سکوت قسط نمبر:۱۳
ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔
شازین نے اُسے جاتے دیکھا، تو تلملا اُٹھا۔
“سالے بے وفا، مجھے اُٹھا لے۔” شازین اُس کی پشت دیکھ، اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے دھاڑا تھا۔
“دھوکہ باز۔۔۔”
شازین نے گہرا سانس لیتے ہوئے اُسے پکارا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“بے حیاء۔۔۔”
اب وہ مسکراتے ہوئے اُٹھا ہی تھا کہ کسی احساس کے تحت وہ پیچھے مڑا۔ ایک تیز رفتار گاڑی کو اپنے بالکل قریب آتا دیکھ وہ گنگ ہو گیا۔ ایک پل میں دماغ مفلوج ہوا تھا۔
“مرزا حاکم۔۔۔!”
وہ پوری شدت سے دھاڑا تھا، لیکن اگلے ہی پل گاڑی اُس سے ٹکراتی اُسے ہوا میں اچھال گئی۔
شازین اچھل کر سڑک کے بائیں جانب منہ کے بل جا گرا۔ سر سے سرخ مائع کی تیز دھار نکلتی ہوئی سڑک پر پھیلتی چلی گئی۔
گاڑی سٹریٹ پول سے جا کر ٹکراتی سامنے سے بری طرح کریش ہو گئی تھی۔ اُس سے نکلتا دھواں ہر طرف پھیلتا جا رہا تھا۔
ایک پل لگا تھا۔۔۔ اور فضا ساکت ہو گئی۔
اپنے عقب سے آتی تیز آواز پر مرزا کا سانس رک گیا۔ اُس نے دھیرے سے چہرہ موڑا اور نظریں ایک طرف کھڑی ڈیمیج کار پر گئیں۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے ایک قدم مڑا، اور پھر اُس کی نظر ایک طرف اوندھے منہ گرے شازین پر گئی۔
“شازین۔۔۔!”
وہ اُسے شدت سے پکارتے ہوئے اُس تک گیا۔
اُس کی پوری شرٹ خون میں رنگ گئی تھی۔ مرزا نے کانپتے ہاتھوں سے اُسے سیدھا کیا۔ اُس کے خوبصورت چہرے پر خون ہی خون تھا۔
“شازین، آنکھیں مت بند کرنا میرے یار۔” مرزا نے سرسراتی آواز میں اُسے آنکھیں بند کرنے سے باز رکھا۔
ایکسیڈنٹ کی آواز پر لوگ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے تھے۔
مرزا نے مسلسل اُس کے سر سے بہتا خون دیکھا، تو فوراً اپنی جیکٹ اُتاری اور اُس کے زخم پر رکھتے ہوئے خون کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
ہر طرف شور پیدا ہو رہا تھا۔ آوازیں گڈ مڈ ہوتی جا رہی تھیں۔
ریسکیو ٹیم کے کچھ افراد اُس کی طرف آئے۔
“یار، آنکھیں بند نہ کرنا۔۔۔ خدا کے لیے نہ کرنا۔”
ریسکیو ٹیم شازین کو سٹریچر پر منتقل کرنے لگی تھی، جبکہ وہ روتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑے ایک ہی التجا کر رہا تھا۔
“آنکھیں بند مت کرنا، شازین۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سٹریچر پر لیٹے وجود کو ایمرجنسی وارڈ میں داخل کر دیا گیا۔
ماہ جبین اور فیض بھی ہاسپٹل آ گئے تھے۔ فیض بے دلی سے، جبکہ ماہ جبین پریشانی کے ساتھ ایک طرف رکھے بینچ پر بیٹھ گئی۔
اندر شازین کی سرجری ہو رہی تھی۔ جو شخص گاڑی چلا رہا تھا، وہ نشے میں تھا۔ اُس نے گاڑی کے اندر ہی دم توڑ دیا تھا۔ پولیس آفیسر والے معاملات فیض نے دیکھے تھے۔ مرزا نے ایک نظر ماں باپ کو دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے مُڑ گیا۔ وارڈ کے باہر وہ بے چینی سے بیٹھا فرش گھور رہا تھا۔ آنکھوں سے ٹم ٹم آنسو بہتے جا رہے تھے۔
کتنی ہی دیر بعد مرزا نے ایک ہاتھ سے آنسو پونچھے اور اُٹھ کر دائیں بائیں چکر کاٹنے لگا۔ اُس کے اندر عجیب سی بے چینی پھیلتی جا رہی تھی۔
“(تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے، شازین؟”
“میری سب سے بڑی خواہش تمہارے ساتھ دنیا گھومنا ہے۔ ہر جگہ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہر ملک، ہر شہر، ہر وادی۔
وہ آنکھیں بند کرتا مسکرا کر بولا تھا۔”)
شازین کی بات یاد آتے ہی اُس کا دل پسیج کر رہ گیا۔ وہ بے اختیار نماز کا وضو کرنے چلا گیا۔
جائے نماز پر بیٹھا، دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے، وہ سسک رہا تھا۔
“اللّٰہ، ایسا نہ کرنا۔۔۔ پلیز، ایسا نہ کرنا۔ میرے اندر سے مسلسل ایک آواز آ رہی ہے کہ کچھ غلط ہو جائے گا۔ میرے اندر کو غلط ثابت کر دے۔ پلیز، اللّٰہ پاک، شازین کو مجھ سے مت دور کرنا۔”
اب وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے رب سے التجائیں کر رہا تھا۔
“اللّٰہ پاک، وہ میرا واحد دوست ہے۔ اُس نے جینا تھا۔ اُس کی خواہشیں، اُس کے خواب ابھی ادھورے ہیں۔ پلیز، اُس سے زندگی مت چھینیے گا۔”
“میں نے ہمیشہ آپ کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہیں اور ہمیشہ خالی ہاتھ لوٹا ہوں، لیکن مایوس نہیں ہوا۔ اِس بار بھی ایک امید لے کر آیا ہوں۔ آپ میری امید کی لاج رکھ لیں۔۔۔ میرے دوست کو زندگی دے دیں۔”
“اللّٰہ پاک، شازین کو زندگی دے دیں۔۔۔”
وہ رو رو کر بس ایک ہی جملہ دہرائے جا رہا تھا۔ اُس کے لہجے میں منت تھی، التجا تھی، شدت تھی۔
“اللّٰہ پاک، پلیز شا۔۔۔”
ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ اُسے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ مرزا نے سسکتے ہوئے چہرہ موڑا، تو ماہ جبین اُس کے سامنے کھڑی رو رہی تھی۔
“شازین اب نہیں رہا۔”
ماہ جبین نے روتے ہوئے بس ایک جملہ دہرایا اور مرزا حاکم تھم گیا۔۔۔ ساکت ہو گیا۔ اُسے محسوس ہوا، دل کو آرے سے چیر دیا ہو کسی نے۔ اُس نے حیرت زدہ، گنگ چہرہ اپنے ہاتھوں کی طرف موڑا۔
دعا کے لیے پھیلے ہاتھ کانپ کر رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوست میں آپ کی ساری دنیا کیسے بس جاتی ہے؟
اُس کی قبر پر مٹی اُتاری جا رہی تھی۔ وہ چپ چاپ، ساکت نظروں سے کفن میں لپٹے وجود کو دیکھتا رہا۔
یہ دوست آپ کی خوشیوں کا، سکون کا، مسکراہٹوں کا ذریعہ کیسے بن جاتا ہے؟
شازین کا بے جان وجود مٹی میں مکمل دب گیا۔ وہ دھیرے سے گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھتا چلا گیا۔
دوست کے ساتھ گزرتی شاموں کا، راتوں کا اور دنوں کا اندازہ کیوں نہیں ہوتا؟ اُن کے ساتھ کے بعد ہر چیز بے معنی کیسے ہو جاتی ہے؟
وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے قبر کی گیلی مٹی پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
ٹھیک ہے۔۔۔ دوست آپ کا سب کچھ بن جاتا ہے، مگر پھر۔۔۔ پھر وہ چھوڑ کیوں جاتا ہے؟
مرزا اپنا سر قبر پر رکھ گیا۔ بیک وقت کئی آنسو آنکھوں سے نکلتے ہوئے قبر پر گرتے گئے۔
دوست کے چھوڑ جانے پر دل دھڑکنا کیوں بھول جاتا ہے؟ سانسیں کہاں کھو جاتی ہیں؟ زندگی بے رحم کیوں بن جاتی ہے؟
اب وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا سسک رہا تھا۔
اُس کے آس پاس قہقہے گونج رہے تھے، آوازیں تھیں، اور یہ آوازیں اُس کے دل پر خنجر کی طرح کھبتی جا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز بارش کی آواز اور بادلوں کی گرج ماحول کو ہیبت ناک بنا رہی تھی۔ کھلی کھڑکی سے آتی ہوا سنسناہٹ پیدا کر رہی تھی، مگر وہ چپ چاپ بیٹھا تھا۔
گھپ اندھیرے میں، اپنے بیڈ کے ساتھ کمر ٹکائے، سر کی پشت پیچھے دیوار سے لگائے، وہ خاموش بیٹھا تھا۔
اُس کا بچپن، جوانی، یادوں کا ریلہ اور ہر گزرا پل اُس کے آس پاس گردش کر رہا تھا۔
نجانے کتنی دیر وہ یوں ہی بیٹھا رہا، جب اُس نے دھیرے سے آنکھیں کھولتے ہوئے چھت پر نظریں جمائیں۔
“میں کھولوں، بند کر آنکھیں،
سب سپنا کیوں نہیں لگتا؟
نبیؐ کا، علیؓ کا، سبھی کا خدا،
تو مجھے اپنا کیوں نہیں لگتا؟”
وہ دوبارہ سے آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“(اللّٰہ کے سب سے قریب بندے کون ہوتے ہیں؟”
“جو اللّٰہ کے آگے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہیں۔”
“مطلب؟”
“مطلب یہ کہ وہ اللّٰہ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ اگر دل اور اللّٰہ میں کسی ایک شے کو چننا ہو، تو وہ اللّٰہ کو چنتے ہیں۔ وہ اُسے حاکم سمجھتے ہوئے پکے غلام بنتے ہیں اور ہر حکم مانتے ہیں۔)”
سورج کی تیز روشنی کھلی کھڑکی سے آتی پورے کمرے کو روشن کر رہی تھی۔ کیمل کلر کی پینٹ کے ساتھ بلیک ٹی شرٹ پر وہ ویسٹ پہنے دائیں ہاتھ میں گھڑی پہن رہا تھا۔ اب وہ شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال سیٹ کر رہا تھا۔ ہلکی بھوری آنکھوں میں ایک الوہی سی چمک تھی، جو سورج کی روشنی سے میل کھاتی مزید روشن ہوتی جا رہی تھی۔
“(دل اور اللّٰہ درمیان میں کیسے آئے، نانا جان؟” اُس نے پریشانی سے پوچھا، تو وہ ہنس دیے۔
“دیکھو حاکم، میری بات یاد رکھنا۔” اُنہوں نے اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ “تمہاری زندگی میں ایسے حالات بھی آئیں گے، جب تمہارا دل تمہیں اُس بات کا حکم دے گا جو اللّٰہ کو ناراض کرے گی۔ تم نے اُس صورت میں دل کی بات نہیں ماننی، ورنہ اللّٰہ کو کھو دو گے۔)”
شیشے میں اپنا عکس دیکھ، وہ مسکرایا۔ کلین شیو کے ساتھ ترک نقوش کا مالک وہ بے انتہا خوبصورت تھا۔ وہ خود پر آخری نظر ڈالتے مُڑا اور اپنا کوٹ اُٹھا کر پہن لیا۔
اب وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اُترتا جا رہا تھا۔ ہر اسٹیپ پر ماضی اُس کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا تھا۔
“(تم نے دل کی بات کو ترک کرتے ہوئے اللّٰہ کو تھام لینا ہے۔ اُس شے سے پناہ مانگنی ہے۔ سمجھے ہو میری بات کو؟”
“جی، سمجھ گیا ہوں۔ میں نے ہر حال میں اللّٰہ کی بات ماننی ہے، دل کی باتوں پر کان نہیں دھرنے۔)”
مرزا حاکم نے بنا دروازہ ناک کیے اُسے کھولا اور اندر داخل ہوا۔
فیض، جو کہ اسٹڈی میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا، تیار شدہ مرزا حاکم کو اپنے سامنے دیکھ کر چونک گیا۔
اُس نے معبود کو چھوڑ کر قلب کا انتخاب کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“السلام علیکم!”
مرزا سلام کرتے ہوئے آگے بڑھا اور کرسی کھینچتے ہوئے اُس پر براجمان ہوتے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا لی۔
فیض ہونق بنے بیٹے کو دیکھتا رہا۔
“آپ اِسی دنیا میں ہی موجود ہیں نا؟” مرزا نے فیض کے سامنے ہاتھ لہرایا، تو فیض چونک گیا۔ اُس نے آج سے پہلے کبھی اِس طرح بے فکر ہو کر بات نہیں کی تھی۔
“کیا سوچا ہے تم نے؟”
“سوچا تو بہت کچھ ہے۔” مرزا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“میرا مطلب ہے، مجھے اپنا فیصلہ بتاؤ۔” فیض نے ناگواری سے کہا۔
“اتنی جلدی کس بات کی ہے، ڈیڈ؟” اُس نے بابا کی جگہ “ڈیڈ” پکارتے ہوئے فیض کو پھر چونکایا تھا۔
“اتنا عرصہ کافی نہیں تھا تمہارے لیے؟”
“پہلے مجھے یہ بتائیں، میری کمپنی کی کنسٹرکشن کب سے شروع ہو گی؟”
“تو تم اپنا بزنس سٹارٹ کرنا چاہتے ہو؟” فیض نے دانت پیستے ہوئے پوچھا۔
“جی، بالکل۔ مرزا اپنے بزنس کا آغاز کرنے لگا ہے۔”
“افسوس ہوتا ہے تمہاری چھوٹی سوچ پر۔” فیض نے تلملاتے ہوئے کہا اور دوبارہ سے لیپ ٹاپ پر جھک گیا۔
“کاش میں بھی یہ کہنے کا حق رکھتا۔” مرزا نے آگ لگاتی مسکراہٹ سے کہا، تو فیض کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔
“شازین کی قبر میں تم اپنی تمیز بھی دفن کر آئے تھے ایک ماہ پہلے؟” اُنہوں نے طیش سے پوچھا۔
مرزا ایک دو پل خاموشی سے اُنہیں دیکھتا رہا، پھر آگے کو جھکا۔
“نہیں، آپ کے سٹیٹس سے میچ ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔” اُس نے آنکھ دباتے ہوئے کہا۔
“بی ہیو یور سیلف!” وہ دھاڑے تھے۔ مرزا نے پہلی بار یہ لہجہ اپنایا تھا، اور پہلی ہی بار فیض اُس کی تاب نہ لا سکا تھا۔
“ارے، آپ چلانے کیوں لگ جاتے ہیں؟ ماہ جبین تھوڑی ہوں میں، جو آپ کی بات کو نظر انداز کر دوں گا۔”
اُس نے جلتے فیض پر پیٹرول چھڑکا تھا۔ اُنہوں نے کراہ کر آنکھیں میچیں، پھر گہرا سانس بھرتے ہوئے خود کو قابو کیا۔
“آج کیا کھایا تھا تم نے، جو اتنی بدتمیزی پر اُتر آئے ہو؟”
“کھایا تو کچھ نہیں تھا میں نے۔۔۔ آہ، خیر۔۔۔ آپ اسمگلنگ میں کام کرنے والے اپنے سارے کارندوں کی لسٹ مجھے سینڈ کر دیں۔ کام کرنے کا طریقہ، ملک، خفیہ جگہیں۔۔۔ سب چیزوں کی ڈیٹیلز مجھے سینڈ کر دیں۔”
وہ ٹیبل سے ایک پین اور کاغذ اُٹھاتے ہوئے بولتا گیا۔
فیض تو گویا ساکت ہو گیا تھا۔ اُس نے حیرت سے مرزا کو دیکھا، جو اب کسی کاغذ پر کچھ الفاظ گھسیٹ رہا تھا۔
“یہ میرا نمبر ہے۔ اب کوئی بھی کام ہو، مجھ سے اِسی نمبر پر کانٹیکٹ کیجیے گا۔ باقی ڈیٹیلز میں فون پر بتاؤں گا۔ ابھی میں نے سائٹ دیکھنے جانا ہے۔”
وہ کاغذ اُن کی طرف بڑھاتے ہوئے اُٹھا اور بنا اُنہیں دیکھے پلٹ گیا۔
فیض نے حیرت سے کاغذ اُٹھایا اور اُس پر لکھے نمبرز دیکھے، جن کے ساتھ ایک نام درج تھا۔
“Cipher”
“سائفر۔۔۔” اُنہوں نے زیرِ لب کاغذ پر لکھا نام دہرایا تھا۔
( “سب سے پہلی اور اہم شرط یہ ہو گی کہ میری شناخت مرزا حاکم ہی رہے گی۔ آپ میرے بزنس میں میری مدد کریں گے اور بدلے میں سائفر آپ کی مدد کرے گا۔”)
بلند و بالا اور پروقار عمارت اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ ایستادہ تھی۔ فلیش لائٹس کی تیز روشنی اور کیمروں کے کلکس میں گھرا مرزا حاکم مسکرا رہا تھا۔
(“مجھے ایک وفادار پارٹنر کی ضرورت ہو گی، اِس لیے آپ اُس کا بندوبست کریں۔”)
پیلی بلب کی مدھم روشنی میں وہ تنقیدی نظر سے سامنے کھڑے ادھیڑ عمر کے مرد کا جائزہ لے رہا تھا۔
“کیا نام ہے تمہارا؟”
“دلاور۔”
“یہاں کیا کرنے آئے ہو؟” اُس نے ایک ابرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔
“سائفر کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے اُس کے ساتھ وفاداری نبھانے آیا ہوں۔”
مرزا اُس کے جواب پر طنزیہ مسکرایا تھا۔
“اور تمہیں لگتا ہے، میں یقین کر لوں گا؟”
“آپ کے پاس کوئی اور دوسرا آپشن ہے کیا؟” دلاور نامی شخص نے اُسی کے انداز میں پوچھا، تو مرزا کی مسکراہٹ سمٹی۔
وہ گہری سانس بھرتے ہوئے اُٹھا اور قدم بہ قدم چلتا اُس کے قریب آیا۔
“وفاداری دکھاؤ گے، تو وفادار پاؤ گے۔”
وہ ایک قدم مزید چل کر اُس کے کان کے قریب جھکا۔
“غداری دکھاؤ گے، تو بربادی پاؤ گے۔”
سائفر نے اُس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا اور بنا رکے آگے بڑھ گیا۔
(“تبریز حاکم کو کبھی بھی اِن سب کاموں کی بھنک نہیں لگنی چاہیے۔ وہ اِن تمام معاملات سے دور رہے گا۔ جرمنی میں جو آپ کی کمپنی ہے، اُس میں ڈرگز کے کاروبار کو روکنا ہو گا اور کمپنی تبریز کے نام کرنی ہو گی، جبکہ میں ایک ہِڈن بروکر کی طرح تمام معاملات سنبھالوں گا۔”)
موٹر وے پولیس کے اشارے پر سیدھ میں چلتے تینوں ٹرک بیک وقت رکے تھے۔
“ہاں بھئی، ٹرک میں کیا چیز لوڈ ہے؟” ایک پولیس آفیسر نے کرخت لہجے میں ڈرائیور سے پوچھا۔
“سر، بچوں کے کھلونے ہیں۔ وہی سپلائی کرنے ہیں۔”
“امجد، ٹرک کی تلاشی لو۔”
اُس نے جیسے ہی حکم دیا، اگلے ہی پل اہلکار تلاشی شروع کر چکے تھے۔
ڈرائیور نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا۔
“سر، اندر واقعی کھلونوں کے کارٹنز ہیں۔” امجد سینئر آفیسر کے پاس آتے ہوئے بولا۔
“کہاں سپلائی کرو گے یہ کارٹن؟”
“پورٹ آف کراچی، صاحب۔” ڈرائیور نے دھیرے سے بولا۔
آفیسر نے اُسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا، تو وہ ٹرک آگے بڑھا گیا۔
“دلاور، میں پورٹ آف کراچی بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا ہوں۔” ڈرائیور نے فوراً دلاور کو فون کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا۔
ٹرک کے پچھلے حصے میں رنگ برنگے کھلونوں کے ڈبے چھت تک بھرے تھے۔ باہر سے یہ بچوں کے عام کھلونے لگتے تھے، مگر ہر گڑیا کے پیٹ میں پلاسٹک کی باریک تہ کے نیچے سفید پاؤڈر کی چھوٹی پُڑیاں چھپی تھیں۔
ڈرگز کی پُڑیوں سے بھرا ٹرک کراچی بندرگاہ سے روانہ ہو کر پہلے ہیمبرگ پہنچنے والا تھا، جہاں سے اُسے زمینی راستے سے فرینکفرٹ منتقل کیا جانا تھا۔
دلاور نے فون کان سے ہٹایا اور سائفر کی طرف دیکھا۔
“تمہارا کھلونوں والا آئیڈیا کام کر گیا، سائفر۔” اُس نے سراہتی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا۔
سائفر نے بنا جواب دیے سر پیچھے صوفے کی پشت سے لگا دیا۔
(“مجھے کسی بھی مزید سنگین جرم کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ میری بات ابھی ہی ذہن میں بٹھا لیں۔”
“سائفر اپنے دشمن کو موت نہیں دے گا، بس جینے کی وجہ چھین لے گا۔”)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج کی تیز روشنی اُس خوبصورت اور بنگلہ نما گھر کو مزید روشن کر رہی تھی۔ لاؤنج میں مکمل خاموشی چھائی تھی، جبکہ ڈائننگ ایریا سے آتی آواز خاموشی میں خلل پیدا کر رہی تھی۔
“آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے تمہارا؟”
سربراہی کرسی پر بیٹھے مرزا نے دائیں جانب بیٹھے تبریز سے پوچھا، تو وہ کندھے اچکا کر رہ گیا۔
“ابھی تو سٹڈی کمپلیٹ کی ہے، بھائی۔ ابھی کوئی برڈن مت ڈالیے گا مجھ پر، پلیز۔”
“کوئی برڈن نہیں ہے۔ ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس، انجوائے کر لو، پھر چپ چاپ بابا کی کمپنی کو جوائن کرو۔ گاٹ اٹ؟”
انتیس سالہ مرزا حاکم نے سنجیدگی سے کہا، تو تبریز اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔
“ٹھیک ہے بھئی، جیسا آپ کہیں، حاکم سلطان۔ میں ویسے بھی اِس سوموار کو دوستوں کے ساتھ لاہور جا رہا ہوں۔”
“لاہور؟ کیوں؟”
“بھئی، لاہور کی خوبصورتی دیکھنے۔”
اُس کی بات کا مطلب سمجھتے مرزا مدھم سا مسکرایا تھا۔
“مجھے بھی لاہور جانا ہے۔ ایک میٹنگ ہے میری۔ ایسا کرتے ہیں، ساتھ میں چلتے ہیں۔ تم وہاں دوستوں کی کمپنی انجوائے کرنا، میں میٹنگ اٹینڈ کر لوں گا۔ گاٹ اٹ؟”
تبریز اُس کی بات پر جھنجھلا گیا، مگر وہ اثبات میں سر ہلانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ مرزا حاکم کے “گاٹ اٹ” کے آگے اُس کی زبان کو بریک لگ جاتی تھی۔
مرزا نے کافی کا کپ لبوں سے لگاتے، کب سے خاموش بیٹھی ماہ جبین کو دیکھا۔ نو سال پہلے کی طرح آج بھی ماں کو دیکھتے اُس کے گلے میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔
ایک کمزور لمحے میں لیا گیا غلط فیصلہ۔۔۔
سالوں کی ریاضتوں کو رائیگاں کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔
“مام، آپ ہمیں مس تو نہیں کریں گی نا؟”
مرزا نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا، تو ماہ جبین نے نظریں اُٹھا کر اپنے بھوری آنکھوں والے بے انتہا خوبصورت بیٹے کو دیکھا۔
“اولاد کے بنا کون سکھی رہتا ہے، مرزا حاکم؟” ماہ جبین نے مدھم مسکراہٹ سے کہا، تو مرزا کو حلق میں کچھ پھنستا محسوس ہوا تھا۔
وہ پچھلے نو سالوں سے اُسے “مرزا حاکم” کہہ کر پکارتی تھی، جبکہ وہ اُن کے منہ سے “بیٹا” سننے کے لیے ترس گیا تھا۔
اُس نے گہرا سانس بھرا اور نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
نو سال پہلے اُس نے ایک مکھوٹا پہنا تھا۔۔۔ “سائفر” کے نام کا مکھوٹا۔ وہ، جس کے پیچھے اب نجانے کتنی ہی انویسٹیگیشن کمپنیاں کارروائیاں کر رہی تھیں۔ وہ، جسے پکڑنے کے لیے انٹیلیجنس آفیسرز دن رات ایک کرتے محنت کر رہے تھے۔ وہ، جس کی زندگی کی اب کوئی ضمانت نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولا۔ سارا کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ صرف گلاس ونڈو سے آتی پورے چاند کی روشنی ہی کمرے میں روشنی کا مدھم احساس پیدا کر رہی تھی۔
وہ وہیں بیٹھی تھی۔۔۔ پورے چاند کی روشنی کے سائے میں، جائے نماز بچھائے، گھٹنوں پر سر ٹکائے، آنکھیں بند کیے نجانے کیا بڑبڑا رہی تھی۔
مرزا جوتا اُتارتے، کارپیٹ پر قدم بہ قدم چلتا اُن تک آیا اور بیڈ کی پائنتی کے ساتھ نیچے بیٹھ گیا۔ اُس کی پشت پائنتی کے کنارے سے لگی تھی۔
وہ دیوانہ وار ماں کو دیکھتا رہا۔
کتنے پل گزرے۔۔۔ کتنی ساعتیں بیتیں، کچھ حساب نہ تھا۔
“اتنا پکا ایمان کیسے حاصل کیا ہے آپ نے، ماما؟”
بہت دیر بعد مرزا حاکم کی آواز کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کر گئی۔
ماہ جبین کچھ نہ بولی۔
“کیا وہ آپ سے محبت کرتا ہے؟” مرزا کے لہجے میں ایک آنچ تھی۔
اب بھی خاموشی چھائی رہی۔
“آپ اُس کے سامنے اتنے سالوں سے رو رہی ہیں۔ کیا اُسے آپ پر ترس آتا ہے؟ نہیں نا؟ پھر آپ کیوں اُس کے آگے جھکتی ہیں؟ آپ مانگتے مانگتے اُس کے سامنے خود کو فقیر بناتے بناتے تھکتی نہیں ہیں؟”
آخر میں مرزا کی آواز کانپی تھی۔
ماہ جبین نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں اور چند پل نیم اندھیرے میں نظر آتے مرزا کو دیکھتی رہی۔ پھر جب بولی، تو آواز بوجھل تھی۔
“کیونکہ مجھے اللّٰہ سے امیدوں کے ساتھ محبت بھی ہے۔”
ماہ جبین کے جواب پر مرزا ساکت ہوا تھا۔
“(کیونکہ مجھے اللّٰہ سے امیدیں بہت ہیں۔)”
اُس کے سامنے گیارہ سالہ مرزا حاکم کا بولا گیا جملہ گھوم کر رہ گیا تھا۔
“مجھے اللّٰہ سے امید ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے گا۔۔۔ اور محبت ہے کہ اگر میری بات پر وہ راضی نہیں، تو میں اُس کی بات پر راضی ہوں۔” ماہ جبین کی آواز پھنسی پھنسی سی تھی۔
“میرا رب اپنے حکم کے آگے ماہ جبین کا جھکا سر پائے گا۔”
مرزا نے تھوک نگلتے ہوئے سر پائنتی سے ٹکا دیا۔ اُس کی ماں اُسے عرش سے فرش پر پھینکتے دیر نہیں کرتی تھی۔
“آپ کا بیٹا بہت کچھ گنوا چکا ہے، ماما۔ آپ کبھی اِس دکھ کو نہیں سمجھ پائیں گی۔” اُس نے دھیرے سے کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔
“آج ایک قتل ہوا ہے۔۔۔ اور مجھے یہ دکھ اندر سے کھائے جا رہا ہے کہ کسی بیٹے سے اُس کا باپ چھین لیا گیا۔”
انتیس سالہ مرزا حاکم کے لہجے میں دکھ نمایاں تھا۔
“وہ رب اتنا بے حس کیوں ہے؟ وہ قاتل کے ہاتھ روک سکتا تھا، مگر اُس نے نہیں روکے۔”
“معبود کی مصلحتوں کو عبد کبھی نہیں جان سکتا۔۔۔ مر۔۔۔ مرزا حاکم۔”
ماہ جبین کی آواز لڑکھڑائی تھی۔ مرزا کو لگا شاید وہ رو رہی ہیں۔
“آپ کیا ایک بار مجھے بیٹا بلا سکتی ہیں؟” اُس نے گویا منت کی تھی۔
ماہ جبین خاموش رہی۔
“میں مانتا ہوں، میں نے غلط کیا۔ آپ کا نیک بیٹا نہیں بن سکا، پر پلیز۔۔۔ صرف ایک بار مجھے اپنا حصار دے دیں۔”
وہ کرب سے بولا۔ اُس نے اب تک کی زندگی میں پہلی بار ماں کو حصار کے لیے پکارا تھا۔
ماہ جبین اب بھی خاموش رہی۔ زمین پر گرنے کی مدھم آواز پیدا ہوئی تھی۔ شاید وہ سجدے میں تھی۔
“مجھے آپ سے اور بابا سے بہت گلے ہیں۔۔۔ بہت شکوے ہیں، جنہیں میں شاید کبھی زبان پر نہ لا سکوں۔۔۔ مگر مجھے آپ دونوں سے بے انتہا محبت ہے۔ آپ دونوں نے مجھ سے محبت کی ہے۔ آپ کی محبت الگ تھی اور بابا کی الگ۔۔۔ جبکہ میں آپ دونوں سے ایک ہی قسم کی محبت چاہتا تھا۔۔۔ جو کہ میرے نصیب میں نہیں تھی۔ لیکن۔۔۔ پلیز ماما، ایک بار مجھے گلے سے لگا لیں۔ یقین مانیے، مجھے کسی اپنے کی بہت ضرورت ہے۔”
ماہ جبین کو مکمل خاموش پا کر مرزا کرب سے مسکرایا۔
“میں نے قلب کے کہے پر عبد (بابا) کا انتخاب کیا تھا۔۔۔ اور آپ نے معبود کا۔۔۔ وہ جو آپ کا رب ہے۔ میری قسمت ہی یہی تھی۔”
وہ یہ کہتے ہوئے اُٹھا اور بنا ماہ جبین پر نظر ڈالے، گہرا سانس بھرا اور اپنے قدم دروازے کی جانب موڑ دیے۔ ابھی وہ ایک قدم ہی چلا ہو گا کہ اُسے اپنے پاؤں کی انگلیوں پر نرم انگلیوں کا ٹھنڈا لمس محسوس ہوا۔
وہ چونک کر مڑا۔
چاند کی روشنی میں ماہ جبین کروٹ لیے جائے نماز پر بے سدھ پڑی تھی۔
وہ کشمکش کی حالت میں اُن تک گیا۔ شاید وہ سو گئی تھی۔
وہ اُن کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔
“ماما۔۔۔ ماما، آپ بیڈ پر سو جائیں پلیز۔” اُس نے اُنہیں پکارا۔
“ماما، آپ ب۔۔۔”
اُس نے اُنہیں ہلایا، تو دل کو دھڑکا سا لگا۔ ماہ جبین کا وجود برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ مرزا کا وجود زلزلوں کی زد میں آ گیا۔
“ماما۔۔۔!”
اُس نے خوف سے گھٹی گھٹی آواز میں اُنہیں پکارا اور اُن کی نبض چیک کی۔
“ماما۔۔۔!”
وہ چیختے ہوئے اُن سے دور ہوا۔
پورا وجود پسینے میں بھیگ گیا تھا۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا جیسے روح کو جسم سے کھینچ لیا ہو۔
ماہ جبین سو چکی تھی۔۔۔ ایک ابدی نیند۔
حال
مرزا نے ضبط سے آنکھیں میچ لی ۔ اس سے آگے وہ کچھ یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ بے اختیار گہرا سانس بھرتے پیچھے مڑا اور میز پر رکھی اس فوٹو فریم کو دیکھ کرب سے مسکرایا پھر سرد آہ بھری اور اپنی کرسی پر بر اجمان ہوا ،اسے اب واپس حال میں آنا تھا۔
وہ لیپ ٹاپ کھول اب اس پر کچھ ٹائپ کرنے لگا تھا۔
فریم میں مسکراتی ماہ جبین ہنوز مسکراتی رہی ۔
دوسری طرف دلاور فون ہاتھ میں لیے کئی پل سکرین پر چمکتا نام “سائفر” دیکھتا رہا ۔ اس کی آنکھو کے آگے ایک منظر گھوم کر رہ گیا۔
ماہ جبین کی تدفین ہو چکی تھی ۔ اور وہ کب سے قبر کے ساتھ بیٹھا گم سم ہوا قبر کے قطبہ پر سجا “ماہ جبین حاکم” کا نام دیکھے جا رہا تھا ۔
اس کے بالکل پیچھے دلاور کرب سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تمہیں پتہ ہے دلاور میری ماں بہت عظیم عورت تھی”۔
کچھ وقت بعد وہ بولا تو آواز کرب ذدہ تھی ۔ دلاور کا رواں رواں سماعت بن گیا ۔
“میرے باپ کے لیے چاہے وہ جیسی بھی عورت تھی مگر میرے لیے وہ بہت خاص تھی ۔ اسے وفا نبھانے آتی تھی ۔ میرا باپ مافیا تھا ۔ ڈان تھا ۔ قاتل تھا ۔ مگر پھر بھی اس نے میرے باپ کے ساتھ نبھا کی ہے ۔ اسے چھوڑ کر نہیں گئی ۔ وہ ساری ساری رات روتی رہتی اور اپنے رب سے یہی التجاء کرتی کہ وہ فیض کو سیدھے راستے پر لے آئے ۔”
“کوئی عورت شوہر سے اتنی محبت کیسے کر سکتی ہے ؟”
مرزا نے دکھ سے سوال پوچھا اور ایک دو پلوں کے لیے خاموش ہو گیا ۔
“میں ان کی زندگی میں کھبی نہیں کہ سکا مگر آج کہتا ہوں۔میری نظر میں میری ماں کا اعلیٰ مقام ہے ۔ اور اسی ماں کی بدولت ،ہر عورت میرے نزدیک بہت انمول ہے۔”
“عورتیں وفا کرنے پر آئیں تو گناہ ثواب نہیں دیکھتی ۔ وہ بس محبوب دیکھتی ہیں۔”
آخر میں انتیس سالہ مرزا حاکم کی آواز کانپ گئی تو دلاور ہمت کرتے اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ تھپتھپانے لگا ۔
قبرستان کی فضا میں ایک الگ ہی خوشبو پھیلی تھی جو ہر قبر کو مہکا رہی تھی ۔
دلاور سر جھٹکتے فون جیب میں رکھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کے بالکل سامنے کھڑی یک ٹک اُنہیں دیکھے جا رہی تھی۔
“پلویشا۔۔۔”
بیڈ پر لیٹے ہی اُنہوں نے محبت سے اُس کا نام پکارا، تو صاحبہ کی محویت ٹوٹ گئی۔ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے لے گئی۔
دائم کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔
“میرا نام ص۔۔۔ صاحبہ شاہ ہے۔”
اُس نے بمشکل اپنے الفاظ ادا کیے۔ اُس کے لیے وہاں ٹھہرنا محال ہو رہا تھا۔ اُن کے ایکسیڈنٹ کا سن کر وہ اندر سے بھربھری دیوار کی مانند ڈھے رہی تھی، مگر وہ اُن کے سامنے ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی۔
اُس کے دل نے شدت سے چاہا کہ وہ باپ سے لپٹ جائے، مگر وہ بمشکل گہرا سانس بھرتے مڑ گئی۔
“آج مت جاؤ۔” دائم بے اختیار رو دیے۔
اُس کے قدم تھم گئے۔ ہینڈل پر رکھا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔
“خدارا، آج مت جاؤ۔ میں منت کرتا ہوں۔۔۔ ہاتھ جوڑتا ہوں۔ آج چھوڑ کر مت جاؤ۔ میں اب اور تمہاری جدائی برداشت نہیں کر پاؤں گا، میری جان۔”
صاحبہ کا جسم ہولے ہولے لرزنے لگا۔ اُن کے رونے کی آواز پر اُس کی ہمت اب جواب دینے لگی تھی۔
“اگر آج تم گئی، تو شاید میری سانسیں اپنے ساتھ لے کر جاؤ۔۔۔”
اِس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتے، وہ فوراً سے مڑی۔
اُس کی آنکھیں خشک تھیں۔ دائم اب خاموشی سے سر جھکائے رو رہے تھے۔
وہ آہستہ آہستہ قدم لیتی اُن تک گئی اور اُن کے ساتھ جگہ بناتی بیٹھ گئی۔ پھر نرمی کے ساتھ اُن کے گرد حصار باندھ گئی۔
دائم شدت سے اُس کے گرد بائیں ہاتھ سے حصار بنائے رونے لگے۔ وہ بار بار روتے ہوئے اُس کی پیشانی پر بوسہ دیتے تھے، جبکہ وہ خاموشی سے آنکھیں بند کیے اُن سے لگی رہی۔
دھیرے دھیرے وقت پیچھے کی جانب سفر کرنے لگا اور اُس مقام پر جا رکا ،جہاں سے شروعات ہوئی تھی۔
ماضی
اُسے اسلام آباد آئے ایک ماہ ہو گیا تھا۔ لاہور نے اُس کے سارے غم سمیٹ لیے تھے اور بدلے میں اُسے گہرا سکوت تھما دیا تھا۔
یہ ایک ہفتہ وہ ہوٹل کے روم میں رہی تھی۔ آفس میں بہت نرم مزاجی کے ساتھ ورک کرتی تھی۔ اُسے نئے شہر میں سروائیو کرنا تھا، اِس لیے اُس نے اپنی کولیگ ماریہ آفندی کے ساتھ بہتر تعلق بنا لیا تھا۔ ماریہ کے ساتھ اُس کا اچھا خاصا وقت گزر جاتا تھا۔ اکثر اوقات اُسے ماریہ کی مدد درکار ہوتی تھی۔
ہوٹل کے روم میں وہ صرف ایک ہفتہ ہی رہی تھی، بعد میں اُس نے ایک رینٹڈ اپارٹمنٹ ڈھونڈ لیا تھا اور وہیں مستقل شفٹ ہو گئی تھی۔
ماریہ نے شفٹنگ میں بھی اُس کی خوب مدد کی تھی۔
آفس کی امیج اُس نے بہترین طریقے سے سنبھالی ہوئی تھی۔ سر رحمان اکثر اُس کے کام کو سراہتے رہتے تھے۔
اُس دن وہ اپنے کیبن میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی، جب ماریہ اُس کے ساتھ رکھی کرسی پر آ بیٹھی۔
“السلام علیکم۔” ماریہ نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
“وعلیکم السلام۔ خیریت؟ آپ پریشان نظر آ رہی ہیں؟”
“ڈونٹ وری۔ سب ٹھیک ہے۔ تم بتاؤ، کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نا؟”
“ماریہ، آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہو۔ اگر کوئی پرابلم ہے، تو مجھے بتائیں۔”
ماریہ ایک دو پل اُسے دیکھتی رہی، پھر جب بولی تو آواز تھکن زدہ تھی۔
“میری کزن ہے، نحل۔ اُس کے بابا کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔ ماما بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔ ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہے۔ اب وہ اکیلی نہیں رہنا چاہتی۔ میں نے اُسے کہا کہ میرے گھر آ جاؤ، مگر وہ کہتی ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں، یوں مناسب نہیں لگتا۔”
صاحبہ سنجیدگی سے اُسے سنتی گئی۔
“میں چاہتی ہوں وہ یہیں میرے شہر میں رہے، کیونکہ چچا والوں پر مجھے بھروسہ نہیں۔ وہ اُس کی شادی اپنے بگڑے ہوئے بیٹے سے کر دیں گے۔ اب اکیلے وہ رہ نہیں سکتی، اُسے ڈر لگتا ہے۔ اور میرے گھر وہ آنا نہیں چاہتی۔ مجھے بتاؤ، میں اِس صورتحال میں کیا کروں؟”
ماریہ نے پوری بات بتاتے ہوئے صاحبہ کو دیکھا، جس کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ ابھری تھی۔
“آپ کی کزن کتنے سال کی ہے؟”
“بائیس سال کی ہے۔”
“پڑھتی ہے کیا؟”
“نہیں، اُس نے بی اے کر لیا ہے۔ اب جاب کرنے کا سوچ رہی ہے۔”
“سمپل۔۔۔ آپ اُسے میرے گھر بھیج دیں۔”
ماریہ، جو کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، صاحبہ کی بات پر چونک کر سیدھی ہوئی۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ کہ آپ اُسے میرے گھر بھیج دیں۔ ہم ساتھ میں رہ لیں گے۔ مجھے کوئی ایشو نہیں ہو گا، ماریہ۔”
“صاحبہ، تم پاگل ہو گئی ہو؟ ایسا نہیں ہوتا، چندا۔”
“ماریہ، پلیز۔ اِس ایک سال میں آپ نے میری بہت مدد کی ہے۔ مجھے بھی ایک موقع دیں۔ میں جانتی ہوں آپ کا دل ایک انجانی لڑکی کے گھر اپنی بہن جیسی کزن کو بھیجنے کے لیے راضی نہیں ہو گا، مگر پلیز۔۔۔ آپ مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہیں۔”
“صاحبہ، بات ٹرسٹ کی نہیں ہے، بات۔۔۔”
“بات جو بھی ہے، میں اُسے اپنے ساتھ رکھ سکتی ہوں۔ ویسے بھی اکیلے رہنا بہت مشکل ہے۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں۔”
“لیکن تم خود رینٹڈ ہاؤس میں رہتی ہو۔۔۔”
“جی، بالکل۔ ایسا کر لیں گے، جب نحل کو جاب مل جائے گی تب ایک ماہ وہ کرایہ ادا کرے گی، ایک ماہ میں۔ ابھی میں پے کر دیا کروں گی۔۔۔ سمپل۔”
ماریہ ایک دو پل اُسے دیکھتی رہی، پھر مدھم سا مسکرا دی۔
“اوکے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحل بہت اخلاق پسند لڑکی تھی۔ وہ صاحبہ کو بہت پسند کرنے لگی تھی۔ شروع شروع میں تو صاحبہ صرف اُس سے ہیلو ہائے تک ہی بات کرتی تھی، لیکن آہستہ آہستہ اُن کے مابین تعلق خوبصورت ہوتا چلا گیا۔
اُس رات نحل گھٹی گھٹی سسکیوں اور چیخوں کی آواز پر اُٹھی تھی۔
اُس نے حیرت سے آنکھیں کھولیں اور اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آ گئی۔
آواز کے تعاقب میں گئی، تو آوازیں صاحبہ کے کمرے سے آ رہی تھیں۔
نحل پریشانی سے دروازہ بجانے لگی۔
دروازے کی آواز پر اندر سے اب رونے کی آواز بلند ہو گئی تھی۔
نحل پریشانی سے اپنے کمرے میں گئی اور ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے کمرے کی چابیاں لے کر آئی۔
وہ باری باری ساری چابیاں لگا رہی تھی۔ صاحبہ کے رونے میں شدت آ گئی تھی۔ جیسے ہی کمرہ اَن لاک ہوا، نحل نے فوراً دروازہ کھولتے قدم اندر کی جانب بڑھائے اور سوئچ بورڈ کے تمام بٹنز دباتے لائٹس آن کر دی تھیں۔
وہ بیڈ پر ایک طرف سمٹی، کانوں پر ہاتھ رکھے، بلند آواز میں روتی ایک ہی جملہ دُہرا رہی تھی۔
“میرے قریب مت آنا۔۔۔ ڈاکٹر طاہر، پلیز بچائیں مجھے۔۔۔ آپ کیوں چلے گئے؟”
نحل بھاگ کر اُس کے قریب گئی اور بنا کچھ بولے اُس کے گرد مضبوطی سے حصار باندھ گئی۔
صاحبہ جنونی انداز میں اُس سے لپٹ کر رونے لگی۔
کافی دیر تک صاحبہ ہچکیوں سے روتی رہی، یہاں تک کہ ہمیشہ کی طرح اُسے روتے روتے نیند آ گئی تھی۔
نحل نے آہستہ سے اُسے بیڈ پر لٹایا اور اُس کے سرہانے بیٹھ کر اُس کا سر دبانے لگی۔
وہ نیند میں بھی بڑی شدت سے مدھم آواز میں ڈاکٹر طاہر کا نام لیتی رہی۔
جب نحل نے محسوس کیا کہ صاحبہ مکمل طور پر نیند کی وادیوں میں کھو گئی ہے، تو اُٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی۔ اُس رات صاحبہ سو گئی تھی، مگر نحل ساری رات نہیں سو سکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحبہ صبح صبح ہی اپنے آفس کے لیے روانہ ہو جاتی تھی۔ نحل نے اُس رات کے بابت کوئی بات نہیں کی تھی۔ صاحبہ کو بھی کچھ یاد نہیں رہا تھا۔
وہ رات کو لیٹ گھر واپس آتی تھی۔
اُنہی دنوں نحل کو بھی ایک نیوز سینٹر میں جاب مل گئی تھی، اور وہیں اُس کی ملاقات اپنے کولیگ ریان سے ہوئی۔ وہ بہت ہی اچھا لڑکا تھا۔ شروع شروع میں تو وہ بہت اکھڑ رہتا تھا، مگر آہستہ آہستہ وہ نحل کو پسند کرنے لگا تھا۔ نحل بھی اندر سے اُسے بہت پسند کرتی تھی، مگر زبان پر لانے سے ڈرتی تھی۔ ایک روز جب ریان نے خود اپنی پسند کا اظہار کیا، تو نحل نے بھی کر دیا۔ اِن دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔
لیکن ایک روز، جب نحل دیر رات تک بھی گھر واپس نہ آئی، تو صاحبہ پریشان ہو گئی۔
اُس نے نحل کو فون کیا۔ بیل جاتی رہی، مگر وہ کال نہیں اُٹھا رہی تھی۔ اُس نے پھر اُسے کال کی اور اِسی طرح چھٹی بار دوبارہ کال کرنے پر، جب اُس نے کال اُٹھائی، تو اُس کی آواز سنتے ہی صاحبہ کو دھڑکا سا لگا تھا۔
وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی نجانے کیا بول رہی تھی۔
“نحل، مجھے بتاؤ تم کہاں ہو؟” صاحبہ نے پریشانی سے پوچھا تھا۔
وہ آنسو بہاتی روتی گئی اور ٹوٹے لفظوں میں کسی کلب کا نام بتایا۔
صاحبہ فوراً اپنا اوور کوٹ پہنتی، گاڑی نکالتے کلب کی طرف روانہ ہو گئی تھی۔
کلب میں بہت سی لڑکیاں اور لڑکے ڈانس کرتے مدہوش ہو رہے تھے۔ کچھ ڈرنکس کر رہے تھے۔ وہ کوفت زدہ سی ہوتی نحل کو ڈھونڈنے لگی۔
چینجنگ ائیریا کی طرف آتے، وہ مختلف دروازے کھولتی اُسے ڈھونڈ رہی تھی، جب ایک دروازے کے سامنے وہ رکی۔ اندر سے سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
صاحبہ نے تڑپ کر دروازہ کھولا، تو نحل ایک طرف سمٹی بہت زیادہ رو رہی تھی۔
صاحبہ فوراً سے اُس کی طرف بڑھی۔
“نحل، کیوں رو رہی ہو میری جان؟ مجھے بتاؤ۔”
“صا۔۔۔ اح۔۔۔ صاحبہ۔۔۔”
نحل روتے ہوئے شدت سے اُس سے لپٹ گئی۔ صاحبہ کے ہاتھ ڈھلکے ہوئے تھے، اُس نے بھی مضبوطی کے ساتھ اُس کے گرد حصار باندھا۔
“مجھے بتاؤ، کچھ ہوا ہے کیا؟”
“ری۔۔۔ ریان نے۔۔۔ ریان نے مج۔۔۔”
صاحبہ کو لگا جیسے اُس کے وجود پر چیونٹیاں رینگ رہی ہوں۔ اُس نے شدت سے دعا کی کہ کچھ غلط نہ ہو۔
“ریان نے کیا کیا ہے؟ مجھے بتاؤ۔” اُس نے خود پر قابو پاتے پوچھا۔
“ریان نے مجھ پر چیٹ کیا ہے۔”
صاحبہ کا تنا ہوا وجود یک دم ڈھیلا پڑ گیا۔ وہ اُس کے ساتھ ہی نیچے بیٹھ گئی۔ ایک بھاری بوجھ تھا، جو دل سے ہٹ گیا تھا۔
“ریان کہاں ہے؟” اُس نے نرمی سے پوچھا، تو نحل نے اپنے آنسو صاف کیے۔
“وہ نینا کے ساتھ ہے۔۔۔ اِسی کلب میں۔” آنسو ایک بار پھر چہرہ بھگو گئے تھے۔
صاحبہ نے نحل کے آنسو صاف کیے اور اُسے لیے گھر پہنچی۔
اُس نے نحل کو سلیپنگ پلز کھلا کر اُس کے کمرے میں سلا دیا تھا۔ اُس رات نحل سو گئی تھی، مگر صاحبہ ساری رات نہیں سو سکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی معمول پر آ گئی تھی۔ صاحبہ نے اُس رات کے بابت کچھ استفسار نہیں کیا تھا، تو نحل نے بھی کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اُس شام وہ دونوں لان میں بیٹھی کافی پی رہی تھیں۔
دونوں ہی سنجیدگی اوڑھے، ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھیں۔
کچھ پل اِسی طرح گزرے، تو صاحبہ نے نحل کی جانب دیکھا۔ وہ بالکل گم سم سی ہوئی کافی کے کپ کو دیکھ رہی تھی، جب صاحبہ کے سوال پر وہ چونکی۔
“ریان کون ہے؟” صاحبہ نے دھیرے سے پوچھا، تو نحل نے نظریں اُٹھا کر اُسے دیکھا۔
“ڈاکٹر طاہر کون ہے؟”
اُس کے سوال پر صاحبہ تھم گئی۔ اُسے ایک پل لگا تھا ساری صورتحال سمجھنے میں۔
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتی رہیں۔ یکایک دونوں کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھی اپنے سامنے ٹشو باکس رکھے ایک دوسرے کو سن رہی تھیں۔
“ریان میرا کولیگ تھا۔۔۔ مجھے پسند کرت۔۔۔”
نحل بار بار ٹشو سے آنکھیں پونچھتی اپنی کہانی سنا رہی تھی اور صاحبہ اُسے ٹشو تھماتے ہوئے سن رہی تھی۔
“ڈاکٹر طاہر رشتے میں میرے تایا جان تھے۔۔۔”
صاحبہ بنا آنسو بہائے، متورم آنکھیں لیے بیٹھی نحل کو بتاتی چلی گئی۔
نحل جتنا اپنی کہانی بتاتے روئی تھی، اُس سے کہیں زیادہ صاحبہ کی کہانی سن کر روتی رہی۔
صاحبہ کبھی ہنستے ہوئے اُسے چپ کرواتی، تو کبھی پریشانی سے سر جھٹک کر رہ جاتی تھی۔
اُس دن کے بعد اُن میں گہرا اور انمول تعلق بن گیا تھا۔ وہ تعلق جسے عام زبان میں دوستی کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحبہ نے اپنے گھر سے بیس منٹ کے فاصلے پر ایک فلاور شاپ اوپن کی تھی۔ جب وہ ڈاکٹر طاہر کے ساتھ فرینکفرٹ رہتی تھی، تب ڈاکٹر طاہر نے اُسے بتایا تھا کہ اُنہیں فلاورز بہت پسند ہیں۔ وہ کہتے تھے، ہر پھول کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔
وہ ویک اینڈ پر اور سنڈے کے دن فلاور شاپ پر آیا کرتی تھی۔ یہ شاپ اُس کی ضرورت نہیں، خواہش تھی۔
اُس رات وہ شاپنگ مال میں کھڑی مختلف شو پیسز کو دیکھ رہی تھی، جب اپنے پاس سے آتی جانی پہچانی آواز پر وہ ساکت ہو گئی۔ شو پیس کو ٹچ کرتا ہاتھ تھم گیا۔
وہ شاک کی کیفیت میں مڑی، تو اُس کے بالکل سامنے وہ کھڑے تھے۔
سیلز بوائے سے کچھ کہتے، وہ جیسے ہی دو قدم مزید آگے آئے، اپنے سامنے کھڑی صاحبہ کو دیکھ اُنہیں دھچکا لگا۔
دونوں ہی اپنی جگہ پر ساکت ہو گئے تھے۔
“پ۔۔۔ پلویشا؟”
دائم حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتے آگے بڑھے اور اُس کے بالکل سامنے آ کر ٹھہر گئے۔ اُنہوں نے اپنا ہاتھ اُس کے گال پر مس کرتے محسوس کرنا چاہا کہ سامنے کھڑا وجود حقیقت تھا یا سراب۔
اُن کا ہاتھ اپنے رخسار پر محسوس کرتے اُس کے وجود میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔ دل تڑپ کر رہ گیا تھا، مگر وہ دل پر جبر کرتی ایک قدم پیچھے لے گئی اور اُن کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔
دائم کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ وہ بے اختیار اُس کے پاس گئے، مگر وہ کچھ بھی کہے بنا ایگزٹ ڈور کی جانب بڑھ گئی۔
“پلویشا!” اُنہوں نے اُسے پیچھے سے پکارا اور فوراً اُس کے پیچھے گئے۔
“پلویشا، میری بات تو سنو۔۔۔ پلیز رک جاؤ۔”
وہ اُس کے پیچھے سڑک پر آ گئے تھے۔ اتنے سالوں بعد بیٹی کو دیکھا تھا، تڑپنا فرض تھا۔
وہ نہیں رکی۔ چپ چاپ آٹو رکشہ میں بیٹھ کر وہ اُن سے بہت دور جانے لگی۔
دائم کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور رخسار پر پھسلتا چلا گیا، مگر وہ فوراً اپنی گاڑی کی سمت بھاگے اور گاڑی میں سوار ہوتے آٹو رکشہ کے تعاقب میں نکل پڑے۔
وہ اپنی فلاور شاپ میں آ گئی تھی۔ دائم بھی اُس کی شاپ سے کچھ دور گاڑی پارک کر کے نجانے کتنی دیر تک دور سے ہی اُسے اندر بیٹھا دیکھتے رہے تھے۔
اُن کے پاس اتنی ہمت نہیں تھی کہ اُس کے پاس جا کر اُسے گلے سے لگا سکیں، لیکن اُنہوں نے ہمت جمع کی تھی اور اگلے دن پھر اُس کے پاس جا پہنچے تھے۔
اتوار کی صبح وہ اپنی فلاور شاپ پر آئی، تو اُنہیں پہلے سے ہی دروازے پر کھڑا دیکھ دھک سے رہ گئی۔
کیا کچھ یاد آیا تھا، یہ کوئی اُس سے پوچھتا۔ وہ اُنہیں نظر انداز کرتی دروازہ کھول کر اندر آ گئی۔
دائم کئی پل، کئی لمحے اُسے دیوانوں کی طرح کھڑا دیکھتے رہے، لیکن وہ تو یوں بے نیاز تھی جیسے دائم کو جانتی تک نہیں تھی۔
جب وہ وہاں سے نہیں گئے، تو صاحبہ تھک ہار کر وہاں سے باہر آئی اور گھر کے لیے روانہ ہو گئی۔
وہ اُسے پیچھے سے پکارتے رہے، مگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھنا چھوڑ چکی تھی۔
حال
اس نے ان کے حصار سے خود کو نکالا ۔
“میں آپ کے ڈاکٹر سے مل کر آتی ہوں۔”
اس نے دھیرے سے کہا تو دائم ہمت کرتے کچھ آگے ہوا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔
اس لمس پر دور اندر کچھ لرز گیا تھا۔ وہ ضبط کرتی اٹھی اور مڑ گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے اس کی جاتی پشت دیکھی اور سر پیچھے تکیے سے ٹکا دیا۔
ایک لمبا عرصہ خزاں میں رہنے کے بعد انہیں بہار نصیب ہوئی تھی ۔ وہ آنکھیں بند کیے رب کا شکر ادا کرتے رہے ۔ یہاں تک کے وقت پیچھے کی جانب رواں دواں ہونے لگا ۔
ماضی
زنیرہ سے شادی کے تین سال بعد اُنہیں کاروبار میں نقصان ہونے لگا تھا۔ اسٹیورڈ کمپنی کے آدھے سے زیادہ شیئرز لے کر فرار ہو چکا تھا اور اب کمپنی گھاٹے میں جا رہی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب پلویشا اپنے اندر سے جنگ لڑ رہی تھی۔ کاروبار کے بگڑتے حالات نے دائم کو بیٹی سے غافل کر دیا تھا، لیکن اُس کی دن بہ دن بگڑتی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے اور معاملہ اِس قدر سنگین ہو گیا کہ پلویشا کو مینٹل ہیلتھ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کروانا پڑا۔
وہ بیٹی کی حالت دیکھ کر اندر سے ٹوٹ گئے تھے۔
اُن کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ پلویشا، جو ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہتی تھی، اِس قدر بیمار پڑ جائے گی۔ اُسے داخل کروائے ابھی دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ طاہر فرینکفرٹ آئے اور اُسے اپنے ساتھ لے گئے۔
اِس فیصلے پر جتنی تکلیف دائم کو ہوئی تھی، وہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی تھی۔ پلویشا کے جانے کے بعد وہ بہت چپ سے ہو گئے تھے۔ ایس پر زیادہ دھیان دینے لگے تھے۔ وہ اب بیٹیوں کے معاملے میں ڈر گئے تھے۔ دائم رئیل اسٹیٹ ٹائیکون تھے۔ اُنہوں نے طاہر کے کہنے پر اسلام آباد میں بزنس سیٹل کر لیا تھا۔
کمپنی کی کنسٹرکشن ایک سال میں ہی پوری ہو گئی تھی۔ سب کچھ نئے سرے سے شروع ہوا تھا، جس کے باعث اُنہیں بہت مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن دوسرے سال ہی اُن کے حالات درست ہو گئے تھے۔ ایس جب بیس سال کی ہوئی تھی، تو زنیرہ کے کہنے پر اُنہوں نے ایس کی شادی کر دی تھی۔
ایس کی شادی پر دائم کو پلویشا شدت سے یاد آئی تھی۔ اِسی لیے اُس کی شادی کی رات ہی وہ لاہور آ گئے تھے، مگر طاہر نے اُنہیں پلویشا سے نہیں ملنے دیا تھا اور یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ وہ ابھی ہیل ہونا شروع ہوئی ہے، اُسے کچھ وقت دو۔ دائم نے بہت کہا، مگر طاہر کی بات مانتے ہوئے وہ واپس پلٹ گئے۔
اُس رات وہ کروٹ پر کروٹ بدل رہے تھے۔ زنیرہ پریشانی سے اُٹھ کر بیٹھی اور اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا، “آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟”
دائم بے چینی سے اُٹھ بیٹھا۔ “مجھے نہ جانے کیوں غلط غلط وہم آ رہے ہیں، زنیرہ۔ ایسا لگ رہا ہے پلویشا مشکل میں ہے۔”
“اللّٰہ کی امان میں ہو گی پلویشا۔ آپ پریشان نہ ہوں، دائم۔”
لیکن دائم چاہنے کے باوجود بھی خود کو بے چین ہونے سے روک نہ پائے۔ یہ رات پلویشا کی شادی کی رات تھی۔
اُن کا وہم حقیقت کا روپ لے چکا تھا۔ وہ صبح ہوتے ہی لاہور پہنچے تھے اور اِس بار اُنہوں نے تہہ کر لیا تھا کہ وہ لازماً پلویشا سے ملیں گے، مگر جو خبر اُنہیں سننے کو ملی تھی، وہ اُن کے پیروں تلے سے زمین کھینچ گئی تھی۔
ہسپتال کے کمرہ نمبر گیارہ میں بے سدھ سوئی پلویشا کو دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔ اب وہ چاہ کر بھی پلویشا کا سامنا نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ہارے ہوئے باپ کی طرح اسلام آباد واپس آ گئے تھے۔
ایس اپنے گھر میں بہت خوش تھی۔ وہ اکثر دائم کے پاس آتی تھی، اُن کے ساتھ وقت گزارتی تھی اور دائم کم از کم ایس کو دیکھ کر دل سے خوش ہو جاتا تھا۔ ایک بیٹی تو تھی جو اُس کے پاس تھی۔
لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایس اپنے پہلے بےبی کی ڈلیوری کے دوران بیٹا پیدا کرتے ہی فوت ہو گئی تھی۔ زنیرہ ایس کے مرنے پر ٹوٹ گئی تھی۔ اُس کے اوپر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
ایس کے جانے کے کچھ ماہ بعد ہی زنیرہ بیمار بیمار سی رہنے لگی۔ دائم کو اُس کی حالت ٹھیک نہیں لگتی تھی۔ وہ جب بھی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کا کہتا، وہ نظر انداز کر دیتی تھی۔ آخر ایک روز منت سماجت کے بعد وہ ڈاکٹر کے پاس گئے، تو پتا چلا کہ زنیرہ کو برین ٹیومر ہے۔ دائم بے بسی کی انتہا پر تھا، مگر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں زنیرہ بھی اِس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئی تھی۔ دائم بہت۔۔۔ بہت اکیلا ہو گیا تھا۔ آزمائش پر آزمائش اُسے اندر سے ہلا کر رکھ گئی تھی۔ آخری بار جب وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا، تو طاہر کی موت پر رویا تھا۔
ایک ویرانی تھی جو ہر طرف پھیل گئی تھی۔
لیکن اللّٰہ نے اُسے تحفے کے طور پر اُس شام مال میں صاحبہ سے ملا دیا تھا، جو اُسے جینے کی ایک امید دے گئی تھی۔
حال
انہوں نے تھک کر سر پیچھے تکیے سے لگا دیا ۔
کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی اب تک ماضی کے حصار میں قید تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے ہسپتال کے گراؤنڈ فلور کے باہر کھڑا اپنی سوچوں میں مگن تھا۔
“صاحبہ دائم کی بیٹی ہے؟ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ لیکن پھر دائم انکل کے چہرے پر اُسے دیکھتے ہی رونق کیوں آ گئی تھی؟”
اُس نے جب سے صاحبہ کو پریشانی کے عالم میں اُن کے کمرے میں جاتے دیکھا تھا، وہ تب سے باہر کھڑا اُسی معمہ کو سلجھائے جا رہا تھا۔
“اُف! خدارا، یہ لڑکی جب سے میری زندگی میں آئی ہے، ڈسٹریکشنز کیوں لے کر آئی ہے؟”
وہ کنپٹی مسلتے سوچ کر رہ گیا۔
پھر یوں ہی پریشانی سے پاس پڑی بینچ پر جا بیٹھا اور سر اُس کی پشت سے ٹکا دیا۔
“وہ اُن کی بیٹی نہیں ہو سکتی۔ دائم انکل کا صرف ایک بیٹا تھا۔۔۔ ازمیر علی۔ اور اُن کی کوئی اولاد واپس نہیں لوٹ سکتی۔”
وہ خود کی سوچوں کے بھنور سے لڑتا آہستہ آہستہ ماضی میں جانے لگا۔
ہر طرف دھند ہی دھند چھاتی گئی، گھڑیال کی سوئیاں پیچھے کی طرف دوڑنے لگیں۔ وہ ماضی میں جا پہنچا۔۔۔ وہیں، جہاں سے شروعات ہوئی تھی۔
ماضی
“ازمیر۔۔۔ ازمیر، اُٹھو میری جان۔ بابا ویٹ کر رہے ہیں، اُٹھو اب۔”
وہ اُس کے سر پر کھڑی اُسے جگانے کی جدوجہد میں لگی تھی، جبکہ وہ سر تک لحاف اوڑھے گدھے گھوڑے بیچ کر سویا ہوا تھا۔
“ازمیر، اُٹھ جاؤ۔ آج فلائٹ ہے تمہاری۔” زریاب نے اب کی بار سختی سے کہا، تو اُس کی نیند اُڑی۔
“ما۔۔۔ مام، آپ جائیں، ازمیر خود ہی اُٹھ جائے گا۔” اُس کی آواز میں خمار تھا۔
“ہاں، اگر ازمیر نے خود ہی اُٹھنا ہوتا تو اُٹھ چکا ہوتا۔ اب اُٹھو ازمیر، دیر ہو جائے گی تمہیں۔”
“حد ہے مام، حد! اُٹھ گیا ہوں اب۔۔۔ خوش؟” تیرہ سالہ ازمیر نے جھنجھلا کر لحاف اُتارتے کہا اور بیڈ سے نیچے اُتر کر واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
زریاب گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔ وہ اپنے اِس بیٹے کا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ باپ کی بے جا محبت اور دولت نے اُسے تیرہ سال کی عمر میں ہی بگاڑ دیا تھا۔
کچھ وقت بعد وہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف آیا، تو نظریں سامنے پڑیں۔
نو سالہ، کیوٹ اور چھوٹی سی محراب کو دیکھ وہ افسردہ ہو گیا۔
“بابا، مجھے تو اِس کی بہت یاد آئے گی بھئی۔” اُس نے غمگین ہوتے ہوئے کہا۔ زریاب، جو کہ اپنے ساتھ بیٹھی محراب کو بریک فاسٹ کروا رہی تھی، بیٹے کی آواز پر اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“ٹھیک ہے ، پھر مت جاؤ فرینکفرٹ۔” حارث نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے مشورہ دیا، تو ازمیر نے منہ کے زاویے بگاڑے۔
“خیر، اب اتنی بھی یاد نہیں آئے گی مجھے۔” وہ ناک سے مکھی اُڑاتے اپنی چیئر کھینچ کر اُس پر براجمان ہوا۔
“ازمیر علی، جلدی سے بریک فاسٹ کرنا ہے آپ نے اب۔ دیر نہیں ہونی چاہیے۔” حارث نے سنجیدگی سے بتایا۔
“ہمممم۔”
“اور میری بات یاد رکھنا کہ۔۔۔”
“ہاں ڈیڈ، مجھے آپ کی ساری باتیں یاد ہیں۔” وہ اُن کی بات پوری ہونے سے پہلے بول پڑا۔ “میں کوئی غلط حرکت نہیں کروں گا۔”
(سکول کے گراؤنڈ میں اکثر بچوں کا رش جمع تھا۔ تمام لڑکے لڑکیاں ایک گھیرا بنائے سامنے نظر آتے منظر کو اپنے فونز میں قید کر رہے تھے۔ سترہ سالہ نوجوان بری طرح ایک لڑکے کو مار رہا تھا۔ اُس کے گرد موجود بچے جوش سے اُس کا نام لیتے چلا رہے تھے۔)
“پوری نمازیں پڑھوں گا، ڈیلی قرآنِ پاک کی تلاوت کروں گا، برے دوست نہیں بناؤں گا۔”
(بار میں بے حد تیز میوزک کی آواز وہاں ناچتے لڑکے لڑکیوں کو مزید جوش دلا رہی تھی۔ ایک طرف رکھے صوفوں پر کچھ لڑکے لڑکیاں تاش کھیل رہے تھے، اُنہی میں وہ بھی شامل تھا۔ شراب کی بوتل بار بار لبوں سے لگاتا وہ تاش کھیل رہا تھا۔)
“قاسم انکل کو بالکل تنگ نہیں کروں گا اور خوب پڑھوں گا۔”
(آج وہ دوبارہ سے لاؤنج میں بیٹھے اُس کے آنے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک ہی وہ اُنہیں دروازے سے آتا دکھائی دیا۔
“کہاں تھے تم؟” اُنہوں نے سخت آواز میں پوچھا۔
“یار، دوستوں کے ساتھ تھا انکل۔ پلیز، کل کلاس لیجیے گا، ابھی تھکا ہوا ہوں۔” وہ بے نیازی سے کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا، جبکہ وہ اُس کی بات پر تلملا کر رہ گئے۔)
“بس بابا! مجھے آپ کی باتیں حفظ ہو گئی ہیں۔”
“حفظ ہوں یا نہ ہوں، عمل بھی ہونا چاہیے۔”
“حد ہے ڈیڈ، حد!” اُس نے اپنا پسندیدہ جملہ بولتے بات ہی ختم کر دی۔
زریاب نے گہرا سانس بھرتے دونوں باپ بیٹے کو دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھیلے اندھیرے میں ہر طرف موبائل فون کی فلیش لائٹس کی روشنی چمک رہی تھی۔ ہوٹنگ، سیٹیاں، تالیاں۔۔۔ ریسنگ ٹریک پر رات کے دو بجے ایک شور برپا تھا۔
وہاں سب نوجوان لڑکے لڑکیاں موجود تھے اور جوش سے چیختے چلاتے دور سے آتی اُس کی سیاہ ہیوی بائیک کو دیکھ رہے تھے۔
اُس کے پیچھے تین بائیکس اور بھی تھیں، جو مسلسل اُس کی بائیک سے آگے نکلنے کی کوشش کرتیں، مگر وہ تھا کہ ہوا کے گھوڑے پر بیٹھا تھا۔
اچانک سے گہری نیلی بائیک نے اُس کی جانب موڑ کاٹا، تو وہ پھرتی سے بائیں جانب بینڈ ہو گیا، اور اگلے ہی پل سیدھا ہوتے ریس پر زور بڑھاتے بائیک زن سے آگے بڑھ گیا۔ نیلی بائیک کہیں پیچھے ہی رہ گئی۔
اینڈ لائن اُس کے بالکل سامنے تھی۔ اُس نے اپنی بائیک کی رفتار مزید تیز کی، دونوں ہینڈلز پر سختی سے ہاتھ جمائے اور اپنے پاؤں سیٹ پر رکھ لیے۔ ایک دو پل بائیک اُسی تیز رفتار سے آگے بڑھتی رہی کہ اُس نے اگلے ہی پل رفتار سست کر دی اور بائیک پر پورے قد سے کھڑے ہوتے ہاتھ پھیلا دیے۔ بائیک نے ایک سیکنڈ میں فِنشنگ لائن کراس کی اور وہ دائیں جانب جمپ کرتا سڑک پر آ گیا۔ بائیک دور جا گری۔
“آہہہہہ۔۔۔” ایک شور اُٹھا تھا۔
لڑکیاں اور لڑکے چیخ و پکار کے ساتھ اُس کی جانب بڑھے تھے۔
جبکہ اِن سب سے دور، ایک طرف کھڑے لڑکے نے اُس کی اِس کارروائی پر سر پکڑ لیا تھا۔ نہ جانے وہ ایسے کرتب کیوں کرتا تھا۔
لڑکے لڑکیوں کے ہجوم میں کھڑے اُس سترہ سالہ نوجوان لڑکے نے ہیلمٹ اُتارا، تو بال ماتھے پر بکھر گئے، لیکن اُس نے اُنہیں ہٹانا ضروری نہ سمجھا اور آگے بڑھتے ہوئے ایک طرف پڑے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالتے لبوں سے لگا گیا۔ اپنی چوڑی پشت اور دراز قد کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے ایک دو سال بڑا لگتا تھا۔
وہ تینوں بائیکس بھی ایک ساتھ وہاں آئیں۔
پانی کا گھونٹ حلق سے اُتار کر اُس نے بوتل نیچے کی، اور پیچھے سے بائیکس کے رکنے کی آواز پر اُس کے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُس نے بوتل واپس بیگ میں ڈالی اور واپس مڑتے بائیں ہاتھ سے بالوں کو پیچھے کی جانب فلپ کیا۔
سیاہ آنکھوں میں شیطانیت بھری تھی۔
“میں نے پہلے بولا تھا، تم ہارو گے۔” وہ دل جلاتی مسکراہٹ کے ساتھ بولتا سامنے سے آتے لڑکے کی جانب بڑھا۔
باقی لڑکے اور لڑکیاں خاموشی سے اُن دونوں کو سن رہے تھے۔
“تمہاری کار میری ہوئی۔” ازمیر کی بات پر ڈین (Dan) تلملا اُٹھا۔
“یہ بات طے نہیں ہوئی تھی، ازمیر!” ڈین غرایا۔
“تم نے کہا تھا، جو مانگوں گا دو گے۔” اُس نے ایک ابرو اچکایا اور اُس کے سامنے جا رکا۔
“وہ کوئی چیز نہیں ہے، سمجھے!” ڈین دھاڑا تھا۔
ازمیر نے اُس کی دھاڑ پر لعنت بھیجتے دو قدموں کا فاصلہ طے کیا اور اُس کے کان کے پاس سرگوشی کی، “تو تمہاری بہن کے بارے میں کیا سوچا تم نے؟”
“یو بلڈی۔۔۔!” ڈین نے اُس کی بات پر اُس کے منہ پر مکہ دے مارا۔
“ہااااااااا۔۔۔!” شور گونجا تھا۔
ازمیر ہنستے ہوئے پیچھے ہوا اور ایک نظر ڈین کو دیکھا، پھر اگلے ہی پل پوری قوت سے ڈین کے پیٹ میں لات رسید کی۔ ڈین کراہتے ہوئے پیچھے جا گرا۔
وہ اُس تک آیا اور پنجوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھا۔ پھر اُس کی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے گاڑی کی چابی باہر نکالی۔
“آخری بار دیکھ لو اِسے بھی۔” اُس نے مسکراتے ہوئے کہا اور ایک طرف کھڑی سیلن کا ہاتھ تھاما۔ سیلن مخمور مسکراہٹ کے ساتھ اُس سے لگی، اُس کی بائیک پر بیٹھی، اور اگلے ہی پل وہ دونوں اِن سب کی نگاہوں سے دور جانے لگے۔
“تمہیں تو دیکھ لوں گا میں، ازمیر علی!” ڈین اپنی پسندیدہ کار کے کھونے پر اُسے زہر خند نظروں سے دیکھتا خود سے بڑبڑایا۔
ازمیر کے ہم عمر مزاحم نے اُن دونوں کو جاتے دیکھ ازمیر کا نیچے پڑا بیگ اُٹھایا، پھر اپنی بائیک سنبھالی اور بائیک اُن کے پیچھے بھگا لے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب سے آئی تھی، لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھی اُسے سامنے اوپن کچن میں کھڑا کافی بناتے دیکھ رہی تھی۔
وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی شاور لے کر آیا تھا۔ سیاہ ٹراؤزر کے ساتھ سفید پولو شرٹ پہن رکھی تھی۔ گیلے بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔ سیلن اُسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔
“کیا تمہیں کوکیز پسند ہیں؟” ازمیر نے وہیں ٹھہرے سیلن کو دیکھ کر پوچھا۔
سیلن دلکشی سے مسکرائی اور جواب دیا، “بالکل۔”
وہ بھی مسکرا دیا۔ اتنے میں میز پر پڑا ازمیر کا فون چھنگھاڑنے لگا۔
اُس نے فون کی اسکرین پر نظریں جمائیں، تو سامنے مزاحم کا نام دیکھ دل سرشار ہو گیا تھا۔
اُس نے کال آنسر کرتے فون کان سے لگایا اور فریج سے دودھ کی بوتل نکالی۔
“ہیلو، مزاحم۔”
“ازمیر، ڈین سے پنگا مت لو۔” مزاحم نے فوراً پریشانی سے کہا۔
“ریلیکس مزاحم، کچھ نہیں ہوتا۔”
“کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟” مزاحم دھاڑا۔
ازمیر کا قہقہہ بلند ہوا۔
“اِس میں پاگل ہونے والی کیا بات ہے، بڈی؟”
“تم کیوں ایسا کر رہے ہو یار۔۔۔” مزاحم کی آواز نم ہوئی تھی۔ “ڈین کا اُٹھنا بیٹھنا خطرناک لوگوں کے ساتھ ہے۔ وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔”
“مزاحم، تم کیا بول رہے ہو؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔” ازمیر اُس کی باتیں سن کر جھنجھلا گیا تھا۔
“میں بعد میں کال کرتا ہوں۔ ابھی تمہاری بکواس سن کے موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا۔” اُس نے لعنت بھیجنے والے لہجے میں کہا اور کال کاٹ دی۔
کچھ وقت بعد وہ ٹرے میں کافی کے دو کپ اور کوکیز کی پلیٹ لیے سیلن کے پاس آیا۔
“یو آر سو چارمنگ۔” سیلن نے مدھم مسکراہٹ سے کہتے ہوئے اُس کے ہاتھ سے ٹرے تھامی اور میز پر رکھی۔
ازمیر اُس کے ساتھ ہی جڑ کر بیٹھ گیا اور سامنے رکھی لارج سائز ایل سی ڈی پر جاپانیز اینیمی پلے کر دی۔
سیلن نے چونک کر اُسے دیکھا۔
“سیریسلی؟ تم یہ بچوں والی مووی دیکھو گے؟”
“تو کیا ہم بڑے ہو گئے ہیں؟”
ازمیر نے اُسے دیکھتے حیرت سے پوچھا۔
“کیا مطلب، ازمیر؟ تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”
ازمیر نے اُسے ایک نظر دیکھا۔ ہیزل آنکھیں، گوری رنگت۔۔۔ سولہ سالہ معصوم سی سیلن بہت خوبصورت نقوش کی مالک تھی۔
“میری جان، ابھی ہم بہت چھوٹے ہیں۔” ازمیر نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے کہا۔ “تم بس میرے ساتھ مووی دیکھو۔۔۔ انجوائے کرو۔”
سیلن اُسے دیکھ کر رہ گئی۔ وہ آدھی رات کو اپنے اپارٹمنٹ میں ایک لڑکی لایا تھا۔۔۔ صرف مووی دیکھنے کے لیے؟ سیلن کا بس نہ چلا سامنے بیٹھے خوبصورت نوجوان کا سر پھاڑ دے۔
اُس نے گہرا سانس بھرا۔ ازمیر علی کے ساتھ بیٹھ کر مووی دیکھنا بھی لڑکیوں کے لیے اعزاز تھا۔
“تھینک یو، ازمیر۔” وہ بمشکل مسکرائی اور سامنے رکھی میز سے کافی کا ایک کپ اُٹھاتے ازمیر کو دیا، جسے وہ بھی مسکراتے ہوئے تھام گیا۔
کچھ وقت بعد وہ دونوں ہی ہنستے ہوئے کسی سین پر تبصرے کر رہے تھے۔ جو پل سیلن سوچ کر آئی تھی، ازمیر نے اُس سے کہیں زیادہ خوبصورت پل سیلن کے لیے یادگار بنا دیے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ازمیر، تم کیوں خود کو برباد کر رہے ہو؟” مزاحم نے تنگ آتے پوچھا۔
“میں خود کو برباد نہیں کر رہا۔” اُس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
وہ دونوں کیفے آئے ہوئے تھے۔ ڈِم ڈِم سی لائٹس، ڈھلتی رات اور کیفے میں بجتا مدھم میوزک ماحول کو دلکش بنا رہا تھا۔
“تم کر رہے ہو۔ پچھلے ایک سال سے تم خود کو خود ہی نگل رہے ہو۔” مزاحم نے پریشانی سے کہا۔
“جب تم یہاں آئے تھے، بہت اچھے تھے۔ تم کسی سے نہیں لڑتے تھے، نہ جھگڑتے تھے، نہ تم فضول کے پنگے لیتے تھے، نہ شراب پیتے تھے، نہ ہی بے شرموں والی حرکتیں کرتے تھے، مگر اب ت۔۔۔”
“باقی سب تو ٹھیک ہے، یہ بے شرمی میں نے کون سی کی ہے؟ بتانا ذرا۔” ازمیر اُس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے پوچھتا ہے۔
“دو دن پہلے رات کو سیلن کے ساتھ تہجد تو نہیں پڑھی ہو گی تم نے یقیناً۔” جواباً مزاحم چھبتے لہجے میں بولا۔
“سالے ایڈیٹ، کچھ نہیں کیا میں نے۔” ازمیر اُس پر نیپکن ڈالتے بولا۔
مزاحم کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔ “سچ میں تم نے کچھ غلط نہیں کیا؟”
“ظاہر سی بات ہے، مزاحم۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔”
(میں اپنی فیوچر وائف کی امامت ہوں اور میں امانت میں خیانت نہیں کرتا )وہ مدھم مسکراہٹ سے سوچ کر رہ گیا ۔
“اچھا، تو یہ جو باقی کے کارنامے سرانجام دیتے ہو، وہ کیا کم ہیں؟”
“تم پھر وہی ٹاپک بیچ میں لے آئے ہو؟”
“کیونکہ یہ جاننا ضروری ہے، بڈی۔ تم چڑچڑے سے ہو گئے ہو۔ کیا بات ہے؟ مجھ سے شیئر کرو۔”
اُس کی بات پر ازمیر ایک دو پل اُسے دیکھتا رہا، پھر نظریں گلاس وال سے باہر ٹکا کر بولنا شروع کیا۔
“مجھے خود نہیں معلوم، مزاحم۔” ازمیر کے لہجے میں پریشانی واضح نمایاں تھی۔
“میں پتا نہیں کیوں ایسا ہوتا جا رہا ہوں۔ جلد غصہ آ جاتا ہے، دوسروں کو گرا کر سکون محسوس ہوتا ہے، مگر وہی سکون پھر مجھے بے چین کر دیتا ہے۔ بس عجیب سا ایک گہرا خلا میرے وجود میں بڑھتا جا رہا ہے۔”
وہ ایک پل کے لیے چپ ہوا۔ مزاحم غور سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“ایک سال پہلے مجھے پتا چلا حارث علی میرا اصلی باپ نہیں ہے، وہ میرا چچا ہے۔ یہ چیز مجھے اندر سے توڑ گئی ہے۔ حالانکہ میں اُن سے محبت کرتا ہوں، اپنے سگے باپ سے بھی زیادہ۔ میں واپس جانا چاہتا ہوں اُن کے پاس، مگر۔۔۔ مگر نہ جانے کیوں میں جا نہیں پا رہا۔ ایسا لگتا ہے کوئی چیز میرے پاؤں میں بیڑیاں کستی جا رہی ہے۔”
“ازمیر، میرے یار، ہم ڈاکٹر سے کنسلٹ کر سکتے ہیں ۔۔۔” مزاحم نے حل پیش کیا۔
“میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔” ازمیر نے گہرا سانس بھرا۔
“ٹھیک ہے، پھر کل سکول سے واپسی پر چلیں گے۔”
“قاسم انکل کو نہیں بتانا۔ وہ ڈیڈ کو بتا دیں گے۔”
“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، نہیں بتاؤں گا۔”
ازمیر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ایلن کب واپس آئے گی؟” اُس نے مسکراہٹ ضبط کرتے پوچھا۔
ایلن کے ذکر پر مزاحم کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
“مجھے کیا معلوم، اُس کا پی اے نہیں ہوں میں۔”
ازمیر کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔ “میری کل اُس سے بات ہوئی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی آج شام تک واپس آ جائے گی۔” ازمیر نے سنجیدگی سے بتایا، تو مزاحم نیپکن ڈال کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
