ایک کے بعد ایک سائے گزرے ،اس اکاؤنٹ پر کوئی میسج بھی نہیں جارہا تھا ،اسے محسوس ہوا کہ اب وہ بھی ان چیزوں کا شکار ہو چکی ہے جن کی وہ محض باتیں سنا کرتی تھی ،راحا کے چہرے پر پسینہ چمکنے لگا اور گھبراہٹ کے مارے اس نے موبائل دیوار سے دے مارا ،سب لوگ باہر لان میں تھے تو کسی کو کوئی آواز نہ آئ ۔

کام ہو جانے کے بعد اس کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ در آئی ،جیسے اب وہ اپنے ایک بڑے کام سے آزار ہو چکا تھا ،اور سکرین کو دیکھتے ہوئے کرسی جھولنے لگا

لڑکی کے ہی کردار میں کوئ جھول ہوگا ،جو اس کے ساتھ ایسا ہوا
آج کل کی لڑکیاں پہلے سوشل میڈیا کا اکاؤنٹ ہی کیوں بناتی ہیں،
یہ لڑکوں کو خود ہی پہلے اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں،

ان جیسیون کے ساتھ ایسا پی ہونا چاہیے ۔

،اسے اپنے کانوں میں لوگوں کی آوازیں گونجتی محسوس ہو رہی تھی،اس کا سانس پھول چکا تھا ،اسے لوگ اس کے ابا پر طنز کرتے نظر ارہے تھے ،وہ کانپتی ٹانگوں سے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کی طرف گئ اور اس میں سے نیند کی گوکیان نکال کے پانی کے بغیر ہلق سے گزار لیں ،اس نے اپنی ٹانگوں کر سینے سے لگا کر ان میں چہرہ دے لیا تھا چند پلوں میں وہ دنیا سے بیگانہ ہو کر سو چکی تھی
نازیفہ روم میں آئی تو اسے ایسے لیتا دیکھ کر آرام سے کھینچ کر بیڈ کے اپر لیٹا دیا ،اس پر کمبل اورتی وہ خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گئ تھی۔
کل اس کی بہن کی شادی تھی ،وہ ہمیشہ کے لیے کسی اور کی ہوجائے گی ،یہ سوچ سوچ کر ہی اس کی آنکھوں میں پانی آنے لگ گیا تھا
☆☆☆☆☆
صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے آتی ہوئی پورے کمرے میں روشنی بکھیر رہی تھی ,ناز نے آنکھیں چندھیا کر پورے کمرے کو دیکھا اور پھر راحا جگانے لگی ،
روحی روحی، اس نے راحا کو ہلاتے ہوئے کہا،لیکن اس،ہرکوئ اثر نہ ہوا
روحی، ناز نے کچھ غلط محسوس ہونے پر اس کا کندھا جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا ،گھبراہٹ کے مارے ناز کے چہرے ہر بوکھلاہٹ واضح تھی
ناز کے اس طرح جھنجھوڑنے سے راحا نے تھوری سی آنکھیں کھول تھی ،ناز نے اس کی کھلتی آنکھیں دیکھ کر سکوں کا سانس لیا
ایسے کیوں سو رہی تھی ،جان نکالنے دی میری ،ناز نے محبت سے کہا
آپی رات مجھے نیند نہیں ارہی تھی تو میں نے نیند کی گولیاں کھا لی ،راحا نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا
کیا ،،،ناز نے حیرانی سی کہا
تم پاگل ہو روحی کیوں کھائی تم نے ،اس نے غصے سے پوچھا لیکن راحا کا دماغ ابھی کام نہیں کر رہا تھا
وہ میں، میں نے ،وہ ابھی کچھ کہتی کہ روحی پانی کا جگ لے کر نیچے چلی گئ تھی
نازیفہ نے کچن سے آئس کیوب نکال کر پانی کے جگ میں ڈالی اور پھر واپسی اوپر روم کی طرف بڑھ گئ ،اسے اتنی فکر نہ ہوتی اگر یہ رات کا فنکشن ہوتا لیکن مسلہ یہ تھا کہ نکاح دوپہر کو ہی ہو جانا تھا ،جب وہ اوپر گئ تو راحا پھر سے سوری تھی ،وہ روحی کو بمشکل اٹھاتی واشروم میں لے گئ تھی اس کے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے ،جس سے راحا کو کچھ حوش آیا تھا ،
آپی، روحی نے پوری آنکھیں کھول کر نازیفہ کو دیکھا جو اس کے پیرون پر پانی ڈال رہی تھی
جی آپی کی جان ،اس کے پیار سے کہنے پر راحا کی آنکھوں میں پانی بھر آیا رات ایک دفعہ پھر آنکھوں میں گھوم گی ،اسے روتا دیکھ کر ناز چونکی
مجھے لگا کہ وہ ایک بڑا خواب تھا لیکن کیا وہ حقیقت ہے ؟؟ راھا بڑبڑائی(وہ خواب اور حقیقت میں فرق نہیں کر پا رہی تھی)۔
کیا ہوا روحی کہیں درد ہو رہا ہے کیا ،اس نے پریشان ہوکر پوچھا
آپی مجھے ڈر لگ رہا ہے ،میں ،میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں میں سب سے بہت پیار کرتی ہوں، وہ روتے ہوئے نازیفہ سے لپٹ گئ
ارے کیا ہوگیا میری روحی کو تم تو بہت بہادر ہو ،چلو اٹھو شاباش تمہیں تیار بھی تو ہونا ہے ،ناز نے پیار سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے کہا
چلو تم نہالو، میں نیچے جاکر کچھ کام دیکھ لو ،پھر میک اپ آرٹسٹ اکے تمہیں تیار کردے گی ،ناز یہ کہتے واشروم سے نکل چکی تھی اسے بظاہر یہ لگا کہ راحا گھر کو چھوڑنے سے دکھی ہے

نازیفہ نے آرزو بیگم کے ساتھ گھر کے سارے کاموں میں ہاتھ بٹایا تھا ،مہمان آنا شروع ہوچکے تھے ،بیوٹیشن بھی اچکی تھی اور راحا کو تیار کر رہی تھی ،لمبے بالوں کا جوڑا کیے وہ پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھی ،اس کے بعد وہ خود تیار ہونے چلی گئ ،پیروں تک آتی سفید رنگ کی میکسی پہنے ،کھلے بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے ،وہ باقار سی چلتی ہوئ راحا کے روم میں گئ ،
جہاں وہ مکمل طور پر دلہن کا روپ دھارے تھی، لال رنگ کے لہنگے میں ہلکے سے میک اپ کے ساتھ ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں اور جیولری پہنے وہ ایک اپسرا کے جیسی لگ رہی تھی ،اسے دیکھتے ہی ناز کے منہ سے بے ساختہ ماشا للہ نکلا تھا ۔
ارے آپ کون ہوں ہو میری روحی کدھر ہے ،اسکی آج شادی ہے ،ناز نے جان بوجھ کر ادھر اُدھر دیکھنے کی اداکاری کی ،جس پر روحی ہلکا سا مسکرادی
آپی میں ہی ہوں، وہ معصومیت سے بولی ،آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمک رہی تھی۔اچھا آتنی پیاری روحی کہاں سے اگئ ،آج تو زہران کی خیر نہیں، ناز نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کہا

چلوں روحی پہلے ہی بہت دیر ہوگئی پے مولوی صاحب بھی آتے ہونگے اور سب مہمان بھی پوچھ رہے تھے کہ دلہن کدھر ہے ،ناز نے اس کا لہنگا پکڑ نے کی کوشش کی لیکن راحا نے روک دیا
آپی میں تھوڑی دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں، کچھ دیر میں اجاوگی ،راحا نے ناز کو دیکھتے کہا
اچھا ٹھیک ہے ،تمہیں جتنا ٹائم چاہے لے لو ،اپنا خیال رکھنا میں تھوڑا دیر میں اوگی بابا کو بھی ساتھ لے کر ،ناز نے اس کے سر کو لبوں سے چھوتے کہا
نہیں بابا کو رہنے دیجیے گا ،میں نیچے جا کر مل لوں گی ان سے ،کچھ تو عجیب تھا روھی کے لہجے میں جو اسے کھٹکا
اچھا ٹھیک ہے ،میں چلتی ہون اب ،ناز روم کا دروازہ بند کرتی چلی گی تھی
روحی نے ناز کے جانے کے بعد اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا ،ا ،لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے ،اگر انہوں نے وہ ویڈیوز دیکھ لی ،اسکو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی تھی ،بابا کی عزت خاک میں مل جائے گی ،میں سب کی ناکامی کا باعث بنوگی۔
میں کیا کروں، وہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے سوال کرنے لگی،اس کے ہاتھ پیر کانپ رہےتھے ،سب لوگ مجھے بلیم کریگے ،یاخدا میں کیا کرو ،میں نے تو کسئ کا برا نہیں سوچا تھا یہ کیا ہوگیا ،وہ اپنے ناخنوں کو چبا رہی تھی ،اس کی نظر اپنے ٹوٹے ہوئے موبائل پر پڑی، روحی نے موبائل کو ہاتھ میں لیا اور اسے دیکھنے لگی لیکن اب وہ اس قابل نہیں رہا تھا کہ چل سکتا لیکن ویڈیو تو اس کے پاس بھی ہوگی نہ ،کیا میں زیران کو بتادو ،نہیں، نہیں، وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا ،اس کا دماغ مکمل طور پر الوزن کا شکار ہو چکا تھا ،وہ سب کچھ امیجن کر کے خود اذیت دے رہی تھی ۔
اچانک وہ کھڑی ہوئی موبائل ہاتھ میں لیے ،گھر کی اوپری منزل کی طرف بھاگی ،اس کا دماغ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا ،
لوگ کیا کہیں گے ،اب وہ زیر لب یہ الفاظ دہرا رہی تھی
میں بدکردار نہیں ہوں، آنسو آنکھوں سے ہوتے ہوئے گالوں پر لڑھکتے جارہا تھے
چھت پر پہنچ کر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی ،آج شاید آسمان بھی اس سے باتیں کرنے پر راضی نہ تھا ۔
نازیفہ اس کے روم میں آئی تو راحا روم میں نہیں تھی ،نکاح شروع ہونے والا تھا ،اس نے واشروم میں چیک کیا لیکن وہ وہاں پہ بھی نہیں تھی ،گھر کے اوپر والے فلور پر صرف روحی کا کمرہ تھا اور اسکے ساتھ ہی اوپر کی طرف لمبی سیڑھیوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہوتا تھا اسے لگا کہ شاید وہ ٹھنڈی سانس لینے چھت پر نہ چلی گئ ہوں، کبھی ذہن کہتا کہ اوپر وہ کیا لینے جائے گی ،لیکن پھر بھی وہ چھت کی طرف چلی گئ،اوپر چھت ہر پہنچ کر اس،کے قدموں کے نیچے سے زمین چلی گئ تھی ،راحا آسمان کہ طرف دیکھتی قدم قدم اٹھاتی چھت کے کنارے تک پہنچ رہی تھی ،
راحا، بے اختیار نازیفہ کی چیخ بلند ہوئی تھی ،راحا نے گردن مور کر نازیفہ کی طرف دیکھا ،چہرے ہر اذیت ہی اذیت نظر ارہی تھی
بچے کیا کر رہی ہو ،واپس او ،ناز نے آگے بڑھتے کہا
آپی آگے مت آنا، روحی نے انتہائی مدھم اواز میں کہا ہاتھ میں پکڑا موبائل ہر گرفت کمزور ہونے پر وہ گر گیا
روھی،روحی کا ایک اور قدم آگے بڑھانے پر ناز نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ بلند کی ،چیخوں کی آوازیں اتے ہی سب نے چھت کی طرف نظر درائی جہاں پر لال جوڑا پہنے راحا صرف چھت سے گرنے کہ ایک قدم پہ تھی ۔
زہران نے سب کی نظروں کے تعاقب میں چھت کی طرف دیکھا یہ دیکھتے وہ ایک لمحے کی دیر کیے بنا اوپر کی طرف بھاگا ،تھا لیکن ابھی وہ چھت پہ پہنچا ہی تھا کہ کے گرنے کی آواز بلند ہوئ، اور پھر ناز بھگتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف ائ
ایک لمحے میں سب کچھ بکھر کر تباہ ہوگیا تھا ،زہران اس کو آتا دیکھا تو ،خود بھی نیچے کی طرف بڑھا تھا وہ دروازے سے باہر نکل چکا تھا جبکہ ناز ابھی بھی سیڑھیوں کے درمیان میں تھی ،جلدی اترنے کی چکروں ،کچھ ہیل اور کچھ لمبی میکسی میں پھنس کر وہ گھٹنوں کے بل سیڑھیوں سے نیچے گڑی، لیکن اگلے ہی پل وہ ہیلز اتارتی باہر کی طرف ننگے قدموں سے بھاگی تھی ،جہاں سفید شلوار قمیض کے اوپر گولڈن رنگ کی واسکٹ پینے دلہا بنا زہران برف ہوچکا تھا ،نازیفہ نے اہنے قدم اگے بڑھائے تو اس کے بابا روتے ہوئے اگے بڑھ رہے تھے ،آرزو بیگم زمین پر چپ چاپ بیٹھی ہوئ تھی ،آگے پہنچ کر اس کی نظر ایک ایسے چہرے سے ٹکرائے جسے اس نے کبھی ایسا دیکھنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ،روحی چھت سے منہ کے بل زمین پر گری تھی ،خون سر کے پچھلے حصے سے بہتا ایک نہر کی طرح بہ رہا تھا جو کہ کے لال جوڑے میں جذب ہوتا جارہا تھا ،راحا کو ایسے دیکھتے ہی اس کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہ آیا، ایسے جیسے وہ کسی برے خواب میں ہوں، جس سے جب وہ جاگے گی تو حقیقت بہت مختلف ہوگی ،اسی لمحے اسے اپنے بابا کی رونے کی آوازیں آئ جو روحی کو سر آپی گود میں رکھے رو رہے تھے ،۔

