گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۵
باب ششم : دوسری لہر
امل نے ریپر کی طرف دیکھا۔
اُس کے لبوں پر وہی پُراعتماد سی مسکراہٹ تھی۔
پھر اُس نے بغیر کسی جلدی کے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوا۔
اگلے ہی لمحے چاروں طرف سے سیاہ لباس میں ملبوس گارڈز اپنی اپنی گاڑیوں سے باہر نکل آئے۔
کئی گنز ریپر کی گاڑی کی طرف اٹھ گئیں۔
ریپر چند لمحے ڈرائیونگ سیٹ پر بالکل خاموش بیٹھا رہا۔
انجن کی ہلکی گونج کے سوا رات بالکل خاموش تھی۔
سرد ہوا کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا رہی تھی، مگر اُس کے چہرے پر ایک بوند پسینے کی نہیں تھی۔
اُس کی نظریں سامنے کھڑے لوگوں پر نہیں تھیں۔
وہ مسلسل شیشوں میں دیکھ رہا تھا۔
دائیں طرف تین گاڑیاں۔
بائیں طرف دو۔
سامنے راستہ مکمل بند۔
اور پیچھے بھی گاڑی کھڑی تھی۔
اُس کے سینے میں دل ایک خاص ترتیب سے دھڑک رہا تھا… نہ تیز، نہ سست۔ بالکل اُسی رفتار سے جس رفتار سے اُس کا ذہن حساب لگا رہا تھا۔
اُس نے آہستہ سے ایک گہری سانس لی۔
پھر اُس کی نظر امل پر پڑی۔
وہ چند قدم دور کھڑی اُسی کو دیکھ رہی تھی۔
ریپر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
اسمارٹ تو تُم ہو۔۔۔ وہ بہت دھیمی آواز میں بولا۔
پھر اُسے اچانک کچھ یاد آیا۔
گھر سے تو وہ بس ایک ڈرائیور کے ساتھ نکلی تھی،
اور ہسپتال سے نکلتے وقت بھی امل اکیلی تھی،
ڈرائیور کو تو ریپر نے بےہوش کر کے وہیں چھوڑ دیا تھا، اور ہسپتال کے باہر بھی اُس نے کسی گارڈ کو نہیں دیکھا تھا۔ راستے بھر بھی کوئی گاڑی اُن کے پیچھے نہیں تھی۔
پھر یہ سب اتنی جلدی کیسے؟
ریپر کی نظریں دوبارہ امل کے ہاتھ کی طرف گئیں۔
اُس کے ہاتھ میں موجود فون اب اُس کے پاس نہیں تھا۔
ریپر کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی۔
تو یہ بات تھی۔۔۔
اُس نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اُسے ایک نظر اور دیکھا۔
اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ امل نے اُس وقت فون استعمال کیا تھا جب اُس کی نظریں سڑک پر تھیں۔
شاید صرف ایک کال… یا چند الفاظ کا پیغام۔
مگر اتنا ضرور تھا کہ اُس نے اپنے لوگوں کو بلا لیا تھا۔
اور ریپر کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی۔
باہر کھڑے ایک گارڈ نے بلند آواز میں کہا،
ریپر! گاڑی سے باہر نکلو۔۔۔
ریپر نے جواب نہیں دیا۔
اُس نے بس ایک بار گاڑی کے ڈیش بورڈ پر نظر ڈالی۔
پھر سامنے دیکھا۔
پھر بائیں طرف۔
اُس کے ذہن میں چند ہی لمحوں میں پورا راستہ بن چکا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ گارڈز اُسے زندہ پکڑنا چاہتے ہیں۔
اگر مقصد صرف اُسے مارنا ہوتا تو اب تک فائرنگ شروع ہو چکی ہوتی۔
اور یہی اُن کی کمزوری تھی۔
ریپر نے اچانک گاڑی کا دروازہ کھولا۔
کئی گنز مزید اُس کی طرف اٹھ گئیں۔
مگر ریپر باہر نکلنے کے بجائے واپس سیٹ پر بیٹھ گیا۔
ایک گارڈ چیخا،
ریپر باہر نکلو۔۔۔
اگلے ہی لمحے اُس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
انجن کی گونج رات کی خاموش سڑک پر پھیل گئی۔
گارڈز نے فوراً اپنی پوزیشن سنبھال لی۔
گاڑی مت چلانا۔۔۔
ریپر نے شیشے میں امل کو دیکھا۔
امل کے چہرے کی مسکراہٹ اب بھی قائم تھی، مگر اُس کی آنکھوں میں کچھ اور بھی تھا… ایک عجیب سا اطمینان، جیسے وہ پہلے سے جانتی ہو کہ یہ کھیل کس طرف جائے گا۔
اچانک اُس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
سامنے کھڑی گاڑی کے بالکل قریب جا کر ریپر نے آخری لمحے پر اسٹیئرنگ موڑ دیا۔
ٹائروں کی تیز آواز سڑک پر گونجی۔
پھر اُس کی نظریں پیچھے شیشے میں موجود گاڑی پر جا ٹھہریں۔
راستہ مکمل طور پر بند تھا۔
اُس نے اسٹیئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
اگلے ہی لمحے اُس نے گاڑی کو اچانک ریورس میں پوری رفتار سے پیچھے دوڑا دیا۔
گاڑی کا پچھلا حصہ پیچھے کھڑی گاڑی سے جا ٹکرایا۔
ایک زوردار آواز کے ساتھ دوسری گاڑی چند فٹ پیچھے سرک گئی۔
گارڈز ایک لمحے کے لیے بوکھلا گئے۔
روکو اُسے… کسی نے چیخ کر کہا۔
مگر ریپر رکنے والا نہیں تھا۔
اُس نے فوراً اسٹیئرنگ موڑا اور گاڑی کو ایک تیز چکر دیتے ہوئے دوبارہ اسی گاڑی کی طرف موڑ دیا جو ابھی اُس کے راستے میں رکاوٹ بنی کھڑی تھی۔
اگلے ہی لمحے ریپر نے ایک بار پھر گاڑی کے اگلے حصے سے اُس گاڑی کو ٹکر ماری۔
اس بار ٹکر اتنی شدید تھی کہ سامنے کھڑی گاڑی ایک طرف کو سرک گئی اور سڑک کا اتنا راستہ بن گیا کہ ایک گاڑی وہاں سے نکل سکتی تھی۔
گارڈز نے فوراً اپنی گاڑیاں آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
مگر ریپر اُس سے پہلے ہی موقع حاصل کر چکا تھا۔
اُس نے ایک لمحے کے لیے سڑک کا خالی حصہ دیکھا۔
پھر ایکسیلیریٹر دبا دیا۔
گاڑی تیزی سے اُس بنے ہوئے راستے کی طرف بڑھی۔
ایک گارڈ نے گن اٹھائی۔
فائر…
گولی چلی۔
پچھلے شیشے کے ایک کونے پر دراڑ سی پڑ گئی، مگر ریپر نے مڑ کر نہیں دیکھا۔
مگر اُس سے پہلے ہی ریپر کی گاڑی اُن کے بیچ سے نکل چکی تھی۔
ٹائروں کی چیخ جیسی آواز رات کی سڑک پر گونجی اور چند ہی سیکنڈز میں گاڑی اُن کی نظروں سے دور ہوتی چلی گئی۔
امل سڑک کے کنارے کھڑی اُس منظر کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
++++++++++++
ریپر گھر پہنچا تو اُس کے اندر کا سکون جیسے کہیں ختم ہو چکا تھا۔
دروازہ کھلتے ہی وہ تیز قدموں سے اندر آیا۔
اُس کے چہرے پر عجیب سی سختی تھی۔
وہ خاموش تھا۔ بالکل خاموش۔
مگر اُس کی خاموشی میں جو غصہ تھا، وہ کسی چیخ سے زیادہ شدید تھا۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اُس نے سامنے رکھی میز کو زور سے ہاتھ مارا۔
اُس پر رکھا گلاس اچھل کر زمین پر جا گرا۔
شیشے کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے۔
ریپر نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے میز پر رکھی ایک چیز اٹھائی اور پوری قوت سے دوسری طرف پھینک دی۔
پھر دوسری۔۔۔
پھر تیسری۔۔۔
کمرے میں چیزوں کے ٹوٹنے کی آوازیں ایک کے بعد ایک گونجنے لگیں۔
وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں رہا تھا۔
بس جو ہاتھ آتا، اٹھاتا اور غصے میں پھینک دیتا۔
اُس کی سانسیں بھاری ہو چکی تھیں۔
جبڑے سختی سے بھنچے ہوئے تھے۔
مٹھی بار بار بند ہوتی اور کھلتی۔
اُس کے ذہن میں بار بار امل کا چہرہ آ رہا تھا۔
وہی بےخوف آنکھیں۔۔۔
وہی پُراعتماد مسکراہٹ۔۔۔
اور وہ لمحہ جب اُس نے ریپر کو چاروں طرف سے گھیروا کر خود سکون سے گاڑی سے باہر قدم رکھا تھا۔
ریپر کی آنکھوں میں غصہ مزید گہرا ہو گیا۔
اُس نے سامنے پڑی کرسی کو ایک زور دار لات ماری۔
کرسی دور جا کر الٹ گئی۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔
پھر اُس نے دونوں ہاتھ بالوں میں پھیرے اور بےچینی سے کمرے میں چکر لگانے لگا۔
اُس کے اندر امل کے لیے غصہ حد سے بڑھ چکا تھا۔
وہ لڑکی بار بار اُس کے سامنے آ رہی تھی۔
اُس کے ساتھ اکیلی گاڑی میں بیٹھ کر بےخوفی دکھاتی ہوئی۔۔۔
اور آخر میں اُسی کو اُس کے اپنے کھیل میں مات دے کر۔
ریپر نے اچانک مڑ کر سامنے دیوار کو دیکھا۔
کچھ لمحوں تک اُس کی نظریں وہیں جمی رہیں۔
اگر وہ املِ ایمان نہ ہوتی۔۔۔
اگر اُس لڑکی کا تعلق امن سے نہ ہوتا۔۔۔
تو شاید آج وہ اِس کمرے میں اُس کے بارے میں سوچ بھی نہ رہا ہوتا۔
اُس کا غصہ صرف امل پر نہیں تھا۔
اُسے غصہ اس بات پر بھی تھا کہ امن کا نام ایک بار پھر اُس کے ہاتھ روک رہا تھا۔
ریپر آہستہ سے صوفے کے قریب گیا اور دونوں ہاتھ اُس کی پشت پر رکھ کر سر جھکا لیا۔
کمرے میں ہر طرف بکھری ہوئی چیزیں اُس کے اندر کے طوفان کا منظر پیش کر رہی تھیں۔
وہ کافی دیر تک اُسی حالت میں کھڑا رہا۔
پھر آہستہ سے سیدھا ہوا۔
ریپر کے اندر امل کے لیے غصہ اب صرف غصہ نہیں رہا تھا۔
وہ اُس کے اُس پُراعتماد مسکراتے چہرے کو یاد کر رہا تھا۔
وہ مسکراہٹ۔۔۔ جو ہر بار اُسے جیسے چیلنج کرتی تھی۔
ریپر اُسے ختم کر سکتا تھا۔
بہت آسانی سے۔
اگر وہ صرف جان لینا چاہتا تو شاید امل کو اتنے موقع بھی نہ ملتے۔
مگر وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔
اُس کے لیے امل کا مر جانا بہت آسان تھا۔۔۔
وہ چاہتا تھا کہ ایک دن یہی لڑکی، جو آج اُس کے سامنے اتنی بےخوف بن کر کھڑی ہوتی ہے، اُس کے سامنے اپنی بےبسی محسوس کرے۔ وہ چاہتا تھا اُس مسکراتے ہوئے چہرے پر آنسو ہوں۔
وہ چاہتا تھا وہی آنکھیں، جن میں آج ریپر کے لیے ذرا سا خوف بھی نہیں تھا، ایک دن اُسے دیکھتے ہی خوف سے بھر جائیں۔
وہ امل کو صرف تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔
وہ اُسے توڑنا چاہتا تھا۔
اتنا کہ اُس کے دل میں ریپر کا نام آتے ہی اُس کی ساری بہادری کہیں چھپ جائے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر…
وہ امن کو اُس کی اپنی بہن کی بےبسی دکھانا چاہتا تھا۔ وہ امن کو بےبس دیکھنا چاہتا تھا۔۔
وہ امن کو خون کے آنسو رولانا چاہتا تھا۔۔۔
وہ دونوں بہن بھائی کے آنکھوں میں ریپر کا خوف دیکھنا چاہتا تھا،
+++++++++++++
اُدھر امل گھر پہنچی تو اُس نے کسی سے کچھ کہنے کی زحمت نہیں کی۔
وہ سیدھی امن کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
دروازہ کھولتے ہی اندر داخل ہوئی اور چند لمحوں تک وہیں کھڑی رہی۔
جیسے گھر کی محفوظ فضا میں پہنچنے کے باوجود اُس کا دل ابھی تک اُس سنسان سڑک پر ہی اٹکا ہوا تھا۔
اُس کا دل اب بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
گاڑی میں بیٹھے وہ چند منٹ…
ریپر کی آواز…
اُس کا اچانک گاڑی کی رفتار بڑھا دینا…
پھر اُس کا خوفناک انداز…
اور آخر میں چاروں طرف سے اُن گاڑیوں کا آ کر اُسے گھیر لینا…
سب کچھ ایک ایک کر کے اُس کے ذہن میں دوبارہ چلنے لگا۔
اُسے آج پہلی بار شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ واقعی موت کے کتنے قریب سے گزر کر آئی ہے۔
گاڑی میں بیٹھے ہر لمحے اُس کے دل میں ایک ہی دعا چل رہی تھی۔
وہ زبان سے کچھ نہیں کہہ رہی تھی، مگر دل مسلسل اللہ کو پکار رہا تھا۔
اُس نے پوری کوشش کی تھی کہ اُس کے چہرے سے خوف ظاہر نہ ہو۔
ریپر کے سامنے اُس نے خود کو مضبوط رکھا تھا۔
اپنی آواز کو کانپنے نہیں دیا تھا۔
اپنی آنکھوں میں خوف نہیں آنے دیا تھا۔
مگر اب…
جب وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں تھی…
تو اُس ساری مضبوطی کے پیچھے چھپا خوف آہستہ آہستہ اُس پر حاوی ہونے لگا۔
اُس نے آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی۔
پھر خود کو سنبھالتے ہوئے سیدھی واش روم کی طرف چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ نہا کر باہر نکلی۔
اُس نے وضو کیا اور خاموشی سے کمرے میں آ گئی۔
وضو کے پانی کے ساتھ جیسے اُس کے اندر کا خوف بھی کچھ کم ہوا تھا۔
مگر دل ابھی بھی بےچین تھا۔
وہ آہستہ سے امن کے بستر کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔
اُس نے خالی جگہ کو دیکھا۔
ایک لمحے کے لیے اُس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
آج اگر امن یہاں ہوتا…
تو شاید اُسے کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔
وہ اُس کے چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ جاتا کہ وہ ڈری ہوئی ہے۔
جب بھی امل کو خوف محسوس ہوتا تھا، امن اُسے سنبھال لیتا تھا۔
اُس کی موجودگی ہی جیسے اُس کے لیے ایک یقین تھی۔
ایک ایسا یقین کہ کچھ بھی ہو جائے…
وہ اُسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔
امل نے بےاختیار اپنی انگلیاں آپس میں مضبوطی سے پھنسا لیں۔
اُسے آج پہلی بار امن کی غیرموجودگی اتنی شدت سے محسوس ہوئی۔
امل کچھ دیر امن کے بستر کے پاس خاموش بیٹھی رہی۔
پھر اُس نے آہستہ سے اپنے آنسو صاف کیے۔
ابھی اُسے خود کو سنبھالنا تھا۔
اُس نے جائے نماز نکالی اور کمرے کے ایک پُرسکون کونے میں بچھا دی۔
چند لمحوں تک وہ اُسے دیکھتی رہی۔
پھر خاموشی سے اُس پر کھڑی ہو گئی۔
ہاتھ باندھتے ہی جیسے اُس کے اندر کا سارا شور آہستہ آہستہ دبنے لگا۔
اب نہ ریپر کی آواز تھی۔۔۔
نہ اُس سنسان سڑک کا خوف۔۔۔
نہ گاڑی کی تیز رفتار۔۔۔
نہ چاروں طرف کھڑی بندوقیں۔
بس وہ تھی…
اور اُس کا رب۔
امل نے نماز شروع کی۔
پہلے ہی رکوع تک پہنچتے پہنچتے اُس کے دل پر رکھا ہوا بوجھ کچھ ہلکا ہونے لگا۔
مگر جب اُس نے سجدے میں سر رکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
وہ کافی دیر تک سجدے میں رہی۔
جیسے آج کے سارے خوف، ساری بےبسی اور ساری دعائیں اُسی ایک سجدے میں رکھ دینا چاہتی ہو۔
اُس کے لب خاموش تھے، مگر آنکھیں سب کہہ رہی تھیں۔
اور شاید اُسے پہلی بار محسوس ہوا…
کہ انسان کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو جائے، کچھ خوف ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے صرف اللہ کے آگے جھکنا ہی سکون دیتا ہے۔
+++++++++++++
سینان ابھی اپنے کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ اُس کے فون کی گھنٹی بجی۔
اسکرین پر امن کا نام دیکھ کر اُس نے فوراً کال اٹھا لی۔
امن نے مختصر انداز میں اُسے اُس لڑکی کی لوکیشن تلاش کرنے کا کہا۔
سینان نے بغیر کسی سوال کے ہاں کر دی۔
کال ختم ہوئی تو اُس نے ایک لمحے کے لیے فون کو دیکھا، جیسے ابھی اُسے فیصلہ کرنا ہو کہ اس کام کے لیے بستر سے اٹھنا بھی ضروری ہے یا نہیں۔
پھر اُس نے فون دوبارہ ایک طرف رکھ دیا۔
وہ اپنے بستر پر لیٹا رہا۔
چند لمحے چھت کو دیکھتا رہا۔
آخرکار اُسے خیال آیا کہ کام واقعی کرنا ہے۔
اُس نے فون اٹھایا، نیوز کھولی اور اُس لڑکی کی تصویر نکال لی۔
پھر اپنے ایک گروپ میں تصویر بھیج دی۔
ساتھ صرف اتنا لکھا،
اِس لڑکی کو ڈھونڈو۔
چند سیکنڈ بعد گروپ میں پیغامات آنا شروع ہو گئے۔
سینان نے ایک نظر نوٹیفکیشنز پر ڈالی۔
پھر نہایت اطمینان سے گروپ چیٹ بند کر دی۔
جیسے باقی سب کی زندگی کا سب سے اہم کام ابھی اُسی نے اُن کے حوالے کیا ہو۔
فون اُس نے دوبارہ تکیے کے پاس رکھا اور بستر پر پھیل گیا۔
کام ختم۔ کم از کم اُس کی طرف سے تو۔
اُس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سکون کا سانس لیا۔
++++++++++++++
امن نے سینان کو اُس لڑکی کو ڈھونڈنے کا کہہ دیا تھا۔
بس پھر کیا تھا۔۔۔
سینان نے اپنا باقی سارا کام ایک طرف رکھ دیا اور صبح ہوتے ہی اُس لڑکی کے پیچھے اپنے لوگوں کو لگا دیا۔
اُس کے لیے یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا، مگر اُس کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے دنیا میں اِس وقت اُس سے زیادہ آسان کام کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔
دن بھر اُس کے آدمی مختلف جگہوں سے معلومات اکٹھی کرتے رہے۔
کسی سے پوچھا گیا۔۔۔
کسی سے تصویر کی تصدیق کروائی گئی۔۔۔
اور جہاں کہیں اُس لڑکی کی جھلک ملنے کا امکان تھا، وہاں خبر پہنچائی گئی۔
آخرکار شام ڈھلتے ڈھلتے سینان کو مطلوبہ اطلاع مل گئی۔
لڑکی کراچی کے اورنگی کے ایک چھوٹے سے گھر میں چھپی ہوئی تھی۔
سینان نے لوکیشن دیکھی، ایک بار سر ہلایا اور سیدھا امن کے کمرے کی طرف چل پڑا۔
امن ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہسپتال سے گھر واپس آیا تھا۔ جسم میں کمزوری ابھی باقی تھی، بازو پر زخم بھی تازہ تھا، مگر اُس کے ذہن میں اُسی لڑکی کا خیال تھا۔
دروازہ کھلا تو سینان اندر داخل ہوا۔
مل گئی لڑکی۔
امن نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
کہاں سے؟
سنان نے بالکل سنجیدگی سے جواب دیا،
راستے سے۔
امن کی بھنویں سکڑ گئیں۔
ہیں؟
سنان نے اُسے چند لمحے دیکھا، پھر بےزاری سے بولا،
بھائی، عجیب سوال کرتے ہو۔ کہاں سے ملے گی لڑکی؟
وہ آگے بڑھا۔
لوکیشن مل گئی ہے۔ اورنگی کے ایک چھوٹے سے گھر میں چھپی بیٹھی ہے۔
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
پھر سر ہلا دیا۔
اچھا۔۔۔ ٹھیک ہے۔ تم جاؤ اب۔
وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا،
آگے میں دیکھ لوں گا۔
سنان مڑا ہی تھا کہ اچانک رُک گیا۔
میرے پیسے؟
امن نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی۔
دے دوں گا، پیسے مارو نہیں۔
سنان فوراً پلٹا۔
نہیں، میں مر جاؤں گا۔
امن نے اُسے گھورا۔
سنان۔۔۔
جلدی سے میرے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کرو۔
اُس کا لہجہ ایسا تھا جیسے واقعی اُس کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہو۔
امن نے بےزاری سے کہا،
کر دوں گا نا۔
سینان نے نہایت سنجیدگی سے اپنا سینہ تھاما۔
پیسوں کے بغیر مجھے سانس نہیں آتی۔
اُف۔۔۔ امن تنگ ہوا تھا، اور سنان ڈھیتو کی طرح اب بھی ویسے ہی کھڑا تھا، امن سمجھ گیا کہ اب جب تک اسے پیسے نہیں ملے گے یہ یہاں سے ہلنے والا نہیں، اُس نے جیب سے فون نکالا۔
چند لمحوں بعد دس لاکھ روپے سنان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکے تھے۔
امن نے فون اُس کی طرف بڑھایا۔
خوش؟
سنان نے اسکرین دیکھی۔
اُس کے چہرے پر فوراً اطمینان پھیل گیا۔
ہاں۔۔۔ ہیپی، ہیپی
وہ خوشی خوشی دروازے کی طرف بڑھا۔
پھر امن کی آواز اُس کے پیچھے آئی۔
لیکن تم نے اتنی جلدی اِس لڑکی کو ڈھونڈ کیسے لیا؟
سنان رک گیا۔
امن نے اُسے غور سے دیکھا۔
نام پتا چلا اُس کا؟
نہیں۔
امن کی حیرت بڑھ گئی۔
بغیر نام، بغیر کسی شناخت کے اُسے کیسے ڈھونڈ لیا؟
سینان نے بےفکری سے کندھے اچکائے۔
ارے، پورا چہرہ تو نظر آ رہا ہے۔ نام اور شناخت کا اچار ڈالنا ہے کیا؟
امن نے اُسے گھورا۔
تو ڈھونڈا کیسے؟
سنان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
بس گروپ میں میسج کیا تھا کہ اِس لڑکی کو ڈھونڈو۔
وہ جیسے کسی معمولی سی بات کی وضاحت کر رہا ہو۔
پھر یہ اورنگی میں دکھائی دے گئی۔
امن چند لمحوں تک اُسے دیکھتا رہا۔
اتنی آسانی سے؟
بہت آسانی سے۔
سنان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔
پھر اُس کے لہجے میں پہلی بار ذرا سی سنجیدگی آئی۔
جہاں پولیس سے زیادہ کسی اور کی دہشت ہو۔۔۔ جو باہر سے آنے والے کے لیے وہ علاقہ خطرہ، اور وہاں رہنے والوں کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہو، وہاں لوگوں کو ڈھونڈنا اتنا مشکل نہیں۔۔۔ جہاں شریف لوگ بجلی کا بل زیادہ آنے سے بچانے کے لیے کنڈا لگاتے ہیں، وہاں اکثر ایسے لوگ چھپتے ہیں،
امن نے فوراً اُسے دیکھا۔
تمہیں بہت پتا ہے؟
سنان نے ایک نظر اُسے دیکھا۔
تم بھی یہ سب کرتے ہو کیا؟
سنان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
سنان کو کسی سے چھپنے کی ضرورت نہیں ہے،
وہ ایک قدم آگے بڑھا۔
لوگ سنان سے چھپتے پھرتے ہیں۔
امن نے بےاختیار پوچھا،
کیوں؟
سنان نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے جواب دیا،
کیونکہ سنان کی آنکھ ہر جگہ ہے۔
امن کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
ہو کون تم؟ کوئی مافیا ہو؟
وہ ایک ایک لفظ سوچ کر بولا،
کوئی سیکرٹ ایجنٹ؟ ہیکر؟
سینان نے پلٹ کر اُسے دیکھا۔
امن کی آنکھوں میں واقعی سوال تھا۔
آخر تمہاری اتنی پہنچ ہے کہاں تک؟
سنان کے چہرے پر ایک عجیب سی بےفکری تھی۔
بس۔۔۔ سید سنان حیدر ہوں۔
اور اگلے ہی لمحے وہ اُسی اطمینان سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
امن اُسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
اُس کے ذہن میں اب اُس لڑکی سے زیادہ ایک اور سوال گردش کر رہا تھا۔
آخر سنان تھا کون؟ اُسے اس کے بارے میں پتہ لگانا ہی ہوگا، کون ہے، کہاں سے آیا ہے، اور کیا کرتا ہے، فیملی کون ہے، کس کا بیٹا ہے،
خیر… فی الحال اُسے اُس لڑکی کو محفوظ کرنا تھا۔
امن نے فون اٹھایا، اپنے ایک آدمی کو کال کی اور لڑکی کی لوکیشن اُسے بھیج دی۔
اُس کی آواز پرسکون تھی، مگر الفاظ نے خود اُسے اندر سے چونکا دیا۔
اُسے وہاں سے اُٹھا لاؤ۔
بس اتنا کہہ کر اُس نے فون بند کر دیا۔
چند لمحے تک امن موبائل ہاتھ میں لیے خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اُس کی نظریں آہستہ آہستہ اسکرین سے ہٹیں۔
اُس کے ذہن میں ابھی کہے گئے الفاظ دوبارہ گونجے۔
اُسے وہاں سے اُٹھا لاؤ…
امن نے بےاختیار گہری سانس لی۔
یہ… وہ کیا کر رہا تھا؟
اغوا؟
واقعی؟
امن حنان افتخار… اور اغوا؟
اُس نے آج تک کسی کی جان بوجھ کر حق تلفی کرنے سے بھی گریز کیا تھا۔ جھوٹ بھی وہ تب ہی بولتا تھا جب مجبوری ہو، یا اُس جھوٹ سے سامنے والے کا کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔
اور آج…
وہ خود کسی کو اغوا کروانے کا حکم دے چکا تھا۔
اُس نے بےاختیار آنکھیں بند کر لیں۔
اللہ… وہ اپنے اللہ کو کیا جواب دے گا؟
اُس نے گہری سانس لی اور دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ سہلا۔
یہ غلط تھا۔ بالکل غلط۔
وہ یہ بات خود سے چھپا بھی نہیں سکتا تھا…
ایک لمحے کے لیے اُس کے ذہن میں خیال آیا کہ ابھی فون کرے، آدمی کو واپس بلائے اور یہ حکم منسوخ کر دے۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس لڑکی کا چہرہ اُس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
وہ لڑکی جو ابھی چند گھنٹے پہلے پورے شہر کی پولیس کے نشانے پر تھی۔
جس کے بارے میں ہر طرف خبریں چل رہی تھیں۔
اگر وہ پولیس کے ہاتھ لگ گئی تو؟
اگر پولیس نے اُسے اُس حملے کا ذمہ دار سمجھ کر اُس کے ساتھ وہی کیا جو وہ اکثر مشتبہ لوگوں کے ساتھ کرتی تھی؟
اور اگر ریپر کے لوگ اُس تک پہلے پہنچ گئے تو؟
امن نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔
اُس کے چہرے پر بےبسی صاف نظر آ رہی تھی،
اُس نے نظریں جھکا لیں۔
یا اللہ…
میں اپنے غلط کام کو درست ثابت نہیں کر رہا۔
مجھے معلوم ہے کہ یہ غلط ہے۔
بس…
اس وقت مجھے اُس لڑکی کو محفوظ بھی تو کرنا ہے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
پھر دل ہی دل میں جیسے اپنی صفائی نہیں، صرف اپنی مجبوری تیرے سامنے رکھ دی۔
میں نہیں جانتا کہ میں نے صحیح فیصلہ کیا ہے یا نہیں…
بس اتنا جانتا ہوں کہ اگر اُسے پولیس کے حوالے کر دیا تو شاید اُس کے ساتھ وہ سب کچھ ہو جسے میں ہونے نہیں دینا چاہتا۔
اور مجھے اُس کی حفاظت کے لیے اپنے اصول سے بھی پیچھے ہٹنا پڑا رہا ہے،
+++++++++++++
تم میرے روم میں سوئی تھی؟
امل نے ہلکا سا سر ہلایا۔ ہاں بھائی…
امن نے قدرے سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔
کیوں؟ میں نے تم سے کہا تھا نا کہ روم چینج کر لو۔
امل چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی،
نہیں بھائی… اُنہیں لگے گا میں اُن سے ڈر گئی ہوں۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
اور رہنے دیں… جتنا اُنہیں برا کرنا تھا، کر لیا۔ اب وہ کیا ہی کر سکتے ہیں؟
امن نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
اُسے معلوم تھا کہ امل اپنی پریشانی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مگر اُس نے مزید کچھ نہیں کہا۔
وہ ابھی ابھی ہسپتال سے واپس آیا تھا۔ جسم میں کمزوری اب بھی محسوس ہو رہی تھی، مگر گھر میں قدم رکھتے ہی ایک عجیب سی بات اُس کے دل میں کھٹک گئی تھی۔
جیسے ہی وہ گاڑی سے اُترا تھا، اُس کی نظر سب سے پہلے گیٹ پر موجود گارڈز اور ڈرائیور پر پڑی تھی۔
دونوں کے چہروں پر غیرمعمولی گھبراہٹ تھی۔
ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے، پھر نظریں چرا لیتے۔
امن اُس وقت خاموش رہا تھا۔ مگر اُس کی نظر سے کچھ نہیں بچا تھا۔ اور پھر… امل کی گاڑی وہاں موجود ہی نہیں تھی۔ وہ لمحہ بھر کے لیے رُک گیا تھا۔
اُس نے فوراً ڈرائیور سے پوچھا بھی تھا، مگر اُس کا جواب دینے کا انداز بھی عجیب تھا۔
بات سیدھی تھی… لیکن انداز سیدھا نہیں تھا۔
امن نے اُس وقت کوئی بحث نہیں کی۔
بس خاموشی سے اندر آ گیا۔
مگر اب امل اُس کے سامنے بیٹھی تھی۔
اور امن جانتا تھا کہ اگر گاڑی غائب ہے اور گارڈ اتنے پریشان ہیں تو بات صرف گاڑی تک محدود نہیں ہو سکتی۔
اُس نے بظاہر بےفکری سے پوچھا،
رات کو کیا ہوا تھا؟
امل کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو تیز ہوئی۔
مگر اُس نے فوراً نظریں اٹھا کر امن کو دیکھا۔
کچھ نہیں بھائی…
جھوٹ۔ چھوٹا سا، بالکل سادہ سا جھوٹ۔
مگر یہ جھوٹ کیوں بولا تھا… یہ امل خود بھی نہیں جانتی تھی۔ یا شاید وہ امن کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ ابھی ہسپتال سے واپس آیا تھا، اُس کے بازو کا زخم ابھی پوری طرح بھرا بھی نہیں تھا۔
وہ کیسے اُسے بتاتی کہ رات کو اُس کے ساتھ کیا ہوا؟
امن چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس نے اگلا سوال کیا،
پھر کار کہاں گئی تمہاری؟
امل کے دل نے ایک بار پھر زور سے دھڑکنا شروع کیا۔
امن نے اُس کے جواب کا انتظار کرتے ہوئے مزید کہا،
ڈرائیور سے پوچھا تھا میں نے۔
وہ ذرا رکا۔
وہ بھی گھبرایا ہوا لگ رہا تھا۔
امل نے ایک لمحے کے لیے نظریں جھکائیں۔
پھر فوراً ایک بات بنا لی۔
کچھ نہیں بھائی…
اُس نے بہت اطمینان سے کہا،
اُس نے گاڑی دوسری گاڑی میں مار دی تھی۔
امن خاموش رہا۔
امل نے اپنی بات جاری رکھی،
تبھی ڈرا ہوا ہوگا… کہ دادا غصہ کریں گے اُس پر۔
وہ ذرا مسکرائی۔
اور گاڑی کو میں نے ٹھیک کروانے بھیج دیا ہے۔
امن اُسے دیکھتا رہا۔
اُس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں تھا۔
نہ اُس نے فوراً یقین کیا…
نہ ہی اُس نے اُس کے جھوٹ کو وہیں پکڑا۔
بس چند لمحوں تک خاموشی سے امل کو دیکھتا رہا۔
امل کے لیے وہ چند لمحے بہت بھاری تھے۔
اُسے ڈر تھا کہ امن اُس کی آنکھوں میں چھپی حقیقت پڑھ لے گا۔
مگر امن نے آخرکار نظریں ہٹا لیں۔
اچھا… اُس نے بہت سادگی سے کہا۔
ٹھیک ہے۔
امل نے بےاختیار سکون کی سانس لی۔
اتنے میں امن کے فون کی گھنٹی بجی۔
اُس نے کال اٹھائی۔
دوسری طرف وہی ایجنسی تھی جس سے اُس نے امل کے لیے باڈی گارڈ کا انتظام کرنے کے سلسلے میں بات کی تھی۔
جی… وہ چند لمحے سنتا رہا۔
پھر بولا، ٹھیک ہے، آپ اُسے بھیج دیں۔
کال ختم ہوئی تو امن نے امل کی طرف دیکھا۔
لو… اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
تمہاری باڈی گارڈ کا بھی انتظام ہو گیا۔ ابھی آ رہی ہے۔
امل کے چہرے پر ہلکی سی خوشی آئی۔
چلو، نیچے چلتے ہیں۔
دونوں سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے۔
نِہات وہیں موجود تھا۔
امن نے اُسے اشارے سے ایک طرف بلایا۔
نِہات اُس کے ساتھ چند قدم دور چلا آیا۔
امن نے دھیمی آواز میں کہا،
دیکھو، ابھی میں اُس کے پاس جانے والا تھا…
نِہات نے فوراً پوچھا،
تو؟
یہ باڈی گارڈ والا مسئلہ درمیان میں آ گیا۔
امن نے امل کی طرف ایک نظر ڈالی۔
تو تم اُسے دیکھ لینا، اُس کا خیال رکھنا۔۔
نِہات کے چہرے پر فوراً ناگواری آگئی۔
اوہ بھائی… میں کیوں اُس کا خیال رکھوں؟
امن نے بالکل سادہ لہجے میں جواب دیا،
کیونکہ اِس وقت وہ تمہارے گھر میں ہے۔
نِہات کی آنکھیں پھیل گئیں۔
ہیں؟
ہاں۔
میرے گھر میں کیا کر رہی ہے وہ؟
امن نے اُسے ایسے دیکھا
کیا کر رہی ہوگی؟ بے ہوش ہوگی۔
نِہات چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
ہیں؟؟
امن نے ایک گہری سانس لی۔
میں نے تمہیں کل ہسپتال میں بتایا تھا نا کہ میں اُس کی لوکیشن سِنان سے نکلوا لوں گا۔
تو اتنی جلدی لوکیشن نکل بھی گئی؟
ہاں۔ امن نے مختصر سا جواب دیا۔
پھر ایک لمحے کے وقفے کے بعد بولا،
اور پکڑی بھی گئی۔
نِہات نے ناگواری سے اُسے دیکھ کر کہا
مار بھی دو اب۔
امن نے فوراً اُسے گھورا،
تھپڑ ماروں گا اب میں تمہیں۔
نِہات نے فوراً ہاتھ اٹھا دیے۔
اچھا، سوری۔
امن نے سر جھٹکا۔
اب سنو… اُس کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔
ابھی وہ تمہارے گھر میں ہے… کیونکہ میں اُسے اپنے گھر نہیں رکھ سکتا۔ میرے جتنے بھی فارم ہاؤسز ہیں، دادا کو سب کا علم ہے۔ اگر وہ اچانک کسی فارم ہاؤس پر چلے گئے… یا اُن کے کسی گارڈ نے اُنہیں اُس لڑکی کے بارے میں بتا دیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔
نِہات نے خاموشی سے سر ہلایا۔
ہمم…
امن نے بات جاری رکھی۔
دادا نے تو ویسے ہی اُسے اپنا دشمن سمجھ لیا ہے، اُسے دیکھتے ہی جانے کیا کر بیٹھیں۔
وہ چند لمحے رُکا، پھر صاف لہجے میں بولا،
اسی لیے میں نے اُسے تمہارے گھر بھیج دیا۔
نِہات نے فوراً بھنویں سکیڑیں۔
لیکن میرے گھر ہی کیوں؟
امن نے اُس کی طرف دیکھا۔
کیونکہ تمہارے علاوہ مجھے کسی پر اتنا بھروسا نہیں۔
نِہات چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اُس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اچھا…
تو اب؟
امن نے جیسے اُسے کوئی بہت معمولی سی ذمہ داری سونپی ہو، بالکل اطمینان سے کہا،
اب کچھ نہیں۔ بس اُس کا خیال رکھنا۔ کھانے پینے کا پوچھتے رہنا۔۔ ویسے بھی تمہارا گھر خالی پڑا رہتا ہے۔ وہاں کوئی گارڈ وغیرہ بھی نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے کچھ آدمی وہاں تعینات کر دیے ہیں۔ وہ اِس بات کا خیال رکھیں گے کہ وہ وہاں سے کہیں جائے نہیں۔
نِہات نے گہری سانس لی۔
ایک کام کرو…
امن نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
اُس کا کوئی نام ہی رکھ دو خود۔ یہ ‘وہ، وہ’ نہیں کرو، یہ وہ، وہ، سے اور وہ، وہ، یاد آجاتے ہیں
امن نے اُسے گھورا۔
تم ابھی اُس کے پاس جاؤ گے تو نام بھی پوچھ لینا۔
نِہات فوراً پیچھے ہٹا۔
میں؟ میں کیوں؟ جانے لگا اُس کے پاس۔۔؟؟
امن نے سپاٹ لہجے میں کہا،
اُسے رات کا ڈنر دینے،
نِہات نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
یہ سب مجھ سے نہیں ہوگا۔
امن نے غصے سے کہا
خاموشی سے جو کہہ رہا ہوں، وہ کرو۔
پھر قدرے نرم لہجے میں بولا،
میں کل اُس کے پاس جاؤں گا۔ ابھی تم بس اُسے سنبھال لو۔
نِہات نے طنزیہ انداز میں سر جھکا دیا۔
جی سرکار… اور کچھ حکم؟
فی الحال اتنا ہی۔ امن نے ایک لمحے کو سوچا، پھر بولا، اُس سے اُس کا نام وغیرہ پوچھنا۔ اگر وہ تمہیں اپنے بارے میں کچھ بتائے تو مجھے بتانا۔
پھر جیسے کوئی خاص ہدایت یاد آئی،
اور ہاں… اُس کے ساتھ سختی مت کرنا۔
نِہات نے فوراً اُسے دیکھا۔
نہ سخت لہجے میں بات کرنا۔
نِہات نے حیرت سے بھنویں اٹھائیں۔
اب یہ بھی تم مجھے بتاؤ گے کہ اُس سے کیسے بات کرنی ہے؟
امن نے بالکل سنجیدگی سے جواب دیا،
ہاں۔ نرمی سے پیش آنا اُس کے ساتھ،
ایک لمحے کے وقفے کے بعد اُس نے مزید کہا،
بہت پیار سے نرم لہجے میں بات کرنا اُس سے،
نِہات کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
بھائی.. پیار سے ؟؟ وہ بے یقینی سے بولا، وہ تمہاری قاتل ہے۔
امن نے فوراً جواب دیا،
میں زندہ کھڑا ہوں نہ تمہارے سامنے تو وہ میری قاتل کیسے ہوئی؟
نِہات نے چند لمحے اُسے گھورا۔
پھر بے بسی سے سر ہلا دیا۔
تمہارا دماغ واقعی خراب ہو چکا ہے۔
+++++++++++
امن اور امل اس وقت صوفے پر بیٹھے تھے، جبکہ اُن کے سامنے ایجنسی کی سب سے قابل اور قابلِ اعتماد لڑکی، تانیہ، پوری سنجیدگی سے بیٹھی ہوئی تھی۔
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر سنجیدہ لہجے میں پوچھا،
تمہیں معلوم ہے نا، کیا کرنا ہے؟
تانیہ نے فوراً سر ہلایا۔
جی سر۔
میں اِنہیں سب سکھا دوں گی۔
امن نے اطمینان سے سر ہلایا، پھر امل کی طرف ایک نظر ڈال کر دوبارہ تانیہ سے مخاطب ہوا۔
کل صبح تم اِس کے ساتھ یونیورسٹی جاؤ گی۔
اور یونیورسٹی میں بھی ہر وقت اِس کے ساتھ رہو گی۔ کلاس کے وقت تم کلاس کے باہر کھڑی رہو گی، اور اگر اِسے کہیں بھی جانا ہو تو تم اِس کے ساتھ جاؤ گی۔
تانیہ پوری توجہ سے اُس کی بات سنتی رہی۔
امن نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر قدرے نرم لہجے میں بولا،
اور شام کو جب یہ فری ہوتی ہے، پانچ سے سات بجے تک تم اِسے گن چلانا اور اپنی حفاظت کرنا سکھاؤ گی۔ لیکن جلدی نہیں ہے۔ آرام سے… آہستہ آہستہ سب کچھ سکھانا۔
تانیہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
جی سر۔
امن نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر قدرے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا،
اور تم جانتی ہو نا… ہمیں کس سے خطرہ ہے؟
تانیہ کے چہرے کی سنجیدگی مزید گہری ہوگئی۔
جی سر۔ مجھے سب معلوم ہے۔
میں اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے نبھاؤں گی۔
امن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
گڈ. کل سے ڈیوٹی جوائن کر لینا۔
جی سر۔
تانیہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے نکل گئی۔
اُس کے جاتے ہی امل بھی خاموشی سے صوفے سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
چلتے چلتے اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا۔
یہ سب اُس منحوس ریپر کی وجہ سے ہو رہا تھا…
جو چیز اُسے بالکل پسند نہیں تھی، اب وہی اُسے سیکھنی پڑ رہی تھی۔
گن چلانا… اپنی حفاظت کرنا… ہر وقت کسی کے ساتھ رہنا…
دوسری طرف امن کو کچھ دیر کے لیے باہر جانا تھا۔
اُس نے اپنا فون نکالا اور ارحم کا نمبر ملایا۔
کُچھ دیر بعد ارحم اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
کیا بات ہے؟ عائرہ کی طبیعت زیادہ خراب ہے؟
ارحم ایک لمحے کو خاموش ہوا۔
نہیں سر… وہ بالکل ٹھیک ہے۔
امن نے فوراً پوچھا،
پھر ڈیوٹی؟
ارحم نے گہری سانس لی۔
سر… اُس نے چھوڑ دی۔
امن کی پیشانی پر ہلکی سی شکن آئی۔
کیوں؟
کیونکہ… اُس کی شادی ہو رہی ہے۔ ارحم کو کُچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جھوٹ بولے، اُس کے منہ میں اس وقت جو آیا اُس نے بول دیا۔۔۔
امن چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بالکل سادگی سے بولا،
تو شادی بعد جوائن کرے گی ؟؟
ارحم کو ایک لمحے کے لیے سمجھ نہیں آیا کہ اِس سوال کا کیا جواب دے۔
می… می بی…
لیکن اگر آپ کہیں تو اُس کی جگہ کسی اور لیڈی کو بھیج دیتے ہیں، سر۔ تب تک کے لیے…
امن نے اُس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی صاف لہجے میں جواب دیا،
نہیں۔ اُس کی ضرورت نہیں ہے۔ تم ہو نا؟ تم کافی ہو۔
ارحم نے فوراً جواب دیا،
اوکے سر۔
++++++++++++++
آ گیا تمہیں ہوش؟
نِہات اس وقت اُس لڑکی کے سامنے کھڑا تھا، جبکہ وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی مسلسل اُسے گھور رہی تھی۔
وہ اس وقت نِہات کے گھر کے ایک نہایت پُرتعیش کمرے میں موجود تھی۔
نیلی جینز کے اوپر سبز رنگ کی کُرتی پہنے ہوئے، بالوں کو ایک سادہ سے کیچر میں باندھے ہوئے اور چہرے پر ہمیشہ کی طرح کسی قسم کا میک اَپ نہیں تھا۔
سادگی اُس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔
نِہات نے جان بوجھ کر ماسک پہن رکھا تھا، اسی لیے وہ لڑکی اُسے پہچان نہیں پا رہی تھی۔
نِہات نے کچھ لمحے اُسے دیکھا، پھر قدرے بےتکلف انداز میں پوچھا،
کیا نام ہے تمہارا؟
لڑکی نے فوراً سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
آپ کون ہیں؟ اور مجھے کیوں اغوا کیا ہے؟
نِہات کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
نومی نام ہے میرا۔
پھر اُس نے آرام سے پوچھا،
تم اپنا نام بتاؤ۔
لڑکی نے فوراً نظریں پھیر لیں۔
نہیں بتاؤں گی۔
نِہات نے کندھے اچکا دیے۔
مرضی ہے۔
پھر اُس نے ہاتھ میں پکڑا ٹرے بیڈ کے سامنے رکھی۔
یہ کھانا لایا ہوں۔.کھا لو۔
لڑکی نے کھانے کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
اُس کی نظریں اب بھی نِہات پر جمی تھیں۔
مجھے اغوا کیوں کیا ہے؟
نِہات نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا، پھر بڑے سکون سے بولا،
جب تم میرے سوال کا جواب دو گی…
وہ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے رکا۔
…تو میں بھی تمہیں تمہارے سوال کا جواب دے دوں گا۔
لڑکی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ نِہات دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہوا تو کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
لڑکی نے چند لمحے بند دروازے کو دیکھا…
پھر سامنے رکھے کھانے کی طرف نظریں اٹھائیں۔
مگر اُس کے ذہن میں اس وقت کھانے سے کہیں زیادہ ایک ہی سوال گونج رہا تھا،
آخر اُسے اغوا کس نے کیا تھا۔۔۔
++++++++++++++
آج کئی دنوں کی چھٹی کے بعد امل دوبارہ یونیورسٹی آئی تھی۔
صبح ہی تانیہ مقررہ وقت پر اُس کے ساتھ جانے کے لیے پہنچ چکی تھی۔ امن کی ہدایت کے مطابق اب وہ امل کے ساتھ ہر جگہ موجود رہنے والی تھی۔
کئی دنوں بعد یونیورسٹی کا ماحول دیکھ کر امل کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔
وہ ابھی اپنی کلاس کی طرف جا رہی تھی کہ سامنے سے اُس کی سب سے اچھی دوست، ہنزا ، اُسے دیکھ کر فوراً اُس کی طرف بڑھی۔
امل!
ہنزا نے خوشی سے اُسے گلے لگا لیا۔
یار! آخرکار تم آ ہی گئی۔۔
امل ہنس دی۔
ہاں بھئی، آنا تو تھا ہی۔
ہنزا کی نظر اچانک امل کے ساتھ کھڑی تانیہ پر پڑی۔
اُس نے حیرت سے پوچھا،
یہ کون ہے تمہارے ساتھ؟
امل نے بالکل سادگی سے جواب دیا،
یہ میری باڈی گارڈ ہے۔
ہنزا نے پہلے تانیہ کو دیکھا، پھر امل کو۔
یہ یونیورسٹی بھی آئے گی اب تمہارے ساتھ؟
ہاں۔ امل نے بےفکری سے سر ہلا دیا۔
ہنزا نے فوراً اطمینان کا سانس لیا۔
بالکل اچھا کیا تم نے جو باڈی گارڈ رکھ لی۔
اب وہ درندہ تم تک نہیں پہنچ پائے گا۔
امل کی مسکراہٹ ہلکی سی مدھم ہوئی، مگر اُس نے پھر بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہاں…
اللہ کرے جلد ہی امن بھائی اُسے پکڑ لیں۔
امل نے بھی دھیرے سے کہا، آمین۔
پھر اُسے کیا سزا ملے گی؟ ہنزا نے تجسس سے پوچھا۔
امل نے سنجیدگی سے جواب دیا، وہی جو سارے مجرموں کو ملتی ہے۔ عمر قید… یا پھانسی کی سزا۔
ہنزا نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، بالکل ملنی چاہیے۔
پھر اچانک اُسے کچھ یاد آیا۔
اچھا یہ لو۔
اُس نے اپنے بیگ سے ایک فائل نکالی اور امل کی طرف بڑھا دی۔
امل نے فائل لیتے ہوئے حیرت سے پوچھا،
یہ کیا ہے؟
پچھلے دنوں کا کام ہے۔
کاپی کر لینا، اور کچھ اسائنمنٹ بھی ہے… وہ بنا لینا۔
امل نے فائل کھولی، پھر بےفکری سے مسکرا دی۔
اچھا… چلو، تھینک یو۔
ہنزا نے فوراً انگلی اٹھائی۔
جلدی بنا لینا۔
ہاں ہاں، فوراً بنا لوں گی۔ ڈونٹ وری۔
ہنزا نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھا۔
ہاں، ورنہ تمہیں سر کا تو پتا ہی ہے نا۔
امل نے فوراً منہ بنایا۔
ہاں بھئی، کھا گئے تم اب اپنے بھائی کے سیاست میں آنے کا فائدہ اٹھا رہی ہو۔
ہنزا ہنس پڑی۔
ہاں، وہ سر بھی بہت تیز ہیں۔ اُنہیں اچھی طرح پتا ہے کہ کب، کس کو اور کیسے سنانا ہے۔
امل بھی ہنس دی۔
ہاں یار…
پھر اُس نے فائل بند کرتے ہوئے پوچھا،
اور بتاؤ، میتھس کے سر کا کیا بنا؟
ہنزا نے فوراً منہ بنایا
نہیں پوچھو یار! سب اوپر سے گزر جاتا ہے۔
امل بےاختیار ہنس پڑی۔
+++++++++++++++
صبح جب اُس کی آنکھ کھلی تو چند لمحے تک وہ خاموشی سے چھت کو دیکھتی رہی۔
پھر اچانک اُسے یاد آیا کہ وہ اپنے گھر میں نہیں تھی۔
وہ فوراً اُٹھ کر واش روم گئی اور واپس آ کر سیدھا الماری کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
اُس نے احتیاط سے الماری کا دروازہ کھولا…
اور اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
الماری خالی ہونے کے بجائے کپڑوں سے بھری ہوئی تھی۔
ایک سے بڑھ کر ایک کپڑا قرینے سے رکھا تھا۔
وہ چند لمحے خاموشی سے الماری کو گھورتی رہی۔
پھر بےاختیار بڑبڑائی،
یہ کیسا کِڈنیپر ہے؟
اُس نے ایک جوڑا نکال کر ہاتھ میں لیا۔
اتنا اچھا قیدی کون رکھتا ہے؟
پھر اچانک اُس کے ذہن میں ایک عجیب سا خیال آیا۔
وہ فوراً خود ہی چونک گئی۔
کہیں یہ میرا کوئی عاشق تو نہیں…؟
اگلے ہی لمحے اُس نے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔
نہیں نہیں! توبہ توبہ… استغفراللہ!
میں نے تو آج تک کسی لڑکے کو آنکھ اُٹھتا کر نہیں دیکھا۔۔۔ پھر یہ کون۔۔۔
پھر اُس نے دوبارہ الماری کی طرف دیکھا۔
ایسا ویسے تھوڑی ہوتا ہے… لیکن یہ سب کیا ہے؟
اُس کی نظر پورے کمرے پر گھومی۔
پُرتعیش کمرہ… نرم بیڈ… قرینے سے رکھے کپڑے…
اور اُس کے لیے ہر چیز کا انتظام۔
وہ الجھن سے بڑبڑائی،
یہ روم… یہ کپڑے…؟
اُس نے فوراً دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور ہینڈل گھمایا۔
دروازہ لاک تھا۔
اوہو…
اُس نے جھنجھلا کر دروازے پر دستک دی۔
لیکن باہر سے کوئی آواز نہیں آئی۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر کمرے میں ٹہلنے لگی۔
یہ سب ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ…؟
پھر اُس کی نظر دوبارہ الماری میں رکھے کپڑوں پر پڑی۔
چند لمحے سوچنے کے بعد اُس نے کندھے اچکا دیے۔
چلو…۔کپڑے تو بدل ہی لیتی ہوں۔
وہ کپڑے لے کر دوبارہ واش روم میں گھس گئی۔
کچھ دیر بعد جب وہ باہر نکلی تو دروازے کے پاس نِہات کھڑا تھا۔۔اُس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔
لڑکی نے اُسے دیکھتے ہی آنکھیں سکیڑ لیں۔
سچ سچ بتاؤ…
وہ اُس کے قریب آ کر بولی،
کیا ارادہ ہے تمہارا؟
نِہات نے بالکل سنجیدگی سے جواب دیا،
کھانا دینے کا ارادہ ہے۔
لڑکی نے اُسے گھورا۔
میں سنجیدہ ہوں۔۔
نِہات نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ اندر آیا، ٹرے بیڈ پر رکھی اور سیدھا واپس دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
لڑکی فوراً اُس کے پیچھے لپکی۔
بات تو سنو! کون ہو تم؟
مجھے یہاں کیوں رکھا ہوا ہے؟
مگر نِہات تب تک دروازے سے باہر نکل چکا تھا۔
دروازہ بند ہوا…
اور اگلے ہی لمحے لاک ہونے کی آواز آئی۔
لڑکی وہیں کھڑی رہ گئی۔
اُس نے چند لمحے بند دروازے کو دیکھا۔
پھر آہستہ سے بڑبڑائی،
بڑا عجیب کِڈنیپر ہے… مُجھے پتہ لگانا ہی ہوگا۔۔ آخر یہ کِڈنیپر ہے کون۔۔
اُس کی نظر بیڈ پر رکھی کھانے کی ٹرے پر گئی۔
پھر وہ کھانے بیٹھ گئی۔۔۔۔
++++++++++++++
ظفر نے مائرہ کو اپنے کمرے میں بلایا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد مائرہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
جی سر؟
ظفر نے میز پر رکھی فائل اٹھائی اور اُس کی طرف بڑھا دی۔
یہ لو۔ ایک نیا کیس آیا ہے میرے پاس۔
اُس نے سنجیدہ نظروں سے مائرہ کو دیکھا۔
اِس کیس پر ہمیں ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
مائرہ نے فائل کی طرف دیکھا، مگر اُسے ہاتھ لگانے کے بجائے قدرے معذرت خواہانہ انداز میں بولی،
سوری سر، لیکن میں پہلے ہی ایک کیس پر کام کر رہی ہوں۔ آپ اِس میں رشید صاحب کی مدد لے لیں۔
ظفر کی پیشانی پر ہلکی سی شکن نمودار ہوئی۔
کون سے کیس پر کام کر رہی ہو؟ وہ چھوڑ دو۔ اور اِس کیس پر دھیان دو۔
مائرہ نے صاف لہجے میں جواب دیا،
میں نے کہا نا سر… آپ اِس کیس میں کسی اور کی مدد لے لیں۔
ظفر نے کرسی سے قدرے آگے ہوتے ہوئے سخت لہجے میں کہا،
میں تمہیں حکم دے رہا ہوں، مائرہ۔ یہ میرا آرڈر ہے۔
مائرہ چند لمحے خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
پھر اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اور میں…
اُس نے فائل کی طرف ایک نظر دیکھا، پھر دوبارہ ظفر کی آنکھوں میں دیکھا۔
…آپ کے حکم کو بڑے ہی مؤدبانہ طریقے سے ماننے سے انکار کر رہی ہوں۔
ظفر نے اُسے گھورا۔ جبکہ مائرہ بالکل پُرسکون کھڑی تھی۔ جیسے اُسے ذرا بھی اندازہ نہ ہو کہ اُس نے ابھی ابھی کس کے سامنے اُس کے حکم کو ٹھکرایا تھا۔
ظفر کے چہرے پر پھیلی سختی مزید گہری ہو گئی۔
وہ چند لمحے خاموشی سے مائرہ کو دیکھتا رہا، جیسے اُس کے الفاظ کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
پھر اُس نے آہستہ سے فائل میز پر رکھ دی۔
تمہیں اندازہ بھی ہے، مائرہ، تم کس سے بات کر رہی ہو؟
مائرہ نے بنا کسی جھجھک کے جواب دیا،
جی سر۔ اچھی طرح اندازہ ہے۔
ظفر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
تو پھر شاید تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ میرے آرڈر کو انکار کرنا ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہے۔
مائرہ نے فوراً جواب دیا،
اور ایک ایسے کیس کو چھوڑ دینا بھی ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہے جس پر میں پہلے سے کام کر رہی ہوں۔
ظفر کی نظریں چند لمحوں کے لیے اُس کے چہرے پر جم گئیں۔
تم اُس کیس کو اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہو؟
مائرہ نے قدرے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا،
کیونکہ اُس کیس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ابھی تک کلئیر نہیں ہوئیں۔ اور جب تک وہ کلئیر نہیں ہوتیں، میں اُسے چھوڑ نہیں سکتی۔
ظفر نے کرسی سے ٹیک لگائی۔
مطلب تم میرے ساتھ اس کیس پر کام نہیں کرو گی؟
نہیں سر۔ جواب مختصر تھا، مگر لہجہ بالکل واضح۔
ظفر نے ایک گہری سانس لی۔
ٹھیک ہے… اور ظفر جاوید ہمیشہ کی طرح مائرہ کے آگے ہار مان جاتا تھا۔۔۔
شاید اِس لیے کہ وہ مائرہ کو حکم دے سکتا تھا، منا نہیں سکتا تھا۔
مائرہ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
واقعی؟
ہمم۔۔۔ ظفر نے دھیرے سے سر ہلایا لیکن اگر تم نے اپنا کیس مکمل کرنے میں ایک بھی غلطی کی….تو پھر میں تمہیں یہ یاد دلانے میں دیر نہیں کروں گا کہ تم نے آج کس کا حکم ماننے سے انکار کیا تھا۔
مائرہ نے فائل اُس کے ہاتھ سے لے لی۔
اگر غلطی ہوئی تو سزا دے دیجیے گا، سر۔
یہ کہتے ہی وہ مڑی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
ظفر چند لمحے اُسی بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
پھر بےاختیار مسکرا دیا۔
یہ لڑکی بھی نا… ایک دن واقعی میری جان لے گی۔۔
++++++++++++
شام کے وقت امل اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔
سامنے لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا، ساتھ ہی اسائنمنٹ کی کاپی رکھی تھی اور وہ پوری توجہ سے اپنے کام میں مصروف تھی۔
تبھی اُس کا فون بج اُٹھا۔
اُس نے بےدھیانی میں فوراً فون اٹھا لیا۔
السلام علیکم… کون؟
دوسری طرف سے وہی مانوس، آواز سنائی دی۔
کیا کر رہی ہو، گریملِن؟
امل کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔
آپ…؟
پھر اُس نے جھنجھلا کر پوچھا،
آپ مجھے اِس وقت کیوں کال کر رہے ہیں؟
ریپر کی آواز میں ہمیشہ کی طرح بےفکری تھی۔
میں اپنی بیگم کو جب چاہوں کال کر سکتا ہوں۔
امل نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی۔ پِھر فوراََ بولی۔ اللہ حافظ۔ اور کال کٹ کردی۔۔۔
اور فون پر دوبارہ ڈاکومینٹ کھول لیا۔۔۔
تبھی فون دوبارہ بچنے لگا۔۔ اُس نے اسکرین دیکھی۔
وہی نمبر۔ اُس نے فوراً کال کاٹ کر نمبر بلاک کر دیا۔
مگر چند ہی سیکنڈ بعد ایک نئے نمبر سے کال آنے لگی۔
امل نے جھنجھلا کر فون اٹھایا۔
کیا ہے؟! میں کام کر رہی ہوں نا!
ریپر نے بڑے سکون سے جواب دیا،
تو کرو۔ میں نے کون سا تمہارے ہاتھ پکڑ رکھے ہیں۔
امل نے دانت بھینچے۔
تو فون کیوں کر رہے ہیں؟ فون رکھ رکھے۔
وہ تو نہیں رکھ رہا۔
امل نے غصے سے کہا،
اللہ حافظ! اور کال کاٹ کر یہ نمبر بھی بلاک کر دیا۔
مگر سکون اُسے نصیب کہاں تھا؟
چند لمحوں بعد تیسری بار فون بجا۔
امل نے فون اٹھایا اور تقریباً چیخ پڑی۔
آپ کو سمجھ نہیں آ رہی؟!
میں کام کر رہی ہوں، مصروف ہوں ابھی۔۔۔
ریپر کی آواز میں ہلکی سی ہنسی شامل تھی۔
تم فارغ وقت میں کون سا مجھ سے بات کرو گی؟
جو میں تمہارے فارغ ہونے کا انتظار کروں۔
امل نے فوراً جواب دیا،
ہاں تو میں کیوں کروں آپ سے بات؟ اور کیا کروں بات؟
ریپر کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بڑے اطمینان سے بولا،
میں شوہر ہوں تمہارا۔ اور باتیں وہی کرو جو ایک بیوی اپنے شوہر سے کرتی ہے۔
امل کی آنکھیں غصے سے پھیل گئیں۔
میں آپ کو اپنا شوہر نہیں مانتی۔۔۔
دوسری طرف سے ایک ہلکی سی ہنسی سنائی دی۔
اچھا… نکاح کے پیپرز پر سائن کرنے کے بعد تم یہ کہہ رہی ہو؟
امل نے ناگواری سے کہا
بھئی۔۔۔ غلطی ہو گئی۔۔۔ آپ ایسا کریں، طلاق دے دیں مجھے۔۔۔ ابھی! ابھی اسی وقت دیں! اس فون پر ہی دے دیں۔۔۔
ریپر نے نہایت سادگی سے پوچھا،
اچھا؟
ہاں! دے دیں اب۔۔۔
نہیں دے رہا۔
امل کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
کیا؟!
ریپر نے بڑے سکون سے کہا،
میں نہیں دے رہا تمہیں طلاق۔۔۔
امل نے پھر غصے سے کہا۔۔ اللہ حافظ۔
اور کال پِھر سے کاٹ دیا۔۔۔اور پھر غصے سے فوراً اُس نمبر کو بھی بلاک کر دیا۔
اس بار پورے دو منٹ تک فون خاموش رہا۔
امل نے سکون کا سانس لیا۔
شکر ہے…
اُس نے فون ایک طرف رکھا اور دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گئی۔
وہ ابھی بمشکل دو لائنیں ہی لکھ پائی تھی کہ
رِنگ رِنگ رِنگ!
امل کا سر فوراً اٹھا۔
اُس نے بےیقینی سے فون کی طرف دیکھا۔
یا خُداااا!
اُس کا دل چاہا فون اٹھا کر سیدھا دیوار میں دے مارے۔
مگر پھر اس میں اس کے سارے ضروری ڈاکیومنٹس کھلے ہوئے تھے۔
امل نے بےبسی سے فون کو دیکھا۔
پھر لیپ ٹاپ کو۔ پھر دوبارہ فون کو۔
فون مسلسل بجتا رہا…
آخرکار امل نے تنگ آ کر فون اٹھا ہی لیا۔
آپ کو ایک دفعہ میں بات سمجھ نہیں آتی؟
کیوں تنگ کر رہے ہیں مجھے؟
دوسری طرف سے ریپر کی پرسکون آواز آئی،
تم میری کال کیوں کاٹ رہی ہو؟
امل نے فوراً جواب دیا،
تو کیا میں آپ کی کال کو پھولوں کا ہار پہناؤں؟
ریپر ہنس دیا۔
نہیں… مجھ سے باتیں کرو۔
امل نے بےزاری سے آنکھیں گھمائیں۔
زبردستی باتیں کرو، باتیں کرو.. اتنے فارغ بیٹھے ہیں آپ؟
ریپر چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
میں سوچ رہا ہوں… کیوں نہ میں دنیا کو بتا دوں؟
امل کی بھنویں سکڑ گئیں۔
کس بارے میں؟
تمہارے بارے میں۔
امل نے فوراً بےفکری سے جواب دیا،
تو بتا دیں۔ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟
ریپر نے قدرے حیرت سے پوچھا،
تمہیں کوئی مسئلہ نہیں؟
امل نے ایک لمحے کو سوچا، پھر نہایت سنجیدگی سے بولی،
نہیں… فی الحال تو مجھے صرف آپ سے مسئلہ ہو رہا ہے۔
دوسری طرف سے ہنسی کی ہلکی سی آواز آئی۔
ہونا بھی چاہیے۔ اسی لیے تو میں نے کال کی ہے۔
امل نے فوراً جواب دیا،
اللہ حافظ۔
اور کال کاٹ کر نمبر بلاک کر دیا۔
مگر چند ہی سیکنڈ بعد
رِنگ رِنگ رِنگ!
امل نے فون کی اسکرین دیکھی۔
نیا نمبر تھا۔
اُس نے غصے سے کال اٹھائی۔
مجھے غصہ نہیں دلائیے گا!
ریپر نے بڑے اطمینان سے پوچھا،
کیا کر لو گی؟
امل نے فوراً جواب دیا،
مجھے چیلنج بھی مت کیجیے گا۔
میں تو کروں گا۔
امل نے دانت پیسے۔
اللہ حافظ۔۔۔۔ اور کال کاٹ دی۔
اگلے ہی لمحے اُس نے یہ نمبر بھی بلاک کر دیا۔
فون پھر بجنے لگا…
امل چند لمحے اُسے گھورتی رہی۔
اب وہ کیا کرے؟
اُس نے سوچا، فون ہی بند کر دیتی ہوں۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کی نظر فون پر کھلے اسائنمنٹ کے سوال پر پڑی، جس کا جواب اُسے لیپ ٹاپ میں لکھنا تھا۔
اُففف… فون بند بھی نہیں کر سکتی….
وہ بےبسی سے پیچھے بیڈ پر جا گری۔۔۔
بھائی نے مجھے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ جب کوئی لڑکا ایسے تنگ کرے تو کیا کرنا چاہیے؟
امل نے فون کی طرف دیکھا، جو اب بھی مسلسل بج رہا تھا۔
پھر اچانک امل کو کچھ یاد آیا۔
اُس نے فوراً کو دیکھا، کال اُٹھایا اور میوٹ کردیا
پھر ان نے باکپ کر کے اپنے سوالوں کے جواب کھول لیے، پھر اُس کا جواب لیپ ٹاپ میں لکھنے لگی۔
تقریباً پانچ منٹ تک فون ویسی ہی رہا اور پھر اچانک کال خود ہی کٹ گئی۔
امل نے سکون کا سانس لیا۔ آخری جان چھوٹی۔
مگر اُس کی یہ خوشی صرف چند سیکنڈز کی تھی۔
اگلے ہی لمحے فون دوبارہ بجنے لگا۔
امل نے آہستہ سے نظریں اُٹھا کر فون کو دیکھا۔
چہرے پر صاف جھنجھلاہٹ تھی،
یا اللہ… پھر؟!
اُس نے کچھ لمحے فون کو گھورا، پھر بالآخر کال اٹھا لی۔
اُدھر سے ریپر کی پرسکون آواز سنائی دی۔
کال میوٹ پر کیوں کیا تھا؟
امل نے فوراً جواب دیا۔
مرضی میری۔
وہ بیڈ سے اُٹھی، دروازے کی طرف گئی اور پہلے کمرے کا لاک چیک کیا۔
پھر واپس آ کر فون کو اسپیکر پر رکھا، لیپ ٹاپ اپنی طرف کھینچا اور اسائنمنٹ کے سوالات کھول لیے۔
ریپر کی آواز دوبارہ آئی۔
کیا کر رہی ہو؟ دوبارہ کال میوٹ کرنے کا تو نہیں سوچ رہی۔۔۔
امل نے اُس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔
جواب لکھ رہی ہوں۔
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے ہوئے بولی،
اور آپ سے بات کرنے کا بالکل موڈ نہیں ہے، اس لیے بہتر ہے آپ خاموش رہیں۔ ورنہ آپ کو دوبارہ ميوٹ کردونگی میں،
چند لمحے دوسری طرف خاموشی رہی۔
پھر ریپر ہلکا سا ہنسا۔
تم مجھے خاموش کروا رہی ہو؟
امل نے اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا،
ہممم۔۔۔۔
ریپر کی ہنسی اور گہری ہوگئی۔
اچھا… تو اب بیوی صاحبہ مجھے نظرانداز بھی کریں گی؟
امل نے دانت بھینچ کر کی بورڈ پر ایک اور جواب ٹائپ کیا۔
ہاں۔۔۔
بہت غلط بات ہے۔۔۔۔
پھر اُس نے فون کی طرف دیکھا اور آخری بار سخت لہجے میں کہا،
مجھے مت سکھایا کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔۔۔ اپنا کام کریں، اور مجھے میرا کام کرنے دیں۔۔۔
ریپر چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس کی آواز آئی،
وہ تو میں تمہیں سکون سے کام کرنے نہیں دونگا۔۔۔
امل کی انگلیاں کی بورڈ پر رکی ہوئی تھیں۔
وہ چند لمحے فون کو گھورتی رہی۔
ریپر کی آواز دوبارہ اسپیکر سے ابھری۔
سنا میں آیا ہے، میری بیوی نے باڈی گارڈ رکھوا لیا ہے،
امل نے فوراً جواب دیا،
ہاں، آپ سے بچنے کے لیے۔
ریپر ہلکا سا ہنسا۔
اپنے شوہر سے بچنے کے لیے بھی کوئی باڈی گارڈ رکھواتا ہے؟
امل نے جھنجھلا کر آنکھیں گھمائیں۔
آپ کو لگتا ہے، کہ آپ ہر وقت یہ بیوی، شوہر کا راگ الاپتے رہیں گے تو میں چڑ جاؤں گی؟
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر اطمینان سے بولی،
تو میں بتا دوں آپ کی یہ غلط فہمی ہے۔
مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا۔
ریپر چند لمحے خاموش رہا۔
اُس کے لہجے میں جیسے ضد اور شرارت دونوں گھل گئی ہوں۔
تو پھر اب تو میں ضرور کہوں گا۔
امل نے بھنویں سکیڑ لیں۔
شوق سے کہیں۔
کہتا رہوں گا، روز کہوں گا، بار بار کہوں گا۔۔
یہاں تک کہ تم خود تنگ آ کر کہو گی کہ بس، اب مان لیا کہ میں تمہارا شوہر ہوں۔۔۔
امل نے ایک لمحے کے لیے اُسے خاموشی سے سنا، پھر نہایت اطمینان سے بولی،
وہ میری زندگی کا آخری دن ہوگا۔۔۔
جس دن میں آپ کو اپنا شوہر مانوں گی۔
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر ریپر کی دھیمی سی ہنسی سنائی دی۔
پھر تو، گریملِن۔۔۔
تمہارا آخری دن بہت جلد آنے والا ہے۔
امل نے فوراً تیوری چڑھائی۔
خواب دیکھتے رہیے۔
ریپر کا لہجہ پہلے سے زیادہ پُراعتماد تھا۔
خواب نہیں دیکھ رہا۔۔۔ تمہیں حقیقت بتا رہا ہوں۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
