SAAT RANG E HAYAT BY HIFZA MIRZA EPISODE 3.


سات رنگِ حیات

 قسط نمبر 3 
شاہ ہاؤس۔۔۔

صبح کی نرم دھوپ کھڑکیوں سے ہوتی ہوئی شاہ ہاؤس کے وسیع ڈائننگ ہال میں پھیل رہی تھی۔ لمبی سی ڈائننگ ٹیبل پر گھر کے سب افراد آرام سے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ ماحول بظاہر پرسکون تھا، مگر ہر ایک اپنے اپنے خیالوں میں گم بھی دکھائی دے رہا تھا۔

اسی دوران دادی نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے عرشمان کی طرف دیکھا۔

“عرشمان، تمہارا کیا ارادہ ہے؟ شادی کب کرو گے؟ اب تو تمہاری عمر بھی ہو گئی ہے۔”

دادی کے سوال پر عرشمان ن ایک لمحے کو چونک گیا۔ اس نے نظر اٹھا کر دادی کو دیکھا پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا۔۔۔
قدرے سنجیدگی سے بولا۔۔۔دادی، ابھی تو میرا کوئی پلان نہیں ہے۔

ابھی میں نے نیا نیا بزنس پاکستان میں سیٹ کیا ہے، اس لیے ابھی شادی کا ارادہ نہیں۔”

دادی ہلکا سا مسکرائیں اور بولیں،
“ارے ہم کون سا ابھی تمہاری رخصتی کروا رہے ہیں۔ ابھی تو صرف منگنی یا نکاح کی بات کر رہے ہیں۔ لڑکی ڈھونڈنے میں بھی وقت لگ جاتا ہے۔”

ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ نوشین بیگم فوراً بول پڑیں،
“اس بار میں اپنے بیٹے کی شادی اپنی پسند سے کروں گی۔ یہ فیصلہ میں خود کروں گی۔”

ان کے لہجے میں سختی صاف محسوس ہو رہی تھی۔

دادی نے قدرے ناراضی سے انہیں دیکھا تو نوشین بیگم نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا،
۔ پہلے بیٹے نے تو اپنی پسند کی شادی کر لی تھی۔” عرشمان کی میں اپنی پسند سے کرواؤں گی۔۔

ان کے یہ الفاظ سنتے ہی ٹیبل پر بیٹھے سب لوگوں کے چہروں پر اداسی سی چھا گئی۔

عرشما ن نے فوراً اپنے بڑے بھائی کی طرف دیکھا، جن کے چہرے پر ایک لمحے کو تکلیف ابھر آئی تھی۔

وہ قدرے سخت لہجے میں بولا،
“امی، آپ ایسے کیسے کہہ سکتی ہیں؟”

نوشین بیگم نے بے پروائی سے جواب دیا،
“کیوں نہیں کہہ سکتی؟ ایک نے اپنی پسند کی شادی کر لی، اور تم ہو کہ شادی سے بھاگ رہے ہو۔ تیس سال کے ہو گئے ہو، کب کرو گے شادی؟”

اسی لمحے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے زرنش ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی۔

“کس کی شادی کی بات ہو رہی ہے؟”

اس کی آواز سنتے ہی سب کی نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔

دادی نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تمہارے بھائی کی۔”

زرنش خوشی سے بولی،
“واہ! بھائی کی شادی ہوگی؟”

عرشمان نے اسے گھورتے ہوئے کہا،
“تمہیں اتنی ہی خوشی ہو رہی ہے تو تم ہی کر لو شادی۔ ویسے بھی تم بوڑھی ہو رہی ہو۔۔

زرنش نے حیرت سے آنکھیں پھیلا دیں اور کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے غصے سے بولی،
“کہاں سے میں بوڑھی لگتی ہوں آپ کو ہو ۔۔۔۔

عرشمان نے ہنستے ہوئے چھیڑا،
“تمہارے حالات تو بوڑھوں والے لگتے ہیں۔”

یہ سنتے ہی ٹیبل پر سب لوگ ہنس پڑے۔

اسی ہنسی کے شور میں عرشمان کو وہاں سے نکلنے کا موقع مل گیا۔

وہ جلدی سے اٹھا اور بولا،
“اوکے، میں چلتا ہوں۔ اللہ حافظ۔”

اور تیزی سے باہر نکل گیا۔

اس کے جاتے ہی شادی کی بات ادھوری رہ گئی۔

نوشین بیگم خاموش بیٹھی سوچ رہی تھیں۔ دل میں ایک ہی بات گونج رہی تھی۔

جو مرضی ہو جائے… اس بار میں عرشمان کی شادی کروا کر رہوں گی۔ چاہے وہ کتنا ہی شادی سے بھاگے۔

دادی نے نرمی سے بولیں۔۔۔
بہو شادی میں بچوں کی مرضی شامل ہونی چاہیے۔۔
۔ بچوں کی خوشی سے ہونی چاہئیں۔ وہ جسے چاہیں، جہاں چاہیں شادی کریں۔ زبردستی کے رشتے نہیں چلتے۔”

نوشین بیگم نے منہ بنا کر کہا،
“ہاں تو کون سا پہلے والے کے چل گئے؟ اس نے بھی تو اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔”
زرنش کو بھی اپنی ماں کی بہت بری لگی۔۔
یہ سن کر بڑے بیٹے کا دل مزید بوجھل ہو گیا۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور بولا،
“اوکے، مجھے بھی جانا ہے۔ آج بہت کام ہے۔”

وہ سب کو خدا حافظ کہہ کر دادی کے پاس گیا، ان کا ہاتھ چوم کر دعا لی اور باہر چلا گیا۔

دادی نے افسوس سے نوشین بیگم کی طرف دیکھا۔

“بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو۔ تم ہمیشہ بڑے بیٹے کا دل دکھا دیتی ہو۔”

نوشین بیگم نے لاپرواہی سے جواب دیا،
“ہاں ہاں، میری باتوں سے سب کا دل دکھتا ہے نا۔ لیکن میں سچ ہی کہتی ہوں۔ اور اس بار میں اپنی مرضی ہی کروں گی۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”

یہ کہہ کر وہ بھی اٹھ کر چلی گئیں۔

ان کے جانے کے بعد عبداللہ صاحب نے آہستہ سے دادی سے کہا،
“آپ چھوڑ دیں امی۔ میں دیکھ لوں گا سب۔ ویسے بھی بچوں کی اپنی مرضی ہوگی۔ جہاں وہ چاہیں گے، وہیں ان کی شادیاں ہوں گی۔”

پھر مسکرا کر زرنش کی طرف دیکھتے ہوئے بولے،
“ویسے پہلے اپنی بیٹی زرنش کا سوچتے ہیں۔”

زرنش فوراً گھبرا گئی۔

“بابا! ابھی تو مجھے بہت کام کرنا ہے۔ ابھی تو میری جاب سٹارٹ ہوئی ہے۔ ابھی ابھی پڑھائی مکمل ہوئی ہے، ابھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔”

عبداللہ صاحب کچھ کہنے ہی والے تھے کہ دادی بول اٹھیں،
“بیٹیاں وقت پر اپنے گھر کی ہو جائیں تو اچھا ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی تم پچیس سال کی ہو گئی ہو۔ اب تو تمہاری شادی ہو جانی چاہیے۔”

زرنش نے منہ بنایا اور دل ہی دل میں پریشان ہو گئی۔

“اوکے… مجھے بھی جانا ہے۔”

یہ کہہ کر وہ بھی جلدی سے وہاں سے نکل گئی۔

دادی نے سب کو جاتے دیکھا تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔

“اللہ تعالیٰ میرے سب پوتے پوتیوں کو خوش نصیب کرے، اور ان کے نصیب اچھے کرے۔”

عبداللہ صاحب نے نرمی سے کہا،
“آمین۔ آپ پریشان نہ ہوں امی، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

یہ کہہ کر وہ بھی الوداع کہہ کر اپنے کام کی طرف روانہ ہو گئے، اور ڈائننگ ہال ایک بار پھر خاموشی میں ڈوب گیا۔

شاہ ہاؤس سے نکلتے ہوئے عرشمان کے قدم تیز تھے۔ صبح کی ہلکی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، مگر اس کے دماغ میں ابھی تک ناشتے کی میز پر ہونے والی باتیں گھوم رہی تھی ۔۔
گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے ایک لمحے کو گہری سانس لی، پھر گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور پہلے ہی تیار کھڑا تھا۔

“آفس چلو۔”

عرشمان نے مختصر سا حکم دیا۔

گاڑی خاموشی سے شاہ ہاؤس کے بڑے گیٹ سے باہر نکل گئی۔ شہر کی مصروف سڑکوں سے گزرتی ہوئی گاڑی کچھ ہی دیر میں اس بلند و بالا بلڈنگ کے سامنے آ کر رکی۔۔۔۔۔

گاڑی رکتے ہی سیکیورٹی گارڈ فوراً سیدھا کھڑا ہو گیا۔

“گڈ مارننگ سر۔”

عرشمان نے بس ہلکا سا سر ہلا دیا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔

جیسے ہی وہ بلڈنگ کے اندر داخل ہوا، ریسیپشن پر موجود اسٹاف فوراً کھڑا ہو گیا۔

“گڈ مارننگ سر۔”

“گڈ مارننگ۔”

عرشمان نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا اور سیدھا لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔

لفٹ کا دروازہ کھلا اور وہ ٹاپ فلور پر جا پہنچا، جہاں اس کا پرسنل آفس تھا۔

آفس کا دروازہ کھلتے ہی اس کا اسسٹنٹ فوراً اس کے پاس آ گیا۔

“سر، آج کی میٹنگ کے ڈاکیومنٹس تیار ہیں، اور کراچی برانچ سے بھی کچھ فائلز آئی ہیں۔”

عرشمان نے کوٹ اتارتے ہوئے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا،
“پہلے کراچی والی فائل لاؤ۔”

اسسٹنٹ فوراً فائل لے آیا۔

عرشمان نے فائل کھولی اور بڑی توجہ سے اس کے پیپرز دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں وہی سختی اور سنجیدگی تھی جو ایک طاقتور بزنس مین کی پہچان ہوتی ہے۔

اسی دوران اس کا فون بج اٹھا۔

اس نے اسکرین پر نظر ڈالی، پھر فون اٹھایا۔

“ہاں بولو۔”

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو اس کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔

“میں نے کہا تھا نا… کام صاف ہونا چاہیے۔ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔”

اس کی آواز اب پہلے سے زیادہ سرد اور خطرناک ہو چکی تھی۔

“جس نے بھی یہ مسئلہ پیدا کیا ہے… اسے سمجھا دو کہ عرشمان کے راستے میں آنے کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔”

یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔

آفس میں ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔

اسسٹنٹ خاموشی سے کھڑا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس وقت اپنے باس سے کوئی سوال کرنا مناسب نہیں۔

عرشمان کرسی سے اٹھ کر شیشے کی بڑی کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ نیچے شہر کی مصروف سڑکیں نظر آ رہی تھیں۔

اس کی آنکھوں میں عجیب سی گہرائی تھی۔

باہر سے وہ ایک کامیاب بزنس مین تھا…
لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کی دنیا صرف بزنس تک محدود نہیں تھی۔

اس کی ایک اور دنیا بھی تھی…
جہاں فیصلے قانون سے نہیں، بلکہ طاقت سے کیے جاتے تھے۔

اور اس دنیا کا بادشاہ صرف ایک ہی تھا…

عرشمان شاہ۔

————————————

۔۔۔۔۔۔رومی کو بوتیک پر ڈراپ کرنے کے بعد وہ میر خان کو اسکول چھوڑنے جا رہی تھی۔
اسکول کے باہر گاڑی روک کر اس نے میر خان کو بیگ پکڑایا، خود بھی نیچے اتری اور اس کا بیگ اس کی پشت پر ٹھیک کر کے اسے اندر کی طرف لے کر چل پڑی۔ گیٹ کے اندر داخل ہو کر اس نے پیار سے کہا، “اچھا بیٹا، اب تم آگے جاؤ، میں چلتی ہوں۔


” میر خان مسکراتے ہوئے اندر چلا گیا اور وہ مڑنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے ایک ننھی سی آواز آئی۔؟۔

“آنٹی…” وہ چونک کر پیچھے مڑی مگر سامنے کوئی نظر نہ آیا۔ تبھی ایک پودے کے پیچھے سے کسی چھوٹی بچی کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی۔ وہ آہستہ آہستہ اس طرف بڑھی تو دیکھا وہی ننھی بچی تھی جس سے وہ اُس دن ملی تھی، ڈری سہمے انداز میں چھپی ہوئی۔۔۔۔

اس نے نرمی سے پوچھا، “بیٹا کیا ہوا؟ تم یہاں کیوں چھپی ہو؟” بچی نے منہ پر انگلی رکھ کر آہستہ سے کہا، “آنٹی پلیز، میری فرینڈ کی مدد کریں…” اور گارڈ کی طرف اشارہ کیا۔ افی کی نظر جب وہاں پڑی تو اس نے دیکھا کہ گارڈ ایک بچی کو الگ کھڑا کیے ہوئے ہے اور اس کا انداز درست نہیں لگ رہا۔ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے افی نے فوراً اپنا موبائل نکالا اور پودے کی اوٹ سے مختصر ویڈیو بنا لی تاکہ ثبوت محفوظ رہے، پھر تیز قدموں سے گارڈ کی طرف بڑھ گئی۔


وہ غصے سے پرنسپل کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور مضبوط آواز میں بولی:

“آپ یہاں کس لیے بیٹھی ہوئی ہیں؟ آپ کے اسکول کے گیٹ پر کیا ہو رہا ہے، آپ کو اندازہ بھی ہے؟”

پرنسپل چونک کر کھڑی ہو گئیں۔ “کیا مطلب ہے آپ کا؟ کیا ہوا ہے؟”

افی نے اپنا غصہ کنٹرول کیا بچیوں کو دیکھتے ہوئے پھر وہ بولی۔۔

پھر گارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی،
“یہ آدمی ایک بچی کے ساتھ نامناسب انداز میں پیش آ رہا تھا۔ اگر یہ چھوٹی بچی مجھے نہ بتاتی تو شاید کوئی دیکھتا بھی نہیں۔ یہ اسکول بچوں کے لیے محفوظ جگہ ہونی چاہیے، نہ کہ خوف کی!”

پرنسپل کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ انہوں نے فوراً بیل دبائی اور اسٹاف کو بلایا۔

پھر انہوں نے نرمی سے بچیوں سے پوچھا،
“بیٹا، آپ ڈریں نہیں۔ جو کچھ ہوا ہے، سچ سچ بتائیں۔ یہاں آپ محفوظ ہیں۔”

افی جھک کر بچی کے برابر آئی اور نرم لہجے میں بولی،
“گھبراؤ نہیں، ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔ تم نے بہت ہمت دکھائی ہے۔”

بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر اس نے سر ہلا کر ہاں کی۔ دوسری چھوٹی بچی بھی اب افی کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔

پرنسپل نے یقین دہانی کروائی کہ معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں گی اور والدین کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
افی نے سخت لہجے میں کہا،
“میں چاہتی ہوں کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ بچوں کی حفاظت سب سے پہلے ہونی چاہیے۔”

پرنسپل نے سر ہلایا،
“بالکل، آپ درست کہہ رہی ہیں۔ یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچہ یہاں محفوظ محسوس کرے۔”

افی نے ایک بار پھر بچیوں کو تسلی دی، ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور کہا،
“اگر کبھی بھی کوئی بات بری لگے تو فوراً کسی بڑے کو بتانا ہے ۔۔۔۔۔۔

فضا میں ابھی بھی سنجیدگی تھی، مگر ایک بات واضح تھی — آج ایک بڑی غلطی چھپنے سے بچ گئی تھی، کیونکہ ایک چھوٹی سی بچی نے ہمت کی…..
پھر اس نے بچیوں سے کہا آپ کلاس میں جائیں مجھے آپ کی پرنسپل سے کچھ بات کرنی ہے دونوں بچیاں باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

بچیوں کے جانے کے بعد افی پرنسپل کے ٹیبل کے پاس پہنچی اور ٹیبل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔


“آپ اس کرسی پر بیٹھنے کا مطلب بھی جانتی ہیں؟ پرنسپل بننا آسان ہے، ذمہ داری اٹھانا مشکل۔ یہ جو آپ نے کیمرے لگائے ہیں، کس لیے لگائے ہیں؟ نمائش کے لیے؟ یا بچوں کی حفاظت کے لیے؟”

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا موبائل سامنے کر دیا۔ ویڈیو چل رہی تھی۔ پرنسپل کا رنگ اڑ گیا۔ گارڈ کی نظریں جھک گئیں۔


“میڈم ہم سے غلطی ہو گئی… پرنسپل بہت ڈر گئی تھی اسے پتہ تھا کہ یہ ایک لائر ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے اسکول کی ریپوٹیشن بھی خراب ہو سکتی ہے ان کو بھی سسپینڈ کیا جا سکتا ہے اس لیے وہ ڈرتے ہوئے بولی میڈم ہم سے غلطی ہو گئی ۔۔
نیا گارڈ تھا… ہم نے نہیں پتہ تھا مجھ سے غلطی ہو گئی۔۔

غلطی!” افی کی آواز بلند ہو گئی،
“ہم اپنے بچوں کو حفاظت کے لیے اسکول بھیجتے ہیں اور آپ لوگ یہاں بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے ہیں؟ یہ آپ کی ذمہ داری تھی!”

غصے میں بولتے بولتے اسے یہ بھی اندازہ نہ رہا کہ اس کے پیچھے کون موجود ہے۔ وہ صرف پرنسپل سے مخاطب تھی۔

“ابھی اور اسی وقت پولیس کو فون کریں۔ اور اسی وقت اسے پولیس کے حوالے کریں۔ اور تمام بچوں کے والدین کو فوراً بلائیں!”

پرنسپل نے گھبرا کر کہا،
“میڈم… یہ تو صرف ایک بچی—”

“بس!” افی نے فوراً بات کاٹ دی،
“آپ ایک بچی کی بات کر رہی ہیں؟ کتنے دنوں سے یہ یہاں کام کر رہا ہے؟ کتنی بچیاں ڈر کر چپ رہی ہوں گی؟ آپ اسے ‘صرف ایک بچی’ مسئلہ کہہ رہی ہیں ۔۔۔

پرنسپل نے کمزور لہجے میں کہا۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔۔۔ پلیز بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
ارے بات پولیس کی تو وہ یہاں موجود ہے۔۔۔ انہوں نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا ہم اسی پہ بات کر رہے تھے ۔۔۔۔

افی ہے فورا پیچھے دیکھا جہاں وہ اس دن والا لڑکا بیٹھا ہوا تھا اس نے افی کو ائی برو اٹھا کر دیکھا جیسے کہہ رہا ہو ہاں اب بولو۔۔۔

اس کا مطلب آپ کو پتہ تھا اور آپ اس بات کو دبانا چاہتی تھی اسی لیے آپ نے ان کو یہاں پہ بٹھایا ہوا ہے آپ لوگ سب ایک جیسے ہی ہیں جس پر۔۔۔


پرنسپل فورن کہتی ہے نہیں نہیں یہ بھی یہی شکایت لے کر ائے تھے ہم اسی بارے میں بات کر رہے تھے۔۔۔


“ہاں لین دین کی بات ہی چل رہی ہوگی نا؟ تاکہ کچھ پیسے دے کر منہ بند کروایا جا سکے اور یہ بات کبھی باہر نہ نکلے ۔ “

کمرے کی فضا یکدم بوجھل ہو گئی ۔ التمش نے اس کی بات سنی تو اس کے چہرے پر غصہ صاف جھلکنے لگا۔ وہ تیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا،

آپ یہ کیا بات کر رہی ہی ہیں۔۔۔۔ وہ التمش کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے پرنسپل کی طرف مڑتی ہے اور کہتی ہے ۔۔۔
آپ ابھی میں نے جو کہا وہ کریں۔۔۔

“میڈم ایک دن میں ہم سارے والدین کو کیسے بلا سکتے ہیں؟”

افی نے فوراً جواب دیا،۔۔۔آپ کو پتہ ہے کیسے کرنا ہے بے وقوف مت بنائیں۔۔۔
“ہر کلاس کا گروپ بنا ہوا ہے۔ میرا بچہ بھی یہاں پڑھتا ہے، میں سب جانتی ہوں۔ ابھی اور اسی وقت میسج کریں۔ سب کو ہال میں جمع کریں۔ میں خود بچوں سے بات کروں گی۔”

مجبوراً پرنسپل نے اسٹاف کو ہدایات دیں۔

افی نے دوبارہ کہا،اور اسے پولیس کے حوالے کریں—”

اچانک پیچھے سے مضبوط آواز آئی،
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود اسے ہینڈل کر لوں گا۔”

 

افی کے چہرے پر پھر غصہ ابھرا،۔۔
التمش نے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر کہا ہر پولیس والا ایک جیسا نہیں ہوتا۔۔۔

“بولنے سے پہلے سوچ لیں۔ بغیر تحقیق کے الزام لگانا درست نہیں۔۔ مجھے بھی آج ہی مکمل اطلاع ملی ہے اور میں اسی لیے آیا ہوں، تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو ۔۔۔۔۔


افی نے گہرا سانس لیا۔ غصہ ابھی بھی واضح تھا، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔
وہ پرنسپل کی طرف رخ کر کے بولی،
“بچوں کو ہال میں جمع کریں۔ مجھے ان سے بات کرنی ہے۔”

یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اب اس کے چہرے پر صرف ایک ہی عزم تھا — بچوں کو یہ سکھانا ۔۔۔

 

التمش نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور پرنسپل سے کہا میں اب خود ہینڈل کروں گا یہ کیس جس پر وہ سر ہلاتے ہوئے کہتی ہے اوکے۔۔۔۔
اس نے پہلے ہی پولیس سٹیشن کال کر دی تھی اس کے آدمی باہر ہی ہی تھے۔۔۔اور اس باہر نکل کر گارڈ کو اپنے ادمیوں کے حوالے کیا اور تھانے لے جانے کو کہا۔۔۔

التمش آیت کو کلاس میں چھوڑ کر جب پرنسپل کے دفتر آیا تو وہ ابھی اس معاملے پر بات ہی شروع کرنے والا تھا کہ اچانک دروازہ زور سے کھلا اور وہی لڑکی اندر داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر غصہ صاف ظاہر تھا اور وہ سخت لہجے میں بات کر رہی تھی۔ اندازہ ہو گیا کہ کوئی سنجیدہ معاملہ ہے۔

التمش ایک لمحے کے لیے چونکا۔
اس لڑکی کی باتیں سننے کے بعد۔۔۔۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید
اسے بھی غلط سمجھا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔،

اور اس کے دل میں غصہ ابھر آیا۔ اس نے سوچا کہ بعد میں اس سے وضاحت کرے گا۔ مگر فی الحال صورتحال سنجیدہ تھی۔ کچھ ہی دیر میں گارڈ کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور اہلکار اسے تھانے لے گئے۔ التمش خاموشی سے باہر آ گیا۔

دوسری طرف افی کمرے سے نکل کر ایک طرف ہوئی، موبائل نکالا اور مختصر سا میسج کر کے اپنے لیٹ ہونے کی اطلاع دے دی۔ پھر وہ تیز قدموں سے ہال کی طرف بڑھی جہاں بچوں کو جمع کیا جا رہا تھا۔

ہال میں ہر کلاس کے بچے موجود تھے۔ وہی ننھی بچی بھی کھڑی تھی۔۔۔۔۔اور وہ بچی بھی جس نے افی کو آواز دی تھی۔ ماحول خاموش اور سنجیدہ تھا۔۔

افی نے سب کو سلام کیا۔
“السلام علیکم بچوں، آپ سب کیسے ہیں؟”

بچوں نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔

وہ آگے بڑھی اور بولی،
“آج میں آپ سب سے ایک بہت ضروری بات کرنے آئی ہوں۔۔
اگرکبھی کوئی آپ کو تنگ کرے، آپ کو برا محسوس کرائے یا کوئی غلط حرکت کرے، تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا آپ کو چپ رہنا چاہیے؟ برداشت کرنا چاہیے؟ ہرگز نہیں!”

ہال میں خاموشی چھا گئی۔

“آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ٹیچر ڈانٹیں گے یا گھر والے ناراض ہوں گے۔ سب سے پہلے اپنی کلاس ٹیچر کو بتائیں۔ اگر وہ نہ سنیں تو کسی اور ٹیچر کو۔ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہو تو فوراً اپنے گھر والوں کو بتائیں۔ خاموش رہنا حل نہیں ہے۔”

اس نے بچوں کی طرف غور سے دیکھا۔
“آپ میں سے بہت سے بڑے کلاسز کے بچے بھی یہاں موجود ہیں۔ کیا کسی نے نوٹس نہیں کیا کہ کیا ہو رہا تھا؟ ایک پانچ سال کی بچی اگر ہمت کر کے اپنی فرینڈ کے لیے آواز اٹھا سکتی ہے تو آپ کیوں نہیں؟”

بچے خاموش کھڑے تھے۔

“آپ سب ایک دوسرے کی حفاظت کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کسی کے ساتھ غلط ہو رہا ہے تو خاموش مت رہیں۔ ڈرنا نہیں۔ سچ بولنا بہادری ہے۔”

پھر وہ آیت کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔
“آپ سب اس چھوٹی سی بچی سے سیکھیں۔ اس نے اپنی دوست کے لیے قدم اٹھایا۔ اگر یہ مجھے نہ بتاتی تو شاید معاملہ سامنے نہ آتا۔”

وہ جھک کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہے۔
“ہمیشہ ایسے ہی بہادر رہنا۔”

آیت ہنستے ہوئے بولی،۔۔۔زور سے سر ہلاتے ہوئے۔۔۔
“اوکے آنٹی، تھینک یو!”

ہال میں پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی۔ فضا اب بھی سنجیدہ تھی، مگر بچوں کی آنکھوں میں ایک نئی سمجھ اور ہمت جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔

سارے بچے آہستہ آہستہ اپنی کلاسز کی طرف لوٹ گئے۔ ہال خالی ہونے لگا تو افی ایک طرف سائیڈ پر کھڑی ہو کر موبائل دیکھنے لگی۔

آیت بھاگتی ہوئی اپنے بابا، التمش، کے پاس گئی۔ التمش نے فخر سے بیٹی کو سینے سے لگایا۔
“مجھے تم پر بہت فخر ہے، بہادر بیٹی ہو تم۔”
پھر نرمی سے کہا، “اب کلاس میں جاؤ آپ۔۔”

وہ مسکراتی ہوئی واپس چلی گئی۔

اب التمش افی کی طرف بڑھا۔ افی نے اسے دیکھ کر سیدھا سوال کیا،
“اس گارڈ کا کیا ہوا؟”

التمش نے سنجیدگی سے جواب دیا،
“اسے تھانے بھیج دیا گیا ہے۔ آگے کی کارروائی میں خود دیکھوں گا۔”

افی نے سر ہلایا اور دوبارہ موبائل کی طرف متوجہ ہو گئی۔ التمش اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید ایک “سوری” کی توقع بھی تھی۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اسی وقت پرنسپل آ گئیں اور التمش ان کی بات میں مصروف ہو گیا۔

پرنسپل گھبرائی ہوئی تھیں۔
“میڈم، والدین آتے ہی ہوں گے، تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ کیا آپ ویٹ کریں گی؟”

افی نے مختصر جواب دیا،
“ڈونٹس وری، میں انتظار کر لوں گی۔”

تقریباً پینتالیس منٹ بعد تمام والدین آ چکے تھے۔ پرنسپل بار بار تصدیق کر رہی تھیں کہ سب آ گئے ہیں۔ انہیں اندازہ تھا کہ معاملہ سنجیدہ ہے، اوپر سے پولیس افسر بھی موجود تھا، اس لیے وہ مزید دباؤ میں تھیں۔

افی نے موبائل بیگ میں رکھا اور والدین کی طرف بڑھی۔ سب آپس میں شور مچا رہے تھے۔

“اچانک کیوں بلا لیا ہمیں؟”
“کیا مسئلہ ہے؟”

افی نے سلام کیا اور سیدھی بات کی:

“آپ سب والدین ہیں۔ کیا آپ نے اپنے بچوں کو یہ سکھایا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ غلط ہو تو وہ آواز اٹھائیں؟”

سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“کیا مطلب ہے آپ کا؟” کسی نے پوچھا۔

افی بولی،
“کیا آپ نے اپنے بچوں کو یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی انہیں تنگ کرے، غلط طریقے سے چھوئے یا برا برتاؤ کرے تو فوراً شکایت کریں؟”

اتنے میں ایک ماڈرن سی امیر خاتون، میک اپ اور سن گلاسز لگائے، آگے آئیں۔ قدرے سخت لہجے میں بولیں،
“آپ ہمیں سکھائیں گی کہ بچوں کو کیا سکھانا ہے؟ ہم اسکول اسی لیے بھیجتے ہیں کہ وہ یہاں سیکھیں!”
ایک سائیڈ پر التمش بھی کھڑا سن رہا ہوتا ہے۔۔۔اس عورت کا بات کرنے کا انداز برا لگتا ہے۔۔۔

افی نے سنجیدگی سے جواب دیا،
“کیا بچہ پیدا کرنے کے بعد والدین کا فرض ختم ہو جاتا ہے؟ تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔ اسکول صرف تعلیم دیتا ہے، بنیادی شعور اور اعتماد آپ دیتے ہیں۔”

خاتون چونک گئیں، “کیا مطلب؟”

افی نے آج کا پورا واقعہ مختصر مگر واضح انداز میں بتایا۔ کچھ والدین غصے میں پرنسپل کی طرف دیکھنے لگے۔

“ایک منٹ!” افی نے ہاتھ اٹھا کر سب کو روکا۔
“صرف پرنسپل کو الزام دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پہلے یہ سوچیں کہ اگر آپ نے اپنے بچوں کو سکھایا ہوتا کہ غلط بات پر خاموش نہیں رہنا، تو شاید آج یہ مسئلہ اتنا آگے نہ بڑھتا۔”

ہال میں خاموشی چھا گئی۔

“جب بچہ اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے صرف اے بی سی نہیں سکھاتے۔ اسے یہ بھی سکھاتے ہیں کہ اگر کوئی چیز اسے بری لگے تو فوراً ماں باپ کو بتائے۔ اسے دوست جیسا ماحول دیں، تاکہ وہ آپ سے ڈرے نہیں بلکہ ہر بات شیئر کرے۔”

کچھ والدین نے آہستہ آہستہ گردن ہلائی۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔
افی نے نرمی سے کہا،
“غلطی صرف اسکول کی نہیں، اور صرف آپ کی بھی نہیں۔ ذمہ داری سب کی ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ اپ غلط کر رہی ہیں گھر کے کاموں میں اتنا مت بزی ہو جایا کریں کہ اپنے بچوں کی طرف دھیان نہ دے سکیں۔۔۔

آج تو معاملہ سامنے آ گیا، مگر ہمیں نہیں معلوم کس بچے کے دل میں کتنا خوف بیٹھا ہوا ہے۔ آج گھر جا کر آرام سے اپنے بچوں سے بات کریں۔ انہیں یقین دلائیں کہ وہ محفوظ ہیں۔ ان کا ڈر ختم کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ وہ بہادر ہیں۔”

والدین اب سنجیدہ ہو چکے تھے۔

افی نے آخر میں کہا،
“ہم سب مل کر ہی اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ شکریہ۔”
التمش نے بھی باتیں سن کر ۔۔دل میں سوچا بولتی تو اچھا ہے پر غصہ۔۔۔وہ مڑی اور رخصت ہونے لگی۔

پیچھے سے وہی ماڈرن خاتون غصے میں بولیں،
“میں تو آج کے بعد اپنے بچے کو اس اسکول میں نہیں پڑھاؤں گی!”