بابا بابا ،وہ بوکھلا کر آگے بڑھی
میری میری بات سنے روحی کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے وہ بلکل ٹھیک ہے ،وہ اپنے بابا کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر انہیں سمجھانے لگی ،لیکن وہ ناں میں سر ہلا کر اسے کچھ بول رہے تھے ،لیک اسے کوی آواز سنائ نہیں دے رہی تھی ،اس نےاپنے اس پاس دیکھا تو سب مہمان انہیں ہی دیکھ رہے تھی ،
کچھ دیر پہلے جن مہمانوں کو ایک نئی نویلی سجی سنوری دلہن کا چہرہ دیکھنا تھا وہ اب ایک زندہ مردہ لاش کو تک رہے تھے ،بے اختیار اسے ڈھیر سارا رونا آیا لیکن وہ رو نہیں سکتی تھی اسے اپنی بہن کو ہاسپٹل لے کر جانا تھا
وہ ننگے پیر زہران کی طرف بھاگی جو بت بنے کھڑا تھا ،
زیران ،زہران۔ وہ اس کا منہ تھپتھپاتی اسے ہوش میں لارہی تھی
سنو ،ہم روحی کو ہوسپیٹل لے کر جائے گے ،وہ بلکل ٹھیک ہوجائے گی ،وہ تمہاری ہی دلہن بنے گی ،اسے کچھ نہیں ہوگا ،وہ زیران سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی
چلو راحا کو اٹھاؤں، وہ اسے دیکھتے بول جو خشک خالی نظروں سے اب اسے تک رہا تھا ،ناز نے اس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا،زہران ہوش میں آو ،ہمیں روحی کو ہوسپیٹل لے کر جانل ہے،وہ اس کا گریبان پکرتے ہوئے چلائی تھی
زہران آگے بڑھا اور راحا کو اپنے بازوں میں اٹھا لیا لیکن وہ محسوس کر چکا تھا جو ناز نہیں کر رہی تھی ،کسرتی بازوؤں والے زہران علوی کے بازو جواب دے گئے تھے ،وہ آدھے راہ ہی راحا کو گود میں لیے وہی بیٹھ گیا تھا ،اس کے کپڑے خون سے لت پت ہوچکے تھے
ہلیل جو گھر کو باہر موجود تھا اندر آتے ہی یہ منظر دیکھ کر اس کی روح کانپ گئ تھی ،چند لمحوں کا کھیل تھا کہ ہنستا بستا گھر میت میں بدل گیا ،ناز کی نظر ہلیل پر پری تو اس کا ہاتھ پکر کے روحی کے قریب لائ
،اسے اٹھاون ہلیل ،ہمیں ہاسپٹل جانا ہے ،اب وہ ہیلیل کئ منت کر رہی تھی ،ہلیل نے پہلے خالی آنکھوں والے زیران کو دیکھا ،جس کی آنکھوں سے کچھ لمحے پہلے مسکراہٹ جدا نہ ہو پارہی تھی پھر اس کی گود میں رکھے بےجان وجود کو،وہ قدم قدم چلتی ان کئ قریب آیا، اور پھر زہران کی گود میں رکھے وجود کی نبض پکر کر چیک کی ،ہلیل نے کرب سے آنکھیں بند کر کے کھولیں،
ناز میری بات سنو ،ہلیل نے اسے سمجھانے کہ کوشش کی

نہیں تم میری بات سنو ،وہ ٹھیک ہے اسے صرف چوٹ ائ ہے ،اور کچھ نہیں ،وہ بوکھلائے ہوئے اپنی بات منوا رہی تھی

ناز ہوش میں آو و مر چکی ہے راحا ، ہلیل نے اسے کندھوں سے پکر کر جھنجھوڑا اس کے چند الفاظ ہی کافی تھے ،اسے عرش سے فرش پر لانے کے لیے اج نازیفہ ھمدانی کا غصہ، پیشہ اور عقلمندی سب خاک ہوگئے تھے ۔۔۔

لان کو خالی کرکے درمیان میں روحی کی میت رکھ دی گئ تھی ،سفید کفن میں لپٹا وہ چہرہ سب کے لیے اذیت تھا ،ساری عورتیں وہاں پہ بیٹھی ہوئ تھی ،آرزو حمدانی کی آنکھیں اپنی بیٹی کی میت کو دیکھ کر خشک ہو چکی تھی انہوں نے کبھی اپنی اکلوتی اولاد کے ایسے چھوڑ جانے کا تصور بھی نہیں کیا تھا ،س کے بابا مردوں کی طرف اپنی کفن میں لپٹی جان سے پیاری بیٹی کی طرف دیکھتے آنسو صاف کر رہے تھے۔
زہران اور ہلیل نظر نہیں ارہے تھے، نازیفہ ایک طرف دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی ،آج بھی وہ اکیلی تھی ،آج بھی کوئ اپنا اسے چھوڑ گیا ،آنکھیں پتھر بن گئ تھی لیکن ایک آنسو نہیں ٹپکا تھا عورتیں اسے رونے کا بول بول کر تھک گئ تھی ،وہ بس چپ چاپ بیٹھی تھی ،
کچھ وقت بعد عورتیں جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ،اور جنازہ اٹھانے کی کوئ بات ہورہی تھی ،وہ یہ سب ہوتا صاف دیکھ سکتی تھی ،لیکن جیسے ہی اس کے بابا اور زہران نے جنازے کو اٹھایا، وہ ایک دم بھاگی ہوئ ان کی طرف گئ تھی ،بابا بابا ،میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آج کے بعد آپ کو کبھی تنگ نہیں کروگی ،آپ روحی کو مجھ سے الگ مت کریں ،وہ کسی چھوٹے سے بچے کری طرح کہ رہی تھی ،اس کی بات سن کر ھمدانی صاحب کی آنکھوں میں آنسو کی بار آئ تھی ،
زہران تم میرے دوست ہونا اسے مت لے کر جاو وہ بہن ہے یار ،وہ زہران نے سامنے ہاتھ جوڑے بولی،زہران نے اپنے ہونٹ بھیچ لیے تھے
آپ لوگ میری بات کیوں نہیں سنتے ،وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی ،میری بہن کو مت دور کرو مجھ سے ،اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد وہ اس کے سامنے سے جنازہ لے کر نکل چکے تھے، آنکھوں میں رو رو کر جلن شروع ہوگئ تھی۔
،”وہ اس قدر روئ کہ آنسو تھم ہوگئے ،آنکھیں تھک گئ ،لیکن درد داستان بن گیا”
جنازہ دفنانے کے بعد زہران زہران نہیں رہا ،مٹی راحا کے وجود ہر ڈالی جارہی تھی اور اس وقت زہران ایک لامتناہی کرب میں مبتلا ہوتا جارہا تھا ،
زہران علوی کی زندگی کا یہ پہلا خسارہ تھا جسے وہ چاہ کر بھی کبھی نہ بھلا پائے گا ،وہ ایک مٹی کے ڈھیر کے نیچے اپنی خوبصورت یادیں دفن کر رہا تھا ۔
Some stories never End.
They just Transition Into beautiful memories that we carry forever .

☆☆☆☆☆☆


چند لمحے پہلے اسے ایک نئی پروفائل ملی تھیں، وہ کرسی سے ٹیک لگائے اندھیرے کمرے میں موجود کمپیوٹر پر چسپ تصویر کو تک رہا تھا ۔

عام سی پروفائل….
عام سی لڑکی…..
لیکن اس،کے لیے وہ عام نہ تھی ،شاید وہ زندگی برباد کرنے سے پہلے کسی کو خاص یا عام نہیں سمجھتا تھا (خاصی دریادلی تھی)
اس نے چند فائلیں کھولیں اور نظر ایک تصویر پر جم گئی،ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ گئی
Not bad.
اس کے ہاتھ تیزی سے کی بورڈ پر چل رہیں تھے ،اور آنکھیں آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی یا پھر شاید خباثت۔ پیغام بیجھ دیا گیا تھا ،اس نے سکون سے سر کرسی کی پشت سے ٹکالیا ۔
کون تھا وہ؟؟؟
اور کوئی اس قدر سفاک کیسے ہوسکتا ہے اور کیوں؟؟؟

☆☆☆☆☆☆☆
جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *