ذات
”انسان ذات دیکھتا رہا، رب انسان دیکھتا رہا۔“
از قلم حماد علی گورسی
انتساب؛
اُس ذات کے نام،
جس کے سامنے دنیا کی ہر ذات بے معنی ہے،
جس کے ہاں نہ کوئی اونچا ہے، نہ کوئی نیچا،
جس نے سب کو ایک ہی مٹی سے پیدا کیا،
اور بے شک جس کی ذات سب سے بلند و برتر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نام۔
آج اتوار کی صبح تھی۔ نہ ہی کسی کو کالج جانے کی جلدی تھی اور نہ ہی کسی کو اپنی مصروفیات نمٹانے کی۔ سب آرام سے کھانے کی میز پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ سکینہ، جو چوہدری انور حیات کی حویلی میں ملازمہ تھی، کچن سے گرم گرم پراٹھے بنا بنا کر باہر لاتی جا رہی تھی، جبکہ باہر سب پُرجوش ہو کر ان کی تعریفیں کرتے ہوئے کھا رہے تھے۔
اتوار کے دن سکینہ کو صبح سویرے ہی کام پر آنا پڑتا تھا، کیونکہ سب کی چھٹی ہوتی تو گھر میں کام بھی بڑھ جاتے تھے۔ خاص طور پر سعد انور اور عریبہ انور کے لیے ان کی پسند کے پراٹھے بنانے کے لیے وہ خود ناشتہ کیے بغیر کام پر چلی آتی تھی۔
“ارے ارے! کیا بات ہے، سکینہ آنٹی! ہر بار کی طرح اتنا مزیدار ناشتہ۔ ورنہ ہر روز وہی بریڈ، جام یا پھر ٹوسٹ۔” عریبہ لطف اندوز ہوتے ہوئے بولی۔
ساتھ ہی اس کے بھائی سعد نے جواب دیا، “ہاں نا! اتنا مزیدار ناشتہ صرف اتوار کے دن ہی میسر ہوتا ہے۔ سوچو، اگر سکینہ آنٹی اتوار کے دن جلدی آنا چھوڑ دیں تو ہمارا کیا ہوگا؟” سعد ہنستے ہوئے بولا۔
اتنے میں سکینہ لکڑی کے تنکوں سے بنے چھابے میں ایک اور پراٹھا لے کر باہر آئی۔
“بہت شکریہ تعریف کے لیے۔ میں اندر سے سن رہی تھی۔” سکینہ مسکراتے ہوئے بولی۔ اس نے پراٹھا نکال کر میز پر پڑے دوسرے تھال میں رکھا اور پھر رسوئی کی طرف بڑھ گئی۔
“اسے اتنا سر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم لوگوں کی تعریفیں ہی ختم نہیں ہو رہیں۔” چوہدری انور حیات سخت لہجے میں بولے۔
سعد اور عریبہ کے چہروں سے مسکراہٹ یکدم غائب ہو گئی۔
“ارے انور، آہستہ بولیں۔ بیچاری سن لے گی۔” نسرین نے آہستہ سے اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کی۔
“ارے، سنتی ہے تو سنتی رہے، مجھے کیا!” انور حیات پھر سے ذرا اونچی آواز میں بولا۔
نسرین مایوس ہو کر دوبارہ ناشتہ کرنے لگی، جبکہ سعد اور عریبہ بھی اس حرکت سے ناخوش ہوئے۔
اور سکینہ؟ اس کا کیا تھا۔۔۔ اسے تو تقریباً روز ہی کوئی نہ کوئی ایسا طعنہ سننے کو ملتا تھا، کیونکہ وہ ایک ایسی ذات سے تعلق رکھنے والی ملازمہ تھی جسے چوہدری انور حیات کی نظر میں کوئی اہمیت حاصل نہ تھی۔
☆☆☆
“سکینہ، برتن اٹھا لو۔” ناشتے کے بعد جب سب میز سے اٹھ گئے تو نسرین نے ملازمہ کو آواز لگائی۔
“جی باجی، آئی۔” سکینہ رسوئی سے باہر آتے ہوئے بولی۔
“سکینہ، تم کھانا کھا کر آئی ہو؟” نسرین نے سوال کیا۔
“نہیں باجی۔ ہمارے اِدھر اتنی جلدی گیس کہاں آتی ہے!” سکینہ مایوسی سے بولی۔
“اچھا، چلو تم اپنے لیے بھی پراٹھا بنا لو۔ آج تو بہت کام ہے، تھک جاؤ گی۔” نسرین یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔
“شکریہ باجی۔” سکینہ بھی کچن میں آ کر اپنے لیے پراٹھا تلنے لگی۔
اتنے میں چوہدری انور حیات اپنی بیگم کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے رسوئی میں آ گئے۔
“سکینہ! نسرین بیگم کہاں ہیں؟” انور حیات نے اکھڑے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“پتا نہیں چوہدری صاحب، ابھی تو یہیں تھیں۔ شاید چھت پر گئی ہوں۔”
“اچھا، اچھا، ٹھیک ہے۔ دیکھ لیتا ہوں میں۔ یہ اب تم کس کے لیے بنا رہی ہو؟ سب تو کھا چکے ہیں۔” انور حیات نے اسی سخت لہجے میں پوچھا۔
“وہ۔۔۔ میں ناشتہ نہیں کر کے آئی تھی، اور باجی نے کہا کہ آج کام زیادہ ہے تو کچھ بنا کر کھا لو۔” سکینہ نظریں چراتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔
“ایک تو یہ نسرین بھی نا!” انور حیات نے ناگواری سے کہا۔ “اچھا، اب ہمارے برتن جُوٹھے نہ کر دینا۔ کسی پرانے برتن میں کھانا۔”
انور حیات نے سخت نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر پاؤں پٹختا ہوا حویلی کی چھت کی طرف بڑھ گیا۔
☆☆☆
“نسرین! نسرین!” کہتے ہوئے انور حیات چھت کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے، جہاں نسرین انور چیزوں کو جانچنے اور ان کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں۔
“جی، کیا ہوگیا؟” نسرین نے اطمینان سے جواب دیا۔
“ایک پل میں ہی تم کہاں غائب ہو جاتی ہو؟ ابھی میز سے اٹھ کر ہاتھ دھونے گیا تھا، واپس آیا تو تم ملی ہی نہیں۔” انور حیات نے بیزاری سے کہا۔
“ارے، آج چھٹی ہے تو چھت پر آ گئی تھی۔ سوچا دیکھ لوں کہ یہاں زیادہ گندگی تو نہیں، اگر ہے تو آج ہی اچھی طرح صفائی کروا دوں۔ عام دنوں میں تو سکینہ باقی کاموں سے ہی مشکل سے فارغ ہو پاتی ہے۔” نسرین بیگم اب بھی ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے تفصیل سے جواب دے رہی تھیں۔
“ہاں، تم یہ تو بتاؤ کہ سکینہ کو ناشتہ کرنے کے لیے کیوں کہا ہے؟ اپنے گھر سے کھا کر نہیں آ سکتی؟ اب ہمارے برتن جُوٹھے کرے گی۔”
“ارے انور، بس بھی کریں۔ آپ تو ہر وقت اس کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ بیچاری بھوکی آئی تھی اور آج اتنا کام بھی ہے۔ تھک جائے گی، اسی لیے کہہ دیا تھا کہ کچھ کھا لے۔” نسرین نے انور حیات کی بات سے چڑتے ہوئے جواب دیا۔
“نسرین بیگم، جو بھی ہو، وہ نچلی ذات کی، نچلے گھرانے کی عورت چوہدریوں کے برتنوں میں کھائے گی؟ اس کی اتنی اوقات!” انور حیات نے غصے سے کہا۔ “خیر، میں اسے کہہ آیا ہوں کہ کوئی پرانا برتن استعمال کرے۔ اور تم وہ برتن اسے دے دینا کہ گھر کے جائے۔ ہمارے برتنوں کے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
“اللہ! کیا کرتے ہیں آپ؟ بیچاری کو برا لگا ہوگا۔” نسرین نے مایوسی سے کہا۔
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے برا لگے یا اچھا۔” انور حیات نے بے نیازی سے کہا۔ پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ “خیر، میں یہ کہنے آیا تھا کہ میرا کوئی اچھا سا سوٹ نکال کر خود پریس کر دینا۔ یاد تو ہے نا، دو بجے چوہدری مسعود کے بڑے بیٹے کا ولیمہ ہے؟ تم نے تو ویسے بھی نہیں جانا ہوگا، کاموں میں جو لگی ہوئی ہو۔ اور سعد اور عریبہ بھی اپنی مرضی کے مالک ہیں۔”
“ہاں بھئی، آج ادھر حویلی کی صفائی بھی ہونی ہے۔ میں ملازمین پر نظر رکھوں یا شادی پر جاؤں؟ سکینہ ناشتہ کر لے تو میں اسے کہہ دیتی ہوں کہ آپ کا سوٹ پریس کر دے۔”
“نسرین، میں نے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ کسی بھی ملازم سے میرا کام مت کروایا کرو۔ خود کیا کرو۔ مجھے پسند نہیں کہ کوئی غریب فقیر آ کر میرے کپڑوں کو ہاتھ لگائے۔” انور حیات غصے میں کہتے ہوئے وہاں سے نیچے آ گئے۔
کچن کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی نظر سکینہ پر پڑی تو وہ پھر بڑبڑایا۔
“تمہارا شوہر آ گیا ہے؟”
سکینہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا، “جی، آ گئے ہیں۔ گیراج میں بیٹھے ہیں۔ ابھی ناشتہ دے کر آئی ہوں۔”
“ہاں، مفت کا مال ہے، خوب مزے اڑاؤ۔” انور حیات نے سخت طنزیہ لہجے میں کہا، پھر قدرے رُک کر بولا، “خیر، اسے کہنا گاڑی اچھی طرح دھوئے۔ ایک ایک چیز صاف ہونی چاہیے۔ مجھے گاڑی پر مٹی کا ایک ذرہ بھی نظر نہیں آنا چاہیے، شیشے کی طرح صاف ہونی چاہیے۔”
“جی، میں بول دوں گی۔” سکینہ نے نہایت دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
انور حیات کے وہاں سے جانے کے بعد سکینہ خاموشی سے کچن کے فرش پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی۔ آج ایک بار پھر اس کی آنکھیں نم تھیں۔ ویسے تو وہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتی تھی، لیکن آج اسے ایک بار پھر اپنی غریبی پر افسوس ہوا تھا۔
☆☆☆
عموماً گیارہ بجے تک سورج کی دھوپ حویلی کے ہر کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھی، مگر حویلی کی اونچی دیواروں اور بڑے بڑے درختوں کی وجہ سے گیراج کے سامنے ابھی بھی ہلکی سی چھاؤں باقی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ دتہ کو گاڑی دھونے میں آسانی رہتی تھی۔ نہ دھوپ کی شدت اسے جلدی کرنے پر مجبور کرتی اور نہ ہی وہ کبھی کام سے جان چھڑانے کا عادی تھا۔
وہ ہمیشہ کی طرح اطمینان سے گاڑی دھونے میں مصروف تھا۔ پانی کی دھار گاڑی کی چمکتی ہوئی سطح پر پڑتی تو ننھی ننھی بوندیں دھوپ کی ہلکی روشنی میں موتیوں کی طرح جھلملانے لگتیں۔ اللہ دتہ ایک ہاتھ سے کپڑا چلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے کبھی بالٹی میں پانی بھرتا۔ کام کے ساتھ ساتھ دھیمی آواز میں منقبت بھی پڑھ رہا تھا۔ اس کی آواز بہت مدھم تھی، جیسے وہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اپنے رب کے لیے پڑھ رہا ہو۔
اچانک اسے محسوس ہوا جیسے قریب ہی کوئی کھڑا ہے۔ اللہ دتہ نے ہاتھ روک کر سر اٹھایا اور گردن گھما کر دیکھا۔ چند قدم کے فاصلے پر سعد کھڑا تھا۔ شاید کچھ دیر سے وہ وہیں کھڑا اسے کام کرتے دیکھ رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی سعد کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اللہ دتہ نے فوراً کپڑا ایک طرف رکھا اور سیدھا ہو کر کھڑا ہوگیا اور بولا۔ “ارے چھوٹے صاحب! آپ کب آئے؟”
“چچا، آپ کو کتنی مرتبہ کہا ہے کہ مجھے صاحب نہ کہا کریں۔ میرا اتنا پیارا سا نام ہے، وہ بلایا کریں نا۔”
سعد نے مسکراتے ہوئے کہا اور یہ سنتے ہی اللہ دتہ کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
“چھوٹے صاحب، آپ ہمارے چوہدری صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کو نام سے کیسے پکار سکتا ہوں؟”
“کیوں نہیں پکار سکتے؟” سعد نے بے ساختہ کہا۔ اور پھر آگے بڑھ کر گاڑی کے پاس کھڑے پانی کے چھینٹوں سے بچتے ہوئے کہا۔ “میں آپ سے تیس پینتیس سال چھوٹا ہوں، اور ویسے بھی مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی مجھے میری ذات یا خاندان کی وجہ سے پہچانے۔ لوگ مجھے میرے نام سے جانیں، یہی کافی ہے۔”
اللہ دتہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ شاید اسے سعد کی یہ بات ہمیشہ ہی اچھی لگتی تھی، مگر وہ اس بات کو ماننے کے باوجود اپنی عادت بدل نہیں پاتا تھا۔
“جی سعد صاحب، جانتا ہوں۔ لیکن آپ چوہدری صاحب کے بیٹے ہیں۔ آپ کی عزت کرنا تو بنتا ہے۔”
سعد نے فوراً بات پکڑ لی۔ “دیکھا! پھر صاحب!”
اللہ دتہ بے اختیار ہنس پڑا۔ “اچھا بابا، نہیں کہوں گا بس، اب ٹھیک ہے۔”
سعد نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
“خیر، بتائیے کوئی کام تھا؟” اللّٰہ دتہ نے سوال کیا۔
“جی چچا، گاڑی میں کچھ چیزیں پڑی ہیں، وہ نکالنی تھیں، لیکن چلیں آپ گاڑی دھو لیں میں پھر آکر نکال لیتا ہوں۔”
“چلیں جیسے آپ کی مرضی۔” اللہ دتہ نے مختصر سا جواب دیا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
☆☆☆
“انور، تیار ہو گئے ہیں؟” نسرین نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں، بس نکلنے ہی لگا ہوں۔” انور حیات نے آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے بال سنوارے اور پھر اپنے کُرتے کی آستین درست کی۔
“اچھا، تو سلامی وغیرہ یاد سے دے آئیے گا۔ اور بھائی مسعود کو دعوت کا پیغام بھی دے آئیے گا۔ پوچھ کر آنا کہ کس دن آئیں گے، اور ہاں، انہیں بولنا کہ پوری فیملی کے ساتھ آئیں۔”
“اچھا، چلو پوچھ آؤں گا۔”
انور حیات نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ حویلی کے صحن میں آتے ہی اس نے ملازم کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کیا اور خود دروازے کے قریب جا کر کھڑا ہوگیا۔
کچھ ہی دیر بعد گاڑی حویلی سے نکل کر شہر کی جانب روانہ ہو چکی تھی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ شادی ہال کے سامنے پہنچ چکا تھا۔
ہال کا بیرونی حصہ دور سے ہی اپنی شان و شوکت کی وجہ سے نمایاں ہو رہا تھا۔ بڑے بڑے دروازوں پر روشنیوں کی لڑیاں سجی تھیں اور داخلی راستے کے دونوں جانب پھولوں سے خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی۔ پارکنگ میں گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔
انور حیات نے گاڑی پارکنگ میں لگوائی اور اپنی مخصوص وجاہت کے ساتھ مرکزی دروازے کی جانب بڑھا، جہاں چوہدری مسعود اور خاندان کے چند معزز افراد مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑے تھے۔
انور حیات کو دیکھتے ہی مسعود کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔
“ارے ارے! چوہدری انور حیات صاحب! آئیے، آئیے!”
مسعود نے آگے بڑھ کر اسے گرمجوشی سے گلے لگایا۔
“بڑے دنوں بعد ملاقات ہو رہی ہے، اور سنائیں چوہدری صاحب، صحت طبیعت کیسی ہے؟” چوہدری مسعود نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“اللہ کا کرم ہے۔ آپ سنائیں، کیا حال ہے آپ کا؟”
“الحمدللہ! اللہ کا شکر !” انور حیات نے مسکرا کر جواب دیا اور پھر اردگرد نظر دوڑائی۔ مہمان مسلسل ہال میں داخل ہو رہے تھے اور باہر کھڑے لوگ ہر آنے والے کا استقبال کر رہے تھے۔
مسعود نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“اچھا، اب آپ اندر چلے کر بیٹھیں۔ بہت گرمی ہے۔ میں آتا ہوں کچھ دیر تک۔”
“ہاں، ٹھیک ہے۔” انور حیات یہ کہہ کر اندر داخل ہوا۔
اندر کا منظر باہر سے بھی زیادہ شاندار تھا۔ وسیع و عریض ہال کو سفید اور سنہری روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔ چھت سے بڑے بڑے فانوس لٹک رہے تھے اور دیواروں پر پھولوں کی سجاوٹ تقریب کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔ ایک طرف کھانے کے لیے لمبی میزوں پر مختلف اقسام کے پکوان سجے ہوئے تھے۔ کہیں بریانی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، کہیں قورمے اور کباب کی، جبکہ میٹھے کے حصے میں کئی طرح کی مٹھائیاں اور ڈیزرٹس سجے تھے۔
انور حیات نے ہال میں ایک نظر دوڑائی اور پھر اپنے جاننے والوں کے ساتھ جا کر ایک صوفے بیٹھ گیا۔
کچھ ہی دیر بعد مسعود بھی وہاں آ پہنچا۔
“بس چوہدری صاحب، اب ذرا فرصت ملی ہے۔” مسعود نے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا۔
“بیٹے کی شادی ہے، مصروفیت تو ہوگی ہی۔” انور حیات نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دونوں کچھ دیر شادی کی تیاریوں، مہمانوں اور خاندان کے دوسرے افراد کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ انور حیات کبھی ہال میں داخل ہوتے کسی جاننے والے کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کرتا اور کبھی مسعود سے کسی نہ کسی مہمان کے بارے میں پوچھ لیتا۔ کچھ دیر بعد کھانے کا اعلان ہوا۔
“آپ کھانا کھائیں میں ذرا مہمانوں کو دیکھ لوں۔” یہ کہہ کر مسعود وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور انور حیات بھی کھانے کی طرف بڑھا۔
کھانے کے بعد انور حیات واپس جانے کے لیے اٹھا تو مسعود اسے دور سے دیکھ کر قریب آگیا۔
“اتنی جلدی جانے لگے ہیں چوہدری صاحب، تھوڑی دیر تو بیٹھو۔” مسعود نے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں! میں بس نکلوں ، پھر ملاقات ہو گی نا تم پوری فیملی کے ساتھ آنا کل دعوت پر ہمارے ادھر تو پھر بیٹھ کر گپ شپ لگائیں گے۔” انور حیات نے مسکرا کر کہا۔
“کیوں نہیں! ضرور آئیں گے۔” پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا، وہ بولا،”بس ایک مسئلہ ہے۔ کل ہمارے بڑے بھائی کے گھر پوری فیملی کی دعوت ہے۔”
“اچھا، تو پھر؟”
“تو پرسوں آپ کی طرف آ جائیں گے۔”
“ہاں ہاں، ٹھیک ہے۔ پرسوں کا طے رہا۔ پوری فیملی کے ساتھ آنا۔”
“ان شاء اللہ، ضرور آئیں گے۔” مسعود نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
انور نے جیب سے لفافہ نکال کر مسعود کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا “اچھا چوہدری صاحب، اب اجازت دیں، اور یہ میری طرف سے تفحہ۔”
“ارے نہیں! اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ آپ اپنے پاس رکھیں۔”
“کو چوہدری صاحب یہ اس میں تکلف والی کیا بات ہوئی؟ آپ یہ پکڑیں یہ میرے بیٹے اور بہو کے لئے ہے۔” دونوں دوست ہنسنے لگے۔
اللہ حافظ کہہ کر انور حیات گاڑی کی طرف بڑھ گیا، جبکہ مسعود دوبارہ ہال کی طرف لوٹ گیا۔
☆☆☆
نیا دن شروع ہو چکا تھا اور پوری حویلی میں دعوت کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ آج سکینہ اپنی بیٹی حلیمہ کو بھی کام پر ساتھ لے کر آئی تھی تاکہ وہ اس کی کچھ مدد کر سکے، جبکہ اللہ دتہ حویلی کے باہر کا سارا حصہ صاف کرنے میں مصروف تھا۔
“سکینہ! سکینہ!” نسرین آوازیں لگاتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی۔
“جی باجی۔”
“کتنا کام ہو گیا ہے؟”
“باجی، کباب کا مصالحہ میں کل ہی بنا کر فریز کر کے چلی گئی تھی، انہیں بس نکال کر تلنا ہے۔ اس کے علاوہ کھیر اور لبِ شیریں بھی کل بنا کر رکھ دی تھیں۔ ابھی بیف پلاؤ کی تیاری چل رہی ہے اور قورمہ بھی رکھنے لگی ہوں۔ حلیمہ تکے اور بروست کو میرینیٹ کر رہی ہے، کیونکہ یہ چیزیں تو مہمانوں کے آنے پر ہی گرم گرم پیش کی جائیں گی۔”
سکینہ نے ایک ہی سانس میں سارا حساب بتا دیا۔
“حلیمہ، تم جاؤ اور ڈرائنگ روم، ڈائننگ ٹیبل اور ہال—یہ تینوں اچھی طرح صاف کر دو۔ یہ میں خود میرینیٹ کر لیتی ہوں۔ باقی گھر کی صفائی تو میں اور سکینہ تقریباً کر ہی چکے ہیں، بس آج ایک بار پھر اچھی طرح صاف کر دینا۔”
“جی، میں کرتی ہوں۔”
حلیمہ نے سر ہلایا اور وہاں سے نکل گئی۔
نسرین نے چکن میرینیٹ کرنا شروع کیا، پھر جیسے ہی اسے کچھ یاد آیا، سکینہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
“ارے سکینہ، اللہ دتہ نے باہر کی صفائی کر دی؟”
“جی باجی، وہی کر رہے ہیں۔”
“اچھا، اچھا۔ پھر ٹھیک ہے۔ اسے کہنا لان میں گھاس بھی کاٹ دے۔”
“اچھا باجی، میں ابھی بولتی ہوں۔”
دوسری طرف حلیمہ بھی صفائی میں مصروف ہو گئی۔ وہ ہال میں موجود صوفوں اور میزوں کو ترتیب دے رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر صوفے پر پڑے ایک کوٹ پر گئی۔ غالباً وہ کچھ دیر پہلے ہی ڈیزائنر کی طرف سے آیا تھا۔
حلیمہ نے کوٹ اٹھایا اور اسے اندر والے کمرے میں رکھنے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ سامنے سے انور حیات کمرے سے باہر نکلتا ہوا دکھائی دیا۔
انور حیات کی نظر جیسے ہی حلیمہ پر پڑی، وہ رک گیا۔
“اے لڑکی! تم کون ہو؟”
حلیمہ گھبرا گئی۔
“میں۔۔۔ اللہ دتہ کی بیٹی ہوں۔”
ابھی وہ اپنی بات مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ انور حیات کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود کوٹ پر پڑ گئی۔
اس کا لہجہ اچانک سخت ہو گیا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کوٹ کو ہاتھ لگانے کی؟ ابھی وہیں رکھو!”
حلیمہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے فوراً کوٹ واپس صوفے پر رکھ دیا۔
“ابا!” اسی لمحے سعد بھی باہر سے آ گیا اور اپنے والد کو روکنے کی کوشش کی۔
مگر انور حیات کا غصہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔
“تم ہو کون لڑکی؟ دو ٹکے کے ڈھیر ذات والوں کی بیٹی! تمہیں پتا بھی ہے یہ کوٹ کتنا مہنگا ہے؟ اس کی قیمت کیا ہے؟ جتنے کا یہ کوٹ ہے، تم نے پوری زندگی میں اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں دیکھے ہوں گے!”
حلیمہ کے چہرے سے رنگ اڑ گیا۔ اس نے نظریں جھکا لیں اور اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
“ابا، بس کریں! بہت ہو گیا۔” سعد نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
“سعد!” انور حیات دھاڑا۔ “مت بھولو کہ تم چوہدریوں کے بیٹے ہو اور تم اس ڈھیر کے لیے میرے سامنے کھڑے ہونے چلے آئے ہو؟”
اتنے میں کچن سے نسرین اور سکینہ بھی آوازیں سن کر باہر آ گئیں۔ سکینہ کی نظر جیسے ہی اپنی بیٹی کے آنسوؤں سے بھرے چہرے پر پڑی، وہ فوراً اس کے پاس بھاگ کر آئی۔
“حلیمہ!”
وہ اسے اپنے ساتھ لگا کر خاموش کرانے لگی، مگر حلیمہ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
انور حیات غصے سے بڑبڑاتا ہوا واپس اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“چپ کرو حلیمہ، کچھ نہیں ہوتا۔” سکینہ نے بیٹی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔
نسرین نے سعد کی طرف دیکھا۔
“سعد، تم بھی بس کیا کرو۔ کیوں ہر بات پر اپنے باپ سے الجھتے ہو؟”
“لیکن اماں، وہ غلط بات کر رہے تھے۔” سعد نے بے بسی سے کہا۔
“اچھا بس کرو، بات ختم کرو۔ سکینہ، تم بھی کچن میں آؤ، بہت کام پڑا ہے۔”
نسرین دوبارہ کچن کی طرف بڑھ گئی، جبکہ سعد کچھ لمحوں تک وہیں کھڑا اپنی ماں کو دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے پر مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔ پھر وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ آخر لوگ دوسروں کے احساسات کی پروا کیوں نہیں کرتے؟ غصے میں کہے گئے الفاظ کا بوجھ بولنے والے پر شاید چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر سننے والے کے دل میں وہی الفاظ برسوں تک زندہ رہ سکتے ہیں ، اور اس کے دل کر کانچ کے ٹکروں کی طرح چُور چُور کر دیتے ہیں۔”
ادھر حلیمہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔
اس کے ذہن میں انور حیات کے الفاظ بار بار گونج رہے تھے۔
“تم ہو کون؟ دو ٹکے کے ڈھیر ذات والوں کی بیٹی!”
“تم نے پوری زندگی میں اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں دیکھے ہوں گے!”
اور پھر سعد کے لیے کہے گئے وہ الفاظ بھی اس کے کانوں میں گونجنے لگے۔
“مت بھولو کہ تم چوہدریوں کے بیٹے ہو اور تم اس ڈھیر کے لیے میرے سامنے کھڑے ہونے چلے آئے ہو!”
حلیمہ نے نم آنکھوں سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، پھر بے اختیار خود سے سوال کیا، “کیا واقعی کسی انسان کی ذات اس کے وجود کی قیمت طے کرتی ہے؟ کیا کسی کا خاندان، پیشہ یا ذات اسے دوسرے انسان سے بہتر یا کمتر بنا دیتی ہے؟”
وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی۔
یہ تو وہ زمانہ تھا جہاں انسان چاند تک پہنچ چکا تھا، دنیا ایک دوسرے سے لمحوں میں جڑ چکی تھی، علم اور ٹیکنالوجی نے زندگی بدل دی تھی، مگر کچھ ذہن آج بھی صدیوں پرانی ذات پات کی دیواروں میں قید تھے۔
حلیمہ نے آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے اور سر جھکا لیا۔
اس کے سوال کا جواب اسے مل چکا تھا۔
ہاں، آج بھی کچھ لوگ انسان کو انسان نہیں، اس کی ذات سے پہچانتے تھے۔
☆☆☆
شام کا وقت تھا۔ سورج آہستہ آہستہ افق کے پار ڈوب رہا تھا اور آسمان پر نارنجی اور سنہری رنگ بکھرنے لگے تھے۔ حویلی کے صحن میں شام کی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور دعوت کی تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی تھیں۔
چوہدری مسعود اقبال اپنی فیملی کے ساتھ چوہدری انور حیات کی حویلی پہنچ چکے تھے۔ گاڑی حویلی کے بڑے دروازے کے سامنے رکی اور مسعود نے ہارن دیا۔ آواز سنتے ہی اللہ دتہ بھاگتا ہوا آیا اور بڑے گیٹ کے دونوں پٹ کھول دیے۔ دونوں گاڑیاں ایک ایک کر کے حویلی کے اندر داخل ہوئیں۔
اتنے میں چوہدری انور حیات اور نسرین بھی مرکزی دروازے کے پاس ان کے استقبال کے لیے پہنچ چکے تھے۔
مسعود اقبال نے گاڑی سے اترتے ہی اللہ دتہ کو ہاتھ کے اشارے سے گاڑی سے سامان نکالنے کا کہا۔ اتنے میں دوسری گاڑی سے مسعود اقبال کا بڑا بیٹا اذلان اور اس کی نئی نویلی بیوی بھی باہر آ گئے۔
انور حیات نے مہمانوں کے استقبال میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
“السلام علیکم! آئیے، آئیے۔ کیا حال ہے؟ بہت خوشی ہوئی آپ لوگ آئے۔” انور حیات نے گرمجوشی سے مسعود کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم السلام! اللہ کا شکر ہے۔ تم سناؤ، کیا حال ہے؟” مسعود نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور پھر نسرین کی طرف متوجہ ہوا۔ “بھابی، آپ کیسی ہیں؟”
“اللہ کا شکر ہے مسعود بھائی، ہم بالکل ٹھیک ہیں۔ آپ سنائیں؟” نسرین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اسی دوران اس کی نظر مسعود کی بیوی پر پڑی تو وہ فوراً آگے بڑھی۔
“ارے عربیقہ! آپ بھی آئیں، بڑی خوشی ہوئی آپ کو دیکھ کر۔” دونوں ایک دوسرے سے ملیں۔
پھر نسرین نے مسعود کی بہو کی طرف دیکھا۔ “ارے، اپنی بہو سے تو ملواؤ!”
“ہاں ہاں، کیوں نہیں۔ انیقہ بیٹا، آنٹی سے ملو۔” عربیقہ نے مسکراتے ہوئے اپنی بہو کو آگے کیا۔
انیقہ اور مسعود اقبال کی بیٹی حورین بھی نسرین سے ملیں۔ سب ایک دوسرے سے مل ہی رہے تھے کہ انور حیات نے ہنستے ہوئے کہا،
“ارے، ساری باتیں کیا یہیں کھڑے ہو کر کرنے کا ارادہ ہے؟ اندر بھی آ جاؤ!”
سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئے۔
اللہ دتہ مہمانوں کی جانب سے لائے گئے تحائف اٹھا کر ڈرائنگ روم میں رکھی میز پر ترتیب سے رکھتا جا رہا تھا۔ انور حیات کی نظر تحائف پر پڑی تو وہ مسعود کی طرف دیکھ کر بولا،
“ارے مسعود، اس تکلف کی کیا ضرورت تھی؟”
مسعود نے فوراً مسکراتے ہوئے جواب دیا،
“اور جو تم یہ اتنا تکلف کر رہے ہو، اس کا کیا؟”
دونوں دوست ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے۔
اسی دوران سکینہ نگٹس، تکوں اور فرائز کی ٹرے لیے اندر آئی، جبکہ حلیمہ جوس کے گلاس اٹھائے اس کے پیچھے چل رہی تھی۔
اللہ دتہ پہلے ہی تحائف میز پر رکھ چکا تھا، جس کی وجہ سے کھانا رکھنے کے لیے جگہ کم پڑ گئی۔ انور حیات کی نظر جیسے ہی اس طرف پڑی، اس کا لہجہ فوراً بدل گیا۔
“اللہ دتہ! تمہیں نظر نہیں آ رہا؟ یہاں کھانا رکھنا ہے۔ یہ سارا سامان اٹھا کر دوسری میز پر رکھو اور یہاں کھانے کے لیے جگہ بناؤ۔”
“جی، میں کرتا ہوں۔” اللہ دتہ فوراً تحائف اٹھا کر دوسری میز کی طرف بڑھ گیا۔
اسی وقت سعد اور عریبہ بھی مہمانوں سے ملنے ڈرائنگ روم میں آ گئے۔ سعد نے ایک بار پھر اپنے والد کو اللہ دتہ سے سخت لہجے میں بات کرتے دیکھا۔ مہمانوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس نے نرم لہجے میں کہا،
“ابا، کوئی بات نہیں۔ معمولی سی تو بات ہے، آپ کیوں ڈانٹ رہے ہیں انہیں؟”
انور حیات نے سعد کی طرف ایک نظر دیکھا، مگر کوئی جواب نہیں دیا۔
سعد بھی خاموشی سے مسعود اقبال کے دونوں بیٹوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت میں مصروف ہو گیا، جبکہ عریبہ انیقہ اور حورین سے باتیں کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد نسرین نے سب کو کھانے کے لیے آنے کا کہا۔
“چلیں، کھانا لگ گیا ہے۔ سب ڈائننگ روم میں آ جائیں۔”
مسعود اقبال نے بھی سب کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
چند ہی لمحوں میں سب ڈرائنگ روم سے نکل کر ڈائننگ روم کی طرف بڑھنے لگے۔ لمبی میز کے گرد کرسیاں پہلے ہی ترتیب سے لگی ہوئی تھیں اور میز پر مختلف کھانے سجے ان کا انتظار کر رہے تھے۔
کھانے کی میز پر سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔ انور حیات اور مسعود اقبال آپس میں مختلف باتوں میں مصروف تھے، جبکہ خواتین بھی ایک دوسرے سے محوِ گفتگو تھیں۔ سکینہ خاموشی سے سب کو کھانا پیش کر رہی تھی۔
کچھ دیر بعد انیقہ نے میز پر نظر دوڑائی تو اسے رائتے کی پیالی کچھ فاصلے پر رکھی دکھائی دی۔
“باجی، ذرا رائتا دے دیں۔” اس نے سکینہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
سکینہ نے اثبات میں سر ہلایا اور میز کے دوسرے سرے پر رکھی رائتے کی پیالی اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ چونکہ پیالی کچھ دور تھی، اس لیے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اس کا ہاتھ ذرا سا ڈگمگایا اور پیالی کا کچھ رائتا میز پوش پر گر گیا۔
“اوہ، معاف کیجیے گا!” سکینہ فوراً گھبرا گئی۔ “ابھی صاف کرتی ہوں۔”
وہ جلدی سے نیپکن اٹھا کر میز صاف کرنے لگی، مگر انور حیات کا چہرہ ناگواری سے سخت ہو گیا۔
“سکینہ! تم سے اتنا سا کام بھی ٹھیک سے نہیں ہوتا؟”
میز پر ہونے والی گفتگو یکدم رک گئی۔
سکینہ نے نظریں جھکا لیں۔
“چوہدری صاحب، غلطی سے ۔۔۔۔۔۔۔”
“ہر بار یہی ہوتا ہے!” انور نے اس کی بات کاٹ دی۔ “نہ کام کا سلیقہ ہے، نہ چیزیں سنبھالنے کا طریقہ۔ مہمانوں کے سامنے بھی تم سے سکون سے کام نہیں ہوتا۔”
سکینہ خاموشی سے میز صاف کرتی رہی۔
سعد نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ناگواری نمایاں تھی۔
“ابا، غلطی سے ہوا ہے۔ اتنی سی بات پر آپ اسے کیوں ڈانٹ رہے ہیں؟”
انور نے فوراً سعد کی طرف دیکھا۔ “تم بیچ میں مت بولو، سعد۔”
“لیکن ابا، سکینہ نے جان بوجھ کر تو نہیں گرایا۔”
“سعد!” انور کی آواز پہلے سے بلند ہو گئی۔ “میں اپنے گھر کے معاملات تم سے بہتر جانتا ہوں۔”
عریبہ بھی خاموش نہ رہ سکی۔
“ابا، واقعی اتنی سی بات ہے۔ انیقہ آپی نے رائتا مانگا تھا، بس ہاتھ سے ذرا گر گیا۔”
انور نے غصے سے عریبہ کی طرف دیکھا۔
“تم بھی شروع ہو جاؤ۔ آخر تم دونوں کو ہر بات میں اپنے باپ کو غلط ثابت کرنے کا شوق کیوں ہے؟”
سعد نے قدرے ضبط سے کہا، “ہم آپ کو غلط ثابت نہیں کر رہے، ابا۔ بس کہہ رہے ہیں کہ انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔”
“انسان؟” انور نے طنزیہ انداز میں کہا۔ “تمہیں تو ہر وقت ان لوگوں کی فکر رہتی ہے۔”
مسعود نے ماحول کو بگڑتے دیکھ کر فوراً بات سنبھالی۔
“ارے انور، چھوڑو بھی۔ سکینہ سے غلطی ہو گئی ہے، کوئی بڑی بات تو نہیں۔”
انور نے ایک لمحے کے لیے مسعود کی طرف دیکھا، پھر خاموش ہو گیا، مگر اس کے چہرے پر غصہ اب بھی نمایاں تھا۔ اتنے میں انیقہ بھی بولی۔
“جی انکل چھوڑیں کوئی بات نہیں۔”
سکینہ نے میز صاف کی اور خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی۔
چند لمحوں بعد مسعود نے دوبارہ انور سے بات چھیڑ دی، مگر ابھی ابھی ہونے والی تلخی کے باعث میز پر پھیلی گفتگو میں پہلے جیسی روانی نہ رہی تھی۔
سعد خاموش بیٹھا اپنے باپ کو دیکھتا رہا، جبکہ عریبہ نے ایک نظر سکینہ کی طرف دیکھا جو کمرے کے ایک کونے میں کھڑی باقی کھانے کی چیزوں پر نظر دوڑا رہی تھی کہ ہر چیز مکمل تو ہے یا نہیں۔
وہ صرف ایک معمولی سی غلطی تھی، مگر انور حیات کے نزدیک سکینہ کی ہر غلطی اس کی ذات سے جڑی ہوئی تھی۔ رائتے کے چند قطرے تو میز پوش سے صاف ہو گئے تھے، مگر انور کے الفاظ نے جو داغ دلوں پر چھوڑا تھا، وہ اتنی آسانی سے صاف ہونے والا نہیں تھا۔
☆☆☆
اگلی صبح سعد نہار منہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آ رہا تھا کہ اسے اپنے باپ کی بلند آواز سنائی دی۔ ابھی چند سیڑھیاں ہی باقی تھیں کہ وہ وہیں رک کر سننے لگا۔
“ارے، تم لوگوں کو کوئی کام ڈھنگ سے کرنا آتا بھی ہے یا نہیں؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس کی قیمت کیا تھی؟ اتنا مہنگا واس تھا! میں نے تم لوگوں کو گھر میں کام کرنے کی اجازت دی ہے، تمہیں تنخواہ دیتا ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیں گھر کی ہر چیز کو ہاتھ لگانے کی اجازت مل گئی ہے۔”
“چوہدری صاحب، غلطی سے گر گیا تھا، معاف کر دیں۔” سکینہ نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔
“غلطی سے نہیں گرا تھا! تم دونوں نے جان بوجھ کر توڑا ہوگا۔ نچلی ذات کے لوگ ہو، تو ایسی نچلی اور گری ہوئی حرکتیں ہی کرو گے نا۔” انور حیات نے “نچلی ذات” کے الفاظ پر خاصا زور دیا۔
“چوہدری صاحب، ہمیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ ہم جان بوجھ کر اسے توڑتے؟” اللہ دتہ نے جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ ہاتھ باندھے اور دھیمی آواز میں کہا۔
اس سے پہلے کہ انور حیات مزید کچھ کہتا، سعد سیڑھیاں اتر کر لاؤنج میں آ گیا۔
“ابا، بس کریں۔ بہت ہو گیا۔ آپ نے ان لوگوں کو بہت ذلیل کر لیا، اب اور نہیں۔”
اس کی آواز میں دباؤ تھا، مگر باپ کے رعب کی وجہ سے ہلکی سی لرزش بھی محسوس ہو رہی تھی۔
“تم ہوتے کون ہو ان دو ٹکے کے ملازموں کے لیے میرے سامنے کھڑے ہونے والے؟” انور حیات کی آواز پورے لاؤنج میں گونجی۔
سعد نے ایک لمحے کے لیے اللہ دتہ اور سکینہ کی طرف دیکھا، پھر اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا،
“میں ایک انسان ہوں، اور ایک انسان کے حق کے لیے آواز اٹھا رہا ہوں۔ اس سے بڑھ کر نہ میں کچھ ہوں اور نہ آپ کچھ۔”
انور حیات اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“انسان؟ تمہاری جرأت کیسے ہوئی کہ تم ان لوگوں اور گاؤں کے اتنے بڑے چوہدری، انور حیات، کو ایک برابر کہو؟ تم ابھی میرے جلال سے واقف نہیں ہو، سعد۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ خاموش ہو جاؤ۔”
“آج میں خاموش نہیں ہوں گا، ابا۔ آج میں سارا سچ بولوں گا۔ اور سچ یہی ہے کہ اللہ کی نظر میں سارے انسان برابر ہیں۔ آپ انہیں آئے دن اس طرح ذلیل اور بے عزت نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارے گھر کے ہاؤس ہیلپرز ضرور ہیں، لیکن ہمارے غلام نہیں ہیں۔ نہ ہم نے انہیں خریدا ہے اور نہ ان کی عزتِ نفس ہم سے کم ہے۔ ہر انسان کی اپنی عزت ہوتی ہے، اور آپ نے تو انہیں اتنا ذلیل کر دیا ہے کہ شاید وہ اپنی ہی نظروں میں خود کو کم تر سمجھنے لگے ہوں۔ آپ اتنے سنگ دل کیسے ہو سکتے ہیں؟”
اس بار سعد کی آواز میں دباؤ ضرور تھا، مگر لہجہ نرم تھا۔ وہ اپنے باپ سے بحث جیتنا نہیں چاہتا تھا، بلکہ اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ انسان کی قدر اس کی ذات یا حیثیت سے نہیں، اس کے انسان ہونے سے ہے۔
سعد کی بات ختم ہوتے ہی انور حیات دو قدم آگے بڑھا اور اس کے قریب جا کر نہایت دھیمی آواز میں بولا، جو صرف اسی لاؤنج کی حدود تک رہی۔
“میں تمہیں بتاتا ہوں کہ عزتِ نفس کیا ہوتی ہے۔”
یہ کہتے ہی انور حیات نے سعد کے منہ پر دو زوردار تھپڑ دے مارے۔
“یہ ہے تمہاری عزتِ نفس!”
وہ غصے سے یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔
سعد کے رخسار پر انور حیات کے بھاری ہاتھ کے سرخ نشان ابھر آئے تھے۔ وہ چند لمحے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے، سرخ آنکھوں سے اپنے باپ کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
اللہ دتہ فوراً آگے بڑھا اور اسے صوفے پر بٹھا دیا۔ اس نے پاس رکھا گلاس اٹھایا، اس میں پانی بھرا اور سعد کی طرف بڑھا دیا۔
سعد نے خاموشی سے گلاس تھام لیا۔
سکینہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“چھوٹے صاحب، آپ کو بڑے صاحب سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ہمارا کیا ہے؟ ہم تو روز ہی یہ سب برداشت کرتے ہیں۔ لیکن آپ ہماری وجہ سے خود کو ان سے کیوں بدظن کر رہے ہیں؟”
سعد نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف ایک گہری سانس لی اور نظریں جھکا لیں۔
“نہیں، سکینہ خالہ۔ انہیں کسی نہ کسی طرح تو سمجھانا پڑے گا۔ نہیں تو یہ آگ صرف ہمیں نہیں جلائے گی، پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔”
یہ کہہ کر سعد اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
لاؤنج میں اب صرف سکینہ اور اللہ دتہ رہ گئے تھے۔
کچھ دیر تک دونوں خاموش کھڑے رہے۔
سکینہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، “اللہ جانے ہمارے نصیب میں یہ سب کب تک لکھا ہے۔”
اللہ دتہ نے گہری سانس لی اور دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، “جب تک آزمائش ہے، تب تک صبر ہے۔ اللہ سب دیکھ رہا ہے، سکینہ۔”
سکینہ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ “لیکن کیا اللہ کبھی یہ سب ختم بھی کرے گا؟”
اللہ دتہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ “ان شاء اللہ۔ جس ذات کے سامنے سب برابر ہیں، وہ کسی کا حق ہمیشہ کے لیے ضائع نہیں ہونے دے گی۔”
دونوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، پھر اللہ دتہ نے ٹوٹے ہوئے واس کے ٹکڑے سمیٹنے شروع کر دیے اور سکینہ بھی خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
☆☆☆
انور حیات اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا میٹنگ کے لیے تیار ہو رہا تھا، مگر اس کے چہرے سے غصہ اب بھی صاف جھلک رہا تھا۔ وہ کبھی اپنی گھڑی درست کرتا اور کبھی بے دھیانی میں اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا، جیسے اس کا ذہن ابھی تک کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے میں الجھا ہوا ہو۔
نسرین کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے اپنے شوہر کے چہرے کی طرف دیکھا۔
“اب بس بھی کریں، انور۔ اتنا غصہ بھی اچھا نہیں ہوتا۔ اپنا موڈ ٹھیک کریں، آپ میٹنگ کے لیے جا رہے ہیں۔”
انور نے آئینے میں ہی اسے دیکھا اور قدرے تلخی سے بولا،
“نسرین، اگر تم اس وقت وہاں ہوتیں نا، تو تم خود دیکھتیں کہ اس نے ملازموں کے سامنے مجھے کیسے باتیں سنائی تھیں۔ اور کل مسعود کے گھر والوں کے سامنے بھی مجھ سے بحث کرنے لگا تھا۔ یہ نئی نسل بھی نہ جانے کیسی ہو گئی ہے۔ جتنی زبان انہیں دی گئی ہے، اتنا ہی ادب کم ہوتا جا رہا ہے۔”
نسرین خاموشی سے اسے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے بولی،
“ہاں انور، نئی نسل واقعی ہم سے مختلف ہے۔ لیکن شاید ہر فرق برا نہیں ہوتا۔”
انور نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
“ہم نے کبھی اپنے ماں باپ کے سامنے اس طرح کھڑے ہو کر بات نہیں کی، یہ سچ ہے۔ لیکن شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہم اپنے حق مانگنا نہیں جانتے تھے۔ ہمیں اپنے حقوق کا بھی اتنا علم نہیں تھا اور دوسروں کے حقوق کا بھی نہیں۔ ہم نے اپنی ساری عمر ماں باپ کے ڈر میں گزار دی۔ جو کہا گیا، مان لیا۔ جو غلط لگا، خاموشی سے برداشت کر لیا۔”
انور کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
نسرین نے بات جاری رکھی۔
“اب کم از کم یہ نئی نسل اپنے حق کے لیے آواز تو اٹھاتی ہے۔ اپنے ساتھ غلط ہو تو سوال کرتی ہے اور دوسروں کے ساتھ غلط ہو تو ان کے لیے بھی کھڑی ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو سوچتی ہوں، کاش ہمیں بھی اپنے حقوق کا اتنا ہی شعور ہوتا۔ شاید ہم بھی اپنے لیے اور دوسروں کے لیے آواز اٹھانا سیکھ سکتے۔”
انور چند لمحوں تک خاموش اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس کے چہرے پر ایک ناگواری سی ابھری۔
“تم بھی سعد کی باتوں سے متاثر ہونے لگی ہو؟”
“میں کسی کی بات سے متاثر نہیں ہو رہی، انور۔ بس جو بات درست لگتی ہے، اسے درست کہہ رہی ہوں۔”
انور نے جواب دینے کے بجائے بے زاری سے رخ موڑ لیا۔
“بس کرو نسرین۔ مجھے پہلے ہی بہت غصہ ہے، مزید فلسفہ سننے کا موڈ نہیں۔”
وہ میز سے گاڑی کی چابیاں اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آیا۔
نسرین بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑی۔
کچھ ہی دیر بعد انور حیات اپنی گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ آج اسے ایک اہم کاروباری میٹنگ میں شرکت کرنی تھی، مگر اس کا ذہن میٹنگ کے بجائے سعد کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔
“میں ایک عام انسان ہوں…”
سعد کی آواز جیسے بار بار اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
پھر نسریں کے الفاظ یاد آئے۔
“کاش ہمیں بھی اپنے حقوق کا اتنا ہی شعور ہوتا…”
انور نے جھنجھلا کر سر جھٹکا۔
“بس!”
اس نے گاڑی کی رفتار کچھ بڑھا دی۔ مگر خیالات کہاں رکنے والے تھے۔
کل مسعود کے گھر والوں کے سامنے سعد کا اس کے سامنے بولنا، آج صبح ملازموں کے سامنے اس کا یوں کھڑا ہو جانا، پھر نسریں کی باتیں ۔۔۔ سب کچھ ایک ایک کر کے اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔
اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوطی سے جم گئے۔
غصہ اب بھی اس کے اندر ویسے ہی بھڑک رہا تھا، اور اسی غصے میں اس کی توجہ چند لمحوں کے لیے سڑک سے ہٹ گئی۔ اگلے ہی لمحے گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے لگے بجلی کے پول سے جا ٹکرائی۔
ایک زوردار دھماکا ہوا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بجلی کا پول جھٹکے سے ٹیڑھا ہو کر گاڑی کے اوپر آ گرا۔ گاڑی کا اگلا حصہ بری طرح پچک گیا اور شیشے ٹوٹ کر ہر طرف بکھر گئے۔
انور حیات کا سر اسٹیئرنگ سے جا ٹکرایا۔ چند ہی لمحوں میں اس کا چہرہ خون سے لت پت ہو گیا اور وہ بے ہوش ہو کر سیٹ پر ڈھیر ہو گیا۔
حادثہ دیکھتے ہی آس پاس موجود لوگ دوڑ کر وہاں جمع ہو گئے۔
“جلدی کرو، ریسکیو کو فون کرو!”
“ایمبولینس بھی بلاؤ!”
کسی نے فوراً ریسکیو کو اطلاع دی، جبکہ چند لوگ گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر اندر پھنسے انور حیات کو باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگے، مگر گاڑی اس قدر بری طرح تباہ ہو چکی تھی کہ دروازہ بھی نہیں کھل رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں ریسکیو کی گاڑی اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی۔
ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر کام شروع کیا۔ کافی کوشش کے بعد انہوں نے گاڑی کا ایک حصہ کاٹ کر راستہ بنایا اور بڑی مشکل سے انور حیات کو باہر نکالا۔
وہ بالکل بے ہوش تھا۔
اس کے کپڑے خون سے تر تھے اور سانسیں بھی بے ترتیب چل رہی تھیں۔
“جلدی کریں، اسے فوراً ہسپتال لے جانا ہوگا!”
ریسکیو اہلکاروں نے اسے اسٹریچر پر منتقل کیا اور ایمبولینس کے ذریعے فوری طور پر قریبی ہسپتال روانہ کر دیا۔
سڑک پر ٹوٹی ہوئی گاڑی، بکھرے ہوئے شیشے اور گرا ہوا بجلی کا پول اس حادثے کی شدت کی گواہی دے رہے تھے۔
☆☆☆
“ڈاکٹر صاحب!” سعد نے ایمرجنسی روم سے باہر نکلتے ہوئے ڈاکٹر کو دیکھا تو فوراً اس کی طرف بڑھا۔ “میرے ابا… وہ کیسے ہیں؟”
اس کی آواز میں چھپی گھبراہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
ڈاکٹر نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر قدرے اطمینان سے بولا، “سب سے پہلے تو شکر کریں کہ وہ زندہ ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ جس شدت کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے، اس میں ان کا بچ جانا واقعی کسی معجزے سے کم نہیں۔”
“یا اللہ! تیرا شکر… تیرا شکر۔” نسرین نے بے اختیار آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
لیکن ڈاکٹر کے چہرے کی سنجیدگی ابھی برقرار تھی۔
“مگر ابھی خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ حادثے میں ان کا کافی زیادہ خون بہہ چکا ہے، اس لیے ہمیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہے۔ کم از کم چار یونٹس A+ خون کا انتظام کرنا ہوگا۔ اگر خون کی کمی پوری نہ کی گئی تو ان کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔”
“ڈاکٹر صاحب، میرا بلڈ گروپ چیک کر لیں۔ اگر میچ ہو گیا تو میں ابھی خون دے دیتا ہوں۔” سعد نے فوراً کہا۔
“آپ فوراً لیبارٹری جائیں اور اپنا بلڈ گروپ چیک کروائیں۔ بلڈ بینک میں فی الحال ایک یونٹ A+ موجود ہے، لیکن ہمیں مزید خون کا بھی انتظام کرنا ہوگا۔”
سعد نے مزید کچھ پوچھے بغیر لیبارٹری کی طرف قدم بڑھا دیے۔
کچھ دیر بعد لیبارٹری میں موجود شخص نے رپورٹ دیکھ کر کہا، “آپ کا بلڈ گروپ B+ ہے۔ یہ آپ کے والد کے لیے میچ نہیں کر رہا۔”
سعد کے چہرے سے جیسے ساری امید ہی اتر گئی۔
“یا اللہ…” اس نے بے بسی سے ماتھا تھام لیا۔ “اب میں کیا کروں؟”
لیبارٹری میں موجود شخص نے پوچھا، “ہسپتال میں کون داخل ہے؟”
“میرے ابا ہیں۔ ان کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔”
“کتنے یونٹس خون کی ضرورت ہے؟”
“چار۔”
سعد کی آواز میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔
وہ شخص کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا، “بلڈ بینک میں ابھی صرف ایک یونٹ موجود ہے۔”
سعد نے فوراً پوچھا، “اور باقی؟”
“باقی کا آپ کو انتظام کرنا ہوگا۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس شخص نے کہا، “اگر آپ چاہیں تو میں ایک یونٹ ڈونیٹ کر سکتا ہوں۔ میرا بلڈ گروپ A+ ہے۔”
سعد نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔ “آپ… واقعی خون دے دیں گے؟”
“جی۔ اس وقت کسی کی مدد ہو جائے تو اس سے بڑی بات اور کیا ہوگی۔”
سعد کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“بہت بہت شکریہ۔ آپ نے واقعی اس وقت میرا بوجھ ہلکا کر دیا ہے۔”
وہ شخص خون دینے کے انتظام کی طرف بڑھ گیا اور سعد تقریباً بھاگتا ہوا ویٹنگ ایریا میں پہنچا، جہاں نسرین مسلسل ٹہلتے ہوئے دعائیں کر رہی تھیں جبکہ عریبہ بھی پاس ہی بیٹھی تھی۔
“اماں!” سعد نے آتے ہی کہا۔ “لیبارٹری میں ایک شخص ہے، وہ ایک یونٹ خون ڈونیٹ کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ اس کا بلڈ گروپ A+ ہے۔”
“یا اللہ تیرا شکر!” نسرین نے بے اختیار ہاتھ اٹھا دیے۔
پھر سعد کے چہرے کی پریشانی دیکھ کر بولیں، “لیکن ابھی بھی کچھ باقی ہے نا؟”
“جی اماں۔” سعد نے آہستہ سے کہا۔ “پھر بھی دو یونٹس اور چاہییں۔”
عریبہ نے فوراً پوچھا، “بھائی، آپ کا بلڈ میچ نہیں ہوا؟”
سعد نے نظریں جھکا کر کہا، “نہیں… میرا B+ ہے۔”
عریبہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
“اماں! آپ کو یاد ہے، حورین نے بتایا تھا کہ ان تمام بہن بھائیوں کا بلڈ گروپ ایک جیسا ہے، A+۔ اگر حورین نہیں تو اس کے بھائی تو خون دے سکتے ہیں نا؟”
نسرین نے فوراً سعد کی طرف دیکھا۔ “کیا واقعی؟”
“جی اماں۔” عریبہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
نسرین نے کچھ سوچا، پھر امید سے بولیں، “سعد بیٹا، انہیں کال کرو۔ مجھے یقین ہے مسعود صاحب ہمیں اس وقت اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ تمہارے ابا اور ان کی دوستی کوئی معمولی دوستی نہیں ہے۔”
سعد نے قدرے ہچکچاتے ہوئے کہا، “لیکن امی… میری اذلان اور رایان سے اتنی قریبی دوستی بھی نہیں کہ میں اچانک انہیں فون کر کے اپنے ابا کے لیے خون مانگوں۔”
“اس وقت دوستی کی قربت نہیں دیکھی جاتی، بیٹا۔ انسان مشکل وقت میں ہی پہچانا جاتا ہے۔” نسرین نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “اور مجھے مسعود صاحب پر پورا بھروسا ہے۔”
سعد خاموش ہو گیا۔
وہ عریبہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا، کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائیں اور کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“امی… ایک شخص اور ہے۔”
“کون؟” نسرین نے فوراً پوچھا۔
“میرا کالج کا دوست، جواد حیدر۔ حیدر صاحب کا بیٹا۔ اس نے ایک دفعہ باتوں باتوں میں بتایا تھا کہ اس کے پورے خاندان میں صرف اس کا بلڈ گروپ A+ ہے۔ اس وقت اس نے مجھ سے بھی پوچھا تھا، لیکن مجھے اپنا بلڈ گروپ معلوم ہی نہیں تھا۔”
“تو پھر دیر کس بات کی ہے؟” نسرین نے فوراً کہا۔ “اسے کال کرو۔ شاید اللہ نے اسے اسی وقت تمہاری مدد کے لیے رکھا ہو۔”
سعد نے فوراً موبائل نکالا، نمبر تلاش کیا اور کال ملا دی۔
کچھ دیر بیل جانے کے بعد جواد نے فون اٹھا لیا۔
سلام دعا کے بعد سعد نے بغیر کسی تمہید کے کہا، “جواد، مجھے تم سے ایک بہت بڑی مدد چاہیے۔ مجھے امید ہے تم مجھے مایوس نہیں کرو گے۔”
“کیا ہوا سعد؟ اتنے پریشان کیوں ہو؟ بولو۔”
سعد نے ایک گہری سانس لی۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے ابا کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ ان کی حالت کافی خراب ہے۔ ڈاکٹر نے کم از کم چار یونٹس خون کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔ ابھی دو یونٹس کا انتظام ہوا ہے، لیکن دو یونٹس ابھی بھی نہیں مل رہے۔ اگر تم ایک یونٹ خون دے دو تو شاید…”
وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پایا تھا کہ جواد نے درمیان میں کہا، “اوہ… یہ سن کر واقعی بہت افسوس ہوا۔ اللہ انہیں صحت دے۔”
مگر اس نے خون دینے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔
سعد نے امید سے پوچھا، “جواد، تم نے ایک دفعہ مجھے بتایا تھا نا کہ تمہارا بلڈ گروپ A+ ہے؟ کیا تم ایک یونٹ خون دے سکتے ہو؟ پلیز، اس وقت میرے ابا کو واقعی تمہاری ضرورت ہے۔ میری فیملی تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولے گی۔”
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر جواد نے کہا، “ارے نہیں سعد، میں نے تم سے کب کہا تھا کہ میرا بلڈ گروپ A+ ہے؟ مجھے تو خود نہیں معلوم۔”
سعد چونک گیا۔ جواد اپنی کی کوئی بات سے ہی جیسے مُکر گیا۔
“جواد، مجھے پوری طرح یاد ہے۔ تم نے خود مجھے بتایا تھا۔”
“ہو سکتا ہے تمہیں غلط یاد ہو۔ بہرحال میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔”
“جواد، پلیز… ایک یونٹ خون کی بات ہے۔ میرے ابا کی جان کا معاملہ ہے۔”
سعد کی آواز میں التجا اتر آئی تھی۔
مگر دوسری طرف سے جواب ٹھنڈا تھا۔ “سوری سعد، میرے لیے ممکن نہیں ہے۔”
اور اس سے پہلے کہ سعد مزید کچھ کہتا، جواد نے کال کاٹ دی۔
سعد کچھ لمحے موبائل ہاتھ میں لیے خاموش کھڑا رہا۔ چونکہ کال اسپیکر پر تھی، نسرین اور عریبہ نے بھی پوری گفتگو سن لی تھی۔
نسرین نے مایوسی سے آنکھیں بند کر لیں۔
“سعد… میری بات مان لو۔ مسعود صاحب کے بیٹوں کو کال کر لو۔ شاید وہ انکار نہ کریں۔”
سعد نے ایک لمحے کے لیے ماں کو دیکھا، پھر اذلان کا نمبر ملایا۔
کچھ پل بعد اذلان نے کال اٹھا لی۔
“السلام علیکم، اذلان۔ کیسے ہو؟”
“وعلیکم السلام۔ میں ٹھیک ہوں۔ تم بتاؤ، کیا حال ہے؟ اور اچانک کال کیسے کی؟ سب خیریت ہے؟”
“ہاں یار… بس۔” سعد نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ “رایان پاس ہی ہے؟”
“ہاں، پاس ہی ہے۔ کیوں؟”
“مجھے تم دونوں سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔”
“اچھا رکو، ہم ہال میں ہیں اور سب پاس ہی ہیں۔ میں اسپیکر آن کر دیتا ہوں۔ بتاؤ کیا ہوا؟”
اذلان نے اسپیکر آن کر دیا۔
سعد نے ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد کہا، “یار… ابا کا ابھی کچھ دیر پہلے بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔”
دوسری طرف سے فوراً کسی کے “اوہ ہو ہو!” کرنے کی آواز آئی۔ شاید وہ عربیقہ تھیں۔
سعد نے بات جاری رکھی۔
“ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں ایمرجنسی میں چار یونٹس خون کی ضرورت ہے۔ دو یونٹس کا انتظام ہو گیا ہے، لیکن دو یونٹس ابھی نہیں مل رہے۔ عریبہ نے بتایا تھا کہ حورین سے بات کرتے ہوئے اسے معلوم ہوا کہ تم دونوں بھائیوں کا بلڈ گروپ A+ ہے۔ کیا تم دونوں میں سے کوئی ایک ایک یونٹ خون دے سکتا ہے؟ پلیز، اس وقت انہیں واقعی خون کی ضرورت ہے۔”
سعد خاموش ہو گیا۔
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر ہلکی ہلکی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔
شاید حورین بھی وہیں موجود تھی، کیونکہ اچانک کسی کے قدرے غصے میں بولنے کی آواز آئی۔
“یہ کس نے اسے بتایا تھا؟”
سعد کے دل میں ایک عجیب سا خدشہ پیدا ہوا۔
پھر اذلان کی آواز آئی، “اممم… یار…”
وہ جیسے سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ سعد کو کیا جواب دے۔
تبھی پس منظر سے ایک بھاری آواز سنائی دی۔
“ارے نہیں، کوئی ضرورت نہیں خون دینے کی۔”
یہ مسعود صاحب کی آواز تھی۔
اس کے فوراً بعد عربیقہ بولیں، “ہاں نا! میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ ان بیچاروں کو خود خون کی ضرورت ہے، یہ لوگوں کو کیسے دے سکتے ہیں؟”
عربیقہ نے پل بھر میں اپنے بائیس اور چوبیس سالہ جوان بیٹوں کو ننھا بچہ بنا دیا تھا۔
سعد دوسری طرف سے آنے والی ہر آواز خاموشی سے سن رہا تھا۔
کچھ لمحے گزر گئے تو اس نے پوچھا، “کیا ہوا اذلان؟”
اذلان نے قدرے جھجھکتے ہوئے کہا، “نہیں یار… سوری۔ میں بہت شرمندہ ہوں، لیکن ہم مدد نہیں کر سکتے۔”
سعد کے ہونٹ ہلے، مگر اس سے کوئی لفظ نہ نکلا۔
“ٹھیک ہے…” اس نے بمشکل کہا۔
اذلان نے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر سعد نے اس سے پہلے ہی کال ختم کر دی۔ نسرین کو تو جیسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہ آیا۔
“یہ… یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” وہ ہڑبڑاتے ہوئے بولیں۔ “اتنی پرانی دوستی… اور آج جب تمہارے ابا کی جان کا سوال ہے…”
عریبہ بھی یکدم سکتے میں چلی گئی۔
“اب ۔۔۔ اب کیا ہوگا؟ ہم خون کا انتظام کہاں سے کریں گے؟”
سعد نے جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ڈاکٹر دوبارہ ان کی طرف آتا دکھائی دیا۔
“پیشنٹ کو ایک یونٹ خون لگ چکا ہے۔ دوسرا یونٹ بھی کچھ دیر میں لگا دیا جائے گا۔ باقی دو یونٹس کا آپ انتظام کرتے رہیں۔ ہمیں مزید خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔”
“ڈاکٹر صاحب…” سعد فوراً اس کی طرف متوجہ ہوا۔ “ابا کی حالت کیسی ہے؟”
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے جواب دیا، “فی الحال ہم انہیں مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حادثہ کافی شدید تھا، اس لیے ہمیں اندرونی چوٹوں کا بھی خدشہ ہے۔ اگر اسکینز اور باقی رپورٹس میں ایسی چوٹ سامنے آئی جس کے لیے آپریشن ضروری ہوا تو ہمیں انہیں آپریشن تھیٹر لے جانا پڑے گا۔”
نسرین نے بے اختیار پوچھا، “ڈاکٹر صاحب… کیا ان کا آپریشن ہوگا؟”
“اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن آپریشن کی ضرورت پڑی تو ہم دیر نہیں کریں گے۔ آپ خون کا انتظام جاری رکھیں۔”
ڈاکٹر نے ایک لمحے بعد مزید کہا، “اور ایک بات، اگر وہ ہوش میں آتے بھی ہیں تو اپنی طرف سے انہیں کچھ کھلانے پلانے کی کوشش نہ کریں۔ جب ہم اجازت دیں گے تب ہی کچھ دیا جائے گا۔ اگر بعد میں ان کی حالت کھانے پینے کے قابل ہوئی تو گھر کی بنی ہوئی یخنی مناسب رہے گی۔”
“جی ڈاکٹر صاحب۔” سعد نے فوراً سر ہلایا۔
ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا اور نسرین نے بے بسی سے سعد کی طرف دیکھا۔
“اب کیا کریں گے ہم؟ خون کا انتظام کہاں سے ہوگا؟”
سعد نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“اماں، آپ پریشان نہ ہوں۔ خون کا کچھ نہ کچھ انتظام ہو جائے گا، اللہ بہتر کرے گا۔ آپ لوگ یہیں رہیں۔ پہلے سکینہ سے یخنی بنواتا ہوں اور آپ لوگوں کے لیے بھی کچھ کھانا لے آتا ہوں۔ آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔”
“بیٹا، مجھے کھانے کی فکر نہیں، تمہارے ابا…” نسرین کی آواز بھرّا گئی۔
“مجھے معلوم ہے اماں۔” سعد نے نرمی سے کہا۔ “لیکن آپ کو بھی مضبوط رہنا ہوگا۔ ابا کو ہماری ضرورت ہے۔”
یہ کہہ کر سعد نے انہیں تسلی دی اور خود گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
☆☆☆
سعد نے حویلی کے باہر آ کر ہارن دیا تو اللہ دتہ نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ سعد نے گاڑی اندر لا کر پارک کی اور باہر نکلا ہی تھا کہ اللہ دتہ دروازہ بند کرنے لگا۔ اتنے میں سکینہ، جو پہلے ہی حویلی کے مرکزی دروازے کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھی تھی، تقریباً بھاگتی ہوئی گاڑی کے پاس آئی۔
“چوہدری صاحب۔۔۔ چوہدری صاحب نہیں آئے؟” اس نے بے اختیار پوچھا۔
“نہیں۔” سعد نے مختصر سا جواب دیا۔
اچانک اس کی نظر سکینہ کی آنکھوں پر پڑی۔ وہ مسلسل رو رہی تھی۔
“سکینہ خالہ۔۔۔ خالہ، کیا ہو گیا؟ آپ نہ روئیں، بس دعا کریں۔” سعد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
اتنے میں اللہ دتہ بھی ان کے قریب پہنچ گیا۔
“سعد صاحب، جب سے آپ لوگ گھر سے نکلے ہیں، سکینہ تب سے بس یہیں بیٹھی روئے جا رہی ہے۔ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔”
سعد نے ایک نظر سکینہ کی طرف دیکھا۔
“خالہ، آپ نہ روئیں۔ آپ بس دعا کریں۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ابا کا بہت زیادہ خون بہہ گیا ہے اور خون کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔ آپ بس دعا کریں کہ خون کے لیے ڈونر مل جائے۔”
“کتنا خون چاہیے صاحب کو؟” اللہ دتہ نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا۔
“دو یونٹس کا انتظام ہو گیا ہے، دو یونٹس کا بندوبست ابھی کرنا ہے۔” سعد نے انہیں بتایا۔
سکینہ نے فوراً پوچھا، “سعد صاحب، وہ بڑے صاحب کا بلڈ گروپ کیا ہے؟”
سعد نے ذرا جھجکتے ہوئے جواب دیا، “A+۔”
“واقعی؟” اللہ دتہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
اسی لمحے سکینہ نے اپنے آنسو پونچھ لیے۔
“جی، کیوں؟ کیا ہوا؟ خیریت ہے؟” سعد نے حیرت سے پوچھا۔
اللہ دتہ کے چہرے پر پہلی بار اطمینان بھری مسکراہٹ آئی۔
“سعد صاحب، میرا اور میرے بیٹے کا بلڈ گروپ بھی A+ ہے۔”
“چچا… آپ سچ کہہ رہے ہیں؟”
“ہاں ہاں بیٹا، بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔” اللہ دتہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سعد کے چہرے پر بھی بے اختیار امید کی ایک لہر آئی۔
“یا اللہ تیرا شکر…” اس نے آہستہ سے کہا۔
سکینہ نے اللہ دتہ کی جیب سے بٹنوں والا چھوٹا سا فون نکالا اور حسنین کا نمبر ملانے لگی۔
کچھ ہی دیر بعد دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا۔
“السلام علیکم، ابا۔”
“وعلیکم السلام بیٹا، میں ہوں۔”
“جی اماں، کیا ہوا؟ سب خیریت ہے؟”
“ہاں بیٹا، بس تم ادھر بڑے صاحب کی حویلی آؤ، جلدی سے۔ اور حلیمہ کو بھی ساتھ لے آنا۔” سکینہ نے قدرے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا اماں، میں آتا ہوں۔” یہ کہہ کر حسنین نے کال کاٹ دی۔
سعد خاموشی سے سارا منظر دیکھتا رہا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ جن لوگوں کو ذلیل کرتے ہوئے انور حیات نے دن رات ایک کر دیے تھے، وہ آج اس کی مدد کرنے کے لیے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچ رہے تھے۔
“سعد صاحب، آپ اندر آئیں۔ وہ کچھ دیر تک آ ہی جائیں گے۔” اللہ دتہ نے کہا۔
سعد، سکینہ اور اللہ دتہ کے ہمراہ اندر چلا گیا۔
سعد ہال میں ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔
“جاؤ سکینہ، سعد صاحب کے لیے پانی لے کر آؤ۔” اللہ دتہ نے کہا۔
سکینہ فوراً پانی لے آئی۔ اس نے سعد کو گلاس تھمایا اور پھر وہ بھی قریب ہی بیٹھ گئی۔
“سعد صاحب، ڈاکٹر کیا کہہ رہا ہے؟” سکینہ نے فکر مندی سے پوچھا۔
“ڈاکٹر نے فی الحال خون کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔ وہ ابا کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی آپریشن کے بارے میں کچھ حتمی نہیں بتایا، کیونکہ رپورٹس آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ آپریشن کی ضرورت ہے یا نہیں۔ لیکن ہمیں ہر صورت کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ رپورٹس میں کچھ بھی آ سکتا ہے۔”
سعد مختصر سی تفصیل بتا کر خاموش ہو گیا۔
“اوہو… لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے نا۔ اللہ بہتر کرے گا۔ تو بیٹا، تم بالکل ٹینشن مت لو۔” سکینہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“جی خالہ۔”
کچھ پل کے لیے پھر خاموشی چھا گئی۔
اچانک سعد کو کچھ یاد آیا تو وہ فوراً بولا، “اوہ ہاں خالہ! میں تو دوسرے کام سے گھر آیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر ابا کو ہوش آ بھی جائے تو فی الحال انہیں صرف یخنی دی جائے، وہ بھی ڈاکٹر کی اجازت سے۔ تو آپ وہ بنا دیں۔ اور ساتھ ہی اماں اور عریبہ کے لیے بھی کچھ بنا دیں، انہوں نے دن سے کچھ نہیں کھایا۔”
“جی بیٹا، میں ابھی بناتی ہوں۔” سکینہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
وہ کچن کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ باہر دروازے کی گھنٹی بجی تو سکینہ رک گئی۔
“جائیے، دیکھیں۔ حسنین اور حلیمہ ہوں گے۔” اس نے اللہ دتہ سے کہا۔
اللہ دتہ فوراً دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ کھولا تو سامنے حسنین اور حلیمہ کھڑے تھے۔
“السلام علیکم، ابا۔”
“وعلیکم السلام، آؤ بیٹا۔”
حسنین نے اندر قدم رکھتے ہوئے اپنی موٹر سائیکل کی طرف دیکھا۔
“ابا، بائیک باہر کھڑی کر دوں یا اندر لے آؤں؟”
اللہ دتہ نے باہر کھڑی موٹر سائیکل کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “نہیں بیٹا، باہر ہی کھڑی کر دو۔ گندی ہے، اندر لے آؤ گے تو فرش خراب ہو جائے گا۔”
“اچھا ابا۔”
حسنین نے بائیک وہیں کھڑی کی اور واپس اندر آ گیا۔
اللہ دتہ نے حلیمہ کی طرف دیکھا۔ ” حلیمہ، تم کچن میں جاؤ۔ امی کی مدد کرو۔”
“جی ابا۔” حلیمہ یہ کہہ کر فوراً اندر کی طرف چلی گئی۔
اللہ دتہ نے حسنین کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“آؤ، میں تمہیں سعد صاحب کے پاس لے کر چلتا ہوں۔”
دونوں ہال میں داخل ہوئے۔ حسنین کی نظر سامنے بیٹھے سعد پر پڑی۔ یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی۔ حسنین دیکھنے میں زیادہ بڑا نہیں لگ رہا تھا، بمشکل انیس، بیس سال کا معلوم ہوتا تھا۔
“سعد صاحب، یہ میرا بیٹا حسنین ہے۔” اللہ دتہ نے تعارف کروایا۔
سعد فوراً صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“السلام علیکم۔”
“وعلیکم السلام، سعد بھائی۔” حسنین نے ادب سے جواب دیا۔
اللہ دتہ نے حسنین کو پوری صورتحال بتانا شروع کر دی۔ ایکسیڈنٹ، ہسپتال، انور حیات کی حالت، خون کی ضرورت اور اب تک ہونے والے انتظام کے بارے میں اس نے مختصر مگر مکمل تفصیل اسے بتا دی۔
حسنین خاموشی سے سنتا رہا۔
جیسے ہی اللہ دتہ نے بات مکمل کی، حسنین فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
“ابا، آپ یہاں میرا انتظار کیوں کر رہے تھے؟ آپ کو خود ہسپتال چلے جانا چاہیے تھا۔ آپ مجھے سیدھا وہیں بلاتے۔ انہیں اس وقت خون کی ضرورت ہے اور ہمیں مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔”
اللہ دتہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، “بیٹا، میں سوچ رہا تھا تم آ جاؤ تو ….”
“ابا، سوچنے کا وقت نہیں ہے۔” حسنین نے بے چینی سے کہا۔ “آپ A+ ہیں اور میں بھی۔ اگر ہمارے خون سے بڑے صاحب کی جان بچ سکتی ہے تو ہمیں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ چلیں، ابھی ہسپتال چلتے ہیں۔”
سعد حسنین کی باتیں خاموشی سے سن رہا تھا۔
اسے اس لڑکے کی جلدی، فکر اور بات کرنے کا انداز بے حد متاثر کر رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جن لوگوں سے اس نے اپنے باپ کے لیے خون مانگا تھا، وہ اپنے بہانے بنا کر پیچھے ہٹ گئے تھے، اور یہاں یہ لڑکا تھا جو اس شخص کی جان بچانے کے لیے بے چین کھڑا تھا جس نے کبھی اسے اور اس کے گھر والوں کو عزت نہیں دی تھی۔
“سعد بھائی، آپ گاڑی میں چلیں۔ میں اور ابا بائیک پر آ جاتے ہیں۔” حسنین نے کہا۔
سعد فوراً بولا، “نہیں، تم دونوں بھی گاڑی میں ہی چلو۔”
اللہ دتہ نے درمیان میں کہا، “نہیں سعد صاحب، ہم بائیک پر ہی آ جاتے ہیں۔ پھر ہمیں واپس گھر بھی آنا ہوگا۔ سکینہ اور حلیمہ کھانا لے کر ہسپتال آئیں گی، اور مجھے بھی گھر آ کر باقی چیزوں کا انتظام کرنا ہوگا۔”
سعد نے ایک لمحہ سوچا، پھر سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے چچا۔ لیکن آپ دونوں سیدھا ہسپتال پہنچیں۔ ہمیں مزید دیر نہیں کرنی چاہیے۔”
“جی سعد صاحب۔” اللہ دتہ نے کہا۔
حسنین نے فوراً اپنے ابا کی طرف دیکھا۔ “چلیں ابا۔”
اللہ دتہ نے دروازہ بند کیا اور دونوں تیزی سے موٹر سائیکل کی طرف بڑھے۔
کچھ ہی لمحوں بعد حسنین اور اللہ دتہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئے، جبکہ سعد اپنی گاڑی میں ان کے پیچھے چل پڑا۔
تینوں کا رخ ایک ہی طرف تھا … ہسپتال کی طرف، جہاں ایک ایسے شخص کی زندگی خطرے میں تھی جس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی جان بچانے کے لیے وہی لوگ آگے آئیں گے جنہیں وہ اپنی ذات سے کمتر سمجھتا رہا تھا۔
☆☆☆
تین دن بعد
انور حیات کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ جسم ابھی کمزور تھا، مگر اب وہ خطرے سے باہر تھا۔ حویلی واپس آکر وہ کچھ دیر خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھا رہا۔ پھر اس نے نسرین کی طرف دیکھا۔
“ان تین دنوں میں کیا ہوا؟”
نسرین نے گہری سانس لی۔
“بہت کچھ ہوا۔”
انور خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
“جب آپ ہسپتال میں تھے تو سعد، اریبہ اور میں وہیں تھے۔ مگر ہمارے لیے کھانے پینے سے لے کر باقی ضروری چیزوں تک کا خیال سکینہ اور اس کے گھر والوں نے رکھا۔ وہ تینوں دن ہمارے ساتھ رہے۔ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔”
انور کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا اور نسرین نے بات جاری رکھی۔
“اور جن لوگوں سے ہمیں امید تھی۔۔۔ انہوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔”
انور نے چونک کر پوچھا،
“کون؟”
“نجب ڈاکٹر نے کہا کہ فوری طور پر خون کی ضرورت ہے ، ہم سب پریشان بیٹھے تھے کہیں سے خون کا بندو بست نہیں ہو رہا تھا اور پھر ہمیں جہاں سے امید کی کرن نظر آئی انہوں نے بھی انکار کر کے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔”
“کیا مطلب نسرین ؟ کس کی بات کر رہی ہو؟” انور نے حیرت سے پوچھا۔
“جواد حیدر اور مسعود کے بیٹوں، رایان اور اذلان کی۔ جب پریشانی میں سعد نے ان کو فون کیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور مدد کرنے سے منع کر دیا اور مسعود بھائی جن پر مجھے سب سے زیادہ مان تھا۔ ان کے بیٹوں نے بھی اپنے والدین کے کہنے پر خون دینے سے انکار کر کے معذرت کر لی۔”
انور کو بھی اپنے کانوں پر یقین نہ آیا مگر اس کے پاس نسرین کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کیونکہ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ جب اس پر کبھی ایسی مصیبت آئی تو اس کے دوستوں کا یہ ردِعمل ہوگا۔ اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا،
“پھر خون کا انتظام کیسے ہوا؟”
نسرین نے اس کی طرف دیکھا۔
“اللہ دتہ اور اس کے بیٹے حسنین نے خون دیا۔”
انور کی آنکھیں یکدم پھیل گئیں۔
“اللہ دتہ۔۔۔؟”
“جی۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے ایسی خاموشی چھا گئی جس میں انور کو اپنی ہی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔ اسے ایک ایک کرکے وہ تمام منظر یاد آنے لگے جب اس نے اللہ دتہ، سکینہ اور ان کے بچوں کو ان کی ذات کی وجہ سے ذلیل کیا تھا۔ وہ الفاظ، وہ طنز، وہ نفرت۔۔۔ سب کچھ اس کے ذہن میں گونجنے لگا۔
اور آج۔۔۔ اسی اللہ دتہ کا خون اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد انور نے سر اٹھایا۔
“نسرین۔۔۔ اللہ دتہ کے سارے گھر والوں اور بچوں کو بلاؤ۔”
نسرین خاموشی سے اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اللہ دتہ، سکینہ، حلیمہ اور حسنین کے ساتھ واپس آئی۔ سعد اور اریبہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
سب خاموشی سے انور کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ انور نے ایک ایک چہرے کو دیکھا۔ اس کی نظریں جب اللہ دتہ پر ٹھہریں تو اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ کچھ لمحے وہ کچھ نہ بول سکا۔ پھر اس نے بھاری آواز میں کہا،
“اللہ دتہ۔۔۔ میں نے تمہیں ہمیشہ تمہاری ذات کی وجہ سے اپنے سے کمتر سمجھا۔ میں نے تمہارے کام کو، تمہاری غربت کو، تمہارے خاندان کو۔۔۔ ہر چیز کو تمہاری تذلیل کا ذریعہ بنایا۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔
“مگر آج۔۔۔”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“جس شخص کو میں کمتر سمجھتا رہا، جس کی ذات کی وجہ سے اسے اپنے سے نیچا سمجھتا رہا۔۔۔ آج اسی ذات کے شخص کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔”
کمرے میں موجود ہر شخص خاموش تھا۔
انور نے اپنی سینے پر ہاتھ رکھا۔
“اور اگر مجھے یہ خون کے قطرے نصیب نہ ہوتے۔۔۔ تو شاید آج میں یہاں تم سب کے سامنے کھڑا نہ ہوتا۔”
اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر گال پر بہہ گیا۔
“میں ساری عمر اپنی ذات پر ناز کرتا رہا، مگر میری ذات نے آج مجھے نہیں بچایا۔ میری دولت نے نہیں بچایا۔ میرا رتبہ، میرا نام، میری چوہدراہٹ۔۔۔ کچھ بھی میرے کام نہیں آیا۔”
اس نے اللہ دتہ کی طرف دیکھا۔
“مجھے ایک ایسے انسان نے بچایا جسے میں انسان سمجھنے سے پہلے اس کی ذات دیکھتا رہا۔”
سکینہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔
انور نے دھیمی آواز میں کہا،
“مجھے معاف کر دو۔”
اللہ دتہ نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے، مگر انور نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“نہیں۔۔۔ آج مجھے بولنے دو۔ میں نے بہت برس بول کر دوسروں کو خاموش کیا ہے۔ آج پہلی بار اپنی غلطی ماننے دو۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر سعد کی طرف دیکھا۔
“سعد۔۔۔ تم نے اس دن کہا تھا کہ انسان ہونے سے بڑھ کر نہ تم کچھ ہو اور نہ میں کچھ۔ تب مجھے اپنی چوہدراہٹ نظر آ رہی تھی، انسانیت نہیں۔ آج سمجھ آیا ہے کہ تم کیا کہہ رہے تھے۔”
سعد کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
انور نے ایک نظر اللہ دتہ، سکینہ، حسنین اور حلیمہ پر ڈالی۔
“آج سے میری حویلی میں کسی انسان کی عزت اس کی ذات، لباس، کام یا حیثیت سے نہیں ہوگی۔ عزت صرف اس لیے ہوگی کہ وہ انسان ہے۔”
وہ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔
مگر اس دن انور حیات کے اندر صرف ایک سوچ نہیں بدلی تھی۔۔۔ اس کی پوری دنیا بدل گئی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ انسانوں کی بنائی ہوئی ذاتیں صرف غرور پیدا کر سکتی ہیں، کسی انسان کو حقیقت میں بڑا نہیں بنا سکتیں۔ جس ذات پر وہ ناز کرتا رہا، وہ اسے موت کے دروازے سے واپس نہ لا سکی۔ مگر ایک ایسے انسان کا خون، جسے وہ کمتر سمجھتا رہا، اس کی زندگی بن گیا۔
دنیا نے ذاتوں کے نام پر انسانوں کو بانٹ دیا تھا، مگر رب نے سب کے جسم میں ایک ہی رنگ کا خون رکھا تھا۔ کیونکہ اس کے ہاں نہ کوئی چوہدری بڑا ہے، نہ ڈھیر چھوٹا، نہ امیر بلند ہے، نہ غریب پست۔
اس کے ہاں سب برابر ہیں۔ سب!
انسانوں کی بنائی ہوئی تمام ذاتیں اس رب کی ذات کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں اور آخرکار ہر غرور کو اسی حقیقت کے سامنے جھکنا پڑتا ہے کہ ۔۔۔۔
بے شک، اسی کی ذات سب سے بڑی ہے۔