افی نے پلٹ کر انہیں دیکھا، مگر کچھ نہ کہا۔ صرف اتنا بولی،
“فیصلہ آپ کا حق ہے۔ مگر جہاں بھی بچہ پڑھائے گا، تربیت آپ کو ہی دینی ہوگی۔ اللہ حافظ۔”

یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔
ہال میں موجود کئی والدین خاموش کھڑے سوچ رہے تھے — شاید آج انہیں بھی ایک سبق ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

———————————–


پری آفس کی بلند و بالا عمارت میں داخل ہوئی تو اس کے قدموں میں ہمیشہ کی طرح اعتماد کی مضبوطی تھی۔ دروازہ کھولتے ہی وہ سیدھا اپنے کیبن کی طرف بڑھی اور کرسی پر وقار کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی سیکریٹری بھی خاموشی سے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔

“میٹنگ کا شیڈول کیا ہے آج کا؟” پری نے نظریں فائلوں سے اٹھائے بغیر پوچھا۔

سیکریٹری نے ہلکے سے سر جھکا کر سوال دہرایا، اور ایک کر کے تمام تفصیلات بتانا شروع کر دیں—وقت، لوگوں کے نام، اور ہر میٹنگ کی اہمیت۔ اس کی آواز میں سنجیدگی بھی تھی اور ایک خاص ترتیب بھی، جیسے وہ ہر لمحے کو قابو میں رکھنا جانتی ہو۔

تفصیل مکمل کرنے کے بعد پری نے ایک لمحے کو رُک کر اس کی طرف دیکھا، “اگر میں تھوڑی لیٹ ہو جاؤں… تو باقی کا کام تم سنبھال لینا۔”

سیکریٹری نے فوراً سر ہلا کر اثبات کیا۔

پری نے دراز کھولی اور ایک چھوٹی سی یو ایس بی نکال کر اس کی طرف بڑھائی۔ “یہ لو… اس میں سے ڈاکومنٹس کاپی کر کے فوراً پرنٹ نکال دینا۔ ۔۔
اور بتاؤ ٹیم ریڈی ہے جو ہمارے ساتھ کام کرے گی نئے پروجیکٹ پر۔۔۔
جس پر سیکٹری آرزو نے سر ہلاتے ہوئے کہا جی میں


افی میڈ نے چن لیے ہیں۔۔۔
کون کون آپ کے ساتھ اس پروجیکٹ میں شامل ہوگا کچھ نیو ہیں اور کچھ پرانے ورکرز۔۔۔۔
جس پر پری نے ہاتھ سر ہلاتے ہوئے کہا ٹھیک ہے تو انہیں میٹنگ روم میں بلاؤ ڈسکس کرتے ہیں اور ڈاکومنٹس لے کر اؤ۔۔۔

“جی، بالکل میم،” سیکریٹری نے مؤدبانہ انداز میں کہا، یو ایس بی اور ضروری چیزیں سنبھالیں، اور تیز مگر سلیقے سے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔

پری نے گہری سانس لی، پھر اپنی پوری توجہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر مرکوز کر دی۔ اس کی انگلیاں کی بورڈ پر تیزی سے چلنے لگیں، اور وہ چند لمحوں میں ہی کام میں اس قدر مصروف ہو گئی جیسے دنیا میں اس کے علاوہ کچھ اور اہم ہی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔

 

میٹنگ ہال کی فضا سنجیدہ مگر پُراعتماد ہو چکی تھی۔ پری سامنے کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں فائلز تھیں اور اس کی نظریں ایک ایک ممبر پر ٹھہرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں۔ وہ نہایت ترتیب سے پوائنٹس ڈسکس کر رہی تھی، اور ساتھ ہی اپنے پروجیکٹ کا ڈیزائن اسکرین پر دکھا رہی تھی۔

جیسے ہی پری نے اپنی بات مکمل کی، میز کے گرد بیٹھے تمام افراد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بیک وقت بول اٹھے،
“میم، آپ کا پروجیکٹ واقعی بہت شاندار ہے۔”

پری نے ہلکا سا سر ہلایا۔۔چہرے پر نقاب ہونے کی وجہ سے اس کے تاثرات تو پتہ نہیں چلتے ۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سیریس رہتی تھی۔۔۔
“تعریف اپنی جگہ… لیکن یاد رکھیں، یہ کام ہم سب نے پوری ایمانداری سے کرنا ہے۔” اس کی آواز میں ایک واضح سختی تھی۔
“جو کچھ اس میٹنگ میں ڈسکس ہوگا، وہ یہیں تک محدود رہے گا۔ باہر کوئی بات نہیں جائے گی… نہ ہی کوئی اسے ڈسکس کرے گا۔ اگر کسی بھی قسم کی کوتاہی ہوئی، تو ہر ایک سے جواب طلب کیا جائے گا۔”

اس کی بات پر پانچوں ممبرز فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ ان میں سے تین پرانے تھے، جو اس کے انداز سے بخوبی واقف تھے، جبکہ دو نئے ممبرز ہلکی سی گھبراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بولے،
“جی میم، آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔”

پری نے میز پر رکھے کچھ پیپرز ان کی طرف بڑھائے۔
“ٹھیک ہے، پھر کام شروع کریں۔”

میٹنگ ختم ہوتے ہی وہ بغیر وقت ضائع کیے اپنے آفس کی طرف لوٹ آئی۔ دروازہ بند کر کے ابھی وہ اپنی کرسی پر بیٹھی ہی تھی کہ اچانک دروازہ دوبارہ کھلا۔

افی تیزی سے اندر داخل ہوئی، جیسے کسی دوڑ سے واپس آئی ہو۔ بغیر کچھ کہے سیدھا سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی اور میز پر رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔

پری نے آنکھیں سکیڑ کر اسے غور سے دیکھا، اس کے چہرے پر ہلکی سی حیرت اور مزاح کا ملا جلا تاثر تھا۔
کہاں سے آ رہی ہو؟ کوئی جنگ لڑ کر آئی ہو کیا… جو اتنی پیاس لگی ہے؟”


افی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کو کہا، اور گہری سانس لیتے ہوئے جگ سے پانی ڈالتے ہوئے دوسرا گلاس اٹھانے لگی، جیسے ابھی اس کی کہانی شروع ہونے والی ہو…۔۔۔۔
ساتھ ہی پھر سے دروازہ کھلا ۔۔۔ آرزو کچھ فائدے لیتے ہوئے اس کے سامنے رکھ دی ۔۔ اور کہتی ہے کچھ سائن کر دیں۔۔۔

 

پری خاموشی سے فائلز پر دستخط کرنے میں مصروف ہو گئی۔ ۔ چند لمحوں بعد اس نے نظر اٹھا کر افی کی طرف دیکھا، جو اب کرسی سے ٹیک لگا کر ذرا سنبھل چکی تھی۔

“کیا تمہارے لیے اور پانی منگوا دوں؟” پری نے ہلکے مگر سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔

افی نے سر ہلایا، “نہیں… کافی ہے۔”

وہ کرسی کے ساتھ پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔۔۔
آنکھیں چند لمحوں کے لیے بند کیں، جیسے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

پری نے دوبارہ اپنی توجہ فائلز کی طرف موڑ لی۔ چند منٹ بعد جب اس کے دستخط مکمل ہوئے۔۔۔۔ تو اس نے تمام فائلز سمیٹ کر سامنے کھڑی آرزو کی طرف بڑھا دیں۔

آرزو نے فائلز لیتے ہوئے ایک نظر افی پر ڈالی، اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“میم… آپ ٹھیک ہیں؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔

افی نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی،
“ہاں، میں ٹھیک ہوں۔ بس تھوڑی پیاس لگی تھی… صبح سے کچھ پیا نہیں تھا۔”

آرزو نے اثبات میں سر ہلایا، جیسے اس کے جواب سے مطمئن ہو گئی ہو۔ ۔۔
پھر فائلز کو سنبھالتے ہوئے وہ مڑ گئی اور خاموشی سے آفس سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

“ہاں تو… اب بتاؤ، کیا ہوا وہاں؟”

افی نے گہری سانس لی۔۔۔۔۔ اس نے ایک ایک کر کے پورے اسکول کی بات سنانا شروع کی—کیسے سب کچھ ہوا۔۔ جس کی وجہ سے سارا معاملہ کھڑا ہوا۔

پری خاموشی سے سنتی رہی۔ اس کے چہرے پر پہلے سختی آئی، پھر ہلکی سی ناگواری جھلکی، مگر اس نے خود کو سنبھالے رکھا۔
جب افی خاموش ہوئی تو پری نے آہستہ سے سر ہلایا۔

“تم نے جو کیا… وہ ٹھیک کیا۔” اس کی آواز میں اعتراف تھا، “لیکن ؟؟؟

افی نے فوراً اس کی طرف دیکھا، “لیکن؟”

پری نے سنجیدگی سے کہا،
“تمہیں اس پولیس والے کے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھنا چاہیے تھا۔ ہر بات کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔”

افی نے منہ بنایا، کرسی پر سیدھی ہو کر بیٹھی اور قدرے جھنجھلاہٹ سے بولی،
“ہاں تو؟ سارے ایسے ہی ہوتے ہیں!”۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے جیسے اپنی بات کو وزن دیا،
“روز کے کیسز دیکھتی ہوں میں… زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ پولیس والوں کو پیسے دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ مجھے بھی یہی لگا کہ وہ بھی ویسا ہی ہوگا۔”

کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی…

 

پر ضروری تو نہیں کہ ہر پولیس والا ایک جیسا ہو کچھ ایماندار بھی ہوتے ہیں
۔۔
تمہاری سوچ بھی تو غلط ہو سکتی ہے کسی کے بارے میں۔۔
پری کی بات سنتے ہوئے اسے بھی لگا شاید اس سے غلطی ہوئی ہے پھر اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا ہاں میں بھی شاید۔۔۔


پری نے آنکھیں ذرا سی جھکا کر اسے گھورا، اس کی نظر میں ایک خاموش سی وارننگ تھی۔۔۔تم اس سے معافی مانگنی چاہیے۔۔
جس پر افی نے فوراً ہاتھ اٹھاتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر کہا، “اوکے اوکے… سمجھ گئی میں۔”

چند لمحوں بعد اس نے ماحول بدلنے کے لیے کہا،
“ویسے… بہت بھوک لگی ہے، چلو کچھ کھانے چلتے ہیں؟”

پری کے چہرے کی سختی آہستہ آہستہ نرم پڑی، اس نے ہلکا سا سر ہلایا،
“ہاں ٹھیک ہے… ہنی اور رومی کو بھی بلا لو، ساتھ ہی چلتے ہیں۔”

افی نے اثبات میں سر ہلایا، “ٹھیک ہے، اور انہیں کال کر دیتی ہے”

دونوں ایک ساتھ دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔
کمرے کی سنجیدگی اب پیچھے رہ گئی تھی… اور آگے شاید کچھ لمحوں کی ہلکی پھلکی خوشی ان کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *