SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 12.

 

اسلام آباد 

نرس ابھی ابھی کمرے سے باہر گئی تھی، جبکہ وہ ایک طرف رکھی کرسی پر بیٹھا، ہاتھوں کی مٹھی کو لبوں سے ملائے یک ٹک انہیں دیکھ رہا تھا۔

سامنے ہی وہ بیڈ پر لیٹے تھے۔ ٹانگ پر پٹی بندی تھی، اور بائیں بازو پر پلستر لگا تھا۔ ماتھے پر پٹی بندھی تھی اور چہرے پر جگہ جگہ نیل تھے۔ وہ آنکھیں کھولے کب سے چھت کو تکے جا رہے تھے۔

“آپ کا نشہ اتر گیا؟” کچھ وقت بعد اس نے سنجیدگی سے سوال کیا تو وہ مدھم سا مسکرائے۔

“ویسے کب سے نشہ شروع کیا ہے؟ مجھے بتایا ہوتا میں زیادہ اچھا سجسٹ کرتا، تاکہ اگلی بار ٹرک میں نہیں، بلکہ ایک ہی بار کھائی میں گاڑی لے جاؤ۔” اس کے چھبتے ہوئے لہجہ پر وہ ہنس پڑے۔

“کوئی مذاق تو کیا نہیں میں نے جس پر ہنسا جائے۔”

“آہ، اب اتنا بڑا مرد رو تو نہیں سکتا نا؟” ان کی کمزور آواز ازمیر کے کانوں میں پڑی تو تپتے ہوئے دماغ کے ساتھ کرسی سے اٹھ کر ان تک آیا۔

“مجھے بتائیں، کس کے خیالات میں تھے آپ، کہ سامنے سے آتے ٹرک پر آپ کا دھیان نہیں گیا؟”

“کسی کے نہیں۔”

“جھوٹ مت بولے۔ جتنی احتیاط سے گاڑی آپ چلاتے ہیں، ہو ہی نہیں سکتا کہ فضول میں گاڑی اور ٹرک کا ملن ہو۔ اس لیے صاف صاف بتا دیں۔”

وہ چپ رہے۔

“میں نے پوچھا، مجھے بتائے!” وہ غصے سے بولا تھا۔

دائم اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ وہ بے فضول ہی بحث کر رہا تھا۔

“آپ نہیں بتا رہے؟”

“ازمیر، میں سچ کہہ رہا ہوں…”

“آپ سچ کہہ رہے ہیں؟” وہ دھاڑا تھا۔

دائم گنگ ہو گیا۔ “آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ آپ زخمی ہوئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں اگر تھوڑا سا بھی بچاؤ نہ ہوتا تو اس وقت مجھ پر کیا قیامت ٹوٹتی؟”

دائم حیرت سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے اکتیس سالہ ازمیر علی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے لہجہ میں غصہ تھا، شدت تھی، شکوہ تھا۔

“لیکن آپ کو کیا فرق پڑتا؟ مجھ سے، میری ذات سے آپ کو کیا لینا دینا؟ آپ بس اپنی اس خود غرض بیٹی کے باپ ہیں۔ اسی کے لیے جیے گے، اسی کے لیے مرے گے۔” وہ تلخی سے کہہ رہا تھا۔

“لیکن میری بات یاد رکھیے گا…” وہ دو قدم چل کر آگے آیا اور ان کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑ دیں۔  

“آپ کے جانے سے آپ کی اس بگڑی ہوئی بیٹی کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن میں ایک بار پھر یتیم ہو جاؤں گا۔”

دائم کو ناجانے کیوں اس کی سیاہ آنکھوں میں گلابی پانی کی جھلک دیکھائی دی تھی۔ اس سے پہلے وہ کسی شے کی تصدیق کرتے وہ آنکھیں میچتے ہوئے پلٹ گیا اور چپ چاپ کرسی پر بیٹھتے، سر اس کی پشت سے ٹکائے، آنکھیں موند گیا۔

دائم نے ایک پل کے لیے بھی اس سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ وہ مدھم سانسیں لیتا، خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔

“ازمیر…” کچھ وقت بعد انہوں نے اسے پکارا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

“آئی ایم سوری…” انہوں نے شکستہ آواز میں کہا۔

“آپ کو… کہنا بھی چاہیے…” وہ چاہ کر بھی لہجہ کو کمزور ہونے سے روک نہیں پایا تھا۔ جن سے وہ محبت کرتا تھا، ان کے سامنے اس کا اصل خود ہی ظاہر ہونے لگتا تھا۔ ایک بوجھل سا ماحول پورے کمرے میں چھا گیا تھا۔

“مجھے نہیں پتا تھا کہ تم مجھ سے اتنی محبت کرتے ہو…” دائم نے ماحول میں پھیلے تناؤ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی۔

وہ مسکرا دیا۔ وہ سچ کہہ رہے تھے۔ ازمیر اس وقت ایک میٹنگ کنڈکٹ کر رہا تھا جب اسے پتہ چلا کہ دائم کا ایکسڈنٹ ہوا ہے۔ اس لمحے اسے یوں لگا تھا جیسے اس کی روح کو کسی نے جسم سے جدا کر دیا ہو۔ وہ کس طرح وہاں سے نکلا، ہسپتال پہنچا، اسے کچھ یاد نہیں تھا۔

ایک طویل خاموشی ان کے اردگرد پھیل گئی۔ اس خاموشی کو ازمیر کے چھنگاڑنے فون نے توڑا تھا۔

“میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں…” وہ گہرہ سانس بھرتے اٹھا۔ ان پر نظر ڈالے بغیر وہ دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

“کچھ پتہ چلا، مزاحم؟” وہ راہ داری میں چلتا فون کان سے لگائے آگے بڑھ رہا تھا۔

“نہیں ازمیر…” اس کی مایوس آواز ابھری تھی۔ ازمیر کا دل ڈوبا تھا۔

“کوئی بات نہیں، اللّٰہ مدد کرے گا…” ازمیر ہمت دیتے لہجے میں کہا۔

“بالکل… ابھی احمد نے دلاور سے کہا کہ…”

ازمیر اس کی بات سنتے ہوئے تیز تیز قدم لیتا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک کسی سے ٹکرایا۔ اس نے تپتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ایک پل کے لیے ساکت ہو گیا۔

وہ وہی تھی، سفید شرٹ اور نیلے سکرٹ والی لڑکی۔ اس کی پشت پر لمبے بھورے بکھرے ہوئے تھے، اور وہ تیزی کے ساتھ دائم کے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی، یہاں تک کہ وہ دروازہ کھول کر اندر گم ہو گئی۔

وہ ہک دک ہوا، اس منظر کو پراسس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“مزاحم، کیا بول رہا تھا… اردگرد کیا ہو رہا تھا…” اسے کوئی ہوش نہ تھا۔وہ نا سمجھی سے اس خالی راہداری کو دیکھے گیا ۔ 

“تم سن رہے ہو، ازمیر؟” تقریباً تیسری بار جب مزاحم غصّہ سے دھاڑا۔

“صا… صاحبہ؟” اس کی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔

“کیا بک رہے ہو… کون صاحبہ؟”

ازمیر نے فون کان سے ہٹایا اور سراسمیگی سی کیفیت میں آگے بڑھا۔ “وہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟”

ایک ایک قدم بھاری ہو رہا تھا۔ وہ کمرے کے آگے جا ٹہرا۔ سامنے لگے چھوٹے شیشے سے کمرے کا اندرونی منظر واضح ہو رہا تھا۔

ایک لڑکی تھی جو بیڈ پر لیٹے مرد کے سامنے کھڑی تھی۔ اور مرد کی آنکھوں میں نظر آنے والے تاثر کو دیکھ کر ازمیر کو لگا ہسپتال کی چھت اس کے اوپر آن گری تھی ۔ 

وہ وہی تاثر تھا جو ایک باپ کا بیٹی کے لیے ہوتا ہے۔

“صاحبہ شاہ… صاحبہ دائم شاہ…”

حقیقت اس کے سامنے کھڑی تھی اور حیرت ہر طرف چھا گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور 

لاہور کے مصروف بس ٹرمینل پر شام کی ہلکی سی گہما گہمی پھیلی ہوئی تھی۔ ادھر اُدھر کھڑی بسوں کے انجنوں کی مدھم آوازیں فضا میں گھلی ہوئی تھیں، جبکہ مسافر اپنے بیگ سنبھالے جلدی جلدی کاؤنٹروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کہیں چائے کے اسٹال سے اٹھتی بھاپ اور کپوں کی کھنک سنائی دے رہی تھی، تو کہیں کسی بس کے روانہ ہونے کا اعلان گونج رہا تھا۔

انہی آوازوں اور ہلچل کے درمیان پلویشا خاموشی سے کاؤنٹر کے سامنے آ کر رُک گئی۔ صاف ستھرے حلیہ اور چہرے پر بلا کی سنجیدگی سجائے، اس نے آہستگی سے بیگ میں سے پیسے نکال کر کاؤنٹر پر رکھے اور اسلام آباد کی ایک ٹکٹ مانگی۔ اس کا انداز بے نیاز سا تھا۔

کاؤنٹر پر بیٹھے آدمی نے ٹکٹ پر نظر ڈالتے ہوئے معمول کے انداز میں سوال کیا:

“آپ اپنا نام بتا دیں میڈم… ٹکٹ کے اندراج کے لیے چاہیے۔”

پلویشا ایک لمحے کے لیے رکی۔ ہلکی بھوری آنکھوں کے سامنے ماضی کی ایک یاد گردش کرنے لگی۔

(“ڈاکٹر طاہر، یہ آپ نے میرا نام کس نام سے سیف کر رکھا؟” وہ حیرت زدہ ان کا فون پکڑے ان سے پوچھ رہی تھی۔

“مجھے یہ نام بہت عزیز ہے۔” وہ مسکراتے ہوئے بولے۔

“سچ سچ بتائیں، کسی بچھڑی ہوئی دوست کی یاد میں تو نہیں لکھا؟”

پلویشا ہنس دی۔

“آرے نہیں، بس یوں ہی۔ اگر تم میری سگی بیٹی ہوتی تو یہی نام رکھتا۔”

پلویشا مایوس ہوئی۔

“آپ مجھے بیٹی نہیں سمجھتے۔”

“سمجھتا ہوں، اس لیے تو اس نام سے سیف کر رکھا ہے۔”

پلویشا نے پوچھا:

“پھر پکارتے پلویشا کے نام سے کیوں ہیں؟”

“کیونکہ پلویشا میری دوست، میری ہمراز، میری جان، میرا دل، اور میری سانسوں کی انمول وجہ ہے۔ اور یہ میرے لیے قیمتی احساسات ہیں۔”

پلویشا مسکرا دی، اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے دوبارہ فون پر لکھا نام دیکھا۔

“میڈم، آپ کا نام؟” آدمی نے پھر سے پوچھا۔

پلویشا کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے جیسے ٹھہر سی گئی۔ اس نے پلکیں جھپکیں، جیسے اپنے اندر کے کسی پرانے نام کو خاموشی سے الوداع کہہ رہی ہو، پھر آنکھیں کھولتی ہلکی مگر سنبھلی ہوئی آواز میں بولی:

“صاحبہ شاہ۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملاپ 

 

 

رات کی تہ میں کوئی راز پگھلتا کیوں ہے،

بند دروازہ بھی آہستہ سے کھلتا کیوں ہے۔

 

ایک چہرہ مری یادوں کے دھندلکوں میں رہا،

آج پھر حال کے آئینے میں ملتا کیوں ہے۔

 

وقت کی راکھ سے اٹھتے ہوئے لمحوں کا غبار،

میرے قدموں سے لپٹ کر مجھے تکتا کیوں ہے۔

 

وہ جو برسوں سے اندھیروں میں چھپا بیٹھا تھا،

میرے اندر مرے ہی ساتھ چلتا کیوں ہے۔

 

میں نے ماضی کو کئی بار دفن کر ڈالا،

یہ مگر رات کے پہلو میں نکلتا کیوں ہے۔

 

کوئی آواز تہِ دل سے پکارے مجھ کو،

کوئی سایہ مرے ہونے میں مچلتا کیوں ہے۔

 

آج ملاپ اُس کا فقط وصل نہیں لگتا،

جیسے دو روحوں کا اک درد میں ڈھلتا کیوں ہے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ترکی 

استنبول میں آج دھوپ کا راج تھا۔ ہر طرف ہلچل مچی تھی، شہر کے سارے باسی اپنے اپنے کاموں میں مشغول، مصروف سی زندگی گزار رہے تھے۔

اسی مصروفیات میں، وہ بڑی مشکل سے اپنا وقت نکال کر اس چھوٹے، بھوری لکڑی کے دروازے والے گھر میں آئے تھے، مگر جس کام کے لیے آئے تھے، اس کی تکمیل کے آثار نظر نہیں آتے تھے۔

چھوٹے سے لاؤنج میں وہ تینوں بیٹھے تھے۔

سینٹرل صوفے پر آتسیں صاحب، دائیں جانب رکھے صوفے پر دلارے، اور سلیم صاحب بیٹھے تھے۔

“دیکھوں سلیم، دلارے بہت ہنر مند لڑکی ہے۔ میں چاہتا ہوں یہ اپنے ہنر کو اپنی پہچان بنائے۔ میں نے اس کے ڈیزائن دیکھے ہیں، یہ بہت نفاست سے پتھر تراشتی ہے۔ یہ بہت آگے جا…”

“آتیس انکل، میں یہ جاب نہیں کرنا چاہتی۔” دلارے نے پھر وہی بات دہرائی تو وہ گہرا سانس بھر کر رہ گئے۔

“بیٹا، تمہارے ڈیزائن تمہیں مالا مال کر سکتے ہیں۔” انہوں نے اسے لالچ دینا چاہا تو وہ مسکرا کر رہ گئی۔

“میں مالا مال نہیں ہونا چاہتی، انکل۔ پلیز، آپ مجھے فورس نہ کریں۔” اس نے پیار سے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئے۔

“اوکے، جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میری آفر پھر بھی تمہارے لیے سیو ہے۔ جب تم چاہو، مجھ سے رابطہ کر لینا۔”

دلارے نے اثبات میں سر ہلا دیا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔

“تم کر لیتی جاب، دلارے۔” وہ انہیں دروازے تک چھوڑ کر واپس آئی تو کب سے خاموش بیٹھے سلیم صاحب نے اس سے کہا۔

“بابا جان۔” وہ محبت سے ان کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔

“جب شادی کے بعد مرزا حاکم کے ساتھ پاکستان چلے جانا ہے تو کیوں ان سب جھمیلوں میں پڑوں میں۔” وہ آنکھیں بند کیے، ان کے سینے سے لگی، مخمور مسکراہٹ کے ساتھ سوچ کر رہ گئی۔

سلیم صاحب دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے، اسے پُرسکون کر رہے تھے۔

“آتیس اچھا انسان ہے۔ تمہارا جب دل چاہے، تم اس سے بات کر لینا۔”

“ٹھیک ہے۔ میں اس آفر پر غور کروں گی۔” اس نے کندھے ڈھیلے چھوڑتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا کر رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

زیورخ 

زیورخ کے اس خاموش اور پُرسکون علاقے میں، استادہ اس بڑے سے بنگلہ نما گھر میں گہرا سناٹا چھایا تھا۔ مین ڈور کے سامنے گارڈ استادہ تھے۔ اگر تم دبے پاؤں چلتے ہوئے لاؤنج سے ہوتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آؤ تو تمہیں وہ نظر آئیں گے، فیض حاکم۔

وہ جوس کے سپ لیتے، اپنی سوچوں میں مکمل طور پر ڈوبے ہوئے تھے۔

جب سے سائفر یہاں سے ہو کر گیا تھا، ہر بار کی طرح ان کے اندر خاموشی رچ بس گئی تھی، اور یہی خاموشی انہیں پیچھے کی طرف دھکیل رہی تھی۔

اس رات ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ وہ موت کے دہانے پر کھڑے تھے، مگر پھر سائفر نے ان کی جان بچائی تھی۔ وہ بروقت انہیں ہاسپٹل لے کر گیا تھا اور ان کا علاج کروایا تھا۔ اس نے ان کی جان بچانے کی خاطر شرط رکھی تھی کہ وہ خود کو مرا ہوا ثابت کریں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاکستان آنا، بند کر دیں گے۔ فیض کو جب جان کے لالے پڑے تو وہ راضی ہو گیا، اور اسی لیے اب بظاہر سب کے سامنے مرزا حاکم اور تبریز حاکم کا باپ مر چکا ہے، مگر حقیقت میں وہ زندہ تھا، اور اس کے زندہ رہنے کی خبر صرف مرزا کو معلوم تھی۔ تبریز اس خبر سے نا آشنا تھا۔

خاموشی سے بریک فاسٹ کرتا فیض یادوں میں گم ہوتا چلا گیا۔ حال میں چلتی ٹرین، ماضی کی پٹری پر سوار ہوتی، انہیں ماضی کے دنوں میں لے گئی تھی۔

ماضی 

فیض حاکم اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ باپ ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچر تھا اور ماں ہاؤس وائف تھی۔ سکول سے ملنے والی قلیل آمدنی پر ہی گھر کا گزر بسر ہوتا تھا۔ جب فیض بارہویں جماعت میں تھا، اس کا باپ بہت بیمار رہنے لگا تھا، جس کی وجہ سے اس نے سکول کی نوکری چھوڑ دی اور فیض ان کی جگہ پڑھانے جاتا تھا۔ اس کے لیے اپنی پڑھائی اور ساتھ میں نوکری کرنا بہت مشکل تھا، لیکن اس کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ اس کے تیسرے سیمسٹر کے دوران اس کا باپ اس دنیا سے چل بسا۔ اب اس کے سر پر صرف اس کی بوڑھی ماں کی ذمہ داری تھی، جو وہ بخوبی نبھا رہا تھا۔ وہ ایک نیک بیٹا ثابت ہوا تھا۔

پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اس نے سی ایس ایس کا امتحان دیا تھا، جس میں وہ ایک نچلے درجے کے پولیس آفیسر کے عہدے پر فائز ہوا تھا۔ وہ ایک ایماندار اور قابل آفیسر ثابت ہوا تھا۔ ہر کیس کو پوری دلجمعی کے ساتھ حل کرتا۔ اس کی اسی ایمانداری، قابلیت اور محنت کی بدولت اسے سینیئر آفیسر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ اس کی نوکری کے چھٹے سال اس کی ماں بھی یہ دنیا چھوڑ کر ابدی دنیا میں جا بسی۔ ماں کے جانے پر اسے شدید صدمہ پہنچا تھا۔ وہ بھری دنیا میں اکیلا ہو گیا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب وہ اور اس کے سینیئر ساتھی ایک بہت بڑے کرمنل کے خلاف ثبوت اکٹھے کر رہے تھے، اور اسی کیس کی وجہ سے اسے ترکی جانا پڑا تھا۔ وہاں اس کا قیام بیس دنوں کا تھا۔

اسے ترکی آئے تیسرا دن تھا، جب وہ وہاں ایک کیفے میں بیٹھا لیپ ٹاپ کھولے ٹائپ کر رہا تھا کہ اس کی نظر سامنے گئی۔

وہ ٹیبل پر سر دیے سوئی ہوئی تھی۔ گلاس وال سے آتی سنہری دھوپ اس کے چہرے پر پڑتی، اسے نورانی دکھا رہی تھی۔ فیض حاکم اسے محویت سے تکتا رہا۔ وہ بھول گیا تھا کہ وہ وہاں کیوں بیٹھا ہے۔

وقت پھسلتا چلا گیا، مگر اس کی نظروں کا ارتکاز نہ ٹوٹا۔ آخرکار وہ لڑکی نیند میں کسمسائی اور اٹھ بیٹھی، پھر یہاں وہاں نظریں دوڑاتی، وہ کرسی سے اٹھی اور اپنا بیگ اٹھاتی وہاں سے نکل گئی۔

فیض نے شدت سے دعا کی تھی کہ وہ نہ جائے، مگر اسے جانا تھا۔ اس کے جانے کے بعد وہ اس کے خیالوں کو اپنے ذہن سے نہ جھٹک سکا۔ وہ دن رات کام کرتے، اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا، لیکن اتنے بڑے ملک میں ایک غیر لڑکی کو ڈھونڈنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔

وہ دھیرے دھیرے سڑک کنارے چلتا آگے بڑھ رہا تھا۔ بادلوں کا راج پورے آسمان پر پھیلتا جا رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے پر جانے کے لیے بے تاب تھا۔ ابھی سڑک پار کرتا کہ اس کی نظر دائیں جانب کھڑے بزرگ پر گئی۔ وہ اپنی سکوٹی کے ساتھ کھڑے، پریشان نظروں سے رم جھم برستی بارش کو دیکھ رہے تھے۔

“السلام علیکم!” وہ ان کے پاس جاتا، مہذب لہجے میں کہتا ہے۔

“وعلیکم السلام۔” بزرگ نے اسے دیکھتے، سنجیدگی سے جواب دیا۔

فیض ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا بات ہے، وہ پریشان کیوں ہیں؟ مگر اس کی ترکی زبان میں ابھی اتنی روانی نہیں آئی تھی، اس لیے اس نے میٹا کا استعمال کیا اور وہاں سے ترکی ٹرانسلیٹ کر کے ان سے بات کرنے لگا۔

“آپ پریشان ہیں، کوئی وجہ؟”

“مجھے گھر جانا ہے، اور اس بارش میں مجھے ڈر ہے کہ سکوٹی پھسل جائے گی۔”

“میں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کر دوں، اگر آپ مناسب سمجھیں تو۔”

بزرگ اس کی بات پر ایک دو پل چپ رہے، پھر جب بولے تو آواز میں تشکر تھا۔

“تمہیں اللّٰہ اس کا اجر دے گا، بیٹے۔”

وہ مسکرا دیا۔

پھر وہ سکوٹی پر بیٹھا اور بزرگ ان کے پیچھے، اور ان کے بتائے گئے پتے پر اس نے انہیں چھوڑ دیا۔

“بیٹا، اندر آؤ۔ چائے پی کر جانا۔”

“نہیں انکل، شکریہ۔ اس کی کوئی بات نہیں۔”

“ارے، کیوں نہیں بھئی۔ تم نے اتنی مدد کی ہے ہماری، آ جاؤ میرے شیر۔”

اس کے لاکھ روکنے کے باوجود بھی وہ اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے تھے، اور اندر جاتے ہی وہ ساکت ہو گیا۔

لاؤنج میں بے چینی سے ٹہلتی وہ ترک لڑکی، وہی تھی۔

“بابا، کہاں تھے آپ؟ مجھے پریشانی ہو رہی تھی۔”

“ماہ جبین، ان سے ملو۔ اس بچے کی وجہ سے ہی میں گھر آ سکا ہوں۔”

ماہ جبین نے بھوری آنکھیں اٹھا کر اس چھ فٹ کے بچے کو دیکھا، پھر ناسمجھی سے دوبارہ بابا کو دیکھنے لگی۔

بابا لاؤنج میں رکھے صوفے کی طرف بڑھتے ہوئے اسے ساری بات بتاتے گئے، اور وہ بھی مسکرا کر صوفے پر جا بیٹھا۔

ماہ جبین نے مسکرا کر اسے دیکھا اور کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔

جب تک وہ چائے لے کر آتی، فیض اور سلیم صاحب باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔

ان کے گھر سے واپس آتے وقت، فیض نے مسکرا کر ماہ جبین کو دیکھا تھا۔

اگلے کئی روز وہ بہت مصروف رہا تھا۔ اسے ترکی آئے نو دن ہو گئے تھے، مگر اس کے ہاتھ ابھی تک کچھ خاص نہیں لگا تھا۔ وہ اسی پریشانی میں اس کیفے پر بیٹھا کافی کے کڑوے گھونٹ بھرتا، اپنے خیالوں میں گم تھا، جب گلاس ڈور دھکیل کر اسے اندر آتی وہ دکھائی دی۔

نیلی پینٹ کے ساتھ ٹی شرٹ پہنے، اور اس پر نیلا ہی ڈھیلا سا سویٹر پہنے، وہ بہت کیوٹ نظر آ رہی تھی۔

سیدھ میں چلتی وہ فیض کے ساتھ سے ہوتے ہوئے گزر گئی تو وہ چونکا، لیکن اگلے ہی پل اسے حیرت کا جھٹکا لگا، جب اس نے فیض کو پیچھے سے پکارا۔

“فیض حاکم۔”

اس نے دھیرے سے گردن موڑی تو وہ اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی، اور پھر اس کے سامنے آ رکی۔

“کیسے ہیں آپ؟”

وہ ہونق بنا اسے دیکھتا رہ گیا۔

“اوہ، سوری۔ آپ کو ترکی سمجھ میں نہیں آتی ہو گی۔” اب کی بار ماہ جبین انگلش میں بولی تو وہ مسکرایا۔

“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟”

“میں بھی ٹھیک ہوں۔” وہ مسکرا کر جواب دیتی، اس کے سامنے رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔

“آپ پریشان لگ رہے ہیں، کیا بات ہے؟”

فیض کو حیرت ہوئی۔ وہ اتنی آسانی سے اس کی پریشانی بھانپ گئی تھی۔

“ہاں، دراصل ایک کیس حل کر رہا ہوں، اسی سلسلے میں پریشان ہوں۔” اس نے کہتے ہوئے ویٹر کو ایک اور کافی لانے کا کہا۔

“آپ انویسٹیگیٹر ہیں؟” اس نے اشتیاق سے آنکھیں پھلاتے پوچھا۔

“نہیں، پولیس آفیسر ہوں، مگر سینیئر نے ایک کیس پر انویسٹیگیشن کے لیے بھیجا ہے۔”

“کیس مطلب… آپ ترکی میں نہیں رہتے؟” اس نے حیرت سے پوچھا۔

فیض کو اس کے سوال اور اس کے ایکسپریشن نہ جانے کیوں بہت پسند آ رہے تھے۔

“نہیں۔ میں کچھ دنوں بعد ترکی سے چلا جاؤں گا۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، البتہ اس نے ماہ جبین کے چہرے کی جوت بجھتے ضرور دیکھی تھی۔

“اس کا مطلب، آپ کے پاس بہت تھوڑے دن بچے ہیں؟”

اس کے اس سوال پر بے اختیار اسے ہنسی آئی۔ “ہاں، میرے پاس بہت تھوڑے دن بچے ہیں۔”

اسے ہنستا دیکھ ماہ جبین بھی مسکرا دی تھی۔ پھر تھوڑی دیر مزید اس کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ وہاں سے اٹھ گئی، مگر جانے سے پہلے وہ اس کی جانب دیکھ کر نرمی سے مسکرائی ضرور تھی۔

فیض اس کے ساتھ ہوئی وہ ملاقات بھول نہیں پایا تھا۔ وہ جانتا تھا، وہ ایک سرسری سی ملاقات تھی، اور اس لیے وہ کوئی بھی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتا تھا، لیکن وہ غلط تھا۔ اگلے دن پھر سے ماہ جبین وہاں آئی تھی اور سیدھا اسی کے ٹیبل کے پاس چلی آئی تھی۔

“میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا؟”

وہ مسکرا دیا۔

“بے شک کیا، بٹ مجھے یہ ڈسٹربینس بہت پسند آئی ہے۔”

ماہ جبین مسکرا دی۔ ان کے مابین یہ خاموش سلسلہ تین دن چلتا رہا۔ وہ باتیں کرتے، پرابلمز شیئر کرتے اور ایک دوسرے کے بارے میں معلومات لیتے رہتے تھے۔

ماہ جبین کے بے حد اصرار پر وہ ایک رات ڈنر کے لیے اس کے گھر بھی آیا تھا ۔ سلیم صاحب کو بھی وہ بہت پسند تھا۔

پورے ایک ہفتے بعد اس شام وہ کیفے گیا تو سامنے اپنی مخصوص ٹیبل پر اسے بیٹھا دیکھ مسکرا دیا، مگر جیسے ہی وہ دو قدم آگے بڑھا، چونک گیا۔ وہ رو رہی تھی۔

وہ پریشانی سے اس کے پاس پہنچا۔

“آر یو اوکے؟” اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے، نرمی سے پوچھا تو وہ تڑپ کر اسے دیکھنے لگی اور مزید بلند آواز میں رونے لگی۔ اسے اس طرح روتے دیکھ، وہ پریشان ہو گیا۔

“کیا بات ہے، ماہ جبین؟ آپ کیوں رو رہی ہیں؟”

“آپ کہاں تھے؟ میں اتنے دنوں سے آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے لگا تھا، آپ چلے گئے ہیں۔”

اس نے روتے ہوئے بتایا، جبکہ فیض اس کی بات پر ساکت ہو گیا تھا۔

“میں کہاں ڈھونڈتی آپ کو؟” وہ روتی گئی۔

“مجھے آپ اچھے لگتے ہیں۔ کیوں لگتے ہیں، مجھے نہیں پتا، لیکن آپ کے دور جانے کا سوچ کر مجھے اچھا نہیں لگتا اور رونا آتا ہے۔ میں چاہتی ہوں آپ ساری عمر میرے ساتھ رہیں۔ آپ کو دیکھ کر اب اچھا لگتا ہے۔ مجھے آج سے پہلے کسی کے لیے یہ سب محسوس نہیں ہوا۔ اب آپ کے لیے ہو رہا ہے۔ پتا نہیں کیوں؟ میں کیا کروں؟”

اور وہ اسے اپنے لیے روتا دیکھ، مسکرا کر رہ گیا۔

جو خوش فہمی وہ پالنے سے ڈر رہا تھا، وہ حقیقت کا روپ دھارے اس کے سامنے کھڑی تھی۔

“آپ کیوں یہ سب چاہتی ہیں، ماہ جبین؟” اس نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑتے، مسکرا کر پوچھا۔

“کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟” اس نے سسکتے ہوئے، سوال کے بدلے سوال داغا۔

ایک پل کو ہر شے ساکت ہوئی تھی۔ گلاس ڈور نے تھم کر اس لڑکی کو دیکھا، جو خود پروپوز کر رہی تھی۔

اس کی بات پر وہ کچھ نہ بولا… کئی پل بعد، وہ بے اختیار اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنے لب رکھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چھوٹے سے گھر کے آنگن میں کھڑا، اسے دلہن کے روپ میں اپنی جانب آتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

(سلیم صاحب کے لاؤنج میں، ماہ جبین سلیم صاحب کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی، انہیں فیض کے بارے میں بتا رہی تھی۔)

اب وہ دونوں، نکاح نامے پر سائن کر رہے تھے۔

(سلیم صاحب مسکرا کر فیض کو دیکھ رہے تھے، جو انہیں اپنے بارے میں بتا رہا تھا۔)

ان دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔

(فیض، ماہ جبین کا ہمیشہ ساتھ دینے کے لیے انہیں وعدہ دے رہا تھا۔)

وہ دونوں ہی ترکی ائیرپورٹ پر کھڑے تھے۔ ماہ جبین روتے ہوئے اپنے بابا کے گلے لگی رو رہی تھی، جبکہ اس کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن، جو دو دن پہلے ہی کالج ٹرپ سے واپس آئی تھی، مسکرا کر اپنی بہن کو چپ کروا رہی تھی۔

(فیض اور ماہ جبین سمندر کنارے کھڑے، ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

“seni seviyorum.”

ماہ جبین نے مسکرا کر کہا، جس پر وہ مسکرا دیا تھا اور آگے بڑھتے، اس کی پیشانی پر لب رکھ گیا۔)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیض حاکم، میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی تم سے شادی کرنا۔

وہ غصے سے کہتی بیڈ کی چادر صحیح کر رہی تھی، جبکہ وہ شیشے کے سامنے کھڑا بال سیٹ کر رہا تھا۔

“تم اور تمہارے اصول میرا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔”

فیض نے والٹ اٹھایا، جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

ماہ جبین غصے اور بے بسی سے تلملا کر رہ گئی۔

ان کی شادی کو ایک سال ہو گیا تھا۔ ایک سال کے اندر ہی ماہ جبین کو فیض سے شادی کرنے پر پچھتاوا ہونے لگا تھا۔ وہ بہت کنٹرولنگ نیچر کا تھا۔ ہر بات پر روک ٹوک، ہر بات پر اصول، ہر بات پر سخت لہجہ اپنانے والا آدمی تھا، جبکہ ماہ جبین شوخ، چنچل اور آزاد خیال لڑکی تھی۔ دونوں کی اکثر بحث ہوتی تھی اور اکثر تو جھگڑا بڑھ جاتا تھا۔ پہلے پہل تو معاملات ٹھیک تھے، مگر اب فیض کے معاشی حالات اور بھی بگڑنے لگے تھے اور یہی حالات اسے مزید چڑچڑا کرنے لگے تھے۔ وقت پھسلتا چلا گیا اور ان کے مابین حالات مزید خراب ہوتے گئے، لیکن تقدیر نے ابھی اس کا کڑا امتحان لینا تھا۔

وہ جس کرمنل کو کھوج رہا تھا، وہ سامنے آ گیا تھا۔ جرمنی کا بہت بڑا مافیا، سٹیفن۔

فیض حاکم کو جب اس کا پتہ چلا تو اس کے اندر اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اگر وہ سٹیفن کو پکڑ لیتا تو پاکستانی غداروں کے نام بھی سامنے آ جاتے اور یوں فیض بھی سب کی نظروں میں اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا۔

یہی امید اسے اس دن اسٹیفن کے رائٹ ہینڈ تک لے گئی۔

سڑک پر کھڑے کنٹینرز کی تلاشی لی جا رہی تھی۔

فیض نے سب سے پہلے ٹرک کی تلاشی لی تو پھلوں کی پیٹیوں میں، پھلوں کی تہ کے نیچے پریاں تھیں۔ ایک پل کو تو کانپ کر رہ گیا، پھر نہ جانے اسے کیا سوجھی کہ وہ کنٹینر سے نیچے اتر آیا۔

“ہاں بھئی، کہاں لے کر جانا ہے مال؟” اس نے چہرے پر سختی چھڑاے پوچھا تو ڈرائیور نے گہری سانس بھری۔

“کراچی پورٹ بندرگاہ۔”

“ہمم، ٹھیک ہے۔ جاؤ۔” فیض نے اسے جانے کا راستہ دیا تو وہ گاڑی آگے بڑھا گیا۔

اس کے جانے کی دیر تھی جب فیض نے موبائل نکالتے اس کی لوکیشن ٹریس کی۔ اس نے کنٹینر کے اندر چیپ لگا دی تھی جس سے وہ اس کی لوکیشن ٹریس کر سکتا تھا۔

اس رات وہ ہڑبڑی میں گھر آیا تھا۔ اس نے ماہ جبین کے منہ لگنے کے بجائے فریش ہو کر کپڑے چینج کیے اور کراچی کے لیے روانہ ہو گیا۔

اس کا دماغ تیزی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کافی دیر سے وہاں کھڑا اسی ڈرائیور کا انتظار کر رہا تھا، جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخر کچھ وقت بعد جب وہ اسے نظر آیا تو فیض چوکنا ہو گیا۔

ڈرائیور نے ٹرک ایک جانب روک دیا اور بیٹھ کر کسی کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ایک سیاہ فارم آدمی اس کی طرف آیا اور وہ دونوں بات کرنے لگے۔

فیض دور سے کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

اب ڈرائیور دروازہ کھولتے باہر آیا تو سیاہ فارم آدمی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ 

آدمی نے آخری کچھ کلمات کہے تو سیاہ فارم ٹرک آگے بڑھا گیا۔

آدمی نے آخری نظر دور جاتے ٹرک پر ڈالی اور واپس پلٹا، مگر اگلے ہی پل وہ دھک سے رہ گیا۔

فیض بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا۔

آدمی نے فوراً دائیں جانب سے بھاگنا چاہا تو فیض نے اسے پکڑ لیا۔

“تمہارا گیم اب اوور ہونے والا ہے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیز پانی کی بوچھاڑ اس کے چہرے پر پڑنے سے وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔ اور جب بیدار ہوا تو دیکھا اندھیر کمرے میں وہ صوفے پر بیٹھا بالکل اس کے سامنے تھا۔

“ہاں بھئی، کیا نام ہے تمہارا؟” فیض نے سخت لہجے میں پوچھا۔

“عاصم۔” آدمی نے دھیمے لہجے میں بتایا۔ وہ کرسی پر رسیوں سے بندھا بیٹھا تھا۔

“ڈرگز کہاں سپلائی کر رہے ہو تم لوگ؟”

“صاحب، ٹرک میں پھل تھے۔”

“ہاں، مجھے بھی پھل نظر آئے ہیں۔” وہ طنزیہ بولا۔

“کتنے لوگ شامل ہیں اس دھندے میں؟ نام بتاؤ۔”

“صاحب… کوئی نہیں، میں سچ کہہ رہا ہوں۔”

اس کے جواب پر فیض اٹھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے دائیں گال پر رسید کیا۔ عاصم کا دماغ سنسنا کر رہ گیا۔

“اب میرے سوال کا الٹا جواب مت دینا۔ نام بتا!” وہ غرایا۔

عاصم نے خوف سے لبریز آواز میں اسے نام بتا دیے۔ دو لوگ تو اس کے اپنے کولیگ تھے جو اسمگلنگ جیسے سنگین جرم میں ملوث تھے۔

“باس کون ہے تیرا؟”

“صاحب، اس سے ہم کبھی نہیں ملے۔ وہ جرمنی کا رہنے والا ہے۔”

“اور وہ سیاہ فارم آدمی کون ہے؟”

“وہ بھی اسی کا ایک کارندہ ہے۔ یہاں سے مال زیورخ پہنچانا اسی کا کام ہے۔”

“نمبر بتاؤ اس کا۔”

“کیا؟”

“گھٹیا آدمی، اس کا نمبر بتاؤ مجھے!” فیض دھاڑا تو وہ ڈرتے ڈرتے اس کا نمبر بتانے لگا۔

فیض نے اس کا نمبر اپنے فون میں سیو کیا وہاں سے چلا گیا۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے روز عاصم، فیض کو ساتھ لیے بندرگاہ پر پہنچا اور اسی سیاہ فارم آدمی سے اس کی ملاقات کروا دی۔

فیض نے اپنا غلط نام بتایا تھا اور یہ کہہ کر ملاقات کی تھی کہ اس نے بھی مال سپلائی کروانا ہے۔

جب وہ روانہ ہونے لگے تو فیض نے نا محسوس انداز میں سیاہ فارم آدمی کی شرٹ پر وہی چیپ لگا دی تھی جس سے وہ لوکیشنز ٹریس کر سکتا تھا۔

اسی طرح وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتا پہلے اس نہج پر پہنچا کہ مال زیورخ سپلائی کیا جاتا ہے، اور یہ سارا نظام سٹیفن سنبھالتا ہے۔ اس کا اگلا نشانہ اب سٹیفن تھا، مگر اب اسے پکڑنے کا مقصد بدل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گارڈز کے مضبوط حصار میں وہ پُرسکون سا کھڑا تھا۔ اس کے بالکل سامنے انگیریز سٹیفن کھڑا تھا۔

“تم کیا چاہتے ہو، حاکم؟” سٹیفن نے بندوق کی نال اس کی پیشانی پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

“میں تمہارا رائٹ ہینڈ بننا چاہتا ہوں۔” فیض نے سکون سے جواب دیا۔ اس کے ہر انداز سے اعتماد جھلک رہا تھا۔ سٹیفن اس سے بہت متاثر ہوا تھا۔

“تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں زندہ چھوڑ دوں گا؟”

“کیونکہ میں نے تمہیں ڈھونڈا ہے، جو کہ آسان کام نہیں تھا۔ تم مجھ جیسے شاطر انسان کو گنوانا نہیں چاہو گے۔”

سٹیفن دل سے مسکرایا، مگر اگلے ہی پل اس نے ٹریگر دبا دیا۔

گولی تیزی سے نکلتے ہوئے فیض کے دائیں جانب کھڑے سٹیفن کے رائٹ ہینڈ کے سینے میں پیوست ہوئی۔ وہ وہیں درد سے کراہتا ڈھیر ہو گیا۔

“سٹیفن کی دنیا میں تمہارا ویلکم، فیض حاکم۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیض اسمگلنگ کے سارے انتظامات سنبھالنے لگا تھا۔ وہ بہت محنت سے گناہ کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر کا لالچ بڑھتا گیا۔ اس نے ہندوستان اور عرب ممالک میں بھی اسمگلنگ کرنا شروع کر دی تھی۔ اس کے اندر لالچ کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا تھا، اور اسی لالچ کے زیر اثر اس نے زہر دے کر سٹیفن کا قتل کر ڈالا تھا اور خود اس کی گدی پر براجمان ہو گیا تھا۔ اب اس گناہوں کی دنیا کا مالک وہ خود تھا۔

حال 

فون کی تیز چھنگاڑ نے اسے ماضی کی دنیا سے واپس حال میں کھینچا تو وہ چونک کر اپنے خیالوں سے باہر آیا ۔ 

“سائفر تم سے زیادہ بڑا سر درد کوئی نہیں ہو سکتا”۔ انہوں نے کراہا کر آنکھیں میچتے کہا اور نیپکین سے اپنے ہاتھ صاف کیے ۔ 

باہر موسم جو ماضی کی فضا میں تحلیل ہوتا پر اسرار ہو گیا تھا اب آہستہ آہستہ دھندلکے میں غائب ہوتا جا رہا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

“تم جاؤ گے پھر زیورخ؟”

فون سے ابھرتے دلاور کے سوال پر وہ ایک پل کو چپ رہا۔

ابھی کچھ وقت پہلے ہی وہ اسٹوڈیو سے واپس سیدھا آفس آیا تھا۔

“میں ان کی بات جھٹلا نہیں سکتا۔” اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

“پھر پرسوں روانہ ہو جانا۔ میں فیض سے کہہ دوں گا میٹنگ پرسوں رکھے اور ڈیلر کو پتہ بتا دیتا ہوں۔”

“ہمم۔” وہ اثبات میں سر ہلاتا فون کان سے ہٹا گیا۔

اس وقت وہ گلاس ونڈو کے سامنے کھڑا دور دراز پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ یکایک پہاڑ بدلنے لگے، بادل دھند میں ڈھلنے لگے اور گھڑیال کی سوئیاں ماضی کی طرف پھرنے لگیں، اس مقام کی طرف جہاں سے شروعات ہوئی تھی۔

ماضی

مرزا حاکم نے جس گھر میں پہلی بار اپنی آنکھیں کھولی تھیں، وہ اسلام آباد کا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ دو کمروں، ایک اوپن کچن اور چھوٹے سے صحن پر مشتمل وہ گھر جس میں وہ، اس کی ماں ماہ جبین اور فیض حاکم رہتے تھے۔ باپ ایک پولیس آفیسر تھا اور ماں ہاؤس وائف تھی۔

مرزا شروع سے بہت کم گو اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والا بچہ تھا۔ سکول میں بھی مخصوص بچوں سے بات کرتا اور انہی کے ساتھ کھیلتا تھا۔ ماہ جبین نے پڑھائی میں اس کی بیس (base) بہت مضبوط بنائی تھی، جس کے باعث وہ کلاس کے اچھے پڑھنے والے بچوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے گھر میں اکثر ایک شور برپا ہوتا تھا جو اس چھوٹے سے بچے کو اندر ہی اندر ڈر اور خوف میں مبتلا کرتا گیا۔

دوپہر کے تین بجے کا وقت تھا۔ ہر طرف خاموشی پھیلی تھی۔ وہ لاؤنج میں رکھے صوفے پر ایک طرف سمٹا بیٹھا تھا۔ پورا جسم کانپ رہا تھا، آنکھوں میں خوف پھیلا تھا، جبکہ سماعتوں میں اندر کمرے سے آتی بلند آوازیں پڑ رہی تھیں۔

“گھٹیا عورت، تم اس لائق ہی نہیں ہو کہ تم پر یقین کیا جائے!” فیض غصے سے دھاڑتے ہوئے ماہ جبین کو مارنے لگا۔

ماہ جبین بھی بلند آواز میں زبان درازی کرتے مار کھا رہی تھی۔ دونوں میں سے کوئی جھکنے کو تیار نہ تھا۔

سات سالہ مرزا حاکم اب بے آواز رونے لگا تھا۔ ایک ہاتھ سے اس نے تیزی سے دھڑکتے دل کو تھاما ہوا تھا۔

یکایک کمرے کا دروازہ کھلا، بکھری ہوئی حالت میں ماہ جبین باہر نکلی اور اگلے ہی پل وہ کچن کی جانب بھاگی۔

فیض بھی کمرے سے باہر نکلا۔

“میں مار دوں گی خود کو! بہت برداشت کر لیا میں نے، میں ختم کر دوں گی خود کو!” وہ ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی نچلے کیبنٹ سے پیٹرول کی بوتل نکال گئی۔

فیض بھی تیزی سے اس کی جانب بھاگا۔

مرزا حاکم کو لگا جیسے اس کی روح پرواز کر گئی ہو۔

“میں مار دوں گی خود کو۔۔۔”

“ماہ جبین، چھوڑو اسے! پاگل ہو گئی ہو کیا۔۔۔؟”

وہ دونوں زور آزمائی کرنے لگے تھے، جبکہ مرزا اب کانوں پر ہاتھ رکھے دھاڑے مار مار کر رونے لگا تھا۔

مرزا کے رونے کی آواز، ماہ جبین کے چلانے اور فیض کے دھاڑنے کی آواز مل کر ایک شور برپا کر رہی تھی۔

“بابا۔۔۔ ماما۔۔۔ اللہ میاں۔۔۔” وہ زور زور سے روتے ہوئے نام لیتا جا رہا تھا۔

فیض نے پوری طاقت لگاتے ہوئے ماہ جبین کے ہاتھ سے پیٹرول کی بوتل جھپٹی اور اسے کھینچ کر ایک تھپڑ دے مارا۔

ماہ جبین ایک دو پل ساکت نظروں سے فیض کو دیکھتی رہی، پھر تیزی سے کمرے کی جانب چل دی اور اندر جاتے دروازہ ٹھاہ کی آواز سے بند کر دیا۔

فیض نے بند دروازے پر لعنت بھیجی اور غصے کی حالت میں گھر سے باہر چلا گیا۔

سات سالہ بچہ ہنوز روتا رہا۔

مرزا حاکم نے بچپن سے یہی دیکھا تھا۔ ماہ جبین اور فیض کے زبردست تنازعے کے کچھ وقت بعد ہی وہ ٹھیک ہو جاتے تھے، مگر مرزا ٹھیک نہ ہو پاتا تھا۔ وہ کئی کئی دن خوف و ہراس کا شکار رہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج کی چمکتی دھوپ کلاس روم کو مزید روشن کر رہی تھی۔ مکمل خاموشی میں چھت پر چلتے تیز رفتار پنکھے کی آواز ایک الگ ساز پیدا کر رہی تھی۔

ٹیچر بورڈ پر کچھ لکھ رہے تھے، جبکہ باقی بچے بورڈ پر لکھی تحریر کو نوٹ کر رہے تھے۔

ٹیچر بورڈ مارکر بند کرتے واپس مڑے، تو اُن کی نظر دور ایک طرف رکھی چیئر پر گم سم بیٹھے مرزا حاکم پر گئی۔

وہ اُس کے سر پر جا پہنچے اور غصّے سے پوچھنے لگے، “کونسے خیالوں میں ہو آپ؟”

اپنے پاس سے کسی کی تیز آواز سن کر مرزا خوف سے اچھل پڑا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے سر پر کھڑے مرد کو دیکھا۔

“میں نے پوچھا، کلاس ورک نوٹ کیوں نہیں کیا آپ نے، مرزا حاکم؟” ٹیچر نے پھر سے پوچھا، جبکہ وہ خوف سے تیز دھڑکتا دل تھام گیا۔

آوازیں گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔ ٹیچر کی جگہ فیض اُس کے سر پر کھڑا دھاڑ رہا تھا۔

“مرزا، کیا ہوا؟ آپ ٹھیک ہو؟” ٹیچر نے اُس کی بدلتی رنگت دیکھ کر تشویش سے پوچھا اور اُسے پکڑنے کے لیے آگے بڑھے۔

“نہیں۔۔۔ مجھے مت مارنا۔ پلیز، اللّٰہ میاں! کوئی نہ لڑے۔۔۔ اللّٰہ میاں!”

اپنے پاس آتے ٹیچر کو دیکھ مرزا چلایا اور پھر ہزیانی انداز میں روتا اور چیختا گیا۔

ساری کلاس اُس کے پاس جمع ہو کر دیکھ رہی تھی، جبکہ ٹیچر صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے مرزا کو گود میں اُٹھا گئے اور خود میں سمیٹے کلاس سے باہر نکل گئے۔

“کچھ نہیں ہے، بیٹا۔ کوئی نہیں ہے۔”

وہ کانپتے ہوئے مرزا حاکم کو گراؤنڈ میں لے آئے تھے اور اُس کی پشت سہلانے لگے۔

کچھ دیر بعد مرزا کی سسکیاں تھمیں، تو ٹیچر نے اُسے نیچے اُتارا اور اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔

“اب بتاؤ، کیوں ڈر گئے تھے آپ؟” اُنہوں نے ترک نقوش کے مالک اُس خوبصورت سات سالہ بچے کو دیکھتے ہوئے پیار سے پوچھا۔

اُس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

“پھر اتنا ڈرے ڈرے سے کیوں لگ رہے تھے آپ؟ کل سر عثمان کی کلاس میں بھی آپ سارا ٹائم سوتے رہے ہو۔ پچھلے کئی دنوں سے آپ کا دھیان پڑھائی پر نہیں ہے۔ مجھے بتاؤ، بیٹا، کوئی پرابلم ہے؟”

اُس نے اُن کی ساری بات پر ایک بار پھر نفی میں سر ہلایا، تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئے۔

“اچھا، آؤ میرے ساتھ۔” اُنہوں نے اُس کا ہاتھ تھامتے کہا، تو وہ اُن کے ساتھ ہی چل دیا۔

سورج کی کرنیں اُس کے چھوٹے سے وجود کا سایہ زمین پر بناتی ایک خوبصورت منظر پیش کر رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پورے کمرے میں اندھیرا پھیلا تھا، صرف سٹڈی ٹیبل پر جلتے لیمپ کی روشنی ہی کمرے کو نیم روشن کر رہی تھی۔ وہ کرسی پر بیٹھا خاموشی سے اپنی ڈائری کے سفید، کورے پنّوں پر الفاظ گھسیٹ رہا تھا۔ اگر تم دبے پاؤں چلتے اُس کے قریب جاؤ، تو اُس کے الفاظ تمہاری سانس روک دیں گے۔

“میں وہ بچہ ہوں جس کی سماعتوں نے شور سنا ہے۔ وہ شور جو اُس کے اندر دبتا، اُسے باہر سے خاموش کرتا جا رہا ہے۔ جسے کبھی ماں باپ کا حصار نہیں ملا، محبت نہیں ملی، کیونکہ وہ دونوں اپنے نجی معاملات میں اتنا مصروف ہوتے ہیں کہ اُنہیں بھول جاتا ہے، ایک جان ہے جو اُن کے لیے ترس گئی ہے۔ میں وہ ہوں جس کا کوئی دوست نہیں ہے، کیونکہ اُس نے دوست بنانا نہیں سیکھا۔ جس کے غموں کی تعداد اِس قدر ہے کہ اُسے نہیں پتا خوشی کسے کہتے ہیں؟ سکون کسے کہتے ہیں؟ میرے اندر اتنا گہرا خلا ہے کہ کبھی کبھی میں اُس خلا میں خود کو ڈوبتا محسوس کرتا ہوں۔ خوف ہے کہ کہیں یہ خلا مجھے نگل نہ جائے، مگر نہیں نگلتا۔۔۔ میں خود کو واپس کھینچ لیتا ہوں۔”

خاموش کمرے میں کاغذ پر الفاظ گھسیٹتی پنسل ایک ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

“اِس پوری دنیا میں میرے پاس کوئی نہیں ہے جسے میں بتا سکوں کہ میں وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹتا جا رہا ہوں، کچی مٹی کی دیوار کی طرح گرتا جا رہا ہوں۔ لیکن کوئی ہے۔۔۔ جو میرے حال سے واقف ہے، جو مجھے دیکھتا ہے۔ وہ جو مجھے یہاں لے کر آیا ہے۔ وہ جو میرا رب ہے۔ وہ جو آپ کا رب ہے۔”

“مجھے اُس رب سے شکوے ہیں۔۔۔ بہت ہیں۔ جیسے کہ اُس نے مجھے غلط ماں باپ کے حوالے کیا ہے۔ جیسے کہ اُس نے مجھے بہت سی خواہشوں کے لیے ترسایا ہے۔ اور جیسے کہ۔۔۔ خیر، بہت سے شکوے ہیں۔ لیکن پھر بھی میں اُس رب کو نہیں چھوڑوں گا، کیونکہ میرے پاس صرف وہی میری متاعِ جاں ہے۔ اُسے چھوڑ دوں گا تو مرزا حاکم خاک ہو جائے گا، اور ابھی مجھے خاک نہیں ہونا، کیونکہ ابھی مجھے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔ مجھے حاکم بننا ہے۔”

“میں اپنے غموں، ٹراماز، اپنی بے سکونی، اپنی ناقدری، آنسوؤں اور تنہائی کا گواہ اُس رب کو بناتا ہوں جو میرا رب ہے، اور جو آپ کا رب ہے۔”

اُس نے پنسل ایک طرف رکھی اور ڈائری بند کر دی۔ اُس کے چہرے پر سنجیدگی پھیلی تھی۔ نہ کوئی جذبہ، نہ کوئی احساس۔۔۔ بس گہری خاموشی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مرزا، کیا بات ہے؟”

سلیم صاحب نے اُسے لاؤنج کے صوفے پر گم سم بیٹھا دیکھا، تو اُسی کی طرف چلے آئے۔

“کچھ نہیں، نانا جان۔”

وہ اُس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔

ترکی کا آسمان بادلوں سے گھرا ہوا تھا اور موسم دلکشی سمیٹے ہوئے تھا، یوں جیسے ہر شے پر بہار اُتر آئی ہو۔

اُسے ترکی آئے دو دن ہو گئے تھے اور وہ جب سے آیا تھا، بہت چپ چپ سا تھا۔

“پھر پریشان کیوں ہو؟ نانا کے گھر مزا نہیں آ رہا کیا؟”

“نہیں، مجھے یہاں مزا آتا ہے۔ ایک سکون سا پھیلا ہوتا ہے اِدھر۔”

“وہاں سکون کیوں محسوس نہیں ہوتا؟” سلیم صاحب نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“وہاں بھی محسوس ہوتا ہے، بہت ہوتا ہے۔۔۔ مگر یہاں زیادہ ہوتا ہے۔” اُس نے مسکرا کر جواب دیا۔

“ماشاءاللّٰہ! نماز پڑھتے ہو تم؟”

“جی، پڑھتا ہوں۔”

“پوری؟”

“جی، پوری پانچ وقت کی پڑھتا ہوں۔”

“ماشاءاللّٰہ۔۔۔ ماشاءاللّٰہ! نانا کی جان ہو تم۔” سلیم صاحب نے اُسے اپنے سینے سے لگاتے محبت سے کہا اور یوں ہی لگائے زیرِ لب کچھ پڑھنے لگے۔ اُنہوں نے چار قُل پڑھتے ہوئے اُس پر دم کر دیا۔

وہ گہری نظروں سے اُن کے ہلتے لب اور حرکات دیکھتا رہا۔

“ایک بات بتائیں، نانا جان۔”

“تم دو باتیں پوچھ لو۔” وہ مسکرائے۔

“اللّٰہ کے سب سے قریب بندے کون ہوتے ہیں؟”

“جو اللّٰہ کے آگے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہیں۔”

“مطلب؟”

اُنہوں نے اُس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما اور لبوں سے لگایا۔

“مطلب یہ کہ وہ اللّٰہ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ اگر دل اور اللّٰہ میں کسی ایک شے کو چننا ہو، تو وہ اللّٰہ کو چنتے ہیں۔ وہ اُسے حاکم سمجھتے ہوئے پکے غلام بنتے ہیں اور ہر حکم مانتے ہیں۔”

“دل اور اللّٰہ درمیان میں کیسے آئے، نانا جان؟” اُس نے پریشانی سے پوچھا، تو وہ ہنس دیے۔

“دیکھو حاکم، میری بات یاد رکھنا۔” اُنہوں نے اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ “تمہاری زندگی میں ایسے حالات بھی آئیں گے، جب تمہارا دل تمہیں اُس بات کا حکم دے گا جو اللّٰہ کو ناراض کرے گی۔ تم نے اُس صورت میں دل کی بات نہیں ماننی، ورنہ اللّٰہ کو کھو دو گے۔ تم نے دل کی بات کو ترک کرتے ہوئے اللّٰہ کو تھام لینا ہے، اُس شے سے پناہ مانگنی ہے۔ سمجھے ہو میری بات کو؟”

“جی، سمجھ گیا ہوں۔ میں نے ہر حال میں اللّٰہ کی بات ماننی ہے، دل کی باتوں پر کان نہیں دھرنے۔” اُس نے فیصلہ کن لفظوں میں کہا، تو بے اختیار اُن کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔

وہ ایک بار پھر اُسے سینے سے لگا گئے۔

مرزا حاکم کو بڑی محبت تھی اللّٰہ سے۔ وہ ننھی دلارے کو ہر وقت اللّٰہ کے بارے میں بتاتا رہتا تھا اور نانا جان اتنے چھوٹے سے بچے کو اُس رب کی پاکی بیان کرتا دیکھ حیران ہو جاتے تھے۔

کچھ پل اُن کے آس پاس خاموشی پھیلی رہی، پھر وہ بولے، “تمہیں اللّٰہ سے اتنی محبت کیوں ہے، حاکم؟” یہ سوال بے اختیار لبوں پر آیا تھا۔

مرزا نے دھیرے سے اُن کے سینے سے سر اُٹھایا اور گہری نظروں سے اُنہیں دیکھا۔ ایک دو پل وہ اُنہیں دیکھتا رہا۔

“کیونکہ مجھے اللّٰہ سے امیدیں بہت ہیں۔”

اُس نے دھیرے سے کہا، تو سلیم صاحب تھم گئے۔

اُس نے اپنی عمر کے لحاظ سے بہت گہری بات کی تھی اور یہی گہرائی اُنہیں اندر سے لرزا گئی تھی۔

“میں اللّٰہ سے امید کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے مایوس نہیں ہونے دے گا۔ اِس لیے میں نماز پڑھتا ہوں، قرآن پڑھتا ہوں۔”

سلیم صاحب کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکنے لگا تھا۔

“آپ کو پتا ہے، میری اسلامیات کی بک (کتاب) میں میں نے پڑھا تھا کہ اگر ہم اللّٰہ کی بتائی گئی انسٹرکشنز کو فالو کریں گے، تو اللّٰہ دعا قبول کرے گا، کامیاب کرے گا، بلندی پر لے جائے گا اور کبھی ہماری امیدوں کو نہیں توڑے گا۔ اِس لیے میں نے پچھلے سال سے ہی پوری نمازیں پڑھنا شروع کر دی ہیں اور اب سکول کے بعد قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے بھی جاتا ہوں۔”

سلیم صاحب کی آنکھ سے ایک موتی نکلا اور اُن کے گال پر پھسلتا چلا گیا۔ اُنہوں نے آگے بڑھ کر اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ وہ اپنی باتوں میں، جذبات میں کتنا گہرا تھا۔

“اللّٰہ ہر آزمائش میں تمہاری ڈھال بنے۔” اُنہوں نے شدت سے دعا مانگی تھی۔

اِس سے پہلے وہ کچھ اور کہتے، اندر سے ننھی دلارے نے گلا پھاڑنا شروع کر دیا تھا۔ وہ نیند سے اُٹھ گئی تھی۔

“میں دلارے کے پاس جاتا ہوں۔”

مرزا فوراً سے دلارے کے پاس چلا گیا، جبکہ سلیم صاحب اب افسردگی سے اُس جگہ کو دیکھتے رہے جہاں سے ابھی وہ گیا تھا۔

امید کی بنیاد پر قائم کیے گئے تعلق میں، جب امید ٹوٹ جائے، تو واپس پلٹ آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ بندہ رب سے امید باندھنے میں عرصہ لگا دیتا ہے، جبکہ بدگمان ہونے میں ایک لمحہ نہیں لگاتا۔

اُنہوں نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا تھا۔

اِس چھوٹے سے لاؤنج میں خاموشی ہر طرف پھیلتی چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے دس بجے وہ اپنے کمرے میں بیٹھا نہ جانے کتنی دیر سے لاؤنج میں بیٹھے فیض اور ماہ جبین کی بحث سن رہا تھا۔

مرزا نے ایک پل کو سکون کی نیند سوتے سات سالہ تبریز کو دیکھا اور پھر گہرا سانس بھرتے ہوئے اُٹھا اور کمرے کا دروازہ کھول کر لاؤنج میں آ گیا۔

اُسے آتا دیکھ وہ دونوں چپ ہو گئے تھے۔

“کیا بات ہے، بابا؟” چودہ سالہ مرزا نے بوجھل آواز میں پوچھا۔ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ نیند سے اُٹھ کر آیا ہے۔

“کچھ نہیں، بیٹا۔ اِدھر آؤ۔” فیض نے اُسے اپنے پاس بلایا۔

“ہممم۔” وہ اُن کے پاس جاتے ہوئے بولا۔

“ہم دو دن بعد یہاں سے جا رہے ہیں، یعنی نئے گھر میں شفٹ ہو رہے ہیں۔”

وہ حیرت سے باپ کو دیکھ کر رہ گیا۔ “کیا مطلب، بابا؟”

“مطلب میری پروموشن ہو گئی ہے، اِس لیے اب میں نے نیا گھر خریدا ہے۔”

اُس کی بات پر ماہ جبین نے تلملا کر فیض کو دیکھا تھا۔

“ہم امیر ہو گئے ہیں؟” مرزا نے حیرت سے پوچھا تھا۔

“ہاں، ہم امیر ہو گئے ہیں۔ ہمارا بڑا سا گھر ہو گا۔”

مرزا کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی، جبکہ ماہ جبین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔

“تم حرام کھلاؤ گے اب اپنے بچوں کو۔” اُس نے اشک بار آنکھوں سے فیض کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

“تم اپنا منہ بند رکھو، گھٹیا عورت!” وہ چبا چبا کر کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔

“کل سکول مت جانا۔ میں تمہارا ایڈمیشن اب نئے سکول میں کروا دوں گا۔” اُس نے جاتے ہوئے مرزا کو دیکھ کر کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

وہ کچھ پل تو روتی ہوئی ماہ جبین کو دیکھتا رہا، پھر خود بھی اپنے کمرے میں چلا گیا۔

کب دو دن گزرے اور وہ کب اُس بڑے سے گھر میں جا پہنچے، کچھ پتا نہ چلا۔ سب بہت جلدی جلدی ہو رہا تھا۔ اُس کا نئے سکول میں ایڈمیشن ہو گیا تھا، تبریز کو ترکی نانا کے پاس بھیج دیا گیا تھا، اور بابا یہ کہہ کر زیورخ چلے گئے تھے کہ زیورخ میں اُن کی نئی کمپنی تعمیر ہو رہی ہے، اِس لیے اب وہ کچھ عرصہ وہیں قیام کریں گے۔

اب اُس اتنے بڑے گھر میں صرف مرزا اور ماہ جبین ہی رہ گئے تھے، اور ایک گہری خاموشی تھی۔

وہ اکثر رات کو مدھم سسکیوں کی آواز پر جاگتا تھا، اور جب آواز کے تعاقب میں جاتا تو ماہ جبین ایک کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی رو رو کر نہ جانے اللّٰہ سے کیا کہہ رہی ہوتی تھیں۔ وہ بہت دیر تک اُنہیں روتا دیکھتا رہتا، پھر خود بھی اپنے کمرے میں آ کر جائے نماز بچھا کر اُس پر بیٹھ جاتا۔

اللّٰہ کو پورے دن کی روداد سناتا، اپنی تنہائی بتاتا، اور پھر اُسے ہمیشہ کی طرح اپنی ہر دعا دہراتا تھا۔

فیض کئی کئی مہینوں کے بعد گھر واپس لوٹتا تھا، اور وہ دن مرزا کے لیے عید کا دن ہوتا تھا، جبکہ ماہ جبین کے لیے موت کا۔

وہ اپنی ماں کے رویّے کو سمجھ نہ پاتا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ فیض کی امیدوں کا گراف مرزا کے لیے مزید بڑھتا گیا، جو کہ مرزا حاکم کے لیے ایک مشکل امتحان بن کر رہ گیا تھا۔

اُس روز وہ دونوں اپنے وسیع لان میں بیٹھے تھے۔ ڈھلتی شام کا مدھم روشن سورج تازگی بخش رہا تھا۔

“تمہارے پیپرز کب ہیں، مرزا؟”

“پانچ ماہ بعد۔” اُس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“مجھے پوزیشن چاہیے۔” فیض نے اٹل لہجے میں کہا، تو مرزا نے گہرا سانس بھرا۔

“پوزیشن ہی لایا تھا پچھلی بار۔”

اُس کی بات پر فیض کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی تھی۔

“میرے نزدیک پوزیشن صرف ٹاپ پر آنا ہے۔ یہ سیکنڈ، تھرڈ۔۔۔ ڈزنٹ میٹر (doesn’t matter).”

مرزا لب بھینچ گیا تھا۔ جو باپ بچپن میں محبت نہیں دے سکا، وہ اب اُس کی کامیابی کی امید کیسے لگا سکتا ہے؟

اگلے کئی ماہ اُس کے لیے بہت مشکل ثابت ہوئے تھے۔ دن رات کی محنت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی دعاؤں میں شدت لاتا گیا، مگر ایک آزمائش اُس کی منتظر تھی۔

“میں نے تم سے کہا تھا، مرزا، مجھے پوزیشن چاہیے۔ یہ کوئی رزلٹ ہے؟” فیض نے غصّے سے لال ہوتے ہوئے کہا۔

“تم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ کیا اِس طرح تم حاکم بنو گے؟ بتاؤ مجھے!”

وہ لاؤنج میں سر جھکائے چپ چاپ کھڑا تھا۔ وہ سیکنڈ آیا تھا، مگر فیض کے نزدیک وہ فیل ہو گیا تھا۔

“تم ایک نااہل انسان ہو۔ میں نے تم سے کہا تھا کلاس میں کنیکشنز بناؤ، دوست بناؤ۔ تم وہ بھی نہ بنا سکے۔ تم کچھ کر ہی نہیں سکتے، مرزا حاکم۔ تم صرف ایک ناکارہ ڈھیر ہو۔”

مرزا نے تڑپ کر چہرہ اُٹھاتے ہوئے فیض کو دیکھا۔ آنکھوں میں کرچیاں چبھنے لگی تھیں۔

“دفعہ ہو جاؤ یہاں سے!” فیض نے دھاڑتے ہوئے کہا، تو وہ مڑ گیا۔ دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں آیا اور وہاں بند ہو گیا۔

“کتنی دعائیں کی تھیں میں نے۔۔۔ کیا میری ساری نمازیں، سارے ورد، ساری محنت آپ کے نزدیک کچھ نہ تھی؟”

اپنے بستر پر گرتے مرزا حاکم کے ذہن میں زندگی کے پہلے شکوے نے بیج بو دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس کے لیے دوست بنانا بہت مشکل تھا۔ وہ ہمیشہ سے بہت اِنٹروورٹ رہا تھا۔ اِس سکول میں بھی وہ اپنی کلاس میں بہت اکھڑ اور رُوڈ مشہور تھا۔ لوگ اُس کی چپ اور تنہائی سے اندازہ لگاتے کہ اُس میں اٹیٹیوڈ بھرا ہے، جس کے باعث کوئی اُس سے بات نہ کرتا تھا۔ اب اِن سب باتوں کے بعد کسی سے یہ کہنا کہ “میرے دوست بن جاؤ”، اُس کے لیے موت برابر تھا۔ لیکن اُسے بنانے تھے۔ بابا کو راضی بھی تو کرنا تھا نا۔

اپنی کلاس کے تمام لڑکوں کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُسے شازین اچھا لگا تھا۔ وہ پڑھائی میں بھی اچھا تھا اور مرزا کے ساتھ اچھی بات چیت بھی کر لیتا تھا۔

بریک ٹائم میں، جب شازین گراؤنڈ میں رکھے بینچ پر بیٹھا نوٹس بنا رہا تھا، تب وہ اُس کے پاس گیا۔

اپنے پاس آتے قدموں کی آواز پر شازین نے سر اُٹھایا، تو مرزا اُس کے سامنے کھڑا تھا۔

“کیسے ہو، شازین؟”

شازین ایک پل کو اُسے دیکھتا رہا۔

مرزا کے لیے اب بات کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ چپ چاپ اُس کی دائیں جانب کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔

شازین اپنے خیالوں سے باہر آیا اور حیرت سے مرزا کو دیکھا۔

“م۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟”

“میں بھی ٹھیک ہوں۔” اُس نے بمشکل مسکرا کر جواب دیا۔

کچھ پل کے لیے اُن دونوں کے درمیان خاموشی حائل ہو گئی۔

مرزا نے گہرا سانس بھرا۔ شازین دوبارہ رجسٹر پر جھک گیا۔

“آج کی کلاس کیسی رہی تمہاری؟” مرزا نے حلق تر کرتے دوبارہ کہا، تو شازین نے جواب دینے کے بجائے رجسٹر بند کیا اور گہرا سانس لیتے ہوئے مرزا کو دیکھا۔

“میں تمہیں بالکل نہیں کاٹوں گا، اگر تم کام کی بات پر آؤ گے، مرزا حاکم۔”

اُس کی بات پر مرزا دنگ رہ گیا۔ کچھ پل تو اُسے دیکھتا رہا، پھر بے اختیار اُس کا قہقہہ بلند ہوا۔ وہ ہنستا چلا گیا۔

شازین مدھم مسکراہٹ سے اِس خوبصورت لڑکے کو ہنستا ہوا دیکھ رہا تھا۔

“اب بتاؤ، کیا کہنا ہے؟”

مرزا نے اُسے دیکھا اور کہنا شروع کیا۔

“شازین، جو میں تم سے کہنے والا ہوں، اپنی سولہ سالہ زندگی میں میں نے کسی سے نہیں کہا۔ کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی، یا شاید وقت نہیں ملا، یا پتا نہیں۔۔۔” وہ بات کرتے جھجھک رہا تھا۔ شازین غور سے اُس کی بات سن رہا تھا۔

“میں نے سب کو جج کیا ہے، پر مجھے تم صحیح لگے ہو۔”

“کیا تم میرے فرینڈ بنو گے، شازین؟” مرزا نے بات ختم کی، تو بغور شازین کے تاثرات دیکھے۔

وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتا رہا۔۔۔ دیکھتا رہا، یہاں تک کہ اگلے ہی پل وہ بلند قہقہے لگاتا ہنس پڑا۔

“سیریسلی، مرزا حاکم۔۔۔ ہاہاہاہاہااااا!”

مرزا کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔

وہ ہنسی سے دہرا ہوتا گیا۔

شازین بہت دیر تک ہنستا رہا، پھر ہنسی پر قابو پاتے ہوئے سیدھا ہوا۔

“یار، تم ایسے بات کر رہے تھے جیسے میرا رشتہ لینے آئے ہو۔”

مرزا نے کندھے ڈھیلے چھوڑ دیے۔

“دیکھو، مرزا حاکم، میں بہت فنی نیچر کا ہوں۔ بہت اچھا نہیں ہوں، تو بہت بُرا بھی نہیں ہوں۔ تمہاری ہنسی کی گارنٹی لیتا ہوں، ساتھ بھی اچھے سے نبھاؤں گا۔ اب بتاؤ، منظور ہوں یا دوسرا آپشن ڈھونڈو گے؟” شازین نے آنکھ دباتے ہوئے کہا، تو مرزا ہنس دیا۔

“منظور ہو۔”

“یار، ویسے شروع میں میں پریشان ہو گیا تھا۔ پتا نہیں سولہ سالہ زندگی میں مرزا حاکم کیا کرنے والا ہے۔ پہلی دفعہ مجھے لگا۔۔۔”

شازین اب دوبارہ ہنستے ہوئے اُسی بات کو پکڑ کر بیٹھ گیا، جبکہ مرزا مسکرا رہا تھا۔

ایک بوجھ تھا جو دل سے ہٹ گیا تھا۔ دوستی کے لیے کہنا اتنا بھی مشکل نہیں تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شازین ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی اُس کے ماں باپ فوت ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اکیلا رہتا تھا۔

اُن دونوں کی دوستی بہت اچھی ثابت ہوئی تھی۔ اُس نے اب جانا تھا کہ دوست کا ہونا کیوں ضروری ہوتا ہے۔

دوست کی موجودگی سکون دیتی ہے، دلاسہ دیتی ہے، ہنساتی ہے، رُلاتی ہے، تھکاوٹ میں ٹیک دیتی ہے، آپ کے گرتے وجود کو دوبارہ سے جوڑتی ہے اور کھڑا کرتی ہے۔

کبھی کبھی وہ سوچتا تھا کہ اُس نے پہلے کبھی دوست کیوں نہیں بنائے؟

وہ دونوں ساتھ میں پڑھنے لگے تھے۔ ویک اینڈ پر مووی دیکھنے جاتے تھے۔ اکثر راتوں کو گھومنے نکل پڑتے تھے۔ شازین کے ساتھ کی وجہ سے مرزا ہنسنے لگا تھا، خوش رہنے لگا تھا۔ اُسے اپنے ٹراماز کم تکلیف دینے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس رات وہ یونیورسٹی سے لیٹ گھر آیا تھا، جب لاؤنج میں قدم رکھتے ہی اُس کے کانوں میں ماہ جبین کے الفاظ گونجے۔ وہ رک گیا۔

“تم چاہتے ہو میرا بیٹا بھی حرام کمائے؟ جہنم خرید لے؟” ماہ جبین دھاڑتے ہوئے پوچھ رہی تھیں۔

“نہیں، میں چاہتا ہوں میرا بیٹا میرا ساتھ دے۔” فیض سنجیدگی سے بولا۔

مرزا ناسمجھی سے دو قدم آگے بڑھا، تو منظر واضح ہوا۔

فیض حاکم صوفے پر براجمان، ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا، جبکہ ماہ جبین سر پر کھڑی طیش کے عالم میں چلا رہی تھیں۔

“میں ایسا نہیں ہونے دوں گی، فیض! سمجھے تم؟”

“تم سے پوچھ کون رہا ہے، ماہ جبین؟ یہ میری اور میرے بیٹے کی بات ہے، تم بیچ میں نہ پڑو۔”

“وہ میرا بھی بیٹا ہے۔ میں اتنی آسانی سے اُسے تمہارے شر میں تباہ نہیں ہونے دوں گی۔” ماہ جبین پوری شدت سے غرّا رہی تھیں۔ ایک پل کو مرزا بھی لرز گیا تھا۔

آخر کس بات کا فیصلہ ہونا تھا؟ کیا بات تھی؟ وہ حیرت اور پریشانی سے سوچتا ہوا دو قدم چلتا اُن کے سامنے جا ٹھہرا۔

“کیا بات ہو رہی ہے، ماما، بابا؟”

اُس کی آواز پر ماہ جبین تڑپ کر مڑیں۔

“حاکم، میری جان!” وہ ترکی میں بولتی اُس تک آئیں۔

“تم کچھ غلط نہیں کرو گے، سمجھے؟ تم کچھ بُرا نہیں کرو گے۔ میں یہ برداشت نہیں کر پاؤں گی، حاکم۔” وہ شدتِ غم سے روتی ہوئی اُس کا ہاتھ پکڑے التجائیں کر رہی تھیں، جبکہ وہ ششدر بنا اُنہیں دیکھتا رہا۔

“ماما، کیا بات ہے؟ مجھے بتائیں تو سہی۔”

اُس نے اُن کا بازو سہلاتے ہوئے پوچھا، تو ماہ جبین نے گہرا سانس بھرا۔

“حاکم۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ تمہارے بابا۔۔۔ یہ تمہارے بابا اچھے انسان نہیں ہیں۔ یہ بہت۔۔۔ بہت گھٹیا انسان ہیں۔” وہ اب نفرت سے کہتی مرزا کے دل کو تکلیف پہنچا رہی تھیں۔ وہ اپنے باپ سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔

“تمیز سے بات کرو تم!” فیض، جو اتنی دیر سے ماہ جبین کا ڈرامہ دیکھ رہا تھا، اُن کے الفاظ پر غرّاتے ہوئے کھڑا ہوا تھا۔

“اِس کی بات مت سنو تم۔ مجھے سنو۔ اِس کی بات مت ماننا۔ یہ گھٹیا شخص تمہیں برباد کر دے گا۔”

“ادھر دفعہ ہو تم!” فیض نے اُنہیں بازو سے پکڑتے ہوئے مرزا سے پرے دھکیلا، تو وہ دور صوفے پر جا گریں۔

“تم جاؤ، حاکم۔ اپنے کمرے میں جاؤ، میرے شیر۔” فیض نے اُس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

مرزا کبھی ناسمجھی سے ماں کو دیکھتا، کبھی باپ کو۔

“وہ نہیں جائے گا!” ماہ جبین چلائیں۔

“اُسے بھی تو پتا چلے کہ اُس کا باپ ایک مافیا کا پالتو رہا ہے!”

اُن کے الفاظ پر جہاں فیض تلملا اُٹھا تھا، وہیں مرزا حاکم ساکت ہو گیا۔

“حاکم کو بھی پتا لگنا چاہیے کہ اُس کا باپ حرام کماتا ہے، ہمیں اتنے عرصے سے حرام کھلا رہا ہے!”

مرزا کو لگا گھر کی چھت اُس کے اوپر آن گری ہو جیسے۔

“اُسے بتاؤ نا تم، فیض حاکم، کہ تم نے اپنے اُس مالک کا قتل کر ڈالا ہے اور اب خود شیطان کی گدی پر بیٹھ کر اپنے بیٹے کو اپنا چیلا بنانا چاہتے ہو!” ماہ جبین ایک ایک راز سے پردہ اُٹھاتی جا رہی تھیں۔

“تم زیورخ میں بنائی اپنی کمپنی میں ڈرگز کا کاروبار کرتے ہو۔ بتاؤ اپنے بیٹے کو اپنی اوقات کہ تم کیا ہو!”

مرزا نے ڈوبتے دل کے ساتھ باپ کو دیکھا تھا۔

فیض آگے بڑھا اور مرزا کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“مرزا حاکم، تم میرے بیٹے ہو۔ میرے وارث ہو۔ تم وہی کرو گے جس کا حکم میں تمہیں دوں گا۔ تم سوچ لو۔ آج رات کا وقت ہے۔ تم اچھے سے سوچ لو، پھر مجھے بتانا کہ کیا تم باپ کا ساتھ دو گے؟”

فیض نرمی سے کہہ کر چلا گیا، جبکہ مرزا حاکم ساکت کھڑا فیض کے نرم لفظوں کے حصار میں قید ہو گیا تھا۔ مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا، وہ کبھی اُس کے خلاف نہیں جائے گا جو اُس کا رب ہے۔۔۔ اور جو آپ کا رب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے وقت سٹریٹ پولز کی ہلکی، مدھم، پیلی روشنی اُن دونوں نوجوانوں کا سایہ بناتی، یادو کی کتاب میں ایک الگ یاد قید کر رہی تھی۔

وہ دونوں واک کے لیے آئے تھے اور اب واپسی کے راستے پر تھے۔

“تم آگے کیا کرنے کا سوچ رہے ہو، ایم؟” کب سے پھیلی خاموشی کو شازین نے ہمیشہ کی طرح اُس کا نام بگاڑتے ہوئے توڑا۔

“میں بزنس کی طرف جاؤں گا۔” مرزا نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“کون سی فرم کا انتخاب کرو گے؟”

“آرکیٹیکٹ۔”

“مطلب مزدور بنو گے۔” شازین نے ہنستے ہوئے کہا، تو مرزا کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔

“ہر بات کی ماں بہن ایک کر دیتے ہو تم۔” اُس نے شازین کی ٹانگ میں ٹانگ مارتے ہوئے کہا، تو شازین کراہا۔

“اللّٰہ۔۔۔ لنگڑا کر دیا تُو نے۔”

وہ لنگڑا کر چلتے ہوئے بولا، تو مرزا نیت ڈال کر رہ گیا۔

“انتہائی ڈرامہ باز ہو تم۔”

مرزا اُس سے آگے بڑھ گیا۔ شازین ایک دو قدم لنگڑا کر لیتا رہا، پھر جب دیکھا کہ مرزا کچھ آگے نکل گیا ہے، تو فوراً مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بھاگ کر مرزا کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔

“آہ۔۔۔ شازین، نیچے اُترو۔ مجھے نیک (Neck) پر گدگدی ہو رہی ہے۔” مرزا چلایا تھا۔

“چپ کر، حاکم کی اولاد۔ میں لنگڑا ہو گیا ہوں، مجھے گھر لے جا۔” شازین نے اُس کی گردن کے گرد بازوؤں کو مضبوطی سے باندھ لیا اور ٹانگوں کو اُس کی کمر کے گرد لپیٹ لیا۔

“نیچے اُتر۔”

“نہیں اُتروں گا۔”

نیم اندھیرے، ہلکی روشنی اور کھلے آسمان کے نیچے کھڑے وہ دونوں بیس سالہ نوجوان اپنی حرکتوں سے آسمان کو مسکرانے پر مجبور کر رہے تھے۔

“شازین، ہٹ۔” مرزا نے ہنستے ہوئے اُسے جھٹکا دینا چاہا، مگر الٹا ہو گیا۔۔۔ مرزا کا پاؤں پھسلا۔۔۔ اگلے ہی پل وہ دونوں زمین پر دھڑام سے گرے تھے۔

“مار دیا تُو نے، سستے حاکم۔۔۔” شازین کراہا۔

“میرے اوپر سے ہٹ، سالے۔۔۔” مرزا چلایا۔

شازین گڑبڑا کر اُس کے اوپر سے ہٹا اور وہیں زمین پر لیٹ گیا۔ مرزا بھی سیدھا ہوتا وہیں لیٹ گیا۔ کچھ پل یونہی گزرے، جب اُن دونوں نے چہرہ موڑتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ایک پل کو وہ دیکھتے رہے، مگر اگلے ہی پل دونوں کے فلک شگاف قہقہے پوری سٹریٹ پر گونج کر رہ گئے۔

پاس سے گزرتی تیز بائیک کی آواز اُن کے قہقہوں کے مقابلے میں کچھ نہ تھی۔

“اُٹھ جا اب۔” مرزا نے ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔

“میرے پاس دم نہیں ہے۔ مجھے اُٹھا کے لے جا۔”

مرزا اُس کی کاہلی پر تلملا اُٹھا۔

“پڑا رہ یہیں۔ تیرے پاس ساری زندگی دم نہیں رہنا۔”

وہ اُسے وہیں لیٹا چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔

“سالے بے وفا، مجھے اُٹھا لے۔” شازین اُس کی پشت دیکھ کر دھاڑا تھا۔

وہ اَن سنی کرتا چلتا رہا۔

“دھوکہ باز۔۔۔”

وہ مسکرا دیا۔

“بے حیاء۔۔۔”

بے اختیار وہ ہنس دیا اور شازین کو مزید بھڑکانے کے لیے کانوں پر زور سے ہاتھ رکھ لیے۔

“مرزا حاکم۔۔۔”

وہ تھم گیا۔ سانس روک لیا۔ آنکھیں آخری حد تک کھل گئیں اور رنگت لٹھے کی مانند سفید پڑ گئی۔

مرزا حاکم کو اپنے عقب سے موت کی ندا سنائی دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *